صدام، اسلام اور کپتان

 

‏لڑکپن کے اختتام کا قصہ ہے۔ برسات کی حبس زدہ شام پی ٹی وی کے خصوصی بلیٹن میں بتایا گیا کہ عراق نے کویت پر فوج کشی کر کے قبضہ کر لیا ہے۔ ہمیں سمجھ تو نہیں آئی لیکن ایسا محسوس ضرور ہوا کہ یہ کچھ بہت غلط ہو گیا ہے۔ پاکستانی سیاست میں وہ برسات کافی ہنگامہ خیز تھی۔ بے نظیر کی پہلی حکومت ختم ہوئی۔ انتخابات میں اس وقت کی پی ٹی آئی جتوائی گئی۔ لیکن بڑا عہدہ خالقوں کی منشا کے مطابق پر نہ ہوا۔ لاہور کے صنعت کار کا جوان بیٹا وزیر اعظم بن گیا۔ جنرلز کی پہلی پسند سندھ کا آزمودہ کار جاگیردار پیچھے رہ گیا۔

دوبارہ کویت پر قبضہ کی طرف آتے ہیں۔ امریکہ نے آپریشن ڈیزرٹ سٹارم کا اعلان کیا۔ پاکستان میں آرمی چیف سے ٹھیلے والے تک صدام حسین کو صلاح الدین ایوبی مان چکے تھے۔ جمہوریت کا تمغہ پانے والے جنرل اسلم بیگ جو دو تین سال قبل عین وقت پر جہاز بدلنے کی وجہ سے شہید نہ ہو سکے تھے اب غازی بن کے صدام حسین کو اسلام کا مجاہد قرار دینے لگے۔ ہم جماعت، کزنز، محلے دار ہر جگہ صدام حسین کے پروانے بھنبھناتے تھے۔ ان دنوں شام کو ہماری محفل ظہیر لائبریری میں جمتی تھی۔ وہاں احباب صدام حسین کے ایسے فضائل بیان کرتے جو اسی لائبریری سے نسیم حجازی کے ناول پڑھ کے انہیں ازبر تھے۔

ہر جگہ صدام حسین کے پوسٹر لگے ہوتے تھے۔ رکشوں کے پیچھے، فلمی ہورڈنگز والے تانگے شاید آج کسی کو یاد نہ ہوں لیکن اس وقت یہ عام تھے۔ نئی فلم کی تشہیر کے لئے تانگے کی پچھلی طرف بڑا ہورڈنگ اور دونوں اطراف نسبتا چھوٹے ہورڈنگ لگے ہوتے تھے۔ ان تانگوں پر بھی صدام حسین کے پوسٹر لگے دیکھے۔ کسی میں وہ گھوڑے پر بیٹھے عربی لباس میں تلوار لہراتے نظر آتے تھے۔ کسی میں رائفل تھامے اور کسی میں ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں جھنڈا تھامے اسلامیانِ پاکستان یا پنجاب کے دل گرماتے نظر آتے تھے۔ 1992 میں پیدا ہونے والی اکثریتی نرینہ اولاد کے نام ان کی امیوں نے صدام رکھے۔ یہ صدام آج ادھیڑ عمری کی دہلیز پر ہیں اور ان میں سے بیشتر حالیہ صدام کے پرستار ہیں۔

ہمیں بچپن سے اخبار پڑھنے کی لَت تھی۔ اخبار ٹینڈر نوٹسز تک پڑھ لیاجاتا تھا۔ اردو کالم نویسوں کی اکثریت اس وقت صدام حسین کی قتیل تھی۔ یہ سب پڑھ کے بھی کبھی دل صدام حسین کی طرف مائل نہ ہوا۔ دوست احباب ہمیں اس وقت یہود و ہنود سے ملاتے کہ تم منکر انسان ہو۔ ایک مجاہدِ اسلام کو نہ صرف مانتے نہیں بلکہ اس کی توہین بھی کرتے ہو۔ وہ وقت کچھ بہتر تھا کہ توہین وغیرہ کی بات پر برا بھلا ہی کہا جاتا تھا۔ سر تن سے جدا نہیں ہوتا تھا۔ ان دنوں صدام حسین کا "اُم الحرب" والا ڈائلاگ بھی بہت ہٹ تھا۔ خلیفہ ہارون الرشید تو بارہ پندرہ سال یہ اصطلاح استعمال کرتے رہے۔ اس وقت اوریا مقبول جان منصہ شہود پر نہیں آئے تھے ورنہ وہ اس میں سے امام مہدی اور قیامت وغیرہ ضرور برآمد کرتے۔

یہ ایک شہری متوسط طبقے کے ٹین ایجر کے خیالات تھے جو اپنے ماحول، تعلیم اور اجتماعی لاشعور کے باوجود یہ سمجھ گیا تھا کہ صدام حسین اپنی قوم کو مروائے گا۔ یہ بات تاریخ نے ثابت کی۔

دورِ شباب کپتان کے فضائل پڑھتے گزرا۔ کپتان، درویش اور سپہ سالار کی طولانی حکایات جنابِ خلیفہ نے اس تسلسل سے لکھیں کہ اس کو داستانِ کپتانِ لعین کا سرنامہ دیا جا سکتا ہے۔ فدوی بھی انسان ہے۔ جو لڑکپن میں پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوا  وہ ادھیڑ عمری کے آغاز پر ہوگیا۔ 2008 تک ہم سمجھتے تھے کہ کپتان اچھا آدمی ہے۔ فوج کے سیاسی کردار کے خلاف ہے۔ ایماندار ہے۔ صاف گو ہے۔ لیکن چلے گا نہیں۔  2011 کا لاہور جلسہ وہ دور تھا جس میں فدوی بہک گیا۔ لیکن یہ عرصہ بہت مختصر ثابت ہوا۔ اس پر آج تک پچھتاوا ہے۔

جیسے ہی کپتان کو حاضر سروس چھتری میسر آئی اس کے رنگ ڈھنگ، زبان، کردار سب کھل کر سامنے آگئے۔ اس دن سے کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب کپتان کا مضحکہ نہ اڑایا ہو۔ اس کا ایاک نعبد سے شروع ہونے والا سفر اب کپتان العالمین تک پہنچ چکا ہے۔ جو اس کا ساتھ چھوڑے وہ مشرک۔ قبر میں پہلا سوال کپتان بارے ہوگا کہ وہ تمہارے پاس آیا تھا تم نے اس کا ساتھ کیوں نہیں دیا۔ کپتانی زبان سے آفیشل اکاؤنٹس تک کلمہ بھی صرف "لا الہ الا اللہ" تک محدود ہو چکا۔ اگلا حصہ شاید فنڈنگ اور ننھیال کی مجبوری کی وجہ سے لکھا اور پڑھا نہ جاتا ہو۔ یہاں حلف لیتے وقت "خاتم النبین" غلط پڑھ کے کیمرے کی طرف دیکھ کے طنزیہ ہنسی بھی یاد آتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کپتان نے کلمے کا دوسرا حصہ اپنے لئے محفوظ رکھا ہو کہ اگلا الیکشن جیت کے مکمل کردیں گے۔ جو عبادت گذار نشے، جوئے، ناجائز تعلقات، ناجائز اولاد، چندہ خوری پر ایمان لاچکے وہ اس کلمے پر بھی ایمان لے آئیں گے۔

حماقت، اس سے پھوٹتی بدمعاشی اور فاشزم کو نہ ماننا بہتر انسانی اوصاف میں سے ہے۔ ہم لڑکپن میں منکر تھے۔ اب بھی منکر ہیں۔منکر ہی مریں گے۔

نِی میں جانڑاں گوگی دے نال

نِی میں جانڑاں جوگی دے نال۔۔۔۔نصرت کی آواز سوزوکی ایف ایکس میں گونج رہی تھی۔ عرفان اکرم نے پکّے سغٹ کا آخری کَش لیا تو فلٹر کا ذائقہ آنے لگا تھا۔ اس نے آخ تھو کرکے تھوک اور سغٹ باہر پھینکا۔ سغٹ تو سڑک پر گرا اور تھوک سیونٹی والے کے  منہ پر۔ سیونٹی والے نے عرفان کے شجرے میں چرند پرند شامل کرتے ہوئے موٹر سائیکل عرفان کی ایف ایکس کے پیچھے لگا دی۔ عرفان کو کھُڑک گیا کہ سیونٹی والا موٹا دہوش اس کو پھینٹی لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس نے ایف ایکس کو ریس دینے کی کوشش کی تو وہ پٹاکا مار کے بند ہوگئی۔ اتنی دیر میں سیونٹی والا سر پہ آگیا تھا۔ عرفان نے چھلانگ لگائی اور گرین بیلٹ سے ہوتا ہوا قریبی جنگل میں گھس گیا۔ سیونٹی والا دھوش بے چارہ اس کو غائب ہوتے دیکھتا رہا اور اپنا غصہ نت نئی اصطلاحات میں ڈھال کے چند سیکنڈ بعد کک مار کے چلا گیا۔ عرفان بھنگ کی جھاڑیوں میں چھپا ہوا دیکھ رہا تھا۔ سیونٹی والے کے جاتے ہی وہ فاتحانہ انداز میں باہر نکلا۔ ایف ایکس کو گالی دی اور قریب سے گزرتے رکشے کو ہاتھ دے کر اسے بھارہ کہو جانے کا کہا۔

عرفان جوانی میں کبڈّی کا ماہر کھلاڑی تھا۔ اس کی دھوم پورے پنجاب میں تھی۔ وہ کبھی کسی کی پکڑ میں نہیں آتا تھا۔ بڑے بڑے چودھری اس کے پرستار تھے۔ اس کو کبھی کسی چیز کی تنگی نہیں ہوئی تھی۔ راشن پانی چودھریوں کی طرف سے آجاتا تھا۔ آنے جانے کے لئے ایف ایکس تھی۔ رہنے کے لئے بھارہ کہو میں اچھے وقتوں میں جھیکا گلی کے راجہ فقیر محمد کا منت ترلا کرکے بیس کنال زمین مَل لی تھی۔ چکوال کے چودھری رشید حمید سے فرمائش کرکے چار کمرے بھی بنوا لئے۔ اب عرفان اکرم اپنی بھارہ کہوی جنت میں اکیلا موجیں مارتا تھا۔ چرس کا شوق اسے جوانی سے ہو گیا تھا۔ کبڈّی کے میچ سے پہلے وہ دو پکّے سغٹ چھِک لیتا تھا۔ اس کے بعد کوئی اس کی ہوا کو بھی نہیں چھو سکتا تھا۔ ادھیڑ عمری شروع ہوئی۔ کبڈّی کھیلنے کی طاقت نہیں رہی تھی لیکن عرفان یار باش بندہ تھا۔ اس کے اتنے تعلق بنے ہوئے تھے کہ زندگی مزے سے گزر رہی تھی۔ کھانا پینا پنجاب کے چودھریوں سے ہوجاتا تھا۔ چرس اسے تیراہ وادی کے یار مت آفریدی سے مل جاتی تھی۔ عورتوں کی اسے کبھی تھوڑ نہیں ہوئی۔ بچپن سے ہی منہ متھے لگتا تھا۔ جوانی میں کبڈّی نے اسے فٹ رکھا۔ خواتین میں مقبول تھا۔جن چودھریوں کی حویلیوں میں وہ جا کے ٹھہرا کرتا تھا۔ انہی میں سے بہت سی خواتین چوری چھپے عرفان سے یارانے چلاتی تھیں۔ ان سے بھی عرفان کو معقول پیسے مل جاتے تھے۔ عید تہوار پر بھی اسے اپنی پرستاروں سے ون سونّے سوٹ، جوتے اور عطر وغیرہ کے تحائف مل جاتے تھے۔ یہ سب ہوتے ہوئے بھی عرفان کو اپنی زندگی میں کمی سی محسوس ہوتی تھی۔ جب بھی وہ نصرت کی "نِی میں جانڑاں جوگی دے نال" سنتا تو اسے لگتا اندر سے کوئی آواز اسے پکار رہی ہے۔ وہ اسے چرس کا اثر سمجھ کے نظر انداز کردیتا۔

گوگی اور پنبیری کی انڈرسٹینڈنگ کے بعد انہوں نے اسلام آباد منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ نذیر ملنگی نے ان کو یقین دلایا کہ وہ عرفان اکرم کو کسی بھی طرح چک 69 والے پیر صاحب کے پاس لے جائے گا۔ اس کے بعد والی گیم پنبیری اور سرور نے سیٹ کرنی ہے۔ ملنگی نے حجرہ شاہ مقیم میں اپنے سورس سے رابطہ کرکے کبڈّی میچ ارینج کرنے کا کہا جس میں چیف گیسٹ عرفان اکرم ہو۔

ستمبر کے دن تھے۔ بھارہ کہو کی راتیں ٹھنڈی ہو رہی تھیں۔ رات ایک دو بجے تک عرفان چرس سے شغل کرتا۔ یار بیلی آئے رہتے۔ ان میں ایک دو جوان بہت خوبصورت بھی تھے۔ عرفان خوبصورتی کو پسند کرتا تھا اور اس میں جنسی تفریق کا قائل نہیں تھا۔ ان میں سے اکثر ایک یا دونوں ہی رات بھارہ کہو میں گزارتے۔ ستمبر کی ایک گرم دوپہر عرفان کو حجرہ شاہ مقیم سے مستقیم شاہ کی کال آئی۔ اس نے کبڈّی میچ کی دعوت دی اور ساتھ دس دیسی مرغیاں اور دو من چاول بھجوانے کا ذکر بھی کیا۔ عرفان جانا نہیں چاہتا تھا لیکن اسے حجرہ شاہ مقیم کی پروین یاد آئی۔ اسکے بڑے بڑے نین اور دوپٹے کا بار بار سرک جانا عرفان کا نشہ دوبالا کر گیا۔ اس نے فورا حامی بھرلی۔

حجرہ شاہ مقیم کا چکر عرفان کے لئے خوش قسمت ثابت ہوا۔ پروین آج بھی اسی جادو کی مالک تھی۔ مستقیم شاہ نے رات کے کھانے کے بعد پروین کو چائے بنانے کا کہا اور باتوں باتوں میں چک 69 والے پیر صاحب کا ذکر چھیڑ دیا۔ اس نے بتایا کہ پیر صاحب سو فیصد گارنٹی کے ساتھ الیکشن میں کامیابی کا تعویذ دیتے ہیں۔ اگر عرفان چاہے تو وہ پیر صاحب سے اس کی ملاقات کا بندوبست کرسکتا ہے کیونکہ وہ ہر کس وناکس سے نہیں ملتے۔

اگلے دن پلان کے مطابق عرفان پیر صاحب کے آستانے پر پہنچا تو انتظار گاہ میں پنبیری اور سرور بھی موجود تھے۔ پیر صاحب نے عرفان کو دیکھتے ہی کہا کہ سارا پنڈ مر جائے پر تو الیکشن نہیں جیت سکتا۔ مستقیم شاہ نے مسمسی صورت بنا کر کہا کہ حضور کوئی تو طریقہ ہوگا۔ کچھ کریں۔ یہ ہمارا یار ہے۔ اس کا جیتنا ضروری ہے۔ پیر صاحب کچھ دیر مراقبہ میں گئے۔ وہاں ان کی آنکھ لگ گئی۔ دو گھنٹے بعد آنکھ کھلی تو عرفان اور مستقیم شاہ بھی قالین پر سوئے ہوئے تھے۔ پیر صاحب نے گرج کر انہیں اٹھنے کو کہا۔ دونوں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔ پیر صاحب نے عصا اٹھایا۔ اس سے کمر پر خارش کی اور فرمایا، "تمہیں ایسی عورت سے شادی کرنی پڑے گی جو مردانہ شلواریں قمیصیں سینے والی کسی عورت کی سہیلی ہو۔ اس کا خاوند سرکاری ملازم ہو اور اس کے کم از کم دو بچے ہوں۔"

عرفان اکرم کے چہرے پر بیزاری تھی۔ اس نے جھلاّ کر کہا کہ میں ایسی عورت کہاں ڈھونڈتا پھروں گا۔ مستقیم شاہ ایک دم اچھلا اور بولا میں ایسی عورت کو جانتا ہوں۔ ابھی جب ہم آئے تو انتظار گاہ میں سرور اور پنبیری بیٹھے تھے۔ سرور سی آئی ڈی میں ملازم ہے۔ اس کے دو بچے ہیں اور اس کی ایک سہیلی ہے جس کی لاہور میں بوتیک ہے اور وہ صرف مردانہ کپڑے سیتی ہے۔ اس کا نام گوگی ہے۔ پیر صاحب نے فورا خادم خاص کو کہا کہ پنبیری اور سرور کو بھیجو۔ دونوں اندر آئے۔ دو زانو ہو کر پیر صاحب کے سامنے جھکے۔ پیر صاحب نے سرور کے سر اور پنبیری کے کندھوں پر ہاتھ پھیرا۔ پھر فرمایا، "سرور میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ پنبیری کو طلاق دو۔ یہ عرفان سے شادی کرے گی۔ اسلام آباد کے مئیر کا الیکشن ہو جائے تو اس کے بعد یہ پنبیری تم کو واپس کر دے گا۔" پھر مسکرا کے بولے، "میں امید کرتا ہوں کہ عرفان پنبیری کو زیادہ گھمائے گا نہیں۔"

سرور حواس باختہ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پیر صاحب کے قدموں میں گرگیا اور بولا، ہم پر یہ ظلم نہ کریں۔ میں پنبیری کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پیر صاحب نے پیار سے سرور کے منہ پر چپت لگائی اور کہا، یہ عارضی بندوبست ہے۔ پنبیری تمہاری ہے،تمہاری رہے گی اور اس قربانی کے بدلے تمہیں عرفان اکرم مالا مال کردے گا۔

سرور نے پنبیری کو طلاق دی۔ عرفان نے اگلے ہفتے اس سے شادی کرلی۔ شادی کے بعد پنبیری بھارہ کہو شفٹ ہوگئی۔ عرفان اپنے معمولات میں مگن رہنے لگا۔ پنبیری گھر میں مہمان کی طرح رہتی تھی۔ کبھی سرور بچوں کے ساتھ ملنے آجاتا اور کبھی اکیلا۔

گوگی بھی نکاح میں شریک تھی۔ عرفان کو دیکھ کے اس کے مَن میں ایسا سکون اترتا تھا جو شلوار قمیص کا نیا ڈیزائن بنانے سے بھی کہیں زیادہ تھا۔ آہستہ آہستہ گوگی بھارہ کہو میں آنے جانے لگی۔ کبھی کبھار رات کو بھی وہیں ٹھہر جاتی۔

گوگی اور عرفان کا اکثر آمنا سامنا ہونے لگا۔ پنبیری گھر پر نہ بھی ہوتی تو گوگی عرفان کے ساتھ لان میں بیٹھ کر گپ شپ کرتی رہتی۔ عرفان گرگ باراں دیدہ تھا۔ اسے گوگی میں وہ بے خودی نظر آئی جو پروین، زبیدہ، مسرت، شگفتہ، شائستہ وغیرہم میں نظر آتی تھی۔

نومبر کی ایک اداس شام تھی۔ عرفان لان میں بیٹھا واک مین پر "نِی میں جانڑاں جوگی دے نال" سن رہا تھا۔ اچانک گیٹ سے گوگی کی ٹویوٹا کرولا مارک ٹُو داخل ہوئی۔ اس کے مَن میں کوئی گرہ سی کھل گئی۔ اسے پتہ چل گیا کہ وہ جوگی، یہی گوگی ہے۔

نِی میں جانڑاں گوگی دے نال


کسی دن بنوں گی میں راجہ کی رانی

 کسی دن بنوں گی میں راجہ کی رانی ۔۔۔ ذرا پھر سے کہنا۔۔۔۔

گرمیوں کی سہ پہر گلزار پان شاپ کے ڈیک سے یہ آواز آئی تو گوگی کے دل میں پھر وہی طوفان ابھرا جو پہلی دفعہ خواب میں یہ گانا دیکھ کر ابھرا تھا۔ گوگی کو اچھی طرح یاد تھا کہ میٹرک کے بورڈ کے پرچے تھے اور مطالعۂ پاکستان کے پرچے والی رات پہلی دفعہ اس کو یہ خواب آیا تھا۔ پیر سوہاوہ کی پہاڑیوں کا منظر تھا۔ پسِ منظر میں راجہ کی رانی والا گانا بج رہا تھا۔ ملکوتی حسن کا شہکار ایک شہزادہ دُلکی سائیکل چلاتا ہوا ندی کی طرف جا رہا تھا۔ اس کے گھنے بال ہوا میں لہرا رہے تھے۔ تیز دھوپ کی وجہ سے اس نے کالے شیشوں والی عینک بھی لگا رکھی تھی جو اس کے حُسن کو چار چاند لگا رہی تھی۔ ندی کے قریب پہنچ کر وہ قلانچ بھر کے سائیکل سے اترا۔ سائیکل سٹینڈ پر لگائی۔ گدّی کے نیچے والا لاک لگا کر وائر لاک بھی لگایا۔شرٹ اتاری اور ندّی میں اتر گیا۔ گوگی بھی ندّی میں نہا رہی تھی۔ شہزادے نے اس کو بانہوں میں بھرا اور انگریزی فلم والی ایکٹنگ شروع ہی کرنے لگا تھا کہ عین اس وقت گوگی کی آنکھ کھل گئی ۔

گوگی پچھلے کئی سال سے مسلسل یہ خواب دیکھتی آرہی تھی۔ خواب عین اسی جگہ ٹوٹتا تھا جہاں پہلی دفعہ ٹوٹا تھا۔ گوگی کی دلی خواہش تھی کہ کاش کسی رات یہ خواب اپنے منطقی انجام تک پہنچے لیکن ۔۔۔ اےبسا آرزو کہ خاک شُد۔ اوکاڑہ  ویمن ڈگری کالج سے بی اے میں فیل ہو کے گوگی نے اعلی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیا اور سلائی کے کاروبار میں قسمت آزمانے کا سوچا۔ زیادہ تر دوشیزائیں زنانہ ملبوسات کی سلائی ہی کرتی ہیں لیکن گوگی نے انقلابی فیصلہ کیا اور مردانہ شلواریں قمیصیں سینی شروع کر دیں۔

گوگی ٹیلرنگ اینڈ سٹائلنگ بوتیک ، لاری اڈّہ ، اوکاڑہ کی شہرت آہستہ آہستہ پورے پنجاب میں پھیل گئی۔ گوگی کے سلے شلوار قمیص، کرتے، پاجامے اپنی مثال آپ تھے۔ گوگی کا لگا ہوا ٹانکا منہ سے بولتا تھا۔ جو ایک دفعہ گوگی ٹیلرنگ شاپ پر آیا وہ دوبارہ کسی اور درزی کے پاس نہیں گیا۔ گوگی کو بڑے شہروں سے آفرز آنے لگیں کہ اپنی ٹیلرنگ شاپ کی فرنچائز کھولیں، سارا خرچہ ہم کریں گے بس نام آپ کا چلے گا۔ گوگی زندگی میں بہت آگے جانا چاہتی تھی۔ اس نے  لاہور منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ گوگی کی زندگی کا بہترین فیصلہ ثابت ہوا۔

زندہ دلانِ لاہور نے گوگی کا کھلی بانہوں سے استقبال کیا۔ اس کے ہُنر اور فن کی دُھوم یہاں پہلے ہی پہنچ چکی تھی۔ باقی کسر گوگی نے مزنگ میں "شہزادی بوتیک "کھول کے پوری کر دی۔شہزادی بوتیک پر عید کے جوڑوں کی بکنگ محرم میں شروع ہوجاتی تھی اور یکم صفر کو آخری جوڑا بک کیا جاتا تھا۔ لوگ گوگی کی بکنگ بولی میں بیچتے تھے۔ ایک خوش لباس  افسر نے بکنگ نہ ملنے پر بولی میں بکنگ خریدی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے لئے انہوں نے ستاسی لاکھ روپے ادا کئے۔ یہ گوگی کے جادو کی ایک چھوٹی سی مثال تھی۔

لاہور میں گوگی کے کئی نئے تعلق بنے لیکن نسرین پنبیری کے ساتھ اس کی ایسی دوستی ہوئی کہ جیسے یک جان دو قالب ہوں۔ پنبیری کا  تعلق بھی اوکاڑہ سے تھا۔ شادی کے بعد وہ کچھ عرصہ حجرہ شاہ مقیم میں رہی اور پھر لاہور منتقل ہوگئی۔ گہری سہیلیوں کی طرح ان کی کوئی بات ایک دوسرے سے چھپی ہوئی نہ تھی۔اس سارے عرصے میں گوگی کو شہزادے والا خواب بدستور تنگ کرتا رہا۔ اس نے ایک دن پنبیری سے اس خواب کا ذکر کیا تو وہ چونک اٹھی۔ اس نے گوگی سے کرید کے شہزادے کا حلیہ پوچھا۔ گوگی نے تفصیل سے شہزادے کا حلیہ بتایا تو پنبیری دم بخود ہو کر رہ گئی۔

پنبیری نے فورا اپنا فون اٹھایا اور گیلری کھول کر اس میں سے ایک تصویر گوگی کو دکھائی۔ یہ اس شہزادے کی فوٹو تھی جس کا خواب گوگی میٹرک کے مطالعۂ پاکستان والے پرچے کی رات سے دیکھتی آرہی تھی۔ پنبیری کے پاس سنانے کے لئے ایک کہانی بھی تھی۔

پنبیری نے بتایا کہ جب وہ حجرہ شاہ مقیم میں تھی تو اس کو خواب میں ہر دوسرے دن ایک بزرگ کی زیارت ہوتی تھی۔ وہ اسے حکم دیتے تھے کہ  پہاڑوں میں جاؤ اور اپنی قسمت آزماؤ۔ پنبیری کو اس خواب کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ اس نے چک 69 کے ایک پیر صاحب بارے سنا کہ وہ خوابوں کی تعبیر بتانے میں ماہر ہیں۔ پنبیری اگلی اتوار کو ہی پیر صاحب کے پاس پہنچی۔ پیر صاحب کسی سے تنہائی میں نہیں ملتے تھے لیکن پنبیری کو دیکھتے ہی پیر صاحب پر وجد طاری ہوگیا۔ انہوں نے سب لوگوں کو حجرے سے نکل جانے کا حکم دیا۔ پنبیری کو اپنے پاس بلا کر بٹھایا۔ اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولے، "تمہی ہو جس کے بارے ہمیں زیبرا سائیں سرکار کئی سال سے خواب میں بتاتے آرہے ہیں۔ بتاؤ بچّہ کیا مسئلہ ہے؟"۔

پنبیری نے اپنے خواب بارے بتایا۔ پوچھنے پر خواب والے بزرگ کا حلیہ بتایا تو پیر صاحب تھر تھر کانپنے لگے۔ حلیہ بالکل زیبرا سائیں سرکار سے ملتا تھا۔ پنبیری نے پیر صاحب سے پوچھا کہ اس خواب کا مطلب بتائیں۔ پیر صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے پنبیری کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور مراقبے میں چلے گئے۔ دس منٹ بعد جھٹکا لے کر آنکھیں کھولیں تو ان کا چہرہ پسینے سے تَر تھا۔ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ پیر صاحب نے بتایا کہ اس دفعہ جب خواب آئے تو بزرگ سے نشانی مانگنا۔ پنبیری نے پیر صاحب کو نذرانہ دینا چاہا تو پیر صاحب نے انکار کردیا۔ بولے کہ تمہارے انتظار میں ہی ہمیں چک 69 میں بھیجا گیا تھا۔ آج یہاں ہماری ڈیوٹی ختم ہوئی۔ کل  ہم ایوبیہ چلے جائیں گے۔

اگلی جمعرات پنبیری کو دوبارہ خواب میں بزرگ کی زیارت ہوئی۔ پنبیری نے ان سے نشانی مانگی تو بزرگ نے اپنے منہ سے چادر ہٹادی۔ ان کی شکل بالکل گوگی کے خواب والے شہزادے کی طرح تھی۔ اس کے بعد پنبیری جستجو میں لگ گئی کہ آخر اس شکل کا بندہ کہاں مل سکتا ہے۔ پنبیری کا خاوند سرور سی آئی ڈی میں کام کرتا تھا۔ پنبیری نے اپنے خواب اور چک 69 والے پیر صاحب کا سارا قصہ اسے کہہ سنایا۔ سرور ایک ذہین اور دلیر آدمی تھا۔ اسے علم تھا کہ بغیر نام پتے، تصویر کے کسی کو تلاش کرنا بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے کے برابر ہے۔ سرور کے ڈپارٹمنٹ میں کاہنہ کاچھا کا نذیر ملنگی بھی کام کرتا تھا۔ ملنگی ہپناٹزم کا ماہر تھا۔ ملزموں سے تفتیش میں ملنگی کا فن بہت کام آتا تھا۔ اس نے اگلے دن دفتر میں ملنگی سے سرسری سا ذکر چھیڑا تو اس نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ وہ یہ مسئلہ حل کرسکتا ہے۔

اگلے جمعہ سرور نے ملنگی کو رات کے کھانے پر مدعو کیا۔ کھانے کے بعد ملنگی نے پنبیری اور ملنگی دونوں کو ہپناٹائز کیا۔ پنبیری کو حکم دیا کہ وہی خواب دیکھے اور سرور کے دماغ کا لنک اس خواب سے کر دیا۔ خواب کے آخر میں جب بزرگ نے اپنے چہرے سے چادر ہٹائی تو سرور چیخ مار کے اٹھ بیٹھا۔ "میں اسے جانتا ہوں۔۔۔"۔ سرور چلاّیا۔ یہ بھارہ کہو کی پہاڑی پر رہتا ہے۔ اس کا نام عرفان اکرم ہے اور مئیر کا الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔  سرور نے اپنا فون کھولا اور تصویر پنبیری کو دکھائی۔ پنبیری نے اثبات میں سر ہلایا۔ یہ اسی بزرگ کی تصویر تھی جو پنبیری کے خواب میں آیا تھا۔

پنبیری کی کہانی ختم ہوئی تو رات ڈھل چکی تھی۔ گوگی کے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ گوگی کے انگ انگ میں شہزادے کی طلب سما چکی تھی۔ اس نے پنبیری کے ہاتھ تھامے اور رندھی آواز میں بولی، "پنبیری بس ایک دفعہ میں اس خواب کو حقیقی زندگی میں دیکھنا چاہتی ہوں۔ کیا تم میری مدد کروگی؟"۔

پنبیری نے گوگی کو گلے سے لگایا اور بولی،"میری جان گوگی۔۔۔ تمہارے لئے جان بھی حاضر ہے چاہے مجھے اس کے لئے سرور کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔۔۔ لیکن ایک وعدہ تمہیں بھی کرنا ہوگا۔ جتنی بھی کمائی ہوگی  میری ہوگی۔۔۔ عرفان تمہارا ہوگا۔۔۔ بولو منظور؟"۔۔۔۔

گوگی نے پنبیری کو زور سے بھینچا اور بے خودی میں دھراتی چلی گئی۔۔۔ منظور ہے۔۔۔ منظور ہے۔۔۔ منظور ہے۔۔۔۔۔

داستان افغان فروشوں کی

جاڑے کی گلابی سہ پہر ماضی کی یادیں یوں یلغار کرتی ہیں جیسے صاحبقراں امیرِ تیمور کے لشکر غنیم کو تہہ تیغ کرنے بڑھے آتے ہوں۔ وائے افسوس۔۔۔ کیسے گُہر تھے جو خاک میں مل گئے۔ کیسی ذہانتیں تھیں جو ستائش کی تمنا سے ماورا غیاب و خاموشی میں وطن پر قربان ہوگئیں۔

نصف صدی ادھر، جاڑے کے یہی دن۔ فقیر مشروب کی تلاش میں سرگرداں۔ جارج گھسیٹے خاں مگر، جِیسز کرائسٹ ان کے کیسکٹ کو نور سے بھر دے، پکڑائی نہ دیتے تھے۔ اسی گُربہ حالی میں پہلی دفعہ ان سے ملاقات ہوئی۔ زیرو پوائنٹ کے سناٹے میں فقیر درویشی بُوٹی کی چُنائی میں مشغول تھا کہ اچانک بائیسکل کی جرس نے متوجہ کیا۔ باریک ہونٹ، کشادہ پیشانی، شام کے جھٹپٹے میں نور سے دمکتا چہرہ، دبادب بائیسکل کے پیڈل مارتا یونانی دیوتا۔ فقیر کہ ان دنوں آتش جواں تھا خود بھی رحیم یار خانی حُسن کا نمونہ تھا۔ پھتّے نائی کی دکان پر بال بناتے ہوئے اپنے ہی حُسن سے شرما کر فقیر اکثر ماشاءاللہ کہہ کر پھونک مار دیا کرتا۔ گھنے بالوں کے گچھے کہ اب یہ گپ لگتی ہے، فقیر کے شانوں پر جھولا کرتے۔ قصّہ مختصر۔۔۔۔ پہلی نگہ میں طالبعلم اس جوانِ رعنا کا قتیل ہوگیا۔ رفیع یاد آئے۔۔۔

یہ ملاقات اک بہانہ ہے ۔۔۔ پیار کا سلسلہ پرانا ہے

فاتح بائیسکل سے قلانچ بھر کے اترے اور فقیر سے یوں مخاطب ہوئے، ۔۔۔۔ ابے او ب٭٭٭٭٭ والے چچا۔۔۔ کیا ڈھونڈ رہے ہو؟" طالبعلم کا دل خوں، جگر چاک ہوا۔ عمر کا فرق اگر تھا بھی تو عشرے سے کم اور اس وقت تو بدنامِ زمانہ "مرزا پور" کے لکھاری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ فقیر رئیلی میں ہَرٹ ہوا۔ آہستگی سے فاتح کے قریب جا کر شانوں سے زلفیں سمیٹیں، پونی بنائی اور کہا، "ہمارے سپلائر گیڑا کرا گئے۔ درویشی بُوٹی کی تلاش میں ہیں۔ آج شب ورنہ شبِ فراق سے طویل ہو جائے گی۔" فاتح یکلخت ٹھٹکے۔ کہا، اتنی سی بات تھی، پہلے بتایا ہوتا۔ فاتح نے کوٹ کی اندرونی جیب سے مون وہسکی کا پوّا نکالا۔ طویل گھونٹ لیا۔ بوتل فقیر کی طرف بڑھا دی۔ طالبعلم کے کاٹو تو بدن میں لہو ندارد۔ یقین ہمارے ڈھلمل، ایمان شکستہ۔

وہ رات اپن دو بجے تک پیا۔

ایسے درویشِ بے ریا کو کیا ضرورت پیش آئی کہ پیسے گن گن کر رکھتا رہا؟ خدا کی قسم یہ جھوٹ ہے۔ فقیر کو سارے قصے کا علم ہے۔ ایک دن آئے گا کہ پوری کہانی بیان کر دی جائے گی۔ اس شام سے جُڑا تعلق ساری زندگی پر محیط ہوا۔ گرمی کی کوئی سہ پہر ایسی نہ تھی کہ فقیر گنڈیریاں لے کر فاتح کے دفتر حاضر نہ ہوا ہو۔ ڈالروں کے توڑے کہ پورا دفتر ان سے بھرا ہوتا۔ شام تک سارا مالِ غنیمت تقسیم کر دیا جاتا۔ خالی توڑے چھان بورے والے کو بیچ کر مرونڈے کے چھ سات ٹکڑے ملتے۔ گنڈیریاں چُوپ کر مرونڈا تناول کیا جاتا۔ اس معمول سے طالبعلم کو شوگر اور فاتح کو مثانے کی تکلیف ہوئی۔ دوستی مگر ہر درد کی دوا ہے۔ شیری مان نے حق فرمایا ۔۔۔

یار اَن مُلّے٭ ۔۔۔ ہوا دے بُلّے٭۔۔۔۔

(یہاں مُلّے سے مراد مولوی نہیں اور نہ ہی ہوا دے بُلّے سے اشارہ گیسٹرک ٹربل کی طرف ہے۔ پلیز نوٹ)

این جی اوز اب اس ملک پر قابض۔ جس کی چاہیں پگڑی اچھالیں۔ کوئی ان سے پوچھنے کی جرات نہیں رکھتا۔ ڈالر ان کو دساور سے ملتے ہیں۔ اساطیری شہرت کے حاملین پر یہ بدعنوانی کی زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔ اگست کی ایک شام جنرل ضیاءالحق نے کہا تھا، اگر محمد حنیف کے آموں والے ناول سے بچ نکلا تو ان اسلام دشمن اور وطن فروش این جی اوز کا وجود مٹا دوں گا۔ خدا کو مگر آزمائش مقصود تھی۔ باقی کہانی ہے۔

جاڑے کی گلابی سہ پہر ماضی کی یادیں یوں یلغار کرتی ہیں جیسے صاحبقراں امیرِ تیمور کے لشکر غنیم کو تہہ تیغ کرنے بڑھے آتے ہوں۔ وائے افسوس۔۔۔ کیسے گُہر تھے جو خاک میں مل گئے۔ کیسی ذہانتیں تھیں جو ستائش کی تمنا سے ماورا غیاب و خاموشی میں وطن پر قربان ہوگئیں۔ 

گرمیٔ کلام

 

بنک میں آج معمول سے کم رش تھا۔رات امتیاز صاحب دیر سے سوئے۔ موسم بدل رہا تھا۔ صبح  اٹھے تو ہلکا سا زکام تھا۔ امتیاز صاحب معمول کے پکے تھے۔ چھٹی کی بجائے دفتر جانے کا فیصلہ کیا۔ گیارہ بجے کے قریب ہلکا سا بخار بھی ہوگیا۔ چائے کے ساتھ پیناڈول بھی لی لیکن جسم میں درد اور چھینکوں نے ایسا زور مارا کہ انہوں نے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔

امتیا ز رؤف درمیانی عمر کےنک سک سےدرست معقول آدمی تھے۔اچھے وقتوں کے ایم بی اے تھے۔ بنک میں ملازم ہوگئے۔ آج ترقی کرتے برانچ مینجر کے عہدے پر پہنچ چکے تھے۔

ان کی شادی کو طویل عرصہ گزر چکا تھا۔بیوی مضافات کے ڈگری کالج میں   ہوم اکنامکس کی لیکچرار تھیں۔نورین شہزادی انکا نام تھا۔ امتیاز پیار سے نین کہتے تھے۔ نین کی ہفتے میں دو دن کلاس ہوتی تھی۔ باقی وقت وہ سماجی بھلائی اور ادبی سرگرمیوں میں گزارتی تھیں۔

امتیاز گھر پہنچےتو بارہ بجنے والے  تھے۔ نین عام طور پر اسوقت گھر پر نہیں ہوتی تھیں۔ گھر میں داخل ہوتے ہی بیڈروم سے ٹی وی کی ہلکی سی آواز سنائی دی۔ امتیاز حیران ہوئےکہ نین آج گھر پر ہیں۔کچن میں جاکے چائے کا پانی رکھا۔ اچانک بیڈروم سے لذّت بھری سسکاری سی سنائی دی۔امتیاز سُن ہوگئے۔ سارے امکانات یکلخت انکے ذہن سے برق کےکوندے کی طرح گزر گئے۔ اب بیڈروم سے ٹی وی کی آوازبھی اونچی ہو چکی تھی اور سسکاریاں بھی ہلکی چیخوں میں بدل چکی تھیں۔امتیازاس آواز کو لاکھوں میں پہچان سکتےتھے۔

یہ نین کی آوازتھی۔

ٹی وی پر کوئی تقریرچل رہی تھی۔کرکٹ کا ذکربھی ہو رہا تھا۔امتیاز نے آہستگی سے بیڈروم کا دروازہ کھولا۔ نین بیڈ پر دراز تھیں۔ تکیہ ٹانگوں میں دبائے، آنکھیں بند کئے، سسکاریاں لے رہی تھیں۔ امتیاز صاحب نے ان کا بدن بستر پر یوں بکھرا سہاگ رات کے بعد آج ہی دیکھا۔ٹی وی پر کپتان کی تقریر چل رہی تھی۔نین دنیا و مافیہا سے بےخبر بیڈ پر پڑی تھیں۔ جیسے ہی کپتان اس حصے پر پہنچے جس میں وہ کہتے ہیں، بڑا وہ ہوتا ہے، جس کی سوچ بڑی ہوتی ہے، نین نے چیخ ماری، جسم ایک دم اکڑ کرڈھیلا پڑگیا اوروہ بسترسے نیچےجاگریں۔بیڈ کاکونہ نین کےسر پر لگا اور خون کی پتلی سی لکیران کے سفید بالوں کی جڑوں کو رنگین کرتی ہوئی گال تک پہنچ گئی۔

امتیاز یہ سب دم بخودہو کے دیکھ رہے تھے۔زمین پر گر کے نین کے حواس بحال ہوئے۔ امتیاز کی طرف دیکھ کے مسکرائیں اور لذت بھری تھکاوٹ سے بولیں، "آپ کب آئے؟"

 

دنیا کے فیصلے

برنارڈ شاہ فلسفی،شاعر، ڈرامہ نگار، سائنسدان، طبیب اور ادیب تھے۔ یہ اَنگلینڈ کے رہنے والے تھے۔ کہتے ہیں کہ اَنگلینڈ میں ایک بادشاہ تو تاج و تخت والا ہے اور دوسرا برنارڈ شاہ۔ ان کے نام کے ساتھ 'شاہ'  عوام نے اپنی طرف سے لگایا۔ شاہ جی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اَنسان کا جسم کمزور ہو تو اس کا دماغ بھی کمزور ہوتا ہے۔ ایسی قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی جو چینی اور گھی جیسی چیزیں استعمال کرتی ہو۔  پیدل چلنے کی عادت نہ رکھتی ہو اور مال و دولت سے مَحبّت کرتی ہو۔

ہم سب کو یہ مان لینا چاہیئے کہ کپتان سے زیادہ عرصہ کوئی مغرب میں نہیں رہا۔ یہ وہاں کی ہائی سوسائٹی میں موو کرتے رہے۔ یہ رات گئے تک ان محفلوں میں رہتے جہاں طبیعیات، فلسفہ، علم الابدان، مابعد الطبیعیات، مختلف ادویات کے انسانی ذہن پر اثرات اور رقص و نغمہ پر بات ہوتی ۔  یہ مغرب کے بڑے اذہان کے ساتھ انٹر ایکٹ کرتے۔ یہ ان کا مائنڈ پِک کرتے۔ ان کو شروع سے ہی یقین تھا کہ ایک دن انہیں اُمّہ کی قیادت سونپی جائے گی۔ یہ لڑکپن سے  ایک خواب تواتر سے دیکھ رہے تھے جس میں ایک نقاب پوش خاتون  انہیں سبز رنگ کا پرچم تھما کر ان کو ایک رنگ برنگا سکارف پہناتی ہیں جس کی چمک سے ان کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ اس خواب کی تعبیر جاننے کے لئے یہ ہر جگہ گئے لیکن کالا شاہ کاکو شریف کے مضافات میں حضرت جامن سائیں سرکار کے علاوہ کوئی اس رمز کو نہ سمجھ سکا۔ بابا جی نے فرمایا، پُتّر۔۔۔ تیاری پھڑ لے۔۔۔ دنیا دے فیصلے ہُن تُوں ای کرنے نیں۔۔۔

سالہا سال کی جانگسل جدوجہد کے بعد آخر کار کپتان نے اُمّہ کی قیادت سنبھال لی۔ یہ ایگزیکٹلی جانتے تھے کہ قوم کیسے بنتی ہے۔ اس کا کیا پروسیجر ہے۔ آپ پاکستانیوں کو دیکھ لیں۔ یہ کاہل ہیں۔ یہ سست ہیں۔ یہ موٹے بھی ہیں۔ یہ دنیا اور مال و دولت سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی روحانیت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ چائے میں چار چار چمچ چینی کے ڈال لیتے ہیں۔ یہ دال بھی پکائیں تو تڑکے میں آدھا کلو گھی ڈال لیتے ہیں۔ یہ نان چھولے کھانے جائیں تو گوگےسے اصرار کرتے ہیں، "پاء تھوڑی جئی تَری تے پَا۔"  یہ شوگر کے مریض ہیں۔ یہ بلڈ پریشر کے مریض بھی ہیں۔ یہ کمرے میں داخل ہوں تو پہلے ان کا پیٹ داخل ہوتا ہے۔ یہ اس کے دس سیکنڈ کے بعد اندر آتے ہیں۔  یہ گلی کی نکڑ پر دہی لینے بھی موٹر سائیکل پر جاتے ہیں۔ یہ کمرے سے واش روم تک چل کے جائیں تو ان کو کھَلّیاں پڑ جاتی ہیں۔ یہ ہر وقت موبائل پر چیٹیں کرتے ہیں۔ یہ پب جی  گیمیں بھی کھیلتے ہیں۔

کپتان نے چینی مہنگی کردی۔ گھی مہنگا کردیا۔ پٹرول مہنگا کردیا۔ جو بھی کاروبار کرتا ہے۔ دولت سے محبت کرتا ہے۔ اسے کرپٹ قرار دے دیا۔ اب آپ دیکھیں۔ لوگ چینی کھانا چھوڑ دیں گے۔ یہ گوگے سے تَری مانگنا بند کردیں گے۔ یہ موٹر سیکلیں بیچ کر ہر جگہ پیدل جائیں گے۔ ان کی شوگریں ٹھیک ہوجائیں گی۔ ان کے بلڈ پریشر نارمل ہوجائیں گے۔ دولت سے نفرت ان کے خون میں شامل ہوجائے گی۔ یہ روحانیت کی طرف مائل ہوجائیں گے۔ اس سے ان کے جسم صحت مند اور طاقتور ہوجائیں گے۔ یہ ایک دن میں چالیس چالیس کلومیٹر چلنا شروع کردیں گے۔ بسیں، ویگنیں، ٹرینیں بند ہوجائیں گی۔ پٹرول کی کھپت ختم ہوگی تو یہ پیسہ عوام کی تعلیم پر لگے گا۔ ماحول بہتر ہوجائے گا۔ سبّی ، ملتان، جیکب آباد میں برفیں پڑیں گی۔ موسم ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ لوگ خوبصورت، صحت مند اور توانا ہوں گے تو ان کے دماغ بھی چلنے لگیں گے۔ یہ ذہین بھی ہوجائیں گے۔ یہ نت نئی ایجادیں کرنے لگیں گے۔ یہ پوری دنیا کے لیڈر بن جائیں گے۔ دنیا کی تقدیر کے فیصلے پاکستان میں ہونے لگیں گے۔ دماغ طاقتور ہوگا تو لوگ ٹیلی پیتھی بھی سیکھ لیں گے۔ جنگیں ختم ہوجائیں گے۔ جو بھی اُمّہ کے خلاف سازش کا سوچے گا، ٹیلی پیتھی کے ذریعے ہمیں اس کا پہلے ہی پتہ چل جائے گا۔ ہم اس سازشی کو کلمہ پڑھنے پر مجبور کر دیں گے۔ آخر کار ایک  دن ایسا آئے گا کہ پوری دنیا مسلمان ہوگی اور ہر طرف امن و سلامتی اور خوشحالی ہوگی۔

یہ ایک دن کا کام نہیں ہے۔ یہ لانگ پروسیس ہے۔ ابھی پہلا فیز چل رہا ہے جسے دشمن مہنگائی کا نام دے رہے  ہیں۔ اس وقت اگر کپتان کی حمایت نہ کی گئی تو یہ سارا پروسیس یہیں ختم ہوجائے گا۔  یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر چینی سات سو پچاسی روپے کلو، گھی  اٹھارہ سو ستاون روپے پاؤ اور پٹرول 690 روپے لیٹر تک پہنچانے میں کپتان کی مدد کریں۔ اس وقت کپتان کو اکیلا چھوڑنے والا روزِ قیامت خدا کو کیا منہ دکھائے گا؟ 

وہ دن کہ جس کا وعدہ تھا

جولائی کی وہ رات بہت مشکل سے کٹی تھی۔ تپش، حبس اور مچھّر۔ جیسے تیسے صبح ہوئی تو وہ بڑی مشکل سے اٹھا۔ کمرے کے کونے میں پانی کی بالٹی دھری تھی، جس کی تہہ میں تھوڑا سا پانی باقی تھا۔ پچھلے ہفتے کی بارش میں اس نے بالٹی بھر لی تھی۔ اب پانی ختم ہونے کو تھا۔ اس نے بالٹی میں  ٹوٹے کنارے والا مگ ڈال کر تھوڑا سا پانی بھرا۔ ایک گھونٹ پیا، باقی پانی سے منہ صاف کرنے کی کوشش کی، جو زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔

وہ کل شام دربار کے لنگر سے چاول لایا تھا۔ جس میں چنے تو گنتی کے تھے، کنکر کافی تھے۔ تھوڑے سے چاول اس نے بچا کے رکھے تھے جو شاپر میں کھونٹی پر لٹک رہے تھے۔ زمین پر چیونٹیاں، کاکروچ  اور اکا دکا ٹڈّیاں بھی رینگتی پھر رہی تھیں۔ چاولوں کا شاپر اتار کر اس نے کھولا تو اس میں سے ہمک سی آرہی تھی۔ شاید گرمی کی وجہ سے خراب ہوگئے تھے۔ اس نے ہمک کو نظر انداز کرکے چاول کھانے شروع کر دئیے۔

دو تین دن سے وہ بخار میں پھنک رہا تھا۔ اسی حالت میں سارا دن گھومتا رہتا۔ جہاں کچھ کھانے کو ملتا، لائن میں لگ جاتا۔ سارا دن اسی میں گزرتا۔ رات کو اپنے کمرے میں واپس آتا۔ کئی دفعہ اس نے سوچا کہ کسی کھلی جگہ رات بسر کرلے لیکن کچھ عرصہ سے باغوں وغیرہ میں سونے والے غائب ہونے شروع ہوگئے تھے۔ کوڑے کے ڈھیروں پر ادھ نچی انسانی لاشیں بھی نظر آنے لگی تھیں۔ اسی ڈر سے وہ رات کو کمرے میں واپس آجاتا تھا۔

ہمت جمع کرکے وہ چپل پہن کے باہر گلی میں نکلا۔ گلی سنسان لگ رہی تھی۔ چند گھروں کے باہر عورتیں، بچے، بوڑھے بیٹھے تھے لیکن سب نڈھال اور ایسے چپ تھے جیسے کسی نے انہیں ہمیشہ کے لئے ڈرا دیا ہو۔  آہستہ آہستہ چلتا ہوا وہ بازار کی مرکزی سڑک تک پہنچ گیا تھا۔ سڑک ویران تھی۔ دکانیں بند اور ان کے سامنے ایسے گرد جمی تھی جیسے سالوں سے کسی نے ان کو کھولا نہ ہو۔ نہ کوئی کار، نہ کوئی ویگن، موٹر سائیکل۔ حتی کہ کوئی سائیکل بھی نظر نہیں آتی تھی۔ وہ تقریبا اپنے آپ کو گھسیٹتا ہوا چلتا رہا۔

شہر کے مرکزی اسپتال تک پہنچنے میں اس کو کافی وقت لگا۔ جولائی کی دوپہر قہر بن گئی تھی۔ پیاس اور بخار سے اس کا گلا خشک تھا۔ وہ اسپتال کے مرکزی دروازے کے سامنے پانی کی ٹینکی کے پاس گیا۔ ٹونٹیوں پر جما زنگ بتا رہا تھا کہ اس میں پانی بھرے ہوئے عرصہ گزر گیا۔ سٹیل کے گلاس جو زنجیر سے بندھے ہوتے تھے وہ بھی کوئی اتار کے لے گیا تھا۔

اسپتال کے اندر بھی اُلّو بول رہے تھے۔ نہ ڈاکٹر، نہ دوا۔ کھڑکیاں اکھڑی ہوئی ، دروازے ٹوٹے ہوئے۔ایمرجنسی وارڈ میں آوارہ کتّے  بھر رکھے تھے۔ کتّوں سے اسے بہت خوف آتا تھا۔ تقریبا بھاگتا ہوا وہ اسپتال سے باہر نکل آیا۔ نیم کے درخت کے نیچے ڈھیر ہوتے ہوئے اس نے سوچا کہ شاید بخار ہی اسے اس عذاب سے چھٹکارا دلائے گا۔ بیٹھے بیٹھے اسے ہوش نہ رہی۔کمزوری ، بخار اور جگ راتے کی وجہ سے وہ نیم بے ہوش سا ہو کر سو گیا۔ کتّے کے منہ چاٹنے کی وجہ سے اس کی آنکھ کھلی تو وہ چیخ مار کر بھاگ کھڑا ہوا۔ خوف ہر تکلیف سے نجات دے دیتا ہے۔بھاگتے ہوئے وہ کافی دور نکل آیا ۔ شام ، رات میں بدل رہی تھی۔ آج دوا کے چکر میں وہ دربار بھی نہیں جا سکا  تھا۔کچھ دور اسے آسمان پر روشنیوں کا عکس نظر آیا۔ یہ حیران کن تھا۔ بجلی اور دوسری شہری سہولیات مدّت سے منقطع ہو چکی تھیں۔ وہ  روشنی کی سمت تیزی سے بڑھنے لگا۔

کچھ قریب پہنچا تو اس پر کھلا کہ یہ تو شہر کا سب سے بڑا کھیل کا میدان ہے۔ اس کی تمام   روشنیاں جل رہی تھیں۔ وہ حیران ہو کر میدان میں داخل ہوا تو بہت بڑی ٹی وی سکرین پر کوئی کھیل دکھایا جا رہا تھا اور پسِ پردہ کوئی پُر درد سرائیکی لہجے میں گا رہا تھا۔۔۔

"اچھّے دن آئے ہیں۔۔۔۔"


وبا اور خدا

2018 کے موسم خزاں کا ذکر ہے۔ جرمنی کی کولون یونیورسٹی کے ترکی نژاد پروفیسر اوغر ساہین معمول کے مطابق صبح سویرے یونیورسٹی جانے کے لئے ٹرین میں سوار ہوئے۔ وہ شہر کے مضافات میں رہائش پذیر تھے اور ڈرائیو کرنے کی بجائے ٹرین پر جانا پسند کرتے تھے۔ اس دن خلاف معمول سفر کے دوران انہیں نیند آگئی۔ انہوں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ جب ان کی آنکھ کھلی تو ان کی منزل قریب تھی۔ وہ اترے اور دن کے معمولات میں مشغول ہوگئے۔

دو دن بعد ویک اینڈ کی رات انہیں پھر وہی خواب بعینہ نظر آیا۔ صبح اٹھ کر انہوں نے اپنی اہلیہ اوزلم طوریسی سے اس کا ذکر کیا جو خود بھی سائنسدان تھیں۔ روایتی بیویوں کی طرح انہوں نے پروفیسر اوغر کو کہا کہ زیادہ کام کرنے کی وجہ سے آپ تھکن کا شکار ہیں۔ ہو سکے تو چھٹیاں لے کر کسی پر فضا مقام پر چند دن گزار آئیں۔ پروفیسر صاحب کے دل کو یہ بات لگی۔

ایک ہفتے بعد دونوں میاں بیوی ترکی میں تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے مولانا رومؒ کے مزار پر حاضری دی۔ پروفیسر ساہین روحانیت سے بھی شغف رکھتے تھے اور مولانا رومؒ کی شاعری ان کو خاص طور پر پسند تھی۔ اسی دن رات کو وہی خواب پروفیسر ساہین نے دوبارہ دیکھا۔ صبح جب انہوں نے ڈاکٹر طوریسی سے اس کا ذکر کیا تو ان کا رنگ زرد تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے بھی وہی خواب دیکھا تھا!

خواب ایک گنجان آباد شہر سے شروع ہوتا ہے۔ شہر کے مرکز میں پروفیسر اوغر ساہین پیدل جا رہے ہیں اور پورا شہر ویران ہے۔ کوئی انسان، پرندہ، جانور نظر نہیں آتا۔ دکانیں کھلی ہیں۔ کاریں، بسیں، سڑکوں پر بغیر کسی انسان کے موجود ہیں۔ پروفیسر مسجد ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ عصر کی نماز پڑھ سکیں۔ بالآخر انہیں ایک مسجد نظر آتی ہے۔ وہ مسجد میں داخل ہوتے ہیں۔ مسجد میں امام کے مصلّے پر ایک بزرگ نماز پڑھ رہے ہیں۔ پروفیسر ساہین انتظار کرتے ہیں کہ وہ نماز ختم کریں تو ان سے شہر کی ویرانی کی وجہ دریافت کریں۔

بزرگ نماز ختم کرکے دعا کرتے ہیں اور پھر پروفیسر ساہین کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ سفید لباس، سبز پگڑی میں ملبوس، سرخ و سفید رنگ، سفید ڈاڑھی۔ اشارے سے پروفیسر کو پاس بلاتے ہیں۔ انکو پاس بٹھا کر ان کا ماتھا چومتے ہیں۔ پھر اپنا نام بتاتے ہیں۔

پروفیسر ان کا نام سنتے ہیں تو عقیدت سے بے اختیار ہو کر ان کے ہاتھ چومنا شروع کردیتے ہیں۔ بزرگ ان کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہیں اور پروفیسر ساہین سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ بیٹا کیا تم میرا ایک کام کرو گے؟ پروفیسر اشکبار آنکھوں سے اثبات میں سر ہلاتے ہیں۔ اس پر بزرگ بتاتے ہیں کہ اس شہر کی ویرانی کو دیکھ رہے ہو؟ اگر یہ کام نہ ہوا تو پوری دنیا ایسے ہی ویران ہو جائے گی۔ کوئی انسان باقی نہیں بچے گا۔ میرے بچّے! مجھے اسی کام کے لیے تمہارے پاس بھیجا گیا ہے۔ اب میری بات دھیان سے سنو۔

آج سے قریبا ایک سال بعد ایک وبا آئے گی۔ جو شہروں کے شہر ویران کر دے گی۔ اگر اس کا جلد علاج نہ ڈھونڈا گیا تو مخلوقِ خدا تڑپ تڑپ کر مر جائے گی۔ تم کو خدا نے ایک ایسا علم عطا کیا ہے جو اس بیماری کا علاج دریافت کر سکتا ہے۔ میرے بچّے، آج ہی سے اس پر کام شروع کر دو۔ یہ بیماری زکام اور نمونیہ کی بگڑی ہوئی شکل جیسی ہوگی جس پر کوئی بھی دوا اثر نہیں کرے گی۔ تم حفاظتی دوا بنانے کا علم سکھاتے ہو۔ تم دونوں میاں بیوی کو خدا کی طرف سے اس کام کے لیے چُنا گیا ہے۔ جاؤ، میرے بچّے۔ خدا تمہارا حامی و ناصر ہو۔

پروفیسر ساہین اور ڈاکٹر طوریسی دم بخود بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ بالآخر پروفیسر ساہین اٹھے اور سامان پیک کرنا شروع کردیا۔ اسی دن دونوں جرمنی واپس آگئے۔ اگلے دن سے ہی میاں بیوی اپنی لیبارٹری میں جُت گئے۔ مختلف کمبینیشن کے وائرس بنا کے ان کے اثرات کا جائزہ لیتے اور پھر ان کے لیے ویکسین تیار کرتے۔ یہ ایک طویل اور پر مشقت کام تھا۔ لیکن دونوں میاں بیوی صاحبِ ایمان تھے۔ ان کا یقین تھا کہ جو انہوں نے خواب میں دیکھا وہ بالآخر ہو کے رہے گا۔

2019 کے نومبر میں کورونا کے کیسز رپورٹ ہونے شروع ہوئے۔ پروفیسر ساہین اور ڈاکٹر طوریسی اس کے لیے تیار تھے۔ انہوں نے فورا حکومت سے رابطہ کیا اور کورونا مریضوں کے سیمپلز حاصل کرنے کی درخواست کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے چین، برطانیہ، امریکہ اور فرانس کے اعلی ترین ویکسین ماہرین کے ساتھ ایک میٹنگ ارینج کرنے کی درخواست بھی کی۔ یہ میٹنگ جنوری 2020 میں جنیوا میں ہوئی۔ تب تک کورونا مریضوں کے سیمپلز پر ریسرچ کرکے پروفیسر ساہین ویکسین کا پروٹو ٹائپ تیار کر چکے تھے۔

میٹنگ شروع ہوئی تو پروفیسر نے بلا کم و کاست تمام ماجرا کہہ سنایا۔ زیادہ تر ماہرین کے چہرے پر بے یقینی تھی۔ پروفیسر ساہین نے جب ویکسین کے پروٹو ٹائپ بارے بتایا تو سب حیران تھے کہ اتنی جلد ویکسین بنانا ممکن نہیں۔ پروفیسر نے بتایا کہ وہ تقریبا سوا سال سے اس پر کام کر رہے ہیں۔ اس لیے وائرس کا سیمپل ملتے ہی انہوں نے تھوڑی تبدیلیوں کے ساتھ ابتدائی ویکسین تیار کرلی ہے اور وہ اس پر مزید ڈیٹا ملنے کے ساتھ بہتری لاتے جائیں گے۔ پروفیسر ساہین نے تمام ماہرین پر زور دیا کہ وہ آج سے ہی اپنی ویکسینز پر کام شروع کردیں۔ انہوں نے پچھلی سوا سال کی ریسرچ اور اس کے نتائج سب کے ساتھ شئیر کیے اور کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ مخلوقِ خدا کو بچانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

جنوری 2020 کے بعد کی داستان ساری دنیا کو ازبر ہے۔ خوف، موت، وبا، بھوک اور بے روزگاری۔ ساری دنیا پر خوف کا سایہ تھا۔ بالآخر سال کے اختتام تک چینی، برطانوی، امریکی اور جرمن ویکسینز بن چکی تھیں۔ ان کے ٹرائلز ہو چکے تھے اور وہ استعمال کے لیے تیار تھیں۔
بہت حیران کن بات یہ تھی کہ زیادہ تر ویکیسنز پر کام کرنے والے ماہرین پچھلے سال کے آخر تک اسلام قبول کر چکے تھے۔ پروفیسر ساہین اور ڈاکٹر طوریسی کی کہانی حرف بہ حرف سچ ثابت ہونے کے بعد اسلام کی حقانیت ان پر واضح ہوئی اور حق تعالٰی نے ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی بھر دی۔

عجیب بات یہ تھی کہ پوری دنیا میں سازشی تھیوریز کے ذریعے ویکسین کا  کریڈٹ کبھی بل گیٹس کو دیا جاتا اور کبھی اسے کفار کی سازش کہا جاتا۔ حالانکہ یہ رب تعالٰی کی اپنی مخلوق سے محبّت تھی جس نے پروفیسر اوغر ساہین اور ڈاکٹر اوزلم طوریسی کے ذریعے بیماری کا علاج اپنے بندوں تک پہنچایا۔

ویکسین لگوانا حکمِ الہیٰ ہے۔ اگر کوئی اس کو سازش کہتا ہے تو وہ خدا کا نافرمان اور بزرگانِ دین کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔ بطور مسلمان ہم سب پر فرض ہے کہ ویکسین لگوائیں اور خدا کے پسندیدہ اور فرماں بردار بندوں میں سے ہوجائیں۔ 

الفت کے تقاضے

 "چلیں اب اٹھ جائیں۔ دیر نہ ہوجائے۔" فرشتہ صورت خاتون نے  سوئے ہوئے وجیہہ شخص کے گھنے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے آہستگی سےکہا۔

"بس دس منٹ  اور۔" دھیمی سی ہَسکی آواز میں ہینڈسم نے کہا اور خاتون کا ہاتھ تھام کے دھیرے سے اسے چوما۔ خاتون شرما گئیں۔ دوپٹہ دانتوں میں لے کر ہولے سے مسکرائیں۔ ہاتھ چھڑا کر خوابگاہ کی اطالوی کھڑکیوں کے پردے سمیٹ دئیے۔ صبح کی نرم روشنی پورے کمرے میں پھیل گئی۔ باہر کا نظارہ دلکش تھا۔ سبزہ، پہاڑ، پرندے، پھول۔ خاتون منظر میں کھو سی گئیں۔ ہینڈسم آہستگی سے اٹھے۔ سلیپنگ گاؤن کی ڈوریاں باندھتے ہوئے دھیرے سے خاتون کو مضبوط بازوؤں میں سمیٹ کر ان کے نقرئی گال کو چوم لیا۔ خاتون کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھر بکھر گئے۔ کسمسا کر وجیہہ کے فراخ سینے میں چھپ سی گئیں۔ہینڈسم کے چہرے پر ملکوتی سکون اور محبت ہلکورے لے رہی تھی۔

سورج اپنی ضیاء پاشیوں کے ساتھ نمودار ہو رہا تھا۔ وجیہہ جدید فرنچ طرز کے غسل خانے میں داخل ہوئے۔ باتھ ٹب کو نیم گرم پانی سے بھرنا شروع کیا۔ اس میں شنیل کاباتھ آئل، ارمانی کا سُودنگ پرفیوم ملایا۔ الیکٹرک ٹوتھ برش سے دانت صاف کرتے ہوئے آئینے میں خود کو دیکھا تو خود ہی شرما سے گئے۔ کیبنٹ سے خاتون کا مسکارا لے کر ماتھے پر ٹیکا لگایا کہ خود کی نظر ہی نہ لگ جائے۔ دانت صاف کرتے کرتے ٹب بھر چکا تھا۔ وجیہہ نے سلیپنگ سوٹ اتارا۔ تنو مند بازو اور ابھرا ہوا مضبوط سینہ دیکھ کر بے ساختہ سبحان اللہ پڑھ کر باتھ ٹب میں آہستگی سے نیم درا ز ہوگئے۔

نیم گرم خوشبودار خوشگوار پانی نے جیسے جسم سے تھکن نچوڑ کر توانائی بھردی ہو۔ باتھ ٹب کی سائیڈ پر مختلف بٹن لگے تھے۔  وجیہہ نے ایک بٹن دبایا تو غسل خانے میں نصرت کی مسحورکن آواز گونجنے لگی۔۔۔ تم اک گورکھ دھندہ ہو۔۔۔

ہینڈسم باتھ ٹب کی خوشگواریت اور نصرت کے سحر میں ایسا کھوئے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہا۔ ان کا سحر خاتون نے آکر توڑا۔ سٹیریو کو آف کرکے انہوں نے ذرا ناراضگی سے ہینڈسم کی طرف دیکھا اور  محبت سے بولیں، "اتنی دیر؟ آپ کو کہا بھی تھا کہ جلدی کریں ورنہ تاخیر ہو جائے گی۔" ہینڈسم نے خاتون کو دیکھا تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ سوموار کی سہانی صبح، خوشبو سے معطر فضا اور خاتون کا بے پناہ حسن۔ اشارے سے ان کو باتھ ٹب میں آنے کا کہا۔ خاتون نے انگلی سے ناں کا اشارہ کیا ۔ پھر انگلی سے ہی باتھ ٹب سے نکلنے کا اشارہ کرکے غسل خانے سے باہر چلی گئیں۔

غسل سے فارغ ہو کر وجیہہ ڈائننگ روم میں آئے تو میز پر ناشتہ لگ چکا تھا۔ ابلے دیسی انڈے،شہد، دودھ، دہی، پھل، خشک میوے، بھنے ہوئے پرندے، دیسی گھی کےپراٹھے، پنیر، چِیز آملیٹ، چنے، نان، سوجی کا حلوہ، کافی، چائے، فاؤنٹین واٹر۔ دنیا کی ہر نعمت میز پر سجی تھی۔ ہینڈسم ، خاتون کے پہلو میں جا کر بیٹھ گئے۔ ان کا ہاتھ تھام کر چوما اور ناشتہ شروع کیا۔ ناشتے سے فراغت کے بعد تیار ہونے کے لئے ڈریسنگ روم میں گئے۔ گہرے نیلے رنگ کی شلوار قمیص، ہلکے نیلے رنگ کا ویسٹ کوٹ۔ گرے رنگ کی پشاوری چپّل۔ ورساچی کا پرفیوم۔ بلیک رے بان گلاسز۔دائیں  ہاتھ میں زمرد کے دانوں کی تسبیح۔

 وجیہہ تیار ہو کر ڈریسنگ روم سے نکلے تو خاتون انہیں دیکھتے ہی بے خود ہوگئیں۔ اتنی وجاہت، اتنا حسن۔ان کو اشارے سے رکنے کا کہا۔ ان کے پاس جا کر منہ میں کچھ بدبدا کر پڑھا اور ان کے چہرے پر پھونک ماری۔ پھر انہیں ذرا جھکنے کا کہا اور ان کا ماتھا چوم کر بولیں۔ "جائیں، اللہ کے حوالے۔"

وجیہہ پورچ میں نکلے تو سارا سٹاف تیار تھا۔ پورچ کی سیڑھیاں اترتے ہوئے ذرا ٹھٹھکے اور آسمان کی طرف بے نیازی سے دیکھا۔ فوٹو گرافر تیار تھے۔ چند سیکنڈز میں بے شمار کلکس ہوئے۔ فوٹوگرافرز نے اوکے کا اشارہ کیا تو ہینڈسم پورچ میں آکر سب سے سلام دعا کرنے لگے۔ فوٹو گرافرز ایک ایک لمحے کو قید کر رہے تھے۔ مسکراتے ہوئے، سٹاف سے خیر خیریت پوچھتے ہوئے، تسبیح گھماتے ہوئے، استغراق کے عالم میں، سٹاف کے درمیان راہداریوں میں چلتے ہوئے، چلتے چلتے پہاڑوں کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔

یہ ساری مشق تقریبا ایک گھنٹہ جاری رہی۔ فوٹوگرافرز نے کام ختم ہونے کا اشارہ کیا تو وجیہہ نے طویل سانس لے کر گالف کارٹ لانے کا اشارہ کیا۔ اس میں سوار ہوئے اور رہائش گاہ کی طرف  روانہ ہوگئے۔ پورچ میں خاتون انتظار کر رہی تھیں۔ بے تابی سے ان کی طرف لپکے۔ ان کا ہاتھ تھام کر چوما اور شتابی سے رہائش گاہ میں داخل ہوئے۔ ویسٹ کوٹ اتار کر لیونگ روم کی کاؤچ پر پھینکی اور خواب گاہ میں داخل ہوئے۔ پردے کھینچے۔ بستر پر گرتے  ہی آنکھیں موند یں اور مسکرا کر خود کلامی کی، "بس اب  میں تھک گئی۔"

محبّتاں سچّیاں

جِیلے کا باپ چودھری کا مزارعہ تھا۔ شناختی کارڈ پر نام تو محمد رفیق تھا لیکن آخری دفعہ مولوی صاحب نے نکاح پڑھاتے وقت یہ نام لیا تھا اور اس وقوعے کو بھی طویل عرصہ گزر چکا تھا۔ سب اس کو فیکا ہی کہتے تھے سوائے جِیلے کی ماں کے جو اسے جِیلے دے ابّا کہہ کر بلاتی تھی۔ جِیلے کی پیدائشی پرچی پر بھی اس کا نام محمد جلیل ہی تھا لیکن سب کے لئے وہ جِیلا تھا۔ جِیلے کے پیدائش کے وقت زچگی کے دوران پیچیدگی ہوگئی تھی اور فیکے کی بیوی اس کے بعد ماں نہیں بن سکی تھی۔ اس طرح جِیلا اکلوتا ہی رہا۔ فیکا تھا تو مزارعہ لیکن اس نے جِیلے کو چودھریوں کے بچوں کی طرح پالا تھا۔ لاڈ پیار میں پڑھائی بھی نہیں کرسکا۔ فرمائش اس کی منہ سے نکلنے سے پہلے پوری ہوتی تھی۔ جِیلا سارا دن کبھی کھُوہ پر اور کبھی کسی ڈیرے پر گپیں مارتے دن گزار دیتا تھا۔ نوجوانی میں قدم رکھا تو زیادہ تر وقت کھُوہ کے اردگرد گھومتے ہی گزرنے لگا۔ پنڈ سے عورتیں پانی بھرنے آتیں تو ان سے ہنسی مذاق چلتا رہتا۔ اچھی خوراک، نہ کام نہ کاج۔ چٹّا سفید کرتا اور چوخانے کا تہبند باندھے، بالوں میں خوشبودار تیل لگا کے بائیں طرف سے مانگ نکالے، آنکھوں میں سُرمے کی ہلکی سلائیاں لگائے جِیلا، کتووال کا چودھری ہی لگتا تھا۔

بانو عرف بَنتو منشی طفیل کی منجھلی بیٹی تھی۔ ہفتے میں دو دن کھوہ پر پانی بھرنے کی باری اس کی ہوتی تھی۔ جِیلے سے آںکھیں چار ہوئیں تو وہ روزانہ پانی بھرنے آںے لگی۔ اکھ مٹکّے سے بات بڑھتی ہوئی ملاقاتوں اور قول قرار تک پہنچی۔ ایک دوسرے کے بغیر نہ جینے کے وعدے ہوئے۔ بچّوں کے نام سوچے گئے۔ عشق، مُشک اور کھنگ چھپائے نہیں چھپتے۔ یہ بات بھی سرگوشیوں سے ہوتی ہوئی چوپالوں کا موضوع بن گئی۔ فیکے کو بھنک ملی تو اس نے زندگی میں پہلی بار جِیلے کو گھُرکا۔ اسے سمجھایا کہ پُتّر جو بھی ہوجائے ہم مزارعے ہیں، کمّی ہیں۔ منشی کبھی ہم سے رشتہ داری نہیں کرے گا۔ بنتو کا خیال دل سے نکال دے۔ میں تیری شادی تیری پھپھّی ذکیہ کی دھی نسرین سے کر دوں گا۔ ماشاءاللہ بہت سوہنی کڑی ہے۔

عشق بھی لیکن کھُرک کی طرح ہوتا ہے۔ جتنی کھُرک کرو، اتنی ہی بے چینی ہوتی ہے۔ جِیلے نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ دو دو دن کپڑے نہیں بدلتا تھا۔ برے حال اور بانکے دیہاڑے۔ منشی کو بھی اس احوال کا پتہ چل گیا تھا۔ اس نے جھٹ پٹ بنتو کی شادی ملکوال میں اپنے چھوٹے بھائی کے بیٹے سے طے کردی۔ شوّال کے دوسرے ہفتے برات آنی تھی۔ برات سے دو دن پہلے بنتو نے جِیلے کو پیغام بھیجا کہ آخری دفعہ مل جاؤ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی جِیلا رات کو کھوہ سے متصل کماد میں پہنچ گیا۔ بنتو وہاں اس کا انتظار کر رہی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر گم آواز میں روتے رہے۔

جانے سے پہلے جِیلے نے بنتو سے کہا، "اپنی کوئی ایسی نشانی دو کہ میں ہر وقت اسے اپنے دل سے لگا کر رکھوں۔" بنتو نے تھوڑی دیر سوچا، پھر دایاں ہاتھ اپنے کرتے کے گریبان میں ڈالا۔ بائیں بغل سے ایک بال نوچا، اسے رومال میں لپیٹا اور جِیلے کو دے دیا۔ جِیلے نے رومال کی احتیاط سے تہہ لگائی۔ اسے چوما، آنکھوں سے لگایا اور اپنے کھیسے میں ڈال لیا۔ یہ بنتو اور جِیلے کی آخری ملاقات تھی۔

بنتو کی شادی ہوگئی۔ وہ ملکوال چلی گئی۔ شادی کے ایک ہفتے بعد جِیلے نے وہ رومال نکالا اور اسے فیجےسنیارے کے پاس لے گیا۔ فیجے نے پوچھا، پُتّر خیر تو ہے، سویرے سویرے کدھر؟۔ جِیلے نے کھیسے سے رومال نکالا، احتیاط سے اس کی تہہ کھولی اور بال نکال کر چوما اور فیجے سے کہا، "چاچا، اس بال کو سونے کے تعویذ میں مڑھ دے۔ جتنے پیسے لگیں گے میں دوں گا۔"  فیجے نے حیرانی سے پوچھا، یہ کس کا بال ہے؟ جِیلےکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بولا، "چاچا یہ مت پوچھ۔" فیجا خاموش ہوگیا۔

اگلے ہفتے جِیلا تعویذ لینے فیجے سنیارے کے پاس پہنچا۔ فیجے نے دونوں ہاتھ سے تعویذ تھاما، چُوما، آنکھوں کو لگایا اور جِیلے کو دے دیا۔ جِیلا حیران ہوگیا۔ فیجا بولا، پُتّر اب تو بتا دے کہ یہ بال کس کا ہے؟۔ جِیلا رُندھی ہوئی آواز میں بولا، "چاچا یہ بنتو کی بغل کا بال ہے۔ اس نے جاتے ہوئے مجھے یہ آخری نشانی دی تھی۔ اب یہ تعویذ ساری زندگی میرے دل کے ساتھ لگا رہے گا۔"

یہ سنتے ہی فیجے کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ اس نے جوتا اتارا اور بے دریغ جِیلے کو پیٹنا شروع کردیا۔ گلی میں ہاہاکار مچ گئی۔ لوگ اکٹھے ہوگئے۔ فیجے کو پکڑنے کی لوگوں نے بہت کوشش کی لیکن وہ اڑ اڑ کر جِیلے کو پیٹتا رہا اور ماں بہن کی گالیاں دیتا رہا۔ بالآخر تھک ہار کر ہانپتا ہوا، تھڑے پر بیٹھ گیا۔ چاچے کرمے نے لسّی کا گلاس منگوایا۔ فیجے کو دیا۔ فیجے نے لسّی کا گلاس خالی کرکے چھڈواں جِیلے کو دے مارا۔ اس کے سر سے خون بہہ نکلا۔ چاچے کرمے نے فیجے کے کندھے تھامے اور بولا، او کچھ بول تو سہی، اس نمانڑے نے تجھے کہا کیا ہے؟۔

"اس ٭٭٭٭ ٭٭٭ نے ایک بال لا کر دیا کہ تعویذ میں مڑھ دے۔ میرے پوچھنے پر بھی نہیں بتایا کہ کس کا ہے۔ میں سمجھا کسی بزرگ کا ہے۔ میں پورا ہفتہ وہ بال پانی میں گھول گھول کر خود اور اپنے گھر والوں کو پلاتا رہا کہ کسی کرنی والے بزرگ کا بال ہے، برکت اور صحت ہوگی۔ آج اس انہّی دے نے بتایا کہ بنتو کی بغل کا بال تھا۔"

فیجے سنیارے کے چہرے پر بے چارگی اور تاسّف تھا۔

شطرنج کے کھلاڑی

ماہا گلریز نے ادائے بے نیازی سے سنہری بال جھٹکے اور نئے ماڈل کی سیاہ آؤڈی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔کیمبرج کا موسم خون جما دینے والا تھا۔ نیلی جینز، کالی ٹرٹل نیک اور ڈارک براؤن اوور کوٹ میں ملبوس ماہا گلریز، حسن کا آخری سٹاپ لگ رہی تھی۔ سرخ و سفید رنگت، شہد جیسے بال، نیلی آنکھیں، ستواں ناک، ترشے ہوئے بھرے بھرے ہونٹ۔۔۔

ماہا کا آج ہارورڈ یونیورسٹی میں پہلا دن تھا۔ وہ سرکاری سکالر شپ پر ہارورڈ یونیورسٹی کے لئے منتخب ہوئی۔ اس کے ابّا گلریز جیلانی بہت اہم اور طاقتور شخصیت تھے۔ ماہا کی ابتدائی تعلیم کانوینٹ میں ہوئی۔ اعلی ترین تعلیمی اداروں سے ہوتی ہوئی ماہا آج دنیا کے معتبر ترین تعلیمی ادارے میں پہنچی تھی۔ ماہا کا نصابی اور غیر نصابی ریکارڈ شاندار تھا۔ ٹینس کی بہترین کھلاڑی ہونے کے علاوہ اسے گانے سے دلچسپی تھی۔وہ جب لمز میں پڑھتی تھی تو ایک میوزک بینڈ کی لِیڈ سنگر بھی تھی۔ بینڈ کا نام "ٹوائیلائٹ ریوولیوشن" تھا۔ اس بینڈ کے تین چار گانے بہت مشہور ہوئے۔ فارم ہاؤسز کی پارٹیز میں اکثر ڈی جے وہی گانے چلاتے تھے۔ "شیزان سٹوڈیو" کے کمیل صفات نے بہت اصرار سے سیزن 37 میں ماہا کو پرفارم کرنے پر راضی کیا تھا۔ آج بھی وہ نمبرز شیزان سٹوڈیو کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے گانے ہیں۔ موسیقی ماہا کی ترجیحات میں اتنی اہم نہیں تھی۔ اسی لئے ماسٹرز کرنے کے بعد ماہا نے ہارورڈ کا قصد کیا۔ سکالر شپ حاصل کرنا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ گلریز نام ہی کھل جا سم سم کا درجہ رکھتا تھا۔

 ماہا کو فلسفے سے گہرا شغف تھا۔ سماجی رویّے اور ان کے مضمرات پر اس کے پیپرز بین الاقوامی جریدوں میں شائع ہوتے رہتے تھے۔ ماہا زندگی میں کچھ ایسا کرنا چاہتی تھی جو عام لوگوں کے سماجی رویّوں میں تبدیلی لا کر انہیں بہتر زندگی فراہم کرسکے۔ ماہا کے ڈاکٹریٹ کا موضوع بھی "ڈیماکریسی، سوشل ویلفئیر اینڈ چینج" تھا۔اس کا ہدف پی ایچ ڈی کے بعد وطن واپس جا کر ایک تنظیم بنا کر سماجی بہتری کے لئے جدوجہد کرنا تھا۔ دنیا میں پھیلی غربت اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے المیے اسے بے چین رکھتے تھے۔ اس بے چینی کو وہ کہانیوں میں پرو دیتی تھی۔ یہ مختصر کہانیاں مقبول عام جریدوں آنچل، کرن، شعاع، آداب عرض، پاکیزہ وغیرہ میں تواتر سے شائع ہوتی تھیں۔ ان کہانیوں کے دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم بھی ہوچکے تھے اور دنیا بھر میں ماہا ایک حساس لکھاری کے طور پر جانی جاتی تھی۔

ماہا بچپن سے ہی یورپ، امریکہ، کیریبئین اور جنوبی امریکہ جاتی رہتی تھی۔ امریکہ اس کے لئے نیا نہیں تھا لیکن ہارورڈ ایک الگ ہی دنیا تھی۔ دنیا کے بہترین دماغ انسانی مسائل کی وجوہات اور ان کا حل تلاش کرنے میں دن رات جتے رہتے۔ لائبریری ہمیشہ آباد رہتی۔ ماہا کے دن رات پڑھائی میں گزرنے لگے۔ موسیقی، لکھنا، دوستوں سے میل ملاپ بہت کم ہوچکا تھا۔ کرسمس کی چھٹیوں میں ماہا گھر نہیں گئی بلکہ بچپن کی دوست زلیخا کریم کے ساتھ بوسٹن میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ زلیخا کے والد پولو کے بہترین کھلاڑی تھے۔ کریم نوشاد کا نام پولو کے ہال آف فیم میں تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ بوسٹن منتقل ہوچکے تھے اور اپنی یادداشتیں قلمبند کر رہے تھے۔

کرسمس ڈنر پر کریم نوشاد نے ایک خاص مہمان کو مدعو کیا تھا۔ دراز قامت، گٹھا ہوا بدن، گہری تفکّر میں ڈوبی ذہانت بھری آنکھیں، ادھیڑ عمری کی سرحد کو چھوتی جوانی، بارعب اور دھیمی آواز۔ یہ شطرنج کے فاتحِ عالم انعامِ الٰہی تھے۔ کریم صاحب نے ان کا تعارف ماہا سے کراتے ہوئے بتایا کہ انعام سے ان کا تعلق بہت پرانا ہے۔ کریم صاحب نے قہقہہ لگا کر بتایا کہ جمخانہ کلب میں اکثر ان سے شطرنج کی بازی رہتی تھی اور دو تین منٹ سے زیادہ نہیں چلتی تھی۔ انعامِ الٰہی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ ماہا کو انعامِ الٰہی کی شخصیت نے اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ ان میں کچھ ایسی بات تھی جو ماہا نے اپنی زندگی میں کم ہی کسی میں دیکھی۔ ایک مقناطیسی کشش جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ماہا نے ان سے پوچھا کہ آپ زیادہ مشہور نہیں، اس کی کیا وجہ ہے۔ انعامِ الٰہی نے بغور ماہا کی آنکھوں میں جھانکا اور بولے، لوگ ذہانت سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ ان کو ایسے لوگ اور کھیل پسند نہیں آتے جن کا جوہر ذہانت ہو۔ انعامِ الٰہی کی نگاہ میں کچھ ایسا تھا کہ ماہا کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھر بکھر گئے۔

ڈنر کے بعد لیونگ روم میں ڈرنکس کا دور چلا۔ سیاست، سماج، لٹریچر، کھیل، صوفی ازم سب پر سَیر حاصل گفتگو ہوئی۔ انعامِ الٰہی دھیمی آواز میں ہر موضوع پر ایسا نکتہ نکالتے کہ سب انگشت بدنداں ہوجاتے۔ رات بھیگ چلی تھی۔ انعامِ الٰہی نے رخصت کی اجازت چاہی۔ ماہا کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ کچھ دیر اور ٹھہرتے لیکن یہ کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔ انعامِ الٰہی کے جانے کے بعد ماہا نے زلیخا کو تنہائی میں جا پکڑا اور انعامِ الٰہی کا وٹس ایپ مانگا۔ زلیخا کے چہرے پر شرارت تھی۔ اس نے کہا کہ وٹس ایپ تو میں دے دوں گی لیکن انعامِ الٰہی بالکل سرد پتھر ہیں۔ ان کو توڑنا یا پگھلانا ممکن نہیں۔ ماہا نے ایک ادا سے شانے جھٹکے اور بولی، میرا نشانہ بھائی ساب، دیکھے زمانہ بھائی ساب، تیر پہ تیر چلے بھائی ساب، بچ کے نہ کوئی جائے۔۔۔۔ دونوں سہیلیاں کھلکھلا کے ہنس پڑیں۔

ماہا اور انعامِ الٰہی کے مابین مستقل رابطہ قائم ہوگیا۔ بالمشافہ ملاقات ممکن نہیں تھی کہ ماہا پڑھائی کا حرج نہیں چاہتی تھی اور انعامِ الٰہی لاس ویگاس کے ایک کیسینو میں پارٹنر تھے۔ ماہا کے لئے اتنی دور جانا ممکن نہیں تھا اور انعامِ الٰہی کو یہ کہتے ہوئے اسے لجا آتی تھی کہ آکےمجھ سے مل جائیں۔ روحوں کا ملن ہو چکا تھا، بدنوں کا باقی تھا۔ پہلے سمسٹر کے اختتام پر ایک ہفتہ کی چھٹیاں تھیں۔ ماہا نے فورا لاس ویگاس جانے کا فیصلہ کیا۔ انعامِ الٰہی کو پتہ چلا تو انہوں نے کہا کہ تمہیں آنے کی ضرورت نہیں، میں خود آرہا ہوں۔ یہ سات دن ماہا کی زندگی کے رنگین ترین دن تھے۔ دن رات جاگتے سوتے گزرے۔ زمان و مکان جیسے تھم چکے تھے۔

ماہا اور انعامِ الٰہی دو جسم ایک جان ہو چکے تھے۔ ماہا نے پاپا کو بھی انعامِ الٰہی کے بارے بتا دیا تھا۔ ماہا نے پاپا کو ان کے نظریات، لائحہ عمل اور مقصد سے وابستگی کے بارے تفصیل سے بریف کیا تھا۔ ماہا نے کہا کہ ڈاکٹریٹ مکمل ہوتے ہی وہ وطن واپس آئے گی اور انعامِ الٰہی کے ساتھ مل کر اپنی تنظیم چلائے گی تاکہ سماجی انقلاب کا جو خواب اس نے برسوں پہلے دیکھا تھا اس کو عملی جامہ پہنا سکے۔ انعامِ الٰہی کی کرشماتی شخصیت اس تنظیم کو وہ عوامی حمایت دے سکتی تھی جو اس مقصد کے حصول میں مددگار ثابت ہوتی۔

ماہا گلریز نے کامیابی سے اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ وطن واپس آنے سے پہلے اس نے انعامِ الٰہی سے وعدہ لیا کہ وہ پہلی فرصت میں سب کچھ سمیٹ کر اس کے پاس آجائیں گے۔ دو مہینے کے اندر ہی انعامِ الٰہی وطن لوٹ آئے۔ ماہا نے انہیں گیسٹ بیڈ روم میں ٹھہرایا۔ پاپا سے ان کی ملاقات ہوئی تو وہ بہت متاثر ہوئے۔ مسز گلریز ان دنوں ایک سرکاری وفد کے ساتھ یورپ کے مطالعاتی دورے پر تھیں۔ ڈنر کے بعد رات دیر تک گلریز جیلانی اور انعامِ الٰہی گپ شپ کرتے۔ گلریز صاحب ان کے علم، وژن اور شخصیت سے مرعوب کن حد تک متاثر ہوچکے تھے۔ ان کے منصوبے ایسے تھے جو اس سماج کی حالت بدل دینے پر قادر تھے۔ انعامِ الٰہی کی شخصیت کا کرشمہ، ان کی خودداری، پاکیزہ کردار نے گلریز صاحب کو قائل کردیا کہ انعامِ الٰہی، ماہا کے پراجیکٹ کے لئے مناسب ترین شخص ہیں۔

گلریز صاحب نے اپنے ذرائع سے پتہ کرایا تو انعامِ الٰہی بارے بڑی عجیب باتیں پتہ چلیں۔ وہ کیسینو کے پارٹنر نہیں تھے بلکہ وہاں ملازمت کرتے تھے۔کیسینو کے صارفین کے ساتھ شطرنج کھیلتے تھے اور سیلفیز بنواتے تھے، تنخواہ تو معمولی تھی لیکن ٹپس مل جاتی تھیں اور کھانا پینا مفت تھا۔ عورتوں سے رغبت کی بھی بہت کہانیاں سامنے آئیں۔ ڈرنک کرنا تو معیوب بات نہیں تھی لیکن اس کے علاوہ بھی نشے کی بہت سی اقسام میں ان کی دلچسپی کا علم ہوا۔ اس سب کے باوجود گلریز جیلانی کو یقین تھا کہ ماہا کی پسند غلط ثابت نہیں ہوسکتی۔

دن گزرتے گئے۔ انعامِ الٰہی گیسٹ روم کے مستقل مکین بن گئے۔ مسز نائلہ گلریز بھی دورے سے واپس آچکی تھیں۔ وہ بھی دو دن میں انعامِ الٰہی کی گرویدہ ہوگئیں۔ گلریز جیلانی کی مصروفیات اتنی تھیں کہ رات ڈھلے گھر آتے۔ ایک سہانی سوموار کسی وجہ سے ان کی آخری دو میٹنگز منسوخ ہوگئیں۔ کلب جانے کے بجائے انہوں نے سوچا کہ آج جلدی گھر جائیں اور تھوڑا آرام کریں۔ ان کی گاڑی پورچ میں رکی تو پائیں باغ کے پہلو میں انہوں نے باورچی اور مالی کو گیسٹ روم کی کھڑکی کے پاس کھڑے دیکھا۔ صاحب کو آتے دیکھ کر دونوں دائیں بائیں ہوگئے۔ تجسس سے مجبور ہو کر گلریز جیلانی گیسٹ روم کی کھڑکی کے پاس گئے اور جھانکا تو ان کی رگوں میں لہو جم گیا۔

انعامِ الٰہی اور ماہا دنیا و مافیہا سے بے خبر ایک دوسرے میں گم تھے۔ ملازم بھی اس مفت کے ہوم میڈ کلپ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ گلریز جیلانی طیش کے عالم میں پلٹے، کار کے ڈیش بورڈ سے گن نکالی اور گھر کے اندر لپکے۔ مسز گلریز لیونگ روم میں زنیرہ احمد کا ڈرامہ دیکھ رہی تھیں۔ گلریز کو اس عالم میں دیکھ کر پریشان ہوگئیں۔ گلریز صاحب کو بازو سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا۔ ڈرنک بنا کے دی۔ دوسری ڈرنک کے بعد گلریز صاحب نے پوری صورتحال بیان کی۔ غصّے سے ان کا جسم پتّے کی طرح لرز رہا تھا۔ مسز گلریز نے گلریز جیلانی کے گلے میں بانہیں ڈالیں، پیار سے ان کو بھینچا اور بولیں، "ڈارلنگ! جو بھی ہے، کم سے کم انعامِ الٰہی قورپٹ تو نہیں ہے ناں!!"

گلریز جیلانی کو نائلہ سے ایک مانوس سے پرفیوم کی خوشبو آئی۔ ان کے دماغ میں ایک جھماکہ سا ہوا۔ یہ انعامِ الٰہی کا پسندیدہ پرفیوم تھا۔ انہوں نے سائیڈ ٹیبل سے گن اٹھائی۔ مسز گلریز کا ماتھا چوم کے کہا، "گڈ بائی، ڈارلنگ۔۔۔ تمہیں یہ نہیں کرنا چاہئیے تھا۔۔۔" اور مسز گلریز کی کنپٹی پر گولی مار دی۔

ان کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔ ان کا وجود مجسم طیش بن چکا تھا۔ انہوں نے مسز گلریز کو پرے ہٹایا اور طوفان کی طرح گیسٹ روم کی طرف لپکے!۔


گُجّر، ملک اور زہریہ ٹاؤن

آپ قدرت جاوید کو دیکھ لیں۔ آپ امجد کامرانی کو دیکھ لیں۔ آپ رفعت حسین کو دیکھ لیں۔ آپ سمیع اللہ خان کو دیکھ لیں۔ یہ خود کو پھنّے خاں سمجھتے تھے۔ یہ کہتے تھے ہم اصلی صحافی ہیں۔ یہ لوگوں سے بدتمیزیاں کرتے تھے۔ یہ الٹے سیدھے سوال پوچھتے تھے۔ یہ رُوڈ بھی تھے اور ایروگنٹ بھی۔ یہ سیلف رائیچیس بھی تھے اور ان کمپیٹنٹ بھی۔ یہ نیوز پیپرز میں کالم بھی لکھتے تھے۔ یہ چینلز پر ٹاک شو بھی کرتے تھے۔ کوئی ان کے کالم رِیڈ نہیں کرتا تھا۔ ان کے شوز کی ریٹنگ بھی پُوور ہوتی تھی۔ مگر یہ سیلف کرئیٹڈ ہائیپ کی وجہ سے بڑے صحافی کہلاتے تھے۔ آج یہ یو ٹیوب پر سَفر کرتے ہیں۔ کوئی نیوز پیپر ان کو پبلش کرنے پر تیار نہیں۔ یہ چینلز کے ترلے کرتے ہیں۔ یہ اپنا شو چلوانا چاہتے ہیں۔ چینلز والے ان کو گراس نہیں ڈالتے۔ یہ بِٹرّ ہو چکے ہیں۔ یہ کانسپریسی تھیوریز بناتے ہیں۔ یہ اداروں کے اگینسٹ نیریٹو بناتے ہیں۔ یہ اینیمز کے ہاتھوں میں پلے ہو رہے ہیں۔

یہ جیلس بھی ہو چکے ہیں۔ یہ فیمس جرنلسٹس اور اینکرز کے جوک بناتے ہیں۔ یہ ان کا فَن اڑاتے ہیں۔ یہ ان کے ہوم، کلوتھز، وہیکلز اور ہالیڈیز سے بَرن ہوتے ہیں۔ یہ لائف میں کمپلیٹلی ان سکسیس فل ہوچکے ہیں۔ یہ ہر سکسیس فل سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ ڈیفنس فورسز کو ہر پرابلم کا ریزن سمجھتے ہیں۔ یہ ان کی سیکریفائزس کو ریکگنائز نہیں کرتے۔ یہ کپتان کو ڈیم فول کہتے ہیں۔ یہ ان کو اِم دا ڈِم بھی کہتے ہیں۔ یہ ان کے سپرچوئل درجات کے بھی منکر ہیں۔ یہ ان کو ڈرگ ایڈکٹ بھی سمجھتے ہیں۔ یہ فرسٹ لیڈی کو ٹانٹ کرتے ہیں۔ یہ ان کو بلیک میجک کی ماہر سمجھتے ہیں۔ یہ ہر ایوننگ میڈم نور جہاں کا گانا "جادوگرا۔۔۔" بھی سن کر ہنستے ہیں۔

آپ یہ دیکھیں، یہ سب کرنے کے باوجود یہ لوزر ہیں۔ آپ ان کے فیس دیکھیں اور ان کے ایکشن دیکھیں۔ یہ دو دو دن منہ نہیں دھوتے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ دن باتھ نہ لے کر یہ بھی گجر بن سکتے ہیں۔ یہ ان کی مس انڈر سٹینڈنگ ہے۔ یہ پرانی شرٹیں پینٹیں پہنتے ہیں۔ ان کے پاس سمارٹ واچ بھی نہیں۔ یہ اب بھی بٹنوں والے مبئیل یوز کرتے ہیں۔

یہ ہالیڈے سیلیبریٹ کرنے کے قابل نہیں۔ یہ سنڈے کو آئلی پراٹھے کھا کے ہالیڈے منا لیتے ہیں۔ انہوں نے سوئٹزر لینڈ کو صرف کیلنڈر پر دیکھا ہے۔ یہ ایورپ کے سپیلنگ تک نہیں جانتے۔ ان کو یہ علم ہی نہیں کہ ایورپ، ای سے شروع ہوتا ہے۔ یہ اسے یورپ یورپ لکھتے اور پڑھتے ہیں۔ یہ کبھی فیصل مسجد کے مینار پر نہیں چڑھے، میں ایفل ٹاور سے اہرام مصر تک کلائمب کر چکا ہوں۔ میں نے سوئٹزر لینڈ کی جھیلوں میں برہنہ پریاں اپنی آئیز سے دیکھی ہیں۔ جبکہ یہ گوگل امیجز میں ہاٹ چکس ہی سرچ کرتے رہتے ہیں۔ میں واحد جرنلسٹ ہوں جس نے سعودی کنگ کے ساتھ سیلفی کھینچی۔ سعودی رائلز میرا بڑا احترام کرتے ہیں۔ مجھے قلب قلب کہتے ہیں۔

یہ سپرچوئیلٹی پر بھی بیلیو نہیں کرتے۔ ان کے پاس کوئی بابا نہیں۔ میرے پاس تھینک گاڈ ہر فیلڈ کا بابا موجود ہے۔ میں جدھر جاتا ہوں۔ کوئی نہ کوئی بابا مجھے مل جاتا ہے۔ یہ مجھے گائیڈ بھی کرتے ہیں۔ یہ مجھے دنیا بھی دیتے ہیں اور آفٹر لائف سکسیس کی گارنٹی بھی۔ یہ بابے مجھے بتاتے ہیں کہ میں ایک ونس ان آ لائف ٹائم پرسن ہوں۔ ایسے پرسنز ہیومن ہسٹری کا کورس چینج کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ مجھے موٹیویٹ کرتے ہیں۔ یہ مجھے گڈ ڈِیڈز کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ میں جب بھی کسی بابے سے ملوں، ان سے کنورسیشن کروں، اس کے بعد میں لازمی کشمیری، فلسطینی مجاہدین کے چندے والے باکس میں پانچ روپے ڈالتا ہوں۔

میں ایک ہمبل ہیومن بئینگ ہوں۔ میں کبھی بریگ نہیں کرتا۔ آج میں اینگری ہوگیا۔ مجھے غصہ آگیا۔ یہ سب کو ڈس کریڈٹ کرتے کرتے اب ملک نیاز تک پہنچ گئے۔ یہ میں ٹالریٹ نہیں کرسکتا۔ کوئی مجھے جیدا مینٹل کہہ دے، مجھے غصہ نہیں لگتا۔ کوئی مجھے سفارشی کہہ دے، مجھے نوسر باز کہہ دے، میں اگنور کر جاتا ہوں لیکن ملک نیاز کے اس کنٹری میں اتنے کنٹری بیوشن ہیں کہ ان کے خلاف لینگویج اوپن کرنے والے کو معاف نہیں کرسکتا۔ ہیومن ہسٹری میں بہت سے پراجیکٹ ایسے ہیں جو سٹینڈ آؤٹ ہیں مگر آج تک کوئی بھی پراجیکٹ زہریہ ٹاؤن کے کیلیبر تک نہیں پہنچ سکا۔

میں اپنی لائف کے لاسٹ بریتھ تک ملک نیاز کا ڈیفنس کرتا رہوں گا۔ اے گِجّے ہونیں کِسے ہور دے۔۔۔۔