ایک اور غزل برداشت کریں!!!

چند دن پہلے ایک ٹوٹی پھوٹی غزل نما شاعری پوسٹ کی تھی، یار لوگوں نے شاید مروت میں تعریف کر دی تھی :wink: ۔۔۔ بس پھر۔۔ بھگتیں اب ۔۔۔ :grin: :grin:

گر جیتا نہیں بازی تو ہارا بھی نہیں
وفا کا نہ سہی، جفا کا استعارہ بھی نہیں

جانے کس جرم کی سزا دی مجھ کو
زندہ نہیں چھوڑا اور مارا بھی نہیں

امید و بیم میں الجھی ہے زندگی
پاس ہے بھنور اور دور کنارا بھی نہیں

حرفِ محبت نہ سہی، حرفِ تسلی ہی سہی
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھی نہیں

سارے سخنِ شیریں رقیبوں کے لئے ہیں
کشتگان وفا کو نظر کا اشارہ بھی نہیں

Comments
15 Comments

15 تبصرے:

دوست نے فرمایا ہے۔۔۔

بھائی جی کسی سے اصلاح بھی لیتے ہیں؟
مجھے پہلے شعر کی ہلکی سی تقطیع کرنے سے احساس ہورہا ہے کہ آپ شعر کے وزن اور عروض کے معاملے میں میرے جیسے ہیں۔ :grin:

تانیہ رحمان نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب جعفر جی میں یہی کہوں گئی کہ اپنی لکھی ہوئی ایک لائین بھی بہت اچھی لگتی ھے یہ میرا خیال ہے

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::دوست:؛ خوش آمدید۔۔۔ سر جی میرا تو شاعری کا دعوی ہی نہیں۔۔۔ :grin: یہ تو تک بندی ہے۔۔۔
مجھے یقین ہے کہ آپ کی شاعری وزن اور قد دونوں میں پوری ہوگی۔۔۔ :mrgreen:
::تانیہ:: شکریہ۔۔۔
سکول میں ہوم ورک نہ کرنے پر ٹیچر کہتی تھیں کہ ایک پورے صفحے پر لکھو
”میں گندا بچہ ہوں“
وہ لائن اچھی نہیں‌ لگتی تھی
۔۔۔ حالانکہ اپنی لکھی ہوئی ہوتی تھی۔۔۔ :grin:

محمد وارث نے فرمایا ہے۔۔۔

لکھتے رہیئے، کہتے رہیئے!

تانیہ رحمان نے فرمایا ہے۔۔۔

میرا خیال ہے جعفر اب آپ بڑے ہو گئے ہیں اور اچھا بچہ بننے کی کوشش کریں ۔ اور اگر ایک دفعہ لکھ لیتے تو بار بار نا لکھنا پڑتا ۔ پھر آپ کی استانی جی آپ کو کہتی لکھو میں اچھا بچہ ہوں ایک صفعہ

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

وارث صاحب۔۔۔ میں بہت غور کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کا تبصرہ حوصلہ افزائی ہی ہے ۔۔۔۔ :lol:
بہت نوازش ۔۔۔
::تانیہ::‌ ایک ہی فقرے میں دو متضاد باتیں کہہ دیں‌ آپ نے۔۔۔ :razz:
بڑے ہوگئے ہیں اور اچھا بچہ بننے کی کوشش کریں۔۔۔ :mrgreen:
پریشان ہوں کہ دوبارہ بچہ کیسے بنوں‌ اب۔۔۔۔ :lol:

محمد وارث نے فرمایا ہے۔۔۔

جی جی درست نتیجے پر پہنچے ؔپ :smile:
قدر خیال کی ہے اور وہ ماشاءاللہ بہت اچھے ہیں‌ اس غزل میں اور اسی کی طرف اشارہ تھا کہ لکھتے رہیٕے!

عمر احمد بنگش نے فرمایا ہے۔۔۔

جی، تو یہ ہے وہ غزل جو آپ سنانا چاہتے تھے :mrgreen: بالکل ایسے جیسے وہ سٹیج ڈرامے میں‌کہا کرتے ہیں "تو کس جرم میں‌لائے ہیں‌تمھیں‌یہ لوگ" :mrgreen:
او جناب، یہ شاعری کی سمجھ ہے نہیں‌مجھے، صرف پڑھوں‌یا سنوں، اور اگر اچھی لگے تو جناب واہ واہ، اور اس سے زیادہ مجھے سمجھ نہیں‌ہے،۔
اس غزل کا تعلق بھی میری واہ واہ والی غزلوں‌میں‌آتا ہے۔ اور سر جی یہ "کشتگان" کی تھوڑی تشریح‌کر دیں۔ :oops:
اچھی کاوش میرے حساب سے، لیکن اصل حقیقت شعراء‌اور ماہرین ہی بتا سکتے ہیں، لگے رہو جعفر بھائی

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

وارث صاحب ۔۔۔ پھر بہت شکریہ۔۔۔ :smile:
:؛عمر:: یار تم لوگ کہیں میرا ”توا“ تو نہیں لگا رہے۔۔۔ :mrgreen:
پسند کرنے کا شکریہ۔۔۔شاعری کے کرافٹ کی مجھے بھی کچھ زیادہ سمجھ نہیں ہے۔۔۔ ردیف قافیے کا تھوڑا بہت پتہ ہے۔۔۔ باقی سب تک بندی ہے۔۔۔

کُشْتَن کَشْتَہ کُشْتْگاں
فارسی زبان میں 'کشتن' مصدر سے حالیہ تمام 'کشتہ' (جو بطور صفت استعمال ہوتا ہے) کا جمع ہے۔ جو اردو میں اپنی ماخذ ساخت و معانی کے ساتھ بطور صفت ہی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے 1845ء کو "کلیات ظفر" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( مذکر - جمع )
واحد: کُشْتَہ [کُش + تَہ]
1. قتل کئے ہوئے، مقتول، مارے ہوئے؛ (مجازاً) مشاق، دیوانے۔
(بشکریہ آن لائن اردو ڈکشنری)

کامران اصغر کامی نے فرمایا ہے۔۔۔

میں آج کل ویسے ہی دکھی ہوں اس لئے مجھے سڑے بھجے مایوس شعر بہت سکون دیتے ہیں۔واہ اچھا ہے اگے آنے والے وقت میں کافی کام آئے گا میرا مطلب کہ چاہ پانی کا بندوبست تو ہو جائے گا میرا کیا ہوگا ۔۔۔۔۔ :?:

ماوراء نے فرمایا ہے۔۔۔

امید و بیم میں الجھی ہے زندگی
پاس ہے بھنور اور دور کنارا بھی نہیں
بہت خوب ماشاءاللہ۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::کامران:: میرے خیال میں تو یہ مایوس شاعری نہیں‌ہے۔۔۔ :oops: اور ویسے بھی آپ آج کل نہیں، ہمیشہ سے ہی مایوس ہیں۔۔۔ :mrgreen:
::ماوراء:: بہت دن کے بعد آنے اور پسند کرنے کا شکریہ۔۔۔ :smile:

کامران اصغر کامی نے فرمایا ہے۔۔۔

میں بھی سوچ رہا ہوں کنفیوز کی بجائے مایوس ہی رکھ لوں :???:

ڈفرستان کا ڈفر نے فرمایا ہے۔۔۔

یار کشتگان کی مجھے بھی سمجھ نہیں آئی تھی
لیکن تشریح پڑھ کر باقی غزل جو سمجھی تھی وہ بھی غائب ہو گئی
اب تم بھی بھگتو :D

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::کامی:: رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ پہلے ہی ہے۔۔۔ :twisted:
:؛ڈفر::‌ غلطی میری ہے۔۔۔ :lol: صرف معانی لکھ دیتا تو اچھا تھا۔۔۔

تبصرہ کیجیے