ہنسنے نہیں دیتا، کبھی رونے نہیں دیتا

ہنسنے نہیں دیتا، کبھی رونے نہیں دیتا
یہ دل تو کوئی کام بھی ہونے نہیں‌ دیتا
تم مانگ رہے ہو مرے دل سے مری خواہش
بچہ تو کبھی اپنے کھلونے نہیں دیتا
میں آپ اٹھاتا ہوں شب و روز کی ذلت
یہ بوجھ کسی اور کو ڈھونے نہیں دیتا
وہ کون ہے اس سے تو میں‌واقف بھی نہیں‌ ہوں
جو مجھ کو کسی اور کا ہونے نہیں دیتا
(عباس تابش )

Comments
6 Comments

6 تبصرے:

یاسر عمران مرزا نے فرمایا ہے۔۔۔

میں آپ کا دال دلیہ دیکھنے آیا ہوں مجھے بھی پیش کریں، ویسے دال کون سی ہے ؟
میں بھی آپ کا ساتھی بلاگر ہوں مجے بھی روابط میں شامل کریں، شکریہ بھائی

jAfaR نے فرمایا ہے۔۔۔

خوش آمدید یاسر صاحب۔۔۔ جو بھی ہے آپ کے سامنے ہے۔۔۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف۔۔۔
امید ہے کہ آپ آئندہ بھی رونق بخشتے رہیں گے۔۔۔ :smile:

محمد وارث نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوبصورت اشعار ہیں، لاجواب!

jAfaR نے فرمایا ہے۔۔۔

شکریہ وارث صاحب۔۔ میں‌ حیران تھا کہ ابھی تک آپ کی نظر کیوں‌ نہیں پڑی اس پوسٹ پر ۔۔۔ :smile:

عمر احمد بنگش نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب، جعفر بھیا، اگر تھوڑی مہربانی کر دیا کریں، کہ جو غزل، نظم یا شاعری پوسٹ کریں، اچھی بات ہے کہ حوالہ دیتے ہیں شاعر کا، اگر اس کے ساتھ اگر کوئی آڈیو لنک یا کم از کم سنگر کا نام مل جایا کرے تو لاجواب۔ (بشرطیکہ اگر میسر ہو، آپ کو بھی اور ساتھ میں آڈیو میں بھی :mrgreen: )۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::عمر:: پسند کرنے کا شکریہ۔۔۔ گائی ہوئی غزلیں عام طور پر مجھے پسند نہیں، اس میں فوکس شاعری کی بجائے گائیکی پر ہوتا ہے اور یہ شاعری پر اتیا چار ہے ۔۔۔ :lol: :lol: :lol:
میری یادداشت میں جو بھی ہے وہی حاضر خدمت کر دیتا ہوں۔۔۔ :smile:

تبصرہ کیجیے