فیرہُن؟

ہمارے یہاں، پچاس کے بعد، جب اولاد جوان ہوجاتی ہے، بیوی، ماں کا روپ دھار لیتی ہے، بہن بھائی اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہوجاتے ہیں، والدین یا تو گزر چکے ہوتے ہیں یا اس کی تیاریوں میں ہوتے ہیں تو بڑا مشکل وقت شروع ہوجاتا ہے جی عمر کے اس حصے میں۔ بچّے، جو اب بڑے ہوچکے ہوتے ہیں، اپنی ساری کمیوں اور ناآسودگیوں کا ذمہ دار باپ کو ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ نے آج تک ہمارے لئے کِیا ہی کَیا ہے ؟؟؟۔۔۔ اور وہ جو پوری زندگی، دن رات محنت کرکےاور اپنا آپ مار کے ان کی خواہشیں ہر ممکن حد تک پوری کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا، اس کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔۔۔۔!

بیوی کو بھی وہ سارے ظلم اور زیادتیاں یاد آنی شروع ہوجاتی ہیں جو بقول اس کے، شوہر نے ساری زندگی اس پر روا رکھیں۔ 'مُنّے کے ابّا' پکارنے والی محترمہ اب اپنا ہر جملہ یہاں سے شروع کرتی ہیں کہ 'اجی کبھی زندگی میں کوئی کام ڈھنگ سے بھی کر لیا کرو'۔۔ اور یہ بات وہ اپنی اولاد کے جھرمٹ میں ملکہ کی طرح بیٹھ کر ارشاد کرتی ہیں اور وہ یہ بھی کہہ نہیںسکتا کہ جن کے بل پر آپ یوں اکڑ رہی ہیں، یہ ڈھنگ کے کام بھی اسی نے کیے تھے!

مرے پر سو دُرّے۔۔۔۔۔کسی بھی مسئلے ،معاملے، جھگڑے، خوشی، غمی میں باپ ہمیشہ ایک طرف اور ماں اور اولاد دوسری طرف ہوتی ہے۔ باپ ہمیشہ غلط ہوتا ہے، ماں چاہے جتنی بھی غلط بات کررہی ہو، اولاد کی نظر میں وہ ٹھیک ہوتی ہے۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہ کہانی تقریبا ہر گھر کی کہانی ہے۔

میرے نزدیک تو جی اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ بندہ عین جوانی میں ہی مرجائے، یہی کوئی پینتیس چالیس کے آس پاس، اس وقت بچے چھوٹے ہوتے ہیں اور چھوٹے بچوں کے لئے ان کے باپ سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہوتی اس دنیامیں۔ بچوں کے لئے باپ، دنیا کا سب سے بہادر، امیر اور اچھا انسان ہوتا ہے۔ وہ تو جب بچّے بڑے ہوجاتے ہیں تو ان پر باپ کی خامیاں اجاگر ہوتی ہیں کہ ان کا باپ کیسا غیر ذمہ دار، ظالم، عیّاش، ان کی ماں کی زندگی برباد کرنے والا اور لفنگا انسان تھا۔۔۔ جوانی میں مرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کے ذہن میں تاعمر باپ کا وہی تاثر رہتاہے جو ان کی بچپن کی یادداشت میں محفوظ تھا۔ اور بیوی کو متوفی خاوند میں وہ خوبیاں بھی نظر آنی شروع ہوجاتی ہیں جو کبھی موجود ہی نہ تھیں۔ مرنے کے بعد سب محفلوں میں اس کا ذکر ایسے ہوتاہے جیسے اس جیسا نیک، پارسا، ذمہ دار، بات کا پکا، بیوی بچوں کا خیال رکھنے والا انسان شاید ہی کوئی اور ہو۔۔۔۔ اور یہ فقرہ بھی کہ بس جی اللہ اپنے اچھے بندوں کو جلدی اپنے پاس بلالیتا ہے۔۔۔۔۔اوروہ رشتے دار جو زندہ ہوتے ہوئے منہ لگانا بھی پسند نہ کرتے ہوں، وہ بھی ایسے تعریفوں کے پل باندھتےہیں کہ ۔۔۔ حق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا۔۔۔۔

تو جی بات یہ ہے کہ ہمارے خطّے کے لوگوں کی اوسط عمر ساٹھ سے کم ہی ہے، تو پندرہ بیس بدذائقہ سالوں کے لئے پوری زندگی کی 'کیتی کرائی کھوہ' میں ڈالنے کا کیا فائدہ؟ میرا تو مفت مشورہ ہے کہ یہی وقت ہے مرنے کا، اس عمر تک پہنچتے پہنچتے دعا کریں کہ اوپر پہنچ جائیں، ورنہ آگے بڑی بدمزگی ہے!!

دماغ کی دہی المشہور بہ میمنٹو

ایک بہترین سا، زیادہ سارے تلوں والا ،کرارا ، کلچہ لیں۔ پھر یہ فلم دیکھیں، فلم ختم ہونے کے بعد دماغ کی دہی بن چکی ہوگی بس اسے کلچے کے ساتھ تناول کرکے زندگی کے مزے لوٹیں!!

ہدایتکار کرسٹوفر نولان کی یہ پہلی فلم تھی جو میں نے دیکھی اور پھر اس کے بعد اس کی ساری فلمیں دیکھ ڈالیں، ڈارک نائٹ بھی، حالانکہ کامک بک کرداروں پر بنی ہوئی فلمیں میں نے کبھی شوق سے نہیں دیکھیں۔ جوناتھن نولان کی لکھی مختصر کہانی 'میمنٹو موری ' ماخوذ  اس فلم میں منظرنامہ کرسٹوفر نولان کا ہے۔ انسانی دماغ اور اس کی پیچیدگیاں اور ان پیچیدگیوں سے بُنے گئے کھیل، یادداشت، حقائق، دھوکہ، حقیقت، گھڑی گئی حقیقت اور بہت سے ڈفانگ آپ اس میں ملاحظہ کرکے اپنے دماغ کو سخت ورزش کرواسکتے ہیں۔ فکشن کا رسیا ہونے کے ناتے، میں اکثر کوئی کہانی پڑھ کے سوچا کرتا تھا کہ اس پر فلم یا ڈرامہ بنانا ناممکن ہے۔ لیکن اس فلم کو دیکھ کے بعد، میں اپنے ایسے بے ہودہ خیالات سے تائب ہوچکا ہوں۔ اگر اس پیچیدہ کہانی پر ایسی فلم بنانا ممکن ہے تو ہر کہانی کو فلمایا جا سکتا ہے!

گائے پیرز کی پہلی فلم جو میں نے دیکھی تھی، وہ 'ایل اے کانفیڈنشل' تھی۔ اس فلم میں سپرسٹارز بھرے ہوئے تھے اور ان کے درمیان جس طرح اس نے اپنی اداکاری کا لوہا منوایا، اس سے میں شدید متاثر ہوا تھا۔ اور اس فلم کے بعد تو میں اس کا سخت فین ہوچکا ہوں۔ کیری این موس (وہی میٹرکس والی!) اور جو پینٹالانو اس کے دوسرے اہم اداکاروں میں شامل ہیں۔ میرے خیال میں اس فلم کو فلم انسٹی ٹیوٹس میں ہدایتکاری کے سلیبس میں شامل ہونا چاہیے (شاید ہو بھی)۔ کہانی سنانے کی جو تکنیک اس میں استعمال کی گئی ہے وہ نہ تو اس سے پہلے میں نے کبھی دیکھی اور نہ اس کے بعد۔ یہ ایک ایسی فلم ہے جس کا پہلا منظر، کہانی کا آخری منظر ہے! گھوم گیا ناں بھیجہ۔۔۔ بس اس سے زیادہ میں کچھ اور نہیں کہوں گا کہ پھر فلم دیکھنے کا کیا 'فیدہ' اگر آپ نے مجھ سے ہی کہانی سننی ہے۔۔۔ ہیں جی۔۔۔

اور ایک اور چیلنج بھی ہے، ایک دفعہ دیکھ کے آپ اس فلم کو نہ تو پوری طرح سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی لطف اندوز ہوسکتے ہیں لہذا دوسری دفعہ دیکھنی ہی پڑے گی اور دوسری دفعہ دیکھنے پر جو لطف آئے گا اس کی مثال میں دینا نہیں چاہتا۔۔۔۔

انتباہ صرف اتنا ہے کہ اسے جم کیری، آرنلڈ شوارزینگر، بروس ولس، جیکی چن وغیرہ وغیرہ کی فلم سمجھ کر نہ دیکھیں، کہ فلم بھی دیکھ رہے ہیں ساتھ میں گپ شپ بھی جاری ہے، اور بعد میں میرے اوپر گرم ہوجائیں کہ یہ کیسی عجیب فلم ریکمنڈ کی ہے، نہ سر نہ پیر۔۔۔۔۔

اور ایک آخری بات اور کیونکہ اس کے بعد پروگرام کا وقت ختم ہوجائے گا۔ یہ ایک ایسی فلم ہے جس کے انجام کو دیکھنے والے کے ذہن اور سوچ پر چھوڑدیا گیا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ تقریبا ہر انجام، جو سوچا جاسکتا ہے، منطقی ہے۔۔۔۔ کیسا!!!!!


(بشکریہ فلمستان)

کھولنا اپنے ہی پولوں کا

دوسروں کے پول کھولنا شاید اس کائنات کا سب سے آسان اور۔۔۔۔ لذیذ کام ہے۔ وہ گنجا ہے، وہ کالی ہے، وہ توندیل ہے، وہ بالکل سیدھی ہے جیسے اسے کوئلے والی بڑی استری سے پریس کیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ لیکن آج میں اپنے ہی پول کھولنے پر اتر آیا ہوں۔ آپ کو شاید بلکہ یقینا مزا آئے گا، پر مجھ کو خاطر خواہ بدمزگی ہوگی جس سے چند احباب کے محظوط ہونے کا امکان یقینی ہے۔۔۔

چلیے شروع کرتے ہیں ۔۔۔مثلا نمبر ایک، میرا جیسا کنجوس اس کائنات میں شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔ میری ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب جب تک مجھے ۹۹۹ ڈائل کرنے کی دھمکی نہیں دیتی، میں اسے دبا دبا کراور پچکا پچکا کر اور جھٹک جھٹک کر اس میں سے پیسٹ نکالتا رہتا ہوں،اور ۸۰ گرام کی ٹیوب میں سے میں تقریبا 7۔۷۹ گرام پیسٹ استعمال کرلیتا ہوں اور باقی بچنے والے اعشاریہ تین گرام کو نہ استعمال کرنے پر میری جو افسوسناک اور کربناک حالت ہوتی ہے، وہ قابل دید ہی ہوسکتی ہے، لفظ اس کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

فلرٹیشن کا مرض (پنجابی میں لکھیں تو۔۔۔ ہونا ٹھرکی کسی بندے کا) زمانہ طفولیت سے ہی لاحق ہے۔ پہلی جماعت میں تھا تواپنی مس پر عاشق ہوگیا تھا۔۔۔ اور اسے جھوٹ نہ سمجھیں۔ پانچویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے میں نے کوئی سات خیالی معاشقے پھڑکاڈالے تھے۔ چچا نے شاید یہ مصرعہ میرے لئے ہی کہا تھا کہ

مرا مزاج بچپن سے عاشقانہ ہے۔۔۔

جوانی کے حقیقی معاشقے سنانے کی غلطی تو میں ہرگز نہیں کرسکتا، کہ میں یملا تو ہوں پر اتنا بھی یملا نہیں! ہیں جی۔۔۔

اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ بڈّھا ہونے پر تو میری شدید واٹ لگے گی کہ بابے تو ویسے ہی ٹھرکی ہوجاتے ہیں اور میرے جیسے متوقع بابے، جو زمانہ قبل از تاریخ سے ہی ٹھرکی واقع ہوئے ہوں، تو وہ تو ٹھرکی کی بھی تیسری فارم یعنی ٹھرکیئسٹ ہوجائیں گے۔۔۔ اللہ میرے حال پر رحم فرمائے۔۔۔ اور مجھے جوانی میں ہی ۔۔۔ آہو۔۔۔

بزدلی مجھ میں ایسے کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی ہے جیسے میرا میں انگلش۔ عورتیں بےچاریاں تو ویسے ہی مشہور ہوگئی ہیں چھپکلیوں، کاکروچوں، چوہوں وغیرہ سے ڈرنے میں، جبکہ اس کام میں جو یدطولی مجھے حاصل ہے، وہ کسی عورت کے بس کی بات نہیں۔ ویسے یہ عورتیں جب لڑکیاں ہوتی ہیں تو ان کے کالج ویمن کالج کہلاتے ہیں اور جب حسب توفیق چار پانچ چاند سے بچوں کی اماں جاتی بن جاتی ہیں تو ان کا اصرار ہوتا ہے کہ انہیں لڑکی سمجھا اور پکارا جائے۔۔۔ ساری دوسری سائنسوں کی طرح یہ سائنس بھی مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی۔۔۔

کہیں آپ یہ نہ سمجھنا شروع کردیں کہ میں ہرکام میں ہی کنجوس ہوں اس لئے وضاحت کیے دیتا ہوں کہ لفظ خرچ کرنے کے معاملے میں، میرا ایک ہی ثانی ہے (بلکہ وہ اول ہے میں ثانی ہوں)۔ میں اتنی فضول خرچی سے لفظ بولتا اور لکھتا ہوں جیسے ہمارے حکمران قومی خزانے سے کبھی عمرے کرتے ہیں اور کبھی مجرے سنتے ہیں۔ 'الفاظوں' کے معاملے میں کوئی ایسی مثال نہیں کہ میں نے کبھی جزرسی کی ہو، جو بات ایک فقرے میں کہی یا لکھی جاسکتی ہو، میں اس پر تین تین گھنٹے اور چھ چھ دستے کاغذوں کے لگا دیتا ہوں۔ اور جب بات ختم ہوتی ہے تو کوئی مائی کا لعل یا ابا کی بنّو یہ اندازہ نہیں لگاسکتے کہ اصل بات کیا تھی۔۔۔ ایک دفعہ پھر۔۔۔۔ ہیں جی۔۔۔۔

فوٹوسٹیٹی دانش

میں ایک بلاگر ہوں۔ میں ایک دن میں تین دفعہ کھانا کھاتا ہوں اور چار پوسٹیں بلاگ پر پوسٹتا ہوں۔ اس کائنات کا کوئی ایسا موضوع باقی نہیں بچا جس پر میں نے کوئی پوسٹ نہ کی ہو۔ چکن جلفریزی سے نظریہ اضافت تک میں نے ہر موضوع پر ‘دے مار ساڈھے چار' قسم کی دھانسو پوسٹیں ٹھوک کر لکھیں۔ اور تبصرہ نگاروں کی ایسی دھلائی بزعم خود کی، جیسے پچھلی پیڑھی کی عورتیں کپڑوں کی 'تھاپی' سے دھلائی کرتی تھیں۔ میں نے ہمیشہ اور ہر بندے کی ہر بات کی مخالفت اپنا علمی، دینی، اخلاقی، مذہبی، معاشرتی، سیاسی، نامیاتی، معاشی، اقتصادی، تحقیقی اور مابعد الطبیعاتی فریضہ سمجھ کر کی۔ میرا 'کاں' ہمیشہ 'چٹّا' ہی رہا اور میرا سورج رات کے ساڑھے بارہ بجے ہی طلوع ہوتا رہا۔ میں نے یونیورسٹی کی سب سے حسین لڑکی کو بھی آئی ہیٹ یو اس لئے کہا کہ اس نے مجھے آئی لو یو کہا تھا!!

ایک دن جب میں صبح اٹھا تو مجھے محسوس ہوا کہ میرے پاس لکھنے کو کچھ باقی نہیں۔ میں پریشان ہوگیا، میری سٹّی گم ہوگئی۔ میرے ہاتھوں کے طوطے، کبوتر، کاں سب اڑ گئے۔ میں نے خود کو ایسا محسوس کیا، جیسے میں کرپشن کے بغیر زرداری ہوں یعنی کچھ نہیں ہوں۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میرا دل درد سے بھر گیا۔ میں دنیا سے مایوس ہوگیا۔ میری راتوں کی نیندیں حرام ہوگئیں۔ مجھے خوابوں میں ورڈ پریس کے بھوت ڈرانے لگے۔ میرے بلاگ کے تبصرہ نگار بھوتوں کی شکل میں مجھے آس پاس نظر آنے لگے۔ میں ذہنی مریض بننے لگا۔

انہی دنوں میں نے نمازیں بھی شروع کردیں۔ میں ایک دن جمعہ کی نماز پڑھ کے مسجد سے باہر نکلا تو مجھے مسجد کے دروازے پر دس بارہ سال کے بچے نے ایک فوٹو سٹیٹ کیا ہوا کاغذ تھما دیا۔ یہ کاغذ وہ ہر نمازی کو تھما رہا تھا۔ میں نے اس کاغذ پر نظر ڈالی اور میرے دل کی کلی کھل گئی۔ میں بھاگا بھاگا گھر پہنچا، کمپیوٹر آن کیا اور اس کاغذ کو سکین کرکے بلاگ پر لگادیا۔ میرے بلاگ پر وہ گھمسان کا گھڑمس مچا کہ میرا دل گاندھی گارڈن ہوگیا۔ میں ہواؤں میں اڑنے لگا۔ مجھے اپنی زندگی سے دوبارہ پیار ہوگیا۔ میں رفیع کے پیار بھرے گیت گنگنانے لگا۔ لیکن یہ بہار صرف دو دن قائم رہی۔ میں پھراگلے جمعے کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن اس دن مجھے مسجد کے باہر کوئی کاغذ نہیں ملا۔ میں دھوپ میں دو گھنٹے کھڑا رہا کہ شاید کسی پوسٹ کا مصالحہ مل جائے لیکن ایسا نہ ہوا۔ اگلے تین چار جمعے بھی یہی کچھ ہوا۔ دھوپ میں کھڑا رہ رہ کے میرا رنگ ایسا ہوگیا کہ ایک ویسٹ انڈین نے بھی مجھے 'اوئے کالے اوئے' کہہ کے پکارا۔ میں جمعہ سے مایوس ہو کر فالسے اور گنڈیریوں کی ریڑھی سے خوامخوہ چیزیں خرید لیتا کہ شاید کوئی فوٹو اسٹیٹ ہو۔ حتی کہ شام کو پکوڑے کھا کھا کر میں نے اپنا پیٹ پانی پت کا میدان بنا لیا کہ شاید کسی دن اخبار کی بجائے فوٹو اسٹیٹ پیپر پر پکوڑے مل جائیں۔ یہاں تک کہ رات گئے میں فوٹو اسٹیٹ کی دکانوں کے چکر لگاتا رہتا کہ شائد کوئی کسی پرچے کی فوٹو اسٹیٹ کروا رہا ہو اور میں ایک آدھ اچک لوں۔ میں نے ساری دنیا میں اپنے جاننے والوں سے درخواست کی پر ان سب نے مجھے رنگین اور اجلے پیپرز پر چھپے پمفلٹ بھیج چھوڑے جبکہ مجھے تو تلاش تھی اسی مٹی کے تیل والی فوٹو اسٹیٹ کی۔۔۔

میری زندگی، میرا کیرئیر، میری بلاگنگ اب ایک دوراہے پر آن پہنچی ہے۔ میں آپ سے پرسوز اور دردمندانہ اپیل کرتاہوں کہ براہ کرم جہاں بھی کسی کو کوئی فوٹوسٹیٹی دانش ملے، مجھے بذریعہ ڈاک، یا ایمیل یا دستی (جمشید دستی نہیں) پہنچادے اور اس دکھی اور جھلسے ہوئے دل (اورچہرے) کی دعائیں لے!!!!

ذلّت لیگ

میں نے پالٹی بنائی اے۔ بڑی مشور ہورئی اے۔ لوگ ایں، شامل ہورئے ایں۔ الیکشن اے، میں نے جیتنا اے۔ نوایشریف اے، جلتا اے۔ میری پاپولیرٹی اے، فیش بک اے، فین ایں، مزے ایں۔ پالٹی کے تین لاکھ رکن ایں، فیش بک پر آتے ایں، میرا پیج وِییَٹ کارتے ایں۔ کومنٹ کارتے ایں۔ لائک کارتے ایں۔ اور پاپولیرٹی کیا ہوتی اے؟

کرشٹینا لیمب اے۔ بڈھی اے۔ پیسے کھاتی اے، میرے خلاف رپوٹیں چھاپتی اے۔ کہتی اے، میں شراب پیتا اوں، ویلیں دیتا اوں۔ میرے پیسے ایں، اس کو کیا تکلیف اے؟ مجے سب پتہ اے۔ اسلام میں نشہ حارام اے، میں شراب پیتا اوں۔۔۔مجے نشہ نئیں اوتا اے۔۔۔۔ اس لئے مجے شراب حلال اے۔۔۔۔

میرے پاس آئی اے، میں نے لفٹ نئیں کرائی اے۔ گصہ اے، کیا اے۔ مجے ڈر نئیں لاگتا اے۔ دو باتیں ایں۔ فیش بک اے، پالٹی اے۔ راشد قاریشی اے۔ اچھا آدمی اے۔ لوگ اس کو چھیڑتے ایں، دو نمبر جرنل اے۔ ایسی بات نئیں اے۔ میں نے اس کو جرنل بنایا اے۔ ۔۔۔۔یہ باتیں جھوٹی باتیں ایں، یہ نون لیگیوں نے پھیلائی ایں۔ تم شاہ جی کا نام نہ لو، کیا شاہ جی شدائی ایں۔۔۔

لوگ مجھ کو یاد کارتے ایں۔ آہیں بھارتے ایں۔ میں ایک دن لُوٹ کر آؤں گا۔۔۔۔ میرا انتظار کارنا۔۔۔ہچچ ہچچچ۔۔۔ ہچکی اے ۔۔۔آتی اے۔۔ عوام یاد کارتی اے، نشہ نئیں اے۔۔۔ مجے سب پتہ اے۔ اسلام کا پتہ اے، نظام کا پتہ اے، عوام کا بی پتہ اے، میں نے جنگیں لڑیں ایں، میں بہادر اوں، مجے ڈر نئیں لاگتا اے۔۔ ہچچ ہچچچ ہچچچ۔۔۔

دو دفعہ کا ذکر ہے۔۔۔

کہ ایک بادشاہ تھا، ایک ملکہ تھی، ملکہ وزیر کی بیوی تھی، جبکہ بادشاہ نے نرگس سے شادی کرلی تھی۔ نرگس، ہزاروں سال رونے کی وجہ سے بے نور ہوئی تھی یا بے نور ہونے کی وجہ سے ہزاروں سال روئی تھی، یہ بادشاہ نے کبھی اس سے پوچھا نہیں تھا۔ ایک دفعہ پوچھنے کی کوشش کی تھی تو نرگس ساری رات 'مینوں دھرتی قلعی کرادے میں نچّاں ساری رات' پر ناچ ناچ کے پاگل ہوگئی تھی۔ محل کے سارے ملازموں اور نوکروں اور غلاموں اور خواجہ سراؤں (کبھی بندے کا نہانے کو نہیں بھی دل کرتا) نے بھی یہ غصیلا مجرا مفت دیکھاتھا اور بادشاہ کی درازی عمر کی دعائیں کیں تھیں۔ لہذا بادشاہ کو آئندہ کے لئے 'کَن' ہوگئے تھے۔

نور، بچپن میں چائلڈ آرٹسٹ تھی، اور بڑی ہو کے بھی 'بچوں' والے کام ہی کرتی تھی، نور اور نرگس 'سہیلی بوجھ پہیلی' تھیں، بادشاہ کا تہترواں شہزادہ، جونور کے کمرشل اور نرگس کے ڈانس نما مجرے یا مجرے نما ڈانس دیکھ دیکھ کے بڑا ہوا تھا، اس کو شکار کا بہت شوق تھا۔ وزیر کی بیوی جو ملکہ تھی، وہ خفیہ طور پر گھر میں اسلحہ بناتی تھی اور پینٹ شرٹ اور موٹر سائیکل والے روشن خیالوں کو بیچتی تھی جن کی نہ داڑھیاں تھیں اور نہ ہی وہ امریکہ کو گالیاں دیتے تھے، اچھے بچے۔۔۔ بس یہ اچھے بچے سڑکوں اور گلیوں میں لوگوں کو ملکہ سے خریدا ہوااسلحہ دکھاتے تھے کہ دیکھو کیا شاندار چیز ہے۔۔۔ پر پتہ نہیں کیوں لوگ ان کو اپنے فون، پرس ، گھڑیاں وغیرہ دے دیتے تھے، حالانکہ انہوں نے کبھی خودداری کی وجہ سے ان سے کوئی چیز مانگی نہیں تھی شاید بلکہ یقینا تحفتا دیتے ہوں گے۔ شہزادی اور ملکہ کی چچیری بہن کی نند کے دیور کی بڑی بہن کی بیٹی بہت اچھی دوست تھیں۔ وہ دونوں کالج سے سیدھی جوس کارنر پر ڈیٹ مارنے جاتی تھیں، جہاں شہزادہ بھی شکار کھیلتا تھا۔

الحمرا سے بگھی والے نے جب بادشاہ سے محل جانے کے زیادہ پیسے مانگے تو بادشاہ نے غصے میں آکر اسے وزیر اعظم بنا دیا۔ جس پر بگھی والے کو اپنی بگھی بیچنی پڑی تاکہ اچھے اچھے سوٹ اور چمکیلی چمکیلی ٹائیاں خرید سکے۔ بگھی میں لگے ہوئے خچروں نے اپنے مالک کی اس بے وفائی پر عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائرکردیا۔ عالمی عدالت انصاف نے ترنت بگھی والے کو غاصب قرار دے دیا لیکن چونکہ بگھی والے کو استثناء حاصل تھا اس لئے خچروں نے جنیوا کے مشہور چوک میں اجتماعی خود کشی کی یرکانوے لگائی جس پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے وزیر اعظم کو انسداد بے رحمی حیوانات کے آرٹیکل تیرہ سو پینٹھ بٹا ساڑھے چتالی سو کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے انہیں ساڑھے اٹھونجہ دفعہ پھانسی اور بادشاہ کی تین لگاتارچُمّیوں کی سزادی۔ بادشاہ اور وزیر اعظم اور وزیر کی بیوی یعنی ملکہ اور شہزادی، جو بادشاہ کی وجہ سے شہزادی نہیں تھی بلکہ ملکہ کی وجہ سے شہزادی تھی اور شہزادے (تہترویں) اور نرگس اور سہیلی بوجھ پہیلی نے اعلی سطحی یعنی چھت پر منعقد اجلاس میں آم چوستے ہوئے اقوام متحدہ کو جی بھر کر کوسنے دیئے اور بادشاہ نے اپنے باقی بہتّر شہزادوں کو ٹرائی سائیکل دلوانے کے لئے آئی ایم ایف سے قرضے کی درمندانہ اپیل وزیر یعنی ملکہ کے شوہرکو 'رات بھر کرو اب کھل کہ بات' والے پیکج پر املا کرائی۔

اگر کسی کو اس کی سمجھ آئے تو براہ کرم مجھے بھی سمجھائے ۔۔ اوراس تحریر سے، میری آجکل جو ذہنی حالت ہے اس کا اندازہ 'ارام ناں' لگایا جاسکتا ہے۔۔

حقیقت / افسانہ

اس دنیا کی سب سے قیمتی چیز نیا اور اچھوتا خیال ہوتا ہے، ان خیالات کو پیش کرنے والے لوگ تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔ ویسے بندہ مرجائے (اور مرجاتا ہے) تو تاریخ میں زندہ رہنےکا کیا فائدہ؟ اور اگر کہیں سے آب حیات مل جائے اور موت سے چھٹکارا پالیاجائے توپھر یہ زندگی مسلسل عذاب بنی رہے گی، بہرحال یہ ایک علیحدہ بحث ہے، جس پر پھر کبھی اپنی زرّیں چوّلیں پیش کروں گا۔

میں نے جب 'سٹرینجر دین فکشن' دیکھی تھی تو میرے ذہن میں اس کے مصنف کے لئے ایسے ہی خیالات ابھرے تھے کہ کیا ہی زبردست آئیڈیا ہے۔ بالکل اچھوتا! یا شاید مجھے اپنی جہالت اور کم علمی کی وجہ سےاچھوتا لگا ہو، میں نے آج تک اس موضوع پر نہ تو کبھی پڑھا اور نہ اس پر کوئی فلم یا ڈرامہ دیکھا۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اب شاید میں فلم کی کہانی اور پلاٹ (ویسے اس فلم کا پلاٹ تو کارنر پلاٹ ہے، یعنی کافی قیمتی ہے) بیان کرنا شروع کروں گا۔ ایسی کوئی بات نہیں، ٹھنڈ رکھیں۔ اس فلم کوکسی خاص زمرے میں فٹ کرنا کافی مشکل ہے۔ رومان، تھوڑی بہت سنسنی، ڈرامہ، ہلکا پھلکا مزاح، فینٹسی (اس لفظ کی اردو نہیں آتی مجھے) سب موجود ہے۔

جیسا پہلے لکھا ہے کہ اس فلم کا سب سے بڑا مثبت نکتہ (پلس پوائنٹ، اتنی اردو توآتی ہے مجھے) اس کا بنیادی خیال ہے۔ منظرنامہ بھی زبردست ہے۔ مکالمے برجستہ اور کچھ مقامات پر نہایت شگفتہ ہیں۔ مارک فورسٹر اس فلم کے ہدایتکار ہیں۔ جن کے کریڈٹ پر مونسٹرز بال، فائنڈنگ نیور لینڈ اور سٹے جیسی فلمیں ہیں۔ فلم کی کاسٹ  ڈسٹن ہوفمین، ایما تھامپسن، ول فیرل، میگی جیلنہال، کوئین لطیفہ جیسے ہیوی ویٹس پر مشتمل ہے۔ بور، یکسانیت کا شکار اور تھوڑے سے خبطی آئی آر ایس آفیسر کا مرکزی کردار ول فیرل نے ادا کیا ہے اور اپنی معمول کی اوور دی ٹاپ اداکاری سے گریز کرتے ہوئے بہت عمدہ پرفارمنس دی ہے۔ ایما تھامپسن نے ناول نگار کے کردار میں جان بھر دی ہے جبکہ ڈسٹن ہوفمین حسب معمول شاندار ہیں۔ میگی جیلنہال کی یہ پہلی فلم تھی جو میں نے دیکھی اور دیکھتے ہی اس کا پرستار ہوگیا، اداکاری کا، خوبصورتی کا نہیں!

سوچنے والے ذہن رکھنے والوں کے لئے یہ فلم دیکھنا لازمی ہے۔ باقی جو میرے جیسے ہیں وہ بھی اس سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ میں تو صرف اس کے بنیادی خیال کے سحر میں مبتلا رہا لیکن دوسرے لوگ اس میں سے کچھ اور بھی برآمد کرسکتے ہیں جو میں اپنی سطحی سوچ کی وجہ سے نہ کرسکا۔

(یہ تحریر آپ فلمستان پر بھی ملاحظہ کرکے مزید بور ہوسکتےہیں)

قوت متحرکہ

شفیق الرحمان نے کسی جگہ لکھا تھا کہ دنیا کے سارے عظیم آدمی غمگین تھے، لہذا آپ بھی غمگین رہنا شروع کردیں کہ غم عظمت کی کنجی ہے۔ مزاح کے پیرائے میں کی گئی اس بات پر ذرا غور کریں تو یہ اتنی غلط بھی نہیں لگتی۔

محبت سے لے کر روزگار تک اور بے وفائی سے لے کر غریب الوطنی تک، دکھوں کی اقسام ان گنت ہیں۔ آپ کہیں گے کہ محبت کوغم میں کیسے شمار کیا جاسکتا ہے؟ کرنے والوں سے پوچھ کر دیکھیں یا پھر اپنے دل سے ہی پوچھ لیں!

دکھ اور غم بندے کو ہرابھرا اور زرخیز رکھتے ہیں، مسلسل خوشی بندے کو ایسے بنجر اور ویران کردیتی ہے جیسے سیم اور تھور زرخیز اور آباد زمین کو کردیتا ہے۔ مثال کے لئے اپنی اشرافیہ کو دیکھ لیں، پچھلے دو تین سو سال میں اس نے کیا پیدا کیا ہے، کاٹھ کباڑ۔۔۔۔اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بندہ، ایسے بھکاریوں کی طرح جو اپنے زخموں کو دکھا کر بھیک مانگتے ہیں، اپنے دکھوں کی نمائش لگا کر پھرتا رہے، اور ہمدردی کی بھیک سمیٹتا رہے۔ بلکہ دکھ کو بیج کی طرح دل کی زمین میں گہرا بونا پڑتا ہے، تنہائی میں بہائے گئے آنسوؤں کا پانی دینا پڑتا ہے اور یادوں کی دھوپ لگوانی پڑتی ہے۔ پھر جو پودا اگتا ہے تو اس سے پھل اورچھاؤں دونوں حاصل ہوتے ہیں۔

درمندانہ اپیل بنام بلاگ ایوارڈز انتظامیہ

معزز اراکین انتظامیہ و منصفینِ بلاگ ایوارڈز ڈاٹ پی کے

اس فدوی و حقیر پُر تقصیر کا بلاگ بھی بلاگ ایوارڈ کی دوڑ میں شامل ہے، لیکن اسے یقین کامل ہے کہ وہ یہ ایوارڈ حاصل نہیں کرسکتاکیونکہ سکول سے لے کر کالج تک وہ کسی بھی دوڑ میں جیت نہیں سکا۔ فدوی کو تو کرکٹ ٹیم میں بیٹنگ بھی گیارہویں نمبر پر ملتی تھی اور اس کی باؤلنگ کا حال یہ تھا کہ اس پر خالد لطیف بھی چھکےمار سکتا تھا لہذا باؤلنگ بھی نہیں ملتی تھی۔ فیلڈنگ کے لئے اس عاجز کو کپتان گہرے غور و خوض کے بعدایسی جگہ کھڑا کرتا تھا جہاں گیند سال میں ایک دو دوفعہ ہی آتی تھی۔ لیکن ٹیم کے جیتنے کے بعد بھنگڑے ڈالنے میں یہ فدوی سب سے آگے ہوتا تھا!

فدوی، آج تک سوائے ایک ایسے ایوارڈ کے کچھ نہیں جیتا، جس کی انتظامیہ میں 'متعصّب' اور 'تنگ نظر' لوگ شامل تھے، لہذا آپ سے درمندانہ اپیل ہے کہ فدوی کو لاحق شہرت کے لا علاج عارضے میں وقتی افاقے کے لئےاسے ایوارڈ عنایت کردیں اور ۵۰۰ ٹیرابائٹ سائزکی صدق دل سے مانگی ہوئی دعائیں حاصل کرکے عنداللہ ماجور ہوں۔ کیونکہ جہاں آپ اتنے سارے زمروں میں میرٹ پر ایوارڈ دیں گے تو ایک آدھ زمرہ میں ڈنڈی بھی مارلیں تواس میں کوئی ہرج نہیں کہ اس سے اللہ کے کسی بندے کو شفا ملنے کی امید ہے اور سب سے بڑی نیکی تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ اللہ کے بندوں کے کام آنا ہوتی ہے (اسلام کا تڑکا)۔ میں نے تو موقع کی مناسبت سے 'آسکر تقریر' بھی لکھ رکھی ہے، جو ایوارڈ ملنے کے بعد آپ اسی بلاگ پر ملاحظہ کرسکیں گے۔

مجھے امید ہے کہ آپ جیسے نیک، اہل، قابل اور دردمند دل رکھنے والے احباب اس اپیل پر ہمدردانہ غور کریں گے اور ایک ایوارڈ اس فدوی کو عنایت کرکے اس پر احسان عظیم (انتباہ! یہ کسی بندے کا نام نہیں ہے!) کریں گے۔ ایک مسئلہ اور ہے کہ فدوی بوجہ عدم دستیابی "فلوس و اجازہ" ایوارڈ کی تقریب میں حاضر ہونے سے قاصر ہے لہذا اپنا ایوارڈ حاصل کرنے کے لئے قابل احترام بلاگر عنیقہ ناز کو نامزد کرتاہے۔

ویسے بھی مجھے پورے کراچی میں صرف ان پر ہی اعتبار ہے کیونکہ کوئی اور میرا ایوارڈ لے کر چمپت بھی ہوسکتاہے۔ بشرط زندگی جب بھی کبھی کراچی آناہوا تو عنیقہ بی بی سےایوارڈ بھی وصول کرلوں گا اور ان کی سپیشل ریسیپی، بھیجہ فرائی، بھی تناول کروں گا۔

اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ وما علینا الا البلاغ۔۔۔

چھترول بھی نعمت ہوتی ہے

آپ گامے بھیڈ کو دیکھ لیں۔ اس کو پولیس نے ڈکیتی کے جھوٹےالزام میں پکڑا اور مار مار کر 'بھیڈ' سے دنبہ بنا دیا۔ لیکن اس چھترول نے گامے کی زندگی بدل دی۔ آپ حیران ہوں گے کہ چھترول سے تو زیادہ سے زیادہ سونے کا آسن بدلتا ہے، زندگی کیسے بدل سکتی ہے؟ لیکن گامے کی زندگی پر چھترول نے جو دور رس اثرات مرتب کئے اس کا ذکر آگے آئے گا۔۔۔۔۔

گامے نے ڈکیتی تو دور کی بات، کبھی پُونڈی بھی نہیں کی تھی۔ گامے کا باپ 'جہاز' تھا۔ ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی تو زندگی کی گاڑی چلتی بلکہ گھسٹتی تھی۔گامے نے سکول صرف باہر سے دیکھا تھا۔ کالج کا لفظ اس نے تب سنا تھا جب اس نے گنڈیریوں کی ریڑھی لگائی اور اس کے لنگوٹیے مُودے پھُر نے اسے مشورہ دیا تھا کہ کالج کے گیٹ کے باہر کھڑا ہواکرے، بِکری زیادہ ہوگی۔ 'بھیڈ' گامے کا لقب، خطاب، عرفیت سب کچھ تھا۔ یہ لفظ اس کی ساری زندگی کی کہانی بیان کردیتا تھا۔ اس نے ساری زندگی کسی کو مارنا تو درکنار کسی سے مار کھائی بھی نہیں تھی۔ ہر ایسی جگہ سے وہ ساڑھے اٹھونجہ میٹر دور رہتا تھا جہاں اسے کسی بھی قسم کے دھول دھپّے کا خدشہ ہو۔

پھر 12مئی کا دن آیا جس نے گامے کی زندگی ہمیشہ کے لئے بدل دی۔ گاما ریڑھی لے کر کالج کی طرف رواں دواں تھا کہ راستے میں سنتری بادشاہ نے روک کر اسے دو کلو گنڈیریاں تولنے کو کہا۔ گامے کا گناہ صرف یہ تھا کہ اس نے پیسے مانگ لئےتھے اور اسی دن شام کو تھانےکے ڈرائنگ روم میں الٹا لٹکا ہوا گاما، دنیا کی بے ثباتی پر غور کررہا تھا!

شیخ نیامت اللہ کے گھر کے باہر کھڑی نئے ماڈل کی کاردن دہاڑے گن پوائنٹ پر چھیننے کے الزام میں گرفتار ہوکر ایک گھنٹے کے قلیل وقت میں گاما، پانچ پانجے فٹ کرواچکا تھا۔ الٹا لٹکا ہوا گاما جب ہوش کی سرحد ( یعنی خیبر پختونخوا ) پھلانگ گیا تو اسے عارضی پھانسی گھاٹ سے اتار کر حوالات میں ڈک دیا گیا۔

آپ کہیں گے یہ تو ایک عام کہانی ہے اور ہر روز اس ملک کے تھانوں میں دہرائی جاتی ہے۔ بس یہیں آپ گامے کو انڈر ایسٹیمیٹ کرگئے، گاما عام لوگوں کی طرح بوقت چھترول نہ چیخا چلایا، نہ واویلا مچایا نہ اپنی بے گناہی کی دہائی دی اور نہ رب رسول کے واسطے۔ بس وہ چپ چاپ چھترول کرواتا رہا۔ اس نے نہ تو رشوت دے کر چھوٹنے کی کوشش کی اور نہ ہی علاقہ ناظم کی سفارش سے باعزت رہائی کی جگاڑ لگائی۔

گامے کے ساتھ حوالات میں ایک باؤ قسم کا بندہ بھی بند تھا۔ اس نے گامے سے اس کی گرفتاری کا سبب پوچھا تو گامے نے بتایا کہ اس کی گرفتاری کی وجہ غربت ہے۔ یہ جواب سن کر وہ باؤ پھڑک اٹھا۔ وہ باؤ ایک وکیل تھا جو ایک جلوس نما مظاہرے کے بعد احتجاجا گرفتاری دینے کا ڈفانگ کرکے حوالات میں رات گزارنے آیا تھا تاکہ اگلے دن اخباروں میں گرفتاری دیتے ہوئے اس کی دو کالمی تصویر چھپ سکے۔ گامے کی صورت میں اسے اپنی مزید تشہیر کا سنہری موقع نظر آیا جو اس نے جھپٹ کر اچک لیا!

اس نے اپنے موبائل کے کیمرے سے گامے کی تشریف کی تصویریں کھینچیں اور اسے ہدایت کی کہ اپنا منہ بند رکھے اور کسی کو کچھ نہ بتائے۔

اگلی صبح رہا ہونے کے بعد وکیل صاحب نے ایک پاٹے خاں چینل کی ٹیم کو ساتھ لیا اور اس تھانے پر غیر سرکاری چھاپہ مار کر گامے کا انٹرویو حوالات سےلائیو چلوادیا۔ رپورٹر نے مزید مسالہ لگاتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ شدیدتشدد کی وجہ سے گامے کے گردے فیل اور جان پاس ہونے کا خطرہ ہے اور اگر فوری طبی امداد نہ ملی توگاما اس جہان فانی سے کوچ کرکے عالم جاودانی اپنی زخمی تشریف سمیت جاسکتا ہے۔

اگلا دن بڑا ڈرامائی تھا۔ ہائیکورٹ کے ازخود نوٹس سے لے کر، وزیر قانون کی تین لاکھ کی امداد تک، سرکاری ہسپتال کی ایمبولینس میں خوبرو نرس کے ہاتھوں ڈریسنگ سے لے کر، ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں سول سوسائٹی کے معزز ارکان کے ہاتھوں گلدستے قبول کرتے ہوئے، ہر چینل پر تین منٹی کوریج اور اخباروں کے پولیس کے مظالم پر مشتمل رنگین فیچرزتک گاما ہر جگہ موجود تھا!

اب آپ دیکھیں، اگر گاما شور مچاتا، پولیس کو رشوت دے کے چھوٹ جاتا، ناظم سے سفارش کرکے اپنی جان چھڑوالیتا تو آج بھی گنڈیریاں ہی بیچ رہا ہوتا، غلام محمد تبسم نہ بنتا۔ اس کے پاس نئی ہنڈا سیونٹی نہ ہوتی۔ ابھی تک اس کی شادی نہ ہوئی ہوتی۔ اسے این جی اوز کی طرف سے بیرون ملک سیمینارز میں نہ بھیجا جاتا۔ اسے انسانی حقوق کا سفیر اور امن و عزیمت کا نشان نہ سمجھا جاتا۔ یہ سب اس لئے ممکن ہوسکا کہ گامے کی چھترول ہوئی، اگر چھترول نہ ہوتی تو وہ آج اس مقام پر نہ پہنچتا۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، یہ سب چھترول کی برکتیں ہیں۔ وہ تمام لوگ جو حوالات میں بند ہیں۔ جو چھترول سے ڈر کے سب کچھ مان جاتے ہیں۔ جو رشوت دے کر چھوٹ جاتےہیں، جو سفارش لڑا کر اپنی جان چھڑالیتے ہیں، وہ ہمیشہ گنڈیریاں بیچتے رہتے ہیں،وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ چھترول ترقی کی کنجی ہے۔

لہذا چھترول بھی نعمت ہوتی ہے!

آج ویران خان کے ساتھ

السلام علیکمّ ناظرینّ۔ 'آج ویران خان کے ساتھ' آپ کا میزبانّ ویران خان حاضر ہے۔ آجّ کے پروگرام میں ہم اس اہم ترین مسئلے پر بات کریں گے کہ شعیب ملک کو فیملی پلاننگ کے لئے کون سے حفاظتی طریقے استعمال کرنے چاہییں کیونکہ ہماری نیکر بھابی نے کہا ہے کہ وہ مزید پانچ سال ٹینس کھیلیں گی۔ اور ناظرین، بطن میں ملک ہو تو لوڈو، یسّو پنجو، چڑی اُڈّی کاں اُڈّا وغیرہ تو کھیلے جاسکتے ہیں، ٹینس نہیں۔ اس لئے آج کے پروگرام میں بات کی جائے گی کہ کون سے کنڈوم ہیں جو کہ اچھے معیار کے ہیں اور ان پر اعتماد کیا جاسکتاہے اور دوسرے آپشنز پر بھی بات کریں گے جن میں نس بندی کا آپّریشن اور طلاق شامل ہیں۔ سب سے پہلے ہم بات کریں گے وفاقی وزیر برائے بہبود آبادی ڈاکٹر جنت محب پہلوان سے، جو ہمارے ساتھ لائن پر موجود ہیں۔۔۔

'جی جنت صاحبہ آپ کیا کہتی ہیں شعیب ملک کی فیملی پلاننگ پر، ان کو کیا کرنا چاہیے، کون سا آپشن ہے جو انہیں سوٹ کرے گا، مختلف کمپینیز کے کنڈومز میں سے کون سا استعمال کرنا چاہیے اور نس بندی کے آپریشن میں کیا خطرات ہیں اور اس کی ناکامی کی صورت میں کیا حقوق زوجیت کی کماحقہ ادائیگی کا مسئلہ ابھر کر سامنے تو نہیں آجائے گااور طلاق کی صورت میں حق مہر کتنا طے ہوا ہے؟'

'دیکھیں جی، فیملی پلاننگ کا سب سے اچھا طریقہ تو شادی نہ کرنا ہے۔ اب منڈے نے اپنی مرجی کرلی ہے۔ اب کیا ہوسکتا ہے؟ آپ نے کنڈوم کے متعلق بڑا اچھا سوال پوچھا ہے، ویسے یہ ہوتا کیا ہے؟'

'ڈاکٹرصاحبہ! آپ بہبود آبادی کی وفاقی وزیر ہیں، آپ کےعلم میں تو ہونا چاہیے اس بارے میں۔ ہندوستان کے حالیہ دورے میں آپ نے مشین میں پیسے ڈال کر جو پیکٹ نکالا تھا، وہ کنڈوم ہی تھے۔'

'اچھا!!!۔۔۔ وہ غبارے تومیں نے اپنی شادی کی ۳۳ویں سالگرہ پر جھنڈیوں کے ساتھ لگادیئے تھے۔ بھلا غبارے اور فیملی پلاننگ میں کیا تلّق ہوسکتا ہے؟ جہاں تک نس بندی کاتلّق ہے، یہ اپنے رسک پر کرائیں بعد میں کُش ہوگیا تو میری کوئی ذمے داری نئیں۔ طلاق ہوبھی جائے تو حق مہر کی خیر ہے، ہمارے منڈے کے پاس بڑے پیسے ہیں، وسیم اکرم کے ساتھ کھیلا ہوا ہے، کوئی مذاخ نئیں ہے!'

بہت بہت شکریہ ڈاکٹر جنت محب پہلوان صاحبہ۔۔۔

اورّ ابّ بات کرتے ہیں سینیئر تجزیہ نگار، سول سوسائٹی کے نامور رکن جناب ماجرا خان سے جو، لائن پر موجود ہیں۔

'دیکھیں جی، یہ مسئلہ بڑا کمپلیکیٹڈ ہے جی۔ 'ساتھی' بہت اچھا پروڈکٹ ہے جی۔ اس کو پھلا کے پھاڑیں تو بہت زیادہ آواز آتی ہے جی۔ ویسے بھی میڈ ان پاکستان ہے جی۔ ڈیوریکس بہت مہنگا ہے جی۔ ورائٹی بہت ہے جی۔ بندہ کنفیوز ہوجاتا ہے جی۔ یہ حکومت کی سازش ہے جی۔ ایک ہی پروڈکٹ ہونا چاہیے جی۔ عوام کو کنفیوز کردیتے ہیں جی پھر وہ غصے میں کچھ بھی استعمال نہیں کرتے جی۔ آبادی بڑھتی جارہی ہے جی۔ یہ امریکی سازش ہے جی۔ اس میں زرداری شامل ہے جی۔ اس کی حکومت ختم ہونی چاہیے جی۔ سپریم کورٹ کو سوموٹو نوٹس لینا چاہیے جی۔ کنڈوم عوام کا بنیادی حق ہے جی۔ یہ سب کو ملنا چاہیے جی۔ یہ ہمارا ملک ہے جی۔ ہم نے اس کو بچانا ہے جی۔۔۔۔۔ جی۔۔۔۔۔ جی۔۔۔۔ جی۔۔۔۔۔'

(بات کاٹتے ہوئے) بہت بہت شکریہ جناب ماجرا خان۔

اورّ ناظرین اس کے ساتھ ہی آجّ کے پروگرام کا وقت ختم ہوتاہے۔ کل پھر حاضرّ ہوں گے۔ اللہ ہی حافظ۔

تیتھوں اُتّے۔۔

مجھے تو جی یہ لکھتے اور بولتے ہوئے کبھی شرم نہیں آئی کہ میرے آباء و اجداد کپڑا بُناکرتے تھے، سادہ الفاظ میں جولاہے تھے، اس سے بھی سادہ الفاظ میں کمّی کمین تھے! ہمارے ایک ساتھی نے لکھا ہے کہ جی ہنر والے لوگوں کو یہ گورے لوگ آرٹسٹ اور فنکار کہتےہیں جبکہ ہم انہیں کمّی کمین کہتے ہیں۔ تو جی فرق بھی دیکھ لیں ناں ان کا اور اپنا۔۔۔ ہم قوموں کے پِنڈ کے کمّی کمین اور وہ چوہدری۔۔۔

میں کالج میں نیا نیا تھا تو ایک دن گپ شپ کرتے ہوئے بات اسی طرف نکل گئی۔ میرا ایک کلاس فیلو جو الیاسے چونٹھیے (چوہدری الیاس جٹ، سابق ایم این اے، بدمعاشی میں اساطیری شہرت) کے گاؤں کا تھا، کہنے لگا کہ ہم چوہدری لوگ ہیں جبکہ تم تو جلاہے ہو، نیچ لوگ، کمّی کمین۔ تم ہماری برابری کیسے کرسکتے ہو۔ وہ جی میرے جانثار تو تپ گئے فورا اور لگے آستینیں چڑھانے کہ تیری اور تیرے الیاسے کی تو ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔ پر میں نے ان کو ٹھنڈا کیا اور اس نسرین باجوے کو کہا کہ باجوہ صاحب! بات تو آپ کی ٹھیک ہے، پر ہم جولاہوں کا بڑا احسان ہے جی ساری انسانیت پر۔ وہ تمسخرانہ انداز سے بولا ۔۔ کیسے۔۔۔؟؟ میں نے کہا کہ بھائی دیکھ۔۔ اگر میرے آباء و اجداد یہ کام نہ سیکھے ہوتے تو آج تمہاری ماں بہنیں پتّے لپیٹ کر بکریوں سے بچتی پھر رہی ہوتیں کہ کہیں ان کے ملبوسات تناول کرکے انہیں آدم و حوّا والی شرمندگی سے دوچار نہ کردیں۔

اس پر جی وہ ایسا چپ ہوا کہ اردو میں لکھیں تو اس کی بولتی بند ہوگئی جبکہ پنجابی میں تو صرف کہہ سکتے ہیں، لکھ نہیں سکتے۔

میرے سگے چچا ہیں جی، شیخ ہوگئے ہیں۔ گھر کی نیم پلیٹ پر بھی شیخ لکھوالیا ہے۔ 'انصاری' کہلواتے اور لکھواتے ہوئے انہیں شرم آتی ہے کہ لوگ انہیں جولاہا سمجھیں گے۔ جبکہ میرے قریبی عزیز ہیں کراچی میں ۔۔۔ وہ سارے بھی ترقی (یا تنزلی!) کرکے شیخ لگ گئے ہیں۔ میں ان کو کہا کرتا ہوں کہ یار۔۔ اگر ترقی(؟) ہی کرنی ہے اور ذات ہی بدلنی ہے تو شیخ بننے کی کیا تُک ہے؟ بندہ سیّد بنے۔ میں نے سوچا ہوا ہے کہ جب بہت سارا پیسہ کما لینا ہے اور ترقی کرنے پر تُل جانا ہے توانصاری سے پروموٹ ہوکے 'ڈریکٹ" سیّد ہی لگناہے۔

چار پانچ پشت پہلے جالندھر کے گردونواح میں آباد، میرے آباء و اجداد کے ہاتھ میں یہ فن تھا کہ وہ ستر ڈھانپتے تھے لوگوں کا،کپڑا بُن کے، پر پھر بھی ان کےہاتھ چوہدریوں اور پِیروں کے سامنے پھیلے ہی رہتے ہوں گے اور جن ہاتھوں سے غریبوں کی عزتیں محفوظ نہیں تھیں تب بھی اور اب بھی، ان کو لوگ چوما کرتے تھےتو پھر میں نے بھی ایسا ہی بن جانا ہے، کہ لوگ مجھے نیچ اور کمّی کمین اور جُلاہا نہ سمجھیں بلکہ میرے ہاتھ چومیں کہ جی یہ تو سیّد بادشاہ ہیں!

میں نے اپنے والد سے ایک دفعہ پوچھا تھا جی کہ یہ سیّد طاہر احمد شاہ (سابق ایم پی اے) واقعی سیّد ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں بھئی! یہ تو بالکل خالص سیّد ہے، ہمارے سامنے بنا ہے۔

ہم برصغیر کے مسلمانوں کے اختیار کی بات ہوتی تو جی سارے مسلمان ہی بالترتیب سیّد اور چوہدری اور خان اور سردار ہوتے۔ اس بات پر تو کسی کا اختیار نہیں کہ جس نطفے سے وہ پیدا ہوتا ہے وہ' کون'،'کہاں' پرگرائے ، پراس بے اختیاری پر فخر بہت ہوتا ہے کہ جی ہمارا نطفہ تو بڑا اعلی ہے اور حسب نسب والا ہے۔

بس یہی چیز رہ گئی ہے عزت اور حسب نسب کا معیار

نطفہ۔۔!