ایسے بنتے ہیں طالبان۔۔۔



دونوں تصاویر لاہور کی ہیں۔
معیار زندگی میں اتنا بھیانک فرق اور تضاد بالآخر طالبان کو ہی جنم دیتا ہے!!!

استاد ”پونکا“ (پونکا کا نون، نون غنہ پڑھا جائے!)

درمیانہ قد، سہیل احمد جیسا منہ، خالد عباس ڈار جیسی مونچھیں، وحید مراد جیسا ہئیر سٹائل، محمد علی جیسی پاٹ دار آواز، سگریٹ ہر وقت منہ میں، یہ ہیں ”استاد پونکا“۔ نام تو ان کا کچھ اور تھا لیکن ہر خاص و عام میں‌ ہمارا (میرا اور میرے لنگوٹیے یار کا) دیا ہوا یہ نام مقبول ہوگیا تھاجو کہ حسب حال بھی تھا، اگرچہ ان کے سامنے کسی کی جرات نہ تھی کہ یہ نام دہراتا!
ہمارے محلے میں‌ ان کی ویلڈنگ کی دکان تھی جس میں لوہے کے گیٹ، کھڑکیاں اور ایسی ہی دوسری چیزیں بنتی تھیں۔ ان کی دکان کے باہر پڑا ہوا لکڑی کا بنچ پورے محلے کی چوپال اور افواہوں کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ ہالی ووڈ میں جتنے بھی سپر ہیروز کے کردار تخلیق کئے گئے ہیں ان سب کی انسپریشن انہیں استاد پونکے سے ہی ملی ہوگی۔ استاد بقول ان کے دنیا کے ہر فن اور ہر علم پر حاوی تھے۔ دل کے آپریشن سے لے کر فوجی آپریشن تک، کرکٹ سے گلی ڈنڈے تک، شاعری سے گلوکاری تک، اداکاری سے ہدایت کاری تک ، ہر چیز پر اپنی رائے کو آخری سمجھتے تھے اور اس سے متفق نہ ہونے والے کی بنچ پر جگہ نہیں‌ رہتی تھی!‌
مچھلی کا شکار اور مکیش کے گانے ان کی خصوصی دلچسپی کے حامل تھے۔ مکیش کے سب سے دردناک گانے وہ اپنی دکان پر رکھے ہوئے ازمنہ قدیم کے ڈیک پر تب بجاتے تھے جب ان کے پاس کوئی کام آجاتا تھا۔ وہ اس قول کے بھی قائل تھے کہ ”کم جواناں دی موت اے“۔ لہذا کام کی شکل دیکھتے ہی ایسے گانے ڈیک پر چلنے شروع ہوجاتے تھے کہ تیسرے ہی گانے پر انسان کا خود کشی کرنے کو دل چاہے اور یہ گانے اس وقت تک لگاتار بجتے جب تک کام ختم نہیں‌ ہوتا تھا۔
پونکے کا خطاب استاد کو ان کی آواز اور اس سے جو کام وہ لیتے تھے، اس بناء پر دیا گیا تھا۔ ان کی آواز ایسی تھی کہ بیوی کے کان میں‌ بھی سرگوشی کریں تو ہمسائی شرم سے دوہری ہو جائے ! ان کی سرگوشی کی آواز بھی 20 میٹر دور سے سنی جاسکتی تھی۔ استاد کی شادی تب ہوئی جب ساری کائنات ان کی شادی سے مایوس ہوچکی تھی۔ وجہ؟؟ جب بھی لڑکی والے استاد کو دیکھنے آتے تو بجائے ان کو انٹرویو دینے کے، استاد جی ان کا انٹر ویو لینا شروع کردیتے تھے! اب آپ خود ہی بتائیں کہ ہونے والے سسر سے کوئی افیم کے خواص پر بات کرسکتا ہے؟؟؟ جی ہاں استاد جی کرلیتے تھے اسی لئے ان کے ارمانوں کی ہر کلی پھول بننے سے پہلے ہی مرجھا جاتی تھی۔ ان کی شادی کی کہانی بھی ایک پورے مضمون کی متقاضی ہے۔ لہذا پھر کبھی۔۔۔
استاد کی سب سے بڑی خصوصیت ان کے وہ کارنامے ہیں جو ہم ان کی زبانی سنتے آئے تھے۔ حاسد لوگ ان کارناموں کو گپیں بھی کہتے تھے لیکن آپ تو جانتے ہی ہیں کہ جینیس لوگوں کا ایک سجن تو سو دشمن ہوتے ہیں۔ استاد نے بھی کبھی اس ہرزہ سرائی پر دھیان نہیں دیا اور بدستور اپنے کارنامے گھڑتے ۔۔اوہ۔۔۔ معاف کیجئے سناتے رہے۔ کچھ عاقبت نااندیش تو استاد جی کو ایف ایم420 گپستان کا ڈی جے بھی کہتے تھے!
اس ”مختصر“ سی تمہید کا مقصد استاد سے آپ کا تعارف کروانا تھا۔ ان کے کارنامے گاہے بگاہے آپ کے سامنے پیش کرتا رہوں گا۔

مزید چوّلیں

بکواس کرنا آسان اور سننا بہت مشکل ہے۔۔۔
==============================================================
دولت کی نمائش، جسم کی نمائش سے بھی بڑی فحاشی ہے!
==============================================================
گنجا مرد اور موٹی عورت ، پھیکے خربوزے کی طرح ہوتے ہیں۔۔۔۔
==============================================================
شادی سے پہلے اپنی مجوزہ ساس کو غور سے دیکھیں، آپ کو اپنی ہونے والی بیوی کا مستقبل نظر آجائےگا۔
==============================================================
خود پر ہنسنا سیکھیں اس سے پہلے کہ دنیا آپ پر ہنسنا شروع کردے۔۔۔
==============================================================
جو عورت اپنی ساس کی عادتیں اپنالے، اس کا شوہر ہمیشہ اس کے قابو میں رہتا ہے!!
==============================================================
عاشق کو محبوب سے ”اپائنٹمنٹ“ کم اور ”ڈس اپائنٹمنٹ“ زیادہ ملتی ہے۔۔
==============================================================
زخم بھر جاتا ہے، اس کا نشان نہیں مٹتا۔۔۔۔

ویل پلیسڈ بلاگر

فرض کیجئے آپ ایک بلاگر ہیں۔ آپ نے دیکھادیکھی بلاگ شروع کیا۔ آپ کا مقصد شہرت اور اگر ہوسکے تو پیسہ تھا۔ آپ نے مشہور ہونے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے، ریپ گانے پوسٹ کئے، مذہبی بحثوں‌ پر پوسٹیں لکھیں، لطیفے لکھے، دوسروں کی شاعری اپنے نام سے شائع کی، دوسرے بلاگروں کی مٹی پلید کی۔ الغرض آپ نے ہر حربہ آزما کر دیکھ لیا لیکن آپ کے بلاگ پر ٹریفک نہ ہونے کی برابر رہی۔ آپ پریشان اور مایوس ہوگئے۔ آپ کو اپنی زندگی کی تمام ناکامیاں اور حسرتیں‌ یاد آگئیں۔ آپ کا دل غصے، رنج اور شکووں سے بھر گیا۔ آپ اس دنیا، اس نظام، اس نا انصافی پر لعنت بھیج کر جنگلوں میں نکل جانے کی سوچنے لگے۔ لیکن پھر ایک دن اچانک آپ کے بلاگ پر اتنے وزٹ ہوئے کہ سرور ڈاؤن ہوگیا۔ گوگل والوں نے آپ کے بلاگ پر اپنے اشتہار چلانے کے لئے آپ کا منت ترلا شروع کردیا۔ یوٹیوب نے اپنے صفحہ اول پر آپ کے بلاگ کا لنک دے دیا۔ آپ پر شہرت اور دولت، بارش کی طرح برسنے لگی۔ ٹی وی چینلز والے ایک انٹرویو کے لئے آپ کو لاکھوں روپے کی آفر کرنے لگے، بڑے اخبارات نے آپ کے بلاگ کو چھاپنے کے حقوق حاصل کرنے لئے بڑھ چڑھ کر بولی لگانا شروع کردی۔آپ کے بلاگ کا ذکر بی بی سی اور سی این این پر ہونے لگا۔ آپ کی پوسٹوں کو حامد میر کیپٹل ٹاک کا موضوع بنانے لگا۔ بولتا پاکستان سے مشتاق منحوس۔۔۔ اوہوووو۔۔۔ منہاس روز آپ کو فون کرکے آپ کی رائے لینے لگا۔ اب آپ کے بلاگ پر تبصرہ کرنے کے لئے بھی 2 ڈالر فیس مقرر ہوگئی اور آپ جن بلاگز پر تبصرے کرتے تھے اور وہ اس کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کرتے تھے وہی بلاگر اب آپ کے بلاگ کو تبصروں سے بھرنے لگے۔
آپ کی زندگی میں ایک اور تبدیلی بھی ہوئی، وہ لڑکی جو دور سے آپ کو آتا دیکھ کر ناک پر رومال رکھ لیتی تھی، اب آپ کے تھکے ہوئے لطیفوں پر بھی ایسے ہنسنے لگی کہ اسکی داڑھوں پر لگا ہوا کیڑا بھی آپ کو نظر آنے لگا اور اس نے دوپہر میں جو آلو گوبھی کھائی تھی اس کی مہک بھی اس کے منہ سے آپ کے نتھنوں تک آنے لگی۔ آپ ہائی سوسائٹی میں‌ ”موو“ کرنے لگے۔ جیسی خواتین کی تصاویر آپ روزنامہ وقت میں ”پولو کے میچ سے لطف اندوز ہوتی ہوئی شائقین“ کی کیپشن کے تحت دیکھا کرتے تھے اور آہیں‌ بھرا کرتے تھے ، اب انہی کے ساتھ آپ فائیو سٹار ہوٹلز میں لنچ اور ڈنر اڑانے لگے۔ آپ کی صبحیں سوتے ہوئے، شامیں کلبوں میں اور راتیں ڈانس پارٹیز میں گزرنے لگیں۔ آپ ایسی زندگی گزارنے لگے جس کا خواب بھی آپ کو دیکھنے کی اجازت نہیں تھی ۔۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ
آپ کی آنکھ کھل گئی!!!

ابن صفی - نمک پارے

”آپ کا مذہب کیا ہے۔۔۔۔!“
”بکواس۔۔۔۔!“
”کیا مطلب۔۔۔۔!“
”مذہب کے سلسلے میں عموما بکواس کرتاہوں ۔۔۔۔ عمل نہیں کرتا۔!“
(پتھروں کے پیچھے)
-----------------------------------------------------------------------------------------
”تم مجھے بہت اچھے لگتے ہو۔!“
”ہماری ممی بھی یہی کہتی ہیں۔!“ عمران نے بڑی سادگی سے جواب دیا۔
(شفق کے پجاری)
-----------------------------------------------------------------------------------------
”۔۔۔ان کے قریب ہی ایک تین سالہ صاحب زادے والدہ محترمہ کی گود میں بیٹھے ان کی ٹھوڑی کو ہاتھ لگا لگا کر گارہے تھے
جان من اتنا بتادو ۔۔۔ محبت ۔۔۔ محبت ۔۔۔۔ محبت ہے کیا
”ٹیپو۔۔۔ چپ بیٹھو۔۔۔ !“ وہ اسے جھڑک کر بولیں ۔۔۔۔ اور پھر اپنے ساتھ والی خاتون سے گفتگو کرنے لگیں۔
”باس میں کیا کروں۔۔۔! جوزف کراہا۔
”اب کیا بتاؤں ۔۔۔۔۔ تو آنکھیں نہیں کھول سکتا ورنہ میں تجھے آنے والی نسل کا ٹیپو دکھاتا۔!“
(تصویر کی اڑان)
-----------------------------------------------------------------------------------------
”ارے بند کرو ۔۔۔ ورنہ میں تمہارا گلا گھونٹ دوں گی۔“ وہ دونوں کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر چیخی۔
عمران نے بوکھلائے ہوئے انداز میں ستار رکھ دیا اور دروازے کی طرف چھلانگ لگائی۔ دروازہ اتنی بدحواسی کے ساتھ بند کیا جیسے مویشیوں کے اندر گھس آنے کا خدشہ رہا ہو۔
”ٹھیک ہے۔“ اس نے خوفزدہ انداز میں روشی سے پوچھا۔
”کیا ٹھیک ہے“۔
”بند کردیا۔“
”میں نے ستار بند کرنے کو کہاتھا“۔
”اس میں دروازے نہیں ہیں۔“ بہت سادگی سے جواب دیا گیا۔
(قاصد کی تلاش)
-----------------------------------------------------------------------------------------
”عورت اور گاؤدی۔“ عمران آنکھیں نکال کر بولا۔ ”دنیا کی ہر عورت گاؤدی ہونے کے علاوہ اور سب کچھ ہو سکتی ہے۔ عورت سے زیادہ چالاک جانور روئے زمین پر دوسرا نہیں ملے گا۔ ارے یہی کیا کم ہے کہ اس نے بڑے بڑے افلاطونوں کو اپنے گاؤدی ہونے کا یقین دلا دیا۔۔۔ محض اس لئے کہ ذمہ داریوں کے بوجھ سے سبکدوش ہوجائے۔ عورت تو اس وقت بھی ذہین تھی جب آدمی درختوں کی جڑیں کھود کر اپنا پیٹ بھرتا تھا۔ سو مردوں میں کم از کم دس مرد بے وقوف ہوتے ہیں لیکن اگر تم پانچ سو عورتوں میں سے آدھی بے وقوف عورت بھی پیدا کرسکو تو علی عمران ایم۔ایس۔سی۔ پی۔ایچ۔ڈی گورداسپوری اس سے شادی کرلے گا۔۔۔ آدھی ہی سہی ۔۔۔ اور کیا؟“
(قاصد کی تلاش)
-----------------------------------------------------------------------------------------

چرسیلے گلاب جامن

جعفر کا دسترخوان کے ساتھ ایک بار پھر حاضر ہوں۔ پچھلی ترکیب کی سپر ہٹ کامیابی کے بعد حضرات کے پرزور اصرار پر سویٹ ڈش کی ترکیب پیش خدمت ہے۔ گذارش صرف اتنی ہے کہ پکڑے جانے کی صورت میں‌ میرا نام بالکل مت لیں! نوازش ہوگی!!!
ہاں تو پھر اجزاء نوٹ کرلیں۔

1- اچھی کوالٹی کی چرس (حسب ذائقہ اور حسب ہمت)
2- دو کلو گلاب جامن (کسی بھی لاری اڈے میں‌واقع مٹھائی کی دکان سے خریدی گئی ہوں)
3- بس اتنے ہی اجزاء ہیں!!

بہت آسان ترکیب ہے۔ گلاب جامن کھا کر اس کے بعد چرس والا سگریٹ پئیں پھر گلاب جامن کھائیں پھر سگریٹ پئیں پھر گلاب جامن کھائیں‌پھر۔۔۔۔ علی ہذ القیاس ۔۔۔۔ حتی کہ انٹا غفیل ہوجائیں۔
یہ بات دھیان میں رہے کہ یہ ترکیب کسی ایسی جگہ استعمال کریں جہاں پولیس اور گھر والوں کے چھاپے کا ڈر نہ ہو۔ اگر شومئی قسمت سے پھر بھی پکڑے جائیں تو براہ مہربانی میرا نام مت لیں!! اور پولیس کے ہاتھوں‌ پکڑے جانے کی صورت میں اصرار کریں کہ ”پانجہ“ فورا ہی لگا دیا جائے کیونکہ چرسیلے گلاب جامنوں کی وجہ سے درد زیادہ محسوس نہیں ہوگا! ہیں‌جی۔۔۔ کیا کہا!! نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ تجربہ نہیں ہے میرا۔۔۔ کامن سینس کی بات ہے!! اور اگر گھر والوں‌ نے پکڑ لیا تو ایسا ”چھتر پولا“ تو ہوتا ہی رہتا ہوگا آپ کا۔۔۔ اس لئے یہ کوئی زیادہ تشویش کی بات نہیں ہے۔۔۔
بس اب اجازت دیں۔۔۔ اگلی ترکیب کے ساتھ پھر حاضر خدمت ہوں گا۔۔۔ اگر کسی نے مخبری نہ کردی تو۔۔۔۔

بہت بےآبرو ہو کر ترے ”دفتر“ سے ہم نکلے۔۔۔

یہ اس وقت کا قصہ ہے جب آتش جوان تھا بلکہ درست تو یوں ہے کہ بچپن اور جوانی کی سرحد پر حیران تھا۔ تازہ تازہ سکول کی قید سے رہائی ملی تھی اور کالج کی آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع! ایسا محسوس ہوتا تھا جیسا نیلسن منڈیلا کو 30 سال سے زیادہ کی قید کے بعد رہائی ملنے پر محسوس ہوا ہوگا۔ میرے بہت سے مینوفیکچرنگ فالٹس میں سے ایک لیڈری بھی تھا(اورہے) اور لیڈری بھی ایسی جس کے بارے میں خالد مسعود نے کہا تھا؛

اس کو پلس سے روز ہی چھتر پڑتے تھے
کرتا تھا ایسی تقریر کمینہ سا

تو قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے کیمسٹری کے لیکچرار ایک عجوبہ روزگار شخصیت واقعہ ہوئے تھے۔ ایسے سمارٹ کہ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائیں اور مونچھیں ایسی کہ دور سے لگتا تھا کہ مونچھیں چلی آرہی ہیں، قریب آنے پر پتہ چلتا تھا کہ مونچھوں کے ساتھ بندہ بھی لگا ہوا ہے۔ پڑھاتے ایسے تھے کہ قسم اٹھوالیں جو ان کا ایک بھی لفظ سمجھ میں‌ آتا ہو۔ ہم ٹھہرے اردو میڈیم کے پڑھے ہوئے اور ان کا ”ایکسنٹ“ برٹش اور آسٹریلین ایکسنٹ کا کراس بریڈ تھا (یہ اب پتہ چلا ہے کہ ایسا تھا)۔ پھر ان کی کلاس میں‌ یونیفارم کی پابندی۔ اتنی شرمندگی ہوتی تھی یونیفارم پہن کر کہ پورے کالج میں ہماری کلاس کے شیر جوان ہی پہنتے تھے اور سب کی طنزیہ نظروں‌ اور فقروں کا نشانہ بھی بنتے تھے۔ ایک غیر حاضری پر وہ 3 دن کی غیر حاضری لگاتے تھے۔ نام کی بجائے سب کو رول نمبر سے بلاتے تھے۔ کسی کو متوجہ کرنے کے لئے چاک کا ٹکڑا کھینچ مارتے تھے اور نشانہ بھی اس غضب کا تھا کہ سیدھا شکار کے سر پر لگتا تھا۔ بچپن میں‌ضرور ”بنٹوں“ کے بین المحلہ چیمپئین رہے ہوں گے ۔!!! اور ان کا ایک مشہور زمانہ ڈائلاگ بھی تھا، چلیں چھوڑیں اسے، پہلے ہی بیبیاں اس بلاگ پر آنے سے گریز کرنے لگی ہیں!!!

الغرض ”ہزاروں ہی شکوے ہیں کیاکیا بتاؤں“

توفرنگی محاورے کے مطابق” ایک خوشگوار صبح“ ہم سب نے فیصلہ کیا کہ اس سمسیا کا کوئی حل نکالنا چاہئے۔ حل یہ نکلا کہ ایک درخواست بنام پرنسپل لکھی جائے جس میں کیمسٹری کے لیکچرار کو تبدیل کرنے کی مانگ کی جائے اور پوری کلاس اس پر دستخط کرے۔ اب سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ یہ درخواست پرنسپل کے حضور پیش کون‌ کرے گا؟ سب کی نظریں بیک وقت مجھ پر آکر ٹھہر گئیں کہ چل بچو! بڑا لیڈر بنتا ہے! اب پتہ چلے گا تیرا۔! میں نے بھی نعرہ مستانہ (حماقت بھی پڑھا جاسکتا ہے) بلند کیا اور کہا لکھو درخواست! میں‌لے کر جاؤں گا پرنسپل کے پاس۔! درخواست لکھی گئی، دستخط ثبت کئے گئے اور میرے ہاتھ میں تھما دی گئی۔

اب منظر ملاحظہ ہو۔ میں سب سے آگے اور میرے پیچھے چالیس، پینتالیس شیر جوان مارچ پاسٹ کرتے ہوئے پرنسپل آفس کی طرف گامزن۔ میں نے مورل سپورٹ کے لئے دو جوان ساتھ لئے اور گھس گیا سیدھا آفس میں۔ درخواست جا میز پر رکھی۔ پرنسپل صاحب نے عینک کے شیشوں میں‌سے گھورتے ہوئے فرمایا۔ ”کیا ہے یہ؟“ پھر جواب کا انتظار کئے بغیر اٹھا کر اسے پڑھنا شروع کردیا۔ ان کے چہرے کے بدلتے رنگوں سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ ” ٹھاکر تو گیو“ ۔ پڑھنے کے بعد انہوں نے وہ درخواست میرے منہ پر دے ماری۔ اور وہ بے عزتی کی کہ بس کچھ مت پوچھیں۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ جن کے دستخط ہیں وہ کہاں‌ ہیں؟ میں نے کہا، سر! سب آفس کے باہر کھڑے ہیں۔ انہوں نے فرمایا، چلو میرے ساتھ دیکھتا ہوں ان کو بھی! یہ منظر دیکھ کر میرے ساتھ اندر آنے والے تو پہلے ہی کھسک گئے تھے۔ باہر جاکر انہوں نے باقی پلاٹون کو بیستی پروگرام کے بارے میں بریف کردیا تھا۔ تو صاحب! جب ہم پرنسپل صاحب کے ساتھ آفس سے باہر آئے تو وہاں نہ بندہ تھا نہ بندے کی ذات!

تو صاحبو! اصل بیستی پروگرام تو اگلے دن کیمسٹری کے پیریڈ میں شروع ہوا جو اگلے دو سال تک لگاتار ”سوپ سیریل“ کی طرح چلتا رہا۔ اس کی تفصیل پھر کبھی۔ اس ساری ”گھٹنا“ میں‌ صرف دو جوانوں نے میرا ساتھ دیا۔ باقی سب پورس کے ہاتھی ثابت ہوئے ۔
میرا ان دلیر جوانوں سے پکا وعدہ تھا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد ان دونوں کو نشان حیدر عطا کروں گا!!!
اگر وہ دونوں پڑھ رہے ہوں تو سند رہے کہ میں اپنا وعدہ بھولا نہیں!

کام تمام

کوئی جائے اور جاکر علی عظمت کو بتلائے کہ وقت نکلا جاتا ہے ۔ زندگی خوابوں پر بسر نہیں ہوتی، نئے گانوں پر ہوتی ہے!!

چند سال ہوتے ہیں جب کل کے لونڈے نے اٹھ کر اس کو چیلنج کیا تھا وہ مگر اپنی ہی دنیا میں مگن رہا اب یہ حال ہے کہ کوئی اس کا نام لیوا باقی نہیں۔ وائے افسوس!

کارواں‌کے دل سے احساس زیاں‌جاتا رہا

کیا کیا گہر تھے جو نرگسیت کے ہاتھوں تاریخ کی خاک ہوئے۔ کل کا مورخ جب یہ داستاں لکھے گا تو اس کے قلم سے خون بہے گا۔ وقت رکتا نہیں اور رکنے والوں‌کو بہا کر لے جاتا ہے ، کاش کہ کوئی اسے بتائے! اتنی زیاں کاری، ایسی سود فراموشی۔۔۔۔ کیا دور تھا کہ مہ جبینیں اس کی موسیقی پر مدہوش ہو کر رقص کیا کرتی تھیں اور اب۔۔۔۔ گڑوی والیاں بھی شادیوں‌ پر اس کے گانے نہیں گاتیں۔

دو صدیاں‌ ہوتی ہیں جب محمد شاہ رنگیلا بھرے دربار میں‌ داد فن (اور عیش بھی) دیا کرتا تھا۔ فنکار اور موسیقار دور دور سے آتے اور اپنے من کی مراد پاتے۔ مگر افسوس کہ بھرے بڑھاپے میں اسے موت کا منہ دیکھنا پڑا۔ سب اہل فن جیسے یتیم و یسیر ہوگئے تھے۔ پھر دو صدیوں کے بعد ایک اور فن کا قدردان تخت نشین ہوا، اہل فن جیسے دوبارہ جی اٹھے ہوں۔ مورخ، اہل فن کی قدردانی میں‌محمد شاہ رنگیلے سے پہلے مشرف شاہ سریلے کا نام لکھے گا۔ مگر افسوس اس کو بھی جیتے جی مار دیا گیا۔ تو کیا یہی وہ غم ہے جو ہمارے گلوکار کو لے بیٹھا!!

تو کوئی جائے اور جاکر علی عظمت کو بتلائے کہ وقت نکلا جاتا ہے ۔ زندگی خوابوں پر بسر نہیں ہوتی، نئے گانوں پر ہوتی ہے!!
(ایک اور پیروڈی۔۔۔ کس کی ہے۔۔۔ بتانے والے کو انعام میں‌ 10 کوڑے لگائے جائیں گے۔۔۔ پہلے آئیں، پہلے کھائیں!!)

اک بدماش عورت (منیر نیازی)

بڑا ای مان سی مینوں وی
کجھ اپنی طاقت اُتے
اپنے حسن جمال تے
اپنے دل دی ہمت اُتے
پَر جدوں اوس نوں ملیا
تے مینوں اگوں ہو کے پئی
عورتاں ورگا جسم سی اوس دا
اکھ سی مرداں جئی
قسم خدا دی میرے کولوں تے گل نئیں کیتی گئی!

مزید پیروڈی

اس نے میری طرف دیکھا۔ سر جھکایا، ناک میں انگلی گھمائی اورپھر اسے اپنے کندھے پر رکھے ہوئے صافے سے صاف کیا۔ کھنکھار کر ایک طرف تھوکا۔ میں‌ سمجھ گیا کہ اب یہ ضرور کوئی چول مارے گا۔ چول مارنے سے پہلے یہ اس کا سٹینڈرڈ پروسیجر ہے۔ میں‌ نے فورا اپنے دونوں کانوں کے دروازے کھول دئیے تاکہ ایک سے سن کر دوسرے سے نکال سکوں۔ اس نے سگریٹ سلگایا اور مجھ سے مخاطب ہوا۔ ”باؤ! یار ایک بات تو بتا۔ یہ مون لائٹ والا آخری شو کی ٹکٹ کیوں‌ بلیک کرتاہے؟۔“ اس نے سگریٹ کا دھواں میری طرف پھینکتے ہوئے سوال کیا۔ میں‌ نے خشمگیں نظروں سے اسے گھورا اور جواب دیا۔ ”مجھے کیا پتہ“۔ اس پر اس نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر قہقہہ لگایا اور کہنے لگا۔ ”میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اب تو گھر گھر کیبل کی صورت میں مون لائٹ کھل گیا ہے تو پھر کیوں ٹکٹ بلیک ہوتاہے؟ کوئی پاگل کا پتر ہی ہوگا جو بلیک ٹکٹ لے کر گرمی میں‌ بیٹھ کر ”گرماگرم پروگرام“ دیکھے جبکہ یہی سہولت اسے اپنے گھر میں 200 روپے ماہوار پر دستیاب ہو؟ کیوں باؤ! کیا خیال ہے تمہارا؟“

بے لاگ بلاگر - خاور کھوکھر

سب سے پہلے ڈفر کا بلاگ وزٹا تھا میں نے اور وہ بھی اتفاق سے۔ ڈھونڈنے کچھ اور نکلا تھا، پہنچ کہیں اور گیا۔ لیکن اب سوچتا ہوں کہ ٹھیک جگہ پہنچا تھا۔ اسی کے بلاگ رول سے خاور کھوکھر کے بلاگ کا پتہ ملا۔ پہلی دفعہ وہاں گیا تو تصویر دیکھ کر لگا کہ کوئی منڈا کھنڈا ہے اور گانے شانے پوسٹ کردیتا ہوگا موج میلہ کرنے کے لئے۔
لیکن پوسٹ پڑھنی شروع کی تو آخری سطر تک پڑھتا ہی چلا گیا۔ انوکھا انداز تحریر اور قاری کو برچھی سے ”کتکتاریاں“ کرتے ہوئے خاور صاحب۔
دو قسم کے بندے ہوتے ہیں پہلے جو خود کو تجربہ کار کہتے ہیں لیکن اصل میں پڑے پڑے پرانے ہوگئے ہوتے ہیں اور جو ہر بات پر اپنا باجا نکال کر بجانا شروع کردیتے ہیں۔ دوسری قسم کے یہ ہمارے خاور کھوکھر جیسے ہوتے ہیں کہ ایسی باتیں وہی لکھ سکتا ہے جس کو زندگی نے چنگا رگڑا دیا ہو اور خوب دھو کر نیل دے کر سکھایا ہو۔چمک جاتا ہے پھر بندہ، تو اپنے خاور صاحب بھی چمک گئے ہیں۔ سیدھے انداز میں نوکیلی باتیں۔ کاٹ دار ایسی کہ بندہ پڑھنے کے بعد بھی چبھن محسوس کرتا رہے۔ لگی لپٹی رکھے بغیر لیکن کسی کو طعنے اور مہنے دیئے بغیر۔
تبصرے بھی کم کم کرتے ہیں، لیکن تبصرے بھی پڑھنے لائق ہوتے ہیں۔ ایک اقتباس دیکھئے

طالبان کے اسلام کا ورژن ہو گا جی
خواہ مخواہ
شلوار کو اونچا کروانے کے لیے گٹوں پر چھڑیاں برسیں گی
داڑھی کے سائیز پر سزا ہو گي
لیکن جی فکر ناں کریں
ان لوگوں کی نیت ٹھیک ہو گي اس لیے ان کو سنوارنا آسان ہو گا

ان کے نقطہ نظر سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سوچی سمجھی رائے کے مالک ہیں اور اس پر دلیل سے بات کرتے ہیں۔ پوری قوم کی طرح بلاگروں میں بھی جذباتیت پسندوں (جن میں خود بھی شامل ہوں) کی بھرمار ہے لیکن یہ بھی ان کی خوبی ہے کہ جذباتیت سے کوسوں دور ہیں۔ سیاست، مزاح، معاشرت ہر موضوع پر قلم برداشتہ لکھتے ہیں۔ قاری سے مکالمہ کرتا ہوا لکھنے کا انداز اور اپنی رائے بغیر ٹھونسے ہوئے بیان کرنے کا فن۔



آخر میں ان کے بے لاگ بلاگ سے ایک اقتباس۔۔۔
اب یہ حال ہے کہ حکومتی لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور میڈیا ان کے ھاتھ ہے
اور یہ لوگ بچوں کی طرح کہہ رہے ہیں وہ دیکھو جی طالبان آ رہے ہیں یہ ہم لوگوں کو ماریں گے
نہیں جی یہ ہم لوگوں کو نہیں تم لوگوں کو ماریں گے
بس میرے لوگوں کو عام لوگوں کو اس بات کا معلوم ہونے تک کی دیر ہے کہ ہم لوگ ہم ہیں
اورحکومتی لوگ
ہم نہیں ہیں!!

ڈائیلاگ بازی

پچھلے کچھ برسوں میں جو چند اچھی فلمیں بنی ہیں ”اومکارہ“ ان میں‌ سے ایک ہے۔ یہ فلم شیکسپئر کے ڈرامے ”اوتھیلو“ سے ماخوذ ہے۔ اور اس کو دیہی اتر پردیش کے پس منظر میں فلمایا گیا ہے۔ فلم میں‌ استعمال کی گئی زبان بہت ہی عوامی ہے لہذا کمزور دل حضرات دیکھنے سے پرہیز کریں۔ فلم کے اوپننگ کریڈٹس کے فوراً بعد یہ ڈایلاگ ہے ، جو بہت سی وجوہات کی بناء پر میرا پسندیدہ ہے۔

(سیف علی خان بطور لنگڑا تیاگی)
”بے وقوف اور ۔۔۔۔ میں‌ دھاگے بھر کا پھرک ہوتا ہیگا بھیّا
دھاگے کے ہینگے بے وقوف اور ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔
اور جو دھاگہ ہینچ لو تو کون ہے بےوقوف اور کون ہے ۔۔۔۔۔، کروڑ روپے کا پَرَسَن ہے بھیا
!

خالی جگہ میں استعمال ہونے والا لفظ لکھنے کی ہمت نہیں‌ ہوئی۔ جنہوں نے فلم دیکھی ہے ان کو پتہ چل گیا ہوگا کہ کونسا لفظ ہے!

برسبیل تذکرہ ایک بات یاد آئی ہے وہ بھی سن لیجئے۔ ایک انڈین دوست سے میری کرکٹ پر بحث ہورہی تھی کہ وہ اچانک بولا۔ ”یار، تم پاکستانی انڈیا کے اتنے مخالف ہو لیکن فلمیں اور گانے ہمارے ہی دیکھتے اور سنتے ہو۔ یہ کیا منافقت ہے؟“
میں نے جواب دیا کہ جب کوئی بندہ تماشبینی کے لئے بازار میں جاتا ہے تو وہ طوائف سے اس کی قومیت نہیں‌ پوچھتا۔ پیسے خرچ کرتا ہے اور تماشبینی کرتا ہے۔ اس میں منافقت کہاں‌ سے آگئی۔
وہ اٹھا، میرے گھٹنوں‌ کو ہاتھ لگایا اور ہاتھ جوڑ کر بولا۔ ”تو مہان ہے میرے باپ، معاف کر مجھے“۔

آخر میں تبرک کے طور پر الحاج سلطان راہی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ایک ڈائلاگ سن لیجئے:
سلطان راہی:‌ ”اوئے چاچا! میرے پیو نوں کنے کنے رل کے ماریا اے“۔
چاچا: ”او پترا، اونہوں ساریاں رل کے ماریا سی“۔
سلطان راہی: ”اوئے میں سارے ماردیاں گا“۔

تبصروں میں اپنے پسندیدہ ڈایلاگ لکھنے کی کھلی آزادی ہے!