بلاگروں کی حکومت

بلاگروں کی مسلسل بقراطیوں، افلاطونیوں اور چخ چخ سے تنگ آکر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر اس ملک کا وزیر اعظم چوہدری شجاعت جیسا شخص بن سکتا ہے تو بلاگروں میں کیا کیڑے پڑے ہوئے ہیں؟ لہذا اس سارے جمہوری ڈرامے کو ختم کرکے تین سال کے لئے بلاگروں کی حکومت قائم کردی جائے تاکہ ملک ایسا جنت نظیر بن جائے جیسا بنانے کے دعوے وہ اپنے بلاگوں میں عرصہ دراز سے کررہے ہیں۔ ویسے بھی ہم نے ہر قسم کے تجربے کر کے تو دیکھ لئے ہیں۔ فوجی اور سول ڈکٹیٹر بھی بھگت لئے۔ اسلام نظام کے دعوے دار بھی موجیں کرگئے۔ عوام کی حالت بدلنے کے نعرے لگانے والے بھی اپنی حالت بدل کے چلے گئے تو ”اک گناہ اور سہی“ کی طرز پر اگر ایک اور تجربہ بھی ہوجائے تو اس میں ہرج ہی کیا ہے۔ یہ تجربہ کامیاب ہوگیاتو وارے نیارے اور اگر نہ ہوا تو کم ازکم ان بلاگروں کی چونچ تو بند ہوہی جائے گی!
یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بلاگی حکومت کے پاس ہر قسم کے فیصلے کرنے اور انہیں نافذ کرنے کا اختیار ہو اور یہ موجودہ نمائشی قسم کی حکومت نہ ہو جس کے پاس دوروں پر جاکر ”لوشے“ لوٹنے کے علاوہ کوئی اختیار ہی نہیں۔
یہ خبر سنتے ہی دس بارہ بلاگر تو شادئ مرگ کی کیفیت سے دوچار ہو کر داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے اور باقی ”اج خوشیاں دے نال مینوں‌ چڑھ گئے نیں حال“ کی عملی تفسیر بن گئے!
اب سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا کہ اس حکومت کا سربراہ کون ہو اور کابینہ میں‌ کس کو شامل کیا جائے اور ان کے محکمے کیا ہوں؟ یہاں آکر پچھلے دوسال سے بلاگر ایک دوسرے سے ”بلاگو بلاگی“ ہورہے ہیں اور کوئی فیصلہ نہیں‌ہوسکا ہے!
سو پیارے قارئین اس قضئے کے حل کے لئے آپ کی مدد درکار ہے۔ آپ کے خیال میں اس بلاگی حکومت کی ہیئت ترکیبی کیا ہونی چاہئے؟
بلا خوف و خطر اپنی رائے کا اظہار کیجئے! اگر آپ کی تجاویز کے مطابق حکومتی سیٹ اپ بن گیا تو آپ کے پوبارہ بھی ہوسکتے ہیں!

فٹافٹ پیزا

جیسا کہ یہاں‌ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ میں اگر مجلس بھی پڑھوں‌ تو یار لوگ اس میں‌ سے بھی ہنسی کا سامان برآمد کرلیں گے!!
تو کیا ضرورت ہے پھر منہ پکا کرکے سنجیدہ باتیں کرنے کی! تو خواتین و حضرات۔۔۔۔۔ ہور چوپو!!
پچھلی دو تراکیب روایتی اور مشرقی کھانوں پر مشتمل تھیں۔ اس دفعہ نوجوان نسل کے ذوق کو مدنظر رکھتے ہوئے پیزا کی ترکیب پیش خدمت ہے۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف۔۔۔۔
اجزاء:
1- میدہ
2- تازہ زیتون
3- زیتون کا تیل
4- پنیر
5- ٹماٹر
6- پیاز
7- کالی مرچ
8- کھمبیاں
9- مرغی
اوہو۔۔۔ یہ تو بہت سارے اجزاء ہوگئے ہیں۔ ہممم اب کیا کریں؟؟؟
ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ سر کھپائی کرکے خواتین کے کسی ڈائجسٹ سے پیزا بنانے کی ترکیب ڈھونڈیں اور پھر مندرجہ بالا اجزاء کسی نہ کسی طرح اس میں فٹ کرکے پیزا تیار کرلیں۔ لیکن خدشہ ہے کہ وہ پیزا کھانے والا ہر ذی روح مجھے بددعائیں ضرور دے گا۔ ایک دوسرا خدشہ بھی ہے کہ اتنی دیر میں شاید بھوک سے آپ کا دم ہی نکل جائے تو مرنے کے بعد تو بندہ کچھ بھی نہیں کھا سکتا!! ہیں جی۔۔۔
تو پھر کیاکریں اب؟؟ اچھا، ٹھہریں ذرا ایک منٹ ۔۔ مجھے ذرا سوچنے دیں۔۔۔۔ ارے ہاں۔۔۔ آپ ایسا کریں کہ فورا سے پیشتر ان تمام اجزاء کو جہاں جہاں سے نکالا تھا وہاں رکھیں، اپنی جیب میں ”جھاتی“ ماریں اگر کرنسی نوٹوں کی قابل عزت مقدار نظر آئے تو سایکل ، موٹر سائیکل یا کار پر اور اگر ذاتی سواری میسر نہ ہوتو تانگے ، رکشے ، چنگ چی، منی بس، ٹویوٹا ہائی ایس جو بھی میسر آئے، اس میں‌سوار ہوجائیں اور اپنے قریبی پیزا ہٹ جاکر اپنی مرضی کا پیزا کھائیں اور مجھے دعائیں دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔
پیزا ہٹ والے اس مفت کی پبلسٹی پر اگر مجھے عمر بھر کے لئے مفت پیزا فراہم کرنے لگیں تو اسے میری قسمت اور اپنی بدقسمتی گردانیں اور تقدیر کا لکھا سمجھ کر برداشت کریں جیسا کہ ساری قوم ہر قسم کے عذاب ، چھترپولے اور لتریشن ، تقدیر کا لکھا سمجھ کر کافی عرصے سے برداشت کررہی ہے!!!

ورزش کے فائدے

غلط سمجھے آپ! یہ کوئی دسویں کا اردو ”ب“ کا پرچہ نہیں، جس میں ”ورزش کے فائدے“ نامی جواب مضمون لکھا جارہا ہو۔ یہ واقعی ورزش کے فائدے بیان ہورہے ہیں۔ سنجیدگی کے ساتھ سنیئے!
آپ ڈپریشن میں‌ مبتلا ہیں، ہر وقت ٹینشن میں رہتے ہیں، آپ کا ہاضمہ بھی کام نہیں کرتا، وزن بڑھتا جارہا ہے، آپ کی کمر کو لوگ کمرہ کہنے لگے ہیں۔ تو ایک آزمودہ علاج پیش خدمت ہے۔ کوئی دوا کھانے کی ضرورت نہیں، کوئی ٹوٹکے بھی نہیں کہ فلانے بیج لے کر فلانے شربت میں گھوٹ کر نوش کریں۔ ڈائٹنگ کی بھی ضرورت نہیں، کرنا آپ کو صرف یہ ہے کہ ہفتے میں کم از کم چار دن 45 منٹ تک ورزش کریں۔ ورزش کا انتخاب بھی آپ کی اپنی صوابدید ہے۔ دوڑ سے لے کر پیدل چلنے تک، عام ورزش سے لے کر ویٹ ٹریننگ تک جو بھی آپ پسند کریں۔ شرط صرف مستقل مزاجی ہے۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایک سے دو ہفتوں میں آپ ذہنی اور جسمانی طور پر مثبت تبدیلی محسوس کریں گے۔ آپ خود کو زیادہ خوش اور تندرست محسوس کریں گے۔ خاص طور پر ڈپریشن کے لئے یہ ایک اکسیری نسخہ ہے۔ جب بھی آپ خود کو ڈپریس محسوس کریں، فورا اٹھیں اور ہلکی پھلکی ورزش شروع کردیں۔ چاہے آفس کے لوگ آپ کو خبطی سمجھیں یا گھر والے پاگل۔ ان کی پرواہ نہ کریں۔
یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ ورزش سے کونسا عضو کونسے کیمیکل بناتا ہے جس سے بندہ خوش اور تندرست محسوس کرتا ہے، یہ باتیں آپ پورے ڈاکٹر اور زیر تعمیر ڈاکٹر سے پوچھ کر کنفرم کرسکتے ہیں، لیکن اتنا میں ضرور جانتا ہوں کہ جو بندہ یا بندی ورزش کو عادت بنالے تو مرنے تک صحت مند رہےگا/گی انشاءاللہ اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ موت کا کوئی علاج نہیں، لیکن مرنے سے پہلے قسطوں میں مت مریں۔
اور ورزش کریں!!
بسوں اور ٹرینوں میں منجن ، چورن وغیرہ بیچنے والوں سے تشبیہہ دینے پر سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ جج صاحب بحال ہوچکے ہیں اور میرا بلاگ بھی باقاعدگی سے پڑھتے ہیں لہذا ازخود نوٹس سے بچنےکے لئے سنجیدگی سے تبصرے کئے جائیں۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی...  دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔۔۔۔

ایک اندوہناک سانحہ!!

سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں؟ آہ۔۔۔
ایسا زخم ملے گا کبھی سوچا بھی نہ تھا۔۔۔۔ زندگی سے نفرت سی ہو گئی ہے ۔۔۔۔ بھوک مر گئی ہے۔۔۔۔ ساری ساری رات نیند نہیں‌آتی۔۔۔ کام میں دل نہیں لگتا۔۔۔ پہننا، اوڑھنا، کھانا پینا سب چھوٹ گیا ہے۔۔۔۔ دل میں آتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر صحرا میں نکل جاؤں (نکلنے کی ویسے کوئی ضرورت تو نہیں کہ پہلے ہی صحرا میں ہوں۔۔۔۔ لیکن پھر بھی برائے وزن بیت) کپڑے پھاڑ دوں (صرف شرٹ ۔۔) ۔۔۔ دنیا میں‌ جتنے بھی ٹینس کورٹ ہیں ان کو آگ لگادوں۔۔۔ ٹینس کے ریکٹ سے اپنا اور جو سامنے آئے اس کا سر پھوڑ دوں ۔۔۔۔ ساری دنیا کی ٹینس بالز ، ٹینس بال کرکٹ کھیلنے والوں میں‌تقسیم کردوں ۔۔۔۔۔ تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ۔۔۔ کیا کہا۔۔۔ ہوا کیا ہے؟؟؟ ہونا کیا ہے جی۔۔۔ آپ نے بھی پڑھا ہوگا اخبار میں ایک دو دن پہلے۔۔۔ اس کی منگنی ہوگئی ہے!!!!

ایسے بنتے ہیں طالبان۔۔۔



دونوں تصاویر لاہور کی ہیں۔
معیار زندگی میں اتنا بھیانک فرق اور تضاد بالآخر طالبان کو ہی جنم دیتا ہے!!!

استاد ”پونکا“ (پونکا کا نون، نون غنہ پڑھا جائے!)

درمیانہ قد، سہیل احمد جیسا منہ، خالد عباس ڈار جیسی مونچھیں، وحید مراد جیسا ہئیر سٹائل، محمد علی جیسی پاٹ دار آواز، سگریٹ ہر وقت منہ میں، یہ ہیں ”استاد پونکا“۔ نام تو ان کا کچھ اور تھا لیکن ہر خاص و عام میں‌ ہمارا (میرا اور میرے لنگوٹیے یار کا) دیا ہوا یہ نام مقبول ہوگیا تھاجو کہ حسب حال بھی تھا، اگرچہ ان کے سامنے کسی کی جرات نہ تھی کہ یہ نام دہراتا!
ہمارے محلے میں‌ ان کی ویلڈنگ کی دکان تھی جس میں لوہے کے گیٹ، کھڑکیاں اور ایسی ہی دوسری چیزیں بنتی تھیں۔ ان کی دکان کے باہر پڑا ہوا لکڑی کا بنچ پورے محلے کی چوپال اور افواہوں کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ ہالی ووڈ میں جتنے بھی سپر ہیروز کے کردار تخلیق کئے گئے ہیں ان سب کی انسپریشن انہیں استاد پونکے سے ہی ملی ہوگی۔ استاد بقول ان کے دنیا کے ہر فن اور ہر علم پر حاوی تھے۔ دل کے آپریشن سے لے کر فوجی آپریشن تک، کرکٹ سے گلی ڈنڈے تک، شاعری سے گلوکاری تک، اداکاری سے ہدایت کاری تک ، ہر چیز پر اپنی رائے کو آخری سمجھتے تھے اور اس سے متفق نہ ہونے والے کی بنچ پر جگہ نہیں‌ رہتی تھی!‌
مچھلی کا شکار اور مکیش کے گانے ان کی خصوصی دلچسپی کے حامل تھے۔ مکیش کے سب سے دردناک گانے وہ اپنی دکان پر رکھے ہوئے ازمنہ قدیم کے ڈیک پر تب بجاتے تھے جب ان کے پاس کوئی کام آجاتا تھا۔ وہ اس قول کے بھی قائل تھے کہ ”کم جواناں دی موت اے“۔ لہذا کام کی شکل دیکھتے ہی ایسے گانے ڈیک پر چلنے شروع ہوجاتے تھے کہ تیسرے ہی گانے پر انسان کا خود کشی کرنے کو دل چاہے اور یہ گانے اس وقت تک لگاتار بجتے جب تک کام ختم نہیں‌ ہوتا تھا۔
پونکے کا خطاب استاد کو ان کی آواز اور اس سے جو کام وہ لیتے تھے، اس بناء پر دیا گیا تھا۔ ان کی آواز ایسی تھی کہ بیوی کے کان میں‌ بھی سرگوشی کریں تو ہمسائی شرم سے دوہری ہو جائے ! ان کی سرگوشی کی آواز بھی 20 میٹر دور سے سنی جاسکتی تھی۔ استاد کی شادی تب ہوئی جب ساری کائنات ان کی شادی سے مایوس ہوچکی تھی۔ وجہ؟؟ جب بھی لڑکی والے استاد کو دیکھنے آتے تو بجائے ان کو انٹرویو دینے کے، استاد جی ان کا انٹر ویو لینا شروع کردیتے تھے! اب آپ خود ہی بتائیں کہ ہونے والے سسر سے کوئی افیم کے خواص پر بات کرسکتا ہے؟؟؟ جی ہاں استاد جی کرلیتے تھے اسی لئے ان کے ارمانوں کی ہر کلی پھول بننے سے پہلے ہی مرجھا جاتی تھی۔ ان کی شادی کی کہانی بھی ایک پورے مضمون کی متقاضی ہے۔ لہذا پھر کبھی۔۔۔
استاد کی سب سے بڑی خصوصیت ان کے وہ کارنامے ہیں جو ہم ان کی زبانی سنتے آئے تھے۔ حاسد لوگ ان کارناموں کو گپیں بھی کہتے تھے لیکن آپ تو جانتے ہی ہیں کہ جینیس لوگوں کا ایک سجن تو سو دشمن ہوتے ہیں۔ استاد نے بھی کبھی اس ہرزہ سرائی پر دھیان نہیں دیا اور بدستور اپنے کارنامے گھڑتے ۔۔اوہ۔۔۔ معاف کیجئے سناتے رہے۔ کچھ عاقبت نااندیش تو استاد جی کو ایف ایم420 گپستان کا ڈی جے بھی کہتے تھے!
اس ”مختصر“ سی تمہید کا مقصد استاد سے آپ کا تعارف کروانا تھا۔ ان کے کارنامے گاہے بگاہے آپ کے سامنے پیش کرتا رہوں گا۔

مزید چوّلیں

بکواس کرنا آسان اور سننا بہت مشکل ہے۔۔۔
==============================================================
دولت کی نمائش، جسم کی نمائش سے بھی بڑی فحاشی ہے!
==============================================================
گنجا مرد اور موٹی عورت ، پھیکے خربوزے کی طرح ہوتے ہیں۔۔۔۔
==============================================================
شادی سے پہلے اپنی مجوزہ ساس کو غور سے دیکھیں، آپ کو اپنی ہونے والی بیوی کا مستقبل نظر آجائےگا۔
==============================================================
خود پر ہنسنا سیکھیں اس سے پہلے کہ دنیا آپ پر ہنسنا شروع کردے۔۔۔
==============================================================
جو عورت اپنی ساس کی عادتیں اپنالے، اس کا شوہر ہمیشہ اس کے قابو میں رہتا ہے!!
==============================================================
عاشق کو محبوب سے ”اپائنٹمنٹ“ کم اور ”ڈس اپائنٹمنٹ“ زیادہ ملتی ہے۔۔
==============================================================
زخم بھر جاتا ہے، اس کا نشان نہیں مٹتا۔۔۔۔

ویل پلیسڈ بلاگر

فرض کیجئے آپ ایک بلاگر ہیں۔ آپ نے دیکھادیکھی بلاگ شروع کیا۔ آپ کا مقصد شہرت اور اگر ہوسکے تو پیسہ تھا۔ آپ نے مشہور ہونے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے، ریپ گانے پوسٹ کئے، مذہبی بحثوں‌ پر پوسٹیں لکھیں، لطیفے لکھے، دوسروں کی شاعری اپنے نام سے شائع کی، دوسرے بلاگروں کی مٹی پلید کی۔ الغرض آپ نے ہر حربہ آزما کر دیکھ لیا لیکن آپ کے بلاگ پر ٹریفک نہ ہونے کی برابر رہی۔ آپ پریشان اور مایوس ہوگئے۔ آپ کو اپنی زندگی کی تمام ناکامیاں اور حسرتیں‌ یاد آگئیں۔ آپ کا دل غصے، رنج اور شکووں سے بھر گیا۔ آپ اس دنیا، اس نظام، اس نا انصافی پر لعنت بھیج کر جنگلوں میں نکل جانے کی سوچنے لگے۔ لیکن پھر ایک دن اچانک آپ کے بلاگ پر اتنے وزٹ ہوئے کہ سرور ڈاؤن ہوگیا۔ گوگل والوں نے آپ کے بلاگ پر اپنے اشتہار چلانے کے لئے آپ کا منت ترلا شروع کردیا۔ یوٹیوب نے اپنے صفحہ اول پر آپ کے بلاگ کا لنک دے دیا۔ آپ پر شہرت اور دولت، بارش کی طرح برسنے لگی۔ ٹی وی چینلز والے ایک انٹرویو کے لئے آپ کو لاکھوں روپے کی آفر کرنے لگے، بڑے اخبارات نے آپ کے بلاگ کو چھاپنے کے حقوق حاصل کرنے لئے بڑھ چڑھ کر بولی لگانا شروع کردی۔آپ کے بلاگ کا ذکر بی بی سی اور سی این این پر ہونے لگا۔ آپ کی پوسٹوں کو حامد میر کیپٹل ٹاک کا موضوع بنانے لگا۔ بولتا پاکستان سے مشتاق منحوس۔۔۔ اوہوووو۔۔۔ منہاس روز آپ کو فون کرکے آپ کی رائے لینے لگا۔ اب آپ کے بلاگ پر تبصرہ کرنے کے لئے بھی 2 ڈالر فیس مقرر ہوگئی اور آپ جن بلاگز پر تبصرے کرتے تھے اور وہ اس کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کرتے تھے وہی بلاگر اب آپ کے بلاگ کو تبصروں سے بھرنے لگے۔
آپ کی زندگی میں ایک اور تبدیلی بھی ہوئی، وہ لڑکی جو دور سے آپ کو آتا دیکھ کر ناک پر رومال رکھ لیتی تھی، اب آپ کے تھکے ہوئے لطیفوں پر بھی ایسے ہنسنے لگی کہ اسکی داڑھوں پر لگا ہوا کیڑا بھی آپ کو نظر آنے لگا اور اس نے دوپہر میں جو آلو گوبھی کھائی تھی اس کی مہک بھی اس کے منہ سے آپ کے نتھنوں تک آنے لگی۔ آپ ہائی سوسائٹی میں‌ ”موو“ کرنے لگے۔ جیسی خواتین کی تصاویر آپ روزنامہ وقت میں ”پولو کے میچ سے لطف اندوز ہوتی ہوئی شائقین“ کی کیپشن کے تحت دیکھا کرتے تھے اور آہیں‌ بھرا کرتے تھے ، اب انہی کے ساتھ آپ فائیو سٹار ہوٹلز میں لنچ اور ڈنر اڑانے لگے۔ آپ کی صبحیں سوتے ہوئے، شامیں کلبوں میں اور راتیں ڈانس پارٹیز میں گزرنے لگیں۔ آپ ایسی زندگی گزارنے لگے جس کا خواب بھی آپ کو دیکھنے کی اجازت نہیں تھی ۔۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ
آپ کی آنکھ کھل گئی!!!

ابن صفی - نمک پارے

”آپ کا مذہب کیا ہے۔۔۔۔!“
”بکواس۔۔۔۔!“
”کیا مطلب۔۔۔۔!“
”مذہب کے سلسلے میں عموما بکواس کرتاہوں ۔۔۔۔ عمل نہیں کرتا۔!“
(پتھروں کے پیچھے)
-----------------------------------------------------------------------------------------
”تم مجھے بہت اچھے لگتے ہو۔!“
”ہماری ممی بھی یہی کہتی ہیں۔!“ عمران نے بڑی سادگی سے جواب دیا۔
(شفق کے پجاری)
-----------------------------------------------------------------------------------------
”۔۔۔ان کے قریب ہی ایک تین سالہ صاحب زادے والدہ محترمہ کی گود میں بیٹھے ان کی ٹھوڑی کو ہاتھ لگا لگا کر گارہے تھے
جان من اتنا بتادو ۔۔۔ محبت ۔۔۔ محبت ۔۔۔۔ محبت ہے کیا
”ٹیپو۔۔۔ چپ بیٹھو۔۔۔ !“ وہ اسے جھڑک کر بولیں ۔۔۔۔ اور پھر اپنے ساتھ والی خاتون سے گفتگو کرنے لگیں۔
”باس میں کیا کروں۔۔۔! جوزف کراہا۔
”اب کیا بتاؤں ۔۔۔۔۔ تو آنکھیں نہیں کھول سکتا ورنہ میں تجھے آنے والی نسل کا ٹیپو دکھاتا۔!“
(تصویر کی اڑان)
-----------------------------------------------------------------------------------------
”ارے بند کرو ۔۔۔ ورنہ میں تمہارا گلا گھونٹ دوں گی۔“ وہ دونوں کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر چیخی۔
عمران نے بوکھلائے ہوئے انداز میں ستار رکھ دیا اور دروازے کی طرف چھلانگ لگائی۔ دروازہ اتنی بدحواسی کے ساتھ بند کیا جیسے مویشیوں کے اندر گھس آنے کا خدشہ رہا ہو۔
”ٹھیک ہے۔“ اس نے خوفزدہ انداز میں روشی سے پوچھا۔
”کیا ٹھیک ہے“۔
”بند کردیا۔“
”میں نے ستار بند کرنے کو کہاتھا“۔
”اس میں دروازے نہیں ہیں۔“ بہت سادگی سے جواب دیا گیا۔
(قاصد کی تلاش)
-----------------------------------------------------------------------------------------
”عورت اور گاؤدی۔“ عمران آنکھیں نکال کر بولا۔ ”دنیا کی ہر عورت گاؤدی ہونے کے علاوہ اور سب کچھ ہو سکتی ہے۔ عورت سے زیادہ چالاک جانور روئے زمین پر دوسرا نہیں ملے گا۔ ارے یہی کیا کم ہے کہ اس نے بڑے بڑے افلاطونوں کو اپنے گاؤدی ہونے کا یقین دلا دیا۔۔۔ محض اس لئے کہ ذمہ داریوں کے بوجھ سے سبکدوش ہوجائے۔ عورت تو اس وقت بھی ذہین تھی جب آدمی درختوں کی جڑیں کھود کر اپنا پیٹ بھرتا تھا۔ سو مردوں میں کم از کم دس مرد بے وقوف ہوتے ہیں لیکن اگر تم پانچ سو عورتوں میں سے آدھی بے وقوف عورت بھی پیدا کرسکو تو علی عمران ایم۔ایس۔سی۔ پی۔ایچ۔ڈی گورداسپوری اس سے شادی کرلے گا۔۔۔ آدھی ہی سہی ۔۔۔ اور کیا؟“
(قاصد کی تلاش)
-----------------------------------------------------------------------------------------

چرسیلے گلاب جامن

جعفر کا دسترخوان کے ساتھ ایک بار پھر حاضر ہوں۔ پچھلی ترکیب کی سپر ہٹ کامیابی کے بعد حضرات کے پرزور اصرار پر سویٹ ڈش کی ترکیب پیش خدمت ہے۔ گذارش صرف اتنی ہے کہ پکڑے جانے کی صورت میں‌ میرا نام بالکل مت لیں! نوازش ہوگی!!!
ہاں تو پھر اجزاء نوٹ کرلیں۔

1- اچھی کوالٹی کی چرس (حسب ذائقہ اور حسب ہمت)
2- دو کلو گلاب جامن (کسی بھی لاری اڈے میں‌واقع مٹھائی کی دکان سے خریدی گئی ہوں)
3- بس اتنے ہی اجزاء ہیں!!

بہت آسان ترکیب ہے۔ گلاب جامن کھا کر اس کے بعد چرس والا سگریٹ پئیں پھر گلاب جامن کھائیں پھر سگریٹ پئیں پھر گلاب جامن کھائیں‌پھر۔۔۔۔ علی ہذ القیاس ۔۔۔۔ حتی کہ انٹا غفیل ہوجائیں۔
یہ بات دھیان میں رہے کہ یہ ترکیب کسی ایسی جگہ استعمال کریں جہاں پولیس اور گھر والوں کے چھاپے کا ڈر نہ ہو۔ اگر شومئی قسمت سے پھر بھی پکڑے جائیں تو براہ مہربانی میرا نام مت لیں!! اور پولیس کے ہاتھوں‌ پکڑے جانے کی صورت میں اصرار کریں کہ ”پانجہ“ فورا ہی لگا دیا جائے کیونکہ چرسیلے گلاب جامنوں کی وجہ سے درد زیادہ محسوس نہیں ہوگا! ہیں‌جی۔۔۔ کیا کہا!! نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ تجربہ نہیں ہے میرا۔۔۔ کامن سینس کی بات ہے!! اور اگر گھر والوں‌ نے پکڑ لیا تو ایسا ”چھتر پولا“ تو ہوتا ہی رہتا ہوگا آپ کا۔۔۔ اس لئے یہ کوئی زیادہ تشویش کی بات نہیں ہے۔۔۔
بس اب اجازت دیں۔۔۔ اگلی ترکیب کے ساتھ پھر حاضر خدمت ہوں گا۔۔۔ اگر کسی نے مخبری نہ کردی تو۔۔۔۔

بہت بےآبرو ہو کر ترے ”دفتر“ سے ہم نکلے۔۔۔

یہ اس وقت کا قصہ ہے جب آتش جوان تھا بلکہ درست تو یوں ہے کہ بچپن اور جوانی کی سرحد پر حیران تھا۔ تازہ تازہ سکول کی قید سے رہائی ملی تھی اور کالج کی آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع! ایسا محسوس ہوتا تھا جیسا نیلسن منڈیلا کو 30 سال سے زیادہ کی قید کے بعد رہائی ملنے پر محسوس ہوا ہوگا۔ میرے بہت سے مینوفیکچرنگ فالٹس میں سے ایک لیڈری بھی تھا(اورہے) اور لیڈری بھی ایسی جس کے بارے میں خالد مسعود نے کہا تھا؛

اس کو پلس سے روز ہی چھتر پڑتے تھے
کرتا تھا ایسی تقریر کمینہ سا

تو قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے کیمسٹری کے لیکچرار ایک عجوبہ روزگار شخصیت واقعہ ہوئے تھے۔ ایسے سمارٹ کہ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائیں اور مونچھیں ایسی کہ دور سے لگتا تھا کہ مونچھیں چلی آرہی ہیں، قریب آنے پر پتہ چلتا تھا کہ مونچھوں کے ساتھ بندہ بھی لگا ہوا ہے۔ پڑھاتے ایسے تھے کہ قسم اٹھوالیں جو ان کا ایک بھی لفظ سمجھ میں‌ آتا ہو۔ ہم ٹھہرے اردو میڈیم کے پڑھے ہوئے اور ان کا ”ایکسنٹ“ برٹش اور آسٹریلین ایکسنٹ کا کراس بریڈ تھا (یہ اب پتہ چلا ہے کہ ایسا تھا)۔ پھر ان کی کلاس میں‌ یونیفارم کی پابندی۔ اتنی شرمندگی ہوتی تھی یونیفارم پہن کر کہ پورے کالج میں ہماری کلاس کے شیر جوان ہی پہنتے تھے اور سب کی طنزیہ نظروں‌ اور فقروں کا نشانہ بھی بنتے تھے۔ ایک غیر حاضری پر وہ 3 دن کی غیر حاضری لگاتے تھے۔ نام کی بجائے سب کو رول نمبر سے بلاتے تھے۔ کسی کو متوجہ کرنے کے لئے چاک کا ٹکڑا کھینچ مارتے تھے اور نشانہ بھی اس غضب کا تھا کہ سیدھا شکار کے سر پر لگتا تھا۔ بچپن میں‌ضرور ”بنٹوں“ کے بین المحلہ چیمپئین رہے ہوں گے ۔!!! اور ان کا ایک مشہور زمانہ ڈائلاگ بھی تھا، چلیں چھوڑیں اسے، پہلے ہی بیبیاں اس بلاگ پر آنے سے گریز کرنے لگی ہیں!!!

الغرض ”ہزاروں ہی شکوے ہیں کیاکیا بتاؤں“

توفرنگی محاورے کے مطابق” ایک خوشگوار صبح“ ہم سب نے فیصلہ کیا کہ اس سمسیا کا کوئی حل نکالنا چاہئے۔ حل یہ نکلا کہ ایک درخواست بنام پرنسپل لکھی جائے جس میں کیمسٹری کے لیکچرار کو تبدیل کرنے کی مانگ کی جائے اور پوری کلاس اس پر دستخط کرے۔ اب سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ یہ درخواست پرنسپل کے حضور پیش کون‌ کرے گا؟ سب کی نظریں بیک وقت مجھ پر آکر ٹھہر گئیں کہ چل بچو! بڑا لیڈر بنتا ہے! اب پتہ چلے گا تیرا۔! میں نے بھی نعرہ مستانہ (حماقت بھی پڑھا جاسکتا ہے) بلند کیا اور کہا لکھو درخواست! میں‌لے کر جاؤں گا پرنسپل کے پاس۔! درخواست لکھی گئی، دستخط ثبت کئے گئے اور میرے ہاتھ میں تھما دی گئی۔

اب منظر ملاحظہ ہو۔ میں سب سے آگے اور میرے پیچھے چالیس، پینتالیس شیر جوان مارچ پاسٹ کرتے ہوئے پرنسپل آفس کی طرف گامزن۔ میں نے مورل سپورٹ کے لئے دو جوان ساتھ لئے اور گھس گیا سیدھا آفس میں۔ درخواست جا میز پر رکھی۔ پرنسپل صاحب نے عینک کے شیشوں میں‌سے گھورتے ہوئے فرمایا۔ ”کیا ہے یہ؟“ پھر جواب کا انتظار کئے بغیر اٹھا کر اسے پڑھنا شروع کردیا۔ ان کے چہرے کے بدلتے رنگوں سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ ” ٹھاکر تو گیو“ ۔ پڑھنے کے بعد انہوں نے وہ درخواست میرے منہ پر دے ماری۔ اور وہ بے عزتی کی کہ بس کچھ مت پوچھیں۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ جن کے دستخط ہیں وہ کہاں‌ ہیں؟ میں نے کہا، سر! سب آفس کے باہر کھڑے ہیں۔ انہوں نے فرمایا، چلو میرے ساتھ دیکھتا ہوں ان کو بھی! یہ منظر دیکھ کر میرے ساتھ اندر آنے والے تو پہلے ہی کھسک گئے تھے۔ باہر جاکر انہوں نے باقی پلاٹون کو بیستی پروگرام کے بارے میں بریف کردیا تھا۔ تو صاحب! جب ہم پرنسپل صاحب کے ساتھ آفس سے باہر آئے تو وہاں نہ بندہ تھا نہ بندے کی ذات!

تو صاحبو! اصل بیستی پروگرام تو اگلے دن کیمسٹری کے پیریڈ میں شروع ہوا جو اگلے دو سال تک لگاتار ”سوپ سیریل“ کی طرح چلتا رہا۔ اس کی تفصیل پھر کبھی۔ اس ساری ”گھٹنا“ میں‌ صرف دو جوانوں نے میرا ساتھ دیا۔ باقی سب پورس کے ہاتھی ثابت ہوئے ۔
میرا ان دلیر جوانوں سے پکا وعدہ تھا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد ان دونوں کو نشان حیدر عطا کروں گا!!!
اگر وہ دونوں پڑھ رہے ہوں تو سند رہے کہ میں اپنا وعدہ بھولا نہیں!

کام تمام

کوئی جائے اور جاکر علی عظمت کو بتلائے کہ وقت نکلا جاتا ہے ۔ زندگی خوابوں پر بسر نہیں ہوتی، نئے گانوں پر ہوتی ہے!!

چند سال ہوتے ہیں جب کل کے لونڈے نے اٹھ کر اس کو چیلنج کیا تھا وہ مگر اپنی ہی دنیا میں مگن رہا اب یہ حال ہے کہ کوئی اس کا نام لیوا باقی نہیں۔ وائے افسوس!

کارواں‌کے دل سے احساس زیاں‌جاتا رہا

کیا کیا گہر تھے جو نرگسیت کے ہاتھوں تاریخ کی خاک ہوئے۔ کل کا مورخ جب یہ داستاں لکھے گا تو اس کے قلم سے خون بہے گا۔ وقت رکتا نہیں اور رکنے والوں‌کو بہا کر لے جاتا ہے ، کاش کہ کوئی اسے بتائے! اتنی زیاں کاری، ایسی سود فراموشی۔۔۔۔ کیا دور تھا کہ مہ جبینیں اس کی موسیقی پر مدہوش ہو کر رقص کیا کرتی تھیں اور اب۔۔۔۔ گڑوی والیاں بھی شادیوں‌ پر اس کے گانے نہیں گاتیں۔

دو صدیاں‌ ہوتی ہیں جب محمد شاہ رنگیلا بھرے دربار میں‌ داد فن (اور عیش بھی) دیا کرتا تھا۔ فنکار اور موسیقار دور دور سے آتے اور اپنے من کی مراد پاتے۔ مگر افسوس کہ بھرے بڑھاپے میں اسے موت کا منہ دیکھنا پڑا۔ سب اہل فن جیسے یتیم و یسیر ہوگئے تھے۔ پھر دو صدیوں کے بعد ایک اور فن کا قدردان تخت نشین ہوا، اہل فن جیسے دوبارہ جی اٹھے ہوں۔ مورخ، اہل فن کی قدردانی میں‌محمد شاہ رنگیلے سے پہلے مشرف شاہ سریلے کا نام لکھے گا۔ مگر افسوس اس کو بھی جیتے جی مار دیا گیا۔ تو کیا یہی وہ غم ہے جو ہمارے گلوکار کو لے بیٹھا!!

تو کوئی جائے اور جاکر علی عظمت کو بتلائے کہ وقت نکلا جاتا ہے ۔ زندگی خوابوں پر بسر نہیں ہوتی، نئے گانوں پر ہوتی ہے!!
(ایک اور پیروڈی۔۔۔ کس کی ہے۔۔۔ بتانے والے کو انعام میں‌ 10 کوڑے لگائے جائیں گے۔۔۔ پہلے آئیں، پہلے کھائیں!!)