نِی میں جانڑاں گوگی دے نال

نِی میں جانڑاں جوگی دے نال۔۔۔۔نصرت کی آواز سوزوکی ایف ایکس میں گونج رہی تھی۔ عرفان اکرم نے پکّے سغٹ کا آخری کَش لیا تو فلٹر کا ذائقہ آنے لگا تھا۔ اس نے آخ تھو کرکے تھوک اور سغٹ باہر پھینکا۔ سغٹ تو سڑک پر گرا اور تھوک سیونٹی والے کے  منہ پر۔ سیونٹی والے نے عرفان کے شجرے میں چرند پرند شامل کرتے ہوئے موٹر سائیکل عرفان کی ایف ایکس کے پیچھے لگا دی۔ عرفان کو کھُڑک گیا کہ سیونٹی والا موٹا دہوش اس کو پھینٹی لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس نے ایف ایکس کو ریس دینے کی کوشش کی تو وہ پٹاکا مار کے بند ہوگئی۔ اتنی دیر میں سیونٹی والا سر پہ آگیا تھا۔ عرفان نے چھلانگ لگائی اور گرین بیلٹ سے ہوتا ہوا قریبی جنگل میں گھس گیا۔ سیونٹی والا دھوش بے چارہ اس کو غائب ہوتے دیکھتا رہا اور اپنا غصہ نت نئی اصطلاحات میں ڈھال کے چند سیکنڈ بعد کک مار کے چلا گیا۔ عرفان بھنگ کی جھاڑیوں میں چھپا ہوا دیکھ رہا تھا۔ سیونٹی والے کے جاتے ہی وہ فاتحانہ انداز میں باہر نکلا۔ ایف ایکس کو گالی دی اور قریب سے گزرتے رکشے کو ہاتھ دے کر اسے بھارہ کہو جانے کا کہا۔

عرفان جوانی میں کبڈّی کا ماہر کھلاڑی تھا۔ اس کی دھوم پورے پنجاب میں تھی۔ وہ کبھی کسی کی پکڑ میں نہیں آتا تھا۔ بڑے بڑے چودھری اس کے پرستار تھے۔ اس کو کبھی کسی چیز کی تنگی نہیں ہوئی تھی۔ راشن پانی چودھریوں کی طرف سے آجاتا تھا۔ آنے جانے کے لئے ایف ایکس تھی۔ رہنے کے لئے بھارہ کہو میں اچھے وقتوں میں جھیکا گلی کے راجہ فقیر محمد کا منت ترلا کرکے بیس کنال زمین مَل لی تھی۔ چکوال کے چودھری رشید حمید سے فرمائش کرکے چار کمرے بھی بنوا لئے۔ اب عرفان اکرم اپنی بھارہ کہوی جنت میں اکیلا موجیں مارتا تھا۔ چرس کا شوق اسے جوانی سے ہو گیا تھا۔ کبڈّی کے میچ سے پہلے وہ دو پکّے سغٹ چھِک لیتا تھا۔ اس کے بعد کوئی اس کی ہوا کو بھی نہیں چھو سکتا تھا۔ ادھیڑ عمری شروع ہوئی۔ کبڈّی کھیلنے کی طاقت نہیں رہی تھی لیکن عرفان یار باش بندہ تھا۔ اس کے اتنے تعلق بنے ہوئے تھے کہ زندگی مزے سے گزر رہی تھی۔ کھانا پینا پنجاب کے چودھریوں سے ہوجاتا تھا۔ چرس اسے تیراہ وادی کے یار مت آفریدی سے مل جاتی تھی۔ عورتوں کی اسے کبھی تھوڑ نہیں ہوئی۔ بچپن سے ہی منہ متھے لگتا تھا۔ جوانی میں کبڈّی نے اسے فٹ رکھا۔ خواتین میں مقبول تھا۔جن چودھریوں کی حویلیوں میں وہ جا کے ٹھہرا کرتا تھا۔ انہی میں سے بہت سی خواتین چوری چھپے عرفان سے یارانے چلاتی تھیں۔ ان سے بھی عرفان کو معقول پیسے مل جاتے تھے۔ عید تہوار پر بھی اسے اپنی پرستاروں سے ون سونّے سوٹ، جوتے اور عطر وغیرہ کے تحائف مل جاتے تھے۔ یہ سب ہوتے ہوئے بھی عرفان کو اپنی زندگی میں کمی سی محسوس ہوتی تھی۔ جب بھی وہ نصرت کی "نِی میں جانڑاں جوگی دے نال" سنتا تو اسے لگتا اندر سے کوئی آواز اسے پکار رہی ہے۔ وہ اسے چرس کا اثر سمجھ کے نظر انداز کردیتا۔

گوگی اور پنبیری کی انڈرسٹینڈنگ کے بعد انہوں نے اسلام آباد منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ نذیر ملنگی نے ان کو یقین دلایا کہ وہ عرفان اکرم کو کسی بھی طرح چک 69 والے پیر صاحب کے پاس لے جائے گا۔ اس کے بعد والی گیم پنبیری اور سرور نے سیٹ کرنی ہے۔ ملنگی نے حجرہ شاہ مقیم میں اپنے سورس سے رابطہ کرکے کبڈّی میچ ارینج کرنے کا کہا جس میں چیف گیسٹ عرفان اکرم ہو۔

ستمبر کے دن تھے۔ بھارہ کہو کی راتیں ٹھنڈی ہو رہی تھیں۔ رات ایک دو بجے تک عرفان چرس سے شغل کرتا۔ یار بیلی آئے رہتے۔ ان میں ایک دو جوان بہت خوبصورت بھی تھے۔ عرفان خوبصورتی کو پسند کرتا تھا اور اس میں جنسی تفریق کا قائل نہیں تھا۔ ان میں سے اکثر ایک یا دونوں ہی رات بھارہ کہو میں گزارتے۔ ستمبر کی ایک گرم دوپہر عرفان کو حجرہ شاہ مقیم سے مستقیم شاہ کی کال آئی۔ اس نے کبڈّی میچ کی دعوت دی اور ساتھ دس دیسی مرغیاں اور دو من چاول بھجوانے کا ذکر بھی کیا۔ عرفان جانا نہیں چاہتا تھا لیکن اسے حجرہ شاہ مقیم کی پروین یاد آئی۔ اسکے بڑے بڑے نین اور دوپٹے کا بار بار سرک جانا عرفان کا نشہ دوبالا کر گیا۔ اس نے فورا حامی بھرلی۔

حجرہ شاہ مقیم کا چکر عرفان کے لئے خوش قسمت ثابت ہوا۔ پروین آج بھی اسی جادو کی مالک تھی۔ مستقیم شاہ نے رات کے کھانے کے بعد پروین کو چائے بنانے کا کہا اور باتوں باتوں میں چک 69 والے پیر صاحب کا ذکر چھیڑ دیا۔ اس نے بتایا کہ پیر صاحب سو فیصد گارنٹی کے ساتھ الیکشن میں کامیابی کا تعویذ دیتے ہیں۔ اگر عرفان چاہے تو وہ پیر صاحب سے اس کی ملاقات کا بندوبست کرسکتا ہے کیونکہ وہ ہر کس وناکس سے نہیں ملتے۔

اگلے دن پلان کے مطابق عرفان پیر صاحب کے آستانے پر پہنچا تو انتظار گاہ میں پنبیری اور سرور بھی موجود تھے۔ پیر صاحب نے عرفان کو دیکھتے ہی کہا کہ سارا پنڈ مر جائے پر تو الیکشن نہیں جیت سکتا۔ مستقیم شاہ نے مسمسی صورت بنا کر کہا کہ حضور کوئی تو طریقہ ہوگا۔ کچھ کریں۔ یہ ہمارا یار ہے۔ اس کا جیتنا ضروری ہے۔ پیر صاحب کچھ دیر مراقبہ میں گئے۔ وہاں ان کی آنکھ لگ گئی۔ دو گھنٹے بعد آنکھ کھلی تو عرفان اور مستقیم شاہ بھی قالین پر سوئے ہوئے تھے۔ پیر صاحب نے گرج کر انہیں اٹھنے کو کہا۔ دونوں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔ پیر صاحب نے عصا اٹھایا۔ اس سے کمر پر خارش کی اور فرمایا، "تمہیں ایسی عورت سے شادی کرنی پڑے گی جو مردانہ شلواریں قمیصیں سینے والی کسی عورت کی سہیلی ہو۔ اس کا خاوند سرکاری ملازم ہو اور اس کے کم از کم دو بچے ہوں۔"

عرفان اکرم کے چہرے پر بیزاری تھی۔ اس نے جھلاّ کر کہا کہ میں ایسی عورت کہاں ڈھونڈتا پھروں گا۔ مستقیم شاہ ایک دم اچھلا اور بولا میں ایسی عورت کو جانتا ہوں۔ ابھی جب ہم آئے تو انتظار گاہ میں سرور اور پنبیری بیٹھے تھے۔ سرور سی آئی ڈی میں ملازم ہے۔ اس کے دو بچے ہیں اور اس کی ایک سہیلی ہے جس کی لاہور میں بوتیک ہے اور وہ صرف مردانہ کپڑے سیتی ہے۔ اس کا نام گوگی ہے۔ پیر صاحب نے فورا خادم خاص کو کہا کہ پنبیری اور سرور کو بھیجو۔ دونوں اندر آئے۔ دو زانو ہو کر پیر صاحب کے سامنے جھکے۔ پیر صاحب نے سرور کے سر اور پنبیری کے کندھوں پر ہاتھ پھیرا۔ پھر فرمایا، "سرور میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ پنبیری کو طلاق دو۔ یہ عرفان سے شادی کرے گی۔ اسلام آباد کے مئیر کا الیکشن ہو جائے تو اس کے بعد یہ پنبیری تم کو واپس کر دے گا۔" پھر مسکرا کے بولے، "میں امید کرتا ہوں کہ عرفان پنبیری کو زیادہ گھمائے گا نہیں۔"

سرور حواس باختہ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پیر صاحب کے قدموں میں گرگیا اور بولا، ہم پر یہ ظلم نہ کریں۔ میں پنبیری کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پیر صاحب نے پیار سے سرور کے منہ پر چپت لگائی اور کہا، یہ عارضی بندوبست ہے۔ پنبیری تمہاری ہے،تمہاری رہے گی اور اس قربانی کے بدلے تمہیں عرفان اکرم مالا مال کردے گا۔

سرور نے پنبیری کو طلاق دی۔ عرفان نے اگلے ہفتے اس سے شادی کرلی۔ شادی کے بعد پنبیری بھارہ کہو شفٹ ہوگئی۔ عرفان اپنے معمولات میں مگن رہنے لگا۔ پنبیری گھر میں مہمان کی طرح رہتی تھی۔ کبھی سرور بچوں کے ساتھ ملنے آجاتا اور کبھی اکیلا۔

گوگی بھی نکاح میں شریک تھی۔ عرفان کو دیکھ کے اس کے مَن میں ایسا سکون اترتا تھا جو شلوار قمیص کا نیا ڈیزائن بنانے سے بھی کہیں زیادہ تھا۔ آہستہ آہستہ گوگی بھارہ کہو میں آنے جانے لگی۔ کبھی کبھار رات کو بھی وہیں ٹھہر جاتی۔

گوگی اور عرفان کا اکثر آمنا سامنا ہونے لگا۔ پنبیری گھر پر نہ بھی ہوتی تو گوگی عرفان کے ساتھ لان میں بیٹھ کر گپ شپ کرتی رہتی۔ عرفان گرگ باراں دیدہ تھا۔ اسے گوگی میں وہ بے خودی نظر آئی جو پروین، زبیدہ، مسرت، شگفتہ، شائستہ وغیرہم میں نظر آتی تھی۔

نومبر کی ایک اداس شام تھی۔ عرفان لان میں بیٹھا واک مین پر "نِی میں جانڑاں جوگی دے نال" سن رہا تھا۔ اچانک گیٹ سے گوگی کی ٹویوٹا کرولا مارک ٹُو داخل ہوئی۔ اس کے مَن میں کوئی گرہ سی کھل گئی۔ اسے پتہ چل گیا کہ وہ جوگی، یہی گوگی ہے۔

نِی میں جانڑاں گوگی دے نال


Comments
0 Comments

0 تبصرے:

تبصرہ کیجیے