حق گوئی و بے باکی

آپ گھمًن صاحب کو دیکھ لیں۔ کل رات انہوں نے مجھے کال کیا۔ گھمًن صاحب کی آواز بھرًائی ہوئی تھی۔ انہوں نے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو میرے دوست ہیں۔ آپ کو میرے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا۔ اور اس دوستی کا لحاظ رکھنا چاہیے تھا۔


میں نے ایک گہرا سانس لیا۔ فون دائیں کان سے ہٹا کر بائیں کان پر رکھا اور کھنکھار کرگلا صاف کیا اور یوں گویا ہواکہ یہ ٹھیک ہے، آپ میرے دوست ہیں۔ آپ نے ہر موقعہ پر میرا ساتھ دیاہے۔ مجھے وہ دن بھی نہیں بھولا جب آپ نے میرے بڑے بیٹے کے ختنوں پر بہترین مجرے اور سائیڈ پروگرام کا اہتمام کیاتھا۔ ہر ہفتے آپ کی طرف سے بکرے کی سالم ران، مرغ، پلا مچھلی کی فراہمی بھی کبھی بند نہیں ہوئی۔ یہ سب احسان اپنی جگہ، لیکن گھمًن صاحب، ہم سب کی دوستیاں، یاریاں، تعلق یہ سارے پیٹ کے دم سے ہیں۔ اگر پیٹ میں ہی کچھ نہیں جائے گا تو کہاں کی دوستی اور کہاں کا تعلق؟ گھوڑا، گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟ یہاں پہنچ کر میں نے ذرا دم لیا۔ پانی کا گلاس اٹھا کر دو گھونٹ لیے اور دوبارہ یوں گویا ہوا۔


اس واقعہ کے بعد آپ نے پہلے کی طرح مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ نہ کوئی سیبوں کی پیٹی، نہ کیلوں کا لونگر، نہ دیسی گھی کے ٹین اور نہ بکرے کی رانیں۔ آپ نے بالکل مجھے بھلادیا۔ حتی کہ پچھلے مہینے آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی کوئی نئی گاڑی پکڑی گئی، وہ سپردداری پر مجھے دیں گے۔ میں نے یاددھانی کے کتنے فون کیے لیکن ہمیشہ یہی سننے کو ملا کہ صاحب مصروف ہیں۔ گھمًن صاحب، آخر کب تک یہ میں یہ یک طرفہ ٹریفک چلاتا رہوں گا۔ میرے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ جو ایک عدد بیوی نے پیدا کئے ہیں۔ جن کی ضروریات پوری کرنا مجھ پر فرض ہے۔ اگر میں پھوکے تعلق ہی نبھاتا رہا تو آپ خود ہی بتائیے، کہ بیوی کو کیا منہ دکھاوں گا؟ یہاں تک پہنچتے پہنچتے میری سانس پھول چکی تھی۔ غصے سے میرا رنگ آتشی گلابی ہوچکا تھا۔ میں نے پانی کا ایک گھونٹ پیا، دس تک الٹی گنتی گنی جو چار پر جا کر بھول گیا لہذا دوبارہ گنی۔


گھمًن صاحب نے میری بات کاٹی اور کہنے لگے کہ آپ کے سارے گلے بجا ہیں۔ میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔ اس واقعے میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ تاجے حوالدار کو لاکھ دفعہ سمجھایا ہے کہ چھوٹے موٹے ریڑھی والوں سے مفت بری نہ کیا کر۔ لیکن وہ سمجھتا ہی نہیں۔ اور میرا نام لے کر ان کی گنڈیریاں چوپ جاتا ہے اور گول گپے کھا جاتا ہے۔ اور نام میرا بدنام ہوتا ہے۔ آپ تو مجھے جانتے ہی ہیں کہ میں کبھی چھوٹا ہاتھ نہیں مارتا۔ آج تک اللہ کے فضل سے کبھی دس ہزار سے کم رقم نہیں پکڑی۔ لہذا اس واقعے میں، میں بالکل بے قصور ہوں۔ جو بھی ہوا، میری لاعلمی میں ہوا اور میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔


گھمًن صاحب کی آواز میں مجھے سچائی محسوس ہوئی۔ مجھے ایسا لگا کہ یہ سارا وقوعہ ان کی لاعلمی میں پیش آیاہے اور وہ بالکل بے قصور ہیں۔ اس لیے ان کے خلاف جو بھی پروپیگنڈہ کیا جارہاہے، بالکل غلط اور بے بنیاد ہے!۔

سی ٹی ۔ بی ٹی

سی ٹی: پائین، اب کیا حال ہے آپ کا؟

بی ٹی: شباژ ساب، بہت برا حال ہے۔ دو دن سے ڈاخٹر نے کھانا بند کیا ہوا ہے۔ میں نے اس کو کہا بھی کہ یار میں ٹھیٹرکررہا ہوں، بمار شمار نہیں ہوں، پر شباژ ساب،یہ گورے بڑے سخت ہیں ۔ ڈبل روٹی،آنڈے ہی دیتے جارہے ہیں۔ میں نے ککے بالوں والی نرس کو بھی کہا کہ اگر ہریسہ کھانے کو نہیں دینا تو ٹیکے میں بھر کے ہی لگادے۔ اس پر وہ ہنسنے لگی، جس پر میرا بھی ہاسا نکل گیا جو کہ آپ کو ملوم ہے کہ ہر نازک موقعے پر نکل جاتا ہے۔ ہیں جی۔۔

سی ٹی: پائین، آپ کو سمجھایا بھی تھا کہ پانچ چھ دن کی بات ہے۔ ذرا احتیاط کرلیں۔ ایک تو آپ کو بات کی سمجھ اس وقت آتی ہے، جب سمجھ آنا نہ آنا برابرہوتا ہے۔ حالات بڑے نازک ہورہے ہیں۔ مجھے تو خطرہ ہے اس دفعہ دوتہائی کی بجائے ، عوام نے ہمیں دس فٹ کا ڈنڈا، دوتہائی تک دےدینا ہے۔

بی ٹی: اوہوہوہوہو۔۔۔ ہیں۔۔۔ شباژ ساب، واقعی؟

سی ٹی: نہیں تو پائین آپ کا خیال ہے، میں بوچر ماررہا ہوں ؟ آپ ایک دو دن دلیہ کھائیں تاکہ آپ کے چہرے پر تھوڑی سی نحوست آئے، کیونکہ پرسوں آپ کا ہسپتال سے ایک لائیو انٹرویو چلوانا ہے اور فوٹو سیشن بھی کروانا ہے۔

بی ٹی: اچھاجی۔ پر اس کے بعد میں نے فل ٹشن پروگرام روٹی کھانی ہے۔ میں نے کہہ دیا ہے بس۔ مجھے کوئی نہیں پتہ پُتہ۔۔ ڈاخٹرسے میں نےپوچھا کہ لسی پی لوں تو اس نے کہا کہ بیئر پی لو۔نشہ ہی کرنا ہے۔۔۔ لو دسّو بھلا۔ یہ انگریز بھی جگتیں کرنے لگے ہیں ۔ مجھے لگتا ہے کہ ڈاخٹر یوٹیوب پر امان اللہ کے ڈراموں کے کلپ دیکھتا رہتا ہے۔ میں نے پیجے کو کہا کہ انگلش میں اس کو تین چار جگتیں لگا تاکہ اس کے ہوش ٹھکانے آئیں۔

سی ٹی: پائین ، خدا کا خوف کریں ، ادھر میری تشریف بنیرے کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور آپ کو جگتوں اور لسیوں کے سوا کچھ نہیں سوجھ رہا۔ بس ایک دو دن کی بات ہے ۔ ایک فل ٹیٹ ہسپتالی فوٹو سیشن ہوجائے۔ اس کے بعد جو دل میں آئے، کھائیں۔ جیدے، فانے، کیدو وغیرہ سب کو لفافے اور بریفنگیں دے آیا ہوں۔ ادھر تصویریں چھپنی ہیں ادھر نیر سلطانہ ٹائپ جذباتی کالم چھپ جانے ہیں۔ بس اسی رولے گولے میں ریمنڈ پائین کا رولا ، گول ہوجانا ہے۔

بی ٹی: واہ جی واہ شباژ ساب۔آپ کا کیا ڈماک چلتا ہے۔ آہاہاہاہا۔۔۔لیں یہ سیب کھائیں۔

سی ٹی: پیجا کہہ رہا تھا کہ ایم ٹی کا فون آیا تھا۔ طبیعت پوچھنے کے لیے؟ کیا بات ہوئی؟

بی ٹی: یار، ایک تو شباژ ساب، اس کی سمجھ ہی نہیں لگتی۔ اتنی اونچی آواز میں بول رہا تھا کہ مجھے ٹیلیفون کی بجائے اس کی آواز روشندان سے آرہی تھی۔ میں نے اس کو کہا بھی کہ طیفا جی ابھی تو دو بجے ہیں دن کے، فون پر اونچا بولنے کا ٹیم ابھی کافی دور ہے۔ پر یار وہ کسی کی سنتا ہی نہیں ۔ پتہ نہیں کیا کیا بولی جارہا تھا۔ رویا بھی تھا بیچ میں۔ شاید اس کے ڈاخٹر نے اس کا شربت بند کردیا ہے۔ میں بھی ہاں ہاں کرتارہا۔ بعد میں ککے بالوں والی نرس نے میرے کانوں میں گرم تیل ڈالا تو فیر ذرا کانوں کو سکون ہوا۔۔ہیں جی۔۔۔

ایمان، لوٹا اور بلاگ

چچا نے”وفاداری بشرط استواری“ کی شرط کو ایمان کے اصل ہونے کی بنیاد بتایا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ استواری ختم ہوجائے تو وفاداری کی شرط بھی ساقط ہوجاتی ہے۔پس ثابت ہوا ، ہمارا ایمان ابھی تک ثابت و سالم ہے ۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ دوسال کی استواری اب ختم ہوچکی ہے لہذا ہم بھی وفاداری بدلتے ہوئے پرانا ٹھکانہ چھوڑ نئے ٹھیّے پر آبیٹھے ہیں۔ عبدالقدوس میاں کے بازار میں ہمیں جگہ مفت ملی تھی تو ہم نے اپنی ”ہٹّی“ وہاں کھول لی تھی۔ اب چونکہ عملہ تہہ بازاری نے اس ہٹّی کو ناجائز تجاوز (بھلا تجاوز کبھی جائز بھی ہوا کرتا ہے؟) قرار دیا ہے تو ہم بھی اپنا منجی بسترہ اٹھا کر وہاں سے کوچ کرآئے ہیں۔ وہ تو ہمارے چند مہربانوں کی لگاتار و مسلسل نصیحتوں نے کام کردکھایا اور ہم نے اپنا بلاگی اندوختہ وقتا فوقتا محفوظ کرنا شروع کردیا ورنہ آج ہم بھی اس بازار کے متاثرین کی اکثریت کی طرح ہاتھ مل رہے ہوتے۔

وہاں سے یہاں منتقل ہونے پر شاید چند مہربان ہم پر لوٹا ہونے کی پھبتی بھی کسیں، کستے رہیں، کیونکہ منجی اور پھبتی وقتا فوقتا کستے رہنا چاہیے ورنہ ڈھیلی ہو کر دونوں نہایت پھسپھسی ہوجاتی ہیں۔

اس جگہ پر منتقلی میں سب سے زیادہ کوشش اور محنت ہمارے قابل صد احترام (ھی ھی ھی) دوست جناب ڈاکٹر عمر احمد بنگش کی ہے۔ جنہوں نے اس جگہ کو ہمارے لیے سنوارا اور اس قابل بنایا کہ آج ہم آپ سے مخاطب ہورہے ہیں۔ جس کے لیے ہم ان کے بالکل بھی شکر گزار نہیں ہیں کیونکہ یہ تو ان کا فرض تھا۔ ہمیں امید واثق ہے کہ ہمارے دوست مستقبل میں اس قسم کی حرکت کرنے سے پہلے ایک دفعہ ضرور سوچیں گے !۔

آخر میں ہم اردوسیارہ کی انتظامیہ سے دردمندانہ اور پرسوز اپیل نما التجا / درخواست کرتے ہیں کہ ۔۔۔ دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔۔۔۔ یعنی ہمارا بلاگی پتہ اپ ڈیٹ کردیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔

جدید محاورے

قارئین کو یاد ہوگا یا شاید نہ یاد ہو کہ ہم نے محاورات بارے ارشاد کیا تھا کہ ان میں دور جدید کے تقاضوں کے مد نظر ترمیمات کی جائیں گی۔ حسب وعدہ اس سلسلے کی پہلی قسط حاضر خدمت ہے۔ اگرچہ صدر پاکستان کے ارشاد کی روشنی میں ”وعیدے “ پورے کرنا چنداں ضروری نہیں لیکن ہم ادھار دینے کے وعدے کے علاوہ ہر قسم کے وعدے پورے کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

ہمارے آئندہ ارادوں میں وچکارلی صرف و نحو، ریاضی، طبیعیات، کیمیاء وغیرہ پر طبع آزمائی کرکے قارئین کی قوت برداشت بڑھانا شامل ہے۔

مان نہ مان، تو منافق تے بے ایمان

وہ کریں تو ڈانس، ہم کریں تو مجرا

بلاگ، بکواس کی ماں ہے

جہاں جا، وہاں ٹھاہ

پرائے پھڈّے میں بارہ سنگھاپھٹّڑ

جاہل کیا جانے تُننے کا سواد

بلاگ لکھتے ہی پَولے پڑنا

جس کی ٹی ٹی اس کا موبائل

ایک ٹھرکی پورے بلاگ کو گندا کردیتا ہے

تجھ کو اپنی کیا پڑی پرائی نبیڑ تو

کاپی کر بلاگ پہ ڈال

یعنی کہ میں

میں جب مشرقی یورپ اور انٹارکٹیکا کے سفر سے واپس آیا تو سفرنامہ لکھنے کا سودا میرے سر میں سمایا۔ میں نے ستّر صفحات کا مختصر سا سفر نامہ لکھا اور ٹائم کو بھیج دیا۔ میری تحریر وہ پہلی اور آخری اردو تحریر تھی جو اس میں چھپی۔ پہلی چار سو اقساط تو انہوں نے بنا کسی قطع و برید کے چھاپ دیں جبکہ آخری تین سو سینتالیس اقساط میں انہوں نے علمی خیانت کا ثبوت دیتے ہوئے بنا کسی اطلاع کے بدترین قسم کی قطع و بریدکی۔
مثلا میں نے اپنا سارا سفر اپنے ذاتی جیٹ میں کیاتھا، جو کھیت، ندی، سڑک الغرض ہرجگہ سے ٹیک آف بھی کرسکتا ہے اور اتر بھی سکتا ہے۔ لیکن ٹائم کے ادارتی عملے نے لکھ دیا کہ میں نے معمولی سے ہیلی کاپٹر میں یہ سارا سفر کیا۔ اس وقت میں نے سوچا کہ میرے سفر نامے کے قارئین کیا سوچتے ہوں گےاور میرا تاثر ان کے ذہن میں کیسا بنا ہوگا؟ اس کے علاوہ بھی بہت سی زبان و بیان کی اغلاط تھیں جو کہ شروع کی اقساط میں نہ تھیں۔ اس سے کوئی بھی یہ تاثر بھی لے سکتا ہے کہ میں نے شروع کی اقساط کسی اور سے لکھوائی ہیں۔
ان وجوہات کی بنا پر میں نے اپنے اگلے سفرنامے کو کسی بھی جریدے میں نہ چھپوانے کا تہیہ کیا۔ یہ سفر چوہڑ کانے، اگوکی، سکھیکی، کانا کاچھا وغیرہ کے تھے۔ انہی دنوں میرے ایک جاننے والے نے اس سفرنامے کے مسودے کو دیکھا اور کہا کہ اگر آپ اس کو کہیں اور چھپوانا نہیں چاہتے تو اپنا بلاگ بنالیں۔ تب تک مجھے اردو بلاگنگ کا پتہ نہیں تھا۔ ان کے اس مشورے پر میں نے اردو بلاگنگ کے کی ورڈ سے گوگل پر سرچ کیا تو پتہ چلا کہ اردو میں بھی بلاگنگ ہورہی ہے۔ لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ نہایت غیر معیاری، ناقص، گھٹیا ہے اور اردو بلاگرز میں اکثریت وچکارلے بازو کے نظریات سے تعلق رکھتےہیں۔
تب میں نے سوچا کہ میں یہاں مثبت اور انقلابی تبدیلی لاسکتاہوں۔ بس یہی سوچ کر میں نے بلاگنگ شروع کی۔

مزید قاعدہ

ہمیں احساس ہے کہ یہ قاعدہ اسی طرح آرہا ہے، جیسے اچھے دن آتے ہیں۔۔۔ یعنی ہولے ہولے، جبکہ ایکدم اور یکایک تو حادثہ ہی ہوتا ہے۔ حادثے سے یاد آیا کہ یہ خوشگوار بھی ہوتے ہیں، جیسے نظروں (نظریوں کا نہیں) کا تصادم، دلوں کا ٹکراؤ وغیرہ وغیرہ۔۔ بہرحال حادثے ہمارا موضوع نہیں ہیں۔ ہمارا موضوع ہے وچکارلا قاعدہ، تو چلیے مزید قاعدہ پڑھتے ہیں۔

ر ۔۔۔ رشتہ دار: یہ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے کوئی دل جلا ہم سے پہلے ہی کہہ گیا ہے کہ ۔۔۔ ہوئے تم ”دوست“ جس کے، اس کا دشمن آسماں کیوں ہو۔۔ انہیں آپ اپنی ہر خوشی کے موقع پر بسورتے اور دکھ کے موقع پر کھلکھلاتے دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے بارے جو بات سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ جیتے جی یہ آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتے! ایک بات یہ بھی ذہن میں رہے کہ اگر آپ کے رشتے دار ہیں تو آپ بھی کسی کے رشتے دار ہیں۔

ڑ۔۔۔ یہ لفظ صرف اور صرف اندرون لاہور بسنے والے باشندوں کی سہولت کے لیے اردو میں شامل کیا گیا تھا وگرنہ اس کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ اندرون بھاٹی، جہانگیر بدر، جہانگیڑ بدڑ ہوجاتا ہے، کرارے، کڑاڑے ہوجاتا ہے، لڑائی، لرائی ہوجاتی ہے۔۔۔ علی ہذا القیاس۔۔۔

ز۔۔۔ زُہد: پرانے وقتوں میں لوگ اس سے باطنی صفائی کا کام لیا کرتے تھے اور اس پر عمل کرنےو الے کو زاہد کہتے تھے۔ آج کل کے زاہد، جدید زُہد سے دوسروں کی دھلائی کا کام لیتے ہیں۔

ژ۔۔۔ یہ لفظ صرف ہمیں شرمندہ کرنے کے لیے حروف تہجی میں داخل کیا گیا ہے۔ کچی کے قاعدے میں ژ سے ژالہ باری پڑھا تھا۔ قسم لے لیں جو آج تک ژ سے شروع ہونے والا کوئی دوسرا لفظ سنا یا پڑھا ہو، کانسپریسی پکوڑوں سے لگاؤ ہمیں یہ بات سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ دور قدیم میں ہی ہمارا کوئی حاسد پیدا ہوچکا تھا جو کسی کالے یا نیلے جادو کے زور سے یہ معلوم کرچکا تھا کہ ہم اوائل شباب میں اردو کا ایک وچکارلا قاعدہ لکھیں گے، لہذا اس نے بوجہ حسد و دشمنی یہ حرف تہجی، اردو حروف تہجی میں شامل کروادیا۔ تاکہ ہم پورے بلاگستان کے سامنے شرمندہ ہوں اور اس کا دل اس زمانی بُعد کے باوجود ٹھنڈا ہو۔ لیکن شاید اس کا طلسمی آئینہ اسے یہ بات بتانا یا دکھانا بھول گیا تھا کہ۔۔۔۔ ہم نہایت ڈھیٹ ہیں۔۔۔ ہیں جی۔۔۔۔ اور حاسد دیرینہ کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ ۔۔۔ ہور چُوپو۔۔۔

س۔۔۔ سیب: زمانہ قدیم کے حکماء و اطباء کہا کرتے تھے کہ ایک سیب روزانہ کھانے سے بیماریاں دور رہتی ہیں۔ آج کل ریڑھی والے سے سیب کے دام پوچھے جائیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس نے ایک کیلو کے دام بتائے ہیں یا ریڑھی پر پڑے سارے سیبوں کے۔ مزید استفسار پر ریڑھی والا، آپ کو ایسی نظروں سے دیکھتا ہے، جیسے مل اونر کی بیٹی کا رشتہ مانگنے والے کلرک کو مل اونر دیکھتا ہے۔

ش ۔۔۔ شاعر: ان حضرات کا پول انہی کے ایک بھائی بند نے ایسے کھولا ہے کہ ۔۔ پاپوش میں لگادی، کرن آفتاب کی ۔۔۔ جو بات کی، خدا کی قسم لاجواب کی۔ شاعری، فنون لطیفہ کی اماں جان کہی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے خیال میں تو شاعری، سائنس اور اس میں بھی ریاضی اور فزکس کی مشترکہ شاخ ہے۔ جس میں وزن پورا کرتے کرتے بندے کا وزن کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ شاعر حضرات کو رکشہ ، رشتہ اور ملازمت بڑی تگ ودو کے بعد ملتے ہیں۔ جن کو پھر بھی نہ ملیں، وہ مزید شاعر ہوجاتے ہیں۔

ص۔۔۔ صراحی: خواتین کے رسالوں میں صراحی دار گردنوں کا اتنا ذکر ہوتا ہے کہ یہ کہانیاں، کمہاروں کی لکھی لگتی ہیں۔ صراحی کی گردن تک تو بات قابل فہم ہے لیکن ہم یہ سمجھنے سے ہمیشہ قاصر رہے کہ اس کے نچلے حصے سے مصنف حضرات کی کیا دشمنی ہے کہ اس سے کسی کو تشبیہ نہیں دیتے؟ جبکہ حضرات و خواتین کی اکثریت تیس کے بعد صراحی جیسی ہی نظر آنے لگتی ہے۔ صراحی زیادہ تر مغل آرٹ کے فن پاروں میں نظر آتی ہے، جہاں سٹارپلس کے ڈراموں کی ساڑھیوں سے بنے ہوئے لباس پہنے ایک عجیب الخلقت شخص، صراحی سامنے رکھے، عورت نما چیزوں کو گھورتا پایا جاتا ہے۔

کرارے

میری رائے میں تو فلموں کی صرف دو اقسام ہوتی ہیں۔ اچھی اور بری! باقی صرف تفصیل ہوتی ہے کہ لڑائی مارکٹائی، پیار محبت، سنسنی وغیرہ وغیرہ کس تناسب سے شامل ہیں۔ فلموں کی ایک تیسری اور نادر قسم ہوتی ہے، کراری فلم۔ جیسے لڈو پیٹھیاں والے، گول گپے، تیز مصالحے والے آلو چھولے، املی وغیرہ، جس سے سوائے چٹخارے کے کچھ حاصل ہونے کی امید نہیں ہوتی۔ جس فلم بارے، آپ اب پڑھیں گے، وہ اسی نادر قسم سے تعلق رکھتی ہے۔

گائے رچی کے بارے، پہلے پہل میں صرف اتنا جانتا تھا کہ اس نے میڈونا سے شادی کرنے کا ”کارنامہ“ انجام دیا ہے۔ اس حرکت سے میرے ذہن میں اس کا کوئی اچھاتاثر نہیں بنا تھا۔ لیکن اتفاق سے ایک دن کسی چینل پر ‘سنیچ’ کے کچھ مناظر دیکھے اور فلم میکنگ کا یہ انداز، مجھے نیا، اچھوتا اور مزے دار لگا۔اس پر میں نے اس کی تازہ ترین (اس وقت کے حساب سے) فلم بارے پڑھا تو مجھے روک این رولا کاپتہ چلا۔

فلم کی ہدایتکاری اور مصنفی کی ذمہ داریاں انہی حضرت نے انجام دی ہیں۔ کہانی کا تانا بانا لندن کی رئیل اسٹیٹ مافیا کے گرد بنا گیا ہے اور اپنی سابقہ فلموں کی طرح اس فلم میں بھی گائے رچی کے تمام کردار، جرم کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ مافیا ڈان سے لے کر معمولی اچکوں تک ہر قسم اور نسل کا جرائم پیشہ کردار آپ کو نظر آئے گا۔ فلم کا آغاز پیچیدہ اور ذرا سست ہے۔ لیکن پلاٹ کے مرکزی نکات اور کرداروں کے تعارف کے بعد جب فلم رفتار پکڑتی ہے تو دیکھنے والے کو بہا کے لے جاتی ہے۔

گائے رچی، اس فلم میں آپ کو ایسے کرداروں اور ماحول سے متعارف کرواتے ہیں، جو ہالی ووڈ کی فلموں کے عادی ناظرین کے لیے ایک انوکھا پن لئے ہوئے ہے۔ برطانوی پس منظر کی وجہ فلم میں ایک انفرادیت ہے (یا صرف مجھے محسوس ہوئی)۔ اس فلم کی ایک اور خاص بات یہ کہ اس کا چھوٹے سے چھوٹا کردار بھی بھرتی کا نہیں ہے، بلکہ کہانی کو آگے لے کے جانے والا اور اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے۔ مکالمے مزے دار بلکہ لذیذ ہیں اور سونے پر سہاگہ برطانوی تلفظ۔ میری رائے میں اس فلم کا سکرپٹ ان چند فلم سکرپٹس میں شامل ہے جنہیں مکمل ترین کہا جاسکتا ہے۔

فلم کی بیشتر کاسٹ برطانوی اداکاروں پر مشتمل ہے، جن میں جیرارڈ بٹلر ، مارک سٹرونگ، ادریس البا، ٹام ہارڈی ، ٹام ولکونسن ، ٹوبی کیبل وغیرہ شامل ہیں۔ اداکاری اعلی معیار کی ہے۔ خاص طور پر مارک سٹرونگ بطور ”آرچی“ اور جیرارڈ بٹلر بطور ”ون ٹو“ کے زبردست ہیں۔ منشیات کے عادی راک سٹار جونی کوئیڈ کے کردار میں ٹوبی کیبل نے بھی زبردست پرفارمنس دی ہے۔

آخری بات یہ کہ یہ جائزہ جتنا پھسپھسا ہے، فلم اتنی ہی مزے دار ہے۔ لہذا آپ کا جب بھی فلم دیکھنے کا پروگرام بنے تو سب سے پہلے اسے ہی بھگتائیے گا، اس جائزے کو پڑھنے کی بوریت دور ہوجائے گی۔

خالہ امبالو

گیند ایک دفعہ پھر خالہ کے صحن میں جاگری تھی۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو خالہ نے اندر سے آواز دی۔ "کون اے"؟۔ "گیند آئی ہے آپ کے صحن میں"۔۔۔ میں نے جواب دیا۔ درّانہ وار باہر آتی ہوئی خالہ نے اپنا لاؤڈ سپیکر کھولا اور گلی والوں کی تفنّن طبع کےلئے فری چینل نشر کرنا شروع کردیا۔ "ہائے ہائے گیند سیدھی ہانڈی میں گری ہے جاکے، کوئی ان شیطانوں کو روکتا بھی نہیں کہ گلی میں نہ کھیلو، میں بے چاری غریب کہاں سے پکاؤں گی دوبارہ ہانڈی۔۔۔ ہائے میں لٹ گئی، برباد ہوگئی، ان کا بیڑہ غرق ہو، غریبوں کا جینا دوبھر کردیا۔۔۔ ہائےےےےے۔۔۔"۔

خالہ نے واویلے کے ساتھ بیَن کرنے بھی شروع کردیئےتھے۔ میں نے صورتحال سے بالکل بھی متاثر نہ ہوتے ہوئے ڈھیٹ پن سے کام لیا اور کہا کہ ''خالہ! ذرا دکھاؤ تو وہ ہانڈی جس میں گیند گری ہے۔۔۔۔"۔ اسی دوران گلی کے اکثر گھروں کے دروازوں کی چوکھٹیں آباد ہوچکی تھیں۔ خواتین گھر کے کام کاج چھوڑ چھاڑ، مفت کاتھیٹر دیکھنے، دروازوں میں جم چکی تھیں۔ استاد پونکے نے بھی ڈیک بند کرکے سگریٹ سلگالیا تھا اور بنچ پر گلی کی طرف منہ کرکے بیٹھ گیا تھا اور بھنویں اچکا اچکا کر مجھے اکسانے اور ہلاشیری دینے کی کوشش کررہا تھا تاکہ یہ ڈرامہ جاری رہے اور اس کی شام اچھی گزر جائے۔

خالہ نے میری طرف قہر آلود نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا، " ہانڈی کے بالکل پاس ہی گری ہے، اگر بیچ میں گر جاتی تو۔۔۔۔۔؟"

اس انٹی(آنٹی نہیں) کلائمکس پر گلی کی خواتین اور استاد پونکے کی مایوسی اور اداسی قابل دید تھی۔

ان کے چہرے دسمبر کی آخری تاریخیں لگ رہے تھے۔۔۔۔

یار دوست

دوست بڑی کمینی چیزیں ہوتے ہیں نہ ان کے بغیر گزارا ہوتا ہے نہ ان کے ساتھ!

آن لائن دوستیاں اگر جنس مخالف سے نہ ہوں تو خوب پھلتی پھولتی ہیں۔ پھلتی پھولتی تو وہ بھی ہیں لیکن کسی اور سمت میں ۔۔۔ آہو!۔ بلاگنگ شروع کرنے کے بعد طبقہ بلاگراں کے کچھ ارکان سے بڑی بے تکلفیاں ہوئیں جو اب بڑھ کر دوستی تک پہنچ رہی ہیں۔ اگرچہ کچھ لوگوں کو ان دوستیوں پر اعتراضات بھی بہت ہیں لیکن جی ہر مزےدار چیز متنازعہ ضرور ہوتی ہے۔ لہذا اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نشتہ!

ذیل کی سطور میں ایسے ہی چند دوستوں کا نام لیے بغیر 'بوجھو تو جانیں' ٹائپ ذکر کیا جائے گا۔ نام نہ لکھنے کو کوئی میری بزدلی پر محمول نہ کرے اگرچہ اصل وجہ یہی ہے! انیس نے بہت پہلے خبردار کردیا تھا کہ آبگینوں کو ٹھیس لگنے سے بچانے کے لئے دوستوں سے سچ مت بولو اور اس کے لیے انہوں نے 'خیال خاطر احباب' جیسی اصطلاح گھڑی تھی، لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں اور اگر نہیں جانتے تو جان لیں کہ میرے جیسا صداقت شعار، راست گو، بے باک انسان ایسی خبرداریوں کو خاطر میں نہیں لاتا اور وہی کہتا ہے ۔۔۔ جو نہیں کہنا چاہیے!

ایک بھائی جان ایسے ہیں، جن کے بلاگ اور ان کی فیس بک وال پر ہمیشہ وہ کچھ لکھا ہوتا ہے کہ چنگا بھلا مٹن کڑاہی کھاتا ہوا بندہ، خودکشی بارے سوچنے لگتا ہے!۔ ہزار دفعہ سمجھایا ہے کہ یار! لک ایٹ دا برائٹ سائڈ۔ یعنی کہ بلب (آج کل انرجی سیور) کی طرف دیکھ۔ تاکہ تیری آنکھوں میں بھی جلن ہو اور تمہیں پتہ چلے کہ تکلیف ہوتی کیا ہے؟ اور مجھے شدید شک ہے کہ یہ ایسی باتیں خوب پیٹ بھر کے کھانا کھانے کے بعد ہاضمہ بہتر کرنے کے لیے کرتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ سب پڑھ کے جو السر ہوجانا ہے، اس کی اسے کوئی پروا نہیں!۔ بندہ بن اوئے۔۔

دوسرے پائین، صرف تب لکھتے ہیں، جب کسی کی واٹ لگانی مقصود ہو۔ ورنہ برفانی ریچھ (ھاھاھاھاھاھا) کی طرح، لمبی نیند سو جاتے ہیں۔ بہت دفعہ کہا ان کو آف دی ریکارڈ کہ اوئے (ان کا لقب لکھنے کو دل تو کررہا ہے، پر، آئی ول پاس) لکھا کر تیرے جیسا لکھنے والے کم ہیں بلکہ ہیں ہی نہیں اور، کوئی اور نہیں ملتا تو میری ہی واٹ لگا لیا کر۔ لیکن پائین ہیں کہ بس۔۔۔آہو۔

ایک اور صاحب ہیں جو فیس بک سٹیٹسوں پر ایسے فقرے چست کرتے ہیں کہ بندہ پھڑک کر رہ جاتا ہے۔ پر جب اپنے بلاگ پر لکھتے ہیں تو ان میں پروفیسر اشفاق علی خان کی روح حلول کرجاتی ہے۔ 'روسی ٹریکٹر اور بکریوں کا بانجھ پن' جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں اورایسی فلسفیانہ باتیں کہ بندے کا دیوار میں ٹکریں مارنے کو دل کرنے لگتا ہے۔ لکھیں جی، ایسی باتیں بھی لکھیں اور جم جم لکھیں، لیکن کبھی اپنا دوسرا ٹیلنٹ بھی آزمائیں، جس کی روز مشق کرتے ہیں۔ مہربانی ہوگی!

اور جو آخری ہے اس پر مجھے بڑی تپ ہے! آپ پوچھیں گے کیوں؟ اس کی ایک بڑی ٹھوس وجہ ہے۔ جو بندہ پریکٹس میں ہی ساری توانائی لگا دے اور میچ کھیلنے کے لیے ان فٹ ہوجائے، اس کے بارے آپ کا کیا خیال ہے؟ جی! بالکل۔۔ میرا بھی یہی خیال ہے کہ ۔۔۔فیس بک کھاگئی زن و جواں کیسے کیسے۔۔۔۔ سیانے صحیح کہتے تھے، نام کا اثر آخر کار ہوہی جاتا ہے!

کیا بنے گا؟

انہوں نے مخصوص رازدارانہ انداز میں گردن آگے کرکے اور آہستہ سی آواز میں پوچھا، 'جعفر بھائی!۔۔ یار کیا بنے گا؟'۔

میرے ہونٹوں پر خباثت بھری مسکراہٹ نمودار ہوئی اور میں نے ان کا کندھا ہولے سے دبا کر کہا، 'پہلے کیا بنا تھا؟'

انہوں نے جواب دیا، 'کچھ نہیں'۔ میں نے کہا تو اب بھی کچھ نہیں بنے گا۔ انہوں نے اس مسخرے پن پر نظروں ہی نظروں میں مجھے سخت سست کہا، دل ہی دل میرا شجرہ 'دانش' کی علامت پرندے سے ملایا اور بزبان اردو مجھ سے کہاکہ حالات بڑے خراب ہیں بھیّا۔ تم ٹی وی نہیں دیکھتے؟

یہ صاحب میرے جاننے والے ہیں۔ ایک کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ 'ڈرائیور کم پی آر او' ہیں۔ کراچی کے رہنے والے ہیں۔ ہفتے میں ایک دو دفعہ ان کا ہمارے دفتر، کام کے سلسلے میں آنا ہوتا ہے اور سلام دعا/گپ شپ ہوجاتی ہے۔ ہردفعہ ملنے پر ان کے ابتدائی جملے ہمیشہ یہی ہوتے ہیں کہ کیا بنے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ کسی خاص چیز یا واقعہ پر پریشان ہوتے ہیں بلکہ ان کی پریشانی اور اس 'کیا بنےگا' ماخذ کسی نہ کسی ٹاک شو کے میزبان کی پچھلی رات کو چھوڑی ہوئی درفنطنی ہوتی ہے!

وہ اس نیوز چینلی ثم ٹاک شو یلغار کے کلاسک شکار ہیں جس نے اچھے بھلے سمجھدار بندوں کی پچھلے چند سالوں سے مت ماری ہوئی ہے۔

بہرحال میں نے 'چیزے' لینے کے لیے ان کو ایک دفعہ پھر اکسایا کہ قبلہ! آخر بولیے (بولیے کی جگہ جو لفظ میں نے سوچا تھا، وہ کہنے سے 'منی' فساد ہونے کا اندیشہ تھا) تو سہی کہ ہوا کیا؟۔ کیا 'بھائی' پھر دلہا بننے پر تیار ہوگئے؟۔ 'بھائی' ان کی چھیڑ ہیں اور ان کے ذکر پر وہ ایسے تپتے ہیں جیسے بھائی اور ان کے ہمنوا، بھتّے کے ذکر پر!

پہلے تو انہوں نے بھائی کی شان میں تئیس بند کا 'قصیدہ' پڑھا جس کی تاب نہ لاکر میرے جیسے بے شرم کے کان بھی لال ہوئے پھر انہوں نے چچ چچ کی آواز نکالتے ہوئے کہا کہ آپ نے وکی لیکس (اور لیکس کا تلفظ انہوں نے جھیل والے لیک سے مستعار لیا!) کے انکشافات نہیں سنے؟۔ میں نے جواب دیا کہ حضور والا، پڑھے تو ہیں، سنے نہیں لیکن ان میں، مجھے انکشاف تو کوئی نظر نہیں آیا۔ اگر کوئی ان کو انکشاف سمجھتا ہے تو یہ میرے لیے اس کی ذہانت کے بارے ایک انکشاف ہے۔

وہ بھنّا کر اٹھے اور الوداعی مصافحہ کرتے ہوئے مجھے ایسی نظروں سے گھورا جیسے میرے استاد مجھے زمانہ طالب علمی میں گھورا کرتے تھے کہ بچّہ! تو نہیں سدھر سکتا اور تیرا کیا بنے گا؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔

باقی قاعدہ

حضرات، خواتین اس لیے نہیں لکھا کہ مدت مدید سے اس بلاگ پر خواتین کی آمد آٹے میں نمک کے برابر رہ گئی ہے، ہمارا وچکارلا قاعدہ جو 'ج' تک پہنچ چکا تھا، ہم آج اس کو مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ بہت سے احباب نے ہمیں لارے لگائے تھے کہ وہ بھی اس 'کار خیر' میں، ہماری مدد کریں گے لیکن یہ وعدے بھی محبوب اور حکومتی وعدوں کی طرح ایفا نہ ہوسکے۔ ویسے بھی ٹاٹ میں مخمل کا پیوند چنداں مناسب نہ ہوتا۔

چلیے، قاعدے کی طرف چلتے ہیں۔

چ۔۔۔۔ چینی: یہ جادو کی چیز ہوتی ہے۔ ۱۲۷ روپے من گنے سے بننے والی چینی ۱۳۰ روپے کیلو تک بکتی ہے۔ شنید ہے کہ دوران عمل برائے چینی سازی اس میں زعفران، یورینیم، اریڈیم، پلوٹونیم جیسے قیمتی اجزاء بھی ملائے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس کی قیمت تھوڑی سی زیادہ ہوجاتی ہے۔ جس پر ناشکرے لوگ ، مہنگائی مہنگائی کا شور مچا کر آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں لیکن اسے ایک مہینے کے لیے استعمال کرنا بند نہیں کرتے کیونکہ ۔۔۔ اس ملک خداداد میں سوائے چینی کے کوئی میٹھی چیز جو باقی نہیں رہی۔

ح۔۔۔۔حشر: واعظ حضرات، عوام کالانعام کو اس سے ڈراتے رہتے ہیں۔ خود، البتہ، وہ سمجھتے ہیں کہ ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں، اور اگر ہے بھی تو ان کے لئے نہیں ہے، انہیں گھگو گھوڑوں کے لئے ہے۔ سرکار بھی اس کی تیاری کے لئے 'طاقت کے سرچشمے' کو مسلسل حشر کی ریہرسل کرواتی رہتی ہے تاکہ آخری سٹیج پر عوام کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔

خ۔۔۔۔خرگوش: یہ ایسے بندے کو کہتے ہیں جس کے کان، کھوتے جیسے ہوں۔ مثلا اظہر محمود، میرا بھانجا ولید وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ یہ لفظ اہل فارس کی تہذیبی روایت، اور ذخیرہ الفاظ پر بھی دلالت کرتا ہے۔ جس میں 'کھڑکنّوں' کے لیے بھی خرگوش جیسا پیارا لفظ موجود ہے۔

د۔۔۔۔دلال: انگریزی میں اس کو بروکر وغیرہ کہتے ہیں۔ وطن عزیز اس جنس میں خود کفیل سے بھی چھ درجے آگے ہے۔ ہر نوع، سائز اور قیمت کے دلال، اس اسلامی جمہوریہ میں میسر ہیں۔ سیاسی سے صحافتی، عسکری سے معاشی، کھیل کے میدان سے یونیورسٹی کے لان تک ہرجگہ یہ جنس بافراط دستیاب ہے۔ پنجابی میں اس کا مترادف لفظ  اگرنستعلیق حضرات کے سامنے دھرایا جائے تو ان کو کراہت کا احساس ہوتا ہے۔

ڈ۔۔۔۔ڈڈّو: یہ خواجے کا گواہ ہوتا ہے۔ البتہ اس گواہی کی نوعیت ذرا پیچیدہ قسم کی ہوتی ہے۔ یہ ڈڈّو زیادہ تر ٹاک شوز میں اپنے اپنے خواجوں کی گواہیاں دیتے نظر آتے ہیں۔ آج کل جو ڈڈّو سب سے 'ان' ہے، اس کا خواجہ، سگ پرست نہیں، بلکہ خلق خدا نے اسے ہی سگ کے مرتبے پر فائز کیا ہوا ہے۔

ذ۔۔۔۔ذلالت: یہ ایک حالت ہوتی ہے۔ جو کمزور پر طاقتور مسلط کرتا ہے اور اس کے لیے رنگ برنگے جواز ڈھونڈنے کا کام دانشوروں پر چھوڑدیتا ہے۔ جو ٹیکنی کلر اصطلاحات، تھری ڈی استدلال اور ڈیجیٹل دانش کو بروئے کار لا کر ان ذلیلوں کو اور ذلیل کرنے اور ذلیل ہی رکھنے کا کام سرانجام دیتے ہیں۔

ایک اداس شام

پَتّوکِی کے لاری اڈّے سے باہر نکلتے ہی اداسی نے مجھے گھیر لیا۔ شام کے جھٹپٹے میں قریبی چھپّر ہوٹل سے سموسوں کے حیوانی چربی میں تلے جانے کی خوشبو، بسوں کے ڈیزل کی مہک، سڑک سے مٹی کی ٹرالی گزرنے کے بعد اڑنے والے غبار، تانگوں اور کھوتا ریڑھیوں کے 'انجنوں' کے خشک فضلے کے فضا میں تیرتے ذرات نے مل جل ایک طلسمی اور پرفسوں ماحول تخلیق کیاہوا تھا۔ میں مبہوت سا ہو کر رہ گیا۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے میرے دل میں میٹھا میٹھا درد جاگ اٹھا ہو۔ حاجی ثناءاللہ نے میرے کندھے پر نرمی سے اپنا ہاتھ رکھا تو جیسے میں ہوش میں آگیا۔ اور مجھے یاد آیا کہ یہ درد دل نہیں بلکہ دمے کا پرانا مریض ہونے کی وجہ سے سانس بند ہورہا ہے۔۔۔!

حاجی ثناءاللہ، انجمن قومی تاجران (رجسٹرڈ) پَتّوکِی، کے تاحیات صدر ہیں۔ یہ پَتّوکِی کے روح رواں ہیں، کیونکہ پَتّوکِی کے تینوں پٹرول پمپ ان کی ملکیت ہیں۔ یہ جب چاہیں پَتّوکِی کو بے جان کردیتے ہیں۔ اس کی روح کھینچ لیتے ہیں۔ یہ میرے مدّاح ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میری تحاریر نے ان کی زندگی میں مشعل راہ کا کام کیا ہے۔ یہ معمولی چوری چکاری کرتے تھے۔ پھر انہوں نے میری تحاریر کا مطالعہ شروع کردیا۔ یہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی کا دھارا ہی بدل گیااور انہوں نے معمولی چوری چکاری کی زندگی کو خیرباد کہہ دیا اور اب یہ اس عظیم شہر کے قابل فخر سپوت ہیں۔

میں جب تھک جاتا ہوں۔ اپنے معمولات زندگی سے اکتا جاتا ہوں۔ میرا ذہن بنجر ہوجاتا ہے تو میں اپنے جسم اور ذہن کو ڈھیلا چھوڑدیتا ہوں۔ اور جو دس پندرہ دعوت نامے بمعہ ٹکٹ موصول ہوئے ہوتے ہیں ان پر ایک سے دس تک گنتا ہوں۔ جس دعوت نامے پر دس آجائے میں اسی شہر چھٹی گزارنے چلا جاتا ہوں۔ اس دفعہ پَتّوکِی، کی باری آگئی۔ حاجی ثناءاللہ، بہت برسوں سے اصرار کررہے تھے کہ میں ان کو شرف میزبانی بخشوں۔ انہوں نے میرے اعزاز میں ایک تقریب کا بھی اہتمام کیا ہوا تھا۔ مجھے اس تقریب کی صدارت کرنی تھی۔

لاری اڈّے سے میں اور حاجی صاحب ہونڈا سیونٹی پر ان کے گھر روانہ ہوئے جہاں میری رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ حاجی صاحب سیونٹی ایسے چلارہے تھے جیسے سلطان گولڈن کے استاد ہوں۔ میرا سانس خشک ہونے لگا۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا (یاشاید سٹریٹ لائٹس بند تھیں)۔ اچانک موٹر سائیکل ایک جھٹکے سے رک گئی۔ میں نے چونک کر دیکھا تو ہم گول گپوں کی ریڑھی کے پاس کھڑے تھے۔ حاجی صاحب نے پَتّوکِی کے مشہور عالم گول گپوں سے میری تواضع کی۔ پَتّوکِی آکر گول گپے نہ کھانا ایسا ہی ہے جیسے دبئی جاکر بھی بندہ۔۔۔۔۔ چلو مٹی پاؤ۔۔۔

رات کے پھیلتے اندھیرے، نیم تاریک بازار، بھونکتے ہوئے آوارہ کتّوں، سڑک کے دونوں اطراف کھلی نالیوں سے آنے والی مہک اور ریڑھی کے پاس کھڑے ہو کرگول گپے کھانے کا ایسا لطف آیاکہ میری ساری ناسٹیلجک فیلنگز بیدار ہوگئیں۔ مجھے لالہ موسی یاد آگیا جہاں میرا بچپن گزرا تھا۔ جہاں میں اپنے دوستوں کے ساتھ دو گول گپے کھا کر کھٹّے کے چار پیالے مفت پی جاتا تھا۔ اور دو دو مہینے کھانسی اور اباجی کا جوتا میرا پیچھا نہیں چھوڑتا تھا۔ میں اداس ہوگیا۔ اداسی کی وجہ ناسٹیلجیا یا بچپن کی یادیں نہیں تھیں بلکہ مجھے پتہ چل گیا تھا کہ حاجی صاحب، شیخ ہیں لہذاڈنر پر بھی مونگ کی دال ہی ہوگی۔۔۔!

گول گپوں کے بعد مونگ کی دال کے ڈنر کا خیال کسی بھی شریف انسان بلکہ لکھاری کو بھی اداس بلکہ مرنے کی حد تک رنجیدہ کرسکتا ہے۔