مانی

یادیں، مدّہم پڑ سکتی ہیں، محو ہوسکتی ہیں، وقت کی گرد انہیں چھپا سکتی ہے۔ پر جو منظر دل پر نقش ہوجائیں وہ کبھی مدّہم نہیں پڑتے، محو نہیں ہوتے، وقت کی گرد ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ وہ ہمیشہ ویسے ہی سفّاک، شفّاف اور واضح نظر آتے ہیں۔ جب نظر جھکائی، دیکھ لیا۔۔۔
مانی مجھ سے بہت چھوٹا تھا۔۔۔ کہیں تو سب بہن بھائیوں میں آخری نمبر۔ بہت کم عمری میں بھی کچھ الگ سا تھا ۔۔ بیمار ہوتا تو روتا نہیں تھا، تنگ نہیں کرتا تھا۔ چہرے پر نقّاہت سے پتہ چلتا کہ صاحب کی طبیعت برابر نہیں ہے۔ ہنس مُکھ ایسا کہ محلّے کے بچّے اسے باہر لے جانے کے لیے باری کا انتظار کرتے ۔ میری خالہ کہا کرتی تھیں کہ "اس کی آنکھیں ہنستی ہیں"۔۔۔۔خالہ کا اس سے بہت انس تھا۔۔۔ سادھ بیلے سے تقریبا روزانہ آیا کرتیں اور جس عمر میں بچہ ماں سے چند منٹ دور نہیں رہتا، وہ ان کے ساتھ ان کے گھر چلا جاتا اور سارا دن ان کے ساتھ رہتا۔
تھوڑا بڑا ہوا تو اس کی سب سے من پسند سرگرمی، موٹر سائیکل کی سیر تھی۔ محمّد پورہ کے بازار جسے "وڈّا بازار" کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، ناشتہ لینے کے لیے جانا ہوتا تو مانی میاں موٹر سائیکل کے ساتھ پہلے سے کھڑے ہوتے کہ ہم بھی جائیں گے۔۔ حلوہ اور پوری ان کا من بھاتا کھاجا تھا۔ وڈّے بازار میں پاء شفیع کی حلوہ پوری سب سے مزے دار ہوتی تھی اور رش بھی خوب۔ مانی کے لیے دو پوریاں اور انکے درمیان حلوہ رکھ کے الگ باندھا جاتا کہ اسے ایسا ہی پسند تھا۔
جولائی کا مہینہ تھا اور دسویں کی گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں۔ برسات کے موسم میں پھوڑے پھنسیاں نکل ہی آتی ہیں۔۔ اس کی کمر پر عین ریڑھ کی ہڈی کے اوپر ایک پھنسی سی نکلی۔۔ یہ کوئی خلاف معمول بات نہیں تھی۔۔ آم کھانے کے شوقین ہوں تو پھنسیاں تو نکل ہی آتی ہیں۔۔ کافی دن گزر گئے اور یہ پھنسی بڑھ کر پھوڑا بن گئی۔۔ مانی جو کبھی روتا نہیں تھا اور تنگ نہیں کرتا تھا وہ بے چین سا رہنے لگا۔۔۔ گھریلو ٹوٹکے آزمائے جاتے رہے کہ معمولی سا پھوڑا ہے، ٹھیک ہوجائے گا، لیکن نہیں ہوا۔ جولائی کی ایک گرم صبح ابّو اسے ساتھ لے کر ڈاکٹر کے پاس گئے۔ کہ چیک تو کروائیں کہ کیا مسئلہ ہے۔۔۔ اسی دن گیارہ بجے کے قریب، میں درمیان والے کمرے میں امّی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ کھڑکی سے دیکھا کہ برآمدے سے نکل کر تایا جی صحن میں آئے۔۔۔ مانی کو دونوں ہاتھوں پر اٹھائے۔۔۔ ابّو ان کے پیچھے تھے۔۔۔ مانی ایک کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔۔۔ یہ منظر ہے۔۔ جو نقش ہے۔۔۔۔
اس کے بعد کیا ہوا اس کا کچھ وضاحت سے مجھے علم نہیں۔۔۔۔ عصر کے بعد ہم نے اسے دفنا دیا۔ سخت گرمی اور حبس کا دن تھا۔ جنازے کے ساتھ جاتے ہوئے بھی میں سب سے پیچھے رہا۔۔۔ قبر میں کس نے اتارا، مجھے کچھ علم نہیں۔۔۔
وہ رات، خدا سے پہلے شکوے کی رات تھی۔ اس سے پہلے مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ میں سوچتا رہا کہ اتنی گرمی اسے لگتی تھی تو اب کیسے گڑھے میں اتنی مٹّی کے نیچے پڑا ہوگا۔۔ تو یہ سب کرکے خدا کو کیا ملا اور یہ چیز مجھے ایسی تکلیف دیتی تھی جس کا کوئی تجربہ مجھے اس سے پہلے نہیں تھا۔۔۔ میں گم آواز میں روتا رہا کہ مرد رویا نہیں کرتے ۔۔۔
اس بات کو بہت عرصہ گزرگیا ۔۔۔ مانو تو ایک لائف ٹائم گزر گیا ۔۔ لیکن وہ منظر آج بھی ویسا ہی شفّاف، سفّاک اور واضح ہے۔

بخاری مسجد

یہ تیسری جماعت کا قصّہ ہے۔ نئے سکول میں ہم خوش تھے اور تعلیمی مدارج ہنسی خوشی طے کررہے تھے جب ہمارے والدین کو ہماری دینی تعلیم کی فکر ہوئی۔ ہر محلّے کی طرح ہمارے محلّے میں بھی قرآن پاک پڑھانے والی ایک "خالہ جی" موجود تھیں۔۔ استاد خالد کی والدہ۔ عمر رسیدہ، سفید برف جیسے بال۔ انتہائی شفیق۔ تو ہم بھی ایک سہانی شام سر پر جالی والی ٹوپی جمائے، ہاتھ میں نیا نورانی قاعدہ لیے، سڑک پار کرکے خالہ جی کے گھر جا پہنچے۔ ہم، چونکہ، نئی بھرتی تھے تو ہمیں تین باجیوں میں سے سب سے چھوٹی باجی کے سپرد کیا گیا۔ ان کی طبیعت کچھ جلالی قسم کی تھی اور ہم کسی نوابزادے سے کم نہیں تھے۔ ان کی دو ایک گھُرکیوں پر جب ہماری معصوم سی آنکھوں میں آنسو آگئے تو انہوں نے فورا ہمیں مرغا بن جانے کا حکم دیا۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ مرغا بننا پڑا۔ وہ ہمارا خالہ جی کے گھر میں پہلا اور آخری تدریسی دن تھا۔ واپس گھر پہنچ کے ہم نے قطعی فیصلہ سنا دیا کہ کل سے ہم خالہ جی کے پاس سیپارہ پڑھنے ہرگز نہیں جائیں گے۔ امّی نے لاکھ پوچھا کہ ہوا کیا۔۔ لیکن ہم بھی ایک کائیاں تھے اپنی عزت افزائی کا بالکل ذکر نہیں کیا اور وہی راگ الاپتے رہے کہ ہم نہیں جائیں گے، نہیں جائیں گے، نہیں جائیں گے۔۔۔
دو تین دن گزر گئے اور امّی کے اصرار اور دھمکیوں کے باوجود ہم سیپارہ پڑھنے نہیں گئے تو یہ معاملہ ابّو جی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ابّو جی جان گئے کہ سکول کی طرح اس کی سّوئی یہاں بھی اٹک گئی ہے لہذا اس کا کوئی اور بندوبست کرنا پڑے گا۔ اگلے دن ہم سکول سے واپس دکان پر پہنچے تو ابّو نے کہا کہ یہ آپ کے کپڑے ہیں، اوپر گیلری میں جا کے بدلیں، کھانا کھائیں اور پھر سیپارہ پڑھنے کے لیے مسجد جانا ہے۔
ہماری دکان جناح کالونی کی ہوزری مارکیٹ میں واقع تھی۔ فیصل آبادی احباب جانتے ہوں گے کہ یہ مارکیٹ بہت سے چھوٹے پروڈکشن یونٹس پر مشتمل تھی (اور ہے شاید)۔ ہماری دکان دوسرے بازار کے کونے پر واقع تھی اور دوسرے اور تیسرے بازار کے عین درمیان بخاری مسجد تھی۔ ہر دکان کے ساتھ ایک برآمدہ تھا جہاں ایک یا دو یا تین پریس مین ہوتے تھے جو بنیان یا جرابیں استری کرتے تھے۔ ایک کَٹَر ماسٹر ہوتا تھا اور ایک مرمتّیا۔۔ جس کے کان کے اوپر ہوزری مشین کی سُوئی ہر وقت ٹِکی رہتی تھی۔ کچھ دکانوں کی گیلریوں میں فلیٹ اور اوورلاک مشینیں بھی تھیں۔ کپڑا بُننے کی مشینیں زیادہ تر کوئی مکان کرائے پر لے کر لگائی جاتی تھیں اور وہیں فلیٹ اور اوورلاک کی مشینیں بھی ہوتی تھیں، اسے جناح کالونی کی زبان میں "کارخانہ" کہا جاتا تھا۔ ہمارے دکان چونکہ نُکڑ پر واقع تھی تو کافی جگہ میسر تھی۔ چار پریس مین، دو کٹر اور ایک مرمتّیا اس وقت دکان پر کام کرتے تھے۔ خیر۔۔۔ تو ہم گیلری میں جاپہنچے، کپڑے بدلے اور کھانا کھا کے اپنے ابّو کے ساتھ سہ پہر تین بجے کے قریب بخاری مسجد جا پہنچے۔
مسجد کے داخلی دروازے کے بائیں طرف صحن پار کرکے ایک کمرہ تھا۔ جس میں پینتیس چالیس مختلف عمروں کے لڑکے آمنے سامنے دو قطاروں میں اپنے سامنے پڑے لکڑی کے طویل ڈیسک پر قرآن پاک رکھے، ہِل ہِل کے پڑھ رہے تھے۔ ایک سرے پر قاری صاحب بیٹھے تھے جن کے سامنے ایک چھوٹا سا لکڑی کا میز تھا۔۔ جس پر کچھ کتب رکھی ہوئی تھی۔ قاری صاحب، ابّو کے جاننے والے تھے، اٹھ کر تپاک سے ان سے ملے۔ حال احوال کے بعد ہمیں باقاعدہ قاری صاحب کا شاگرد بنا دیا گیا۔
قاری صاحب، طویل قامت، چھریرے بدن کے مالک اور نرم گو انسان تھے۔ پڑھنے لکھنے سے ہمیں کبھی نفور نہیں رہا۔۔ رویّے البتہ ہمارے لیے ہمیشہ اہم رہے۔ بخاری مسجد میں ہماری دینی تعلیم، جو ناظرہ قرآن تک محدود تھی، دن دوگنی چار چوگنی رفتار سے بڑھتی رہی۔ ہمارے ہم سبق زیادہ تر صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے تھے۔ جن کی عمریں چھ سات سال سے لے کر سترہ اٹھارہ سال تک تھیں۔ انکی رہائش، کھانے اور دوسری ضروریات مسجد اور مدرسے کی انتظامیہ کے ذمّے تھیں۔ دوسری منزل پر ایک قطار میں دس بارہ کمرے تھے جہاں یہ سب رہتے تھے۔ ہمارے ذہن میں اس وقت یہ خیال آتا تھا کہ اپنے امی ابو کے بغیر یہ اتنی دور، اتنا عرصہ کیسے رہ لیتے ہیں؟ ہمیں تو یہ سوچ کے ہی رونا آنے لگتا تھا۔
مدرسے کے ان طالبعلموں میں جناح کالونی سے تعلق رکھنے والوں کا صرف ایک بچہ شامل تھا۔ وسیم بھائی، جو پاک سویٹس والوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ لحیم شحیم۔۔ حفظ کے طالبعلم تھے۔ فربہ لوگوں کی اکثریت کی طرح ہنس مُکھ اور خوش مزاج۔ ان کے علاوہ کوئی بھی طالبعلم گردونواح سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔
مسجد اور مدرسے کا انتظام چلانے میں جناح کالونی کے کاروباری حضرات پیش پیش تھے۔ مالی طور پر مدرسے کی انتظامیہ کو کبھی تنگی پیش نہیں آئی لیکن مدرسے میں دی جانے والی تعلیم، البتّہ اپنے بچوں کو دلانے میں کسی کو خاص دلچسپی نہیں تھی۔ سب کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھتے تھے۔ ہمارا معاملہ مختلف اس لیے تھا کہ ہم ایک عارضی طالبعلم تھے جو چند مہینے، پڑھ کے وہاں سے فارغ ہوگیا۔ اس دور میں طبقاتی تقسیم اتنی واضح اور عریاں نہیں تھی لیکن پھر بھی مدرسے کے ان طالبعلموں اور میرے جیسے عام سے بچّے کے طرز معاشرت میں واضح فرق تھا۔ جیسے دو مختلف دنیاؤں کے باسی۔
قاری صاحب نے ان چند مہینوں میں ہم سے نہایت شفقت برتی۔ سوائے سر پر ایک ہلکی سی چپت کے، جو مسلسل دو چھٹیاں کرنے کی سزا تھی، ہمیں انگلی تک نہیں لگائی۔ ان کے میز کے نیچے پڑی چپٹی لکڑی البتّہ دوسرے طالبعلموں پر بے دردی سے برستی تھی۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ اتنے اچھے قاری صاحب ایک دم اتنے گندے کیوں ہوجاتے ہیں؟ اس کا جواب ہمیں کبھی نہ مل سکا۔
ٹی وی، کارٹون، ڈرامے، جنوں اور پریوں کی کہانیوں والے رسالوں کی باتیں جب ہم اپنے ہم درسوں سے کرتے تو وہ ان کے لیے کسی اور دنیا کی باتیں ہوتی تھیں۔ وقت کے ساتھ یہ فرق کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی رہا ۔۔ اس میں سیاست، تزویراتی گہرائی اور مذہبی مفادات کے تڑکے لگتے رہے۔۔۔۔ اور آج ہم جہاں پر ہیں وہ۔۔
تیس برس کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔۔۔ 

بچّی، حضور والا، بچّی

دو ہزار سال ہوتے ہیں۔۔۔اُس نادرِ روزگار عبقری نے کہ، راسپوٹین جس کا نام تھا، کہا، " حُسنِ بلاخیز ہر جُرم سے ماوراء ہوتاہے۔" لوگ مگر غور نہیں کرتے۔ الحذر الحذر۔۔۔
عارف نے کہا تھا، "بچّی اپنے فگر سے پہچانی جاتی ہے۔" بیس یوم اُدھر، طالب علم پنج ستارہ ہوٹل میں چند ہم نشینوں کے ہمراہ قہوہ پی رھا تھا کہ ایک عزیز اصرار سے اس طرف لے گیا کہ جہاں رنگ برنگی تتلیاں اور کوہ قاف کو شرماتی پریاں، حُسن کو دھار پر لگا رہی تھیں۔ ایسے مناظر کہ زاہدِ خُشک بھی سبحان اللہ پُکار اٹھے۔ لیکن نگاہ کو جس کا ہوکا تھا وہ صورت، نظر میں نہ آسکی۔ شتابی سے سوال کیا۔ "آیان کہاں ہیں؟" جواب سُنا تو روح لرز اٹھی۔۔۔۔ تاریخ کے چوراہے میں سوئی، انجام سے بے خبر قوم اور اس کے رہنما۔۔۔ کوئی ہے جو جائے اور ان کو جگائے؟
روح چیخ اٹھتی ہے۔ مکھّن جیسی بچّی اور ایسا ظُلم۔۔ امراء القیس، وہ شاعر، وہ شہزادہ کہ جس کا نام آج بھی دوشیزاؤں کے سانس اتھل پتھل کردیتا ہے۔۔۔ بلادِ شام سے واپسی کا سفر تھا۔۔ شب آپہنچی تو پڑاؤ کا قصد کیا۔۔۔ کمر بھی سیدھی نہ کرپایا کہ قاصد پیام لایا۔۔ "شہزادے، امتحان آپہنچا۔۔۔ رُقیّہ قید میں ہے۔۔۔"۔ شہزادہ، الفاظ کا ہی نہیں، تلوار کا بھی دھنی تھا۔۔ اُٹھا اور وہ کہا جو آج تک تاریخ میں مثلِ شمس جگمگا رہا ہے۔۔۔" بچّی، امراء القیس کو پکارے اور وہ نرم بستر میں سوتا رہے۔۔۔ تُف ہے ایسی مردانگی اور شہزادگی پر۔۔" اسباب سمیٹا۔۔ گھوڑے کو ایڑ لگائی ۔۔۔  باقی تاریخ ہے۔
حکمرانوں سے کیا گلہ۔۔ تاریخ کا جن کو شعور نہیں۔ اپنی ذات سے اٹھ کر وہ سوچ نہیں سکتے۔ کوتاہ نظر و ظاہر بیں۔۔۔ شکوہ مگر کپتان سے ہے۔ ایسا جری اور بانکا جواں بھی جب ظُلم و جَور کے سامنے سِپر ڈال دے تو ۔۔ کس کا گلہ کرے کوئی۔۔۔ طالب علم کے لیے ہر شب، قیامت اور ہر دن امتحان کا ہے۔ لُقمہ، حلق سے اترتا نہیں۔۔ دل نے عارف کی دُھائی دی تو سفر کا قصد کیا۔ شام ڈھلے خدمت میں حاضر ہوا۔۔ حالت بیان کی۔۔ عارف نے سر اٹھایا اور بھیگے لہجے میں کہا۔۔۔
ہم رات بہت روئے بہت آہ و فغاں کی
دل درد سے بوجھل ہو تو نیند کہاں کی
المیہ مگر ہمارا یہ ہے کہ تفکّر نہیں کرتے۔ بے سبب کینہ پالتے ہیں۔ جتنی رقم کا الزام، بچّی پر لگا ہے اتنی تو اس کے پیروں کا صدقہ، مجھ جیسا فقیر دے سکتا ہے۔ جھوٹ ہے، صریح جھوٹ۔ اب بھی یہ قوم حشر نہ اٹھا دے تو سمجھیے کہ دل بنجر اور ذہن بے فیض ہوئے۔ کوئی امیّد باقی نہ رہے گی۔ وقت آ لگا ہے جب کھرا اور کھوٹا الگ کردیا جائے گا۔۔۔ اس بے مثال گویّے، جازی بی نے جیسا کہا تھا۔۔۔
حُسناں دی سرکار
دلاں نوں لُٹ دی جاوے
دو ہزار سال ہوتے ہیں۔۔۔اُس نادرِ روزگار عبقری نے، کہ راسپوٹین جس کا نام تھا، کہا، " حُسنِ بلاخیز ہر جُرم سے ماوراء ہوتاہے۔" لوگ مگر غور نہیں کرتے۔ الحذر الحذر۔۔۔


کیتھرین اور وال سٹریٹ کی شام

"تم ہمیشہ اداس کیوں نظر آتے ہو؟"۔ کیتھرین میری طرف جھکی اور آنکھوں میں جھانکتے ہوئے نرم لہجے میں پوچھا۔ کیتھرین کا سوال مجھے ماضی میں کئی سال پیچھے لے گیا۔ میں اس وقت سکول میں پڑھتا تھا۔ گھر کا خرچ چلانے کے لیے سکول سے آنے کے بعد ہم تنکوں سے ٹوکریاں اور ہیٹ بناتے تھے جو لاہور کا ایک تاجر ہم سے خرید لیتا تھا۔ ایک ٹوکری کے پانچ روپے اور ہیٹ کے دس روپے ملتے تھے۔ ہمارے ہُنر کو کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر وہ انہیں موتیوں کے بھاؤ ایکسپورٹ کردیتا تھا۔ ایک ٹوکری پانچ لاکھ اور ہیٹ پندرہ لاکھ میں بیچتا تھا۔ اس کے پاس ڈیفنس میں دو ایکڑ کا وسیع و عریض محل تھا۔ اس کے بچّے امریکہ میں پڑھتے تھے۔ لمبرگینی اور فراری سے پورشے اور بنٹلے تک۔۔ اس کے پاس اعلی سے اعلی گاڑیاں تھیں۔ اس کے سوٹ اٹلی سے سِل کر خصوصی جہاز پر آتے تھے۔ اس کے پاس بارہ شیف تھے جو دنیا کی اعلی سے اعلی ڈشز بنانے میں کمال مہارت رکھتے تھے۔ اس کے محل میں آئ میکس سینما سے لے کر چڑیا گھر تک ہر چیز موجود تھی۔ یہ سب اس نے ہماری محنت کی کمائی لُوٹ کر بنایا جبکہ میرے پاس سکول کی فیس دینے کے پیسے تک نہیں ہوتے تھے۔۔۔ اتنا کہہ کر میں سانس لینے کے لیے رُکا۔۔۔ کیتھرین دم سادھے یہ کہانی سُن رہی تھی۔۔۔ اس کا تیسرا ہمبرگر ابھی تک ویسے کا ویسا ہی پلیٹ میں رکھا ٹھنڈا ہورہا تھا۔۔ بئیر پڑی پڑی گرم ہورہی تھی۔۔۔
"بہرحال" میں دوبارہ گویا ہوا۔۔ " جیسے تیسے میں نے میٹرک پاس کرلیا اور ملتان چلا آیا۔ یہاں میرے ہم وسیب بہت سے دوست تھے جنہوں نے میرا بڑا ساتھ دیا۔ ان کی محبتیں اور احسان میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ ایم اے انگلش کرنے کے بعد میں نے اخبار میں نوکری کرلی۔ انہی دنوں اس اخبار میں ایک پنجابی جو ایم اے جرنلزم کرکے آیا تھا، وہ بھی بھرتی ہوا۔ میں اس سے ہر لحاظ سے بہتر تھا۔ مجھے انگلش بھی فر فر آتی تھی۔ جبکہ وہ بے چارہ اردو بھی نہیں بول سکتا تھا۔ لیکن مجھے سائیڈ لائن کرکے اس کو پروموٹ کیا گیا۔ اس کا کالم بھی شائع کرنا شروع کردیا گیا۔ نامور پنجابی صحافیوں نے اس کو پروموٹ کیا۔ آج وہ سب سے مقبول کالم نگار ہے۔ سب سے ہائلی پیڈ جرنلسٹ ہے۔۔۔ مجھے کیا ملا؟ مجھے ہمیشہ دیوار سے لگایا گیا۔ میری حق تلفی کی گئی۔ کسی اخبار یا چینل میں مجھے ٹِکنے نہیں دیا جاتا۔ میرا جُرم صرف یہ ہے کہ میں اپنی مظلوم قوم کے حق میں آواز اٹھاتا ہوں۔ میں نے ظالم پنجابی حکمرانوں کی کھربوں ڈالرز کی کرپشن کا سراغ لگایا۔ لیکن میری آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔"
کیتھرین کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے تھپتپھایا۔۔۔ "اصل بات ابھی باقی ہے میری دوست"۔۔۔ میں نے سلسلہءکلام جوڑتے ہوئے کہا، " اگر اس تربیتی کورس کے سلسلے میں میرا نیویارک آنا نہ ہوتا تو میں کبھی نہ جان سکتا کہ میری محنت کی کمائی سے کیا کیا ہورہا ہے۔۔۔ سنو، پیاری کیتھرین، مجھے وال سٹریٹ پر ان تنکوں کی خوشبو آتی ہے جن سے ہم نے ٹوکریاں اور ہیٹ بنائے اور تم شاید سن کر حیران ہوگی کہ ایک عظیم الشان برانڈ چین میں، میں نے وہی ٹوکریاں اور ہیٹ لاکھوں ڈالرز میں بکتے دیکھے ہیں۔ ہماری خون پسینے کی کمائی سے آپ لوگوں نے نیو یارک جیسے شہر کھڑے کرلیے ہیں۔۔ تخت لہور ہو یا وال سٹریٹ۔۔۔ سرائیکی وسیب کا خون سب نے چُوسا ہے۔۔ سوال تو یہ ہے کہ ہمیں کیا ملا؟ غربت، ناانصافی، طعنے۔۔۔"
کیتھرین نے بچا ہوا تیسرا ہمبرگر منہ میں ڈال کے گرم بئیر کا لمبا گھونٹ لیا۔۔۔ اور ایک طویل ڈکار لے کے میرے دونوں ہاتھ تھام لیے اور میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی۔۔۔ "رؤف، میں ان سب ناانصافیوں کا اُپائے تو نہیں کرسکتی لیکن اپنا قرض ضرور ادا کرسکتی ہوں۔۔"
اس کی آنکھوں میں محبّت اور سُپردگی تھی۔

کِی دم دا بھروسہ

ان سے پہلی ملاقات ہی خوشگوار نہیں تھی۔
پردیسی ہوئے ہمیں زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا اور طبیعت کی تُنک مزاجی اور زُود رنجی ابھی قائم تھی۔ ہمارے کولیگ چھٹی پر پاکستان تشریف لے گئے تھے اور دو بندوں کا کام ہمارے نازک کندھوں پر تھا۔ یہ انہی دنوں کا قصّہ ہے۔۔۔۔
ہم حسب عادت ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے، کام میں مشغول تھے کہ ایک درمیانہ قامت و عمر کے صاحب ہمارے دفتر میں وارد ہوئے۔ درمیانہ جُثّہ، گورا چٹّا رنگ، چھوٹے چھوٹے سخت بال، چہرے پر درشت تاثّر۔۔۔ آتے ہی بزبان عربی بہ لہجہ مصری گویا ہوئے، "وہ پاکستانی کہاں ہے؟"۔ اس وقت تک عربی سمجھ تو آتی تھی لیکن بولنے میں روانی نہیں تھی تو ہم نے انگریزی میں جواب دیا کہ وہ حضرت تو پاکستان تشریف لے گئے ہیں۔ تِس پر موصوف گویا ہوئے کہ ہمارا کام کون کرے گا؟۔ ہم نے ان کی طرف بغور دیکھا اور پھر اپنے سامنے پڑے میک کو غور سے دیکھا اور دوبارہ انکی طرف دیکھا۔ انہیں ہماری اس حرکت کا مفہوم سمجھ آیا تو چہرے کی درشتی میں مزید اضافہ ہوگیا اور مخصوص مصری انداز میں بڑبڑاتے ہوئے دفتر سے نکل گئے۔
کمپنی کے مندوب جو اتفاق سے مصری ہی تھے، ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد تشریف لائے اور استفسار کیا کہ وہ جو صاحب آئے تھے ان سے کیا بات ہوئی۔۔ ہم نے حرف بحرف دہرا دی۔ انہوں نے ہمیں یرکانے کی پوری کوشش کی کہ یہ صاحب فلاں سیمنٹ فیکٹری کے چیف اکاؤنٹنٹ وغیرہ ہیں جس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ہماری کمپنی کے مالک بھی شامل ہیں اور یہ "ارباب" کے خاص آدمی ہیں۔ یہ تم سے بہت ناراض ہیں کہ تم نے ان کا "احترام" نہیں کیا۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔ ہم دل میں گھبرائے تو لیکن پکّا سا منہ بنا کے ان کی بات سنی ان سنی کرنے کا تاثر دیتے رہے۔
بات یہ کھلی کہ ہر سال اس سیمنٹ فیکٹری کی سالانہ رپورٹ ہماری کمپنی چھاپتی تھی اور وہ اسی سلسلے میں تشریف لائے تھے لیکن ہمارے روئیے اور ان کا واجب احترام نہ کرنے سے ان کو شدید طیش آیا اور وہ واپس تشریف لے گئے۔
اللہ غریق رحمت کرے، ہمارے مینجر، جو فلسطینی اردنی تھے۔ ان تک بات پہنچی تو وہ اپنے مخصوص دبنگ انداز میں بولے۔۔ شُووو۔۔ خلّی ولّی ہذا نفر۔۔ مافی فکر۔۔ (کیا؟؟ مٹی ڈالو اس بندے پر۔۔ اور فکر نہ کرو)۔۔۔ ہم نے فورا ان پر مٹّی ڈالی اور بے فکر ہو کے اپنی مزدوری میں مشغول ہوگئے۔ بہرکیف، اگلے دن انہوں نے اپنے کسی ماتحت کو ساری تفصیلات دے کر بھیجا اور خود تشریف نہیں لائے۔۔۔۔
ان کی کمپنی کا سارا چھپائی کاکام یہیں ہوتا تھا چونکہ ارباب ادھر بھی تھے اور ادھر بھی۔۔ لہذا ان کا ہمارے دفتر میں کبھی کبھار کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔۔۔۔ ہمارے کولیگ سے وہ بڑی گرمجوشی سے باقاعدہ عربی چمُیوں والے انداز سے گلے ملتے لیکن سالہا سال گزر گئے انہوں نے کبھی ہمیں سلام تک نہیں کیا۔ اگر کبھی کولیگ دفتر میں نہ ہوتے تو دروازے سے واپس ہوجاتے اور ریسپشن سے ان کے بارے استفسار کرتے کہ کہاں ہیں اور کب تک آئیں گے۔۔۔ ان کے چہرے سے ہی پتہ چلتا تھا کہ وہ ہمیں کس حد تک ناپسند کرتے ہیں۔ ہمیں ان کے اس مسلسل روئیے کی سمجھ نہیں آتی تھی کہ ہم ایک معمولی سے کِی بورڈ مزدور۔۔ جس کی مہینے کی آمدنی شاید ان کی ایک دن کی آمدنی سے بھی کم۔۔۔ مجھ سے یقینا اعلی تعلیم یافتہ اور سماجی طور پر بھی مجھ سے کہیں برتر۔۔ شیوخ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا۔۔ جبکہ ہم سے تو نائی بھی بال کاٹنے کے ایڈوانس پیسے لیتے تھے۔ خیر۔۔ جیسا کہ ہماری کھال کافی سخت ہے تو ہم نے ان کے اس روئیے کو بھی معمول سمجھ لیا اور جیسے وہ ہمیں گوبھی سمجھتے تھے ہم بھی انہیں میز سمجھنے لگے۔
یہ قریبا اڑہائی سال پہلے کی بات ہے۔ کمپنی کے ڈرائیور نے ہمیں بتایا کہ وہی صاحب بہت بیمار ہیں اور ہسپتال میں ہیں۔ ہم نے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں کینسر ہوگیا ہے اور طبیعت بہت خراب ہے۔ ہم نے ان سے کہا کہ جب بھی آپ کا ہسپتال جانا ہو تو مجھے بھی ساتھ لے لیجیے گا۔۔۔ اس بات سے قریبا ایک ڈیڑھ مہینہ پہلے وہ ہمارے دفتر آئے اور بالکل ہشاش بشاش اور تندرست تھے۔ ہم نے دل میں سوچا کہ خان بھائی، مبالغہ کررہے ہوں گے، طبیعت ایک دم اتنی خراب کیسے ہوسکتی ہے۔۔۔
اس سے ایک آدھ دن بعد خان بھائی نے ہمارے دفتر کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر گردن گھسائی اور گویا ہوئے، "جاپر بھائی، ام اسپتال جائےگا، تم جائےگا؟"۔ ہم آمنّا و صدقنّا کہتے ہوئے ان کے ساتھ چل دئیے۔
ہسپتال کی مخصوص بُو، خاموشی اور اس خاموشی میں تیرتی امید اور مایوسی۔۔ ہم جب ان کے کمرے میں داخل ہوئے تو گورے چٹّے صحت مند چہرے والے صاحب ایک مخصوص مشینی سی کرسی پر بیٹھے تھے۔۔ ان کا رنگ ایسا زرد تھا کہ زندگی میں کبھی کسی انسان کا رنگ ایسا نہیں دیکھا۔ پیٹ پُھولا ہوا تھا۔ ہمیں دیکھ کر ان کی آنکھوں میں حیرانی بھر آئی۔۔۔۔ پھر ایک شناسائی کی چمک۔۔۔ دونوں ہاتھ پھیلا کر بولے۔۔ "شّوف ۔۔ یا گعفر۔۔۔" (دیکھو۔۔ یہ کیا ہوگیا میرے ساتھ) ان کی آنکھیں بھر آئی تھیں ۔۔ "سوی دُعا حبیبی"۔۔۔ (میرے دوست، دُعا کرنا میرے لیے) ہمارے حلق میں جیسے دُھواں بھر گیا ۔۔۔ ان کا کندھا تھپتھپایا۔۔۔ روایتی سی باتیں کیں کہ انشاءاللہ کچھ نہیں ہوگا۔۔ سب ٹھیک ہوجائےگا۔۔۔ ان کو بھی اور ہمیں بھی علم تھا کہ یہ جھوٹ ہے۔۔۔۔ واپسی کے لیے مُڑے۔۔ تو بولے۔۔ شُکرا یا گعفر۔۔۔۔
پندرہ بیس دن بعد خبر ملی کہ وہیں چلے گئے ہیں جہاں سب کو جانا ہے۔

ظرف

نوٹس بورڈ پر کلاس روم اور لیکچرر کا نام تلاش کرتے ہوئے نظر، رُستم علی ضیاء، پر پڑی تو پہلا خیال جو ذہن میں آیا وہ ایک لمبے تڑنگے، دس بج کے دس منٹ والی مونچھوں اور مصطفی قریشی جیسی آواز والی دبنگ شخصیت کا تھا۔ کلاس روم ڈھونڈتے ہوئے نئے بلاک کے ایک کمرے میں پہنچے تو پینتیس چالیس، انواع و اقسام کے لڑکے بالے پہلے سے موجود تھے۔ ہم بھی دم سادھ کے حسب معمول و عادت، پچھلے بنچوں پر جا کر تشریف فرما ہوگئے۔ کچھ توقّف کے بعد خاموشی سی چھا گئی اور منمناتی ہوئی سی ایک آواز سنائی دینے لگی۔ آواز کا مخرج البتہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔ تھوڑا تردّد کیا اور ذرا اُچک کر دیکھا تو ایک منحنی سے مُعنّک صاحب، جو ٹنڈولکر کے ہم قد تھے، پروفیسرانہ مونچھیں اور صورت پر ثقلین مشتاق جیسی معصومیت لیے کچھ کہہ رہے تھے۔ ہم نے آخری بنچ کو چھوڑ کے دو بنچ آگے ہجرت کی تو آواز کچھ واضح ہوئی۔ وہ اپنا تعارف کرارہے تھے اور وہی روایتی باتیں کررہے تھے جو استاد پہلے دن اپنے طلباء سے کرتے ہیں۔ ہمیں بہرحال، رُستم علی ضیاء، اچھے لگے۔
کمرہءجماعت میں ہم ہمیشہ لو پروفائل رہنے کی کوشش کیا کرتےتھے۔اس سے دو فائدے ہوتے، ایک تو استاد آپ کو نکمّا سمجھتے اور دوسرا  رٹّو طوطے ہم جماعت آپ سے پروفیشنل جیلسی محسوس نہیں کرتے تھے۔ رُستم صاحب بھی ہمیں ایک کم گو، غبی اور سست طالبعلم سمجھتےاور دورانِ لیکچر ہمیں کسی سوال کے جواب کے لیے تکلیف نہیں دیتے تھے۔ ویسے بھی ہمارا گریجویشن کرنے کا پلان ایک طعنے کا نتیجہ تھا۔ ورنہ ہمیں اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ یہ البتہ ایک الگ کہانی ہے۔
گریجویشن کے دوسال ہم نے کرکٹ کھیلتے، جگتیں کرتے اور دھوپ سینکتے (سردیوں میں) گزار دئیے۔ تھرڈ ائیر کے سالانہ امتحان میں ہمارے نمبر دیکھ کے ہمارے سارے اساتذہ اور ہر وقت کتاب لے کے گراسی پلاٹس میں بیٹھے رٹّو طوطے کم و بیش ایک جیسی، گہرے شاک، والی کیفیت میں تھے۔ ایک دن کلاس ختم ہونے کے بعد باہر نکلتے ہوئے رُستم صاحب نے ہمیں روک لیا اور پوچھنے لگے، "آپ نے امتحان خود دیا تھا ناں؟"۔ ہم نے جوابا کہا، "نہیں سر، میرے مؤکل نے دیا تھا"۔ وہ بات سمجھ گئے۔ قہقہہ لگایا،  کندھے پر تھپکی دی اور اس دن کے بعد ہم ان کی نظر میں آگئے اور ہمیں پہلے بنچ پر ہجرت کرنا پڑی۔
گریجویشن کے دوسرے سال رُستم صاحب پوری کلاس کو سٹڈی ٹور پر پنڈی اسلام آباد، تربیلا اور مری لے گئے۔ (مری تو خیر سٹڈی نہیں پُونڈی ٹُور تھا)۔ پنڈی، اسلام آباد کے سوشل ویلفئیر کے اداروں میں وزٹس کیے۔ تربیلا میں اس وقت رُستم صاحب کے کوئی کلاس فیلو دھانسو قسم کے آفیسر تھے اور وہ دور بھی اچھا تھا تو ہمیں ان جگہوں کا وزٹ بھی کرایا گیا جہاں عام طور پر سٹڈی ٹورز پر آنے والوں کو نہیں لے جایا جاتا تھا۔ کنٹرول روم ٹائپ ایک بڑے سے ہال میں گھومتے ہوئے، ہمارے کلاس فیلو ملک واحد نے ایک بڑے سارے پینل پر کھڑے انجینئر ٹائپ بندے سے پوچھا، "پائین، فیصلاباد دی بتّی کتھوں بند کردے او؟" اس نے پوچھا کہ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ تو جواب ملا، " میں سوچیا، آئے تو ہوئے آں، او بٹن ای پَن دیّے"۔ انجینئنر صاحب نے حیران ہو کر ملک کی طرف دیکھا۔۔ پھر اسے احساس ہوا کہ یہ فیصل آباد سے آئے ہیں!۔
پنڈی صدر کے ایک ہوٹل میں ہماری رہائش کا بندوبست تھا۔ ہمیں جو کمرہ ملا وہ شاید چوتھی منزل پر تھا، تیسری منزل کے کمروں میں ہمارے گروپ کے باقی سارے مسکیٹئیرز تھے۔ رات کو کھانے سے فارغ ہو کے ایک کمرے میں محفل جمتی تھی۔ ہمارے روم میٹ جناح کالونی کے ایک شیخ صاحب تھے جن کا اصل نام، واللہ، ہم بھول چکے ہیں کیونکہ ہمارا دیا ہوا نام اتنا مقبول ہوگیا تھا کہ اب یاد کرنے پر بھی ان کا اصل نام یاد نہیں آتا۔ اصلی شیخ تھے، سرخ و سپید، گول مٹول، حساب کتاب میں تیز اور باقی معاملات میں معصوم۔
ہم محفل میں پہنچے تو رنگ کھیلا جارہا تھا۔ شیخ صاحب ہمارے ساتھ تھے۔ ہمارے آتے ہی پتّے سمیٹ دئیے گئے اور ساجد چیمے نے اپنے بیگ سے پلاسٹک کی ایک بوتل نکالی۔ میز پر رکھے گلاسوں میں تھوڑا تھوڑا محلول انڈیلا اور سب کو "بسم اللہ کرو" کہہ کے دعوت دی۔ ساجد کا تعلق ساہیانوالے سے تھا۔ جہاں کی مشہور مصنوعات میں جاٹ اور دیسی ٹھرّا شامل ہیں۔ پینے والوں میں ساجد چیمہ، زاہد ٹھنڈ، ملک واحد اور زاہد موٹا شامل تھے۔ شیخ صاحب کا رنگ شراب کا ذکر سنتے ہی پیلا پڑ گیا تھا۔ جبکہ ہمیں کوئی ایسی چیز پینے سے کبھی دلچسپی رہی ہی نہیں جسے پینے کے لیے ناک بند کرنی پڑے اور بعد میں وہ دماغ بند کردے۔
ہمارے ہم جماعتوں میں تین زاہد تھے۔ جن کے نام بالترتیب زاہد ٹھنڈ، زاہد موٹا اور زاہد کیسٹ تھے۔ زاہد ٹھنڈ، پیپلز کالونی کے رہائشی تھے۔ جِم وغیرہ کرتے تھے۔ جس سے ان کا منہ پچک سا گیا تھا اور ایسے ٹھٹھک کر بات کرتے تھے جیسے ٹھنڈ لگ رہی ہو ان کے پاس ایک زمانہء قدیم کا پوائنٹ ٹُو ٹُو کا زنگ لگا زنانہ پستول بھی ہوتا تھا جو وہ ڈب میں لگا کر گھوما کرتے تھے۔ ہم نے ایک دفعہ ان  سے پوچھ لیا کہ میاں، اس پستول سے شلوار میں ناڑا ڈالتے ہو؟ تِس پر انہیں مزید ٹھنڈ لگنی شروع ہوگئی تھی۔ زاہد موٹا، غلام محمد آباد کے رہائشی تھے۔ شدید موٹے اور شدید کالے۔ معصوم صفت انسان تھے، ہومیوپیتھک کہہ لیں، جیسا کہ اکثر موٹے ہوتے ہیں۔ زاہد کیسٹ، محمد پورہ کے رہائشی تھے، جماعتیے تھے تو کیسٹ کی وجہ تسمیہ آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ ہر معاملے پر وہ اپنے لیکچر کی کیسٹ چلا دیتے تھے اور پوری سنائے بغیر کسی کو بات نہیں کرنے دیتے تھے۔ ویسے ہم ان کے احسان مند بھی ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ ہماری جان بچائی تھی۔ یہ کہانی بھی پھر سہی۔۔۔
تیسرے گلاس کے بعد محفل کی حالت بدلنے لگی ۔ ساجد چیمہ نہایت رومانٹک ہوکے نورجہاں کے گانے گنگنانے لگا۔ زاہد ٹھنڈ کے چہرے پر آرنلڈ شوارزینگر جیسے تاثرات آنے لگے، زاہد موٹے کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے۔ ملک واحد البتّہ ویسے کا ویسا ہی تھا۔ آنکھوں میں ہلکی سی سُرخی کے علاوہ اسکی کسی حرکت یا بات سے نشے میں ہونے کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ اس کی جگتوں کی دھار البتہ کچھ تیز ہوگئی تھی۔ ساجد کی رومانی حالت کا رُخ جب شیخ صاحب کی طرف ہونے لگا تو ہم نے دخل در نامعقولات کرتے ہوئے، ساجد سے پوچھا، "ساجد، وہ فائر کیسے لگا تھا تجھے؟" یہ سنتے ہی چیمے کے تاثرات، چیتے جیسے ہوگئے۔ اور وہ اپنی ہزار دفعہ کی دہرائی ہوئی کہانی پورے جوش و جذبے اور گالیوں کے ساتھ دہرانے لگا کہ کیسے اسے ڈیرے پر اس کے ویری نے فائر مارا تھا اور اس کا چھوٹا بھائی اس کو ہسپتال لے جانے کی بجائے پہلے بندوق لے کے اس ویری کو فائر مار کے آیا اور اس کے بعد ساجد چیمے کو ہسپتال لے کےگیا۔۔۔۔ فلمی سین تو یہ ہوا کہ وہ ایک ہی وارڈ میں دو بیڈ چھوڑ اپنی ٹانگوں پر پلستر چڑھائے لیٹے تھے اور سارا دن ایک دوسرے کی والدہ ہمشیرہ، واحد کرتے تھے۔
زاہد ٹھنڈ، پانچواں گلاس ختم کرتے ہی کمرے سے باہر نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد ہنگامے کی آواز سن کر ہم باہر دوڑے تو وہ ساتھ والے کمرے کا دروازہ پیٹ رہا تھا اور مشیر مسیح، جو ہمارا ہم جماعت تھا، اسے گالیاں دے رہا تھا۔۔ نکل اوئے ویسٹ انڈیز دیا چوہڑیا۔۔۔ مشیر، بستی عیسائیاں کا رہائشی اور بہت نفیس بندہ تھا (اب بھی ہے)۔ اس نے عقلمندی کی کہ دروازہ نہیں کھولا اور مزید تماشہ بنانے سے گریز کیا۔ زاہد ٹھنڈ کو بڑی مشکل سے گھسیٹ کر کمرے میں لایا گیا۔ عام حالات میں ٹھنڈ کی مشیر سے گاڑھی چھنتی تھی۔ جس کی وجہ مسیحیوں کا بوتل کوٹہ تھا۔کمرے میں واپس آئے تو زاہد موٹا، پُھس پُھس کرکے رو رہا تھا۔ ملک کی آنکھوں میں شرارت تھی، اس نے اشارہ کیا کہ اس سے پوچھو کہ کیا ہوا۔۔ ہم موٹے کے پاس جا کے بیٹھ گئے اور پوچھا کہ کیا ہوا ہے۔۔ اس کے رونے کی آواز اور اونچی ہوگئی۔۔۔ "میرے نال بڑے ظلم ہوئے نیں، میرے نال بڑے ظلم ہوئے نیں"۔۔ ہم سمجھنے سے قاصر تھے کہ اتنی بالی عمریا میں کتنے کُو ظلم ہوگئے ہوں گے؟ ظلم کی نوعیت پوچھنے پر بھی وہی جواب ملتا رہا۔۔ میرے نال بڑے ظلم ہوئے نیں۔۔۔ عام حالات میں زاہد موٹا ایک نہایت خوش باش اور ہیپی گو لکّی قسم کا بندہ تھا۔ ہمیں آج تک سمجھ نہ آسکی کہ اس کے ساتھ کیا ظلم ہوئےتھے۔
ملک واحد البتّہ، اپنی گلامابادی وِٹ اور خوش مزاجی پر ویسے کا ویسا قائم تھا جیسے پانچ گلاس پہلے تھا۔ آنکھ کی سُرخی اور منہ کی بُو کے علاوہ کوئی ایسی نشانی نہیں تھی جس سے ان پانچ گلاسوں کا کوئی نشان ملتا ہو۔

دسمبری دُکھڑے کا علاج

پار سال ہم نے دسمبر اور اس کے انواع و اقسام کے دُکھڑوں پر کماحقہ روشنی وغیرہ ڈالی تھی۔ اب ہم ان دُکھڑوں کے شافی و کافی علاج کے ساتھ حاضر ہیں مبادا یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم اردو کالم نگاروں کی طرح، صرف مسائل کا پرچار کرتے ہیں اور ان کا حل ہمارے پاس نہیں ہوتا۔ خیر، ایسا سمجھ بھی لیا جائے تو ہماری صحت پر کوئی اثر نہیں۔ آپ کا جو دل چاہے سمجھتے رہیں۔۔۔
دسمبر میں وہ خواتین و حضرات بھی دردیلی شاعری کا پرچار شروع کردیتے ہیں جنہیں ۔۔۔ لپّے آتی ہے دعا بن کے تمنّا میری۔۔ بھی، کبھی یاد نہیں ہوسکی تھی۔ اس کا آسان علاج  ہے کہ نومبر کے آخری ہفتے سے ہی انور مسعود، دلاور فگار، ضمیر جعفری ، خالد مسعود اور اگر ہمّت ہو تو استاد امام دین گجراتی کی شاعری کا کثرت سے مطالعہ کریں۔ شادی شدہ خواتین و حضرات اس کے ساتھ ساتھ کثرت جماع پر زور رکھیں۔ یہ بھی مفید ہوتا ہے۔
جن خواتین کو اپنے نہ ملنے والے سجّن پیاروں کی یاد بے چین کرتی ہے اور وہ ان کی یاد میں دسمبر شروع ہوتے ہی آٹھ آٹھ آنسو بہانا شروع کردیتی ہیں۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ جولائی کی کسی اتواری ملتانی دوپہر کا تصّور ذہن میں لائیں۔ صبح سات بجے سے بجلی بند ہو۔ آپ کا محبوب رات کو کمپلسری ویک اینڈ بھی سیلیبریٹ کرچکا ہو۔۔ اور اس وقت تہہ بند، شلوار یا برمودا شارٹس پہن کے صحن میں بیٹھا ہو۔ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ابھی تک "غسل" بھی نہ کیا ہو۔۔ دانت صاف کرنے کی عادت اس کو عادتِ بد لگتی ہو۔۔ پانچ فٹ دور سے اس کے منہ کی سگرٹانہ مہک مخاطب کو عطر بیز کرتی ہو۔۔۔کُلّی کرکے اس نے اس گرمی میں بھی، صبح دو پراٹھوں کے ساتھ چار انڈوں کا آملیٹ کھایا ہو اور اب ایک ہاتھ اپنی بنیان میں ڈال کے پیٹ کھجا رہا ہو اور دوسرے ہاتھ میں "گولڈ لیف" سلگا کے اس کے کش لگا رہا ہو۔۔ عاشقی کی کامیابی کے جوش میں پہلے تین سالوں میں جو تین ماڈل مارکیٹ کردئیے گئے تھے، وہ گرمی کی وجہ سے مسلسل اپنے ہونے کا ثبوت دے رہے ہوں اور آپ کے یہ کہنے پر کہ۔۔۔ ذرا زوماریہ نوں چُوٹا ای دے دیو۔۔ پر وہ گھُور کے آپ کی طرف دیکھے اور کہے۔۔۔ میں تیرے پیو دا نوکر آں؟۔۔۔
اس سارے سنیریو کو ایک دفعہ تصوّر میں لانے پر اس وقت جو دہُوش میلی بنیان اور الٹی شلوار پہنے، آپ کے ساتھ لیٹا ہوا خرّاٹے مار رہا ہے، آپ کو اس پر بے اختیار پیار آسکتا ہے۔۔ لیکن اس پیار کو دل میں ہی رکھیں اور اسے عملی طور پر ظاہر کرنے سے گریز کریں۔ سردی کافی ہے اور گیس کی لوڈ شیڈنگ چل رہی ہے اور ٹھنڈے پانی سے نہانا کافی مشکل ہوتا ہے۔۔۔
ان مرد احباب کے لیے جنہیں غمِ جاناں ہے اور وہ اس کو شاعری کے زور پر غم دوراں بنانے پر تُلے ہیں، مشورہ ہے کہ وہ ان محترمہ کا تصوّر کریں جن کے بغیر ان کو لگتاہے کہ ان کی زندگی ادھُوری ہے۔۔ شادی کے بعد ان کو پتہ لگتا کہ خاتون کو چٹپٹی چیزیں کھانے کا شوق ہے، بنا بریں اوائل عمری سے ہی گیس ٹربل ان کی سہیلی ہے۔ اس صورت میں آپ کی آدھی تنخواہ تو ائیر فریشنر پر ہی خرچ ہوجاتی۔ اس کے علاوہ جتنا وقت وہ ہار سنگھار اور میک اپ پر خرچ کرتی ہیں، اتنی دیر آپ بھی میک اپ کریں تو ونیزہ احمد تو لگ ہی سکتے ہیں۔ غُبارِ عاشقی کی وجہ سے ہونے والی مسلسل زچگیوں کے باعث خاتون دو تین سال میں ہی پیچھے سے مُسرّت شاہین اور سامنے سے عابدہ پروین لگنے لگی ہیں۔ مرے پر سو دُرّے۔۔ آپ کے بیڈروم میں شیرخواروں کے بول کی مہک ایسی رچ بس گئی ہے کہ آپ کی سونگھنے کی حِس ہی مردہ ہوچکی ہے۔۔ اور خاتون کو ان سب چیزوں کا احساس دلانے پر وہ آپ کو شادی سے پہلے آپ کی احمقانہ گفتگو کے ایسے ایسے طعنے دینا شروع کردیتی ہیں کہ آپ کا اعتبار ہی دنیا، شادی، عورت سے اٹھ جاتا ہے اور آپ برہمچاری ہو کر اس دنیا سے بن باس لینے کا سوچنے لگتے ہیں۔
یہ سب تصوّر میں لانے کے بعد آپ کو اپنی گہری سانولی زوجہ، جو اس وقت مُنّے کو سُلا کر عمیرہ احمد کے ناول کی تازہ قسط پڑھ رہی ہیں، پر شدید ہارمونک پیار آئے گا۔۔۔ اور چاہے دسمبر یا ہو یا گیس کی لوڈ شیڈنگ۔۔ آپ نے باز تو آنا نہیں۔۔۔

مردودکی یاد میں

ہم نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ کسی کی یاد میں کبھی کچھ لکھنے کی نوبت آئے گی لیکن آج ہم بصد خوشی و مسرّت یہ سطور قلم بند کرنے کی سعاد ت حاصل کررہے ہیں۔ان کا ذکر کرنے سے پہلے تین دفعہ لاحول اور تین ہی دفعہ آیت الکرسی پڑھ کر پاس بیٹھے ہوئے پر دم کردیں لیکن خیال رکھیں کہ کوئی انجان خاتون نہ ہوں ورنہ آپ کا دم بھی نکل سکتا ہے۔۔۔
آمدم برسر مطلب۔۔۔ان کا نام ایسا تھا کہ اسکی وجہ سے اکثر وہ کبھی کھابے کھاتے اور کبھی قتل ہونے سے بال بال بچتے رہے لیکن عرف عام میں انہیں سجن دشمن سب "مردود" کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اس کی بہت سی وجوہات تھیں لیکن سب سے بڑی وجہ ان کا موقع محل اور جھونپڑی دیکھے بغیر بولنا تھا۔ مرے پر سو درّے، جب وہ بولتے تھے تو زیادہ تر باقیوں کی بولتی بند کردیتے تھے۔ لہذا انہیں اتفاق رائے سے مردود کا نام دیا گیا۔ دوست احباب البتہ زیادہ جوش و خروش سے ان کی غیر موجودگی میں یہ نام دہراتے تھے اور اپنے من کو ٹھنڈک پہنچاتے تھے۔
زمانہ طالب علمی میں اساتذہ اور ہم جماعتوں میں وہ یکساں طور پر غیر مقبول تھے۔ اساتذہ ان کے سوالات اور ہم جماعت ان کی حاضر جوابی (جنہیں چند حاسدین جگت بازی کا بھی نام دیتے ہیں) سے تنگ رہتے تھے۔ اساتذہ تو اپنا ساڑ کسی نہ کسی طرح نکال لیتے تھے مثلا اردو گرائمر پڑھاتے ہوئے، استاد  اچانک ان سے پوچھتے کہ  بوٹسوانہ کے  وزیر بہبود آبادی کا نام بتاؤ۔۔ مردود بھی ایسے کائیاں تھے کہ کریبونگا امبنگوا جیسا کوئی نام بول دیتے، استاد محترم کے لیے مشکل ہوجاتی کہ اگر غلط کہیں تو ٹھیک بتانا پڑے گا اور درست  مانیں تو مردود بچ جائیں گے۔ لیکن استاد بھی آخر استاد ہوتے ہیں۔۔ فورا ان سے فعل ماضی مطلق شکیہ  کی گردان سنانے کا حکم جاری کردیتے۔۔ تس پر مردود گویا ہوتے ۔۔ سرجی ! پھینٹی لانی اے تے لاؤ ، بہانے تے نہ لاؤ۔۔ اس پر محترم استاد اپنے دل کی بھڑاس شہتوت کی لچکدار چھڑی ان کے ہاتھوں اور تشریف پر برسا کے پوری کرتے۔۔
ہم جماعت، نہ زبانی اور نہ ڈنڈیں پٹّیں ، ان سے الجھنے کی ہمّت رکھتے تھے لہذا اس ساڑ کو اکثر و بیشتر ان کی غیرموجودگی  میں ان کے قصیدے پڑھ کے نکالاجا تا تھا۔ آپ کو خدا تعالی نے ڈھٹائی کی صفت سے نکونک مُتّصف کیا تھا، بنا بریں ایسی باتیں اگر ان کے کان میں پڑ بھی جاتیں تو بے شرمی سے ہنس کر، سنانے والے کو دو تین جگتیں ٹکا دیا کرتے۔ رفتہ رفتہ سب کو اندازہ ہوگیا کہ آپ ہمیشہ اپنی مرضی اور منشاء سے  کھیلتے ہیں، لائی لگ نہیں ہیں۔
اعلی تعلیم کے لیے لوگ باہر جاتے ہیں آپ اس سلسلے میں دو تین دفعہ اندر جاتے ہوئے بال بال بچے۔ کالج میں آپ کے جوہر مزید کھلے۔ ایک تو یہاں شہتوت کی چھڑی سے گدّڑ کُٹ لگانے والے اساتذہ نہیں تھے اور دوسرا ان کو اپنے مزاج کے چند اور مردود بھی مل گئے۔ جو آخری سانس (مردود کی آخری سانس) تک ان کے ساتھ رہے۔ آپ نے کالج میں اپنی منافقت کے باوصف جماعتیوں میں شمولیت اختیار کی حالانکہ آپ کی گفتگو اگر کوئی ناظم بھائی سن لیتے تو موقع پر  ہی ان کو شہادت سے سرفراز کردیتے۔ آپ کا  "باگا" بہت تھا۔ "زندہ ہے جمعیت زندہ ہے" کے نعرے لگاتے ہوئے دو تین دفعہ ایم ایس ایف کے ہاتھوں مرتے مرتے بچے۔ ان کے حاسدین ان کے اس طرح بچنے پر ہمیشہ سڑ کے یہی کہتے تھے کہ ۔۔۔ بُرائی اینی چھیتی نئیں مُکدی۔۔۔
آپ نے  یہ محاورہ بھی غلط ثابت کیا کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے  نہیں۔۔۔ آپ گرجتے بھی تھے اور برستے اس سے زیادہ تھے۔ ایک دفعہ تو تنگ آکے ایم ایس ایف  والے وفد بنا کر مرکز میں تشریف لے گئے اور اکابرین سے درخواست کی کہ اگر اس کو لڑائی میں شامل کرنا ہوتا ہے تو ۔۔ اسیں اگّے توں لڑائی لڑائی نئیں کھیڈنا۔۔۔
چہرے پر چھائی نحوست ، مردودیت اور لفنٹر پن کے باوجود آپ ہمیشہ خواتین کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ اس کی وجوہات پر جب روشنی ڈالنے کے لیے کہا جاتا تو آپ ہمیشہ ایک ذلیل سی ہنسی کے ذریعے اس کا جواب دیتے۔ اس دلچسپی  کے سائیڈ افیکٹس  یہ تھے کہ ان خواتین کے خالو، پھوپھے، ماموں، چچا ، بھائی وغیرہ ہمیشہ ان پر بندوقیں کس کے پھرتے رہے ۔۔۔ بقول شاعر۔۔۔
کانٹے کی طرح ہوں میں "اقرباء" کی نظر میں
رہتے ہیں مری گھات میں چھ سات مسلسل
جو ں جوں وقت گزرتا رہا اس فہرست میں بھتیجے، بھانجے وغیرہ بھی شامل ہوتے گئے۔۔ اگر آپ  دنیائے فانی سے اتنی جلد دفع نہ ہوتے تو یقینا نوبت بیٹوں تک جا پہنچتی۔۔
آسماں تیری لحد پہ زہر افشانی کرے
آپ کی وفات مُسّرت آیات، اچانک  ہوئی۔ ایک دن صبح اٹھے اور فیصلہ کیا کہ آج کے بعد بدل جائیں گے۔ منافقت چھوڑ دیں گے، مردودیت سے کنارہ کرلیں گے، اچھے بچّے بن جائیں گے۔۔ اس فیصلے کی خوشی کی تاب نہ لاتے ہوئے، اسی شام داعئ حق کو لبیک کہہ گئے۔۔
حق، پاء لمّیاں لوے، عجب مردود مرد تھا

بابا حاجی

ہمارا گھر گلی میں داخل ہوکے بائیں ہاتھ پر تیسرا تھا۔ بائیں ہاتھ پر آٹھواں گھر، بابا حاجی کا تھا۔ ان کے اصل نام کا تو ہمیں کبھی علم نہ ہوسکا لیکن سب لوگ انہیں بابا حاجی کے نام سے ہی جانتے تھے۔ باریش، گُٹھا ہوا سر، تہہ بند اور کُرتا۔ کندھے پر سفید رنگ کا صافہ جو گرمی میں سر پر بندھا ہوتا تھا۔ شیخ برادری سے ان  کا تعلق تھا۔ زوجہ وفات پاچکی تھیں اور وہ اپنے بڑے بیٹے اور بہو کے ساتھ رہتے تھے۔ شیخ اور سیاستدان کبھی ریٹائر نہیں ہوتے۔ مرتے دم تک اپنے کام سے لگے رہتے ہیں۔ یہ بھی اپنے بیٹے کے ساتھ کپڑے کی دکان پر جاتے تھے ۔ شام کو جلد واپس آجاتے تھے۔ ان کا مستقل ٹھکانہ ، ان کے گھر کے باہر والا تھڑا تھا ۔  شام کو اکثر وہیں پائے جاتے ، جہاں ان کے ساتھ ان کے ہم عمر بزرگ شہری  بھی محفل جمایا کرتے تھے۔
بابا حاجی ،  ہمارے بزرگوں کی اس روایت پر سختی سے کاربند تھے جس کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ چڑچڑا پن بڑھانا ضروری ہوتا ہے۔  ہم شام کو گلی میں کرکٹ ایمانی جو ش و جذبے کے ساتھ کھیلا کرتے ۔ زبیر کے گھر کے سامنے ہماری "پچ " تھی۔ بالر کا  رن اپ وہاں سے شروع ہوتا تھا جہاں بابا حاجی و ہمنوا شام کو بیٹھتے تھے۔ ہر گیند پھینکنے سے پہلے وہ بالر کو یہ تنبیہ ضرور کیا کرتے تھے کہ   ۔۔ جے گیند مینوں لگّی تے میں چھڈنا نئیں تہانوں"۔۔۔ شو مئی قسمت کہ برسوں ہم کرکٹ کھیلتے رہے ایک بھی دفعہ گیند ان کو نہیں لگی۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تنبیہات میں غصہ اور برہمیت بڑھتی ہی رہی۔
ہم بھی لڑکپن سے خطرناک عمر تک بڑھتے رہے اور بابا حاجی کا چڑچڑ اپن بھی ۔  مسلسل ٹوکا ٹاکی سے تنگ آکر ہم نے اپنے گینگ آف عوامی کالونی سے مل کر ایک گھناؤنا منصوبہ بنایا ۔ جس کا مقصد بابا حاجی کو اس حد تک زچ کرنا تھا کہ وہ ہمیں تنگ کرنے سے با ز آجائیں۔ اس وقت ہمیں اگر یہ پتہ ہوتا کہ ساری زندگی کی عادتیں اس عمر میں جا کے نہیں بدلتیں تو یقینا ہم یہ حرکت نہ کرتے۔ پر ہر بات  مناسب وقت پر ہی پتہ چلے تو اچھا ہے ورنہ زندگی بے رنگ ہوجاتی ہے۔
ہم نے گلی کی بچہ پارٹی کو اکٹھا کیا اورانہیں اپنے ساتھ کبھی کبھار کرکٹ کھیلنے کا لالچ دے کر اپنے منصوبے کا حصہ بنایا۔  ایک دن شام کو جب بابا حاجی تھڑے پر تنہا بیٹھے تھے۔ سب سے پہلے باجی رانی کے صاحبزادے نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے کہا۔۔ بابا حاجی، سلاما لیکم۔۔ بابا حاجی نے خوش ہوکے جواب دیا۔۔ واالیکم سلام۔۔۔ دو منٹ بعد شیخ یونس کے تھتھّے صاحبزادے عدنان کی باری آئی۔۔ بابا ہادی۔۔ تھلامالیتم۔۔  انہوں نے غور سے اسے دیکھا اور جوابا  وعلیکم کہا۔۔ تیسرے بچے پر ان کا پارا تھوڑا چڑھ گیا۔۔ چوتھے پر انہوں نے چلا کے سلام کا جواب دیا۔ پانچویں کو گالی اور چھٹے کے پیچھے مارنے کو بھاگے۔۔۔
گلی میں ہونے والے خلاف معمول شور نے خواتین خانہ کی توجہ بھی مبذول کرالی اور  گھروں کے دروازے آباد ہوگئے۔ بابا حاجی  کو اپنے گھر کے سامنے کھڑے بآواز بلند گالیاں بکتے دیکھ اور سن کر خواتین ہکّا بکّا رہ گئیں کہ اس سے پہلے بابا حاجی کے منہ سے ایسے الفاظ کسی  نے نہیں سنے تھے۔ اب یہ روز کا معمول بن گیا۔ بچوں کے ہاتھ ایک کھیل آگیا۔۔ وہ دور سے ہی بابا حاجی کو دیکھ کر نعرہ لگاتے۔۔ بابا حاجی، سلاما لیکم۔۔ اور  وہ انہیں ایسی ایسی گالی دیتے کہ ان کی والدائیں گھروں کے اندر شرم سے دُہری ہوجاتیں۔  خواتین نے زنانہ چینل کی وساطت سے اپنی گذارشات ان کی بہو تک بھی پہنچائیں لیکن وہ بے چاری بھی کیا کرتیں۔ بگڑا ہوا بابا، سدھارنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔
یہ تماشہ  سالہا سال جاری رہا۔ گلی سے بات نکل کے پورے محلے میں پھیل گئی۔ راہ چلتے لوگ انہیں ۔۔ بابا حاجی، سلاما لیکم ۔۔  کہہ کے ان کی گالیوں کا مزا لینے لگے۔ تماش بینی ہمارے خمیر میں شامل ہے چاہے اس میں ہمیں ہی گالیاں کیوں نہ پڑ رہی ہوں۔ بابا حاجی کو کبھی پتہ نہیں چل سکا کہ ان کے ساتھ یہ کھیل کھیلنے والے کون تھے ۔  سب یہی سمجھتے رہے کہ  بابا حاجی عمر کے تقاضے کی وجہ سے سٹھیا  گئے ہیں۔
اس وقت تو نہیں لیکن کافی عرصہ بعد ہم پر یہ کُھلا کہ پرہیزگاری اور تقوی کے زُعم میں گنہگاروں کو دیوار سے نہیں لگانا چاہیے۔ اگر وہ پلٹ کر حملہ آور ہوجائیں تو آپ کے اندر کا بابا حاجی جسے آپ ساری عمر مختلف طریقوں سے چھپا کے رکھتے ہیں وہ عُریاں ہو کر سب کے سامنے آجاتا ہے۔ 

کرکٹ، انقلاب اور چودہ اگست

کرکٹ سے دلچسپی شاید ہمارے خون میں شامل ہے ۔  گھر میں اور خاندان میں دو چیزیں ہر وقت موضوع بحث رہتی تھیں، کرکٹ اور سیاست۔ سیاست سے ظاہر ہے ایک بچے کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے البتہ کھیل کی باتیں اس کے لیے کھلونے کی حیثیت رکھتی تھیں۔ جب کبھی ابو اور ان کے بھائی اکٹھے ہوتے اور وہ اکثر ہوتے   تو کرکٹ پر دھواں دھار قسم کے تبصرے ہوتے تھے۔ ہمارے چچا وسیم راجہ کے بہت بڑے پرستار تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اپنے دور میں وہ شاہد آفریدی جیسا کراوڈ پُلر تھا۔ ابو ، مشتاق محمد ، ظہیر عباس ، عمران اور میانداد کے پرستار تھے۔ خاص طور پر میانداد کی بیٹنگ اور عمران کی بولنگ۔
ہم نے کرکٹ کھیلنے کا آغاز اپنے گھر کے صحن سے کیا۔ باورچی خانے کا دروازہ بند کرکے اس سے سٹمپس کا کام لیا جاتا حالانکہ اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی تھی کیونکہ اس وقت ہمارے خیا ل میں کرکٹ کا مطلب صرف ہمارا باری لینا ہوتا تھا۔ ہماری بڑی بہن ، بالنگ پر  بہ جبر مامور ہوتی تھیں اور لاڈلا ہونے کی وجہ سے ان کو کہا جاتا تھا کہ جب تک ہم تھک نہ جائیں ہمیں بالنگ کراتی رہیں۔  ہماری ایک ماموں زاد بہن ،  جو عمر میں ہم سے کافی بڑی اور ہم سے کافی انسیت رکھتی تھیں۔ وہ بے چاری جب بھی ہمارے گھر آتیں تو ہم ان کے اس لگاو کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ، ان کو لگاتار بالنگ کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ وہ ہمیں "ویرا" کہا کرتی تھیں  (اب بھی ویرا ہی کہتی ہیں)۔۔ تو عاجز آکے کہتیں کہ۔۔۔ ویرے، بس کر، میں تھک گئی آں۔۔ پر انسان کی فطرت ہے کہ جب اسے پتہ چل جائے کہ کوئی اس سے پیار کرتا ہے تو وہ اس کو بلیک میل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔  اب بھی کبھی ان سے ملاقات ہوتی ہے تو میں ان کو یاد کراتا ہوں کہ باجی، یاد ہے جب ہم کرکٹ کھیلتے تھے ۔۔ توو ہ ہماری کمر پر ایک زوردار دھموکا رسید کرکے کہتی ہیں ۔۔ توں بڑا کمینہ سیں۔۔۔ انکی شادی گوجرانوالہ میں ہوئی تھی تو ایک دبنگ نیس انکی طبیعت کا حصہ بن گئی ہے، خیر۔۔۔
صحن کے بعد ہماری کرکٹ کی  اگلی منزل گلی میں کھیلنا تھا۔ گلی میں کھیلنے سے ہمیں پتہ چلا کہ یہاں صحن والے قوانین نہیں چل سکتے۔ ٹھیک ہے کہ گیند اور بلا ہمارا ہے لیکن جب تک ہم دوسرے کھلاڑیوں کو باری نہیں دیں گے کوئی ہمارے ساتھ کھیلنے پر راضی نہیں ہوگا۔  یہ پہلاسمجھوتہ تھا جو ہم نے کیا۔ ایک بات خیر ہم نے بھی منوالی کہ پہلی باری ہمیشہ ہماری ہوگی ۔ اس کے علاوہ پہلا بال، ٹرائی ہوگا اور اس پر صرف کیچ آوٹ ہوگا۔ نیز اگر دیوار سے لگ کر گیند کیچ کی گئی ہے تو وہ ایک ہاتھ سے کیچ پکڑنا ہوگا ورنہ  بلے باز ناٹ آوٹ تصور ہوگا۔
جب ہم ہائی سکول پہنچے تو ہماری کرکٹ بھی گلی سے ترقی کرکے سکول گراونڈ تک پہنچ گئی۔ آدھی چھٹی کے وقت پانچ پانچ اوورز کا میچ کھیلا جاتا اور جمعرات کو چونکہ آدھی چھٹی ساری ہوتی تھی تو اس دن دس اوورز کا میچ۔  ان میچز میں امپائر ہمیشہ بیٹنگ ٹیم کا ہوتا تھا۔ اور وائڈ بال اور نوبال کے جھگڑے معمول تھے۔ یہاں ہم ایک اعتراف کرنا چاہیں گے کہ "روند" مارنا ہماری فطرت میں شامل  تھا اور جہاں بھی ہمیں کوئی گنجائش نظر آتی ہم روند ضرور مارتے تھے۔  وہ تو ایک دن ہمیں ہمارا سوا سیر اسامہ آفتاب کی شکل میں ملا تو ہم تھوڑے محتاط ہوئے۔ ہماری بالنگ پر بلے باز نے ہٹ لگائی اور لانگ آف پر کیچ ہوگیا۔ اسامہ بھائی جو امپائرنگ کررہے تھے، فٹ  بولے، "ناٹ آوٹ۔" ہم چلاّئے۔۔ کیوں؟ تو جواب ملا ۔۔ یہ بمپر ہے۔۔۔ ہم نے سر پیٹ لیا کہ بمپر لانگ آف تک کیسے جاسکتا ہے؟ لیکن وہ بھی ایک ہی کائیاں تھے۔۔ بولے۔ ۔۔ امپائر کا فیصلہ چیلنج نہیں ہوسکتا۔ ۔۔ اس فیصلہ پر اتنا فضیحتا ہوا کہ آدھی چھٹی کا وقت ختم ہوگیا اور جو ہم نے ایک دوسرے کو دھکے اور گالیاں دیں وہ علیحدہ۔
ٹینس بال سے ٹیپ بال اور پھر ہارڈ بال تک۔۔ہماری کرکٹ کا سفر جاری رہا۔ ایک رجسٹرڈ کلب کی طرف سے بھی کھیلے۔ بوہڑاں والی گراونڈ ، پنجاب میڈیکل کالج کی گراونڈ، جواد کلب اور ایک دو دفعہ اقبال سٹیڈیم میں بھی کھیلنے کا اتفاق ہوا۔  ہر میچ سے پہلے دونوں ٹیمیں کچھ اصول طے کرلیتی تھیں اور ان پر عمل ہوتا تھا۔ مثلا تیس اوورز کا میچ۔۔ اب یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک ٹیم نے تیس اوورز میں تین سو کرلیا ہے تو دوسری ٹیم مطالبہ کردے کہ چونکہ سکور زیادہ ہیں اس لیے ہمیں چالیس اوور بیٹنگ ملنی چاہیے۔ نہ ہی کبھی کسی ٹیم نے اپنے بہترین بلے باز کے آوٹ ہونے پر یہ مطالبہ کیا کہ ہمارے وکٹ کیپر کی باری بھی یہی بیٹسمین لے گا۔ اگر کوئی ایسا مطالبہ کرتا تو یقینا ہم سب اسے مل کر پاگل خانے چھوڑ آتے۔ ہاں کھیل کے دوران قوانین کی من مانی تشریح سے اگر کوئی "روند" مارا جاسکتا تھا تو اس میں کسی نے کمی نہیں کی ۔ مثلا ان میچز میں امپائرز ہمیشہ بیٹنگ ٹیم کے وہ کھلاڑی ہوتے تھے جن کی ابھی باری نہ آئی ہو یا جو آوٹ ہوچکے ہوں، غیر تحریری قانون یہ تھا کہ ایل بی ڈبلیو کسی صورت نہیں دینا۔ہمارا ایک سیمر ، بدر،  جو نیٹس میں تو گیند ایسے سوئنگ کرتا تھا جیسے ٹیری آلڈرمین ہو، لیکن جب بھی میچ میں کھلایاجا تا تو کوئی اوور دس گیندوں سے کم کا نہیں ہوتا تھا۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ نیٹس میں یہ عمران بھولے جیسے جینئس کو ہلنے نہیں دیتا اور میچ میں اس سے گیند دوسرے اینڈ تک نہیں پہنچتی۔۔ ۔۔ بہرحال یہ حقیقت اور مجاز کا فرق ہمیں بعد میں پتہ چلا۔۔۔ تو یہ بدر میاں انتہائی "سخت" امپائر تھے، انکی بالنگ تو کبھی میچ نہیں جتواسکی، انکی امپائرنگ نے البتہ کافی میچ جتوائے اور کافی لڑائیاں کروائیں۔۔ ایل بی ڈبلیو کی اپیل پر ان کا ایک خاص انداز ہوتا تھا جس میں وہ بالر کودائیں ہاتھ کے اشارے سے بتاتے تھے کہ لیگ سٹمپ مس ہے۔۔ آف سٹمپ کے باہر پیڈز پر لگنے والی گیند کو بھی وہ۔۔۔ "لیگ سٹمپ مس  ہے"۔۔ کہا کرتے تھے۔
ہم نے جیسی معمولی سی کرکٹ کھیلی اس سے ہمیں یہ پتہ چلا کہ جب ہم کسی کھیل کو کھیلتے ہیں تو پہلے سے مقرر کردہ اصول و ضوابط کے مطابق ہی اسے کھیلا جاسکتا ہے۔ ان ضوابط کو اپنی مرضی کے مطابق ہم بدل یا موڑ نہیں سکتے۔ اس صورت میں کھیل ختم ہوجائے گا یا فساد ہوگا۔ اپنی روند مارنے والی فطرت کے باوصف ہم نے کافی صاف ستھری کرکٹ کھیلی کیونکہ ہمیں علم تھا کہ اگر کھیلنا ہے تو اس کے لیے دل بڑا کرنا پڑے گا۔ناکہ ہر وائڈ اور نوبال پر سِیڑی سیاپا اور ہر آؤٹ پر واک آؤٹ۔
جب انقلاب کا وقت تھا اس وقت آپ نے اس سیاسی کھیل میں شامل ہونا مناسب سمجھا جو بڑے بھائیوں کے جوڑ توڑ، پیسہ اور سٹیٹس کو کے اردگرد گھومتا ہے۔ بھائیوں نے آپ کو ایک پورا گروپ پلیٹ میں رکھ کے پیش کیا۔ پیسے کے لیے ترین اینڈعلیم خاں اینڈ کو جیسے لوگ۔۔ نظریاتی  مال بیچنے کے لیے شیریں مزاری جیسے نابغے اور مغلظات کے لیے شیخ رشید جیسے متقی، الیکشن جیتنے والے امیدواروں کی ایسی کھیپ جن کا نظریہ سے اتنا ہی واسطہ ہے جتنا آپ کا کتاب سے ہے۔ اس وقت آپ ان سب باتوں سے انکار کردیتے اور نوجوانوں کو ساتھ لے کے اسلام آباد پر چڑھ دوڑتے کہ اس نظام کے تحت انتخاب کو میں نہیں مانتا۔ مجھے انقلاب چاہیے۔ آپ نے وہ اصول و ضوابط مانے جس کے تحت پاکستان میں یہ گندا کھیل کھیلا جاتاہے اور اپنے ہاتھ اس میں ہر ممکن حد تک گندے کیے۔ اب ہوا یہ کہ جو آپ سے زیادہ بڑے کھلاڑی تھے انہوں نے آپ کو زیر کرلیا۔ اب آپ یہ مورال ہائی گراونڈ نہیں لے سکتے کہ میں اس گلے سڑے نظام کو نہیں مانتا اور مجھے انقلا ب چاہیے۔ نہیں حضور والا، اگر انقلاب چاہیے تو اپنے اردگرد جمع سرمایہ داروں اور دلالوں کو پارٹی سے نکالیے، اسمبلیوں سے استعفے دیجیے اور سارا تمبا پھوک کے میدا ن  میں آئیے۔ کرکٹ کے کھیل میں فٹبال کے اصول نہیں چلتے حضور۔۔ ابن زیاد کی طرف سے لڑتے ہوئے، حسین سے محبت کا دعوی جچتا نہیں۔
حُر بننے کے لیے ابن زیاد کا لشکر چھوڑنا پڑتا ہے۔

ریٹائرڈ بزرگ کی ڈائری

رات جوڑوں میں درد کچھ سِوا تھا۔مرے پر سو دُرّے ،  نیند  کی دو گولیاں کھانے کے بعد آنکھیں مزید کھل گئیں۔ خدا خدا کرکے نیند آنے ہی لگی تھی کہ بیگم صاحبہ کے خرّاٹوں والی مشین چالو ہوگئی۔  خد اجھوٹ نہ بلوائے ایسے خوفناک خرّاٹے مارتی ہیں کہ کسی ہارر فلم کے بیک گراونڈ میوزک کا گمان ہوتا ہے ۔ جانے کس سائل کی بددعا لگی تھی جو ہمیں ایسی بیگم ملیں۔  ریٹائرمنٹ کے بعد تو اب کسی پر حکم چلانے کی حسرت ہی رہ گئی ہے۔پہلے گھر میں گزارے ہوئے وقت کی کسر ہم دفتر میں ماتحتوں اور سائلین پر نکال لیا کرتے تھے۔ اب تو ہمیں اپنا آپ کسی پنکچر سائیکل کی طرح لگتا ہے۔  ایسے دردناک خیالات کے جھرمٹ میں نجانے کس وقت نیند آگئی۔ خواب بھی شدید ڈراؤنے تھے۔ جس میں بیگم کے چھ ہاتھ اور دس ٹانگیں تھیں اور وہ ہمیں اپنی گرفت میں لے کر ایسے بھینچتیں کہ ہماری پسلیاں کڑ کڑ کرکے ٹوٹ جاتیں۔ پھر ہمیں ایلفی پینے پر مجبور کرتیں ۔ جس سے پسلیاں فورا جڑ جاتیں۔ یہ عمل بار بار دہرایا جاتا۔ اس خواب میں بیگم نے تشدد کی کچھ ناقابل بیان تکنیکس بھی استعمال کیں۔ جو ہم بوجہ شرم اور خوف بیان نہیں کرسکتے۔  اگلے منگل سائیکاٹرسٹ کے ساتھ اپائنٹ منٹ ہے۔  اس سے نئی پریسکرپشن لکھوانی پڑے گی۔
صبح  بیگم کی غُرّاتی ہوئی آواز سے ہماری آنکھ کھلی۔  ناشتے پر بلارہی تھیں جیسے کہہ رہی ہوں ۔۔ آؤ، کھا مرلو۔ مرتا کیا نہ کرتا۔۔ لشٹم پشٹم اٹھ کر ضروریات سے فارغ ہوا۔ اس میں بھی اب کافی دیر لگ جاتی ہے۔ یہ قبض بھی جان نہیں چھوڑتی۔بواسیر نے الگ جان عذاب کی ہوئی ہے۔  ٹھنڈی بدمزہ پھیکی چائے اور اکڑے ہوئے توس۔ یہ ناشتہ ہمیں تقریبا روز زہر مار کرنا پڑتا ہے۔ چائے ٹھنڈی ہونے کی شکایت پر  بیگم نے کڑے تیوروں سے جواب دیا کہ اگر گرم چاہیے تو  واش روم میں ساتھ ہی لے جایا کرو۔جتنی دیر تم وہاں لگاتے ہو اتنی دیر میں سات کلومیٹر واک ہوجاتی ہے۔ ہم نے کان لپیٹ کر یہ سنا  اور اخبار لے کر برآمدے میں چلے آئے۔ دو تین گھنٹے تک ہم نے ٹینڈر نوٹس تک پڑھ ڈالے۔ اس ساری مشق سے ہمیں جو علم حاصل ہوا اس کو بانٹنے کے لیے سمارٹ فون کو آن کیا اور  دھڑا دھڑ فیس بک سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے شروع کردئیے۔  دیٹ  فیلز سو گُڈ۔ آخر کار ہم بھی ملک و قوم کی ترقی کے لیے اپنے حصے کا کام کررہے ہیں۔ اس جاہل قوم کو سمجھانے اور سیدھی راہ پر لانے کے لیے ہم نے بہت سے اقوال زرّیں، اسلامی معلومات اور انقلابی نظریات والے فیس بک پیجز کو لائیک کیا ہوا ہے۔وہاں سے چُنیدہ تصاویر ہم اپنی وال پر شئیر کرتے ہیں اور موقع ملے تو ٹویٹ بھی کردیتے ہیں۔
اس مصروفیت میں تقریبا سارا دن گزر جاتا ہے۔ بیگم کے لیے تو ہم ایک اضافی سامان ہیں۔ جسے وہ سٹور میں ڈال کے بھول جاتی ہیں۔ خیر۔۔۔ ایسا سلوک تو وہ ہم سے جوانی میں بھی روا رکھتی تھیں اور اب تو ہم ان کے کسی کام آنے کے قابل بھی نہیں رہے۔  بوقت جوانی بھی کام کے دباؤ اور تھکن کی وجہ سے ادویات ہی استعمال کرنی پڑتی تھیں۔ لیکن اب تو جدید ادویات بھی کوئی اثر نہیں کرتیں۔  شاید بیگم ہمارے ساتھ جو کُتّے کھانی کرتی ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے۔ لیکن ہم بوجہ شرمندگی اور خوف ان سے پوچھنے کی جرات نہیں کرتے کہ  بیگم کی زبان بالکل  اسی طرح بے قابو ہے  جس طرح ہم سوشل میڈیا پر بے قابو ہیں۔ وہ ہمیں ایسے ایسے شرمناک طعنے  اور مہنے دیتی ہیں کہ مرد ہوکے بھی ہمیں ٹھنڈے پسینے آنے لگتے ہیں ۔  
مردانگی کی یہ ساری کمی ہم آن لائن پوری کرلیتے ہیں۔ کسی کو کچھ بھی کہہ دیں اور جیسے مرضی کہیں کوئی ہمیں پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ بالکل افسری والی فیلنگ آتی ہے اور ہمیں وہ سہانا زمانہ یاد آجاتا ہے جب ہم اپنے ماتحتوں اور سائلین کو نت نئی مُغلّظات سے نوازا  کرتے تھے۔ وہی مشق اب سوشل میڈیا پر کام آرہی ہے۔  ہمارے سٹیٹس کو دھڑا دھڑ لائیکس ملتے ہیں اور نوجوان نسل اس پر تعریف و توصیف والے کمنٹس کرتی ہے تو بالکل آرگیزم والی فیلنگ آتی ہے۔ جو کام جدید ریسرچ اور مہنگی ترین ادویات نہ کرسکیں وہ سوشل میڈیا نے کردکھایا ہے۔ اب ہمیں لطف حاصل کرنے کے لیے کسی دوسرے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس معاملے میں خود کفیل ہوچکے ہیں۔ تین چار سٹیٹس اور بیس پچیس ٹویٹس سے ہمارا گھر پورا ہوجاتا ہے۔ الحمدللہ
سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کی وجہ سے ہی ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی میں کچھ رنگ ہیں۔ یہ نہ ہوتے تو شاید ریٹائرمنٹ کے بعد ہمارے پاس فوت ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہ بچتا۔

ہدایت نامہ برائے روزہ داران

"رامادان" کی آمد آمد ہے۔ ہر طرف لوگ باگ اس کے استقبال کے لیے الٹی قلابازیاں لگانے کی مشقیں کرنے میں مشغول ہیں۔ تو ہم نے اپنے خدمت خلق کے قدیمی جذبے کے تحت اس "ماہ مبارک کے مہینے "میں احباب کے لیے چند سفارشات تیار کی ہیں۔  گر قبول افتد زہے عزو شرف۔
بیمار، مسافر پر روزہ فرض نہیں ہوتا تو کوشش کریں کہ کسی نہ کسی طرح بیمار ہوجائیں نہ ہوسکیں تو کسی بھی متقی و پرہیزگار ڈاکٹر سے بیماری کا سرٹیفیکٹ لے لیں۔ جس میں واضح لکھا ہو کہ حامل ہذا رقعہ روزے رکھنے کے لیے نااہل ہے تاہم سحر و افطار کرنے میں کوئی امر مانع نہیں۔  اگر آپ کا دل یہ سب کرنے کو نہ چاہے تو جگر جیسے کسی بھی "علامے" سے فتوی خرید۔۔ میرا مطلب ۔۔ لے لیں کہ جو سفر آپ گھر سے دفتر یا دکان یا درسگاہ تک کرتے ہیں وہ شرعی طور پر آپ کو مسافر ڈیکلئیر کرتا ہے۔ ہیں جی!۔
نئی نویلی دعائیں،  ورود و  وظائف  ڈھونڈنے کے لیے "لُور لُور" پھریں۔ خاص طور پر وہ دعائیں ڈھونڈیں جن سے ماضی کے علاوہ مستقبل کے گناہ بھی معاف ہوسکیں۔ یہ دعائیں جب آپ کے قابو میں آجائیں تو پھر روزے رکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ بس مطلوبہ مقدار میں دعا پڑھ کے خوب ڈٹ کے تین چار بار کھانا کھائیں،علاوہ ازیں  افطاریاں بھی پھڑکائیں۔  ہم خرما و ہم ثواب۔۔ ہیں جی!۔
اگر آپ کا ضمیر انتہائی ڈھیٹ اور واہیات قسم کا ہے اور ایسے حیلے سوچنے پر آپ کو نہایت فحش الفاظ سے نوازتا ہے تو فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔ اس کا بھی علاج موجود ہے ۔ فجر کی آخری اذان کی آواز آنے تک کھاتے  اور پیتے رہیں۔ پھر جلدی سے وضو کرکے گھر میں ہی نماز پڑھ کے سوجائیں۔ روزے کی حالت میں سونا بھی ثواب عظیم ہوتا ہے۔ اور مسلمان کا تو مقصد ہی ثواب کمانا ہے۔ دھڑا دھڑ اور بے حساب ثواب۔  اگر آپ کا دفتر نو بجے شرو ع ہوتا ہے تو  گیارہ بجے تک دفتر پہنچ جائیں۔ چہرے پر مظلومیت نما نحوست طاری رکھیں تاکہ دفتر والوں اور سائلین کو علم ہوتا رہے کہ آپ روزے سے ہیں۔ اس  کا فائدہ یہ ہے کہ کوئی آپ کو تنگ کرنے کی جرات نہیں کرے گا ۔ الاّ یہ کہ وہ خود روزے سے ہو۔
 بارہ بجنے میں دس منٹ ہوں تو ظہر کی نماز کے لیے اس مسجد میں چلے جائیں جہاں  فل ٹھنڈ ماحول ہو اور اس کا جنریٹر تربیلا کے جنریٹرز کا مقابلہ کرتا ہو۔ مسجد کے مسلک پر زیادہ دھیان نہ دیں کہ حالت اضطرار میں سب جائز ہوتا ہے۔ ایسی مساجد زیادہ تر آمین بالجہر والوں کی ہوتی ہیں اس لیے اگر آپ  آمین آہستہ بھی کہتے ہیں تو اپنے علاموں کے فتووں سے صرف نظر کرتے ہوئے بس برکتیں لوٹنے پر توجہ مرکوز رکھیں۔  ظہر کی نماز کے بعد ایک دو گھنٹے مسجد کے متبرک ماحول میں سوجائیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مسجد میں سونا بھی باعث ثواب ہے۔  تین بجے تک دفتر واپس آئیں اور آتے ہی جانے کی تیاری شروع کردیں۔  گھر واپس آتے ہوئے کسی فائیوسٹار مسجد میں نماز عصر ادا کریں۔ اگر گھر جا کے لوڈشیڈنگ  سے پالا پڑنے کا امکان ہو تو افطاری تک وہیں رہیں اور عین افطاری کے وقت گھر پہنچیں۔
یہاں  آپ کی توجہ ایک انتہائی اہم نکتے کی طرف مبذول کرانا ضروری ہے۔ سحری کے وقت  کھانا اس وقت بند کریں جب میلاد شریف والی مسجد سے اذا ن کی آواز آئے اور افطاری ، آمین بالجہر والوں کی اذان مغرب سے کریں۔ اس سے آپ کا روزہ تقریبا پندرہ منٹ چھوٹا ہوجائے گا۔ ۔۔ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی ۔۔ وغیرہ۔۔۔ ۔ 
آمدم برسر مطلب۔ افطاری  بھی بہت ثواب کاکام ہے۔ جتنی زیادہ کھائیں گے اتنا زیادہ ثواب۔ یہ عبادت دل لگا کر کریں۔ دوران افطاری مغرب کی نماز جماعت سے پڑھنے کا موقع نہیں ملے گا ۔ خیر ہے۔ پہلے کونسا آپ جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ افطاری سے فراغت کے بعد ظاہر ہے غنودگی طاری ہوگی کیونکہ آپ نے سارا دن روزہ رکھا اور اپنا کام بھی ایمانداری سے کیا ۔ اسلیے عشاء کی اذان تک نیند کی ایک جُھٹّی لگا لیں۔   بیدار ہوکے رات کا کھانا کھائیں۔ سارا دن بھوکا پیاسا رہ کے اور شدید محنت کرکے  جو توانائی زائل ہوئی تھی ، وہ مسلسل اور متواتر کھانے سے ہی بحال ہوسکے گی۔ اس سے غفلت نہ برتیں۔  عشاء کی نماز اور تراویح کے لیے ایسی مسجد ڈھونڈیں جہاں تراویح کی تعداد آٹھ اور دورانیہ بیس منٹ ہو۔ ویسے بھی تراویح نفل عبادت ہے، پڑھ لیں تو ثواب اور نہ پڑھیں تو گناہ نہیں اور گناہ نہ کرنا بھی ثواب ہی ہوتا ہے۔۔ لہذا ثواب ہی ثواب۔۔۔

ہیں جی!۔