جب تک غم جہاں کے ۔۔۔۔۔

جب تک غم جہاں کے حوالے ہوئے نہیں
ہم زندگی کے جاننے والے ہوئے نہیں

کہتا ہے آفتاب، ذرا دیکھنا کہ ہم
ڈوبے تھے گہری رات میں، کالے ہوئے نہیں

چلتے ہو سینہ تان کے دھرتی پہ کس لئے
تم آسماں تو سر پہ سنبھالے ہوئے نہیں

انمول وہ گہر ہیں جہاں کی نگاہ میں
دریا کی جو تہوں سے نکالے ہوئے نہیں

طے کی ہے ہم نے صورت مہتاب راہ شب
طول سفر سے پاؤں میں چھالے ہوئے نہیں

ڈس لیں تو ان کے زہر کا آسان ہے اُتار
یہ سانپ آستین کے پالے ہوئے نہیں

تیشے کا کام ریشہء گل سے لیا شکیب
ہم سے پہاڑ کاٹنے والے ہوئے نہیں

(شکیب جلالی)

Comments
12 Comments

12 تبصرے:

Aniqa Naz نے فرمایا ہے۔۔۔

ا

محمد وارث نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوبصورت غزل ہے، لاجواب

شاہدہ اکرم نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت ہی خوبصورت غزل ہے، مزہ آگیا
شُکریہ

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::عنیقہ:: ب :grin:
::وارث:: شکریہ۔۔۔
::آپی:: آپ کا بھی شکریہ۔۔۔

سماح نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت ہی عمدہ انتخاب۔۔!

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::سماح:: خوش آمدید۔۔۔ :smile:
انتخاب کی داد دینے کا شکریہ۔۔۔

نوائے ادب نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت پیاری غزل ہے شکیب جلالی صاحب کی

ایک بات اس وقت سے دل میں ہے جب سے آپ کا بلاگ دیکھا ہے آپ نے
تکبندی/شاعر
یہ ایک سیکشن بنایا ہوا ہے جسم میں بہت ہی اچھا انتخاب شامل کیا ہے ۔ اکثر شاعر اپنی شاعری کو تکبندی کہتے ہیں آپ سے درخواست کروں گا شاعری والا سیکشن الگ کردیں اور تک بندی والا الگ

یہ ایک رائے ہے اگر بُرا لگا ہو تو معافی چاہتا ہوں شکریہ

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::نوائے ادب:: جناب آپ کا بلاگ نہیں کھلتا میرے پاس۔۔۔ چیک کریں ذرا اسے۔۔۔
برا کچھ نہیں لگتا مجھے ۔۔ اس لئے معافی کابھی کوئی سوال نہیں۔۔۔ :grin:
اس زمرے میں شاعری دوسروں کی ہے اور تک بندی میری اپنی۔۔۔ وہ بھی بند کردی ہے۔۔۔ جب تک وزن میں شعر کہنے کے قابل نہیں ہوتا۔۔۔
آپ کی تجویز کا پھر بھی بہرحال شکریہ۔۔۔ :razz:

نوائے ادب نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت شکریہ آپ کا جناب
نوائے ادب کو پتہ نہیں کیا ہوا ہے کبھی کھلتا ہے اور کبھی نہیں کھلتا بلال بھائی سے بات کرنی پڑے گی میں ان کو بتا دیتا ہوں

مسعود قاضی ڈلس ٹیکداس نے فرمایا ہے۔۔۔

شکیب جلالی یہ وہی شاعر یو نہیں جنہوں نے جوانی میں خودکسی کرلی تھی؟

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

::مسعود قاضی:: خوش آمدید۔ جی بالکل وہی ہیں۔۔

مسعود قاضی ڈلس ٹیکداس نے فرمایا ہے۔۔۔

جعفر صاحب سلام علیکم
خوش رہیں آباد رہیں
اللہ حافظ

تبصرہ کیجیے