زوجہ، کاکروچ اور چھپکلی

آپ عورتوں کو دیکھ لیں۔ یہ ضروری ہوتی ہیں۔ یہ اگر نکاح میں نہ ہوں تو ہر وقت اچھی لگتی ہیں۔ یہ نکاح میں آجائیں تو ہفتے میں ایک دو دن  ہی اچھی لگتی ہیں۔  ان کی باتیں ماننی پڑتی ہیں۔ ورنہ یہ آپ کی "بات" نہیں مانتیں۔ جس سے المیے جنم لیتے ہیں۔ لہذا میں جب بھی اپنی بیوی کی بات کو اگنور کرنے کا سوچتا ہوں۔ اس کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالنے کا ارادہ کرتا ہوں۔ میرے سامنے ویک اینڈ نائٹ آجاتی ہے۔ میں ڈر جاتا ہوں۔ میری گھگھّی بندھ جاتی ہے۔ میں اچھا بچہ بن کے فورا ایسے فاسد خیالات سے جان چھڑ ا لیتا ہوں۔ اور جیسا مجھے کرنے کا حکم دیا جاتا ہے  بعینہ ویسا کرنےکی کوشش کرتا ہوں۔
یہ پرسوں کی بات ہے۔ ناشتے کی میز پر ہماری زوجہ نے ہمیں حکم دیا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر اگر کاکروچ اور چھپکلیوں کے مسئلے کا حل نہ نکلا تو تو سوچ لو کہ اس ہفتے میں دو  چھٹیاں ہیں۔ خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ میری شوگر لو ہوگئی۔ میں نے پلیٹ سے ایک سلائس اٹھایا اس پر مکھن لگایا۔ اس کی ایک بائٹ لی۔ چائے کا ایک گھونٹ بھرا اور مسکرا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور کہا۔ کہ آپ فکر نہ کریں ، ڈونٹ وری۔ آئی ول سارٹ دس آوٹ۔ میں آفس پہنچا میں نے اپنی ساری ریسرچ ٹیم کو اس مسئلے کے حل پر لگا دیا۔ میں نے سارے کام چھوڑدئیے۔ یہ کام تو پھر بھی ہوسکتے ہیں لیکن دو  چھٹیاں ضائع ہوگئیں تو گگومنڈی کے حکیم صاحب کی دوائی ضائع چلی جائے گی۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں رہے گا۔ دنیا اندھیر ہوجائے گی اور من بے کل ۔  ہم سارا دن کام کرتے رہے۔ ہم نے رات بارہ بجے تک اس پرابلم کو سولو کرنے کی کوشش جاری رکھی اور بالآخر ایسے حل ڈھونڈ نکالے جو کاکروچ اور چھپکلیوں کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کردیں گے۔
آپ کاکروچز کو دیکھ لیں۔ یہ بہت سخت جان ہوتے ہیں۔ یہ بہت سارے ہوتے ہیں۔ ان کے رہن سہن کی تھورو سٹڈی کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں ڈیموکریسی ہوتی ہے۔ یہ اپنا لیڈر، الیکشن کے ذریعے چنتے ہیں۔ اگر ہم ان کے الیکشن کمیشن پر ڈاوٹ پیدا کردیں اگر ہم ان کو باور کرادیں کہ الیکشن میں رگنگ ہوئی ہے۔ جو کاکروچ پارٹی ہاری ہے وہ اصل میں جیت رہی تھی اور اسے بے ایمانی اور رگنگ سے ہرایا گیا ہے  تو اس سے کاکروچز میں انارکی پیدا ہوگی۔ وہ ایک دوسرے سے لڑیں گے۔ ایک دوسرے کو ماریں گے۔ ایک پارٹی کے کاکروچ مارے جائیں گے تو دوسری پارٹی ریوینج لے گی اور اس طرح چین ری ایکشن شروع ہوجائےگا۔ اس طرح آہستہ آہستہ سارے کاکروچز ایک دوسرے کو ماردیں گے اور آپ کا گھر کاکروچ فری ہوجائے گا۔ آپ کی بیوی آپ سے ہیپی ہوجائے گی۔ آپ کی ویک اینڈ نائٹ سہانی ہوجائے گی۔ آپ زندگی کو انجائے کرسکیں گے۔ آپ اتوار کی صبح فریش اٹھیں گے۔
چھپکلیوں کا مسئلہ زیادہ کرانک ہے۔ یہ ڈیموکریسی پر یقین نہیں رکھتیں۔ یہ جنگل کے قانون پر یقین رکھتی ہیں۔ یہ اپنا شکار خو د ہنٹ کرتی ہیں۔ اور اکیلا رہنا پسند کرتی ہیں۔ ہم نے بہت  غور و فکر کیا۔ اس غور و فکرمیں تین لارج سائز پیزے اور ڈیو کی چھ دو لیٹر والی بوتلیں لگ گئیں۔ سگریٹ کے دو ڈنڈے بھی اس غور و فکر میں خرچ ہوئے۔ بالآخر ہم ان کی کمزوری ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے۔ ہمارِی سٹڈی نے شو کیا کہ چھپکلے بہت جیلس اور شکی  ہوتے ہیں۔ یہ اپنی گر ل فرینڈ چھپکلی پر ہر وقت  کڑی نظر رکھتے ہیں۔ اگر ان کے دل میں شک پیدا کردیا جائے کہ دوسرے کمرے والا چھپکلا ، آپکی چھپکلی پر بری نظر رکھتا ہے۔ یہ اس کو پٹانا چاہتا ہے، یہ اس کو ڈیٹ پر لے جانا چاہتا ہے۔ تو وہ چھپکلا غصے میں آجائے گا وہ اینگری ینگ چھپکلا بن جائے گا ۔ وہ دوسرے کمرے والے چھپکلے کو دھوکے سے مار دے گا۔ اس پر ڈیسیزڈ چھپکلے کی گرل فرینڈ اس کا انتقام لینے کے لیے باتھ روم والے چھپکلے سے سیٹ ہوجائے گی اور وہ بیڈ روم والے چھپکلے کو ماردے گا۔ یہ بھی چین ری ایکشن ہوگا اور چند ہی دونوں میں چھپکلیوں سے بھی چھٹکارا مل جائے گا۔ آپ کی لائف ، بیوٹی فل اور وائف کوآپریٹو ہوجائے گی۔  آپ کی ویک اینڈ نائٹس گلیمرس  اور ڈیلیشئس ہوجائیں گی۔
ہر مسئلے کا حل بہت آسان ہوتا ہے۔ جیسے ہم نے کاکروچز اور چھپکلیوں کا مسئلہ حل کیا ہے۔ عنقریب ہم دنیا کے باقی مسئلے بھی ایسے حل کرکے تاریخ میں اپنا نام گلابی حروف سے لکھوالیں گے۔



ٹویٹی انتخاب

دل سے اترجانے والے چاہے سونے کے بن جائیں، دوبارہ من موہنے نہیں بن سکتے
============================================================
کسی نے کہا تھا آپ تب مشہور ہوتے ہیں جب ایسے لوگ آپ سے نفرت کرنے لگیں جن کو آپ جانتے تک نہیں۔
=============================================================
دشمنوں کی تین اقسام ہوتی ہیں
دشمن
جانی دشمن
رشتے دار
=============================================================
کسی کو کمتر جاننا  دراصل اپنی کمتری کے احساس کو چھپانا ہوتا ہے
=============================================================
کرکے پچھتانا ، نہ کرکے پچھتانے سے بہتر ہے
=============================================================
نانا پاٹیکر، زید حامد کے ماموں ہیں۔
=============================================================
مذہب کے نام پر دنیا کمانے والے بدترین مخلوق ہیں۔
=============================================================
جو بندہ شدید غصے میں دھیمے لہجے میں بولنا شروع کردے، اس سے ڈرنا چاہیے۔
=============================================================
گالی اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ دلیل ختم ہوچکی ہے
=============================================================
سیاست، ماش کی دال اور چغلی سے پرہیز کرنا چاہیے
=============================================================
سیمسن اینڈ ڈیلائیلا
عمران اور عائلہ
=============================================================
وقت کا پہیہ الٹا نہیں چلایا جاسکتا، چلانے کی کوشش مایوسی اور پاگل پن پیدا کرتی ہے
=============================================================
ضمنی انتخاب، دوسرے ہنی مون کی طرح ہوتے ہیں۔
=============================================================
دشمن کے بغیر زندگی بے رنگ ہے
=============================================================
سونے سے پہلے اور اٹھنے کے بعد جس کا خیال آئے، وہ جانی دشمن ہو تاہے یا جان سے پیارا۔
=============================================================
پرانے دور اچھے تھے، چیزیں سستی تھیں، بندے مہنگے تھے
=============================================================
کبھی ایسی فرصت ملے کہ چاروں طرف کتابیں ہوں اور میں ۔۔۔ اور وہ۔
=============================================================
محبت رسوا کیا کرتی ہے، لاوارث نہیں۔ ماخوذ
=============================================================
کہہ دینا، من ہلکا کردیتا ہے
=============================================================
خوبصورت بڑھاپا، مطمئن باطن کی نشانی ہے
=============================================================
کامیاب بے وقوفی،  بہادری کہلاتی ہے۔
=============================================================
کامیاب بغاوت کو انقلاب کہتے ہیں۔
=============================================================
بندے سب پیارے ہوتے ہیں، کرتوتیں قابل نفرت ہوتی ہیں۔
=============================================================
شک اور پاگل پن میں دھاگے بھر کا فرق ہوتاہے
=============================================================
آسان پیسہ اور میل شاونزم – دنیا میں عذاب جہنم کی ریسیپی
=============================================================
محبت، دنیا سے بے نیاز کردیتی ہے
=============================================================
مانگنے والا کبھی بہادر نہیں ہوسکتا
=============================================================
مرد کا پیٹ اور کمان سے نکلا تیر کبھی واپس نہیں آتا

جولائی میں دھلائی

دسمبر میں اٹھنے والے درد  بارے ہم نے کچھ عرصہ پہلے  روشنی ڈالی تھی۔ جس میں ان تکالیف کا کما حقہ جائزہ لیا گیا تھا جو دسمبر میں دردیلی شاعری اور رومانٹک ناسٹلجیا  کا باعث بنتی ہیں۔ یہ وجوہات اگر بالکل درست نہ بھی ہوں تو پھربھی  کسی نہ کسی درجے پر ان کو حق بجانب سمجھا جاسکتا ہے۔   دسمبر تو تک بات قابل برداشت تھی لیکن ہم نے کچھ ایسی شاعری بھی دیکھی جس میں جولائی کو بھی اسی درجے میں گھسانے کی کوشش کی گئی تھی جو دسمبر کے ساتھ مخصوص ہے۔ برصغیر پاک وہند میں جولائی نام کا مہینہ ایسا ہے کہ محبوب تو ایک طرف رہا ، جسم پر موجود کپڑوں سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ جولائی میں اگر کسی چیز سے رومانس لڑایا جاسکتا ہے تو وہ صرف شکنجوی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ فحش حد تک مالدار ہوں اور پورا گھر سینٹرلی ائیرکنڈیشنڈ ہو اور بجلی کے لیے واپڈا کی محتاجی نہ ہو۔ لیکن ایسے ماحول میں یقین کریں کہ مڈل کلاسیوں والی محبت کا خیال بھولے سے بھی نہیں آتا۔ بلکہ جو خیالات آتے ہیں وہ بیان کرنے کی صورت میں یہ تحریر "پلے بوائے" میں چھپنے کے لائق ہوسکتی ہے۔
ہم شعراء کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں کہ وہ جو کہنا چاہیں بلکہ جو آمد ہو اس کا اظہار کرنا ان کا حق ہے۔ لیکن شعراء کرام کو بھی  رب دا واسطہ ہے کہ جولائی جیسے مہینے کو رومانس سے جوڑ کے جو ظلم وہ کررہے ہیں اس کا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔ اس پر کہا جاسکتا ہے کہ  "اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی" پر  ذرا سوچیں تو سہی کہ جولائی کی حبس زدہ رات کو آپ چھپ چھپا کے محبوب سے ملنے نہر کے بنَے پر جاتے ہیں ۔ پسینہ دھاروں بلکہ تیز دھاروں کی شکل میں جسم کے ہر حصے سے نکل کر ہر جگہ پھیل رہا ہے۔  ایسی حالت میں محبوب سے جو زیادہ سے زیادہ رومانٹک گفتگو ممکن  ہے وہ یہی ہوسکتی ہے کہ ۔۔۔ ذرا اپنی چُنّی نال چل تے مار۔۔۔۔ یا پھر محبوب کو سوئمنگ آتی ہو تو نہر کے بنّے کے بجائے ملاقات نہر میں ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ اس کے لیے پھر آپ کو ایک جوڑا کپڑے اضافی لے کے آنے پڑیں گے۔  لیکن اس میں خطرہ یہ ہے کہ اگرآپ  نہر میں ڈیٹ مارتے پھڑے گئے تو آپ کی پھولی ہوئی لاش چھ سات کلومیٹر کے بعد کسی پل کے نیچے پھنسی ہوئی ملے گی۔۔ ہم نیک و بد حضور سمجھائے دیتے ہیں۔۔۔
جولائی میں رومانس ، فیصل آباد یا ملتان کی گرمی میں  اوورکوٹ پہن کے دوپہر کے وقت چہل قدمی کے مصداق ہے اور اس کے جو نتائج و عواقب ہوسکتے ہیں وہ کسی بھی متوسط ذہانت والے سے پوشیدہ نہیں ہیں۔  آپ کا بھیجہ الٹ سکتا ہے۔ لوگ آپ کو روڑے مارسکتے ہیں۔ آپ عامر لیاقت کو واقعی مذہبی سکالر تسلیم کرسکتے ہیں۔ مبشرلقمان میں آپ کو سقراط بولتا نظر آسکتا ہے۔  ذاکر نائیک کا خطاب سن کے آپ پر وجد طاری ہوسکتا ہے ۔  شاہد آفریدی کو اصلی والا کرکٹر سمجھ سکتےہیں۔  عمران خان کو سیاستدان سمجھ سکتے ہیں۔   شیخ رشید کا ٹاک شو سن سکتے ہیں۔  زید حامد کا خطاب  ہنسے بغیر دیکھ سکتے ہیں اور ایسی ہی بے شمار چوّلیں جو الا ماشاءاللہ آپ بھی بخوبی جانتےہوں گے۔
جولائی کو رومانٹسائز کرنےکا  نقصان یہ ہے کہ نوجوان نسل رومانس سے ہی متنفر ہوجائے گی اور اس کا نتیجہ تو آپ سمجھتے ہی ہیں کہ کیا ہوسکتا ہے۔ بنی نوع انسان کا مستقبل خطرے میں پڑجائے گا۔ لو گ رومانس کرنے کی بجائے لُڈّو کھیلنے کو ترجیح دینے لگیں گے اور لُڈّو میں تو آپ کو پتہ ہی ہےکہ  زیادہ سے زیادہ "چھکاّ" ہی مل سکتا ہے۔ بہرکیف، جولائی میں نوجوان نسل کو رومانس کی جانب ورغلانے سے بہتر ہے کہ ان کو کچھ ایسے کاموں کی اُشکل دی جائے جو جولائی سے مطابقت رکھتے ہوں۔
مثلا ہدوانے سمیت نہر میں نہانا، اور جب ہدوانے اور باقی اعضاء یخ ٹھنڈے ہوجائیں تو کنارے پر بیٹھ کر ہدوانا نوش جاں کرنا۔  برف والے پھٹّے کے قریب  بلکہ اس کے نیچے بیٹھ کر تاش کھیلنا۔   فل اے سی والے سینمے میں فلم دیکھنا ۔۔ علی ہذا القیاس۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔

بابوں کا المیہ

آپ مجید نظامی کود یکھ لیں۔ یہ ایک عظیم جرنلسٹ ہیں۔ یہ بہت بہادر اور آؤٹ سپوکن پرسنیلٹی ہیں۔ یہ کبھی کسی سے نہیں ڈرے۔ یہ اس وقت سے جرنلزم میں ہیں جب  دنیا تک بلیک اینڈ وائٹ ہوتی تھی۔  یہ ہمیشہ جابر اور صابر ہر قسم کے سلطان کے سامنے کلمہءحق کہتے آئے ہیں۔   یہ نظریہ ء پاکستان اور پاکستان کے اکلوتے  ماموں ہیں اور دونوں سے بیوہ بہنوں کی اولاد جیسا سلوک کرتے ہیں۔ ان سب  خوبیوں کے باوجود جب سے یہ بابے ہوئے ہیں۔ یہ سڑیل ہوگئے ہیں۔ یہ چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ جلی کٹی سنانے لگتے ہیں۔  یہ جب جوان تھے تو خوش مزاج ہوتے تھے۔ یہ گندے لطیفے بھی انجائے کرتے تھے۔ یہ جگتیں بھی کرلیتے تھے۔  لیکن بابے پن کی دہلیز تک پہنچتے ہی ان کی ساری خوبیاں جون کی دھوپ میں رکھے ہوئے میٹریس کے کھٹملوں کی طرح ختم ہوتی گئیں۔ یہ کیوں ہوا؟ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ یہ جاننے کے لیے آپ کو ایک کہانی سننی پڑے گی۔
عبدالمنان ایک دکاندا ر تھا۔ یہ کپڑے کی دکان کر تا تھا۔ یہ ایک متوسط درجے کا خوشحال انسان تھا۔ اس کی شادی اوائل جوانی میں ہی  ہوگئی تھی۔ یہ چونکہ فکر معاش سے آزاد تھا لہذا ہرسال ایک برانڈ نیو بچہ اس دنیا میں لانا اس نے اپنا شرعی، اخلاقی، قومی اور خاندانی فریضہ سمجھ لیا تھا۔  عبدالمنان کی زندگی  ایک خوشگوار معمول کے مطابق گزرتی رہی۔ یہ اپنے بچوں اور بیوی سے بڑی محبت کرتاتھا۔ یہ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔ یہ ایک خوش مزاج اور جولی طبیعت کا انسان تھا۔ یہ کبھی غصے میں نہیں آتا تھا۔ اس کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی  جو اس کی فطرت بھی تھی اور دکانداری مجبور ی بھی۔ کیونکہ غصیلے دکاندار کے تو آئی فون بھی نہیں بکتے۔ وقت گزرتا گیا۔ عبدالمنان کے بچے بڑے ہوگئے یہ نویں دسویں کلاس تک پہنچ گئے۔ یہ چونکہ کم عمری میں ہی شادی کرچکا تھا لہذا اس کی عمر ابھی  کھیلنے کھانے کی تھی۔ یہ وہ اہم مقام تھا جہاں سے عبدالمنان کی زندگی نے  ٹریجک ٹرن  لیا۔
یہ جب بھی اپنی بیوی کے پاس بیٹھتا ، یہ جب بھی اس سے کوئی رومانوی چھیڑ چھاڑ کرتا ۔ اس کی زوجہ اسے ڈانٹ دیتی۔یہ اسے شٹ اپ کہہ دیتی ۔  یہ اسے کہتی " حیاکرو، بچے وڈّے ہوگئے نیں، تہانوں اپنے ای شوق چڑھے  رہندے نیں"۔  عبدالمنان کی زندگی کے معمولات درہم برہم ہوگئے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر  ہائپر ہونے  لگا۔ اس کا بلڈ پریشر ہائی رہنے لگا۔ اس کے بچّے اس  سے ڈرنے لگے۔  اس کی دکانداری پر بھی اثر پڑنے لگا۔ یہ گاہکوں سے الجھنے لگا۔ یہ معمولی باتوں پر تو تکار کرنے لگا۔ لوگ حیران تھے کہ عبدالمنان  جو ایک خو ش مزاج اور جولی انسان تھا، اس کی یہ حالت کیونکر اور کیسے ہوئی۔
یہی وہ المیہ ہے جو پاکستانی بابوں کو ڈیسنٹ بابے کی بجائے چاچا کرمو ٹائم پیس جیسے بابوں میں بدل دیتا ہے۔ یہ جیسے ہی ادھیڑ عمری کی منزل پار کرتے ہیں۔ ان کی زوجہ، بیوی سے مزار کا روپ دھار لیتی ہے۔ اس کے پاس سے اگربتیوں کی خوشبو اور قوالیوں کی گونج سنائی دینے لگتی ہے۔  اس کے پاس بیٹھنا تو درکنا ر اس کی طرف پشت کرنا بھی بے ادبی شمار ہوتا ہے۔ یہ وہی بیوی ہوتی ہے جوشادی کے پہلے سال  خاوند کے گھر آنے پر مور نی کی طرح پیلیں پارہی ہوتی تھی۔  اب یہ خانقاہ کا مجاور بن جاتی ہے ۔یہ بابے کی زندگی میں ایک ایسی  کسک بھردیتی ہے جس کی وجہ سے بابا، کپتّا، سڑیل اور ٹھرکی ہوجاتا ہے۔
آپ کسی  محلّے میں چلے جائیں ۔ آپ گلیوں میں تھڑوں پر بیٹھے بابوں کو چیک کرلیں۔ یہ سب زندگی سے بے زار بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ ہر بچے کو جھڑکتے ہیں اور ہر بچّی کو تاڑتے ہیں۔  یہ بابے بے قصور ہیں۔ ان کی مائیوں نے ان کا یہ حال کیا ہے۔  آپ دبئی چلے جائیں، آپ بنکاک چلے جائیں۔ آپ ملائشیا چلے جائیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے ۔ آپ دیکھیں گے کہ گورے مائیاں بابے کیسے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سیریں کرتے ہیں۔ یہ  سر عام اظہار محبت بھی کرتے ہیں۔یہ ایک دوسرے کی باہوں میں باہیں ڈالے  عاشقی ٹُو جیسے سین بناتے ہیں۔  جبکہ پاکستانی بابوں کو یہ موقع تنہائی میں بھی نہیں ملتا۔ ان کی آخر ی عمر اعتکاف میں ہی گزرجاتی ہے۔
جب تک ہم بابوں کے مسائل کو سمجھیں گے نہیں۔ جب تک ہم ان کو حل کرنے کے  لیے  ان کی مائیوں کو کنونس نہیں کریں گے۔ بجٹ کا خسارہ ہویا  لوڈشیڈنگ۔ ڈرون حملے ہوں یا  کیبل پر انڈین چینلز۔ امن و امان کا مسئلہ ہو یا پرویز خٹک کی صحت۔ عائلہ ملک  کی دوسری شادی ہو یا شہباز شریف کی چوتھی (یاشاید پانچویں، چھٹی  یا ساتویں ( شادی ۔  پاکستان کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ بابے اپنے اپنے پروفیشن میں ماہر ہوتے ہیں لیکن ان کی مائیوں کی بے اعتنائی انہیں ہر چیز سے متنفر کرکے سڑیل اور کوڑا کردیتی ہے۔  یہ کچھ بھی نہیں کرسکتے  یہ صرف تھڑوں پر بیٹھ کر سڑ سکتے ہیں ۔

میاں نواز شریف کی حکومت جب تک یہ کام نہیں کرے گی ۔ یہ پاکستان کو نہیں بچاسکے گی۔ پاکستان کو بچانے کے لیے بابوں کو خوش کرنا ضروری ہے۔  ورنہ 
  ؎ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

بٹ ریفریجریشن سروس

بٹ صاحب کا اصل نام تو شاید طاہرتھا  یا طارق ۔۔۔ لیکن بٹ ، بٹ ہی ہوتا ہے چاہے وہ پاءطیفا ہو یا وکّی۔ بٹ صاحب طویل قامت تھے لیکن ان کی طوالت عمودی  کی بجائے  افقی تھی۔ سر کا درمیانی حصہ،  اقبال سٹیڈیم فیصل آباد کی اس پچ کی طرح  تھا جسے ڈینس للّی نے اپنی قبر کے لیے منتخب کیا تھا۔ ان کی رنگت  دیکھ کے دلدار پرویزبھٹی کا وہ بیان یا د آتا کہ اگر میں ویسٹ انڈیز میں ہوتا تولوگ  مجھے بٹ ساب کہتے۔  بٹ صاحب سے تعارف کی وجہ وہی ظہیر لائبریری اور وہاں روز کا آنا جانا اور ڈیرہ جمانا تھا۔ پانچویں جماعت سے اس وقت تک جب ہم جلاوطن نہیں ہوگئے شاید ہی کبھی اس معمول میں ناغہ ہوا ہو۔ بہرکیف،  بٹ صاحب کی فریج اور اے سی رئیپرنگ کی دکان عین ظہیر لائبریری کے سامنے واقع تھی اور ازکاررفتہ فریج ، واشنگ مشینیں وغیرہ کمپنی کی مشہوری کے لیےآدھی سڑک گھیرے ہوئے تھیں۔
بٹ صاحب کا پہلا تاثر جو یاد کا حصہ ہے وہ ظہیرالدین بابر ، پروپرائٹر  ظہیر لائبریری  کی وہ شیطانی مسکراہٹ تھی جس کے بعد انہوں نے ہمیں مخاطب کرکے کہا تھا کہ "میر جعفرا !  تینوں اک شغل وخائیے؟"۔ ظہیر صاحب  ہمیشہ ہمیں اسی نام سے پکارتے تھے اور آخر کار جب ہم کالج میں پہنچے تو ایک دن ان سے پوچھ ہی لیا،  "پائین، جیہڑی غدار ی میں تہاڈے نال کیتی اے،  اوہ کسے نوں دسنا ناں"۔  یہ سن کے ان کے جاٹ خون نے جوش تو مارا لیکن چونکہ بہت عرصہ جلُاہوں کی صحبت میں گزار چکے تھے اسی لیے خون جلد ہی ٹھنڈا پڑگیا  اور شادیوں پر انٹرٹین کرنےو الوں بھانڈ احباب کی طرح انہوں نے ہمیں اس جگت کی ایک "ٹھاپ" کی صورت میں داد  دی۔
بہرکیف ،   احباب اب تک یہ بخوبی جان چکے ہوں گے کہ شغل ویخ ویخ کے ہی آج ہمارا یہ حال  ہے کہ دوسروں کو اپنے بارے جگتیں بتاتے ہیں کہ یہ زیادہ فٹ ہوتی ہے اور  یہ کہتا تو بڑا لطف آتا،۔۔۔  تو ہم نے فورا شغل "ویخنے " کی  حامی بھرلی۔ انہوں نے پنجابی اشٹائل میں آواز لگائی ۔۔۔اوئے بٹ اوئےےےےے۔۔۔  بٹ صاحب نے ادھر ادھر دیکھا اور آواز کا منبع دریافت کرنے کے بعد چھوٹے کو ضروری ہدایات دیں ، لڑھکتے ہوئے سڑک پار کی اور ہمارے ساتھ والی کرسی پر آکے دھپ سےتشریف دے ماری۔ نامعلوم وجوہات کی بناء پر بٹ صاحب ، مغلوں کے جدّ امجد کے ہم نام کی بہت عزت وغیرہ کرتے تھے۔ اور یہ وجوہات اتنی نامعلوم بھی نہیں تھیں۔ نام تو ان  کا مغلوں والا تھا لیکن وہ تھے اصیل جاٹ۔ سونے پر سہاگہ یا کریلا اور اس پر نیم چڑھا کے مصداق ان کے والد ریٹائرڈ حوالدار اور ان کے برادر بزرگ حاضر سروس سب انسپکٹر تھے۔  لہذا بٹ صاحب ان کی ناملائم گفتگو بھی دانت نکال کے برداشت کرلیتے تھے، یہ ساری باتیں بہرحال ہمیں بعد میں پتہ چلیں ۔
ظہیر نے چھُوٹتے ہی دُرفنطنی نما سوال کیا کہ۔۔۔ بٹ صاب ۔۔ ایہہ جیہڑی پوجا بھٹ اے، اے وی بٹ اے؟۔۔۔ بٹ صاحب کا مُشکی   رنگ مزید سانولا ہوا اور انہوں نے کرسی پر تقریبا پھُدکتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔ یار، ظہیر، میں تیری اینی عزت کرداں تے توں سانوں ذلیل ای کردا رہناں؟۔۔ ۔ ظہیر نے پکّا سا منہ بنا کے کہا کہ  یار، میں نے تو اپنے علم میں اضافے کے لیے پوچھا تھا، تُو غصہ کرگیا ہے۔ چل مٹّی پاء،  ۔۔۔ چائے پیے گا؟  کھانے پینے کا ذکر  آتے ہی بٹ صاحب کو پوجا بھٹ، بیستی اور دیگر امور یکایک بھول گئے اور انہوں نے مُنڈی ہلا کے  بارات کے دن والی شرمیلی دلہن کی طرح ہاں کردی۔
 تمہید طُولانی ہوتی جارہی ہے اور اصل قصّہ ابھی تک سنائے جانے کا انتظار کررہا ہے۔ گلشن کالونی میں ایک پارک نما چیز تھی جسے "تِن نُکری گراونڈ" کے عظیم نام سے پکارا جاتا تھا حالانکہ اس کا سرکاری نام تو شاید کسی شیخ صاحب کے نام پر تھا لیکن جیسے کمپنی باغ کو آج تک کوئی جناح باغ نہیں کہتا اسی طرح سب اسے تِن نُکری گراونڈ ہی کہا کرتے تھے اور اب تک کہتے ہیں۔ اس زمانے میں کبھی این جی اوز کا ذکر کسی لبرل نے بھی نہیں سنا تھا لیکن ہمارے کچھ دوستوں نے مل کر ایک "غیر سرکاری تنظیم" بنا رکھی تھی، جس کے زیر اہتمام  "ہیلتھ واک"، "پیس واک" یہ واک ، وہ واک وغیرہ کا اہتمام ہوا کرتا تھا۔ اس تنظیم کے روح رواں یا  ہیڈ گیڑے باز میاں کاشف نواز تھے۔ اب ان کا ذکر ایک علیحدہ  تحریر  بلکہ بہت سی تحاریر کا متقاضی ہے لہذا اس سے صرف نظر کرتے ہیں۔ میاں صاحب نے اس تِن نُکری گراونڈ میں ایک مباحثہ کا اہتمام کیا جس کے مہمانان خصوصی  سُوتر منڈی کے شیخ صاحبان تھے۔۔۔ ہمیں اب پورا یقین ہے کہ سارا "ناواں" بھی انہی خصوصی مہمانوں کا خرچ ہوا ہوگا۔ اس مباحثے کا عنوان  "عقلاں والے بھُکھے مردے، مُورکھ کھان جلیب" تھا۔ اب میاں صاحب کی اس ستم ظریفی کی داد کوئی اہل نظر و دل ہی دے سکتا ہے کہ شیخ صاحبا ن کو سٹیج پر بٹھا کر ، انہیں کے پیسے لگوا کر ، انہیں اس مباحثے کو سننےپر مجبور کیا جائے۔
یہ مباحثہ ہمارے یار غار نے جیتا  جوزمانہ  سکولیت سے ہی زید حامد جیسے مقرّر تھے اور بہت سی ٹرافیاں اور کپ اور پلیٹیں وغیرہ جیت چکے تھے۔ کلاس فیلو ہونے کے ناطے ان کی تقاریر کی ریہرسل سننے کی سزا اکثر بھگتنی پڑتی تھی اور وہ شور مچانے پر تقریر روک کر ہمیشہ یہ چتاونی دیا کرتے  ۔۔۔ جو قومیں تقاریر غور سے نہیں سنا کرتیں، وہ تباہ و برباد ہوجایا کرتی ہیں۔۔۔ مجھے تو اب یہ  لگتاہے کہ ٹاک شوز کا آئیڈیا بھی ہمارے انہی عزیز دوست کا ہے تاکہ ساری قوم بیٹھ کے تقریریں سنتی رہے اور تباہ نہ ہو۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔۔۔
اس سارے ڈفانگ کی سمعی و بصری عکس بندی کا اہتمام بھی  کیا گیا تھا، سادہ الفاظ میں جسے ویڈیو بنانا کہتے ہیں۔  اس کی بہت سی کاپیاں بنائی گئیں اور ان شیخ صاحبان کو دی گئیں جن کے خرچے پر یہ سب کیا گیا تھا۔ ایک کاپی ، ہیڈکوارٹر ہونے کے ناطے ظہیر لائبریری پر بھی پہنچی۔
یہیں سے بٹ صاحب کا المیہ شروع ہوتاہے !۔
ایک شام گپیں مارتے ہوئے  اور ایسے لطیفے سنتے سناتے ہوئے جنہیں بندہ  اپنے یاروں کے علاوہ کسی کو نہیں سنا سکتا، اچانک ہمارے ذہن میں ایک شیطانی خیال نے جنم لیا۔ ہم نے اس ابلیسی خیال کو ظہیر تک منتقل کیا اور اس نے فورا ہی منظوری دیتے ہوئے  آواز لگادی۔۔۔ اوئے بٹ اوئےئےئےئےئے۔۔۔  ہزار دفعہ یوں پکارے جانے کے باوجود بٹ صاب اس آواز پر ادھر ادھر دیکھنا ضروری سمجھتے تھے لہذا انہوں نے اپنی روٹین پوری کی اور پھر ظہیر کی طرف دیکھ کے سر ہلایا اور اپنا لُڑھکنا چالو کردیا۔
بٹ صا ب کے وہاں پہنچنے تک ہم سب پکّے منہ بنا کے بیٹھ چکے تھے۔ ظہیر نے آواز میں پُراسراریت  سمو کر بٹ صاب کو کہا کہ ایک ضروری بات کرنی ہے  اکیلے میں۔ چلو ، ذرا باہر۔ باہر دو تین منٹ بٹ صاب کے کان میں کھسر پھسر کرکے ظہیر اندر آیا اپنے کاونٹر کے دراز سے ویڈیوکیسٹ نکالی اسے اخبار میں لپیٹا اور نہایت رازداری سے بٹ صاب کو باہر جاکے تھمادی۔ بٹ صا ب نے چوکنّے ہو کے ادھر ادھر دیکھا،  اور عین سڑک پر سب کےسامنے اخبار میں لپٹی ہوئی کیسٹ  بڑے "خفیہ " انداز میں ڈب میں لگا لی۔
ظہیر الدین بابر ، پروپرائٹر ظہیر لائبریری راوی ہیں کہ بٹ صاب نے اگلے دن ان کی جو کُتّے خانی کی وہ ایک عظیم تاریخی حیثیت کی حامل تھی۔ بٹ صاب ، ظہیر کا جاٹ ہونا ، ان کے والد کا سابقہ اور بھائی کا موجودہ پُلس والا ہونا بالکل فراموش کرکے ، غلامابادی انداز کی جتنی گالیاں انہیں یاد تھیں ، وہ یکے بعد دیگرے اور بار بار انہیں دیتے جاتے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی دردناک آپ بیتی بھی سناتےجاتے کہ کتنے جتنوں سے سب کے سونے کا انتظار کیا  اور اتنی گرمی میں کمرے کا دروازہ بند کرکے جب میں نے وی سی آر آن کیا تو شرو ع میں ہی شناسا چہرے نظر آئے ، میں خوش ہوگیا کہ "پروگرام" جینوئن لگتا ہے، مُنڈوں نے اپنا موج میلہ ریکارڈ کیا ہے۔۔۔۔  آپ بیتی کا آخری حصّہ بقول راوی ، بٹ صاب نے رقّت آمیز آواز میں سنایا کہ میں نے تین گھنٹے کی ساری کیسٹ بنا فارورڈ کیے دیکھی کہ ۔۔۔۔۔ خورے۔۔۔ پر "کچھ " ہونا تھا نہ ہوا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ ہنس ہنس کے اس کی اتنی بری حالت ہوئی کہ بٹ صاب اپنا رنڈی رونا  بھول کے اس کی خیریت بارے فکر مند ہوگئے کہ کہیں بے چارا پاگل تو نہیں ہوگیا ۔
شنید ہے کہ یہ قصّہ آج بھی گلستان روڈ موجودہ بمبینو روڈ   کےباسی کسی لوک کہانی کی طرح یاد رکھے ہوئے ہیں ۔  اور اکثر بک بکواس کی محافل شبینہ میں فرمائش کرکے سُنتے  اور سناتے ہیں ۔
ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ اس دفعہ بھی "بٹ صاحب" کو جو کیسٹ دی گئی ہے
وہ پھر  "خالی"  نکلنی ہے!.

رینڈم نیس

تفصیل، تباہ کن ہوتی ہے۔
*******************************************************************
روحانیت کا سفر، محبت سے شروع ہوتا ہے۔
*******************************************************************
سادگی، قابل شرم اور لش پش، رواج بن جائے تو وہی حال ہوتا ہے، جو ہمارا ہے۔
*******************************************************************
سیاست کے علاوہ کوئی بات کرنے کو نہ ہو تو یہ کیسی بدنصیبی کی بات ہے۔
*******************************************************************
دنیا کے سامنے ذلیل ہونا اپنے آپ کے سامنے ذلیل ہونے سے بہتر ہے.
*******************************************************************
رب یا ہو محبوب، پہلی ترجیح بنائے بغیر نہیں ملتا۔
*******************************************************************
باس اور معشُوق کو کبھی جگت نہیں کرنی چاہیے۔
*******************************************************************
لفظ ، بے معنی ہوتے ہیں، مخاطب اور لہجہ ان کو معانی دیتے ہیں۔
*******************************************************************
باس اور محبوب نرم مزاج ہو تو ماتحت اور عاشق نکمے ہوجاتے ہیں۔
*******************************************************************
اپنے اندر کا جھاڑ جھنکاڑ سمیٹ کے، جالے اتارکے، سفیدی کرکے، اگر بتیاں لگاکے دھمال ڈالنا، محبت ہے۔
*******************************************************************
جب کوئی آپ کی ناراضگی کی پروا کرنا چھوڑے دے تو سمجھ جائیے کہ محبت ختم اور مجبوری شروع ہوگئی ہے۔ *ماخوذ*
*******************************************************************
پاکستانی قوم بھی وہ شہزادی ہے جو ہمیشہ کسی چنگڑ کے ساتھ پھس جاتی ہے.
*******************************************************************
جگجیت سنگھ سننے کا مطلب ہے کہ محبوب اور حکیم دونوں تک رسائی ناممکن ہوچکی ہے۔
*******************************************************************
شہوانیت باتوں میں نہیں، دماغ میں ہوتی ہے۔
*******************************************************************
خوشی کی ترسیل ہمیشہ غم کے وسیلے سے ہوتی ہے۔
*******************************************************************
خواہش، روح کو کانٹوں پر گھسیٹنا ہے۔
*******************************************************************
دو قومی نظریہ، دنیا میں انسان کے ساتھ ہی وجود میں آگیا تھا۔۔۔۔ ظالم قوم۔ مظلوم قوم۔
*******************************************************************
رب سے گلہ کرنا جائز ہے۔۔۔ گلہ، اپنوں سے ہی کیا جاتا ہے۔
*******************************************************************
سیلف میڈ، انسان نہیں رہتا، فرشتہ ہوجاتاہے یا شیطان۔
*******************************************************************
زن، زر اور زمین، مرد کا پھندہ ہیں۔
*******************************************************************
مجھے تو کبھی کبھی یہ لگتا ہے کہ پاکستان، مجید نظامی اور نوائے وقت نے بنایا تھا۔
*******************************************************************
قدر، نسبت کی ہوتی ہے، چیز کی نہیں۔