پِٹ سیاپا

بڑے نمناک سے ہوتے ہیں انور قہقہے تیرے
کوئی دیوار گریہ ہے ترے اشعار کے پیچھے
===================================
کٹ ہی گئی جدائی بھی یہ کب ہوا کہ مرگئے
تیرے بھی دن گزر گئے، میرے بھی دن گزر گئے
===================================
بظاہر ایسا نہیں‌ پیڑ اس حویلی کا
ہوا چلے تو بہت پھول مارتا ہے مجھے
===================================
یہ جو ہے پھول ہتھیلی پہ اسے پھول نہ جان
میرا دل جسم سے باہر بھی تو ہو سکتا ہے
===================================
کب تمہیں عشق پہ مجبور کیا ہے ہم نے
ہم تو بس یاد دلاتے ہیں چلے جاتے ہیں
===================================
اب اور ٹوٹنے کا حوصلہ نہیں مجھ میں
جمال یار مجھے آئنہ بنانا مت
===================================
لے کے جاتا رہا ہر شام وہ پھول اور چراغ
بس یہی اس نے کیا جتنا جیا میرے بعد
===================================
عدیم اب تک وہی بچپن وہی تخریب کاری ہے
قفس کو توڑ دیتا ہوں پرندے چھوڑ دیتا ہوں
Comments
12 Comments

12 تبصرے:

عمر احمد بنگش نے فرمایا ہے۔۔۔

عدیم ہاشمی کا ایک ہی واحد انٹرویو میں‌نے ایف ایم 100 پر سنا تھا، وہ دوبارہ نشر ہو رہا تھا جب عدیم ہاشمی صاحب اسلام آباد کی کسی ہسپتال میں‌زندگی و موت سے برسر پیکار تھے۔
بڑی انوکھی شخصیت لگے تھے مجھے، یا شاید عدیم صاحب کی حالت اور اس وقت کے ماحول نے مجھے ان کا گرویدہ بنا دیا تھا :razz:
فاصلے ایسے بھی ہوں‌گے، یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا وہ میرے، اور وہ میرا نہ تھا
واہ جی واہ۔
کیا بات ہے‌"قفس کوتوڑدیتا ہوں، پرندے چھوڑ‌دیتا ہوں"
۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کچھ واٹ:
شاعری ؟ خیر تو ہے۔

میرا پاکستان نے فرمایا ہے۔۔۔

دوسرا اور آخری شعر ہمیں اچھا لگا۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین نے فرمایا ہے۔۔۔

عطر کی شیشی پتھر پہ مار کے توڑ دوں گا
خط کا جواب نہ دیا تو خط لکھنا چھوڑ دوں گا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جب آدھی رات ہوتی ہے، دنیا مست سوتی ہے۔
میری غمگین آنکھوں میں تیری تصویر ہوتی ہے۔

۔-- - - - - - - - - - - - --۔
جعفر بھائی خریت! یہ اتنے دکھی دکھی، لُٹے لُٹے، پُٹے پٹے اشعار ۔آخر کس خوشی میں۔؟ :lol:

منیر عباسی نے فرمایا ہے۔۔۔

کہیں کسی چیز کی "طلب" اتنی شدید تو نہیں ہو گئی کہ بدن ٹوٹنے لگا ہو اور آپ کے ہائیر منٹل فنکشن اپنا کنٹرول کھو بیٹھے ہوں؟

ویسے بھی کئی کلینک کھل گئی ہیں پاکستان میں۔ صدیقی کلینک، سداقت کلینک، نزاکت کلینک، شرافت کلینک وغیرہ وغیرہ۔۔

اب تو شراب نوشوں کے لئے بھی ایک کلینک کھُل گیا ہے ۔۔

:mrgreen:

عمر احمد بنگش نے فرمایا ہے۔۔۔

لے فیر ہن پٹ‌سیاپا، ہور چوپو :mrgreen: سنو تبصرے اور وہی کرو جو کرنا چاہ رہے تھے۔ ہاہاہاہاہاہا۔
تبصرہ نگاروں‌سے ایک گذارش:‌ہاتھ ہولا رکھیں :oops: اور جعفر صاحب کو سیاپا پٹنے پر مجبور کر دیں۔ کچھ نیا ہی سیاپا پے گا جب بھی یہ سیاپا پیٹے گا :twisted: ۔ نیز شاعری کے علاوہ بھی‌آپ طبع آزمائی کر سکتے ہیں، جعفر صاحب یقیناً برا نہیں‌منائیں‌گے :mrgreen:

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::عمر:: اپنی واٹ خود ہی لگادی ہے تو کوئی اور کیا لگائے گا۔۔ ہیں جی ۔۔۔ لالے دی جان ۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہوجاتاہے۔۔۔ اس لئے تھوڑا رونے کا بندوبست کیا تھا۔۔۔ ویسے بھی جمعرات کو پوسٹ کی تھی تو پاکستان میں‌ ہوتی تھی جمعرات بھری مراد۔۔۔ یہاں‌ تو جمعرات کی رات اور جمعہ ۔۔۔ ڈپریشن کے مترادف ہیں۔۔ :cry:
::میراپاکستان:: شکریہ صاحب۔۔۔
::جاوید گوندل:: واہ ۔۔۔ وہ شیشی بھری گلاب والا شعر تو کسی اور حالت میں سنا تھا ہم نے ۔۔۔ آپ نے تو نیا ورژن سنا دیا۔۔۔ جی جی خیریت ہی ہے ۔۔۔ رونے سے آنکھیں خوبصورت لگتی ہیں۔۔۔ :wink:
::منیر عباسی:: دید کی شراب نہیں‌ مل رہی نا جی۔۔۔ بس اس لئے ہائیر منٹل فنکشن قابو سے باہر ہو گئے ہیں۔۔۔
کلینک تو دبی میں‌ بھی بہت ہیں۔۔۔ لیکن وہاں‌ داخل ہونے کی پہلی شرط بے غیرتی ہے پھر بیماری ۔۔۔ تو صاحب پہلی شرط پوری کرنے سے قاصر ہوں میں۔۔۔
:grin:

وسیم نے فرمایا ہے۔۔۔

آخری شعر میں حو "قفس" حرف ھے ---- پلے نئی پیا :sad:

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::وسیم:: قفس کہتے ہیں۔۔۔ پنجرے کو۔۔۔
:idea: :idea:

DuFFeR - ڈفر نے فرمایا ہے۔۔۔

”کوئی دیوار گریہ ہے ترے اشعار کے پیچھے“
loved it :smile:

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::ڈفر:: یہی لکھنے کے لئے باقی بھی لکھے تھے۔۔۔۔ اکیلا یہی شعر دیکھ کر یار لوگ پتہ نہیں کیا سوچتے۔۔۔
:mad:

DuFFeR - ڈفر نے فرمایا ہے۔۔۔

لوگوں کو سُچوانا ہی تو ہوتا ہے :wink:

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::ڈفر:: ہائے ہائے ہائے۔۔۔ کیا لفظ بنایا ہے استاد۔۔۔ سچوانا۔۔۔ واہ واہ واہ

تبصرہ کیجیے