میرے کچھ پسندیدہ گانوں، غزلوں اور قوالیوں کا انتخاب ۔۔۔
ایک ہی نشست میں سننے سے گریز کریں۔۔۔
گرم سرد ہونے کا اندیشہ ہے۔۔۔
یہ جو چلمن ہے ۔۔۔ دشمن ہے ہماری - محمد رفیع
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارہ بنا ڈالا - غلام علی
کچھ اس طرح - عاطف اسلم
تیرے بن - عاطف اسلم
شعلہ تھا جل بجھا ہوں - مہدی حسن
تملّی معاک - عمرو دیاب
Don Omer - Dale Don Dale
نیناں ٹھگ لیں گے - راحت فتح علیخان
Enrique Iglesius - Bailamos
جب دل ہی ٹوٹ گیا - کے ایل سہگل
چنگا بنایا ای سانوں کھڈونا - نورجہاں
کہو اک دن - احمد جہانزیب
اے اجنبی - ادت نرائن (دل سے)
Sade - And I miss you
پھونک دے - کویتا (نو سموکنگ)
Lionel Richie - Hello
چپکے سے - سادھنا سرگم (ساتھیا)
اک پھل موتیے دا مار کے - منصور ملنگی
تنہائی - سونو نگم (دل چاہتا ہے)
کبھی کبھی آدیتی - راشد علی (جانے تو یا جانے نہ)
Enrique Iglesius & Whitney Housten - Kiss forever
آنکھوں میں رہو - سومیا (کمپنی)
توسے نیناں لاگے - شلپا راؤ (انور)
جائیں تو جائیں کہاں - طلعت محمود (ٹیکسی ڈرائیور)
نیندر نئیں آؤندی - سجاد علی
The Sopranos soundtrack - Leonard Cohen - woke up this morning
میں روواں تینوں یاد کرکے - نصرت فتح علی خان
کتھے عشق دا روگ نہ لا بیٹھیں - نصرت فتح علی خان
تم اک گورکھ دھندہ ہو - نصرت فتح علی خان
میرے دل دے شیشے وچ سجناں - نور جہاں
مینڈا عشق وی توں - پٹھانے خان
سن چرخے دی مٹھی مٹھی گھوک - نصرت فتح علی خان
اللہ ہو اللہ - سائیں ظہور (خدا کے لئے)
آجا صنم - مناڈے / لتا منگیشکر (چوری چوری)
یارا سیلی سیلی - لتا منگیشکر (لیکن)
ساگر جیسی آنکھوں والی - کشور کمار (ساگر)
تیری یاد - جَل
دیوانہ - علی عظمت
مائے نی میں کنوں آکھاں - حامد علی بیلا
پانی پانی رے - لتا منگیشکر (ماچس)
لائی وی نہ گئی - سکھویندر سنگھ (چلتے چلتے)
سوگیا یہ جہاں - نتن مکیش (تیزاب)
پپو کانٹ ڈانس - بینی دیال (جانے تو یا جانے نہ)
سپنوں سے بھرے نیناں - شنکر مہا دیون (لک بائی چانس)
عاشقاں توں سوہنا مکھڑا لکان لئی - عنایت حسین بھٹی
انشاء جی اٹھو - امانت علی خان
یہ جو محبت ہے - کشور کمار
کلّی کلّی جان دکھ لکھ تے کروڑ وے - نور جہاں
بھیگی بھیگی جادو بھری - سجاتا تریویدی (تکشک)
یہ فہرست، درجہ بندی کے لحاظ سے نہیں ۔۔۔ یادداشت کے حساب سے ہے۔۔۔۔
ہومیوپیتھک قسم کی تحریر ہے! اس کااگر کوئی نقصان نہیں تو فائدہ بھی نہیں۔۔۔
اس لئے اس میں مقصد تلاش کرنا بھوسے میں سے سوئی تلاشنا ہے۔۔۔
یاروں کی پسند
تیری صورت - عزیز میاں
اس فہرست میںسے اپنی پسند کے پانچ گانے منتخب کیجئے۔۔۔
مصنف کی درجہ بندی کے مطابق ہونے پر آپ کی لاٹری بھی لگ سکتی ہے ۔۔۔
جناب بدتمیز کی فرمائش پر لنکس بھی پیش خدمت ہیں۔۔۔ عذاب جاریہ کے لئے
بمباسٹک زردہ
نہیں ۔۔ نہیں۔۔۔ کوئی بم شم کاچکر نہیں، زردے کی ترکیب ہے۔ ایسے فلمی اشتہاروں سے متاثر ہوکر بمباسٹک لکھ دیا ہے، جو اکثر مصروف شاہراہوں پر ہورڈنگز کی شکل میں لگے رہتے ہیں اور ہر آنے جانے والے کی برداشت اور ہمت کا امتحان لیتے ہیں جیسے مثال کے طور پر ”بمباسٹک حسینہ عرف کنگفو کی واپسی“ ہمراہ گرما گرم سائیڈ پروگرام۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اوہو یہ میں کدھر نکل گیا۔۔
چلیں چھوڑیں اسے اور شروع کریں آج کی ترکیب۔۔۔۔۔
ایک بڑا پتیلہ پانی سے بھر کر تیز آنچ پر رکھ دیں۔ ایک آدھ گھنٹہ پڑا رہنے دیں۔ پانی خشک ہونے پر دوبارہ بھردیں اور یہ عمل تین دفعہ دھرائیں۔ اس سے دو فائدے ہوں گے ایک تو آپ کا پتیلہ اچھی طرح صاف ہوجائے گا، دوسرا، اس مہینے گیس کا بل دیتے ہوئے آپ کو زیادہ تکلیف نہیںہوگی کہ گیس کم استعمال کرنے پر بھی بل تو پورا ہی آتا ہے لہذا استعمال کرکے بل دینے پر قلبی اطمینان اور روحانی سکون حاصل ہوگا۔
اب ایسا کریں کہ زردے کی ترکیب تو مجھے معلوم نہیں تو اگر آپ کو علم ہے تو اسی طریقے سے پکا لیں اور اگر آپ بھی میری ہی طرح ”یملے“ ہیں تو پھر چاول، چینی، الائچیاں، گھی، پانی ، زرد رنگ سب پتیلے میں ڈال کر ہلکی آنچ پر رکھ دیں۔ جب پانی خشک ہوجائے تو امید ہے کہ زردہ پک گیا ہوگا۔
اب یہاں سے سادہ زردہ، بمباسٹک زردہ بنے گا!!
دم دینے سے پہلے اس میں بیر، فالسہ، گنڈیریاں، ملوک، شہتوت، آلو بخارا (تازہ) ملادیں اور دم دے دیں (زردے کو!)۔
ہر تیس سیکنڈ کے بعد ڈھکنا کھول کر دیکھیں کہ دم آگیا ہے یا نہیں۔ جب زردہ تیار ہوجائے تو اس پر ٹماٹو کیچپ کی دو بڑی بوتلیں انڈیلیں اور چاٹ مصالحہ بھی حسب ذائقہ چھڑک لیں۔
لیجئے۔۔۔ مزیدار بمباسٹک زردہ تیار ہے!
شادیوں پر پکانے سے گریز کریں۔
شادی کے بعد البتہ اپنی ساس اور جملہ سسرالیوں کو کھلانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
چلیں چھوڑیں اسے اور شروع کریں آج کی ترکیب۔۔۔۔۔
ایک بڑا پتیلہ پانی سے بھر کر تیز آنچ پر رکھ دیں۔ ایک آدھ گھنٹہ پڑا رہنے دیں۔ پانی خشک ہونے پر دوبارہ بھردیں اور یہ عمل تین دفعہ دھرائیں۔ اس سے دو فائدے ہوں گے ایک تو آپ کا پتیلہ اچھی طرح صاف ہوجائے گا، دوسرا، اس مہینے گیس کا بل دیتے ہوئے آپ کو زیادہ تکلیف نہیںہوگی کہ گیس کم استعمال کرنے پر بھی بل تو پورا ہی آتا ہے لہذا استعمال کرکے بل دینے پر قلبی اطمینان اور روحانی سکون حاصل ہوگا۔
اب ایسا کریں کہ زردے کی ترکیب تو مجھے معلوم نہیں تو اگر آپ کو علم ہے تو اسی طریقے سے پکا لیں اور اگر آپ بھی میری ہی طرح ”یملے“ ہیں تو پھر چاول، چینی، الائچیاں، گھی، پانی ، زرد رنگ سب پتیلے میں ڈال کر ہلکی آنچ پر رکھ دیں۔ جب پانی خشک ہوجائے تو امید ہے کہ زردہ پک گیا ہوگا۔
اب یہاں سے سادہ زردہ، بمباسٹک زردہ بنے گا!!
دم دینے سے پہلے اس میں بیر، فالسہ، گنڈیریاں، ملوک، شہتوت، آلو بخارا (تازہ) ملادیں اور دم دے دیں (زردے کو!)۔
ہر تیس سیکنڈ کے بعد ڈھکنا کھول کر دیکھیں کہ دم آگیا ہے یا نہیں۔ جب زردہ تیار ہوجائے تو اس پر ٹماٹو کیچپ کی دو بڑی بوتلیں انڈیلیں اور چاٹ مصالحہ بھی حسب ذائقہ چھڑک لیں۔
لیجئے۔۔۔ مزیدار بمباسٹک زردہ تیار ہے!
شادیوں پر پکانے سے گریز کریں۔
شادی کے بعد البتہ اپنی ساس اور جملہ سسرالیوں کو کھلانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
عمر دا اصل حصہ
ملدا کیہہ اے ایس دنیا وچ
رُت ایک نویں جوانی دی
ہوکے بھرن دی پیار کرن دی
اکھّاں دی نادانی دی
باقی عمر تے بس فیر ایویں
نسدیاں بھجدیاں لنگھدی اے
دور دراز دیاں سوچاں اندر
روندیاں ہسدیاں لنگھدی اے
بھُلدے جاندے خواباں دے
عکساں نوں لبھدیاں لنگھدی اے
رُت ایک نویں جوانی دی
ہوکے بھرن دی پیار کرن دی
اکھّاں دی نادانی دی
باقی عمر تے بس فیر ایویں
نسدیاں بھجدیاں لنگھدی اے
دور دراز دیاں سوچاں اندر
روندیاں ہسدیاں لنگھدی اے
بھُلدے جاندے خواباں دے
عکساں نوں لبھدیاں لنگھدی اے
منیر نیازی
ایک اور شعیب اختر ۔۔۔
ایک شعیب اختر سے جان چھوٹی ہے تو دوسرا اس کی جگہ سنبھالنے آگیا ہے۔۔۔
اور اس کی پسند کی بھی داد دینے کو جی چاہتا ہے۔۔۔
چھتر لاء لئے بندہ۔۔۔۔
تو ہے کوئی ۔۔۔۔
میرا بھی بہت جی چاہتا ہے کہ معاشرتی، معاشی، سیاسی، اقتصادی، سائنسی، ادبی وغیرہ وغیرہ جیسے موضوعات پر ”سنجیدہ“ اور ”بامقصد“ لکھوں، جس میں بھاری بھرکم الفاظ اور اصطلاحات کا تڑکا بھی ہو۔ لوگ مجھے اعلی پائے (اور سری) کا دانشور سمجھیں۔ میرے نام کے ساتھ بھی علامہ، پروفیسر جیسا کوئی لفظ جڑا ہو۔ میری تحریر کی کسی کو سمجھ آئے نہ آئے، سب واہ واہ ضرور کریں۔ ایسے سیمینارز اور کانفرنسز میں مدعو کیا جاؤں، جن کے موضوعات اکثر ، بگلے اور انسانی ذہانت کا مستقبل یا تیل کی قیمیتیں اور اردو غزل کا زوال، ہوتے ہیں اور وہاں تین تین گھنٹے کے مقالے پڑھوں تاکہ سامعین میں موجود، بے خوابی کے مریض خواتین و حضرات کو افاقہ ہو!!
میرا یہ بھی دل کرتا ہے کہ نجی چینلز پر ٹاک شوز کے نام پر جو سرکس ہوتا ہے مجھے بھی اس میں مدعو کیا جائے تاکہ میں بھی اپنی دانش کے کرتب دکھا سکوں۔ میں ایک ایسا آل راؤنڈر قسم کا دانشور بن جاؤں جو سیاسی ٹاک شوز کی بھی ضرورت ہو اور ”بالم آن لائن“ جیسے پروگرامز کی بھی۔ جو مرغیوں کی بیماریوں پر بھی سیر حاصل گفتگو کرسکے اور برصغیر میں اردو کے زوال پر بھی۔ مریخ پر پانی کی موجودگی بھی اس کا موضوع ہو اور جسے اس بات کا بھی علم ہو کہ کترینہ کیف اتنی ظالمانہ حد تک خوبصورت کیوں ہے!!!
لیکن جب بھی میں لکھنے کے لئے اپنی انگلیاں کی بورڈ پر رکھتا ہوں، نجانے کیا ہوتا ہے کہ یہی کچھ لکھ پاتا ہوں جو آپ پڑھ رہے ہیں!!!
تو ہے کوئی پروفیسر، کوئی علامہ، کوئی بحر العلوم، کوئی دانشور جو میری مدد کرے۔ جو مجھے بتائے کہ میں کیسے ان جیسا بن جاؤںکہ ہر جانب میری بلے بلے ہوجائے۔ میری تحاریر بھی ایٹی وان کا کام کرنے لگیں۔ مائیں بچوں کو سلانے کے لئے لوریوں کی بجائے میری پوسٹیں سنائیں۔ عدالتیں قید بامشقت کی سزا کے زمرے میں، میرے بلاگ کا تین گھنٹے روزانہ مطالعہ، کی سزائیں سنانے لگیں۔ تھانوں میں پانجے لگانے کی بجائے سنتری بادشاہ میری پوسٹیں سنا سنا کر ملزمان سے تفتیش کریں۔۔۔
تو ہے کوئی ۔۔۔۔
میرا یہ بھی دل کرتا ہے کہ نجی چینلز پر ٹاک شوز کے نام پر جو سرکس ہوتا ہے مجھے بھی اس میں مدعو کیا جائے تاکہ میں بھی اپنی دانش کے کرتب دکھا سکوں۔ میں ایک ایسا آل راؤنڈر قسم کا دانشور بن جاؤں جو سیاسی ٹاک شوز کی بھی ضرورت ہو اور ”بالم آن لائن“ جیسے پروگرامز کی بھی۔ جو مرغیوں کی بیماریوں پر بھی سیر حاصل گفتگو کرسکے اور برصغیر میں اردو کے زوال پر بھی۔ مریخ پر پانی کی موجودگی بھی اس کا موضوع ہو اور جسے اس بات کا بھی علم ہو کہ کترینہ کیف اتنی ظالمانہ حد تک خوبصورت کیوں ہے!!!
لیکن جب بھی میں لکھنے کے لئے اپنی انگلیاں کی بورڈ پر رکھتا ہوں، نجانے کیا ہوتا ہے کہ یہی کچھ لکھ پاتا ہوں جو آپ پڑھ رہے ہیں!!!
تو ہے کوئی پروفیسر، کوئی علامہ، کوئی بحر العلوم، کوئی دانشور جو میری مدد کرے۔ جو مجھے بتائے کہ میں کیسے ان جیسا بن جاؤںکہ ہر جانب میری بلے بلے ہوجائے۔ میری تحاریر بھی ایٹی وان کا کام کرنے لگیں۔ مائیں بچوں کو سلانے کے لئے لوریوں کی بجائے میری پوسٹیں سنائیں۔ عدالتیں قید بامشقت کی سزا کے زمرے میں، میرے بلاگ کا تین گھنٹے روزانہ مطالعہ، کی سزائیں سنانے لگیں۔ تھانوں میں پانجے لگانے کی بجائے سنتری بادشاہ میری پوسٹیں سنا سنا کر ملزمان سے تفتیش کریں۔۔۔
تو ہے کوئی ۔۔۔۔
چوہدری نسرین باجوہ اور ہمنوا
|
ٹیگ
Articles,
آپ بیتی,
پروفیسر,
کچھ ہلکا پھلکا,
گورنمنٹ کالج دھوبی گھاٹ فیصل آباد,
مزاح
|
تبصرے: 15
کچھ عرصہ پہلے اپنی ان گنت بیستیوں میں سے ایک بیستی بیان کی تھی یہاں!
سب احباب نے اسے پڑھ کر پاکستانیوں کی طبیعت کے عین مطابق خوشی اور مسرت کا بے پایاں اظہار بھی کیا تھا۔ اسی جگہ ، میں نے لکھا تھا کہ اصل پروگرام تو بعد میں چلا تھا۔ تو اب کچھ اس ”اصل پروگرام“ کا ذکر ہو جائے۔
اس سارے رنڈی رونے میں جن حضرات نے اصل ۔۔۔۔ کا پارٹ ادا کیا تھا، یہ کچھ ان کا ذکر ہے اور کچھ اپنی مزید بیستی کا!
چار کا ٹولہ تھا جی وہ۔
ایک پنجاب کا ”باغیرت“ گھبرو جوان، گاؤں سے تعلق تھا اس کا۔۔۔
ایک نہایت مسکین صورت میسنا اور
دو برگر ممی ڈیڈی!
سننے میں یہ گروپ جتنا عجیب وغریب لگتا ہے، دیکھنے میں اس سے بھی زیادہ واہیات تھا۔ انہی کی ہلا شیری پرسب اس ”لیکچرر ہٹاؤ“ ایڈونچر کےلئے تیار ہوئے تھے۔ اور جب کیمسٹری کی کلاس میں ہمارے استاد محترم نے مجھے کھڑا کرکے پوچھا کہ ”بتاؤ اور کون کون تھا تمہارے ساتھ؟“ تو یہ سب ایسے میرے منہ کی طرف دیکھنے لگے تھے جیسے میں مسجد سے جوتے چوری کرتا پکڑا گیا ہوں!
میرے دو یار جو صرف اس درخواست پر دستخط کرنے کے گناہگار تھے، وہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ سر! ہم بھی ساتھ تھے اسکے۔ لہذا سزا بھی ہم تینوں کو ملنی چاہئے۔ تو صاحب اگلے دوسال بارش ہو یا آندھی، گرمی ہو یا سردی ، کرفیو ہو یا ہڑتال ۔۔۔ ہم تینوں کیمسٹری کی کلاس سے کبھی غیر حاضر نہیں ہوئے۔ اس کی وجہ؟ ایک غیر حاضری پر پندرہ دن کی غیر حاضری کی سزا!
داخلہ بھیجنے کے لئے حاضریاں پوری کرنے کی بھی شرط ہوتی تھی اس وقت (شاید اب بھی ہو!) پیریڈ بھی آخری ہوتا تھا۔ ساتواں۔ ایک دفعہ تو ایک سو تین بخار کی حالت میں بھی کالج گیا تھا۔ لیکن آپ داد دیجئے ہمارے استاد کو! ان کے دل میں کبھی رحم نہیں آیا۔ شمر کے سگے کزن تھے شاید۔۔۔
ہر سوال ہم سے ہی پوچھا جاتا تھا۔ ہر طنز کا نشانہ بھی ہماری ذات شریف ہی بنتی تھی۔ وہ تو میںفطرتاچکنا گھڑا واقع ہوا ہوں، اس لئے اس پیہم بیستی کو روح افزا سمجھ کر غٹاغٹ پی جاتا تھا۔
وہ سوال، جن کے جواب خود ان کو بھی نہیں آتے تھے، وہ بھی ہم سے ہی پوچھے جاتے تھے۔ پھر درست جواب نہ دینے پر ارشاد ہوتا تھا، ایک درخواست اور لکھ لو! بہت شوق ہے نا درخواستیں لکھنے کا۔ ہر پریکٹیکل میں بھی تان ہمارے اوپر ہی آکر ٹوٹتی تھی۔ بلاؤ اس کو! وہ جو بڑا لیڈر بنا پھرتا ہے۔
کم میں نے بھی ان چاروں کے ساتھ نہیں کی۔ ان کے نام بدل دئیے تھے۔ نئے نام سنئیے اور سر دھنئے!
چوہدری نسرین باجوہ
حنیفاں بشیر
رابعہ شفیق
پنکی حمید
ہماری کلاس کے جرگے کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ان کی حرکت مردانگی کی ہر تعریف کے خلاف ہے لہذا آج سے ان کو زنانہ ناموں سے لکھا اور پکارا جائے ۔ تو دوستو! بڑے گھمسان کے ”گھڑمس“ برپا ہوئے، چار کے ٹولے نے مجھے یرکانے کی بڑی کوششیں کیں لیکن یہ نام نہ بدلنے تھے نہ بدلے، آخر میں تو وہ بے چارے ان ناموں کے اتنے عادی ہوگئے تھے کہ اگر کوئی پکارتا تھا کہ ”اوئے چوہدری نسرین“ تو وہ ایسے چونک کر دیکھتا تھا کہ جیسے واقعی اس کا نام نسرین ہی ہو!
حنیفاں ایک نہایت میسنا بچہ تھا۔ شکل سے چندہ مانگنے والا لگتاتھا۔ اور کرتوتوں سے اس چندے کو ہڑپ کرنے والا! یہی ”بطل جلیل“ استاد محترم سے خفیہ ٹیوشن بھی پڑھا کرتا تھا اور اس کا انکشاف ایف ایس سی کرنے کے بعد ہوا۔ اسی سے آپ اس کے میسنے ہونے کا اندازہ لگاسکتے ہیں!! ہم بھی حیران ہوا کرتے تھے کہ آخر ہر بات لیکچرر صاحب کے پاس پہنچ کیسے جاتی ہے!!!
رابعہ شفیق اور پنکی حمید پیپلز کالونی کے برگر تھے۔ نازک اندام اور لچکدار۔ ہائے اللہ اور اوئی اللہ ٹائپ۔ اکڑتے تھے چوہدری نسرین کے بل پر تو جب نسرین کے کس بل نکلے تو وہ بھی نہایت نیک اطوار بیبیاں بن گئے تھے۔
آج جب یہ سارا ماجرا ذہن میں آتا ہے تو لگتا ہے جیسے کوئی خواب دیکھا تھا۔
میرے یہ سب دوست جہاں بھی ہوں۔ خوش رہیں اور مجھ سے دور ہی رہیں کہ مجھے ان پر ابھی تک بڑی ”تپ“ ہے!!!
وما علینا الا البلاغ!!!
سب احباب نے اسے پڑھ کر پاکستانیوں کی طبیعت کے عین مطابق خوشی اور مسرت کا بے پایاں اظہار بھی کیا تھا۔ اسی جگہ ، میں نے لکھا تھا کہ اصل پروگرام تو بعد میں چلا تھا۔ تو اب کچھ اس ”اصل پروگرام“ کا ذکر ہو جائے۔
اس سارے رنڈی رونے میں جن حضرات نے اصل ۔۔۔۔ کا پارٹ ادا کیا تھا، یہ کچھ ان کا ذکر ہے اور کچھ اپنی مزید بیستی کا!
چار کا ٹولہ تھا جی وہ۔
ایک پنجاب کا ”باغیرت“ گھبرو جوان، گاؤں سے تعلق تھا اس کا۔۔۔
ایک نہایت مسکین صورت میسنا اور
دو برگر ممی ڈیڈی!
سننے میں یہ گروپ جتنا عجیب وغریب لگتا ہے، دیکھنے میں اس سے بھی زیادہ واہیات تھا۔ انہی کی ہلا شیری پرسب اس ”لیکچرر ہٹاؤ“ ایڈونچر کےلئے تیار ہوئے تھے۔ اور جب کیمسٹری کی کلاس میں ہمارے استاد محترم نے مجھے کھڑا کرکے پوچھا کہ ”بتاؤ اور کون کون تھا تمہارے ساتھ؟“ تو یہ سب ایسے میرے منہ کی طرف دیکھنے لگے تھے جیسے میں مسجد سے جوتے چوری کرتا پکڑا گیا ہوں!
میرے دو یار جو صرف اس درخواست پر دستخط کرنے کے گناہگار تھے، وہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ سر! ہم بھی ساتھ تھے اسکے۔ لہذا سزا بھی ہم تینوں کو ملنی چاہئے۔ تو صاحب اگلے دوسال بارش ہو یا آندھی، گرمی ہو یا سردی ، کرفیو ہو یا ہڑتال ۔۔۔ ہم تینوں کیمسٹری کی کلاس سے کبھی غیر حاضر نہیں ہوئے۔ اس کی وجہ؟ ایک غیر حاضری پر پندرہ دن کی غیر حاضری کی سزا!
داخلہ بھیجنے کے لئے حاضریاں پوری کرنے کی بھی شرط ہوتی تھی اس وقت (شاید اب بھی ہو!) پیریڈ بھی آخری ہوتا تھا۔ ساتواں۔ ایک دفعہ تو ایک سو تین بخار کی حالت میں بھی کالج گیا تھا۔ لیکن آپ داد دیجئے ہمارے استاد کو! ان کے دل میں کبھی رحم نہیں آیا۔ شمر کے سگے کزن تھے شاید۔۔۔
ہر سوال ہم سے ہی پوچھا جاتا تھا۔ ہر طنز کا نشانہ بھی ہماری ذات شریف ہی بنتی تھی۔ وہ تو میںفطرتاچکنا گھڑا واقع ہوا ہوں، اس لئے اس پیہم بیستی کو روح افزا سمجھ کر غٹاغٹ پی جاتا تھا۔
وہ سوال، جن کے جواب خود ان کو بھی نہیں آتے تھے، وہ بھی ہم سے ہی پوچھے جاتے تھے۔ پھر درست جواب نہ دینے پر ارشاد ہوتا تھا، ایک درخواست اور لکھ لو! بہت شوق ہے نا درخواستیں لکھنے کا۔ ہر پریکٹیکل میں بھی تان ہمارے اوپر ہی آکر ٹوٹتی تھی۔ بلاؤ اس کو! وہ جو بڑا لیڈر بنا پھرتا ہے۔
کم میں نے بھی ان چاروں کے ساتھ نہیں کی۔ ان کے نام بدل دئیے تھے۔ نئے نام سنئیے اور سر دھنئے!
چوہدری نسرین باجوہ
حنیفاں بشیر
رابعہ شفیق
پنکی حمید
ہماری کلاس کے جرگے کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ان کی حرکت مردانگی کی ہر تعریف کے خلاف ہے لہذا آج سے ان کو زنانہ ناموں سے لکھا اور پکارا جائے ۔ تو دوستو! بڑے گھمسان کے ”گھڑمس“ برپا ہوئے، چار کے ٹولے نے مجھے یرکانے کی بڑی کوششیں کیں لیکن یہ نام نہ بدلنے تھے نہ بدلے، آخر میں تو وہ بے چارے ان ناموں کے اتنے عادی ہوگئے تھے کہ اگر کوئی پکارتا تھا کہ ”اوئے چوہدری نسرین“ تو وہ ایسے چونک کر دیکھتا تھا کہ جیسے واقعی اس کا نام نسرین ہی ہو!
حنیفاں ایک نہایت میسنا بچہ تھا۔ شکل سے چندہ مانگنے والا لگتاتھا۔ اور کرتوتوں سے اس چندے کو ہڑپ کرنے والا! یہی ”بطل جلیل“ استاد محترم سے خفیہ ٹیوشن بھی پڑھا کرتا تھا اور اس کا انکشاف ایف ایس سی کرنے کے بعد ہوا۔ اسی سے آپ اس کے میسنے ہونے کا اندازہ لگاسکتے ہیں!! ہم بھی حیران ہوا کرتے تھے کہ آخر ہر بات لیکچرر صاحب کے پاس پہنچ کیسے جاتی ہے!!!
رابعہ شفیق اور پنکی حمید پیپلز کالونی کے برگر تھے۔ نازک اندام اور لچکدار۔ ہائے اللہ اور اوئی اللہ ٹائپ۔ اکڑتے تھے چوہدری نسرین کے بل پر تو جب نسرین کے کس بل نکلے تو وہ بھی نہایت نیک اطوار بیبیاں بن گئے تھے۔
آج جب یہ سارا ماجرا ذہن میں آتا ہے تو لگتا ہے جیسے کوئی خواب دیکھا تھا۔
میرے یہ سب دوست جہاں بھی ہوں۔ خوش رہیں اور مجھ سے دور ہی رہیں کہ مجھے ان پر ابھی تک بڑی ”تپ“ ہے!!!
وما علینا الا البلاغ!!!
میں نے اک بار کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
31 جنوری 1999
متوسط طبقے کے گھر کا ایک کمرہ۔ کونے میں ٹی وی۔ بیڈ پر ایک نوجوان اپنے سامنے اخبار پھیلائے، چائے کاکپ ہاتھ میں لئے ، بار بار ٹی وی اور دیوار پر لگے وال کلاک کی طرف دیکھتا ہوا۔ چہرے سے بے تابی کااظہار۔ آخرکار اس نے اخبار سمیٹ کر سائڈ ٹیبل پر رکھا اور ٹی وی کی طرف متوجہ ہوگیا۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان پہلے ٹیسٹ کا آخری روز۔ انڈیا کی آٹھ وکٹیں باقی۔ میچ شروع ہوا۔ جیسے جیسے میچ آگے بڑھتا رہا نوجوان کی بےتابی اور بے چینی بھی بڑھتی رہی۔ انڈیا کی وکٹ گرنے پر وہ اٹھ کر ناچنا شروع کردیتا اور باونڈری لگنے پر وہ باولرز کو ایسے مشورے دینے لگتا جیسے وہ اس کی آواز سن رہے ہوں! چائے کے وقفے تک ہندوستان کی پوزیشن بہت مضبوط۔ نوجوان کے چہرے پر مایوس چھائی ہوئی۔ صبح سے اس نے چائے کے علاوہ کچھ کھایا پیا بھی نہیں۔ اس کی ماں بار بار اسے آواز دے کر کھانے کے لئے پوچھتی لیکن وہ انکار کردیتا۔ انڈیا کو جیتنے کے لئے سولہ رنز درکار اور اس کی چار وکٹیں باقی۔ اچانک میچ کا پانسہ پلٹا اور جیتا ہوا میچ انڈیا آخری لمحات میں ہار گیا۔ نوجوان جو صبح سے بھوکا پیاسا ٹی وی کے سامنے جما ہوا تھا، اپنی خوشی پر قابو نہ رکھ پایا۔ شاید اس کا نروس بریک ڈاون ہوگیا تھا۔ وہ چلا چلا کر کہتا رہا ، پاکستان جیت گیا، پاکستان جیت گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے لیکن اس کو کوئی احساس نہیں تھا۔ اس کی ماں اور بہنیں دوڑ کر آئیں ۔اس کی ماں اس کو گلے سے لگا کر تسلی دینے لگی۔
یہ نوجوان میں تھا!!
12جون 2009
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 20/20 ورلڈ کپ کا میچ جاری ہے۔ شاہد آفریدی کے آؤٹ ہوتے ہی میرے فون کی گھنٹی بجی۔ نمبر دیکھا تو پاکستان سے فون تھا۔ امی بات کررہی تھیں۔ پانچ چھ منٹ بات کرتی رہیں۔ میں سمجھ گیا تھا کہ انہوں نے کس لئے فون کیا ہے ۔ میں نے ہنس کر ان سے کہا ”آپ فکر نہ کیا کریں، میں اب بڑا ہوگیاہوں۔ اب نہیں روتا۔“ جوابا کہنے لگیں، ”نئیں ۔۔۔نئیں۔۔۔ میں تے ویسے ای فون کیتا سی“۔
مجھے پاکستان چھوڑے ہوئے سات سال سے زیادہ ہوگئے۔ لڑکپن کے شوق اور جذبے کچھ مدہم ہوگئے اور کچھ معدوم۔ کرکٹ بھی ان میں ہی شامل ہے ۔ لیکن میری ماں جب بھی کبھی پاکستان کا میچ ہو تو فون کرکے باتوں باتوں میں میری حالت کا اندازہ ضرور کرتی ہیں!!
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
متوسط طبقے کے گھر کا ایک کمرہ۔ کونے میں ٹی وی۔ بیڈ پر ایک نوجوان اپنے سامنے اخبار پھیلائے، چائے کاکپ ہاتھ میں لئے ، بار بار ٹی وی اور دیوار پر لگے وال کلاک کی طرف دیکھتا ہوا۔ چہرے سے بے تابی کااظہار۔ آخرکار اس نے اخبار سمیٹ کر سائڈ ٹیبل پر رکھا اور ٹی وی کی طرف متوجہ ہوگیا۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان پہلے ٹیسٹ کا آخری روز۔ انڈیا کی آٹھ وکٹیں باقی۔ میچ شروع ہوا۔ جیسے جیسے میچ آگے بڑھتا رہا نوجوان کی بےتابی اور بے چینی بھی بڑھتی رہی۔ انڈیا کی وکٹ گرنے پر وہ اٹھ کر ناچنا شروع کردیتا اور باونڈری لگنے پر وہ باولرز کو ایسے مشورے دینے لگتا جیسے وہ اس کی آواز سن رہے ہوں! چائے کے وقفے تک ہندوستان کی پوزیشن بہت مضبوط۔ نوجوان کے چہرے پر مایوس چھائی ہوئی۔ صبح سے اس نے چائے کے علاوہ کچھ کھایا پیا بھی نہیں۔ اس کی ماں بار بار اسے آواز دے کر کھانے کے لئے پوچھتی لیکن وہ انکار کردیتا۔ انڈیا کو جیتنے کے لئے سولہ رنز درکار اور اس کی چار وکٹیں باقی۔ اچانک میچ کا پانسہ پلٹا اور جیتا ہوا میچ انڈیا آخری لمحات میں ہار گیا۔ نوجوان جو صبح سے بھوکا پیاسا ٹی وی کے سامنے جما ہوا تھا، اپنی خوشی پر قابو نہ رکھ پایا۔ شاید اس کا نروس بریک ڈاون ہوگیا تھا۔ وہ چلا چلا کر کہتا رہا ، پاکستان جیت گیا، پاکستان جیت گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے لیکن اس کو کوئی احساس نہیں تھا۔ اس کی ماں اور بہنیں دوڑ کر آئیں ۔اس کی ماں اس کو گلے سے لگا کر تسلی دینے لگی۔
یہ نوجوان میں تھا!!
12جون 2009
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 20/20 ورلڈ کپ کا میچ جاری ہے۔ شاہد آفریدی کے آؤٹ ہوتے ہی میرے فون کی گھنٹی بجی۔ نمبر دیکھا تو پاکستان سے فون تھا۔ امی بات کررہی تھیں۔ پانچ چھ منٹ بات کرتی رہیں۔ میں سمجھ گیا تھا کہ انہوں نے کس لئے فون کیا ہے ۔ میں نے ہنس کر ان سے کہا ”آپ فکر نہ کیا کریں، میں اب بڑا ہوگیاہوں۔ اب نہیں روتا۔“ جوابا کہنے لگیں، ”نئیں ۔۔۔نئیں۔۔۔ میں تے ویسے ای فون کیتا سی“۔
مجھے پاکستان چھوڑے ہوئے سات سال سے زیادہ ہوگئے۔ لڑکپن کے شوق اور جذبے کچھ مدہم ہوگئے اور کچھ معدوم۔ کرکٹ بھی ان میں ہی شامل ہے ۔ لیکن میری ماں جب بھی کبھی پاکستان کا میچ ہو تو فون کرکے باتوں باتوں میں میری حالت کا اندازہ ضرور کرتی ہیں!!
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
بلاگروں کی حکومت
بلاگروں کی مسلسل بقراطیوں، افلاطونیوں اور چخ چخ سے تنگ آکر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر اس ملک کا وزیر اعظم چوہدری شجاعت جیسا شخص بن سکتا ہے تو بلاگروں میں کیا کیڑے پڑے ہوئے ہیں؟ لہذا اس سارے جمہوری ڈرامے کو ختم کرکے تین سال کے لئے بلاگروں کی حکومت قائم کردی جائے تاکہ ملک ایسا جنت نظیر بن جائے جیسا بنانے کے دعوے وہ اپنے بلاگوں میں عرصہ دراز سے کررہے ہیں۔ ویسے بھی ہم نے ہر قسم کے تجربے کر کے تو دیکھ لئے ہیں۔ فوجی اور سول ڈکٹیٹر بھی بھگت لئے۔ اسلام نظام کے دعوے دار بھی موجیں کرگئے۔ عوام کی حالت بدلنے کے نعرے لگانے والے بھی اپنی حالت بدل کے چلے گئے تو ”اک گناہ اور سہی“ کی طرز پر اگر ایک اور تجربہ بھی ہوجائے تو اس میں ہرج ہی کیا ہے۔ یہ تجربہ کامیاب ہوگیاتو وارے نیارے اور اگر نہ ہوا تو کم ازکم ان بلاگروں کی چونچ تو بند ہوہی جائے گی!
یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بلاگی حکومت کے پاس ہر قسم کے فیصلے کرنے اور انہیں نافذ کرنے کا اختیار ہو اور یہ موجودہ نمائشی قسم کی حکومت نہ ہو جس کے پاس دوروں پر جاکر ”لوشے“ لوٹنے کے علاوہ کوئی اختیار ہی نہیں۔
یہ خبر سنتے ہی دس بارہ بلاگر تو شادئ مرگ کی کیفیت سے دوچار ہو کر داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے اور باقی ”اج خوشیاں دے نال مینوں چڑھ گئے نیں حال“ کی عملی تفسیر بن گئے!
اب سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا کہ اس حکومت کا سربراہ کون ہو اور کابینہ میں کس کو شامل کیا جائے اور ان کے محکمے کیا ہوں؟ یہاں آکر پچھلے دوسال سے بلاگر ایک دوسرے سے ”بلاگو بلاگی“ ہورہے ہیں اور کوئی فیصلہ نہیںہوسکا ہے!
سو پیارے قارئین اس قضئے کے حل کے لئے آپ کی مدد درکار ہے۔ آپ کے خیال میں اس بلاگی حکومت کی ہیئت ترکیبی کیا ہونی چاہئے؟
بلا خوف و خطر اپنی رائے کا اظہار کیجئے! اگر آپ کی تجاویز کے مطابق حکومتی سیٹ اپ بن گیا تو آپ کے پوبارہ بھی ہوسکتے ہیں!
یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بلاگی حکومت کے پاس ہر قسم کے فیصلے کرنے اور انہیں نافذ کرنے کا اختیار ہو اور یہ موجودہ نمائشی قسم کی حکومت نہ ہو جس کے پاس دوروں پر جاکر ”لوشے“ لوٹنے کے علاوہ کوئی اختیار ہی نہیں۔
یہ خبر سنتے ہی دس بارہ بلاگر تو شادئ مرگ کی کیفیت سے دوچار ہو کر داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے اور باقی ”اج خوشیاں دے نال مینوں چڑھ گئے نیں حال“ کی عملی تفسیر بن گئے!
اب سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا کہ اس حکومت کا سربراہ کون ہو اور کابینہ میں کس کو شامل کیا جائے اور ان کے محکمے کیا ہوں؟ یہاں آکر پچھلے دوسال سے بلاگر ایک دوسرے سے ”بلاگو بلاگی“ ہورہے ہیں اور کوئی فیصلہ نہیںہوسکا ہے!
سو پیارے قارئین اس قضئے کے حل کے لئے آپ کی مدد درکار ہے۔ آپ کے خیال میں اس بلاگی حکومت کی ہیئت ترکیبی کیا ہونی چاہئے؟
بلا خوف و خطر اپنی رائے کا اظہار کیجئے! اگر آپ کی تجاویز کے مطابق حکومتی سیٹ اپ بن گیا تو آپ کے پوبارہ بھی ہوسکتے ہیں!
فٹافٹ پیزا
جیسا کہ یہاں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ میں اگر مجلس بھی پڑھوں تو یار لوگ اس میں سے بھی ہنسی کا سامان برآمد کرلیں گے!!
تو کیا ضرورت ہے پھر منہ پکا کرکے سنجیدہ باتیں کرنے کی! تو خواتین و حضرات۔۔۔۔۔ ہور چوپو!!
پچھلی دو تراکیب روایتی اور مشرقی کھانوں پر مشتمل تھیں۔ اس دفعہ نوجوان نسل کے ذوق کو مدنظر رکھتے ہوئے پیزا کی ترکیب پیش خدمت ہے۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف۔۔۔۔
اجزاء:
1- میدہ
2- تازہ زیتون
3- زیتون کا تیل
4- پنیر
5- ٹماٹر
6- پیاز
7- کالی مرچ
8- کھمبیاں
9- مرغی
اوہو۔۔۔ یہ تو بہت سارے اجزاء ہوگئے ہیں۔ ہممم اب کیا کریں؟؟؟
ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ سر کھپائی کرکے خواتین کے کسی ڈائجسٹ سے پیزا بنانے کی ترکیب ڈھونڈیں اور پھر مندرجہ بالا اجزاء کسی نہ کسی طرح اس میں فٹ کرکے پیزا تیار کرلیں۔ لیکن خدشہ ہے کہ وہ پیزا کھانے والا ہر ذی روح مجھے بددعائیں ضرور دے گا۔ ایک دوسرا خدشہ بھی ہے کہ اتنی دیر میں شاید بھوک سے آپ کا دم ہی نکل جائے تو مرنے کے بعد تو بندہ کچھ بھی نہیں کھا سکتا!! ہیں جی۔۔۔
تو پھر کیاکریں اب؟؟ اچھا، ٹھہریں ذرا ایک منٹ ۔۔ مجھے ذرا سوچنے دیں۔۔۔۔ ارے ہاں۔۔۔ آپ ایسا کریں کہ فورا سے پیشتر ان تمام اجزاء کو جہاں جہاں سے نکالا تھا وہاں رکھیں، اپنی جیب میں ”جھاتی“ ماریں اگر کرنسی نوٹوں کی قابل عزت مقدار نظر آئے تو سایکل ، موٹر سائیکل یا کار پر اور اگر ذاتی سواری میسر نہ ہوتو تانگے ، رکشے ، چنگ چی، منی بس، ٹویوٹا ہائی ایس جو بھی میسر آئے، اس میںسوار ہوجائیں اور اپنے قریبی پیزا ہٹ جاکر اپنی مرضی کا پیزا کھائیں اور مجھے دعائیں دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔
پیزا ہٹ والے اس مفت کی پبلسٹی پر اگر مجھے عمر بھر کے لئے مفت پیزا فراہم کرنے لگیں تو اسے میری قسمت اور اپنی بدقسمتی گردانیں اور تقدیر کا لکھا سمجھ کر برداشت کریں جیسا کہ ساری قوم ہر قسم کے عذاب ، چھترپولے اور لتریشن ، تقدیر کا لکھا سمجھ کر کافی عرصے سے برداشت کررہی ہے!!!
تو کیا ضرورت ہے پھر منہ پکا کرکے سنجیدہ باتیں کرنے کی! تو خواتین و حضرات۔۔۔۔۔ ہور چوپو!!
پچھلی دو تراکیب روایتی اور مشرقی کھانوں پر مشتمل تھیں۔ اس دفعہ نوجوان نسل کے ذوق کو مدنظر رکھتے ہوئے پیزا کی ترکیب پیش خدمت ہے۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف۔۔۔۔
اجزاء:
1- میدہ
2- تازہ زیتون
3- زیتون کا تیل
4- پنیر
5- ٹماٹر
6- پیاز
7- کالی مرچ
8- کھمبیاں
9- مرغی
اوہو۔۔۔ یہ تو بہت سارے اجزاء ہوگئے ہیں۔ ہممم اب کیا کریں؟؟؟
ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ سر کھپائی کرکے خواتین کے کسی ڈائجسٹ سے پیزا بنانے کی ترکیب ڈھونڈیں اور پھر مندرجہ بالا اجزاء کسی نہ کسی طرح اس میں فٹ کرکے پیزا تیار کرلیں۔ لیکن خدشہ ہے کہ وہ پیزا کھانے والا ہر ذی روح مجھے بددعائیں ضرور دے گا۔ ایک دوسرا خدشہ بھی ہے کہ اتنی دیر میں شاید بھوک سے آپ کا دم ہی نکل جائے تو مرنے کے بعد تو بندہ کچھ بھی نہیں کھا سکتا!! ہیں جی۔۔۔
تو پھر کیاکریں اب؟؟ اچھا، ٹھہریں ذرا ایک منٹ ۔۔ مجھے ذرا سوچنے دیں۔۔۔۔ ارے ہاں۔۔۔ آپ ایسا کریں کہ فورا سے پیشتر ان تمام اجزاء کو جہاں جہاں سے نکالا تھا وہاں رکھیں، اپنی جیب میں ”جھاتی“ ماریں اگر کرنسی نوٹوں کی قابل عزت مقدار نظر آئے تو سایکل ، موٹر سائیکل یا کار پر اور اگر ذاتی سواری میسر نہ ہوتو تانگے ، رکشے ، چنگ چی، منی بس، ٹویوٹا ہائی ایس جو بھی میسر آئے، اس میںسوار ہوجائیں اور اپنے قریبی پیزا ہٹ جاکر اپنی مرضی کا پیزا کھائیں اور مجھے دعائیں دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔
پیزا ہٹ والے اس مفت کی پبلسٹی پر اگر مجھے عمر بھر کے لئے مفت پیزا فراہم کرنے لگیں تو اسے میری قسمت اور اپنی بدقسمتی گردانیں اور تقدیر کا لکھا سمجھ کر برداشت کریں جیسا کہ ساری قوم ہر قسم کے عذاب ، چھترپولے اور لتریشن ، تقدیر کا لکھا سمجھ کر کافی عرصے سے برداشت کررہی ہے!!!
ورزش کے فائدے
|
ٹیگ
ازخود نوٹس,
امراض قلب,
بلند فشار خون,
جسٹس افتخار چوہدری,
ذیابیطس,
ڈپریشن,
کچھ ہلکا پھلکا,
موٹاپا,
ورزش
|
تبصرے: 21
غلط سمجھے آپ! یہ کوئی دسویں کا اردو ”ب“ کا پرچہ نہیں، جس میں ”ورزش کے فائدے“ نامی جواب مضمون لکھا جارہا ہو۔ یہ واقعی ورزش کے فائدے بیان ہورہے ہیں۔ سنجیدگی کے ساتھ سنیئے!
آپ ڈپریشن میں مبتلا ہیں، ہر وقت ٹینشن میں رہتے ہیں، آپ کا ہاضمہ بھی کام نہیں کرتا، وزن بڑھتا جارہا ہے، آپ کی کمر کو لوگ کمرہ کہنے لگے ہیں۔ تو ایک آزمودہ علاج پیش خدمت ہے۔ کوئی دوا کھانے کی ضرورت نہیں، کوئی ٹوٹکے بھی نہیں کہ فلانے بیج لے کر فلانے شربت میں گھوٹ کر نوش کریں۔ ڈائٹنگ کی بھی ضرورت نہیں، کرنا آپ کو صرف یہ ہے کہ ہفتے میں کم از کم چار دن 45 منٹ تک ورزش کریں۔ ورزش کا انتخاب بھی آپ کی اپنی صوابدید ہے۔ دوڑ سے لے کر پیدل چلنے تک، عام ورزش سے لے کر ویٹ ٹریننگ تک جو بھی آپ پسند کریں۔ شرط صرف مستقل مزاجی ہے۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایک سے دو ہفتوں میں آپ ذہنی اور جسمانی طور پر مثبت تبدیلی محسوس کریں گے۔ آپ خود کو زیادہ خوش اور تندرست محسوس کریں گے۔ خاص طور پر ڈپریشن کے لئے یہ ایک اکسیری نسخہ ہے۔ جب بھی آپ خود کو ڈپریس محسوس کریں، فورا اٹھیں اور ہلکی پھلکی ورزش شروع کردیں۔ چاہے آفس کے لوگ آپ کو خبطی سمجھیں یا گھر والے پاگل۔ ان کی پرواہ نہ کریں۔
یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ ورزش سے کونسا عضو کونسے کیمیکل بناتا ہے جس سے بندہ خوش اور تندرست محسوس کرتا ہے، یہ باتیں آپ پورے ڈاکٹر اور زیر تعمیر ڈاکٹر سے پوچھ کر کنفرم کرسکتے ہیں، لیکن اتنا میں ضرور جانتا ہوں کہ جو بندہ یا بندی ورزش کو عادت بنالے تو مرنے تک صحت مند رہےگا/گی انشاءاللہ اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ موت کا کوئی علاج نہیں، لیکن مرنے سے پہلے قسطوں میں مت مریں۔
اور ورزش کریں!!
بسوں اور ٹرینوں میں منجن ، چورن وغیرہ بیچنے والوں سے تشبیہہ دینے پر سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ جج صاحب بحال ہوچکے ہیں اور میرا بلاگ بھی باقاعدگی سے پڑھتے ہیں لہذا ازخود نوٹس سے بچنےکے لئے سنجیدگی سے تبصرے کئے جائیں۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی... دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔۔۔۔
آپ ڈپریشن میں مبتلا ہیں، ہر وقت ٹینشن میں رہتے ہیں، آپ کا ہاضمہ بھی کام نہیں کرتا، وزن بڑھتا جارہا ہے، آپ کی کمر کو لوگ کمرہ کہنے لگے ہیں۔ تو ایک آزمودہ علاج پیش خدمت ہے۔ کوئی دوا کھانے کی ضرورت نہیں، کوئی ٹوٹکے بھی نہیں کہ فلانے بیج لے کر فلانے شربت میں گھوٹ کر نوش کریں۔ ڈائٹنگ کی بھی ضرورت نہیں، کرنا آپ کو صرف یہ ہے کہ ہفتے میں کم از کم چار دن 45 منٹ تک ورزش کریں۔ ورزش کا انتخاب بھی آپ کی اپنی صوابدید ہے۔ دوڑ سے لے کر پیدل چلنے تک، عام ورزش سے لے کر ویٹ ٹریننگ تک جو بھی آپ پسند کریں۔ شرط صرف مستقل مزاجی ہے۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایک سے دو ہفتوں میں آپ ذہنی اور جسمانی طور پر مثبت تبدیلی محسوس کریں گے۔ آپ خود کو زیادہ خوش اور تندرست محسوس کریں گے۔ خاص طور پر ڈپریشن کے لئے یہ ایک اکسیری نسخہ ہے۔ جب بھی آپ خود کو ڈپریس محسوس کریں، فورا اٹھیں اور ہلکی پھلکی ورزش شروع کردیں۔ چاہے آفس کے لوگ آپ کو خبطی سمجھیں یا گھر والے پاگل۔ ان کی پرواہ نہ کریں۔
یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ ورزش سے کونسا عضو کونسے کیمیکل بناتا ہے جس سے بندہ خوش اور تندرست محسوس کرتا ہے، یہ باتیں آپ پورے ڈاکٹر اور زیر تعمیر ڈاکٹر سے پوچھ کر کنفرم کرسکتے ہیں، لیکن اتنا میں ضرور جانتا ہوں کہ جو بندہ یا بندی ورزش کو عادت بنالے تو مرنے تک صحت مند رہےگا/گی انشاءاللہ اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ موت کا کوئی علاج نہیں، لیکن مرنے سے پہلے قسطوں میں مت مریں۔
اور ورزش کریں!!
بسوں اور ٹرینوں میں منجن ، چورن وغیرہ بیچنے والوں سے تشبیہہ دینے پر سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ جج صاحب بحال ہوچکے ہیں اور میرا بلاگ بھی باقاعدگی سے پڑھتے ہیں لہذا ازخود نوٹس سے بچنےکے لئے سنجیدگی سے تبصرے کئے جائیں۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی... دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔۔۔۔
ایک اندوہناک سانحہ!!
سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں؟ آہ۔۔۔
ایسا زخم ملے گا کبھی سوچا بھی نہ تھا۔۔۔۔ زندگی سے نفرت سی ہو گئی ہے ۔۔۔۔ بھوک مر گئی ہے۔۔۔۔ ساری ساری رات نیند نہیںآتی۔۔۔ کام میں دل نہیں لگتا۔۔۔ پہننا، اوڑھنا، کھانا پینا سب چھوٹ گیا ہے۔۔۔۔ دل میں آتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر صحرا میں نکل جاؤں (نکلنے کی ویسے کوئی ضرورت تو نہیں کہ پہلے ہی صحرا میں ہوں۔۔۔۔ لیکن پھر بھی برائے وزن بیت) کپڑے پھاڑ دوں (صرف شرٹ ۔۔) ۔۔۔ دنیا میں جتنے بھی ٹینس کورٹ ہیں ان کو آگ لگادوں۔۔۔ ٹینس کے ریکٹ سے اپنا اور جو سامنے آئے اس کا سر پھوڑ دوں ۔۔۔۔ ساری دنیا کی ٹینس بالز ، ٹینس بال کرکٹ کھیلنے والوں میںتقسیم کردوں ۔۔۔۔۔ تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ۔۔۔ کیا کہا۔۔۔ ہوا کیا ہے؟؟؟ ہونا کیا ہے جی۔۔۔ آپ نے بھی پڑھا ہوگا اخبار میں ایک دو دن پہلے۔۔۔ اس کی منگنی ہوگئی ہے!!!!
ایسا زخم ملے گا کبھی سوچا بھی نہ تھا۔۔۔۔ زندگی سے نفرت سی ہو گئی ہے ۔۔۔۔ بھوک مر گئی ہے۔۔۔۔ ساری ساری رات نیند نہیںآتی۔۔۔ کام میں دل نہیں لگتا۔۔۔ پہننا، اوڑھنا، کھانا پینا سب چھوٹ گیا ہے۔۔۔۔ دل میں آتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر صحرا میں نکل جاؤں (نکلنے کی ویسے کوئی ضرورت تو نہیں کہ پہلے ہی صحرا میں ہوں۔۔۔۔ لیکن پھر بھی برائے وزن بیت) کپڑے پھاڑ دوں (صرف شرٹ ۔۔) ۔۔۔ دنیا میں جتنے بھی ٹینس کورٹ ہیں ان کو آگ لگادوں۔۔۔ ٹینس کے ریکٹ سے اپنا اور جو سامنے آئے اس کا سر پھوڑ دوں ۔۔۔۔ ساری دنیا کی ٹینس بالز ، ٹینس بال کرکٹ کھیلنے والوں میںتقسیم کردوں ۔۔۔۔۔ تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ۔۔۔ کیا کہا۔۔۔ ہوا کیا ہے؟؟؟ ہونا کیا ہے جی۔۔۔ آپ نے بھی پڑھا ہوگا اخبار میں ایک دو دن پہلے۔۔۔ اس کی منگنی ہوگئی ہے!!!!