شکیب جلالی کی ایک غزل

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خاک ڈالئے ایسی اڑان پر

آکر گرا تھا کوئی پرندہ لہُو میں تَر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر

یارو، میں‌اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر

کتنے ہی زخم ہیں میرے اک زخم میں چھُپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اک نشان پر

جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر

ملبوس خوش نما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر

سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر

حق بات آکے رک سی گئی تھی کبھی شکیب
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر

کہیں پڑھا تھا کہ اگر غزل میں‌ ایک شعر بھی کام کا نکل آئے تو غزل کا حق ادا ہوگیا۔ اس غزل میں‌ دیکھئے تو ایک بھی شعر بھرتی کا نہیں۔ یہی شکیب جلالی کا کمال ہے۔ بہت کم شاعر ایسے ہیں جن کا ایک مصرعہ پڑھ کر آپ شاعر کا نام بتا سکتے ہیں، شکیب اسی نادر قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔
میرے رائے میں شکیب جلالی اگر جواں مرگی کا شکار نہ ہوتے تو ہمارے عہد کے سب سے بڑے شاعر ہوتے۔

Comments
6 Comments

6 تبصرے:

محمد وارث نے فرمایا ہے۔۔۔

واہ کیا خوبصورت اور لاجواب غزل ہے اور میری پسندیدہ ترین غزلوں میں سے ہے، اور آپ نے بجا کہا کہ اس غزل کا ہر ایک شعر ہی لاجواب ہے

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

شکریہ۔۔۔ وارث صاحب۔۔۔

بلوُ نے فرمایا ہے۔۔۔

واقعی بہت اچھی غزل ہے

عمر احمد بنگش نے فرمایا ہے۔۔۔

ارے واہ، کیا کہنے جی، شکیب جلالی کو میں‌نے کبھی نہیں‌پڑھا، بس یہیں‌سے اپنی نالائقی ظاہر ہوتی ہے :oops: ، اب تو ڈھونڈنا ہی پڑے گا کچھ نہ کچھ، آپ آسانی پیدا کر دیں‌اگر مذید کچھ رابطے شکیب صاحب کی شاعری کے دے دیں۔
بلاگ کا نیا رنگ کافی اچھا لگا۔ :mrgreen: اج کالا جوڑا پا ساڈی فرمئیش تے

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::بلو:: شکریہ۔۔۔ :smile:
::عمر:: آپ بہت ترقی کریں گے۔۔۔ :grin:
urdupoint.com
یہاں شکیب کی کچھ شاعری کے محفوظات ہیں۔۔۔۔
نئی تھیم پسند کرنے کا شکریہ۔۔۔ :mrgreen:
لیکن کسی نے نئی ٹیگ لائن پر تبصرہ نہیں کیا۔۔۔
”دل جلوں کے لئے مرہم کا انتظام ہے“

عمر احمد بنگش نے فرمایا ہے۔۔۔

واقعی آج کل نالائق کافی ترقی کر رہے ہیں‌ہمارے ہاں، زندہ مثالیں‌ہیں‌اس حکومت میں
:mrgreen:
پولٹری کی ایک بیماری ہے جس کو "انگارہ" عرف عام میں‌کہا جاتا ہے، اس میں‌بھی مرغیوں‌کا دل جلتا ہے، اس کے لیے کیا آپ کے پاس مرہم ہو گی حکیم صاحب، بڑی تکلیف میں‌رہتی ہیں‌مرغیاں :mrgreen:

تبصرہ کیجیے