حاجی ثناءاللہ کی ڈائری

معمول کے مطابق تہجد کے وقت آنکھ کھلی۔ زوجہ کو جگا کر وظیفہ زوجیت ادا کیا۔ زوجہ تھکن کا بہانہ بنا کر پھر سوگئی۔ احمق عورت۔ اسی لیے جہنم عورتوں سے بھری ہوگی۔ نہ نماز نہ روزہ۔ غسل جنابت سے فراغت پا کر باداموں والے دودھ کے دو گلاس نوش کیے۔ تہجد اداکی۔ فجر تک کمر سیدھی کی۔ فجر ادا کرکے  تھوڑی دیر کے لیے پھر آنکھ لگ گئی۔ آنکھ کھلی تو بچے سکول جاچکے تھے۔ہلکا پھلکا  سا ناشتہ جو دو  پراٹھوں، انڈوں کے خاگینے اور دیسی گھی کے حلوے  پر مشتمل تھا، کیا۔  دکان پر جانے سے پہلے والدہ محترمہ کو سلام کرنے گیا۔ وہ شکایت کرنے لگیں کہ برآمدے میں گرمی لگتی ہے، پنکھا بھی نہیں ہے۔ بزرگ اور بچے میں کوئی فرق نہیں رہتا ، ہر وقت شکایت اور فرمائش۔ میں نے والدہ کی بات پر اللہ کے احکام کے مطابق اُف تک نہیں کیا اور خاموشی سے دکان کے لیے روانہ ہوگیا۔
صبح کے اوقات میں سڑکوں پر کافی رش تھا اور کچھ تاخیر بھی ہوگئی تھی۔ رستے میں دو جگہ اشارہ  بھی توڑنا پڑا۔ ایک سائیکل والے کو ہلکی سی ٹکر بھی لگ گئی۔ اللہ کا لاکھ احسان کہ وہ گاڑی کے نیچے نہیں آیا۔  اللہ کریم کی مدد ہمیشہ شامل حال رہتی ہے۔ اگر وہ مر مرا جاتا تو بیٹھے بٹھائے لمبا خرچہ گلے پڑجاتا۔ الحمدللہ۔
دکان پر پہنچا تو فیقا دکان لگاچکا تھا۔ سارے دن میں اس نے بس یہی کام کرنا ہوتا ہے۔ صبح دکان کھول کے لگانا اور شام کو بند کرنا۔ یا گاہک کےساتھ ڈیلنگ کرنا۔ لیکن ان نیچ لوگوں کے نخرے ایسے ہیں کہ جیسے پوری دنیا سر پر اٹھائے چل رہے ہوں۔ دو ڈھائی سو تھان اٹھا کے باہر رکھنے اور پھر اندر رکھنے، یہ کوئی کاموں میں سے کام ہے؟ لیکن جب دیکھو ۔۔ شکایت۔۔پورے سات  ہزار روپے ماہانہ صرف اس معمولی کام کے ملتے ہیں۔ ناشکرگذاری بھی کفر کے برابر ہوتی ہے۔ نام کے مسلمان۔۔ نہ توکل، نہ صبر نہ شکر۔
دکان میں داخل ہوتے وقت  معمول کے مطابق، روزی میں برکت کے لیے سولہ دعائیں جو حضرت صاحب نے بتائیں تھیں ، وہ پڑھیں، اور  ردّ بلا کے لیےدم کیا۔
فیقا معمول کے مطابق میرےگدّی پر بیٹھتے ہی چائے لینے چلا گیا۔ ہماری دکان کے ساتھ ہی ایک چائے والا ہے لیکن اسکی چائے اچھی نہیں ہوتی۔اس لیے تھوڑی دور سے چائے منگوائی جاتی ہے۔ یہی کوئی پیدل پندرہ منٹ کا راستہ ہے۔ حضرت صاحب کے خطبات کی کیسٹ لگائی۔ اللہ تعالی نے ان کو  بے تحاشہ علم سے نوازا ہے۔ زبان میں جادو ہے۔ ہو نہیں سکتا کہ کوئی ان کا بیان سنے اور مرید نہ ہوجائے۔ حضرت صاحب بیان کررہے تھے کہ کیسے ایک دعا پڑھنے سے سب گناہ نہ صرف معاف ہوجاتے ہیں بلکہ نیکیوں میں بدل جاتے ہیں اور وہ بھی سو سے ضرب کھا کے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ۔۔۔ اللہ  تعالی کتنے رحیم اور معاف کرنے والے ہیں۔۔سبحان اللہ۔۔ سبحان اللہ۔۔۔
گیارہ بجے کے قریب پھر سے بھوک محسوس ہونے لگی۔ ناشتہ برائے نام ہی کیا تھا۔ جیدا بڑے مزے کے سری پائے بنا تا ہے۔ نہ نہ کرتے بھی  چار نان کھا گیا۔پھر دو سیون اپ کی بوتلیں پی کر کچھ سکون ہوا۔ اس دفعہ گرمی بھی کچھ جلدی شروع ہوگئی ہے۔ دکان کے اندر ایک چھوٹا سا ائیر کولر رکھا ہوا ہے۔ اے سی خود ہی نہیں لگوایا کہ ٹیکس والے، کُتّوں کی طرح بُو سونگھتے ہوئے آجاتے ہیں۔ ایسی فاسق و فاجر حکومت کو ٹیکس دینا بھی حرام ہے۔ کرپٹ اور بے ایمان لوگ۔ ا س سے تو بہتر ہے کہ فوج کی حکومت آجائے۔  یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے۔
ائیرکولر کے سامنے بیٹھتے ہی اونگھ سی آگئی۔ آنکھ کھلی تو ظہر کا وقت قریب تھا۔بھاگم بھاگ مسجد پہنچا۔ طویل عرصے سے  اذان دینے کا شرف بھی حاصل ہے۔ اللہ اللہ۔۔ کیا روح پرور کیفیت ہوتی ہے۔ استنجاء کے لیے مسجد کے بیت الخلاء میں گیا تو وہ اوور فلو ہورہا تھا۔ بڑی مشکل سے کپڑوں کو نجاست سے بچایا۔ صفائی نصف ایمان ہے۔ اس کا ہمیشہ بہت خیال رکھناچاہیے۔ ظہر کی نماز سے فراغت کے بعد دوپہر کا کھانا کھایا۔ مرغ پلاؤ اور شامی کباب بھی اللہ تبارک و تعالی کی کیسی عمدہ نعمتیں ہیں۔۔ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاوگے۔۔۔
کھانے سے فراغت کے بعد فیقے کو کہا کہ وہ بھی کھانا کھالے، وہ دوپہر کا کھانا گھر سے لاتا ہے۔ پتہ نہیں کیسی مہک ہوتی ہے اس میں کہ جی خراب ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے اس کو منع کیا ہوا ہے کہ کھانا، دکان میں بیٹھ کر نہ کھایا کرے۔۔ بلکہ چائے والے کھوکھے کے سامنے پڑے بنچ پر بیٹھ کر کھالیا کرے۔ کھانا کھاتاہوئے بھی، ہڈ حرام، آدھ گھنٹہ لگادیتا ہے۔ ان جاہلوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ایسے یہ اپنے رزق کو حرام کرتے ہیں۔ جہنم کا ایندھن۔
کھانے کے بعد قیلولہ کیا اور عصر سے پہلے مسجد میں حاضر تھا۔ اذان دینے  کی سعادت حاصل کی۔ نماز سے فارغ ہوکے حضرت صاحب کے بتائے ہوئے اوراد و وظائف کرنے میں تقریبا ایک گھنٹہ لگ گیا۔  واپس دکان پر پہنچا تو فیقے نے بتایا کہ دو تین گاہک  بھگتائے ہیں ۔ پوری توجہ سے بل  چیک کیے اور دکان میں موجود مال کی گنتی کی۔ اعتبار کا دور نہیں ہے۔ خاص طور پر ایسے کمزور ایمان والے لوگوں کا تو بالکل اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ جو اللہ تبارک و تعالی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرسکتے ہیں وہ ہمارے جیسے گنہگاروں کو کیسے بخشیں گے؟
مغرب کی نماز ہمیشہ گھر کے قریب مسجد میں ادا کرتا ہوں۔اسی مسجد کی مسجد کمیٹی کا پچھلے سات سال سے بلامقابلہ صدر بھی ہوں۔  مغرب کی نماز سے فارغ ہوکے گھر پہنچا تو  بچے ٹی وی پر شاہ رخ خان کی فلم دیکھ رہے تھے۔ اچھا اداکار ہے۔ مجھے پسند ہے۔ ویسے بھی مسلمان ہے۔ اللہ اس کو اور کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائیں۔
رات کا کھانا، میں عشاء سے پہلے کھالیتا ہوں، یہی حکم ہے۔ بھنڈی گوشت بنا ہوا تھا۔ خوب سیر ہوکے کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد خربوزے کھائے۔ بہت میٹھے نکلے ماشاءاللہ۔۔ حضرت صاحب نے ایک دفعہ بالمشافہ ملاقات میں بتایا تھا کہ خربوزے، قوت باہ کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔ حضرت صاحب کی تین بیبیاں ہیں اور تئیس بچے۔  نظربددُور۔
عشاء سے فراغت کے بعد والدہ محترمہ کی خدمت میں حاضری دی۔  انکی سُوئی ابھی تک اسی پر اٹکی ہوئی تھی کہ۔۔ پُتّر ، برآمدے اچ پکھّا لوادے۔۔ بہوت گرمی لگدی اے مینوں۔۔۔  ٘میں نے دل میں سوچا کہ اس دفعہ عمرے سے واپسی پر یہ کام بھی ضرور کردوں گا۔ والدین کی خدمت میں ہی عظمت ہے۔
سونے کے لیے لیٹا تو زوجہ سے حق زوجیت کی ادائیگی کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے حسب معمول چوں چرا کی تو اسے سمجھایا کہ کارثواب پر چوں چرا کرناگناہ عظیم ہے اور دنیا آخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ مجازی خدا کی خواہشات پر اپنا آرام قربان کیا جائے۔
بہرکیف، جب تہبند سنبھالتے ہوئے  بیت الخلاء جانے کےلیے اٹھا تو زوجہ سوچکی تھی۔

دو کہانیاں ہیں

دو کہانیاں ہیں۔
اس کے ابّا محکمہ انسداد رشوت ستانی میں نائب قاصد تھے۔ آمدنی محدود اور کنبہ لا محدود۔ جز وقتی طور پر کھیتوں میں کیڑے مار ادویات کا سپرے کیا کرتے تھے۔ شام ڈھلے جب وہ اپنے پرانے چوبیس انچ کے ریلے سائیکل پر گلی کا موڑ مڑتے تو سائیکل کے کیرئیر پر سپرے والی مشین اور ان کے منہ پر صافہ ہوتا جس سے انہوں نے منہ ڈھانپا ہوتا تھا۔ زندگی مشکل تھی۔ گزارا  مشکل تھا۔ تب ہر طبقے کی علیحدہ آبادیوں کا رواج نہیں تھا۔ ایک ہی محلے میں امیر سے غریب تک سب  رہ لیاکرتے تھے۔ اور ایسے ہی بہت سوں کی پردہ پوشی خاموشی سے کردی جاتی تھی۔ گزارا ہوجاتا تھا۔
  اسے کرکٹ کا شو ق تھا۔ صرف شوق ہی نہیں ، جنون تھا۔  نیچرل اتھلیٹ۔ تیز بالنگ کرتا تھا اور کم عمری میں ہی بڑے   بڑوں کے   قدم اکھاڑ دیتا تھا۔ فطری ٹیلنٹ۔ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہونے کی وجہ سے ابّا کی طرف سے ہمیشہ دباو رہتا تھا کہ کچھ کرکے دکھا۔ پڑھنے لکھنے سے کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی۔ مار ے باندھے پاس ہوجایا کرتا تھا۔ نویں جماعت میں پہنچا تو اپنے سکول کی کرکٹ ٹیم کا کپتا ن بن گیا۔ اسلامیہ ہائی سکول ، جناح کالونی کی ٹیم اس سے پہلے کبھی فائنل تک نہیں پہنچی تھی۔ لگاتار دو سال فائنل میں شاید ایم سی ہائی سکول سے مقابلہ ہوا اور جم کر ہوا۔ شاید دونوں دفعہ ہار گئے لیکن اس کے نام کے ڈنکے بج گئے ۔  بوہڑاں والی گراونڈ، فیصل آباد  میں کلب کرکٹ کا  جی ایچ کیو ہے۔ اس نے وہاں جانا شروع کردیا۔ کلب کے نیٹس میں بالرز کو پہلے بیٹنگ  کی باری ملتی ہے۔ بلے بازوں کی باری بعد میں آتی ہے۔ اسے نیا سمجھ کر پرانا گیند دیا گیا اور شروع میں ہی بالنگ پر لگادیا گیا۔  دس منٹ بعد ہی جب دو بلے باز اپنی پسلیاں سہلاتے ہوئے ریٹائرڈ ہرٹ ہوئے تو راشد ولی، جو اس کلب کے کپتان اور فیصل آباد کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے تھے، انہوں نے اسے اپنے پاس بلایا ، نام پوچھا  اور گیند واپس لے کے انتظار کرنے کو کہا۔  جب بلے بازوں کی باری آئی تو اسے نسبتا نیا گینددیا گیا۔ فطری طور پر اس کا گیند آوٹ سوئنگ کرتا تھا۔ ایک پندرہ سولہ سال کے لڑکے کی نسبت اس کی رفتار حیران کن حد تک تیز تھی۔ ہائی آرم اور بہت ہموا ر بالنگ ایکشن اور زبردست قسم کا باونسر۔ تیز بالرز کی اصطلاح میں مکمل پیکیج۔
کلب کرکٹ میں اس کا نام راتوں رات زبان زد عام ہوگیا۔راشد ولی نے اسے اپنے بالنگ کے جوتے جنہیں سپائیکس کہا جاتا تھا وہ دئیے ۔ کلب کی طرف سے اس نے کچھ میچز بھی کھیلے جو ایک بالکل نئے کھلاڑی کے لیے بہت بڑی اچیومنٹ تھی۔ یہ سارا ماجرا اس وقت وقوع پذیر ہورہا تھا جب میٹرک کے امتحان کے بعد والی چھٹیاں جاری تھیں۔ نتیجہ آیا اور وہ بمشکل تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوا۔ گھریلو حالات  زیادہ مشکل ہوگئے تھے۔ بچے بڑے ہورہے تھے ، اخراجات بڑھ رہے تھے اور آمدنی وہی کی وہی۔ میٹرک میں کم نمبروں کے باوجود گورنمنٹ کالج دھوبی گھاٹ  میں داخلہ کھیل کی بنیاد پر اس کے لیے بہت آسان تھا۔ لیکن اس کے ابّا نے فیصلہ کیا کہ بہت پڑھائی اور کرکٹ ہوگئی۔ اب اسے کمانا چاہیے۔ اسے رضا آباد تین نمبر بازار کی ایک  کپڑے دھونے والے صابن کی فیکٹری میں منشی کا اسسٹنٹ رکھوادیا گیا۔ مبلغ سات سو روپے سکہ رائج الوقت۔ یہ کہانی یہاں ختم ہوتی ہے۔
وہ بھی اسی گلی میں تھوڑا آگے کرکے رہتا تھا۔ اس کے ابّا کی کپڑے کی دکان تھی۔ اچھے خوشحال لوگ تھے۔ بڑے بھائی بھی شیخوں کی روایت کے مطابق اپنا اپنا کاروبار کرتے تھے۔ مناسب سے زیادہ حد تک فارغ البالی تھی۔ اسے بھی کرکٹ کا شوق تھا۔ آف سپن بالنگ کیا کرتا تھا۔ جو ان دنوں آو ٹ آف فیشن تھی۔ کوئی بھی سپنر نہیں بنناچاہتا تھا۔ سب کے دل میں وقار یونس اور وسیم اکرم بننے کی خواہش ہوتی تھی۔  لیکن اسے سپن بالنگ پسند تھی۔ کھیل کا اسے  بھی جنون کی حد تک شوق تھا۔ اس کے ابّا بھی کرکٹ کے شیدائی تھے اور ہمیشہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔  اتفاق سے یہ بھی اسلامیہ ہائی سکول میں ہی پڑھتا تھا اور سکول کی کرکٹ ٹیم میں بھی شامل تھا۔ لیکن پلئینگ الیون میں جگہ بہت مشکل سے بنتی تھی تو  اکثر بارہواں کھلاڑی ہی ہوتا تھا۔ بارہواں کھلاڑی ہونے پر بھی اس کا جوش کبھی کم نہیں ہوتا تھا اور وہ کسی نہ کسی کو باہر بلا کر اس کی جگہ فیلڈنگ کرکے کھیل میں شامل ہونے کا شوق پورا کرلیا کرتا تھا۔وہ  ایک عام سا کھلاڑی تھا۔ کچھ بھی غیر معمولی نہیں تھا سوائے اس کے شوق او رکمٹمنٹ کے۔  دسویں کے بعد اس نے شاید گورنمنٹ کالج سمن آباد میں داخلہ لیا اور بوہڑاں والی گراونڈ بھی جانا شروع کردیا۔ وہ گرمیوں میں ساڑھے تین بجے گراونڈ میں پہنچ جاتا تھا۔ گراونڈ کے تین چار چکر لگاتا تھا۔ پچ  کو رول کرنے میں مدد دیتا تھا۔ ایسے ہی چھوٹے چھوٹے کام بڑی خوشی اور لگن سے کرتا تھا۔ جب پریکٹس شروع ہوتی تو اسے گراونڈ میں آئے ڈیڑ ھ دو گھنٹے ہوچکے ہوتے تھے۔  غیر معمولی صلاحیت کی کمی اس نے شدید محنت سے پوری کی۔ اس کے ذمّے گھر والوں کی طرف سے ایک ہی کام تھا۔ کرکٹ کھیلنا ۔ اور یہ کام اس نے پوری ایمانداری اور محنت سے کیا۔ وقت گزرتا گیا۔ اور یہ معمولی صلاحیت والا محنتی کھلاڑی آہستہ آہستہ کامیابی کے زینے چڑھتا گیا۔ فیصل آباد کی طرف سے کھیلنے کے بعد اسے ایک ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کھیلنے کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ اس کا نام کبھی کبھی اخبارات میں آنے لگا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں اس نے تقریبا ایک عشرہ لگایا۔ آخر کار اسے قومی ٹیم میں موقع ملا اور اس نے یہ موقع دونوں ہاتھوں سے دبوچ لیا۔ آج وہ ایک عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی ہے۔  یہ کہانی بھی ختم ہوئی۔

دو کہانیاں ہیں!۔ 

مینجر

نام تو اس کا ندیم تھا لیکن   اس نام سے  پکارنے والے شاید اس کے گھرو الے ہی تھے، باقی سب کے لیے وہ  "مینجر" تھا۔ اسے "مے نے جر" کی بجائے "مین جر" پڑھا جائے کہ پنجابیوں کا انگریزی کی مدر سسٹر کرنے میں اپنا ایک الگ سکول آف تھاٹ ہے۔  اس عرفیت کی کہانی بھی  دلچسپ ہے۔ اگر آپ سننے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو بیان کی جائے؟  نہ بھی رکھتے ہوں تو بیان کر ہی دی جائے گی ۔
ہماری گلی شیطان کی آنت سے بس ایک آدھ فٹ ہی کم طویل تھی۔ طارق روذ والی سائیڈ سے گلی میں داخل ہوں تو ہمارا گھربائیں طرف سے تیسرا تھا۔ گلی کا دوسرا سرا گلستان روڈ جو کہ اب بمبینو روڈ کہلاتا ہے ، وہاں تک تھا۔ گلی کے عین درمیان میں ایک چوراہا بھی تھا ، جہاں کھڑے ہوکر بائیں طرف دیکھیں تو مرحوم طارق سینما کا گیٹ نظر آیا کرتا تھا۔ محلے کی ساری گلیوں کو قطع کرنے والی یہ افقی گلی الطاف انکل کی تقاریر سے بھی طویل تھی۔ سورج ڈھلنے کے بعد ہم بک بک کرنے کی ٹھرک پوری کرنے کے لیے ظہیر لائبریری تشریف لے جایا کرتے تھے جو گلستان روڈ پر واقع تھی۔ اپنے آپ میں مگن سر جھکا کے چلنے کی عادت کی وجہ سے ہم پوری گلی میں سخت قسم کے بیبے لڑکے سمجھے جاتے تھے اور بڑی بوڑھیاں ہماری مثالیں دیا کرتی تھی کہ ۔۔ اوہ منڈا وی تے ہے ناں ، کدے اکھ اُچّی کرکے نئیں ویکھیا۔۔۔  ہمیں ہمیشہ اپنے میسنے پن پر فخر رہا ہے!۔
انہی دنوں ہم نے نوٹ کیا کہ چوراہے پر جو جتھہ روزانہ محفل جماتا تھا اس میں ایک نیا چہرہ بھی ہے۔ ہم چونکہ اتنے سوشل نہیں تھے اور نہ ہیں، تو سوائے اس جتھے کی طرف ایک مسکراہٹ اچھالنے کے ہم نے اس بارے کوئی تردّد مناسب نہیں جانا۔
یہ تو اس سے اگلی جمعرات جب ہم جمعے والے دن کے میچ کی پلاننگ کررہے تھے تو اس سے تعارف ہوا۔ پستہ قامت، کرس گیل جیسا رنگ، انیل کپور جیسا  ہئیر سٹائل اور مونچھیں، فواد عالم جیسی صحت اور شدید کم گو اور شرمیلا۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ کل کا میچ کھیلو گے تو جواب ملا کہ مجھے تو کرکٹ کھیلنی نہیں آتی ۔ تس پر ہم نے دل میں اس پر تین حرف، دس دفعہ بھیجے ۔ اور جل کر کہا کہ پھر تم ہماری ٹیم کے مینیجر بن جاو۔ بس وہ اس بات کو سیریس لے گیا اور فورا دندیاں نکال کے مُنڈی ہلادی ۔
اگلے دن میچ کے دوران اس کی مینجمنٹ کے جوہر کھلے۔ پہلے تو اس نے ہمیں اس بات پر قائل کیا کہ "سکّا " میچ  کھیل کے کیا فائدہ۔ ناشتہ لگا کے کھیلتے ہیں۔ ہم نے فورا کہا کہ یہ تو جُوا ہوجائے گا ۔ اس نے تھوڑی دیر بعد پھر کہا کہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ٹیم میچ ہارے وہ دوسری ٹیم کو "انعام" کےطور پر ایک بیٹ دے۔ یہ بات ہمارے دل کو لگی اور ہم نے دوسری ٹیم کو اس پر راضی کرلیا۔
یہ ہماری زندگی کا پہلا جُوا تھا۔
اس کے بعد ہمارا "اینٹ" کھُل گیا اور ہم نے بہت سے ناشتے، چاٹیں اور سموسے وغیرہ جیتے۔ اور ان سب کا عذاب دارین  برابر مینجر کو پہنچتا رہا۔ ایک ہی گلی میں رہنے اور ٹیم کی مینجری کی وجہ سے ہماری اس کے ساتھ کافی بے تکلفی ہوگئی اور ہم اسے تقریبا اپنا دوست گرداننے لگے۔ نہلے پر دہلا کہ وہ سات بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ لہذا سوائے روڈ ماسٹری کرنے کے اسے کوئی کام نہیں تھا۔ ہم نے اس سے کئی دفعہ پوچھا کہ پڑھتے کیوں نہیں تو اس نے ہمیشہ ہنس کر ٹال دیا۔ تاش کھیلنا  ، مڈل کلاسیوں میں سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور ہم ہمیشہ ایسے خفیہ ٹھکانے تلاش کرتے رہتے تھے جہاں ہم تسلی سے بیٹھ کر تین چار واریاں ، رنگ کی لگا سکیں۔ یہ ٹھکانہ ہمیں مینجر نے مہیا کیا۔ اسکے گھر کی بیٹھک ہمارا وہ خفیہ ٹھکانہ ثابت ہوئی جہاں ہم گرمیوں کی چھٹیوں میں سارا سارا دن تاش کھیلتے  اور شام کو گھر جا کے کہتے کہ آج تو بہت پڑھائی کی۔۔ تھک گیا ہوں۔
مصروفیات بڑھتی گئیں اور دوستیوں کا دائرہ بھی بدلتا گیا۔ مینجر سے اب کبھی کبھار ہی ملاقات رہتی ۔ اس کے بارے البتہ کہانیاں کافی سننے کو ملنے لگیں۔ کبھی رضا آباد سے مار کھاکے آنکھ سُجائی ہوتی تھی اور کبھی سینما میں جھگڑ کے کپڑے "وغیرہ " پھڑوائے ہوتے تھے۔  ایک دو دفعہ حوالات کی ہوا بھی کھائی۔ اس سے ٹاکرا ہونے پر ہم نے جب بھی پوچھا کہ ۔۔ مینجر، کیہ کرریاں اج کل۔۔ تو اس کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ۔۔ کُج وی نئیں۔۔۔   مینجر، کی کمپنی ، ہولے ہولے کمپنی فلم والی ہوتی گئی۔ تھانے کے بستہ ب میں اس کا نام درج ہوگیا اور عرفیت مینجر لکھی گئی۔ انہی دنوں اس کا سُودی سے جھگڑا ہوا۔ سُودی سے مار کھا کے بھاگنے کے بعد وہ  چھری لے آیا اور بے خبری میں سُودی پر وار کیا۔ راوی بتاتے ہیں کہ چھری کے دو وار برداشت کرنے کے باوجود سُودی نے اسے بھگا دیا تھا۔ خود البتہ دو مہینے ہسپتال رہا ، خون کی سات بوتلیں لگیں اور پیٹ پر بیس ٹانکے۔
مینجر سے آخری ملاقات سیشن کورٹ کے باہر برآمدے میں ہوئی جہاں وہ تقریبا سات دوسرے بندوں کے ساتھ ہتھکڑیوں اور اور بیڑیوں میں جکڑا کھڑا اپنے کیس کی آواز پڑنے کا انتظار کررہا تھا۔ ہم بھی اس زمانے میں عدالتوں میں خوار ہوتے پھررہے تھے کچھ اور وجوہات کی بناء پر ۔ اس نے مجھے دیکھا اور گالی دے کے بولا کہ ۔۔ توں میرے خلاف گواہی دین آیاں ایں ناں۔۔۔ باہر نکل کے ویخ لاں گا تینوں۔۔  ہم نے اس کی بات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا کہ ہم اس وقت اپنے سِیڑی سیاپے میں پھنسےہوئے تھے۔ انہی دنوں ہم نے  ہجرت کی اور وہ علاقہ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد کبھی اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔ نہ ہی پتہ چلا کہ کہاں ہے اور کیا کررہا ہے۔
سوچنے کی علّت بڑی خطرناک ہے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ایک بے ضرر ، کم گو اور دبّو سا بندہ کیسے وہ سب بن گیا جس کی توقع کم از کم ہمیں اس سے نہیں تھی۔ کیا  یہ سب کچھ کسی کی فطرت میں رکھ دیا جاتا ہے؟ یا حالات اس کو اس طرف لےجاتے ہیں؟    یہ گورکھ دھندہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ ۔۔ خواجہ میر درد کا مصرعہ ہے۔۔۔ ناحق ہم  مجبوروں پہ یہ تہمت ہے مختاری کی۔۔۔

کٹھ پُتلیاں ہیں ہم؟

یومِ عُشّاق و پُونڈی وغیرہ

پشتو یا ایسی ہی کسی اور جنگجو زبان کی کہاوت ہے کہ لڑائی کے بعد یاد آنے والا مُکاّ اپنے منہ پر مارلینا چاہیے۔ یہ کہاوت ہمیں اس لیے یاد آرہی ہے کہ عالمی یوم عاشقاں و پُونڈی کے پُرمُسرّت (شاہین) دن پر لکھنے کا فیصلہ ہم نے اس دن کے آخری گھنٹوں میں کیا ہے۔ تو امید واثق ہے کہ  آپ "مُکّے" اور "مارنے" کے بلیغ معنوں تک پہنچ چکے ہوں گے۔
سینٹ ویلنٹائن نامی بندے کے نام پر یہ دن منایا جاتا ہے جبکہ ہمارے فرشتوں بلکہ شیطانوں کو بھی اس بندے بارے کوئی جانکاری نہیں ہے۔ دور جدید کے بھگوان از قسم گوگل و وکیپیڈیا سے کسی بھی علمی معاملے میں مدد لینے کو ہم گناہ متوسطہ سمجھتے ہیں۔ گوگل پر ہم صرف ٹورنٹ فائلز سرچ کرتے ہیں اور وکی پیڈیا پر۔۔۔ چلیں چھوڑیں، آپ کے لیے یہ جاننا قطعا ضروری نہیں کہ آپ بھی یہی سب کچھ کرتے ہوں گے کہ ۔۔۔ آفٹر آل۔۔ آپ بھی پاکستانی ہیں۔
جب ہم اپنے بچپن اور لڑکپن بارے سوچتے ہیں تو اس دن بارے کوئی بھی یاد، یاد کرنے پربھی، یاد نہیں آتی۔ اب ایسا نہیں ہے کہ اس وقت عاشق اور پُونڈی، عنقا تھے، بلکہ بہت ہی میسنی اور گُجھّی قسم کی عاشقی اور پُونڈی ہوتی تھی۔ اس موبائلی اور انٹرنیٹی دور میں  تو یہ کام غبارہ پُھلا کے پھاڑنے سے بھی آسان ہوگیا ہے، اس وقت ایسا نہیں تھا۔۔ بلکہ ۔۔
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔۔۔
والا حال تھا۔ سوشل میڈیائی ہومیوپیتھک قسم کے سٹالکرز (لام سائلنٹ) کی بجائے زندہ جیتے جاگتے، محلے کے وہ بابے جو اپنی مائیوں کی بے رخی سے تنگ آکر، رضاکارانہ طور پر انسداد پُونڈی فورس کے رکن بن جاتے تھے، پڑوس کی ماسیاں اور چاچیاں، جن کو محلےکے ہر عاشق اور معشوق کی بائیو زبانی حفظ ہوتی تھی جو وہ مناسب مواقع از قسم بچوں کی لڑائی، میلاد کےدوران والی چغلی اور طویل زچگیوں کے دوران ایک دوسرے کی خاطر تواضع کے لیے دہرایا کرتی تھیں۔ پھر اصلی والے رقیب رُوسیاہ، جو عاشق اور معشوق کے درمیان نہایت فحش قسم کی افواہیں پھیلانے میں ید طُولی رکھا کرتے تھے۔ 
اُس عاشقی میں عزت سادات جانے کا دھڑکا ہر رقعے اور خط کے آنے جانے پر ایسے گھٹتا بڑھتا تھا جیسے سٹاک مارکیٹ میں حصص کی قیمتیں چڑھتی اترتی ہیں۔ پریم پَتر، مقررہ ہدف یعنی معشوق کو ہٹ کرنے کی بجائے اگر کولیٹرل ڈیمج کی طرز پر کسی اور کو ہٹ کرتا تھا از قسم ابّا، بھائی، بڑی بہن، جس سے نہ کوئی سیٹ ہوتا ہو اور نہ اس کی شادی ہوتی ہو، وغیرہ تو اس سے جو وار آن ٹیرر برپا ہوا کرتی تھی وہ نہایت دلدوز اور دہشت ناک ہوتی تھی۔ جس میں کُھنّے پہلے معشوق کے اعزّہ و اقارب کھولتے تھے اور بعد میں یہ کھلے ہوئے کُھنّے، ابّا کی جوتیوں سے مزید کھولے جاتے تھے۔ چنگیز خانی نسل کے ابّا ہونے کی صورت میں جوتیوں کی بجائے ڈنڈوں اور مُکوں اور لاتوں کا بے جا استعمال بھی عین ممکن ہوتا تھا۔
ہمارا ماننا ایسا ہے کہ اس وقت ہر دن ہر عاشق و پُونڈ کے لیے یوم حضرت سینٹ ویلنٹائن ہوا کرتا تھا اگر چہ ان بے چاروں کو اس بابے ٹھرکی بارے کچھ بھی علم نہیں تھا۔  آج کے چیزی قسم کے ویلنٹائنی عاشق اور ان کی کُوجی قسم کی معشوقیں ۔۔ ایک پُھل۔۔ تین سو کا خرید کر ایک دوسرے کے سوکھی خوبانی جیسے منہ کو گھورتے ہوئے ایک دوسرے کو ہاتھ میں پکڑاتے ہیں۔۔۔ یہ اس خالص اور سچی عاشقی اور پُونڈی کی شدید اور سخت ہتک ہےجو روزانہ بنیادوں پر سب کچھ داؤ پر لگا کر کی جاتی تھی۔ اس سے بھی کُوجی قسم وہ ہے سوشل میڈیے پر اس یوم ربر بیلون کو منا کے کی جاتی ہے۔  شدید بور قسم کی سب ٹویٹس ، جن کا سوائے اس کو جس کو کی گئی ہو، سب کو پتہ چل رہا ہوتا ہے۔۔ ایسے ایسے شعراء کے اشعار جنہیں وہ شعراء خود اپنا کہتے ہوئے شرماتے ہوں، اپنے پیٹ پر لیپ ٹاپ رکھ کے غلط انگریزی میں پرنس چارمنگ بننے کی کوششیں۔۔۔ حمیدہ کوثر عرف میڈ سویٹی کا  افتخارالدین المعروف وِکّی چیمہ سے سب ٹویٹوں میں اظہار عشق سے لے کر قرار عشق تک کے تمام مرحلے طے کرنا وغیرہ۔۔۔
نہ ہوئے ہم تجزیہ کار و تبصرہ نگار وغیرہ ، ورنہ اس دن کی تجارتی  اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتاتے کہ اس خطہ ارض موسوم بہ برصغیر میں پچھلے چند برسوں میں اس پر اتنا زور کیوں لگایا جارہا ہے جتنا زور کلچے کھا کے اگلے دن لگایا جاتا ہے۔
وما علینا الاالبلاغ


جانو کرو ناں

ہمارے آج کے پروگرام کا موضوع  ہے کہ طالبان سے مذاکرات یا آپریشن میں سے کون سا آپشن بہتر اور امن کی ضمانت ہوسکتا ہے۔ پروگرام میں ہمارے ساتھ موجود ہیں،  نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن،  خواتین کے ارمانوں کے  شہزادے اور طالبان کے  پپو یار۔۔ جناب خاں صاحب۔۔۔
جی، خاں صاحب۔ پروگرام میں خوش آمدید۔۔۔ سب سے پہلے میرا سوال یہ ہے کہ آخر آپ کی فٹنس کا راز کیا ہے؟
دیکھیں حامد۔ یہ بہت آسان ہے۔ دیسی مرغیاں کھاو، خالص دودھ پیو، اچھی آب و ہوا میں رہو۔ اب دیکھیں میں کیسے زبردست ماحول میں رہتا ہوں ۔ کوئی ٹینشن پریشانی پاس نہیں آتی۔ ایک اور ضروری چیز ،  یہ بہت ضروری ہے حامد، بہت ہی ضروری ۔۔ دیکھیں اپنے مخالفین کو رج کے بیست کرنا چاہیے ، دیکھیں اس میں کوئی بری بات نہیں  ہے، اس سے نیند بھی خراب نہیں ہوتی اور بندہ فٹ بھی رہتا ہے۔
خاں صاحب، یہ مذکرات جو ہیں۔ یہ آپ کن سے کرنا چاہتے ہیں۔
سب سے ، حامد، سب سے۔ میں تو کہتا ہوں کہ وینا ملک سے بھی مذاکرات کرنے چاہییں کہ او بی بی ۔۔۔ یہ کیا پاک فوج کو بدنام کرتی رہتی ہے۔ میرا سے مذاکرات کرنے چاہییں  کہ خدا کی بندی ، کیمرے کا اینگل ہی ٹھیک کرلیتی۔۔ کسی کام کا نہ پتہ  ہو تو۔۔۔ حامد۔۔ اس میں ہاتھ نہیں دیتے ۔  اب دیکھیں، میں نے کرکٹ کھیلی ہے، ورلڈ کپ جیتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔۔ حامد۔۔ پھر آپ دیکھیں میں نے  کتنی خدمت کی ہے۔ میں نے سیاست میں۔۔۔
بات کاٹتےہوئے۔۔۔
خاں صاحب، آپ نےورلڈ کپ بھی مذاکرات سے جیتا تھا؟
دیکھیں حامد، میں آپ  کو صاف بتادینا چاہتا ہوں۔ ایسی ٹچکریں کریں گے تو میں آپ کے  فلوٹر جیسے  منہ پر گھسن دے ماروں گا۔ مجھے غصہ نہ دلائیں، غصے میں بڑی گندی گالیاں نکالتا ہوں۔۔ میں نے تو اپنے بھائی کو ٹیم سے نکال دیا تھا، تم ہو کیا چیز حامد؟
معذرت خاں صاحب، آپ کو ناراض کرنا مقصد نہیں تھا۔  یہ لیں پیپسی پئیں، خلیفہ صاحب نے اچھے دنوں میں لکھا تھا  کہ آپ یہ مشروب وحشیوں کی طرح پیتے ہیں۔ ۔۔۔
او یار، یہ خلیفہ بھی بڑا  ای  ٹوں ٹوں  بندہ ہے۔
پلیز خاں صاحب، پروگرام لائیو جارہا ہے۔۔
اچھا یہ بتائیں کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے تو اس کے بعد اتنے سارے جنگجو افراد کو کیسے اکاموڈیٹ کیا جاسکتا ہے؟
یہ تو کوئی بات ہی نہیں ہے حامد۔ اس کے بارے تو ہمارے تھنک ٹینک نے پالیسی بنائی ہوئی ہے۔  ڈاکٹر عواب علوی اس تھنک ٹینک کے چئیرمین  ہیں۔ ہم ان سارے سابقہ طالبان کوسمارٹ فون، جینز،  جیکٹ، چشمے اور موبائل ڈیٹا کنکشن فری دیں گے۔ ۔۔ جیسے شوباز شریف نے رشوت میں لیپ ٹاپ بانٹے تھے۔۔۔ اس کے بعد ہم انہیں کہیں گے وہ اب جہاد بل ٹچ شروع کردیں۔ اور پارٹی مخالفین کی پینٹیں ، شلواریں ، دھوتیاں وغیرہ اتار کر  ان کو ساری دنیا کے سامنے ننگا کریں۔ اس سے ان کی جہادی حس بھی زندہ رہے گی اور امن و امان بھی قائم رہے گا۔
خاں صاحب، یہ بتائیں کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے تو؟
دیکھیں حامد، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ مذاکرات کامیاب نہ ہوں اگر ایسا ہوا تو یہ سب اس نقلی بالوں والے موٹے کا قصور ہوگا۔۔اس کی تو کھا کھا کے۔۔۔
۔۔ بات کاٹتے ہوئے۔۔۔
پلیز خاں صاحب، ایسے الفاظ استعمال نہ کریں، ویسے تو آپ کے بالوں بارے بھی لوگ کافی باتیں کرتے ہیں۔۔
حامد، یہ آخری دفعہ ہے کہ میں تمہاری بات کو اگنور کررہا ہوں ۔۔ اب اگر ایسا کیا تو پھر نہ کہنا۔۔ میں نے زمان پارک میں بہت لڑکوں کو پھینٹی بلکہ پھینٹا لگایا ہوا ہے وہ بھی بلّوں سے۔۔ آئی سمجھ؟۔۔ ہاں ۔۔ تو میں کہہ رہا تھا کہ اگر ناکامی ہوئی تو اس کی وجہ یہی جعلی اور دھاندلی زدہ حکومت اور وہ نواجا کُکّڑ ہوگا۔۔ دیکھیں حامد۔۔ یہ کباڑی کی اولاد آج خود کو بڑا مغل اعظم سمجھنے لگی ہے۔ اوئے ، ان کی اوقات ہی کیا ہے آخر؟ دیکھیں حامد۔۔ یہ سب بزدل لوگ ہیں۔ یہ مذاکرات سے ڈرتے ہیں۔ یہ امریکہ سے ڈرتے ہیں۔ یہ فوج سے ڈرتے ہیں۔ یہ اپنی بیویوں سے ڈرتے ہیں۔ میں کسی سے نہیں ڈرتا۔۔۔۔اور دیکھیں حامد، پرپل آنٹی نے مجھے کل ہی بتایا ہے کہ نادرا  کے ساتھ انہوں نے بابرہ شریف والا سلوک کیا ہے۔ آپ خود بتائیں، حامد۔۔ یہ لوگ اس قابل ہیں کہ مذاکرات کرسکیں؟
یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ صرف مذاکرات سے ہی طالبان کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے اور آپریشن کو  "جانو، پلیز نہ کرو ناں" والی کیٹگری میں رکھنا چاہیے۔۔
جی بالکل حامد۔۔۔ میری میاں صاحب سے یہی گذارش ہے کہ ۔۔۔ جانو کرو ناں۔۔

مذاکرات

پاگل پن کی سرحد

سکول سے آزادی ایک ایسا خواب تھا جو ہم نے نرسری سے ہی دیکھنا شروع کردیا تھا۔ اس خواب کی تعبیر بہرحال دسویں پاس کرنے کے بعد ہوئی۔ کالج  کی سہانی اور دلفریب کہانیاں سن سن کے ہمیں یوں لگنے لگا تھا کہ جیسے ہماری زندگی کا مقصد ہی کالج جانا ہے اور ہمیشہ وہیں رہناہے۔ ہمیشہ رہنا والا کام ہم تو نہیں کرسکے لیکن کچھ ایسے کرداروں سے ضرور ملے جو اس پر بڑی ثابت قدمی سے قائم تھے۔  گورنمنٹ کالج دھوبی گھاٹ، جو اب ایک یونیورسٹی بن چکا ہے، فیصل آباد کا سب سے اچھا کالج مانا جاتا تھا۔ تو ایک سہانے دن ہم کنگھی پٹی کرکےداخلہ فارم لینے کالج پہنچ گئے۔ قطار میں لگ کے فارم لیتے ہوئے ہمیں تقریبا ایک گھنٹہ لگ گیا۔  فارم لینے کے بعد ہم کالج سے نکل ہی رہے تھے کہ اچانک ایک شور سا ہوا اور اس کے بعد ٹھائیں ٹھائیں کی آوازیں آنے لگیں۔ ہم نے سوچا کہ شب برات تو ابھی کافی دور ہے اور صبح صبح کوئی برات بھی نہیں آسکتی  اور  وہ بھی کالج میں،  تو یہ پٹاخوں کی آوازیں کہاں سے آرہی ہیں؟ بہرحال باقی خلقت کے ساتھ ہم بھی بھاگ کھڑے ہوئے  اور کالج کے باہر کھڑے ہجوم میں شامل ہوگئے کہ اصل ماجرے کا پتہ چل سکے۔ لیکن ہجوم سے اصل بات کا پتہ کبھی نہیں لگتا، ہر کسی کے پاس اپنی کہانی اور اس کے حق میں دلیلیں ہوتی ہیں، ہم بور ہو کر  وہاں سے چمپت ہوگئے۔
ہمارا داخلہ ہوگیا اور ہم باقاعدہ کالجیٹ بن گئے۔ اس پہلے دن کی اصل کہانی بعد میں پتہ چلی۔ اس دن حافظ شعیب عامر کو ٹانگ میں سات گولیاں ماری گئیں۔ جی ہاں ۔۔ سات۔ حافظ صاحب ہمارے کالجیٹ ہونے سے پہلے جمعیت کے ناظم تھے۔ کسی اختلاف پر جمعیت سے الگ ہو کے ایم ایس ایف میں شامل ہوگئے ۔ یہ اسی کا شاخسانہ تھا۔ اس اختلاف کی کہانی بھی سننے لائق ہے، لیکن وہ پھر کبھی سہی۔  یہ نوے کی دہائی کا آغاز تھا۔ تعلیمی ادارے ، قبائلی علاقوں کا نقشہ پیش کرتے تھے۔ ہم نے اس دور میں اپنی گناہگار آنکھوں سے ایسےایسے ہتھیار دیکھے جو سوائے ہالی ووڈ کی ایکشن فلموں کے دوبارہ کہیں نظر نہیں آئے۔ حافظ صاحب کی ایم ایس ایف میں ہجرت کے بعد کالج میں ایم ایس ایف کا راج مکمل ہوگیا اور جمعیت کا تقریبا صفایا ہوگیا۔ کیسے عظیم طالب علم رہنما تھے۔ ۔۔ صدیق بسرا،   امین گجر،  ٹیپو،  جمال عبدالناصر سینڈو، ۔۔ کینٹین کے سامنے  گراسی پلاٹ پر یہ سب عظیم رہنما تشریف فرما ہوتے تھے۔ میز پر سجے انواع و اقسام کے ہتھیار اور بوتلیں۔ ٹیپو اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے تھوڑی دیر بعد اپنی بار ہ بور اٹھا کے ایک ہوائی فائر داغ دیتے تھے۔ جس سے کالج کی بور اور پرسکون فضا میں ایک زندگی کی لہر دوڑ جاتی تھی، لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ۔۔۔ یہ سب دن دہاڑے اور سر عام ہوتا تھا۔ یہ سب طالب علم رہنما کبھی حصول علم کے لیے کسی کلاس میں نہیں دیکھے گئے اور نہ ہی کسی کی جرات ہوتی تھی کہ ان سے استفسار کرسکے کہ بھیا، یہ سب کیا ہے اور کیوں ہے؟
یہ سب عظیم طالب علم رہنما اپنے اپنے علاقے کے "جگّے " گنے جاتے تھے۔   سید طاہر علی شاہ جو اس وقت ایم پی اے تھے اور کالج کے بالکل ساتھ ہی ان کی رہائش گاہ تھی، ان کی سرپرستی میں ایم ایس ایف کا کالج پر ایسا قبضہ تھا جیسے کسی دور میں کراچی پر بھائی لوگوں کا تھا۔  جمعیت والے کالج میں برائے نام تھے اور جو تھے وہ بھی خالص غیر عسکری، نظریاتی قسم کے بھوندو،  جیسے کہ ہم۔ جو اس دور میں بھی فرسٹ ائیر میں ہوتے ہوئے ، جمعیت کا بلِاّ اپنے سینے پر سجائے احمقانہ شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کالج جایا کرتے تھے ۔  یہ بندوبست زیادہ دیر تک قائم نہیں رہا۔ جڑانوالہ کالج سے مائیگریٹ کرکے جمعیت کے ایک سپہ سالار کو یہاں لایا گیا۔ یوسف چٹھہ، اٹھارہ انیس سال کی عمر، مضبوط جسم ،  دلیر،  اور سونے پر سہاگہ جٹکا دماغ۔ اس سپہ سالا ر نے وہ کارنامے انجام دئیے جو ہمارے فوج کا کوئی سپہ سالا ر آج تک سرانجام نہیں دے سکا۔  زرعی یونیورسٹی سے افرادی کمک اور چنیوٹ بازار کے مرکز سے مادی مدد  کے بل بوتے پر ایم ایس ایف کو کالج سے مار بھگایا گیا۔ جتنی آسانی سے ہم نے یہ بیان کیا ہے ، یہ سب کام اتنی آسانی سے نہیں ہوا۔ مورچہ بند ہوکے دو دو دن جنگ ہوتی رہی جس میں سوائے راکٹ لانچر اور ہینڈ گرینیڈ کے ہر ہتھیار استعمال ہوا۔ بہت سے لوگ زخمی ہوئے  جن میں یہ خاکسار بھی شامل تھا، بہت دن کالج بند رہا اور ہمارا ایک ہم جماعت گلشن کالونی کے گلستان روڈ پر امین گجّر کی چلائی ہوئی گولی کا نشانہ بھی بنا۔ اس کا قصور صرف جمعیت کا حامی ہونا تھا۔ حامی بھی صرف نظریاتی۔ بہت پڑھاکو قسم کا لائق بچہ۔ اس کی موت کو جماعتیوں نے کیسے کیش کرایا وہ بھی ہمیں یاد ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے چھ سات بسیں بھر کے آئیں حافظ ادریس نے اس کی نمازہ جنازہ پڑھائی۔ اور اس سڑک کا نام بھی نعیم شہید روڈ رکھنے کا مطالبہ کیا۔
امین گجّر اس سے دو سال بعد کوکیانوالہ کی ویران سڑک پر قتل ہوا۔ اسے مارنے والے جماعتیے نہیں تھے،  ات خدا دا ویر کے مصداق ، اس کے بہت سے ویری تھے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ مرنے سے پیشتر وہ پانی پانی پکارتار ہا لیکن کوئی ڈر کے مارے اس کے قریب نہیں جاتا تھا۔  اس قتل کے ملزمان میں جو لوگ نامزد تھے، ان میں ایم ایس ایف کی ساری قیادت شامل تھی۔ رمضان کے دن تھے، گلبرگ تھانے کی چھت پر شام کو کلف لگے کاٹن کے سوٹ، رے بان کی عینک اور اجرک لپیٹے ، صدیق بسرا کو  آتے جاتے سب دیکھتے تھے ۔ یہ ملزمان اکثر شام کو موٹر سائیکل پر باہر گھومتے بھی دیکھے جاسکتے تھے، لیکن شریف خواتین کی طرح، چاہے دو بج جائیں، تین بج جائیں، سوتے تھانے میں آکے ہی تھے۔
ہمارا جمعیت سے تعلق ایف ایس سی تک ہی رہا۔ کاروباری خاندان سے ہونے کے باعث ہم پرچے کروانا اور پیشیاں بھگتنا افورڈ نہیں کرسکتے تھے اور ان دوسالوں میں ہم نے ہاتھ پیر بچا کے ہر طرح کی سرگرمی میں سرگرم حصہ لیا ۔ خوش قسمتی سے کبھی سرکاری کاغذوں میں نام نہیں چڑھا۔ مزید خوش قسمتی سے ہمیں عقل آگئی۔ یہ سمجھ میں آیا کہ کفر و اسلام کی جنگ نہیں بلکہ مفادات کی جنگ ہے۔ کردار کا فرق البتہ ہے ۔ ہم جن جماعتیوں کو جانتے تھے، ان میں سوائے جنگجو ہونے کے کوئی خرابی نہیں تھی، اور جنگجو ہونا بھی اس معاشرے میں زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے۔ کیونکہ ہم نے قوم کے لاشعور میں ۔۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔۔ کا محاورہ نقش کردیا ہے۔ جماعتیے شرابی نہیں تھے، زانی نہیں تھے، ڈکیتیاں نہیں کرتے تھے، جگّا ٹیکس نہیں لیتے تھے۔ ہاں، ٹانگیں توڑ دیتے تھے۔  بڑی واضح ہدایات ہوتی تھیں کہ گولی ہمیشہ ٹانگ پر مارنی ہے، بندہ نہیں مارنا۔غلط یا درست، ایک نظریہ کے لیے یہ سب ہوتا تھا۔ جبکہ دوسری طرف صرف طاقت اور اس کے نتیجے میں ملنے والے فائدے مدّنظر ہوتے تھے۔ 
پاکستان اب میرے لیے ایک اجنبی جگہ ہے۔ جو کچھ بھی یہاں ہوتا ہے یا ہورہا ہے میں اس سے کسی بھی طرح خود کو ریلیٹ نہیں کرسکتا۔ کُتّے، شہید اور عابد شیرعلی ، رہنما کہلاتے ہیں۔  جمعیت نے چند دن پہلے لاہور میں جو کچھ کیا ، وہ ہمارے قومی کردار کی ایک کلاسک مثال ہے۔ ہم پاگل پن کی سرحد عبور کرچکے ہیں۔

 اب یہاں جو بھی ہو، کم ہے۔

تُوڑِی سائیں

جناح کالونی کو فیصل آباد میں وہی اہمیت حاصل ہے جو طالبان میں مُلا عمر کو ہے۔ اس اہمیت کی دو وجوہات ہیں۔ شیخ صاحبان کی کثیر تعداد اور ہوزری مارکیٹ۔ ہمارے ایک دوست تو جناح کالونی کا نام بگاڑ کے ایک کبیرہ گناہ کا نام لے کر آگے کالونی لگایا کرتے تھے اور اس کی وجوہات میں شیخ حضرات کی "ہم نصابی" سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کیا کرتے تھے۔ ہمارے یہ دوست کافی واہیات تھے!۔
ہم نے اپنے پہلے سکول میں داخلے اور وہاں سے فرار کی داستان ایک دفعہ بیان کی تھی تو جب خاندانی اکابرین کو یقین ہوگیا کہ ہم اس سکول میں بٹنے والے علم سے اپنا حصہ حاصل کرنے پر تیار نہیں ہیں تو ہمیں ایک اور سکول میں داخل کرا دیا گیا۔ یہ سکول کامل فاؤنڈیشن تھا (اب بھی ہے)۔ ہم روزانہ گرےنیکر، سفید اور نیلے چیک والی شرٹ، چمکتے ہوئے بوٹ، سفید 
جرابیں پہن کر ، بستہ گلے میں ڈال کر ، باؤ بن کر سکول جانا شروع ہوگئے۔ 
سکول سے چھٹی کے بعد ہم پیدل ہی اپنی دکان تک مارچ کرتے ہوئے پہنچ جاتے تھے کہ فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ اور وہاں ابّا کا انتظار کرتے تھے جو کسی نہ کسی کام کے سلسلے میں کہیں نہ کہیں گئے ہوتے تھے۔ اس زمانے میں جرابیں اور بنیانیں، استری کرنے کے لیے دیسی ساختہ استریاں استعمال ہوا کرتی تھیں جو کافی وزنی ہوتی تھیں اور یہ کام کرنے والے پریس مین کہلاتے تھے۔ اس وقت شاید چار یا پانچ پریس مین ہماری دکان پر کام کرتے تھے۔ ان میں سے ایک تُوڑِی سائیں بھی تھے۔
نام تو ان کا عبداللطیف تھا لیکن پنجابی روایات کے عین مطابق یہ نام شاید ان کے نکاح کے وقت یا تو نکاح خواں نے لیا ہوگا یا ہمارے ابّا ان کو اس نام سے پکارتے تھے۔ باقی سب لوگوں کے لیے وہ "طیفا" بلکہ "طیفے اوئے " تھے۔ دھان پان، گھنگریالے بال، باریک لیکن لمبی مونچھیں جن کو وہ ہمیشہ بل دینے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔  سمن آباد میں کہیں رہتے تھے۔ اور سائیکل پر جب صبح دکان پر پہنچتے تو ان کی دھج دیکھنے والی ہوتی تھی۔ لمبی لڑیں چھوڑ کر باندھا ہوا لاچہ، بوسکی کا کرتہ، منہ میں پان اور ایمبیسی فلٹر کی ڈبّی ہاتھ میں۔
یہ تو ہمیں علم نہیں کہ ان کا نام تُوڑِی سائیں کس نے اور کیسے اور کیوں رکھا۔ لیکن ان کے قریبی دوست انہیں اسی نام سے پکارتے تھے۔ ہر مرد کو زندگی میں کسی نہ کسی بازی کی علّت ضرور ہوتی ہے۔ انہیں کبوتر بازی کی تھی۔ کبوتروں کی اقسام، ہر قسم کی امتیازی اور غیر امتیازی خصوصیات، کونسی خوراک کس نسل کو کھلائیں تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا، اور ایسی ہی بہت سی جزئیات۔ چاچا باریا (عبدالباری) جو طیفے کے ساتھ ہی کام کرتا تھا، اکثر چھیڑتے ہوئے کہتا تھا کہ۔۔ تُوڑی سائیں نیں اک دفعہ کبوتر اڑایا۔۔۔ دو سال ہوگئے ہالے تیکر واپس نی آیا۔۔ ایڈی لمبی پرواز اے اوہدی۔۔۔ کبوتر، تُوڑی سائیں کی وہ واحد دکھتی رگ تھی جہاں ان کی ساری خوش مزاجی ہوا ہوجاتی تھی۔ اپنے کبوتروں کے خلاف وہ کسی قسم کی کوئی بات سننے کے روادار نہیں تھے۔ 
کبوتروں کے سالانہ ٹورنامنٹ سے پہلے ان کی خوراک میں بادام پستے تک شامل کردئیے جاتے تھے۔ جیسے پرانے نواب حضرات قوت مردمی کے لیے حکیموں سے کشتے بنواتے تھے، ایسے ہی ان خوش قسمت کبوتروں کے لیے کشتے تیار کیے جاتےتھے۔ کیا زبردست زمانہ تھا کہ مزدور بھی سابقہ صدر مملکت والے شوق پورے کرسکتا تھا۔۔ بہر کیف ایک دفعہ ہمارے ابّا کے علم میں یہ بات آئی تو وہ بڑے رسان سے ، جیسی ان کی عادت ہے، طیفے کو کہنے لگے کہ، عبداللطیف، یہ پان سگریٹ چھوڑ کے ایسی خوراک تو خود کھانے لگے تو تیری صحت گامے پہلوان جیسی ہوجائے۔
تو ذکر ہمارے سکول سے شروع ہوا تھا۔ روزانہ جب ہم بستہ گلے میں لٹکائے، خراماں خراماں چلتے، دکان پر پہنچتے تو جو آواز سب سے پہلے ہمیں سنائی دیتی وہ طیفے کی ہوتی تھی۔۔ او ساڈا لنڈے دا باؤ آگیا۔۔ اگرچہ یہ بات ہمیں اتنی اچھی نہیں لگتی تھی بلکہ بالکل اچھی نہیں لگتی تھی لیکن ساری زندگی ہماری کوئی چھیڑ نہ پڑنے کی بڑی وجہ ہی یہ ہے، دوسروں سے پہلے ہم خود اپنا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں۔ طیفے نے جتنی دیر ہمارے ابّا کے پاس کام کیا، وہ ہمیں اسی نام سے پکارتے تھے۔
وقت گزر جاتاہے۔ یہی اس کی اچھائی اور برائی ہے۔ طیفے سے ہماری آخری ملاقات ایک دو سال پہلے ہوئی تھی۔ اپنے ایک دوست کے ساتھ جناح کالونی کا ایک ناسٹیلجک چکر لگارہے تھے کہ ایک دکان کے باہر طیفے کو پریس مشین کے سامنے کھڑے دیکھا، گاڑی رکوائی، ان کے پاس جا کر سلام کیا۔ بہت سا وقت گزر چکا تھا۔  لکھنو کے بانکوں جیسی چھب رکھنے والا طیفا اب ایک کمزور سا بوڑھا تھا۔ چند ثانیوں بعد ایک دم شناسائی کی چمک طیفے کی آنکھوں میں ابھری۔ او باؤ جی تسی۔۔۔ گرمجوشی سے گلے ملتے ہوئے اس نے آہستہ سے میرے کان میں کہا۔۔
لنڈے دا باؤ۔



چنگیزی قورمہ

عرصہ دراز سے ہم نے کوئی کھانے کی ترکیب نہیں لکھی، آخری ترکیب، ازمنہ قدیم میں کبھی لکھی تھی، جب دوست، دوست ہی تھے، دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے۔۔ والے دوست نہیں بنے تھے۔۔
ترکیب، چونکہ بڑی عید کے پر شکم موقع پر پیش کی جارہی ہے تو اس کے لیے کچھ خاص تردُّد نہیں کرنا پڑے گا۔ اجزاء درج ذیل ہیں۔
گائے کی اوجھڑی (بغیر صاف کی ہوئی) ایک عدد
چکّی دنبے کے کپورے۔۔ سترہ عدد
کٹّے کی زبان، چھ عدد
نمک، آدھا چائے کا چمچ
چینی، دو کلو
دار چینی، بالکل نہیں
ہلدی، (کھانے کے بعد پھانکنے کے لیے)
مرچ، جتنی آسانی سے لگ جائے
کیسٹر آئل، دو لٹر
گرائپ واٹر، تین بوتلیں
اوجھڑی، کپورے اور زبانیں (یہ احتیاط کریں کہ زبانیں زیادہ دراز نہ ہوں) کیسٹر آئل میں ڈال کر ہلکی آنچ پر نہ رکھیں۔ بلکہ اتنی تیز آنچ ہو کہ ۔۔ ان چیزوں سے ۔۔ پُج گئی میں پُج گئی ہووو۔۔ کی آوازیں آنے لگیں، جب جلنے کی بو آنے لگے تو گرائپ واٹر کی بوتلیں اڑا اڑا دھممم کرکے انڈیل دیں۔ اب آنچ ہلکی کریں اور دو گھنٹے تک ٹویٹنگ کریں۔ جس میں بچیوں کو جدید طریقے سے "ہراس" کرنے کے نئے طریقے ایجادتے ہوئے، انجائے کریں۔
دو گھنٹے بعد ڈھکن اٹھا کے اس میں باقی مصالحہ جات شامل کردیں۔ چینی ابھی شامل نہ کریں، بلکہ دوسرے چولہے پر اس کا شیرہ تیار کریں۔ جتنی دیر میں شیرہ تیار ہوگا، مصالحہ جات اور باقی اجزاء، رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی۔۔ کے مصداق یک جان وغیرہ ہوچکے ہوں گے۔ شیرہ، اس پتیلے میں ڈال کے، عمران خان کا تازہ ترین حسب حال والا پروگرام لگالیں اور آنچ اتنی ہو کہ ۔۔ نہ تو جیے نہ مرے۔۔ پروگرام ختم ہوتے ہی آپ کی یہ شپیشل مردانہ و زنانہ طاقت والی ڈش تیار ہے۔ 
بٹ نہ ہونے کی صورت میں کھانے سے پہلے ایک احتیاط ضرور کریں کہ یا تو اپنے محلے کے ڈاکٹر کو بھی مدعو کرلیں یا ایمبولینس کا نمبراپنی پہنچ میں رکھیں۔ 
باقی سب خیریت ہے 

ست ماہی انقلاب

سوشل میڈیا سے ہماری جان پہچان کو کافی مدت ہوچکی ہے۔ بلاگنگ سے شروع ہونے والا یہ سفر فیس بک سے ہوتا ہوا ٹوئٹر تک پہنچ چکا ہے۔ سیاست اور مذہب دو ایسے موضوع ہیں جن پر بولنا اور حتمی رائے دینا ہم سب کا فیورٹ ٹائم پاس ہے۔ ابّاجی چاہے جوا ءکراتے ہوں لیکن فقہ اور سیاست کے مسائل پر ہماری در فنطنیاں سننے کے لائق ہوتی ہیں۔ ٹیکس چور وں کی اولاد ، پارسائی کے نقاب چڑھائے ، عام عوام کی تشریف پر ایسے چھتّر رسید کرتی ہے کہ ان کی چانگڑیں ادھ اسمان تک جاتی ہیں۔ یہ سارے مظاہر تو سوشل میڈیا پر عام تھے ۔ لیکن دو سا ل قبل ایک ایسا دُم دار ستارہ اس افق پر ابھرا کہ اس نے تمام دوسرے ستاروں کی روشنیاں ماند کردیں۔ یہ تھے ، نئے انقلابیے، جن کے باوا آدم جنرل پاشا اور شو بوائے ، حضرت عمران خاں مدظلہ العالی تھے۔ جو پچھلے ہزاروں سال سے پاکستان میں انصاف لانے کے لیے کھجل ہوتے پھررہے تھے۔ اس جدوجہد میں ان کے بال اور بیوی دونوں ان کے ہاتھ سے نکل گئےتھے۔ لیکن بھلا ہو ۔۔ کہ حق مہر میں ان کو اتنا کچھ مل گیا کہ بال نقل بمطابق اصل اور پہاڑ پر ایک چھوٹی سی کُٹیا ، جھونگے میں مل گئی۔ جس کے سبزہ زار پر انکی نماز پڑھتے ہوئے ، تصاویر ، اکثر فیس بک کے، گریٹ خاں، خاں دی گریٹ، خان اعظم، جیسے ناموں والے پیجز پر اکثر اپ لوڈی جاتی ہیں اور نونہالان انقلاب کے دل کو بہلاتی ہیں۔
ہمارا قطعی کوئی پروگرام ان انقلابیوں یا ان کے کرتبوں پر لکھنے کا نہیں تھا، نہ ہی ہمیں سیاست سے کوئی ڈائی ہارڈ قسم کی دلچسپی ہے۔ لیکن آفرین ہے ان برگر بچوں پر کہ انہوں نے ہم جیسے نمانے کو بھی مجبور کردیا ہے کہ وہ برگر کا برگر اور پیپسی کی پیپسی کی کردے۔ آگے بڑھنے سے پہلے تین چار اصول ذہن نشین کرلیجیے۔ پہلا یہ کہ ہر شخص کی ذاتی زندگی اس کی اپنی ہوتی ہے، وہ اس میں جو مرضی کرے کسی کو اس پر اعتراض کا حق نہیں ۔ یہ اصول صرف خاں اعظم پر لاگو ہوتا ہے۔ دوسری بات کہ جب کوئی توبہ کرلے تو اس کے ماضی بارے بات کرنا گناہ کبیرہ ہوتا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ یہ اصول بھی صرف حضرت صاحب پر ہی لاگو ہوتا ہے۔ تیسرا اصول ، جو بھی کسی بھی پیرائے میں خاں صاحب یا پارٹی پالیسی(?) بارے مخالفانہ رائے کا اظہار کرے، وہ لفافہ، بکا ہوا، بے ایمان، ضمیر فروش، غدار، یہودیوں کا ایجنٹ، اب اس یہودیوں کے ایجنٹ والی کہانی بھی خوب ہے، پر وہ پھر کبھی سہی، وغیرہ وغیرہ ہوگا۔ اس کی ولدیت مشکوک ہوگی ۔ وہ انتہائی گھٹیا اور بدتہذیب وغیرہ ہوگا۔ علی ہذا القیاس۔ لوگوں کو یہ سب القابات دینے والے اسی نوزائیدہ انقلاب کے نونہال ہوتے ہیں۔
ہم نے انتخابات کے عرصے یا اس سے پہلے بھی ان باتوں کا کبھی ذکر نہیں کیا اور ہمیشہ خاں صاحب اور اس ست ماہی پارٹی بارے حسن ظن سے کام لیا۔ ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ جنہیں یہ برگر بچے سمجھنے سے قاصر ہیں، وہ البتہ الگ بات ہے۔ ایسی چھیڑ چھاڑ تو ہم اپنے معشوقوں سے بھی کرتے رہتے ہیں اور روایتی عاشقوں کی طرح جوتے کھانا ہمارا شیوہ نہیں۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا، تو ہم یہ کہہ رہے تھے کہ اب چونکہ گرد بیٹھ چکی ہے۔ پارٹی گود سے اتر کر زمین پر "رڑنے " کی کوشش میں ہے تو اب اس کا مارجن آف ایرر اتنا زیادہ نہیں رہا۔ ہمیں احساس ہے کہ بت پرستی ہمارے جینز میں شامل ہے۔ ہم کسی کو انسان سمجھنے کے قائل نہیں۔ فرشتے اور شیطان کے درمیان کسی بھی سٹاپ پر ہم نہیں رک سکتے۔ عمران خان کی بہادری اور ان کی حماقت بارے ہمیں کبھی کوئی شک نہیں رہا۔ ان کی حماقت بھی بے مثل ہے اور ان کا چولیں مارنا بھی ۔ جب بھی وقت قیام آتا ہے ، خاں جی ، دھڑام سے سجدے میں گرجاتے ہیں اور جب سجدے کا وقت آتا ہے تو ایک امیدوار قومی اسمبلی کی ڈگری یاسند کی صفائیاں دینے میں اتنے مشغول ہوجاتے ہیں کہ لوگ باقاعدہ ان کا توا لگانا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن حماقت کی حدوں کو چھوتی ہوئی ان کی بہادری کو کبھی اس کی پروا نہیں ہوئی۔ میں اپنے ایک دوست سے جو ایک انصافی ہیں، اکثر کہا کرتا ہوں کہ خاں صاحب، معشوق صفت ہیں جبکہ رہنما، عاشق صفت ہونا چاہیے۔ اس عمر میں بھی ان کے ٹشن دیکھ کے ایسا لگتاہے جیسے کسی ہالی ووڈ فلم کی شوٹنگ پر پہنچے ہوں، کمرے کے اندر بھی کالے شیشوں والی عینک ایسے لگا کے بیٹھے ہوتے ہیں جیسے "حافژ" صاحب ہوں۔ اس سے ہمیں وہ فوٹو یاد آگئی جس میں عائلہ پابی انتہائی پیار سے انہیں پانی کی بوتل پیش کررہی ہیں اور خاں جی کالے شیشوں کی عینک لگائے بُلیوں میں نمّا نمّا ہنس رہے ہیں۔ جیسے گونگی۔۔۔ چلیں چھوڑیں۔۔۔
تو اس حافژ صاحب والی فوٹو سے ہمیں ایک لطیفہ یاد آگیا کہ گاوں میں ایک ایسے ہی حافژصاب چوہدریوں کے گھر مٹھائی لے کے پہنچ گئے، چوہدرائن نے اندر بلا کے انہیں بٹھایا اور کہا کہ میں ذرا نہالوں ، آپ انتظار کرلیں ، چوہدرائن بڑے اطمینان سے نلکا گیڑ کے نہاتی رہی کہ حافژ جی کو کونسا نظر آتا ہے۔ نہانے سے فارغ ہونے کے بعد چوہدرائن نے حافژ جی سے پوچھا کہ یہ مٹھائی کس خوشی میں ہے تو حافژ نے نماّ نمّا ہنستے ہوئے کہا کہ ۔۔ میری بینائی واپس آگئی ہے۔۔۔ ہیں جی۔۔
سوشل میڈیا کے یہ پارسا مجاہد، آپ کی ماں بہن ایک کرتے ہوئے ایک لمحہ بھی نہیں لگاتے۔ کسی کی لطیف بات کا جواب بھی ایسے دیتے ہیں جیسے وہ ارائیں اور جاٹ والے لطیفے میں ہوا تھا کہ۔۔ رلیا نئیں تے۔۔۔ ان کو ہر مخالف کو اس حرف تہجی پر چڑھانے کا شوق ہوتا ہے جو ہمارے عزیز من ،مولبی صاحب کا انتخابی نشان ہے۔ اور ہر دوسرے کی نسبت دوسرے نسوانی عضو سے جوڑتے ہیں جوکہ اصل میں سب ہی ہوتے ہیں الاّ یہ کہ آپ بڑے آپریشن سے پیدا ہوئے ہوں۔۔ اف یو نوء وٹ آئی مین۔۔۔
رائے کا اختلاف ، کسی بھی معاشرے کی بڑھوتری کے لیے ماں کے دودھ کی حیثیت رکھتا ہےا ور ڈبّے کا دودھ پینے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔ اردو میڈیم کھوتی سکولوں میں پڑھنے والے آپ کو ایسی ایسی ذات کی گالی دے سکتے ہیں کہ آپ کے آباو اجداد نے کبھی خواب میں بھی نہ سنی ہوں۔ لہذا اس میدان میں مت کھیلئے۔ تمیز کے دائرے میں آجائیے۔ نہ ہی سیاست دوسال پہلے ایجاد ہوئی تھی اور نہ ہی آپ کے پہلی دفعہ ووٹ دینے سے اس دنیا کو الیکشن نام کی چیز کا پتہ چلا ہے۔ یہ سب چیزیں آپ کی جینز سے بھی پرانی ہیں۔ اختلاف رائے کو برداشت کریں، مذاق سے لطف اندوز ہوں اور اگر اسی سطح پر اس کا جواب دینے کی اہلیت آپ میں نہیں ہے تو اپنی تھوتھنی بند رکھنے میں ہی عافیت ہے۔
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔۔۔

جیدے کا قصور

آپ شاہ زیب خانزادے کو دیکھ لیں۔ یہ شارٹ ہیں۔ یہ تھرڈ گریڈ اینکر ہیں۔ یہ کالمسٹ بھی بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کرسی پر بیٹھیں تو ا ن کے پیر زمین پر نہیں لگتے۔ ان کی ٹائیاں چیپ اور سوٹ لنڈے کے ہوتے ہیں۔ یہ  خود کو بہت بولڈ شو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ پروگرام ختم ہونے پر شرکاء کے پیروں کو ہاتھ لگا کے معافی مانگتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ سر، میرے بریڈ اینڈ بٹر کا مسئلہ ہے۔ میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی ہیں۔ کوئی آفینسو کوئسچن ہوگیا ہو تو فار گاڈ سیک ، پارڈ ن کردیں۔  یہ ان کا کیریکٹر ہے۔ یہ ان کی ایتھکس ہیں۔
آپ مجھے دیکھ لیں۔ میں چھ فٹ سے زائد ٹال ہوں۔ میں ایک ہینڈسم اور گڈ لکنگ سٹڈ ہوں۔  آپ یہ دیکھیں ، میں پاکستان کا سب سے فیمس اور سیل ایبل کالمسٹ ہوں۔ میرے کالمز میں ایتھکس، ریلیجن ، صوفی ازم، میٹا فزکس، ماڈرن سائنس،  ریسرچ، وزڈم، انٹرٹینمٹ، سارکیزم، اموشنز، لٹریچر، شو بز ، ہر چیز ہوتی ہے۔ آپ ٹاک شوز کو دیکھ لیں۔ آپ ان کے اینکرز کا موازنہ کرلیں۔ آپ ان کے پروگرامز کی پاپولیریٹی کا گیلپ پول کرالیں۔ آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے ۔ آپ کے ہوش اڑجائیں گے۔ آپ کے ہاتھوں کے طوطے اڑنے کی بجائے دھمال ڈالنے لگیں گے۔ آپ کا یہ جینئس کالمسٹ ہی پاکستان کے سب سے مقبول ٹاک شو کا اینکر ہے۔ میری سنائی ہوئی انسپریشنل سٹوریز  پر ہالی ووڈ میں فلمیں بن رہی ہیں۔ کروڑوں لوگ میرے دئیے ہوئے لیسنز پر عمل کرکے اپنی لائف چینج کرچکے ہیں۔ ان کی زندگیاں پیشنس، ٹالرینس اور گڈ بی ہیوئیر کا نمونہ بن چکی ہیں۔ یہ سب انہوں نے کہاں سے سیکھا؟ آپ غور کریں۔ آپ جان جائیں گے ۔ آپ کو لگ پتہ جائے گا۔ یہ سب میرے کالمز اور شوز اور میری کرزمیٹک پرسنیلٹی کی وجہ سے ہوا۔ میں ایک جینئس ہوں۔ میں نے ایک پوری قوم کی اخلاقی حالت سدھاری ۔ آپ چاہیں تو وکی پیڈیا پر چلےجائیں۔ آپ وہاں میرے نام کی سرچ کرلیں۔ آپ دیکھیں گے، گوروں نے بھی میری سروسز کو کیسے اکنالج کیا ہے۔  میں ایک لیونگ لیجنڈ ہوں۔
 میں اگر پرنس چارلس ہوں تو شاہ زیب خانزادہ ایک ٹیکسی ڈرائیور۔
اب آپ دیکھیں۔ آپ فیصلہ کریں۔ ایک ناٹا میرے سٹوڈیو پر قبضہ کرلے۔ وہ مجھ سے بحث کرے۔ وہ مجھ سے تلخ کلامی کرے۔ وہ مجھے کہے کہ یہ تیرے باپ کا سٹوڈیو نہیں ہے۔ یہ سب باتیں میں گھر جا کے امی کو بھی بتاسکتا تھا۔ میں نے یہ نہیں کیا۔ میں نے برداشت کا مظاہرہ کیا۔ میں نے اپنے غصہ پر قابو پالیا۔ میں نے کرسی اٹھائی اور اس کی طرف اچھالی کہ چلو کیچ کیچ کھیلتے ہیں۔ وہ رمیز راجہ نکلا۔ اس نے کیچ ڈراپ کردیا۔ اس میں میرا کیا قصور ہے؟۔ کرسی اس کے بازو سے لگی اور نیچے گر گئی۔ آپ   اس کا نان پروفیشنل ایٹی ٹیوڈ دیکھیں۔ جو کرسی کیچ نہیں کرسکتا وہ سکوپ کیسے کیچ کرے گا؟ اتنی کوسٹلی کرسی نیچے گرنے سے ٹوٹ گئی۔ یہ کس کا نقصان ہے؟ یہ اس ملک کے غریب عوام کا نقصان ہے۔ یہ ان کے خون پسینے کی کمائی اجاڑنے والی بات ہے۔ آپ میری رحمدلی ملاحظہ کریں۔ میں پھر بھی اپنی تھرٹی تھری ہنڈریڈ تھاوزنڈ والی کار کی طرف بھاگا کہ وہاں سے فرسٹ ایڈ کٹ لاسکوں۔ میں سنی پلاسٹ اس کے بازو پر لگاسکوں۔ وہ ڈرگیا۔ اس نے شور مچا دیا۔ اس نے کہا۔ ۔۔جیدا بندوق لین گیا جے۔۔۔ آپ غور کریں۔ میں نے آج تک کبھی کڑلی نہیں ماری۔ میں نے چوہے سے کبھی متھا نہیں لگایا۔ اپنی برات والے دن سیبے والے بمب چلنے سے تین دفعہ میرے کپڑے خراب ہوئے۔ میں کیسے گن چلا سکتا ہوں؟  شب برات پر انار چلتا دیکھ کر میں بے ہوش ہوجاتا تھا۔ ایک دفعہ میری بیوی نے چپکے سے آکے مجھے کہا۔۔ بھاووو۔۔۔ اسی دن مجھے شوگر ہوگئی۔

آپ  سمجھ چکے ہوں گے۔ آپ اچھی طرح جان چکے ہوں گے۔ شاہ زیب خانزادے سے میں نے کوئی زیادتی نہیں کی۔ میں نے اسے معاف کردیا۔ میں نے صبر کیا۔ میں نے برداشت سے کام لیا۔ میں نے تو اس کے ساتھ اسی وقت کھیلنا بھی شروع کردیا ۔ اب اگر کسی کو کیچ کرنا نہ آتا ہو تو یہ بھی جیدے کا قصور  ہے؟

زوجہ، کاکروچ اور چھپکلی

آپ عورتوں کو دیکھ لیں۔ یہ ضروری ہوتی ہیں۔ یہ اگر نکاح میں نہ ہوں تو ہر وقت اچھی لگتی ہیں۔ یہ نکاح میں آجائیں تو ہفتے میں ایک دو دن  ہی اچھی لگتی ہیں۔  ان کی باتیں ماننی پڑتی ہیں۔ ورنہ یہ آپ کی "بات" نہیں مانتیں۔ جس سے المیے جنم لیتے ہیں۔ لہذا میں جب بھی اپنی بیوی کی بات کو اگنور کرنے کا سوچتا ہوں۔ اس کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالنے کا ارادہ کرتا ہوں۔ میرے سامنے ویک اینڈ نائٹ آجاتی ہے۔ میں ڈر جاتا ہوں۔ میری گھگھّی بندھ جاتی ہے۔ میں اچھا بچہ بن کے فورا ایسے فاسد خیالات سے جان چھڑ ا لیتا ہوں۔ اور جیسا مجھے کرنے کا حکم دیا جاتا ہے  بعینہ ویسا کرنےکی کوشش کرتا ہوں۔
یہ پرسوں کی بات ہے۔ ناشتے کی میز پر ہماری زوجہ نے ہمیں حکم دیا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر اگر کاکروچ اور چھپکلیوں کے مسئلے کا حل نہ نکلا تو تو سوچ لو کہ اس ہفتے میں دو  چھٹیاں ہیں۔ خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ میری شوگر لو ہوگئی۔ میں نے پلیٹ سے ایک سلائس اٹھایا اس پر مکھن لگایا۔ اس کی ایک بائٹ لی۔ چائے کا ایک گھونٹ بھرا اور مسکرا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور کہا۔ کہ آپ فکر نہ کریں ، ڈونٹ وری۔ آئی ول سارٹ دس آوٹ۔ میں آفس پہنچا میں نے اپنی ساری ریسرچ ٹیم کو اس مسئلے کے حل پر لگا دیا۔ میں نے سارے کام چھوڑدئیے۔ یہ کام تو پھر بھی ہوسکتے ہیں لیکن دو  چھٹیاں ضائع ہوگئیں تو گگومنڈی کے حکیم صاحب کی دوائی ضائع چلی جائے گی۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں رہے گا۔ دنیا اندھیر ہوجائے گی اور من بے کل ۔  ہم سارا دن کام کرتے رہے۔ ہم نے رات بارہ بجے تک اس پرابلم کو سولو کرنے کی کوشش جاری رکھی اور بالآخر ایسے حل ڈھونڈ نکالے جو کاکروچ اور چھپکلیوں کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کردیں گے۔
آپ کاکروچز کو دیکھ لیں۔ یہ بہت سخت جان ہوتے ہیں۔ یہ بہت سارے ہوتے ہیں۔ ان کے رہن سہن کی تھورو سٹڈی کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں ڈیموکریسی ہوتی ہے۔ یہ اپنا لیڈر، الیکشن کے ذریعے چنتے ہیں۔ اگر ہم ان کے الیکشن کمیشن پر ڈاوٹ پیدا کردیں اگر ہم ان کو باور کرادیں کہ الیکشن میں رگنگ ہوئی ہے۔ جو کاکروچ پارٹی ہاری ہے وہ اصل میں جیت رہی تھی اور اسے بے ایمانی اور رگنگ سے ہرایا گیا ہے  تو اس سے کاکروچز میں انارکی پیدا ہوگی۔ وہ ایک دوسرے سے لڑیں گے۔ ایک دوسرے کو ماریں گے۔ ایک پارٹی کے کاکروچ مارے جائیں گے تو دوسری پارٹی ریوینج لے گی اور اس طرح چین ری ایکشن شروع ہوجائےگا۔ اس طرح آہستہ آہستہ سارے کاکروچز ایک دوسرے کو ماردیں گے اور آپ کا گھر کاکروچ فری ہوجائے گا۔ آپ کی بیوی آپ سے ہیپی ہوجائے گی۔ آپ کی ویک اینڈ نائٹ سہانی ہوجائے گی۔ آپ زندگی کو انجائے کرسکیں گے۔ آپ اتوار کی صبح فریش اٹھیں گے۔
چھپکلیوں کا مسئلہ زیادہ کرانک ہے۔ یہ ڈیموکریسی پر یقین نہیں رکھتیں۔ یہ جنگل کے قانون پر یقین رکھتی ہیں۔ یہ اپنا شکار خو د ہنٹ کرتی ہیں۔ اور اکیلا رہنا پسند کرتی ہیں۔ ہم نے بہت  غور و فکر کیا۔ اس غور و فکرمیں تین لارج سائز پیزے اور ڈیو کی چھ دو لیٹر والی بوتلیں لگ گئیں۔ سگریٹ کے دو ڈنڈے بھی اس غور و فکر میں خرچ ہوئے۔ بالآخر ہم ان کی کمزوری ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے۔ ہمارِی سٹڈی نے شو کیا کہ چھپکلے بہت جیلس اور شکی  ہوتے ہیں۔ یہ اپنی گر ل فرینڈ چھپکلی پر ہر وقت  کڑی نظر رکھتے ہیں۔ اگر ان کے دل میں شک پیدا کردیا جائے کہ دوسرے کمرے والا چھپکلا ، آپکی چھپکلی پر بری نظر رکھتا ہے۔ یہ اس کو پٹانا چاہتا ہے، یہ اس کو ڈیٹ پر لے جانا چاہتا ہے۔ تو وہ چھپکلا غصے میں آجائے گا وہ اینگری ینگ چھپکلا بن جائے گا ۔ وہ دوسرے کمرے والے چھپکلے کو دھوکے سے مار دے گا۔ اس پر ڈیسیزڈ چھپکلے کی گرل فرینڈ اس کا انتقام لینے کے لیے باتھ روم والے چھپکلے سے سیٹ ہوجائے گی اور وہ بیڈ روم والے چھپکلے کو ماردے گا۔ یہ بھی چین ری ایکشن ہوگا اور چند ہی دونوں میں چھپکلیوں سے بھی چھٹکارا مل جائے گا۔ آپ کی لائف ، بیوٹی فل اور وائف کوآپریٹو ہوجائے گی۔  آپ کی ویک اینڈ نائٹس گلیمرس  اور ڈیلیشئس ہوجائیں گی۔
ہر مسئلے کا حل بہت آسان ہوتا ہے۔ جیسے ہم نے کاکروچز اور چھپکلیوں کا مسئلہ حل کیا ہے۔ عنقریب ہم دنیا کے باقی مسئلے بھی ایسے حل کرکے تاریخ میں اپنا نام گلابی حروف سے لکھوالیں گے۔



ٹویٹی انتخاب

دل سے اترجانے والے چاہے سونے کے بن جائیں، دوبارہ من موہنے نہیں بن سکتے
============================================================
کسی نے کہا تھا آپ تب مشہور ہوتے ہیں جب ایسے لوگ آپ سے نفرت کرنے لگیں جن کو آپ جانتے تک نہیں۔
=============================================================
دشمنوں کی تین اقسام ہوتی ہیں
دشمن
جانی دشمن
رشتے دار
=============================================================
کسی کو کمتر جاننا  دراصل اپنی کمتری کے احساس کو چھپانا ہوتا ہے
=============================================================
کرکے پچھتانا ، نہ کرکے پچھتانے سے بہتر ہے
=============================================================
نانا پاٹیکر، زید حامد کے ماموں ہیں۔
=============================================================
مذہب کے نام پر دنیا کمانے والے بدترین مخلوق ہیں۔
=============================================================
جو بندہ شدید غصے میں دھیمے لہجے میں بولنا شروع کردے، اس سے ڈرنا چاہیے۔
=============================================================
گالی اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ دلیل ختم ہوچکی ہے
=============================================================
سیاست، ماش کی دال اور چغلی سے پرہیز کرنا چاہیے
=============================================================
سیمسن اینڈ ڈیلائیلا
عمران اور عائلہ
=============================================================
وقت کا پہیہ الٹا نہیں چلایا جاسکتا، چلانے کی کوشش مایوسی اور پاگل پن پیدا کرتی ہے
=============================================================
ضمنی انتخاب، دوسرے ہنی مون کی طرح ہوتے ہیں۔
=============================================================
دشمن کے بغیر زندگی بے رنگ ہے
=============================================================
سونے سے پہلے اور اٹھنے کے بعد جس کا خیال آئے، وہ جانی دشمن ہو تاہے یا جان سے پیارا۔
=============================================================
پرانے دور اچھے تھے، چیزیں سستی تھیں، بندے مہنگے تھے
=============================================================
کبھی ایسی فرصت ملے کہ چاروں طرف کتابیں ہوں اور میں ۔۔۔ اور وہ۔
=============================================================
محبت رسوا کیا کرتی ہے، لاوارث نہیں۔ ماخوذ
=============================================================
کہہ دینا، من ہلکا کردیتا ہے
=============================================================
خوبصورت بڑھاپا، مطمئن باطن کی نشانی ہے
=============================================================
کامیاب بے وقوفی،  بہادری کہلاتی ہے۔
=============================================================
کامیاب بغاوت کو انقلاب کہتے ہیں۔
=============================================================
بندے سب پیارے ہوتے ہیں، کرتوتیں قابل نفرت ہوتی ہیں۔
=============================================================
شک اور پاگل پن میں دھاگے بھر کا فرق ہوتاہے
=============================================================
آسان پیسہ اور میل شاونزم – دنیا میں عذاب جہنم کی ریسیپی
=============================================================
محبت، دنیا سے بے نیاز کردیتی ہے
=============================================================
مانگنے والا کبھی بہادر نہیں ہوسکتا
=============================================================
مرد کا پیٹ اور کمان سے نکلا تیر کبھی واپس نہیں آتا