"کام" یاب


اس نے قہقہہ لگایا۔ گلاس سے ایک چسکی لی۔ بواسیر والا پیڈ درست کیا اور مجھ سے مخاطب ہوا۔ دیکھ چوہدری! میں آج کہاں پہنچ گیا اور تم؟ وہیں کے وہیں۔ اس نے استہزائیہ انداز میں ہاتھ سے ایک فحش اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ میں نے جھلاّ کر جواب دیا، "تم بواسیر کے ہاتھوں کرسی پر بیٹھنے سے بھی عاجز ہو، بلڈ پریشر تمہارا ہائی رہتا ہے، دو دفعہ دل کا دورہ تمہیں پڑ چکا ہے۔ شوگر تمہاری کنٹرول نہیں ہوتی۔ اور شوگر کی وجہ سے تمہیں کُرہ ارض کی ساری خواتین، بشمول تمہاری بیوی اور "سیکرٹری"، بہنیں محسوس ہونی شروع ہوگئیں ہیں۔ اگر یہ سب کامیابی ہے تو اپنی کامیابی اپنے پاس سنبھال کے رکھ۔ مجھے ایسی کامیابی نہیں چاہیے"۔
اس نے ایک بار پھر قہقہہ لگایا۔ کرسی پر سسکاری بھرتے ہوئے پہلو بدلا۔ خالی گلاس میں ارغوانی مشروب انڈیلا۔ پلیٹ سے ایک چکن تکّہ اٹھا کے منہ میں ڈالا اور منہ چلاتے ہوئے کہنے لگا، "تم ہمیشہ کہتے رہے کہ سادہ غذا کھاؤ۔ پاکیزہ زندگی گزارو۔ رزق حلال کماؤ۔ یہ سب کرکے تمہیں کیا ملا؟ دس تاریخ آتے آتےتمہاری جیب میں پیسوں کی بجائے بل نظر آنے لگتے ہیں۔ تمہارے بچّے سرکاری سکولوں میں تعلیم کے نام پر وقت ضائع کرتے ہیں۔ تمہاری بیوی آج بھی اپنے جہیز کے کپڑے کھلے کرکر کے پہننے پر مجبور ہے۔ کیا فائدہ ہوا تجھے اعلی تعلیم حاصل کرکے؟ دو ٹکے کے ماسٹر؟ جس کا دل چاہے تیرے  منہ پر تھپڑ ماردے یا ٹانگوں پر گولیاں۔۔۔ہنہہ۔۔۔ مجھے دیکھ۔ میں نے جیسے میٹرک کیا تھا، تجھے بھی یاد ہوگا۔ میں اگر تیری طرح بے وقوف ہوتا تو پڑھتا رہتا اور آج تک تیری طرح کُڑھتا رہتا۔میں نے عقلمندی کی اور آج۔۔۔"، اس نے اپنے عالیشان دفتر پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے کہا، " میں تیرے جیسے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی قسمتوں کے فیصلے کرتا ہوں۔ اب تو خود ہی بتا، کامیاب کون ہے؟ تو یا میں"۔

معصوم بسنت


پتنگ بازی سے ہمیں کبھی ایسا شغف نہیں رہا جسے شوق کا درجہ دیا جاسکے البتہ بچپن میں جیسے ہر چیز کا موسم ہوا کرتا تھا، کرکٹ کا موسم، ہاکی کا موسم، بنٹوں کا موسم ویسے ہی پتنگ بازی کا بھی موسم ہوتا تھا۔ چونکہ اس وقت ٹی وی، بچوں کی جان کو ایسے نہیں چمٹا تھا کہ وہ ہر قسم کی سرگرمی سے دور ہوکے کارٹونوں کے ہی ہوکر رہ جائیں لہذا ہم ان تمام موسموں سے حتی المقدور لطف اندوز ہونے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ کوشش ان معنوں میں کہ ہاکی اور کرکٹ پر تو کوئی قدغن نہیں تھی البتہ بنٹے یعنی کنچے اور پتنگ بازی ایسے شوق تھے جو سختی سے ممنوع تھے۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ممنوع کام کرنے میں کتنا لطف ہوتا ہے۔ جیسے ہی ابو گھر سے نکلتے، ہم اماں کی ان تمام دھمکیوں کے باوجود، جن میں وہ یہ کہا کرتی تھیں کہ آج اگر تو نے پتنگ بازی کی تو تیری کھال اتروادوں گی تیرے باپ سے، ہم اپنا رنگ برنگا پِنّا اور لوٹی ہوئی گڈیاں نکال کے چھت پر چڑھ جایا کرتے تھے۔ ہمیں یہ بات کبھی سمجھ میں نہ آسکی کہ بیٹے بچپن میں باپ اور بڑے ہونے کے بعد ماں کے اتنے تابعدار کیوں ہوجاتے ہیں۔
ہماری پتنگ بازی کی تاریخ زیادہ قابل ذکر نہیں ہے۔ اس فن کی باریکیوں سے ہم کبھی واقف نہ ہوسکے اور نہ ہی کبھی گُڈی یا ڈور خرید کے یہ شوق پورا کیا۔ ہماری ساری پتنگ بازی لوٹی ہوئی گڈیوں اور ڈور پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ لوٹی ہوئی ڈور سے بنایا ہوا رنگ برنگ پِنّا عین اس وقت دھوکہ دے جاتا تھا جب کبھی ہم پیچے کو دو منٹ سے زیادہ طول دینے میں کامیاب ہوتے تھے۔ ہمارے ایک کزن البتہ اس کام میں ماہر فن کا درجہ رکھتے تھے۔ جب وہ نیا نکور ڈور کا پِنّا اور بڑے بڑے گُڈّے اور تُکلیں خرید کر لاتے تو ہم ان کے اسسٹنٹ کے طور پر ان کے ساتھ ساتھ چھت پر جا چڑھتے اور ان کو پیچے لڑاتے دیکھ کر سیکھنے کی کوشش کرتے۔ لیکن ہماری یہ کوشش کبھی کامیاب نہ ہوسکی اور ہم پتنگ بازی میں پھسڈی ہی رہے۔ پیچے وغیرہ لڑانے پر تو ہمیں کبھی عبور حاصل نہ ہوسکا۔ ہماری ساری مہارت پِنّے کا دھیان رکھنے اور گڈی کٹ جانے پر ڈور لپیٹنے تک ہی محدود رہی۔
لاہور میں منائی جانی والی بسنت کی کہانیاں ہم اپنے ایک دورپار کے کزن سے اکثر سنا کرتے تھے جو لہوریے تھے اور گرمیوں کی چھٹیوں میں ہمیں شرف ملاقات بخشنے آیا کرتے تھے۔ ان کے بڑے بھائی پتنگ بازی میں بقول ان کے "لیجنڈ" کا درجہ رکھتے تھے اور ہمیشہ "تُکّل" اڑایا کرتے تھے، ان کے بقول اصل پتنگ بازی تُکّل اڑانا ہی ہوتی ہے، گڈیاں وغیرہ تو عورتیں اڑاتی ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ ان سے یہ بات بھی منسوب تھی کہ اگر یپچے میں ان کی گُڈّی کٹ جاتی تھی تو وہ اس پِنّے کو پھینک دیا کرتے تھے اور اگلے پیچے کے لیے نیا پِنّا استعمال کرتے تھے۔ بسنت کی ان کہانیوں میں ایسے پیچوں کی کہانیاں ہوتی تھی جو پوری پوری رات چلتے رہتے تھے اور ان میں چار چار پِنّے لگ جاتے تھے۔ اب جا کے ہمیں پتہ چلا ہے کہ لہوریوں کی ہر بات پر من و عن یقین نہیں کرنا چاہیے کہ "بڑھا بھی دیتے ہیں کچھ زیب داستاں کے لیے"۔
ہمارے شہر میں بسنت ذرا دیر سے آئی تھی۔ اور ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم اس سے بہت لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ جیّد پتنگ بازوں کے پیچے، کھِچ مارنے پر دھمکیاں اور گڈی کٹ جانے پر ڈور نہ پکڑنے کی درخواستیں اور دوسروں کی گڈیوں پر گاٹیاں۔ چند چھتوں پر ڈیک وغیرہ لگا کر پورے محلے کو تازہ ترین ہندوستانی موسیقی سے بھی محظوظ کرنے کا بندوبست ہوتا تھا۔ سکول سے کالج پہنچنے تک یہ بسنت باقاعدہ ایک تہوار کی صورت اختیارکرنے لگی تھی۔ چھتوں پر سرچ لائٹیں لگنی شروع ہوگئی تھیں۔ کہیں کہیں پریشر ہارن بھی استعمال ہونا شروع ہوگئے تھے اور اکا دکا جگہ ہوائی فائرنگ بھی ہونے لگی تھی۔ اس وقت تک ہم نے دھاتی ڈور نامی کسی چیز کا ذکر نہیں سنا تھا اور نہ کبھی یہ سننے میں آیا تھا کہ ڈور سے کسی کی گردن کٹ گئی ہے۔
کافی وقت گزر گیا ہے، نہ بسنت کبھی دیکھی اور نہ منائی۔ البتہ ہر سال بسنت کی خبریں ضرور پڑھتے رہے۔ فائرنگ سے اتنے ہلاک اور ڈور پھرنے سے اتنے۔ پھر بسنت پر مجروں اور شراب کا فیشن شروع ہوگیا۔ ہمارے ایک کزن جو لاہور کی ایک ملٹی نیشنل فرم میں نوکر ہیں۔ چند سال ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کی فرم نے ایک زیر تعمیر پلازے کی چھت، بسنت کے لیے ڈھائی لاکھ روپے کرایے پر حاصل کی اور اپنے غیر ملکی مہمانوں کو "پاکستانی ثقافت" کا مظاہرہ دکھانے کا بندوبست کیا۔ اس بندوبست میں شراب اور ساقی دونوں کا اہتمام تھا۔ میں حیران ہو کر اس کے منہ کی طرف دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ اتنی معصوم سی بسنت کو ہم نے قاتل اور کوٹھے کی چیز کیسے بنادیا؟

رحم كرو


باتوں سے نہ تو پیٹ بھرتا ہے اور نہ زخم مندمل ہوتے ہیں چاہے یہ باتیں کتنی ہی اچھی، عمدہ، دینی، اصلاحی، وطن پرستانہ، اخلاقی کیوں نہ ہوں۔ کسی پیاسے کو پانی پلانے کی بجائے پانی کے خواص اور اس کی کیمیائی ترکیب پر لیکچر، پیاسے کے دل میں ایسے خیالات کو جنم دیتا ہے جو بیان کے قابل نہیں ہوسکتے۔ یہ خیالات ہمارے دل میں یونہی نہیں آئے بلکہ اس کی وجہ امریکی کانگرس میں پیش کی جانے والی وہ قرارداد ہے جس میں بلوچستان کے حق خودارادی کی بات کی گئی ہے۔ بجا طور پر اس سے ہمارے حکمران طبقے اور ان کے حواریوں کو تشویش اور مرچیں لگی ہیں۔ مجھے تو حیرانی اپنے جیسے عام لوگوں کے ردعمل پر ہوئی ہے۔ جو اس کو پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور پتہ نہیں کیا کیا کے خلاف سازش سمجھ کر اپنے سارے کلیشے الفاظ کے ساتھ میدان میں اتر آئے ہیں۔ آپ کے اپنے ہوائی اڈوں سے امریکی طیارے اڑ کر آپ کے ہی ملک میں بنا کسی مقدمے، صفائی اور گواہی کے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس پر کسی کو پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور غیرت خطرے میں نظر نہیں آتی؟ یا اس کے بدلے ڈالر ملتے ہیں جس سے چھاونیوں کے میس چلتے ہیں۔ کینٹ کے بنگلے بنتے ہیں۔ بڑے بڑے سودوں میں کروڑوں ڈالر کے کمیشن ملتے ہیں۔ ہمیں کیا ملتا ہے؟ ڈنڈا۔۔۔
یہ بات بہت تلخ سہی لیکن سن لیجیے کہ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں رہی کہ پاکستان بچتا ہے یا ٹوٹتا ہے۔ آپ چاہیں تو مجھے نوائے وقتانہ انداز میں یہ طعنے دے سکتے ہیں کہ آج پاکستان نہ ہوتا تو تم کسی ہندو کے منشی ہوتے یا کسی سکھ کے ملازم ہوتے اور پاکستان تمہاری شناخت ہے اور ایسی ہی کئی اور مثالیں۔ پاکستان بننے کے اتنے عرصے بعد تیسری نسل کو بھی ہم نے اگر پاکستان سے جوڑے رکھنے کے لیے یہی دلیلیں استعمال کرنی ہیں تو یقین کریں ایسے ملک سے ہم لنڈورے ہی بھلے۔
یہ بات لکھ لیں اور آج کی تاریخ ڈال کے محفوظ کرلیں تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے کہ جس نظام یا بد انتظامی کے ساتھ یہ ملک اتنی دیر سے چل رہا ہے اس کا وقت پورا ہوگیا ہے اب یا تو اس بدانتظامی کو بچایا جاسکتا ہے یا ملک کو۔ اور میرا خدشہ یا اندازہ، کچھ بھی کہہ لیں، وہ یہی ہے کہ ہمارے ان داتا، نظام ہی بچائیں گے کہ یہی ان کے طبقاتی مفاد کا تقاضہ ہے اس کے لیے وہ ہمارے قومی اور مذھبی جذبات کو بھڑکائیں گے اور ہم اتنے "سادہ" ہیں کہ گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگائیں گے اور تاریخ کے کوڑے دان میں اوندھے منہ جاگریں گے۔
ملک بچانا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ انصاف کرو اور سب کو ان کا جائز حق دو۔ اور تین نسلیں برباد کرنے کے بعد اب چوتھی نسل کو تباہ نہ کرو۔ اپنے بینک کھاتوں کے لیے ہمارے منہ کا لقمہ، بخار کی گولی اور سکول کی کتاب نہ چھینو۔ رحم کرو، رحم کرو۔

جیت کا سہرا

ناکامی، بن باپ کا بچہ اور کامیابی کے سو باپ ہوتے ہیں۔ یواے ای میں کھیلے جانے والے کرکٹ میچز کے دوران آپ نے سٹیڈیم میں ایک بڑی مونچھوں والا "دہوش" قسم کا بندہ دیکھا ہوگا جو چاچا کرکٹ کی طرح مشہور ہونے کے شدید جتن کرتا نظر آتا ہے۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ یہ بندہ ہمارا کافی پرانا جاننے والا ہے اور اکثر "خصوصیات" میں استاد پونکے کا ہمسر ہے۔ اسے یواےای میں تقریبا بیس برس سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے۔ ایک دفعہ اس نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ شارجہ میں پاک بھارت میچ کے دوران اس نے فائن لیگ پر کھڑے وقار یونس کو ان سوئنگ کرنے کے گُر سکھائے تھے۔۔!
وقار یونس سے یاد آیا کہ پاکستان کی حالیہ کرکٹ فتوحات کا سہرا باندھنے کے لیے تقریبا دس سے بارہ دلہے تیار بیٹھے ہیں۔ ان میں اعجاز بٹ سے لے کر محمد الیاس اور جلال الدین سے لے کر آغا زاہد تک بہت سے جینئس شامل ہیں لیکن ان سب میں جو دلہا سب سے لش پش اور پَپّو ہے وہ اپنے نگران کوچ محسن حسن خان ہیں۔ پویلین میں انہیں بیٹھے دیکھ کر ستّر کی دہائی کے وہ ہیرو یاد آتے ہیں جو ستّر سال کی عمر میں بھی کالج بوائے کے کردار ادا کیا کرتے تھے اور ایکدم دروازہ کھول کر اپنی فلمی ماں سے، جو عمر میں ان سے بیس سال چھوٹی ہوتی تھی، چمٹ جاتے تھے اور کہتے تھے ، ماں! میں پاس ہوگیا۔ یادش بخیر، ہمارے نگران کوچ فلموں میں بھی جلوہ گر ہوئے تھے اور ہماری سوچی سمجھی رائے ہے کہ ایسی پرفارمنس اگر وہ اُس وقت دیتے تو آج اوور ایکٹنگ میں شاہ رخ خان کے بھی ابّا مانے جاتے۔ ڈریسنگ روم کی بالکنی سے ان کی پرفارمنس کے شاندار مظاہرے دیکھ دیکھ کر ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کی "نشاۃ ثانیہ" کے لیے محسن خان سے بہتر رہنما اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
اس سہرے کے ایک امیدوار ہم خود بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ سعیداجمل ہماری گلی میں رہتا تھا اور ہم اکٹھے گلی میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ اور ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ ہمیں کبھی آؤٹ کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ۔ شاید اسی ناکامی نے اسے دوسرا ایجاد کرنے پر مجبور کیا تھا جس نے انگریزوں کی واٹ لگائی ہے لہذا، اس کامیابی کے اصل معمار، ہم ہی ہیں۔
اس پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں جو بہتری اور مستقل مزاجی آئی ہے، اس کی ایک بڑی وجہ وقار یونس ہیں۔ اگر شاہد آفریدی، اپنے مخصوص چوّل پن سے باز رہتے اور خود کو ڈان بریڈ مین، شین وارن  اور عمران خان کا مرکّب سمجھنے کے خنّاس میں مبتلا نہ ہوتے تو وقار یونس اس وقت بھی کوچ ہوتے۔ قومی ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی نجی طور پر بھی اور اکثر آن ریکارڈ بھی اپنی کارکردگی میں بہتری کا کریڈٹ وقار یونس کو دیتے ہیں اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وقار نے کبھی یہ کریڈٹ خود لینے کی کوشش نہیں کی۔ میرے خیال میں وقار کو کوچنگ سے ہٹانا یا ہٹنے پر مجبور کرنا ایک انتہائی غلط فیصلہ تھا اور اگر محسن خان کو مستقل کوچ بنایا گیا تو یہ بدترین فیصلہ ہوگا۔
ہماری رائے میں، عدنان اکمل کو رینا رائے سمجھ کر چُمیاں لینے سے کوئی عظیم کوچ نہیں بن سکتا اور اگر یہ حضرت ٹیم کے ساتھ کچھ اور عرصہ گزار گئے تو پاکستانی ٹیم کا اگلا سکینڈل "جنسی طور پر ہراساں" کرنے بارے ہوگا۔
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں

دینا جوابات ہمارا

ہمیں ٹیگ کرنےکی سعادت ایک نہایت قدیم بلاگر کو حاصل ہوئی ہے۔ ہم ان کی بزرگی اور قدامت کا احترام کرتے ہوئے مندرجہ ذیل سوالات کے ہر ممکن حد تک آسان اور قابل برداشت جوابات دینے کی کوشش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دو ہزار بارہ میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
لینڈ روور خریدنے کا ارادہ ہے۔ پچھلے دس سالوں کی طرح، اس سال بھی یہ پورا ہونا ظاہری اسباب کے مطابق ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ بال کٹوانے کابھی پروگرام ہے!۔ 

دو ہزار بارہ میں کس واقعہ کا انتظار ہے؟
فرحان دانش سے ملاقات کا اور دنیا تباہ ہونے کا۔

دو ہزار گیارہ کی کوئی ایک ناکامی؟
ناکامی تو کوئی چیز نہیں ہوتی میرے خیال میں۔ ایک یاددھانی البتہ ضرور ہوتی ہے کہ آپ کی مطلوبہ منزل ابھی تک نہیں آئی لہذا سفر جاری رکھیے۔

دو ہزار بارہ کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ ہو؟
ڈفر، عمر بنگش، مولبی، امتیاز شاہ سے صوتی اور شاکر عزیز سے بالمشافہ ملاقاتیں۔

سال کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟
اس سوال سے مجھے ببو برال مرحوم یاد آگیا، جس نے ایک سٹیج ڈرامے میں، یہی سوال اشرف راہی سے بزبان پنجابی پوچھا تھا کہ "کیہ مسوس کررئے سو؟" مزید وضاحت کے لیے ڈرامہ ملاحظہ کریں۔

کوئی چیز یا کام جو ۲۰۱۲ میں سیکھنا چاہتے ہوں؟
خوشامد المعروف لیسیاں المعروف ٹی سی۔

اب ہم اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے شہتیر کو جپھّا مارنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان عظیم بلاگرز کو ٹیگ کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔ 

چڑھنا شیر کا شجر خم دار پر


شیر، کہ جنگل کا "بادشاہ" المعروف باچھا ہوتا ہے، اس کی اپنی خالہ سے کبھی نہیں بنی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ خالہ اس دور جدید میں خود کو "خالہ" کے دقیانوسی اور رجعت پسند نام سے پکارا جانا پسند نہیں کرتی اور اس کا انگلش متبادل خالہ کی عمر بارے سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ شیر کی خالہ چونکہ بربنائے مونث ہونے کے پروپیگنڈے میں خوب طاق ہے لہذا اس نے چار دانگ عالم یہ مشہور کررکھا ہے کہ شیر کو شجر پر چڑھنا نہیں آتا۔ ہم تو اس سوال کو ہی بالکل غیر ضروری خیال کرتے ہیں کہ درخت پر چڑھنا تو ویسے ہی نہایت غیر ادبی سرگرمی ہے اور اس کے صحت پر مضر اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں اگر آپ کا ہاتھ "پُونڈیوں کے چھتّے" سے جا ٹکرائے۔ ویسے بھی درختوں پر چڑھنا بقول حضرت ڈارون، انسان کی قبل از ارتقاء قسم کو ہی زیب دیتا ہے جس پر بعد از ارتقاء والی قسم نے "آنیاں جانیاں" والا لطیفہ بھی گھڑ رکھا ہے۔ شیر چاہے درخت پر چڑھے یا زمین پر رہے، شیر ہی ہوتا ہے، ایسا نہیں ہے کہ کسی چیز پر نہ چڑھنے سے اس کی تنزّلی ہوجاتی ہو اور وہ شیر سے بِلاّ ہوجاتا ہو۔ ہاں البتّہ کچھ بلندیاں ایسی ضرور ہیں کہ وہاں نہ چڑھ پانے پر اس کی "شیریت" شک میں پڑ سکتی ہے۔
ہم نے کسی حیوانی چینل پر ایک جنگلیاتی فلم ملاحظہ کی تھی جس میں لگّڑ بگّڑ مل جل کے ایک شیر کا شکار کرتے دکھائے گئے تھے۔ لگّڑ بگّڑ کو دیکھنے کے بعد ہمیں دوسری دفعہ اسم با مسمّی والے محاورے کی سمجھ آئی تھی۔ (ضروری نوٹ: پہلی دفعہ بارے پوچھ کر فساد کھڑا کرنے کی کوشش نہ کریں۔ شکریہ)۔ ہمیں یہ فلم دیکھنے کے بعد اس چیز کی بالکل سمجھ نہیں آئی کہ اگر لگّڑ بگّڑ اتنے ہی طاقتور اور بہادر ہوتے ہیں تو ہر زبان میں شیردل ہونے کو بہادر ہونے کا متبادل کیوں سمجھا جاتا ہے اور اسے کیوں نہیں لگّڑ بگّڑ دل سے بدل دیا جاتا؟
محاوروں کا ذکر چل نکلا ہے تو ہم یہاں واضح کرتے چلیں کہ ہمارے محاورات کی اکثریت انتہائی غلط تصورات پر مبنی ہے۔ مثلا کھسیانی بلّی کھمبا نوچے۔ ہمارے خیال میں تو ہمیشہ غصیلی بّلی ہی کھمبا نوچتی ہے۔ کھسیانی بّلی بے چاری توکچھ بھی نوچنے کے قابل نہیں رہتی۔ اسی طرح، نیکی کر دریا میں ڈال، ہے۔ جاپانی کہاوت ہے کہ ایک ہاتھ سے کام کرو اور دوسرے ہاتھ سے اس کام کا باجا بجاؤ۔ ہم کچھ ایسے احباب کو بھی جانتے ہیں جو چاہے کچھ نہ بھی کریں، باجا ضرور بجاتے رہتے ہیں۔ اور اگر کچھ کردیں تو ایک باجا نہیں بلکہ شادیوں پر بجنے والا بینڈ بجانے لگتے ہیں اس کام میں ان کی مدد کچھ فنا فی اللہ مجذوب کرتے ہیں جنہیں عام عوام مختلف اقسام کے القابات سے یاد کرتی ہے جن میں جھاڑیوں اور سینگوں کا ذکر کثرت سے ہوتا ہے۔
نئے سال میں بھی پرانی چوّلیں۔۔۔۔دُر شاباش۔۔ 

پاکستان پھَس کر ایوارڈز

 پاکستان  پھَس کر ایوارڈز کی طرف سے اس سال کے ونرز کا اعلان کیا جاتا ہے۔  دل تھام لیجیے  بلکہ کمزور دل حضرات و خواتین پانی اور گلوکوز وغیرہ کا بندوبست بھی کر رکھیں۔

ادبی ایوارڈز
بہترین شاعر : وصی شاہ
بہترین فکشن رائٹر : تانیہ رحمن
بہترین ناول نگار : مینا ناز 
بہترین ادبی پرچہ : چترالی
(بہترین ناول نگار کا ایوارڈ "غلطی" سے رضیہ بٹ کو دے دیا گیا تھا، اصل ونر مینا ناز ہیں)

سپورٹس ایوارڈز
بہترین بلے باز : رضوان الزماں
بہترین بالر : اعجاز فقیہہ
بہترین فیلڈر : دانش کنیریا
بہترین وکٹ کیپر : کامران اکمل
بہترین کپتان : ظہیر عباس

سلیبرٹی ایوارڈز
پرکشش ترین مرد  : بابر غوری
 پرکشش ترین عورت : فردوس عاشق اعوان

ٹی وی ایوارڈز
بہترین اداکار : ساحر لودھی
بہترین اداکارہ :  ونیزہ احمد
بہترین اینکر : رانا مبشر

لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز
ایماندار ترین شخصیت :  آصف علی زرداری
بہترین دینی و علمی شخصیت : حضرت مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم العالیہ
بہترین سیاسی مقرر : الطاف حسین

ان ایوارڈز کے لیے جو جیوری نامزد کی گئی تھی اس کے معزز اراکین مندرجہ ذیل ہیں۔
ٹِمّی شکاگو والے
وِکّی چوہدری
شیری 
محسن ممی
ناصر نوزی

پریشاں ہیں پِنڈ کی جھَلّیاں


سامعین کرام! آداب۔ آج ہم سب یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ عصر حاضر کی مکمل ترین کہانی کار محترمہ ثانیہ فرحان کی تازہ ترین کہانیوں کے مجموعے "پریشاں ہیں پِنڈ کی جھَلّیاں" کی تقریب رونمائی میں شرکت کا شرف حاصل کرسکیں۔ اس مجموعے میں ستتّر کہانیاں شامل ہیں اور مصنفًہ نے نہایت فنکاری اور چابکدستی کے ساتھ اس پُر فِتن دور کی جدلیاتی اور حسیاتی کشمکش کو اپنے گردوپیش کے ماحول کے تناظر میں بیان کیا ہے۔ ہم اپنے کلام کو مختصر کرتے ہیں اور آج کی تقریب کی پہلی مقرّرہ، جو خود بھی ایک عظیم شاعرہ اور دانشور ہیں، کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور ثانیہ کے فن اور شخصیت پر روشنی ڈالیں۔ تشریف لاتی ہیں محترمہ صدیقاں بشیر۔
معزّز سامعین! جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ ثانیہ اور میں بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں (ہال سے چند آوازیں۔۔۔ ہمارے علم میں نہیں ہے۔۔۔)۔ ثانیہ کو اوائل عمری سے ہی ادب سے گہرا شغف تھا۔ پاکیزہ، شعاع، آنچل، خواتین جیسے ادبی ماہنامے، بچپن سے ہی ان کے زیر مطالعہ رہے ہیں۔ انہوں نے سٹار، سونی، زی کے کسی ڈرامے کی کوئی قسط کبھی مِس نہیں کی۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ اچھا لکھنے کے لیے اچھا پڑھنا بہت ضروری ہے تو ثانیہ کی کہانیوں میں ان کے زبردست مطالعہ، مشاہدے اور انٹلکچوئلزم کی جھلک نظر آتی ہے۔ خاص طور زبان پر ان کی گرفت ایسی ہے کہ لکھنوی اور دہلوی احباب بھی اس پر رشک کرسکتے ہیں۔ ان کی املاء پر گرفت کی سب سے بڑی وجہ، پرائمری میں ان کی استانی پری خانم کی محنت شامل ہے جو ان کو روزانہ غلط املاء لکھنے پر مرغی بنایا کرتی تھیں۔ قصّہ مختصر، اس محدود سے وقت میں ان کے فن پر پوری طرح روشنی ڈالنا اسی طرح ناممکن ہے جیسے پانچ منٹ میں دو کلو لہسن چھیلنا۔ جاتے جاتے میں اس مجموعے میں شامل ایک کہانی کا ذکر کرنا چاہتی ہوں جس کا عنوان "اٹک میں کھٹک" ہے۔ اردو افسانے کی تاریخ اور روایت ایسی تحریر کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ میں ثانیہ فرحان کے فن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں۔ تم لکھو ہزاروں صفحات۔۔۔ ہرصفحے کے ہوں لفظ پچاس ہزار۔۔
سامعین، یہ تھیں صدیقاں بشیر۔ اب آپ کو اپنے خیالات سے مستفید کریں گے اس تقریب کے صاحب صدر، جناب اعظم شاہ اٹکوی، جو حضرو سے تشریف لائے ہیں۔ آپ ایک عظیم فلسفی، شاعر، کہانی نگار، ڈرامہ نگار، ننجا ماسٹر، مافیا چیف اور دیسی بیٹ مین ہیں۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت اس تقریب کو رونق بخشنے کے لیے صرف کیا۔ حالانکہ اس دوران وہ فیس بک پر تقریبا ڈہائی سو زنانہ آئی ڈیز کی والوں پر گھوم سکتے تھے۔ تشریف لاتے ہیں، جناب اعظم شاہ اٹکوی۔۔۔۔
ثانیہ جی اور سامعین۔ محبت بھرا آداب قبول ہو۔ ہم اپنے مقدّر پر جتنا بھی ناز کریں، کم ہے کہ آج ہم اپنی ثانیہ جی کے سامنے موجود ہیں اور ان کی کہانیوں کے عظیم ترین مجموعے پر اپنے زرّیں خیالات و افکار پیش کررہے ہیں۔ ثانیہ جی، صرف کہانی کار ہی نہیں ہیں بلکہ اس دکھوں بھری زندگی میں ایک نخل سایہ دار بھی ہیں جس کے سائے میں لوگ اپنے دکھ بھلا کر راحت پاتے ہیں (سامعین میں سے ایک ناہنجار۔۔۔ جی بالکل ۔۔ ان کا سایہ بھی کسی بڑے برگد کے درخت سے کم نہیں ہے۔۔)۔ اپنے گردوپیش میں پھیلے رنج و آلام کو انہوں نے اس فنکاری سے قلم بند کیا ہے کہ دوران مطالعہ میری چیخیں نکل جاتی تھیں۔ چند کندہ ناتراش ہمسائے ایسی آوازیں سن کر فاسد خیالات میں مبتلا ہوجاتے تھے اور محلّے میں ہمارے بارے غلط خیالات پھیلاتے تھے۔ ان بدنصیبوں کو کیا علم کہ ہم جس کے قتیل ہیں وہ ثانیہ جی جیسی عظیم الشان مصنّفہ ہیں جن کے رشحات قلم ہمارے دل کو تقویت بخشتے ہیں اور دماغ کو روشن کرکے جہالت کی ظلمتیں دور کرتے ہیں۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے اس دور میں زندگی پائی ہے جب ثانیہ جی بھی اس دنیا کو رونق بخش رہی ہیں۔ ہم اکثر سوچا کرتے ہیں کہ بناء ان کے ہماری زندگی کتنی بے ثمر اور بے رس ہوتی اور خاص طور پر فیس بک پر تو شاید ہم دوسرے ہی دن خود کشی کرلیتے۔ اس مجموعے میں چند شگفتہ کہانیاں بھی شامل ہیں۔ ان میں "لاس اینجلس کی کلفیاں" خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کہانی کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم اتنی شدّت سے ہنسے کہ ہمارے اہل خانہ ہمیں دوبارہ دماغی امراض کے شفاخانے میں داخل کروانے بارے سوچنے لگے تھے۔ اس سے آپ ثانیہ جی کے قلم اور ان کی طاقت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہم، ثانیہ جی بارے ساری زندگی بھی بول سکتے ہیں لیکن چونکہ آپ کے پاس وقت کم ہے اس لیے ہم اجازت چاہتے ہیں اور جاتے ہوئے یہ ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ
کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا بال پوینٹ ہوتا۔۔۔ 

سفرناک

جہاز میں داخل ہونے والا میں آخری مسافر تھا۔ دروازے پر کھڑی نمانی سی کُڑی، جو مجبورا سب کو السلام علیکم اور خوش آمدید کہنے پر مامور تھی، اس سے مسمسی سی بُوتھی بنا کر میں نے درخواست کی کہ مجھے پچھلی سیٹوں پر جگہ مل جائے تو بندہ شدید مشکور ہوگا کیونکہ فدوی کی طبیعت کچھ اچھی نہیں۔ اس پر اس نے دندیاں نکالیں اور بے مروت سی ہو کر مجھ سے کہنے لگی کہ آپ فی الحال اپنی سیٹ پر بیٹھیں، بعد میں دیکھیں گے۔ اس پر میرا اپنی اس تھیوری پر ایمان دوبارہ تازہ ہوا کہ شکل کا عقل پر اثر ضرور ہوتا ہے۔
 بورڈنگ کارڈ سے سیٹ نمبر دیکھ کر جب اپنی سیٹ تک پہنچا تو وہاں ایک صاحب کوٹ پتلون پہنے براجمان تھے۔ ان سے گذارش کی کہ حضور، یہ سیٹ میری ہے تو انہوں نے میری طرف دیکھے بغیر جواب دیا کہ "تسی ہور کسے سیٹ تے بے جاو، جہاز تے سارا خالی ای اے"۔ پارہ چڑھنے کو ہی تھا کہ میری نظر دوسری ائیر ہوسٹس بی بی پر پڑی جو یہ گفتگو سن کے میری طرف آرہی تھی۔ سبحان اللہ، طبیعت ہشاش بشاش ہوگئی، پارہ دوبارہ معمول کی ریڈنگ دینے لگا اور میں نے لجاجت سے اس پری صورت بی بی سے مسکین سی شکل بناتے ہوئے پچھلی سیٹوں پر بٹھانے کی فرمائش کردی۔ بی بی کی صنف نازکیت کا مزید استحصال کرتے ہوئے میں نے یہ تڑکا بھی لگایا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ اگرچہ یہ بات جھوٹ کے زمرے میں آتی تھی لیکن میں کونسا پوری دنیا میں سچا مشہور ہوں۔ بی بی نے ہمدردی سے میرے دو راتوں سے جگراتے چہرے اور نیند سے بھری آنکھوں کو دیکھا اور اشارے سے اپنے ساتھ آنے کے لیے کہا۔ جہاز کے پچھلے حصے میں تین سیٹیں خالی تھیں۔ بی بی نے مجھے وہاں بٹھایا اور ریلیکس کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس خوفناک پریزینٹیشن میں مصروف ہوگئی جس میں بتایا جاتا ہے کہ پانی پر لینڈنگ کی صورت میں لائف جیکٹ میں ہوا کیسے بھرنی ہے۔ کیونکہ بی بی میرے پاس ہی کھڑی تھی لہذا زندگی میں پہلی دفعہ میں نے یہ پریزینٹیشن پوری "دلچسپی" سے ملاحظہ کی۔ لیکن پتہ نہیں کیوں سمجھ، مجھے پھر بھی کچھ نہیں آئی۔
ابھی میں کمر بھی سیدھی نہ کرنے پایا تھا کہ ایک بندہ گواچی گاں کی طرح جھومتا جھامتا میرے ساتھ والی سیٹ پر آ براجمان ہوا۔  ہور چوپو۔۔ اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے۔۔۔ سیٹ بیلٹیں وغیرہ کسی جانے لگیں اور جہاز نے مقررہ وقت سے پانچ منٹ پہلے ہی اڑان بھرلی۔ پرواز کے ہموار ہونے کے بعد جب میری جان میں جان آئی اور میں نے آنکھیں کھول کر گہری سانس لی تومیرے ہمسائے نے دوران سفر والی کرٹسی دکھاتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔ مجبورا مجھے بھی اپنے منہ میاں مٹھو بننا پڑا۔ ایک دوسرے کے رہائشی اور دفتری پوتڑے پھرولنے کے بعد گفتگو جب سیاست پر پہنچی اور میرے فرمودات آس پاس کے باشندوں کے کانوں تک پہنچنے لگے تو آہستہ آہستہ ساری پچھلی خالی سیٹیں بھرنے لگیں۔ ان تماشائیوں میں کچھ اس جہازی ٹاک شو کا حصہ بننے کے بھی خواہشمند تھے لیکن الحمد للہ میرے قلم کی طرح میری زبان بھی کافی دراز ہے لہذا ایک دو در فنطنیاں ہی ان کو صرف تماشائی بنے رہنے کےلیے کافی رہیں۔ اس ٹاک شو میں صرف ایک ہی وقفہ ہوا جو برائے طعام تھا اور اس کے بعد برائے کرنا خالی مثانہ تمام مسافروں کا باری باری۔ اس وقفے کے بعد گفتگو دوبارہ کرپشن، سیاست، عمران، گنجے، سگ مملکت، فیصل آباد، کرکٹ، سپاٹ فکسنگ، پونڈی، پری صورت ائیر ہوسٹس اور گنجے ڈھڈل سٹیورڈ جیسے موضوعات کے گرد گھومتی رہی۔ یہاں ایک بات خصوصی طور پر قابل ذکر ہے کہ جس کوٹ پتلون والے باو نے مجھے سیٹ دینے سے انکار کیا تھا وہ بھی اپنی یعنی میری سیٹ چھوڑ کر اس ٹاک شو کے تماشائیوں میں شامل تھا۔۔۔ پوئٹک جسٹس۔۔۔ ہیں جی۔

قاعدہ خلاص

ہمیں اندازہ ہے کہ آپ اس قاعدے سے "نکونک" آچکے ہیں اور  علم پھیلانے کا جو بیڑا، ہم نے آپو آپ ہی اٹھا لیا تھا، اس نے ہمارے دماغی کندھے بھی شل کرنے شروع کردئیے ہیں لہذا آج وچکارلے قاعدے کا اختتام کرکے ہم کچھ عرصے کے لیے اس بیڑے کو زمین پر پٹخنے والے ہیں۔ امید ہے کہ ہمارا "وچکارلا" علم، ڈینگی کی طرح پھیلے گا اور سب کو متاثر کرکے ہی دم لے گا۔ تو آئیے قاعدے کا اختتام کرتے ہیں۔
ل۔۔۔۔ لڑائی: یہ ترقی کی اماں جان ہوتی ہے۔ اس کا ملاپ جب سیاست سے ہوتا ہے تو دھڑا دھڑ بچےجنم لینے لگتے ہیں جنہیں ترقی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ علامہ صاحب یوں تو بڑے عظیم بحرالعلوم تھے لیکن ان سےبھی ہجّوں کی ایک غلطی ہوگئی تھی (جبکہ ہماری ایک عظیم ادیبہ ساتھی غلطی سے ایک دفعہ درست ہجّے لکھتی پائی گئی تھیں) جب انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ "آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز"۔
م ۔۔۔۔ مالٹا: یہ مالٹے رنگ کا ایک پھل ہوتا ہے جو وٹامن سی، اورنج جوس اور گلا خراب کرنے کے کام آتا ہے۔  کھٹّا مالٹا بہت ہی مالٹا ہوتا ہے اور طبیب حضرات کے لیے نعمت غیر مترقبہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
ن ۔۔۔۔ نعرہ: یہ ایک بہت مفید چیز ہوتی ہے۔ اس کے مُوجد بارے تاریخ خاموش ہے لیکن گمان ہے کہ وہ اس کائنات کا پہلا ماہر نفسیات تھا۔ یہ بھی شنید ہےکہ نعرے کی ایجاد کسی حکم شاہی کا نتیجہ تھی تاکہ رعایا کا کتھارسس ہوتا رہے اور گلشن کا کاروبار چلتا رہے۔
و۔۔۔۔ووٹ: یہ ایک پرچی ہوتی ہے جسے بکسے میں تہہ کرکے ڈالا جاتا ہے۔ البتہ ووٹ ڈالنے والوں کو کچھ عرصہ بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ پرچی، بتّی بنا کر، ان کو واپس دے دی گئی ہے۔اس مظہر کو "جمہوریت بہترین انتقام ہے" کہا جاتا ہے۔ علامہ صاحب یہاں پھر یاد آتے ہیں جو اس بتّی سسٹم کے اتنے زیادہ پرستار نہیں تھے کہ جس میں ان کا اور مُودے دھیں پٹاس کا ووٹ ایک جیسی اہمیت رکھتا ہو۔
ہ۔۔۔ہم زلف: یہ سالی کا شوہر ہوتا ہے پنجابی میں اسے "سَانڈو" کہتے ہیں۔ نامعلوم وجوہات کی بناء پر سیانوں نے ہم زلف کی دوستی کو کچھ زیادہ اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا اور اس کو ایک ایسی کہاوت میں بیان کیا ہے جو یہاں بیان نہیں کی جاسکتی!
ء ۔۔۔: یہ پَخ ہوتی ہے۔ جو مختلف الفاظ کے ساتھ لگائی جاتی ہے تاکہ ان کو دھوکہ دیا جاسکے اور لفظ یہ سمجھیں کہ عبارت کا سارا بوجھ ان پر نہیں ہے۔
ی ۔۔۔ یلا یلی:  یہ لفظ استاد محترم سے مستعار لیا گیا ہے۔ اس کے اسرار و رموز ایک خاص عمر میں ہی پوری طرح ظاہر ہوتے ہیں۔ اس بارے جتنا کم لکھا اور جتنا زیادہ محسوس کیا جائے، اتنا ہی اچھا ہے۔
ے۔۔۔۔: اسے بڑی ے کہتے ہیں تاکہ چھوٹی ے کو احساس ہوتا رہے کہ اس پر نظر رکھنے کے لیے کوئی بڑا موجود ہے اور وہ آوارہ نہ ہوسکے!

میں جعفر حسین ہوں

میں جعفر حسین ہوں اور میں شیعہ نہیں ہوں!۔
یکایک ایسا بیان جاری کرنے پر آپ سوچ سکتے ہیں کہ ہم القاعدہ میں شامل ہوگئے ہیں یا کم ازکم سعودی پے رول پر تو آہی گئے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ دونوں قیاس، درست نہیں ہیں۔ اس بیان کی جڑیں ماضی میں بہت دور تک پھیلی ہوئی ہیں اور مجبورا ہمیں یہ اعلان کرنا پڑا ہے ورنہ جہاں اتنی دیر ہم نے بغیر وضاحت کے گزار دی ہے، بچا کچھا عرصہ بھی جیسے تیسے گزر ہی جاتا لیکن ہمارا پیمانہ صبر، چونکہ لبریز ہوچکا ہے بلکہ "ڈُلنا" بھی شروع ہوگیا ہے پس اس قصّے کا "کٹّا کٹّی" نکالنا ضروری ہوچکا ہے۔ تو آئیے، اس کہانی کو فلیش بیک میں لیے چلتے ہیں۔
ہمارا نام رکھنےکی سعادت، ہمارے داداجنت مکانی کے حصے میں آئی تھی۔ روایت ہے کہ ہم کُونڈوں والے دن پیدا ہوئے تھے، جسے اس وقت بنا تخصیص فرقہ، حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب دن کی حیثیت حاصل تھی اور اکثر گھرانوں میں حلوہ پوری وغیرہ بنائے جاتے تھے اور تقسیم کیے جاتے تھے۔ ہمارا نام اسی نسبت سے جعفر حسین رکھا گیا تھا۔ بچپن اسی لیے سنہرا ہوتا ہے کہ اس وقت آپ صرف بچے ہوتے ہیں، شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث وغیرہ نہیں ہوتے۔ ہم بھی چھٹی جماعت تک صرف بچے ہی تھے اور اپنے نام کی وجہ سے کسی خصوصی یا امتیازی سلوک کا نشانہ اگر بنے بھی ہوں گے تو ہمیں پتہ نہیں چلا تھا۔
ساتویں جماعت میں پہنچے تو ہمارے ایک استاد جو چی گویرا کا فیصل آبادی ایڈیشن تھے یعنی شدید انقلابی تھے، ہیڈ ماسٹر کے خلاف نعرہ بغاوت ہو یا دوسرے کولیگز کے ساتھ اِٹ کھڑکّا، وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹے تھے اور "انٹی ایسٹبلشمنٹ" ہونے کی وجہ سے سینئیرز یعنی نویں، دسویں کے طلباء میں عمران خان کی طرح مقبول تھے، انہیں بطور سزا ساتویں جماعت کو اردو پڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ پڑھاتے وہ خوب تھے اور نہایت دلچسپ شخصیت تھے۔ وہ " مولابخش" پر بالکل یقین نہیں رکھتے تھے اور مزے دار کہانیاں اور واقعات پورے ڈرامائی تاثر کے ساتھ سنانا ان پر ختم تھا۔ ایک دن پیریڈ کے اختتام پر انہوں نے کمرہ جماعت سے باہر جاتے ہوئے دروازے پر توقف کیا اور ہمیں اپنے پاس بلاکر آہستگی سے دریافت کیا، "کیا تم سیّد ہو؟" ہم حیران ہوئے اور نفی میں سر ہلادیا۔ اس پر انہوں نے پھر سیّد پر "زور" دیتے ہوئے ہم سے دوبارہ پوچھا لیکن ہمارا جواب پھر نفی میں تھا۔ وہ ذرا مایوس تو ہوئے لیکن سکول کا بقیہ عرصہ ان کی خصوصی توجہ ہم پر ارزاں رہی۔
ان کا نام سیّد گلزار حسین تھا۔
کالج میں پہنچے تو جذبہ "اسلامی" سے سرشار تھے۔ اسی لیے جمعیّت میں شامل ہوئے اگرچہ اس پر ہمیں فخر نہیں ہے لیکن کوئی شرمندگی بھی نہیں ہے۔ اس سے کم ازکم ہمیں ان سوالات اور استفسارات سے نجات مل گئی جو ہمارے نام کی وجہ سے ہمیشہ ہمارے ساتھ جڑے رہتے تھے۔ کالج کے اساتذہ بھی ایک دفعہ ہمارا نام سن کر غور سے ہمیں دیکھتے اور جب ہمارے سینے پر لگے ہوئے جمعیّت کے "بِلّے" کو دیکھتے تو ان کی پریشانی کم اور حیرانی زیادہ ہوجاتی۔ جبکہ ایک دو کیسز میں یہ حیرانی کم اور پریشانی زیادہ ہوتی بھی دیکھی گئی۔
ہمارے بچپن کے ایک دوست، جو محلے دار بھی تھے، اہل تشیّع سے تعلق رکھتے تھے۔ جبکہ سکول سے کالج تک ہمارے ہم جماعتوں میں بھی شیعہ حضرات شامل رہے۔ جن میں سے دو تین ہمارے جگری یار بھی ہیں۔ ان سب باتوں کے باوجود ہم حضرت اکبر الہ آبادی کے پیروکار رہے کہ
مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں۔۔۔۔ فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں
ہم میں فالتو عقل تو کیا، جتنی عقل چاہیے تھی وہ بھی نہیں تھی۔ لہذا آج تک ہم مذہبی بحثوں سے کنّی کتراتے رہے۔ البتّہ اپنے لنگوٹیے کو ہم ضرور چھیڑا کرتے تھے کہ یار، اس دفعہ دس محرم کو میں بھی تمہارے ساتھ جاوں گا تم زنجیر زنی کرتے ہوئے تھک جاو تو مجھے بتانا میں تمہیں زنجیریں مارتا رہوں گا۔ اس پر وہ پہلے تو گالیاں دیتا اور پھر ہنستا۔ جبکہ "بتّیاں بجھانے" والی بات پر صرف گالیاں ہی دیتا تھا اور میں ہنستا تھا۔
ہمارے ابّا راوی ہیں کہ بھلے وقتوں میں محرّم میں بڑے سے بڑا فساد بھی تین چار لوگوں کے پھٹے ہوئے سروں اور سوڈے کی بوتلوں کے دو تین کریٹ ٹوٹنے تک ہی محدود رہتا تھا۔ انقلاب ایران کی فصل چونکہ ایرانی ضروریات سے زائد ہوگئی تھی لہذا انہوں نے یہ انقلاب برآمد کرنے کا سوچا اور چونکہ پہلاحق ہمسایوں کا ہوتا ہے تو یہ اثنا عشری انقلاب سب سے پہلے ہماری قوم کو ہی بھگتنا پڑا۔ عرب و عجم کی اس جدید کشمکش میں عرب کسی سے پیچھے کیوں رہتے۔ لہذا انہوں نے بھی اپنے "گھوڑے" تیار کیے اور پھر اللہ دے اور بندہ لے۔ وہ گھمسان کا گھڑمس برپا ہوا کہ اس اسلامی مملکت میں کوئی مسلمان ہی باقی نہ بچا، سب کسی نہ کسی زاویے سے کافر قرار پائے۔
بلاگستان میں ہماری آمد ایک عظیم تاریخی واقعہ (سانحہ بھی کہہ سکتے ہیں) ہے۔ شروع میں ہمیں اکثر محسوس ہوا کہ اکثر ساتھی ہمیں وہی سمجھتے تھے جو آج تک لوگ ہمارا نام سن کے سمجھتے آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک دو مثالیں تبصروں کی شکل میں بھی موجود ہیں، جو ڈھونڈنے والے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ جب ان ساتھیوں سے تعلق بڑھا اور یہ محترم بلاگرز سے اوئے اور تو کے مرحلے پر پہنچے تو تقریبا سب نے ہی ہم کو یہ ضرور کہا کہ اوئے ہم تو تمہیں شیعہ سمجھے تھے۔ تس پر ہم نے انہیں وہی کہا جو ہم آج تک سب سے کہتے آئے ہیں، کہ تم کوئی پہلے شخص نہیں ہو جسے یہ "خوش فہمی" ہوئی ہو۔ فیس بک پر بھی ہمیں دھڑا دھڑ ایسے گروپس میں شامل کیا جاتا رہا جہاں مخصوص لوگوں کو ہی داخلہ دیا جاتا ہے۔ جن دنوں ملعون خاکوں کا بہت شور تھا، انہی دنوں ہمیں فیس بک پر ایک ایونٹ کا دعوت نامہ ملا، جس کا عنوان "ڈرا عمر ڈے" تھا۔ یقین مانیے، زندگی میں بہت کم ایسے لمحات ہوں گے جب ہمیں اس شدّت سے غصّہ آیا ہو۔ اپنے عقیدے پر قائم رہنا ایک چیز ہے اور کسی کے لیے قابل احترام شخصیات کو گالی دینا اور چیز۔ مذہبی رواداری اور وسیع المشربی کے نام پر ہم ایسی خرافات کو ہضم کرنے کی ہمّت کبھی پیدا نہیں کرسکے۔ ہمیں یہ بھی حیرانی ہوتی ہے کہ ان سب چیزوں کے دعوت نامے تو ہمیں بھیجے جاتے رہے لیکن کبھی کسی نے ہمیں "مُتعہ" کرنے کی دعوت نہیں دی۔ اب پتہ نہیں اس کے لیے بھی کوئی خصوصی "کرائی ٹیریا" ہے۔
اونٹ کی کمر پر آخری تنکا کے مصداق حالیہ دنوں میں ہمیں ایک سرکاری ملازمت صرف اس لیے نہیں مل سکی کہ ہمارے نام کی وجہ سےہم پر شیعہ ہونے کا شبہ کیاگیاتھا۔ باوجود اس کے کہ ملازمت کے لیے درکار تمام ضروری چیزیں ہمارے پاس وافر موجود تھیں اور انٹرویو بھی بہت دھانسو ہوا تھا، ہمیں لارا لگا دیا گیا۔ معاشی مار سب سے "گُجھّّی" ہوتی ہے کہ نشان بھی نہیں پڑتا اور تکلیف بھی بہت ہوتی ہے۔ اگر چہ ہم نے بہت یقین دلایا کہ ہم وہ نہیں ہیں جو آپ سمجھے ہیں اور ثبوت کے طور پر اپنے والد سے لے کر پردادا تک تمام نام ان کے گوش گذار کیے۔ لیکن شاید وہ حضرات سمجھے ہوں کہ ہم "تقیہ" سے کام لے رہے ہیں۔ ہم نے کبھی سچّا ہونے کا دعوی نہیں کیا اور مختلف وجوہات مثلا کمینگی، خودغرضی، بزدلی کی بناء پر اکثر جھوٹ بولتے پائے جاتے ہیں لیکن اپنے ان جھوٹوں کو ہم نے مذہبی جواز دینے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ یہ بات عربی بھائیوں کو سمجھانا لیکن کارے دارد ہے کہ دماغی طور پر ان میں اور پختون بھائیوں میں بالکل فرق نہیں ہےکہ جہاں سوئی اٹکی سو اٹک گئی۔
ہم "بٹر فلائی افیکٹ" کو کبھی سمجھ نہیں پائے تھے۔ خود پر گزری ہے تو یہ اتنی اچھی طرح سمجھ میں آیا ہے کہ لگ سمجھ گئی ہے۔ لہذا ہم ایک دفعہ پھر اعلان کرتے ہیں کہ
میں جعفر حسین ہوں اور میں شیعہ نہیں ہوں!۔

کھَٹ مِٹھّا شِیر خُرما

عید کے پُر کیف (پُر مسرّت اس لیے نہیں لکھا کہ ہمیں مسرّت شاہین پسند نہیں، اور کیف تو آپ سمجھ ہی گئےہوں گے) موقع پر ہم آپ کے لیے ایک خصوصی ترکیب کے ساتھ حاضر ہیں۔ چھوٹی عید اور میٹھا لازم و ملزوم بلکہ ظالم و مظلوم سمجھے جاتے ہیں۔ہماری تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ذیابیطس کے بڑھنے کا ایک بڑا سبب، چھوٹی عید بھی ہے۔ احباب، اعتراض کرسکتے ہیں کہ یہ تحقیق اور اس کا نتیجہ، ماروں گُھٹنا پھوٹے آنکھ، کے مصداق ہے لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ نتیجہ کچھ ایسا بعید از امکان بھی نہیں ہے۔ چھوٹی عید پر جتنا میٹھا پکایا اور کھایا جاتا ہے، ہمیں خدشہ ہے کہ مستقبل قریب کی چھوٹی عیدوں پر قورمہ بھی شیرے میں پکایا جانے لگے گا۔ اس یکسانیت کو ختم کرنے کے لیے آج ہم اس ترکیب کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں۔


یہاں برسبیل تذکرہ ہم یہ بھی کہتے چلیں کہ سویّاں (جنہیں پیار سے شِیر خُرما بھی کہا جاتا ہے، یہاں خُرما سے مراد خرم شہزاد خرم نہیں ہے) اور آم کھانے کا کوئی معقول طریقہ آج تک دریافت نہیں ہوسکا۔ ہاتھ منہ "لَبیڑے" بغیر آم اور "سُڑکے" مارے بغیر سویّاں کھانا،اتنا ہی مشکل ہے، جتنا ہمارے مدیر کا انگریزی پر عبور حاصل کرنا۔ موضوع سے انحراف کا خدشہ نہ ہوتا تو ہم ان کی انگریزی کے ٹوٹے ضرور پیش کرتے۔ بہرحال، ہم آج جو شِیر خُرما المعروف "سیویاں" بنانے جارہے ہیں، انہیں معقول طریقے سےکھانا نہایت آسان ہے۔ صرف کھانا البتہ کافی مشکل ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ "نفیس" چیزوں کا "ٹیسٹ" ڈویلپ کرنا پڑتا ہے!


تمہید کافی طویل ہوگئی ہے، اس دیباچے کی طرح جو کتاب کے متن سے بھی دو صفحے زیادہ ہو! بہرحال زیادہ دیر کبھی بھی نہیں ہوتی، لہذا اجزاء نوٹ کرلیں۔


پانچ پیکٹ سویّاں


املی کا کھٹّا- ایک جگ


سٹرپ سلز کے دو پتّے


خشک دودھ ایک کپ


گُڑ ایک پاؤ


نمک حسب توفیق


دار چینی، لونگ وغیرہ مٹّھی بھر


سرسوں کا تیل دو پکانے کے چمچ


پپیتا۔ ایک پلیٹ


کیمرے والا موبائیل ایک عدد


ڈیسک ٹاپ یا لیپ ٹاپ ہمراہ انٹر نیٹ کنکشن


پتیلی میں سرسوں کا تیل ڈال کر درمیانی آنچ پر گرم کریں اور اس میں سویّاں ڈال کر اچھی طرح فرائی کرلیں۔ جب ان کا رنگ ہلکا اوبامی ہوجائے تو املی کا کھٹّا ڈال کر آنچ ہلکی کردیں اور تین سے پونے پانچ منٹ تک پکنے دیں۔ خشک دودھ، سٹرپ سلز کا آدھے سے زیادہ پتّا، گُڑ، نمک، دارچینی لونگ وغیرہ ڈال کر کچھ بھی کرنے سے پہلے موبائیل سے اس کی دو تین تصویریں کھینچیں اور فیس بک پر اپ لوڈ کردیں۔ ایک کیپشن بھی دے دیں کہ "کھٹ مٹھا شیر خُرما تیار ہورہا ہے، جس نے کھانا ہو آجائے"۔ ظاہر ہے، کوئی نہیں آئے گا، لیکن آپ کی مہمان نوازی پلس ککنگ کی دھاک بیٹھ جائے گی۔ یہ خیال رکھیں کہ اس ساری سماجی سرگرمی کے دوران چولہا بند ہو، ورنہ فیڈ اور نوٹیفیکشنز پھرولتے، آدھا گھنٹہ لگ جائے گا اور آپ کی ڈش کا تورا بورا بن جائے گا۔ اس سماجی سرگرمی سے فارغ ہونے کے بعد دوبارہ اپنی ڈش کا رخ کریں اور ہلکی آنچ پرتب تک پکائیں جب سارے اجزاء 'یک جان' نہ ہوجائیں۔جب آپ کی چھٹی حس کہے کہ شِیر خُرما تیار ہے تو اسے فورا فریج میں رکھ دیں۔ جب اچھی طرح ٹھنڈا ہوکر جم جائے تو کٹے ہوئے پپیتے اور بچی ہوئی سڑپ سلز کی گولیوں کے ساتھ گارنش کرکے "مہمانوں" کی خدمت میں پیش کریں۔


رمضان کے آخری ایّام میں مولانا حضرات کا رقّت انگیز دعائیں مانگ مانگ کر گلا بیٹھ چکا ہوتا ہے جبکہ مقتدی حضرات و خواتین، سارا مہینہ تلی ہوئی اشیاء اور ٹھنڈے یخ مشروبات کے استعمال کے بعد گلے کی جملہ بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہوتے ہیں۔ ان سب کے لیے یہ شِیر خُرما خصوصی طور پر مفید ہے۔ نیز دیگر "روحانی و رومانی" فوائد الگ ہیں۔


اگر آپ مندرجہ ذیل شعر کے حقیقی معنی سے ابھی تک آشنا نہیں ہیں تو وہ بھی آپ پر ظاہر و باہر ہوسکنے کا پورا امکان ہے۔ شعر کچھ یوں ہے کہ۔۔۔


عید کا موقع ہے، آج تو گلے "مَل" لے ظالم


رسم دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے


ہیں جی!۔