کسی دن بنوں گی میں راجہ کی رانی

 کسی دن بنوں گی میں راجہ کی رانی ۔۔۔ ذرا پھر سے کہنا۔۔۔۔

گرمیوں کی سہ پہر گلزار پان شاپ کے ڈیک سے یہ آواز آئی تو گوگی کے دل میں پھر وہی طوفان ابھرا جو پہلی دفعہ خواب میں یہ گانا دیکھ کر ابھرا تھا۔ گوگی کو اچھی طرح یاد تھا کہ میٹرک کے بورڈ کے پرچے تھے اور مطالعۂ پاکستان کے پرچے والی رات پہلی دفعہ اس کو یہ خواب آیا تھا۔ پیر سوہاوہ کی پہاڑیوں کا منظر تھا۔ پسِ منظر میں راجہ کی رانی والا گانا بج رہا تھا۔ ملکوتی حسن کا شہکار ایک شہزادہ دُلکی سائیکل چلاتا ہوا ندی کی طرف جا رہا تھا۔ اس کے گھنے بال ہوا میں لہرا رہے تھے۔ تیز دھوپ کی وجہ سے اس نے کالے شیشوں والی عینک بھی لگا رکھی تھی جو اس کے حُسن کو چار چاند لگا رہی تھی۔ ندی کے قریب پہنچ کر وہ قلانچ بھر کے سائیکل سے اترا۔ سائیکل سٹینڈ پر لگائی۔ گدّی کے نیچے والا لاک لگا کر وائر لاک بھی لگایا۔شرٹ اتاری اور ندّی میں اتر گیا۔ گوگی بھی ندّی میں نہا رہی تھی۔ شہزادے نے اس کو بانہوں میں بھرا اور انگریزی فلم والی ایکٹنگ شروع ہی کرنے لگا تھا کہ عین اس وقت گوگی کی آنکھ کھل گئی ۔

گوگی پچھلے کئی سال سے مسلسل یہ خواب دیکھتی آرہی تھی۔ خواب عین اسی جگہ ٹوٹتا تھا جہاں پہلی دفعہ ٹوٹا تھا۔ گوگی کی دلی خواہش تھی کہ کاش کسی رات یہ خواب اپنے منطقی انجام تک پہنچے لیکن ۔۔۔ اےبسا آرزو کہ خاک شُد۔ اوکاڑہ  ویمن ڈگری کالج سے بی اے میں فیل ہو کے گوگی نے اعلی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیا اور سلائی کے کاروبار میں قسمت آزمانے کا سوچا۔ زیادہ تر دوشیزائیں زنانہ ملبوسات کی سلائی ہی کرتی ہیں لیکن گوگی نے انقلابی فیصلہ کیا اور مردانہ شلواریں قمیصیں سینی شروع کر دیں۔

گوگی ٹیلرنگ اینڈ سٹائلنگ بوتیک ، لاری اڈّہ ، اوکاڑہ کی شہرت آہستہ آہستہ پورے پنجاب میں پھیل گئی۔ گوگی کے سلے شلوار قمیص، کرتے، پاجامے اپنی مثال آپ تھے۔ گوگی کا لگا ہوا ٹانکا منہ سے بولتا تھا۔ جو ایک دفعہ گوگی ٹیلرنگ شاپ پر آیا وہ دوبارہ کسی اور درزی کے پاس نہیں گیا۔ گوگی کو بڑے شہروں سے آفرز آنے لگیں کہ اپنی ٹیلرنگ شاپ کی فرنچائز کھولیں، سارا خرچہ ہم کریں گے بس نام آپ کا چلے گا۔ گوگی زندگی میں بہت آگے جانا چاہتی تھی۔ اس نے  لاہور منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ گوگی کی زندگی کا بہترین فیصلہ ثابت ہوا۔

زندہ دلانِ لاہور نے گوگی کا کھلی بانہوں سے استقبال کیا۔ اس کے ہُنر اور فن کی دُھوم یہاں پہلے ہی پہنچ چکی تھی۔ باقی کسر گوگی نے مزنگ میں "شہزادی بوتیک "کھول کے پوری کر دی۔شہزادی بوتیک پر عید کے جوڑوں کی بکنگ محرم میں شروع ہوجاتی تھی اور یکم صفر کو آخری جوڑا بک کیا جاتا تھا۔ لوگ گوگی کی بکنگ بولی میں بیچتے تھے۔ ایک خوش لباس  افسر نے بکنگ نہ ملنے پر بولی میں بکنگ خریدی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے لئے انہوں نے ستاسی لاکھ روپے ادا کئے۔ یہ گوگی کے جادو کی ایک چھوٹی سی مثال تھی۔

لاہور میں گوگی کے کئی نئے تعلق بنے لیکن نسرین پنبیری کے ساتھ اس کی ایسی دوستی ہوئی کہ جیسے یک جان دو قالب ہوں۔ پنبیری کا  تعلق بھی اوکاڑہ سے تھا۔ شادی کے بعد وہ کچھ عرصہ حجرہ شاہ مقیم میں رہی اور پھر لاہور منتقل ہوگئی۔ گہری سہیلیوں کی طرح ان کی کوئی بات ایک دوسرے سے چھپی ہوئی نہ تھی۔اس سارے عرصے میں گوگی کو شہزادے والا خواب بدستور تنگ کرتا رہا۔ اس نے ایک دن پنبیری سے اس خواب کا ذکر کیا تو وہ چونک اٹھی۔ اس نے گوگی سے کرید کے شہزادے کا حلیہ پوچھا۔ گوگی نے تفصیل سے شہزادے کا حلیہ بتایا تو پنبیری دم بخود ہو کر رہ گئی۔

پنبیری نے فورا اپنا فون اٹھایا اور گیلری کھول کر اس میں سے ایک تصویر گوگی کو دکھائی۔ یہ اس شہزادے کی فوٹو تھی جس کا خواب گوگی میٹرک کے مطالعۂ پاکستان والے پرچے کی رات سے دیکھتی آرہی تھی۔ پنبیری کے پاس سنانے کے لئے ایک کہانی بھی تھی۔

پنبیری نے بتایا کہ جب وہ حجرہ شاہ مقیم میں تھی تو اس کو خواب میں ہر دوسرے دن ایک بزرگ کی زیارت ہوتی تھی۔ وہ اسے حکم دیتے تھے کہ  پہاڑوں میں جاؤ اور اپنی قسمت آزماؤ۔ پنبیری کو اس خواب کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ اس نے چک 69 کے ایک پیر صاحب بارے سنا کہ وہ خوابوں کی تعبیر بتانے میں ماہر ہیں۔ پنبیری اگلی اتوار کو ہی پیر صاحب کے پاس پہنچی۔ پیر صاحب کسی سے تنہائی میں نہیں ملتے تھے لیکن پنبیری کو دیکھتے ہی پیر صاحب پر وجد طاری ہوگیا۔ انہوں نے سب لوگوں کو حجرے سے نکل جانے کا حکم دیا۔ پنبیری کو اپنے پاس بلا کر بٹھایا۔ اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولے، "تمہی ہو جس کے بارے ہمیں زیبرا سائیں سرکار کئی سال سے خواب میں بتاتے آرہے ہیں۔ بتاؤ بچّہ کیا مسئلہ ہے؟"۔

پنبیری نے اپنے خواب بارے بتایا۔ پوچھنے پر خواب والے بزرگ کا حلیہ بتایا تو پیر صاحب تھر تھر کانپنے لگے۔ حلیہ بالکل زیبرا سائیں سرکار سے ملتا تھا۔ پنبیری نے پیر صاحب سے پوچھا کہ اس خواب کا مطلب بتائیں۔ پیر صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے پنبیری کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور مراقبے میں چلے گئے۔ دس منٹ بعد جھٹکا لے کر آنکھیں کھولیں تو ان کا چہرہ پسینے سے تَر تھا۔ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ پیر صاحب نے بتایا کہ اس دفعہ جب خواب آئے تو بزرگ سے نشانی مانگنا۔ پنبیری نے پیر صاحب کو نذرانہ دینا چاہا تو پیر صاحب نے انکار کردیا۔ بولے کہ تمہارے انتظار میں ہی ہمیں چک 69 میں بھیجا گیا تھا۔ آج یہاں ہماری ڈیوٹی ختم ہوئی۔ کل  ہم ایوبیہ چلے جائیں گے۔

اگلی جمعرات پنبیری کو دوبارہ خواب میں بزرگ کی زیارت ہوئی۔ پنبیری نے ان سے نشانی مانگی تو بزرگ نے اپنے منہ سے چادر ہٹادی۔ ان کی شکل بالکل گوگی کے خواب والے شہزادے کی طرح تھی۔ اس کے بعد پنبیری جستجو میں لگ گئی کہ آخر اس شکل کا بندہ کہاں مل سکتا ہے۔ پنبیری کا خاوند سرور سی آئی ڈی میں کام کرتا تھا۔ پنبیری نے اپنے خواب اور چک 69 والے پیر صاحب کا سارا قصہ اسے کہہ سنایا۔ سرور ایک ذہین اور دلیر آدمی تھا۔ اسے علم تھا کہ بغیر نام پتے، تصویر کے کسی کو تلاش کرنا بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے کے برابر ہے۔ سرور کے ڈپارٹمنٹ میں کاہنہ کاچھا کا نذیر ملنگی بھی کام کرتا تھا۔ ملنگی ہپناٹزم کا ماہر تھا۔ ملزموں سے تفتیش میں ملنگی کا فن بہت کام آتا تھا۔ اس نے اگلے دن دفتر میں ملنگی سے سرسری سا ذکر چھیڑا تو اس نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ وہ یہ مسئلہ حل کرسکتا ہے۔

اگلے جمعہ سرور نے ملنگی کو رات کے کھانے پر مدعو کیا۔ کھانے کے بعد ملنگی نے پنبیری اور ملنگی دونوں کو ہپناٹائز کیا۔ پنبیری کو حکم دیا کہ وہی خواب دیکھے اور سرور کے دماغ کا لنک اس خواب سے کر دیا۔ خواب کے آخر میں جب بزرگ نے اپنے چہرے سے چادر ہٹائی تو سرور چیخ مار کے اٹھ بیٹھا۔ "میں اسے جانتا ہوں۔۔۔"۔ سرور چلاّیا۔ یہ بھارہ کہو کی پہاڑی پر رہتا ہے۔ اس کا نام عرفان اکرم ہے اور مئیر کا الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔  سرور نے اپنا فون کھولا اور تصویر پنبیری کو دکھائی۔ پنبیری نے اثبات میں سر ہلایا۔ یہ اسی بزرگ کی تصویر تھی جو پنبیری کے خواب میں آیا تھا۔

پنبیری کی کہانی ختم ہوئی تو رات ڈھل چکی تھی۔ گوگی کے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ گوگی کے انگ انگ میں شہزادے کی طلب سما چکی تھی۔ اس نے پنبیری کے ہاتھ تھامے اور رندھی آواز میں بولی، "پنبیری بس ایک دفعہ میں اس خواب کو حقیقی زندگی میں دیکھنا چاہتی ہوں۔ کیا تم میری مدد کروگی؟"۔

پنبیری نے گوگی کو گلے سے لگایا اور بولی،"میری جان گوگی۔۔۔ تمہارے لئے جان بھی حاضر ہے چاہے مجھے اس کے لئے سرور کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔۔۔ لیکن ایک وعدہ تمہیں بھی کرنا ہوگا۔ جتنی بھی کمائی ہوگی  میری ہوگی۔۔۔ عرفان تمہارا ہوگا۔۔۔ بولو منظور؟"۔۔۔۔

گوگی نے پنبیری کو زور سے بھینچا اور بے خودی میں دھراتی چلی گئی۔۔۔ منظور ہے۔۔۔ منظور ہے۔۔۔ منظور ہے۔۔۔۔۔

داستان افغان فروشوں کی

جاڑے کی گلابی سہ پہر ماضی کی یادیں یوں یلغار کرتی ہیں جیسے صاحبقراں امیرِ تیمور کے لشکر غنیم کو تہہ تیغ کرنے بڑھے آتے ہوں۔ وائے افسوس۔۔۔ کیسے گُہر تھے جو خاک میں مل گئے۔ کیسی ذہانتیں تھیں جو ستائش کی تمنا سے ماورا غیاب و خاموشی میں وطن پر قربان ہوگئیں۔

نصف صدی ادھر، جاڑے کے یہی دن۔ فقیر مشروب کی تلاش میں سرگرداں۔ جارج گھسیٹے خاں مگر، جِیسز کرائسٹ ان کے کیسکٹ کو نور سے بھر دے، پکڑائی نہ دیتے تھے۔ اسی گُربہ حالی میں پہلی دفعہ ان سے ملاقات ہوئی۔ زیرو پوائنٹ کے سناٹے میں فقیر درویشی بُوٹی کی چُنائی میں مشغول تھا کہ اچانک بائیسکل کی جرس نے متوجہ کیا۔ باریک ہونٹ، کشادہ پیشانی، شام کے جھٹپٹے میں نور سے دمکتا چہرہ، دبادب بائیسکل کے پیڈل مارتا یونانی دیوتا۔ فقیر کہ ان دنوں آتش جواں تھا خود بھی رحیم یار خانی حُسن کا نمونہ تھا۔ پھتّے نائی کی دکان پر بال بناتے ہوئے اپنے ہی حُسن سے شرما کر فقیر اکثر ماشاءاللہ کہہ کر پھونک مار دیا کرتا۔ گھنے بالوں کے گچھے کہ اب یہ گپ لگتی ہے، فقیر کے شانوں پر جھولا کرتے۔ قصّہ مختصر۔۔۔۔ پہلی نگہ میں طالبعلم اس جوانِ رعنا کا قتیل ہوگیا۔ رفیع یاد آئے۔۔۔

یہ ملاقات اک بہانہ ہے ۔۔۔ پیار کا سلسلہ پرانا ہے

فاتح بائیسکل سے قلانچ بھر کے اترے اور فقیر سے یوں مخاطب ہوئے، ۔۔۔۔ ابے او ب٭٭٭٭٭ والے چچا۔۔۔ کیا ڈھونڈ رہے ہو؟" طالبعلم کا دل خوں، جگر چاک ہوا۔ عمر کا فرق اگر تھا بھی تو عشرے سے کم اور اس وقت تو بدنامِ زمانہ "مرزا پور" کے لکھاری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ فقیر رئیلی میں ہَرٹ ہوا۔ آہستگی سے فاتح کے قریب جا کر شانوں سے زلفیں سمیٹیں، پونی بنائی اور کہا، "ہمارے سپلائر گیڑا کرا گئے۔ درویشی بُوٹی کی تلاش میں ہیں۔ آج شب ورنہ شبِ فراق سے طویل ہو جائے گی۔" فاتح یکلخت ٹھٹکے۔ کہا، اتنی سی بات تھی، پہلے بتایا ہوتا۔ فاتح نے کوٹ کی اندرونی جیب سے مون وہسکی کا پوّا نکالا۔ طویل گھونٹ لیا۔ بوتل فقیر کی طرف بڑھا دی۔ طالبعلم کے کاٹو تو بدن میں لہو ندارد۔ یقین ہمارے ڈھلمل، ایمان شکستہ۔

وہ رات اپن دو بجے تک پیا۔

ایسے درویشِ بے ریا کو کیا ضرورت پیش آئی کہ پیسے گن گن کر رکھتا رہا؟ خدا کی قسم یہ جھوٹ ہے۔ فقیر کو سارے قصے کا علم ہے۔ ایک دن آئے گا کہ پوری کہانی بیان کر دی جائے گی۔ اس شام سے جُڑا تعلق ساری زندگی پر محیط ہوا۔ گرمی کی کوئی سہ پہر ایسی نہ تھی کہ فقیر گنڈیریاں لے کر فاتح کے دفتر حاضر نہ ہوا ہو۔ ڈالروں کے توڑے کہ پورا دفتر ان سے بھرا ہوتا۔ شام تک سارا مالِ غنیمت تقسیم کر دیا جاتا۔ خالی توڑے چھان بورے والے کو بیچ کر مرونڈے کے چھ سات ٹکڑے ملتے۔ گنڈیریاں چُوپ کر مرونڈا تناول کیا جاتا۔ اس معمول سے طالبعلم کو شوگر اور فاتح کو مثانے کی تکلیف ہوئی۔ دوستی مگر ہر درد کی دوا ہے۔ شیری مان نے حق فرمایا ۔۔۔

یار اَن مُلّے٭ ۔۔۔ ہوا دے بُلّے٭۔۔۔۔

(یہاں مُلّے سے مراد مولوی نہیں اور نہ ہی ہوا دے بُلّے سے اشارہ گیسٹرک ٹربل کی طرف ہے۔ پلیز نوٹ)

این جی اوز اب اس ملک پر قابض۔ جس کی چاہیں پگڑی اچھالیں۔ کوئی ان سے پوچھنے کی جرات نہیں رکھتا۔ ڈالر ان کو دساور سے ملتے ہیں۔ اساطیری شہرت کے حاملین پر یہ بدعنوانی کی زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔ اگست کی ایک شام جنرل ضیاءالحق نے کہا تھا، اگر محمد حنیف کے آموں والے ناول سے بچ نکلا تو ان اسلام دشمن اور وطن فروش این جی اوز کا وجود مٹا دوں گا۔ خدا کو مگر آزمائش مقصود تھی۔ باقی کہانی ہے۔

جاڑے کی گلابی سہ پہر ماضی کی یادیں یوں یلغار کرتی ہیں جیسے صاحبقراں امیرِ تیمور کے لشکر غنیم کو تہہ تیغ کرنے بڑھے آتے ہوں۔ وائے افسوس۔۔۔ کیسے گُہر تھے جو خاک میں مل گئے۔ کیسی ذہانتیں تھیں جو ستائش کی تمنا سے ماورا غیاب و خاموشی میں وطن پر قربان ہوگئیں۔