بتا نہیں سکتا

تنہا سفر کرنا ہمارے لیے کبھی کوئی ایسا خوشگوار کام نہیں رہا۔  کوشش یہی ہوتی ہے کہ سفر کے آغاز میں ہی سوجائیں اور آنکھ کھلے تو منزل مراد شاد باد آچکی ہو۔سفر کی نیند بھی بہرحال  خواب میں کروڑ پتی ہونے والا حساب ہے ؛آنکھ کھلنے پر بندہ وہی کا وہی اور وہیں کا وہیں ہوتا ہے۔ خیر۔۔ آج ہم آپ کو ایک حالیہ سفر کا قصّہ سنانے جارہے ہیں ۔ فیصل آباد سے ایشیا کے صاف  اور خوبصورت ترین شہر گوجرانوالہ کا سفر۔
گوجرانوالہ کے ذکر سے ہمارے ذہن میں جو پہلی چیز آتی ہے وہ "کھوتا پُلی" ہے۔ حاشا و کلا اس سے  تفنّن مراد نہیں ہے۔ زندگی میں پہلی دفعہ  جب ہم گوجرانوالہ وارد ہوئے تو  سکول کے ابتدائی درجات میں اپنی استانیوں کو  شاگردی  کا شرف ارزاں کررہےتھے۔ سردیوں کے دن تھے اور رات کا سفر۔ جی ٹی ایس کی بس سے اتر کر جب تانگے میں سوار ہوئے تو ابّو جی کو پتہ سمجھاتے ہوئے کھوتا پُلی کا نام لیتے سنا۔  ہم دل میں بہت ہنسے کہ یہ کیا نام ہوا۔ اونچی آواز میں اس لیے نہیں کہ اس زمانے کے ابّو جی لوگ بہت بارعب ہوا کرتے تھے اور ان کے سامنے دَم مارنے کی جرات نہیں ہوتی تھی کجا منہ پھاڑ کر ہنسنا ۔ خیر ہم اپنے خالہ زادوں کو بہت عمر تک "کھوتا پُلی" کا نام لے کر چھیڑتے رہے۔۔۔ فیصلابادی جو ہوئے۔
دوسرا سفر ہم نے لڑکپن اور نوجوانی کے درمیانی عرصہ میں کیا۔ یہ ہمارے یکے از خالہ زادوں کی شادی کی تقریب تھی۔  گوجرانوالہ ابھی تک ایک بہت بڑی  کھوتا پُلی ہی تھا۔ شادی کا ڈیڑھ دن ہم نے بہت مشکل سے گزارا اور عین ولیمہ کے وقت فرار ہوکے عازمِ فیصل آباد ہوئے۔  اس کے بعد طویل عرصہ  تک گوجرانوالہ ہمارے لیے شہرِ ممنوع رہا۔ اس دفعہ بعدمدت مدید ایک کام کے سلسلے میں  گوجرانوالہ جانا ہوا۔
فیصل آباد میں اب  جی ٹی ایس  چوک ہی باقی رہ  گیا ہے۔ جی ٹی ایس تو  عرصہ ہوا ملازمین کو پیاری ہوگئی۔ فلائنگ کوچ  سے نجانے ہمیں اپنے کلب کرکٹ کے لیفٹ آرم سپنر  ثاقب یاد آجاتے ہیں جو موٹے شیشوں کا چشمہ پہنتے تھے اور انہیں پیار سے "انّہی فلینگ کوچ" کہا جاتا تھا۔ ان کے احترام میں ہم فلائنگ کوچ میں سفر کرنا کچھ مناسب نہیں سمجھتے۔ خیر احترام وغیرہ تو کچھ نہیں  اس کی اصل وجہ فلائنگ کوچ کی  نشستوں کا یک جان  دو قالب ہونا ہے۔ آپ کا قد معمول یا اس سے کچھ زیادہ ہے تو اس نشست پر تشریف رکھنے کے بعد گھٹنے قد کی مناسبت سے پیٹ یا سینے سے لگ جاتے ہیں اور ہر دھچکے پر ایسا لگتا ہے جیسے۔۔۔
؎  سینہ ءبشیر سے باہر ہے دم بشیر کا
ڈائیوو  نے موٹر وے تو خیر بنائی ہی تھی لیکن اس کا بڑا احسان بسیں چلانا ہے۔ سچ پوچھیں تو ہمیں اتنی عزت سے بذریعہ سڑک سفر کرنے کی عادت ہی نہیں رہی۔ لاری اڈّے پر مسافر کو ربڑ سمجھ کے کھینچا جاتا تھا۔ سانگلے جانے والے کو زبردستی سمندری کی بس میں کھینچ کر بٹھا دیتے کہ ۔۔۔۔ پاء جی بیٹھو تے سئی۔۔ گڈّی بس ٹُرَن ای لگّی اے۔۔۔ وہ بے چارہ چلاّتا رہتا کہ۔۔ او بھائیا۔۔ مَیں سانگلے جانا۔۔ لیکن اس غریب کی کوئی سنتا نہیں تھا۔  ڈائیوو کی دیکھا دیکھی  اب بہت سے لوگوں نے ویسی ہی بسیں منگوا  لی ہیں۔ ہوسٹس کا بندوبست بھی ہوگیا ہے۔ وائی فائی بھی چلتا ہے۔ تھکی ہوئی ہندی/انگلش فلم کے علاوہ  ٹھنڈا پانی اور گرم کولڈ ڈرنک بھی میسر ہے۔ سنیکس کے نام پر دو بسکٹ اور ہوا سے بھرا ایک  پیکٹ ملتا ہے جس میں سے کبھی کبھی آلو کے قتلے بھی برآمد ہوجاتے ہیں۔ 
تو صاحبان، مدّعا اس تفصیل کا یہ کہ ہم فلائنگ کوچ سے بچ کے ایک ڈائیوو نما بس میں جا گھسے۔  خوشگوار حیرت تب ہوئی جب عین وقت مقرّرہ سے پانچ منٹ بعد ہمارے سفر کا آغاز ہوگیا۔  مَلوکڑی سی ہوسٹس کے پاس جا کے ہم نے وائی فائی کا پاسورڈ دریافت کیا تو وہ چَمک کے غلامابادی لہجے میں بولیں، "پہلی دفعہ سفر کرنے لگے ہیں؟"۔ ہم نے مُنڈی اثبات میں ہلائی تو  انہوں نے ہمیں عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے پاسورڈ عنایت کیا اور ہم نیویں نیویں ہوکے اپنی نشست کی جانب روانہ ہوگئے۔ سائیں، خاتون اور جیالے کی بات کا ہم کبھی برا نہیں مانتے۔
ٹوئٹر  کھولا۔ اتنی صبح ٹوئٹر بالکل ہومیوپیتھک ہوتا ہے۔ سلام دعا چل رہی ہے۔ کہیں تلاوت لگی ہے تو کہیں اقوال زریں کا ناشتہ ہورہا ہے۔ کسی کو ڈی ایم نہ آنے کا نِمّا نِمّا گلہ ہے تو کوئی سب ٹویٹس میں نسرین/پروین/رخسانہ وغیرہ کو صبح بخیر کہہ رہا  ہے۔  واللہ اعلم دس گیارہ بجے کے بعد ٹویپس کو کیا موت پڑتی ہے کہ ایک دوسرے کے گریبان نوچنے پر تُل جاتے ہیں اور رات دس بجے تک یہی گھڑمس برپا رہتا ہے۔ دس بجے کے بعد اچانک پھر سب کو اپنی اپنی نہ ہونے والی محبتّیں یاد آنے لگتی ہیں اور وہ حسبِ توفیق میرؔ سے وصی شاہ سرکار اور محمد رفیع سے یویو ہنی سنگھ پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیتے ہیں۔ 
ہم نے بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دو چار خودساختہ اقوال زرّیں مارکیٹ کیے اور حسب خواہ ری ٹویٹس اور لائکس سمیٹ کر چپکے ہو رہے۔ ایک دفعہ جب لوگ آپ کو کچھ تسلیم کرلیں تو پھر چاہے ان کو جو مرضی انٹ شنٹ پڑھاتے رہیں وہ اس  کو" اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ" کہہ کے برکت ڈالتے رہتے ہیں۔ ہم بھی یہی نسخہ آزماتے ہیں کچھ بھی لایعنی، مہمل بات ٹویٹ کردیتے ہیں اور ہمارے پرستار اس میں سے ایسے ایسے نکات ڈھونڈ لاتے ہیں کہ ہمارے فرشتوں کے علاوہ ان کے سپروائزر کو بھی کوئی خبر نہیں ہوتی کہ ایں چہ چکر است۔۔۔ اور گلشن کا کاروبار چلتا رہتا ہے  اور ہم ری ٹویٹس اور لائکس کے نشے میں دُھت رہتے ہیں۔  جب نشہ ٹوٹنے لگتا ہے تو کسی گمنام سے شاعر کا فضول سا شعر ٹویٹ کرکے اس پر واہ واہ سمیٹ کے نشہ پورا کرلیتے ہیں۔ کچھ احباب دُشنام کا نشہ بھی کرتے ہیں ۔  یہ ملامتی صوفیاء کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا ٹوئٹری کے علاوہ روحانی دنیا میں بھی اونچا درجہ ہے۔ 
؎  آپ بھی گالم گال ہو مجھ کو بھی گالم گال کر
شہری حدود سے نکل کے موٹر وے پر چڑھتے ہی ہمیں کُوکِی چڑھنی  شروع ہوگئی اور گوجرانوالہ پہنچنے تک ہمیں صرف "سنیکس" کے لیے جاگنا پڑا جب  ہوسٹس بی بی نے ہمارے کان میں آکر کہا۔۔۔ "سرررر۔۔ سنیکس"۔۔ ہم ہڑبڑا کر اٹھے کہ شایدرہزن آگئے ہیں۔۔ جبکہ وہ سنیکس تھے۔ سنیکس کا ڈبہّ سامنے والی جالی میں اُڑس کے ہم دوبارہ کارِ زیاں میں مشغول ہوگئے اور ہماری آنکھ دوبارہ تبھی کھلی جب گوجرانوالہ شہر کی بتّیاں اور کھوتا ریڑھیاں نظر آنے لگیں۔ 
جس جگہ ہم بس سے اترے وہ شاید شیخوپورہ موڑ کہلاتی ہے۔ لاری اڈّے کی مخصوص افراتفری اور بے ترتیبی۔ سڑک کے ایک جانب پھلوں کی ریڑھیاں قطار اندر قطار  کھڑی تھیں اور تقریبا آدھی سڑک پر مالکانہ حقوق کا دعوی کیے ہوئے تھیں۔ باقی آدھی سڑک پر رکشے، موٹر سائیکلیں، تانگے، ریڑھیاں، چنگ چی، کاریں۔۔۔ توں ٹھہر جا ، مینوں لنگھ لین دے۔۔ کا عملی مظاہرہ پیش کررہی تھیں اور اس کوشش میں سب وہیں جمے کھڑے تھے۔ کاروں اور موٹر سائیکلوں  والے ہارن بجا رہے تھے اور ویگنوں، رکشوں والے نصیبو اور ہنی سنگھ کے گانے ۔ 
ہمیں گرجاکھ جانا تھا۔ تھوڑا پیدل چل کے ہم ایسی جگہ پہنچے جہاں رش کچھ چھَٹ گیا تھا۔ رکشے والے سے استفسار کیا کہ میاں، گرجاکھ  کا کیا لوگے؟ وہ بولے، سو روپیہ۔ ہم لپک کے رکشے میں سوار ہوگئے۔ رکشے والے بھائی کے تاثرات بتا رہے تھے کہ ابے گھامڑ، دو سو ہی مانگ لیتا۔۔۔ 
ہمارے ذہن میں گوجرانوالہ کا جو تاثر جما ہوا تھا اس دفعہ شہر اس سے مختلف دِکھ رہا تھا۔ وقت عجیب ستم ظریف شے ہے۔ انسان کو کھنڈر کردیتا ہے اور شہرسنوار دیتا ہے۔ رش بے ہنگم اور بے تحاشہ تھا لیکن صفائی کی جو صورتحال ہم نے دیکھ رکھی تھی، موجودہ حالت اس سے کہیں بہتر تھی۔ رستے ٹوٹے پھوٹے نہیں تھے۔ دس بجنے والے تھے۔ ناشتے کی دکانیں، ریڑھیاں ابھی تک رش لے رہی تھیں۔ بازار کھل رہے تھے۔ قریبا دس بجے ہم منزل مقصود تک پہنچ گئے۔ وہاں جو کام تھا، نمٹایا اور  بارہ بجے کے قریب فارغ ہوگئے۔ لشٹم پشٹم دوبارہ رکشے پر سوار ہوئے اور شیخوپورہ موڑ جاپہنچے۔
ٹکٹ کاؤنٹر سے لیکن ہمیں ٹکٹ کی بجائے مایوسی ملی۔ وڈّی بس جا چکی تھی اور اگلی بس تین بجے روانہ ہونی تھی۔ تین گھنٹے اس رونق میں گزارنے کے خیال سے ہی ہَول اٹھنے شروع ہوگئے تھے۔ ہم نے دوبارہ مسمسی سی صورت بنا کے ٹکٹ بابو سے پوچھا کہ کوئی گنجائش؟ وہ رکھائی سے بولے، "فلینگ کوچ لگّی جے۔۔۔ پندرہ منٹاں تک نکلے گی۔۔۔ اوہدے اچ چلے جاؤ"۔۔۔ ہم نے ایک لحظہ توقف کیا۔ تین گھنٹے لاری اڈے پر انتظار کرنے کا موازنہ فلائنگ کوچ کے سفر سے کیا اور دل بڑا کرکے حامی بھرلی۔ 
سمارٹ فون کے بے شمار گفتنی و ناگفتنی  فوائد ہیں۔ ہم بھی ہنگامی حالات کے لیے ہر وقت اپنے فون میں ایک دو فلمیں اور کسی ٹی وی شو کے تین چار ایپی سوڈ  کاپی کرکے رکھتے ہیں کہ ۔۔ نجانے کہاں زندگی کی شام ہوجائے۔۔۔۔  فلائنگ کوچ میں تشریف فرما ہوتے ہی ہم نے کانوں کو ٹونٹیاں لگائیں اور واکنگ ڈیڈ کی تازہ قسط ملاحظہ کرنی شروع کردی۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ کسی نے ہمارا کندھا تھپتھپایا۔ ایک درمیانی عمر کے صاحب جو درمیانی یعنی فولڈنگ نشست پر تشریف رکھتے تھے ، ہمیں گنڈیریاں چوپنے کی صلح مار رہے تھے۔ ہم نے نرمی سے شکریہ کہہ کے انکار کیا اور دوبارہ  فونی سکرین کی طرف متوجہ ہوگئے۔ چند ثانیوں بعد انہوں نے ہمارا گھٹنا ہِلا کے متوجہ کیا اور بھُنے ہوئے چنے پیش کیے۔ اگرچہ ہمارے برادرِ خُورد بچپن سے ہی ہمیں گھوڑا کہتے آرہے ہیں لیکن حاشا و کلا ہمیں بھُنے ہوئے چنوں سے ہرچند رغبت نہیں رہی۔ ہم نے نرمی سے انکار کیا اور ٹونٹیاں کانوں سے نکال کے  ان صاحب کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کی کہ ہم ایک فِریک شو قسم کے انسان ہیں اور دورانِ سفر کھانے سے اتنا پرہیز کرتے ہیں  کہ غصہ تک نہیں کھاتے۔ 
ہمیں اندازہ ہورہا تھا کہ فولڈنگ سیٹ والے صاحب فیصل آباد تک کا سفر ہم سے گپ شپ کرکے گزارنا چاہتے ہیں جبکہ ہم ایسا ہرگز نہیں چاہتے تھے ۔ کوئی رستہ نہ پاتے ہوئے ہم نے ٹونٹیاں لپیٹ کر فون سمیت کھیسے میں ڈالیں  اور کھڑکی سے باہر کا منظر ملاحظہ کرنے لگے۔ فلائنگ کوچ کسی ایسی سڑک پر گامزن تھی جو  پُل صراط کی کزن لگتی تھی۔ ناہموار، سامنے سے آتی ہوئی ٹریفک اور ایک دوسرے کو آخر تک رستہ نہ دینے کی مردانگی۔  وہ صاحب  اپنے ساتھیوں سے حکومتوں کی بے حسی پر دھواں دھار بحث کررہے تھے کہ  سڑک کا براحال ہے اور کوئی سننے والا نہیں۔ کہیں تو وہ ہمیں ایک چھوٹے موٹے حسن نثار ہی لگ رہے تھے۔ صاحب موصوف کی ناراضگی کی وجہ بھی بیلی پور کی سڑک ہی بتائی جاتی ہے۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔۔۔
ہمیں متوجہ دیکھ کر ان صاحب نے ہم سے سمال ٹاک کرنی شروع کی۔ کہاں جارہے ہیں۔ کہاں کے رہنے والے ہیں۔ گوجرانوالہ کوئی رشتہ دار ہے۔  ہم ان سوالات کے مناسب جواب دیتے رہے۔ جب انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں تو اچانک ہمارے اندر جاوید چوہدری کی کالمانہ روح بیدار ہوئی۔ ہم نے پہلو بدلا۔ کان کی لَو کھجائی۔ بالوں میں ہاتھ پھیرا اور منہ ان کے کان کے قریب لے جا کر آہستگی سے بولے۔ سرکاری ملازمت۔ حسب توقع اگلا سوال یہ تھا کہ کہاں؟ ہم نے لہجے میں مزید پُراسراریت سموتے ہوئے جواب دیا۔۔۔ بتا نہیں سکتا!
صاحب موصوف کو یکلخت جیسے چُپ سی لگ گئی۔  کچھ توقف کے بعد بولے کہ ہمارے گاؤں کا ایک لڑکا بھی ایسی ہی ملازمت کرتا ہے کسی کو پتہ نہیں کہ کیا اور کہاں کام کرتا ہے۔ جب اس کی شادی ہوئی تو اس سے دو دن پہلے تین جیپوں میں بندے بھر کے آئے اور پورے گاؤں کا سروے کرتے رہے۔ پھر شادی سے ایک رات پہلے وہ آیا اور عین ولیمے کے بعد دوبارہ واپس چلا گیا۔ صاحب کے چہرے پر خوف بھری عقیدت کے تاثرات صاف دیکھے جاسکتے تھے۔ یہ کہہ کر وہ پھر چُپ ہوئے تو فیصل آباد آنے تک ان کے منہ سے کوئی آواز نہیں نکلی۔ ہم نے واکنگ ڈیڈ کے دو ایپی سوڈ سکون سے دیکھے۔ شیخوپورہ روڈ پرچڑھنے کے بعد سڑک بھی ہموار ہوگئی اور کچھ دیر نیند نما چیز سے بھی لطف اندوز ہوئے۔ 
فلائنگ کوچ فیصل آباد شہر میں داخل ہوئی تو ہم نے ڈرائیور کو بتایا کہ ہمیں فلاں جگہ اتار دے۔ ہمارا سٹاپ آیا  تو اترنے سے پہلے ان صاحب  کی طرف سے "اللہ حافظ سر" کو ہم نے سر کی مربّیانہ  جنبش سے قبول کیا ۔ جیب سے چشمہ نکالا، جمایا اور قلانچ بھر کے فلائنگ کوچ سے کود گئے۔

ہم دل والوں کو بہت کچھ ہوتا ہے صنم

روحان یونیورسٹی جانے کے لیے  گھر سے نکلا تو دس بج رہے تھے۔  بلیو جینز پر وائٹ ٹی شرٹ ، جس  پر سامنے "کَم بے بی کَم" لکھا ہوا تھا، پولیس کا   چشمہ، نفاست سے ترشی ہوئی داڑھی اور گُوچی کی خوشبو میں بسا روحان  کمال  کسی فیری ٹیل کا پرنس یا یونانی دیوتا یا کسی فیشن میگزین کااطالوی ماڈل  لگ رہا تھا۔ نئے ماڈل کی کار کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھنے سے پہلے اس نے کار میں بیٹھنے کی دُعا پڑھی جو اس نے  اسی ہفتے علامہ اللہ دتّہ  کے تازہ ترین  درس میں سیکھی تھی۔  دس بجے کے بعد رش آور ختم ہوجاتا ہے ۔روحان نے کینال روڈ پر ایک سو تیس کی رفتار سے گاڑی دوڑانا شروع کی۔ کار سٹیریو پر یویو ہنی سنگھ   فل والیم میں اپنی سریلی آواز میں  گنگنا رہا تھا۔۔۔
چار بوتل واڈکا
 کام میرا روز کا
نہ مجھ کو کوئی  روکے
نہ کسی نے روکا
کار جہاں سے گزرتی ، دھم دھم کی آواز سے  لوگ باگ مُڑ کے دیکھتے ۔ کہیے تو جیسے روحان کمال، گشتی ڈی جے بٹ  ہو۔روحان نے   مارلبرو کے پیکٹ سے سگریٹ نکالا اور طلائی لائٹر سے سلگا کے لمبا کش لیا۔  نِرنے کلیجےمیں پہلا کش ٹھاہ کرکے لگا تو روحان کو یاد آیا کہ اس نے ناشتہ نہیں کیا۔ اس نے فورا گاڑی کا رخ  مکڈونلڈز کی طرف موڑدیا۔  ڈبل چِیز برگر اور ایکسٹر ا لارج پیپسی نے اسے تازہ دم کردیا۔  
روحان کی کار کیمپس میں داخل ہوئی تو اسے محسوس ہوا کہ آج معمول سے زیادہ چہل پہل ہے۔ گاڑی پارک کرکے وہ پولٹیکل سائنس ڈپارٹمنٹ کی طرف گامزن ہوا۔  نیلے آسمان پر ہلکے سرمئی بادل سورج سے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ فضا میں خوشگوار سی خنکی اور رومانیت تیر رہی تھی۔  ایسے موسم میں کس کافر کا دل سگریٹ پینے کو نہ چاہے۔ روحان نے سگریٹ سلگایا اور پہلا کَش لیتے ہی تمباکو ، پیپسی اور برگر  کا ملا جلا ڈکار مارا اور زیر لب الحمدللہ کہا۔  روحان کو اس وقت بالکل احساس نہ ہوا کہ کوئی اسے بہت انہماک سے دیکھ رہا ہے۔ وہ اپنی دُھن میں اجے دیوگن سٹائل میں سگریٹ ہونٹوں میں دبائے اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف  رواں دواں تھا۔
روحان پولٹیکل سائنس میں ماسٹرز کررہا تھا۔  اپنے ڈپارٹمنٹ کا وہ سب سے ذہین سٹوڈنٹ مانا جاتا تھا۔ روحان اتنے گولڈ میڈل جیت چکا تھا کہ اس  نے اپنی امّی  کو پانچ تولے کے کنگن بنا کے دئیے تھے۔  یہ اس کا اپنی امّی کے لیے ایک حقیر سا تحفہ تھا جنہوں نے اسے کپڑے سِی سِی کر پالا پوسا اور پڑھا رہی تھیں۔  ڈپارٹمنٹ میں پہنچ کر اسے چہل پہل کی وجہ معلوم ہوئی۔ آج ان کے ڈپارٹمنٹ میں نئے طلباء کی ویلکم پارٹی کا اہتمام تھا۔  روحان وہاں پہنچتے ہی سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔  پروفیسر عطیہ بخش نے روحان کو بلایا اور ہدایت کی کہ تقریب کی نظامت اس کے ذمہ ہے اور مہمان خصوصی کی خدمت میں سپاس نامہ بھی اسے ہی پیش کرنا ہے۔ نصابی کے ساتھ ساتھ روحان ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی دلچسپی لیتا تھا۔وہ   یونیورسٹی کی فٹبال، ہاکی، کرکٹ، سکواش، بیڈ منٹن، باڈی بلڈنگ،  شطرنج، کبڈی اور ڈبیٹنگ ٹیموں کا کپتان تھا۔  اس کی زیر قیادت ہر سال انٹر یونیورسٹی مقابلوں میں  کلین سویپ کیا جاتا تھا۔ 
تقریب شروع ہوئی ۔ روحان کمال نے اپنے مخصوص انداز میں سپاسنامہ پیش کیا۔ اشعار سے سجے اس اظہار یے نے شرکاء کو دم بخود کردیا۔ سپاسنامہ ختم ہوا  تو پورا  پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا۔ روحان نے نئے طلباء کے نمائندہ کو تقریر کے لیے بلایا  تو یکدم جیسے وقت ٹھہر سا گیا ہو۔ بنفشی آنکھیں، میدے جیسے رنگت، ستواں ناک، گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ ، نچلا ہونٹ تھوڑا سا اٹھاہوا، سرو قد، سر اور کان حجاب میں لپٹے ہوئے، فٹنگ والی بلیک شرٹ جس کے گلے پر سرخ کڑھائی اورسگریٹ ٹراؤزر ۔۔۔ جوبن ایسا کہ برسوں کی تپسّیا بھنگ کردے۔ روحان کی نظریں اس مایا جال میں ایسی الجھیں کہ اسے ڈائس خالی کرنا بھول گیا۔  اس مہ وش کی سانسیں جب اسے اپنے چہرے پر محسوس ہوئیں تو یکلخت جیسے وہ ہوش میں آگیا ہو۔ اس نے نظر بھر کے ایک دفعہ پھر اسے دل میں اتارا اور ڈائس اس کے حوالے کرکے  سٹیج کے عقب میں جا  کھڑا ہوا۔ روحان کو اس کا اندازہ اس دن ہوا کہ حُسن کوجس طرف سے بھی دیکھیں حُسن ہی رہتا ہے۔  سٹیج کے عقب میں کھڑے ہو کر اس پری وش کو تکتے رہنا  اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ ایک عجیب سی بے اختیاری اس پر طاری تھی ۔  وہ سگریٹ تک بھول چکا تھا ۔ یاد تھا تو بس وہ ایک نظارہ۔۔۔۔ یہ روحان کمال کی جوبنہ ودود سے پہلی ملاقات تھی۔
کیوپڈ اپنا کام کرچکا تھا۔ روحان کمال کا دل چھلنی ہوچکا تھا اور اس کے دل سے بہنے والے خون نے جوبنہ کا نام اس کی روح پر لکھ  دیا تھا۔ جوبنہ کا حال بھی مختلف نہیں تھا۔ آج صبح یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی اس نے روحان کمال کو کمال بے نیازی سے سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا تو اس کا دل اس کی نفاست سے ترشی ہوئی داڑھی میں اٹک گیا ۔ یہ محبت کی وہ گھاتیں ہیں جو معصوم دلوں کو چھلنی کردیتی ہیں گھائل پنچھی  اڑنا بھول جاتے ہیں۔  پیار کے گیت گاتے ہیں اور پیتم کو یاد کرتے ہیں۔
روحان اور جوبنہ نے وقت ضائع نہیں کیا۔ تقریب سے اگلے ہی دن روحان نے کلاس کے بعد جوبنہ کو گراسی پلاٹ میں برگد کے پیڑ کے نیچے بلایا ۔ جوبنہ فیروزی ٹی شرٹ اور جینز میں  پرستان سے آئی پری لگ رہی تھی۔ اس نے حسب معمول سر اور کان اچھی طرح سکارف سے ڈھکے ہوئے تھے ۔ ایک بال تک نظر نہیں آتا تھا۔  روحان نے جوبنہ کی  ساگر جیسی آنکھوں میں جھانکا، اس کامرمریں ہاتھ پکڑا، چشمہ اتار کے شرٹ کے کالر کی پچھلی طرف اٹکایا، اور اس سنگ مرمر سے بنے ہاتھ کو  اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔ جوبنہ بے اختیار ہوکر روحان کی  مضبوط بانہوں میں سما گئی۔   دور کہیں کنٹین پر یہ گانا چل رہا تھا۔۔۔۔
میں تے ماہی اینج جیویں
ٹچ بٹناں دی جوڑی
عشق اور مُشک چھپائے نہیں چھپتے۔ روحان اور جوبنہ کی کہانی بھی یونیورسٹی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ روحان کمال یونیورسٹی کی طلباء تنظیم کا صدر بھی تھا۔ طلباء تنظیم کی ہائی کمان کی طرف سے اسے   پیشی کا بلاوا آیا۔  روحان ، یونیورسٹی سے فارغ ہو کر ہیڈ آفس پہنچا تو تنظیم کے سارے بڑے اس کا انتظار کررہے تھے۔ چئیرمین واسع شریف  نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ ان کا رویہ واضح طور پر سرد تھا۔ انہوں نے تنظیم کے اغراض و مقاصد  اور ضابطہ اخلاق پر روشنی ڈالی۔ اسلام، نظریہ پاکستان اور اخلاقی اصولوں و مشرقی روایات کی اہمیت بیان کی۔  تمہید کے بعد واسع شریف نے  صاف الفاظ میں روحان اور جوبنہ کے تعلق کا ذکر کیا اور جوبنہ کے ملبوسات کو مشرقی و اسلامی روایات کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے روحان کمال سے وضاحت طلب کی کہ بطور صدر آپ یونیورسٹی میں ضابطہء اخلاق کے نفاذ کے ذمہ  دار ہیں۔ اور آپ نے آج تک یہ ذمہ داری بخوبی ادا کی ہے ۔ لیکن جوبنہ ودود کے مخرب الاخلاق ملبوسات بارے آپ نے یہ کوتاہی کیوں کی؟
روحان کمال نے  جیب سے پیکٹ نکالا، سگریٹ کھینچا، منہ میں دبایا، طلائی لائٹر سے اسے سلگا کر ایک طویل کش لیا ۔ دھواں واسع شریف پر چھوڑتے ہوئے بے نیازی سے جواب دیا۔۔۔
اوہنوں سج دے وی  نیں۔۔۔۔


پانامہ کا ہنگامہ - لاسٹ لاف

پانامہ کا معاملہ اپنے منطقی انجام کی طرف رواں دواں ہے۔ میاں نواز شریف اپنی سیاسی  بقاء کے لیے آخری حد تک جا چکے ہیں۔ انکے پاس جو تُرپ کا پتّہ تھا وہ کھیلا جا چکا ہے۔ اب صرف اس کے نتائج و عواقب کا انتظار ہے۔ اس معاملے کی تفصیل سے پہلے ایک کہانی سن لیجیے۔
سترہویں صدی عیسوی کے اختتام کا ذکر ہے۔ شمالی ہندوستان کے ایک غیرمعروف قصبے میں ایک پختون خاندان آباد تھا۔ گھر میں غربت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ بچوں میں سب سے بڑے لڑکے نے فیصلہ کیا کہ وہ شہر جا ئے گا اور  اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی خوشحال زندگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا۔ لڑکے کی عمر بمشکل پندرہ سولہ سال تھی۔ والدین نے بوجھل دل کے ساتھ بیٹے کو رخصت کیا اور پھر اپنی زندگی میں اس کی شکل دوبارہ نہ دیکھ سکے۔  دن مہینے سال گزرتے گئے اور اس لڑکے کی کوئی خبر نہ آئی۔ گھر والوں نے صبر کرلیا کہ شاید کسی حادثے کا شکار ہوگیا ہوگا۔ جیسے تیسے گھر کا نظام چلتا رہا۔ زمانہ بیت گیا۔ لڑکے کے والدین وفات پاگئے۔  بہن بھائیوں کی شادیاں ہوگئیں۔ سب اس لڑکے کو بھول بھال چکے تھے کہ ایک دن اچانک وہی لڑکا ایک ادھیڑ عمر شخص بن کر واپس آگیا!۔
کھچڑی بال، کندھوں تک دراز زلفیں، ترشی ہوئی خوبصورت داڑھی ، چہرے پر ایسا رعب کہ  دوسری نظر ڈالنی مشکل۔ بہن بھائیوں نے مشکل سے پہچانا کہ جب گھر چھوڑا تو سب بہت چھوٹے تھے۔ انہوں نے اسی قصبے میں جگہ لے کر ایک خانقاہ نما حویلی تعمیر کرانی شروع کی۔  حویلی تعمیر ہوچکی تو روزانہ وہاں لنگر پکتا اور سب کے لیے دعوتِ عام ہوتی۔ آہستہ آہستہ قرب و جوار میں ان کی شہرت پھیلتی گئی۔ یہ کوئی روحانی بزرگ یا پیر نہیں تھے لیکن پھر بھی دور دور سے لوگ ان سے ملنے آتے اور اپنے مسائل ان کے سامنے رکھتے۔ وہ دعا اور دوا ، دونوں سے ان کا حل نکالنے کی کوشش کرتے۔
بظاہر کوئی ذریعہ آمدن نہ ہوتے ہوئے بھی  حویلی کی تعمیر، لنگر  اور ضرورت مندوں کی مدد ، بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث تھا۔  ایک دن انہوں نے سب گھروالوں کو اکٹھا کیا اور ان سے رازداری کا حلف لے کر انہیں اپنے غیاب کی کہانی سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ گھر سے نکلے تو بردہ فروشوں کے ہتھے چڑھ گئے۔ چار سال ایک بیگار کیمپ میں گزارے۔ موقع پا کر وہاں سے فرار ہوئے اور ہمالیہ کی ترائی میں جا پہنچے۔  بردہ فروشوں کے خوف سے وہ کسی آبادی کے قریب نہیں جاتے تھے اور جنگل میں ہی بسر کرتے تھے۔ ایک رات  سوتے ہوئے ان کو زہریلے سانپ نے ڈس لیا۔   ان کی چیخ و پکار اس جنگل میں سننے والا کوئی نہیں تھا۔ اسی حالت میں بے ہوش ہوگئے۔ آنکھ کھلی تو خود کو ایک غار میں پایا۔  جہاں ایک دھان پان سے بزرگ بھی موجود تھے۔ اگلے دس سال انہوں نے اسی بزرگ کے ساتھ گزارے اور ان کی خدمت کرتے رہے۔ بوقت وصال ان بزرگ نے ان کو ایک ایسا راز دیا جس کے لیے زمانہءقدیم سے لوگ اپنی زندگیاں وقف کرتے آرہے ہیں۔
بزرگ نے انہیں سونا  بنانے کا نسخہ بتایا۔
اس کے ساتھ کچھ شرائط بھی عائد تھیں۔   اس سے اپنی ذات پر صرف بقدرِ ضرورت خرچ کیا جاسکتا تھا۔ اور یہ نسخہ آخری وقت میں صرف بڑے بیٹے کو منتقل کیا جاسکتا تھا اس سے پہلے ایسا کرنے کی کوشش کی جاتی یا کسی اور بتانے کی کوشش کی جاتی تو سونا بننا بند ہوجاتا۔  نسل در نسل یہ سلسلہ چلتا رہا ۔ یہ خاندان ہجرت کرکے موجودہ پاکستان میں آپہنچا۔ نسل در نسل اس راز کی حفاظت ہوتی رہی اور ضرورت مندوں اور محتاجوں کی مدد کی جاتی رہی۔ اپنی ضروریات پر کسی نے کچھ خرچ نہیں کیا اور محنت مزدوری کرکے خاندان کا پیٹ پالتے رہے۔
یہ اسّی کی دہائی کی ذکر ہے۔ جنرل ضیاء کا مارشل لاء لگ چکا تھا۔ پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد تھیں۔ افغان جہاد شروع ہوچکا تھا۔ ایٹمی پروگرام فیصلہ کُن مرحلے پر پہنچ چکا تھا۔ بھٹو کی موت کے بعد عربوں نے ایٹمی پروگرام کی فنڈنگ سے ہاتھ اٹھا لیا ۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ شاید یہ پروگرام ، جو پاکستان کی سلامتی کی ضمانت تھا، بند کرنا پڑتا۔ وزراتِ خزانہ کے ایک اعلی افسر ،جو  ایک پولیس آفیسر کے بچپن کے دوست تھے، انہوں نے اس بات کا ذکر ان سے کیا اور فکرمندی کا اظہار کیا کہ حالات بہت نازک ہیں۔ اگر فنڈز کا بندوبست نہ ہوا تو شاید ہمیں ایٹمی پروگرام روکنا پڑے۔ پولیس افسر  یہ بات سن کر چونکے اور اپنے دوست سے کہا کہ کیا وہ ان کی ملاقات کسی ذمہ دار حکومتی شخصیت سے کروا سکتے ہیں۔ بہت اصرار پر بھی انہوں نے اپنے دوست کو کچھ بھی بتانے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ اصل بات کسی ذمہ دار حکومتی شخصیت کو ہی بتائیں گے۔
یہ پنڈی کے حساس علاقے میں موجود ایک عمار ت کا کانفرنس روم تھا۔ کمرے میں جنرل ضیاء، غلام اسحاق خان، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور جنرل غلام جیلانی موجود تھے۔ پولیس آفیسر نے بات شروع کی۔ انہوں نے اپنےوزارتِ خزانہ میں موجود اپنے دوست کے ساتھ ہوئی  بات چیت کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ فنڈز کا مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔ جنرل ضیاء کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ  یہ بات سن کر بالکل محظوظ نہیں ہوئے۔ انہوں نے سخت لہجے میں پوچھا، "آپ کے پاس سونے بنانے کا نسخہ ہے؟" پولیس آفیسر نے جواب دیا، " جی ہاں"۔  یہ جواب سن کر کانفرنس روم میں ایک دم سنّاٹا چھا گیا۔ پولیس آفیسر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ان کو موقع دیا جائے تو وہ اس بات کو ثابت کرسکتے ہیں۔ جنرل ضیاء نے ڈاکٹر قدیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ساتھ لے جائیں   اور دیکھیں کہ یہ کیا کرتے ہیں۔
قصّہ مختصر، یہ پولیس آفیسر اسی پختون خاندان سے تعلق رکھتے تھے جن کے بزرگ کو ہمالیہ کی ترائی میں سونا بنانے کا نسخہ ملا تھا۔ انہوں نے کہوٹہ لیبارٹریز میں سب سائنسدانوں کے سامنے لوہے سے سونا  بنا کے دکھایا۔ ہر قسم کے ٹیسٹ کرنے کے بعد جب سب کو یقین ہوگیا کہ یہ خالص سونا ہے تو سب حیرت سے انگشت بدنداں رہ گئے۔ یہاں سے ایٹمی پروگرام کا آخری مرحلہ شروع ہوا۔ سونا بنانے کے لیے لوہے کی کثیر مقدار درکار  ہوتی تھی۔  اگر سرکاری طور پر خام لوہے کی کثیر مقدار در آمد کی جاتی تو اس سے غیرملکی ایجنسیوں کے کان کھڑے ہوسکتے تھے جو پہلے ہی پاکستان پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ اس موقع پر جنرل جیلانی نے لاہور کے شریف خاندان سے سلسلہء جنبانی شروع کیا۔ ان کو اس شرط پر اتفاق فونڈری واپس کی گئی کہ وہ اپنے نام پر سکریپ در آمد کریں گے اور حکومت کے حوالے کردیں گے۔ اس خدمت کے بدلے میاں شریف کے بڑے صاحبزادے کو پنجاب میں نمائشی قسم کا وزیر خزانہ بھی مقرر کیا گیا۔  سونا بنانے کا یہ کام تقریبا دو سال جاری رہا۔ اور  انیس سو تراسی کے لگ بھگ ایٹمی پروگرام  پایہء تکمیل کو پہنچا۔
یہ پولیس آفیسر، جہانگیر ترین کے والد تھے۔
جنرل ضیاء کی شہادت کے بعد بے نظیر حکومت میں آئیں۔ اس کے بعد دس سال تک جمہوری حکومتوں کی میوزیکل چئیرز جاری رہی۔ ایٹمی پروگرام کی تکمیل کے بعد پاکستان نے میزائل پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ غلام اسحاق خان نے جہانگیر ترین کو بلایا اور ان سے درخواست کی کہ میزائل پروگرام کے لیے فنڈز چاہییں جبکہ سیاسی حکومتوں کے لوٹ کھسوٹ سے ملک تقریبا دیوالیہ ہونے والا ہے۔ لہذا آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ جہانگیر ترین کے والد کے انتقال کے بعد سونا بنانے کا نسخہ ان  تک منتقل ہوگیا  تھا اور انہوں نے بھی اپنے والد کی طرح  اسے ملک کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔نوّے کا عشرہ جہاں سیاسی افراتفری اور حکومتی لوٹ کھسوٹ کا زمانہ گنا جاتا ہے وہیں اس عشرے میں پاکستان کا میزائل پروگرام بھی پروان چڑھا۔ اس کا سہرا سائنسدانوں کے بعد جہانگیر ترین کے سر ہے۔
غلام اسحاق خان نے بصد اصرار جہانگیر ترین کو بینک سے قرضہ لے کر دیا اور کہا کہ آپ ملازمت چھوڑ دیں اور کاروبار کریں تاکہ یکسو ہو کر ملک کی خدمت ہوسکے۔  دو ہی سالوں میں بینک کا سارا قرضہ لوٹا دیا گیا اور یہ سب کاروبار کی کامیابی سے ہوا۔ حیرت کی بات یہ کہ سونا بنانے کی صلاحیت کے باوجود، اس فن سے اپنی ذات پر ایک دھیلا بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ یہ سب ملک و قوم اور اسلام کی خدمت کے لیے استعمال ہوا۔  اسی دور میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں سمیت پورے حکمران طبقے میں ایک غیر تحریری معاہدہ طے پایا کہ چاہے کوئی بھی اقتدار میں ہو اور کیسے بھی حالات ہوں، جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا ۔ ان کو غیرسرکاری طور پر پاکستان کی فرسٹ فیملی کا درجہ دے دیا گیا۔  یہ بھی طے ہو ا کہ جیسے بھی سیاسی حالات ہوں، سیاسی مخالفت کسی بھی درجے تک پہنچی ہو، جہانگیر ترین پر کوئی بھی وار نہیں کرے گا  کیونکہ یہ خاندان پاکستان کا حقیقی محسن ہے۔
جنرل مشرف آئے ، اس کے بعد پی پی کی حکومت آئی۔ اس سارے عرصے میں سیاسی طور پر بہت خاک اڑائی گئی  لیکن کسی بھی طرف سے ترین کو ہدف نہیں بنایا گیا۔ وہ ن لیگ میں بھی رہے۔ جنرل مشرف کے ساتھ بھی رہے۔ ق لیگ میں بھی رہے لیکن انکا احترام ہر حکومت اور پارٹی نے ملحوظ رکھا۔  دو ہزار گیارہ میں جب پی ٹی آئی کا عروج شروع ہوا تو جہانگیر ترین  پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔ لوگ آج تک سوال اٹھاتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے پاس اتنے بڑے جلسے کرنے،  میڈیا پر اتنی کوریج کے لیے فنڈز کہاں سے آتے ہیں۔ اس کا جواب جہانگیر ترین اور ان کا سونا بنانے کا فن ہے۔ پاکستانی سیاست سے گند صاف کرنے کے لیے انہوں نے اپنے اس فن کو دوبارہ استعمال کیا۔ دو ہزار تیرہ کے انتخابات کی کہانی پہلے بیان ہوچکی ہے کہ کیسے اس وقت کی فوجی قیادت نے پی ٹی آئی کی کمر میں خنجر گھونپا تھا۔ اگر دھاندلی نہ ہوتی تو آج پاکستان کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ دھرنے کے دوران اور اس کے بعد جہانگیر ترین کا ہر وقت عمران خان کے ساتھ ہونا میاں نواز شریف کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ مشکل یہ بھی تھی کہ ترین کے خلاف وہ کسی بھی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کرسکتے تھے۔
پانامہ لیکس لیکن اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ میاں نواز شریف کو علم ہوچکا تھا کہ ان کے خلاف منصوبہ بنانے والوں میں شہباز شریف اور چوہدری نثار بھی شامل ہیں۔ بیماری کا بہانہ بنا کر لندن روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے دو کام کیے۔ حمزہ شہباز کو اغوا کرواکے افغانستان بھجوادیا جہانگیر ترین کے خلاف جعلی بنک دستاویزات تیار کروائیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے بنک سے قرضہ معاف کروایا۔ حمزہ شہباز کو اغوا کرنے کی کہانی دلچسپ اور عبرت آموز ہے۔ کسی دور میں حمزہ کو ن لیگ میں نواز شریف کا جانشین سمجھا جاتا تھا۔ سیاسی سوجھ بوجھ اور متحرک شخصیت کی وجہ سے وہ کارکنان میں ہر دلعزیز تھے۔  لیکن اقتدار کا کھیل ایسا ظالم ہے کہ خون کے رشتے بھی اس کے سامنے ماند پڑجاتے ہیں۔ شہباز شریف نے اقتدار کی خاطر بھائی کے خلاف منصوبے میں شرکت کی اور بھائی نے اقتدار کے لیے سگے بھتیجے کو اغوا کراکے بھائی کو پیغام دیا کہ  اقتدار کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
لندن میں قیام کے دوران انہوں نے جہانگیر ترین کے بچوں کے نام پر جائیداد کا سراغ لگانے کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہایا۔ جہانگیر ترین اگر چاہتے تو سارا لندن خرید سکتے تھے ان کے لیے دولت کوئی مسئلہ نہیں۔ ریاست پاکستان ان کو دنیا میں کسی بھی جگہ ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنے پرہروقت تیار رہتی تھی۔ لیکن انہوں نے اپنے  جائز کاروبار سے کمائی ہوئی دولت سے اپنے بچوں کے لیے جائیداد خریدی۔ جس خاندان نے اس ملک کے لیے ایسی خدمات سرانجام دیں کہ شاید تاریخ میں اس کی مثال نہ مل سکے اس کو ایسے رسوا کرنا پرلے درجے کی بددیانتی اور بے ایمانی گنی جائے گی۔
پاکستانی فیصلہ سازوں کا پیمانہءصبر لبریز ہوچکا ہے۔ جہانگیر ترین کے خلاف حالیہ کردار کشی کی مہم  ناقابل برداشت ہے۔ میاں نواز شریف نے اس غیر تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس کی پاسداری آج تک پاکستان کے ہر سیاستدان، جنرل اور مقتدر شخص نے کی ۔ میاں صاحب نے محسن کشی کی۔ آج وہ اگر اس مقام پر ہیں تو  جہانگیر ترین کی وجہ سے ہیں نہ ان کو اتفاق فاؤنڈری واپس ملتی اور نہ وہ پنجاب کے نمائشی وزیر خزانہ بنتے۔ اپنی سیاست کے لیے انہوں نے خون کے رشتوں سے وفا نہیں کی تو ملک سے کیا وفا کریں گے۔
میاں صاحب، آپ کے دن گِنے جا چکے ہیں۔ 

پانامہ کا ہنگامہ

بالآخر اس کھیل کا انجام ہونے کو ہے جو آج سے چھ سال پہلے شروع ہوا تھا۔ یہ دو ہزار گیارہ کے اوائل کا قصہ ہے۔ پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت تھی  اور نواز شریف ڈیل کے تحت انتخاب لڑنے کے اہل نہیں تھے لہذا قومی اسمبلی سے باہر تھے۔ مقتدر حلقوں کے ساتھ ان کے تعلقات کی تاریخ کافی پرانی اور تلخ ہے۔ جبکہ ان کے برادر خورد ہمیشہ سے ان حلقوں کے فیورٹ رہے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن کا ذکر آگے آئے گا۔
اسی سال کے شروع میں چوہدری نثار کے ذریعے نواز شریف نے جی ایچ کیو سے دوبارہ رابطہ استوار کرنے کی کوششیں کیں۔ اس کی فوری وجہ سیاسی منظرنامے پر عمران خان کی دھماکہ خیز آمد تھی۔ نواز شریف جو اگلے انتخاب کو اپنی جیب میں سمجھ رہے تھے ان کے لیے یہ امر بہت تشویش ناک تھا۔ عام خیال کے برعکس عمران خان کے سیاسی ابھار کی وجہ مقتدر حلقوں کی حمایت نہیں تھی۔ اصل بات اس سے بالکل الٹ تھی۔ عمران خان  انہی معاملات کو لے کر چل رہے تھے جو عام آدمی کے دل میں تھے ۔ مثال کے طور پر ڈرون حملے، پاکستان میں غیرملکی مداخلت، کرپشن، اقربا پروری، موروثی سیاست، میرٹ کا قتلِ عام وغیرہ۔  عمران خان پاکستانی سیاست میں ایک نیا مظہر تھا۔ روایتی دائیں بازو کا ووٹر تو ان سے متاثر تھا ہی لیکن شہری علاقوں کی اپر مڈل اور اپر کلاس جو روایتی طور پر سنٹر کا ووٹ سمجھی جاتی ہے وہ عمران خان کی پرجوش حمایت میں نکل آئی۔  یہ صورتحال ن لیگ اور نواز شریف کے لیے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں تھی۔
یہ رائے ونڈ کے شریف محلات کے ایک عالیشان کمرے مین ن لیگ کے تھنک ٹینک کے اجلاس کا منظر تھا۔ حاضرین میں نواز شریف، چوہدری نثار، اسحاق ڈار، شہباز شریف اور ایک حاضر سروس ہستی موجود تھی۔ اس اجلاس کا یک نکاتی ایجنڈا "عمران کا رستہ کیسے روکا جائے" تھا۔  بات چوہدری نثار نے شروع کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بجائے عمران کی مخالفت کے اس کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ قومی اسمبلی کی پچاس سیٹیں ، پنجاب میں سینئر وزیر اور چھ وزارتیں اور کے پی کے کی وزارت اعلی پی ٹی آئی کو آفر کرنی چاہیے۔  شہباز شریف اس سے متفق تھے۔ انہوں نے اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے کلین امیج کا ہمیں بھی فائدہ ہوگا اگر ہم اس کے ساتھ انتخابی اتحاد کرلیں۔  شہباز شریف نے مہاتیر محمد سے ملاقات کا بھی ذکر کیا۔ مہاتیر  جب پاکستان کے دورے پر آئے تو  شہباز شریف سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اس ملاقات میں شہباز شریف کو بتایا کہ آپ کے پاس ایک ایسا شخص موجود ہے جو اس ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈال سکتا ہے ۔ شہباز شریف کے استفسار پر انہوں نے عمران خان کا نام لیا اور کہا کہ یہ شخص قائد اعظم ثانی ہے۔ اگر یہ ملائشیا میں ہوتا تو ہم شاید پوری دنیا پر حکمرانی کرر ہے ہوتے۔ مہاتیر نے یہ مشورہ بھی دیا کہ آپ اس کے ساتھ مل کے اگلا انتخاب لڑیں ۔ لوگ آپ پر نوٹ اور ووٹ نچھاور کردیں گے۔ نواز شریف خاموشی یہ سب سن رہے تھے۔ ان کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔  شہباز شریف خاموش ہوئے تو نوا ز شریف نے گفتگو کا آغاز کیا۔ ان کی لہجے کی تلخی  محسوس کی جاسکتی تھی۔ انہوں نے نثار/شہباز کی تجویز کو کُلّی طور پر رد کرتے ہوئے محفل کے پانچویں فرد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پوچھیے کہ یہ عمران خان کے بارے کیا سوچتے ہیں۔ حاضر سروس ہستی نے  ختم ہوتے سگریٹ سے اگلا سگریٹ سلگایا۔ لمبا کَش لیا اور اپنی مخصوص دھیمی آواز میں کہنے لگے ۔ "عمران اس ملک کے پاور سٹرکچر کا سٹیک ہولڈر بن گیا تو ہم سب مارے جائیں گے۔ ہم کسی بھی صورت یہ رسک نہیں لے سکتے۔" انہوں نے بطور خاص نثار اور شہباز سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں تو ہم پی پی سے بات کرلیتے ہیں۔ لیکن عمران کا آنا کسی بھی صورت ہمیں قبول نہیں ہے۔اسحاق ڈار جو اس اجلاس میں اب تک خاموش تھے۔ انہوں نے اپنے بریف کیس سے کاغذات کا پلندہ نکال کر میز پر دھرا اور بولے۔ یہ سب ہمیں پاکستان  واپس لانا پڑے گا۔ آپ کو اندازہ ہے کہ یہ سب کتنا ہے؟ تئیس 23 بلین ڈالرز۔ یہ ہماری ساری زندگی کی کمائی ہے۔ آپ یہ سب برباد کرنے کو تیار ہیں؟
بظاہرشہباز اور نثار لاجواب ہوچکے تھے۔ نواز شریف ، اسحاق ڈار اور حاضر سروس  اس معاملے پر ایک پیج پر تھے کہ عمران کو روکا جانا چاہیے۔ شہباز اور نثار کو بھی بادلِ نخواستہ ہاں میں ہاں ملانی پڑی۔  اس کے بعد جو ہوا وہ سب ویسا نہیں تھا جیسا عام طور پر سمجھایا یا دکھایا گیا۔ حاضر سروس ہستی کے خاندان کے افراد کو بڑے بڑے ٹھیکے ملے۔ ان کے ایک معتمد جن پر عمران کی سیاسی اتالیقی کا الزام تواتر سے آج تک لگایا جاتا ہے، انہوں نے بھی اس گنگا میں جی بھر کے اشنان کیا۔ یہ سموک سکرین تھی تاکہ لوگوں اور میڈیا میں یہ تاثر بنایا جائے کہ پی ٹی آئی کی بڑھتی ہوئی سیاسی حمایت کے پیچھے مقتدر حلقے ہیں۔ اور یہ تاثر کامیابی سے بنایا گیا۔
اس اجلاس میں طے پانے والی ڈیل کے باوجود عمران اور پی ٹی آئی کا راستہ روکنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا تھا۔ مقتدر حلقوں کی اپنی ایجنسیوں کے سروے اور رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی ساٹھ فیصد نشستیں جیتنے جارہی تھی۔ یہ صورتحال جہاں ن لیگ کے لیے خوفناک تھی وہیں کچھ حاضر سروس لوگوں کے لیے بھی بے خواب راتوں کا سبب بنی ہوئی تھی۔ پی ٹی آئی کا راستہ روکنے کے لیے ہر حربہ آزمایا جارہا تھا۔ الیکٹ ایبلز کو ہانکا لگا کر ن لیگ میں دھکیلا جا رہا تھا۔ کچھ لوگوں نے انکار کرنے کی جرات کی تو انہیں جانی، مالی طور پر نقصان پہنچا کر عبرت ناک مثال بنایا گیا۔  الیکٹرانک میڈیا پورے کا پورا خرید لیا گیا تھا۔ صرف اس مد میں چوہتر 74 ارب روپے خرچ کیے گئے۔  عمران خان کو مختلف لوگوں کے ذریعے ترغیبات /دھمکیاں بھی دی گئیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ خان کے چہرے پر سوائے  ایک طنزیہ مسکراہٹ کے کوئی تاثر نہیں ہوتا تھا۔ سب حربوں کے باوجود پی ٹی آئی پنجاب میں میدان مارتی جارہی تھی۔ میٹرو/لیپ ٹاپ جیسے مہنگے اور بلاضرورت منصوبوں کے باوجود لوگ  ن لیگ سے متنفر ہوتے جارہے تھے۔ اس  موقع پر آخری داؤ کھیلا گیا۔
جب یہ نظر آنے لگا کہ انتخابات میں پی ٹی آئی واضح اکثریت سے جیتنے جارہی ہے تو انتخابات ملتوی کرنے کا منصوبہ بنا۔ اس کام کے لیے  مقتدر حلقوں نے اپنے آزمائے ہوئے طاہر القادری کو میدان میں اتارا۔ عام تاثر یہی تھا کہ طاہر القادری ، نواز شریف دشمنی میں یہ سب کررہے ہیں جبکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف تھی۔  اس کے برعکس قادری کے دھرنے کا سارا خرچہ بمع ساڑھے سات ارب کیش ، نواز شریف نے اپنی جیبِ خاص سے ادا کیا۔ پلان یہ تھا کہ قادری کے دھرنے کو جواز بنا کر انتخابات ملتوی کردئیے جائیں۔ تین سال کے لیے نگران حکومت بنا دی جائے اور اس عرصے میں پی ٹی آئی کا مکمل صفایا کرکے انتخابات کرادئیے جائیں۔ اس ظالمانہ نظام کو بچانے کا یہ حربہ بھی ناکام گیا۔ قادری کا دھرنا ایک مذاق ثابت ہوا۔ اس میں اہم کردار پھر پی ٹی آئی کا تھا۔ عمران خان نے اس دھرنے کی شدت سے مخالفت کی۔ جبکہ سوشل میڈیا پر موجود پی ٹی آئی کے نوجوانوں نے اس کو ایک مذاق بنا کے رکھ دیا۔ ایک اور وار خالی گیا۔
انتخابات سر پر تھے اور آزادانہ  سروے، ملکی اور غیر ملکی  انٹیلی جنس رپورٹس پی ٹی آئی کی لینڈ سلائڈ فتح کی پیشگوئی کررہی تھیں۔  اگر کہا جائے کہ پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ رہی تھی تو بے جا نہ ہوگا۔ عمران خان کو بطور وزیر اعظم پاکستان  ہضم کرنا پاکستانی اشرافیہ، مقتدر طبقات کے علاوہ بین الاقوامی اشرافیہ کے لیے بھی ڈراؤنا خواب ثابت ہوسکتا تھا۔  اس بھیانک خواب سے بچنے کے لیے اس کھیل کا آغاز ہوا جسے اسرائیل کی تخلیق کے بعد شاید سب سے بڑی سازش قرار دیا جاسکتا ہے۔
اس کھیل میں سبھی ملکی اور غیر ملکی کھلاڑی  شامل تھے۔ پاکستا ن کا ایک "دوست" ملک، ایک دشمن ہمسایہ، عالم اسلام کے قلب میں گڑا ہوا خنجر اور اس کا سرپرست سب اکٹھے تھے۔ سب کا مقصد صرف ایک تھا۔ پی ٹی آئی کا راستہ روکنا۔ اس کے لیے پاکستان میں خرید و فروخت کا ایسا بازار لگا جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ کیا صاف شفاف سیاستدان، کیا سو کالڈ ایماندار جج اور  کیا  باضمیر صحافی،  سب  اس بازار میں برائے فروخت تھے۔  اس  کام کے لیے ایک سو سترہ ارب روپے مختص ہوئے۔ لیکن ایک بات شاید خریدنے والے بھول گئے۔ عوام کو خریدنا  ممکن نہیں ہوتا۔ آخر گیارہ مئی کا دن آپہنچا۔  انتخاب ہوا  اور تمام تر دھاندلی، دھونس اور بدمعاشی کے باوجود پی ٹی آئی  نے میدان مار لیا۔ سب منصوبے، خرید و فروخت، سازشی پلان دھرے کے دھرے رہ گئے۔ کے پی کے ابتدائی انتخابی نتائج آنے کے بعد جب منصوبہ سازوں کو احساس ہوا کہ ان کی ساری کوششیں نقشِ بر آب ثابت ہوئی ہیں تو "پلان بی" پر عمل در آمد شروع کردیا گیا۔ نتائج روک دئیے گئے۔ ریٹرننگ آفیسرز کو یرغمال بنا لیا گیا اور جس نے چوں چرا کرنے کی کوشش کی اسے خاندان سمیت عبرت کا نشان بنانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ تعاون کرنے والوں کو نقد  اور آؤٹ آف ٹرن ترقی کے وعدے کیے گئے جو بعد میں پورے بھی ہوئے۔  ایک سابق نگران وزیر اعلی پر ہوئی عنایتیں سب کے سامنے ہیں۔
پاکستان کے عوام سے ایک بار پھر حقِ نمائندگی چھین لیا گیا۔ پی ٹی آئی ایک سو تریپن 153 نشستوں پر جیت رہی تھی۔ لیکن نتائج مکمل ہوئے تو اس کے پاس صرف چالیس کے قریب نشستیں بچی تھیں۔  کوئی بھی اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔ عمران خان کو متحرک رکھنے سے روکنے کے لیے انتخابی مہم کے آخری حصے میں ایک پلانٹڈ حادثے کا شکار کردیا گیا۔ منصوبہ سازوں کو علم تھا کہ متحرک عمران خان کے ہوتے ہوئے  دن دہاڑے انتخاب چرانا ممکن نہیں ہوگا۔ عمران ہسپتال کے بستر پر بے یارومددگار پڑے تھے اور  پاکستانی عوام کا حقِ رائے دہی لوٹا جا رہا تھا۔  یہ پاکستانی تاریخ کا سب سے تاریک دن تھا۔  منصوبہ سازوں کی امیدوں کے برعکس عمران  اپنی قوت ارادی کے بل بوتے پر وقت سے پہلے صحت یاب ہو کر میدان میں اتر آئے۔ اب ان کا ایک ہی ایجنڈا تھا۔ عوام کا حقِ رائے دہی واپس لینا۔ پہلے دن سے انہوں نے اس کھلی بے ایمانی کے خلاف آواز بلند کی۔ پارلیمان میں ان کی تقریر آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ انہوں نے کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کیا اور انتخابات میں دھاندلی کی کھلی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ سازشی ٹولہ اس مطالبہ کو  کبھی نہیں مان سکتا تھا۔ عمران کا مذاق اڑایا گیا۔ ان کو زچ کیا گیا ۔ آخر کار کپتان نے سب سازشیوں کا بلف کال کر لیا۔
اسلام آباد تک لانگ مارچ اور دھرنے کے اعلان نے منصوبہ سازوں کے ایک دفعہ پھر ہوش اڑا دئیے ۔ ان کو علم تھا کہ عوام کا سمندر ہوگا اور پھر ان کو بچانے والا کوئی نہیں رہے گا۔ مقتدر حلقوں میں ہونے والی تبدیلیاں بھی پاکستان کے لیے خوش خبری تھیں۔ ذاتی مفادات کے لیے ملک کو داؤ پر لگانے والے جا چکے تھے اور ان کی جگہ پاکستان کے سچّے سپوت لے چکے تھے۔  منصوبہ سازوں نے اس انقلاب کو ڈی فیوز کرنے کے لیے پھر اپنا آزمودہ مہرہ میدان میں اتارا۔ طاہر القادری  کو یہ سارا شو ہائی جیک کرنے کےلیے میدان میں اتارا گیا۔ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ بھی منصوبہ سازوں کی ایماء پر ہوا تاکہ ساری توجہ طاہر القادری کی طرف مبذول کرائی جاسکے۔میڈیا میں یہ تاثر پھیلایا جارہا تھا کہ طاہر القادری اور عمران خان مقتدر حلقوں کی  شہ پر اسلام آباد کی طرف چڑھائی کررہے ہیں تاکہ جمہوریت کو ختم کیا جاسکے۔ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ عمران خان جمہوریت کو بچانے جبکہ طاہر القادری اس کو تباہ کرنے کے درپے تھے۔
چودہ اگست کا دن آپہنچا اور عمران خان، عوام کے ایک سمندر کے ساتھ اسلام آباد آن براجے۔ لوگوں کو نظر آرہا تھا کہ اب پاکستان میں ایک حقیقی تبدیلی اور انقلاب آرہا ہے۔ سازشی اور لٹیرے بے نقاب ہورہے ہیں۔ اور خلق خدا کے راج کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے مقتدر حلقوں  سے مدد مانگی تو وہاں سے صاف جواب ملا کہ سیاسی معاملے کو سیاسی طریقے سے حل کریں  اور اس میں ہم آپ کی کوئی مدد نہیں  کرسکتے۔ دھرنے نے منصوبہ سازوں کے ہوش و حواس اڑا کے رکھ دئیے تھے۔ کبھی چین کی اربوں ڈالرز امداد کی افواہیں پھیلائی جاتیں اور کبھی عمران خان پر الزامات لگائے جاتےکہ یہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ ہر حربہ آزمانے کے باوجود بھی جب عمران خان کو ہلایا نہ جاسکا تو پھر منصوبہ سازوں نے ایسا گھناؤنا وار کیا جس کی امید بدترین دشمن سے بھی نہیں ہوسکتی۔
یہ امر شاید سب کے لیے حیران کُن  نہ ہو کہ آرمی پبلک سکول سانحہ میں  ہمسایہ ملک کی مدد سے معصوم بچوں کو شہید کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ اسی ملک کے حکمران تھے۔ تاکہ اس دھرنے سے نجات حاصل کی جائے جس نے ان کے جعلی اقتدار کو حقیقی خطرے سے دوچار کر رکھا تھا۔ بادلِ نخواستہ دھرنا ختم کرنا پڑا۔   منصوبہ سازوں کا ایک دفعہ پھر وقتی کامیابی حاصل ہوچکی تھی۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس گھناؤنے فعل سے ان کی اپنی صفوں میں ہی پھُوٹ پڑ چکی ہے۔ بہت خفیہ ہونے کے باوجود اس منصوبے کی بھنک چوہدری نثار اور شہباز شریف  کو مل چکی تھی۔ جن کے ذریعے یہ خبر مقتدر حلقوں تک بھی پہنچ گئی۔ اس دفعہ بننے والا منصوبہ پاکستان کو بچانے والا تھا۔ اس منصوبے میں چوہدری نثار، شہباز شریف اور دو حاضر سروس  شامل تھے۔ شہباز شریف ساری زندگی بڑے بھائی کے بلنڈرز کی پردہ پوشی کرتے رہے لیکن یہ سانحہ شاید اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ وہ کھل کر ان کے خلاف صف آرا ہوچکے تھے۔ یہ شہباز شریف ہی تھے جن کے بیٹے کو پورا خاندان، مشرف کے پاس ضمانت کے طور پر چھوڑ گیا تھا ۔ شہباز شریف کی کارکردگی پر ہر دفعہ ووٹ لے کر جیتنے والے نواز شریف نے کبھی ان کو وہ اہمیت نہیں دی جو ان کا حق تھا۔ حمزہ شہباز جو جلاوطنی کے دنوں میں ن لیگ کو زندہ رکھے ہوئے تھے ان کو مریم نواز شریف کے سیاسی کیرئیر پر قربان کرنے کا منصوبہ بھی بن چکا تھا۔ شہباز شریف نے اپنی زندگی اور کیرئیر تو بھائی پر قربان کردی لیکن جب اولاد کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا نظر آیا تو  ان کی برداشت جواب دے گئی۔
یہ پنڈی کے ایک حساس علاقے میں موجود عمارت کا ڈرائنگ روم تھا۔ شہباز شریف، چوہدری نثار،  حمزہ شہباز اور دو حاضر سروس ہستیاں اس  کمرے میں موجود تھیں۔ موضوع گفتگو "گیٹ نواز شریف سُون" آپریشن تھا۔ شہباز شریف نے اپنے  کوٹ کی جیب سے یو ایس بی نکالی اور میز پر موجود لیپ ٹاپ میں لگا کر سب لوگوں کو متوجہ ہونے کا کہا۔ اس یو ایس بی میں وہ تمام معلومات تھیں جن سے ثابت ہوتا تھا کہ کیسے پاکستان کی دولت لوٹ کر اسے بیرون ملک بھیجا گیا۔ بے نامی بینک اکاؤنٹس، کمپنیز، ٹرانزیکشنز سب کچھ اس میں موجود تھا۔ کمرے میں موجود  دونوں افسر دم بخود یہ سب دیکھ رہے تھے۔ شہباز شریف نے اپنی پریزنٹیشن ختم کی اور یو ایس بی نکال کر اپنے ساتھ بیٹھے افسر کے حوالے کردی۔  یہ پانامہ لیکس کی شروعات تھیں۔
اس کے بعد اس آپریشن کا آغاز ہوا جسے تاریخ میں سب سے عظیم سپائی آپریشن کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ پوری دنیا کی انٹیلی جنس ایجنسیز کے مقابلے میں پاکستانی افسروں نے وہ کارنامہ کر دکھایا جو کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا۔ جرمن اخبار کو  موساک فانسیکا بارے معلومات دینے والا نامعلوم شخص کوئی اور نہیں بلکہ پاکستانی آفیسر ہی تھا۔ جس نے جان پر کھیل کر یہ معلومات حاصل کیں۔ اگر یہ سب پاکستانی میڈیا کے سامنے پیش کیا جاتا تو اس پر جمہوریت کے خلاف سازش کا الزام لگا کے اس کو رد کردیا جاتا  لیکن چوہدری نثار کی ذہانت نے یہ مسئلہ حل کردیا۔  غیرملکی ثقہ اخبار میں چھپنے کی وجہ سے اس کی کریڈیبلٹی پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکا۔ بالآخر وہ وقت آگیا ہے جب عوام کے ووٹ اور ان کی دولت لوٹنے والے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ ان کے لیے اب کوئی راہِ فرار باقی نہیں رہی۔ مقتدر حلقوں میں ان کے ہمدرد ختم ہوچکے۔  مکافات عمل اب ان کا انتظار کررہا ہے۔
عمران خان بالآخر سچّا ثابت ہوا۔

سٹین لیس سٹیل وُضو

آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ  عبدالمنّان پیدائشی صُوفی بزرگ ہیں۔ یہ پیدا ہوئے تو دائی نے انہیں نہلایا۔ یہ ان کا پہلا وُضو تھا۔  یہ آج تک اس وُضو کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک چلتا پھرتا معجزہ ہیں۔ یہ سب کچھ کھاتے ہیں۔ ان کا ناشتہ دیکھ کے پہلوان سکتے میں رہ جاتے ہیں۔  یہ سات روغنی نان ، نہاری کی چار پلیٹیں ، دیسی گھی کے تین پراٹھے، پندرہ انڈوں کا آملیٹ ، پانچ مگ دودھ پتّی اور ادّھ رڑکے کے تین جگ  ناشتے میں ڈکار جاتے ہیں۔ ان کا لنچ گوالمنڈی کے بٹ صاحبان کو غش کھانے پر مجبور کرسکتا ہے۔ ان کی ایوننگ ٹِی ، ویری ہائی ٹِی ہوتی ہے۔ ان کا ڈنر کانٹی نینٹل ہوتا ہے۔ یہ رات کو سونے سے پہلے کھجوروں والے دودھ کے جگ میں آدھ کلو دیسی گھی ملا کے نوش کرتے ہیں۔ عبدالمنّان  کی شادی بھی ہوچکی ہے۔ یہ چار بچوں کے باپ بھی ہیں۔ یہ سب کچھ کر کے بھی ان کا وُضو نہیں ٹوٹتا۔  یہ کیسے ہوتا ہے؟ میڈیکل سائنس اس پر حیران ہے۔    یہ سب ایمان کا کرشمہ ہے۔ عقل اس کو کبھی انڈرسٹینڈ نہیں کرسکتی۔
یہ حاجی ثناءاللہ کے لنگوٹیے ہیں۔  یہ جب بھی پریشان ہوتے ہیں انکو کوئی مسئلہ تنگ کرنے لگتا ہے ان کی زندگی سے فَن ختم ہونے لگتاہے، یہ حاجی صاحب کے پاس چلے جاتے ہیں۔ یہ ان کی دکان پر دو گھنٹے گزارتے ہیں۔ ان کی بیٹری چارج ہوجاتی ہے۔ یہ دوبارہ فریش ہوجاتے ہیں۔ ان کا انرجی لیول میکسیمم ہوجاتا ہے۔  حاجی ثناءاللہ سے انہوں نے زندگی میں بہت کچھ سیکھا۔ یہ پہلے سچ نہیں بولتے تھے۔ یہ لوگوں کو گیڑے کراتے تھے۔ یہ بچوں کی کلفیاں چھین کے کھا جاتے تھے۔  یہ خواتین کو ایسے دیکھتے تھے جیسے خواتین ،لان کے نئے پرنٹ دیکھتی ہیں۔  حاجی صاحب یہ سب نوٹس کرتے رہے۔ یہ خاموشی سے عبدالمنّان کی حرکتیں دیکھتے رہے۔  ایک دن انہوں نے عبدالمنّان کو دکان پر بلایا۔ ان کو چکن شاشلک اور پھجّے کے پائے کھلائے۔ ان کو گولڈفلیک کے پکے سگریٹ پلائے۔ شیزان کی بوتل میں مرنڈا  اور ماؤنٹین ڈیو ڈال  کے پلائی۔ کسٹرڈ اور آئسکریم  مکس کر کے کھلائی۔ یہ جب فُل ہوگئے۔ ان کے ڈکار ہَمک مارنے لگے توحاجی صاحب نے انہیں سمجھانا شروع کیا۔ حاجی صاحب نے انہیں اپنی روٹین کی ڈیٹیلز بتائیں۔  یہ انہیں کہنے لگے۔ ہمیشہ سچ بولیں۔ کبھی کسی کو دھوکہ نہ دیں۔ کسی کا حق نہ ماریں۔ یہ بالکل سمپل ہے۔آپ  جو بھی بولیں اس کو  سچ سمجھیں۔ آپ جو بھی کریں اس کو درست سمجھیں۔ یہ دنیا ایک عارضی جگہ ہے۔ اس کے لوگ دھوکہ باز ہیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی آپ کو دھوکہ دے۔ آپ اس کو دھوکہ دے دیں۔ یہ بالکل جائز ہے۔
اس دن کے بعد عبدالمنّان کی لائف چینج ہوگئی۔ ان کا وُضو جو پیدائشی ان بریک ایبل تھا، راک سالڈ ہوگیا۔ یہ بزنس میں دن دگنی رات ملک ریاضوی ترقی کرنے لگے۔ یہ اب بچوں سے کُلفیاں چھیننے کی بجائے ان میں کلفیاں بانٹنے لگے۔  یہ خواتین کو گھورنے کی بجائے ان سے نکاح کرنے لگے۔ یہ اپنی کمائی سے اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرنے لگے۔ یہ بیواؤں  اور بے روزگاروں میں سمارٹ فون بانٹنے لگے۔ یہ فیس بک پر بھی چلے گئے۔ انہوں نے وہاں "سٹین لیس سٹیل وُضو  عرف شیطان شئیر کرنےسے روکے گا" نامی پیج بھی بنایا۔ یہ ہر لائک پر دو سو روپے نقد دینے لگے۔
ہر کامیاب انسان کی طرح ان کے بھی حاسد پیدا ہوگئے۔ یہ ان پر الزام لگانے لگے۔ یہ کہنے لگے کہ عبدالمنّان ایک فراڈئیے ہیں۔ یہ لوگوں کو  ٹوپی کراتے ہیں۔ یہ شعبدے باز ہیں۔ ان کا وُضو نہ ٹوٹنا ایک جھوٹ ہے۔  عبدالمنّان کو ان کی کوئی پرواہ نہیں تھی لیکن حاجی صاحب نے ان کوسمجھایا۔  جب لوگ آپ کے بارے سچ بولیں تو آپ ان کے بارے جھوٹ بولیں۔ یہ آپ کا سچ ہوگا۔ کسی کو اپنے بارے سچ پھیلانے کی اجازت نہ دیں۔ ان کے ساتھ آہنی عزم کے ساتھ نمٹیں۔ عبدالمنّان نے یہ بات گرہ سے باندھ لی اور فورا مجھے فون کیا۔ یہ اخبار کے سنڈے میگزین میں اپنا فیچر چھپوانا چاہتے تھے۔ میں نے حامی بھرلی۔
اس کے بعد جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔ کیا کسی ان بریک ایبل وُضو والے پیدائشی صوفی بزرگ کا فیچر چھاپنا اتنا بڑا گناہ  ہے کہ لوگ مجھے گالیاں دیں؟ میرا کیا قصور ہے؟ میں اس وقت سے صحافی ہوں جب اخبار  چھپتا نہیں تھا بلکہ صحافی گھر گھر جا کے لوگوں کو زبانی خبریں سناتے تھے ۔  میں دسویں جماعت میں تھا جب چاٹ کی اُنیس پلیٹیں کھاکے دس روپے والی شرط جیتی۔ ایف اے  کے امتحان میں میری جوابی شیٹس کا اتنا وزن تھا کہ اس کے بدلے ردّی والے نے پندرہ کلو مرونڈا اور لاہوری پُوڑا دیا تھا۔  بی اے کی ڈگری مجھے امتحان میں شرکت کئے بغیر ہی دے دی گئی کیونکہ بورڈ والوں کے پاس  اتنے فنڈز نہیں تھے کہ میری جوابی شیٹس کا خرچہ برداشت کرسکیں۔ میں ہیومن ہسٹری میں وہ واحد شخص ہوں جس نے گریجویشن کے امتحان میں شرکت کئے بغیر ٹاپ کیا۔ اس زمانے میں ٹاپ پوزیشن والوں کو لیپ ٹاپ کی بجائے لُڈّو ملتی تھی۔وہ  لُڈّو آج بھی محفوظ ہے۔ میرے بچوں نے اسی پر لُڈّو کھیلنا سیکھا۔  میں نے جب صحافت شروع کی تو ایڈیٹر کی سائیکل صاف کرنے سے لے کر ان کی گھر کا سودا سلف لانے تک ہر کام کیا۔ سودے سلف کے پیسوں میں سے بچت کرکرکے میں نے ایک کریانے کی دکان کھول لی۔ آپ میرے وژن کو داد دیں۔ میرے ہارڈ ورک کو اپریشئیٹ کریں۔ میں ان پیسوں سے گرماگرم سائیڈ پروگرام والی انگلش فلم بھی دیکھ سکتا تھا۔ میں  اس  سے گولڈ لیف کے سگریٹ بھی پی سکتا تھا۔ میں راجہ جانی والا پان بھی کھا سکتا تھا۔ میں نے یہ سب نہیں کیا۔ میں نے فیوچر کو ذہن میں رکھا۔ میں نے پلاننگ کی۔  وہ کریانے کی دکان آج ایک بڑے جنرل سٹور میں بدل چکی ہے۔ لیور برادرز والے مجھے سپیشل کراچی بلا کے لکس صابن اور ڈالڈا کوکنگ آئل فری میں دیتے ہیں۔ یہ مجھے ایکسی لینس سرٹیفکیٹ بھی دیتے ہیں جس میں گولڈن فونٹ سے میرا نام بڑا کرکے لکھا ہوتا ہے۔ چوہدری جنرل سٹور آج لالے موسے کا سب سے بڑا اور قابل اعتماد نام ہے۔ میں نے ساری زندگی صحافت کے نام کر دی ہے۔۔ کیا یہ میرا قصور ہے؟ مجھے کیوں ماں بہن کی گالیاں دی جاتی ہیں؟ میں نے کیا کِیا ہے؟

میاں صاحب کی ڈائری

رات سے طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ شباژ صاب نے الگ پریشان کیا ہوا تھا کہ "پائین۔۔۔ جان دیو سُو۔۔۔ نئیں تے فیر سانوں جانا پیناں۔۔۔ " اسی پریشانی میں کچھ کھایا بھی نہیں گیا۔ صبح بھوک سے جلدی آنکھ کھل گئی۔ بیگم صاحبہ ابھی سوئی ہوئی تھیں۔ میں نے آہستگی سے بیڈروم والی فریج کھولی تو اس میں وہی آلو مٹر گاجریں، کدو کی بھجیا اور بھنڈیوں کا سالن تھا۔ بیگم صاحبہ نے سختی کی ہوئی ہے اسی لیے میں زیادہ تر دوروں پر ہی رہتا ہوں۔ گھر میں تو یہی کچھ کھانا پڑتا ہے۔ کوئی اک مصیبت اے۔۔۔۔
کچن کی فریج دیکھی تو اس میں کباب، بریانی، نہاری، ہریسہ وغیرہ ٹھنسے ہوئے تھے۔ جلدی میں صرف دس بارہ کباب، نہاری کی ڈیڑھ  پلیٹ اور آدھا ڈونگا ہریسے کا ہی کھا سکا۔ کھانا مزے دار ہو تو ٹھنڈا بھی مزا دیتا ہے۔ سپرائٹ کی ڈیڑھ لیٹر والی بوتل سے تین چار گھونٹ لیے, نشے آگئے۔ ابھی فجر میں وقت تھا لہذا ٹی وی لاؤنج میں گیا۔ ورزش صحت کے لیے بہت ضروری ہے چنانچہ شلپا شیٹی کی ورزش والی ویڈیو لگا کر دیکھی۔ جسم فریش ہوگیا۔ ورزش باقاعدگی سے کرتا ہوں۔ اسی لیے اللہ کے فضل و کرم سے میرا ذہن اتنا تیز ہے۔ ماشاءاللہ۔۔۔
سیٹھی صاب کو فون کیا۔ وہ سونے کی تیاری میں تھے۔ ورلڈ کپ کی ڈیل فائنل ہونے کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بات پکّی ہوگئی ہے۔ پیسے آج ہی ٹرانسفر ہوجائیں گے۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ رزقِ حلال بھی کتنی بڑی نعمت ہے۔ سیٹھی صاب بہت اچھے بندے ہیں۔ مجھے انگریزی بھی سکھائی ہے۔ جگتیں بھی کرتے ہیں۔ ایک دن کہنے لگے،"۔۔ میاں صاب، تسی انگریزی اینج بولدے او۔۔ جیویں جھنگ آلے اردو بولدے نیں۔۔۔" ہیں جی!
پہلے اسلام آباد والے شاہ جی ہوتے تھے۔ ان کی انگریزی بھی اچھی کڑاکے دار تھی۔ پچھلے دنوں ملنے بھی آئے تھے۔ میں نے ان کو روٹی شوٹی کھلائی۔ کہنے لگے کہ انگریزی سکھانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ انتظار کریں اگلی دفعہ مقدس سرزمین سے واپس آئیں گے تو آپ کو ہی انگریزی سکھانے پر رکھوں گا۔ خوش ہوگئے۔ اچھے بندے ہیں۔ شاہ جی نے وڈّے چوہدری صاب کا سلام بھی دیا۔ چوہدری پیجے کی وجہ سے بات نہیں بنتی ورنہ وڈّے چوہدری صاب بڑے سیانے بندے ہیں۔ شباژ صاب، پیجے کا نام سنتے ہی غصہ کر جاتے ہیں۔ ڈائننگ ٹیبل پر مُکّے مار مار کے تقریر شروع کردیتے ہیں۔ شعر بھی سَناتے ہیں۔ امّی جی کو شکایت لگانے کی دھمکی دیتا ہوں۔ پھر چُپ کرتے ہیں۔ شباژ صاب بھی باچھا بندے ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے ان سے ڈر لگنے لگتا ہے کہ اگلا مارشل لاء شباژ صاب ہی نہ لگا دیں۔
فجر پڑھ کے نیند کی ایک جُھٹّی اور لگائی۔ اٹھ کے ناشتہ کی تیاری کررہا تھا کہ خواجہ صاب کا فون آگیا۔چھوٹتے ہی بولے۔۔ یہ جو اے، جو اے، ببلو اے، یہ جو اے، کمانڈو جو اے، اس کو جو اے، کیا چکر اے؟۔۔۔۔ خواجہ صاب بندوں کو تپانے میں ماہر ہیں۔ ایک دفعہ ببلو کے گَل پڑ گئے تھے۔ پھر ببلو کو سیریں کرائیں۔ کلفیاں کھلائیں۔ جھولے بھی دلائے۔ پھر کہیں جا کے اس کا موڈ ٹھیک ہوا۔ ان کو کل والے معاملے کی بھنک پڑ گئی تھی تو اب مجھے تپا رہے تھے۔ میں نے بہت سمجھایا کہ جگر جی۔۔ پہلے ہی دس سال کھجل ہوئے ہیں اب تھوڑا مال پانی بنا لینے دیں اگلی باری پتہ نہیں آئے نہ آئے۔۔۔ پر خواجہ صاب کی سوئی ایک دفعہ اڑ گئی تو اڑ گئی۔۔۔ سیالکوٹی جو ہوئے۔
روٹی کھانی حرام کی ہوئی ہے۔ جب بھی روٹی کھانے بیٹھو کوئی نہ کوئی اپنا سِیڑی سیاپا لے کے آجاتا ہے۔ اَنسان اتنی محنت مشقت کس لیے کرتا ہے؟ روٹی کے لیے۔۔ وہی سکون سے نصیب نہ ہو تو کیا فائدہ سارے ٹشنوں کا۔۔۔۔ ہزار دفعہ کہا ہے کہ روٹی کے چھ ٹائم نکال کے جس وقت مرضی فون کرلیا کریں۔ مجال ہے کسی پر اثر ہوتا ہو۔ الٹا مذاخیں کرتے ہیں۔ جگتیں لگاتے ہیں۔ شرم، حیا، مروّت ہی ختم ہوئی ہوئی ہے۔ ببلو اس معاملے میں ٹھیک ہے۔ اس کو بھی روٹی کھانے کا بڑا شوق ہے۔ ایک دن ہم دونوں نے مل کے ستونجہ قیمے والے نان کھائے تھے۔ بڑا مزا آیا تھا۔
اسلامباد والے چوہدری صاب بھی پوری نیّر سلطانہ ہیں۔ جب دیکھو، بڈّھے کی جوان زنانی کی طرح رُسّے رہتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے میں نے شغل میں پوچھا، چوَری صاب، چھاویں تے وگ لاء کے رکھ لیا کرو۔۔۔ بس ناراض ہوگئے۔ شباژ صاب کو شکایتیں لگائیں۔ دس ہزار ترلے کیے پھر کہیں جا کے مانے۔ مانے سے یاد آیا اپنے خاں صاب کا بھی بڑا یارانہ ہے چوہدری صاب سے۔ دونوں ہی غصے میں رہتے ہیں۔ کم روٹی کھانے کا یہی انجام ہوتا ہے۔ بندہ روٹی تو رَج کے کھائے کم سے کم۔
ببلو کو میں نے بڑا سمجھایا کہ تمہیں وڈّا کمانڈر لگوا دوں گا۔ تنخواہ بھی ریالوں میں اور عمرے فری۔ بس یہ کمانڈو والی ضد چھوڑ دے۔ اس بات پر ببلو کا رنگ مزید سرخ ہوجاتا تھا۔ ایک دن تو میرے پیٹ میں مُکا بھی ٹکا دیا۔۔ بعد میں کہتا ہے۔۔ شغل کیتا سِی۔۔ بس مجھے اسی دن پتہ لگ گیا کہ کمانڈو کو چھوڑنا ہی پڑے گا۔ ورنہ ببلو اگلا مُکا کنپٹی پر مارے گا۔ زندگی کے لیے بندہ اتنے جتن کرتا ہے۔ مرگیا تو یہ ہریسے، نہاریاں، بریانیاں، نان، کباب، تکّے، پیپسیاں، ادھ رڑکے، دودھ پتیاں لوگ ہی پئیں گے۔ کبھی قُل شریف کے نام پر اور کبھی چالیسویں اور برسی کے ختم پر۔
 جان ہے تو جہان ہے۔۔ ہیں جی!


سپہ سالار کی ڈائری - توسیعی ورژن

شبِ رفتہ سے ہی طبیعت کچھ بوجھل سی تھی۔ نیند دیر سے آئی۔ تہجّد سے کافی دیر پہلے آنکھ کھل گئی۔ وضو بنایا۔ تہجّد کے وقت تک نوافل ادا کئے۔ دل کو کچھ قرار سا آیا۔ کل کی ملاقات میں مقتدرین نے اپنی خواہش کا برملا اظہار کر دیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں ملک و ملّت کی خدمت سے کنارہ کش ہوجاؤں اور ان کو لوٹ مار کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے۔ میں نے صاف انکار کردیا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ جب تک وطنِ عزیز اسلام کا قلعہ نہ بن جائے میں اپنی ذمہ داریاں کیسے نظر انداز کرسکتا ہوں؟ وہ کچھ بولے تو نہیں مگر کبیدہ خاطری ان منحوسوں کے چہروں سے عیاں تھی۔
شب کے آخری پہر، خدا کے حضور مناجات کرنے سے دل کو تسلّی ہوئی۔ فجر کے بعد معمول کی ورزش کی۔ ناشتے میں آلو والے پراٹھے تھے۔ میں نے زوجہ سے باز پُرس کی کہ ان کے لیے رقم کا بندوبست کہاں سے ہوا؟ ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ کہنے لگیں پچھلے دو ہفتوں سے وہ ایک وقت کا کھانا کھا رہی ہیں۔ اس سے جو رقم بچ رہی اس سے یہ پراٹھے بنائے۔ دل بھر آیا۔ لقمہ ہاتھ سے رکھ دیا۔ اِدھر اُدھر دیکھ کر زوجہ کا رُوئے انور چوم لیا۔ بد پرہیزی کرتے ہوئے تینوں پراٹھے کھائے اگرچہ زوجہ تیسرے پراٹھے پر شکایتی نگاہوں سے دیکھتی رہیں لیکن منہ سے کچھ نہ بولیں۔ جنّتی خاتون ہیں۔ الحمدللہ۔۔۔
بیٹ مین لطیف نے بائیسکل چمکا کے پورچ میں کھڑی کردی تھی۔ لطیف اوائل افسری سے میرے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ عجب اُنسیت سی ہے۔ اس کا معاملہ گھر کے فرد جیسا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ برسوں گزرے ایک عجیب واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد لطیف کی اہمیّت دو چند ہوگئی۔
ان دنوں لطیف کے گھر  پہلی خوشی آنے والی تھی۔ ایک رات خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ، پن سٹرائپ سوٹ پہنے، خشخشی داڑھی، منہ میں پائپ دبائے کش پہ کش لگاتے، ایک سفید گھوڑے پر سوار، دفتر کے باہر تشریف لاتے ہیں اور با رُعب آواز میں پکارتے ہیں، "شکیل، باہر آؤ"۔ میں حیران ہو کر باہر نکلتا ہوں تو وہ شہادت کی انگلی بلند کرکے گویا ہوتے ہیں۔
"ہم ایک عظیم ذمہ داری تمہارے سپرد کرنے آئے ہیں۔ وعدہ کرو کہ اسے نبھاؤ گے"۔
میں جھٹ حامی بھرلیتا ہوں۔ بزرگ پائپ منہ سے اور دھواں نتھنوں سے نکالتے ہیں۔ اچھل کر گھوڑے سے اترتے ہیں۔ میرے قریب آکر کندھے پر ہاتھ رکھتے ہیں اور یوں گویا ہوتے ہیں۔۔
"تمہارے گھر ایک مہمان آنے والا ہے۔ اسے معمولی نہ سمجھنا۔ عنفوان شباب تک اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کرنا۔ یہ بچہ ملک و ملّت کا پاسبان ہوگا۔ سارے ادبار دور کردے گا۔ دشمنانِ دین و ملّت اس کے درپے رہیں گے لیکن تمہیں وعدہ کرنا ہوگا کہ جب تک تمہاری سانس میں سانس ہے اس کی حفاظت و نصرت کرو گے۔ اور ہاں سنو۔۔ ایک بات اور ہے۔۔ یہ اللہ کی دَین ہے۔ اس لیے اس کا نام اللہ دتّہ ہوگا"۔
اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ خوابگاہ میں ایک ملکوتی سا سکوت اور عجیب سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ میں فورا اٹھا، غسل کیا اور خدا کے حضور سجدہ ریز ہوگیا جس نے مجھے اس کارِ عظیم کے لیے چُنا۔ پھر میں نے سوچا کہ زوجہ کے ہاں تو ابھی کسی نئے مہمان کے آثار نہیں تو یہ نیا مہمان کہاں سے آئے گا؟۔
اس کا جواب اگلی صبح ملا جب بیٹ مین لطیف، مٹھائی کا ڈبّا لیے آیا۔ ڈبّا بائیسکل کے کیرئیر پر رکھ کے دھرتی دہلا دینے والا سلیوٹ مارا اور خوشی سے لال ہوتے چہرے سے اطلاع دی کہ وہ بیٹے کا باپ بن گیا ہے۔ ذہن میں روشنی سی لپکی اور گزشتہ شب کا خواب اور پن سٹرائپ سوٹ والے بزرگ کی بشارت اور اپنا وعدہ یاد آگیا۔ اس دن کے بعد سے آج تک میں نے اللہ دتّے کو اپنی اولاد سے بڑھ کر توجہ دی۔ اعلی درسگاہوں سے اس کو تعلیم دلائی۔ آج کل اللہ دتّہ ملک فرنگ میں اعلی ترین تعلیم کے لیے مقیم ہے۔
دفتر جانے کے لیے بائیسکل کا پیڈل مارا ہی تھا کہ لطیف ہانپتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ مخبر اعلی نے فورا آپ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے ابھی ایک ہرکارہ ان کا پیغام لے کر آیا ہے۔ میں فورا بائیسکل سے اترا اور رکشے کو ہاتھ دے کر روکا۔ ہنگامی حالات میں ایک ایک منٹ کی اہمیت ہوتی ہے۔
بھاگم بھاگ دفتر پہنچا تو مخبر اعلی پہلے سے موجود تھے۔ انہوں نے شتابی سے دفتر کا دروازہ بند کیا اور بولے۔۔۔ ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ دشمن نے اللہ دتّے کو درسگاہ سے واپس آتے ہوئے اغوا کر لیا ہے اور ان کی طرف سے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ میں فورا ساری گیم سمجھ گیا۔ یقینا یہ مقتدرین کی سازش ہے۔ انہیں علم ہے کہ مجھے کسی بھی طرح جھکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ حتی کہ میری اپنی اولاد بھی اگر داؤ پر لگی ہو تو میں کبھی ملک و ملّت کے مفاد کو پسِ پُشت نہیں ڈال سکتا۔ لیکن اللہ دتّے کا معاملہ الگ ہے۔ اس کے ساتھ غیر معمولی انسیّت کا راز میں نے آج تک کسی پر ظاہر نہیں کیا لیکن مخبروں کی دنیا الگ ہوتی ہے۔ شاید کوئی ٹیلی پیتھی کا ماہر دشمن جاسوس میرے ذہن میں جھانک کر اللہ دتّے سے میری بے پناہ محبّت سے واقف ہو گیا تھا۔ جس کا فائدہ اب مقتدرین اٹھا رہے ہیں۔
اسی اثناء میں مخبر اعلی کے واچ ٹرانسمیٹر پر ٹوں ٹوں ہونے لگی۔ ملکِ فرنگ میں موجود علاقائی مخبر نے اطلاع دی کہ اللہ دتّے کے اغوا کاروں نے بہت عجیب مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپہ سالار نے چوبیس گھنٹوں کے اندر مُقرّرہ مدت میں سپہ سالاری چھوڑنے کا اعلان نہ کیا تو وہ اللہ دتّے کو اگلے جہان میں ہی مل سکیں گے۔
یہ بہت مشکل مرحلہ تھا۔ ایک طرف ملک و ملّت کی پاسبانی اور دوسری طرف وعدے کی نگہبانی۔ پھر مجھے یاد آیا کہ اللہ دتّے کی نگہبانی کے صدقے ہی شاید مجھے سپہ سالاری ملی تھی اگر اسی کام میں ناکام رہا تو روزِ قیامت اس بزرگ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اللہ دتّے کی تعلیم مکمل ہونے میں کچھ ہی عرصہ باقی ہے۔ بزرگ نے عنفوانِ شباب تک اس کی سرپرستی کا کہا تھا۔ وہ وقت مکمل ہوا چاہتا ہے۔ شاید میری ذمّہ داری یہیں تک تھی۔ ملک و ملّت کا اصلی مسیحا آنے کو ہے۔ میری قربانی سے اگر اس کا راستہ ہموار ہوجائے تو اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی۔ جو کام میں پورا نہ کرسکا وہ میرا اللہ دتّا پورا کرے گا۔
میں نے مقتدر اعلی کو فون ملایا اور ان کے مطالبے کو پورا کرنے کی حامی بھرلی۔ یہ سنتے ہی ان کی آواز پر چھائی مُردنی یکایک شگفتگی میں بدل گئی۔ وہ حسبِ عادت چکنی چُپڑی باتیں کرنے لگے۔ میں ان کی دلی حالت کا اندازہ کر سکتا تھا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کو کھلی چھُٹّی مل گئی ہے۔ وہ جیسے چاہیں اس ملک کو لوٹیں۔ ملّت کا شیرازہ بکھیریں۔ ان کو کوئی روکنے والا نہیں۔۔ مگر ان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں ہے کہ
میرا اللہ دتّہ آئے گا۔۔۔۔

سیلفی اور ثالثی

یہ موسم سرما کی ایک خُنک رات تھی۔ دُھند نے چاروں اطراف کو یوں گھیرے میں لیا ہوا تھا جیسے عاشق، محبوب کو  بانہوں میں بھر لیتا ہے۔۔۔ جپھّی اک واری کُٹ کے توں پاء گُجرا۔۔۔۔ یہ ایک رومانٹک اور اداس کردینے والی کیفیت تھی۔ میں نے کتاب سے نظر ہٹائی اور سٹڈی کی کھڑکی کے دھندلے شیشے سے باہر دیکھا۔ ایک مطمئن سی اداسی میرے رگ و پے میں دوڑ گئی۔ چیبانگا موزونگو کی بھیجی ہوئی زمبابوین کافی کا گھونٹ بھر کے میں نے سر کو راکنگ چئیر کی پشت سے ٹکایا۔ ایک طویل ڈکار لیا۔ حیدر آبادی بریانی، بیف کباب اور کوک کی خوشبو سے ساری سٹڈی مہک اٹھی۔ میں نے آئی فون سکس (کسٹم میڈ) ٹیبل سے اٹھایا۔ اداس اور رومانٹک چہرے کی ایک سیلفی لے کر فیس بک پیج پر اپ لوڈ کی اور دوبارہ کتاب پر جھک گیا۔
اچانک فون کی بیل بجی۔ سکرین پر "میاں صاحب" کا نام جگمگا رہا تھا۔ میں حیران رہ گیا۔ یہ ایک خلاف معمول بات تھی۔ یہ کبھی گیارہ بجے کے بعد فون نہیں کرتے۔ یہ جانتے ہیں کہ میں ایک جوان جہان آدمی ہوں۔ میری ازدواجی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ یہ اس بات کو سمجھتے ہیں اس لیے کبھی مجھے ڈسٹرب نہیں کرتے۔ میں نے کال ریسیو کی۔ یہ بوجھل آواز میں بولے ۔۔۔ "یار جیدے ۔۔ کِی کرئیے۔۔۔ دوویں لڑ پئے نیں؟"۔۔ یہ ایک نازک مرحلہ تھا۔ یہ دنیا کی تاریخ میں میک آر بریک والا معاملہ تھا۔ ایک غلط فیصلہ اس دنیا سے انسانوں کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا تھا۔ میں نے فون ٹیبل پر رکھا۔ ایک طویل سانس لی۔ گلاسز اتار کے شیشے صاف کیے۔ کافی کا گھونٹ بھرا۔ فون دوبارہ اٹھایا تو میاں صاحب بولے۔۔" دانشوراں آلی ایکٹنگ بعد اچ کر لئیں۔۔ پہلے میں جو پُچھیا او دس"۔ میں کچّا ہوگیا۔ مجھے شرم آگئی۔ میں نے فورا بات بدل لی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آج آپ نے ڈنر میں کیا کھایا۔ میاں صاحب نے پھر مجھے جگت کرادی کہنے لگے۔۔ چوہدری ای رہ، کلاسرہ نہ بن۔۔۔ میں فورا سنجیدہ ہوگیا۔ میں نے بادشاہ والی کہانی کی آواز بنالی اور یوں گویا ہوا۔۔۔۔ میاں صاحب، تاریخ آپ کی راہ دیکھ رہی ہے۔ عظمت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ عزّت آپ کے لیے نظریں بچھائے کھڑی ہے۔ ہسٹری آپ کو ویلکم کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ مؤرخ سنہری انک والا پین لے کر آپ کا منتظر ہے۔  میاں صاحب نے ایک طویل ہمممممم کیا اور فون بند کردیا۔
یہ ایک سرد صبح تھی۔ بیدار ہونے پر ایسا فِیل ہورہا تھا جیسے سب کچھ فریز ہے۔ اس لیے فریش ہونے کے لیے دو دفعہ کافی پینی پڑی۔ واک کے لیے جوگرز پہنے ہی تھے کہ میاں صاحب کا فون آگیا۔ انہوں نے دس منٹ کے اندر ائیرپورٹ پہنچنے کی ریکویسٹ کی۔ میرا ٹریول بیگ ہمیشہ ریڈی رہتا ہے۔ میں نے بیگ اٹھایا۔ جلدی میں بیگم کا پرپل کوٹ پہنا۔ یہ ایک آنسٹ مسٹیک تھی لیکن اس مسٹیک نے ہسٹری کا دھارا بدل دیا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔
فلائٹ ٹیک آف کرتے ہی میاں صاحب اور جنرل صاحب میرے پاس تشریف لے آئے۔ یہ ایک اچھی جوڑی ہے۔ دلیپ کمار/مدھو بالا، امیتابھ/ریکھا، انیل کپور/مادھوری، شاہ رخ/کاجل، بدرمنیر/مسرت شاہین، سلطان راہی/انجمن  کے بعد شریف/شریف ایسی جوڑی ہے جو سُپر ہٹ ہونے کا پوٹینشل رکھتی ہے۔ یہ ایک دوسرے کو انڈرسٹینڈ اور رسپیکٹ کرتے ہیں۔ یہ سمارٹ بھی ہیں اور ہینڈسم بھی۔ یہ انٹیلیجنٹ بھی ہیں اور انٹلکچوئل بھی۔ یہ ناٹی بھی ہیں اور جولی بھی۔ میاں صاحب نے ادھر ادھر دیکھا اور آہستگی سے اپنی واسکٹ کی جیب سے ایک شاپر نکال کے میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے شاپر کھولا تو ہر طرف قیمے والے نان کی خوشبو پھیل گئی۔ میاں صاحب جانتے تھے کہ میں نے بریک فاسٹ نہیں کیا۔ آپ ان کے مینرز دیکھیے۔ آپ ان کی کرٹسی ملاحظہ کیجیے۔ ائیرپورٹ آتے ہوئے رستے میں انہوں نے گاڑی رکوا کر چار قیمے والے نان لیے۔ ایک نان جنرل صاحب کو دیا، ایک خود کھایا جبکہ دو نان میرے لیے رکھ لیے۔ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ یہ پہلے کسی کو نان کی ہوا نہیں لگواتے تھے۔ یہ کسی کو نان کی ایک بُرکی دینے کے روادار نہیں تھے۔ اب یہ خود ایک نان کھاتے ہیں۔ یہ دو نان دوسروں کو دے دیتے ہیں۔ یہ جان چکے ہیں کہ مل جل کر کھانا برکت کا باعث ہوتا ہے۔
پلین لینڈ کرنے کے بیس منٹ کے اندر ہم پیلس میں پہنچ چکے تھے۔ یہ ایک شاندار عمارت ہے۔ یہ رومن، گوتھک، اٹالین، سپینش اور عربک آرکیٹکچر کا شاہکار ہے۔ اس میں فوارے بھی ہیں اور باغ بھی۔ سوئمنگ پول بھی ہے اور مسجد بھی۔ ہم اس کے مرکزی ہال میں داخل ہوئے تو میزبان نے ہمارا استقبال کیا۔ یہ بہت تپاک سے ملے۔ انہوں نے میری چُمیاں بھی لیں۔ یہ پرپل کوٹ پر بار بار ہاتھ پھیرتے رہے۔ یہ مجھ سے پوچھتے رہے ۔۔ ہذا کوٹ جمیل جدا۔۔ من وین انت حصل ہذا؟۔۔۔ میں ایک دفعہ پھر کچّا ہوگیا۔ یہ ایک نازک صورتحال تھی۔ اگر میں سچ بول دیتا۔ اگر میں بتا دیتا کہ یہ زوجہ کا کوٹ ہے۔یہ میں بائی مسٹیک پہن کے آگیا ہوں تو سوچیے کتنا بڑا بحران پیدا ہوجاتا ہے۔ میزبان غصے میں آجاتا۔ یہ ہم سب کو پیلس سے نکال دیتا۔ دنیا تباہی کے کنارے پر پہنچ جاتی۔ میں نے حواس قائم رکھے۔ میں نے فون نکالا۔ سب کو ریڈی کہا اور ایک سیلفی لے لی۔ سب کا دھیان بٹ گیا۔ میں نے میاں صاحب کو آنکھ ماری۔ انہوں نے میزبان کو باتوں میں لگا لیا۔ یہ ہیومن ریس کے لیے ایک تاریخ ساز لمحہ تھا۔ اگر میں گھبرا جاتا۔ اگر میاں صاحب آنکھ مارنے کا اشارہ نہ سمجھتے تو آج میں یہ سب بتانے کے لیے یہاں نہ ہوتا۔
آپ دیکھیے۔ لوگوں نے میرا مذاق بنا لیا۔ یہ مجھے شوخا پرپل کوٹ والا کہنے لگے۔ یہ میری سیلفیوں پر اعتراض کرنے لگے۔ یہ جانتے نہیں تھے۔ ان کو معلوم نہیں تھا۔ آل ہیومن کائنڈ کو میرا تھینک فل ہونا چاہیے۔
یہ ایک ورلڈ سیونگ سیلفی تھی۔

ہدایت نامہ برائے معشوقاں - جدید

دستورِ زمانہ یہی رہا ہے کہ ایسے ہدایت نامے ہمیشہ عُشّاق کے لیے لکھے جاتے رہے  کہ ان نصیب جلوں کو شربتِ دیدار تو دُور کی بات، کوئی شکر کا شربت بھی نہیں پوچھتا تھا۔  کوئی پَلُّو کی ایک لپک پر عاشق ہو ا تو ساری زندگی اسی لپک جھپک میں بِتا دی۔ کسی نے پیر دیکھ لیے تو اسی آرزو میں زیست بسر کردی کہ کسی طرح ان کو دھو کے پِی لیا جائے۔ کسی نے ہاتھ دیکھا تو اپنے رُخسار سہلاتا رہا کہ کاش چانٹے کی صورت ہی سہی، اس رُخسار پر وہ ہاتھ آئے تو ۔۔۔۔ کجرارے نین بھی انہی "ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن" میں شمار ہوا کرتے تھے۔ ماس ڈسٹرکشن کے اصلی ویپنز دیکھنے  کی حسرت لیے یہ عُشّاق کسی عم زاد کے ساتھ شادی کے گھاٹ اتر جاتے تھے مگر معشوق ان سے ہمیشہ بارہ پتھر باہر ہی رہتے تھے۔ سالم معشوق پر عاشق ہونا ، گناہِ کبیرہ سمجھا جاتا تھا۔ یوں بھی سالم معشوق کا نظر آنا ، اُڑن  طشتری نظر آنے سے زیادہ مشکل تھا۔  جس کو معشوق کی جو چیز نظر آئی، پہلی فرصت میں اسی پر عاشق ہوگیا۔ قیاس کے گھوڑے دوڑائیں تو مشاہیر عُشّاق اگر شروع میں ہی سالم معشوق دیکھ لیتے تو آج ہم عشق کی بہت سی داستانوں سے محروم ہوتے۔ حضرت قیس کے جنون کی وجہ بھی شاید لیلیٰ کا دیدار تھا۔ حضرت نے جب آخر کار لیلیٰ بی بی کو دیکھ لیا تو کلّے پیٹ لیے ۔۔۔۔
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں۔۔۔۔ 
قُدماء کی شاعری میں بھی معشوق، چنگیز خان جیسی خصلت کا مالک نظر آتا  تھا۔ جہاں کوئی عاشق نظر آیا اس کے دل، جگر اور دیگر اعضائے رئیسہ کے ٹکڑے کرکے  اپنی راہ لگتا ۔
اکابرینِ عُشّاق کےالمناک  تجربات اور دورِ جدید کے فِتن سے آج کل کے  عُشّاق شدید گُھنّے اور میسنے   ہوگئے ہیں  لہاذا معشوقوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ انہیں ٹیکن فار گرانٹڈ لینا بند کردیں۔۔۔۔ وہ دن ہوا  ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا۔۔۔۔ کہاں وہ دن کہ معشوق کو سالم دیکھنے کی چاہ لیے عاشق قبر میں جا اترتے تھے اور اب یہ حال کہ نمبر بعد میں مانگتے ہیں اور'سالم'  کلوز اپ والی فوٹو پہلے۔ وٹس ایپی پیغام کا جواب دس منٹ تک موصول نہ ہو تو جدید عاشق، نئے معشوق سے سلسلہء دلبری ، باندازِ دگر شروع کرنے میں جھجکتے نہیں۔ دنیائے عاشقی میں اس ہیبت ناک پیرا ڈائم شفٹ کی وجہ سے ضرورت ہے کہ معشوقوں کے لیے ایک ہدایت نامہ تشکیل دیا جائے تاکہ انہیں ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے جو قدیم عُشّاق جھیلتے آئے ہیں۔
سب سے پہلے تو عاشق کو انسان سمجھنا شروع کردیں۔ پرانی عادتیں بھول جائیں کہ۔۔۔ گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا۔۔۔ اب ایک طعنہ دیں گے تو ہزار سننے کو ملیں گے۔ ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے آپشنز لا محدود کر دئیے ہیں۔ پرانے بریک اپ عاشق کی فوتیدگی تک اپنا اثر قائم رکھتے تھے  جبکہ آج کل  معمولی سی بے التفاتی بھی عاشق کو ریس کردیتی ہے۔ اس پر خصوصی توجہ دیں۔
اصلی شکل اور ڈی پی میں انیس بیس سے زیادہ فرق نہیں ہونا چاہیے۔ فوٹو فلٹر ز  آپ کی ڈی پی تو جینیفر لارنس جیسی بنا سکتے ہیں لیکن اصلی شکل ایسی کرنے کے لیے کثیر مقدار میں روپے درکار ہوتے ہیں ۔ لہاذا ۔۔۔ تھوڑا برائٹ کریں۔۔ تو چل سکتا ہے۔۔ زیادہ برائٹ نہیں چلے گا۔
آلو گوبھی وغیرہم تناول کرکے پاستا، سپیگٹی کی باتیں نہ کریں۔ برگر کی سِدّھ پُٹھ پتہ نہ ہو تو آلو والے پراٹھے کے ذکرکو ہی اکابرین نے افضل جانا ہے۔
ناز و انداز مناسب حد اور مقدار تک استعمال کریں۔ جدید عاشق، چوہدری رانجھا فرام تخت ہزارہ کی طرح صرف چُوری سے نہیں بہلتے۔ ونجلی بجانے کی ضد کرنے لگتے ہیں۔ احتیاط کریں۔
آئی فون ، گلیکسی، کھاڈی،  جے ڈاٹ  وغیرہ کا پیہم ذکر کرنے سے امکان ِ غالب ہے کہ عاشق آپ سے کم از کم بیلنس تو مانگنا شروع کر ہی دے گا۔ اجتناب کریں۔
چھُنّی کاکی نہ بنیں۔ اس سے میسنے ہونے کاشک ، یقین میں بدل جاتا ہے۔
گول روٹی کی تصاویر تسلسل سے اپ لوڈ کرنے پر عاشقانِ باصفا آپ کو تندور والی سمجھ سکتے ہیں۔ ایسی حرکات کبھی کبھار تک محدود رکھیں۔
اس جزوی ہدایت نامہ پر عمل کرنے سے کثیر فوائد و برکات حاصل ہوں گے۔ جن میں عُشّاق کو باندازِ دگر اُلّو بنانے سے لے کر اعلی ٹائم پاس تک بہت سے فضائل شامل ہیں۔

کہانی کی کہانی

کہانی پڑھنا، کہانی سننے سے زیادہ دلچسپ ہے۔ بچپن کی کچھ دھندلی اور بہت سی واضح یادوں میں سے ایک، اگلی جماعتوں کی اردو کی کتابیں پڑھنا شامل ہے۔ شاید تیسری جماعت میں تھا، جب اخبار پڑھنا شروع کیا۔ پہلا اخبار  'جسارت' تھا جو ان دنوں شام کو فیصل آباد پہنچا کرتا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ابّو، جماعت کے متفقین میں شامل تھے۔ اس میں ہماری دلچسپی کا سامان اندر کے صفحات میں "فلیش گورڈن" کی قسط وار، باتصویر کہانی ہوتی تھی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دور کے مُتقین اتنے خُشک نہیں تھے۔ آج کل شاید ان کہانیوں کو کامکس کہا جاتا ہے۔۔۔۔ خیر۔۔۔ پڑھنے کی لَت بہرحال دو تین مختصر پیروں سے تسکین نہیں پاتی تھی۔ لہذا شہزادی، بادشاہ، جن، پری، دیو، شہزادہ، لکّڑ ہارا، چرواہے کی کہانیوں والے مختصر سے رسالے اپنے جیب خرچ سے خرید کے پڑھنا شروع کیے۔ ہمدرد، نونہال وغیرہ بھی کہیں نہ کہیں سے مل جاتے تھے۔ لیکن یہ کہانیاں زیادہ عرصہ ہمارا دل نہ لُبھا سکیں۔
ان دنوں ابّو، تقریبا روزانہ شام کے وقت ایک کتاب لے کے بیٹھ جاتے۔ جس کے سرِ ورق پر پستول تھامے، سوٹ پہنے ہوئے کوئی شخص ہوا کرتا تھا۔ ان سے پوچھتا کہ اس "رسالے" میں کیا ہے تو جواب ملتا کہ ۔۔ چور، سپاہی کی کہانی ہے۔۔۔ میں اصرار کرتا کہ میں بھی پڑھوں گا تو مسکرا کے کہتے کہ بڑے ہوجاؤ ، پھر پڑھنا، ابھی سمجھ نہیں آئے گی۔
وہ "رسالے" ابنِ صفی سے ہمارا پہلا تعارف تھا۔
جناح کالونی میں چھتری والے چوک سے ہوزری مارکیٹ کی طرف جائیں تو سیدھے ہاتھ کونے پر ویسٹ اینڈ بیکری ہوا کرتی تھی شاید اب بھی ہو۔ اس کے ساتھ ایک دو دکانیں چھوڑ کے "رفیق لائبریری" تھی۔ لائبریری کے مالک، رفیق صاحب، ایک دھان پان، معنّک، گورے چٹّے، بیٹھی ہوئی آواز والے چاچا جی تھے۔ ابّو کے دوست ہونے کی وجہ سے ہم ان کو چاچا جی کہتے تھے۔ انکی دوستی کی وجہ بھی وہی "رسالے" تھے۔
گرمیوں کی چھٹیوں میں دوپہر تک ہمیں دکان پر قید کیا جاتا تھا کہ گھر میں رہتے ہوئے، چھٹیوں کے کام کی بجائے ہم بنٹے، کرکٹ اور ایسی ہی دوسری مفید سرگرمیوں میں ملوّث رہتے تھے۔ تو صبح سویرے ہم بستہ اٹھائے، ابّو کےساتھ دکان پر تشریف لے جاتے۔ جناح کالونی میں واقع پاکستان نیشنل سنٹر سے ہمارا تعارف انہی دنوں ہوا۔ جیسے ہی ابّو کسی کام کے لیے نکلتے، ہم سُودی کو ساتھ لیتے اور پاکستان نیشنل سنٹر میں جا دھمکتے۔ وہاں بہت سے اخبار، کتابیں، رسائل ہمارے لیے کسی خزانے سے کم نہیں تھے۔ ایک چھوٹی سی الماری میں بچّوں کے لیے کتابیں تھیں۔ عنبر، ناگ، ماریا، چلوسک ملوسک، داستانِ امیر حمزہ وغیرہ ہم نے وہیں بیٹھ کر پڑھیں۔
انہی دنوں ہم نقل مکانی کرکے اپنے آبائی مکان جھنگ بازار سے عوامی کالونی منتقل ہوگئے۔ یاد نہیں کہ پہلی دفعہ ظہیر لائبریری، ہمارا جانا کیسے ہوا لیکن ایک دفعہ تعارف ہونے کے بعد عوامی کالونی میں گزرے ہوئے طویل عرصے میں شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب دن میں کم ازکم ایک چکّر، ظہیر لائبریری کا نہ لگا ہو۔ طارق روڈ سے عوامی کالونی میں داخل ہوں تو گلی نمبر چھ میں بائیں ہاتھ پر تیسرا مکان ہمارا تھا۔ گلی کی دائیں نُکّڑ پر 'سلیم اختر راہی بیسٹ ٹرنر اینڈ ریپیئرنگ" نامی خراد کی دکان تھی۔ راہی صاحب، قاری سعید چشتی کے گہرے دوست تھے اور قاری صاحب اکثر شام کو اپنے ویسپے سمیت اس دکان پر پائے جاتے تھے۔ قاری صاحب اس وقت تک صرف قاری ہی تھے، قوّال نہیں ہوئے تھے۔ گلی کی بائیں نُکّڑ پر استاد خالد کی ویلڈنگ کی دکان تھی۔ گلی پار کرکے گلستان روڈ (اب شاید بمبینو روڈ) آتا تھا جس کے دوسری طرف گلشن کالونی تھی۔ ظہیر لائبریری گلستان روڈ پر گلی نمبر ایک کے کونے سے تیسری دکان میں واقع تھی۔ تینوں دیواروں پر لکڑی کے ریک استادہ تھے۔ جو کتابوں سے بھرے ہوتے تھے۔ ایک چھوٹا سا کاؤنٹرتھا جس کے پیچھے پروپرائٹر ظہیر لائبریری، ظہیر الدین بابر براجمان ہوتے تھے۔ کاونٹر کے سامنے والی دیوار کے ساتھ لکڑی کا ایک بنچ تھا۔ جس پر کافی عظیم شخصیات اپنی تشریف رکھتی تھیں۔
اشتیاق احمد سے پہلا تعارف، ظہیر لائبریری کی وساطت سے ہوا۔ یہ ہمارے لیے ایک بالکل نئی چیز تھی۔ بادشاہ، ملکہ، شہزادی، لکڑہارا، جن، دیو، پریوں کی بجائے ، عام کردار۔ ہمارا ماننا ہے کہ چور، سپاہی کی کہانی سے دلچسپ شاید ہی کوئی اور کہانی ہوتی ہو۔ تو اشتیاق احمد ہمارے پسندیدہ ترین لکھنے والے بن گئے۔ جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے گئے، ابّو کا رجحان مذہبی ہوتا گیا۔ رسالے، ناول وغیرہ خرافات میں شامل ہوتے گئے۔ جماعت اسلامی کے رسالے، نُور، بتول اور ترجمان القرآن باقاعدگی سے آنے لگے۔ ہم بھی لیکن چھپ چھپا کر خرافات پڑھتے ہی رہے۔ اشتیاق احمد کے بعد عمران سیریز کی باری آئی۔ مظہر کلیم، صفدر شاہین، ایچ اقبال وغیرہ کے ناولز پڑھے۔ مظہر کلیم ان سب میں سے اچھا لکھتے تھے۔ ابنِ صفی کو ساتویں میں پہلی دفعہ پڑھا تو بہت بورنگ لگے، چھوڑ دیا۔ دسویں کے پیپر دے کے دوبارہ شروع کیا اور آج تک نہیں چھوڑا۔
نسیم حجازی، اسلم راہی ایم اے، قمر اجنالوی، عنایت اللہ وغیرہ کو بھی پڑھ ڈالا۔ نویں جماعت میں پہلا ڈائجسٹ پڑھا، جاسوسی ڈائجسٹ۔ "شکاری وہ پہلی کہانی تھی جس سے ڈائجسٹ کا چسکا لگا۔ بس پھر چل سو چل۔۔۔ سب رنگ، جاسوسی، سسپنس، مسٹری میگزین، عمران ڈائجسٹ، نیا رخ، نئے افق، عالمی ڈائجسٹ۔۔۔ ڈائجسٹوں کے لکھاریوں کی اپنی ایک الگ دنیا تھی۔ شکیل عادہ زادہ، احمد اقبال، علیم الحق حقّی، اثر نعمانی، ایم اے راحت، محی الدین نواب، طاہر جاوید مغل، محمود احمد مُودی، کاشف زبیر، ساجد امجد، جبار توقیر، اقلیم علیم اور بہت سے دوسرے۔۔۔۔۔ ڈائجسٹ سے ہی غیرملکی کہانیوں کے ترجمے پڑھنے کا موقع ملا۔ ایک نئی دنیا سے تعارف۔۔۔
کالج کے پہلے سال، منٹو کا ذکر سنا۔ یہ ذکر اور تاثر کچھ ایسا خوشگوار نہیں تھا۔ ہمارے ایک دوست جو بعد میں کاکول کو پیارے ہوگئے، انہوں نے منٹو کی کہانی "ٹھنڈا گوشت" پڑھنے کو دی اور بائیں آنکھ مِیچ کے بولے۔۔ "مزے آجان گے"۔۔۔ مزے تو خیر کیا آتے، جتنی سمجھ آئی۔۔ اسی میں ہمارے کان لال ہوگئے۔ اس سے بہرحال ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں ادب پڑھنے کی تحریک ملی۔ احمد ندیم قاسمی کے افسانے شاید وہ پہلی ادبی تحریر تھی جو ہم نے پڑھی۔ ممتاز مفتی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، غلام عباس، خدیجہ مستور، اے حمید، قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، عبداللہ حسین۔۔ الغرض جو بھی ہمارے سامنے آیا ہم نے پڑھ ڈالا۔۔۔۔ بہت کچھ سر کے اوپر سے گزر گیا۔۔ بہت عرصے بعد دوبارہ پڑھا تو گتھیاں سلجھیں۔ تارڑ کے سفرنامے پڑھے اور سچّی بات کہ زیادہ متاثر نہیں کرسکے۔ تارڑ سے اصلی والا ٹاکرا "راکھ" پڑھ کے ہوا اور تب سے تارڑ کے سحر میں مبتلا ہیں۔
نان فکشن بہت کم پڑھا۔ ڈاکٹر سلیم اختر، سبطِ حسن اور ڈاکٹر مبارک علی کے نام  ذہن میں آرہے ہیں۔ اس میں اگر مذہبی لٹریچر کو بھی شامل کرلیا جائے تو مولانا مودودی اور شبلی نعمانی کا نام آتا ہے۔
شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ اقبال کے علاوہ ہم کسی کو شاعر نہیں سمجھتے تھے اور اقبال کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں عقیدت و احترام کی اگر بتّیاں سلگنے لگتی تھیں۔ ایک دن ظہیر سے گپ شپ کرتے، ریک میں پڑی ایک کتاب کے عنوان نے توجہ کھینچ لی۔۔۔ دشمنوں کے درمیان شام۔۔۔ ورق گردانی کی تو ایک انوکھی چیز پڑھنے کو ملی۔ یہ ہمارے شاعری سے لائف لانگ رومانس کا آغاز تھا۔ منیر نیازی، شاعری میں ہماری پہلی محبّت ہیں۔ پہلی محبّت کبھی نہیں بھولتی۔