سپہ سالار کی ڈائری - توسیعی ورژن

شبِ رفتہ سے ہی طبیعت کچھ بوجھل سی تھی۔ نیند دیر سے آئی۔ تہجّد سے کافی دیر پہلے آنکھ کھل گئی۔ وضو بنایا۔ تہجّد کے وقت تک نوافل ادا کئے۔ دل کو کچھ قرار سا آیا۔ کل کی ملاقات میں مقتدرین نے اپنی خواہش کا برملا اظہار کر دیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں ملک و ملّت کی خدمت سے کنارہ کش ہوجاؤں اور ان کو لوٹ مار کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے۔ میں نے صاف انکار کردیا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ جب تک وطنِ عزیز اسلام کا قلعہ نہ بن جائے میں اپنی ذمہ داریاں کیسے نظر انداز کرسکتا ہوں؟ وہ کچھ بولے تو نہیں مگر کبیدہ خاطری ان منحوسوں کے چہروں سے عیاں تھی۔
شب کے آخری پہر، خدا کے حضور مناجات کرنے سے دل کو تسلّی ہوئی۔ فجر کے بعد معمول کی ورزش کی۔ ناشتے میں آلو والے پراٹھے تھے۔ میں نے زوجہ سے باز پُرس کی کہ ان کے لیے رقم کا بندوبست کہاں سے ہوا؟ ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ کہنے لگیں پچھلے دو ہفتوں سے وہ ایک وقت کا کھانا کھا رہی ہیں۔ اس سے جو رقم بچ رہی اس سے یہ پراٹھے بنائے۔ دل بھر آیا۔ لقمہ ہاتھ سے رکھ دیا۔ اِدھر اُدھر دیکھ کر زوجہ کا رُوئے انور چوم لیا۔ بد پرہیزی کرتے ہوئے تینوں پراٹھے کھائے اگرچہ زوجہ تیسرے پراٹھے پر شکایتی نگاہوں سے دیکھتی رہیں لیکن منہ سے کچھ نہ بولیں۔ جنّتی خاتون ہیں۔ الحمدللہ۔۔۔
بیٹ مین لطیف نے بائیسکل چمکا کے پورچ میں کھڑی کردی تھی۔ لطیف اوائل افسری سے میرے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ عجب اُنسیت سی ہے۔ اس کا معاملہ گھر کے فرد جیسا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ برسوں گزرے ایک عجیب واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد لطیف کی اہمیّت دو چند ہوگئی۔
ان دنوں لطیف کے گھر  پہلی خوشی آنے والی تھی۔ ایک رات خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ، پن سٹرائپ سوٹ پہنے، خشخشی داڑھی، منہ میں پائپ دبائے کش پہ کش لگاتے، ایک سفید گھوڑے پر سوار، دفتر کے باہر تشریف لاتے ہیں اور با رُعب آواز میں پکارتے ہیں، "شکیل، باہر آؤ"۔ میں حیران ہو کر باہر نکلتا ہوں تو وہ شہادت کی انگلی بلند کرکے گویا ہوتے ہیں۔
"ہم ایک عظیم ذمہ داری تمہارے سپرد کرنے آئے ہیں۔ وعدہ کرو کہ اسے نبھاؤ گے"۔
میں جھٹ حامی بھرلیتا ہوں۔ بزرگ پائپ منہ سے اور دھواں نتھنوں سے نکالتے ہیں۔ اچھل کر گھوڑے سے اترتے ہیں۔ میرے قریب آکر کندھے پر ہاتھ رکھتے ہیں اور یوں گویا ہوتے ہیں۔۔
"تمہارے گھر ایک مہمان آنے والا ہے۔ اسے معمولی نہ سمجھنا۔ عنفوان شباب تک اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کرنا۔ یہ بچہ ملک و ملّت کا پاسبان ہوگا۔ سارے ادبار دور کردے گا۔ دشمنانِ دین و ملّت اس کے درپے رہیں گے لیکن تمہیں وعدہ کرنا ہوگا کہ جب تک تمہاری سانس میں سانس ہے اس کی حفاظت و نصرت کرو گے۔ اور ہاں سنو۔۔ ایک بات اور ہے۔۔ یہ اللہ کی دَین ہے۔ اس لیے اس کا نام اللہ دتّہ ہوگا"۔
اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ خوابگاہ میں ایک ملکوتی سا سکوت اور عجیب سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ میں فورا اٹھا، غسل کیا اور خدا کے حضور سجدہ ریز ہوگیا جس نے مجھے اس کارِ عظیم کے لیے چُنا۔ پھر میں نے سوچا کہ زوجہ کے ہاں تو ابھی کسی نئے مہمان کے آثار نہیں تو یہ نیا مہمان کہاں سے آئے گا؟۔
اس کا جواب اگلی صبح ملا جب بیٹ مین لطیف، مٹھائی کا ڈبّا لیے آیا۔ ڈبّا بائیسکل کے کیرئیر پر رکھ کے دھرتی دہلا دینے والا سلیوٹ مارا اور خوشی سے لال ہوتے چہرے سے اطلاع دی کہ وہ بیٹے کا باپ بن گیا ہے۔ ذہن میں روشنی سی لپکی اور گزشتہ شب کا خواب اور پن سٹرائپ سوٹ والے بزرگ کی بشارت اور اپنا وعدہ یاد آگیا۔ اس دن کے بعد سے آج تک میں نے اللہ دتّے کو اپنی اولاد سے بڑھ کر توجہ دی۔ اعلی درسگاہوں سے اس کو تعلیم دلائی۔ آج کل اللہ دتّہ ملک فرنگ میں اعلی ترین تعلیم کے لیے مقیم ہے۔
دفتر جانے کے لیے بائیسکل کا پیڈل مارا ہی تھا کہ لطیف ہانپتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ مخبر اعلی نے فورا آپ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے ابھی ایک ہرکارہ ان کا پیغام لے کر آیا ہے۔ میں فورا بائیسکل سے اترا اور رکشے کو ہاتھ دے کر روکا۔ ہنگامی حالات میں ایک ایک منٹ کی اہمیت ہوتی ہے۔
بھاگم بھاگ دفتر پہنچا تو مخبر اعلی پہلے سے موجود تھے۔ انہوں نے شتابی سے دفتر کا دروازہ بند کیا اور بولے۔۔۔ ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ دشمن نے اللہ دتّے کو درسگاہ سے واپس آتے ہوئے اغوا کر لیا ہے اور ان کی طرف سے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ میں فورا ساری گیم سمجھ گیا۔ یقینا یہ مقتدرین کی سازش ہے۔ انہیں علم ہے کہ مجھے کسی بھی طرح جھکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ حتی کہ میری اپنی اولاد بھی اگر داؤ پر لگی ہو تو میں کبھی ملک و ملّت کے مفاد کو پسِ پُشت نہیں ڈال سکتا۔ لیکن اللہ دتّے کا معاملہ الگ ہے۔ اس کے ساتھ غیر معمولی انسیّت کا راز میں نے آج تک کسی پر ظاہر نہیں کیا لیکن مخبروں کی دنیا الگ ہوتی ہے۔ شاید کوئی ٹیلی پیتھی کا ماہر دشمن جاسوس میرے ذہن میں جھانک کر اللہ دتّے سے میری بے پناہ محبّت سے واقف ہو گیا تھا۔ جس کا فائدہ اب مقتدرین اٹھا رہے ہیں۔
اسی اثناء میں مخبر اعلی کے واچ ٹرانسمیٹر پر ٹوں ٹوں ہونے لگی۔ ملکِ فرنگ میں موجود علاقائی مخبر نے اطلاع دی کہ اللہ دتّے کے اغوا کاروں نے بہت عجیب مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپہ سالار نے چوبیس گھنٹوں کے اندر مُقرّرہ مدت میں سپہ سالاری چھوڑنے کا اعلان نہ کیا تو وہ اللہ دتّے کو اگلے جہان میں ہی مل سکیں گے۔
یہ بہت مشکل مرحلہ تھا۔ ایک طرف ملک و ملّت کی پاسبانی اور دوسری طرف وعدے کی نگہبانی۔ پھر مجھے یاد آیا کہ اللہ دتّے کی نگہبانی کے صدقے ہی شاید مجھے سپہ سالاری ملی تھی اگر اسی کام میں ناکام رہا تو روزِ قیامت اس بزرگ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اللہ دتّے کی تعلیم مکمل ہونے میں کچھ ہی عرصہ باقی ہے۔ بزرگ نے عنفوانِ شباب تک اس کی سرپرستی کا کہا تھا۔ وہ وقت مکمل ہوا چاہتا ہے۔ شاید میری ذمّہ داری یہیں تک تھی۔ ملک و ملّت کا اصلی مسیحا آنے کو ہے۔ میری قربانی سے اگر اس کا راستہ ہموار ہوجائے تو اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی۔ جو کام میں پورا نہ کرسکا وہ میرا اللہ دتّا پورا کرے گا۔
میں نے مقتدر اعلی کو فون ملایا اور ان کے مطالبے کو پورا کرنے کی حامی بھرلی۔ یہ سنتے ہی ان کی آواز پر چھائی مُردنی یکایک شگفتگی میں بدل گئی۔ وہ حسبِ عادت چکنی چُپڑی باتیں کرنے لگے۔ میں ان کی دلی حالت کا اندازہ کر سکتا تھا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کو کھلی چھُٹّی مل گئی ہے۔ وہ جیسے چاہیں اس ملک کو لوٹیں۔ ملّت کا شیرازہ بکھیریں۔ ان کو کوئی روکنے والا نہیں۔۔ مگر ان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں ہے کہ
میرا اللہ دتّہ آئے گا۔۔۔۔

سیلفی اور ثالثی

یہ موسم سرما کی ایک خُنک رات تھی۔ دُھند نے چاروں اطراف کو یوں گھیرے میں لیا ہوا تھا جیسے عاشق، محبوب کو  بانہوں میں بھر لیتا ہے۔۔۔ جپھّی اک واری کُٹ کے توں پاء گُجرا۔۔۔۔ یہ ایک رومانٹک اور اداس کردینے والی کیفیت تھی۔ میں نے کتاب سے نظر ہٹائی اور سٹڈی کی کھڑکی کے دھندلے شیشے سے باہر دیکھا۔ ایک مطمئن سی اداسی میرے رگ و پے میں دوڑ گئی۔ چیبانگا موزونگو کی بھیجی ہوئی زمبابوین کافی کا گھونٹ بھر کے میں نے سر کو راکنگ چئیر کی پشت سے ٹکایا۔ ایک طویل ڈکار لیا۔ حیدر آبادی بریانی، بیف کباب اور کوک کی خوشبو سے ساری سٹڈی مہک اٹھی۔ میں نے آئی فون سکس (کسٹم میڈ) ٹیبل سے اٹھایا۔ اداس اور رومانٹک چہرے کی ایک سیلفی لے کر فیس بک پیج پر اپ لوڈ کی اور دوبارہ کتاب پر جھک گیا۔
اچانک فون کی بیل بجی۔ سکرین پر "میاں صاحب" کا نام جگمگا رہا تھا۔ میں حیران رہ گیا۔ یہ ایک خلاف معمول بات تھی۔ یہ کبھی گیارہ بجے کے بعد فون نہیں کرتے۔ یہ جانتے ہیں کہ میں ایک جوان جہان آدمی ہوں۔ میری ازدواجی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ یہ اس بات کو سمجھتے ہیں اس لیے کبھی مجھے ڈسٹرب نہیں کرتے۔ میں نے کال ریسیو کی۔ یہ بوجھل آواز میں بولے ۔۔۔ "یار جیدے ۔۔ کِی کرئیے۔۔۔ دوویں لڑ پئے نیں؟"۔۔ یہ ایک نازک مرحلہ تھا۔ یہ دنیا کی تاریخ میں میک آر بریک والا معاملہ تھا۔ ایک غلط فیصلہ اس دنیا سے انسانوں کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا تھا۔ میں نے فون ٹیبل پر رکھا۔ ایک طویل سانس لی۔ گلاسز اتار کے شیشے صاف کیے۔ کافی کا گھونٹ بھرا۔ فون دوبارہ اٹھایا تو میاں صاحب بولے۔۔" دانشوراں آلی ایکٹنگ بعد اچ کر لئیں۔۔ پہلے میں جو پُچھیا او دس"۔ میں کچّا ہوگیا۔ مجھے شرم آگئی۔ میں نے فورا بات بدل لی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آج آپ نے ڈنر میں کیا کھایا۔ میاں صاحب نے پھر مجھے جگت کرادی کہنے لگے۔۔ چوہدری ای رہ، کلاسرہ نہ بن۔۔۔ میں فورا سنجیدہ ہوگیا۔ میں نے بادشاہ والی کہانی کی آواز بنالی اور یوں گویا ہوا۔۔۔۔ میاں صاحب، تاریخ آپ کی راہ دیکھ رہی ہے۔ عظمت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ عزّت آپ کے لیے نظریں بچھائے کھڑی ہے۔ ہسٹری آپ کو ویلکم کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ مؤرخ سنہری انک والا پین لے کر آپ کا منتظر ہے۔  میاں صاحب نے ایک طویل ہمممممم کیا اور فون بند کردیا۔
یہ ایک سرد صبح تھی۔ بیدار ہونے پر ایسا فِیل ہورہا تھا جیسے سب کچھ فریز ہے۔ اس لیے فریش ہونے کے لیے دو دفعہ کافی پینی پڑی۔ واک کے لیے جوگرز پہنے ہی تھے کہ میاں صاحب کا فون آگیا۔ انہوں نے دس منٹ کے اندر ائیرپورٹ پہنچنے کی ریکویسٹ کی۔ میرا ٹریول بیگ ہمیشہ ریڈی رہتا ہے۔ میں نے بیگ اٹھایا۔ جلدی میں بیگم کا پرپل کوٹ پہنا۔ یہ ایک آنسٹ مسٹیک تھی لیکن اس مسٹیک نے ہسٹری کا دھارا بدل دیا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔
فلائٹ ٹیک آف کرتے ہی میاں صاحب اور جنرل صاحب میرے پاس تشریف لے آئے۔ یہ ایک اچھی جوڑی ہے۔ دلیپ کمار/مدھو بالا، امیتابھ/ریکھا، انیل کپور/مادھوری، شاہ رخ/کاجل، بدرمنیر/مسرت شاہین، سلطان راہی/انجمن  کے بعد شریف/شریف ایسی جوڑی ہے جو سُپر ہٹ ہونے کا پوٹینشل رکھتی ہے۔ یہ ایک دوسرے کو انڈرسٹینڈ اور رسپیکٹ کرتے ہیں۔ یہ سمارٹ بھی ہیں اور ہینڈسم بھی۔ یہ انٹیلیجنٹ بھی ہیں اور انٹلکچوئل بھی۔ یہ ناٹی بھی ہیں اور جولی بھی۔ میاں صاحب نے ادھر ادھر دیکھا اور آہستگی سے اپنی واسکٹ کی جیب سے ایک شاپر نکال کے میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے شاپر کھولا تو ہر طرف قیمے والے نان کی خوشبو پھیل گئی۔ میاں صاحب جانتے تھے کہ میں نے بریک فاسٹ نہیں کیا۔ آپ ان کے مینرز دیکھیے۔ آپ ان کی کرٹسی ملاحظہ کیجیے۔ ائیرپورٹ آتے ہوئے رستے میں انہوں نے گاڑی رکوا کر چار قیمے والے نان لیے۔ ایک نان جنرل صاحب کو دیا، ایک خود کھایا جبکہ دو نان میرے لیے رکھ لیے۔ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ یہ پہلے کسی کو نان کی ہوا نہیں لگواتے تھے۔ یہ کسی کو نان کی ایک بُرکی دینے کے روادار نہیں تھے۔ اب یہ خود ایک نان کھاتے ہیں۔ یہ دو نان دوسروں کو دے دیتے ہیں۔ یہ جان چکے ہیں کہ مل جل کر کھانا برکت کا باعث ہوتا ہے۔
پلین لینڈ کرنے کے بیس منٹ کے اندر ہم پیلس میں پہنچ چکے تھے۔ یہ ایک شاندار عمارت ہے۔ یہ رومن، گوتھک، اٹالین، سپینش اور عربک آرکیٹکچر کا شاہکار ہے۔ اس میں فوارے بھی ہیں اور باغ بھی۔ سوئمنگ پول بھی ہے اور مسجد بھی۔ ہم اس کے مرکزی ہال میں داخل ہوئے تو میزبان نے ہمارا استقبال کیا۔ یہ بہت تپاک سے ملے۔ انہوں نے میری چُمیاں بھی لیں۔ یہ پرپل کوٹ پر بار بار ہاتھ پھیرتے رہے۔ یہ مجھ سے پوچھتے رہے ۔۔ ہذا کوٹ جمیل جدا۔۔ من وین انت حصل ہذا؟۔۔۔ میں ایک دفعہ پھر کچّا ہوگیا۔ یہ ایک نازک صورتحال تھی۔ اگر میں سچ بول دیتا۔ اگر میں بتا دیتا کہ یہ زوجہ کا کوٹ ہے۔یہ میں بائی مسٹیک پہن کے آگیا ہوں تو سوچیے کتنا بڑا بحران پیدا ہوجاتا ہے۔ میزبان غصے میں آجاتا۔ یہ ہم سب کو پیلس سے نکال دیتا۔ دنیا تباہی کے کنارے پر پہنچ جاتی۔ میں نے حواس قائم رکھے۔ میں نے فون نکالا۔ سب کو ریڈی کہا اور ایک سیلفی لے لی۔ سب کا دھیان بٹ گیا۔ میں نے میاں صاحب کو آنکھ ماری۔ انہوں نے میزبان کو باتوں میں لگا لیا۔ یہ ہیومن ریس کے لیے ایک تاریخ ساز لمحہ تھا۔ اگر میں گھبرا جاتا۔ اگر میاں صاحب آنکھ مارنے کا اشارہ نہ سمجھتے تو آج میں یہ سب بتانے کے لیے یہاں نہ ہوتا۔
آپ دیکھیے۔ لوگوں نے میرا مذاق بنا لیا۔ یہ مجھے شوخا پرپل کوٹ والا کہنے لگے۔ یہ میری سیلفیوں پر اعتراض کرنے لگے۔ یہ جانتے نہیں تھے۔ ان کو معلوم نہیں تھا۔ آل ہیومن کائنڈ کو میرا تھینک فل ہونا چاہیے۔
یہ ایک ورلڈ سیونگ سیلفی تھی۔

ہدایت نامہ برائے معشوقاں - جدید

دستورِ زمانہ یہی رہا ہے کہ ایسے ہدایت نامے ہمیشہ عُشّاق کے لیے لکھے جاتے رہے  کہ ان نصیب جلوں کو شربتِ دیدار تو دُور کی بات، کوئی شکر کا شربت بھی نہیں پوچھتا تھا۔  کوئی پَلُّو کی ایک لپک پر عاشق ہو ا تو ساری زندگی اسی لپک جھپک میں بِتا دی۔ کسی نے پیر دیکھ لیے تو اسی آرزو میں زیست بسر کردی کہ کسی طرح ان کو دھو کے پِی لیا جائے۔ کسی نے ہاتھ دیکھا تو اپنے رُخسار سہلاتا رہا کہ کاش چانٹے کی صورت ہی سہی، اس رُخسار پر وہ ہاتھ آئے تو ۔۔۔۔ کجرارے نین بھی انہی "ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن" میں شمار ہوا کرتے تھے۔ ماس ڈسٹرکشن کے اصلی ویپنز دیکھنے  کی حسرت لیے یہ عُشّاق کسی عم زاد کے ساتھ شادی کے گھاٹ اتر جاتے تھے مگر معشوق ان سے ہمیشہ بارہ پتھر باہر ہی رہتے تھے۔ سالم معشوق پر عاشق ہونا ، گناہِ کبیرہ سمجھا جاتا تھا۔ یوں بھی سالم معشوق کا نظر آنا ، اُڑن  طشتری نظر آنے سے زیادہ مشکل تھا۔  جس کو معشوق کی جو چیز نظر آئی، پہلی فرصت میں اسی پر عاشق ہوگیا۔ قیاس کے گھوڑے دوڑائیں تو مشاہیر عُشّاق اگر شروع میں ہی سالم معشوق دیکھ لیتے تو آج ہم عشق کی بہت سی داستانوں سے محروم ہوتے۔ حضرت قیس کے جنون کی وجہ بھی شاید لیلیٰ کا دیدار تھا۔ حضرت نے جب آخر کار لیلیٰ بی بی کو دیکھ لیا تو کلّے پیٹ لیے ۔۔۔۔
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں۔۔۔۔ 
قُدماء کی شاعری میں بھی معشوق، چنگیز خان جیسی خصلت کا مالک نظر آتا  تھا۔ جہاں کوئی عاشق نظر آیا اس کے دل، جگر اور دیگر اعضائے رئیسہ کے ٹکڑے کرکے  اپنی راہ لگتا ۔
اکابرینِ عُشّاق کےالمناک  تجربات اور دورِ جدید کے فِتن سے آج کل کے  عُشّاق شدید گُھنّے اور میسنے   ہوگئے ہیں  لہاذا معشوقوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ انہیں ٹیکن فار گرانٹڈ لینا بند کردیں۔۔۔۔ وہ دن ہوا  ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا۔۔۔۔ کہاں وہ دن کہ معشوق کو سالم دیکھنے کی چاہ لیے عاشق قبر میں جا اترتے تھے اور اب یہ حال کہ نمبر بعد میں مانگتے ہیں اور'سالم'  کلوز اپ والی فوٹو پہلے۔ وٹس ایپی پیغام کا جواب دس منٹ تک موصول نہ ہو تو جدید عاشق، نئے معشوق سے سلسلہء دلبری ، باندازِ دگر شروع کرنے میں جھجکتے نہیں۔ دنیائے عاشقی میں اس ہیبت ناک پیرا ڈائم شفٹ کی وجہ سے ضرورت ہے کہ معشوقوں کے لیے ایک ہدایت نامہ تشکیل دیا جائے تاکہ انہیں ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے جو قدیم عُشّاق جھیلتے آئے ہیں۔
سب سے پہلے تو عاشق کو انسان سمجھنا شروع کردیں۔ پرانی عادتیں بھول جائیں کہ۔۔۔ گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا۔۔۔ اب ایک طعنہ دیں گے تو ہزار سننے کو ملیں گے۔ ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے آپشنز لا محدود کر دئیے ہیں۔ پرانے بریک اپ عاشق کی فوتیدگی تک اپنا اثر قائم رکھتے تھے  جبکہ آج کل  معمولی سی بے التفاتی بھی عاشق کو ریس کردیتی ہے۔ اس پر خصوصی توجہ دیں۔
اصلی شکل اور ڈی پی میں انیس بیس سے زیادہ فرق نہیں ہونا چاہیے۔ فوٹو فلٹر ز  آپ کی ڈی پی تو جینیفر لارنس جیسی بنا سکتے ہیں لیکن اصلی شکل ایسی کرنے کے لیے کثیر مقدار میں روپے درکار ہوتے ہیں ۔ لہاذا ۔۔۔ تھوڑا برائٹ کریں۔۔ تو چل سکتا ہے۔۔ زیادہ برائٹ نہیں چلے گا۔
آلو گوبھی وغیرہم تناول کرکے پاستا، سپیگٹی کی باتیں نہ کریں۔ برگر کی سِدّھ پُٹھ پتہ نہ ہو تو آلو والے پراٹھے کے ذکرکو ہی اکابرین نے افضل جانا ہے۔
ناز و انداز مناسب حد اور مقدار تک استعمال کریں۔ جدید عاشق، چوہدری رانجھا فرام تخت ہزارہ کی طرح صرف چُوری سے نہیں بہلتے۔ ونجلی بجانے کی ضد کرنے لگتے ہیں۔ احتیاط کریں۔
آئی فون ، گلیکسی، کھاڈی،  جے ڈاٹ  وغیرہ کا پیہم ذکر کرنے سے امکان ِ غالب ہے کہ عاشق آپ سے کم از کم بیلنس تو مانگنا شروع کر ہی دے گا۔ اجتناب کریں۔
چھُنّی کاکی نہ بنیں۔ اس سے میسنے ہونے کاشک ، یقین میں بدل جاتا ہے۔
گول روٹی کی تصاویر تسلسل سے اپ لوڈ کرنے پر عاشقانِ باصفا آپ کو تندور والی سمجھ سکتے ہیں۔ ایسی حرکات کبھی کبھار تک محدود رکھیں۔
اس جزوی ہدایت نامہ پر عمل کرنے سے کثیر فوائد و برکات حاصل ہوں گے۔ جن میں عُشّاق کو باندازِ دگر اُلّو بنانے سے لے کر اعلی ٹائم پاس تک بہت سے فضائل شامل ہیں۔

کہانی کی کہانی

کہانی پڑھنا، کہانی سننے سے زیادہ دلچسپ ہے۔ بچپن کی کچھ دھندلی اور بہت سی واضح یادوں میں سے ایک، اگلی جماعتوں کی اردو کی کتابیں پڑھنا شامل ہے۔ شاید تیسری جماعت میں تھا، جب اخبار پڑھنا شروع کیا۔ پہلا اخبار  'جسارت' تھا جو ان دنوں شام کو فیصل آباد پہنچا کرتا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ابّو، جماعت کے متفقین میں شامل تھے۔ اس میں ہماری دلچسپی کا سامان اندر کے صفحات میں "فلیش گورڈن" کی قسط وار، باتصویر کہانی ہوتی تھی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دور کے مُتقین اتنے خُشک نہیں تھے۔ آج کل شاید ان کہانیوں کو کامکس کہا جاتا ہے۔۔۔۔ خیر۔۔۔ پڑھنے کی لَت بہرحال دو تین مختصر پیروں سے تسکین نہیں پاتی تھی۔ لہذا شہزادی، بادشاہ، جن، پری، دیو، شہزادہ، لکّڑ ہارا، چرواہے کی کہانیوں والے مختصر سے رسالے اپنے جیب خرچ سے خرید کے پڑھنا شروع کیے۔ ہمدرد، نونہال وغیرہ بھی کہیں نہ کہیں سے مل جاتے تھے۔ لیکن یہ کہانیاں زیادہ عرصہ ہمارا دل نہ لُبھا سکیں۔
ان دنوں ابّو، تقریبا روزانہ شام کے وقت ایک کتاب لے کے بیٹھ جاتے۔ جس کے سرِ ورق پر پستول تھامے، سوٹ پہنے ہوئے کوئی شخص ہوا کرتا تھا۔ ان سے پوچھتا کہ اس "رسالے" میں کیا ہے تو جواب ملتا کہ ۔۔ چور، سپاہی کی کہانی ہے۔۔۔ میں اصرار کرتا کہ میں بھی پڑھوں گا تو مسکرا کے کہتے کہ بڑے ہوجاؤ ، پھر پڑھنا، ابھی سمجھ نہیں آئے گی۔
وہ "رسالے" ابنِ صفی سے ہمارا پہلا تعارف تھا۔
جناح کالونی میں چھتری والے چوک سے ہوزری مارکیٹ کی طرف جائیں تو سیدھے ہاتھ کونے پر ویسٹ اینڈ بیکری ہوا کرتی تھی شاید اب بھی ہو۔ اس کے ساتھ ایک دو دکانیں چھوڑ کے "رفیق لائبریری" تھی۔ لائبریری کے مالک، رفیق صاحب، ایک دھان پان، معنّک، گورے چٹّے، بیٹھی ہوئی آواز والے چاچا جی تھے۔ ابّو کے دوست ہونے کی وجہ سے ہم ان کو چاچا جی کہتے تھے۔ انکی دوستی کی وجہ بھی وہی "رسالے" تھے۔
گرمیوں کی چھٹیوں میں دوپہر تک ہمیں دکان پر قید کیا جاتا تھا کہ گھر میں رہتے ہوئے، چھٹیوں کے کام کی بجائے ہم بنٹے، کرکٹ اور ایسی ہی دوسری مفید سرگرمیوں میں ملوّث رہتے تھے۔ تو صبح سویرے ہم بستہ اٹھائے، ابّو کےساتھ دکان پر تشریف لے جاتے۔ جناح کالونی میں واقع پاکستان نیشنل سنٹر سے ہمارا تعارف انہی دنوں ہوا۔ جیسے ہی ابّو کسی کام کے لیے نکلتے، ہم سُودی کو ساتھ لیتے اور پاکستان نیشنل سنٹر میں جا دھمکتے۔ وہاں بہت سے اخبار، کتابیں، رسائل ہمارے لیے کسی خزانے سے کم نہیں تھے۔ ایک چھوٹی سی الماری میں بچّوں کے لیے کتابیں تھیں۔ عنبر، ناگ، ماریا، چلوسک ملوسک، داستانِ امیر حمزہ وغیرہ ہم نے وہیں بیٹھ کر پڑھیں۔
انہی دنوں ہم نقل مکانی کرکے اپنے آبائی مکان جھنگ بازار سے عوامی کالونی منتقل ہوگئے۔ یاد نہیں کہ پہلی دفعہ ظہیر لائبریری، ہمارا جانا کیسے ہوا لیکن ایک دفعہ تعارف ہونے کے بعد عوامی کالونی میں گزرے ہوئے طویل عرصے میں شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب دن میں کم ازکم ایک چکّر، ظہیر لائبریری کا نہ لگا ہو۔ طارق روڈ سے عوامی کالونی میں داخل ہوں تو گلی نمبر چھ میں بائیں ہاتھ پر تیسرا مکان ہمارا تھا۔ گلی کی دائیں نُکّڑ پر 'سلیم اختر راہی بیسٹ ٹرنر اینڈ ریپیئرنگ" نامی خراد کی دکان تھی۔ راہی صاحب، قاری سعید چشتی کے گہرے دوست تھے اور قاری صاحب اکثر شام کو اپنے ویسپے سمیت اس دکان پر پائے جاتے تھے۔ قاری صاحب اس وقت تک صرف قاری ہی تھے، قوّال نہیں ہوئے تھے۔ گلی کی بائیں نُکّڑ پر استاد خالد کی ویلڈنگ کی دکان تھی۔ گلی پار کرکے گلستان روڈ (اب شاید بمبینو روڈ) آتا تھا جس کے دوسری طرف گلشن کالونی تھی۔ ظہیر لائبریری گلستان روڈ پر گلی نمبر ایک کے کونے سے تیسری دکان میں واقع تھی۔ تینوں دیواروں پر لکڑی کے ریک استادہ تھے۔ جو کتابوں سے بھرے ہوتے تھے۔ ایک چھوٹا سا کاؤنٹرتھا جس کے پیچھے پروپرائٹر ظہیر لائبریری، ظہیر الدین بابر براجمان ہوتے تھے۔ کاونٹر کے سامنے والی دیوار کے ساتھ لکڑی کا ایک بنچ تھا۔ جس پر کافی عظیم شخصیات اپنی تشریف رکھتی تھیں۔
اشتیاق احمد سے پہلا تعارف، ظہیر لائبریری کی وساطت سے ہوا۔ یہ ہمارے لیے ایک بالکل نئی چیز تھی۔ بادشاہ، ملکہ، شہزادی، لکڑہارا، جن، دیو، پریوں کی بجائے ، عام کردار۔ ہمارا ماننا ہے کہ چور، سپاہی کی کہانی سے دلچسپ شاید ہی کوئی اور کہانی ہوتی ہو۔ تو اشتیاق احمد ہمارے پسندیدہ ترین لکھنے والے بن گئے۔ جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے گئے، ابّو کا رجحان مذہبی ہوتا گیا۔ رسالے، ناول وغیرہ خرافات میں شامل ہوتے گئے۔ جماعت اسلامی کے رسالے، نُور، بتول اور ترجمان القرآن باقاعدگی سے آنے لگے۔ ہم بھی لیکن چھپ چھپا کر خرافات پڑھتے ہی رہے۔ اشتیاق احمد کے بعد عمران سیریز کی باری آئی۔ مظہر کلیم، صفدر شاہین، ایچ اقبال وغیرہ کے ناولز پڑھے۔ مظہر کلیم ان سب میں سے اچھا لکھتے تھے۔ ابنِ صفی کو ساتویں میں پہلی دفعہ پڑھا تو بہت بورنگ لگے، چھوڑ دیا۔ دسویں کے پیپر دے کے دوبارہ شروع کیا اور آج تک نہیں چھوڑا۔
نسیم حجازی، اسلم راہی ایم اے، قمر اجنالوی، عنایت اللہ وغیرہ کو بھی پڑھ ڈالا۔ نویں جماعت میں پہلا ڈائجسٹ پڑھا، جاسوسی ڈائجسٹ۔ "شکاری وہ پہلی کہانی تھی جس سے ڈائجسٹ کا چسکا لگا۔ بس پھر چل سو چل۔۔۔ سب رنگ، جاسوسی، سسپنس، مسٹری میگزین، عمران ڈائجسٹ، نیا رخ، نئے افق، عالمی ڈائجسٹ۔۔۔ ڈائجسٹوں کے لکھاریوں کی اپنی ایک الگ دنیا تھی۔ شکیل عادہ زادہ، احمد اقبال، علیم الحق حقّی، اثر نعمانی، ایم اے راحت، محی الدین نواب، طاہر جاوید مغل، محمود احمد مُودی، کاشف زبیر، ساجد امجد، جبار توقیر، اقلیم علیم اور بہت سے دوسرے۔۔۔۔۔ ڈائجسٹ سے ہی غیرملکی کہانیوں کے ترجمے پڑھنے کا موقع ملا۔ ایک نئی دنیا سے تعارف۔۔۔
کالج کے پہلے سال، منٹو کا ذکر سنا۔ یہ ذکر اور تاثر کچھ ایسا خوشگوار نہیں تھا۔ ہمارے ایک دوست جو بعد میں کاکول کو پیارے ہوگئے، انہوں نے منٹو کی کہانی "ٹھنڈا گوشت" پڑھنے کو دی اور بائیں آنکھ مِیچ کے بولے۔۔ "مزے آجان گے"۔۔۔ مزے تو خیر کیا آتے، جتنی سمجھ آئی۔۔ اسی میں ہمارے کان لال ہوگئے۔ اس سے بہرحال ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں ادب پڑھنے کی تحریک ملی۔ احمد ندیم قاسمی کے افسانے شاید وہ پہلی ادبی تحریر تھی جو ہم نے پڑھی۔ ممتاز مفتی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، غلام عباس، خدیجہ مستور، اے حمید، قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، عبداللہ حسین۔۔ الغرض جو بھی ہمارے سامنے آیا ہم نے پڑھ ڈالا۔۔۔۔ بہت کچھ سر کے اوپر سے گزر گیا۔۔ بہت عرصے بعد دوبارہ پڑھا تو گتھیاں سلجھیں۔ تارڑ کے سفرنامے پڑھے اور سچّی بات کہ زیادہ متاثر نہیں کرسکے۔ تارڑ سے اصلی والا ٹاکرا "راکھ" پڑھ کے ہوا اور تب سے تارڑ کے سحر میں مبتلا ہیں۔
نان فکشن بہت کم پڑھا۔ ڈاکٹر سلیم اختر، سبطِ حسن اور ڈاکٹر مبارک علی کے نام  ذہن میں آرہے ہیں۔ اس میں اگر مذہبی لٹریچر کو بھی شامل کرلیا جائے تو مولانا مودودی اور شبلی نعمانی کا نام آتا ہے۔
شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ اقبال کے علاوہ ہم کسی کو شاعر نہیں سمجھتے تھے اور اقبال کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں عقیدت و احترام کی اگر بتّیاں سلگنے لگتی تھیں۔ ایک دن ظہیر سے گپ شپ کرتے، ریک میں پڑی ایک کتاب کے عنوان نے توجہ کھینچ لی۔۔۔ دشمنوں کے درمیان شام۔۔۔ ورق گردانی کی تو ایک انوکھی چیز پڑھنے کو ملی۔ یہ ہمارے شاعری سے لائف لانگ رومانس کا آغاز تھا۔ منیر نیازی، شاعری میں ہماری پہلی محبّت ہیں۔ پہلی محبّت کبھی نہیں بھولتی۔

اقبال، خُودی اور بُلبلیں

علاّمہ اقبال سے ہماری عقیدت کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ زمانہءطالبعلمی میں ہمارا خیال تھا کہ شاعر صرف اقبال ہوتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے امیتابھ بچن بارے ہمارا خیال تھا کہ ہیرو صرف 'میتا بچن' ہوتا ہے۔ سکول کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی طویل برآمدے کی دونوں اطراف اقبال کے اشعار سے مُزین کتبے لگے ہوتے تھے۔ جن پر موج، دریا، کشت، زرخیز، نم، کاشغر، نیل (اس وقت ہم اسے رابن نیل سمجھا کرتے تھے)، شاہین (الحمدللہ ۔۔ اس وقت ہمیں مسرّت شاہین کا قطعی علم نہیں تھا)، لوح و قلم وغیرہ کا ذکر تھا۔ ابّو کی چھوٹی سی لائبریری سے ہمیں شکوہ، جواب شکوہ بھی ملی۔ جسے پڑھتے ہوئے ہم تخیّلاتی دنیا میں "آخری چٹان"، "داستانِ مجاہد" وغیرہ کے ہیرو بن کے کفّار کے لشکروں کے لشکر تہہ تیغ کر دیا کرتے تھے۔ اہلِ زبان نہ ہونے کے سبب ہم شِکوہ کو شِکَوہ اور دارا شِکَوہ کو دارا شِکوہ پڑھا کرتے نیز دارا شِکَوہ کو ایک گمراہ اور فاسق انسان بھی سمجھتے تھے۔ ویسے بھی کسی شہزادے کا نام دارا ہونا ہی محلِ نظر ہے، کسی لوفر لونڈے کا نام لگتا ہے۔
علاّمہ صاحب کی شاعری پر بہت تحقیقی کام ہوچکا ہے اور محققین نے اس میں سے مابعد الطبیعیات سے کوانٹم فزکس تک سب کچھ برآمد کرلیا ہے۔ ہم نے بھی اس سلسلے میں کچھ غورو فکر کیا اور کچھ ایسی حیران کُن باتیں دریافت کی ہیں جن کی طرف شاید کسی کا دھیان نہیں گیا۔ علاّمہ صاحب فرماتے ہیں۔۔
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر۔۔۔
اس شعر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو کوہ پیمائی کا بہت شوق تھا اور اکثر چٹانوں وغیرہ پر چڑھ جایا کرتے تھے۔ آپ کی شاعری میں جو بلندی نظر آتی ہے ہمیں اس کی وجہ بھی یہی لگتی ہے۔ خود ہی سوچیے، جو شاعری سطح سمندر سے کئی ہزار فٹ کی بلندی پر کی گئی ہو اس میں تو بلندی خودکار طریقے سے ہی آجائے گی۔ علاّمہ صاحب نے اپنے شعروں میں جگہ جگہ خُودی کا ذکر کیا ہے۔ اس کی تشریح میں بہت سے اہلِ علم خطا کھا گئے ہیں اور اس کی عجیب و غریب تاویلات کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ یہ بہت سادہ سی بات تھی۔ ایک مشہور مصرعہ جو غلطی سے کسی اور سے منسوب ہوگیا، وہ علاّمہ صاحب کا تھا جس میں آپ فرماتے ہیں۔۔۔
امّی کہتی ہیں جو کہتا ہے وہ "خُود ای" ہوتا ہے۔۔
یہ "خُود ای" کثرت استعمال سے خُودی بن گیا اور لوگوں نے رائی کا پہاڑ بنا لیا۔
علاّمہ صاحب کو پختونوں سے بہت لگاؤ تھا۔ اس کی مثالیں جا بجا ان کے شعروں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ آپ نے اپنے المشہور ملّی نغمے ۔۔۔ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا۔۔ میں فرمایا ہے۔۔
ہم بُلبلیں ہیں اس کی۔۔ یہ گلستاں ہمارا
"بُلبل" کا اتنا برمحل استعمال کم ہی دیکھنےمیں آیا ہے۔ برسبیل تذکرہ، آپ نے جب یہ ملّی نغمہ لکھا تو قائد اعظم نے آپ کو خط لکھ کے ان الفاظ میں سخت سرزنش کی تھی: " بالے۔۔ ہم تمہیں مفکّر پاکستان بنانے کا سوچ رہے ہیں اور تم ابھی تک ہندوستان کے ملّی نغمے لکھ رہے ہو؟"۔ پھر آپ نے اسی زمین میں دوسرا نغمہ لکھا جو یہاں سے شروع ہوتا ہے۔۔
چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
اور
خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا۔۔۔
اس پر قائد اعظم بہت خوش ہوئے اور علاّمہ صاحب کو حُقّے کے لیے عمدہ قسم کا تمباکو بھیجا نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ علاّمہ صاحب بھی قائد اعظم کے غصے سے ڈرتے تھے۔
وما علینا الا البلاغ

۔۔۔ تو ناچتی بوتل

کوئی جائے اور شہباز مسیح کو بتائے؛ فقیروں کو لُوٹ کے تونگری نہیں ملتی۔
خدا اس کی قبر کو نُور سے بھر دے۔ ربع سال ہوتا ہے، جون کی تپتی صبح کو جانکاہ اطلاع ملی، جارج گھسیٹے خاں گزر گئے۔ ایسا نجیب و بے ریا آدمی۔ زمین کا نمک۔ دو دہائیوں کی سنگت رہی۔ ایک بھی دن ایسا نہیں کہ شکایت کا موقع دیا ہو۔ ہمیشہ جو کہا، وہی ملا۔ قناعت ایسی کہ تہواروں پر بھی وہی دام جو عام دنوں میں۔ فقیر، بُہتیرا اصرار کرتا کہ میاں سب زیادہ لے رہے ہیں۔۔۔ تم کیوں نہیں لیتے؟ آنکھیں بھر آتیں، کانوں کو ہاتھ لگاتے اور آسمان کی طرف انگشت شہادت سے اشارہ کرکے گویا ہوتے۔۔۔ خدا کو کیا منہ دکھائے گا؟ فقیر بادشاہوں کی محفلوں میں بھی گیا اور اپنے جیسے بے مایہ رندوں کے ساتھ بھی محفلیں جمائیں پَر جو بوتل خلد آشیانی لاتا تھا ویسا خالص پن کہاں۔۔۔۔ جو مزا چھجّو کے چوبارے وہ بلخ نہ بخارے۔۔۔
برّصغیر کا مزاج مگر تقلید کا ہے۔ نشہ حرام ہے حضورِ والا۔۔ مشروب حرام نہیں۔ یہ نکتہ مگر سب پر نہیں کھلتا۔ حالی، شہرہءآفاق مُسدّس میں یوں گویا ہوئے۔۔۔
نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل
مگر کون سنتا ہے، کون غور کرتا ہے۔ تقلید کے خُوگر صرف عامی نہیں، جلیل القدر علماء بھی اکابرین کا آموختہ دھراتے ہیں۔ مشروب حرام اور لسّی مرغوب۔ روح چیخ اٹھتی ہے۔ ایک سے فکر کی پرواز بلند کہ کائنات کے راز کھولنے پر آمادہ اور دوسری ایسی کہ انسان کو گوبھی بنا دے۔ غنودگی اور بسیارگی۔ درویش کی خدمت میں حاضر ہوا۔دل بے چین اور روح مضطرب۔ خاموش ایک کونے میں جا براجا۔ طالب علم کی حالت مگر درویش سے اوجھل کیسے رہ سکتی ہے۔ سر اٹھایا؛ ہچکی لی اور بوتل طالب علم کی طرف بڑھا دی۔ دو گھونٹ لئے تو دل کو قرار آیا۔ ذہن سوچنے کے قابل ہوا۔ درویش سے ماجرائے درد بیان کیا۔
وہی قصّے ہیں وہی بات پرانی اپنی
کون سنتا ہے بھلا رام کہانی اپنی
کون سنتا ہے مگر سوائے درویش کے۔ دل چیر کے رکھ دیا۔ چار ماہ ہونے کو آئے۔ خالص مشروب کی ایک بوند حلق سے نہیں اُتری۔ ڈیڑھ سو کی کُپّی کے چار سو تک ادا کیے۔ نرا پانی۔ جب حلق ہی تَر نہ ہوا تو دماغ کیسے تَر ہوگا۔ قارئین، حیران اور برگشتہ۔ لکھتا ہوں تو ۔۔ ماروں گُھٹنا پھُوٹے آنکھ۔۔۔ والا حال۔ حضرت جنید بغدادی سے شروع ہونے والی تحریر، اختتام تک صدارتی نظام کی حمایت بن جاتی ہے۔ ایک دو دفعہ تو العیاذ باللہ۔۔ میاں صاحب کی حمایت بھی سرزدِ قلم ہوئی۔ مدیر بھی ایسے کہ بعینہ شائع کردی ۔۔
کَلّی کَلّی جان دکھ لکھ تے کروڑ وے
دور جان والیا مہاراں ہُن موڑ وے
مردانِ باصفا کی قدر ان کے جانے کے بعد ہوا کرتی ہے۔ جارج گھسیٹے خان کا ذکر آیا تو آنکھیں برس اٹھیں۔ درویش بے اختیار اٹھے، لڑکھڑائے اور دھڑام سے طالبعلم پر آ پڑے۔ گلے سے لگا لیا۔ دل کو قرار آیا۔ آنسو پونچھے۔ تسلّی دی۔ الماری کھول دی۔ اذن دیا کہ جو جی چاہے لے لو۔ مشروب کی خوش وضع بوتلیں کہ قطار اندر قطار پریاں۔ ہاتھ باندھ دئیے۔عرض کیا۔۔ حضور، کوئی مستقل حل عنایت ہو۔ درویش نے سر جھُکا لیا۔ چند ثانیے گزرے۔۔۔ ایک آہ بھری سر اٹھایا اور گویا ہوئے۔۔۔ جان دے سکتے ہیں۔۔۔۔ سپلائر کا نام نہیں دے سکتے۔
بوجھل دل کے ساتھ طالبعلم اٹھا۔ دو ریڈ لیبل اور تین جیک ڈینئیلز اٹھائیں اور صدری کی جیبوں میں ٹھونس لیں۔ اپنی آزمائش سے خود ہی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ انسان، سپلائر سے نہیں اس پر اصرار سے برباد ہوا کرتا ہے۔ ڈھونڈے سے خدا مل جاتا ہے۔ ایک صالح سپلائر کی کیا حیثیت!

کوئی جائے اور شہباز مسیح کو بتائے؛ فقیروں کو لُوٹ کے تَونگری نہیں ملتی۔

سپہ سالار کی ڈائری

نماز فجر ادا کی۔ ورزش کرنے کے لیے قریبی میدان کا رخ کیا۔ جاگنگ کرتے ہوئے دو سپاروں کی تلاوت کی۔ الحمدللہ۔ واپس گھر پہنچا تو بیگم نے بچوں کے سکول کی فیس بابت دریافت کیا۔ میں نے بتایا کہ کل تنخواہ ملی تھی۔ آفس سے آتے ہوئے رستے میں جماعت الدعوۃ کے امدادی کیمپ پر نظر پڑگئی۔ شام کے پناہ گزینوں کے لیے امداد اکٹھی کی جارہی تھی۔ ساری تنخواہ وہیں دے آیا۔ بیگم نے فخر سے میری طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالی اور کوئی سبب بنا دیں گے۔ شادیوں کا سیزن شروع ہے۔ چار گھنٹے کی بجائے آٹھ گھنٹے سلائی کرلوں گی۔
رات کی بچی ہوئی روٹی اور پانی سے ناشتہ کیا۔ آج سرکاری دورے پر مُلکِ فرنگ جانا تھا۔ ولیمے پر جو شلوار قمیص اور واسکٹ پہنی تھی، بیگم نے کل وہی دھو کر بستر کے نیچے بچھادی تھی تاکہ استری ہوجائے۔ کپڑے بدل کر سائیکل نکالی اور ہوائی اڈے کی جانب روانہ ہوا۔ کچھ ہی دور گیا تھا کہ ایک کیفے کے باہر ایک نوجوان پریشان حالت میں فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوا دیکھا۔ اس کے قریب جا کے سائیکل روکی اور ماجرا دریافت کیا۔ اس نے رقّت آمیز لہجے میں بتایا کہ اس کے پاس آئی فون فائیو ہے جبکہ نیا آئی فون لانچ ہوچکاہے۔ اس کے پاس خریدنے کے لیے رقم نہیں۔ معاشرے میں اس کی کیا عزت رہ جائے گی؟ یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگا۔ میں نے ٹکٹ کی رقم نکال کے اس نوجوان کو نئے فون کے لیے دی، سائیکل کو پیڈل مارا اور عازمِ ہوائی اڈّہ ہوا۔
رستے میں سو طرح کے وسوسے ذہن میں کلبلاتے رہے۔ بغیر ٹکٹ کے کیسے سفر کروں گا۔۔ یہ سرکاری رقم میرے پاس امانت تھی، کیا میں نے خیانت کی؟ یہی سوچتے ہوائی اڈے پر پہنچ گیا۔ سٹینڈ پر سائیکل کھڑا کرکے ٹوکن لے کر مُڑا ہی تھا کہ سامنے ایک سفید پوش نورانی صورت والے بزرگ، عصا تھامے کھڑے تھے۔ انہوں نے اشارے سے پاس بلایا۔ پاس جانے پر انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور کہا، شکیل، آنکھیں بند کرلو۔ ایک لحظہ گزرا تو انہوں نے آنکھیں کھولنے کا حکم دیا۔ دیکھا تو ہم لندن کے ہوائی اڈے کے باہر موجود تھے۔ میں نے بزرگ سے دریافت کیا کہ واپسی کا کیا بندوبست ہوگا۔ ان کا چہرہ جلالی ہوگیا۔ انہوں نے عصا میری تشریف پر رسید کیا اور کہا، ہم تمہیں یہاں لاسکتے ہیں تو واپس بھی لے جاسکتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دفعتا غائب ہوگئے۔
فلائٹ کے پہنچنے میں ابھی کافی وقت باقی تھا لہذا پیدل ہی سفارتخانے کا قصد کیا۔ تاکہ عامیوں پر یہ روحانی واردات ظاہر نہ ہو۔ اس سے سفارتخانے کی گاڑی کا پٹرول بھی بچا۔ ایک ایک پیسہ ہمارے پاس عوام کی امانت ہے۔ مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ ٹیمز کے کنارے وضو کرکے نماز ادا کی۔ بیگم نے زادِ راہ کے طور پر مُٹھّی بھر بھُنے ہوئے چنے اور پانی کی چھاگل ساتھ کردی تھی۔ تھوڑے سے چنے چبائے، دو گھونٹ پانی کے پئے اور سفارتخانے کی جانب روانہ ہوا۔ وہاں پہنچا تو سکیورٹی گارڈ نے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ لاکھ کہا کہ میں سپہ سالار ہوں۔ لیکن وہ جوابا کہنے لگا کہ میں برطانیہ کی ملکہ ہوں۔ ستم ظریف، فیصل آباد کا لگتا تھا۔ بعد میں تحقیق سے یہی ثابت ہوا۔ شور سن کر سفیر صاحب باہر تشریف لائے۔ مجھے دیکھ کر ان کی گھِگھّی بندھ گئی۔ بڑی مشکل سے کُھلی۔
سفیر صاحب نے شب بسری کے لیے ڈورچسٹر ہوٹل میں بندوبست کیا تھا۔ میں نے سختی سے انکار کردیا۔ سفارتخانے میں رات گزارنے پر بھی دل راضی نہیں ہوا۔ عوام کا پیسہ اپنی ذات پر خرچ کرنا، امانت میں خیانت لگتا ہے۔ سفیر صاحب سے کل کی ملاقات بارے بریفنگ لی دوران بریفنگ سختی سے منع کیا کہ کسی بھی قسم کے مشروبات نہ لائے جائیں۔ خواہش ہوگی تو میں اپنی گرہ سے چائے پی لوں گا۔ رات گئے سفارتخانے سے نکلا۔ عشاء کا وقت ہوچکا تھا۔ ٹیمز کنارے ایک پُرسکون جگہ ڈھونڈی۔ رات کے کھانے میں بھُنے ہوئے چنے کھائے اور پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ وضو تازہ کیا اور نماز کے لیے قبلہ رُو ہوا۔ فرض ادا کرکے سلام پھیرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پیچھے حدِّ نظر، سفید پوش نورانی وجود صفیں باندھے ہوئے ہیں۔ دل کی عجیب سی حالت ہوگئی۔ ایک گنہگار پر پروردگار کی اتنی رحمتیں۔ فورا سجدہءشکر بجا لایا۔ بقیہ رات ذکر اذکار میں گزری۔ سردی بھی تھی۔ نوافل کی ادائیگی سے جسم کو گرمی ملتی رہی۔
دس بجے وزیر اعظم سے ملاقات طے تھی۔ پیدل ہی جانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے ورزش بھی ہوئی اور قیمتی زرِمبادلہ کی بچت بھی۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کے قریب پہنچنے پر پولیس والے نے روکا اور شناخت پوچھی۔ تعارف کرایا تو وہ دم بخود رہ گیا۔ دو قدم پیچھے ہٹا اور ایک زوردار سلیوٹ کیا۔ پھر آگے بڑھ کر عقیدت سے میرا ہاتھ تھام کر چُوما اور دعا کی درخواست کی۔ وزیرِاعظم نے میرا استقبال کیا اور مذاکرات کے لیے میٹنگ روم میں لے گئے۔ میز پر انواع و اقسام کے مشروبات و ماکولات تھے۔ میں نے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ وزیر اعظم کا لہجہ رُوکھا تھا۔ انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ ان کے منصوبوں کی راہ میں واحد رکاوٹ میں ہوں۔ حکومت پاکستان ہر وہ کام کرنے کو تیار ہے جو ہم چاہتے ہیں لیکن آپ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے۔ بتائیں۔۔ آپ کی قیمت کیا ہے؟۔ یہ سنتے ہی میں نے غضب کے عالم میں ان کی طرف دیکھا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ملیں، بجلی کڑکی اور کھڑکی سے تیز دودھیا روشنی کی لکیر سیدھی ان کے دل تک پہنچی۔ وہ بے اختیار اٹھے اور سجدے میں گرگئے۔ میں نے فورا اٹھ کر دروازہ مقفل کیا۔ ان کو سجدے سے اٹھایا اور گلے سے لگا لیا۔
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
وزیر اعظم نے کہا کہ ان کو کلمہ پڑھایا جائے۔ کلمہ پڑھا کر ان کو مشرف بہ اسلام کیا۔ ان کا اسلامی نام داؤد فریدون رکھا۔ وہ سب کچھ تیاگ کر میرے ساتھ پاکستان جانے کو تیار تھے۔ میں نے ان کو مومنانہ فراست سے کام لینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کسی کو اس کایا پلٹ کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔ حسبِ معمول وزارت عظمی پر فائز رہیں۔ اور پاکستان اور عالمِ اسلام کے خلاف ہر سازش کی خبر مجھے دیں۔ یہی ان کا جہاد ہوگا۔ انہوں نے اس پر صاد کیا۔ یہود و ہنود کی سازشوں بارے انہوں نے لرزا دینے والے انکشافات کیے۔ میں نے ان کو سمجھایا کہ آئندہ کسی بھی سازش بارے خبر ملے تو مجھے مِس کال کردیں۔ میں خود ان تک پہنچ جاؤں گا۔ کسی بھی صورت سکائپ کال، وٹس ایپ، ایمیل یا ڈی ایم نہ کریں۔ سو سجن سو دشمن۔
ملاقات ختم ہوئی۔ وزیر اعظم مجھے دروازے تک چھوڑنے کے لیے آنا چاہتے تھے۔ میں نے منع کیا کہ خلاف مصلحت ہے۔ باہر نکل کر دیکھا تو سفید پوش بزرگ کے دور دور تک کوئی آثار نہ تھے۔ لشٹم پشٹم ہائیڈ پارک تک پہنچا۔ تین گھنٹے انتظار کرنے پر بزرگ ظاہر ہوئے۔ میں نے تاخیر کا سبب دریافت کیا تو کمالِ بے نیازی سے بولے۔۔۔
۔۔۔" اکھ لگ گئی سِی"۔۔۔


کیِ فرق پیندا اے

کالونی کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی بردارِ خُورد نے ون وے کی خلاف ورزی کی تو ہم نے ان سے دریافت کیا، "کِی تکلیف اے تینوں؟"۔ جواب ملا کہ دوسری طرف سے جانے پر یوٹرن لینا پڑتا۔ مزے کی بات یہ کہ صرف بیس پچیس میٹر کا فرق پڑتا۔ ہم نے انہیں بائیک موڑنے اور اسی طرف سے جانے کا حکم دیا۔ مرتا کیا نہ کرتا، سگ باش بردارِ خورد مباش۔۔۔برادر نے بائیک موڑی اور اسی سڑک پر ہولئے۔ گھر پہنچنے پر ہم نے ان کو ایک عدد پُر جوش لکچر دیا جس میں قوانین کا احترام اور ان کی اہمیّت سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ سب کچھ بظاہر بغور سننے کے بعد وہ ہم سے یوں گویا ہوئے۔۔" بھائی جی۔۔ سڑک تے خالی سِی بالکل۔۔ کیِ فرق پیندا اے"۔
زیادہ تر کیسز میں کچھ سال ملک سے باہر گزارنے والوں کو گھروالے اور حلقہءاحباب، کالا صاحب سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ پیسے آگئے نیں تے دماغ ستویں اسمان تے پہنچ گیا اے۔۔ ایتھے ای کھجل ہندا سِی پہلے۔۔۔ ہماری لیکن کھال موٹی ہے اور ہم ایسی باتیں ایک کان سے سن کر ان کا جواب اپنی گز بھر لمبی زبان، بقول امّی جی "لُتری" سے دیتے ہیں۔
بچپن میں گھر اور سکول سے ہمیں ٹریفک بارے جو معلومات یا تربیت ملی وہ صرف اتنی تھی کہ سڑک دونوں طرف دیکھ کے پار کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ کبھی کسی نے کچھ سمجھانے یا بتانے کی کوشش نہیں کی۔ بائیک ہم نے اس وقت چلانی شروع کی جب ہمارے پاؤں زمین پر نہیں لگتے تھے۔ ہمیں کسی نے منع نہیں کیا۔ ڈرائیونگ لائسنس تو کالج میں کہیں جا کے بنوایا۔ سڑک پر ہمارے رویّے ایسے تھے اور ہیں جیسے سب گھر سے اس امر کا تہیّہ کرکے نکلے ہوں کہ زندہ گھر واپس نہیں جائیں گے اور یہیں کہیں کسی کھوتا ریڑھی یا ویگن سے ٹکرا کر شہید ہوجائیں گے یا کسی کو شہید کردیں گے کہ حادثے میں فوت ہونا بھی شہادت ہی ہوتی ہے۔
چند سال پہلے ہمیں دیس نکالا ملا اور ہم ایک ایسے ملک میں پہنچے جہاں ٹریفک کا نظام دیکھ کر ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی۔۔۔ اس ٹریفک کا وطنِ عزیز و مُلکِ خداداد سے موازنہ کیا تو ہمیں یوں لگا جیسے مادرِ وطن میں سڑکوں پر ٹریفک نہیں چلتی، موت کے کنوئیں کا شو چلتا ہے۔ سڑک پر موجود ہر شخص اتنی جلدی میں ہوتا ہے جیسے فائر بریگیڈ کا ملازم ہو اور بازارِ حُسن میں آگ لگنے کی اطلاع پر آگ بجھانے جارہا ہو۔
ہم جب بھی وطنِ عزیز کا چکر لگاتے ہیں تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ٹریفک بارے جو کچھ ہم نے پردیس میں رہ کر سیکھا ہے اس پر ہر ممکن حد تک عمل کرسکیں اور جن پر ہمارا بَس چلتا ہے ان کو بھی تاکید کریں۔ ٹریفک سگنل پر سبز بتّی جلتی ہے تو اکثر ہم اکیلے ہی کھڑے ہوتے ہیں کہ باقی سب احباب ساٹھ یا اسّی سیکنڈ کا طویل عرصہ گزارنے کی سکت نہیں رکھتے اور سگنل توڑ کر آگ وغیرہ بُجھانے نکل جاتے ہیں۔ اکثر احباب تو ہمیں اکیلا سگنل پر کھڑا دیکھ کر ہنستے ہیں اور کچھ تو باقاعدہ جُگتیں بھی کرتے ہیں۔ فیصل آبادی جو ہوئے۔ ہم ڈھیٹ بنے کھڑے رہتے ہیں۔ کسی کو تو کھڑا ہونا ہی ہے۔
ہم اپنی پوری ایمانداری سے بیان کرتے ہیں کہ بچپن سے لے کر آج تک ہم نے کسی مسجد میں ٹریفک یا کسی بھی قسم کے قوانین کے احترام کا وعظ یا بیان نہیں سُنا۔ ہم نے ہر قسم کی مساجد میں نمازیں باقاعدگی سے پڑھی ہیں۔ بریلویوں کی مسجد ہمارے محلے میں تھی۔ دیوبندیوں کی مسجد میں ہم ابّو کے ساتھ جمعہ پڑھنے جاتے تھے۔ اہل حدیثوں کی مسجد میں وہ جمعہ پڑھتے تھے جس دن کرکٹ میچ آرہا ہوتا تھا کہ ان کا جمعہ جلد اور سب سے پہلے ختم ہوجاتا تھا۔ ان مساجد میں ہم نے ہر قسم کے قصّے، کہانیاں، ایمان کو گرما دینے والے وعظ، شلوار کی اونچائی اور داڑھی کی لمبائی، روزے کے مسائل، مدارس کے لیے چندہ دینے کے فضائل، جہاد کی اہمیّت (صرف سننے والوں کے لیے)، نُور بشر کے مسائل، قربانی کی کھالوں کا درست مصرف، فلسطین، کشمیر، بوسنیا وغیرہ کے مسلمانوں کی امداد، یہود و ہنود کی سازشیں، شیعوں کا کُفر، بریلویوں کا شرک، دیوبندیوں اور اہل حدیثوں کا گستاخ رسول ہونا۔۔۔ یہ سب ہم نے سنا۔ نہیں سُنا تو یہ نہیں سُنا کہ سگنل توڑنا، گناہ کبیرہ ہے اور یہ اقدام قتل کے برابر ہے۔ یہ نہیں سُنا کہ مُلکی قوانین کو جان بوجھ کے توڑنا، فتنہ ہے۔ اور فتنہ قتل سے بدتر ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ اگر مسجد کے منبر سے کہے گئے لفظ پر لوگ اپنا مال اور جان قربان کرسکتے ہیں تو کیا انہیں یہ نہیں سکھایا جاسکتا؟

تعلیم کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور تربیّت بالکل بھُلا دی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں بے دال کے بُودم بن رہے ہیں۔ والدین کے نزدیک سکول اور کالج کی فیسیں دے کے ان کی ذمّہ داری ادا ہوجاتی ہے۔ بچّے جانیں اور ان کے تعلیمی ادارے جانیں۔ یہ سب ہوتے ہوئے اگر آپ کو سڑک پر پاگلوں کا ایک ہجوم دکھائی دیتا ہے تو اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟

مقطع میں آ پڑی ہے سُخن گسترانہ بات

قادیانی/مرزائی/احمدی احباب بارے پھر بحث چھڑی ہے کہ کسی کو کافر کیوں قرار دیا جائے؟ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ آئین میں ترمیم کریں اور انہیں مسلم قرار دے دیں۔ جب تک ریاستی قانون انہیں غیرمسلم قرار دیتا ہے تب تک اسے ماننا پڑے گا۔
دوسرا رخ اس کا یہ کہ اس بنیاد پر ان سے امتیازی سلوک کیا جائے یا تشدّد کی کسی بھی قسم سے کام لیا جائے تو یہ مذہی، قانونی، اخلاقی کسی بھی رُو سے نہ تو جائز ہے اور نہ ہی اس کی کوئی توجیہہ یا حمایت کی جاسکتی ہے۔ یہ پاکستان کے شہری ہیں اور انہیں وہی حقوق (یا ان کی حق تلفی) حاصل ہیں جو عمومی طور پر ہم سب کو حاصل ہیں۔
تیسرا رُخ یہ کہنا کہ بھُٹّو نے مولویوں کے دباؤ میں یہ فیصلہ کیا تھا، قطعی غلط ہے۔ یہ انیس سو چوہتّر کا واقعہ ہے جب بھٹّو اپنے اقتدار کے عروج پر تھے۔ جن مولویوں کے دباؤ کی بات کی جاتی ہے، انہیں اسمبلی سے ڈنڈا ڈولی کرکے باہر پھینک دیا جاتا تھا۔ جو بات ہم سمجھنا نہیں چاہتے وہ یہ کہ ان کے پیشوا (موروثی)  کو پارلیمان نے اپنا موقف بیان کرنے کا پورا موقع دیا اور ان کا مؤقف ظاہر و باہر اور آن ریکارڈ ہے کہ جو مرزا صاحب کو نبی اور مسیح موعود نہیں مانتا، ان کے نزدیک وہ ان کے دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہے۔ ان کی حق گوئی کی داد دی جانی چاہیے کہ جس بات کو انہوں نے درست سمجھا اسے ڈنکے کی چوٹ پر ریاست کی مقنّنہ  کے سامنےبغیر کسی ہچکچاہٹ بیان کیا۔ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے مقنّنہ نے بھی وہ فیصلہ کیا جسے وہ حق سمجھتی تھی۔ جمہوری اصول کے تحت اس فیصلہ کا احترام تب تک کیا جانا چاہیے جب تک اسے وہی مقنّنہ بدل نہ دے۔
قادیانی احباب اپنے پیشواؤں  کے جیسے مقلّد ہیں وہ شاید ان احباب کو جاننے والے حضرات بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ جائز اور اکثر ناجائز طور پر ہم مولویوں پر تنقید کرتے ہیں اور ان میں لبرل حضرات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن آج تک کبھی کسی نے، قادیانی احباب جس پیشوائی چنگل میں جکڑے ہیں، اس پر ایک لفظ نہیں لکھا۔ یہ بھی مذہبی پیشوائیت کے ہاتھوں اتنے ہی ڈسے جا رہے ہیں جتنے ہم ہیں شاید اس سے بھی زیادہ۔ ہم تو اپنے مولویوں پر ہر قسم کی تنقید اور ان کا پوسٹمارٹم کرتے رہتے ہیں لیکن یہ اس پیشوائیت کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتے یا اٹھا نہیں سکتے۔

ایک زمانہ تھا جب ہم ان دوستوں بارے بہت سخت زبان استعمال کرتے تھے اور مرزا صاحب بارے وہ سب کچھ کہتے تھے جو یقینا ہم اپنے بارے سننا نہیں چاہیں گے۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ جانا کہ نفرت کاشت کرنے سے تشدّد کی فصل اگتی ہے اور تشدّد زدہ معاشرہ معذور ہوجاتا ہے۔ تو اب کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے عقیدے پر رہتے ہوئے، مناسب انداز میں اپنی رائے بیان کردی جائے۔

آخری ٹُل

آپ سلطان کو دیکھ لیں۔ یہ بانسانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نمبردار کے مُنشی تھے۔ یہ بہن بھائیوں میں وچکارلے تھے۔ یہ بچپن سے ہی کھیل کُود کے شوقین تھے۔ ان کی والدہ سے روایت ہے کہ قبل از پیدائش بھی کافی اودھم مچاتے تھے۔ بانسانوالہ کی گردونواح میں وہی اہمیّت تھی جو پارٹیشن سے پہلے علی گڑھ کی یو پی میں تھی۔ ان کے والد اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ سلطان کی ابتدائی تعلیم نمبردار کے ڈیرے پر ہوئی۔ جہاں یہ والدکے ساتھ جاتے تھے کیونکہ یہ گھر میں سب کا جینا حرام کئے رکھتے تھے۔
نمبردار کے ڈیرے سے ہی ان کو گلّی ڈنڈا کھیلنے کا شوق ہوا۔ یہ ابّا جی کی نظر بچا کر ڈیرے سے بھاگ جاتے۔ یہ فرینڈز کے ساتھ آوارہ گردی کرتے۔ یہ ٹیوب ویل پر نہاتے۔ یہ گنّے توڑتے (کھیتوں سے)۔ بڑے لڑکوں کو گلّی ڈنڈا کھیلتے دیکھ کر ان کو بھی کھیلنے کا شوق پیدا ہوا۔ نیامت ورک، جو گلّی ڈنڈے کا ماہر کھلاڑی تھا، سے دوستی گانٹھ کر سلطان بھی بڑے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے لگے۔ یہ پیدائشی کھلاڑی نکلے۔ ان کا ٹُل ایسا جاندار ہوتا کہ کوئی اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرتا۔ ابتدائی دور میں ہی انہوں نے اتنی گُلّیاں اپنے ٹُلّوں سے گم کیں جو گلّی ڈنڈے کی ہسٹری میں کوئی نہیں کرسکا۔ فیلڈنگ میں بھی ان کو ملکہ حاصل تھا۔ یہ ٹُل باز کے ڈنڈے کی ابتدائی حرکت سے جان لیتے کہ ٹُل کدھر جائے گا۔ ٹُل کو کیچ کرنے میں بھی ان کو یدِ طُولٰی حاصل تھا۔ ریومر ہیز اٹ ۔۔۔کہ ایک دفعہ انہوں نے چار پَیلیاں دوڑ کر ٹُل کیچ کیا۔ گلّی ان کی ہتھیلی میں پیوست ہوگئی لیکن کمٹمنٹ ایسی کہ کیچ نہیں چھوڑا۔
وقت گزرتا گیا۔ سلطان، جوان ہوگئے۔ ہر طرف ان کے کھیل کی دُھومیں تھیں۔ دوشیزائیں ان کا میچ دیکھنے کے لیے پانی بھرنے کا بہانہ بنا کر آتیں اور ہر ٹُل پر اَش اَش کرتیں۔ یہ لنگوٹ کے اتنے پکّے تھے کہ کبھی لنگوٹ کسا ہی نہیں تھا۔ یہ اپنے مدّاحوں سے ایک مناسب فاصلہ رکھتے اور ان سے کبھی تحائف وغیرہ وصول نہیں کرتے تھے کوئی زبردستی گھر پہ دے جاتا تو کسی کا دل نہیں توڑتے تھے۔ یہ ایک ہینڈسم ہَنک تھے۔ بانسانوالہ کے طول و عرض کے کمادوں اور مکئی میں ان کے پیار کی داستانیں بکھری پڑی تھیں۔ نِگّو سے نسرین اور پِینو سے بشرٰی تک۔ یہ پیار کا جواب ہمیشہ پیار سے دیتے تھے۔ یہ دل سے یقین رکھتے تھے کہ کسی کا دل توڑنے سے بڑا گناہ کوئی نہیں۔
گلّی ڈنڈے میں انہوں نے نئی اختراعات کیں۔ اس سے پہلے گلّی ڈنڈے میں کپتان کا کوئی تصوّر نہیں تھا۔ یہ بانسانوالہ کی ٹیم کے پہلے کپتان بنے۔ یہ کھلاڑیوں کی فٹنس پر خاص توجّہ دیتے تھے۔ یہ کھلاڑی کا تہہ بند دیکھ کے بتا دیتے تھے کہ یہ آج کیسا پرفارم کرے گا۔ یہ ایک دلیر اور بہادر کپتان تھے۔ مخالف ٹیم کے بہترین ٹُل باز کے عین سامنے کھڑے ہوجاتے تھے۔ وہ گھبرا کر ٹُل مِس کردیتا تھا۔ یہ مخالف ٹُل باز کے ڈنڈے کی حرکت سے گلّی کی سمت کا اندازہ لگا لیتے تھے۔ان کے لگائے ہوئے ٹُل کی پاور کا یہ حال تھا کہ جہاں گلّی گرتی تھی وہیں زمین میں دھنس جاتی تھی۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ پورے کیرئیر میں کبھی ان کے ٹُل کو کیچ نہیں کیا جاسکا۔
بانسانوالہ کی ہزاروں سالہ تاریخ میں یہ واحد سپو ت تھے جو "آل بُچّیکِی گلّی ڈنڈا گولڈ کپ" کے فاتح ٹھہرے۔ ان کی کپتانی اور کھیل نے وہ معجزہ کر دکھایا جو بانسانوالہ کی ہسٹری کا گولڈن چیپٹر ہے۔ اس اعزاز کو حاصل کرنے پر اہالیانِ بانسانوالہ نے ان پر گندم، چاول، دیسی گھی، پیاز، آلو، دیسی مرغیوں، اور میوے والےگُڑ کی بارش کردی۔ نیامت ورک جو اپنے ابّاجی کی ڈیتھ کے بعد بانسانوالہ کے سب سے بڑے زمیندارے کے وارث ٹھہرے تھے۔ انہوں نے سلطان کو دس پیلیاں، ایک ٹریکٹر اور ٹیوب ویل کا نذرانہ پیش کیا۔ اتنی محبّت اور پیار اور رسپیکٹ سے سلطان کا دل موم ہوگیا۔ یہ خود کو بانسانوالہ کا مقروض سمجھنے لگے۔
انہی دنوں خواب میں ان کو ایک بزرگ کی زیارت ہوئی۔ یہ سفید تہہ بند اور کالے کُرتے میں ملبوس پست قامت نورانی چہرے والے بزرگ تھے جن کے ہاتھ میں گلّی ڈنڈے والا ڈنڈا تھا۔ انہوں نے گلّی کو زوردار ٹُل لگایا اور جلالی لہجے میں سلطان سے کہا۔۔۔ "اٹھ اوئے کاکا سلطان۔۔ تے بانسانوالے نوں ظالموں دے چنگل توں آزاد کرا۔۔۔۔"۔ سلطان یہ خواب دیکھ کر اپ سیٹ ہوگئے۔ یہ پریشان ہوگئے۔ یہ دبدھا میں پڑ گئے کہ اس خواب کی کیا تعبیر ہے۔ یہ اپنے بچپن کے دوست نیامت ورک کے پاس گئے اور خواب بیان کیا۔ نیامت ورک اٹھے اور انہیں لے کر بابا تُوڑی سائیں سرکار کے مزار پر پہنچ گئے۔ خادم انہیں لے کر حجرہءخاص میں پہنچا جہاں مزار کے متوّلی پیر کَڑدِھن شاہ بے اولاد زنانیوں میں تعویذ بانٹ کے فارغ ہوئے تھے۔ پِیر صاحب نے خواب سُنا۔ ان پر رقّت طاری ہوگئی۔ ان کی حالت غیر ہوگئی۔ خادم نے چپٹی سی شیشی سے محلول ایک گلاس میں ڈال کر ان کی خدمت میں پیش کیا۔ جسے پی کر ان کی طبیعت ذرا بحال ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ خواب میں نظر آنے والے بزرگ بابا تُوڑی سائیں سرکار تھے اور ان کا اشارہ نمبردار کے بانسانوالے پر چنگل کی جانب تھا۔ پیر صاحب نے کہا کہ اب یہ سلطان پر فرض ہے کہ وہ اپنے علاقے کو ان ظالموں سے نجات دلائے۔ سلطان یہ سب خاموشی سے سنتے رہے۔ یہ سوچ میں ڈوبے رہے۔ دس منٹ بعد انہوں نے سر اٹھایا اور پیر کَڑدِھن شاہ سے یوں مخاطب ہوئے۔ "میں پاغل آں۔۔۔ بیفکوف نئیں۔۔۔"۔ یہ کہہ کر سلطان اُٹھے اور حجرہءخاص سے باہر نکل گئے۔

مُتفرّقات

٭ مچھلی، پانی اور مولوی، لاؤڈ سپیکر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔
٭ درشت مزاجی کو ۔۔"میں تو صاف بات کرتا ہوں"۔۔ میں نہ چھپائیں۔
٭ قابلیت کے بغیر ایمانداری، گولی کے بغیر بندوق ہے۔
٭ عقیدت، عقل کا کینسر ہے.
٭ گمان کو حقیقت اور پھر اس کو ایمان سمجھ لینا، پاگل پن کا اعلی ترین درجہ ہے.
٭ سب سے مہلک سراب، اپنی اہمیت کا احساس ہے.
٭ عبادت بہرحال نہایت ذاتی معاملہ ہے.. محبت کی طرح
٭ حماقت کا دفاع نہیں ہوسکتا صرف پیروی ہوسکتی ہے۔
٭ صرف وہ گرنا اہمیت رکھتا ہے جس کے بعد آپ اٹھ نہ سکیں۔
٭ طیش کو سستا نہ کریں۔
٭ تبلیغ، عمل کا نام ہے، خطبوں کا نہیں۔
٭ مسلسل انتظار میں گزری زندگی ، پرندے کی قفس سے محبّت کا استعارہ بن جاتی ہے۔
٭ چلے جانے والوں اور چھوڑ جانے والوں کی یاد میں دل اس ادھ جلے کوئلے کی طرح ہوجاتا ہے جو ذرا سی ہوا پا کر دھک اٹھے۔۔۔
٭ ممدوح کی شان بیان کرتےہوئے کسی کو گالی دینے کی ضرورت پڑجائے تو یہ گالی اصل میں ممدوح کے لیے ہی ہوتی ہے۔
٭ کم گو کی بات توجہ سے سنی جاتی ہے۔
٭ پرہیزگاری کے شدید احساس کو فاشزم کہتے ہیں۔
٭ پچھتاوے کا کوئی علاج نہیں۔
٭ اعلی ترین اخلاقی اقدار کا پرچار، دودھاری تلوار ہوتا ہے۔
٭ سکھانے والا ہی سیکھتا ہے۔
٭ ملحدین، زنادقہ، روافض۔۔۔ اگر ان کا مطلب پتہ نہ ہو تو کیسے عمدہ لفظ لگتے ہیں۔
٭ وہ اپنے مُنکر سے جینے کا حق نہیں چھینتا، ہم آپ کیسے چھین سکتے ہیں؟
٭ فوری ردّعمل، ناپختگی کی نشانی ہے۔
٭ فنکار مرد اور خود مختار عورت۔ دونوں جنسِ مخالف کے لیے مرعوب کُن ہوتے ہیں۔
٭ مطلقہ خاتون اور شادی شدہ مرد کا المیہ ایک جیسا ہے۔ دونوں کی سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
٭ دنیا، نظریات کی بجائے ضروریات پر چلتی ہے۔
٭ بجٹ اور محبوب کے وعدے ایک سے ہوتے ہیں۔
٭ سانپ کو مارنے کے لیے لاٹھی ٹوٹنے کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
٭ محبّت کرنے والے کو وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی اور نفرت کرنے والا اس کا حقدار نہیں ہوتا۔
٭ نااہلی کا خسارہ ایمانداری بھی پورا نہیں کرسکتی۔
٭ اگر آپ نے زندگی میں صرف نصابی کُتب پڑھی ہیں تو یقین جانیے آپ جاہل ہیں۔

مانی

یادیں، مدّہم پڑ سکتی ہیں، محو ہوسکتی ہیں، وقت کی گرد انہیں چھپا سکتی ہے۔ پر جو منظر دل پر نقش ہوجائیں وہ کبھی مدّہم نہیں پڑتے، محو نہیں ہوتے، وقت کی گرد ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ وہ ہمیشہ ویسے ہی سفّاک، شفّاف اور واضح نظر آتے ہیں۔ جب نظر جھکائی، دیکھ لیا۔۔۔
مانی مجھ سے بہت چھوٹا تھا۔۔۔ کہیں تو سب بہن بھائیوں میں آخری نمبر۔ بہت کم عمری میں بھی کچھ الگ سا تھا ۔۔ بیمار ہوتا تو روتا نہیں تھا، تنگ نہیں کرتا تھا۔ چہرے پر نقّاہت سے پتہ چلتا کہ صاحب کی طبیعت برابر نہیں ہے۔ ہنس مُکھ ایسا کہ محلّے کے بچّے اسے باہر لے جانے کے لیے باری کا انتظار کرتے ۔ میری خالہ کہا کرتی تھیں کہ "اس کی آنکھیں ہنستی ہیں"۔۔۔۔خالہ کا اس سے بہت انس تھا۔۔۔ سادھ بیلے سے تقریبا روزانہ آیا کرتیں اور جس عمر میں بچہ ماں سے چند منٹ دور نہیں رہتا، وہ ان کے ساتھ ان کے گھر چلا جاتا اور سارا دن ان کے ساتھ رہتا۔
تھوڑا بڑا ہوا تو اس کی سب سے من پسند سرگرمی، موٹر سائیکل کی سیر تھی۔ محمّد پورہ کے بازار جسے "وڈّا بازار" کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، ناشتہ لینے کے لیے جانا ہوتا تو مانی میاں موٹر سائیکل کے ساتھ پہلے سے کھڑے ہوتے کہ ہم بھی جائیں گے۔۔ حلوہ اور پوری ان کا من بھاتا کھاجا تھا۔ وڈّے بازار میں پاء شفیع کی حلوہ پوری سب سے مزے دار ہوتی تھی اور رش بھی خوب۔ مانی کے لیے دو پوریاں اور انکے درمیان حلوہ رکھ کے الگ باندھا جاتا کہ اسے ایسا ہی پسند تھا۔
جولائی کا مہینہ تھا اور دسویں کی گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں۔ برسات کے موسم میں پھوڑے پھنسیاں نکل ہی آتی ہیں۔۔ اس کی کمر پر عین ریڑھ کی ہڈی کے اوپر ایک پھنسی سی نکلی۔۔ یہ کوئی خلاف معمول بات نہیں تھی۔۔ آم کھانے کے شوقین ہوں تو پھنسیاں تو نکل ہی آتی ہیں۔۔ کافی دن گزر گئے اور یہ پھنسی بڑھ کر پھوڑا بن گئی۔۔ مانی جو کبھی روتا نہیں تھا اور تنگ نہیں کرتا تھا وہ بے چین سا رہنے لگا۔۔۔ گھریلو ٹوٹکے آزمائے جاتے رہے کہ معمولی سا پھوڑا ہے، ٹھیک ہوجائے گا، لیکن نہیں ہوا۔ جولائی کی ایک گرم صبح ابّو اسے ساتھ لے کر ڈاکٹر کے پاس گئے۔ کہ چیک تو کروائیں کہ کیا مسئلہ ہے۔۔۔ اسی دن گیارہ بجے کے قریب، میں درمیان والے کمرے میں امّی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ کھڑکی سے دیکھا کہ برآمدے سے نکل کر تایا جی صحن میں آئے۔۔۔ مانی کو دونوں ہاتھوں پر اٹھائے۔۔۔ ابّو ان کے پیچھے تھے۔۔۔ مانی ایک کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔۔۔ یہ منظر ہے۔۔ جو نقش ہے۔
اس کے بعد کیا ہوا اس کا کچھ وضاحت سے مجھے علم نہیں۔ عصر کے بعد ہم نے اسے دفنا دیا۔ سخت گرمی اور حبس کا دن تھا۔ جنازے کے ساتھ جاتے ہوئے بھی میں سب سے پیچھے رہا۔ قبر میں کس نے اتارا، مجھے کچھ علم نہیں۔
وہ رات، خدا سے پہلے شکوے کی رات تھی۔ اس سے پہلے مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ میں سوچتا رہا کہ اتنی گرمی اسے لگتی تھی تو اب کیسے گڑھے میں اتنی مٹّی کے نیچے پڑا ہوگا۔۔ تو یہ سب کرکے خدا کو کیا ملا اور یہ چیز مجھے ایسی تکلیف دیتی تھی جس کا کوئی تجربہ مجھے اس سے پہلے نہیں تھا۔۔۔ میں گم آواز میں روتا رہا کہ مرد رویا نہیں کرتے۔
اس بات کو بہت عرصہ گزرگیا، مانو تو زندگی گزر گئی۔ وہ منظر آج بھی ویسا ہی شفّاف، سفّاک اور واضح ہے۔