گرمیٔ کلام

 

بنک میں آج معمول سے کم رش تھا۔رات امتیاز صاحب دیر سے سوئے۔ موسم بدل رہا تھا۔ صبح  اٹھے تو ہلکا سا زکام تھا۔ امتیاز صاحب معمول کے پکے تھے۔ چھٹی کی بجائے دفتر جانے کا فیصلہ کیا۔ گیارہ بجے کے قریب ہلکا سا بخار بھی ہوگیا۔ چائے کے ساتھ پیناڈول بھی لی لیکن جسم میں درد اور چھینکوں نے ایسا زور مارا کہ انہوں نے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔

امتیا ز رؤف درمیانی عمر کےنک سک سےدرست معقول آدمی تھے۔اچھے وقتوں کے ایم بی اے تھے۔ بنک میں ملازم ہوگئے۔ آج ترقی کرتے برانچ مینجر کے عہدے پر پہنچ چکے تھے۔

ان کی شادی کو طویل عرصہ گزر چکا تھا۔بیوی مضافات کے ڈگری کالج میں   ہوم اکنامکس کی لیکچرار تھیں۔نورین شہزادی انکا نام تھا۔ امتیاز پیار سے نین کہتے تھے۔ نین کی ہفتے میں دو دن کلاس ہوتی تھی۔ باقی وقت وہ سماجی بھلائی اور ادبی سرگرمیوں میں گزارتی تھیں۔

امتیاز گھر پہنچےتو بارہ بجنے والے  تھے۔ نین عام طور پر اسوقت گھر پر نہیں ہوتی تھیں۔ گھر میں داخل ہوتے ہی بیڈروم سے ٹی وی کی ہلکی سی آواز سنائی دی۔ امتیاز حیران ہوئےکہ نین آج گھر پر ہیں۔کچن میں جاکے چائے کا پانی رکھا۔ اچانک بیڈروم سے لذّت بھری سسکاری سی سنائی دی۔امتیاز سُن ہوگئے۔ سارے امکانات یکلخت انکے ذہن سے برق کےکوندے کی طرح گزر گئے۔ اب بیڈروم سے ٹی وی کی آوازبھی اونچی ہو چکی تھی اور سسکاریاں بھی ہلکی چیخوں میں بدل چکی تھیں۔امتیازاس آواز کو لاکھوں میں پہچان سکتےتھے۔

یہ نین کی آوازتھی۔

ٹی وی پر کوئی تقریرچل رہی تھی۔کرکٹ کا ذکربھی ہو رہا تھا۔امتیاز نے آہستگی سے بیڈروم کا دروازہ کھولا۔ نین بیڈ پر دراز تھیں۔ تکیہ ٹانگوں میں دبائے، آنکھیں بند کئے، سسکاریاں لے رہی تھیں۔ امتیاز صاحب نے ان کا بدن بستر پر یوں بکھرا سہاگ رات کے بعد آج ہی دیکھا۔ٹی وی پر کپتان کی تقریر چل رہی تھی۔نین دنیا و مافیہا سے بےخبر بیڈ پر پڑی تھیں۔ جیسے ہی کپتان اس حصے پر پہنچے جس میں وہ کہتے ہیں، بڑا وہ ہوتا ہے، جس کی سوچ بڑی ہوتی ہے، نین نے چیخ ماری، جسم ایک دم اکڑ کرڈھیلا پڑگیا اوروہ بسترسے نیچےجاگریں۔بیڈ کاکونہ نین کےسر پر لگا اور خون کی پتلی سی لکیران کے سفید بالوں کی جڑوں کو رنگین کرتی ہوئی گال تک پہنچ گئی۔

امتیاز یہ سب دم بخودہو کے دیکھ رہے تھے۔زمین پر گر کے نین کے حواس بحال ہوئے۔ امتیاز کی طرف دیکھ کے مسکرائیں اور لذت بھری تھکاوٹ سے بولیں، "آپ کب آئے؟"

 

دنیا کے فیصلے

برنارڈ شاہ فلسفی،شاعر، ڈرامہ نگار، سائنسدان، طبیب اور ادیب تھے۔ یہ اَنگلینڈ کے رہنے والے تھے۔ کہتے ہیں کہ اَنگلینڈ میں ایک بادشاہ تو تاج و تخت والا ہے اور دوسرا برنارڈ شاہ۔ ان کے نام کے ساتھ 'شاہ'  عوام نے اپنی طرف سے لگایا۔ شاہ جی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اَنسان کا جسم کمزور ہو تو اس کا دماغ بھی کمزور ہوتا ہے۔ ایسی قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی جو چینی اور گھی جیسی چیزیں استعمال کرتی ہو۔  پیدل چلنے کی عادت نہ رکھتی ہو اور مال و دولت سے مَحبّت کرتی ہو۔

ہم سب کو یہ مان لینا چاہیئے کہ کپتان سے زیادہ عرصہ کوئی مغرب میں نہیں رہا۔ یہ وہاں کی ہائی سوسائٹی میں موو کرتے رہے۔ یہ رات گئے تک ان محفلوں میں رہتے جہاں طبیعیات، فلسفہ، علم الابدان، مابعد الطبیعیات، مختلف ادویات کے انسانی ذہن پر اثرات اور رقص و نغمہ پر بات ہوتی ۔  یہ مغرب کے بڑے اذہان کے ساتھ انٹر ایکٹ کرتے۔ یہ ان کا مائنڈ پِک کرتے۔ ان کو شروع سے ہی یقین تھا کہ ایک دن انہیں اُمّہ کی قیادت سونپی جائے گی۔ یہ لڑکپن سے  ایک خواب تواتر سے دیکھ رہے تھے جس میں ایک نقاب پوش خاتون  انہیں سبز رنگ کا پرچم تھما کر ان کو ایک رنگ برنگا سکارف پہناتی ہیں جس کی چمک سے ان کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ اس خواب کی تعبیر جاننے کے لئے یہ ہر جگہ گئے لیکن کالا شاہ کاکو شریف کے مضافات میں حضرت جامن سائیں سرکار کے علاوہ کوئی اس رمز کو نہ سمجھ سکا۔ بابا جی نے فرمایا، پُتّر۔۔۔ تیاری پھڑ لے۔۔۔ دنیا دے فیصلے ہُن تُوں ای کرنے نیں۔۔۔

سالہا سال کی جانگسل جدوجہد کے بعد آخر کار کپتان نے اُمّہ کی قیادت سنبھال لی۔ یہ ایگزیکٹلی جانتے تھے کہ قوم کیسے بنتی ہے۔ اس کا کیا پروسیجر ہے۔ آپ پاکستانیوں کو دیکھ لیں۔ یہ کاہل ہیں۔ یہ سست ہیں۔ یہ موٹے بھی ہیں۔ یہ دنیا اور مال و دولت سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی روحانیت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ چائے میں چار چار چمچ چینی کے ڈال لیتے ہیں۔ یہ دال بھی پکائیں تو تڑکے میں آدھا کلو گھی ڈال لیتے ہیں۔ یہ نان چھولے کھانے جائیں تو گوگےسے اصرار کرتے ہیں، "پاء تھوڑی جئی تَری تے پَا۔"  یہ شوگر کے مریض ہیں۔ یہ بلڈ پریشر کے مریض بھی ہیں۔ یہ کمرے میں داخل ہوں تو پہلے ان کا پیٹ داخل ہوتا ہے۔ یہ اس کے دس سیکنڈ کے بعد اندر آتے ہیں۔  یہ گلی کی نکڑ پر دہی لینے بھی موٹر سائیکل پر جاتے ہیں۔ یہ کمرے سے واش روم تک چل کے جائیں تو ان کو کھَلّیاں پڑ جاتی ہیں۔ یہ ہر وقت موبائل پر چیٹیں کرتے ہیں۔ یہ پب جی  گیمیں بھی کھیلتے ہیں۔

کپتان نے چینی مہنگی کردی۔ گھی مہنگا کردیا۔ پٹرول مہنگا کردیا۔ جو بھی کاروبار کرتا ہے۔ دولت سے محبت کرتا ہے۔ اسے کرپٹ قرار دے دیا۔ اب آپ دیکھیں۔ لوگ چینی کھانا چھوڑ دیں گے۔ یہ گوگے سے تَری مانگنا بند کردیں گے۔ یہ موٹر سیکلیں بیچ کر ہر جگہ پیدل جائیں گے۔ ان کی شوگریں ٹھیک ہوجائیں گی۔ ان کے بلڈ پریشر نارمل ہوجائیں گے۔ دولت سے نفرت ان کے خون میں شامل ہوجائے گی۔ یہ روحانیت کی طرف مائل ہوجائیں گے۔ اس سے ان کے جسم صحت مند اور طاقتور ہوجائیں گے۔ یہ ایک دن میں چالیس چالیس کلومیٹر چلنا شروع کردیں گے۔ بسیں، ویگنیں، ٹرینیں بند ہوجائیں گی۔ پٹرول کی کھپت ختم ہوگی تو یہ پیسہ عوام کی تعلیم پر لگے گا۔ ماحول بہتر ہوجائے گا۔ سبّی ، ملتان، جیکب آباد میں برفیں پڑیں گی۔ موسم ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ لوگ خوبصورت، صحت مند اور توانا ہوں گے تو ان کے دماغ بھی چلنے لگیں گے۔ یہ ذہین بھی ہوجائیں گے۔ یہ نت نئی ایجادیں کرنے لگیں گے۔ یہ پوری دنیا کے لیڈر بن جائیں گے۔ دنیا کی تقدیر کے فیصلے پاکستان میں ہونے لگیں گے۔ دماغ طاقتور ہوگا تو لوگ ٹیلی پیتھی بھی سیکھ لیں گے۔ جنگیں ختم ہوجائیں گے۔ جو بھی اُمّہ کے خلاف سازش کا سوچے گا، ٹیلی پیتھی کے ذریعے ہمیں اس کا پہلے ہی پتہ چل جائے گا۔ ہم اس سازشی کو کلمہ پڑھنے پر مجبور کر دیں گے۔ آخر کار ایک  دن ایسا آئے گا کہ پوری دنیا مسلمان ہوگی اور ہر طرف امن و سلامتی اور خوشحالی ہوگی۔

یہ ایک دن کا کام نہیں ہے۔ یہ لانگ پروسیس ہے۔ ابھی پہلا فیز چل رہا ہے جسے دشمن مہنگائی کا نام دے رہے  ہیں۔ اس وقت اگر کپتان کی حمایت نہ کی گئی تو یہ سارا پروسیس یہیں ختم ہوجائے گا۔  یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر چینی سات سو پچاسی روپے کلو، گھی  اٹھارہ سو ستاون روپے پاؤ اور پٹرول 690 روپے لیٹر تک پہنچانے میں کپتان کی مدد کریں۔ اس وقت کپتان کو اکیلا چھوڑنے والا روزِ قیامت خدا کو کیا منہ دکھائے گا؟ 

وہ دن کہ جس کا وعدہ تھا

جولائی کی وہ رات بہت مشکل سے کٹی تھی۔ تپش، حبس اور مچھّر۔ جیسے تیسے صبح ہوئی تو وہ بڑی مشکل سے اٹھا۔ کمرے کے کونے میں پانی کی بالٹی دھری تھی، جس کی تہہ میں تھوڑا سا پانی باقی تھا۔ پچھلے ہفتے کی بارش میں اس نے بالٹی بھر لی تھی۔ اب پانی ختم ہونے کو تھا۔ اس نے بالٹی میں  ٹوٹے کنارے والا مگ ڈال کر تھوڑا سا پانی بھرا۔ ایک گھونٹ پیا، باقی پانی سے منہ صاف کرنے کی کوشش کی، جو زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔

وہ کل شام دربار کے لنگر سے چاول لایا تھا۔ جس میں چنے تو گنتی کے تھے، کنکر کافی تھے۔ تھوڑے سے چاول اس نے بچا کے رکھے تھے جو شاپر میں کھونٹی پر لٹک رہے تھے۔ زمین پر چیونٹیاں، کاکروچ  اور اکا دکا ٹڈّیاں بھی رینگتی پھر رہی تھیں۔ چاولوں کا شاپر اتار کر اس نے کھولا تو اس میں سے ہمک سی آرہی تھی۔ شاید گرمی کی وجہ سے خراب ہوگئے تھے۔ اس نے ہمک کو نظر انداز کرکے چاول کھانے شروع کر دئیے۔

دو تین دن سے وہ بخار میں پھنک رہا تھا۔ اسی حالت میں سارا دن گھومتا رہتا۔ جہاں کچھ کھانے کو ملتا، لائن میں لگ جاتا۔ سارا دن اسی میں گزرتا۔ رات کو اپنے کمرے میں واپس آتا۔ کئی دفعہ اس نے سوچا کہ کسی کھلی جگہ رات بسر کرلے لیکن کچھ عرصہ سے باغوں وغیرہ میں سونے والے غائب ہونے شروع ہوگئے تھے۔ کوڑے کے ڈھیروں پر ادھ نچی انسانی لاشیں بھی نظر آنے لگی تھیں۔ اسی ڈر سے وہ رات کو کمرے میں واپس آجاتا تھا۔

ہمت جمع کرکے وہ چپل پہن کے باہر گلی میں نکلا۔ گلی سنسان لگ رہی تھی۔ چند گھروں کے باہر عورتیں، بچے، بوڑھے بیٹھے تھے لیکن سب نڈھال اور ایسے چپ تھے جیسے کسی نے انہیں ہمیشہ کے لئے ڈرا دیا ہو۔  آہستہ آہستہ چلتا ہوا وہ بازار کی مرکزی سڑک تک پہنچ گیا تھا۔ سڑک ویران تھی۔ دکانیں بند اور ان کے سامنے ایسے گرد جمی تھی جیسے سالوں سے کسی نے ان کو کھولا نہ ہو۔ نہ کوئی کار، نہ کوئی ویگن، موٹر سائیکل۔ حتی کہ کوئی سائیکل بھی نظر نہیں آتی تھی۔ وہ تقریبا اپنے آپ کو گھسیٹتا ہوا چلتا رہا۔

شہر کے مرکزی اسپتال تک پہنچنے میں اس کو کافی وقت لگا۔ جولائی کی دوپہر قہر بن گئی تھی۔ پیاس اور بخار سے اس کا گلا خشک تھا۔ وہ اسپتال کے مرکزی دروازے کے سامنے پانی کی ٹینکی کے پاس گیا۔ ٹونٹیوں پر جما زنگ بتا رہا تھا کہ اس میں پانی بھرے ہوئے عرصہ گزر گیا۔ سٹیل کے گلاس جو زنجیر سے بندھے ہوتے تھے وہ بھی کوئی اتار کے لے گیا تھا۔

اسپتال کے اندر بھی اُلّو بول رہے تھے۔ نہ ڈاکٹر، نہ دوا۔ کھڑکیاں اکھڑی ہوئی ، دروازے ٹوٹے ہوئے۔ایمرجنسی وارڈ میں آوارہ کتّے  بھر رکھے تھے۔ کتّوں سے اسے بہت خوف آتا تھا۔ تقریبا بھاگتا ہوا وہ اسپتال سے باہر نکل آیا۔ نیم کے درخت کے نیچے ڈھیر ہوتے ہوئے اس نے سوچا کہ شاید بخار ہی اسے اس عذاب سے چھٹکارا دلائے گا۔ بیٹھے بیٹھے اسے ہوش نہ رہی۔کمزوری ، بخار اور جگ راتے کی وجہ سے وہ نیم بے ہوش سا ہو کر سو گیا۔ کتّے کے منہ چاٹنے کی وجہ سے اس کی آنکھ کھلی تو وہ چیخ مار کر بھاگ کھڑا ہوا۔ خوف ہر تکلیف سے نجات دے دیتا ہے۔بھاگتے ہوئے وہ کافی دور نکل آیا ۔ شام ، رات میں بدل رہی تھی۔ آج دوا کے چکر میں وہ دربار بھی نہیں جا سکا  تھا۔کچھ دور اسے آسمان پر روشنیوں کا عکس نظر آیا۔ یہ حیران کن تھا۔ بجلی اور دوسری شہری سہولیات مدّت سے منقطع ہو چکی تھیں۔ وہ  روشنی کی سمت تیزی سے بڑھنے لگا۔

کچھ قریب پہنچا تو اس پر کھلا کہ یہ تو شہر کا سب سے بڑا کھیل کا میدان ہے۔ اس کی تمام   روشنیاں جل رہی تھیں۔ وہ حیران ہو کر میدان میں داخل ہوا تو بہت بڑی ٹی وی سکرین پر کوئی کھیل دکھایا جا رہا تھا اور پسِ پردہ کوئی پُر درد سرائیکی لہجے میں گا رہا تھا۔۔۔

"اچھّے دن آئے ہیں۔۔۔۔"


وبا اور خدا

2018 کے موسم خزاں کا ذکر ہے۔ جرمنی کی کولون یونیورسٹی کے ترکی نژاد پروفیسر اوغر ساہین معمول کے مطابق صبح سویرے یونیورسٹی جانے کے لئے ٹرین میں سوار ہوئے۔ وہ شہر کے مضافات میں رہائش پذیر تھے اور ڈرائیو کرنے کی بجائے ٹرین پر جانا پسند کرتے تھے۔ اس دن خلاف معمول سفر کے دوران انہیں نیند آگئی۔ انہوں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ جب ان کی آنکھ کھلی تو ان کی منزل قریب تھی۔ وہ اترے اور دن کے معمولات میں مشغول ہوگئے۔

دو دن بعد ویک اینڈ کی رات انہیں پھر وہی خواب بعینہ نظر آیا۔ صبح اٹھ کر انہوں نے اپنی اہلیہ اوزلم طوریسی سے اس کا ذکر کیا جو خود بھی سائنسدان تھیں۔ روایتی بیویوں کی طرح انہوں نے پروفیسر اوغر کو کہا کہ زیادہ کام کرنے کی وجہ سے آپ تھکن کا شکار ہیں۔ ہو سکے تو چھٹیاں لے کر کسی پر فضا مقام پر چند دن گزار آئیں۔ پروفیسر صاحب کے دل کو یہ بات لگی۔

ایک ہفتے بعد دونوں میاں بیوی ترکی میں تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے مولانا رومؒ کے مزار پر حاضری دی۔ پروفیسر ساہین روحانیت سے بھی شغف رکھتے تھے اور مولانا رومؒ کی شاعری ان کو خاص طور پر پسند تھی۔ اسی دن رات کو وہی خواب پروفیسر ساہین نے دوبارہ دیکھا۔ صبح جب انہوں نے ڈاکٹر طوریسی سے اس کا ذکر کیا تو ان کا رنگ زرد تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے بھی وہی خواب دیکھا تھا!

خواب ایک گنجان آباد شہر سے شروع ہوتا ہے۔ شہر کے مرکز میں پروفیسر اوغر ساہین پیدل جا رہے ہیں اور پورا شہر ویران ہے۔ کوئی انسان، پرندہ، جانور نظر نہیں آتا۔ دکانیں کھلی ہیں۔ کاریں، بسیں، سڑکوں پر بغیر کسی انسان کے موجود ہیں۔ پروفیسر مسجد ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ عصر کی نماز پڑھ سکیں۔ بالآخر انہیں ایک مسجد نظر آتی ہے۔ وہ مسجد میں داخل ہوتے ہیں۔ مسجد میں امام کے مصلّے پر ایک بزرگ نماز پڑھ رہے ہیں۔ پروفیسر ساہین انتظار کرتے ہیں کہ وہ نماز ختم کریں تو ان سے شہر کی ویرانی کی وجہ دریافت کریں۔

بزرگ نماز ختم کرکے دعا کرتے ہیں اور پھر پروفیسر ساہین کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ سفید لباس، سبز پگڑی میں ملبوس، سرخ و سفید رنگ، سفید ڈاڑھی۔ اشارے سے پروفیسر کو پاس بلاتے ہیں۔ انکو پاس بٹھا کر ان کا ماتھا چومتے ہیں۔ پھر اپنا نام بتاتے ہیں۔

پروفیسر ان کا نام سنتے ہیں تو عقیدت سے بے اختیار ہو کر ان کے ہاتھ چومنا شروع کردیتے ہیں۔ بزرگ ان کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہیں اور پروفیسر ساہین سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ بیٹا کیا تم میرا ایک کام کرو گے؟ پروفیسر اشکبار آنکھوں سے اثبات میں سر ہلاتے ہیں۔ اس پر بزرگ بتاتے ہیں کہ اس شہر کی ویرانی کو دیکھ رہے ہو؟ اگر یہ کام نہ ہوا تو پوری دنیا ایسے ہی ویران ہو جائے گی۔ کوئی انسان باقی نہیں بچے گا۔ میرے بچّے! مجھے اسی کام کے لیے تمہارے پاس بھیجا گیا ہے۔ اب میری بات دھیان سے سنو۔

آج سے قریبا ایک سال بعد ایک وبا آئے گی۔ جو شہروں کے شہر ویران کر دے گی۔ اگر اس کا جلد علاج نہ ڈھونڈا گیا تو مخلوقِ خدا تڑپ تڑپ کر مر جائے گی۔ تم کو خدا نے ایک ایسا علم عطا کیا ہے جو اس بیماری کا علاج دریافت کر سکتا ہے۔ میرے بچّے، آج ہی سے اس پر کام شروع کر دو۔ یہ بیماری زکام اور نمونیہ کی بگڑی ہوئی شکل جیسی ہوگی جس پر کوئی بھی دوا اثر نہیں کرے گی۔ تم حفاظتی دوا بنانے کا علم سکھاتے ہو۔ تم دونوں میاں بیوی کو خدا کی طرف سے اس کام کے لیے چُنا گیا ہے۔ جاؤ، میرے بچّے۔ خدا تمہارا حامی و ناصر ہو۔

پروفیسر ساہین اور ڈاکٹر طوریسی دم بخود بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ بالآخر پروفیسر ساہین اٹھے اور سامان پیک کرنا شروع کردیا۔ اسی دن دونوں جرمنی واپس آگئے۔ اگلے دن سے ہی میاں بیوی اپنی لیبارٹری میں جُت گئے۔ مختلف کمبینیشن کے وائرس بنا کے ان کے اثرات کا جائزہ لیتے اور پھر ان کے لیے ویکسین تیار کرتے۔ یہ ایک طویل اور پر مشقت کام تھا۔ لیکن دونوں میاں بیوی صاحبِ ایمان تھے۔ ان کا یقین تھا کہ جو انہوں نے خواب میں دیکھا وہ بالآخر ہو کے رہے گا۔

2019 کے نومبر میں کورونا کے کیسز رپورٹ ہونے شروع ہوئے۔ پروفیسر ساہین اور ڈاکٹر طوریسی اس کے لیے تیار تھے۔ انہوں نے فورا حکومت سے رابطہ کیا اور کورونا مریضوں کے سیمپلز حاصل کرنے کی درخواست کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے چین، برطانیہ، امریکہ اور فرانس کے اعلی ترین ویکسین ماہرین کے ساتھ ایک میٹنگ ارینج کرنے کی درخواست بھی کی۔ یہ میٹنگ جنوری 2020 میں جنیوا میں ہوئی۔ تب تک کورونا مریضوں کے سیمپلز پر ریسرچ کرکے پروفیسر ساہین ویکسین کا پروٹو ٹائپ تیار کر چکے تھے۔

میٹنگ شروع ہوئی تو پروفیسر نے بلا کم و کاست تمام ماجرا کہہ سنایا۔ زیادہ تر ماہرین کے چہرے پر بے یقینی تھی۔ پروفیسر ساہین نے جب ویکسین کے پروٹو ٹائپ بارے بتایا تو سب حیران تھے کہ اتنی جلد ویکسین بنانا ممکن نہیں۔ پروفیسر نے بتایا کہ وہ تقریبا سوا سال سے اس پر کام کر رہے ہیں۔ اس لیے وائرس کا سیمپل ملتے ہی انہوں نے تھوڑی تبدیلیوں کے ساتھ ابتدائی ویکسین تیار کرلی ہے اور وہ اس پر مزید ڈیٹا ملنے کے ساتھ بہتری لاتے جائیں گے۔ پروفیسر ساہین نے تمام ماہرین پر زور دیا کہ وہ آج سے ہی اپنی ویکسینز پر کام شروع کردیں۔ انہوں نے پچھلی سوا سال کی ریسرچ اور اس کے نتائج سب کے ساتھ شئیر کیے اور کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ مخلوقِ خدا کو بچانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

جنوری 2020 کے بعد کی داستان ساری دنیا کو ازبر ہے۔ خوف، موت، وبا، بھوک اور بے روزگاری۔ ساری دنیا پر خوف کا سایہ تھا۔ بالآخر سال کے اختتام تک چینی، برطانوی، امریکی اور جرمن ویکسینز بن چکی تھیں۔ ان کے ٹرائلز ہو چکے تھے اور وہ استعمال کے لیے تیار تھیں۔
بہت حیران کن بات یہ تھی کہ زیادہ تر ویکیسنز پر کام کرنے والے ماہرین پچھلے سال کے آخر تک اسلام قبول کر چکے تھے۔ پروفیسر ساہین اور ڈاکٹر طوریسی کی کہانی حرف بہ حرف سچ ثابت ہونے کے بعد اسلام کی حقانیت ان پر واضح ہوئی اور حق تعالٰی نے ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی بھر دی۔

عجیب بات یہ تھی کہ پوری دنیا میں سازشی تھیوریز کے ذریعے ویکسین کا  کریڈٹ کبھی بل گیٹس کو دیا جاتا اور کبھی اسے کفار کی سازش کہا جاتا۔ حالانکہ یہ رب تعالٰی کی اپنی مخلوق سے محبّت تھی جس نے پروفیسر اوغر ساہین اور ڈاکٹر اوزلم طوریسی کے ذریعے بیماری کا علاج اپنے بندوں تک پہنچایا۔

ویکسین لگوانا حکمِ الہیٰ ہے۔ اگر کوئی اس کو سازش کہتا ہے تو وہ خدا کا نافرمان اور بزرگانِ دین کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔ بطور مسلمان ہم سب پر فرض ہے کہ ویکسین لگوائیں اور خدا کے پسندیدہ اور فرماں بردار بندوں میں سے ہوجائیں۔ 

الفت کے تقاضے

 "چلیں اب اٹھ جائیں۔ دیر نہ ہوجائے۔" فرشتہ صورت خاتون نے  سوئے ہوئے وجیہہ شخص کے گھنے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے آہستگی سےکہا۔

"بس دس منٹ  اور۔" دھیمی سی ہَسکی آواز میں ہینڈسم نے کہا اور خاتون کا ہاتھ تھام کے دھیرے سے اسے چوما۔ خاتون شرما گئیں۔ دوپٹہ دانتوں میں لے کر ہولے سے مسکرائیں۔ ہاتھ چھڑا کر خوابگاہ کی اطالوی کھڑکیوں کے پردے سمیٹ دئیے۔ صبح کی نرم روشنی پورے کمرے میں پھیل گئی۔ باہر کا نظارہ دلکش تھا۔ سبزہ، پہاڑ، پرندے، پھول۔ خاتون منظر میں کھو سی گئیں۔ ہینڈسم آہستگی سے اٹھے۔ سلیپنگ گاؤن کی ڈوریاں باندھتے ہوئے دھیرے سے خاتون کو مضبوط بازوؤں میں سمیٹ کر ان کے نقرئی گال کو چوم لیا۔ خاتون کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھر بکھر گئے۔ کسمسا کر وجیہہ کے فراخ سینے میں چھپ سی گئیں۔ہینڈسم کے چہرے پر ملکوتی سکون اور محبت ہلکورے لے رہی تھی۔

سورج اپنی ضیاء پاشیوں کے ساتھ نمودار ہو رہا تھا۔ وجیہہ جدید فرنچ طرز کے غسل خانے میں داخل ہوئے۔ باتھ ٹب کو نیم گرم پانی سے بھرنا شروع کیا۔ اس میں شنیل کاباتھ آئل، ارمانی کا سُودنگ پرفیوم ملایا۔ الیکٹرک ٹوتھ برش سے دانت صاف کرتے ہوئے آئینے میں خود کو دیکھا تو خود ہی شرما سے گئے۔ کیبنٹ سے خاتون کا مسکارا لے کر ماتھے پر ٹیکا لگایا کہ خود کی نظر ہی نہ لگ جائے۔ دانت صاف کرتے کرتے ٹب بھر چکا تھا۔ وجیہہ نے سلیپنگ سوٹ اتارا۔ تنو مند بازو اور ابھرا ہوا مضبوط سینہ دیکھ کر بے ساختہ سبحان اللہ پڑھ کر باتھ ٹب میں آہستگی سے نیم درا ز ہوگئے۔

نیم گرم خوشبودار خوشگوار پانی نے جیسے جسم سے تھکن نچوڑ کر توانائی بھردی ہو۔ باتھ ٹب کی سائیڈ پر مختلف بٹن لگے تھے۔  وجیہہ نے ایک بٹن دبایا تو غسل خانے میں نصرت کی مسحورکن آواز گونجنے لگی۔۔۔ تم اک گورکھ دھندہ ہو۔۔۔

ہینڈسم باتھ ٹب کی خوشگواریت اور نصرت کے سحر میں ایسا کھوئے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہا۔ ان کا سحر خاتون نے آکر توڑا۔ سٹیریو کو آف کرکے انہوں نے ذرا ناراضگی سے ہینڈسم کی طرف دیکھا اور  محبت سے بولیں، "اتنی دیر؟ آپ کو کہا بھی تھا کہ جلدی کریں ورنہ تاخیر ہو جائے گی۔" ہینڈسم نے خاتون کو دیکھا تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ سوموار کی سہانی صبح، خوشبو سے معطر فضا اور خاتون کا بے پناہ حسن۔ اشارے سے ان کو باتھ ٹب میں آنے کا کہا۔ خاتون نے انگلی سے ناں کا اشارہ کیا ۔ پھر انگلی سے ہی باتھ ٹب سے نکلنے کا اشارہ کرکے غسل خانے سے باہر چلی گئیں۔

غسل سے فارغ ہو کر وجیہہ ڈائننگ روم میں آئے تو میز پر ناشتہ لگ چکا تھا۔ ابلے دیسی انڈے،شہد، دودھ، دہی، پھل، خشک میوے، بھنے ہوئے پرندے، دیسی گھی کےپراٹھے، پنیر، چِیز آملیٹ، چنے، نان، سوجی کا حلوہ، کافی، چائے، فاؤنٹین واٹر۔ دنیا کی ہر نعمت میز پر سجی تھی۔ ہینڈسم ، خاتون کے پہلو میں جا کر بیٹھ گئے۔ ان کا ہاتھ تھام کر چوما اور ناشتہ شروع کیا۔ ناشتے سے فراغت کے بعد تیار ہونے کے لئے ڈریسنگ روم میں گئے۔ گہرے نیلے رنگ کی شلوار قمیص، ہلکے نیلے رنگ کا ویسٹ کوٹ۔ گرے رنگ کی پشاوری چپّل۔ ورساچی کا پرفیوم۔ بلیک رے بان گلاسز۔دائیں  ہاتھ میں زمرد کے دانوں کی تسبیح۔

 وجیہہ تیار ہو کر ڈریسنگ روم سے نکلے تو خاتون انہیں دیکھتے ہی بے خود ہوگئیں۔ اتنی وجاہت، اتنا حسن۔ان کو اشارے سے رکنے کا کہا۔ ان کے پاس جا کر منہ میں کچھ بدبدا کر پڑھا اور ان کے چہرے پر پھونک ماری۔ پھر انہیں ذرا جھکنے کا کہا اور ان کا ماتھا چوم کر بولیں۔ "جائیں، اللہ کے حوالے۔"

وجیہہ پورچ میں نکلے تو سارا سٹاف تیار تھا۔ پورچ کی سیڑھیاں اترتے ہوئے ذرا ٹھٹھکے اور آسمان کی طرف بے نیازی سے دیکھا۔ فوٹو گرافر تیار تھے۔ چند سیکنڈز میں بے شمار کلکس ہوئے۔ فوٹوگرافرز نے اوکے کا اشارہ کیا تو ہینڈسم پورچ میں آکر سب سے سلام دعا کرنے لگے۔ فوٹو گرافرز ایک ایک لمحے کو قید کر رہے تھے۔ مسکراتے ہوئے، سٹاف سے خیر خیریت پوچھتے ہوئے، تسبیح گھماتے ہوئے، استغراق کے عالم میں، سٹاف کے درمیان راہداریوں میں چلتے ہوئے، چلتے چلتے پہاڑوں کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔

یہ ساری مشق تقریبا ایک گھنٹہ جاری رہی۔ فوٹوگرافرز نے کام ختم ہونے کا اشارہ کیا تو وجیہہ نے طویل سانس لے کر گالف کارٹ لانے کا اشارہ کیا۔ اس میں سوار ہوئے اور رہائش گاہ کی طرف  روانہ ہوگئے۔ پورچ میں خاتون انتظار کر رہی تھیں۔ بے تابی سے ان کی طرف لپکے۔ ان کا ہاتھ تھام کر چوما اور شتابی سے رہائش گاہ میں داخل ہوئے۔ ویسٹ کوٹ اتار کر لیونگ روم کی کاؤچ پر پھینکی اور خواب گاہ میں داخل ہوئے۔ پردے کھینچے۔ بستر پر گرتے  ہی آنکھیں موند یں اور مسکرا کر خود کلامی کی، "بس اب  میں تھک گئی۔"

محبّتاں سچّیاں

جِیلے کا باپ چودھری کا مزارعہ تھا۔ شناختی کارڈ پر نام تو محمد رفیق تھا لیکن آخری دفعہ مولوی صاحب نے نکاح پڑھاتے وقت یہ نام لیا تھا اور اس وقوعے کو بھی طویل عرصہ گزر چکا تھا۔ سب اس کو فیکا ہی کہتے تھے سوائے جِیلے کی ماں کے جو اسے جِیلے دے ابّا کہہ کر بلاتی تھی۔ جِیلے کی پیدائشی پرچی پر بھی اس کا نام محمد جلیل ہی تھا لیکن سب کے لئے وہ جِیلا تھا۔ جِیلے کے پیدائش کے وقت زچگی کے دوران پیچیدگی ہوگئی تھی اور فیکے کی بیوی اس کے بعد ماں نہیں بن سکی تھی۔ اس طرح جِیلا اکلوتا ہی رہا۔ فیکا تھا تو مزارعہ لیکن اس نے جِیلے کو چودھریوں کے بچوں کی طرح پالا تھا۔ لاڈ پیار میں پڑھائی بھی نہیں کرسکا۔ فرمائش اس کی منہ سے نکلنے سے پہلے پوری ہوتی تھی۔ جِیلا سارا دن کبھی کھُوہ پر اور کبھی کسی ڈیرے پر گپیں مارتے دن گزار دیتا تھا۔ نوجوانی میں قدم رکھا تو زیادہ تر وقت کھُوہ کے اردگرد گھومتے ہی گزرنے لگا۔ پنڈ سے عورتیں پانی بھرنے آتیں تو ان سے ہنسی مذاق چلتا رہتا۔ اچھی خوراک، نہ کام نہ کاج۔ چٹّا سفید کرتا اور چوخانے کا تہبند باندھے، بالوں میں خوشبودار تیل لگا کے بائیں طرف سے مانگ نکالے، آنکھوں میں سُرمے کی ہلکی سلائیاں لگائے جِیلا، کتووال کا چودھری ہی لگتا تھا۔

بانو عرف بَنتو منشی طفیل کی منجھلی بیٹی تھی۔ ہفتے میں دو دن کھوہ پر پانی بھرنے کی باری اس کی ہوتی تھی۔ جِیلے سے آںکھیں چار ہوئیں تو وہ روزانہ پانی بھرنے آںے لگی۔ اکھ مٹکّے سے بات بڑھتی ہوئی ملاقاتوں اور قول قرار تک پہنچی۔ ایک دوسرے کے بغیر نہ جینے کے وعدے ہوئے۔ بچّوں کے نام سوچے گئے۔ عشق، مُشک اور کھنگ چھپائے نہیں چھپتے۔ یہ بات بھی سرگوشیوں سے ہوتی ہوئی چوپالوں کا موضوع بن گئی۔ فیکے کو بھنک ملی تو اس نے زندگی میں پہلی بار جِیلے کو گھُرکا۔ اسے سمجھایا کہ پُتّر جو بھی ہوجائے ہم مزارعے ہیں، کمّی ہیں۔ منشی کبھی ہم سے رشتہ داری نہیں کرے گا۔ بنتو کا خیال دل سے نکال دے۔ میں تیری شادی تیری پھپھّی ذکیہ کی دھی نسرین سے کر دوں گا۔ ماشاءاللہ بہت سوہنی کڑی ہے۔

عشق بھی لیکن کھُرک کی طرح ہوتا ہے۔ جتنی کھُرک کرو، اتنی ہی بے چینی ہوتی ہے۔ جِیلے نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ دو دو دن کپڑے نہیں بدلتا تھا۔ برے حال اور بانکے دیہاڑے۔ منشی کو بھی اس احوال کا پتہ چل گیا تھا۔ اس نے جھٹ پٹ بنتو کی شادی ملکوال میں اپنے چھوٹے بھائی کے بیٹے سے طے کردی۔ شوّال کے دوسرے ہفتے برات آنی تھی۔ برات سے دو دن پہلے بنتو نے جِیلے کو پیغام بھیجا کہ آخری دفعہ مل جاؤ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی جِیلا رات کو کھوہ سے متصل کماد میں پہنچ گیا۔ بنتو وہاں اس کا انتظار کر رہی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر گم آواز میں روتے رہے۔

جانے سے پہلے جِیلے نے بنتو سے کہا، "اپنی کوئی ایسی نشانی دو کہ میں ہر وقت اسے اپنے دل سے لگا کر رکھوں۔" بنتو نے تھوڑی دیر سوچا، پھر دایاں ہاتھ اپنے کرتے کے گریبان میں ڈالا۔ بائیں بغل سے ایک بال نوچا، اسے رومال میں لپیٹا اور جِیلے کو دے دیا۔ جِیلے نے رومال کی احتیاط سے تہہ لگائی۔ اسے چوما، آنکھوں سے لگایا اور اپنے کھیسے میں ڈال لیا۔ یہ بنتو اور جِیلے کی آخری ملاقات تھی۔

بنتو کی شادی ہوگئی۔ وہ ملکوال چلی گئی۔ شادی کے ایک ہفتے بعد جِیلے نے وہ رومال نکالا اور اسے فیجےسنیارے کے پاس لے گیا۔ فیجے نے پوچھا، پُتّر خیر تو ہے، سویرے سویرے کدھر؟۔ جِیلے نے کھیسے سے رومال نکالا، احتیاط سے اس کی تہہ کھولی اور بال نکال کر چوما اور فیجے سے کہا، "چاچا، اس بال کو سونے کے تعویذ میں مڑھ دے۔ جتنے پیسے لگیں گے میں دوں گا۔"  فیجے نے حیرانی سے پوچھا، یہ کس کا بال ہے؟ جِیلےکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بولا، "چاچا یہ مت پوچھ۔" فیجا خاموش ہوگیا۔

اگلے ہفتے جِیلا تعویذ لینے فیجے سنیارے کے پاس پہنچا۔ فیجے نے دونوں ہاتھ سے تعویذ تھاما، چُوما، آنکھوں کو لگایا اور جِیلے کو دے دیا۔ جِیلا حیران ہوگیا۔ فیجا بولا، پُتّر اب تو بتا دے کہ یہ بال کس کا ہے؟۔ جِیلا رُندھی ہوئی آواز میں بولا، "چاچا یہ بنتو کی بغل کا بال ہے۔ اس نے جاتے ہوئے مجھے یہ آخری نشانی دی تھی۔ اب یہ تعویذ ساری زندگی میرے دل کے ساتھ لگا رہے گا۔"

یہ سنتے ہی فیجے کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ اس نے جوتا اتارا اور بے دریغ جِیلے کو پیٹنا شروع کردیا۔ گلی میں ہاہاکار مچ گئی۔ لوگ اکٹھے ہوگئے۔ فیجے کو پکڑنے کی لوگوں نے بہت کوشش کی لیکن وہ اڑ اڑ کر جِیلے کو پیٹتا رہا اور ماں بہن کی گالیاں دیتا رہا۔ بالآخر تھک ہار کر ہانپتا ہوا، تھڑے پر بیٹھ گیا۔ چاچے کرمے نے لسّی کا گلاس منگوایا۔ فیجے کو دیا۔ فیجے نے لسّی کا گلاس خالی کرکے چھڈواں جِیلے کو دے مارا۔ اس کے سر سے خون بہہ نکلا۔ چاچے کرمے نے فیجے کے کندھے تھامے اور بولا، او کچھ بول تو سہی، اس نمانڑے نے تجھے کہا کیا ہے؟۔

"اس ٭٭٭٭ ٭٭٭ نے ایک بال لا کر دیا کہ تعویذ میں مڑھ دے۔ میرے پوچھنے پر بھی نہیں بتایا کہ کس کا ہے۔ میں سمجھا کسی بزرگ کا ہے۔ میں پورا ہفتہ وہ بال پانی میں گھول گھول کر خود اور اپنے گھر والوں کو پلاتا رہا کہ کسی کرنی والے بزرگ کا بال ہے، برکت اور صحت ہوگی۔ آج اس انہّی دے نے بتایا کہ بنتو کی بغل کا بال تھا۔"

فیجے سنیارے کے چہرے پر بے چارگی اور تاسّف تھا۔

شطرنج کے کھلاڑی

ماہا گلریز نے ادائے بے نیازی سے سنہری بال جھٹکے اور نئے ماڈل کی سیاہ آؤڈی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔کیمبرج کا موسم خون جما دینے والا تھا۔ نیلی جینز، کالی ٹرٹل نیک اور ڈارک براؤن اوور کوٹ میں ملبوس ماہا گلریز، حسن کا آخری سٹاپ لگ رہی تھی۔ سرخ و سفید رنگت، شہد جیسے بال، نیلی آنکھیں، ستواں ناک، ترشے ہوئے بھرے بھرے ہونٹ۔۔۔

ماہا کا آج ہارورڈ یونیورسٹی میں پہلا دن تھا۔ وہ سرکاری سکالر شپ پر ہارورڈ یونیورسٹی کے لئے منتخب ہوئی۔ اس کے ابّا گلریز جیلانی بہت اہم اور طاقتور شخصیت تھے۔ ماہا کی ابتدائی تعلیم کانوینٹ میں ہوئی۔ اعلی ترین تعلیمی اداروں سے ہوتی ہوئی ماہا آج دنیا کے معتبر ترین تعلیمی ادارے میں پہنچی تھی۔ ماہا کا نصابی اور غیر نصابی ریکارڈ شاندار تھا۔ ٹینس کی بہترین کھلاڑی ہونے کے علاوہ اسے گانے سے دلچسپی تھی۔وہ جب لمز میں پڑھتی تھی تو ایک میوزک بینڈ کی لِیڈ سنگر بھی تھی۔ بینڈ کا نام "ٹوائیلائٹ ریوولیوشن" تھا۔ اس بینڈ کے تین چار گانے بہت مشہور ہوئے۔ فارم ہاؤسز کی پارٹیز میں اکثر ڈی جے وہی گانے چلاتے تھے۔ "شیزان سٹوڈیو" کے کمیل صفات نے بہت اصرار سے سیزن 37 میں ماہا کو پرفارم کرنے پر راضی کیا تھا۔ آج بھی وہ نمبرز شیزان سٹوڈیو کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے گانے ہیں۔ موسیقی ماہا کی ترجیحات میں اتنی اہم نہیں تھی۔ اسی لئے ماسٹرز کرنے کے بعد ماہا نے ہارورڈ کا قصد کیا۔ سکالر شپ حاصل کرنا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ گلریز نام ہی کھل جا سم سم کا درجہ رکھتا تھا۔

 ماہا کو فلسفے سے گہرا شغف تھا۔ سماجی رویّے اور ان کے مضمرات پر اس کے پیپرز بین الاقوامی جریدوں میں شائع ہوتے رہتے تھے۔ ماہا زندگی میں کچھ ایسا کرنا چاہتی تھی جو عام لوگوں کے سماجی رویّوں میں تبدیلی لا کر انہیں بہتر زندگی فراہم کرسکے۔ ماہا کے ڈاکٹریٹ کا موضوع بھی "ڈیماکریسی، سوشل ویلفئیر اینڈ چینج" تھا۔اس کا ہدف پی ایچ ڈی کے بعد وطن واپس جا کر ایک تنظیم بنا کر سماجی بہتری کے لئے جدوجہد کرنا تھا۔ دنیا میں پھیلی غربت اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے المیے اسے بے چین رکھتے تھے۔ اس بے چینی کو وہ کہانیوں میں پرو دیتی تھی۔ یہ مختصر کہانیاں مقبول عام جریدوں آنچل، کرن، شعاع، آداب عرض، پاکیزہ وغیرہ میں تواتر سے شائع ہوتی تھیں۔ ان کہانیوں کے دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم بھی ہوچکے تھے اور دنیا بھر میں ماہا ایک حساس لکھاری کے طور پر جانی جاتی تھی۔

ماہا بچپن سے ہی یورپ، امریکہ، کیریبئین اور جنوبی امریکہ جاتی رہتی تھی۔ امریکہ اس کے لئے نیا نہیں تھا لیکن ہارورڈ ایک الگ ہی دنیا تھی۔ دنیا کے بہترین دماغ انسانی مسائل کی وجوہات اور ان کا حل تلاش کرنے میں دن رات جتے رہتے۔ لائبریری ہمیشہ آباد رہتی۔ ماہا کے دن رات پڑھائی میں گزرنے لگے۔ موسیقی، لکھنا، دوستوں سے میل ملاپ بہت کم ہوچکا تھا۔ کرسمس کی چھٹیوں میں ماہا گھر نہیں گئی بلکہ بچپن کی دوست زلیخا کریم کے ساتھ بوسٹن میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ زلیخا کے والد پولو کے بہترین کھلاڑی تھے۔ کریم نوشاد کا نام پولو کے ہال آف فیم میں تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ بوسٹن منتقل ہوچکے تھے اور اپنی یادداشتیں قلمبند کر رہے تھے۔

کرسمس ڈنر پر کریم نوشاد نے ایک خاص مہمان کو مدعو کیا تھا۔ دراز قامت، گٹھا ہوا بدن، گہری تفکّر میں ڈوبی ذہانت بھری آنکھیں، ادھیڑ عمری کی سرحد کو چھوتی جوانی، بارعب اور دھیمی آواز۔ یہ شطرنج کے فاتحِ عالم انعامِ الٰہی تھے۔ کریم صاحب نے ان کا تعارف ماہا سے کراتے ہوئے بتایا کہ انعام سے ان کا تعلق بہت پرانا ہے۔ کریم صاحب نے قہقہہ لگا کر بتایا کہ جمخانہ کلب میں اکثر ان سے شطرنج کی بازی رہتی تھی اور دو تین منٹ سے زیادہ نہیں چلتی تھی۔ انعامِ الٰہی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ ماہا کو انعامِ الٰہی کی شخصیت نے اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ ان میں کچھ ایسی بات تھی جو ماہا نے اپنی زندگی میں کم ہی کسی میں دیکھی۔ ایک مقناطیسی کشش جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ماہا نے ان سے پوچھا کہ آپ زیادہ مشہور نہیں، اس کی کیا وجہ ہے۔ انعامِ الٰہی نے بغور ماہا کی آنکھوں میں جھانکا اور بولے، لوگ ذہانت سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ ان کو ایسے لوگ اور کھیل پسند نہیں آتے جن کا جوہر ذہانت ہو۔ انعامِ الٰہی کی نگاہ میں کچھ ایسا تھا کہ ماہا کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھر بکھر گئے۔

ڈنر کے بعد لیونگ روم میں ڈرنکس کا دور چلا۔ سیاست، سماج، لٹریچر، کھیل، صوفی ازم سب پر سَیر حاصل گفتگو ہوئی۔ انعامِ الٰہی دھیمی آواز میں ہر موضوع پر ایسا نکتہ نکالتے کہ سب انگشت بدنداں ہوجاتے۔ رات بھیگ چلی تھی۔ انعامِ الٰہی نے رخصت کی اجازت چاہی۔ ماہا کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ کچھ دیر اور ٹھہرتے لیکن یہ کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔ انعامِ الٰہی کے جانے کے بعد ماہا نے زلیخا کو تنہائی میں جا پکڑا اور انعامِ الٰہی کا وٹس ایپ مانگا۔ زلیخا کے چہرے پر شرارت تھی۔ اس نے کہا کہ وٹس ایپ تو میں دے دوں گی لیکن انعامِ الٰہی بالکل سرد پتھر ہیں۔ ان کو توڑنا یا پگھلانا ممکن نہیں۔ ماہا نے ایک ادا سے شانے جھٹکے اور بولی، میرا نشانہ بھائی ساب، دیکھے زمانہ بھائی ساب، تیر پہ تیر چلے بھائی ساب، بچ کے نہ کوئی جائے۔۔۔۔ دونوں سہیلیاں کھلکھلا کے ہنس پڑیں۔

ماہا اور انعامِ الٰہی کے مابین مستقل رابطہ قائم ہوگیا۔ بالمشافہ ملاقات ممکن نہیں تھی کہ ماہا پڑھائی کا حرج نہیں چاہتی تھی اور انعامِ الٰہی لاس ویگاس کے ایک کیسینو میں پارٹنر تھے۔ ماہا کے لئے اتنی دور جانا ممکن نہیں تھا اور انعامِ الٰہی کو یہ کہتے ہوئے اسے لجا آتی تھی کہ آکےمجھ سے مل جائیں۔ روحوں کا ملن ہو چکا تھا، بدنوں کا باقی تھا۔ پہلے سمسٹر کے اختتام پر ایک ہفتہ کی چھٹیاں تھیں۔ ماہا نے فورا لاس ویگاس جانے کا فیصلہ کیا۔ انعامِ الٰہی کو پتہ چلا تو انہوں نے کہا کہ تمہیں آنے کی ضرورت نہیں، میں خود آرہا ہوں۔ یہ سات دن ماہا کی زندگی کے رنگین ترین دن تھے۔ دن رات جاگتے سوتے گزرے۔ زمان و مکان جیسے تھم چکے تھے۔

ماہا اور انعامِ الٰہی دو جسم ایک جان ہو چکے تھے۔ ماہا نے پاپا کو بھی انعامِ الٰہی کے بارے بتا دیا تھا۔ ماہا نے پاپا کو ان کے نظریات، لائحہ عمل اور مقصد سے وابستگی کے بارے تفصیل سے بریف کیا تھا۔ ماہا نے کہا کہ ڈاکٹریٹ مکمل ہوتے ہی وہ وطن واپس آئے گی اور انعامِ الٰہی کے ساتھ مل کر اپنی تنظیم چلائے گی تاکہ سماجی انقلاب کا جو خواب اس نے برسوں پہلے دیکھا تھا اس کو عملی جامہ پہنا سکے۔ انعامِ الٰہی کی کرشماتی شخصیت اس تنظیم کو وہ عوامی حمایت دے سکتی تھی جو اس مقصد کے حصول میں مددگار ثابت ہوتی۔

ماہا گلریز نے کامیابی سے اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ وطن واپس آنے سے پہلے اس نے انعامِ الٰہی سے وعدہ لیا کہ وہ پہلی فرصت میں سب کچھ سمیٹ کر اس کے پاس آجائیں گے۔ دو مہینے کے اندر ہی انعامِ الٰہی وطن لوٹ آئے۔ ماہا نے انہیں گیسٹ بیڈ روم میں ٹھہرایا۔ پاپا سے ان کی ملاقات ہوئی تو وہ بہت متاثر ہوئے۔ مسز گلریز ان دنوں ایک سرکاری وفد کے ساتھ یورپ کے مطالعاتی دورے پر تھیں۔ ڈنر کے بعد رات دیر تک گلریز جیلانی اور انعامِ الٰہی گپ شپ کرتے۔ گلریز صاحب ان کے علم، وژن اور شخصیت سے مرعوب کن حد تک متاثر ہوچکے تھے۔ ان کے منصوبے ایسے تھے جو اس سماج کی حالت بدل دینے پر قادر تھے۔ انعامِ الٰہی کی شخصیت کا کرشمہ، ان کی خودداری، پاکیزہ کردار نے گلریز صاحب کو قائل کردیا کہ انعامِ الٰہی، ماہا کے پراجیکٹ کے لئے مناسب ترین شخص ہیں۔

گلریز صاحب نے اپنے ذرائع سے پتہ کرایا تو انعامِ الٰہی بارے بڑی عجیب باتیں پتہ چلیں۔ وہ کیسینو کے پارٹنر نہیں تھے بلکہ وہاں ملازمت کرتے تھے۔کیسینو کے صارفین کے ساتھ شطرنج کھیلتے تھے اور سیلفیز بنواتے تھے، تنخواہ تو معمولی تھی لیکن ٹپس مل جاتی تھیں اور کھانا پینا مفت تھا۔ عورتوں سے رغبت کی بھی بہت کہانیاں سامنے آئیں۔ ڈرنک کرنا تو معیوب بات نہیں تھی لیکن اس کے علاوہ بھی نشے کی بہت سی اقسام میں ان کی دلچسپی کا علم ہوا۔ اس سب کے باوجود گلریز جیلانی کو یقین تھا کہ ماہا کی پسند غلط ثابت نہیں ہوسکتی۔

دن گزرتے گئے۔ انعامِ الٰہی گیسٹ روم کے مستقل مکین بن گئے۔ مسز نائلہ گلریز بھی دورے سے واپس آچکی تھیں۔ وہ بھی دو دن میں انعامِ الٰہی کی گرویدہ ہوگئیں۔ گلریز جیلانی کی مصروفیات اتنی تھیں کہ رات ڈھلے گھر آتے۔ ایک سہانی سوموار کسی وجہ سے ان کی آخری دو میٹنگز منسوخ ہوگئیں۔ کلب جانے کے بجائے انہوں نے سوچا کہ آج جلدی گھر جائیں اور تھوڑا آرام کریں۔ ان کی گاڑی پورچ میں رکی تو پائیں باغ کے پہلو میں انہوں نے باورچی اور مالی کو گیسٹ روم کی کھڑکی کے پاس کھڑے دیکھا۔ صاحب کو آتے دیکھ کر دونوں دائیں بائیں ہوگئے۔ تجسس سے مجبور ہو کر گلریز جیلانی گیسٹ روم کی کھڑکی کے پاس گئے اور جھانکا تو ان کی رگوں میں لہو جم گیا۔

انعامِ الٰہی اور ماہا دنیا و مافیہا سے بے خبر ایک دوسرے میں گم تھے۔ ملازم بھی اس مفت کے ہوم میڈ کلپ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ گلریز جیلانی طیش کے عالم میں پلٹے، کار کے ڈیش بورڈ سے گن نکالی اور گھر کے اندر لپکے۔ مسز گلریز لیونگ روم میں زنیرہ احمد کا ڈرامہ دیکھ رہی تھیں۔ گلریز کو اس عالم میں دیکھ کر پریشان ہوگئیں۔ گلریز صاحب کو بازو سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا۔ ڈرنک بنا کے دی۔ دوسری ڈرنک کے بعد گلریز صاحب نے پوری صورتحال بیان کی۔ غصّے سے ان کا جسم پتّے کی طرح لرز رہا تھا۔ مسز گلریز نے گلریز جیلانی کے گلے میں بانہیں ڈالیں، پیار سے ان کو بھینچا اور بولیں، "ڈارلنگ! جو بھی ہے، کم سے کم انعامِ الٰہی قورپٹ تو نہیں ہے ناں!!"

گلریز جیلانی کو نائلہ سے ایک مانوس سے پرفیوم کی خوشبو آئی۔ ان کے دماغ میں ایک جھماکہ سا ہوا۔ یہ انعامِ الٰہی کا پسندیدہ پرفیوم تھا۔ انہوں نے سائیڈ ٹیبل سے گن اٹھائی۔ مسز گلریز کا ماتھا چوم کے کہا، "گڈ بائی، ڈارلنگ۔۔۔ تمہیں یہ نہیں کرنا چاہئیے تھا۔۔۔" اور مسز گلریز کی کنپٹی پر گولی مار دی۔

ان کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔ ان کا وجود مجسم طیش بن چکا تھا۔ انہوں نے مسز گلریز کو پرے ہٹایا اور طوفان کی طرح گیسٹ روم کی طرف لپکے!۔


گُجّر، ملک اور زہریہ ٹاؤن

آپ قدرت جاوید کو دیکھ لیں۔ آپ امجد کامرانی کو دیکھ لیں۔ آپ رفعت حسین کو دیکھ لیں۔ آپ سمیع اللہ خان کو دیکھ لیں۔ یہ خود کو پھنّے خاں سمجھتے تھے۔ یہ کہتے تھے ہم اصلی صحافی ہیں۔ یہ لوگوں سے بدتمیزیاں کرتے تھے۔ یہ الٹے سیدھے سوال پوچھتے تھے۔ یہ رُوڈ بھی تھے اور ایروگنٹ بھی۔ یہ سیلف رائیچیس بھی تھے اور ان کمپیٹنٹ بھی۔ یہ نیوز پیپرز میں کالم بھی لکھتے تھے۔ یہ چینلز پر ٹاک شو بھی کرتے تھے۔ کوئی ان کے کالم رِیڈ نہیں کرتا تھا۔ ان کے شوز کی ریٹنگ بھی پُوور ہوتی تھی۔ مگر یہ سیلف کرئیٹڈ ہائیپ کی وجہ سے بڑے صحافی کہلاتے تھے۔ آج یہ یو ٹیوب پر سَفر کرتے ہیں۔ کوئی نیوز پیپر ان کو پبلش کرنے پر تیار نہیں۔ یہ چینلز کے ترلے کرتے ہیں۔ یہ اپنا شو چلوانا چاہتے ہیں۔ چینلز والے ان کو گراس نہیں ڈالتے۔ یہ بِٹرّ ہو چکے ہیں۔ یہ کانسپریسی تھیوریز بناتے ہیں۔ یہ اداروں کے اگینسٹ نیریٹو بناتے ہیں۔ یہ اینیمز کے ہاتھوں میں پلے ہو رہے ہیں۔

یہ جیلس بھی ہو چکے ہیں۔ یہ فیمس جرنلسٹس اور اینکرز کے جوک بناتے ہیں۔ یہ ان کا فَن اڑاتے ہیں۔ یہ ان کے ہوم، کلوتھز، وہیکلز اور ہالیڈیز سے بَرن ہوتے ہیں۔ یہ لائف میں کمپلیٹلی ان سکسیس فل ہوچکے ہیں۔ یہ ہر سکسیس فل سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ ڈیفنس فورسز کو ہر پرابلم کا ریزن سمجھتے ہیں۔ یہ ان کی سیکریفائزس کو ریکگنائز نہیں کرتے۔ یہ کپتان کو ڈیم فول کہتے ہیں۔ یہ ان کو اِم دا ڈِم بھی کہتے ہیں۔ یہ ان کے سپرچوئل درجات کے بھی منکر ہیں۔ یہ ان کو ڈرگ ایڈکٹ بھی سمجھتے ہیں۔ یہ فرسٹ لیڈی کو ٹانٹ کرتے ہیں۔ یہ ان کو بلیک میجک کی ماہر سمجھتے ہیں۔ یہ ہر ایوننگ میڈم نور جہاں کا گانا "جادوگرا۔۔۔" بھی سن کر ہنستے ہیں۔

آپ یہ دیکھیں، یہ سب کرنے کے باوجود یہ لوزر ہیں۔ آپ ان کے فیس دیکھیں اور ان کے ایکشن دیکھیں۔ یہ دو دو دن منہ نہیں دھوتے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ دن باتھ نہ لے کر یہ بھی گجر بن سکتے ہیں۔ یہ ان کی مس انڈر سٹینڈنگ ہے۔ یہ پرانی شرٹیں پینٹیں پہنتے ہیں۔ ان کے پاس سمارٹ واچ بھی نہیں۔ یہ اب بھی بٹنوں والے مبئیل یوز کرتے ہیں۔

یہ ہالیڈے سیلیبریٹ کرنے کے قابل نہیں۔ یہ سنڈے کو آئلی پراٹھے کھا کے ہالیڈے منا لیتے ہیں۔ انہوں نے سوئٹزر لینڈ کو صرف کیلنڈر پر دیکھا ہے۔ یہ ایورپ کے سپیلنگ تک نہیں جانتے۔ ان کو یہ علم ہی نہیں کہ ایورپ، ای سے شروع ہوتا ہے۔ یہ اسے یورپ یورپ لکھتے اور پڑھتے ہیں۔ یہ کبھی فیصل مسجد کے مینار پر نہیں چڑھے، میں ایفل ٹاور سے اہرام مصر تک کلائمب کر چکا ہوں۔ میں نے سوئٹزر لینڈ کی جھیلوں میں برہنہ پریاں اپنی آئیز سے دیکھی ہیں۔ جبکہ یہ گوگل امیجز میں ہاٹ چکس ہی سرچ کرتے رہتے ہیں۔ میں واحد جرنلسٹ ہوں جس نے سعودی کنگ کے ساتھ سیلفی کھینچی۔ سعودی رائلز میرا بڑا احترام کرتے ہیں۔ مجھے قلب قلب کہتے ہیں۔

یہ سپرچوئیلٹی پر بھی بیلیو نہیں کرتے۔ ان کے پاس کوئی بابا نہیں۔ میرے پاس تھینک گاڈ ہر فیلڈ کا بابا موجود ہے۔ میں جدھر جاتا ہوں۔ کوئی نہ کوئی بابا مجھے مل جاتا ہے۔ یہ مجھے گائیڈ بھی کرتے ہیں۔ یہ مجھے دنیا بھی دیتے ہیں اور آفٹر لائف سکسیس کی گارنٹی بھی۔ یہ بابے مجھے بتاتے ہیں کہ میں ایک ونس ان آ لائف ٹائم پرسن ہوں۔ ایسے پرسنز ہیومن ہسٹری کا کورس چینج کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ مجھے موٹیویٹ کرتے ہیں۔ یہ مجھے گڈ ڈِیڈز کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ میں جب بھی کسی بابے سے ملوں، ان سے کنورسیشن کروں، اس کے بعد میں لازمی کشمیری، فلسطینی مجاہدین کے چندے والے باکس میں پانچ روپے ڈالتا ہوں۔

میں ایک ہمبل ہیومن بئینگ ہوں۔ میں کبھی بریگ نہیں کرتا۔ آج میں اینگری ہوگیا۔ مجھے غصہ آگیا۔ یہ سب کو ڈس کریڈٹ کرتے کرتے اب ملک نیاز تک پہنچ گئے۔ یہ میں ٹالریٹ نہیں کرسکتا۔ کوئی مجھے جیدا مینٹل کہہ دے، مجھے غصہ نہیں لگتا۔ کوئی مجھے سفارشی کہہ دے، مجھے نوسر باز کہہ دے، میں اگنور کر جاتا ہوں لیکن ملک نیاز کے اس کنٹری میں اتنے کنٹری بیوشن ہیں کہ ان کے خلاف لینگویج اوپن کرنے والے کو معاف نہیں کرسکتا۔ ہیومن ہسٹری میں بہت سے پراجیکٹ ایسے ہیں جو سٹینڈ آؤٹ ہیں مگر آج تک کوئی بھی پراجیکٹ زہریہ ٹاؤن کے کیلیبر تک نہیں پہنچ سکا۔

میں اپنی لائف کے لاسٹ بریتھ تک ملک نیاز کا ڈیفنس کرتا رہوں گا۔ اے گِجّے ہونیں کِسے ہور دے۔۔۔۔

عید مبارک

 نئے جوتے، کپڑے پہنے، عطر لگائے، بے دلی سے 'سیویاں' (جسے اب شیر خورما کہتے ہیں) کھاتے ہوئے، ابّو کہتے کہ جلدی کرو بھئی، نماز کا وقت نہ نکل جائے۔ ان کو میٹھا پسند تھا، ہمیں بھی تھا؛ ہر لائلپوری کو ہوتاہے، لیکن سیویاں کبھی پسند نہیں آئیں۔ ان کو کھانا مشکل اور اس سے مشکل نئے کپڑے بچانا ہوتا تھا۔ عید کے جوڑے پر صبح ہی سیویاں گر جائیں تو سارا دن نئے کپڑوں کی شو کیسے ماری جاتی؟ دل چاہتا کہ انڈا پراٹھا کھائیں لیکن ابّو کا اصرار ہوتا کہ عید کی نماز سے پہلے میٹھا کھانا سنت ہے۔ نماز سے واپسی پر پُوڑیاں کھائیں گے۔

چھوٹی عید کی نماز جناح کالونی کی جامع مسجد میں پڑھنے جاتے۔ موٹر سائیکل چلاتے ابّو جی دھیمی آواز میں تکبیر پڑھتے اور ہمیں بھی کہتے کہ عید کی نماز کو جاتے ہوئے تکبیر پڑھنا سنت ہے۔ مسجد میں پہنچنے والے اوّلین نمازیوں میں ہم باپ بیٹا ہوتے تھے۔مولانا اشرف ہمدانی نمازِ عید کے خطبہ کے لئے منبر پر آتے  تو مسجد بھر چکی ہوتی۔ بے پناہ خطیب تھے۔ حاضرین کو ہنسانے، رلانے اور پیسے نکلوانے میں طاق۔ نماز کے بعد عربی کا پورا خطبہ سن کے مولانا کی رقّت انگیز دعا ہوتی۔ ہم حیران ہوتے کہ عید کے دن مولانا کیوں رو اور  رلا رہے ہیں۔ دعا ختم ہوتی اور مولانا عید مبارک   کہتے تو سبھی نمازی عید ملتے۔ سب سے پہلے ابّو جی مجھ سے عید ملتے۔ ان کی گرمجوشی آج تک محسوس ہوتی ہے۔

نماز کے بعد کامران سویٹس جھنگ بازار کا رخ ہوتا۔ مٹھائی کے کافی سارے ڈبّے بنوا ئے جاتے۔ سب سے پہلے دادی، جنہیں ہم   وڈّی امی جی کہتے تھے ، کی طرف جاتے ۔  پھر تایاؤں اور چچا کی طرف سے ہوتے ہوئے، درجہ بدرجہ مٹھائی اور سیویاں کھاتے، دن چڑھے گھر پہنچتے تو امّی منتظر ہوتیں۔ شامی کباب، پلاؤ، سالن  کی خوشبوئیں۔

وقت گزرا تو عید کی نماز کے بعد سب سے پہلے گلستان کالونی کے قبرستان جاتے۔ دادا کی قبر پر فاتحہ پڑھتے۔ کچھ سال بعد نانا کی قبر کا بھی اضافہ ہوگیا۔ ہم تھوڑا بڑے ہوئے تو اکتا سے جاتے کہ ابوّجی جلدی کریں، گھر چلیں۔ تو نرم آواز میں کہتے، "پُت ۔۔ عید دا دن اے، ابا جی  اڈیک دے ہونے کہ شفیع ہالے تیکر ملن نئیں آیا۔۔۔"

مٹھائی کا ایک ڈبّہ خصوصی گھر کے لئے ہوتا جس میں صرف گلاب جامن اور میسو ہوتا تھا۔ گلاب جامن تو سب کی مشترکہ پسند تھا جبکہ میسو امّی کے لئے۔ شام تک اس ڈبّے میں صرف میسو ہی بچا ہوتا تھا۔ ہم پولکا جتنے پرانے ہیں۔ پولکا آئس کریم کیک اسلم بیکری سے لایا جاتا اور سارا دن وقتا فوقتا کھایا جاتا۔  عیدی کا یوں تھا کہ ہماری طبیعت میں خسیس پن فطری ہے۔ پیسے جمع کرتے رہتے، خرچ نہیں کرتے تھے۔ اگلے دن سارے پیسے امّی کو امانتا رکھوا دیتے۔ پچاس سے سو کے درمیان کثیر رقم ہوتی تھی۔ آج تک یہ پیسے امّی کے پاس امانتا پڑے ہیں۔

بچپن سے اس عمر تک کہ ادھیڑ عمری دستک دے رہی ہے، ہمیشہ یہ احساس رہا کہ کوئی بھی پریشانی، مسئلہ یا مشکل ہو تو ابّو جی ہیں ۔ کوئی فکر کی بات نہیں۔ ایک بےفکر احساسِ تحفظ۔ اگرچہ بیمار اور کمزور ہوچکے تھے لیکن یہ احساس کبھی ختم نہیں ہوا۔

آج عید کی صبح اٹھ کے سب سے پہلے سیویاں بنائیں۔ آس پاس والوں میں تقسیم کیں۔ خود بھی کھائیں۔ ابّو سے ملنے قبرستان جانا ممکن نہیں تھا۔ ان کو یہیں سے سلام بھیجا۔  وہ بے فکری اب نہیں۔ ۔۔۔ میاں محمد بخش یاد آئے۔۔۔۔ باپ سِراں دے تاج، محمد۔۔۔

ابوّ جی عید مبارک۔۔۔

کپتانؒ، پاسبان اور صنم خانہ

صاحبقراں امیرِ تیمور کہ چنگیزی خون تھے،  اولیاء کی نظرِ کرم ہوئی ، دل پلٹ گیا۔ منگول طوفان   کہ دنیا کو مٹانے پر تلا تھا، انسانیت کا مسیحا بنا۔  انسان کا دل  کہ جیسے دو انگشت کے درمیاں ہے، جدھر اس کی مرضی ہو، پلٹ دے۔ سبحان اللہ۔۔۔

چار برس اِدھر، بہار کے دن تھے۔ فضا مشکبار، ہوا مشکبو۔ کپتانؒ کے پاس طالبعلم حاضر ہوا۔ دو وقت مل رہے تھے۔ خادم نے انتظار کرنے کا کہا۔ طبیعت کی بے چینی کا مگر کیا کریں۔ بے اختیار ہو کر اٹھا اور مرغزار کی پچھلی سمت جا نکلا۔ کپتانؒ کہ تالاب کنارے گھاس کے فرش کو جاءنماز بنائے گڑگڑا رہا تھا۔ "مولا! اس کا دل بدل دے۔۔۔ مولا! اس کا دل بدل دے"۔ چشم اشک بار۔ ہچکی بندھی ہوئی۔ فقیر نے  کہ زندگی میں بہت تغیّر دیکھے، ایسا منظر کبھی نہ دیکھا تھا۔  دل کٹ کر رہ گیا۔ ایسا منظر کہ ملائک تاب نہ لاسکیں۔

دعا سے فراغت ہوئی تو طالبعلم پر نظر پڑی۔ رُخِ کپتانؒ متغیّر ہوا۔ صوفی کہ جلالی ہوتا ہے یا جمالی۔ کپتانؒ میں دونوں صفات یکجا۔ جلال سے فقیر کی طرف دیکھا، بے ساختہ دہن  مبارک سے نکلا، "تیری میَں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"۔  فقیر کہ سدا کا کائیاں، نظر انداز کیا۔ محبوب کی توجہ ہی محبّ کا ایمان ہے۔ مرزا یاد آئے۔۔۔ کتنے شیریں ہیں ترے لب کہ۔۔۔۔۔

لجاجت سے کپتانؒ کے قریب جا  بیٹھا۔استفسار کیا ، یا کپتانؒ! یہ دعا کس کا دل بدلنے کے لئے  تھی؟۔ کپتانؒ کہ ملکوتی حسن کا شہکار۔ زیرِلب تبسّم فرمایا ، پھر سکوت اختیار کیا۔ طالبعلم کا اصرار کہ قائم ۔ تنگ آکر فرمایا، "اوئے کھوتیا، تجھے بتا دیا تو  زور زور سے بول کے سب کو سکیم بتادے گا۔"

فقیر نے خاموشی اختیار کی۔ صاحبانِ معرفت کی کفش برداری سے تعلیم ہوا کہ کبھی وارداتِ قلبی بارے اصرار نہ کرنا چاہئیے۔ طالبعلم چپ ہورہا۔ شام کے لوازم خدّام نے تالاب کنارے سجا رکھے تھے۔ اس رات ہم دو بجے تک پیا۔

اس شام کی پھانس چہار سال فقیر کے دل میں چبھی رہی۔ ربع سال ہوتا ہے کہ کپتانؒ نے یاد کیا۔ سب مصروفیات ترک کیں اور ترنت خدمت میں حاضر ہوا۔ عاشق کے لئے اس سے بڑی سعادت اور کیا کہ محبوب کا بلاوا آجائے۔ وہی مقام، وہی دو وقت ملنے کا جھٹپٹا۔عرض کی، یا کپتانؒ! آج فقیر کی یاد کیسے دلِ مصفا میں آئی۔ کپتانؒ نے نگاہ دلبری سے فقیر کو دیکھا اور روایتی سادگی سے فرمایا، "او  یکاّ، کدی  کالم وچوں باہر وی نکل آیا کر۔"

کھیسے کی جیب سے مُڑے ہوئے سِرے والا سگریٹ نکال کر سلگایا۔ ایک کَش لگا کر فقیر کی طرف بڑھا دیا۔ پھر یوں گویا ہوئے، "تمہیں یاد ہوگا، چار سال پہلے تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کس کا دل بدلنے کی دعا کر رہا ہوں۔ آج میں تمہیں بتاتا ہوں۔ خواب میں بشارت ہوئی کہ مودی ہی وہ شخص ہے جو ہند میں اسلام کا جھنڈا بلند کرے گا۔ اس کو صراطِ مستقیم دکھانے کی ذمہ داری تمہاری ہے۔ میں تو یہ سوچ کر پریشان ہوگیا۔ سوچا کہ شاید ایک لکیر زیادہ کھینچنے کی وجہ سے یہ خواب آیا ہے ۔ مگر یہ خواب متواتر دو ہفتے آتا رہا۔ پھر میں نے انڈیا جا کر مودی سے ملاقات کی۔ پیرو مرشد سے ایک تعویذ لیا۔ بی بی پاک نے فرمایا کہ نظر بچا کر اس کی چائے میں پھیر دینا۔ خدا اس  کو نریندر مودی سے محمود احمد مودی کر دے گا۔ "

فقیر دم بخود ہو کر یہ داستانِ ہزار امکاں سن رہا تھا۔ کپتانؒ کہ ورزش ، طعام اور۔۔۔ ۔میں کبھی تاخیر نہیں کرتا، خادم کو اشارہ کیا ۔ ترنت ہی فرشی دستر خوان پر طعامِ شب چُن دیا گیا۔ مصنوعی تکلفات سے دور سادہ آدمی۔ رغبت سے گوشت خوری کرتا رہا اور فقیر اسے محویت سے تکتا رہا۔ فقیر کو بھنے گوشت کی اشتہا انگیز مہک نے مجبور کیا، ایک بوٹی اٹھانے کو ہاتھ بڑھایا، کپتانؒ نے کَس کر ہاتھ پر چمچہ مارا۔ فقیر چپکا ہو رہا۔

بعد از فراغتِ طعام کپتانؒ نے داستان وہیں سے شروع کی۔ مودی سے ملاقات ہوئی۔ چائے میں تعویذ بھی گھول دیا۔ دو خزاں گزر گئے، مگر امیدِ بہار کے آثار  ظاہر نہ ہوئے۔ پھر تائیدِ غیبی آ پہنچی۔ وبا نے دنیا کو لپیٹ میں لے لیا۔ لوگ اپنے گھروں میں بند۔ اپنے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا تو مودی جی نے من میں جھانکا۔ وہاں اسلام کی حقانیت موجود تھی۔ چلّہ پورا ہوا اور مودی جی باہر آئے تو حلیہ سے دل تک سب بدل چکا تھا۔ 14 اگست کی شب کپتانؒ کو وٹس ایپ کال کی اور کپتانؒ کے آئی فون پر اسلام قبول کرلیا۔ آپ کا نام محمود احمد مودی رکھا گیا۔
فقیر کے بدن میں کاٹو تو لہو نہیں۔ایسی محیّر العقول بات کہ شاید و باید۔ کپتانؒ کے گال پر چٹکی بھری کہ کہیں انٹا غفیل نہ ہوں۔ آپؒ نے اس حرکت پر فقیر کی مادر و ہمشیر کو یکجا کرنے کے بعد ارشاد کیا، "اب ہم مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ محمود صاحب یہ چیز سامنے لائیں گے۔ عوام ان کے ساتھ ہے۔ جیسے ہی وہ پبلکلی اسلام قبول کرنے کا اعلان کریں گے۔ سارا ہندوستان مسلمان ہوجائے گا۔ یہی غزوہ ہند تھا۔ اور ہم جیت چکے ہیں۔"
صاحبقراں امیرِ تیمور کہ چنگیزی خون تھے،  اولیاء کی نظرِ کرم ہوئی ۔ دل پلٹ گیا۔ منگول طوفان   کہ دنیا کو مٹانے پر تلا تھا، انسانیت کا مسیحا بنا۔  انسان کا دل  کہ جیسے دو انگشت کے درمیاں ہے، جدھر اس کی مرضی ہو، پلٹ دے۔ سبحان اللہ۔۔۔

نام میں کیا رکھا ہے

یہ 90 کی دہائی کے اوائل کا قصہ ہے ۔ پرانا دور ہمیشہ سادہ اور اچھا لگتا ہے کیونکہ اس وقت تک ہم دنیا کو اس طرح نہیں جانتے جیسی وہ ہے۔ یہ تو وقت جب گزرتا ہے تو علم ہوتا ہے کہ وقت ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، انسان اور رویّے اچھے نہیں ہوتے ۔  یہ گورنمنٹ کالج دھوبی گھاٹ لائلپور کا قصّہ ہے۔ ان دنوں سردیوں میں اردو، انگریزی، اسلامیات وغیرہ کی کلاسز کمروں سے نکل کر باغیچوںمیں منتقل ہوجاتی تھیں۔ کالج میں ہاکی، فٹبال اور کرکٹ کے الگ الگ میدان تھے۔ اردو اور انگریزی کی کلاس اکثر لائبریری کے سامنے والے باغیچے میں ہوتی تھی جس کے ساتھ ہی ہاکی کا میدان تھا۔ 

یہ سرما کی نرم دھوپ والا دن تھا۔ فرسٹ ائیر کے رنگروٹوں کی بڑی تعداد  اردو کی کلاس میں انہماک سے بیٹھی  ہاکی کا میچ دیکھ رہی تھی۔ کرسی پر براجمان جوان العمر، نرم نقوش اور خوش پوش لیکچرار  میرؔ  کی غزل پڑھاتے ہوئے ، "تھا عشق مجھے طالبِ دیدار ہوا میں " تک پہنچے تو رک گئے ۔ اور سامنے بیٹھے ہونق بچوں سے  دریافت کیا کہ وہ سامنے پگڈنڈی پر جو صاحب آرہے ہیں، کیا کوئی ان کو جانتا ہے؟ ان کا اشارہ چھوٹا سا چرمی بیگ بغل میں دبائے تیز تیز قدموں سے چلتے ادھیڑ عمر فرد کی طرف تھا۔ بھولی سی صورت والے ایک بچے نے ہاتھ کھڑا کیا۔ استاد خوش ہو کر بولے، ہاں بھئی بتائیں، کون ہیں یہ؟ وہ ناہنجار اپنی لائلپوری پنجابی میں بولا، "سرجی، اے کوئی گولیاں ٹافیاں ویچن آلے نیں۔"

کلاس میں بے ساختہ قہقہہ پھوٹا۔ استاد بھی اس میں شریک تھے۔ بہرکیف ایک دم سنجیدہ  ہوئے  اور خفا ہوتے ہوئے بولے، یہ ریاض مجید ہیں۔ شعبۂ اردو کے صدر ہیں  اور بہت اچھے شاعر۔ سوال ہوا کہ اتنے اچھے شاعر ہیں تو اردو کی کتاب میں ان کی شاعری کیوں نہیں ہے؟ سرَجی مسکرائے اوربولے،  ابھی زندہ ہیں؛ اسی لیے نہیں ہے۔

وہ بدتمیز ناہنجار ہم ہی تھے۔ سائنس کے طالبعلموں کو اردو، اسلامیات وغیرہ پڑھانا اس وقت بھی سمجھ نہیں آیا تھا نہ آج تک آیا۔ لیکن اگر کالج میں اردو نہ پڑھتے تو سَر جی سے کیسے شناسائی ہوتی۔  سکول میں استاد کا تصور ڈنڈے اور تشدد کے بغیر نامکمل  تھا۔ سارا دن کہیں نہ کہیں سے کسی نہ کسی  کو گدڑ کُٹ لگنے کی آوازیں آتی رہتی تھیں۔ اس ماحول سے نکل کر کالج میں آنا ، قید بامشقت سے نکل کر سیدھا لاس ویگاس پہنچنے جیسا تھا۔ کلاس میں کچھ بھی بول سکتے تھے۔ ڈنڈے نہیں پڑتے تھے۔ مرغا نہیں بنناپڑتا تھا۔ دل چاہے تو کلاس  میں حاضر ہوں نہ چاہے تو کرکٹ کھیلیں  یا آوارہ گردی کریں یا اتوار ہے تو پہلا شو دیکھنے چلے جائیں۔

 اردو کی کلاس سے کبھی غیر حاضر ہونے کا خیال نہیں آیا ۔ سَر جی پڑھاتے  تو دنیا جہان کے قصے سناتے ۔ انداز ان کا کسی مہربان قصہ گو جیسا تھا۔ ہر ادیب، شاعر کی زندگی، پسِ منظر، اس دور کے حالات سب  کی ایک تصویر بنا دیتے ۔  میرؔ سے ان کو خصوصی شغف تھا۔ بین السطور ان کے وہ قصے بھی بیان کرتے جو اس وقت سمجھ  نہیں آتے تھے۔ تفصیل پوچھنے پر نیا قصہ چھیڑ دیتے ۔ منیر نیازی کا ذکر کرتے ہوئے پُرجوش ہوجاتے ۔ انہی سے سنا کہ ایسی شاعری نہ پہلے کبھی کسی نے کی نہ شاید کوئی اور کرسکے۔ ہماری اردو کی کتاب میں  منیر کی غلام علی والی غزل تھی۔ بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا۔۔۔ پڑھتے ہی ہمیں غلام علی کی آواز سنائی دینے لگتی ۔ اب فرسٹ ائیر کے بچے کو غلام علی سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟  ہمیں سَر جی کی یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی۔ اب آتی ہے۔

یہ وہ وقت تھا جب تعلیمی اداروں میں خاردار باڑھ، مورچے،  مسلح محافظ وغیرہ نہیں ہوتے تھے۔ گورنمنٹ کالج ایک بڑے  پارک جیسا تھا۔ ہر طرف ہریالی، جدھر بھی نکل جائیں، کھیل کا کوئی میدان یا باغیچہ سامنے آجاتا ۔ البتہ جس حالت میں اب ہم ہیں، وہاں تک پہنچنے کی تیاریاں جاری تھیں۔ جہادی تنظیمیں، اسلحہ، جہاد، وغیرہ کا خوب زور تھا۔  نفاذِ اسلام کا بھی غلغلہ تھا۔ اس وقت سیکولرازم وغیرہ کا ذکر نہیں تھا البتہ کمیونزم اور کمیونسٹ گالی سمجھی جاتی تھی۔  دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاحات اردو صحافت میں خوب استعمال ہوتیں۔ بائیں بازو کی تنقیص کے لیے مذہب کا بھی سہارا لیا جاتا کہ مسلمان ہر کام دائیں ہاتھ سے کرتے ہیں، یہی حکم ہے۔ شروع شروع میں ہمیں وسیم اکرم بھی اسی لیے ناپسند تھا کہ بائیں ہاتھ سے بالنگ کرتا ہے۔

سَر جی فیض کے بھی معتقد تھے۔ ہم نے اس لڑکپن میں جو کچھ پڑھا اس میں فیض کو سرخا، کمیونسٹ، ملک دشمن، دہریہ وغیرہ پکارا جاتا ۔ ان کو ملے لینن پرائز کو ان کے روسی ایجنٹ ہونے کی سند سمجھا جاتا۔ ہم جب جوش سے یہ سب سَر جی کے گوش گذار کرتے تو زیرِ لب مسکراتے رہتے۔ صرف اتنا کہتے، آپ اگر پڑھتے رہے تو وقت کے ساتھ آپ کی بہت سی الجھنیں سلجھ جائیں گی۔  سَر جی ہم سب کو پسند تو بہت تھے لیکن جب وہ ایسے ملک دشمنوں کی تعریف کرتے تو اس پسند میں بال سا آجاتا۔ جو اگلی کلاس تک دور بھی ہوجاتا۔ چھوٹی عمر کا یہی فائدہ ہے۔ کوئی رنج یا خفگی زیادہ دیر نہیں رہتی۔

ایک یاد سے کتنے سلسلے جُڑے ہوتے ہیں۔  کل کسی کو پُرسہ دیتے ہوئے ریاض مجید کا شعر یاد آیا،

وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے

روپڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے

اس کے ساتھ ہی سَر جی کی یاد بھی آگئی۔ بہت کوشش کی لیکن ان کا نام یاد نہیں آیا۔ تب سے ان کی یاد ساتھ ہے۔ اوائل عمری کے قبول کیے ہوئے اثر ساری زندگی ساتھ رہتے ہیں۔ سَر جی سے بہت   سیکھا اور اس سے زیادہ وہ سیکھا جو اس وقت ہمارے لیے ہضم کرنا مشکل تھا۔  زندگی پر کسی کا اتنا اثر ہو اور نام بھول جائے۔ پھر شیکسپئیر یاد آیا کہ نام میں کیا رکھا ہے۔

میرا یقین ہے کہ سَر جی نے بھرپور، مطمئن زندگی گزاری ہوگی اور اب بھی اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے انسپریشن ہوں گے۔ یہ چند سطور اگر کسی نہ کسی طرح ان تک پہنچ جائیں تو جعفر حسین آپ کو سلام کہتا ہے، سَر جی۔

 


چودہ نکات

قائد اعظم محمد علی جناح  نے انگریزوں، ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں، یہودیوں، عیسائیوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے مشہور زمانہ 14 نکات پیش کیے ۔ جن پر عمل کرتے ہوئے علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا۔خواب کے بعد قائد اعظم لندن منتقل ہوگئے تاکہ پاکستان بنانے کی جانگسل جدو جہد سے پہلے تھوڑا فریش ہوسکیں۔ بالآخر علامہ اقبال نے ان کو خط وغیرہ لکھے کہ اب واپس آجائیں، وقت کم رہ گیا ہے۔

قصّہ مختصر اگرچہ قائد اعظم نے پاکستان بنایا اور وہ اسلامیان ہند کے متفقہ صادق و امین رہنما کہلائے، مگر باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو قائد اعظم میں رہبرانہ اوصاف کا معمولی سا حصہ ڈالا گیا تھا تاکہ دیکھا جاسکے کہ امت مسلمہ اصل راہبر کے لیے تیار بھی ہے یا نہیں۔ سائنسی زبان میں اسے ٹیسٹ رَن کہتے ہیں۔ ان معمولی اوصاف کے ساتھ ہی قائد اعظم نے پاکستان بنا ڈالا۔  باقی تاریخ ہے۔

پاکستان بنے ہوئے 70 سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا۔ روحانیت سے شغف رکھنے والے جانتے ہیں کہ روحانی دنیا میں اتنا وقت ایک آدھ دن کے برابر ہے۔ دو سال قبل پاکستان میں وہ راہبر لانچ ہوا جس کے لیے امت مسلمہ کو تیار کیا جارہا تھا۔   پرانے قائد اعظم پروٹو ٹائپ تھے جو کافی حد تک کامیاب رہا۔ اب  بگز دور کرکے اپ ڈیٹڈ ورژن  لانچ کیا گیا ہے ۔

دنیا  اور یو ٹیوبرز میں مچی ہوئی ہلچل اس بات کا ثبوت ہے کہ روحانی دنیا نے نیو ورلڈ آرڈر لانے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔سارے کافر، یہودی، عیسائی، ہندو، بدھ، سکھ، پارسی، ملحد، لبرل متحد ہو کر  اس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے تیار ہورہے ہیں۔ دوسری طرف امت مسلمہ کے پاس قائداعظم 2.0 ہے۔ جو ان کفار کا وہی حال کرے گا جو جان وِک نے اپنے کتے کے قاتلوں کا  کیا تھا!

اس شذرے میں ریفائنڈ اور  ہینڈسم  قائد اعظم  کے چودہ  نکات  بیان کریں گے جن پر نئی دنیا استوار ہوگی۔ یہ نکات مندرجہ ذیل ہیں:-

1۔ دنیا فانی ہے۔ سکون قبر میں ہے اور مزا چندے میں۔

2۔ جرمنی اور جاپان کو متصل کیا جائے ۔

3- چلّی    ملّی ڈاکٹرائن پر عمل کیا جائے۔

4- درختوں اور پودوں کو پابند کیا جائے  کہ رات کو آکسیجن خارج کریں اور سلینڈرز میں بھرکے خیبر پختوانخواہ کے جدید ہسپتالوں میں فراہم کریں۔

5۔ حکومت  چلانے کے لیے کفار اور یہود کو پابند کیا جائے کہ مجھے بہترین تربیت دیں۔

6۔ کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے ارطغرل دیکھا جائے۔

7۔ پنجاب کو پاکستان سے الگ کیا جائے۔

8۔ مس کال کو خارجہ پالیسی کی بنیاد بنایا جائے۔

9۔ "مانگنا، کمانے سے بہتر ہے" نئے پاکستان کی معاشی پالیسی قرار دی جائے۔

10۔   اوورسیز پاکستانیوں  کو نئے پاکستان میں چندہ دینے  کے لیے آمادہ کیا جائے۔

11۔ صنعتکار،  تاجر  کرپٹ ہوتے ہیں۔ ان کو جیل میں ڈالا جائے۔

12۔ "جب ماڈل ٹاؤن ہوا، اس وقت تم۔۔۔۔" کو قومی بہانہ قرار دیا جائے۔

13۔ حور والے ٹیکے عام کیے جائیں۔

14۔  92 ورلڈ کپ کو معجزہ قرار دیا جائے۔