بی سی جیلانی کی ڈائری - ری پلگ


زمانہ اتنا خراب ہوگیا ہے کہ میرے جیسے بندے کو سوچ کے پسینہ آنے لگتا ہے۔ ایمانداری، راستبازی، حق پرستی تو عبرانی کی اصطلاحات لگنے لگی ہیں۔ یہ پُرفِتن دور بھی دیکھنا تھا کہ خالص وہسکی بھی منہ مانگے داموں دستیاب نہیں ہوتی۔ اللہ بھلا کرے ڈپلومیٹک انکلیوز والوں کا یا اپنے حسین ایثار کا، اگر یہ دونوں نہ ہوں تو ہم جیسے مسکین پیاسے مر جائیں۔ اوپر سے خرچے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ میرے جیسے رزق حلال کمانے والوں کا تو جینا دوبھر ہوتا جارہا ہے۔ آنٹی شمیم نے کل رات ایک مہینے کا ڈیڑھ لاکھ کا بل تھما دیا ، حالانکہ میرے صرف تین چار وزٹ ہی تھے پورے مہینے میں۔ شریف آدمی کے لیے تو تفریح بھی عذاب ہوتی جارہی ہے اس ملک میں۔ اس سے بہتر تو بندہ دبئی کا چکر لگا آئے۔ پر اس کے اپنے مضمرات ہیں۔ اوّل تو بیگم ساتھ جانے پر تیار ہوجاتی ہیں اگر کوئی بہانہ کرنے کی کوشش کروں تو وہ میرے سامنے ہی وکّی، ٹونی وغیرہ کو فون کرکے پارٹی کرنے کا پروگرام بنانے لگتی ہیں۔ بندہ جائے تو کہاں جائے۔
بیگم کے اپنے خرچے ہیں۔ ابھی دو مہینے پہلے ہی پلاسٹک سرجری اور وہ پتہ نہیں جلد کھنچوانے کا کچھ پروسیجر ہوتا ہے، اس پر چار لاکھ اڑا دئیے۔ حالانکہ "فرق" کوئی نہیں پڑا۔ وہی چال "پلپلی" جو پہلے تھی، سو اب بھی ہے۔ ایمانداری سے کام کرنے والوں کی قدر تو یہاں کسی کو ہے ہی نہیں۔ عوام، جاہل ہےتو سیاستدان، لٹیرے اور مولوی، فسادی ۔ ایک چھوٹا سا طبقہ ہمارا ہی ہے جو عقل کی بات کرتا اور سمجھتا ہے۔ایک فرق البتہ بہت مثبت پڑا ہے، فوج، ماشاءاللہ، سدھرتی جارہی ہے۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اس دنیا میں پیسے کے بغیر کسی کی کوئی عزت نہیں۔ ہر چیز معیشت اور پیسہ  ہی ہے۔ میرے تائے کا بیٹا، سکول ماسٹری کرتاہے۔ حالانکہ اسے  کوئی  دس ہزار دفعہ سمجھایا تھا کہ سی ایس ایس کرکے افسر لگ جا۔ لیکن وہی مولویانہ سوچ کہ معاشرہ سدھاروں گا۔ کھانے کے لالے پڑے رہتے ہیں اس کے گھر میں۔ کوڑی کی عزت نہیں، نہ معاشرے میں نہ خاندان میں۔ میں اولیول بھی پاس نہیں کرسکا تھا لیکن سفیر محترم بھی اٹھ کے مجھ سے ملتے ہیں۔ یہ ہوتی ہے عزت۔ ان مڈل کلاسیے ٹَٹ پونجیوں کو کیا علم کہ دنیا میں ترقی کیسے کرتے ہیں۔ وہی صدیوں پرانے تصورات سے چمٹے ہوئے ہیں۔ خاندانی نظام، عزت، غیرت، حیا، شرم، پردہ۔۔۔ پردہ تو نظر کا اور دل کا ہوتا ہے۔ میری بیٹی کے ماشاءاللہ چھ سات بوائے فرینڈ ہیں۔ میں نے کبھی اس کے معاملات میں دخل نہیں دیا۔ ہاں البتہ بڑی سختی سے اس کو کہا ہوا ہے کہ چاہے دو بج جائیں، تین بج جائیں، سونا گھر آکے  ہے۔ اور اتنی تابع دار بچی ہے کہ چاہے جتنی مرضی ڈرَنک ہو،  کسی نہ کسی طرح گھر پہنچ جاتی ہے  اور اُصول کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔ اسے کہتے ہیں تربیت ۔ ویسے  بھی میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ اس کی اپنی زندگی ہے اور یہی عمر ہے اس زندگی  کو  انجائے کرنے کی اور دوسروں کو کروانے کی۔
جب تک یہ فرسودہ تصورات اور نظریات ان جاہلوں کو گھوٹ گھوٹ کے پلائے جاتے رہیں گے، ہمارا یہی حال رہے گا۔ ایسے ہی دہشت گردی رہے گی ایسے ہی بدعنوانی اور جہالت راج کرے گی۔ سب کو پتہ ہے کہ معیشت میں ترقی کے لیے سیاحت کو فروغ دینا ضروری ہے اور اس ملک میں کون پاگل آئے گا جہاں  وہسکی تک خالص نہیں ملتی اوراگر ملتی بھی ہے  تو ہزار پابندیوں کے ساتھ۔ اور جہاں آنٹی شمیم جیسے استحصالی طبقات، رزق حلال کمانے والوں کو  تفریح فراہم کرنے کے نام پران کا  خون چُوسیں۔  حالانکہ تمام دوسرے شعبوں کی طرح تفریح کا شعبہ بھی ریگولیٹ ہونا چاہیے اور کسی کی اس پر اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن یہاں عقل کی بات سنتا کون ہے۔ بس اس مُلک کو اللہ میاں ہی چلارہے ہیں ورنہ ان جاہل عوام اور مولویوں  اور سیاستدانوں نے اس کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اللہ ان کو غارت کرے۔

نیوڈ پریاں


میں جب بھی ٹینشن کا شکار ہوتا ہوں۔ڈپریشن،  میرا میٹر گھمانےلگتا ہے۔ میرے دماغی پُرزے ورک فٹیگ  سے  ڈھیلے پڑنے لگتے ہیں۔ میری شوگر ہائی اور وائٹیلٹی لَو  ہونے لگتی ہے۔ تومیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بیرون ملک ٹور پر نکل جاتا ہوں۔ یہ نسخہ مجھے میرے مرشد نے عنایت کیا  تھا۔ یہ کہتے ہیں کہ جب بھی زندگی میں آپ ڈاؤن فِیل کرنے لگیں، آپ کی قُوت کم ہونے لگے، آپ کی صلاحتییں ،  سلاجیت مانگنے لگیں تو  فورا  بیوی اور کا م سے دور بھاگ جائیں۔ یورپ چلے جائیں، دبئی چلے جائیں، تھائی لینڈ چلے جائیں۔ میں آجکل اسی سٹیج میں تھا۔ میں نے فورا ٹکٹ بُک کروائی اور یورپ کے ٹور پر نکل آیا۔
یورپ سے میری محبت کا آغاز لڑکپن میں ہوا تھا جب میں لالے موسے کے سینموں میں انگلش فلموں کے ٹوٹے دیکھ دیکھ کر پروان چڑھ رہا تھا۔ اس وقت میرے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ میں انہی حسین پریوں کے دیسوں میں گھومتاپھروں گا جن کو میں سکرین پر دیکھ کر آہیں بھرا کرتا تھا اور انہیں اتنے قریب سے دیکھ سکوں گا کہ ان کی مونچھوں  کا باریک رُواں بھی میری عینک زدہ نظر سے نہیں بچ سکے گا۔  مجھے یاد ہے  کئی سال پہلے جب میں پہلی دفعہ جنیوا کے ائیرپورٹ پر اترا تھا  تو مجھے دَندل پڑ گئی تھی۔ لیکن اب میں یوز ٹُو ہوگیا ہوں۔ اب میرا دل اور دماغ اس حُسن کا عادی ہوچکا ہے ۔ بلکہ اگر کسی سال  یورپ  کا ٹور لیٹ ہوجائے  تو  میرا جسم ٹوٹنے لگتا ہے۔ جس کے اثرات میرے پروگرام اور کالمز پر بھی پڑنے لگتے ہیں۔ لہذا یورپ میری جسمانی بیٹری کے لیے موٹی پِن والے چارجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ چارجنگ میں تاخیر ہونے لگے  تو میرے سگنل وِیک ہوجاتے ہیں اور میں اول فول بکنے اور لکھنے لگتا ہوں۔  اسی لیے مُرشدنے مجھے بطور تعویذ یورپ کا ملٹی پل ویزا لگوا کے دیا ہے جو میں بطور برکت اپنے والٹ میں ہر وقت ڈالے رکھتا ہوں۔
اس دفعہ مجھے ایلپس کی ماونٹین رینج  کا ٹور کرنا تھا۔ یہ یورپ کے سب سے اونچے پہاڑ ہیں۔ انہیں آپ یورپ کے کے ٹو اور ننگے پربت کہہ سکتے ہیں۔ یہ انتہائی خوبصورت پہاڑ ہیں۔ ان پر درخت ہیں اور برف ہے۔ وادیوں میں جھیلیں ہیں۔ یہ جھیلیں انتہائی خوبصورت ہیں۔ آپ وہاں خود کو پرستان میں محسوس کرتے ہیں۔ جہاں ہر طرف پریاں ناچتی گاتی اور تھرکتی نظر آتی ہیں۔ کچھ پریوں  نے پَروں کے علاوہ کچھ نہیں پہنا ہوتا اور کچھ نے تو پَر بھی اتار کے رکھے ہوتے ہیں۔برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیوں  کا جھیل کے پانی میں عکس، سبزے سے لدی پہاڑی ترائیاں اور جھیل کے شفاف پانی میں ناچتی گاتی، چھینٹے اڑاتی نیوڈ پریاں۔  یہ ایکسپیرئنس آؤٹ آف دس ورلڈ ہوتا ہے اور بہت مزا آتا ہے۔  ایک لحیم شحیم پری  نے  مجھے دیکھ کر آنکھ بھی ماری اور پانی میں آنے کا اشارہ کیا۔اس پر  میں نے ایک قہقہہ لگایا۔جس پر اُس نے دُر فٹے منہ کا اشارہ کرکے دوبارہ پانی میں چھلانگ لگادی۔یہی اُس ماحول کی خوبصورتی ہے کہ  آپ کے ذہن میں یہ سب دیکھ کے کوئی رانگ یا ڈرٹی  فیلنگ نہیں آتی۔ جبکہ میرے دوست کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ میری شوگر ہے۔وہ،  یہ بھی کہتا ہے کہ اگریہ پرستان  ہے تو میں پَرَے کی بجائے جِن ہوں وہ بھی عینک والا اور اگر جنّت ہے تو میں شیطان ہوں۔ میں ایسی باتوں کو کوئی امپارٹینس نہیں دیتا۔ یہ ثابت کرتی ہیں کہ آپ زندگی میں کامیاب ہیں۔ میرے مُرشد کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ سےجیلس فِیل کرنے لگ جائیں  توسمجھ لیں  کہ آپ لائف میں سکسیس فُل ہوگئے ہیں۔ میرا دوست اس بات سے متفق نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے کہ لوگ مجھ سے جیلس نہیں ہیں بلکہ میرا تَوا  لگاتے ہیں۔میں اس کی  بات پر ایک قہقہہ لگاتا ہوں اور اس کو بتاتاہوں کہ یہ ہماری نیشنل مینٹیلٹی  ہے۔ ہم ہر کامیاب اور جینئس بندے کو دو نمبر سمجھتے ہیں اور اس کی کامیابی کو کسی ملک نیاز کا مرہونِ منّت سمجھتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس اعدادو شمار  یہ ثابت کرتے ہیں  کہ  ہر پینتالیس لاکھ  ستاسی ہزار چار سو انیسویں کے بعد چار سو بیسواں بندہ جینئس  ہوتا ہے۔آپ  لالے موسے  کی میونسپالٹی چلے جائیں،  آپ وہاں کا ریکارڈ چیک کرلیں ۔ آپ جان جائیں گے کہ وہ چار سو بیسواں بندہ کون ہے ۔
وہ میں  ہوں۔

کُنڈلی

پنڈت جی  سُرور اور مدہوشی کی درمیانی حالت میں تھے۔  اگرچہ ہیں تو وہ یوپی کے ٹھاکر اورمشہور  غازی آباد ڈسٹرکٹ سے ان کا تعلق ہے لیکن ہم انہیں پنڈت جی ہی کہتے ہیں  اور بظاہر انہیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں بلکہ ہمیں تو لگتا ہے کہ وہ اندر ہی اندر خوشی بھی محسوس کرتے ہیں۔ شاید ایک درجہ ترقی پانا سبھی کو  بھلالگتا ہے۔ ان سے ہماری ملاقات ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ ہماری چوپال یا ڈیرا کہہ لیں، جہاں ہم روزانہ شام سے رات گئے تک پائے جاتے ہیں، وہاں بھانت بھانت کے لوگ آتے ہیں۔ پنڈت جی سے ملاقات بھی وہیں ہوئی تھی۔ اردو بولنے والوں سے ہماری دائمی انسیت کی وجہ سے ان سے گپ شپ شروع ہوئی۔ پنڈت جی بھی بقول یوسفی علم دریاؤ سے کم نہیں ہیں۔پیشے کے لحاظ سے تو اکاؤنٹنٹ ہیں  لیکن  گنی بساؤ کی معاشی حالت سے امیتابھ بچن کے کیرئیر کے اتار چڑھاؤ تک اس عالم فانی کی کوئی خبر ان سے بچ کر نہیں جاسکتی۔ الیکٹرانک چپ بنانے سے پیزا بنانے تک کے عمل انہیں ازبر ہیں۔ سٹاک مارکیٹ اور میوزک مارکیٹ دونوں  پر ان کی نظر گہری ہے۔ کب کس کے سٹاک گریں گے اور کون کہاں سُر سے گرا، ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا یا کم ازکم وہ یہی سمجھتے ہیں۔ کرکٹ کے بے حد شوقین اور سیاست کے اس سے بھی زیادہ۔ پاکستانی چینلز کے ٹاک شوز پر فریفتہ ہیں اور کیوں نہ ہوں اس سے اچھی انٹرٹینمنٹ  برصغیر میں کون فراہم کررہا ہے؟ بڑے بڑے لوگوں کے قصے ایسے سناتے ہیں  کہ سماں باندھ دیتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں یوپی کے الیکشن میں اکلیش یادیو کی جیت پر ان کو دیئے گئے سیاسی مشوروں کی کہانی سُنی اور دل میں یہ سوچا کہ کہیں ہمارے پیارے کپتان کے مشیر بھی  پنڈت جی ہی نہ ہوں!۔
ممبئی کے انڈر ورلڈ  کی ہوشربا ان کہی کہانیاں ہوں یا دبئی  میں بھائی لوگوں کے کارنامے، ان کو سب علم ہے۔داؤد بھائی کو ممبئی سے کیوں جانا پڑا، چھوٹاشکیل ان کا نمبر دو کیوں ہے، رام گوپال ورما کی فلموں میں پیسہ کون لگاتا ہے اور اتنی فلاپ فلموں کے باوجود وہ فلموں پہ فلمیں کیسے بناتا چلا جاتا ہے۔   یہ سب باتیں اور اس پر ان کا انداز بیان! وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔۔
ان سب باتوں کے علاوہ جس چیز کا انہیں جنون کی حد تک شوق ہے، وہ پامسٹری ہے۔ عجیب و غریب قسم کی جنّاتی اصطلاحیں،   جن میں ستارے، ان کی چالیں اور ان کے اثرات  کا ذکر ہوتا ہے، استعمال کرکے وہ یہ علم ہمیں گھوٹ کے پلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ہم ٹحہرے سدا کے نالائق۔ سیکھنا تو دورہمیں آج تک اس کی "سِدّھ پُٹھ " کا ہی پتہ نہ چل سکا۔ وہ اکثر ہم سے فرمائش کرتے تھے کہ اپنا ہاتھ دکھائیے لیکن شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ہم نے انہیں ہاتھ دکھایا تو وہ کسی کو منہ دکھانے کےقابل نہیں رہیں گے۔ بہرحال  اس دن۔۔
پنڈت جی  سُرور اور مدہوشی کی درمیانی حالت میں تھے!
اور ہم سے باصرار تقاضہ کررہے تھے کہ آج تو ہم آپ کا ہاتھ "جرور" دیکھیں گے اور آپ کی کُنڈلی بنا کے ہی دم لیں گے۔ہم نے انہیں بُہتیرا سمجھایا کہ بخدا ہم سانپ یاناگ قسم کی مخلوق نہیں  ہیں کہ ہماری کُنڈلی بن سکے۔لیکن  پنڈت جی بھی اپنی ہی طرز کے ایک کائیاں ہیں ، اس بات کو ہنسی میں اڑاتے ہوئے اپنی بات پر اڑے رہے ۔ شومئی قسمت سے ہم بھی اس دن فیس بکی چیٹ پرایک دوست سے بھیجا چٹوا رہے تھے لہذا شدید "خوشگوار" موڈ میں تھے۔ ہم نے جھٹ اپنا ہاتھ پھیلا دیا۔ پنڈت جی کی آنکھوں کی لالی اور چہرے کی چمک مزید  بڑھ گئی۔ وہ نہایت انہماک سے ہمارے ہاتھ کی وینگی چِبّی لکیریں دیکھنے لگے ۔ وقفے وقفے سے ہمم ہمم کی معنی خیز آوازیں بھی ہمارے کانوں تک پہنچنے لگیں۔ہمیں اپنے وہ سارے کالے کرتوت یاد آنے لگے جو ہم کرچکے تھے  اور اب کچھ ہی دیر میں دنیا کے سامنے آنے والے تھے۔  پنڈت جی نے کہیں سے ایک قلم اور کاغذبھی  برآمد کرلیا اور  مستطیلیں اور دائرے سے بھی بنانے لگے۔ تقریبا بیس پچیس منٹ کے بعد کُنڈلی کو مکمل کرکے انہوں نے ایک  استادانہ نظر ہم پر ڈالی اور سگریٹ سلگا کر باہر نکل گئے ۔ شاید انہیں کُنڈلی سے اندازہ ہوچکا تھا کہ ہمیں سگریٹ کے دھویں سے کوئی زیادہ محبت نہیں ہے۔ اپنے پھیپھڑے سگریٹ کے صحت بخش دھویں سے تازہ کرنے کے بعد ان کی واپسی ہوئی اور انہوں نے ہمارا کچا چٹھا کھولنا شروع کیا جس کو سننے کے لیے سب بے تاب تھے۔ ان کی بتائی گئی زیادہ تر باتیں ایسی تھیں، جو کوئی بھی اوسط سے زیادہ قوت مشاہدہ رکھنے والا شخص اپنے حلقہ احباب بارے بتا سکتا ہے۔ انسانوں کی اکثریت اپنے رویوں، چال ڈھال،  پہناوے، آداب محفل  وغیرہ  سے اپنی ماضی کی چلتی پھرتی تصویر ہوتی ہے۔ دیکھنے والی آنکھ چاہیے۔ بہرحال ایک دو باتیں ایسی تھیں جن کو سن کر ہم بھی چونکے۔ لیکن ہمارے اندر جو ایک مُنکر بیٹھا ہے اس نے ہمیں دَبکا مار کر چُپ کرادیا۔ پنڈت جی نے ہمیں مستقبل کی مشکلات دور کرنے بارے چند ایک ٹوٹکے بھی ارزانی کیے جن میں کچھ مخصوص پتھروں کی انگوٹھیاں وغیرہ پہننا بھی شامل تھا۔ ہم کیسے ان کو بتاتے کہ ہم نے تو کبھی ماہی کے دئیے ہوئے چھلّے نہیں پہنے تو یہ انگوٹھیاں کیسے پہنیں گے۔ ہمارا نامہ اعمال جسے وہ کُنڈلی کا نام دے رہے تھے،  تہہ کرکے انہوں نے جیب میں رکھا اور ہمیں مطلع کرنا ضروری سمجھا کہ یہ کُنڈلی وہ" بڑے بھیّا" کو بھیجیں گے کیونکہ اس میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو ان کی سمجھ میں نہیں آئیں۔ہم نے سوچا کہ ہم آج تک خود اپنی سمجھ میں نہیں آئے تو یہ پاجی پامسٹری  کیا بیچتی ہے۔
پنڈت جی کا پامسٹری پر یقین ، ایمان کی حد تک ہے۔ بڑے بھیّا  جو ان کے استاد بھی ہیں، کے کارنامے ہمیں اکثر سناتے ہیں۔ اپنی زندگی میں آنے والی سب مشکلات اور مصیبتوں کی پیشگی خبر  ان کے دعوے کے مطابق ،بڑےبھیّا کو ہوجاتی ہے۔ جس کا اُپائے بھی وہ کرلیتے ہیں۔ ہم چپ چاپ سنتے رہتے ہیں اور جب نکو نک ہوجاتے ہیں تو  بات انگریزی فلموں کی طرف موڑ دیتے ہیں کہ یہ واحد موضوع ہے  جس پر پنڈت جی کی بولتی ہمارے سامنے بند ہوتی ہے۔

پنڈت جی سے  کافی عرصہ بعد ملاقات ہوئی، وہ چھٹیاں منانے ہندوستان گئے ہوئے تھے۔ نہایت تپاک سے ملے۔ حال احوال پوچھا تو بتا نے لگے کہ "ارے کیا بتائیں جعفر بھائی۔ موٹر سائیکل پر ریلوے اِسٹیسن جارہےتھے۔ سالی گدھا گاڑی سے ٹکر ہوگئی۔  پوری بائیں ٹانگ کام نہیں کررہی۔ سالا ،بیٹھے بٹھائے مصیبت آگئی۔ اسی حالت میں پَہلے ٹرین میں سفر کئے ہیں پھر پلین میں۔ فلائٹ کینسل ہوجاتی تو باس بولے تھے کہ ٹھاکر اِب کے نہ آئے تو وہیں رہیو۔ آنے کی جرورت نہیں ہے"۔ پنڈت جی کے چہرے پر بے چارگی اور معصومیت تھی!

دوراہا

پروگرا م میں خوش آمدید۔ ہمارے آج کے مہمان مقبول کالم نویس، ڈرامہ نگار، شاعر اور دانشور جناب حسین ایثا ر ہیں۔ جن کے تعارف کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کا نام حسین ایثار ہے!۔
جی ۔۔ایثار صاحب۔ کچھ اپنے بارے بتائیے۔
میں۔۔۔(سگریٹ کا طویل کش لے کر خلاؤں میں گھورتے ہوئے ایک لمبا وقفہ ) میرا تعلق لائل پور سے ہے۔  انتہائی پیارا، دلآویز، حسیں، دلنشیں، دلدار ، جان من شہر تھا۔ اب تو اس شہر کےنام سے جغرافیہ تک سب بدل گیا ہے۔ ڈھیٹ، بے حیا، غلیظ،  منافق، واہیات، بے ہودہ، بدتمیز  (منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے) ہوچکا ہے اب یہ شہر۔ ۔۔ میں تو ۔۔۔
۔۔۔بات کاٹتے ہوئے۔۔ یہ بتائیے  آپ کے والد کیا کرتے تھے؟
ہاںںںںں،،، میرے والد۔۔۔ وہ  ایک باشعور، باتمدن، مہذب، تعلیم یافتہ، شعور یافتہ، اپنے وقت سے بہت آگے کی سوچ رکھنے والے انسان تھے۔ اس کی ایک مثال میں عرض کرتا ہوں۔ نوجوانی میں مجھے عشق ہوگیا۔ یہ کوئی اچنبھے والی بات نہیں۔ لیکن میرے معاملے میں تو یہ ایک معجزہ تھا۔ اس وقت میری شکل آج کے مقابلے میں زیادہ منحوس تھی، مجھے تو چنگڑیاں لفٹ نہیں کراتی تھیں چہ جائیکہ ایک پراپر پڑھی لکھی  لڑکی مجھ سے اظہار محبت کرے۔ لہذا میں تو بالکل ریشہ خطمی اور انٹاغفیل وغیرہ ہوگیا۔ اباجی کو پتہ چلا تو انہوں نے میری وہ گدڑ کُٹ لگائی کہ کیا پُلیسے لگاتے ہوں گے۔ لیکن میں ، جیسا سب کو پتہ ہے، مستقل مزاج انسان ہوں۔ میں اپنے موقف پر قائم رہا جس پر ابا جی نے مجھے گھر سے نکال دیا۔ وہ ایک الگ کہانی ہے بہرحال۔ محبت میں ناکامی اور گھرسے بے دخل ہونے کے بعد میں لاہور بھاگ گیا اور کافی عرصے بعد جب لائل پور واپس گیا تو اپنی محبت کو ایک نظر دیکھنے کی کسک دل میں تھی۔ ایک دن موقع مل گیا لیکن اس کو دیکھتے ہی مجھے اپنے اباجی کی دور اندیشی کا اندازہ ہوا، وہ نازک اندام حسینہ ، جس کی زلف گرہ گیر کا میں اسیر ہوا تھا، ایک نصرت فتح علی ٹائپ خاتون کی صورت  میں ڈھل چکی تھی ۔ بوٹے کے کباب، گھنٹہ گھر کی آئس کریم اور لگاتار نوماہی زچگیوں نے  اسے، موتیے کی کلی سے گوبھی کا پھول بنا دیا تھا۔ اللہ، اباجی کو غریق رحمت کرے، وہ درست کہا کرتے تھے کہ "اوئے ڈنگرا ، تیری مَت کھوتے توں وی لنگھی اے"۔
آپ کو اردو صحافت کا پہلا سپر سٹار کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ مایوسی کے تاجر ہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟
آج جو کچھ بھی میں ہوں، اس کی وجہ جدوجہد، محنت، مستقل مزاجی، لگن، علم سے محبت، جہالت سے نفرت ہے۔ میں مایوسی نہیں پھیلاتا اور جو گھٹیا اور شُہدے لوگ یہ سمجھتے ہیں ان کی عقلوں میں فتور ہے یا وہ بے غیرت ہیں۔ میں معاشرے کا آئینہ ہوں،  اس میں وہی کچھ نظر آئے گا جو معاشرے میں ہورہا ہے۔
ایثار صاحب، ایک طرف تو آپ مغربی معاشرے کی اخلاقی اقدار کے گرویدہ ہیں  اور انسانیت کی فلاح کے لیے ان کے کام اور کارنامے گنواتے آپ کو دوسرا سانس نہیں آتا  جبکہ اسی  تہذیب نے انسانیت کے خلاف جو جرائم کیے اور کررہی ہے ، آپ اس کے دفاع میں ،،جس کی لاٹھی اس کی بھینس،، کی دلیل دیتے ہیں۔ کیا یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے متضاد نہیں؟
آپ عجیب گھٹیا، فضول، ازکار رفتہ ، واہیات سوچ کے مالک ہیں۔ آپ جیسے بوزنوں۔۔۔۔ (کمرشل بریک)
(بات کاٹتے ہوئے) زبان سنبھال کے بات کریں۔ جب تک آپ کے گارڈز اندر آئیں گے، میں آپ کا منہ نیلا اور تشریف لال کردوں گا۔ اپنی یہ چ ۔۔چالاکیاں میرے ساتھ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مجھے تنخواہ چینل سے ملتی ہے نہ تو میں آپ کا جاہل عوام ہوں اور نہ آپ کی میڈیا فرم کا ملازم۔
(حسین ایثار ، گہرے گہرے سانس لینے لگتے ہیں،   رنگ سیاہ سے سیاہی مائل پیلا ہونے لگتا ہے۔ جیب سے ایک چپٹی سے بوتل نکال کر ، سامنے پڑے مگ میں ایک محلول انڈیلتے ہیں اور ایک ہی سانس میں چڑھا جاتے ہیں۔ بوتل سے تھوڑا سا محلول اور انڈیل کر ایک چھوٹا سا  سِپ لیتے ہیں۔ چہرے پر رونق واپس آجاتی ہے)۔ یار ، تُوں گُسہ ای کرگیاایں۔ تُوں تے اپنا جگرایں۔ چل دفع کر گُسہ ۔
(کمرشل بریک سے واپسی)
جی ، ناظرین، ہمارے ساتھ موجود ہیں، جناب حسین ایثار۔ آئیے ان سے گفتگو دوبارہ شروع کرتے ہیں۔ جی، ایثار صاحب۔ آپ اکثر اپنی تحاریر میں معاشرے میں پھیلی منافقت پر لکھتے ہیں۔ آپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ آپ کے طعن و تشنیع کا شکار اکثر منتخب لوگ ہی بنتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو آپ نے دائمی استثنی دیا ہوا ہے۔ جن میں لطافت حسین اور چودہری یونس الہی  و ہمنوا شامل ہیں۔ آپ کا کیا  کہتے ہیں اس بارے؟
لطافت حسین اور ان کی جماعت، اس ملک کے لیے امید کی آخری کرن ہیں۔ وہ ایسا لیڈر ہے جو عوام کو ایجوکیٹ کرتا ہے۔ کبھی آپ اس کے جلسے میں گئے ہوں تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ کیسے وہ  ایک دو تین کہتا ہے اور کروڑوں کا مجمع بالکل خاموش ہوجاتا ہے؟
۔۔۔بات کاٹتے ہوئے۔۔۔ جناب۔ یہ لیڈر کی بجائے پی ٹی ماسٹر کی نشانی ہوتی ہے۔
آپ عجیب بات کرتے ہیں۔ نہایت بے۔۔(ایک دم کچھ یاد آجاتا ہے) نہیں میرے بھائی، اس نے ڈسپلن سکھایا ہے عوام کو۔ اصلی مڈل کلاس قیادت ہے۔ اس نے سڑک چھاپ لوگوں کو اسمبلی کے ممبر بنادیا ہے۔ اس ملک میں وہی انقلاب لائے گا۔ جہاں تک ان کے خلاف قتل و غارت ، بھتہ خوری، منظم جرائم ، اغواء برائے تاوان کے الزامات کا تعلق ہے تو یہ سب پراپیگنڈہ ہے جو جماعتیے، ایجنسیوں کے ایماء پر  کرتے ہیں۔ کیونکہ لطافت حسین اٹھانوے فیصد عوام کا حقیقی لیڈر ہے اور جاگیر دار اس سے خوفزدہ ہیں۔ ایم بی ایم (میرا بھائی موومنٹ) سے زیادہ پر امن، صلح جو، راست باز، با عمل، صالح، عوام دوست، مہذب جماعت  اس کائنات میں نہ تو پہلے کبھی بنی ہے اور نہ آئندہ کبھی بن سکتی ہے۔  جہاں تک سوا ل ہے چودہری یونس الہی کا تو وہ  نئی نسل کے ان سیاستدانوں میں شامل ہیں جن کی شرافت، شائستگی، ایمانداری ، نجابت  کی قسم کھائی جاسکتی ہے۔  میں اللہ کی قسم کھا کرکہتا ہوں کہ ایسے اجلے دامن والا سیاستدان میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ (مگ اٹھا کر ایک لمبا سِپ لیتے ہیں)۔
آپ سیاستدانوں کی مالی لوٹ مار کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھاتے ہیں۔ لیکن آپ نے کئی ایکڑز پر مشتمل جو محل نما فارم ہاوس بنایا ہے اس کے بارے مختلف کہانیاں گردش میں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ منی لانڈرنگ  کے طور پر آپ نے اس فارم ہاوس کی ملکیت میں بہت سے پاٹے خاں قسم کے سیاستدانوں اور صحافیوں کو بھی شریک کیا ہے جس کی وجہ سے کوئی اس پر سوال اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتا۔ آپ کا کیا کہنا ہے اس پر۔
غلیظ ذہنیت والے لوگ اس کے علاوہ اور سوچ بھی کیا سکتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے میری آمدنی اتنی ہے کہ ان گھٹیا لوگوں کی گندی سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔ میرے ہفتہ وار کالم کا چیک ہی اگر آپ دیکھ لیں تو آپ کے ہوش ٹھکانے آجائیں۔ جبکہ۔۔۔
۔۔۔ بات کاٹتے ہوئے۔۔۔ پیسہ کمانا اہم نہیں ہے، کیسے کمایا جائے وہ اہم ہے۔ ورنہ  پیسے تو سنی لیون اور نرگس بھی بہت کماتی ہیں ایثار صاحب۔ اور میرے ہوش ٹھکانے پرہی رہتے ہیں کیونکہ میں کافی پیتا ہوں۔
نہیں نہیں۔۔ میرا مطلب  یہ نہیں تھا۔ بہرحال میں ایسے ایک تو کیا سو فارم ہاوس بنا سکتا ہوں۔ یہ میرا پیسہ ہے ، جو میرا دل چاہے وہ میں کروں گا۔ یہ مامے لگتے ہیں اس فارم ہاوس کے؟
یعنی آپ کو تو یہ حق ہے کہ کسی کے بارے میں کچھ بھی لکھ دیں لیکن کوئی آپ سے اگر یہ سوال کردے کہ یہ اتنا لمبا کُرتا کہاں سے آیا تو آپ اس کا جواب دینے کے مکلف نہیں۔ فئیر انف۔ آگے چلتے ہیں۔ آپ کی میڈیا فرم بارے کہا جاتا ہے کہ پچھلے دور حکومت میں اخبارات اور چینلز پر جو تشہیری مہمات  "پڑھا لکھا پنیاب" کے نام سے چلائی گئیں، اس میں آپ کا حصہ بہت زیادہ تھا۔ اگرچہ آپ اکنامکس کے ڈگری ہولڈر ہیں لیکن یہ ایڈورٹائزنگ کے بزنس میں کیسے آگئے؟ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ سب چودہری یونس الہی کی مہربانیاں تھیں؟
یہ سب حاسد، کمینے، تُھڑدلے، نیچ  لوگ ہیں۔ ساری زندگی اچھے لباس اور اچھے کھانے کو ترسنے والے ۔ میں نے زندگی میں جو کچھ بھی کیا وہ اپنے بل بوتے پر کیا۔ یہ سب میری محنت کا کرشمہ ہے ۔ میرا ٹیلنٹ، صلاحیت، ہنر ان حاسدوں سے ہزار گنا زیادہ ہے۔ میرا حق ہے کہ میں رنگ برنگی قمیصیں پہنوں اور رولیکس کی گھڑی باندھوں۔ یہ کسی کے باپ کا پیسہ نہیں ہے ۔ میری کمائی ہے۔ جو میرا۔۔
۔۔۔بات کاٹتے  ہوئے۔۔۔ جناب، اگر تشہیری مہم والی بات درست ہے تو یہ پیسہ واقعی عوام کے باپ کا پیسہ ہے۔ ان کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔ اس پر آپ عیاشی کیسے کرسکتے ہیں؟ آپ میں اور ان سیاستدانوں میں کیا فرق رہ گیا جن کے خلاف لکھ لکھ کے آپ نے بیس سال سے ہمارے کان کھالئے ہیں۔
وہ سارے پراجیکٹ میری فرم کو میرٹ پر ملے تھے۔ میں لعنت بھیجتا ہوں الزام لگانے والوں پر اور جلنے والے کا منہ کالا ہی  ہوتا ہے۔ گندے نالی کے کیڑے ہیں یہ سب ۔ گندگی پر بیٹھنے والی مکھیاں۔ آوارہ کُتوں کی طرح ہر شریف اور نجیب آدمی پر بھونکنا ان کی عادت ہے۔  میں ان کو غلاظت سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ اگر ان میں ہمت ہے تو میرے خلاف عدالت میں چلے جائیں۔ ان کا باپ بھی کچھ ثابت نہیں کرسکتا۔ کام ہی اتنا پکّا ہے۔ ان کی۔۔۔
ناظرین ، پروگرام کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے۔ اگرچہ ہماری بڑی خواہش تھی کہ حسین  ایثار کے ساتھ کچھ وقت اور گزارتے لیکن ہماری بدقسمتی اور ان کی خوش قسمتی کہ وقت ختم ہوگیا ہے۔ اپنا خیال رکھیے گا اور چوراہے سے سیدھے گزرجائیے گا، دائیں بائیں دیکھے بغیر۔ 

درد تے نئیں ہو رئی جی

معاملہ چونکہ ٹھنڈا پڑگیا ہے لہذا اب ہم اپنا لُچ تلتے ہیں۔
بورڈ پر لکھے ہوئے ڈاکٹر اور کپیٹن کے لفظ تو سمجھ میں آجاتے تھے لیکن بریکٹ میں لکھے  ریٹائرڈ کے معنی سے شناسائی نہ تھی۔ ڈاکٹر تو خیر اب اردو کا ہی لفظ سمجھا جاتا ہے لیکن کیپٹن کے لفظ سے شناسائی ، فوج سے جڑی مڈل کلاسی رومانویت کی وجہ سے تھی۔ سکول کے آخری ایّام تک جوبھی مستقبل بارے ہم سےدریافت کرتا کہ "آ پ بڑے ہوکر کیا بنیں گے؟" تو ہمارا ترنت جواب "فوجی" ہی ہوتا تھا۔   بدقسمتی سے (فوج کی ، ہماری نہیں) ہم "فوجی" نہ بن سکے۔ بہرحال یہ الگ قصّہ ہے۔  یہ ایک دو منزلہ مکان تھا جو ہماری پچھلی گلی میں عین ہمارے گھرکے پیچھے واقع تھا۔اس کی نچلی منزل پر لگے سائن بور ڈ سے پتہ چلتا تھا کہ یہ ایک کلینک ہے۔
بچپن سے نوجوانی اور پھر جوانی تک اس کلینک سے ہمارا واسطہ اکثر و بیشتر پڑ تا رہا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی ہم انسان تھے، لہذا بیمار وغیرہ ہوجایا کرتے تھے، خاص طور پر گرمیوں میں ہمارا گلا اکثر عاشق کا گلہ بن جاتا تھا، درد و رنج سے بھرا ہوا اور کام کرنے سے انکار کردیتا تھا۔ پانی تک گزرنے سے انکاری ہوجاتا تھا ، پس ہم ابّا کی انگلی پکڑے ، اسی کلینک میں جا براجمان ہوتے تھے۔ دو انجکشن تو تُرنت لگتے تھے، کمپاؤنڈر ریاض،  جو بعد میں ترقی کرکے خود بھی ڈاکٹر ہوگیا تھا،   انجکشن لگاتے ہوئے اپنے مخصوص تیز تیز بولنے والے انداز میں  چند فقرے ضرور دہرا یا کرتا تھا۔ جو کچھ یوں ہوتے تھے۔" درد تے نئیں ہورئی جی۔۔۔ درد ہووے دس دینا۔۔۔ پنج منٹ بیٹھے رہنا"۔ یہ جملے مسلسل  آٹھ دس سال سننے کے بعد جب ہم بڑے ہوئے تو ریاض کے انجکشن لگاتے ہی ہم خود ان فقروں کی گردان کرنے لگتے تھے، جس پر وہ قہقہہ لگاتا تھا اور کہتا تھا کہ  "حاجی صاب نوں شکیت لاواں گا  کہ ایہہ میریاں نقلاں لاءندا جے"۔
تمہید طُولانی ہوتی جارہی ہے۔اس لیے اصل قصّے کی طرف آتے ہیں جو ہم نے اپنے ابّا کی زبانی سُنا۔   ہمارے ابّا کے ایک کاروباری دوست کا بیٹا ڈاکٹر بننا چاہتا تھا   جبکہ وہ ایسا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نےابّا سے  ذکر کیا کہ "مُنڈا من دا نی پیا، کیہ کرئیے"۔ ابّو نے ڈاکٹر صاحب کے سامنے مسئلہ رکھا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس لڑکے سے مجھے ملوائیں۔ میں اس کے بعد ہی کچھ کہہ سکتا ہوں۔
 قصہ مختصر اس  ڈاکٹر بننے کے خواہشمند نوجوان کی ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ہمارے ابّا راوی ہیں کہ انہوں نے نوجوان سے صرف ایک سوال پوچھا کہ کیا تُم ساری زندگی، چوبیس گھنٹے، ایک دستک یا ایک فون کال پر اٹھنے  اور مریض کو اٹینڈ کرنے کے لیے تیار ہو؟ یہ نو سے پانچ والی جاب نہیں ہے۔ انہوں نے فیصلابادی "وِٹ" استعمال کرتے ہوئے ایک محاورے میں ترمیم بھی کی اور کہا کہ گاہک، موت اور مریض کا  کوئی پتہ نہیں کہ کب آجائے۔  اگر یہ سب کرنے کے لیے تم خود کو تیار پاتے ہو تو ڈاکٹر بن جاؤ۔ اگر تمہیں  آرام دہ اور دباؤ سے آزاد زندگی گزارنی ہے تو میڈیکل کالج کے پاس سے بھی گزرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد انہوں نے شادی کرلی۔ فوج کی لازمی ملازمت کے بعد انہوں نے یہاں اس نچلے متوسط طبقے کے محلے میں کلینک کھولا، سپیشلائزیشن کے لیے لاہور کے  کسی کالج میں داخلہ لیا۔ صبح فجر سے ایک گھنٹہ پہلے اٹھ کے وہ لاہور جاتے، اس دور میں لاہور، فیصل آباد کا یک طرفہ سفر تین گھنٹے پر محیط ہوا کرتا تھا۔  اپنی کلاسز اٹینڈ کرتے، وہاں سے واپس آکے شام کو اپنے کلینک پر بیٹھتے۔رات نوبجے کلینک بندکرنے کے بعد وہ  پڑھائی کرتے۔ بمشکل تین چار گھنٹے کی نیند کے بعد ایک اور پُرمشقت دن ان کا منتظر ہوتا۔ کلینک چونکہ نیا تھا لہذا پریکٹس بھی واجبی سی ہی تھی۔ مالی طور پر بھی وہ وقت ان کے لیے کافی تنگی کا تھا۔ لیکن جیسا کہ وقت کی فطرت ہے کہ کہ گذر جاتا ہے ، اچھا ہو یا بُرا۔ وہ وقت بھی گذر گیا۔
ہمارے ریٹائرڈ کیپٹن ڈاکٹر صاحب نے بہت محنت کی۔ بعد میں پیسہ بھی بہت کمایا۔ لیکن اس پیسے کو کمانے کے لیے انہوں نے  زندہ انسانوں کا خون نہیں چُوسا۔  ان کے کلینک میں آج بھی مریض کی حالت دیکھ کر فیس لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور اس بات کا ذکر بھی وہ کبھی کسی سے نہیں کرتے۔ رات کے کسی بھی پہر،  کوئی بھی ان کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا تھا اور ہر ممکن طبّی امداد حاصل کرسکتا تھا جس میں پہلے پیسے دینے کی کوئی شرط بھی شامل نہیں ہوتی تھی۔ میں نے اتنے طویل عرصے میں کبھی ان کی پیشانی پر شکن نہیں دیکھی اور نہ ہی کبھی ان کے چہرے کو بغیر مسکراہٹ کے دیکھا۔
 کہا جاتا ہے کہ فنکار پیدائشی ہوتے ہیں بنائے نہیں جاسکتے،  شاید ہوتے ہوں۔ لیکن طبیب یقینی طور پر پیدائشی ہوتے ہیں اور اگر انہیں زبردستی طبیب بنایا جائے تو جوہوتا ہے  وہ آپ جانتے ہوں گے۔  دولت کمانا  طبیب کے لیے حرام نہیں ہے؛ دولت کمانے کو مقصد بنانا کسی تاجر،  دکاندار، سمگلر، منشیات فروش، سیاستدان  کے لیے تو عین جائز ہوسکتا ہے لیکن طبیب؟
پتہ نہیں یہ سب  پرانی باتیں میرے ذہن میں کیوں آگئیں۔ میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آرہا۔ آپ کی سمجھ میں کچھ آیا؟
 درد تے نئیں ہو رئی جی؟

انتقام

کہنے کوتو طویل مُدّت گزر چکی ہے لیکن اُن دنوں کی تلخی کا احساس آج بھی اتنا ہی شدید ہے۔
شکیب جلالی نے کہا تھا۔۔
تھے حادثوں کے وار تو کاری، مگر مجھے
مرنے نہيں ديا خلشِ انتقام نے
شاعر تھا، شاید کسی کاری وار کو سہہ نہ سکا اور اپنے انتقام کی بھینٹ خود ہی چڑھ گیا۔ عام بندے کی کھال موٹی اور احساسات نسبتا کھردرے ہوتے ہیں چنانچہ بچت کا راستہ نکل آتا ہے۔ زندگی کی خوبصورتی (اور بدصورتی بھی) یہی ہے کہ کل کیا ہوگا، اس کا علم کبھی نہیں ہوپاتا۔ یکساں رفتار اور ہموار راستے پر دوڑتی گاڑی جب کسی حادثے کا شکار ہوجائے تو مسافر پر سب سے پہلا حملہ شاک کا ہوتا ہے۔ جسمانی زخم کی تکلیف تو بعد میں محسوس ہوتی ہے۔ روزانہ حادثوں کی خبریں پڑھنے اور سننے والے کبھی بھی یہ نہیں سوچتے  کہ وہ خود حادثے کا شکار ہوسکتے ہیں۔
ایسے ہی ایک حادثے کا شکار ہونے والوں میں ہم بھی شامل تھے۔ گدا سے شاہ ہو جانا تو ضرور پُرلطف چیز ہوتی ہوگی لیکن شاہ سے گدا ہوجانا نہایت اذیّت ناک عمل ہے۔ اتنا عرصہ گذر جانے کے باوجود بھی اس بارے کسی سے بات کرنا میرے لیے ممکن نہیں؛ مستقبل میں شاید کبھی ہوجائے۔ بہرحال، وہ اقوال زرّیں اور اخلاقی اسباق جودرسی ، مذہبی اور ادبی کتب میں رٹے اور پڑھے تھے ان کو حقیقی زندگی میں آزمانے کا موقع ملا۔ جان نچھاور کرنے کے دعوے کرنے والے، جان کے درپے ہوئے۔ جن کے لیے خون بہایاتھا، وہ پسینہ بہانے پربھی تیار نہ ہوئے۔ ہرقسم کے رشتوں کی پہچان ہوئی۔ تبھی پتہ چلا کہ سب سے پائیدار رشتہ، غم کا رشتہ ہوتا ہے۔ خون، دوستی، کاروبار، یہ سب رشتے انسانی جان کی طرح ہیں۔ ایک سانس کی مار۔
کسی بقراط کا کہنا ہے کہ زندگی میں ناکامی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، سبق ہوتے ہیں؛ جو سیکھ لئے جائیں تو ناکامی، کامیابی کی سیڑھی بن جاتی ہے۔
کچھ سبق مجھے بھی سیکھنے کو ملے۔کبھی بھی ناانصافی کے خلاف سمجھوتہ نہ کریں چاہے اس کے لیے آپ کو کچھ بھی برداشت کرنا پڑے۔ اگر انصاف کے لیے لڑنے اور حق چھین لینے کی طاقت نہ ہو تو بھی اپنے حق سے دستبردار کبھی نہ ہوں۔ انتقام بھی ایک حق ہے۔ اگر انتقام لینے کی طاقت نہ ہوتو اس طاقت کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کریں۔یہ جدوجہد طویل اور جسم و جاں کو نچوڑ دینے والی ہوسکتی ہے لیکن  یہ جدوجہد ہی زندگی ہے اور ایک دن ایسا آئے گا اور ضرور آئے گا جب آپ اپنا حق حاصل کرنے کی طاقت حاصل کرلیں گے۔ پھر آپ چاہیں تو انتقام لے لیں یا معاف کردیں۔
اور اصل معافی وہی ہوتی ہے جب آپ انتقام لینے کی طاقت اور قدرت رکھتے ہوں!۔ 

ٹوٹے

وہ ایک دبلا پتلا، پست قامت  شخص تھا۔ اس کے ہونٹ ،  عادی تمباکونوش ہونے کی گواہی دیتے تھے۔ ماتھا کافی وسیع و عریض تھا۔ بچے کچھے بال پیچھے کی طرف بنائے گئے تھے اور اس بناوٹ میں تیل کا وافر استعمال کیا گیا تھا۔جسم کی مناسبت سے سرکافی بڑا تھا۔ سلطان راہی کی کسی فلم میں اگر خلائی مخلوق کو دکھایا جاتا تو اس سے بہتر اداکار ملنا مشکل تھا۔   پہلی نظر میں اس کا تاثر  بیان کرنے کے کے لیے ، چلتا پُرزہ ایک مناسب ترکیب  لگتی تھی۔  اس  نے سگریٹ سلگا کر انگلیوں کے درمیان پھنسایااور  مُٹھّی بندکر کے ایک طویل کش لگایا اور اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ایک فربہ اندام شخص سے مخاطب ہوا۔  "شیخ صاحب، آپ شاداب کالونی کے مین چوک میں جا کر کسی بھی  دکان دار سے پوچھ لیں کہ محمد حسین حرام دا کہاں رہتا ہے، وہ آپ کو میرے گھرتک چھوڑ جائے گا"۔  یہ کہہ کر اس نے داد طلب انداز میں شیخ صاحب کی طرف  دیکھا اور مُٹھّی بند کرکےکش لگانے لگا۔
 ___________________________________________________________________________________________

"اچھا! پھر کیا ہوا"۔ 
"ہونا کیا تھا،  جب ہم میچ شروع ہونے سے پہلے گراونڈ میں اترے اور وارم اپ ہونے کے لیےگراؤنڈ کا  چکر لگایا تو دوسری طرف بیٹھے ہوئے شائقین میں  مجھے دو تین انگریز نظر آئے"۔ عتیق نے منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے اپنا بیان جاری رکھا ۔ " میں نے  ان کو  (ہاتھ سے ایک اشارہ کرتے ہوئے) کیا"۔ حماقت کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے پر خباثت بھی نظر آنے لگی تھی۔ "انگریزوں نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے پاس بلایا۔ میں ان کے پاس گیا تو ایک بڈھے سے انگریز نے پوچھا کہ وٹ یو ڈد ود یور ہینڈ؟ میں نے کہا کہ  اٹ مین ویلکم ویلکم۔ وہ بابا بڑا خوش ہوا اور مجھ سے میرا  اور سکول کا نام پوچھا اور یہ بھی پوچھا کہ تمہارا کوچ کون ہے اور کہاں بیٹھا ہے۔ میں نے نواز صاحب کی نشاندھی کی تو اس نے کہا کہ جب تم اپنے کوچ کے پاس جاؤ تو اسے ہماری طرف متوجہ کرنا"۔  عتیق کے جھاگوں بھرے جملوں سے اپنے منہ بچاتے ہوئے ،رنگیلے نے   اسے ٹہوکا دیا  کہ آگے بھی بک۔  عتیق نے رنگیلے کے رنگ کو اس کے آباؤ اجداد کی خوراک  کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اپنا بیان دوبارہ شروع کیا۔ " میں ، نواز صاحب کے پاس پہنچا اور انہیں کہا کہ وہ جو سامنے انگریز بیٹھے ہیں، وہ آپ کے بارے پوچھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اپنے کوچ کو ہماری طرف متوجہ کرنا۔ نواز صاحب نے دندیاں نکالیں اور  ان گوروں کی طرف دیکھ کے ہاتھ ہلایا۔ جوابا ان گوروں نے  وہی اشارے کرنے شروع کردئیے جو میں ان کو کررہا تھا۔ نواز صاحب  کی اچانک ایسی حالت ہوگئی  جیسے پی ٹی صاحب کو دیکھ کے ہماری ہوجاتی ہے۔  کہنے لگے، یہ حرامخور، بڑے ذلیل ہیں۔ بدتمیز ناں ہوں تو ۔ وڈے انگریز بنے پھردے نیں۔ٹغے دی کرتوت نئیں۔   مزے کی بات تو یہ کہ پورے میچ کے دوران جب بھی نواز صاحب کی نظر ان گوروں پر پڑتی تو وہ انہیں" ویلکم" کرنے لگتے  اور نواز صاحب انہیں خالص جٹکی گالیاں دینے لگتے"۔ عتیق ان گالیوں کو دہرا کر ان کے علم میں بے ہودہ اضافےکرنے لگا۔ان گالیوں کا مرکزی خیال،  ان گوروں کی خواتین سے اپنے ، اپنے خاندان کے مرحوم بزرگوں ، مویشیوں اور پالتو جانوروں  کے قائم کئے ہوئے تعلقات کی تفاصیل ،جزئیات  اور انکے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا بیان تھا۔

زہریہ ٹاؤن

میں دل شکستہ ہوچکا تھا۔  مایوسی میرے رگ و پے میں سرایت کرکے کانوں سے دھویں کی شکل میں نکل رہی تھی ۔ جس سے میری عینک کے شیشے بار بار دھندلا رہے تھے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ اپنی عینک دیوار پر دے ماروں لیکن پھر خیال آتا تھا کہ یہ بھی ٹوٹ گئی تو کھمبوں سے ٹکراتے ٹکراتے کیسے گھر پہنچوں گا۔ جونہی میں کمرے سے باہر نکلنے لگا تو اشرف قصائی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ اسے تھپتھپایا ۔ اور سرد لہجے میں یاددھانی کراتے ہوئے بولا ۔ "چوہدری صاحب، دس ہزار ہوچکے ہیں۔ اگلے ہفتے تک ادا ہوجانے چاہییں"۔
میرا جی چاہا کہ جھنگ روڈ پر جاکے این ایل سی کے ٹرالے کے سامنے کود جاؤں۔  مجھے پتہ تھا کہ اگلے ہفتے تک، دس تو کیا، میں ایک ہزا ر کا بھی بندوبست نہیں کرسکتا۔ تنخواہ ملنے میں ابھی بیس دن باقی تھے اور کوئی مجھے ادھار دینے کی غلطی نہیں کرسکتا تھا۔ مجھے اللہ دتّے کی وہ حالت یاد آگئی جو پچھلے مہینے اشرف قصائی کے بیٹوں کے ہاتھوں ہوئی تھی  اگرچہ وہ صرف پانچ سو کا ہی مقروض تھا۔ انہی سوچوں میں غلطاں میں جوئے کے اڈّے سے باہر نکلا ۔ ابھی دس قدم چلا ہوں گا کہ گلی کی نیم تاریکی سے ایک سایہ نمودار ہوا۔ یہ ملک نیاز تھے!۔
انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے تاریکی میں پارک کیے ہوئے 70 ماڈل ویسپے کے پاس لے آئے۔ کک مار کر اسے سٹارٹ کیا اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں بادل نخواستہ پچھلی سیٹ پر براجمان ہوگیا۔ ملک صاحب ، مہارت سے ویسپا ڈرائیو کرتے ہوئے منڈی کوارٹر کی طرف رواں دواں ہوگئے۔  منڈی کوارٹر کے ایک خستہ حال مکان کے سامنے جا کر انہوں نے ویسپا روکا۔ مجھے اترنے کا اشارہ کیا اور ویسپے کو سٹینڈ پر لگا کر مخصوص انداز میں دروازے پر تین بار دستک دی۔ (پینی۔۔۔پینی۔۔۔ پینی۔۔۔)٭۔ دروازہ ایک درمیانی عمر کی پختہ کار عورت نے کھولا  اور ہماری طرف دیکھ کر خوف صورت انداز میں مسکرائی۔ ملک صاحب میرا ہاتھ پکڑ کر جلدی سے اندر گھس گئے۔ مکان نیم تاریک اور پراسرار سا تھا۔ ملک صاحب نے مجھے بیٹھک میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اندرونی کمرے میں گھس گئے۔ بیٹھک میں دو کرسیاں ، ایک میز جس کا ایک پایہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اینیٹیں بھی نہیں رکھی گئی تھیں، اور ایک جھلنگا سی چارپائی تھی جس پر ایک میلا سا گدّا بچھا ہوا تھا۔ دس منٹ کے بعد ملک صاحب تشریف لائے۔ ان کے چہرے پر "نور" معمول سے کچھ زیادہ تھا۔ انہوں نے چارپائی پر نیم دراز ہوتے ہوئے سگریٹ سلگایاتو چرس کی مسحورکن خوشبو پوری بیٹھک میں پھیل گئی ۔ دو کش لگا کر انہوں نے مجھے واری لگانے کی دعوت دی جو میں نے شکریے کے ساتھ قبول کرلی۔ سگریٹ ختم ہونے کے بعد، ملک صاحب نے کھنگورا مار کر گلا صاف کیا اور یوں مخاطب ہوئے۔
"دیکھ باؤ چوہدری!۔ تو حیران ہورہاہوگا کہ میں تجھے یہاں کیوں لے کر آیاہوں۔  بات یہ ہے جگر ، کہ مجھے تیرے حالات کا پتہ چلا ہے کہ تو کافی قلّت زر کا شکار ہے اور اشرف قصائی ، آئی ایم ایف بن کر تیرا خون چوسنے کا پروگرام بنا رہا ہے اور اپنے بیٹوں کو نیٹو کی طرح تیری طبیعت صاف کرنے پر لگانے والا ہے ۔دیکھ باؤ، میں تجھے بہت پسند کرتا ہوں۔ تو ایک حق کا پرچارک اور راست گو لکھنے والا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ سر بازار تیری پھینٹی لگے اور لوگوں کو پتہ چلے کہ تو جواء کھیلتا ہے اور اتنا برا کھیلتا ہے کہ ہمیشہ ہارجاتا ہے"۔ ملک صاحب دم لینے کو ایک لحظہ کے لیے رکے اور مجھے پہلو بدلتے دیکھ کر میسنے انداز میں زیر مونچھ مسکرائے اور دوبارہ سلسلہ کلام جوڑا۔ "ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ رزق کا وعدہ تو رب نے کیا ہے لیکن جوئے، شراب اور عیاشی کا نہیں۔ لہذا یہ سب چیزیں چاہییں تو مجھ سے تعاون کر۔ تجھے جو چاہیے وہ ملے گا"۔ ملک صاحب نے بات ختم کرکے لوفرانہ انداز میں مجھے آنکھ ماری  اور نیا سگریٹ سلگانے لگے۔
میں نے  نروس انداز میں ملک صاحب کی طرف دیکھا۔ عینک اتار کر اس کے شیشوں پر پھونک ماری، قمیص کے دامن سے انہیں صاف کیا اور دوبارہ ناک پر ٹکا کر ملک صاحب سے استفسار کیا۔ "سو وٹ ایگزیکٹلی یو وانٹ می ٹو ڈُو، دین؟"۔ ملک صاحب نےایک طویل  قہقہہ لگایا۔ میز پر پڑے گندے سے جگ سے منہ لگا کر پانی پیا اور مجھے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے، " ڈر مت باؤ، تجھے صرف میرے حق میں خبریں لگانی ہیں۔  جس میں بتایا گیا ہو کہ میں کتنا بڑا سماجی کارکن ہوں اور غریب غرباء کا کتنا درد میرے اس متاثرہ جگر میں ہے۔ تجھے تو پتہ ہے کہ دنیا کتنی حاسد ہے۔ ایک سجن تو سو دشمن ۔ بس تو مجھے ایک دیالو، ان داتا اور لکھ لُٹ امیج دے، میں تیرے قرضے، خرچے، جوئے، سب اٹھالوں گا۔ تو ابھی ملک نیاز کو جانتا نہیں ہے۔ کسی اشرف قصائی جیسے کن ٹُٹّے کی جرات نہیں ہوگی کہ تیری ہوا وَل وی تَک جائے۔ آہو۔"
میں اٹھا، ملک صاحب کے گھٹنوں کو چھوا  ۔ اور الٹے قدموں سے چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا۔
میری دنیا بدل چکی تھی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭"بگ بینگ تھیوری" کے ڈاکٹر شیلڈن کوپر کی سوغات

حاصل گھاٹ سے اقتباسات

امریکہ پہنچ کر کسی نووارد نے پڑتا لگایا کہ کسی ملک میں نوشہری ہونے کے معنی یہ ہیں کہ زیادہ سوال نہ پوچھے جائیں ورنہ لوگ آپ کو انجان سمجھ کر کمتر جانیں گے۔ لوگوں کو اشیاء کی طرح سمجھیں، استعمال کریں اور پھر آزاد چھوڑ دیں۔ اپنے آبائی وطن کو پہلی بیوی کی مانند کہیں اندر سینت کر رکھیں لیکن اس کی خوبیوں خرابیوں کا قطعا ذکر نہ کریں۔ پتہ نہیں سننے والے پر اس ذکر کا کیا اثر ہو۔۔۔۔۔ ایک ہی شخص کو دو مرتبہ دھوکا نہ دیں۔ آپ کے وطن کی شہرت کا سوال ہے ۔۔۔۔۔ پس ماندہ ترقی پذیر ملکوں کے نادار لوگوں کی مدد کرنے والے اداروں کو چندہ نہ دیں۔نہ جانے ان کے پیچھے سیاسی گٹھ جوڑ کیا ہو۔۔۔۔ ہمیشہ ایسی تحریکوں میں شامل ہوں جو گلہریوں، Flamingoes اور Skunks کے لیے پریشان ہیں۔ وائلڈ لائف میں دلچسپی لینے سے انسان زیادہ کلچرڈ، لبرل اور انسان دوست شمار ہوتا ہے۔
______________________________________________________________________
پینڈو، روزی کی خاطر شہر کا رخ کرے تو وہ اپنی ذہانت ساتھ لاتا ہے، لیکن شہر میں آتے ہی اسے احساس کمتری ہونے لگتا ہے۔ سب سے پہلے تو اسے وہ زبان ششدر کرتی ہے جس کا ماخذ کتابیں، ابلاغ کے جملہ وسائل اور مارکیٹ جنم دیتے ہیں۔۔۔۔۔ لباس تو وہ جلد ترک کردیتا ہے لیکن زبان سیکھنے کے لیے اسے کچھ مدت درکار ہوتی ہے، لیکن جسے پینڈو سمجھ کر شہری لوگ برخاست کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنے تروتازہ دماغ کے باعث تجربے سے سیکھی ہوئی فہم و فراست کے باعث بہت جلد شہری کے سامنے سیڑھیاں چڑھنے لگتا ہے۔ اسے آداب محفل سیکھنے میں دیر لگتی ہے کیونکہ یہ وہ پانی نہیں جن میں اس نے تیرنا سیکھا لیکن مجلسوں میں زندہ دلی، پینڈو ہی کے دم قدم سے ہوتی ہے۔ شہری انہیں ان پڑھ سمجھتے ہیں لیکن پھر اسی کی گھڑت کے ٹوٹم اور Taboos شہری معاشرے میں لہو کی طرح دوڑنے پھرنے لگتے ہیں۔ دیہاتی کی ترقی شہر میں اور بھی تیز ہوتی ہے جب یہ تعلیم کی سان پر چڑھے الفاظ کا جنتر منتر سمجھ پائے اور گفتگو کے اتار چڑھاؤ میں دیہاتی تجربے سمونے لگے تو شہری اس کا مقابلہ نہیں کرپاتے۔
______________________________________________________________________
امریکہ میں لوگ ڈالر نہیں بچاتے، وقت بچاتے ہیں۔ پھر جب وقت کا صحیح مصرف ہونے لگتا ہے تو ڈالر خود ہی پس انداز ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح ایک خاص قسم کی Frustration جنم لیتی ہے۔ مایاداس پر دولت کا بوجھ خودبخود بڑھتا ہے۔ دولت اپنی مشغولیات خود بڑھاتی ہے۔ محل نما گھر، ان گھروں کے انتظامات، بیرونی ممالک کے سفر، Designer کپڑوں او رجوتوں کی تلاش، دولت کی بناء پر شہرت کی ہوس۔۔۔۔ پارٹیاں، پی آر، پرسنیلٹی پرابلمز، نفسیاتی بیماریوں کا لاینحل سلسلہ جاری ہوجاتا ہے۔ جب ڈالر بچنے لگتے ہیں تو پھر ایک اور قسم کا Stress شروع ہوجاتا ہے۔ دراصل یہاں انسان پوری کوشش کرتا ہے کہ وہ ذہنی دباؤ سے نکلے۔ طمانیت قلب، سکون اور شانتی ملے۔ ۔۔۔ لیکن شاید معیشت اور معاشیات کو یہ کچھ درکار نہیں۔ زندگی کا اصل راز اسی  Stress میں ہے ۔۔۔ یہ اور بات ہے کہ فلاح کے راستے پر چلنے والے دباؤ کی گھڑی سر سے اتار کر ملکوتی مسکراہٹ کے ساتھ گردوپیش میں ٹھنڈی چاندنی کی طرح پھرتے ہیں۔ نہ جہاں سوزی کا باعث بنتے ہیں نہ خود سوزی کا۔۔۔ لیکن اس سکون کے نسخے کا Patent  وہ ایسی جگہ کراتے ہیں، جہاں سے نبیوں کا نسخہ سکون میسر آتا ہے اور اسے کسی اور زبان میں لکھا جاتا ہے۔
                                                                                                                                                     بانو قدسیہ/حاصل گھاٹ

تریموں ہیڈ کا کوبرا

ایسا نہیں ہے کہ ہم استاد خالد کوبھول چکے ہوں اور اپنا وعدہ فراموش کردیاہو لیکن مسئلہ کچھ اور ہے۔ سال کے سال ہمیں واپس فیصل آباد جانا ہوتا ہے اور اگرچہ اس کا امکان ون ان آ ملین ہے کہ استاد کی نظر ہمارے بلاگ پر پڑجائے، لیکن پرہیز علاج سے بہرحال بہتر ہے کہ استاد کا ہاتھ کسی ہتھوڑے سے کم نہیں ہے۔ پورے گلبرگ، گلشن کالونی، محمدپورے وغیرہ کے گھروں میں لوہے کے دروازے، کھڑکیاں اور ریلنگ وغیرہ استاد کے مبارک ہاتھوں سے ہی پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں اور اس عمل کے دوران ان کے ہاتھ "آہنی ہاتھ" بن چکے ہیں۔ اور یہ قانون کے آہنی ہاتھ بھی نہیں کہ ان کو ہر با رسوخ آدمی گرم بھٹّی کی طرح لگے۔
بہرحال ہم "تُزک استاد پونکوی" سے آپ کے لیے ایک سبق آموز واقعہ ضرور پیش کریں گے۔ چاہے اس میں ہمار ےہاتھ ہی کیوں نہ قلم اور منہ بلم ہوجائے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان چکے ہیں کہ استاد کو مچھلی کے شکار کا ہوکا تھا۔ اور بقول ان کے کائنات میں ان سے بڑا مچھلی کا شکاری نہ کبھی پیدا ہوا اور نہ ہی وہ پیدا ہونے دیں گے۔اس بات کا مطلب نہ توہمیں اس وقت سمجھ آتا تھا اور نہ ہی  اب آتا ہے جبکہ ہم قابل شرم حد تک لفنگے اور واہیات بھی ہوچکےہیں۔
گرمیوں کی ایک "خوشگوار دوپہر" کو ہم اپنے لنگوٹیے کے ساتھ استاد کی دکان کے باہر رکھے تاریخی پھٹّے پر براجمان تھے اور استاد منہ میں کے ٹو کا سگریٹ دبائے دبادب ہتھوڑے کو لوہے پر بجا رہے تھے۔ اس سے تنگ آکر ہم نے اپنے شریک ناکار کو آنکھ ماری اور استاد سے مخاطب ہوکر کہا کہ "استاجی، وہ ہیڈ تریموں والا کیا قصہ تھا؟" استاد ہوراں ایک دم گردن موڑ کر ہماری جانب گھورا۔ ہتھوڑا پھینکا۔ ڈبی سے نیا سگریٹ سلگا کر سٹول کھینچا اور ہمارے قریب آبیٹھے۔ چھوٹے کو ڈیک کی آواز آہستہ کرنے اور چائے لانے کا آرڈر دیا اور مخصوص سسکاری سی بھر کر چھ سو ستانوے دفعہ کا سنایا ہوا قصہ، اس جوش و خروش سے سنانا شروع کیا جیسے پہلی دفعہ ہی ہو۔
"میں، حیدر گنجا، دینا کلفیاں والا، چھیدا اور مولوی رفیق، ہم پانچ مُنڈے تھے"۔ استاد نے گہرا کش لے کر ناک سے دھواں خارج کیا۔ سڑک کے پار خلیل بیکری والے کو بآواز بلند گالی دی اور جوابی گالی سن کر زیرلب تبسم کیا۔ اور دوبارہ کہانی شروع کی۔ "سردی بہت تھی۔ ہم شام کو وہاں پہنچے اور ٹینٹ وغیرہ لگاتے رات ہوچکی تھی۔ ڈوریاں پانی میں ڈال کر ہم نے کھانا کھایا اور تاش کھیلنی شروع کردی۔ گیارہ بجے تک سب سونے کے لیے لیٹ چکے تھے۔ میں نے ان کو کہا بھی کہ ڈوریاں تمہارے باپ نے تازہ کرنی ہیں۔ لیکن سب کے سب ہی کمینے اور ۔۔۔۔ تھے۔ میں نے جا کر ڈوریاں چیک کیں اور انہیں تازہ کیا اور اپنے ٹینٹ میں آکر لیٹ کر ڈائجسٹ پڑھنے لگا۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد میں دوبارہ ڈوریاں چیک کرنے کے لیے ٹینٹ سے باہر آیا ہی تھا کہ"۔
استاد نے ایک ڈرامائی وقفہ لیا، مخصوص سسکاری بھری اور سلسلہ یوں جوڑا۔
"میرے سامنے پانچ چھ فٹ کی دوری پر ایک کوبرا ناگ پھن پھیلائے شُوکریں مار رہا تھا۔ میں نے دل میں کہا کہ  لے بئی خالد، اج تو نئیں یا فیر ایہہ نئیں۔ وہ ناگ کم از کم بیس فٹ لمبا تھا اور کنڈلی مار کے اس کی تقریبا تین منزلیں بن گئی تھیں۔"
یعنی تین منزلہ ناگ، استاجی؟ میں نے دخل در معقولات کیا۔ استاد نے میری طرف گھورا۔ اسی اثناء میں دوسرا کمینہ بولا کہ استاجی اتنا لمباسانپ ہوتا ہی نہیں، اژدھا ہوتا ہے۔ استاد نے سگریٹ کی راکھ جھاڑی اور اسے مخاطب کر کے کہا کہ تینوں میرے ۔۔۔ دا پتہ؟ چپ کرکے سن۔ میں نے اسے کہنی ماری۔ اس نے جوابا ٹھڈا مارا۔ لہذا ہماری بے اختیار ہنسی جو ابلنے کو آئی تھی اسے تکلیف نے دبا لیا۔ استاد نے دوبارہ سلسلہ جوڑتے ہوئے کہا۔ "میں بالکل ساکت ہوگیا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ میں نے ذرا سی بھی حرکت کی تو اس نےحملہ کردینا ہے اور اس کا ڈسا پانی نہیں مانگتا"۔ چائے مانگتا ہوگا شاید۔ ہم نے لقمہ دیا۔  استاد نے اس واہیاتی کو اگنورا اور کہانی جاری رکھتے ہوئے کہا۔
" تمہیں شاید پتہ نہ ہو کہ کوبرے ناگ کی آنکھوں میں ایسی کشش ہوتی ہے کہ وہ بندے کو ہپناٹائز کردیتی ہے۔ لیکن میں اس کی آنکھوں کی بجائے ، آنکھوں کے درمیان میں دیکھنے لگا تھاورنہ میرے والا کام ہوجانا تھا۔ میرے بائیں ہاتھ میں شکار والی ڈوری تھی جس کے ساتھ مچھلی پکڑنے والا کانٹا لگا ہوا تھا۔ میں نے آہستہ آہستہ ڈوری کو دائرے میں گھمانا شروع کیا"۔ پر استاجی، آپ تو کہہ رہے تھے حرکت کرنے پر کوبرا، حملہ کردیتاہے؟۔ میں نے پھر آبجیکشن می لارڈ کی صدا بلند کی۔ " تجھے منہ کی بواسیر ہے"۔ استاد نے گھورتے ہوئے میری بیماری کی تشخیص کی، فلٹر تک پہنچتے ہوئے سگریٹ کو زمین پر پھینکا اور اسے پاؤں سے ایسے مسلا جیسے میری گردن ہو۔ "چپ کرکے سن۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں نے ڈوری کو تیزی سے گھماتے ہوئے سوچا کہ یہ زندگی موت کا کھیل ہے خالد۔ تیری ایک غلطی تجھے نیلا کرسکتی ہے۔ اللہ کانام لے کر میں نے ڈوری کو کوبرے کی طرف پھینکا"۔ استاد نے پھر وقفہ کرکے ڈبی سے سگریٹ نکالا، سلگایا، کش لگایا۔ دوسرا کمینہ بولا کہ استاجی، کانوں سے دھواں نکال کے دکھائیں۔ استاد نے جواب دیا،  "پھر تو کہے گا کہ اب ۔۔۔ میں سے دھواں نکال کے دکھا۔ بکواس بند کر اور آگے سن۔ ڈوری کو کوبرے تک پہنچنے میں سیکنڈ کا ہزاروں حصہ لگا ہوگا کیونکہ میں نے پھینکی ہی اتنی رفتار سے تھی، کانٹا سیدھا جا کے کوبرے کے حلق میں پیوست ہوگیا اور اس کی زہر کی تھیلی پنکچر کردی اور اس کا سارا زہر بہہ گیا"۔
استاجی،  سانپ کا زہر تو اس کے دانتوں میں نہیں ہوتا؟ میں نے پھر سوال داغا۔ "اوئے کھوتے، وہ عام سانپ کا ہوتا ہے، کوبرے کا زہر اس کے حلق میں ہی ہوتا ہے"۔ استاد نے اپنے علم دریاؤ سے ہمارے بنجر ذہن سیراب کرتے ہوئے کہا۔ اور دوبارہ گویا ہوئے۔ "اب مجھے اطمینان ہوگیا کہ یہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ پھر میں نے اس کو گچّی سے پکڑا اور اس کی گردن میں رسی ڈال کر اسے قریبی درخت سے باندھ دیا۔ شکار سے واپس آتے ہوئے میں نے کوبرے کو دوبارہ کھول دیا تاکہ وہ واپس چلاجائے"۔
استاجی، اس کو مارا کیوں نہیں؟۔
 " اوئے کم عقلا، اس کو ماردیتا تو اس کی ناگن نے ہمیں چھوڑنا تھا بھلا؟
 ناگن فلم نئیں دیکھی تو نے؟ "

خالدہ؛ کوئی نئیں تیرے نال دا!۔


چند ماہ قبل جب ہم وطن مالوف کے سالانہ دورے پر تھے تو ہمیں چند ٹی وی ڈرامے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہرچند کہ ہمارا ارادہ ہرگز ایسا کوئی کام کرنے کا نہیں تھا لیکن تدبیر کند بندہ، تقدیر کند خندہ۔ سب سے پہلے تو ہم ان ڈراموں کے عنوانات سے نہایت متاثر ہوئے؛ مثال کے طور پر "خالدہ کی والدہ"، "نزاکت علی کی بچیاں" وغیرہ۔ یادداشت کمزور ہوجانے کے باعث شاید ناموں میں کچھ گڑ بڑ ہو لیکن مفہوم تقریبا یہی تھا۔ ایک اور قابل تعریف بات جو ہم نے نوٹ کی، وہ ہر ڈرامے میں ایک جیسے واقعات، حادثات،  رومانویات، بکواسیات وغیرہ کا ہونا تھا، ہماری رائے میں ڈرامہ پروڈیوسرز اپنے ناظرین کو کسی بھی قسم کی ذہنی کوفت سے بچانے کے لیے یہ سب کرتے ہیں تاکہ کسی بھی ڈرامے کو کہیں سے بھی دیکھنا شروع کریں تو ایسا لگتا ہے کہ ۔۔ یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے ۔۔
ہماری بدبختی کہہ لیں کہ ڈراموں کے نام پر ہم نے جو کچھ دیکھ رکھا ہے اس میں اور کچھ ہو نہ ہو، کہانی نام کی ایک چیز ضرور ہوتی تھی۔ اور کہانی میں خرابی یہ ہوتی ہے کہ شروع ہونے کے بعد اس کو ختم بھی ہونا ہوتا ہے۔ جبکہ ان ڈراموں میں ایسا کوئی تکلف سرے سے برتا ہی نہیں جاتا۔ ان کی خاصیت ہے کہ یہ کہیں سے بھی شروع ہوسکتے ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوتے۔
 کھانے کی تراکیب والے پروگرامز، جن میں مختلف عمر کے خواتین و حضرات جناتی قسم کے کھانوں کی تراکیب رٹانے کی سرتوڑ کوششیں کرتے ہیں،  اسی طرح ہر نسل اور کَو نسل   ڈرامے بنانے کی ایک  ہر فن مولا قسم کی  ترکیب ہم آ پ کے گوش گذار کرنا چاہتے ہیں ۔بیان کردہ  سارے اجزاء مناسب مقدار میں ڈالیں اور ایک سپر ہٹ ڈرامہ تیار۔ ان اجزاء میں سب سے اہم جز، کسی نہ کسی دوشیزہ ، چار شیزہ   ڈائجسٹ  وغیرہ کی مشہور مصنفین ہیں جن میں سے کسی ایک  کا نام بطورڈرامہ نویس، ضرور ی ہے ۔ اس کے بعد تین چار ہاٹ ماڈلز، شبیر جان، عدنان صدیقی، اسد، فیصل قریشی وغیرہ میں سے جو میسر ہو۔ بشری انصاری، عتیقہ اوڈھو (وائن فیم اور ہمارے لڑکپن کا کرش) وغیرہ میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی، ڈرامے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ دبئی، ملائشیا، سنگاپور، برطانیہ، آئر لینڈ ، سکاٹ لینڈ وغیرہ کی لوکیشنز، بجٹ کے حساب سے جو سوٹ کرے۔ ان سارے اجزاء کو ایک فینسی ڈریس شو قسم کے پروگرام میں ڈال کر اچھی طرح ہلالیں، ساس بہو کا رنڈی رونا بھی مناسب مقدار میں ڈال لیں۔ دوسری عورت اور "مجھے سچی محبت نہیں ملی" وغیرہ بھی حسب ذائقہ شامل کرلیں۔ ڈرامے کے ٹریلرز اور پوسٹرز بناتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ہیروئنز کے سائڈ پوز کو ایکسپوز کیا جائے اور یہ پوز صرف چہرے کا نہیں ہونا چاہیے!۔ اور ہاں سب سے اہم چیز، ڈرامے کا تھیم سانگ ہے۔ فراز جیسے کسی ٹین ایج شاعر کی کوئی "چیزی" سی غزل، راحت فتح علی یا سجاد علی سے انتہائی غمگین لے میں گوائیں اور ڈرامے کے ہر ٹریلر میں ناظرین کو پوری سنوائیں۔
جہاں تک ڈرامے کے نام کا تعلق ہے تو ہم نے کچھ نام سوچ رکھے  ہیں۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف۔
رفیق نوں پے گئی نویں  پھٹیک۔ سسرال میں دھمال۔ نذیر کی نور نظر۔ کم ظرف بشیراں۔ ہم دل والوں کو بہت کچھ ہوتا ہے صنم۔ دل پر پڑی چماٹ۔ حسینہ کا مہینہ اور لاسٹ بٹ ناٹ لیسٹ۔۔۔
خالدہ؛ کوئی نئیں تیرے نال دا! ۔

کُکّڑ، بانگ اور گڈ مارننگ


اس نے کرسی پر پہلو بدلا۔ پتلون کی جیب سے پان پراگ  کا پیکٹ برآمد کیا۔ اسے دانتوں سے کھول کر ہتھیلی پر انڈیلا اور ایک جھٹکے سے  پھکّا مار لیا۔  پان پراگ کے اجزاء کو منہ میں ایڈجسٹ کرنے کے بعد اس نے کرسی کی پشت پر سر ٹکایا ایک گہرا سانس لیا اور یوں مخاطب ہوا۔ "ہمیں ہمیشہ تعصّب ، ظلم ، ناانصافی اور تشدّد کا نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے آباؤ اجداد اس ملک کے بانی تھے۔ اس کے باجود ہمیں یہاں دوسرے درجے کا شہری سمجھا گیا۔ ہم اپنے بسے بسائے گھر اور جمے جمائے کاروبار چھوڑ کر یہاں آئے۔ لیکن ہمیں اس قربانی کی کوئی صلہ نہیں ملا۔ ہم نے اس قصبہ نما شہر کو نئے ملک کی معاشی حب بنادیا لیکن اس کے باوجود ہمیں  اس کا کریڈٹ نہیں دیا جاتا۔ یہ شہر پورے ملک کا 70 فیصد ریونیو اکٹھا کرکے دیتا ہے لیکن ہمیں ہمارے جائز حصے سے ہمیشہ محروم رکھا گیا۔ مرے پہ سو دُرّے ہماری محنت سے جب یہ شہر اس مقام پر پہنچ گیا تو پورے ملک سے لوگ اس پکی پکائی پر پہنچ گئے اور ہماری محنت کے پھل میں اپنا حصہ جتانےلگے۔ کیا ہم نے اس شہر کو اس لیے اپنا خون پسینہ دیا تھا کہ کوئی اور اس کا فائدہ اٹھائے؟  جس کو دیکھو، منہ اٹھائے یہاں گھسا چلا آتا ہے،  ہم اس ظلم اور ناانصافی کو اور برداشت نہیں کرسکتے۔ یہ تعصّب کا رویّہ جو ہم سے روا رکھا جاتا ہے اب ختم ہونا چاہیے اور ہمیں ہماری شناخت اور حق ملنا چاہیے"۔   میرے اس دوست نے یہاں رک کر پان پراگ کے ملغوبے کا ایک گھونٹ بھرا اور منہ میں باقی ماندہ کی پوزیشن بدلی اور چائے ، جو اسی اثنا میں آچکی تھی، کا کپ اٹھا کر ایک گھونٹ بھرا اور میری طرف شکایتی اور جوابیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
میں نے میز  پر رکھی پلیٹ سے گلاب جامن اٹھا کر منہ میں رکھی ، نمکو کی پلیٹ سے ایک مُٹّھی بھری اور کرسی پر پہلو بدل کر اپنے دوست کی طرف متوجہ ہو کر یوں مخاطب ہوا۔ " میں تمہاری شکایتیں اور ہر وقت کے رونے سن سن کے تنگ آگیا ہوں۔ پاکستان کے سب سے بڑے اور ترقی یافتہ شہر میں رہنے کے باوجود تم خود کو مظلوم اور بے بس اور پتہ نہیں کیا کیا سمجھتے ہو تو یہ تمہارے دماغ کی کوئی چُول ڈھیلی ہونے کاثبوت ہے۔ کراچی کے شہریوں کو جو سہولتیں میسر ہیں وہ پاکستان کی 70 فیصد آبادی کے خواب و خیال سے بھی باہر ہیں۔ جہاں تک پاکستان بنانے والوں کی اولاد ہونے کا تعلق ہے تو یقینا پاکستان کی تحریک کا زور یوپی میں بہت زیادہ تھا۔ لیکن یہ امر بھی ملحوظ خاطر رکھو کہ کراچی میں 70کی دہائی تک لوگ ہندوستان سے آکے آباد ہوتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ پاکستان سے محبت یا اسلام کے قلعے کو مضبوط کرنا نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ پاکستان اور کراچی میں روشن مستقبل تھا جو انہیں ہندوستان میں نظر نہیں آتا تھا۔ جہاں تک گھر اور چلتے کاروبار چھوڑ کے آنے کا تعلق ہے تو یوپی والوں کو کسی نے مجبور نہیں کیا تھا جیسے مشرقی پنجاب میں سب کو مجبورا ہجرت کرنا پڑی تھی ورنہ جان اور عزت کا کوئی ضامن نہیں تھا۔ کیاتم نے کبھی سنا کہ کسی لاہوری  مہاجر نے اپنے کسی بیٹے کی شادی لدھیانہ میں مقیم کسی مسلمان خاندان میں کی ہو؟ نہیں سنا ہوگا کیونکہ وہاں کوئی مسلمان باقی ہی نہیں رہا تھا۔ اور کراچی میں آج تک دلہنیں ہندوستان بیاہ کر جاتی ہیں اور وہاں سے یہاں آتی ہیں۔  اور جہاں تک معاشی حب اور کراچی کو یہاں تک پہنچانے کی بات ہے تو میاں صاحبزادے، اس پر تو میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ  ایک کُکّڑ جینوئنلی یہ سمجھتا تھا کہ جب تک وہ بانگ نہیں دے گا تو سورج نہیں نکلے گا اور گڈ مارننگ نہیں ہوگی۔ اس کُکّڑذہنیت سے نکلو  پیارے بھائی۔ خود کو برتر ثابت کرنے کےلیے کسی کو کمتر سمجھنا، احساس کمتری کی بدترین شکل ہوتی ہے۔ اور اگر 47 سے70 تک لوگوں کاکسی اور ملک سے آکر کراچی میں آباد ہونا جائز تھا تو آج اسی ملک کے باشندے کراچی میں غیر مقامی کیسے ہوگئے؟ یہی سوچ اگر 47 سے پہلے کے مقامیوں کی ہوتی تو سوچیے کہ آج آپ کہاں ہوتے؟"