مردود، جگر اور ڈیوریکس


حاشا و کلا ہمارا ہرگز یہ  ارادہ نہیں تھاکہ  قادری جگر پر دوبارہ خامہ فرسائی فرماتے۔ لیکن دنیا ہے کہ ہمیں "اُنگل" کرانے سے باز نہیں آتی۔  اور ہمارے چند زریں اصولوں میں سے ایک،  انگل کے جواب میں "باں" کرانا ہے۔  آمدم برسر مطلب، قادری جگر ہمارے بچپن میں پی ٹی وی پر شاید جمعے کے جمعے "حلوہ" افروز ہوا کرتے تھے اور اسی زمانے سے ان کی خطابت کا ڈنکا اتنی زور سے بجتا آرہا ہے کہ پاس بیٹھے ہوئے  لوگ کانوں سے ہی نہیں بلکہ دماغ سے بھی بہرے ہوجاتے ہیں۔   جگر کی رام کہانی اتنی دفعہ دہرائی جاچکی ہے کہ اب تک سب کو ازبر ہوچکی ہوگی۔ کہ  جھنگ سے چلنے والا عبدالشکور ، علامہ مولاناپروفیسر ڈاکٹر  قادری جگر کیسے بنا۔ لہذا اس سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم اپنے مشاہدات ہی بیان کرتے ہیں۔
مدت مدید کی بات ہے کہ جناح کالونی میں، جہاں ہمارے ابّا کی دوکان تھی اور ہم کالج سے فراغت کے بعد سیدھا وہیں پہنچا کرتے تھے، سرما کی ایک سرد اور دھند آلود دوپہر کو ہم چھتری والی گراونڈ سے متصل مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے۔ نماز سے فارغ ہوئے تو  گراونڈ میں لگے شامیانوں نے ہماری توجہ کھینچی ۔ اسی اثنا میں پانچ چھ گاڑیوں کا ایک تیز رفتار قافلہ زن سے ہمارے پاس سے گزرا  اور گراونڈ کی دوسری طرف شامیانوں کے پاس جا کے رک گیا۔  ڈبل کیبن ڈالوں سے وردیوں میں ملبوس اور کلاشنکوفوں سے لیس محافظوں نے چھلانگیں لگائیں اورایسے  پوزیشنز سنبھال لیں جیسے ابھی فاتح کشمیر پدھاریں گے۔  درمیان والی کالی پجارو کا دروازہ کھلا اور اس میں سے قادری جگر نے قدم رنجہ فرمایا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب شیر علی جیسے ایم این اے سڑکوں پر عام چلتے پھرتے مل جاتے تھے۔فضل حسین راہی جیسے ایم پی اے تلنگوں کے ساتھ تھڑوں پر بیٹھ کر چرس پیتے تھے اور اسلحہ صرف پولیس والوں کے پاس ہی نظر آتا تھا۔  اس وقت تک ان کی خوابی پیشگوئیاں بھی زبان زد عام تھیں تو ہمارا بچگانہ اور احمقانہ دماغ یہ سوچنے لگا کہ یہ کیسا بندہ ہے جو خواب میں بشارت پانے کے بعد بھی اپنی حفاظت  کے لیے اتنے بندوں کو لے کے گھومتا ہے؟ یا تو خواب جھوٹے ہیں یا اس کا ایمان۔
وہ دور گزر گیا ۔ ہم حالات کے تھپیڑے کھاتے ، پردیس آ پہنچے۔ یہاں ہمیں ایک لہورئیے ملے۔ جو ایک موبائل کی دکان پر سیلز مین تھے۔ اور ان کے کمرے کی الماری میں قادری جگر کے آڈیو کیسٹس اور ڈیوریکس کے پیکٹ ساتھ ساتھ پڑے ہوتے تھے۔ ہم نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے جو جگر کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے شروع کیے تو بنا بریک کے آدھ گھنٹے تک بولتے ہی چلے گئے۔ ان کے دم لینے پر ہم نے پوچھا کہ یہ ڈیوریکس آپ انکی سالگرہ پر  غباروں کی جگہ لگاتے ہیں؟ اس بات پر وہ تپ گئے اور کہنے لگے کہ میں گنہگار بندہ ہوں، غلطی ہوجاتی ہے۔ تس پر ہم نے خاموشی اختیار کی کہ مقصد ان کو شرمندہ کرنا  نہیں تھا۔ جگر کے یہ پرستار ایک سال بعد غبن کرکے غائب ہوگئے اور سننے میں آیا تھا کہ لانچ کے ذریعے پاکستان پہنچے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
چند دن پہلے ہم ایک جانی کےساتھ بک بکواس ٹائم انجائے کررہے تھے کہ ان کے ایک دوست بھی تشریف لے آئے۔  تعارف سے پتہ چلا کہ حضرت ڈاکٹر ہیں ۔  انگریز ، بات کرنے کے لیے موسم کی بات چھیڑتے ہیں اور ہم سیاست کی۔ لہذا ہم نے بھی دانہ پھینکا کہ 'ڈاکٹر ساب، تہاڈا  کیہ خیال اے کہ عمران خاں کنیاں سیٹاں لے جائے گا؟" ہمارے اندازے کے عین مطابق ڈاکٹر صاحب انصافیے نکلےاور جو ش و خروش سے  کینسر ہسپتال، ورلڈ کپ کی فتح، عمران کی ایمانداری ، لگن، استقلال،  بہت سی عورتوں کو بیک وقت خوش رکھنے کی صلاحیت وغیرہ پر رواں ہوگئے۔ ہم میسنے ہوکے بیٹھ گئے اور ڈاکٹر صاحب کا جو ش و خروش انجائے کرنے لگے۔ جب وہ ذرا ٹھنڈے پڑنے لگے تو اللہ جانے ہمارے ذہن میں کیا خنّاس سمایا کہ قادری جگر کا ذکر چھیڑ بیٹھے۔  ڈاکٹر صاحب نے اپنی عینک اتاری، شیشے صاف کیے ۔ دوبارہ ناک پر جمائی۔ ہماری طرف غور سے دیکھا اور پوچھا کہ آپ کو ان سے کیا تکلیف ہے؟ ۔ ہم نے اپنی سٹینڈرڈ تکالیف گنوادیں کہ ڈاکٹر صاحب یہ یہ تکلیف ہے۔  تازہ تازہ متوفی کو کلمہ پڑھانے والی ویڈیو کا حوالہ دینے پر انہوں نے فرمایا کہ تلقین کرنا سُنّت ہے اور جو اس کو نہیں مانتا ، وہ مردود ہے ۔ اس لیے آپ مردود ہیں۔ ہمارے کان لال تو ہوئے لیکن ازلی ڈھیٹ پن کی وجہ سے دوبارہ اپنی رنگت پر واپس آگئے۔ سجدے والی ویڈیو پر ارشاد فرمایا کہ آپ کو کیا پتہ کہ ان کی نیّت سجدہ کرنے کی ہے یا پاوں چومنے اور پاوں چومنا بھی حدیث سے ثابت ہے لہذا آپ ان پر شرک کا الزام لگا کر خود مشرک ہوچکے ہیں۔  اس دلیل پر ہماری ذہن میں ایک نہایت فحش جوابی دلیل آئی لیکن ۔۔۔ خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم۔۔
 دوست کا دوست بھی دوست ہی ہوتا ہے چاہے وہ آپ کو مردود اور مشرک ہی کیوں نہ سمجھے۔۔ ہیں جی۔۔

راجُو


اصل نام تو شاید ریاض تھا یا رزاق ، پر نام میں کیا رکھا ہے کہ گوروں کے علامہ اقبال  فرماگئے ہیں کہ گلاب کو جس نام سے بھی پکارو ، وہ گلاب ہی رہے گا تو راجو کو بھی جس نام سے  پکاریں وہ راجو ہی رہے گا۔ پست قامت، گورا چٹا رنگ، نیلی آنکھیں۔ اتنا سوہنا ارائیں ہم نے اپنی زندگی میں آج تک نہیں دیکھا۔  یہ تو یاد نہیں کہ اس کا نام پہلی دفعہ کب سنا تھالیکن جب سے ہم نے ہوش سنبھالی تو راجو ہمارے علاقے کا ایک ، بقول حسن نثار، لیجنڈری قسم کا کردار تھا۔  پُلس مقابلوں سے کرکٹ کےمیچوں میں بلّوں سے فریق مخالف کی پھینٹی تک ، ایم این اے کو تھپڑوتھپڑی ہونے سے اسی ایم این اے کا باڈی گارڈ بننے تک ، ایسی ایسی داستانیں کہ بس لڑکپن میں یہی خواہش تھی کہ بڑے ہوکے  "راجو" بننا ہے۔
سُودی کے برادر بزرگ ، نام تو جن کا محمود ہے لیکن خاندان میں بھولے اور دوستوں میں مُودے کے نام سے جانے جاتے ہیں، وہ جب تازہ تازہ کالجیٹ ہوئے تو ہم شاید دسویں جماعت میں تھے۔ ان سے ہمیں راجو کی مزید داستانیں سننے کا موقع ملا کہ ان دنوں ان کی دوستی اس سے ہوگئی تھی۔  کہ راجو کے بظاہر اس دنیا میں دو ہی کام اور شوق تھے، پھینٹی کھانا   (اور لگانا بھی)اور کرکٹ کھیلنا۔ کرکٹ بارے  تو ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ کرکٹ کھیلنی اسے اتنی ہی آتی تھی جتنی میاں صاحب کو سیاست  یا خاں جی کو مردم شناسی۔ بھولے کے ریفرنس سے ہی ایک دن راجو نے  سعید کی ویڈیوگیمز والی دکان میں ہم سے شرف تعارف یہ پوچھ کر حاصل کیا  کہ "تسی مُودے دے پراء او"۔ اب یہ بڑی مزے کی بات ہے کہ  راجو کا اندا ز تخاطب اتنا مہذب اور نستعلیق اور شائستہ اور شگفتہ اور نسرین وغیرہ تھا کہ ہم حیران رہ گئے کہ یہ وہ پھنّے خاں ہے جو پلس مقابلے تک کرتا ہے۔ سچ پوچھیں تو ہمارے دل میں اس کی جو "عزت" تھی وہ ایک کوڑی کی نہیں رہی کہ ۔۔ لے دس۔۔ یہ ہے راجو۔
وہ  تو رمضان میں رات کو ہونے والے ایک کرکٹ ٹورنامنٹ کے  فائنل نے راجو بارے،  ہمارے وچار دوبارہ انہی عظمتوں تک پہنچائے ، جو پہلے قائم تھیں۔  فائنل پر رواں تبصرے کے لیے راجو بذات خود مائک لے کے ایسی ایسی در فنطنی چھوڑ رہا تھا کہ سوچ ہے آپ کی۔ اپنی  زندگی کے ہر مرحلے پر وہ چونکہ اشتہاری ہی رہا تو کسی نے گلبرگ تھانے فون کھڑکا دیا کہ راجو یہاں بذات خود موجود ہے۔ پولیس کیسے آئی اور کتنی سہولت سے اس کو پیچھے سے آکے دبوچا ، اس کا پتہ اس کو تب چلا جب انہوں نے اسے موبائل میں پٹخا۔ پندرہ منٹ بعد کیا دیکھتے ہیں کہ راجو پھر مائیک سنبھال کے پولیس سمیت مخالفوں کی والدہ اور ہمشیرہ کو واحد کررہا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ چلتی موبائل سےکود کے گلیوں میں گھس گیا اور جتنی دیر میں "فُکراٹے" موبائل رکوا کے اس کے پیچھے جاتے وہ انہیں غچّہ دے کے گلیوں میں غائب ہوچکا تھا۔ پولیس والوں کے لیے عوام الناس نے  کافی اصطلاحات وضع کی ہیں، جن میں چھلّڑ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ لیکن راجو کی وضع کردہ فکراٹے کی اصطلاح کا مقابلہ آج تک کوئی نہیں کرسکا۔
بی بی کے دوسرے دور حکومت میں ہر بلدیاتی حلقے میں ایک جیالا کونسلر کی جگہ پر نامز د کیا گیا تھا کیونکہ بلدیاتی الیکشن کرانا ہماری جمہوریت کے ماموں کے وارے میں نہیں ہوتا، ہمارے محلے میں غلام عباس نامی ایک جیالے کو یہ ذمہ داری سونپی گئی  جو شومئی قسمت سے راجو کے  پرانے محلے دار  اور بیلی تھے۔ گلستان روڈ پر ان کا ایک وڈیوسینٹر تھا جس کے وسیع و عریض تھڑے پر ہر  رو ز صبح سویرے،  سینٹری ورکرز کے جھمگٹ میں دربار سجا کے بیٹھتے تھے۔ ایک سہانی صبح  راجو کا گزر جب وہاں سے ہوا تو موٹرسائیکل روک کے وہ غلام عباس سے یوں مخاطب ہوا،  " یار  باسے، ایک فیملی گروپ فوٹو نہ ہوجائے"۔  یہ کہہ کر اس نے موٹر سائیکل کو گئیر لگایا اور اڑنچھو ہوگیا ، غلام عباس کی مقفع و مسجع گالیوں کی آواز  البتہ آدھ گھنٹے تک قرب و جوار کے لوگوں کے کانوں میں مسلسل آتی رہی۔
اسی ویڈیو سینٹر کے عین سامنے ظہیر لائبریری واقع تھی۔ اس لائبریری سے ہمارا تعلق پانچویں سے شروع ہوا جب ہم اشتیاق احمد کے ناول کرایہ پر لینے جاتے تھے اور یہ تعلق اس وقت تک جاری رہا جب تک یہ لائبریری بند نہیں  ہوئی۔ اس کے مالک بھی راجو کے لنگوٹیے یار تھے اور اکثر اس کے  واقعات سنایا کرتے تھے۔  مشکل یہ کہ ان واقعات میں سے اکثریت ایسی ہے کہ سنسر سے گزرنے کے بعد ان میں ، سے، پر ، ہے، کو وغیرہ ہی رہ جائیں گے۔  بہرحال ایک نسبتا ہومیوپیتھک سا واقعہ سنا کے اس ایپی سوڈ کو ختم کرتے ہیں۔ ظہیرالدین بابر، پروپرائٹر ظہیر لائبریری  راوی ہیں کہ ایک دن شام کو ایک مولانا صاحب چندے کی کاپی سنبھالے وار د ہوئے اور فرمایا کہ میں  رحیم یار خان سے آیا ہوں ، اللہ کا گھر بن رہا ہے، مدد کریں۔ راجو جو وہاں موجود تھا، اس نے مولانا سے پوچھا کہ ۔۔۔ ایس توں پہلے رب کرائے تے رہندا سی؟۔  مولانا ، لاحول ولا اور کافر و زندیق کی تسبیح کرتے ہوئے ایسے غائب ہوئے کہ دوبارہ کبھی نظر نہیں آئے۔
اس ابتدائی تعارف کے بعد ہمارا  ارادہ تھا کہ اس دور کے حالات بھی بیانیں جب ہم راجو کی زیر صدارت ایک رجسٹرڈ کلب کی طرف سے کرکٹ کھیلا کرتے تھے  اور امپائرنگ کے کسی بھی تنازعے کی صورت میں راجو اپنی ٹی ٹی کی جھلک کراکے معاملہ چشم زدن میں نمٹا دیا کرتا تھا۔  پر یہ سب  پھر کبھی سہی۔   یار زندہ، صحبت باقی۔۔ اس بات پر ہمارے ایک جانی بہت شرماجاتے ہیں۔۔ نجانے کیوں؟

شاژیہ اور بِلاّ

ہزار دفعہ منع کرنے کے باوجود،  بِلاّ ، ہمیں پائین کہہ کے ہی مخاطب کر تا تھا اور ابھی بھی کرتا ہے۔ ہم پائین کہنے پر اس کو خونخوار نظروں سے گھورتے تو وہ ایسے ہنسنے لگتا  جیسے گونگی۔۔۔ چلیں چھوڑیں۔  ان دنوں پُونڈی کا لفظ اتنا عام نہیں تھا اس کی بجائے فیصلابادی روزمّرہ میں "ٹیم چُکنا" کا لفظ استعمالا جا تا تھا۔  عام بِلّوں کی طرح ہمارا بِلاّ بھی نہایت عاشق مزاج واقع ہو ا تھا اور ٹیم چُکنے کا نہایت شوقین تھا۔ بِلاّ  فرنیچر کی دکان پر کام کرتا تھا  اور وہاں صبح سات بجے ہی پہنچ جاتا تھا اس کی وجہ فرض شناسی یا کوئی اور ایسی خوبی نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ "شاژیہ" تھی۔  شازیہ  کو جب بِلاّ  شاژیہ کہتا تھا تو اس کے سارے ناآسودہ و بے ہودہ جذبات جس طرح اس نام کے تلفظ میں سماجاتے تھے وہ چیز بیان کرنی مشکل ہے۔ شاژیہ اس وقت بِلّے کی سب سے منظور نظر حسینہ تھی اور روزسکول جاتے ہوئے اس کی دکان کے سامنے سے گزر تی تھی۔  مزے کی بات یہ کہ یہ نام بِلّے نے خود ہی  اس حسینہ کو الاٹ کیا  تھا کہ اس کے اصل نام کا پتہ اس کے فرشتوں کو بھی نہیں تھا اور شاژیہ ، بلِّے کا پسندیدہ نام تھا۔ وہ دور نہایت پسماندہ تھا جب انٹرٹینمنٹ کے نام پر چاچا جی صبح پانچ منٹ کے کارٹون دکھا کے ٹرخا دیا کرتے تھے۔ موبائل فون اور ایس ایم ایس اور ایمیلز  جیسی انٹرٹینمنٹ صرف جیمز بانڈ کی فلموں میں ہی نظر آتی تھی۔ لہذا حسینوں سے رابطہ صرف خط اور خواب میں ہی ہوسکتا تھا۔ 
روزانہ شام کو جب تھڑے پر ہماری محفل مخولیہ جمتی  تو بِلّا ہر بات کو موڑ کر شاژیہ کے ذکر کی طرف ہی لے جاتا تھا ۔ پائین، اج او میرے ول ویخ کے ہسّی سی۔ اج اونہے مینوں سلام کیتا سی۔ اج بڑی سوہنی لگ رئی سی۔ یہ تین باتیں  وہ بلاناغہ ترتیب بدل کے بیانتا تھا۔ ہم اپنی فطرت سے مجبور اس کو ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ بِلاّجی ، شاژیہ کو آپ سے بھائی والی محبت ہے ، غلط خیال نہ لایا کریں۔ اس پر بِلاّ شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پانچ منٹ کے لیے  واک آوٹ کرجا تا اور واپس آنے پر اس کے چہرے پر وہی گونگی والی مسکراہٹ ہوتی تھی۔ 
سردیوں کے ایک خوشگوار جمعے کو ہمارا اسلامیہ کالج کی گراونڈ میں میچ تھا۔ بِلاّ بضد تھا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ جائے گا۔ ہم نے بہتیرا سمجھایا کہ شام ہوجائے گی میچ ختم ہوتے، تو نے اتنی دیر کیا کرنا وہاں۔ لیکن وہ بِلاّ ہی کیا جو کسی کی بات سن لے۔  بہرحال  ہم وہاں پہنچے۔ ٹاس ہارنے کے بعد حسب معمول ہمیں بالنگ کرنی پڑی۔ خوب پھینٹی لگی ۔ اوورز ختم ہوئے تو لنچ اور جمعہ کی نماز سے فارغ ہوکے ہماری باری شروع ہوئی۔ ہم اپنے تئیں نہایت عظیم بلّے باز تھے  لیکن ہمارے کپتان کی نظر میں ہم صرف بالر ہی تھے اور بیٹنگ کی صلاحیت ہم میں اتنی ہی تھی جتنی تنویر احمد میں بالنگ کی ہے۔ لہذا ہم کافی دیر کے لیے فارغ تھے ۔  بِلاّ، میں اور ہمارا لنگوٹیا تینوں گراونڈ کے پرسکون سے گوشے میں جاکے بیٹھ گئے ۔ زبیر نے سگریٹ سلگا لیا اور اپنی پھینٹی کا غم غلط کرنے لگا، ہماری بدقسمتی یہ رہی کہ آج تک ہمیں غم غلط کرنے کا کوئی ذریعہ ہی پسند نہیں آیا  لہذا ساری تلخی آج تک ہمارے اندر ہی ہے جو وقتا فوقتا باہر نکلتی رہتی ہے۔  زبیر نے دو کش ہی لیے ہوں گے کہ بِلّے نے سگریٹ جھپٹا اور  گھاس پر پلسیٹے مار کر دھوئیں نکالنے لگا۔ زبیر نے اسے مناسب مغلظات سے نوا ز کر نیا سگریٹ سلگایا اور دوبارہ غم غلط کرنے کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں سے ٹوٹا تھا۔ لیٹے لیٹے سگریٹ پیتے ہوئے ، بِلّے کے ذہن میں پتہ نہیں کیا آیا کہ رومانوی قسم کی خود کلامیاں کرنے لگا۔۔۔"شاژیہ، تینوں کیہ پتہ میں تینوں کنّاں پیار کرداں،    تینوں کیہ پتہ تیرا   پراء تینوں کنّاں یاد کردا"۔۔۔۔ ہمارے قہقہوں کی آوازیں اتنی بلند تھیں کہ پچ پر موجود ہمارے کپتان جی جو بنفس نفیس اوپننگ کے لیے تشریف لےگئے تھے، ان کی توجہ بھی ہماری طرف مبذول ہوگئی کہ ان کمینوں نے کونسا زعفران کا کھیت دیکھ لیا ہے۔
 بس اس دن کے بعد بِلاّ اگر کسی کے منہ سے  شاژیہ کا نام بھی سن لیتا تھا تو  پتھر لے کے اس کے پیچھے بھاگتا تھا۔ یہ مت پوچھیے کہ کیوں۔۔  اور یہ بھی مت پوچھیے کہ محلے کے سارے بچّوں کو شاژیہ کا نام کس نے سکھایا تھا۔ 

انسپشن ":ڈ"


میرے خیال میں تو کسی بھی غیر معمولی کتاب یا فلم کو جانچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ دوبارہ پڑھنے اور دیکھنے پر وہ کتاب یا فلم آپ کو مجبور کرتی ہے یا نہیں۔ کرسٹوفر نولان کی جتنی فلمیں میں نے دیکھی ہیں ان سب میں یہ خاصیت بدرجہ اتّم موجود ہے۔ بلکہ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ اس کی فلموں کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ایک دفعہ دیکھنا میرے لیے کافی نہیں ہوتا سوائے "ڈارک نائٹ" کے۔ لیکن اس کو بھی "جوکر" کے لیے بار بار دیکھنا پڑا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
سائنس فکشن فلموں سے مجھے کبھی رغبت نہیں رہی۔ ٹرانسفارمرز نے چاہے اربوں ڈالرز کما لیے ہوں لیکن میرے لیے ایسی فلمیں ٹکے کی نہیں ہوتیں۔ انسپشن بارے جب پہلی دفعہ سنا تو اس کے ساتھ لگے ہوئے سائنس فکشن کے دم چھلّے کی وجہ سے مجھے مایوسی سی ہوئی کہ یہ نولان میاں کس طرف نکل گئے۔ بہرحال "کَوڑا گھُٹ" کرکے انسپشن کو دیکھنے کا ارادہ کیا۔ اگر میں نے اس دفعہ میٹرک کے امتحان دینے ہوتے تو اردو "ب" کے پرچے میں "سحر زدہ کرنا" کا جملہ بنانا میرے لیے بہت آسان ہوجاتا۔ یہ فلم اور سب کچھ ہوسکتی ہے لیکن نام نہاد سائنس فکشن زمرے میں اسے شامل نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اسی کسی بھی متعین زمرے میں ڈالنا اس فلم کے ساتھ زیادتی ہے۔
فلم کی کہانی ایک خوابی چور کے گرد گھومتی ہے جو لوگوں کے ذہن میں ان کے خوابوں کے ذریعے داخل ہوکر ان کے راز چراتا ہے۔ کہانی کے بارے میں کچھ اور بتانا فلم کے مزے کو پھسپھسا کرسکتا ہے لہذا اسی پر اکتفا کریں اور کم از کم ایک بار فلم ضرور دیکھیں۔ دوسری ، تیسری اور چوتھی بار یہ فلم آپ کو خود ہی دکھوا لے گی۔
فلم کے ہدایتکار بارے تو آپ کو پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ کرسٹوفر نولان ہے۔ فلم کے مصنف بھی یہی حضرت ہیں۔ یار، بندے کو اتنا ٹیلنٹڈ بھی نہیں ہونا چاہیے!
مرکزی کردار لیونارڈو ڈی کپریو نے نبھایا ہے۔ ڈیپارٹڈ اور شٹر آئیلینڈ کے بعد اس فلم میں ڈی کپریو کی پرفارمنس نے ثابت کردیا ہے کہ وہ اس دور کا رابرٹ ڈی نیرو ہے بلکہ میری رائے میں تو اس سے بھی بہتر ہے۔ ٹائی ٹینک کے پپّو بچّے سے کم از کم مجھے تو یہ امید کبھی نہیں تھی کہ وہ اتنی منجھی ہوئی، پیچیدہ اور "مردانہ" قسم کی پرفارمنس دے سکتا ہے۔ فلم کے دوسرے اہم اداکاروں میں جوزف گورڈن لیوٹ، ایلن پیج، ٹام ہارڈی،مائیکل کین، میرین کوٹلرڈ وغیرہ شامل ہیں۔ جوزف گورڈن لیوٹ کو اس سے پہلے میں نے، ۵۰۰ڈیزآف سمر، میں دیکھا تھا۔ اور اس کی اداکاری کا قائل ہوا تھا۔ اس فلم میں اس نے ثابت کیا کہ میں غلط نہیں تھا۔ ٹام ہارڈی اور ایلن پیج کی کارکردگی بھی درجہ اول (بناسپتی نہیں) کی ہے۔
اب میرا کہنا مانیں اور اس ریویو کا پیچھا چھوڑ کر اس فلم کو دیکھنے کا بندوبست کریں۔ اب تک آپ کو پتہ تو چل ہی گیا ہوگا کہ میری تجویز کردہ فلمیں بری چاہے ہوں، بور نہیں ہوتیں۔

میں جو اک برباد ہوں، آباد رکھتا ہے مجھے

عیدمیلاد النبی کی ایک بہت پرانی سی یاد ہے جس میں ایک چھوٹا سا بچہ یہی کوئی چھ سات برس کا، عربی لباس پہنے، اپنے ابّا کی انگلی تھامے کسی مذہبی محفل میں شریک ہے ۔ اس نامانوس اور نئے لباس کیوجہ سے  خوشی اور محفل کی طوالت کی وجہ سے بوریت کا ملاجلا احساس بھی اس کے چہرے سے عیاں ہے۔  محفل کے اختتام پر ابّا کے ساتھ واپسی کے سفر میں وہ سجے سجائے ٹرک، جن پر مساجد کے ماڈلز بنے ہوئے ہیں، اونٹ گاڑیاں، بسیں  اور ان پر انسانوں کے ہجوم کو حیرانی سے دیکھتا ہے۔ اسی حیرانی میں سے بہت سے سوال برآمد ہوتے ہیں جو وہ بار بار اپنے ابّا سے پوچھتا ہے۔ ان میں سے کچھ جوابات تو اس کی سمجھ میں آتے ہیں اور کچھ باوجود کوشش کے وہ سمجھ نہیں پاتا۔
یہ بچّہ، مابدولت ہیں۔
ہوش سنبھالنے پر اس تہوار کی غایت بھی پتہ چلی۔ عید میلاد النبی کے جلوس کے ساتھ جانے کی لیکن کبھی اجازت نہ مل سکی۔ اگرچہ ہمارا یار سُودی ہمیں ہر دفعہ ترغیب دلاتا کہ " چل تے سہی، بڑا مزا آندا ای، گٹ آلے جاواں گے ٹرک تے، نہر اچ ناہواں گے،  حلیم، کلچے، حلوہ، چاول ۔۔۔ فل عیاشیاں باوے"۔لیکن  ہمارے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ امّاں کی نظر سے دور رہنے کا طویل ترین وقفہ جو ہمیں میسر تھا ، وہ پندرہ منٹ سے زیادہ کبھی نہیں بڑھ سکا۔ ہر پندرہ منٹ کے بعد انہیں یہ بتانا ضروری ہو تا تھا کہ پچھلے پندرہ منٹ میں کہا ں تھا اور کیوں تھا۔ اور چونکہ میلادالنبی کی چھٹی کی وجہ سے ابّا بھی گھر پر ہوتے تھے تو ان کی موجودگی میں تو ایسا کوئی ایڈونچر کرنا  ممکنات میں سے نہیں تھا۔  ہمارے ابّا کا کہنا تھا کہ ان جلوسوںمیں لفنگے لونڈے لپاڑے جاتے ہیں جن کا مقصد ہلّڑ بازی کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ اور اس متبرک دن کے لحاظ سے یہ حرکات انہیں سخت ناپسند تھیں اور وہ اپنے سخت غصے کا اظہار یہ کہہ کرکرتے تھے کہ "گدھے ہیں یہ سب"۔ شدید ترین غصّے کے علاوہ یہ لفظ وہ کبھی نہیں بولتے تھے۔ لہذا ان جلوسوں میں جانا تو دور کی بات ، اپنی گلی کی نکڑ پر کھڑے ہو کر ان سجے ہوئے ٹرکوں کو دیکھنا بھی کافی مشکل ہوتا تھا۔
ہمیں یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ کسی مذہبی محفل میں شریک ہونے کا ہمیں کبھی کوئی اشتیاق نہیں رہا۔ نہ ہی کبھی کوئی رقّت وغیرہ طاری ہوئی۔ اور ہمیں بڑی حیرانی ہوتی تھی جب ٹی وی پر کبھی اعظم چشتی کی پنجابی نعت چلتی تھی تو ابّا سر نیچے کرکے سنتے رہتے تھے اور ختم ہونے پر اپنے  رومال سے منہ صاف کرکے  ہی سر اوپر اٹھاتے تھے۔  میلا د شریف محفل میں جب بھی سلام پڑھنا شروع کیا جاتا تھا تو اپنی امّاں کی ہچکیوں کی آواز سن کر ہم خود بھی کسی کونے کھدرے میں چھپ کر رونا شروع کردیتے تھے۔
ماں کو روتے دیکھنا بہت مشکل ہوتا ہے جی۔
استاد خالد کا تذکرہ ہم دو تین دفعہ کرچکے ہیں ۔ استاد کی ایک خا ص ادا جو اب ہمیں یاد آتی ہے کہ اس وقت تو کبھی ایسی باتوں پر غور ہی نہیں کیا تھا ۔ استاد محلے کی مسجد یا کسی بھی جگہ ہونے والی محفل نعت میں بن بلائے پہنچ جاتے تھے۔ عام طور پر استادکا حلیہ ابتر ہوتا تھا  کپڑے میلے کچیلے، شیوبڑھی  ہوئی ، بال بکھرے ہوئے ۔ یہ ان کے کام کی وجہ سے بھی تھا۔ سارا دن لوہے سے ہاتھ پنجہ کرکے بندہ باؤ بن کے تو نہیں رہ سکتا۔ لیکن جب بھی کسی محفل میں جانا ہوتا تو استاد بہترین سفید کپڑے پہن کے ، شیو کرکے، سر پر رومال باندھ کے جاتے تھے۔  استاد کی آواز ایسی تھی کہ بلا شبہ ایسی نعت پڑھتے ہوئے کم ہی لوگوں کو سنا ہے ۔  نعت پڑھتے ہوئے استاد کی آنکھوں سے زارو قطار آنسو جاری ہوجاتے ۔  روپوں  کا ڈھیر ان کے سامنے اکٹھا ہوجاتا تھا پر استاد نے کبھی ان پیسوں کی طرف آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھا۔ یہ ہمیں ذاتی طور پر علم ہے۔ استاد نعت پڑھتے اور خاموشی سے نکل آتے ۔ مذہبی محافل کے اختتام پر جو خوردونوش کا بندوبست ہوتا ہے، اور جس کے لیے سامعین کی اکثریت آخر تک بیٹھی رہتی ہے، استاد نے وہاں سے کبھی پانی کا گلاس تک نہیں پیا ۔
اب آکے یہ باتیں سمجھ میں آئی  ہیں۔ یہ عشق کا معاملہ ہے۔ محبت کا۔ اس ہستیﷺسے محبت کا جو رب کی محبوب ہے۔  کچھ عرصہ قبل نماز جمعہ کے لیے مسجد میں بیٹھے ، اذان سنتے ہوئے ، جب موذن،  اشہد ان محمد الرسول اللہ،  تک پہنچا تو خدا معلوم اندر کا کونسا قفل کھلا کہ بندہ بے حال ہوگیا، تب پتہ چلا کہ ابّا سر جھکاکے نعت کیوں سنتے  تھے، امّاں کی ہچکیاں کیوں بندھ جاتی تھیں، استاد خالد جو جمعہ کی نماز کے علاوہ کبھی مسجد میں نظر نہیں آتا تھا، وہ نعت پڑھتے ہوئے  کیوں زارو قطار رونے لگتا تھا۔
مذہب سے ہمارا لگاؤ کوئی بہت جانثار قسم کا نہیں ہے۔ نہ ہی ہم کوئی مفتی  یا علامہ ہیں۔ لیکن کبھی کبھار سوچتے ہیں کہ کیا مذہب کی ہر علامت کو کاروبار بنا لینا  جائز ہے؟ کیا  عام آدمی کے مذہبی جذبات کو فروخت کرنا جائز ہے؟  استاد خالد جیسے نعت پڑھنے والے  اور ڈولبی سراونڈ ساونڈ اور پورے ٹشن کے ساتھ کمرشل نعت خوانی  میں کوئی فرق نہیں؟ کیا اس  محبت کی علامت کو دنیا کمانے کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟ 

گھونسہ


یہ سیلف میڈ علامہ ہیں۔ یہ چھوٹے سے تھے تو ان کے ابّا مسلم آبادی کی کوششوں میں اتنے مصروف رہے کہ ان کی تعلیم و تربیّت پر توجہ نہ دے سکے۔ یہ سیلف ایجوکیٹڈ اور سیلف ٹرینڈ بندے ہیں۔ یہ دس سال کے تھے تو انہوں نے نام کے ساتھ مولانا لگانا شروع کیا۔ بارہ سال کی عمر میں پپّو، چودہ سال کی عمر میں فخر پتّوکِی اور سولہ سال کی عمرمیں یہ بحرالعلوم بن چکے تھے۔  سترہ سال کی عمر میں انہیں خواب آنے شروع ہوئے ۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ شاید یہ خواب "وہ" والے ہوں جب صبح  صبح اٹھ کے سب سے پہلا کام نہانے کا کرنا پڑتا ہے تو آپ کی سوچ نہایت غلط ہے۔ اس عمر میں انہیں بشارت والے خواب آنے لگے۔ یہاں بشارت سے مراد گڈ نیوز  ہے،  بشارت لالہ ، بنّوں والے نہیں۔  یہ بَلا کے سپیکر ہیں۔ غسل جنابت پر اڑتالیس اڑتالیس گھنٹے سپیچ دے سکتے ہیں۔ ایک دفعہ انہوں نے ختنوں کی اہمیت پر تقریر کرتے ہوئے ان کی اتنی فضیلت بیان کی کہ ان کے  فالوورز دوبارہ ختنے کرانے پر تیار ہوگئے۔ ان کی زبان میں جادو ہے، اسی لیے ان کے بچپن کے دوست انہیں سامری جادوگر کہہ کر چھیڑتے تھے۔  جبکہ ایک دو بے تکلف دوست تو انہیں چِٹّی چُوئی بھی کہتے تھے۔ علامہ صاحب کی اعلی ظرفی ملاحظہ کریں ، ان کے کردار کی بلندی کی داد دیں ان کی برداشت اور حوصلہ کو اپریشئیٹ کریں کہ  دوبارہ ساری زندگی انہوں نے ایسے چِیپ چیپس  کو منہ نہیں لگایا۔
یہ بیس سال کی عمر میں پتّوکِی سے مائگریٹ کرکے لاہور تشریف لے آئے۔ آپ ان کی ڈویلپمنٹ کو دیکھ لیں۔  پتّوکِی سے لاہور تک کا سفر انہوں نے اتنی جلدی طے کیا کہ اتنی جلدی تو ٹانگہ داتا دربار سے موچی گیٹ  تک نہیں پہنچ سکتا۔لاہور میں آپ کے جوہر ایسے کھلے کہ اب تک بند نہیں ہوئے۔ کشمیری کھانوں سے فرشتوں تک آپ نے ہر لاہوری چیز خوب "ہنڈائی"۔  اسی عرصہ میں بشارتی خوابوں کا بھی زور رہا۔  حاسدین اگرچہ ان خوابوں کو  فرائڈ فش، مٹن کڑاہی، چکن تکہ، ملائی بوٹی، ہریسہ، پھجے کے پاوے اور نرالا کے گاجر کے حلوے کے سائڈ افیکٹ قرار دیتے ہیں۔  جب کہ کچھ بدزبان تو کسی شربت وغیرہ کا نام بھی لیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
یہ لاہور میں آکے علاّمہ بھی ہوگئے۔  آپ ان کی ہمت دیکھیں، یہ علم کو اپنی لونڈی بنالیتے ہیں اور اس سے وہی سلوک کرتے ہیں جو عرب اپنی لونڈیوں سے کیا کرتے تھے۔  یہ ایک کالج میں لیکچرر بھی رہے۔ اگرچہ ان کے علم کے ساتھ برتاو کو دیکھتے ہوئے انہیں پروفیسری پر پروموٹ کرنا چاہیے تھا لیکن یہاں پر بھی حاسدین کی وجہ سے یہ پروفیسر نہ بن سکے۔ اس کی کسر انہوں نے خود اپنے نام کے ساتھ پروفیسر لگا کر پوری کردی۔ یہ بُلّھڑ یونیورسٹی سے بھی آگے نکل گئے ۔ یہ  دوسروں کو ڈگریاں دینے کی بجائے اپنے آپ کو ہی ڈگریاں ایوارڈ کرنےلگے۔  آپ دیکھیں  کہ ایسی ایگزامپل ، ہیومن ہسٹری میں تلاش کرنے پر بھی نہیں مل سکتی۔ یہ ٹُرولی ایک گریٹ ریلیجئیس، سپرچوئیل ، ایجوکیشنل اینڈ ریکریئشنل لیڈر ہیں۔  ان کے وژن کا اندازہ لگانا  مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ، جیسے ڈان کو پکڑنا ناممکن ہے۔
یہ چندہ جمع کرنے میں ایکسپرٹ ہیں۔ کچھ لوگ   کہتے ہیں کہ چندا قابو کرنے میں بھی بہت ماہر ہیں لیکن یہ سنی سنائی باتیں ہیں جو ہر کامیاب بندے کے خلاف کی ہی جاتی ہیں۔ لوگ چندے جمع کرکے ایک آدھ مسجد مدرسہ بنالیتے ہیں، یہ ایک پوری ایمپائر کھڑی کرچکے ہیں اور ابھی بھی غریبوں کے زیور اور جائیدادیں بکوا کے اس پیسے سے "ماس پکنک " مناتے ہیں۔   یہ اپنے علم ، تجربے ، ریسرچ پر سانپ بن کر نہیں بیٹھتے بلکہ مناسب نرخوں پر کسی کو بھی اپنی سروسز پروائڈ کرنے پر ہر لحظہ ہر آن ، تیار رہتے ہیں۔ آپ ان سے امریکہ کے خلاف جلوس نکلوالیں، آپ ان سے عزازیل کی حمایت میں ریلی برپا کروالیں، آپ مناسب قیمت لگائیں تو  یہ اپنے خلاف بھی دس گھنٹے تقریر کرسکتے ہیں۔ یہ خود کو فرعون، یزید، نمرود، کمینہ، رذیل قرار دے سکتے ہیں۔  آپ اندازہ لگائیں، کیا پاکستان کے کسی لیڈر میں اتنی ہمت ہے؟ یہ اس دور کے سقراط ہیں، فرق صرف اتناہے کہ یہ زہر کی بجائے کالے چُوچے کی یخنی زہر مار کرتے ہیں۔
  ہر گریٹ پرسنیلٹی کی طرح انہوں نے بھی ینگ ایج میں بہت نام کمالیاتھا۔ آپ ان کی ریسرچ کو دیکھ لیں ۔آپ ان کی رائٹ کی ہوئی بُکس کی تعداد پر نظر ماریں۔ آپ حیران رہ جائیں گے، آپ کے تراہ نکل جائیں گے۔ آپ سراسیمہ ہوجائیں گے۔ آپ کے ہاتھوں کے کوّے اڑ جائیں گے۔ یہ ایک ایسے آتھر ہیں جو اب تک دس ہزار بُکس لکھ چکے ہیں۔ یہ ڈاکٹر بھی ہیں۔ کمپوڈر بھی۔ انجینئر بھی ہیں اور اور اوور سئیر بھی۔ یہ پریچر بھی ہیں اور پھٹیچر بھی۔  یہ ریفارمر بھی ہیں اور پرفارمر بھی۔ طارق جمیل بھی ہیں اور نادیہ جمیل بھی۔  ایسی کلرفل پرسنیلٹی صرف چارلی چپلن اور ہٹلر کو مکس کرکے ہی تیار کی جاسکتی تھی جو کہ ہماری خوش قسمتی سے ہمیں مفت میں ہی میسر آگئی ہے۔ اس پر ہم خدا کے جتنے بھی تھینک فل ہوں ،  کم ہے۔ گاڈ بلیس علاّمہ صاب۔

کرک نامہ


ابو شامل ہمارے بزرگ ہیں۔
یہ سمجھ لیا جائے کہ بزرگی کا تعلق عمر وغیرہ سے نہیں ہوتا،اعمال سے ہوتا ہے۔ اردو بلاگرز میں ان کامقام وہی ہے جو پھلوں میں آم کا ، سبزیوں میں کریلے کا اور کاروں میں مرسیڈیز کا ہے۔ ہم جب بلاگنگ میں نئے نئے تشریفے تھے تو ان کا بلاگ وہ واحد جگہ تھی جہاں ہم حدّادب ملحوظ رکھتے تھے۔ جو احباب ہمیں بہت دیر سے جانتے ہیں وہ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ بات ابوشامل کے لیے کتنی بڑی سعادت ہے۔  خیر مذاق بہت ہوچکا۔ اب ذرا کچھ سنجیدہ بات کرلی جائے۔
شاید دوسال پہلے کرک نامہ کا اجراء ہوا تھا۔ کرکٹ ہماری بچپن کی محبت ہے۔  کھیلنے سے لے کر دیکھنے اور پھر پڑھنے تک ، کرکٹ سے ہمیں ایسا لگاو تھا کہ شاید میاں مجنوں کو آنٹی لیلی سے بھی نہیں ہوگا۔ شاید چوتھی یا پانچویں جماعت سے اخبار وطن اور کرکٹر جیسے جرائد "دیکھنے" شروع کردئیے تھے ، پڑھنے چھٹی جماعت کے بعد سے شروع کیے۔ آہستہ آہستہ اخبار وطن تو اخبار منیر حسین بنتا گیا اور اسی وجہ سے اس سے ہماری دلچسپی ختم ہوتی گئی البتہ کرکٹر سے ہمارا عشق اس وقت تک باقی رہا جب تک عمران خان کرکٹ کھیلتے رہے۔ کرکٹر کے پرانے شماروں سے بھرا ہوا ایک صندوق شاید اب بھی کہیں سٹور وغیرہ میں پڑا ہوا۔  اس تمہید سے یہ بتانا مقصود ہے کہ کرک نامہ کے اجراء سے ہمیں یوں محسوس ہوا کہ جیسے یہ سب بانداز دگر دوبارہ شروع ہوگیا ہے اور ہم اس پر نہایت خوش  تھے۔  
آج دوسال بعد کرک نامہ کو دیکھ کر شاید ہمیں ابوشامل  سے زیادہ خوشی ہورہی ہے ۔ محنتی بندے تو وہ ہیں ہی، کمٹڈ بھی ہیں۔ ہماری طرح بس یاویاں نہیں مارتے، کام کرتے ہیں اور دل لگا کے کرتے ہیں۔ اس محنت اور کمٹ منٹ کا ایک ثبوت کرک نامہ کی صورت میں سب کے سامنے ہے ۔  ہماری بڑی خواہش تھی کہ ہم بھی کرک نامہ کے لیے کچھ لکھتے لیکن چونکہ ہم اکثر حدود پھلانگ جاتے ہیں اور وہ باتیں بھی کہہ جاتے ہیں جو طبع نازک پر گراں گزرتی ہیں لہذا ہم نے  قصدا اس سے گریز کیا۔
ماہنامہ کرکٹر میں بہت پہلے آخری صفحات میں کوئی ذوالقرنین حیدر مزاحیہ کہانی لکھاکرتے تھے جن میں مرکزی کردار کرکٹر ہوتے تھے۔ بہت سال گزرنے کے باوجود وہ کہانیاں آج بھی ہمیں یاد ہیں۔ تجاویز دینے کے اگرچہ ہم سخت خلاف ہیں کہ ہر بندہ اپنے کام کو بہتر جانتا ہے لیکن ہم یہ ضرور کہنا چاہیں گے کہ اس طرح کا کوئی سلسلہ کرک نامہ پر بھی شروع کیا جائے تو بہت سپر ہٹ ہوسکتا ہے۔
آخر میں ابوشامل اور کرک نامہ کی ٹیم  کو بہت بہت شاباش۔  زبردست کام کیا آپ سب نے۔ دلی مبارکباد اور مزید ترقی کے لیے پرخلوص دعائیں۔

ڈی ایمی پُونڈ


آپ ٹوئٹر کو دیکھ لیں۔ دنیا میں پُونڈی کرنا ایک بنیادی انسانی حق ہے لیکن ہمارے بیک ورڈ  اور کنزرویٹو ماحول میں اس کو نہایت معیوب سمجھا جاتا ہے الاّ یہ کہ آپ خود کررہے ہوں۔لوگ آپ کو ٹھرکی کہتے ہیں۔ عیّاش اور پلے بوائے سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ نہایت افسوسناک صورتحال ہے۔ انسانی حقوق کی وائلیشن ہے۔ لیکن یہ چیز بھی گوروں نے سارٹ آوٹ کرلی ہے۔
اب، آپ ٹوئٹر کو دیکھ لیں۔ گوروں نے کیا کمال کی انوینشن کی ہے۔ آپ جتنے بھی عظیم پُونڈ ہوں۔ آپ شدید ٹھرکی ہوں۔ آپ کی آنکھیں گھور گھور کے گھُورا بن چکی ہوں، آپ کا چہرہ بگیاڑ جیسا ہوچکا ہو۔ آپ کے زائد بال بھی سفید ہونے شروع ہوگئے ہوں، ان سب کے  باوجود بھی آپ یہاں ود آوٹ اینی فِئیر پُونڈی کرسکتے ہیں۔ اپنے ہمسائے کے کالج جاتے بچے کی تصویر کھینچ کے ڈی پی لگا سکتے ہیں۔ خود کو چھیانوے کی پیدائش ظاہر کرکے بچیوں اور آنٹیوں کے دلوں میں بیک وقت آتش شوق بھڑکا سکتے ہیں۔ ماش کی دال کھا کے بھی کے ایف سی کے ڈکار مار سکتے ہیں۔ ڈرائیور ہوٹل کی دودھ پتّی پی کے گلوریا جین کی کافی کی شو مار سکتے ہیں۔ لنڈے کے کوٹ کو ارمانی کا بتا سکتے ہیں۔ چائنا کے آئی فون کو سٹیو جابز پر ڈال سکتے ہیں۔ بیس روپے کی عینک کو رے بان کہہ سکتے ہیں۔ کے ٹو فلٹرکو مارلبرو کی ڈبّی میں ڈال کر ڈی پی والی فوٹو میں واضح کرسکتے ہیں۔ ملوک کھا کے سٹرابیری ود کریم کھانے کی ٹویٹ کرسکتے ہیں۔ ابلی ہوئی چھلّی کھا کے چکن تکّے  کی فوٹو ٹکا سکتے ہیں ۔  کامونکی جانے پر ہوائی جانے کی ہوائی اڑا سکتے ہیں۔ کسی ماما کے برگر یا پاپا  کی جلفریزی  کی جرات نہیں ہوسکتی کہ آپ کو چیلنج کرسکے۔
اس کے علاوہ آپ چاہے ساتویں جماعت سے بھاگے ہوئے ہوں، اپنے نام کے ہجّے سوچنے میں آپ کو سات منٹ لگ جاتے ہوں، اردو کو  اُڑدو کہتے ہوں۔ شیشی بھری گلاب کی پتھر پہ توڑ دوں ۔۔ کو شاعری کی معراج سمجھتے ہوں پھر بھی آپ ایک سخن فہم ، ادب نواز ،  شاعری کا مثالی ذوق رکھنے والے نفیس انسان کے طور پر بچیوں اور بچیوں کی اماوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ بابا گوگل سائیں سرکار پر سرچ ماریں اور شاعری کی تین چار سائٹیں بک مارک کرکے رکھ لیں۔  اب ایک مشکل اور پیش آسکتی ہے کہ آپ کو اردو میں ٹائپ کرنا نہیں آتا،  تو ایسی سائٹیں سرچیں جن پر یونی کوڈ میں شاعری موجود ہو۔ بس اس کے آگے منزل آسان ہے۔ روزانہ کسی نہ کسی شاعر کو سدّھا کرلیں اور دے مار ساڈے چار۔ کاپی پیسٹ کرکے دھڑا دھڑ  شعر ٹویٹنے شروع کردیں۔  آپ دیکھیں گے کہ آپ کا پیچھا کرنے والوں میں زنانہ آئی ڈیوں کی کثرت ہوجائے گی۔ کوشش کریں کہ شعر انتہائی دردیلے ہوں اور چیزی ہوں۔  آپ خوش ہوجائیں گے۔ آپ کے من کی مراد پوری ہوجائے گی۔ بچیاں آپ کو دھڑا دھڑ فیورٹ اور ری ٹویٹ کرنے لگیں گی۔ آپ کی چوّلوں پر بھی ہی ہی ہی کرنے لگیں گی۔ زیادہ تھُڑی ہوئی آنٹیاں آپ کو ڈی ایم نامی ویپن آف ماس پوُنڈی کے ذریعے بھی لُبھانے لگیں گی۔آپ کی زندگی میں رنگ بھر جائیں گے ۔ آپ خود کو  شاہ رخ خان اور جانی لیور کا مرکب سمجھنے لگیں گے۔ آپ کا سیلف کانفیڈنس آسمان کو چھونے لگے لگا۔ یہ سب آسانیاں اور سہولتیں  ہیومن ریس کو کس نے دیں؟ گوروں نے۔ ورنہ  یہ آسانیاں اور موجیں اس پسماندہ سوچ والے قدیم ملک میں کون پرووائڈ کرسکتا ہے؟
آپ خود کو دانشور بھی کہلوانا چاہتے ہوں اور ساتھ ہی ساتھ پُونڈی کے مزے بھی لینا چاہتے ہوں تو یہ کام بھی کوئی اتنا ڈفیکلٹ نہیں ہے ۔ سیدھی سادی باتو ں کو مشکل الفاظ میں بیانیں اور ٹویٹ دیں۔ لوگ آپ پر ٹوٹے پڑیں گے۔ آپ کو شوپنہار، کنفیوشس، سارتر، برٹرینڈ رسل  کے پائے یا سری کا فلسفی اور دانشور سمجھنے لگیں گے۔  اس ریپوٹیشن کے ساتھ آپ سرعام پُونڈی کرتے نہایت چیپ اور غلیظ لگیں گے۔ لہذا آپ کو چاہیے کہ آپ ڈی ایم کا سہار ا لیں۔ جس خاتونہ کی ڈی پی پر آپ کا دل آئے اس کو بے دھڑک ڈی ایم میں جو دل چاہے میسج بھیجیں۔ یہاں کسی کا بھائی، بیٹا، ابا، شوہر یا عاشق آپ کی پھینٹی نہیں لگا سکتا ۔
 یہی ٹوئٹر کی خوبصورتی ہے۔ 

رنگ گورا کرنے کے طریقے


رنگ گورا کرنے کی جدوجہد میں اس خطّے کے مکین ازمنہ قدیم سے  مصروف ہیں۔ کرتوت چاہے شب دیجور جیسی ہو،  رنگ البتہ عمران خان جیسا ہونا چاہیے۔ حالانکہ اس سے دس فیصد جدوجہد بھی کرتوت چٹّے کرنے کے لیے ہوجاتی تو بیڑے پار ہوجانے تھے۔ بہرحال سانوں کیہ۔ ہم تو اس سلسلے میں چند ٹوٹکے  آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ گر قبول افتد۔۔۔
سب سے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ آپ کسی انگریز، بٹ ، شیخ یا  پٹھان کے گھر پیدا ہوجائیں۔  ویسے تو بٹ بھی آج کل کافی ڈارک براون آرہے ہیں  لیکن اس کی وجہ ملاوٹ سے زیادہ آباو اجداد بدلنا ہے۔ جس کے حالات بدلیں سب سے پہلے وہ اپنے ابّے کو لوہار، موچی، نائی، ترکھان، جلُاہے سے رانا، بھّٹی، سیّد، بٹ ، شیخ وغیرہ بنادیتا ہے۔  ہمارے محلّے کے ایک بزرگ کہا کرتے تھے  کہ جو ڈارک براون بندہ خود کو بٹ یا شیخ کہے تو  یا تو اس کے نسب میں فرق ہوتا ہے یا کسب میں۔ خوش قسمتی سے گورا بچّہ پیدا ہوبھی جائے تو سارا کریڈٹ انگریزوں کو دینے کا رواج بھی ہے کہ   "انگریز  دا بچہ لگد  ااے "۔ اب اس پر اس بچّے کے ابےّ کے تاثرات ہمیں کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ حالانکہ یہ سیدھا سادھا  آنر کلنگ کا کیس بنتا ہے۔
ایک عام تاثّر یہ بھی ہے کہ دودھ وغیرہ پینے سے رنگ گورا ہوجاتا ہے یہ بالکل غلط تاثّر ہے۔ ایسی بات ہوتی تو سارے کٹّوں کا رنگ پولر بئیر جیسا ہوجاتا جو کہ نہیں ہوا لہذا اس فریب میں مت آئیے ۔ اس کی بجائے بغیر دودھ اور چینی کی کافی پیئں۔ امریکی پیتے ہیں اور ان کے رنگ تو آپ نے دیکھے ہوں گے کہ چٹّے سفید ہوتے ہیں۔  بس گرمیوں میں ذرا یرقان وغیرہ کا خطرہ ہوسکتا ہے لیکن رنگ گورا کرنے کے لیے اتنا رسک تو لیا ہی جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ رنگ چٹّا کرنے کے لیے آپ کو چاہیے کہ فلور مل میں کام شروع کردیں۔ ایک تو پیسے ملیں گے اور رنگ مفت میں گورا ۔ نہانے سے البتہ تین چار مہینے پرہیز کریں تا کہ رنگ "پکاّ" ہوجائے ۔ بارش وغیرہ میں گھومنے سے بھی پرہیز کریں۔ اس کے علاوہ آٹا  اگر مہنگا ہوجائے تو آپ اپنارنگ اتار کے اس  سے تین چار دن کی روٹیاں بھی پکاسکتے ہیں۔  کیونکہ ٹڈّھ نالوں گوڈے اگّے نئیں ہندے اور ہم خرما و ہم ثواب۔۔۔
یہ طریقہ خاص طور پر خواتین کے لیے ہے۔ تمام خواتین کو چاہیے کہ وہ بیوٹیشن بن جائیں۔ اور جرابیں پہن کے رکھا کریں ۔ اس کی مصلحت یہ ہے کہ  پیروں کا میک اپ کرنا اکثر کافی دشوار ہوتا ہے اور بھول چوک بھی ہوجاتی ہے ۔ ہم نے بیوٹی پارلر سے تیار ہوکے آئی خواتین کو جب  بھی ایک دن بعد دیکھا تو ان کی عمر اور رنگ میں دس  سال اور نوے فیصد کا فرق تھا۔ لہذا جب تمام خواتین ہی بیوٹیشن ہوں گی تو یہ فرق کبھی سامنے نہیں آسکے گا۔ بس وہ جرابوں والی احتیاط نہ بھولیں اور کچن وغیرہ میں جانے سے بھی حتی الامکان پرہیز  کریں۔
سب سے اہم بات آخر میں ہی بیانی جاتی ہے جیسے فلم کے کریڈٹس چل رہے ہوں تو سب سے اہم اداکار کا نام سب سےاخیر میں ہی دیا جاتا ہے جیسے ۔۔۔ اور  مصطفی قریشی۔۔۔  ایک "مِتھ" یہ بھی ہے کہ رنگ گورا کرنے والی کریمیں لگانے سے رنگ گورا ہوجاتاہے اور ہزاروں سال سے  معصوم مرد وزن  اس بات پر یقین کرکے ، منہ اور مختلف جگہوں پر یہ کریمیں رگڑ رگڑ کر رنگ چٹّا کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم آج اس عظیم راز سے پردہ اٹھانا چاہتے ہیں کہ کریم لگانے سے نہیں بلکہ کھانے سے رنگ گورا ہوتا ہے۔ لہذا صبح نہار منہ دو چمچ فئیر اینڈ لولی، دوپہر کو  کھانے کے بعد ایک چمچ پونڈز فئیرنیس کریم اور رات کو  بلیک کافی کے ساتھ کوئی بھی اچھی سی نائٹ کریم کا آدھا چمچ  کھانے سے آپ کا رنگ  افضال چٹّے سے بھی زیادہ چٹّا ہوجائے گا۔ آزمائش شرط ہے۔

سُودِی


 اس دنیا میں میرا سب سے پہلا دوست وہی  ہے۔
نام تو اس کا مقصود احمد ہے لیکن سوائے اپنےابّا کے، میں نےکبھی کسی کو یہ نام پکارتے نہیں سنا۔ وہ سب کے لیے سُودِی ہے۔  وہ  بیک وقت میرا تایا زاد  اور خالہ زاد ہے۔ شاید یہ اس دہرے رشتے کا اثر ہو پر یہ تو اس کے باقی بھائیوں کے ساتھ بھی ہے لیکن ان سے کبھی ایسی انسیت اور دوستی کا احساس نہیں ہوا۔ بہت سارے بہن بھائیوں میں اس کا نمبر کہیں درمیان میں ہے۔ زیادہ بچوں میں سوائے بڑے اور چھوٹے کے باقی سب شامل واجا ہوتے ہیں۔ وہ نہ ماں کے لاڈلے نہ باپ کے  نور نظر۔ نہ دادی کے پیارے اور نہ نانی کے۔ اکثر باپ ، سب سے بڑے کے واری صدقے ہوتے رہتے ہیں اور ماں ، سب سے چھوٹے کے اور بیچ کے بے چارے،  گواچی گاں کی طرح پل ول جاتے ہیں۔
سُودِ ی کی والدہ او ر ہماری تائی  اور خالہ میں بیک وقت ہٹلر اور ہلاکو کی ارواح مقدّسہ اکٹھی ہیں۔  مجھے پہلی دفعہ ان کو غصّے میں دیکھ کے پتہ چلا تھا کہ غصّہ حرام کیوں  ہے۔ ہمارے تایا جنت مکانی، سب سے بڑے تھے اور اسی وجہ سے ہماری دادی کے اتنے لاڈلے تھے کہ ہر روز صبح اپنے ویسپا سکوٹر پر غلام محمد آباد سے جھنگ بازار ماں کے ساتھ ناشتہ کرنے آتے تھے۔  بچپن میں جب ہمیں اللہ میاں سے ڈرایا جاتا تھا تو ننھے ذہن میں ہمیشہ تایا جی کا چہرہ ابھر تا تھا کہ ضرور اللہ میاں بھی ایسے ہی غصیلے اور رعب دار ہوں گے اور گندے بچّوں کو خوب ڈانٹتے ہوں گے۔ اسی عمر میں ہم یہ سوچا کرتے تھے کہ بڑی امی  یعنی ہماری دادی، تایا جی سے ڈرتی کیوں نہیں ہیں؟ حالانکہ وہ اتنے ڈراونے ہیں۔ وہ تو ہمیں بڑے ہونے پر پتہ چلا کہ وہ ان کی اماں تھیں۔  اور ماوں سے تو بڑے بڑے پھنّے خاں ڈر جاتے ہیں، تایا جی مرحوم کیا شے تھے۔
تو ذکر سُودِی کا ہورہا تھا۔ مجھے اور اسے ایک ہی سکول میں داخل کرایا گیا اور ذہنی ہم آہنگی کے باعث ہم دونوں کو ہی وہ سکول پسند نہیں آیا۔ پہلے ہی دن ہم دونوں کھڑکی سے کُود کے بھاگ گئے اور چھٹی تک سکول کے باہر چھپے رہے۔ وہ تو ہماری بڑی بہن جو تیسری یا چوتھی میں پڑھتی تھیں ، چھٹی کے وقت ہمیں گھیر گھار کر لے آئیں اور ہمارے پہلے ہی دن سکول سے پُھٹنے کا ماجرا بیان کیا۔ عام خیال یہی تھا کہ چونکہ پہلا دن تھا شاید اسی لیے بچے گھبرا گئے ہیں۔ اگلے دن ہمیں ایک کافی تنو مند مس سے چپیڑیں بھی کھانی پڑیں اور ہم جوکہ خاندان کے سب سے لاڈلے سپوت گنے جاتے تھے یہ سلوک برداشت نہ کرتے ہوئے پھر نظر بچاکر سُودِی سمیت فرار ہوگئے۔  لگاتار تین دن یہ حرکت کرنے پراباّجی سمجھ گئے کہ یہ یہاں نہیں پڑھیں گے تو اس کے بعد ہمیں ایک اور سکول میں داخل کرایا گیا۔ نئے سکول میں ہم جم گئے اور پانچویں تک دل لگا کر پڑھا۔ اس کے بعد ہمارے سکول بدل گئے۔ اور خاندانی تعلقات میں بھی بدلاو آگیا۔ لیکن ہم ملتے رہے۔ میٹرک کرنے کے بعد ہم  ایک ہی کالج میں گئے۔ تعلقات بحال ہوچکے تھے۔ لہذا اس سے پھر وہی بچپن والی دوستی بصورت دگر شروع ہوگئی جو ختم تو نہیں ہوئی تھی لیکن مدھم پڑ چکی تھی۔
کالج میں آکے میں نے دیکھا کہ سُودِی کچھ بدلتا جارہا ہے۔  بے چین رہنا ،  ہر وقت کسی نہ کسی سرگرمی میں خود کو الجھائے رکھنا، راتوں کو دیر تک گھومنا ، گھر جانے سے ہر ممکن حد تک بچنا۔  اس وقت تو سمجھ نہیں آئی  کہ ایسا کیوں تھا لیکن اب پتہ چلتا  کہ اس کی وجہ وہی تھی جو ہم نے اپنا تایا اور تائی کا ذکر کرتے ہوئے بیانی ہے۔ سُودِی نے سگریٹ نوشی بھی  شروع  کردی تھی ۔ لڑائی جھگڑوں میں آگے رہتا تھا، وہ دور بھی طلباء سیاست کے حوالے سے بہت ہنگامہ خیز تھا۔  ہر جماعت کے اپنے ٹیرر اسکواڈ تھے  اور سُودِی جماعتیوں کا" ون آف دی بیسٹ سولجر "بن چکا تھا۔ اپنی منحنی سی جسامت کے باوجود اس میں پتہ نہیں کونسا جن تھا کہ بڑے بڑے سُورمے اس سے ڈرتے تھے۔  
انہی دنوںکا قصہ ہے ۔ ایف ایس سی کے امتحان ہورہے تھے۔  پیر کوانگلش بی کا پرچہ تھا اور سُودِی اتوار والے دن گیارہ بجے میری طرف آیا۔ اور اپنے مخصوص انداز میں عینک کے اوپر سے جھانک کر بولا، "جعفر حسینا ، چل ،فلم ویکھن چلیے"۔  میں نے اس کو بہتیرا سمجھایا کہ یار کل پرچہ ہے۔ تو وہ کہنے لگا کہ اوئے تینوں کاہدی فکر؟ فکر تے مینوں ہونی چاہیدی اے۔ جنہیں کتاب کھول کے وی نئیں ویکھی۔ بہرحال اس دن ہم نے اے بی سی سینما میں "ریمبو" کی 'اوور دی ٹاپ" دیکھی۔ "ریمبو" اس کا پسندیدہ ترین اداکار تھا۔ اگرچہ بعد میں اس کی جگہ سلطان راہی نے لے لی تھی۔
  مجھے چونکہ سگریٹ  نوشی سے سخت "محبت "ہے تو اس کا  اورمیرا ساری زندگی جو جھگڑا رہا ، وہ فلم دیکھنے کے دوران سگریٹ پینے کا ہی ہوتا تھا۔  اس کے علاوہ مجھے یاد نہیں کہ کبھی زندگی میں ہمارا معمولی سا بھی اٹ کھڑکّا ہوا ہو۔ جو یقینا عجیب بات ہے کہ مجھے برداشت کرنا آسان کام نہیں ۔
ایف ایس سی کے بعد میں نے کالج بدل لیا۔ سُودِی سے ملاقاتیں کم ہونے لگیں۔ انہی دنوں اس کے بارے کچھ عجیب خبریں بھی سننے میں آنے لگیں۔  پھر پتہ چلا کہ اس نے نشہ کرنا شروع کردیا ہے۔  تین تین مہینے کے لیے گھر سے غائب رہنے لگا ہے۔ کبھی کسی کیس میں اندر اور کبھی کسی جھگڑے میں پھٹّڑ۔ پھر بھی جب کبھی اس سے ملاقات ہوتی تھی تو وہ وہی معصوم، بھلامانس اور بے ضرر سُودِی ہی لگتا تھا۔ مجھے اس میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی تھی۔ مجھے تو یہ بھی لگتا تھا کہ یہ نشہ کرنے والی باتیں بھی ایویں افواہیں ہی ہیں۔ کیونکہ اس کی حسِ ظرافت ویسے ہی برقرار تھی اور کسی بھی علّت کا شکار بندے کی سب سے پہلے حس ظرافت ہی مرتی ہے،  چاہے وہ نشہ ہو یا محبّت۔
جیسے ہر بدترین اندیشہ سچ اور امید جھوٹ ثابت ہوتی ہے ویسے ہی ایک دن پتہ چلا کہ وہ منشیات کے بحالی مرکز میں داخل ہے۔  اس سے آگے کی کہانی ، کم ازکم میر ے لیے بڑی تکلیف دہ ہے۔ جیسے ہماری جیلوں سے بندہ پکا مجرم بن کے نکلتا ہے ،  ویسے ہی ان بحالی مراکز سے پکا نشئی۔ سُودِی سے ملاقاتیں  نہ ہونے کے برابر رہ گئیں۔ اس سے آخری ملاقات  ہوئے طویل مدّت گزر گئی۔ میں  بیرون ملک آگیا۔ کبھی کبھار اڑتی اڑتی خبر سننے کو مل جاتی کہ آج کل وہ اندر ہے یا باہر۔ ہرسال پاکستان جانے کے باوجود میں اتنی ہمّت کبھی پیدا نہ کرسکا  کہ اپنے بچپن کے یار سے مل سکوں ۔ سُودِی کی جو حالت سننے کو ملتی تھی میں اس حالت میں اس کو دیکھنا برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ میرے تصّور میں وہی خوش مزاج، معصوم ، ہنستا کھیلتا اور سب کو ہنساتا  سُودِ ی تھا۔ اور میں اس تصّور کو برباد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ خودغرضی ہے۔ پر کبھی کبھار خود غرضی کے بغیر زندگی عذاب بن جایا کرتی ہے۔
کچھ عرصہ پہلے گھر بات کرتے ہوئے خبر ملی کہ سُودِی مرگیا ہے۔
میں نے دل میں سوچا،  مر تو وہ  بہت پہلے گیا تھا ، دفنایا اب  ہے۔ 

دسمبری دُکھڑا


رمضان سے پہلے اور عید کے بعد دھڑادھڑ شادیوں کا موسم ہوتا ہے اور ایسے ایسے بندے کی شادی ہوجاتی ہے کہ رب دیاں رب ای جانے، کہنے کو دل کرتا ہے۔ ایسے ہی سردیوں کے بعد امتحانات کاموسم شروع ہوجاتا ہے جس میں سکولوں، کالجوں کے بچے اور بچیاں، اپنے اپنے سماجی رتبے کے مطابق پرچے، امتحان اور ایگزیمز وغیرہ دیتے ہیں ۔ گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ، پِت اور آموں کا موسم ہوتاہے ۔اکتوبر، نومبر اجتماعی زچگیوں کا موسم ہوتاہے جو اگرچہ سارا سال ہی جاری رہتا ہے لیکن ان دو مہینوں کی فضیلت کچھ سِوا ہے۔
ان سارے موسموں کے بعد دسمبر آجاتا ہے۔
اور جناب عالی، یہ اجتماعی رنڈی رونے کا موسم ہے۔ جن کی جون میں سپلیاں آئی تھیں، انہیں اب جاکے اس کی تکلیف شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ موسم مزے کا ہوچکا ہوتاہے۔ بجلی آئے یا جائے کوئی پروا نہیں۔ بھوک ٹکا کے لگتی ہے۔ ملائی والی دودھ پتّی پی کے اور مونگ پھلی ٹونگتے ہوئے اگر پرانے دکھ یاد نہیں آنے تو کیا دردانہ بٹ یاد آنی ہے؟ جن کی "سیٹ" بچیوں کی شادی مارچ میں ہوچکی ہوتی ہے تو ان کا تو دسمبر میں سَیڈ ہونا بنتا ہی ہے کہ مہینے کے آخر تک انہیں ماموں بننے کی توقع بھی ہوتی ہے۔ مرے پہ سو دُرّے۔
دسمبری سیڈنیس کی سب سے بڑی وجہ ڈائجسٹی وائرس ہے۔ اپنے وصی شاہ جی جیسے عظیم شعراء کی عظیم ترین شاعری "آپ کی پسند" میں بدّو ملہی سے شجاع آباد اور گوجرخان سے بھکر تک کی دوشیزائیں بذریعہ جوابی لفافے کے بھیجتی ہیں اور پھر خود ہی پڑھ پڑھ کے اپنی خوابوں کے شہزادے عرف آئیڈیل کی یاد میں آہیں بھر بھر کے پھٹّڑ ہوتی رہتی ہیں۔ یہ خوابوں کے شہزادے ان کےخوابوں میں تو بلاناغہ بالترتیب گھوڑے، سائیکل، موٹر سائیکل، کار وغیرہ میں آتے رہتے ہیں لیکن یہ خواب دیکھ دیکھ کے ان نمانیوں کے چھ چھ بچے ہوجاتے ہیں پر وہ نگوڑ مارے شہزادے اللہ  جانے کہاں غرق ہوتے ہیں کہ پہنچتے ہی نہیں، پہنچتے ہی نہیں!۔
تو صاحبو دسمبر میں رات کو سارے کاموں سے فارغ ہوکے حتی کہ چھوٹے کا پیمپر بھی بدل کے جب بندی رضائی میں گھس کے ڈائجسٹ پھرولنا شروع کرتی  ہے اور "آپ کی پسند" یا "آپ کی بیاض" والا صفحہ سامنے آجاتا ہے تو دسمبر تو دردیلا لگنا ہی ہے ۔ یہ درد اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب رضائی کی دوسری طرف سے دھاڑ نما خرّاٹے بھی بلند ہونے لگیں۔ اب اس وقت "خوابوں کا شہزادہ" ہی یاد آئےگا ناکہ میلی بنیان اور شلوار میں خرّاٹے مارتا ہوا دہوش۔
رہے نام اللہ کا۔

تعزیہ


فیصل آباد کی مشہور چیزوں میں آٹھ بازار بھی شامل ہیں۔ ان میں سے ایک جھنگ بازار بھی ہے جس میں ہمارا آبائی گھر تھا۔ جہاں ہم اس دنیائے فانی کو رونق بخشنے کے لیے تشریف لائے تھے۔  بچپن کی ایک بہت ہی مدہم سی یاد کچھ یوں ہے کہ ہمارا گھر جو کہ دوسری منزل پر تھا کہ نچلی منزل دکانوں پر مشتمل تھی، اس میں کافی ساری اجنبی خواتین اور بچے بھرے ہوئے ہیں اور وہ بازار سے گزرتے ہوئے ایک ہجوم کو دیکھ رہے ہیں جن میں کچھ مسجدوں کے ماڈل اور ایسی ہی کچھ اورچیزیں بھی شامل ہیں۔  اور ان میں شامل لوگ کچھ نعرے وغیرہ بھی لگارہے ہیں اور کچھ عجیب سی دھمک نما آوازیں بھی آرہی ہیں۔ ہماری دادی سب گھروالوں اور خاص طور پر بچوں کو منع کرتی ہیں کہ نیچے بالکل نہیں دیکھنا اور کمرے کے اندر  ہی بیٹھے رہنا ہے۔  اس واقعہ کو ہم تعزئیے کے نام سے یاد کرتے تھے  اور ہمیں بڑے ہونے تک اس بات کی جستجو ہی رہی کہ اس میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ ہمیں دیکھنے سے منع کیا جاتا تھا۔
ہم  سکول جانے کی عمر تک پہنچے تو اس گھر سے منتقل ہوکے گلشن کالونی پہنچ گئے۔  وہاں کچھ ایسا چکر تو نہیں تھا لیکن جیسے جیسے ہم تعلیم کے مدارج طے کرتے گئے ، تعزئیے کا تہوار خطرناک سے خطرناک ہوتا چلا گیا۔ پہلے پہل دس محرّم کو نڑوالا چوک سے آگے جانے کی پابندی لگی۔ پھر یہ پابندی جناح کالونی کے گیٹ تک پہنچی۔ اور آخر کار زرعی یونیورسٹی کے گیٹ تک پہنچ گئی۔ وہ تعزئیے جسے لوگ دور دور سے دیکھنے آتے تھے اب ان کا مہینہ شروع ہونے پر فوجی گاڑیوں کا مارچ ہونا شروع ہوگیا جس پر فوجی جوان ہولناک قسم کی مشین گنیں تانے کھڑے ہوتے تھے۔انہی دنوں دیواروں پر وال چاکنگ ہونی شروع ہوگئی جس میں شیعہ حضرات کو یہ بتایا جاتا تھا کہ بھائی جان، آپ کافر ہیں۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ میرا دوست شانی اور نیر عباس عرف پستول شاہ بیٹھے بٹھائے کافر کیسے ہوگئے؟ انہی دنوں ہمارے گلشن کالونی سے بھی ساتویں محرّم کو جلوس برآمد ہونا شروع ہوگیا جو مختلف گلیوں سے گزرتا ہوا ایک مومن سب انسپکٹر صاحب کے گھر جاکے ختم ہوتا تھا۔ انہی دنوں ہمیں پتہ چلا کہ ان جلوسوں کے لائسنس ہوتے ہیں۔ یہ بات ہمیں بڑی عجیب لگی کہ جلوس کا لائسنس؟ یہ ضرور کوئی خطرناک چیز ہوگی۔
کالج جانے تک محرّم  کے آتے ہی ایک خوف کا ماحول چھانا شروع ہوگیا ۔ ڈبل سواری پر پابندی انہی دنوں پہلی دفعہ بھگتی۔  آہستہ آہستہ نو اور دس محرّم بالکل ایسے دن ہوگئے جن میں زندگی بالکل رک جاتی تھی۔ پورا ملک ایسا ہوجاتا تھا جیسے کوئی بھوت پھرگیا ہو۔  ان سنجی گلیوں میں مرزے یار دے دھنادھن کرتے پھرتے تھے۔  مذہبی بحث شاید وہ واحد بحث ہے جس میں ہماری دلچسپی کبھی نہ ہوسکی۔ ہمیں کسی کے ماتم کرنے، کسی کے ختم دلوانے اور کسی کے ٹخنوں سے اونچی شلوار سے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ مسئلہ تو تب کھڑا ہوا جب اپنے عقیدے کی رسومات کی ادائیگی کے لیے ایک اٹھارہ کروڑ کا پورا ملک دس دن کے لیے مفلوج ہونا شروع ہوگیا۔ ہمارے ایک یار جانی نے آج اسی مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جلوسوں پر تمہیں کیوں اتنی تکلیف ہے؟ کیا لانگ مارچ نہیں ہوتے؟ اس پر تو تمہیں کوئی اعتراض نہیں۔ اس وقت تو ہم چپ ہوگئے کہ ۔۔۔خیال خاطر احباب چاہیے ہردم۔۔۔۔ پر سیاسی ریلی اور ان مذہبی رسومات کی ٹھیکیداری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لانگ مارچ نامی شعبدے کسی ایک شہر سے شروع ہوکے چند ہزار بندوں کے ساتھ چلتے ہوئے دوسرے شہر تک جاکے ختم ہوجاتے ہیں اس سے باقی ملک کو کوئی اثر نہیں ہوتا جبکہ ہمارے شیعہ احباب چاہے ہزار بندہ مروالیں، جلوس نکلوانا ان کے مذہب کا اولین فرض بن گیا ہے۔ اب اگر اس پر ذرا غور کیا جائے تو یہ مذہبی رسومات سے زیادہ ایک بہت بڑی تجارتی سرگرمی ہے جس کا سارا اجارہ، مخصوص لوگوں کے پاس ہے۔ جن میں بہت سے لوگوں کے چھپے ہوئے مفادات بھی ہیں۔سانوں کیہ۔ جم جم کمائیاں کرو تے اپنے اپنے بے وقوفاں دی چھِل لاو۔ پر خدا کے لیے کوئی جگہ مخصوص کرلیجئے، ، وہاں دس دن تک جلوس نکالیے، گھوڑ دوڑ کرائیے، ماتم کیجئے، جو آپ کا دل کرے،کیجئے۔ پر پورے ملک کو مفلوج کرنا بند کردیجیے۔ قیمتی جانوں کی حفاظت بھی وہاں آسانی سے ہوسکے گی اور باقی ملک بھی سکون کا سانس لے سکے گا۔
غصہ نہ کرنا، غور کرلینا بس۔