امر پریم

جِیلے کا باپ چودھری کا مزارعہ تھا۔ شناختی کارڈ پر نام تو محمد رفیق تھا لیکن آخری دفعہ مولوی صاحب نے نکاح پڑھاتے وقت یہ نام لیا تھا اور اس وقوعے کو بھی طویل عرصہ گزر چکا تھا۔ سب اس کو فیکا ہی کہتے تھے سوائے جِیلے کی ماں کے جو اسے جِیلے دے ابّا کہہ کر بلاتی تھی۔ جِیلے کی پیدائشی پرچی پر بھی اس کا نام محمد جلیل ہی تھا لیکن سب کے لئے وہ جِیلا تھا۔ جِیلے کے پیدائش کے وقت زچگی کے دوران پیچیدگی ہوگئی تھی اور فیکے کی بیوی اس کے بعد ماں نہیں بن سکی تھی۔ اس طرح جِیلا اکلوتا ہی رہا۔ فیکا تھا تو مزارعہ لیکن اس نے جِیلے کو چودھریوں کے بچوں کی طرح پالا تھا۔ لاڈ پیار میں پڑھائی بھی نہیں کرسکا۔ فرمائش اس کی منہ سے نکلنے سے پہلے پوری ہوتی تھی۔ جِیلا سارا دن کبھی کھُوہ پر اور کبھی کسی ڈیرے پر گپیں مارتے دن گزار دیتا تھا۔ نوجوانی میں قدم رکھا تو زیادہ تر وقت کھُوہ کے اردگرد گھومتے ہی گزرنے لگا۔ پنڈ سے عورتیں پانی بھرنے آتیں تو ان سے ہنسی مذاق چلتا رہتا۔ اچھی خوراک، نہ کام نہ کاج۔ چٹّا سفید کرتا اور چوخانے کا تہبند باندھے، بالوں میں خوشبودار تیل لگا کے بائیں طرف سے مانگ نکالے، آنکھوں میں سُرمے کی ہلکی سلائیاں لگائے جِیلا، کتووال کا چودھری ہی لگتا تھا۔

بانو عرف بَنتو منشی طفیل کی منجھلی بیٹی تھی۔ ہفتے میں دو دن کھوہ پر پانی بھرنے کی باری اس کی ہوتی تھی۔ جِیلے سے آںکھیں چار ہوئیں تو وہ روزانہ پانی بھرنے آںے لگی۔ اکھ مٹکّے سے بات بڑھتی ہوئی ملاقاتوں اور قول قرار تک پہنچی۔ ایک دوسرے کے بغیر نہ جینے کے وعدے ہوئے۔ بچّوں کے نام سوچے گئے۔ عشق، مُشک اور کھنگ چھپائے نہیں چھپتے۔ یہ بات بھی سرگوشیوں سے ہوتی ہوئی چوپالوں کا موضوع بن گئی۔ فیکے کو بھنک ملی تو اس نے زندگی میں پہلی بار جِیلے کو گھُرکا۔ اسے سمجھایا کہ پُتّر جو بھی ہوجائے ہم مزارعے ہیں، کمّی ہیں۔ منشی کبھی ہم سے رشتہ داری نہیں کرے گا۔ بنتو کا خیال دل سے نکال دے۔ میں تیری شادی تیری پھپھّی ذکیہ کی دھی نسرین سے کر دوں گا۔ ماشاءاللہ بہت سوہنی کڑی ہے۔

عشق بھی لیکن کھُرک کی طرح ہوتا ہے۔ جتنی کھُرک کرو، اتنی ہی بے چینی ہوتی ہے۔ جِیلے نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ دو دو دن کپڑے نہیں بدلتا تھا۔ برے حال اور بانکے دیہاڑے۔ منشی کو بھی اس احوال کا پتہ چل گیا تھا۔ اس نے جھٹ پٹ بنتو کی شادی ملکوال میں اپنے چھوٹے بھائی کے بیٹے سے طے کردی۔ شوّال کے دوسرے ہفتے برات آنی تھی۔ برات سے دو دن پہلے بنتو نے جِیلے کو پیغام بھیجا کہ آخری دفعہ مل جاؤ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی جِیلا رات کو کھوہ سے متصل کماد میں پہنچ گیا۔ بنتو وہاں اس کا انتظار کر رہی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر گم آواز میں روتے رہے۔

جانے سے پہلے جِیلے نے بنتو سے کہا، "اپنی کوئی ایسی نشانی دو کہ میں ہر وقت اسے اپنے دل سے لگا کر رکھوں۔" بنتو نے تھوڑی دیر سوچا، پھر دایاں ہاتھ اپنے کرتے کے گریبان میں ڈالا۔ بائیں بغل سے ایک بال نوچا، اسے رومال میں لپیٹا اور جِیلے کو دے دیا۔ جِیلے نے رومال کی احتیاط سے تہہ لگائی۔ اسے چوما، آنکھوں سے لگایا اور اپنے کھیسے میں ڈال لیا۔ یہ بنتو اور جِیلے کی آخری ملاقات تھی۔

بنتو کی شادی ہوگئی۔ وہ ملکوال چلی گئی۔ شادی کے ایک ہفتے بعد جِیلے نے وہ رومال نکالا اور اسے فیجےسنیارے کے پاس لے گیا۔ فیجے نے پوچھا، پُتّر خیر تو ہے، سویرے سویرے کدھر؟۔ جِیلے نے کھیسے سے رومال نکالا، احتیاط سے اس کی تہہ کھولی اور بال نکال کر چوما اور فیجے سے کہا، "چاچا، اس بال کو سونے کے تعویذ میں مڑھ دے۔ جتنے پیسے لگیں گے میں دوں گا۔"  فیجے نے حیرانی سے پوچھا، یہ کس کا بال ہے؟ جِیلےکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بولا، "چاچا یہ مت پوچھ۔" فیجا خاموش ہوگیا۔

اگلے ہفتے جِیلا تعویذ لینے فیجے سنیارے کے پاس پہنچا۔ فیجے نے دونوں ہاتھ سے تعویذ تھاما، چُوما، آنکھوں کو لگایا اور جِیلے کو دے دیا۔ جِیلا حیران ہوگیا۔ فیجا بولا، پُتّر اب تو بتا دے کہ یہ بال کس کا ہے؟۔ جِیلا رُندھی ہوئی آواز میں بولا، "چاچا یہ بنتو کی بغل کا بال ہے۔ اس نے جاتے ہوئے مجھے یہ آخری نشانی دی تھی۔ اب یہ تعویذ ساری زندگی میرے دل کے ساتھ لگا رہے گا۔"

یہ سنتے ہی فیجے کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ اس نے جوتا اتارا اور بے دریغ جِیلے کو پیٹنا شروع کردیا۔ گلی میں ہاہاکار مچ گئی۔ لوگ اکٹھے ہوگئے۔ فیجے کو پکڑنے کی لوگوں نے بہت کوشش کی لیکن وہ اڑ اڑ کر جِیلے کو پیٹتا رہا اور ماں بہن کی گالیاں دیتا رہا۔ بالآخر تھک ہار کر ہانپتا ہوا، تھڑے پر بیٹھ گیا۔ چاچے کرمے نے لسّی کا گلاس منگوایا۔ فیجے کو دیا۔ فیجے نے لسّی کا گلاس خالی کرکے چھڈواں جِیلے کو دے مارا۔ اس کے سر سے خون بہہ نکلا۔ چاچے کرمے نے فیجے کے کندھے تھامے اور بولا، او کچھ بول تو سہی، اس نمانڑے نے تجھے کہا کیا ہے؟۔

"اس ٭٭٭٭ ٭٭٭ نے ایک بال لا کر دیا کہ تعویذ میں مڑھ دے۔ میرے پوچھنے پر بھی نہیں بتایا کہ کس کا ہے۔ میں سمجھا کسی بزرگ کا ہے۔ میں پورا ہفتہ وہ بال پانی میں گھول گھول کر خود اور اپنے گھر والوں کو پلاتا رہا کہ کسی کرنی والے بزرگ کا بال ہے، برکت اور صحت ہوگی۔ آج اس انہّی دے نے بتایا کہ بنتو کی بغل کا بال تھا۔"

فیجے سنیارے کے چہرے پر بے چارگی اور تاسّف تھا۔