سالگرہ

میرے جیسا بندہ کہ جس کا بچپن نادانی، نوجوانی حیرانی اور جوانی پریشانی میں گزری ہو (جوانی ویسے ابھی پوری طرح گزری نہیں، تھوڑی سی باقی ہے)، اس کے لئے سالگرہ کچھ زیادہ خوشی نہیں لاتی کہ ایک اور سال ان حسرتوں کا بھگتان بھگتتے گزر جاتا ہے جو نہ پوری ہوتی ہیں نہ جان چھوڑتی ہیں!

لیکن یہ سالگرہ ایسی ہے جو میرے لئے واقعی خوش ہونے کا موقعہ ہے۔ آج کے دن ٹھیک ایک سال پہلے اس بلاگ کی پہلی پوسٹ شائع ہوئی تھی۔ تو یہ بلاگ ٹھیک ایک سال کا ہوگیا ہے۔ اگر بدقسمتی سے آپ پچھلے ایک سال سے اس بلاگ پر آرہے ہیں اور اپنی سخت جانی کی وجہ سے پوسٹیں بھی پڑھتے رہے ہیں تو شاید آپ نے محسوس کیاہوگاکہ میرا "کلیدی تختہ" کچھ رواں ہوگیا ہے۔ یا پھر میرا ایسا ہی گمان ہے۔ اور سیانے کہتے ہیں کہ ہمیشہ اچھا گمان کرنا چاہئے۔

ارادہ تو یہ تھا کہ اپنی تحاریر اور ان پر کئے گئے تبصروں کا ایک چوندا چوندا انتخاب آپ کی خدمت میں پیش کرتا۔ لیکن پھر سوچا کہ یہ تو ان لکھنے والوں کی تحاریر کے ساتھ کیا جاتا ہے جو یا تو داعی اجل کو لبیک کہہ چکے ہوتے ہیں یا بس کہنے ہی والے ہوتے ہیں۔ اور میرا ابھی مرنے کا کوئی ارادہ نہیں( کسی کا بھی نہیں ہوتا!) کہ میں نے تو ابھی اس کے بچوں کی خوشیاں بھی دیکھنی ہیں! اور ویسے بھی بے شرم جلدی نہیں مرتے۔

اپنے دوستوں کا شکریہ میں سوویں پوسٹ میں ادا کرچکا ہوں، باربار بلکہ اب توایک بار بھی شکریہ ادا کرنا ہماری تہذیب میں معیوب سمجھا جانے لگا ہے اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں کتنا تہذیب یافتہ انسان ہوں۔ انسانیت کو مجھ پر فخر بلکہ فخر عالم ہونا چاہئے! ہیں جی!!

دلڑی علیل اے

آپ خود کو جتنا مرضی سنگدل بنانے کی کوشش کرلیں، اخبار پڑھنا چھوڑ دیں کہ روزانہ ایک ہی خبر کوئی کب تک پڑھے؟ نیوز چینلز پر تین حرف بھیج دیں کہ فشار خون بلند نہ ہو اوربھوک لگتی رہے۔ کوئی کیلے کے چھلکے سے پھسل کر ٹانگ تڑوالے تو اس پر ہنس ہنس کے دہرے ہونے کا حوصلہ پیدا کرلیں لیکن پھر بھی آپ کے پتھر دل میں یہ سن کر رقت پیدا ہوسکتی ہے کہ ایک یتیم لڑکی جوخاندان کی واحد کفیل ہو، اپنے خاندان کے لئے رزق کا بندوبست کرنے کے بعد، رات گئے، گھر کی عافیت میں واپس جاتے ہوئے اسے، دولت اور رسوخ کے نشے میں چور دو افراد اغوا کرکے ساری رات ہوس کا نشانہ بناتے رہیں اور صبح سڑک پر پھینک دیں۔ یہ ماجرا پڑھ کر میرے جیسے سنگدل کے دل میں بھی جونک لگ سکتی ہے، اس کی آنکھ میں بھی آنسو اور زبان پر بددعا آسکتی ہے۔ اس کے دل میں بھی تمنا جاگ سکتی ہے کہ کاش! میں اپنے ہاتھوں سے ان بے غیرتوں کے ٹکڑے کروں۔آپ یقینا مجھے جذباتیت کا شکار قرار دیں گے، قانون کی پاسداری کا آموختہ یاد دلانے کی کوشش کریں گے، قانون کو ہاتھ میں لینے کے بھیانک مضمرات سے آگاہ کریں گے، معاشرے میں انارکی پھیلنے کے خدشات سے ڈرائیں گے۔ لیکن انارکی اور کس طرح کی ہوتی ہے؟

میں بہت تکلیف میں ہوں اور مجھے بہت دکھ ہے اور میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس کیفیت سے نکلنے کے لئے کیا کروں؟ ظالموں کے لئے بددعائیں کرتے ہمیں باسٹھ سال ہوگئے۔ سنتے تھے کہ مظلوم کی بددعا لگ جاتی ہے لیکن ہماری تو بددعا بھی نہیں لگتی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ہی ظالم ہیں!

کڑی انقلابی

گردش زمانہ نے یہ دن بھی دکھائے کہ اب کڑیاں بھی انقلابی آنے لگی ہیں۔ اگرچہ یہ انقلاب زیادہ تر ملبوسات کی جدید تراش خراش (تراش زیادہ خراش کم!)، مہندی کے نت نئے ڈیزائن، موبائل کے سستے پیکجز پر مہنگی غیبتیں، میکس فیکٹر کی نئی مصنوعات وغیرہ وغیرہ تک ہی محدود ہے۔ اس انقلاب میں باورچی خانے کا کوئی ذکر اس لئے نہیں، کہ انقلابی کڑیوں کو چولہے چوکے سے کچھ زیادہ رغبت نہیں کیونکہ بقول ابرار الحق

پینی پیپسی تے کھانے برگر۔۔۔ بَلّے نی خوراکاں تیریاں

انقلابی کڑیاں اب سویٹر بننے کے بجائے فیس بک پر دوستوں کا نیٹ ورک بنتی ہیں۔اور ان دوستوں میں میرے جیسے منڈوں کو شامل کرتی ہیں، جوشمس الدین کی دوستی کی درخواست تو تین تین مہینے تک التواء میں رکھتے ہیں، لیکن ان کڑیوں کو ڈھونڈ کر بھی دوست بنانے میں ہرج نہیں جانتے۔ اور فیس بک پر کوئی چیز شئیر کرتے ہوئے ان میں ان جدید انقلابنوں کو ٹیگ کرنا ہرگز نہیں بھولتے۔ رات کے پچھلے پہر سٹیٹس، پر تبصرہ تبصرہ بھی کھیلتے ہیں اور ایک میسنا سا نِمّا نِمّا فلرٹ کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھتے ہیں۔

اس سارے فضیحتے کا فائدہ اس لئے نہیں کہ شادی کے بعد زیادہ سےزیادہ دوسرے بچے پر ہی سارا انقلاب، ڈائپرز، فیڈر، گرائپ واٹر وغیرہ کی نذر ہوجاتا ہے۔۔۔۔

حسرت ان "انقلابوں" پہ ہے جو بن "آئے" مرجھا گئے!

محراب خوش قیام سے آگے نکل گئی

محرابِ خوش قیام سے آگے نکل گئی
خوشبو دیے کی شام سے آگے نکل گئی

غافل نہ جانئے مجھے مصروفِ جنگ ہوں
اس چپ سے جو کلام سے آگے نکل گئی

تم ساتھ ہو تو دھوپ کا احساس تک نہیں
یہ دوپہر تو شام سے آگے نکل گئی

مرنےکا کوئی خوف نہ جینے کی آرزو
کیا زندگی دوام سے آگے نکل گئی

عاصم وہ کوئی دوست نہیں تھا جو ٹھیرتا
دنیا تھی اپنے کام سے آگے نکل گئی

(لیاقت علی عاصم)

فرار

انسانی ذہن بھی کمال کی چیز ہے!

ہمارے ایک جاننے والے ہیں، دوست اس لئے نہیں کہ دوستی تو ہمیشہ برابر والوں میں ہوتی ہے، ڈاکٹر ہیں، اپنا کاروبار بھی ہے۔ایک یورپی ملک کی شہریت کے حامل ہیں۔ مہنگی گاڑیاں ہیں، پر تعیش رہائش ہے۔ غرض دنیا کی ہر آسائش میسر ہے۔ صحت بھی مثالی ہے۔ اولاد کی نعمت سے بھی مالامال ہیں۔ لیکن جب بھی ملتے ہیں تو ان سے گفتگو کرکے یہ احساس ہوتا ہے کہ ان سے زیادہ فکرمند اور پریشان شخص اس دنیا میں شاید ہی کوئی اور ہو! شہریت یورپی ملک کی، رہائش خلیجی ملک میں اور فکر میں مبتلا ہیں ایک تیسری دنیا کے پسماندہ ملک کی۔ اتنے دلدوز اور دل سوز انداز میں اپنے آبائی وطن کے مسائل (سیاسی) پر اظہار خیال کرتے ہیں کہ آنکھیں بھر آتی ہیں۔ گفتگو کا اختتام ہمیشہ اس نوٹ پر ہوتا ہے کہ "ہم کبھی نہیں سدھر سکتے"۔اس آدھ پون گھنٹے کی گفتگو سے مجھے ہمیشہ یہ لگتا ہے کہ ان کا ذہن اپنی مسائل سے عاری زندگی سے بور ہو کر کچھ ٹینشن اور مایوسی کا خواہاں ہے جو اسے اپنی روزمرہ کی زندگی میں میسر نہیں آتی۔ اس گفتگو کے اختتام پر جب وہ جانے کے لئے اٹھتے ہیں تو ان سے زیادہ خوش باش اور تروتازہ شخص پوری محفل میں کوئی نہیں ہوتا۔

انسانی ذہن بھی کمال کی چیز ہے!

ایک دوسرے دوست ہیں، سولہ افراد کے کنبے کے واحد کفیل! ملازمت پیشہ، روز کنواں کھودنے والے۔ بلوں، دوائیوں، فیسوں کے چکر میں گوڈے گوڈے دھنسے ہوئے۔ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے تو باتوں کی ایسی پھلجڑیاں چھوڑتے ہیں کہ شب برات کا گمان ہونے لگتا ہے۔ چٹکلے پہ چٹکلا، ہر آنے جانے والے پر فقرے چست کرنا،سنجیدگی سے اتنے دور، جتنا پوستی، پانی سے ہوتا ہے۔ ان کی باتوں سے کوئی اندازہ نہیں لگاسکتا کہ اس بندے کو غم روزگار چھو کر بھی گزرا ہوگا۔ ہر بات اور ہر واقعے میں سے مزاح برآمد کرلینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ کبھی ان کے منہ سے اپنی پریشانیوں کا ذکر نہیں سنا۔ جب بھی سنا، کوئی لطیفہ یا کثیفہ ہی سنا!

میرا ناقص مشاہدہ بھی اس کی گواہی دیتا ہے کہ جو بندہ اوپر سے جتنا ڈپریس، مایوس اور ٹینشن میں مبتلا نظر آتا ہے، اندر سے وہ اتنا ہی مطمئن اور پر باش ہوتا ہے، یہ سارے ڈفانگ اس نے جان بوجھ کر پالے ہوتے ہیں کہ اصلی نہ سہی نقلی غم ہی سہی! جبکہ جو شخص ہر وقت ہنسنے ہنسانے میں لگا رہے، باتوں کے توتے مینا بنابنا کر اڑاتا رہے، وہ حقیقت میں پریشانیوں اور مشکلات کے عین بیچ میں زندگی کررہا ہوتا ہے!

ایک ادبی نشست

ناظرین! آج کے پروگرام کے ساتھ حاضر خدمت ہیں۔ ہماری آج کی نشست کے معزز مہمانان گرامی میں مشہور شاعر, کالم نگار، ڈرامہ نگار، سفرنامہ نگار جناب لام میم نون اور مشہور نقاد جناب عین غین جیم شامل ہیں۔ تو آئیے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں، جناب لام میم نون سے۔۔۔

آج کے ادبی منظر کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہے میں آپ کے پروگرام میں شامل ہوا ہوں! جہاں تک موجودہ ادبی صورتحال کا سوال ہے تو مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ کوئی زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ میں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ "دیکھتا کیا ہے میرے منہ کی طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قائد اعظم کا پاکستان دیکھ" ۔۔۔

(میزبان بات کاٹتا ہے) لیکن جناب یہ تو کسی اور شاعر کا شعر ہے۔۔۔

تو آپ مجھ پر سرقے کا الزام دھررہے ہیں؟ یہ شعر میں نے پہلے کہا تھا، بلکہ یہ دیکھئے (ڈائری نکال کر اس کا صفحہ کھول کر دکھاتے ہیں) 21 جون 1958 کو میں نے یہ شعر کہا تھا۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ کسی دوسرے شاعر کا شعر ہے؟ آپ کمال شخص ہیں۔ وہ تو نہ ہوا میں غالب کے دور میں، ورنہ پتہ پڑ جاتا غالب کے بچے کو بھی۔ ڈہائی صفحے لکھ کر شاعر بنا پھرتا ہے! (سائیڈ ٹیبل سے ایک ضخیم کتاب اٹھا کر فخریہ انداز سے میزبان کو دکھاتے ہوئے) یہ دیکھئے میرا دیوان! ساڑھے چار ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ آج کل کے شاعر تو ایک غزل لکھ کے "ہف" جاتے ہیں۔ میں اتنی شاعری کرکے بھی تازہ دم ہوں۔

(میزبان برا سا منہ بنا کر نقاد کی جانب متوجہ ہوتا ہے) جناب عین غین صاحب! آپ کیا سمجھتے ہیں کہ موجودہ ادبی منظر نامے میں لام میم نون کی کیا اہمیت ہے؟

(کھنکھار کر گلا صاف کرتے ہیں) دیکھئے! بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ ادب، کوئی مجرد شے نہیں ہوتی بلکہ  یہ کسی بھی قوم کی لاشعوری حسیت سے جڑا ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم قوم ہیں؟ اگر ہاں ! تو اس سے ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا اجتماعی لاشعور، ادب کو قبول کرتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ ادب اس کا حصہ بھی ہے یا نہیں؟ اگر ہم قوم نہیں تو پھر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ ہم کیا ہیں؟ کیوں ہیں؟ کس لئے ہیں؟ جبکہ  ۔۔۔۔۔۔

(میزبان سوچکا ہے، جبکہ شاعر اونگھ رہا ہے اور کیمرہ مین کے خراٹے پورے سٹوڈیو میں گونج رہے ہیں، جبکہ صورتحال سے یکسر لا تعلق حضرت نقاد، دھڑادھڑ دانش کے موتی بکھیرتے جارہے ہیں)

سہراب مرزا کو خراج تحسین

کل، انجمن عاشقان ثانیہ مرزا (رجسٹرڈ) کی جنرل کونسل کے ہنگامی اجلاس میں سہراب مرزا کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ اس موقعہ پر مختلف اراکین نے خطاب کرتےہوئے سہراب مرزا کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا اگر وہ یہ فیصلہ نہ کرتے تو شاید شادی کے ایک ہفتہ بعدہی ہمیں ان کے لئے خراج عقیدت کی قرارداد منظور کرنی پڑتی!

کچھ اراکین نے مرزا صاحب کے اس فیصلہ کاسہرا، بادل نخواستہ، اپنے حریف کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ اگر چہ وہ ہمارا رقیب ہے لیکن لگتا ہے کہ اسی کے خط کی وجہ سے مرزا صاحب نے یہ فیصلہ کیا ہے جو دیر سے تو ضرور ہے لیکن درست ہے۔ دیر سے فیصلہ کرنے کی وجہ ان کی بیکری بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ بند کھا کھا کے ان کا دماغ بند ہوچکا ہے لہذا میاں صاحب کی طرح ان کو بھی بات ذرا دیر سے ہی سمجھ میں آتی ہے!

اجلاس کے اختتام پر ثانیہ مرزا کے حصول کے لئے رقت آمیز دعا کی گئی۔ جس میں ہر رکن نے سچے دل سے دوسرے تمام ارکان کی اجتماعی ہلاکت کی دعاکی تاکہ "گلیاں ہوجان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے" (یہاں مرزا سے مراد ثانیہ تھی سہراب نہیں!!)

جب اس خبر پر رائے لینے کے لئے جعفر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے یہ بتا کر حیران کردیا کہ انہوں نے بھی ثانیہ سے قطع تعلق کرنے کا فیصلہ کیاہے کیونکہ ان کا دل ثانیہ سے کھٹا ہوگیا ہے۔ دل کھٹاہونے کی وجہ دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ ان وجوہات میں سر فہرست ثانیہ کا اگلے پانچ سال تک کھٹا کھانے سے انکار کرنا ہے!وما علینا الا البلاغ۔۔۔

سانچہ = Template

وہ پریشان اور مایوس تھا اور اس کو لگتا تھا کہ اس مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ اس کے پاس موجود نہیں۔ اس کا حافظہ کمزور تھا، وہ ایک سے زیادہ مضمون یاد نہیں رکھ سکتا تھا۔ جب بھی کوئی امتحان ہوتا، کوئی ٹیسٹ ہوتا، اگر اس کا یاد کردہ مضمون، پرچے میں نہ ہوتا تو وہ سب کے منہ دیکھتا رہتا۔ وہ پرچہ خالی دے آتا۔ اس کے استاد اس سے تنگ تھے۔ اس کے والد نے فیصلہ کرلیا کہ اس کو سکول سے اٹھالیں گے۔ اسے خراد کے کام پر ڈال دیا جائے گا۔

پھر اچانک ایک دن اس کی ملاقات چوہدری علم دین سے ہوگئی! چوہدری صاحب، ٹوانہ صاحب کے منشی اور سردوگرم چشیدہ انسان تھے۔ وہ گیارہ بجے ہی سکول سے "پھٹ" کر چھپڑ کے کنارے کیکر کے نیچے مایوس بیٹھا، اپنی ناکامیوں کا ماتم کررہاتھا کہ ادھر سے چوہدری صاحب کا گزر ہوا۔ چوہدری صاحب اسے دیکھ کر رکے اور قریب آکراس سے پریشانی کا سبب پوچھا تو وہ پھٹ پڑا۔ چوہدری صاحب نے تحمل سے اس کی پوری بپتا سنی۔ ان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کھیلتی رہی۔ وہ کہنے لگے کہ یہ تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ پھر چوہدری صاحب نے اسے اس مسئلے کا ایسا حل بتایا جو آج تک اس لڑکے کے کام آرہا ہے!

وہ لڑکا کوئی اور نہیں بلکہ میں، جنید چوہدری تھا!

اگلے ہفتے دسمبر ٹیسٹ ہونے والے تھے۔ اس میں "ایک ہوائی سفرکا آنکھوں دیکھا حال" کا مضمون تھا، لیکن میں نے "ایک کبڈی میچ کا آنکھوں دیکھا حال" یاد کیا ہوا تھا۔ میں پریشان نہیں ہوا۔ میں نے مضمون لکھنا شروع کیا کہ میں کراچی سے پشاور جانے کے لئے جہاز میں بیٹھااور باہر جھانکا تو وہاں کبڈی کا میچ ہورہا تھا، اس کے بعد میں نے کبڈی میچ کا آنکھوں دیکھا حال من و عن لکھ ڈالا۔ ہمارے اردو کے استاد نے جب یہ مضمون پڑھا تو وہ پھڑک اٹھے۔ خوشی سے ان کا بلڈ پریشر ہائی ہوگیا۔ انہوں نے مجھے گلے سے لگایا اور میرا ماتھا چوم کے بولے، یہ بچہ ایک دن پوری دنیا کو آگے لگائے گا!

وہ دن ہے اور آج کا دن ہے۔ میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں نے زندگی میں بڑی بڑی کامیابیاں اسی ایک گر سے حاصل کیں۔ موضوع کوئی بھی ہو، سیاسی ہو یا مذہبی، اقتصادی ہو یا اخلاقی، ثقافتی ہو یا ادبی،میں اسے گھیر گھار کر اپنے تیار کئے ہوئے "کبڈی میچ" کے سانچے میں ٹھوک پیٹ کرفٹ کردیتا ہوں۔ ایک عالم میری تحاریر کا دیوانہ ہے۔ اخبار والے میرے آگے پیچھے گھومتے ہیں۔ میرے ناز نخرے ایسے اٹھائے جاتے ہیں جیسے چالیس سالہ بندہ شادی کے بعد اپنی ساڑھے سولہ سالہ بیوی کے اٹھاتا ہے! لیکن میں اپنی کامیابی، شہرت، ناموری اور عزت کے لئے چوہدری علم دین کا مشکور ہوں۔ وہ نہ ہوتے تو شاید آج میں خراد پر چنگ چی کے پرزے بنا رہا ہوتا!

ویل ڈن اینڈ تھینک یو چوہدری صاحب۔۔۔۔۔

اے خانہ بر انداز چمن، کچھ تو ادھر بھی

اس مصرعہ سے غلط فہمی میں مبتلا مت ہوجائیں کہ یہ کوئی ادبی یا سیاسی تحریر ہے۔ کل میں اپنے بلاگ کے کنٹرول پینل پر گیا تو "فلموفلمی" کے زمرے نے میرا دامن حریفانہ کھینچا کہ میاں! ہم سے کیا غلطی ہوئی کہ ایک ہی پوسٹ لکھ کے ہمیں فارغ کردیا۔ تس پر میں بہت شرمندہ ہوا اور اسے یقین دلایا کہ میاں، فکر نہ کرو۔ ابھی آپ کا کچھ کرتے ہیں۔۔۔

آج کل ایک فلم کا بہت چرچا ہے، اوتار عرف ایلینز کی قوالی، اس پر ہمارے ایک دوست اظہار خیال بھی کرچکے ہیں۔ میرا ایک مشورہ ہے کہ اس فلم کو تھیٹر میں ہی جاکر دیکھیں، ٹی وی پر آپ اس سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوسکتے۔ یہ ایک ایسا بصری تجربہ ہوگا جو مجھے یقین ہے اس سے پہلے آپ کو کبھی نہیں ہوا ہوگا۔ جہاں تک کہانی کا تعلق ہے تو وہ کسی آٹھ آنے والے رسالے سے لی گئی ہے اور اس پر جتنا کم لکھا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا!

میں اصل میں جس فلم کا ذکر کرنا چاہتا تھا وہ ہے "لو آج کل"۔ میں انڈین فلموں کا کوئی اتنا بڑا پرستار نہیں ہوں۔ چند ہدایتکار ہی ایسے ہیں، جن کا نام مجھے فلم دیکھنے پر مائل کرتا ہے اور امتیاز علی یقینا ان میں شامل نہیں تھے۔ اتفاقا مجھے یہ فلم اپنے دوست سے ملی جو اس نے ڈاؤن لوڈ کی تھی، اس کی پکچر کوالٹی بھی کچھ خاص نہیں تھی۔ لیکن ایک دفعہ جب میں نے اسے دیکھنا شروع کیا تو یہ ایک ایسا تجربہ ثابت ہوا جس کی امید کم از کم مجھے ایک عام ہندوستانی رومانی فلم سے نہیں تھی!

جیسے غزل میں ایک شعر بھی کام کا نکل آئے تو غزل کا حق ادا ہوجاتا ہے، ویسے ہی کوئی ایک منظر پوری فلم پر حاوی ہوکر اسے معمولی سے غیر معمولی بنا دیتا ہے۔ فلم کے آخری مناظر میں جب ہیرو، ہیروئن کے پاس واپس آتا ہے تو مجھے کوفت ہونے لگی کہ اب وہی برسوں کے گھسے پٹے میلو ڈرامیٹک مکالمے ہوں گے اور ان کے آخر میں ہیرو، ہیروئن "گھٹ کے جپھی" ڈالیں گے اور کٹ ہو کے اگلا منظر سوئٹزر لینڈ کی وادیوں میں ہوگا جہاں وہ اختتامی گانا گاکر ہمارا پیچھا چھوڑ دیں گے!

لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، اور جو ہوا، وہ دل کو اتنا چھولینے والا تھا کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ اگر آپ نے یہ فلم دیکھی ہے تو دوبارہ وہ منظر دیکھیں، اگر نہیں دیکھی تو میری درخواست پر دیکھیں، امید ہے کہ آپ مایوس نہیں ہوں گے۔۔۔

ضروری اعلان: فلم ختم ہونے کےبعد آج کل جو آئٹم نمبر کی بدعت پھیلی ہوئی ہے، یہ فلم بھی اس سے مستثنی نہیں ہے، میری یہ بھی درخواست ہے کہ براہ کرم اس گانے کو نہ ہی سنیں تو بہتر ہے، پوری فلم کے تاثر کی ایسی کی تیسی ہوجاتی ہے!!

جدید غلامی

ميں تھوڑی دير کے لئے ہال ميں ان اميدواروں کو ديکھنے لگا جو بڑی بے چينی کی حالت ميں اپنی باری آنے کا انتظار کر رہے تھے اور جو باری بھگتا کے باہر نکلتا تھا۔ اس سے بار بار پوچھتے تھے کہ تم سے اندر کيا پوچھا گيا ہے اور کس کس قسم کے سوال ہوئے ہيں؟ اور ان باہر بيٹھے اميدواروں کے چہروں پر تردد اور بے چينی اور اضطراب عياں تھا۔ ميں کھڑا ہو کر ان لوگوں کو ديکھتا رہا اور حيران ہوتا رہا کہ اگلے زمانے ميں تو لونڈی غلام بيچنے کے لئے منڈی ميں تاجر باہر سے لايا کرتے تھے۔ آج جب ترقی يافتہ دور ہے اور چيزيں تبديل ہو گئی ہيں، يہ نوجوان لڑکے اورلڑکياں خود اپنے آپ کو بيچنے اور غلام بنانے کے لئے يہاں تشريف لائے ہيں اور چيخيں مار مار کر اور تڑپ تڑپ کر اپنے آپ کو، اپنی ذات، وجود کو، جسم و ذہن اور روح کو فروخت کرنے آئے ہيں اور جب انٹرويو ميں ہمارے سامنے حاضر ہوتے ہيں اور کہتے ہيں، سر ميں نے يہ کمال کا کام کيا ہے، ميرے پاس يہ سرٹيفيکيٹ ہے، ميرے پرانے مالک کا جس ميں لکھا ہے کہ جناب اس سے اچھا غلام اور کوئی نہيں اور يہ لونڈی اتنے سال تک خدمت گزار رہی ہے اور ہم اس کو پورے نمبر ديتے ہيں اور اس کی کارکردگی بہت اچھی ہے اور سر اب آپ خدا کے واسطے ہميں رکھ ليں اور ہم خود کو آپ کے سامنے پيش کرتے ہيں۔ ميں سوچتا ہوں کہ کيا وقت بدل گيا؟ کيا انسان ترقی کر گيا؟ کيا آپ اور ميں اس کو ترقی کہيں گے کہ کسی معشيت کے بوجھ تلے، کسی اقتصادی وزن تلے ہم اپنے آپ کو خود بيچنے پر مجبور ہو گئے ہيں۔ اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں لے جا کر يہ کہتے ہيں کہ جناب اس کو رکھ لو۔ اس کو لے لو اور ہمارے ساتھ سودا کرو کہ اس کو غلامی اور اس کو لونڈی گيری کے کتنے پيسے ملتے رہيں گے۔ يہ ايک سوچ کی بات ہے اور ايک مختلف نوعيت کی سوچ کی بات ہے۔ آپ اس پر غور کيجيئے اور مجھے بالکل منع کيجيئے کہ خدا کے واسطے ايسی سوچ آئندہ ميرے آپ کے ذہن ميں نہ آيا کرے کيونکہ يہ کچھ خوشگوار سوچ نہيں ہے۔ کيا انسان اس کام کے لئے بنا ہے کہ وہ محنت و مشقت اور تردّد کرے اور پھر خود کو ايک پيکٹ ميں لپيٹ کے اس پر خوبصورت پيکنگ کر کے گوٹا لگا کے پيش کرے کہ ميں فروخت کے لئے تيار ہوں۔ يہ ايسی باتيں ہيں جو نظر کے آگے سے گزرتی رہتی ہيں اور پھر يہ خيال کرنا اور يہ سوچنا کہ انسان بہت برتر ہو گيا ہے، برتر تو وہ لوگ ہوتے ہيں جو اپنے ارد گرد کے گرے پڑے لوگوں کو سہارا دے کر اپنے ساتھ بِٹھانے کی کوشش کرتے ہيں اور وہی قوميں مضبوط اور طاقتور ہوتی ہيں جو تفريق مٹا ديتی ہيں۔ دولت، عزت، اولاد يہ سب خدا کی طرف سے عطا کردہ چيزيں ہوتی ہيں ليکن عزتِ نفس لوٹانےميں، لوگوں کو برابری عطا کرنے ميں يہ تو وہ عمل ہے جو ہمارے کرنے کا ہے اور اس سے ہم پيچھے ہٹے جاتے ہيں اور اپنی ہی ذات کو معتبر کرتے جاتے ہيں۔

(اشفاق احمد کے "زاویہ" سے ایک اقتباس)

ہزاروں ۔۔۔۔۔۔ دم نکلے!

میری بڑی خواہش تھی اور دلی تمنا تھی کہ میں شاعر بن کر چار دانگ عالم میں مشہور ہو جاتا، ہر جگہ میری شاعری کا ڈنکا بجتا اور میری شخصیت میں، نقاد، وہ خوبیاں بھی ڈھونڈ نکالتے جو میں خود غور کرکے بھی نہ ڈھونڈ سکتا۔ مجھے یورپ اور امریکہ سے مشاعرے پڑھنے کے دعوت نامے، بمعہ ٹکٹ، موصول ہوتے اور میں سال کے آٹھ مہینے اپنے پرستاروں کے ساتھ دنیا بھر میں گزارتا۔ میرے اعزاز میں شامیں منعقد کی جاتیں، جن میں میرے فن اور شخصیت پر اتنی شدید روشنی ڈالی جاتی کہ میری آنکھیں چندھیا جاتیں۔ تقاریب کے اختتام پر مجھے اپنے ساتھ ٹہرانے پر محفلوں میں دنگے ہوجاتے، خواتین میرے ایک آٹوگراف کے لئے دو دو گھنٹے انتظار کرتیں، میرے کھانے اور "پینے" کا عمدہ سے عمدہ انتظام کرنے کا مقابلہ ہوتا۔ شام ڈھلے کے بعد والی محافل میں کی جانے والی میری رطب و یابس میں سے بھی معرفت کے نکتے ڈھونڈ کر ان پر سر دھنے جاتے! لیکن وائے حسرتا!

میں شاعر بھی ذوق جیسا بننا چاہتا تھا نہ کہ چچا غالب جیسا کہ جن کی ساری زندگی بے قدری اور نارسائی کا ماتم کرنے میں گزر گئی۔ اب اگر ان کے مختصر سے دیوان پر لوگ ہزاروں صفحے تعریف کے بھی لکھ ڈالیں، لاکھوں، کروڑوں خرچ کرکے ان پر فلمیں، ڈرامے بنا ڈالیں، تو اس کا چچا کو کیا فائدہ؟ جب ضرورت تھی تو بے چارے قرض کی مے پی کر اپنی فاقہ مستی کے رنگ لانے کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے پدھار گئے۔ جبکہ ان کے "شریک" شہ کے مصاحب بن کر ان کے سینے پر مونگ دلتے رہے۔ان میں  "دو ٹکے کی ڈومنی" کے ناز اٹھانے کی بھی سکت نہ تھی، جبکہ یار لوگ حرم کے حرم سنبھالے بیٹھے تھے!

تو بھائی! ایسی شاعری اور ایسی مشہوری مجھے قطعا نہیں چاہئے تھی۔ میں تو نونقد والے سودے کا گاہک تھا نہ کہ تیرہ ادھار والے کا۔ میں تو فیض جیسی مقبولیت اور چاہت کا دیوانہ تھا نہ کہ مجید امجد جیسی گمنامی اور بے بسی کا۔ لیکن ایک مشکل پھر درپیش ہوئی۔ شاعر ہونے کے لئے عروض کے "علم دریاؤ" کا شناور ہونا بھی ضروری تھا۔ پر میں تو اس میں غوطہ لگا کر بھی خشک ہی رہا تو دل نے سمجھایا کہ میاں صاحبزادے! تیرے بس کی نہیں یہ شاعری۔ کچھ اور کر۔ مرتا کیا نہ کرتا، کچھ الم غلم لکھنا شروع کیا۔ لیکن نثر لکھ کے مشہور ہونا تو جی بہت مشکل ہے۔ یوسفی کو دیکھ لیں، ساری عمر ہوگئی لکھتے، لکھا بھی ایسا کہ مثال مشکل ہے۔ لیکن اب جاکے ٹی وی پر آنے لگے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ یار یہ بابا جو بڑی مزے کی باتیں کرتا ہے، ہے کون؟ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔۔۔۔ دوسری طرف وصی شاہ صاحب ہیں، لڑکیوں کے دل کی دھڑکن (کچھ لڑکوں کے بھی دل کی دھڑکن)، ٹی وی سکرین پر ہمہ وقت موجود، کنگن گھماتے گھماتے شہرت کی سیڑھیاں ایسی چڑھے کہ ساتویں آسمان پر پہنچ گئے۔ اگرچہ ان کا کنگن بھی کسی کے بُندے کو ڈھال کے بنایا گیا تھا!

اب سوچتا ہوں کہ نثر لکھ کے تو بہت دیر میں شہرت ملے گی اور اس کنگھی کی طرح ہوگی جو گنجے ہونے کےبعد ملتی ہے یا پھر اس دنیا سے کنارہ کرنے کے بعد لوگوں کو میرے ادب پاروں کی اہمیت کا احساس ہوا تو بھلا مجھے اس کا کیا فائدہ ہوگا؟ اس لئے اپنے مداحوں سے گزارش ہے کہ جو کرنا ہے ابھی کرلیں۔ میری اعزاز میں تقاریب منعقد کرنی ہیں، قیمتی تحائف نذر کرنے ہیں، ڈالر، یورو، درہم سے بھرے لفافے دینے ہیں، امریکہ ، یورپ کے ادبی دوروں پر بلوانا ہے اور اس کے بدلے میں میری تحاریر میں اپنی تعریفیں لکھوانی ہیں، تو جلدی کریں۔۔۔۔

زندگی،گھڑی پل کا کھیل ہے۔۔۔۔!!

پسران بوم

اس وقت ہمارے ساتھ ٹیلی فون لائن پر موجود ہیں، ٹی ٹی آباد کے ناظم جناب مرتضی جلال، جن کا تعلق ایم بی ایم (میرا بھائی موومنٹ) سے ہے۔

"السلام علیکم! مرتضی صاحب۔۔۔"

"وعلیکم السلام"۔۔۔

ہم آپ سے پوچھنا چاہیں گے کہ سوختن بازار میں لگنے والی آگ اتنی جلدی کیسے بجھا لی گئی؟

دیکھئے۔۔۔ مرتضی جلال جب کام کرتا ہے تو دن رات کی پرواہ نہیں کرتا، مرتضی جلال پچھلے ایک سو چوالیس گھنٹوں، ون ہنڈرڈ اینڈ فارٹی فور آورز، اٹس اے لاٹس آف ٹایم یو نو! ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ مرتضی جلال وہاں خود موجود رہا۔ فائر فائٹرز کی ہیلپ کرنے کے لئے، ان کو گائیڈ کرنے کے لئے۔ پانی ختم ہوجاتا تھا تو میں ان کو ہائیڈروجن اور آکسیجن مکس کرکے پانی بنا کے دیتا تھا۔ آپ لائیں کوئی ایسی مثال، فرام دی ہسٹری آف مین کائنڈ۔۔۔ آئی ایم شیور، یو کانٹ۔۔۔۔۔

لیکن کچھ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ آپ اتنے عرصے سے نظامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، لیکن پھر بھی آپ کوئی ایسا نظام کیوں نہیں بنا سکے جس میں ناظم کو بذات خود موجود نہ رہنا پڑے اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی بھی موجود رہے؟

دیکھئےےےےے۔۔۔ تنقید کرنا بہت آسان ہے۔ اینی ون کین کریٹی سائز۔۔۔ ان الو کے پٹھوں کو کہیں، خود آکے ذرا کام کرکے دیکھیں ۔۔۔ ان کی ۔۔۔۔ ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔ یہ سمجھتے کیا ہیں خود کو۔۔۔ یہ سارے ۔۔۔ ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔۔ ہیں۔۔۔ اس سے پہلے ٹی ٹی آباد کے ناظمین کا ریکارڈ اٹھا کے دیکھیں۔۔۔ کسی ۔۔۔ ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔ نے کوئی کام کیا ہو تو مجھے بتائیں۔۔۔

لیکن مرتضی صاحب، ایک ٹرم کے سوا تو آپ کی پارٹی کی ہی سربراہی رہی ہے۔ انجنیئر مقصود جبار، مہتاب شیخ وغیرہ۔۔۔۔ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ اور صبغت اللہ خاں نے کام کرنے کا کلچر یہاں متعارف کروایا تھا، اس تاثر پر آپ کی رائے؟

یہ صبغت اللہ اور اس کی پارٹی،دہشت گرد ہیں۔ دے آر سمپلی ٹیررسٹ۔ یو گو وزٹ سی آئی اے ویب سائٹ۔ یو ول فائنڈ آؤٹ ہاؤ ڈینجرس دے آر۔۔۔ ابھی کل ہی مادام ایمبیسڈر مجھ سے ملی ہیں۔ شی آلسو ٹولڈ می دیٹ دیز پیپل آر ویری ڈینجرس۔۔۔

(قطع کلامی کرتے ہوئے) لیکن مرتضی صاحب میرا سوال تو کچھ اور تھا۔۔۔

آپ مجھے بات نہیں کرنے دیتے، میں جب بول رہا ہوں تو آپ کیوں بیچ میں اینٹرپٹ کرتے ہیں۔۔۔ ہماری آواز کو کیوں دبایا جاتا ہے۔ اپنی آنکھوں سے تعصب کی پٹی اتاریں۔ ہمیں ہمارا حق دیں۔ وی وانٹ آور رائٹس۔۔۔۔

آپ پر چند لوگ یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ آپ غصہ بہت کرتے ہیں اور گالیاں بھی دیتے ہیں؟

(چلاتے ہوئے) کون ۔۔۔ٹوں ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔۔ کہتا ہے کہ میں غصے کا تیز ہوں۔۔۔ کس ۔۔۔۔ ٹوں ٹوں ٹوں ۔۔۔۔ کو گالیاں دی ہیں میں نے؟؟ ٹیل می ہو دیز ۔۔۔۔۔۔ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔ آر۔۔۔ آئی ول سی دم ۔۔۔۔

پچھلے چند دنوں سے ٹی ٹی آباد میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں زور پکڑ چکی ہیں، تجزیہ نگار ان کو اتحادی جماعتوں کی آپسی لڑائی قرار دے رہے ہیں، آپ اس پر کیا کہتے ہیں؟

دیکھئے، وی ڈو ناٹ بیلیو ان ٹارگٹ کلنگ، کیونکہ ٹارگٹ تو خطا بھی ہوسکتا ہے۔ وی بیلیو ان سلیکٹڈ کلنگ۔ اس میں غلطی کی گنجائش نہیں رہتی اور بے گناہ لوگ جان سے نہیں جاتے۔۔۔۔۔

آپ کا بہت بہت شکریہ مرتضی جلال صاحب ۔۔۔۔

یہ تھے مرتضی جلال ، ٹی ٹی آباد کے ناظم جو شہر کی تازہ ترین صورتحال بیان کررہے تھے!!!!!!