فیس بکیے

دوست ، تو جی سکول کے دور کے ہی ایک نمبر ہوتے ہیں۔ کالج والے آدھے ایک نمبر اور آدھے دو نمبر۔ اور عملی زندگی میں کودنے کے بعد اگر آپ کو کوئی دوست، اور دوست مطلب ' دی دوست'، مل جائے تو یہ کم ازکم اتنی بڑی خوشخبری ہے جو لاٹری لگنے کے برابر سمجھی جاسکتی ہے۔

دوستوں کی بڑی تعریفیں لکھی جاچکی ہیں،مثلا جو ضرورت میں کام آئے، جو آپ کے دکھ بانٹے، جو آپ کی معشوق کو نہ ورغلائے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن جی میرے نزدیک تو دوست وہ ہوتا ہے جس کو آپ منہ بھر کےگالی دیں تو آگے سے وہ بے حیائی سے ہنستا رہے اور وائس ورسا۔۔۔ میں نے ایسے ایسے لوگوں کو اپنے پرانے دوستوں سے گالیاں کھاتے اور ہنستے دیکھا ہے جو اونچی آواز میں بات کرنے کو بھی بدتہذیبی اور معاشرتی آداب سے ناواقفیت پر محمول کرتے ہیں۔ چپراسی سے بھی آپ جناب سے بات کرتے ہیں اور چائے بھی سڑکیاں مار کے نہیں پیتے۔ لیکن دوستوں کے ساتھ ان کی گفتگو اس گانے کے مصداق ہوتی ہے کہ ۔۔۔ تیری تو۔۔۔ تیری تاں۔۔۔۔

پر جی اب ایک نئی قسم بھی دریافت ہوچکی ہے دوستوں کی۔ فیس بکیے دوست۔ ایک ڈھیلے ڈھالے اندازے کے مطابق اگر آپ فیس بکیے ہیں تو آپ کے دوستوں کی پچانوے فیصد سے زیادہ تعداد ایسے لوگوں پر مشتمل ہوگی جن سے نہ آپ کبھی ملے ہوتے ہیں اور نہ ہی امید ہوتی ہے کہ کبھی زندگی میں ان سے ملاقات ہوسکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تحریر، انسان کا آئینہ ہوتی ہے اور فلاں اور ڈھینگ۔۔۔ پر جی لکھے ہوئے حرف سے بندے کا تھوڑا بہت اندازہ تو لگایا جاسکتا ہے پر پورا جاننے کے لئے تو وقت کی سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے تب کہیں جا کر بندے کا پتہ چلتا ہے وہ بھی تھوڑا سا۔ بچپن کے دوستوں پر تو آپ نے بیس بائیس سال کی سرمایہ کاری کی ہوتی ہے، اس لئے ان کی رمز میں بھی آپ کے لئے کوئی بھید بھاؤ نہیں ہوتا۔ پر ایک دوہفتے کی فیس بکی دوستی میں بھی ہم ایک دوسرے کو لمّیاں پَا کے ایسی چھترول کرنی شروع کردیتے ہیں جو کم ازکم بھی دس سال پرانی دوستی میں ہی جائز سمجھی جاسکتی ہے!

اس پر میں نے سوچا ہے اور بہت سوچنے کے بعد بھی میرا بھیجہ کوئی نتیجہ نہیں نکال سکا کہ ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب مجرّد نام ہی ہیں، انسان نہیں اور ان کو کچھ بھی کہا جاسکتاہے اور فار دیٹ میٹر۔۔۔ کچھ بھی سنا جاسکتا ہے! کیا فرماتے ہیں مفتیان فیس بک بیچ اس مسئلے کے۔۔۔

فلمیں شلمیں

ایک دفعہ پہلے بھی یہ حرکت کرچکا ہوں۔ لیکن وہ گانے تھے اور یہ میری کچھ پسندیدہ فلمیں ہیں۔ فلموں کے نام ریٹنگ کے حساب سے نہیں لکھے گئے۔ جونام یاد آتا گیا، لکھ دیا ہے۔ اگّے تیرے بھاگ لچھّیے۔۔۔

ویسے بھی میرے جیسے جہلاء ، تہذیبوں کے تصادم پر تحقیقی مقالے تو لکھ نہیں سکتے، لہذا اسی طرح کی خرافات پر گزارا کریں!

Eastern Promises

Match Point

Michael Clayton

Godfather I

Godfather II

Godfather III

Memento

Ocean’s Eleven

Company

The Lord of the Rings I

The Lord of the Rings II

The Lord of the Rings III

There will be blood

Avatar

The Prestige

Awake

a500 Days of Summer

Law Abiding Citizen

Primal Fear

Goodfellas

Tin Cup

The Notebook

Inglorious Bastards

Casino

Bugsy

Taking of Pelham 123

Closer

Hangover

No Country for old men

Knocked up

Three Idiots

The Pursuit of Happiness

Vicky Christina Barcelona

Body of Lies

Legends of the Fall

Rock’n’Rolla

The Curious case of Benjamin Button

Love Aaj Kal

Last Man Standing

Earth

Snatch

Heat

Taxi Driver

Atonement

Taare Zameen par

Carlito’s Way

Training Day

Ronin

The Deer Hunter

Domino

U Turn

Out of sight

Autumn in New York

Omkara

The Departed

Forrest Gump

Matrix Reloaded

Pulp Fiction

Scent of a woman

The assassination of Jesse James by the Coward Robert Ford

Ransom

Oye Lucky, Lucky Oye

Million Dollar Baby

Saving Private Ryan

Jane Tu ya Jane Na

The Bridges of Madison County

As good as it gets

Twilight

Wild Things

Unforgiven

Mission: Impossible

The Dark Knight

Stranger Than Fiction

Kaminey

Sleepless in Seattle

Butterfly Effect

Jackie Brown

The Constant Gardener

Basic Instinct

Notting Hill

Mystic River

About Schmidt

Brave Heart

Any Given Sunday

Jerry Maguire

Love Actu
ally

Cast Away

Intersection

L.A. Confidential

The Usual Suspects

The Silence of the Lambs

Cliffhanger

A Few Good men

Good Will Hunting

Syriana

Things to Do in Denver When You're Dead

The Untouchables

Cold Mountain

Wall Street

Lost in Translation

Great Expectations

The Edge

احمد ندیم قاسمی / قیصر تمکین

ُاُسی انگریز کے بارے میں منشی جی یہ بھی بتاتے تھے کہ وہ تھل کی آندھیوں سے بہت پریشان تھا، اور اس نے اُدھر ولایت میں اپنی سرکار کو لکھا تھا کہ پٹڑی بچھانے کے لئے یہ کیسا علاقہ مجھے دیا گیا ہے کہ آندھی کے بعد اس کا سارا جغرافیہ ہی بدل جاتا ہے، یہاں تو ریت کے ٹیلے باقاعدہ سفر کرتے ہیں، سو میری کچھ مدد کیجیے۔ اس پر ولایت کی سرکار نے دلّی کی سرکار کو لکھا، اور دلّی کی سرکار نے کسی پہنچے ہوئے پِیر سے ایک تعویذ حاصل کیا، جو پٹڑی کے آس پاس کی ببول میں لٹکا دیا جاتا۔ اس کے بعد آندھی آتی تو ریت کے ٹیلے پٹڑی کو چھوتے تک نہ تھے، مگر معلوم ہوتا ہے، حضرت پِیر اس پِیر سے بھی بڑے پِیر تھے۔ اس لیے کہتے ہیں، جب ایک بار بہت تیز آندھی آئی تو ایک ٹیلا ببول میں لٹکے تعویذ کی پروا کئے بغیر پٹڑی پر چڑھ گیا، پھر دلّی سے ایک اور تعویذ منگایا گیا، اور جب پہلے تعویذ کی جگہ اسے ببول میں لٹکایا گیا تو اچانک 'شررررر' کی آواز آئی۔ ریت کے اس ٹیلے کو آگ لگ گئی، اور وہ راکھ کی چٹکی بن کر اڑ گیا۔ غرض، تھل میں جب تک پٹڑی بچھتی رہی اس علاقے کے حضرت پِیر اور دلّی کے پیروں کا آپس میں سخت مقابلہ ہوتا رہا، اور حضرت پِیر کے جن بھوت تو آج بھی سرگرم ہیں۔ پچھلے دنوں اللہ جوایا اپنی بھینس سمیت گاڑی کے نیچے آکر کٹ گیا تو اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ بات بات پر ریل کا ٹکٹ کٹا لیتا تھا۔ بڑے بوڑھوں نے اسے بہت سمجھایا کہ ریل گاڑی میں اتنا سفر نہ کیا کرو، حضرت پِیر خفا ہوجائیں گے ، مگر وہ نہ مانا، اور پھر ایک پٹڑی پر چرتی ہوئی بھینس کو ریل گاڑی سے بچانے دوڑا تو بھینس کے ساتھ خود بھی انجن کے پہیوں کے ساتھ لپٹا چلا گیا۔ لوگوں نے پہیوں سے لپٹی ہوئی سوکھی چمڑی بیلچوں سے ادھیڑی۔

احمد ندیم قاسمی کی کہانی "تھل" سے اقتباس

دلی میں ان دنوں 'خروشچیف' اور 'بلگانن' کی آمد کی دھوم تھی۔ دیس کی پرانی تہذیب کے مظاہرے ہورہے تھے۔ طرح طرح کے ہنر اور پیشے زندہ کیے جارہے تھے۔ اسی میلے ٹھیلے میں مدّو میاں نے اپنے ساتھ قنوج سے لائے ہوئے حقے اور پیچوان بھی منہ مانگے داموں پر سیاحوں کے ہاتھ بیچ دیے۔ دو چار پیسے ان کے ہاتھ آئے تو یکایک دماغ کی ساری کھڑکیاں کھل گئیں۔ انہوں نے ترک وطن کا خیال ہی دل سے نکال دیا۔ عطر اور تیل کے ساتھ ہی تمباکوے خوردنی و کشیدنی کا کاروبار بھی شروع کردیا۔ پھر بھئی، اللہ نے برکت بھی خوب دی۔

تھوڑے ہی دنوں بعد حاجی بمبا نے مدّو میاں کے، جو اب سیّد امداد حسین کا روپ دھار چکے تھے، بیٹے اجّن سے اپنی بیٹی بیاہ دی۔

اجّن اپنے گھرانے میں سے زیادہ لائق فائق تھا، کیوں کہ ملک کے جمہوریہ بننے کی خوشی میں جشن جمہوریہ کے موقع پر جو لوگ رعایتی نمبروں سے پاس کردیے گئے تھے، ان میں اجّن بھی میٹرک کی کھائی پھلانگ گیا تھا۔ اپنے خاندان میں وہ پہلا میٹرک پاس شخص تھا اور سیّد ایجاد حسین کے نام سے شہر کے عمائدین میں گنا جانے لگا تھا۔

ان دنوں شہر میں صرف تین سیّد رہ گئے تھے؛ایک تھے سیّد وید رتن تنخا۔۔۔ جو ایک شراب خانے کے مالک تھے، دوسرے سیّد اقتدار المہام۔۔۔ آئی سی ایس، تیسرے تھے سیّد گنگا جان کاظمی ۔۔۔ جو ریاست میں وزارت کی گدی پر چڑھتے اترتے رہتے تھے۔ اب چوتھے، ذرا جونئیر قسم کے 'سیّد' بن گئے تھے مدّو میاں، یعنی سیّد امداد حسین، اور تو اور، انہوں نے شہر کے مئیر کا الیکشن بھی لڑ ڈالا، اور شہر کے نامی گرامی غلام السیّدین نے اخباروں میں مضامین شائع کرائے کہ سیّد امداد حسین اصل میں 'سر'، 'خان بہادر' یا 'شمس العلماء' قسم کے خطاب یافتہ تھے۔ پھر انہوں نے آزادی کی لڑائی میں سب کچھ قربان کردیا۔ کھدر پہننے لگے، اور پنڈت پنت اور رفیع احمد قدوائی وغیرہ کے ساتھ جیل بھی گئے تھے۔ انگریزی کے ایک غریباؤ رپورٹر نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ سیّد امداد حسین بہت ٹھوس علمی انسان ہیں، اور مشرق و مغرب کے فلسفوں پر ان کی گہری نظر ہے۔

قیصر تمکین کی کہانی 'ختنے کے لڈو' سے اقتباس

سٹوری میں ٹوئسٹ

(تفتیشی، تحقیقی و درفنطنی ڈیسک) کہا جاتا ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن ایک جوڑا ایسا بھی ہے جو آسمانوں کی بجائے نئی دلّی میں را کے ہیڈکوارٹرز میں بنایا گیا ہے۔ اس رپورٹر کو حساس اداروں کے باوثوق ذرائع سے ایک ایسی اطلاع ملی ہے جو ہوش اڑادینے والی ہے اور اسے بجاطور پر اکیسویں صدی کی سب سے بڑی خبر قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایک ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس رپورٹر کو یہ دھماکہ خیز سکوپ دیاہےکہ شعیب ملک اصل میں پاکستان کے ایک انتہائی حساس سائنسی ادارے کے سربراہ ہیں جو میزائل پروگرام پر انتہائی جانفشانی سے کام کررہاہے۔ اگرچہ یہ خبر انتہائی ناقابل یقین ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو شعیب ملک کو دیکھ کے ہی ان کی میزائلوں سے محبت صاف ظاہر ہونے لگتی ہے کہ ان کی اپنی شکل ماشاءاللہ سٹنگر میزائل جیسی ہے! اسی ذریعے نے مزید بتایا کہ کرکٹر کے طور پر شعیب ملک کی شناخت ایک کیمو فلاج ہے کیونکہ بطور کرکٹر وہ قومی ٹیم تو کجا ڈسکے کے کسی لوکل کلب میں بھی نہیں کھیل سکتے۔

ایک سوال کے جواب میں اسی ذریعے نے کہا کہ شعیب ملک اتنی کم عمری میں ایسے ادارے کے سربراہ بالکل میرٹ پر بنے ہیں۔ مزید تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ شعیب ملک پیدائشی جینئس ہیں۔ وہ ابھی 'چھلے' میں ہی تھے کہ انہوں نے شرلیاں بنانی شروع کردی تھیں۔ پانچ سال کی عمر میں انہوں نے راکٹ لانچر کے لئے ہوم میڈ راکٹ اور دس سال کی عمر میں سٹنگر میزائل ایجاد کرلیا تھا۔ جو امریکیوں نے خرید کر اپنے نام سے پیٹنٹ کروالیا اور پھر اسے افغان جنگ میں استعمال کرواکے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ شعیب ملک کی کامیابیوں کی داستان یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ایٹمی پروگرام میں بھی ان کا کنٹری بیوشن بہت زیادہ ہے۔ ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ایٹم بم بناتے ہوئے ایک جگہ ڈاکٹر قدیر پھنس گئے تھے تو یہ شعیب ملک ہی تھے جنہوں نے اس الجھن کو حل کیا تھا ورنہ آج پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا، لیکن یہ شعیب ملک کی اعلی ظرفی ہے کہ انہوں نے آج تک کبھی اس چیز کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی!

پاکستان کے میزائل پروگرام کی دن دگنی رات چوگنی ترقی ہمارے روایتی دشمن کو ایک آنکھ نہیں بھائی۔انہوں نے پاکستانی میزائل پروگرام کے سربراہ کو پھانسنے کے لئے ثانیہ مرزا کو استعمال کیا۔ جنہوں نے شعیب ملک کو اپنی اداؤں (اداؤں کی بجائے وہ پڑھا جائے جو میں لکھنا چاہتا تھا!) کے جال میں پھنسایا اور اب ان سے شادی کرکے سارے میزائلی راز 'کڑچ' کرنے کی کوشش کریں گی۔

شعیب، بوجہ پیدائشی جینیئس، ذرا سادہ (احمق پڑھا جائے!) سے اور بوجہ پاکستانی ذرا ٹھرکی سے بندے ہیں، اسی لئے اس سازش میں پھنستے چلے گئے۔ لیکن فکر کی کوئی بات نہیں کہ ہمارے حساس ادارے بھی میدان میں آگئے ہیں اور انہوں نے عائشہ صدیقی کی صورت میں ایک شدید ڈفانگ کھڑا کردیا ہے۔ ان کے ابّا نے چینلز پر جس طرح 'بھوترنے' کا مظاہرہ کیا ہے وہ ہمارے حساس اداروں کی جوابی کاروائی کی روشن مثال ہے۔ دوسرے محاذ پر انہوں نے ایک غیر معروف اور چوّل سے بلاگر کو ہائر کرکے ثانیہ کے نام عاشقانہ خطوط لکھوانے شروع کردیئے ہیں تاکہ کل کلاں اگر شادی ہوبھی جائے تو شادی کے بعد ثانیہ کو بلیک میل کرکے را کے ایجنڈے پر کام کرنے سے روکا جاسکے!

اس لئے ان کو خام جانتا ہوں

اس لئے ان کو خام جانتا ہوں
اپنے اشکوں کے دام جانتا ہوں
اور تو کوئی خوبی مجھ میں نہیں
دکھ اٹھانے کا کام جانتا ہوں
خواہشیں ہاتھ باندھ لیتی ہیں
ایک ایسا کلام جانتا ہوں
کون ہوں اس کی کیا خبر مجھ کو
میں تو بس اپنا نام جانتا ہوں
بے سبب تو نہیں جھجک میری
میں تمہارا مقام جانتا ہوں
گھر پہنچنے میں دیر کیسے کروں
اپنی گلیوں کی شام جانتا ہوں
کام لیتا ہوں بھولپن سے حسن
ورنہ باتیں تمام جانتا ہوں
حسن عباسی

ثانیہ کے نام آخری خط (فی الحال!)

صنم بے وفا، ہرجائی محبوبہ، و گیڑے باز حسینہ وغیرہ وغیرہ

ہذا سلام آخر بالطرف عاشق مَل اَنتِ!

آپ آخر اس دنیا (بلاگنگ و فیس بک وغیرہم) میں میری کتنی مٹی اور پلید کرنا چاہتی ہیں؟ آپ کے عشق لاحاصل میں ساری دنیا کی باتیں سن سن کے میرے کان پک چکے ہیں بلکہ اب تو گل بھی چکے ہیں۔ آخر وہ کون سی چیز ہے جو آپ کو 'آراماں' نہیں لینے دیتی؟ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ میں نے چند 'اصولی اختلافات' پر شادی سے انکار کردیا تھا، لیکن دو طرفہ جامع مذاکرات کا دروازہ تو بند نہیں کیاتھا۔ آخر کوئی نہ کوئی راہ نکل ہی آتی۔ ویسے بھی ہم پاکستانی ڈیل کرنے میں اتنے ماہر ہیں کہ روز قیامت بھی ڈیل کے آسرے پر دنیا میں موجیں کرتے رہتے ہیں۔۔۔ تو اس مسئلہ کا حل بھی بذریعہ ڈیل بآسانی نکالا جاسکتا تھا۔۔۔ لیکن یہ 'کالیاں'  کسی دن مروائیں گی آپ کو۔۔۔ غضب خدا کا، سیدھی شعیب ملک پر ہی بریک!

برسبیل تذکرہ یہ بھی بیان کردیجئے کہ سرمہ سلائی قسم کے منڈوں میں آپ کی اتنی شدید دلچسپی کا راز آخر ہے کیا؟ اگر چوّل مارنی ضروری ہو ہی جائے تو کم ازکم چوّل تو ڈھنگ کی ہو (مثلا آپ کا یہ خاکسار)۔۔۔۔ یہ سوچ لیں کہ جو بندہ حیدر آبادیوں کو بھی 'گیڑے' کراچکا ہو، وہ کیسا درجہ اوّل قسم کا 'گیڑے' باز ہوگا۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ محترمہ بھی آپکی سہیلی ہونے کا شرف رکھتی ہیں، اب اس بات سے جو منظرنامہ میرے ذہن میں بن رہا ہے وہ تو میں اس نجی خط میں بھی نہیں لکھ سکتا۔۔۔

اللہ نہ کرے کہ یہ بیل منڈھے چڑھے لیکن اگر شومئی قسمت سے ایسا ہوبھی گیا تو پاکستان آکر آپ کو پتہ چلے گا کہ یہاں کےلوگاں آپ کے سسرالی شہر کے بارے میں کیا 'تاثرات' رکھتے ہیں۔ لیکن اس وقت پچھتانے کا نہ تو کوئی موقع ہوگا اور نہ فائدہ۔۔۔ کہ کوّا ،کھیت چگ چکا ہوگا۔۔۔ ہیں جی۔۔

جہاں بھی رہیں، ٹینشن میں رہیں

فقط ۔۔۔۔ شربت وصل کا پیاسا و ہجر کا مارا ۔۔۔ جعفر بے چارا

رخصتی

حالیہ دنوں میں میرے ساتھ عجیب ساماجراہوا ہے۔ میری باتیں کچھ سنجیدہ سی ہوگئیں ہیں، کچھ لکھتا ہوں تو وہ بھی کسی بزعم خود دانشور اور مصلح قوم ٹائپ لکھاری کا لکھا لگتا ہے۔ لکھنے کے بعد میں خود سوچتارہتاہوں کہ یہ میں نے کیالکھ دیاہے؟ حد تو یہ ہے کہ خواب میں بھی ثانیہ و کترینہ کی بجائے رانا مبشر، روئیداد خان، رویت ہلال کمیٹی کے ارکان، "ڈاکٹر" عامر لیاقت وغیرہ کی قبیل کے لوگ آنے لگے ہیں۔ آپ خوب اندازہ کرسکتےہیں کہ صبح جاگنے پر میرے موڈ کی کیا واٹ لگی ہوئی ہوتی ہوگی۔ جن باتوں پر ہنسی آتی تھی، اب ان پرنصیحتیں یاد آنے لگی ہیں۔ شفیق الرحمن اور یوسفی کی بجائے "موت کا منظر اور مرنے کے بعد کیا ہوگا" پڑھنے کا من کرنے لگا ہے۔ ڈائجسٹ پڑھنا لہوو لعب اور فاسقانہ کام لگتا ہے۔ جن محفلوں میں مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا، اب مجھ کو دیکھ کر سب کو ضروری کام یاد آجاتے ہیں۔ اپنے بال برے لگنے لگے ہیں۔ دل میں روز طلب اٹھتی ہے کہ چل بچہ ٹنڈ کرا۔ لیکن ابھی تک اس طلب کی مزاحمت جاری ہے۔ کل رات میں نے اپنی اس حالت پر نہایت رنجیدہ ہوکر اس کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کی تو مجھ پر یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ چند دن پہلے ریموٹ کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے میں ایک ایسے چینل پر جاپہنچا تھا جس کے سحر نے مجھے اب تک جکڑا ہوا ہے اور میں اس سے اپنے آپ کو ابھی تک آزاد نہیں کراسکا۔

آپ یقینا یہ جاننے کے مشتاق ہوں گے کہ وہ چینل کونسا تھا؟ اس کانام تو مجھے یاد نہیں آرہا لیکن کچھ نشانیاں ہیں، وہ بیان کردیتا ہوں کہ شاید آپ اس چینل کا نام یاد بتاسکیں۔

ایک بزرگ کہ نہایت سجے ہوئے سٹیج پر تشریف فرما تھےاور نور ان کی صورت پر ٹوٹ ٹوٹ کر برس رہی تھی۔۔ اوہووو۔۔۔ رہا تھا۔ ان کے دائیں ہاتھ میں ایک چھوٹا جھنڈا(ڈنڈے سمیت) تھا جسے وہ لہرا لہرا کر اور خود لہک لہک کر کچھ کہہ رہے تھے۔ جو میں اپنی کم علمی اور اونچا سننے کی بیماری کی وجہ سے سمجھنے سے قاصر تھا۔ ان کی گود میں ایک چمکدار غلاف والا تکیہ تھا۔جس پر وہ باربار پیار سے بایاں ہاتھ پھیر رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک کم عمر صاحب تشریف فرما تھے۔ جو اپنی سریلی آواز میں کچھ مذہبی مناجات گنگنا رہے تھے۔ سٹیج کے سامنے پنڈال میں بہت سے لوگ وہی کاسٹیوم پہنے بیٹھے تھے، جو مرکزی کردار نے زیب تن کیا ہوا تھا اور یہ سارے لوگ ہل ہل کر اور لہک لہک کر فلک شگاف نعرے بلند کررہے تھے۔ سکرین پر ایک "ٹکر" بھی چل رہا تھا کہ صاحبزادہ (نام میں بھول گیا)مدظلہ العالی سلمہ کی رخصتی! اس رخصتی کی کوئی تفصیل نہ تو ٹکر میں موجودتھی اور نہ ہی دونوں مقررین (وہی ی ی ۔۔۔ سٹیج والے) کی بیک وقت تقاریر سے اندازہ ہورہا تھا کہ اس رخصتی کی نوعیت کیا ہے؟ البتہ نورانی چہرے والے بزرگ زور لگاکررونے کی شدید کوشش کررہےتھے، جیسے شاہ رخ خان زور لگاکر اداکاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کم بخت آنسو تھے کہ نکلنے سے انکاری تھے، اس پر سمجھدار کیمرہ مین نے فرشتہ صورت بزرگ کے کلوز اپ کی بجائے کیمرہ دوبارہ پنڈال میں موجود عقیدت مندوں پر فوکس کردیاجبکہ پس پردہ موسیقی کے طور پر بزرگ کی المناک ہچکیاں (بغیر آنسوؤں والی) بدستور چلتی رہیں۔ میں نے اندازہ لگایا کہ شاید یہ کم عمر صاحب، ان بزرگ شخصیت کے صاحبزادے ہیں اور گھر داماد کے طور پر رخصت ہوکر اپنے سسرال جارہے ہیں اور ان کی جدائی میں یہ رقت آمیز (دیکھنے والوں کے لئے) محفل سجائی گئی ہے!

اس محفل کی براہ راست کوریج نے میرے دل میں وہ کیفیات پیدا کردیں، جن کا ذکر شروع میں کیا گیا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ساری دنیا ایسے ہی کاسٹیوم زیب تن کرکے ہر وقت اسی حلیے میں لہکتی پھرے۔ یہ رنگارنگی اور تنوع ختم ہوجائے اور یک رنگی کی کیفیت پیدا ہوجائے تو دنیا کتنی حسین لگنے لگےگی اور اس کائنات کی تخلیق کا مقصد بھی پورا ہوجائے گا!

میرا دوست "ھ" ،جو نہایت بے ہودہ، بدتہذیب، جاہل، گنوار، منہ پھٹ اور دہریہ قسم کا شخص ہے اور بدقسمتی سے اس وقت میرے پاس بیٹھا تھا، اس نے اپنے منحوس چہرے پر خباثت بھری مسکراہٹ سجائی اور ایک آنکھ میچ کر نہایت لوفرانہ انداز میں کہا کہ عقیدت اور جہالت کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور اس کیس میں تو گلے مل رہی ہیں!

32 مارچ

چاند میری زمیں، پھول میرا وطن ۔۔۔۔ سوہنی دھرتی اللہ رکھے ۔۔۔ اے وطن پیارے وطن ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ،  اگر ملی نغموں، ترانوں، نعروں، فوجی پریڈوں سے ملک ترقی کیا کرتے اور قومیں دنیا میں اپنی پہچان بنایا کرتیں تو یقینا ہم اس کائنات میں بسنے والی سب سے عظیم قوم اور سب سے ترقی یافتہ ملک ہوتے۔

سکول کے زمانے میں ۲۳ مارچ کا اپنا ایک رومان ہوتا تھا۔ مارچ پاسٹ کرتے ہوئے چاق و چوبند فوجی، سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرتے ہوئے ٹینک، توپیں، میزائل اور سونے پر سہاگہ اظہر لودھی کا خون کی گردش تیز کرتا ہوا رواں تبصرہ۔ وہ زمانہ گزرگیا۔ اور اپنے ساتھ بہت سے رومان بھی لے گیا۔ اب 23 مارچ کو بہت سے تلخ سوال میرے سامنے آکر کھڑے ہوجاتے ہیں اور جواب کا تقاضہ کرتے ہیں۔ میرے پاس ان کا کوئی جواب نہیں!

ایک سوال یہ ہے کہ "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ" کا کیا مطلب تھا؟ اگر اس کا مطلب پاکستان کو دین اسلام کے مطابق چلانا تھا تو عمر (رض) سے ایک عام آدمی بھری محفل میں پوچھ لیتا تھا کہ یہ کرتہ تو نے کیسے بنا لیا ایک چادر سے؟ اب آپ اپنے کونسلر سے پوچھ کے دیکھیں کہ بھائی یہ ایک ہی سال میں تو موٹر سائیکل سے کار پر کیسے آگیا تو اگلا پورا مہینہ آپ پشت کے بل سو نہیں سکیں گے اور موٹی گدی والی کرسی پر بیٹھنے سے پہلے بھی دس دفعہ سوچیں گے۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ بھونپو نما لوگ اخبارات میں اس دن بیانات چھپواتے ہیں (اب چینلز پر اپنی سریلی آواز میں کلام شاعر بزبان شاعر کی صورت میں بھی) کہ پاکستان قیامت تک قائم رہنے کے لئے بنا ہے۔ اچھا تو پھر 1971 میں اسرائیل کے دو ٹکڑے ہوئے تھے؟ شاید خدا نے ہمارے لئے اپنے قانون بدل دیئے ہیں۔ ہم جو جی چاہے کرتے رہیں یا یوں کہہ لیں کہ کچھ نہ بھی کریں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں پھر بھی ہم قائم و دائم رہیں گے۔ اور وہ جو مالک کہتا ہے کہ "لیس للانسان الا ما سعی" تو وہ شاید ہمیں چھوڑ کے باقیوں کے لئے کہا گیا ہوگا۔

ہماری رگوں میں یقینا بنی اسرائیل کا خون ہے!

اسی ۲۳ مارچ کے دن چند بزرگ ایسے بھی نمودار ہوتے ہیں، جن کا فرض ہم کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ پاکستان نہ بنتا تو وہ کسی ہندو کی دکان پر منشی ہوتے۔ اور وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتے ہیں اور ہمیں سرزنش کرتے ہیں کہ اللہ کا شکر ادا کرو کہ تم ایک "آزاد اسلامی" ملک کے رہنے والے ہو۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آتاکہ کیا ہندوستان والےہماری سوکن ہیں؟ یا ہمارا ان سے وٹہ سٹہ ہے؟ کیا ہمیشہ ہم ان کو معیار مان کر ہی اپنی حالت ماپتے رہیں گے؟

ایک اور سوال ہے کہ ریاست اگر ماں جیسی ہوتی ہے تو یہ کیسی ماں ہے جو اپنے ہی بچوں کو کھاجاتی ہے؟یہ ماں ہے یا ناگن؟ یا پھر یہ ریاست صرف اس طبقے کی ماں ہے جن کے لئے اسے بنایا گیا تھا اور جو آج بھی سارے وسائل شیر مادر سمجھ کے ڈیک لگا کے پی جاتے ہیں۔ اور پھر اخبارات اور ٹی وی چینلز پر بھاشنوں کی صورت میں ڈکار مارتے پھرتے ہیں۔ عامیوں کے تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان  کے مطالبے پر انہیں ہر سال، اگلے سال ۳۲ مارچ تک کا وقت دے دیتے ہیں۔ اور شاباش ہے ۱۷ کروڑ "غیور" عوام پر جو ۶۲ سال سے ۳۲ مارچ کا انتظار کرتے آرہے ہیں۔ کرتے رہو، قیامت تک!

اوراس پیشینگوئی کے لئے آپ کو رینڈ کارپوریشن کی کسی ریسرچ، ہنود ویہود لابی کا ایجنٹ یا کافروزندیق ہونے کی ضرورت نہیں کہ معاملات اسی طرح چلتے رہے تو ہمارے ان داتاؤں کے پاس کچھ زیادہ ۲۳ مارچیں منانے کا وقت نہیں رہ گیا۔ حشرات الارض کا کیا ہے، آپ کے پاؤں کے نیچے آکر نہ کچلے گئے تو کسی اور کے پاؤں کے نیچےآکر کچلے جائیں گے۔ اور فرق تو ان کو بھی نہیں پڑے گا۔وہ نئےفاتح کے استقبال کے لئے ائیر پورٹ پر ہار لے کر کھڑے ہوجائیں گے، جیسےان کے باپ دادا انگریزوں کے لئے گھنٹوں دھوپ میں کھڑے رہا کرتے تھے۔

بس ذرا حکمرانی کا مزا کرکرا ہوجائے گا!

تناظر!

آج تک اس لفظ کی سمجھ نہیں آئی کہ آخر اس کا مطلب کیا ہے?

انگریز شاید اس کو پرسپیکٹو کہتے ہیں۔ مثلا ایک لفظ ہے فحش۔ اب کچھ لوگوں کو انسانوں کے بنا لباس یا چست لباس میں لپٹے بدنوں میں فحاشی نظر آتی ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کو ستر سالہ مزدور کاڈیڑھ من کی بوری اٹھا کر دوسری منزل پر لے کر جانا فحش نظر آتا ہے۔کوئی کہتا ہےکہ ایک ہی کمرے میں جوان اولاد اور ماں باپ کا سونا فحاشی ہے تو کسی کی رائے میں چائے کے کھوکھے پر کام کرنےوالاچھ سات سالہ بچہ فحاشی کی کلاسیکی مثال ہے! کوئی کہتا ہے کہ جہاں بھوک سے خودکشیاں ہوتی ہوں وہاں شادیوں پر دس دس کھانے پیش کرنا فحاشی ہے۔ کوئی ہزاروں گز پر پھیلے "سادہ" مکانات کو فحاشی سمجھتا ہے، تو کوئی فلمی پوسٹروں اور اشتہاری ہورڈنگز کو ہی فحاشی کی معراج سمجھ کر ان پر سیاہی انڈیلتا ہے اور اپنے تئیں فحاشی کا "بی ناس مکا" دیتا ہے۔ چند لوگ بالغ لطیفوں کو فحاشی سمجھتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو ارباب اختیار کا ڈھٹائی سے جھوٹ بولنا اور بولتے ہی چلے جانا، بدترین فحاشی نظر آتا ہے۔

دہشت گردی بھی ایک ایساہی لفظ ہے۔ کسی کے نزدیک دہشت گرد صرف وہ ہے جو کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں دہشت گردی کرے۔ خود بھی مرے اور ساتھ بیسیوں بے گناہوں کو بھی لے مرے۔ اور اگر کوئی فضا سے میزائل مار کے ایک گناہگار کے ساتھ بیسیوں بے گناہوں کو مارڈالے تو وہ "کولیٹرل ڈیمیج" ہے! جبکہ کچھ کے نزدیک دہشت گردی کی تعریف اس سے بالکل الٹ ہے۔

اسی طرح کچھ لوگ کسی کے زاہد اور متقی ہونے کا فیصلہ حلیے سے کرتے ہیں جبکہ کچھ اس زمرے میں صرف عمل کو دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگ کسی ایک جملے یا پھبتی پر کسی کے اخلاق وکردار پر حکم لگادیتے ہیں۔ جبکہ کچھ کسی کے بارے میں کوئی حکم لگانا یا کسی کو "جج" کرنا ہی سب سے بڑی بد اخلاقی سمجھتے ہیں۔

میں بہت حیران ہوں کہ ایک ہی لفظ "تناظر" کے اتنے تناظر کیسے ہوسکتے ہیں؟ کوئی دانشور، فلسفی، صوفی، درویش ہے جو میری اس الجھن کو دور کرے!

میرا پسندیدہ شاعر

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔ وہ پاکستان کے قومی شاعر بھی ہیں۔ آپ بہت عرصہ پہلے سیالکوٹ کے کسی محلے کے کسی گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ پیدائش کے وقت آپ صرف محمد اقبال تھے، ڈاکٹر، پی ایچ ڈی (اس وقت بھی ہوتی تھی!) کرنے کے بعد، سر، انگریز کی مہربانی سے اور علامہ، پاکستان بننے کے بعد بنے تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ سے حاصل کی اور اعلی تعلیم انگلستان اور جرمنی وغیرہ سے حاصل کی جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کے والد ایک متمول شخص تھے۔ ورنہ اس دور میں تو عام آدمی کے لئے لاہور سے امرتسر جانا مشکل ہوتا تھا کجا کہ فرنگیوں کے دیس میں بندہ سالوں گھومتا پھرے۔

علامہ اقبال کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے تمام مکاتب فکر کے لوگ مستفید ہوسکتے ہیں۔ سوشلزم والے "اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگادو" گاتے پھرتے ہیں۔ نشاۃ ثانیہ والے "نیل کے ساحل سے لے کرتابخاک کاشغر" کا الاپ جاپتے ہیں۔ علماء حضرات جمعے کے خطبے ان کے اشعار سے سجاتے ہیں اور اپنے اکابرین کے ان فتووں سے صرف نظر کرتے ہیں جو انہوں نے علامہ کی شان میں دئیے تھے۔ سول سوسائٹی والے "ذرا نم ہو تویہ مٹی" کو اپنا ترانہ بنائے پھرتے ہیں۔مارشل لاء والے "بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے" کو اپنی ٹیگ لائن کے طور پر سجاتے رہے اور جمہوریت والے "سلطانیء جمہور کا آتا ہے زمانہ" گاتے رہے۔ فوج والے "شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن" کو اپنا ماٹو قراردیتے رہے ہیں۔ لیکن یہاں آکر ایک مخمصہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی نظام بندوق کے زور پر نافذ کرنے والے بھی اسی شعر کو اپنا ماٹو قراردیتے ہیں۔ اب اصل مومن کا فیصلہ کرنے کے لئے ہم پچھلے دس سال سے الجھے ہوئے ہیں! اور تو اور ہندوستان والے بھی ان کے "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" کو اپنا پسندیدہ ترین ملی نغمہ سمجھتے ہیں۔

علامہ اقبال کی سیاسی خدمات بھی بے پناہ ہیں۔خطبہ الہ آباد کسی نے پڑھا ہویا نہ پڑھا ہو، اتنا ضرور جانتا ہے کہ پاکستان کا نظریہ اس میں پیش کیا گیاتھا۔ اور اس کی تصدیق کرنا کوئی ضروری نہیں سمجھتا کہ بزرگوں کی باتوں پر شک کرنا بےادبی ہوتی ہے۔ مبینہ طور پر پاکستان کا خواب بھی انہوں نے ہی دیکھا تھا۔ مبینہ اس لئے کہ اس خواب کی تعبیر وہ آج دیکھ لیں تو خواب دیکھنے سے ہی توبہ کرلیں۔ چند محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ جس تصویر کو بنیاد بنا کر ان پر مفکر پاکستان کا ٹیگ لگایا گیا ہے، اس میں تو وہ انتظار کررہے ہیں کہ علی بخش حقہ تازہ کرکے کب لاتا ہے؟ اور سوچ رہے ہیں کہ اگر علی بخش اسی طرح ہر کام دیر سے کرتا رہا تو وہ اس کی جگہ نیا ملازم رکھ لیں گے!

فرض کیجئے اگر علامہ اقبال نہ ہوتے تو پی ٹی وی کے خبرنامے کے بعد اظہر لودھی کی آواز میں کس کے اشعار پڑھے جاتے؟ حسرت موہانی کے تو کم ازکم نہیں۔ سوچئے، خبرنامے کے بعد اظہر لودھی یہ شعر پڑھتے تو کیسے لگتے کہ
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے ۔۔۔

اتفاق (فونڈری نہیں) سے پچھلی دو تحاریر میں ایک درخواست ہے اور دوسرا خط۔ لہاذا میں نے سوچا کہ اردو "ب" کے پرچے کی تیاری پوری ہوجائے، اسی سلسلے میں یہ مضمون قلم بند کیا گیا ہے۔ المشتہر۔۔۔۔ جعفر عفی عنہ۔۔۔

پِینَو بنام شَوکا

میری جان شوکے!

آداب محبت و سلام عشق وغیرہ وغیرہ کے بعد عرض ہے کہ میں بالکل خیریت سے ہوں اور تمہاری خیریت خداوند کریم سے نیک مطلوب چاہتی ہوں۔ شاعر کہتا ہے کہ
روشنی چاند سے ہوتی ہے ستاروں سے نہیں
محبت شوکے سے ہوتی ہے ساروں سے نہیں
پچھلے خط میں یہ شعر تم نے کس سے پوچھ کر لکھا تھا کہ
کاؤکاو سخت جانی ہائے تنہائی، نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
بھلا کوئی اپنے مشوق کو ایسے شیروں والے شعر بھی لکھتا ہوگا جو صبح سے شام تک جواء کھیلتے ہوں! ہااااا ہائے۔۔۔۔

اتنے دن ہوگئے ہیں اور تم سے ٹاکرا ہی نہیں ہوا۔ میں نِگَّو کے گھر بھی گئی تھی کہ شاید تمہارے درشن ہوجائیں۔ پر تم تو اپنے ٹُٹ پَینے یاروں کے ساتھ نہر پر نہانے گئے ہوئے تھے۔ صئی صئی بتانا صرف نہانے ہی گئے تھے ناں؟

کل مولیوں والے پرونٹھے پکائے تھے، تمہیں بہت پسند ہیں ناں۔ تمہارے لئے لے کر ہی میں نگو کے گھر گئی تھی کہ اس کے چھوٹے بھائی کے ہاتھ تمہیں بھجوادوں،مگر تم ملے ہی نہیں تو تمہارے حصے کے اٹھ پرونٹھے بھی میں نے آپے ہی کھالئے۔ اس کے بعد تمہاری یاد نے اتنا ستایا کہ ساری رات نیند نہیں آئی! ہائے ظالما تیری یاد بھی تیرے ورگی ظالم ہے۔۔۔

ہن ویکھو ناں، خط پہنچانے کا کرایہ ٹُٹَّے چھتر کی طرح بڑھتا ہی جارہا ہے۔ چاچے شیدے کا چھوٹا منڈا، جو اب اتنا چھوٹا بھی نہیں رہا، کل خط پہنچانے کے دس روپے اور گریوں والے گڑ کی دو پَیسِیاں مانگ رہا تھا۔ میں نے بمشکل اس کو پرانے ریٹ پر راضی کیا۔ اب کوئی اور ڈاکیا ڈھونڈنا پڑے گا۔ ویسے بھی اب وہ شہدا مجھے ایسے دیکھنے لگا ہے جیسے تم دیکھتے ہو! چوہڑا جیا نہ ہووے تے۔۔

جلدی سے جلدی اس کا جواب لکھنا اور اس دفعہ کوئی اچھے سے عشق مشوقی والے شعر بھی لکھنا، وہی جوئے اور شیر والے جیسے نہ ہوں، ورنہ فیر میں تم سے نراض ہوجاؤں گی اور تجھے میری قسم ہے کل ہماری گلی میں سے ضرور گزرنا۔ میں اپنی باری میں سے تجھے دیکھوں گی۔ اگر میری "فرمائش" یاد ہوتو وہ بھی باری میں سے مجھے پکڑا دینا۔ دوبجے دوپہر کے بعد آنا۔ میں تمہارا انتظار کروں گی۔ اللہ بیلی۔۔

ڈبے پہ ڈبہ، ڈبہ ہے گول
میرا شوکا، ساری دنیا میں انمول

صرف اور صرف تمہاری ۔۔۔ پِینَو

درخواست ملازمت برائے بھوت لکھاری

بخدمت جناب جاوید چوہدری صاحب، کالم نگار (درجہ اول) و یکے از اینکراں و ماما جاتِ پاکستان
جناب عالی!
مودبانہ گذارش ہے کہ فدوی ازمنہ قدیم سے آپ کے کالم کے متاثرین میں شامل ہے اوراس قوم کو سدھارنے کے لئے آپ نے جو قلم توڑ کوششیں کی ہیں، ان کا بھی اخباری شاہد ہے۔ عرض گذارش یہ ہے کہ بقول آپ کے، اس قوم کے درد میں آپ کو ذیابیطس جیسے موذی مرض نے جکڑ لیا ہے جس سے یہ خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ آپ زندگی کے "اصل" لطف سے بھی محروم ہوسکتے ہیں۔ اس صورتحال کی گھمبیرتا میں اضافہ اس وقت ہوا جب کچھ عرصہ پہلے آپ کی کچھ تصاویر فیس بک پر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جس میں آپ بھابھی محترمہ کے ساتھ چھٹیاں منا رہے تھے۔ ان تصاویر کو دیکھ کر وہ مشہور محاورہ یاد آگیا جس میں ایک آسمانی مخلوق کو، ایک ایسی مخلوق کے پہلو میں بتایا گیا ہے، جسے حضرت ڈارون نے انسان کا جد امجد قرار دیا تھا!
روز کالم لکھنے اور ٹاک شو کرنے کی ٹینشن آپ کو دن بدن ڈپریس کرتی جارہی ہے۔ یہ ساری صورتحال بطور ایک "ڈائی ہارڈ فین" میری برداشت سے باہر ہے۔ اس لئے میں اپنی خدمات پیش کرنے کی جسارت چاہتا ہوں۔ آپ کوکرنا صرف یہ ہے کہ مجھے کالم کا موضوع بتانا ہے جو آپ کو "اوپر" سے موصول ہوتا ہے، اس پر کالم لکھنا میرا کام ہے۔
آپ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ یہ کیا واہیاتی ہے؟ میں آپ جیسا کیسے لکھ سکتا ہوں؟ اس شک کو دور کرنے کے لئے آپ یہاں اور یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ خود بھی شک میں پڑجائیں گے کہ شاید یہ آپ کے لکھے ہوئے کالم ہی ہیں جو کسی نامرادنے چراکر چھاپ دیئے ہیں۔ ایسا بالکل نہیں بلکہ یہ میری آپ سے والہانہ عقیدت کا کرشمہ ہے جسے وارث شاہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ "رانجھا رانجھا کردی نیں میں آپے رانجھا ہوئی"
مجھے ملازمت دینے کی صورت میں آپ معاشی طور پر بھی بہت فائدے میں رہیں گے۔ ایک کالم میں آپ نے ذکر کیا تھا کہ آپ کا پرسنل ریسرچ سٹاف سات آٹھ افراد پر مشتمل ہے۔ مجھے ملازمت دینے کی صورت میں آپ ان سب کی چھٹی کرسکتے ہیں کیونکہ آپ کے کالمز جیسی ریسرچ تو میرے بائیں ہاتھ کاکام ہے۔ ویسے بھی آپ کے قارئین میں اس ریسرچ کو کراس چیک کرنے کی صلاحیت ہونا ناممکن ہے۔ اور جن میں یہ صلاحیت ہے وہ آپ کے کالم پڑھنے کے روادار نہیں!بدقسمت لوگ۔۔۔
قصہ مختصر، اس سودے میں آپ کا فائدہ ہی فائدہ ہے۔ ایک تو آپ دباؤ، پریشانی، ڈپریشن وغیرہم سے نجات حاصل کرکےزندگی کے بچے کھچے سال اسے "انجائے" کرتے ہوئے گزار سکتے ہیں، اور دوسرا آپ کی شہرت، دولت اور طاقت میں بھی کمی نہیں آئے گی، بلکہ ان سب میں، میرے آنے سے اضافہ ہی ہوگا۔ آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔۔۔ شرائط ملازمت اور مالی امور بالمشافہ ملاقات میں طے کئے جاسکتے ہیں۔
مجھے یقین واثق ہے کہ آپ اس "بمپر آفر" سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگی خوشیوں سے بھر لیں گے! اور میری دال روٹی بھی چلتی رہے گی۔۔۔۔
خیر اندیش