محبت ذات ہوتی ہے

محبت ذات ہوتی ہے
محبت ذات کی تکمیل ہوتی ہے
کوئی جنگل میں‌ جا ٹھہرے ، کسی بستی میں بس جائے
محبت ساتھ ہوتی ہے
محبت خوشبوؤں کی لَے
محبت موسموں‌ کی دُھن
محبت آبشاروں‌ کے نکھرتے پانیوں‌کا مَن
محبت جنگلوں میں‌ رقص کرتی مورنی کاتن
محبت برف پڑتی سردیوں میں دھوپ بنتی ہے
محبت چلچلاتے گرم صحراؤں میں ٹھنڈی چھاؤں کی مانند
محبت اجنبی دنیا میں اپنے گاؤں کی مانند
محبت دل
محبت جاں
محبت روح کا درماں
محبت مورتی ہے
اور کبھی جو دل کے مندر میں کہیں‌ پر ٹوٹ جائے تو
محبت کانچ کی گڑیا
فضاؤں میں‌کسی کے ہاتھ سے گر کر چھوٹ جائے تو
محبت آبلہ ہے کرب کا
اور پھوٹ جائے تو
محبت روگ ہوتی ہے
محبت سوگ ہوتی ہے
محبت شام ہوتی ہے
محبت رات ہوتی ہے
محبت جھلملاتی آنکھ میں برسات ہوتی ہے
محبت نیند کی رت میں‌ خوابوں کے رستوں‌ پر سلگتے
جاں کو آتے رتجگوں کی گھات ہوتی ہے
محبت جیت ہوتی ہے
محبت مات ہوتی ہے
محبت ذات ہوتی ہے
" فرحت عباس شاہ "
Comments
5 Comments

5 تبصرے:

شعیب سعید شوبی نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب۔ بہت اچھا انتخاب ہے۔ شکریہ!

محمد کامران اصغر کامی سیالکوٹی نے فرمایا ہے۔۔۔

واہ جی واہ کیا کہنا خوب صورت شاعری ہے ایسا کچھ اور ھو تو ضرور شیئر کریں پزیرائی ملے گی

jAfaR نے فرمایا ہے۔۔۔

:: شعیب:: شکریہ :smile:
:: کامی:: بالکل شیئر کریں‌ گے جناب ۔۔۔ اور کیا صرف نام ہی کامی ہے یا کچھ کام وام بھی کرتے ہیں آپ :grin:

تانیہ رحمان نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت اچھی نظم ہے لگتا ہے پہلی بھی کہیں سنی ہوئی ہے
محبت آگ ہوتی ہے محبت ساگ ہوتی ہے

jAfaR نے فرمایا ہے۔۔۔

:grin: جی جی بہت مہربانی ۔۔۔ اس نئے مصرعے پر آپ کیوں‌ نہیں طبع آزمائی کرتیں ۔۔
محبت راگ ہوتی ہے ۔۔۔ محبت گھاگ ہوتی ہے ۔۔۔ محبت ناگ ہوتی ہے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
:mrgreen:

تبصرہ کیجیے