رات کٹتی ہے ۔۔۔

ظفر اقبال کے کالم میں یہ غزل چھپی تھی، انہوں نے لکھا کہ پہلے مصرعے نے ہی ہاتھ پکڑ لیا کہ میاں! کہاں جارہے ہو۔۔۔ ساری غزل پڑھ کے جاؤ۔۔
ان کا تو صرف ہاتھ ہی پکڑا تھا مجھے تو آنکھ بھی مار دی۔۔۔ بس پھر صاحب ..... پڑھنی پڑی۔۔۔
دیکھئے کیا زبردست شاعری ہے۔۔۔

رات کٹتی ہے کسی خوف کی نگرانی میں
دن گزرتا ہے کسی اور پریشانی میں

بات کرنا تو الگ ، بات وہ سنتا بھی نہیں
ہم جسے اپنا کہے جاتے ہیں نادانی میں

کوئی تو ہو جو ہمیں بھیڑ سے باہر لے جائے
گم ہوئے جاتے ہیں خلقت کی فراوانی میں

یہ زمیں صورت افلاک ہوا کرتی تھی
یہ زمیں خاک ہوئی خاک کی ارزانی میں

کیسی مٹی ہے، پڑی رہتی ہے مٹی ہوکر
کیسا پانی ہے کہ پانی ہی نہیں پانی میں
(کوثر علی)

Comments
9 Comments

9 تبصرے:

محمد وارث نے فرمایا ہے۔۔۔

واقعی بہت خوبصورت غزل ہے، لا جواب!

کامران اصغر کامی نے فرمایا ہے۔۔۔

بات کرنا تو الگ ، بات وہ سنتا بھی نہیں
ہم جسے اپنا کہے جاتے ہیں نادانی میں
واہ شاہ جی کیا بات ہے ۔ویسے ساری غزل ہی اچھی ہے۔

افتخار اجمل بھوپال نے فرمایا ہے۔۔۔

قوم کا حال تو کچھ ایسا ہی ہے

شاہدہ اکرم نے فرمایا ہے۔۔۔

اِنتہائ خُوبصُورت غزل ہے ہر شعر حاصلِ غزل ہے سمجھ ميں نہيں آرہا کہ کونسا شعر سب سے حسين ہے لا جواب

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

وارث صاحب۔۔۔ شکریہ۔۔۔
::کامی::‌ شکریہ ٹوانہ صاحب۔۔۔ :mrgreen:
افتخار صاحب۔۔۔ جی ہاں۔۔
::شاہدہ::‌ بالکل۔۔۔ اسی لئے پوسٹ کی تھی۔۔۔ :smile:

عمر احمد بنگش نے فرمایا ہے۔۔۔

واہ یار کیا بات ہے، بھیے آپ کی جمالیاتی حس جو داد تو دینی ہی پڑے گی۔ اب تعریف سن کر پھول نہ جانا میری طرح :mrgreen: مذید شاہ پاروں‌کا انتظار رہے گا :smile:

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

؛؛عمر:: او شکریہ جی پاء جی ۔۔۔ :smile:

انا نے فرمایا ہے۔۔۔

واہ ،کیا کہنے ھیں۔۔۔۔۔
کچہ شاعر کا بھی تعارف کراتے ناں تو زیادہ مز ہ آتا :smile:

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

کوثر علی ایک نئے شاعر ہیں اور یہ ان کی پہلی کاوش ہے جو ادبی پرچے ”الحمراء“ کے مارچ کے ایڈیشن میں شائع ہوئی ہے۔
اس غزل میں ایک تازگی ہے ۔۔۔

تبصرہ کیجیے