الف امریکہ، ب بھیڑیا
قصہ مختصریہ کہ ہم نے اردو کا ایک وچکارلا قاعدہ بنایا ہے۔ جو بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ روشن خیال اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ مزید روشن خیال بنائے گا۔ آئیے ابتدا کرتے ہیں۔
الف ۔۔۔۔۔۔ امریکہ : اصولی طور پر تو آجکل ہر حرف تہجی سے امریکہ ہی بننا چاہیے کیونکہ جتنی انسان دوستی، علم سے محبت، اعلی ترین اخلاقی و آفاقی اقدار، رواداری، مذہبی یگانگت، عدل و انصاف، امن پسندی، رحمدلی، سچ سے لگاو اور جھوٹ سے نفرت اس عظیم الشان ملک کی ہیئت مقتدرہ میں پائی جاتی ہے، انسانی تاریخ اس کی مثال کسی ایک دور میں پیش کرنے سے معذور ہے!
ب ۔۔۔۔ بھیڑیا: یہ ایک جانور ہوتا ہے۔ خونخوار۔۔۔ وحشی۔۔۔۔ میمنے اور اس کی کہانی بڑی مشہور ہے۔ یہ اتنی عمدہ کہانی ہے کہ تاریخ کے ہردور میں اس کی ڈرامائی بلکہ حقیقیاتی تشکیل کی جاتی ہے۔ بھیڑیے اور میمنے کا کردار ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ آخری مشہور میمنے اور بھیڑیے کی مڈبھیڑ ۲۰۰۲ میں ہوئی تھی۔ آٹھ سال بعد اب بھیڑیا شور مچا رہا ہے کہ میمنا اسے پھاڑ کھائےگا! ہور چوپو۔۔۔
(ب سے ایک اور مشہور جانور بھی ہوتا ہے۔۔۔ سمجھ تو آپ گئے ہوں گے!)
پ ۔۔۔۔۔ پیٹ: ہر جاندار کے ساتھ لگا ہوتا ہے۔ اسے بھرنا بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ اکثریت تو اسے روکھی سوکھی سے بھرتی ہے، جبکہ کئیوں کے پیٹ قبر کی مٹی ہی بھرتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ بھر جائے تومستی چڑھتی ہے جسے ”رج کھان دی مستی“ کہتے ہیں اور اسی کے زیر اثر بھیڑیا، میمنا اور میمنا، بھیڑیا نظر آنے لگتا ہے۔
ت۔۔۔۔۔۔ترقی: یہ بڑی اچھی چیز ہوتی ہے۔ اس سے دنیا کی آبادی قابو رکھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ جب انسان غیر ترقی یافتہ تھا تو لڑائی میں سینکڑوں لوگ مرتے تھے۔ ترقی کرنےکے بعد اب وہ لاکھوں، کروڑوں انسان ماردیتا ہے اور اسے کولیٹرل ڈیمیج کا دانشورانہ اور فلسفیانہ نام دیتا ہے!
ٹ ۔۔۔۔۔ ٹی سی: بچّو! اس کے بارے آپ بڑے ہو کر خود ہی جان جائیں گے کیونکہ یا تو آپ کو یہ کرنا پڑے گی یا کوئی آپ کی کرے گا۔ دعا ہے کہ آپ دوسرے آپشن سے ہی دوچار ہوں۔۔۔
ث۔۔۔۔۔ثانیہ: یہ پاکستانیوں کی مشہور زمانہ بھابھی (ہائے۔۔۔ کس دل سے یہ لفظ لکھا ہے۔۔۔ میرا دل ہی جانتا ہے) اور کچھ کم مشہور زمانہ ٹینس کی کھلاڑی ہے۔ اس کے متعلق جتنا کم لکھوں اتنا ہی اچھا ہے ۔۔۔۔ آہو۔۔۔
ج۔۔۔۔جعفر: خود دیکھ لیں کہ ثانیہ کا صحیح جوڑ کس کے ساتھ بنتا تھا؟
انقلاب زندہ باد
گنبد جیسے پیٹ، چربی میں غائب گردن، پھولی ہوئی گالوں اور ڈکراتی ہوئی آواز سے انقلاب آنے لگتے تو ساری دنیا میں ایسے انقلاب آتے جیسے برسات کے موسم میں پتنگے آتےہیں۔ عوام سے مطالبہ یہ ہے کہ تم انقلاب لے آؤ، پھر میں واپس آکر تمہاری قیادت کروں گا۔ ہشکے بئی ہشکے۔۔۔ ایڈا تو چی گویرے دا برادر نسبتی۔۔۔ کھیر پکائی جتن سے، چرخا دیا جلا، آیا کتا کھاگیا تو بیٹھی ڈھول بجا۔۔۔ جاگیرداروں کو پھانسیاں دینی ہیں لبرٹی چوک میں۔ اور جاگیردار وہ ہوں گے جو پانچ پانچ مرلے کی جاگیروں کے مالک ہوں گے اور بھتًہ دینے سےانکاری ہوں گے۔ جن کے ساتھ جنموں کا ساتھ ہے وہ تو بے چارے چھوٹے موٹے کسان ہیں۔ جن کی صرف دو دوچار چار لاکھ ایکڑ زمینیں ہیں۔ ان بے چاروں کی تو پہلے ہی دال روٹی نہیں چلتی تو ان کو کیوں تنگ کریں ؟
ماوزے تنگ، لینن، کاسترو، چی گویرا اور اگر نیک پاک لوگ معاف کرسکیں تو ملا عمر جیسے لوگ انقلابی ہوتےہیں۔ جن کو اپنے نظریے پر ایمان کی حد تک یقین ہوتا ہے اوروہ اس کے لئے ہر قسم کی قربانی دیتے ہیں اور سب سے آگے رہ کے قائد ہونے کا حق ادا کرتےہیں۔ انگریزکوئی کھوتے دے پتًر نہیں ہیں کہ انہوں نے لیڈنگ فرام دی فرنٹ کا محاورہ بنایا ہوا ہے۔ جبکہ سننے میں یہ آتاہے کہ تازہ انقلابی ”فرنٹ“ سے لیڈ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔
یہ سارے بھی اوورسیز انقلابی ہوتے تو لینن برازیل میں بیٹھ کے انقلاب کی قیادت کرتے، چی گویرا جزیرہ ہوائی سے انقلاب کی کمان کرتے، کاسترو موزمبیق سے ٹیلیفونی انقلاب کا بھاشن دیتے، ماوزے تنگ اہرام مصر کو انقلابی کمان کا ہیڈکوارٹر بنا کر گراں خواب چینیوں کو انقلاب کی میٹھی لوریاں سناتے۔ ان سارے انقلابیوں کی ایسی کی تیسی، پاگل خانے۔۔۔ اپنا بھی بیڑا غرق کیااور اپنی قوم کا بھی۔ اور ان کی قوموں کی بھی ایسی کی تیسی کہ اپنے جان سے پیارے انقلابی لیڈروں کو آگے لگائے رکھا اور ان کی جان کی ذرا پروا نہیں کی۔ لیڈر کی جان بہت قیمتی ہوتی ہے، ناکتخدا کی عصمت کی طرح۔۔۔ اس کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی دیکھے تو اس کو خطرہ ہوجاتا ہے۔۔۔ ہیں جی۔۔۔
ضروری نوٹ: یہ”بیستی“ نہیں، ”بیستی جیسا اقدام“ہے۔
اشرف سٹیل مارٹ
اس دنیا میں سب سے بڑی ہیکڑی علم کی ہیکڑی ہے۔ صاحبِ علم فرد اور صاحبِ علم گروہ بے علم لوگوں کو صرف حیوان ہی نہیں سمجھتا، بلکہ ہر وقت انہیں اپنے علم کے ”بھؤو “ سے ڈراتا بھی رہتا ہے۔ وہ اپنے علم کے تکبّر کا باز اپنی مضبوط کلائی پربٹھا کے دن بھر بھرے بازار میں گھومتا ہے اور ہر ایک کو دھڑکا کے اور ڈرا کے رکھتا ہے۔ اس ظالم سفّاک اور بے درد کی سب سے بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی اس کے پھل دار علمی احاطے سے ایک بیر بھی توڑنا چاہے تو یہ اس پر اپنی نخوت کے کتّے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ اپنے بردوں کو اچھّا غلام بننے کا علم تو عطا کرسکتا ہے۔ لیکن انہیں باعزّت زندگی گزارنے کے رموز سے آگاہ نہیں ہونے دیتا۔ زمانہ گزرتا رہتا ہے اور اپنے اپنے دور کا ہر ذی علم برہمن، اپنے دور کے شودر کے کان پگھلتے ہوئے سیسے سے بھرتا چلا جارہا ہے۔
=====================================================================
علم کی ہیکڑی بڑی ظالم ہیکڑی ہے۔ یہ علم کے پردے میں بے علم اور معصوم روحوں پر بڑےخوفناک حملے کرتی ہے۔ علم اور جان کاری کا حصول اپنے قریبی لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ان کے شبے میں اضافہ کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ ایک جان کار ایک ان جان سے صرف اس لیے ارفع، اعلا اور سپیرئیر ہوتا ہے کہ وہ جانتا ہے۔ اس نے واقفیت، معلومات، خبر، گُن اور ابلاغ کے بہت سے کالے اپنی دانش کے پٹارے میں ایک ساتھ جمع کررکھےہوتے ہیں۔ وہ جس بستی، جس آبادی اور جس نگری میں بھی جاتا ہے، اپنے پٹارے کھولے بغیر وہاں کے لوگوں کو سیس نوانے اور دو زانو ہونے پر مجبور کردیتا ہے۔ ڈاکٹر، وکیل، ملاّ، پریچر، سیاست دان، معلّم، مقرر، کالم نگار، مندوب، اپنے نالج اور اپنی جان کاری کے پگھلے ہوئے سیسے کو نہ جاننے والے لوگوں کے کانوں میں ڈال کر انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گنگ اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ماؤف کردیتا ہے۔ علم والا یہ نہیں چاہتا کہ اس کے علم کا کوڑیالا کسی اور کے پاس جائے اور اس کی پٹاری خالی کرجائے۔ البتہ وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ اس کے علم کا کالا ہر بے علم کو ڈس کر واپس اس کے پاس پہنچے، تاکہ وہ اگلے آپریشن کی تیاری کرسکے۔ سچ تو یہ ہے کہ علم والا بے علم کوسوائے شرمندگی، بے چارگی، کم تری اور لجاجت کے اور کچھ نہیں دے سکتا۔ اور کسی شرمندہ، بے چارے، کم تر اور ہیٹے شخص کو درماندگی کے سوا اور دیا بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن لوگوں کے درد کا درماں کرنے کےلیے انہیں علم کی بجائے اس یقین، اعتماد اور اطمینان کی ضرورت ہوتی ہے جو اُمّی پیغمبر پریشان اور خوارو زبوں لوگوں کے کندھے پر ہاتھ دھر کر عطا کرتے رہے ہیں۔
======================================================================
علم کی ہیکڑی بھی عجیب ہیکڑی ہے۔ شہسوار کے پاس گھوڑا بھگانے کا علم ہوتا ہے تو وہ اسے چابک بنا کر استعمال کرتا ہے۔ مہاوت اپنا علم آنکس کی زبان میں ادا کرتا ہے۔ دانش ور، عالم، مفکر، گیانی، دوان اپنے علم کی تکّل جھپ کھلا کر لوگوں کے باطن میں اترتا ہے اور ان کی بے پردگی کا نظارہ کرکے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ علم والا آپ کو کچھ دیتا نہیں، آپ کی ذلتّوں کا معائنہ کرکے آپ کو سندِ خفّت عطاکرجاتا ہے۔ آپ اس کے علم سے حصہ نہیں بٹا سکتے جو اصلی ہے، جو اس کا ہے، جو نافع ہے۔ البتہ وہ علم جو پرانی گرگابی کی طرح ڈھیلا اور لکرچلا ہوجاتا ہے، اسے ضرور پس ماندہ گروہوں کو عطا کردیا جاتا ہے۔ جیسے پرانے لیر ے بڑی محبت سے خاندانی نوکر کو دے دیئے جاتے ہیں۔ ہاں بس ایک اُمّی ہوتے ہیں جو اپنا سب کچھ بلا امتیاز سبھوں کو دے دیتے ہیں اور اس کی کوئی قیمت طلب نہیں کرتے۔ وہ اپنا سارا وجود، پورے کا پورا وجود لوگوں کو عطا کردیتے ہیں اور ان کے باغ وجود سے علم نافع کی نہریں ابد تک رواں دواں رہتی ہیں۔ لیکن ہمارے علم کی نخوت بڑی ڈاہڈی نخوت ہے۔ یہ رعونت تو انسان کو انسان نہیں سمجھتی، البتہ اس کے ڈے ضرور مناتی رہتی ہے۔
اشفاق احمد کی کہانی “اشرف سٹیل مارٹ” سے اقتباسات
آئیے!
خلاف عادت يہ ساري تمہيد ميں نے اس لئے باندھي ہے کہ ميں بہت دن سے سوچ رہا تھا کہ اس آفت کے بارے لکھوں جس نے ہميں پاني کي شکل ميں گھير ليا ہے۔ ليکن سمجھ ميں نہيں آتا تھا کہ کہ کيا لکھوں، اس ماں کو کيسے پرسہ دوں کہ جس کے بچے پاني ميں بہہ گئے۔۔۔ ان سفيد پوشوں کے دکھ کو کيسے بانٹوں جو ايک وقت کے کھانے کے لئے گھنٹوں قطاروں ميں لگے رہنے پر مجبور ہيں۔ ان بے کسوں کو کيسے سمجھاوں کہ روٹي نہيں ملتي تو لاٹھي چارج سے گزارا کرو اور ان لوگوں کے کہے کو حق جانو جو جگہ جگہ گھوم پھر کر تمہاري مدد کرنے کي بجائے تمہيں يقين دلا رہے ہيں کہ يہ سب تمہارے اعمال کا نتيجہ ہے!
ميں اپنے دوستوں سے صرف يہ کہنا چاہتاہوں کہ آئيے اور اٹھيے اور جس کي جو استطاعت ہے، اس کے مطابق اپنے ان آفت زدہ بھائيوں اور بہنوں کي مدد کے لئے نکليے۔ ان لوگوں کے کہے پر بالکل کان نہ دھرئيے جو يہ راگ الاپ رہے ہيں کہ ہماري امداد مستحقين تک نہيں پہنچے گي۔ مجھے يقين ہے کہ سب دوستوں کو کسي نہ کسي پر اعتبار ضرور ہوگا بحيثيت قوم ہم ابھي اتنے بے اعتبارے نہيں ہوئے! اٹھيے اور اپني امداد اپنے اعتبارکي تنظيم يا فرد کے حوالے کيجيے۔ اور پھر آکے اللہ کے سامنے اس مشکل کو آسان کرنے کي دعا کيجيے اور استغفار کيجيے۔
عمل کے بغير کوئي توبہ قبول نہيں ہوتي!
اردو کی 'وِچکارلی' کتاب - دیباچہ
غالباً اسمعیل میرٹھی نے 'اردو کی پہلی کتاب' لکھی تھی اور استاد الاساتذہ ابن انشاء نے 'اردو کی آخری کتاب'۔ اگرچہ ان حضرات نے اپنے تئیں سارے دریا، جھیلیں، ندیاں، ڈیم، بحور وغیرہ کوزے میں بند کردیئے تھے لیکن اہل نظر (یعنی ہم) جانتے تھے کہ اس ضمن میں ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ ہم نے بہت وقت اس انتظار میں گزارا کہ شاید کوئی اس کام میں ہاتھ ڈالے لیکن صد افسوس کہ کوئی مائی کا لال یا ابّا کی بنّو (محاورات میں دورجدید کے تقاضوں کے مطابق ترامیم بھی زیر نظر کتاب میں شامل ہوں گی) اس بھاری پتھّر کو نہ اٹھا سکے, بنا بریں ہمیں خود ہی ہمّت کرنی پڑی اور لنگر لنگوٹ وغیرہ کسنا پڑا۔ اگرچہ ہمارے لئے یہ کام کوئی ایسا کٹھن نہیں تھا لیکن ہم صرف یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ عصر حاضر میں شاید ایسا جواں مرد یا زنِ ذہین ہو جو ہمارا ہم عصر کہلانے کے لائق ہو، لیکن ۔۔۔ اے بسا آرزو کہ خاک شد۔۔۔ ہیں جی۔۔۔
ہم گاہے بہ گاہے یعنی کَدَی کَدَی (وہی 'مَوکَا ملے کَدَی کَدَی' والا) اس کتاب کے لئے مضامین اسی بلاگ پر تحریر کریں گے۔ جن کو بعد میں کتابی شکل میں چھاپا جائے گا(بشرطیکہ ہمیں ہی کسی چھاپے وغیرہ میں نہ اٹھا لیا جائے)۔ چونکہ ہم درویشی/ فقیری قسم کی طبیعت رکھتے ہیں اس لئے اس کتاب کی رائلٹی وغیرہ سے ہم اللہ کی شان دیکھنے بلاد یورپ و امریکہ وغیرہم جائیں گے جہاں سیر و سیاحت اور فاسق و فاجر فرنگنوں کو دیکھ کر حصولِ عبرت برائے آخرت، جیسے نیک مقاصد پورے کئے جائیں گے۔ ہم اس بات پر بھی عمیق و دقیق غور کررہے ہیں کہ ان اسفار بارے تین چار چَوندے چَوندے سفرنامے بھی پھڑکائیں جن کے ہر تیسرے صفحے پر 'وَن سَوَنِّی' فاسق و فاجر فرنگی دوشیزائیں ہم پر موسلادھار طریقے سے عاشق ہوں جیسے اپنے چاچا جی پر ہوا کرتی تھیں اور بخدا کارٹون والے معصوم سے چاچا جی کے سفرنامے جب ہم نے ذرا بڑے ہونےپر پڑھے تو ہمیں چاچا جی کے میسنے پن پر بیک وقت غصّہ اور پیار آیا۔ اس بیک وقت غصے اور پیار کی وجوہات بیان کرنے کا یہ موقع نہیں، اسے کسی اور موقع پر اٹھا رکھتے ہیں!
اس کتاب کے فلیپ پر اپنی آراء چھپوانے کے لئے دنیا کے بہت سے عظیم ادباء، شعراء و مصنفین نے ہم سے رابطہ کیا جن میں گاما بی اے، فیجا لُدّھڑ ، طافو طمنچہ، شادا پوٹھوہاری، ماجھو ٹھاہ، ببّن کراچوی، ناجا لاہوری، چاچا چُوئی، مائیکل ٹُن، جارج گھسیٹا وغیرہم شامل تھے، لیکن چونکہ ہم ایسی سستی تشہیر پر یقین نہیں رکھتے اس لئے ہم نے ان سب عظیم ہستیوں سے معذرت کرلی۔ اب سب کو دو دو ہزار اور کتاب کے پچاس مفت نسخے کون دیتا پھرے! ویسے بھی ادب عالیہ کے عظیم نثرپاروں کو کسی ریویو وغیرہ کی محتاجی نہیں ہوتی کیونکہ جادو وہ جو سرچڑھ کے بولے اور ۔۔آہو۔۔۔
کتاب کے نام کی وجہ تسمیہ فوکویاما بھائی جان کا وہ نظریہ ہے جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ تاریخ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ لہذا اصولی طور پر اب تاریخ کو پیچھے کا سفر کرنا چاہیے تو آخری کتاب سے پیچھے جاتے ہوئے پہلے 'وچکارلی' کتاب ہی آنی چاہیے، اسی لئے ہم نے اس نام کو موزوں جانا۔ ویسےبھی چاچو شیکسپئیر نے فرمایا تھا کہ نام میں کیا رکھاہے اور گلاب (اس نکتے پر ذرا غور کریں کہ چاچو کو کیسے پتہ تھا کہ میں نے اپنا گریویٹار گلاب رکھنا ہے۔۔۔!!!! یہاں آپ (اپنے) منہ سے ۔۔ ڈھن ڈھنااااان۔۔۔ کا میوزک بھی بجا سکتے ہیں ) کو جس نام سے بھی پکاریں وہ گلاب ہی رہتا ہے۔ لہذا اگر اس کتاب کا نام 'ٹریکٹر کو 'پَینچر' کیسے لگاتے ہیں؟' یا 'برسات کے موسم میں ملیریا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر اور روح افزا کے فائدے' بھی ہوتا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔
آخر میں ہم اپنا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے نہایت قیمتی وقت کو خرچ کرکے آپ جیسے کم پڑھے لکھے، سطحی سوچ کے حامل اور عقل کے پورے لوگوں کے لئے اس کتاب کو لکھنے کا ارادہ کیا! جئے ہم۔۔۔۔
دُر شاباش!
شاہي سيّد نے فرمايا ہے کہ يہ اردو بولنے والے 'بھيّا لوگ' پناہ گزين ہيں! جيسے ان کے اور ہمارے محترم باچا خان، وفات پانے کے بعد بھي جلال آباد ميں پناہ گزين ہيں۔ شاہي سيّد کے لئے بھي ايک عدد دُر شاباش!
آپ کے اور ہمارے، ہم سب کے پيارے، الطاف انکل نے ايم پي اے رضا حيدر کے قتل پر، پرامن يوم سوگ کي اپيل کي تھي۔ ان کے پيروکاروں نے بھرپور طريقے سے اس اپيل پر عمل کيا! اس ڈسپلن اور تنظيم اور يقين محکم پيدا کرنے پر الطاف انکل کے لئے دُر شاباش! (يہ الطاف انکل کي پندرہ کروڑويں دُر شاباش ہے)
شہباز شريف عرف خادم اعلي عرف عائشہ ہني کے ڈارلنگ عرف بيٹھي ہوئي آواز نے کہا ہے کہ سيلاب زدگان کي مدد کے لئے ناجائز دولت لوٹنے والوں سے پيسہ اگلوانا چاہيے۔ ان سے پوچھنا صرف اتنا ہے کہ يہ کام مياں شريف مرحوم کريں گے۔؟ اس کے ساتھ ہي انہوں نے تين ہزار سات سو ترپن ويں دفعہ خوني انقلاب آنے سے آگاہ کيا۔ يہ انقلاب، شايد اس سيلاب کے بعد آہي جائے کہ خدا کے گھر دير ہے، اندھير نہيں! خادم اعلي کے لئے بھي ايک عدد تازہ تازہ دُر شاباش!
صدرپاکستان اينڈ کو، کو کسي دُر شاباش کي ضرورت نہيں!
سمجھ تو آپ گئے ہوں گے!
ایک دن 'اوئے' کے ساتھ
ڈرائنگ روم میں صابر ایوان اور روحیل کھڑپینچ آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ کھڑپینچ کی آواز اوور لیپ کرتی ہے۔۔۔۔'' پیلے ہم نے آنڈوں پرونٹھوں کا ناشتہ کیااااا۔۔۔ پھر ہم نے دودھ پتّی کے دو دو مگّے پیےےےے۔۔۔ اس کے بعد لسّی کا ڈُوھڑ (ڈیڑھ) گلاس پیااااا۔۔۔ پھر ہمیں نیند آگئی ی ی (خرّاٹوں کی آواز اوور لیپ) اور ہم بارہ بجے اٹھے۔۔۔احمقانہ موسیقی۔۔۔ پھر صابر ایوان سے گپ شپ شروع ہوئی ی ی ''۔۔۔
آپ پر اَلزام لگایا جاتا اے کہ آپ نے وزیر اعظم زلفی کی پھانسی پر مٹھیائیاں بانٹیں تھیںںںں، آپ اس پر کیا کہتے ہیںںںں؟
جی نہیں۔۔۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ اصل ماجرا یوں ہے کہ جناب زلفی شہید، کی شہادت کے دوسرے دن میں نے ان کی غائبانہ رسم قل کا اہتمام کیا تھا، کیونکہ اس دن بوجہ چھٹی، سبزی منڈی بند تھی، لہذا پھلوں کا بندوبست نہ ہوسکا،بنابریں ختم قل شریف کے بعد حاضرین محفل میں گلاب جامنیں اور برفی وغیرہ بانٹی گئی تھی، اتنی سی بات تھی جس کا حاسدین نے بتنگڑ بنا دیاہے۔۔۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ جناب نسواری کے مخالفین یہ چاہتے ہیں کہ ان کے مخلص ساتھیوں کی کردار کشی کرکے ان کو پارٹی سے نکالا جائے اور جناب نسواری کی ساکھ مجروح کی جائے، لیکن میں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ ایسا صرف میری نعش پر سے گزر کر ہی ہو سکتا ہے۔ (وفور جذبات سے صابر ایوان کی داڑھی میں موجود سفید دھاری پھڑکنے لگتی ہے)
یہ بتائیں کہ ایک طرف تو آپ بی ٹی وی پر اسلامی لییکچر دیتے ہیںںںں، دوسری طرف جناب ناصف ولی نسواری کے وکیل بھی رہے ہیںںںں (آنکھیں میچ کر، ناک سکوڑ کر اور ہونٹوں کو گول کرکے) کیا یہ کھُولا تاضاد نئیں اے؟
مجھے آپ کے اس سوال سے تعصب، عناد، تنگ نظری اور انتہاپسندی کی بو آتی ہے، سو آئی آبجیکٹ اینڈ ریفیوز ٹو آنسر اٹ۔۔۔
روحیل کھڑپینچ کی آواز اوور لیپ کرتی ہے۔۔۔۔ صابر ایوان گسّے میں آگئےےےےے۔۔۔ انہوں نے لنچ کے لئے میری فرمیش پر کریلے گوشت پکوائے تھےےےے ۔۔۔لیکن انہوں نے کریلے گوشت کی ہوا بھی نہیں لگوائی ی ی ی۔۔۔۔ اور مُجے آلو اور کدّو کی بھجیا کھانے پر مجبور کردیاااا۔۔۔ جس پر ہامیں مجبورا پاروگرام مختصر کرنا پڑاااا۔۔۔
اگلے پاروگرام میں ہام آپ کی ملاقات ماشہور اداکارہ صیمہ سے کرائیں گےےےے۔۔۔ اس وقت تک کے لئے اجازت دیجیےےےے ۔۔۔ اللہ حافظ
ہیرو / ہیروئن – ادبی و تحقیقی مقالہ
ہیروئن: حُور کا دنیاوی ورژن، اتنی حسین کہ روزانہ محلے کے بیس پچیس لڑکے اسے یونیورسٹی/کالج آتا جاتا دیکھ کر وفات پاتے ہوں اور یوں اس کا محلہ، وہ نازی کیمپ لگے جہاں روزانہ درجنوں کے حساب سے یہودی مارے جاتے تھے، اس سے یہ مطلب نہ نکالا جائے کہ ہیروئن یہودیوں کے محلے میں رہتی ہے۔۔۔سرو قد جبکہ اس کی سہیلیوں میں امرود قد، بیری قد، بانس قد، مالٹا قد وغیرہ شامل ہوں، رنگت جیسے شہد میں دودھ ملا ہو، جھیل (یعنی تربیلا، منگلا، راول، کاغان وغیرہ بلکہ جھیلوں کی کمی کے پیش نظر قدرت نے عطا آباد جھیل بھی بنا دی ہے!) جیسی آنکھیں جن میں صرف ہیرو ہی ڈوبتاہے اس سے پہلے کسی کو توفیق نہیں ہوتی، بال گھٹنوں سے ذرا نیچے اور زیادہ تر شاہ کالے جبکہ کبھی کبھار ہلکے براؤن اور ہیرو اکثر یہ فرمائش کرتا پایا جاتا ہو کہ اسے ان زلفوں کی چھاؤں میں زندگی بسر کرنے دی جائے، ناک ستواں نہ کہ پھینی، موتیوں جیسے دانت، گھنی پلکیں، ہنستے ہوئے گالوں میں ڈمپل، بولے تو منہ سے پھول جھڑیں جبکہ ہنسے تو موسیقی بجنے لگے (اس سے یہ نتیجہ نہ نکالا جائے کہ ہیروئن کا تعلق گانے بجانے والے گھرانے سے ہے!)، جب بھی ہیروئن اور ہیرو سامنے آئیں تو ہوائیں چلنے لگیں، سلوموشن میں دوپٹہ اڑنے لگے، پرندے گانے لگیں (چڑیاں وغیرہ، کوّے نہیں!) اور زوبی ڈُو ہونے لگے، جبکہ ولن کی آمد کی صورت میں سکُوبی ڈو۔۔۔ سگھڑاپے میں پی ایچ ڈی کی حامل، یونیورسٹی / کالج میں بوجہ حسن و اخلاق و ذہانت نہایت ہردلعزیز، آلو بتاؤں سے لے کر زعفرانی قورمے تک اور دال ماش سے ہرن کے کبابوں تک ہر ڈش پر کامل عبور، سلائی کڑہائی میں ید طولی، ہمیشہ فاختئی، کتھئی، کیلوی، سیبی، سنگتری، آمی، آڑوی، بینگنی، بھنڈوی، کدوؤی رنگ کے ملبوسات زیب تن ، ہیرو کو آخری صفحے تک بھائی جان کہنا، اکیلے بیٹھ کر فلسفے میں سوچنا (اس کی مثالیں اگلے کسی مقالے میں بیان کی جائیں گی)، والدین کی اکلوتی اولاد، امیر ہونے کی صورت میں والدین زندہ، جبکہ غریب ہونے کی صورت میں صرف باپ جس نے ماں بن کر پالا۔۔۔ عبادت گذار، محلے میں میلاد شریف کی محافل میں بطور خاص بلوائی جانے والی، نام ایسا اچھوتا کہ پتہ نہ چلے کہ یہ کسی خاتون کا نام ہے یا کسی یونانی دوا، افریقی دریا یا انڈونیشیائی بلا کا۔۔۔ مثلا فارمینہ، جسورہ، زلائنہ وغیرہم۔۔۔
ہیرو: دراز قد (کم از کم چھ فٹ)، کھلتا ہوا گندمی رنگ، مردانہ وجاہت کا کامل نمونہ کہ عمران خان بھی جس کے سامنے پانی بھرے، گہرے بھورے ، ہلکے نیلے یا 'سن وے بلوری اکھ والیا' جیسے رنگ کی آنکھیں، زیادہ تر داڑھی مونچھ منڈا لیکن کبھی کبھی ہلکی مونچھیں، ورزشی جسم، بازوؤں کی پھڑکتی ہوئی مچھلیاں، خوش لباس، ہر کھیل کا ماہر (ہر کھیل کے معاملے میں دماغ زیادہ نہ دوڑائیں، حالات اچھے نہیں چل رہے!)، یونیورسٹی / کالج کا سب سے ذہین طالبعلم، نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں سر فہرست، ہیروئن غریب ہو تو دنیا کے سب سے امیر باپ کا بیٹا اور ہیروئن کے امیر ہونے کی صورت میں اس کائنات کا سب سے مفلوک الحال انسان، جس کی بیوہ ماں کپڑے سی کرگھر چلا رہی ہو (لیکن ملبوسات دونوں صورتوں میں یکساں ہی رہیں گے)، بَلا کا خوددار (یہ بَلا بھی پتہ نہیں کون سی بَلا ہوتی ہے، چڑیل،ڈائن، اینا کونڈا، جن، بھوت۔۔ اس پر بھی ایک تحقیقی مقالہ لکھنا پڑے گا!)، دوستوں کا ایک بڑا گروپ جس میں صرف ایک ہی خاص دوست جو ہر مشکل صورتحال کو آسان بنانے کے لئےہمیشہ کمربستہ، شریف ایسا کہ بابرہ شریف کو شرمائے، لڑکیوں میں مغرور کے نام سے مشہور جبکہ حقیقت میں نہایت منکسر المزاج، نام ایسا کہ کم ازکم پڑھنے والے نے زندگی میں پہلی بار سنا ہو (از قسم روحال، صارم، یارق، زلیب وغیرہ)، ہیروئن کے ملنے سے پہلے ہر لڑکی کو بہن سمجھنے والا، بلکہ اگر ہیروئن کزن وغیرہ نکل آئے تو اس کو بھی نکاح نامے پر دستخط کرنےسے پہلے بہن ہی سمجھنے والا، بہادر، روشن خیال، نماز روزے کا پابند۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔
مندربہ بالا خصوصیات پر مشتمل انسان ان ڈائجسٹوں میں ہیرو/ہیروئن کے درجے پر فائز ہوتے ہیں۔ عام زندگی میں یہ ساری خصوصیات تلاش کرنے کے لئے کم ازکم پینتیس سال اور ڈیڑھ کروڑ افراد چاہییں۔۔۔
چکّر
چکّر باز دنیا۔۔۔۔ آخر میں اتنا چکرایا ہوا کیوں ہوں؟۔۔۔ لوگ کہتے ہیں جو چکّر دنیا کو دیئے ہیں، وہ واپس آرہے ہیں۔ میں کہتا ہوں ، چلو اچھا ہے۔۔۔ دنیا میں دیا چکّر دنیا میں واپس مل جائے۔ پر خود یہ دنیا چکّر کھا رہی ہے سورج کے گرد۔۔۔ پھر یہ کیا چکّر ہے؟ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے کرتے کم ازکم میں تو چکرا گیا ہوں۔۔۔
شیطان نے امّاں حوّا کو چکّر دیا تو یہ چکّر شروع ہوا، جو آج تک بس چکّر پہ چکّر کھا رہا ہے۔۔۔
چکّر شاید کسی گول چیز کو کہتے ہیں جس کا کوئی سرا نہ ہو، پھر تو سارا مسئلہ ہی ختم ہوگیا، جس کا سرا کوئی نہیں تو اس کا اختتام کیا ہوگا۔۔۔ میں سوچتا ہوں کہ شاید سوال حل ہوگیا پر پھر بھی سوال وہی رہے گا کہ یہ چکّر آخر ہے کیا۔۔!
زندگی ایک بہت بڑا چکّر ہے، شاید پینسٹھ سال کا یا ساٹھ سال کا۔ اس کے اندر تین چکّر ہیں، بچپن، جوانی اور بڑھاپا۔ پھر ان چکّروں میں کچھ اور چکّر ہیں، جیسے بچپن میں معصومیت کا چکّر۔۔ اپنی معصومیت دکھا کے ایک روپیہ لینے کا چکّر۔۔۔ اور نرم گالوں پر پیاری پیاری آنٹیوں کی پپّیوں کا چکّر۔۔۔ یہ چکّروں میں سب سے بادشاہ چکّر ہے!
پھر جوانی کا چکّر شروع ہوجاتا ہے۔ یعنی آپ چھوٹے چکّر سے اور بڑے چکّر میں آگئے، جیسے فزکس میں ایک الیکٹران اپنے مدار کو چھوڑ کر بڑے مدار میں جاتاہے تو بہت انرجی ضائع کرتا ہے۔۔ بس۔۔۔ آپ بھی ان چکّروں میں بہت سی انرجی ضائع کرنے والے ہیں کیونکہ اس چکّرمیں آپ کے چکّر الجھنے والے ہیں۔ جی چکّر ہی چکّر۔۔۔ پہلے محبت کا چکّر۔۔۔ پھر لڑکی کے گھر کے چکّر۔۔ پھر شادی کا چکّر۔۔۔پھر اس کے بعد بچوں کے پیمپر لانے کے چکّر۔۔۔ ان کو سکول چھوڑنے کے چکّر۔۔۔ ان کی دیکھ بھال کے چکّر۔۔۔ اتنے چکّر کہ بس آپ کو ایک دو بار خود اسپتال کے چکّر لگانے پڑ جاتے ہیں۔۔۔
اور پھر آخری قبرستان کا چکّر۔۔۔ جو صرف وہاں آپ کو چھوڑنے جانے والوں کے لئے ہے۔۔۔ کیونکہ آپ کا چکّر تو وہاں ختم ہوجاتا ہے۔۔۔۔!
فیرہُن؟
ہمارے یہاں، پچاس کے بعد، جب اولاد جوان ہوجاتی ہے، بیوی، ماں کا روپ دھار لیتی ہے، بہن بھائی اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہوجاتے ہیں، والدین یا تو گزر چکے ہوتے ہیں یا اس کی تیاریوں میں ہوتے ہیں تو بڑا مشکل وقت شروع ہوجاتا ہے جی عمر کے اس حصے میں۔ بچّے، جو اب بڑے ہوچکے ہوتے ہیں، اپنی ساری کمیوں اور ناآسودگیوں کا ذمہ دار باپ کو ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ نے آج تک ہمارے لئے کِیا ہی کَیا ہے ؟؟؟۔۔۔ اور وہ جو پوری زندگی، دن رات محنت کرکےاور اپنا آپ مار کے ان کی خواہشیں ہر ممکن حد تک پوری کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا، اس کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔۔۔۔!
بیوی کو بھی وہ سارے ظلم اور زیادتیاں یاد آنی شروع ہوجاتی ہیں جو بقول اس کے، شوہر نے ساری زندگی اس پر روا رکھیں۔ 'مُنّے کے ابّا' پکارنے والی محترمہ اب اپنا ہر جملہ یہاں سے شروع کرتی ہیں کہ 'اجی کبھی زندگی میں کوئی کام ڈھنگ سے بھی کر لیا کرو'۔۔ اور یہ بات وہ اپنی اولاد کے جھرمٹ میں ملکہ کی طرح بیٹھ کر ارشاد کرتی ہیں اور وہ یہ بھی کہہ نہیںسکتا کہ جن کے بل پر آپ یوں اکڑ رہی ہیں، یہ ڈھنگ کے کام بھی اسی نے کیے تھے!
مرے پر سو دُرّے۔۔۔۔۔کسی بھی مسئلے ،معاملے، جھگڑے، خوشی، غمی میں باپ ہمیشہ ایک طرف اور ماں اور اولاد دوسری طرف ہوتی ہے۔ باپ ہمیشہ غلط ہوتا ہے، ماں چاہے جتنی بھی غلط بات کررہی ہو، اولاد کی نظر میں وہ ٹھیک ہوتی ہے۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہ کہانی تقریبا ہر گھر کی کہانی ہے۔
میرے نزدیک تو جی اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ بندہ عین جوانی میں ہی مرجائے، یہی کوئی پینتیس چالیس کے آس پاس، اس وقت بچے چھوٹے ہوتے ہیں اور چھوٹے بچوں کے لئے ان کے باپ سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہوتی اس دنیامیں۔ بچوں کے لئے باپ، دنیا کا سب سے بہادر، امیر اور اچھا انسان ہوتا ہے۔ وہ تو جب بچّے بڑے ہوجاتے ہیں تو ان پر باپ کی خامیاں اجاگر ہوتی ہیں کہ ان کا باپ کیسا غیر ذمہ دار، ظالم، عیّاش، ان کی ماں کی زندگی برباد کرنے والا اور لفنگا انسان تھا۔۔۔ جوانی میں مرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کے ذہن میں تاعمر باپ کا وہی تاثر رہتاہے جو ان کی بچپن کی یادداشت میں محفوظ تھا۔ اور بیوی کو متوفی خاوند میں وہ خوبیاں بھی نظر آنی شروع ہوجاتی ہیں جو کبھی موجود ہی نہ تھیں۔ مرنے کے بعد سب محفلوں میں اس کا ذکر ایسے ہوتاہے جیسے اس جیسا نیک، پارسا، ذمہ دار، بات کا پکا، بیوی بچوں کا خیال رکھنے والا انسان شاید ہی کوئی اور ہو۔۔۔۔ اور یہ فقرہ بھی کہ بس جی اللہ اپنے اچھے بندوں کو جلدی اپنے پاس بلالیتا ہے۔۔۔۔۔اوروہ رشتے دار جو زندہ ہوتے ہوئے منہ لگانا بھی پسند نہ کرتے ہوں، وہ بھی ایسے تعریفوں کے پل باندھتےہیں کہ ۔۔۔ حق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا۔۔۔۔
تو جی بات یہ ہے کہ ہمارے خطّے کے لوگوں کی اوسط عمر ساٹھ سے کم ہی ہے، تو پندرہ بیس بدذائقہ سالوں کے لئے پوری زندگی کی 'کیتی کرائی کھوہ' میں ڈالنے کا کیا فائدہ؟ میرا تو مفت مشورہ ہے کہ یہی وقت ہے مرنے کا، اس عمر تک پہنچتے پہنچتے دعا کریں کہ اوپر پہنچ جائیں، ورنہ آگے بڑی بدمزگی ہے!!دماغ کی دہی المشہور بہ میمنٹو
ایک بہترین سا، زیادہ سارے تلوں والا ،کرارا ، کلچہ لیں۔ پھر یہ فلم دیکھیں، فلم ختم ہونے کے بعد دماغ کی دہی بن چکی ہوگی بس اسے کلچے کے ساتھ تناول کرکے زندگی کے مزے لوٹیں!!
ہدایتکار کرسٹوفر نولان کی یہ پہلی فلم تھی جو میں نے دیکھی اور پھر اس کے بعد اس کی ساری فلمیں دیکھ ڈالیں، ڈارک نائٹ بھی، حالانکہ کامک بک کرداروں پر بنی ہوئی فلمیں میں نے کبھی شوق سے نہیں دیکھیں۔ جوناتھن نولان کی لکھی مختصر کہانی 'میمنٹو موری ' ماخوذ اس فلم میں منظرنامہ کرسٹوفر نولان کا ہے۔ انسانی دماغ اور اس کی پیچیدگیاں اور ان پیچیدگیوں سے بُنے گئے کھیل، یادداشت، حقائق، دھوکہ، حقیقت، گھڑی گئی حقیقت اور بہت سے ڈفانگ آپ اس میں ملاحظہ کرکے اپنے دماغ کو سخت ورزش کرواسکتے ہیں۔ فکشن کا رسیا ہونے کے ناتے، میں اکثر کوئی کہانی پڑھ کے سوچا کرتا تھا کہ اس پر فلم یا ڈرامہ بنانا ناممکن ہے۔ لیکن اس فلم کو دیکھ کے بعد، میں اپنے ایسے بے ہودہ خیالات سے تائب ہوچکا ہوں۔ اگر اس پیچیدہ کہانی پر ایسی فلم بنانا ممکن ہے تو ہر کہانی کو فلمایا جا سکتا ہے!
گائے پیرز کی پہلی فلم جو میں نے دیکھی تھی، وہ 'ایل اے کانفیڈنشل' تھی۔ اس فلم میں سپرسٹارز بھرے ہوئے تھے اور ان کے درمیان جس طرح اس نے اپنی اداکاری کا لوہا منوایا، اس سے میں شدید متاثر ہوا تھا۔ اور اس فلم کے بعد تو میں اس کا سخت فین ہوچکا ہوں۔ کیری این موس (وہی میٹرکس والی!) اور جو پینٹالانو اس کے دوسرے اہم اداکاروں میں شامل ہیں۔ میرے خیال میں اس فلم کو فلم انسٹی ٹیوٹس میں ہدایتکاری کے سلیبس میں شامل ہونا چاہیے (شاید ہو بھی)۔ کہانی سنانے کی جو تکنیک اس میں استعمال کی گئی ہے وہ نہ تو اس سے پہلے میں نے کبھی دیکھی اور نہ اس کے بعد۔ یہ ایک ایسی فلم ہے جس کا پہلا منظر، کہانی کا آخری منظر ہے! گھوم گیا ناں بھیجہ۔۔۔ بس اس سے زیادہ میں کچھ اور نہیں کہوں گا کہ پھر فلم دیکھنے کا کیا 'فیدہ' اگر آپ نے مجھ سے ہی کہانی سننی ہے۔۔۔ ہیں جی۔۔۔
اور ایک اور چیلنج بھی ہے، ایک دفعہ دیکھ کے آپ اس فلم کو نہ تو پوری طرح سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی لطف اندوز ہوسکتے ہیں لہذا دوسری دفعہ دیکھنی ہی پڑے گی اور دوسری دفعہ دیکھنے پر جو لطف آئے گا اس کی مثال میں دینا نہیں چاہتا۔۔۔۔
انتباہ صرف اتنا ہے کہ اسے جم کیری، آرنلڈ شوارزینگر، بروس ولس، جیکی چن وغیرہ وغیرہ کی فلم سمجھ کر نہ دیکھیں، کہ فلم بھی دیکھ رہے ہیں ساتھ میں گپ شپ بھی جاری ہے، اور بعد میں میرے اوپر گرم ہوجائیں کہ یہ کیسی عجیب فلم ریکمنڈ کی ہے، نہ سر نہ پیر۔۔۔۔۔
اور ایک آخری بات اور کیونکہ اس کے بعد پروگرام کا وقت ختم ہوجائے گا۔ یہ ایک ایسی فلم ہے جس کے انجام کو دیکھنے والے کے ذہن اور سوچ پر چھوڑدیا گیا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ تقریبا ہر انجام، جو سوچا جاسکتا ہے، منطقی ہے۔۔۔۔ کیسا!!!!!
(بشکریہ فلمستان)
کھولنا اپنے ہی پولوں کا
دوسروں کے پول کھولنا شاید اس کائنات کا سب سے آسان اور۔۔۔۔ لذیذ کام ہے۔ وہ گنجا ہے، وہ کالی ہے، وہ توندیل ہے، وہ بالکل سیدھی ہے جیسے اسے کوئلے والی بڑی استری سے پریس کیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ لیکن آج میں اپنے ہی پول کھولنے پر اتر آیا ہوں۔ آپ کو شاید بلکہ یقینا مزا آئے گا، پر مجھ کو خاطر خواہ بدمزگی ہوگی جس سے چند احباب کے محظوط ہونے کا امکان یقینی ہے۔۔۔
چلیے شروع کرتے ہیں ۔۔۔مثلا نمبر ایک، میرا جیسا کنجوس اس کائنات میں شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔ میری ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب جب تک مجھے ۹۹۹ ڈائل کرنے کی دھمکی نہیں دیتی، میں اسے دبا دبا کراور پچکا پچکا کر اور جھٹک جھٹک کر اس میں سے پیسٹ نکالتا رہتا ہوں،اور ۸۰ گرام کی ٹیوب میں سے میں تقریبا 7۔۷۹ گرام پیسٹ استعمال کرلیتا ہوں اور باقی بچنے والے اعشاریہ تین گرام کو نہ استعمال کرنے پر میری جو افسوسناک اور کربناک حالت ہوتی ہے، وہ قابل دید ہی ہوسکتی ہے، لفظ اس کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔
فلرٹیشن کا مرض (پنجابی میں لکھیں تو۔۔۔ ہونا ٹھرکی کسی بندے کا) زمانہ طفولیت سے ہی لاحق ہے۔ پہلی جماعت میں تھا تواپنی مس پر عاشق ہوگیا تھا۔۔۔ اور اسے جھوٹ نہ سمجھیں۔ پانچویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے میں نے کوئی سات خیالی معاشقے پھڑکاڈالے تھے۔ چچا نے شاید یہ مصرعہ میرے لئے ہی کہا تھا کہ
مرا مزاج بچپن سے عاشقانہ ہے۔۔۔
جوانی کے حقیقی معاشقے سنانے کی غلطی تو میں ہرگز نہیں کرسکتا، کہ میں یملا تو ہوں پر اتنا بھی یملا نہیں! ہیں جی۔۔۔
اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ بڈّھا ہونے پر تو میری شدید واٹ لگے گی کہ بابے تو ویسے ہی ٹھرکی ہوجاتے ہیں اور میرے جیسے متوقع بابے، جو زمانہ قبل از تاریخ سے ہی ٹھرکی واقع ہوئے ہوں، تو وہ تو ٹھرکی کی بھی تیسری فارم یعنی ٹھرکیئسٹ ہوجائیں گے۔۔۔ اللہ میرے حال پر رحم فرمائے۔۔۔ اور مجھے جوانی میں ہی ۔۔۔ آہو۔۔۔
بزدلی مجھ میں ایسے کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی ہے جیسے میرا میں انگلش۔ عورتیں بےچاریاں تو ویسے ہی مشہور ہوگئی ہیں چھپکلیوں، کاکروچوں، چوہوں وغیرہ سے ڈرنے میں، جبکہ اس کام میں جو یدطولی مجھے حاصل ہے، وہ کسی عورت کے بس کی بات نہیں۔ ویسے یہ عورتیں جب لڑکیاں ہوتی ہیں تو ان کے کالج ویمن کالج کہلاتے ہیں اور جب حسب توفیق چار پانچ چاند سے بچوں کی اماں جاتی بن جاتی ہیں تو ان کا اصرار ہوتا ہے کہ انہیں لڑکی سمجھا اور پکارا جائے۔۔۔ ساری دوسری سائنسوں کی طرح یہ سائنس بھی مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی۔۔۔
کہیں آپ یہ نہ سمجھنا شروع کردیں کہ میں ہرکام میں ہی کنجوس ہوں اس لئے وضاحت کیے دیتا ہوں کہ لفظ خرچ کرنے کے معاملے میں، میرا ایک ہی ثانی ہے (بلکہ وہ اول ہے میں ثانی ہوں)۔ میں اتنی فضول خرچی سے لفظ بولتا اور لکھتا ہوں جیسے ہمارے حکمران قومی خزانے سے کبھی عمرے کرتے ہیں اور کبھی مجرے سنتے ہیں۔ 'الفاظوں' کے معاملے میں کوئی ایسی مثال نہیں کہ میں نے کبھی جزرسی کی ہو، جو بات ایک فقرے میں کہی یا لکھی جاسکتی ہو، میں اس پر تین تین گھنٹے اور چھ چھ دستے کاغذوں کے لگا دیتا ہوں۔ اور جب بات ختم ہوتی ہے تو کوئی مائی کا لعل یا ابا کی بنّو یہ اندازہ نہیں لگاسکتے کہ اصل بات کیا تھی۔۔۔ ایک دفعہ پھر۔۔۔۔ ہیں جی۔۔۔۔