رخصتی

حالیہ دنوں میں میرے ساتھ عجیب ساماجراہوا ہے۔ میری باتیں کچھ سنجیدہ سی ہوگئیں ہیں، کچھ لکھتا ہوں تو وہ بھی کسی بزعم خود دانشور اور مصلح قوم ٹائپ لکھاری کا لکھا لگتا ہے۔ لکھنے کے بعد میں خود سوچتارہتاہوں کہ یہ میں نے کیالکھ دیاہے؟ حد تو یہ ہے کہ خواب میں بھی ثانیہ و کترینہ کی بجائے رانا مبشر، روئیداد خان، رویت ہلال کمیٹی کے ارکان، "ڈاکٹر" عامر لیاقت وغیرہ کی قبیل کے لوگ آنے لگے ہیں۔ آپ خوب اندازہ کرسکتےہیں کہ صبح جاگنے پر میرے موڈ کی کیا واٹ لگی ہوئی ہوتی ہوگی۔ جن باتوں پر ہنسی آتی تھی، اب ان پرنصیحتیں یاد آنے لگی ہیں۔ شفیق الرحمن اور یوسفی کی بجائے "موت کا منظر اور مرنے کے بعد کیا ہوگا" پڑھنے کا من کرنے لگا ہے۔ ڈائجسٹ پڑھنا لہوو لعب اور فاسقانہ کام لگتا ہے۔ جن محفلوں میں مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا، اب مجھ کو دیکھ کر سب کو ضروری کام یاد آجاتے ہیں۔ اپنے بال برے لگنے لگے ہیں۔ دل میں روز طلب اٹھتی ہے کہ چل بچہ ٹنڈ کرا۔ لیکن ابھی تک اس طلب کی مزاحمت جاری ہے۔ کل رات میں نے اپنی اس حالت پر نہایت رنجیدہ ہوکر اس کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کی تو مجھ پر یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ چند دن پہلے ریموٹ کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے میں ایک ایسے چینل پر جاپہنچا تھا جس کے سحر نے مجھے اب تک جکڑا ہوا ہے اور میں اس سے اپنے آپ کو ابھی تک آزاد نہیں کراسکا۔

آپ یقینا یہ جاننے کے مشتاق ہوں گے کہ وہ چینل کونسا تھا؟ اس کانام تو مجھے یاد نہیں آرہا لیکن کچھ نشانیاں ہیں، وہ بیان کردیتا ہوں کہ شاید آپ اس چینل کا نام یاد بتاسکیں۔

ایک بزرگ کہ نہایت سجے ہوئے سٹیج پر تشریف فرما تھےاور نور ان کی صورت پر ٹوٹ ٹوٹ کر برس رہی تھی۔۔ اوہووو۔۔۔ رہا تھا۔ ان کے دائیں ہاتھ میں ایک چھوٹا جھنڈا(ڈنڈے سمیت) تھا جسے وہ لہرا لہرا کر اور خود لہک لہک کر کچھ کہہ رہے تھے۔ جو میں اپنی کم علمی اور اونچا سننے کی بیماری کی وجہ سے سمجھنے سے قاصر تھا۔ ان کی گود میں ایک چمکدار غلاف والا تکیہ تھا۔جس پر وہ باربار پیار سے بایاں ہاتھ پھیر رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک کم عمر صاحب تشریف فرما تھے۔ جو اپنی سریلی آواز میں کچھ مذہبی مناجات گنگنا رہے تھے۔ سٹیج کے سامنے پنڈال میں بہت سے لوگ وہی کاسٹیوم پہنے بیٹھے تھے، جو مرکزی کردار نے زیب تن کیا ہوا تھا اور یہ سارے لوگ ہل ہل کر اور لہک لہک کر فلک شگاف نعرے بلند کررہے تھے۔ سکرین پر ایک "ٹکر" بھی چل رہا تھا کہ صاحبزادہ (نام میں بھول گیا)مدظلہ العالی سلمہ کی رخصتی! اس رخصتی کی کوئی تفصیل نہ تو ٹکر میں موجودتھی اور نہ ہی دونوں مقررین (وہی ی ی ۔۔۔ سٹیج والے) کی بیک وقت تقاریر سے اندازہ ہورہا تھا کہ اس رخصتی کی نوعیت کیا ہے؟ البتہ نورانی چہرے والے بزرگ زور لگاکررونے کی شدید کوشش کررہےتھے، جیسے شاہ رخ خان زور لگاکر اداکاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کم بخت آنسو تھے کہ نکلنے سے انکاری تھے، اس پر سمجھدار کیمرہ مین نے فرشتہ صورت بزرگ کے کلوز اپ کی بجائے کیمرہ دوبارہ پنڈال میں موجود عقیدت مندوں پر فوکس کردیاجبکہ پس پردہ موسیقی کے طور پر بزرگ کی المناک ہچکیاں (بغیر آنسوؤں والی) بدستور چلتی رہیں۔ میں نے اندازہ لگایا کہ شاید یہ کم عمر صاحب، ان بزرگ شخصیت کے صاحبزادے ہیں اور گھر داماد کے طور پر رخصت ہوکر اپنے سسرال جارہے ہیں اور ان کی جدائی میں یہ رقت آمیز (دیکھنے والوں کے لئے) محفل سجائی گئی ہے!

اس محفل کی براہ راست کوریج نے میرے دل میں وہ کیفیات پیدا کردیں، جن کا ذکر شروع میں کیا گیا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ساری دنیا ایسے ہی کاسٹیوم زیب تن کرکے ہر وقت اسی حلیے میں لہکتی پھرے۔ یہ رنگارنگی اور تنوع ختم ہوجائے اور یک رنگی کی کیفیت پیدا ہوجائے تو دنیا کتنی حسین لگنے لگےگی اور اس کائنات کی تخلیق کا مقصد بھی پورا ہوجائے گا!

میرا دوست "ھ" ،جو نہایت بے ہودہ، بدتہذیب، جاہل، گنوار، منہ پھٹ اور دہریہ قسم کا شخص ہے اور بدقسمتی سے اس وقت میرے پاس بیٹھا تھا، اس نے اپنے منحوس چہرے پر خباثت بھری مسکراہٹ سجائی اور ایک آنکھ میچ کر نہایت لوفرانہ انداز میں کہا کہ عقیدت اور جہالت کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور اس کیس میں تو گلے مل رہی ہیں!

32 مارچ

چاند میری زمیں، پھول میرا وطن ۔۔۔۔ سوہنی دھرتی اللہ رکھے ۔۔۔ اے وطن پیارے وطن ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ،  اگر ملی نغموں، ترانوں، نعروں، فوجی پریڈوں سے ملک ترقی کیا کرتے اور قومیں دنیا میں اپنی پہچان بنایا کرتیں تو یقینا ہم اس کائنات میں بسنے والی سب سے عظیم قوم اور سب سے ترقی یافتہ ملک ہوتے۔

سکول کے زمانے میں ۲۳ مارچ کا اپنا ایک رومان ہوتا تھا۔ مارچ پاسٹ کرتے ہوئے چاق و چوبند فوجی، سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرتے ہوئے ٹینک، توپیں، میزائل اور سونے پر سہاگہ اظہر لودھی کا خون کی گردش تیز کرتا ہوا رواں تبصرہ۔ وہ زمانہ گزرگیا۔ اور اپنے ساتھ بہت سے رومان بھی لے گیا۔ اب 23 مارچ کو بہت سے تلخ سوال میرے سامنے آکر کھڑے ہوجاتے ہیں اور جواب کا تقاضہ کرتے ہیں۔ میرے پاس ان کا کوئی جواب نہیں!

ایک سوال یہ ہے کہ "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ" کا کیا مطلب تھا؟ اگر اس کا مطلب پاکستان کو دین اسلام کے مطابق چلانا تھا تو عمر (رض) سے ایک عام آدمی بھری محفل میں پوچھ لیتا تھا کہ یہ کرتہ تو نے کیسے بنا لیا ایک چادر سے؟ اب آپ اپنے کونسلر سے پوچھ کے دیکھیں کہ بھائی یہ ایک ہی سال میں تو موٹر سائیکل سے کار پر کیسے آگیا تو اگلا پورا مہینہ آپ پشت کے بل سو نہیں سکیں گے اور موٹی گدی والی کرسی پر بیٹھنے سے پہلے بھی دس دفعہ سوچیں گے۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ بھونپو نما لوگ اخبارات میں اس دن بیانات چھپواتے ہیں (اب چینلز پر اپنی سریلی آواز میں کلام شاعر بزبان شاعر کی صورت میں بھی) کہ پاکستان قیامت تک قائم رہنے کے لئے بنا ہے۔ اچھا تو پھر 1971 میں اسرائیل کے دو ٹکڑے ہوئے تھے؟ شاید خدا نے ہمارے لئے اپنے قانون بدل دیئے ہیں۔ ہم جو جی چاہے کرتے رہیں یا یوں کہہ لیں کہ کچھ نہ بھی کریں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں پھر بھی ہم قائم و دائم رہیں گے۔ اور وہ جو مالک کہتا ہے کہ "لیس للانسان الا ما سعی" تو وہ شاید ہمیں چھوڑ کے باقیوں کے لئے کہا گیا ہوگا۔

ہماری رگوں میں یقینا بنی اسرائیل کا خون ہے!

اسی ۲۳ مارچ کے دن چند بزرگ ایسے بھی نمودار ہوتے ہیں، جن کا فرض ہم کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ پاکستان نہ بنتا تو وہ کسی ہندو کی دکان پر منشی ہوتے۔ اور وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتے ہیں اور ہمیں سرزنش کرتے ہیں کہ اللہ کا شکر ادا کرو کہ تم ایک "آزاد اسلامی" ملک کے رہنے والے ہو۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آتاکہ کیا ہندوستان والےہماری سوکن ہیں؟ یا ہمارا ان سے وٹہ سٹہ ہے؟ کیا ہمیشہ ہم ان کو معیار مان کر ہی اپنی حالت ماپتے رہیں گے؟

ایک اور سوال ہے کہ ریاست اگر ماں جیسی ہوتی ہے تو یہ کیسی ماں ہے جو اپنے ہی بچوں کو کھاجاتی ہے؟یہ ماں ہے یا ناگن؟ یا پھر یہ ریاست صرف اس طبقے کی ماں ہے جن کے لئے اسے بنایا گیا تھا اور جو آج بھی سارے وسائل شیر مادر سمجھ کے ڈیک لگا کے پی جاتے ہیں۔ اور پھر اخبارات اور ٹی وی چینلز پر بھاشنوں کی صورت میں ڈکار مارتے پھرتے ہیں۔ عامیوں کے تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان  کے مطالبے پر انہیں ہر سال، اگلے سال ۳۲ مارچ تک کا وقت دے دیتے ہیں۔ اور شاباش ہے ۱۷ کروڑ "غیور" عوام پر جو ۶۲ سال سے ۳۲ مارچ کا انتظار کرتے آرہے ہیں۔ کرتے رہو، قیامت تک!

اوراس پیشینگوئی کے لئے آپ کو رینڈ کارپوریشن کی کسی ریسرچ، ہنود ویہود لابی کا ایجنٹ یا کافروزندیق ہونے کی ضرورت نہیں کہ معاملات اسی طرح چلتے رہے تو ہمارے ان داتاؤں کے پاس کچھ زیادہ ۲۳ مارچیں منانے کا وقت نہیں رہ گیا۔ حشرات الارض کا کیا ہے، آپ کے پاؤں کے نیچے آکر نہ کچلے گئے تو کسی اور کے پاؤں کے نیچےآکر کچلے جائیں گے۔ اور فرق تو ان کو بھی نہیں پڑے گا۔وہ نئےفاتح کے استقبال کے لئے ائیر پورٹ پر ہار لے کر کھڑے ہوجائیں گے، جیسےان کے باپ دادا انگریزوں کے لئے گھنٹوں دھوپ میں کھڑے رہا کرتے تھے۔

بس ذرا حکمرانی کا مزا کرکرا ہوجائے گا!

تناظر!

آج تک اس لفظ کی سمجھ نہیں آئی کہ آخر اس کا مطلب کیا ہے?

انگریز شاید اس کو پرسپیکٹو کہتے ہیں۔ مثلا ایک لفظ ہے فحش۔ اب کچھ لوگوں کو انسانوں کے بنا لباس یا چست لباس میں لپٹے بدنوں میں فحاشی نظر آتی ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کو ستر سالہ مزدور کاڈیڑھ من کی بوری اٹھا کر دوسری منزل پر لے کر جانا فحش نظر آتا ہے۔کوئی کہتا ہےکہ ایک ہی کمرے میں جوان اولاد اور ماں باپ کا سونا فحاشی ہے تو کسی کی رائے میں چائے کے کھوکھے پر کام کرنےوالاچھ سات سالہ بچہ فحاشی کی کلاسیکی مثال ہے! کوئی کہتا ہے کہ جہاں بھوک سے خودکشیاں ہوتی ہوں وہاں شادیوں پر دس دس کھانے پیش کرنا فحاشی ہے۔ کوئی ہزاروں گز پر پھیلے "سادہ" مکانات کو فحاشی سمجھتا ہے، تو کوئی فلمی پوسٹروں اور اشتہاری ہورڈنگز کو ہی فحاشی کی معراج سمجھ کر ان پر سیاہی انڈیلتا ہے اور اپنے تئیں فحاشی کا "بی ناس مکا" دیتا ہے۔ چند لوگ بالغ لطیفوں کو فحاشی سمجھتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو ارباب اختیار کا ڈھٹائی سے جھوٹ بولنا اور بولتے ہی چلے جانا، بدترین فحاشی نظر آتا ہے۔

دہشت گردی بھی ایک ایساہی لفظ ہے۔ کسی کے نزدیک دہشت گرد صرف وہ ہے جو کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں دہشت گردی کرے۔ خود بھی مرے اور ساتھ بیسیوں بے گناہوں کو بھی لے مرے۔ اور اگر کوئی فضا سے میزائل مار کے ایک گناہگار کے ساتھ بیسیوں بے گناہوں کو مارڈالے تو وہ "کولیٹرل ڈیمیج" ہے! جبکہ کچھ کے نزدیک دہشت گردی کی تعریف اس سے بالکل الٹ ہے۔

اسی طرح کچھ لوگ کسی کے زاہد اور متقی ہونے کا فیصلہ حلیے سے کرتے ہیں جبکہ کچھ اس زمرے میں صرف عمل کو دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگ کسی ایک جملے یا پھبتی پر کسی کے اخلاق وکردار پر حکم لگادیتے ہیں۔ جبکہ کچھ کسی کے بارے میں کوئی حکم لگانا یا کسی کو "جج" کرنا ہی سب سے بڑی بد اخلاقی سمجھتے ہیں۔

میں بہت حیران ہوں کہ ایک ہی لفظ "تناظر" کے اتنے تناظر کیسے ہوسکتے ہیں؟ کوئی دانشور، فلسفی، صوفی، درویش ہے جو میری اس الجھن کو دور کرے!

میرا پسندیدہ شاعر

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔ وہ پاکستان کے قومی شاعر بھی ہیں۔ آپ بہت عرصہ پہلے سیالکوٹ کے کسی محلے کے کسی گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ پیدائش کے وقت آپ صرف محمد اقبال تھے، ڈاکٹر، پی ایچ ڈی (اس وقت بھی ہوتی تھی!) کرنے کے بعد، سر، انگریز کی مہربانی سے اور علامہ، پاکستان بننے کے بعد بنے تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ سے حاصل کی اور اعلی تعلیم انگلستان اور جرمنی وغیرہ سے حاصل کی جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کے والد ایک متمول شخص تھے۔ ورنہ اس دور میں تو عام آدمی کے لئے لاہور سے امرتسر جانا مشکل ہوتا تھا کجا کہ فرنگیوں کے دیس میں بندہ سالوں گھومتا پھرے۔

علامہ اقبال کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے تمام مکاتب فکر کے لوگ مستفید ہوسکتے ہیں۔ سوشلزم والے "اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگادو" گاتے پھرتے ہیں۔ نشاۃ ثانیہ والے "نیل کے ساحل سے لے کرتابخاک کاشغر" کا الاپ جاپتے ہیں۔ علماء حضرات جمعے کے خطبے ان کے اشعار سے سجاتے ہیں اور اپنے اکابرین کے ان فتووں سے صرف نظر کرتے ہیں جو انہوں نے علامہ کی شان میں دئیے تھے۔ سول سوسائٹی والے "ذرا نم ہو تویہ مٹی" کو اپنا ترانہ بنائے پھرتے ہیں۔مارشل لاء والے "بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے" کو اپنی ٹیگ لائن کے طور پر سجاتے رہے اور جمہوریت والے "سلطانیء جمہور کا آتا ہے زمانہ" گاتے رہے۔ فوج والے "شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن" کو اپنا ماٹو قراردیتے رہے ہیں۔ لیکن یہاں آکر ایک مخمصہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی نظام بندوق کے زور پر نافذ کرنے والے بھی اسی شعر کو اپنا ماٹو قراردیتے ہیں۔ اب اصل مومن کا فیصلہ کرنے کے لئے ہم پچھلے دس سال سے الجھے ہوئے ہیں! اور تو اور ہندوستان والے بھی ان کے "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" کو اپنا پسندیدہ ترین ملی نغمہ سمجھتے ہیں۔

علامہ اقبال کی سیاسی خدمات بھی بے پناہ ہیں۔خطبہ الہ آباد کسی نے پڑھا ہویا نہ پڑھا ہو، اتنا ضرور جانتا ہے کہ پاکستان کا نظریہ اس میں پیش کیا گیاتھا۔ اور اس کی تصدیق کرنا کوئی ضروری نہیں سمجھتا کہ بزرگوں کی باتوں پر شک کرنا بےادبی ہوتی ہے۔ مبینہ طور پر پاکستان کا خواب بھی انہوں نے ہی دیکھا تھا۔ مبینہ اس لئے کہ اس خواب کی تعبیر وہ آج دیکھ لیں تو خواب دیکھنے سے ہی توبہ کرلیں۔ چند محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ جس تصویر کو بنیاد بنا کر ان پر مفکر پاکستان کا ٹیگ لگایا گیا ہے، اس میں تو وہ انتظار کررہے ہیں کہ علی بخش حقہ تازہ کرکے کب لاتا ہے؟ اور سوچ رہے ہیں کہ اگر علی بخش اسی طرح ہر کام دیر سے کرتا رہا تو وہ اس کی جگہ نیا ملازم رکھ لیں گے!

فرض کیجئے اگر علامہ اقبال نہ ہوتے تو پی ٹی وی کے خبرنامے کے بعد اظہر لودھی کی آواز میں کس کے اشعار پڑھے جاتے؟ حسرت موہانی کے تو کم ازکم نہیں۔ سوچئے، خبرنامے کے بعد اظہر لودھی یہ شعر پڑھتے تو کیسے لگتے کہ
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے ۔۔۔

اتفاق (فونڈری نہیں) سے پچھلی دو تحاریر میں ایک درخواست ہے اور دوسرا خط۔ لہاذا میں نے سوچا کہ اردو "ب" کے پرچے کی تیاری پوری ہوجائے، اسی سلسلے میں یہ مضمون قلم بند کیا گیا ہے۔ المشتہر۔۔۔۔ جعفر عفی عنہ۔۔۔

پِینَو بنام شَوکا

میری جان شوکے!

آداب محبت و سلام عشق وغیرہ وغیرہ کے بعد عرض ہے کہ میں بالکل خیریت سے ہوں اور تمہاری خیریت خداوند کریم سے نیک مطلوب چاہتی ہوں۔ شاعر کہتا ہے کہ
روشنی چاند سے ہوتی ہے ستاروں سے نہیں
محبت شوکے سے ہوتی ہے ساروں سے نہیں
پچھلے خط میں یہ شعر تم نے کس سے پوچھ کر لکھا تھا کہ
کاؤکاو سخت جانی ہائے تنہائی، نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
بھلا کوئی اپنے مشوق کو ایسے شیروں والے شعر بھی لکھتا ہوگا جو صبح سے شام تک جواء کھیلتے ہوں! ہااااا ہائے۔۔۔۔

اتنے دن ہوگئے ہیں اور تم سے ٹاکرا ہی نہیں ہوا۔ میں نِگَّو کے گھر بھی گئی تھی کہ شاید تمہارے درشن ہوجائیں۔ پر تم تو اپنے ٹُٹ پَینے یاروں کے ساتھ نہر پر نہانے گئے ہوئے تھے۔ صئی صئی بتانا صرف نہانے ہی گئے تھے ناں؟

کل مولیوں والے پرونٹھے پکائے تھے، تمہیں بہت پسند ہیں ناں۔ تمہارے لئے لے کر ہی میں نگو کے گھر گئی تھی کہ اس کے چھوٹے بھائی کے ہاتھ تمہیں بھجوادوں،مگر تم ملے ہی نہیں تو تمہارے حصے کے اٹھ پرونٹھے بھی میں نے آپے ہی کھالئے۔ اس کے بعد تمہاری یاد نے اتنا ستایا کہ ساری رات نیند نہیں آئی! ہائے ظالما تیری یاد بھی تیرے ورگی ظالم ہے۔۔۔

ہن ویکھو ناں، خط پہنچانے کا کرایہ ٹُٹَّے چھتر کی طرح بڑھتا ہی جارہا ہے۔ چاچے شیدے کا چھوٹا منڈا، جو اب اتنا چھوٹا بھی نہیں رہا، کل خط پہنچانے کے دس روپے اور گریوں والے گڑ کی دو پَیسِیاں مانگ رہا تھا۔ میں نے بمشکل اس کو پرانے ریٹ پر راضی کیا۔ اب کوئی اور ڈاکیا ڈھونڈنا پڑے گا۔ ویسے بھی اب وہ شہدا مجھے ایسے دیکھنے لگا ہے جیسے تم دیکھتے ہو! چوہڑا جیا نہ ہووے تے۔۔

جلدی سے جلدی اس کا جواب لکھنا اور اس دفعہ کوئی اچھے سے عشق مشوقی والے شعر بھی لکھنا، وہی جوئے اور شیر والے جیسے نہ ہوں، ورنہ فیر میں تم سے نراض ہوجاؤں گی اور تجھے میری قسم ہے کل ہماری گلی میں سے ضرور گزرنا۔ میں اپنی باری میں سے تجھے دیکھوں گی۔ اگر میری "فرمائش" یاد ہوتو وہ بھی باری میں سے مجھے پکڑا دینا۔ دوبجے دوپہر کے بعد آنا۔ میں تمہارا انتظار کروں گی۔ اللہ بیلی۔۔

ڈبے پہ ڈبہ، ڈبہ ہے گول
میرا شوکا، ساری دنیا میں انمول

صرف اور صرف تمہاری ۔۔۔ پِینَو

درخواست ملازمت برائے بھوت لکھاری

بخدمت جناب جاوید چوہدری صاحب، کالم نگار (درجہ اول) و یکے از اینکراں و ماما جاتِ پاکستان
جناب عالی!
مودبانہ گذارش ہے کہ فدوی ازمنہ قدیم سے آپ کے کالم کے متاثرین میں شامل ہے اوراس قوم کو سدھارنے کے لئے آپ نے جو قلم توڑ کوششیں کی ہیں، ان کا بھی اخباری شاہد ہے۔ عرض گذارش یہ ہے کہ بقول آپ کے، اس قوم کے درد میں آپ کو ذیابیطس جیسے موذی مرض نے جکڑ لیا ہے جس سے یہ خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ آپ زندگی کے "اصل" لطف سے بھی محروم ہوسکتے ہیں۔ اس صورتحال کی گھمبیرتا میں اضافہ اس وقت ہوا جب کچھ عرصہ پہلے آپ کی کچھ تصاویر فیس بک پر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جس میں آپ بھابھی محترمہ کے ساتھ چھٹیاں منا رہے تھے۔ ان تصاویر کو دیکھ کر وہ مشہور محاورہ یاد آگیا جس میں ایک آسمانی مخلوق کو، ایک ایسی مخلوق کے پہلو میں بتایا گیا ہے، جسے حضرت ڈارون نے انسان کا جد امجد قرار دیا تھا!
روز کالم لکھنے اور ٹاک شو کرنے کی ٹینشن آپ کو دن بدن ڈپریس کرتی جارہی ہے۔ یہ ساری صورتحال بطور ایک "ڈائی ہارڈ فین" میری برداشت سے باہر ہے۔ اس لئے میں اپنی خدمات پیش کرنے کی جسارت چاہتا ہوں۔ آپ کوکرنا صرف یہ ہے کہ مجھے کالم کا موضوع بتانا ہے جو آپ کو "اوپر" سے موصول ہوتا ہے، اس پر کالم لکھنا میرا کام ہے۔
آپ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ یہ کیا واہیاتی ہے؟ میں آپ جیسا کیسے لکھ سکتا ہوں؟ اس شک کو دور کرنے کے لئے آپ یہاں اور یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ خود بھی شک میں پڑجائیں گے کہ شاید یہ آپ کے لکھے ہوئے کالم ہی ہیں جو کسی نامرادنے چراکر چھاپ دیئے ہیں۔ ایسا بالکل نہیں بلکہ یہ میری آپ سے والہانہ عقیدت کا کرشمہ ہے جسے وارث شاہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ "رانجھا رانجھا کردی نیں میں آپے رانجھا ہوئی"
مجھے ملازمت دینے کی صورت میں آپ معاشی طور پر بھی بہت فائدے میں رہیں گے۔ ایک کالم میں آپ نے ذکر کیا تھا کہ آپ کا پرسنل ریسرچ سٹاف سات آٹھ افراد پر مشتمل ہے۔ مجھے ملازمت دینے کی صورت میں آپ ان سب کی چھٹی کرسکتے ہیں کیونکہ آپ کے کالمز جیسی ریسرچ تو میرے بائیں ہاتھ کاکام ہے۔ ویسے بھی آپ کے قارئین میں اس ریسرچ کو کراس چیک کرنے کی صلاحیت ہونا ناممکن ہے۔ اور جن میں یہ صلاحیت ہے وہ آپ کے کالم پڑھنے کے روادار نہیں!بدقسمت لوگ۔۔۔
قصہ مختصر، اس سودے میں آپ کا فائدہ ہی فائدہ ہے۔ ایک تو آپ دباؤ، پریشانی، ڈپریشن وغیرہم سے نجات حاصل کرکےزندگی کے بچے کھچے سال اسے "انجائے" کرتے ہوئے گزار سکتے ہیں، اور دوسرا آپ کی شہرت، دولت اور طاقت میں بھی کمی نہیں آئے گی، بلکہ ان سب میں، میرے آنے سے اضافہ ہی ہوگا۔ آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔۔۔ شرائط ملازمت اور مالی امور بالمشافہ ملاقات میں طے کئے جاسکتے ہیں۔
مجھے یقین واثق ہے کہ آپ اس "بمپر آفر" سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگی خوشیوں سے بھر لیں گے! اور میری دال روٹی بھی چلتی رہے گی۔۔۔۔
خیر اندیش

سالگرہ

میرے جیسا بندہ کہ جس کا بچپن نادانی، نوجوانی حیرانی اور جوانی پریشانی میں گزری ہو (جوانی ویسے ابھی پوری طرح گزری نہیں، تھوڑی سی باقی ہے)، اس کے لئے سالگرہ کچھ زیادہ خوشی نہیں لاتی کہ ایک اور سال ان حسرتوں کا بھگتان بھگتتے گزر جاتا ہے جو نہ پوری ہوتی ہیں نہ جان چھوڑتی ہیں!

لیکن یہ سالگرہ ایسی ہے جو میرے لئے واقعی خوش ہونے کا موقعہ ہے۔ آج کے دن ٹھیک ایک سال پہلے اس بلاگ کی پہلی پوسٹ شائع ہوئی تھی۔ تو یہ بلاگ ٹھیک ایک سال کا ہوگیا ہے۔ اگر بدقسمتی سے آپ پچھلے ایک سال سے اس بلاگ پر آرہے ہیں اور اپنی سخت جانی کی وجہ سے پوسٹیں بھی پڑھتے رہے ہیں تو شاید آپ نے محسوس کیاہوگاکہ میرا "کلیدی تختہ" کچھ رواں ہوگیا ہے۔ یا پھر میرا ایسا ہی گمان ہے۔ اور سیانے کہتے ہیں کہ ہمیشہ اچھا گمان کرنا چاہئے۔

ارادہ تو یہ تھا کہ اپنی تحاریر اور ان پر کئے گئے تبصروں کا ایک چوندا چوندا انتخاب آپ کی خدمت میں پیش کرتا۔ لیکن پھر سوچا کہ یہ تو ان لکھنے والوں کی تحاریر کے ساتھ کیا جاتا ہے جو یا تو داعی اجل کو لبیک کہہ چکے ہوتے ہیں یا بس کہنے ہی والے ہوتے ہیں۔ اور میرا ابھی مرنے کا کوئی ارادہ نہیں( کسی کا بھی نہیں ہوتا!) کہ میں نے تو ابھی اس کے بچوں کی خوشیاں بھی دیکھنی ہیں! اور ویسے بھی بے شرم جلدی نہیں مرتے۔

اپنے دوستوں کا شکریہ میں سوویں پوسٹ میں ادا کرچکا ہوں، باربار بلکہ اب توایک بار بھی شکریہ ادا کرنا ہماری تہذیب میں معیوب سمجھا جانے لگا ہے اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں کتنا تہذیب یافتہ انسان ہوں۔ انسانیت کو مجھ پر فخر بلکہ فخر عالم ہونا چاہئے! ہیں جی!!

دلڑی علیل اے

آپ خود کو جتنا مرضی سنگدل بنانے کی کوشش کرلیں، اخبار پڑھنا چھوڑ دیں کہ روزانہ ایک ہی خبر کوئی کب تک پڑھے؟ نیوز چینلز پر تین حرف بھیج دیں کہ فشار خون بلند نہ ہو اوربھوک لگتی رہے۔ کوئی کیلے کے چھلکے سے پھسل کر ٹانگ تڑوالے تو اس پر ہنس ہنس کے دہرے ہونے کا حوصلہ پیدا کرلیں لیکن پھر بھی آپ کے پتھر دل میں یہ سن کر رقت پیدا ہوسکتی ہے کہ ایک یتیم لڑکی جوخاندان کی واحد کفیل ہو، اپنے خاندان کے لئے رزق کا بندوبست کرنے کے بعد، رات گئے، گھر کی عافیت میں واپس جاتے ہوئے اسے، دولت اور رسوخ کے نشے میں چور دو افراد اغوا کرکے ساری رات ہوس کا نشانہ بناتے رہیں اور صبح سڑک پر پھینک دیں۔ یہ ماجرا پڑھ کر میرے جیسے سنگدل کے دل میں بھی جونک لگ سکتی ہے، اس کی آنکھ میں بھی آنسو اور زبان پر بددعا آسکتی ہے۔ اس کے دل میں بھی تمنا جاگ سکتی ہے کہ کاش! میں اپنے ہاتھوں سے ان بے غیرتوں کے ٹکڑے کروں۔آپ یقینا مجھے جذباتیت کا شکار قرار دیں گے، قانون کی پاسداری کا آموختہ یاد دلانے کی کوشش کریں گے، قانون کو ہاتھ میں لینے کے بھیانک مضمرات سے آگاہ کریں گے، معاشرے میں انارکی پھیلنے کے خدشات سے ڈرائیں گے۔ لیکن انارکی اور کس طرح کی ہوتی ہے؟

میں بہت تکلیف میں ہوں اور مجھے بہت دکھ ہے اور میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس کیفیت سے نکلنے کے لئے کیا کروں؟ ظالموں کے لئے بددعائیں کرتے ہمیں باسٹھ سال ہوگئے۔ سنتے تھے کہ مظلوم کی بددعا لگ جاتی ہے لیکن ہماری تو بددعا بھی نہیں لگتی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ہی ظالم ہیں!

کڑی انقلابی

گردش زمانہ نے یہ دن بھی دکھائے کہ اب کڑیاں بھی انقلابی آنے لگی ہیں۔ اگرچہ یہ انقلاب زیادہ تر ملبوسات کی جدید تراش خراش (تراش زیادہ خراش کم!)، مہندی کے نت نئے ڈیزائن، موبائل کے سستے پیکجز پر مہنگی غیبتیں، میکس فیکٹر کی نئی مصنوعات وغیرہ وغیرہ تک ہی محدود ہے۔ اس انقلاب میں باورچی خانے کا کوئی ذکر اس لئے نہیں، کہ انقلابی کڑیوں کو چولہے چوکے سے کچھ زیادہ رغبت نہیں کیونکہ بقول ابرار الحق

پینی پیپسی تے کھانے برگر۔۔۔ بَلّے نی خوراکاں تیریاں

انقلابی کڑیاں اب سویٹر بننے کے بجائے فیس بک پر دوستوں کا نیٹ ورک بنتی ہیں۔اور ان دوستوں میں میرے جیسے منڈوں کو شامل کرتی ہیں، جوشمس الدین کی دوستی کی درخواست تو تین تین مہینے تک التواء میں رکھتے ہیں، لیکن ان کڑیوں کو ڈھونڈ کر بھی دوست بنانے میں ہرج نہیں جانتے۔ اور فیس بک پر کوئی چیز شئیر کرتے ہوئے ان میں ان جدید انقلابنوں کو ٹیگ کرنا ہرگز نہیں بھولتے۔ رات کے پچھلے پہر سٹیٹس، پر تبصرہ تبصرہ بھی کھیلتے ہیں اور ایک میسنا سا نِمّا نِمّا فلرٹ کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھتے ہیں۔

اس سارے فضیحتے کا فائدہ اس لئے نہیں کہ شادی کے بعد زیادہ سےزیادہ دوسرے بچے پر ہی سارا انقلاب، ڈائپرز، فیڈر، گرائپ واٹر وغیرہ کی نذر ہوجاتا ہے۔۔۔۔

حسرت ان "انقلابوں" پہ ہے جو بن "آئے" مرجھا گئے!

محراب خوش قیام سے آگے نکل گئی

محرابِ خوش قیام سے آگے نکل گئی
خوشبو دیے کی شام سے آگے نکل گئی

غافل نہ جانئے مجھے مصروفِ جنگ ہوں
اس چپ سے جو کلام سے آگے نکل گئی

تم ساتھ ہو تو دھوپ کا احساس تک نہیں
یہ دوپہر تو شام سے آگے نکل گئی

مرنےکا کوئی خوف نہ جینے کی آرزو
کیا زندگی دوام سے آگے نکل گئی

عاصم وہ کوئی دوست نہیں تھا جو ٹھیرتا
دنیا تھی اپنے کام سے آگے نکل گئی

(لیاقت علی عاصم)

فرار

انسانی ذہن بھی کمال کی چیز ہے!

ہمارے ایک جاننے والے ہیں، دوست اس لئے نہیں کہ دوستی تو ہمیشہ برابر والوں میں ہوتی ہے، ڈاکٹر ہیں، اپنا کاروبار بھی ہے۔ایک یورپی ملک کی شہریت کے حامل ہیں۔ مہنگی گاڑیاں ہیں، پر تعیش رہائش ہے۔ غرض دنیا کی ہر آسائش میسر ہے۔ صحت بھی مثالی ہے۔ اولاد کی نعمت سے بھی مالامال ہیں۔ لیکن جب بھی ملتے ہیں تو ان سے گفتگو کرکے یہ احساس ہوتا ہے کہ ان سے زیادہ فکرمند اور پریشان شخص اس دنیا میں شاید ہی کوئی اور ہو! شہریت یورپی ملک کی، رہائش خلیجی ملک میں اور فکر میں مبتلا ہیں ایک تیسری دنیا کے پسماندہ ملک کی۔ اتنے دلدوز اور دل سوز انداز میں اپنے آبائی وطن کے مسائل (سیاسی) پر اظہار خیال کرتے ہیں کہ آنکھیں بھر آتی ہیں۔ گفتگو کا اختتام ہمیشہ اس نوٹ پر ہوتا ہے کہ "ہم کبھی نہیں سدھر سکتے"۔اس آدھ پون گھنٹے کی گفتگو سے مجھے ہمیشہ یہ لگتا ہے کہ ان کا ذہن اپنی مسائل سے عاری زندگی سے بور ہو کر کچھ ٹینشن اور مایوسی کا خواہاں ہے جو اسے اپنی روزمرہ کی زندگی میں میسر نہیں آتی۔ اس گفتگو کے اختتام پر جب وہ جانے کے لئے اٹھتے ہیں تو ان سے زیادہ خوش باش اور تروتازہ شخص پوری محفل میں کوئی نہیں ہوتا۔

انسانی ذہن بھی کمال کی چیز ہے!

ایک دوسرے دوست ہیں، سولہ افراد کے کنبے کے واحد کفیل! ملازمت پیشہ، روز کنواں کھودنے والے۔ بلوں، دوائیوں، فیسوں کے چکر میں گوڈے گوڈے دھنسے ہوئے۔ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے تو باتوں کی ایسی پھلجڑیاں چھوڑتے ہیں کہ شب برات کا گمان ہونے لگتا ہے۔ چٹکلے پہ چٹکلا، ہر آنے جانے والے پر فقرے چست کرنا،سنجیدگی سے اتنے دور، جتنا پوستی، پانی سے ہوتا ہے۔ ان کی باتوں سے کوئی اندازہ نہیں لگاسکتا کہ اس بندے کو غم روزگار چھو کر بھی گزرا ہوگا۔ ہر بات اور ہر واقعے میں سے مزاح برآمد کرلینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ کبھی ان کے منہ سے اپنی پریشانیوں کا ذکر نہیں سنا۔ جب بھی سنا، کوئی لطیفہ یا کثیفہ ہی سنا!

میرا ناقص مشاہدہ بھی اس کی گواہی دیتا ہے کہ جو بندہ اوپر سے جتنا ڈپریس، مایوس اور ٹینشن میں مبتلا نظر آتا ہے، اندر سے وہ اتنا ہی مطمئن اور پر باش ہوتا ہے، یہ سارے ڈفانگ اس نے جان بوجھ کر پالے ہوتے ہیں کہ اصلی نہ سہی نقلی غم ہی سہی! جبکہ جو شخص ہر وقت ہنسنے ہنسانے میں لگا رہے، باتوں کے توتے مینا بنابنا کر اڑاتا رہے، وہ حقیقت میں پریشانیوں اور مشکلات کے عین بیچ میں زندگی کررہا ہوتا ہے!

ایک ادبی نشست

ناظرین! آج کے پروگرام کے ساتھ حاضر خدمت ہیں۔ ہماری آج کی نشست کے معزز مہمانان گرامی میں مشہور شاعر, کالم نگار، ڈرامہ نگار، سفرنامہ نگار جناب لام میم نون اور مشہور نقاد جناب عین غین جیم شامل ہیں۔ تو آئیے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں، جناب لام میم نون سے۔۔۔

آج کے ادبی منظر کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہے میں آپ کے پروگرام میں شامل ہوا ہوں! جہاں تک موجودہ ادبی صورتحال کا سوال ہے تو مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ کوئی زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ میں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ "دیکھتا کیا ہے میرے منہ کی طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قائد اعظم کا پاکستان دیکھ" ۔۔۔

(میزبان بات کاٹتا ہے) لیکن جناب یہ تو کسی اور شاعر کا شعر ہے۔۔۔

تو آپ مجھ پر سرقے کا الزام دھررہے ہیں؟ یہ شعر میں نے پہلے کہا تھا، بلکہ یہ دیکھئے (ڈائری نکال کر اس کا صفحہ کھول کر دکھاتے ہیں) 21 جون 1958 کو میں نے یہ شعر کہا تھا۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ کسی دوسرے شاعر کا شعر ہے؟ آپ کمال شخص ہیں۔ وہ تو نہ ہوا میں غالب کے دور میں، ورنہ پتہ پڑ جاتا غالب کے بچے کو بھی۔ ڈہائی صفحے لکھ کر شاعر بنا پھرتا ہے! (سائیڈ ٹیبل سے ایک ضخیم کتاب اٹھا کر فخریہ انداز سے میزبان کو دکھاتے ہوئے) یہ دیکھئے میرا دیوان! ساڑھے چار ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ آج کل کے شاعر تو ایک غزل لکھ کے "ہف" جاتے ہیں۔ میں اتنی شاعری کرکے بھی تازہ دم ہوں۔

(میزبان برا سا منہ بنا کر نقاد کی جانب متوجہ ہوتا ہے) جناب عین غین صاحب! آپ کیا سمجھتے ہیں کہ موجودہ ادبی منظر نامے میں لام میم نون کی کیا اہمیت ہے؟

(کھنکھار کر گلا صاف کرتے ہیں) دیکھئے! بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ ادب، کوئی مجرد شے نہیں ہوتی بلکہ  یہ کسی بھی قوم کی لاشعوری حسیت سے جڑا ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم قوم ہیں؟ اگر ہاں ! تو اس سے ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا اجتماعی لاشعور، ادب کو قبول کرتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ ادب اس کا حصہ بھی ہے یا نہیں؟ اگر ہم قوم نہیں تو پھر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ ہم کیا ہیں؟ کیوں ہیں؟ کس لئے ہیں؟ جبکہ  ۔۔۔۔۔۔

(میزبان سوچکا ہے، جبکہ شاعر اونگھ رہا ہے اور کیمرہ مین کے خراٹے پورے سٹوڈیو میں گونج رہے ہیں، جبکہ صورتحال سے یکسر لا تعلق حضرت نقاد، دھڑادھڑ دانش کے موتی بکھیرتے جارہے ہیں)