بے لاگ بلاگر - خاور کھوکھر

سب سے پہلے ڈفر کا بلاگ وزٹا تھا میں نے اور وہ بھی اتفاق سے۔ ڈھونڈنے کچھ اور نکلا تھا، پہنچ کہیں اور گیا۔ لیکن اب سوچتا ہوں کہ ٹھیک جگہ پہنچا تھا۔ اسی کے بلاگ رول سے خاور کھوکھر کے بلاگ کا پتہ ملا۔ پہلی دفعہ وہاں گیا تو تصویر دیکھ کر لگا کہ کوئی منڈا کھنڈا ہے اور گانے شانے پوسٹ کردیتا ہوگا موج میلہ کرنے کے لئے۔
لیکن پوسٹ پڑھنی شروع کی تو آخری سطر تک پڑھتا ہی چلا گیا۔ انوکھا انداز تحریر اور قاری کو برچھی سے ”کتکتاریاں“ کرتے ہوئے خاور صاحب۔
دو قسم کے بندے ہوتے ہیں پہلے جو خود کو تجربہ کار کہتے ہیں لیکن اصل میں پڑے پڑے پرانے ہوگئے ہوتے ہیں اور جو ہر بات پر اپنا باجا نکال کر بجانا شروع کردیتے ہیں۔ دوسری قسم کے یہ ہمارے خاور کھوکھر جیسے ہوتے ہیں کہ ایسی باتیں وہی لکھ سکتا ہے جس کو زندگی نے چنگا رگڑا دیا ہو اور خوب دھو کر نیل دے کر سکھایا ہو۔چمک جاتا ہے پھر بندہ، تو اپنے خاور صاحب بھی چمک گئے ہیں۔ سیدھے انداز میں نوکیلی باتیں۔ کاٹ دار ایسی کہ بندہ پڑھنے کے بعد بھی چبھن محسوس کرتا رہے۔ لگی لپٹی رکھے بغیر لیکن کسی کو طعنے اور مہنے دیئے بغیر۔
تبصرے بھی کم کم کرتے ہیں، لیکن تبصرے بھی پڑھنے لائق ہوتے ہیں۔ ایک اقتباس دیکھئے

طالبان کے اسلام کا ورژن ہو گا جی
خواہ مخواہ
شلوار کو اونچا کروانے کے لیے گٹوں پر چھڑیاں برسیں گی
داڑھی کے سائیز پر سزا ہو گي
لیکن جی فکر ناں کریں
ان لوگوں کی نیت ٹھیک ہو گي اس لیے ان کو سنوارنا آسان ہو گا

ان کے نقطہ نظر سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سوچی سمجھی رائے کے مالک ہیں اور اس پر دلیل سے بات کرتے ہیں۔ پوری قوم کی طرح بلاگروں میں بھی جذباتیت پسندوں (جن میں خود بھی شامل ہوں) کی بھرمار ہے لیکن یہ بھی ان کی خوبی ہے کہ جذباتیت سے کوسوں دور ہیں۔ سیاست، مزاح، معاشرت ہر موضوع پر قلم برداشتہ لکھتے ہیں۔ قاری سے مکالمہ کرتا ہوا لکھنے کا انداز اور اپنی رائے بغیر ٹھونسے ہوئے بیان کرنے کا فن۔



آخر میں ان کے بے لاگ بلاگ سے ایک اقتباس۔۔۔
اب یہ حال ہے کہ حکومتی لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور میڈیا ان کے ھاتھ ہے
اور یہ لوگ بچوں کی طرح کہہ رہے ہیں وہ دیکھو جی طالبان آ رہے ہیں یہ ہم لوگوں کو ماریں گے
نہیں جی یہ ہم لوگوں کو نہیں تم لوگوں کو ماریں گے
بس میرے لوگوں کو عام لوگوں کو اس بات کا معلوم ہونے تک کی دیر ہے کہ ہم لوگ ہم ہیں
اورحکومتی لوگ
ہم نہیں ہیں!!

ڈائیلاگ بازی

پچھلے کچھ برسوں میں جو چند اچھی فلمیں بنی ہیں ”اومکارہ“ ان میں‌ سے ایک ہے۔ یہ فلم شیکسپئر کے ڈرامے ”اوتھیلو“ سے ماخوذ ہے۔ اور اس کو دیہی اتر پردیش کے پس منظر میں فلمایا گیا ہے۔ فلم میں‌ استعمال کی گئی زبان بہت ہی عوامی ہے لہذا کمزور دل حضرات دیکھنے سے پرہیز کریں۔ فلم کے اوپننگ کریڈٹس کے فوراً بعد یہ ڈایلاگ ہے ، جو بہت سی وجوہات کی بناء پر میرا پسندیدہ ہے۔

(سیف علی خان بطور لنگڑا تیاگی)
”بے وقوف اور ۔۔۔۔ میں‌ دھاگے بھر کا پھرک ہوتا ہیگا بھیّا
دھاگے کے ہینگے بے وقوف اور ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔
اور جو دھاگہ ہینچ لو تو کون ہے بےوقوف اور کون ہے ۔۔۔۔۔، کروڑ روپے کا پَرَسَن ہے بھیا
!

خالی جگہ میں استعمال ہونے والا لفظ لکھنے کی ہمت نہیں‌ ہوئی۔ جنہوں نے فلم دیکھی ہے ان کو پتہ چل گیا ہوگا کہ کونسا لفظ ہے!

برسبیل تذکرہ ایک بات یاد آئی ہے وہ بھی سن لیجئے۔ ایک انڈین دوست سے میری کرکٹ پر بحث ہورہی تھی کہ وہ اچانک بولا۔ ”یار، تم پاکستانی انڈیا کے اتنے مخالف ہو لیکن فلمیں اور گانے ہمارے ہی دیکھتے اور سنتے ہو۔ یہ کیا منافقت ہے؟“
میں نے جواب دیا کہ جب کوئی بندہ تماشبینی کے لئے بازار میں جاتا ہے تو وہ طوائف سے اس کی قومیت نہیں‌ پوچھتا۔ پیسے خرچ کرتا ہے اور تماشبینی کرتا ہے۔ اس میں منافقت کہاں‌ سے آگئی۔
وہ اٹھا، میرے گھٹنوں‌ کو ہاتھ لگایا اور ہاتھ جوڑ کر بولا۔ ”تو مہان ہے میرے باپ، معاف کر مجھے“۔

آخر میں تبرک کے طور پر الحاج سلطان راہی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ایک ڈائلاگ سن لیجئے:
سلطان راہی:‌ ”اوئے چاچا! میرے پیو نوں کنے کنے رل کے ماریا اے“۔
چاچا: ”او پترا، اونہوں ساریاں رل کے ماریا سی“۔
سلطان راہی: ”اوئے میں سارے ماردیاں گا“۔

تبصروں میں اپنے پسندیدہ ڈایلاگ لکھنے کی کھلی آزادی ہے!

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

سچ بولنا نہیں، سچ سننا، مشکل ہے۔ وہ بھی اپنے بارے میں !
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کسی کو یاد کرنے کے لئے پہلے اسے بھولنا ضروری ہے !
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسان فطرتاً کمینہ ہے!! اس کے اچھا یا براہونے کا انحصار، کمینگی کی مقدار اور معیار پر ہوتا ہے!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کنوارا ہونے کا کیا فائدہ ہے؟ بندہ بیڈ کی دونوں اطراف سے نیچے اتر سکتا ہے!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شادی شدہ ہونے کا کیا فائدہ ہے؟ پتہ چل جاتا ہے کہ منکر نکیر حساب کیسے لیں گے!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عالم اور جاہل میں فرق:- عالم: ”آپ کے والد تشریف لائے تھے“۔ جاہل: ”تیری ماں دا کھسم آیا سی“۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عشق اور محبت میں وہی فرق ہے جو آقا اور غلام میں ہوتا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
”چوّل“ اور بلاگ میں کیا فرق ہے، بلاگ اپنے لیئے اور چوّل دوسروں کو نصیحت کیلیے ماری جاتی ہے!

ہوشیار باش!
درج بالا چوّلوں میں‌ سے کچھ تو میری ذاتی ہیں اور کچھ اتنی استعمال کرچکا ہوں کہ ذاتی لگنے لگی ہیں!
ان کے جملہ حقوق غیر محفوظ ہیں‌اور کوئی بھی اپنی ذمہ داری پر اپنے نام سے استعمال کرسکتاہے۔
حامل ہذا تحریر کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔

ٹوتھ پیسٹ ملی بریانی

انتباہ: کمزور دل خواتین و حضرات کھانے سے تو کیا پڑھنے سے بھی گریز کریں !!!



قارئین کے پرزور اصرار پر (اور مختلف بلاگز پر کھانوں کی ترکیبیں‌دیکھ دیکھ کر) میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ‌اپنا ترکیبوں کا لچ تلوں گا۔ تو اس سلسلے کی پہلی ترکیب حاضر ہے ۔ اجزاء درج ذیل ہیں
1- خوش ذائقہ ٹوتھ پیسٹ کی بڑی ٹیوب
2- چاٹ مصالحے کے 5 ڈبے
3- بھنڈیاں
4- دو دانے چاول (اچھی طرح صاف کئے ہوئے!)
5- کاسٹک سوڈا (حسب ذائقہ)
6- نمک (15 بڑے چمچ)
7- مرچیں (جتنی آسانی سے لگ جائیں)
8- کریلوں کا جوس (دو چائے کے چمچ)
ٹوتھ پیسٹ کو ایک بڑے پتیلے میں نکال لیں اور اس پر چاٹ مصالحہ چھڑک کر اچھی طرح ملا لیں، خیال رکھیں کہ پیسٹ کا پانی نہ نکلے۔ پھر بھنڈیاں بغیر دھوئے اور بغیر کاٹے ایک جگ میں ڈالیں‌اور اس میں‌ پونے دو گلاس پانی ڈال دیں ۔ کاسٹک سوڈا حسب ذائقہ شامل کریں اور پلیٹ سے ڈھانپ کر دھوپ میں رکھ دیں‌۔ چاول اچھی طرح بھگو کر ابال لیں اور نمک مرچ ابالنے کے دوران ہی ڈال دیں۔ کریلوں‌ کا جوس شامل کرکے چاولوں‌ کودم دے دیں۔ چاولوں کو دم آنے کے بعد، دھوپ میں رکھی ہوئی کاسٹک سوڈا ملی بھنڈیاں بھی شامل کردیں۔ اور ان سب کو اچھی طرح ہلا لیں۔ آخر میں چاٹ مصالحے والا ٹوتھ پیسٹ چاولوں‌ کے اوپر برابر پھیلا کر 40 منٹ کے لئے تیز آنچ پر دم دے دیں۔
بس مزیدار ٹوتھ پیسٹ ملی بریانی تیار ہے۔

بُندا

کاش میں تیرے بُنِ گوش میں بُندا ہوتا!
رات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میں
تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں
صبح کو گرتے جو ترے زلفوں سے باسی پھول
میرے کھوجانے پہ ہوتا تیرا دل کتنا ملول
تو مجھے ڈھونڈتی کس شوق سے گھبراہٹ میں
اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر ایک سلوٹ میں
جونہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھے
ملتا اس گوش کا پھر گوشہء مانوس مجھے
کان سے تو مجھے ہرگز نہ اتارا کرتی
تو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتی
یوں تری قربتِ رنگین کے نشے میں مدہوش
عمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوش
کاش میں تیرے بُنِ گوش میں بُندا ہوتا!
(مجید امجد)

وصی شاہ کی نظم ”کاش میں ترے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا“ بہت الگ اور انوکھی لگتی تھی لیکن جب مجید امجد کو پڑھا تو پتہ چلا کہ شاہ جی کی انسپریشن کدھر سے آئی تھی۔۔۔
موازنہ مقصود نہیں لیکن پھر بھی فرق صاف ظاہر ہے۔۔۔

میں بہت دکھی ہوں!

اس کی آنکھوں میں پانی اتر آیا۔ اس نے قیمتی ریشمی رومال سے آنکھوں کو پونچھا اور بھرائی ہوئی آواز میں مجھ سے مخاطب ہوا۔ ” میں بہت دکھی ہوں، زندگی میں ایسے ایسے غم دیکھے ہیں کہ بیان کرتے ہوئے میرا کلیجہ منہ کو آتاہے۔ سکول میں تھا تو کبھی فرسٹ نہیں آیا، نوجوانی میں جس لڑکی سے بھی اظہار محبت کیا اس نے اپنے بھائیوں‌ سے مجھے پٹوا دیا ۔ کزن کے ساتھ شادی کی خواہش کی تو گھر والوں نے انکار کردیا۔“ وہ سانس لینے کو رکا، سونے کے سگریٹ کیس سے مارلبرو کا سگریٹ نکال کر سلگایا اور پھر یوں گویا ہوا۔ ” شادی ہوئی تو برات والے دن طوفان آگیا، اتنی بارش ہوئی کہ بارات کشتیوں میں‌لے جانی پڑی، ولیمے کے کھانے میں نمک زیادہ پڑگیا۔ سارے خاندان اور دوستوں میں شرمندگی اٹھانی پڑی۔ جہیز میں مرسیڈیز کی بجائے کرولا ملی۔ ہنی مون بھی سوات میں ہی منانا پڑا۔“ اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور پھر مخاطب ہوا۔ ” میرے دوست کیا کیا بتاوں تمہیں۔۔۔ زندگی کیسی کیسی مشکلات میں گزری ہے“۔ یہ کہہ کر اس نے ادھ جلے سگریٹ کو پھینکا اور ایک دفعہ پھر اپنی آنکھوں میں آنے والے آنسو ریشمی رومال سے صاف کئے۔
اس کے خاموش ہونے پر میں اٹھا اور اپنے دوست کو گلے سے لگا کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔

چند اقتباسات - خواتین کے ڈائجسٹوں سے

”۔۔۔۔ جونہی شاقق اندر داخل ہوا، اس کا سامنا فجل سے ہو گیا جو یونیورسٹی جانے کے لئے نکل رہی تھی۔ پکوڑے کلر کے سوٹ پر فالودے رنگ کی چادر میں وہ ایک قیامت لگ رہی تھی۔ شاقق اسے نظر انداز کرنا چاہتا تھا لیکن ایسا مبہوت ہوا کہ فجل کے ابا کے کھنکھارنے پر ہی اسے ہوش آیا۔۔۔۔“
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
”۔۔۔۔ نارم اسے ڈھونڈتا ہوا کچن تک آ پہنچا اور دروازے میں کھڑا ہو کر فرینہ کو محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگا۔ وہ اس سے بے خبر بھنڈیوں کے لئے پیاز کاٹ رہی تھی۔ نارم نے اسے ہولے سے پکارا، ”فرنی۔۔۔“ ۔ فرینہ نے پلٹ کر اسے دیکھا تو حیا سے (یا چولہے کی آگ) سے اس کے سانولے گال نارنجی ہوگئے ۔۔۔۔“
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بائسہ کے فائنل ایگزامز شروع ہونے والے تھے، ایگزامز سے زیادہ وہ اس بات پر پریشان تھی کہ اب اسے کیسے دیکھ سکے گی؟؟ وہ جو اس کی زندگی کا محور ہے، جس کے خیال سے ہی اس کی پلکیں حیا سے جھک جاتی ہیں، جس سے اس نے ٹوٹ کر محبت کی ہے (اور ٹوٹنے کی وجہ سے زنگ بھی لگ گیا ہے ) ، لیکن وہ کٹھور دل ایسا ہے کہ اسے کچھ خبر نہیں‌ کہ کوئی اسے اپنی زندگی بنائے بیٹھا ہے۔
کب پتہ چلے گا تمہیں۔۔۔ لائم۔۔۔ کب اپنی بائسہ کے دل کی بات سنو گے ، سمجھو گے؟؟؟ کب ۔۔۔ کب۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتباہ:
مندرجہ بالا اقتباسات ان ڈائجسٹوں سے لئے گئے ہیں جو ابھی تک طبع نہیں ہوئے اور نہ ہی ہونے کی امید ہے۔۔۔ لہذا کسی بھی قسم کی مطابقت قطعی اتفاقیہ ہوگی۔۔ ان میں لکھے گئے نام خالص میری اپنی ”ایجاد“ ہیں‌ اور انہیں‌کوئی بھی اپنے ہونے والے بچے کے لئے چن سکتاہے کہ آج کل خواتین زیادہ تر نام ڈائجسٹوں سے ہی چنتی ہیں۔ لیکن بڑے ہونے پر بچوں نے اگر سوال کیا کہ یہ نام کہاں سے پڑھ کر رکھا تھا تو میرا ذمہ توش پوش۔۔۔

سامنے یونان ہے !!!


ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہئے

آر یا پار

ہم لوگوں میں کوئی مینو فیکچرنگ فالٹ ہے ضرور۔ہم بیچ کے راستہ اور درمیانی راہ سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے مچھر موسپل سے بھاگتاہے۔ بھٹو کو ولن بنایا تو اس کے مرنے کے بیس سال بعد تک اسے سولی پر لٹکائے رکھا۔ اب اسے ہیرو بنایا ہے تو ایسے لوگ بھی اس کے تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں جو اپنے پھیپھڑوں کی پوری طاقت سے اسے پھانسی دینے کے مطالبے کرتے تھے۔
ہم انسان کو انسان سمجھنے سے انکاری ہیں۔ لہذا ہم نے انسان کو فرشتے اور شیطان میں بانٹ دیا ہے۔ ضیاء الحق سے خوش ہوئے تو اسے مرد مومن مرد حق کا خطاب دے دیا ، ناراض ہوئے تو ”وینگی مُچھ تے کانی اکھ ضیاء الحق ضیاء الحق“ کا نعرہ بلند کر دیا۔
روزمرہ کے معاملات دیکھ لیجئے، ہم سب کے اندر ایک چھوٹا سا رب چھپا بیٹھا ہے جو اپنے جاننے والوں سے مکمل بندگی کا تقاضا کرتاہے۔ ہم اپنے دوستوں سے چاہتے ہیں کہ ہماری ہاں میں‌ہاں ملائیں جس سے ہم ملیں اسے سے وہ بھی دوستی رکھیں اور جو ہمیں پسند نہ ہو اسے وہ بھی رد کر دیں۔
رشتے داری میں بھی یہی رنڈی رونے ہیں۔ خاندان میں کوئی شادی ہو تو ہماری شرطیں ہوتی ہیں، کہ خالو رشید کو بلاؤ گے تو میں نہیں آؤں گا اور ماموں حفیظ کو نہیں بلاؤ گے تو پھر بھی نہیں آؤں گا۔
کسی مولانا سے یہ کہہ کر دیکھیں کہ کپڑا ٹخنوں سے نیچے بھی ہو تو نماز ہو جاتی ہے تو وہ وہیں بیٹھے بٹھائے آپ کو ہنود و یہود لابی کا سرگرم رکن ثابت کردیں گے۔
دوسروں کے ایمان پر شک کرنا ہمارا قومی کھیل بن چکا ہے۔
”سب بے ایمان ہیں ایک میں ہی ایماندار ہوں“ ہمارا قومی ماٹو بن گیا ہے۔
کچھ ہے ضرور ۔۔۔ یا تو ہمارے جینز میں خرابی ہے یا آب و ہوا میں یا خوراک میں یا پھر دماغ میں ۔۔کوئی چیز ایسی ضرور ہے جو ہمیں آر یا پار کے طرز فکر پر مجبور کرتی ہے۔۔
سوچ سوچ کر تھک چکا ہوں۔۔
لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا
کہ آخر ہمارے ایسا ہونے کی کیا وجہ ہے؟؟؟؟‌

ابن صفی - چند تلخ پارے

پھر ایک ایسی بات کہنے والا ہوں جو شاید بہت سے لوگوں کو بہت چبھے۔
میری رائے میں پچھلے ایک سو سال میں اردو زبان کی ترویج اور ترقی میں جتنا ابن صفی کا حصہ ہے ، کسی اور کا نہیں۔ اور اسی ابن صفی کو ادب کے خود ساختہ ٹھیکیدار ادیب ماننے سے انکار کرتے رہے۔
ان کے کچھ اقتباس پیش کررہاہوں، پڑھیے اور سر دھنیے۔۔۔

”مگر تم جو کہتی تھیں کہ تمہیں رمیش سے محبت ہے۔“
”محبت۔۔ محبت تو مجھے تم سے بھی ہے۔“ شِلّی نے بڑی معصومیت سے کہا۔ ”مجھے ہر فضول آدمی سے محبت ہو جاتی ہے۔“
”تو کیا میں فضول ہوں؟“
”ہر وہ آدمی فضول ہے جو کسی مخصوص عورت کے پیچھے وقت اور پیسہ برباد کرتاہے۔“
”کیوں۔۔۔؟“
”اس لئے کہ ہر عورت ۔۔۔ عورت ہوتی ہے۔ چاہے وہ شِلّی ہو یا سڑک کے کنارے گھسٹنے والی مفلوج بھکارن۔“
”مگر وہ شِلّی کی طرح حسین نہیں ہوسکتی۔“
”حسن۔“ شِلّی نے تلخ ہنسی کے ساتھ کہا۔ ”حسن تمہارے کس کام آتاہے۔ حسن سے تمہیں کیا ملتاہے؟“
(گیتوں کے دھماکے)
--------------------------------------------------------------------------------------------

”تم آخر چاہتے کیا ہو؟“
”فقط اتنی سی زمین کہ مرنے کے بعد دفن کیا جاسکوں“
(نیلی لکیر)
--------------------------------------------------------------------------------------------

”کیا تم اسے جانتے ہو؟“
”کیوں نہیں۔ اس کا نام پمیلیا ہے اور میں اسے پیار سے پُمّو کہتاہوں۔“
”پُمّو کہتےہو“۔ حمید نے حیرت سے کہا۔ ”کیا وہ تم سے بے تکلف ہے؟“
”نہیں تو۔ آج تک گفتگو بھی نہیں ہوئی۔ میں ۔۔۔ یونہی بس دل ہی دل میں اسے پُمّو کہتا ہوں۔“
(جنگل کی آگ)
--------------------------------------------------------------------------------------------

تو بیٹے خاں؛ تمہیں محکمہ آرام تو دنیا کے کسی بھی حصے میں نہیں‌ ملے گا۔ ویسے میری نظروں میں ایک ہی جگہ ایسی ہے جہاں آرام ہی آرام ہے۔“
”مجھے اس کا پتہ ضرور بتائیے۔“
”قبر۔۔۔۔“۔
”میں وہاں بھی جانے کو تیار ہوں بشرطیکہ کوئی خوبصورت سی لڑکی میرے ساتھ دفن ہونے کا وعدہ کرلے۔“
”آگئے اوقات پر۔“ فریدی منہ بنا کربولا۔
”میرے باپ دادا کی بھی یہی اوقات تھی جس کا نتیجہ میں بھگت رہا ہوں۔“
(لاشوں کا سوداگر)
--------------------------------------------------------------------------------------------

”چور یا تو پکڑے جاتے ہیں یا عیش کرتے ہیں ۔۔۔ کوئی تیسری بات نہیں ہوتی !“
(ریشوں کی یلغار)
--------------------------------------------------------------------------------------------

”۔۔۔۔ انگریزوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کا سب کچھ غلط کر دیا تھا۔ صرف ٹونٹی دار اور بغیر ٹونٹی کے لوٹے کو غلط نہ کر سکے کیونکہ ہندو اور مسلمان صرف اسی ایک بات پر متفق تھے کہ چاہے جان چلی جائے ہم کاغذ ہرگز استعمال نہیں کریں گے۔!“
(پاگلوں کی انجمن)

احساس کمتری کے مارے ڈھگّے

آپ نے کبھی دو انگریزوں کو ایک دوسرے سے فرانسیسی بولتے سناہے؟ یا لاطینی امریکیوں کو پولش؟ یا پٹھانوں کو عربی؟ یا اردو بولنے والوں کو بلوچی؟ کبھی نہیں‌ سنا ہوگا۔ میں نے بھی نہیں سنا۔ میں‌ پچھلے چند سالوں سے ‌ایک ایسے ملک میں مقیم ہوں جہاں دنیا کے ہر کونے اور ہر قومیت کے لوگ مقیم ہیں۔ ان لوگوں‌ سے سماجی اور پیشہ وارانہ سطح پر میل جول بھی ہے۔ میں‌ نے ایک بھی ایسا فرد نہیں دیکھا جو اپنی زبان بولتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہو۔ اب یہاں میرا ایک سوال ہے، پنجابیوں کو پنجابی بولتے ہوئے کیوں تکلیف ہوتی ہے؟
میرے بہت سے ذاتی تجربے ہیں۔ ایک بیان کرتا ہوں۔ ایک صاحب کام کے سلسلے میں‌ آئے۔ سوٹڈ بوٹڈ۔ کام ان کا ارجنٹ تھا۔ ابتدائی تعارف کے بعد جب پتہ چلا کہ میں بھی پاکستانی ہوں تو کہنے لگے میں لاہور کا رہنے والا ہوں۔ بہرحال اس کے بعد ان کا کام ترجیحا پہلے کردیا۔ وہی صاحب کوئی دو مہینے کے بعد دوبارہ تشریف لائے ان کے ساتھ ان کے کوئی ماتحت بھی تھے، ایک سی ڈی مجھے دی اور انگلش میں‌ کہنے لگے کہ اس کو ذرا چیک کرلیں۔ میں‌ نے پنجابی میں‌جواب دیا کہ سر جی کیا حال ہیں؟ پہچانا نہیں تو ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور جوابا (بزبان انگریزی ) کہنے لگے ، ”میں سمجھا نہیں‌، انگلش میں کہیں، میں یہ زبان نہیں‌جانتا جو آپ بول رہے ہیں“۔ بس جی پھر کیا تھا مجھے تو آگ لگ گئی ، پنجابی میں‌ وہ ذات کی سنائیں‌ کہ ان کے کان اور کچھ اور ناقابل بیان اعضا بھی لال ہوگئے ہوں‌گے۔
یہی حال پنجاب کے متوسط طبقے کی اکثریت کا ہے۔ بچوں‌ کو گھروں میں بھی اردو بولنے کی تلقین کی جاتی ہے ، پنجابی بولنے پر ڈانٹا جاتا ہے کہ ہش۔۔ گندے بچے پنجابی بولتے ہیں۔ جبکہ گھر کے باقی سب فرد ایک دوسرے سے پنجابی بولتے ہیں۔ اب جو بچے کی زبان کا حال ہوتا ہے۔ وہ شاید آپ کے علم میں‌ بھی ہو۔
اس دفعہ چھٹی گیا تو میرے کزن کا بیٹا مجھ سے جس طرح مخاطب ہوا، اس کی چند مثالیں
”جعفر انکل! آپ کدوں آئے تھے“۔ :mrgreen:
”میرے لئی کیا لائے ہیں“۔ :mrgreen:
”آپ اوتھے کیا کام کرتے ہیں“ :mrgreen:
میں نے بہت غور کیا لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہم لوگ اپنی مادری زبان سے کیوں‌ شرمندہ ہیں، کیا پنجابیوں‌ کی مائیں‌گونگی ہوتی ہیں؟ کہ ان کے بچے اردو بولتے ہیں۔ کیا ایسا احساس کمتری ہے کہ ہم اپنی مادری زبان بولتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں؟ دنیا کی ہر قوم بچوں‌ کو مادری زبان میں ابتدائی تعلیم دیتی ہے۔ جب کہ مجھے کالج میں آکر پتہ چلا تھا کہ پنجابی زبان بطور مضمون پڑھائی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ علم ہوا کہ کیسا علم و ادب کا خزانہ ہے جس سے ہم اپنی زبان نہ پڑھنے کہ وجہ سے محروم ہیں؟
چنگا بھلا بندہ یاروں‌ دوستوں سے پنجابی میں گپ شپ کر رہا ہو، کسی کے فون کی گھنٹی بجے اور وہ اردو میں آہستہ آواز میں دبی دبی ہنسی کے ساتھ باتیں کرنے لگے تو سب سمجھ جاتے ہیں کہ اچھاااااااااااا۔۔۔۔ بھابھی (ہونے والی) کا فون ہے۔ کیا محبوب سے پنجابی میں بات کرنا گناہ کبیرہ ہے؟ یا بندہ سوفسٹی کیٹڈ نہیں‌لگتا؟؟؟ :shock:
تو کیا ہم پنجابیوں‌ کو ڈھگے کا جو خطاب ملا ہوا ہے وہ درست ہے؟ میں سازشی نظریوں پر یقین نہیں رکھتا۔ لیکن کوئی تو ہے جس نے ہمارے ذہنوں میں یہ ڈال دیا ہے کہ پنجابی ایک بدتمیز زبان ہے۔ اس کو بولنے سے انسان گنوار لگتا ہے۔ منٹو کا ایک واقعہ سنا کر بات ختم۔۔۔
ایک شام منٹو اپنے دوستوں کے ساتھ ”معمول“ کی محفل سجائے بیٹھے تھے کہ اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ پنجابی زبان وسیع ہے یا اردو؟ یار لوگ ذرا خمار میں تھے ، بحث گرم ہوتی گئی۔ منٹو نے اچانک اپنے سامنے پڑی تانبے کی رکابی اٹھا کر فرش پر دے ماری۔ سب کو سانپ سونگھ گیا کہ منٹو کا غصہ مشہور تھا۔ پھر انہوں نے وہ رکابی اٹھائی اور کہا کہ میں نے اس میں‌پنجابی میں ”چِب“ ڈال دیا ہے تم اس میں‌ اردو میں‌کچھ ڈال کے دکھاؤ۔
:grin: :grin: :grin:

جدید کلیشے*

سیاسی کلیشے :
- اجازت نہیں دی جائے گی۔
- آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
- بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔
- تقدیر بدل دیں گے۔
- جمہوری اقدار کو فروغ دیں‌گے۔
- جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔

بلاگی کلیشے:
- بہت اچھی تحریر ہے۔
- سب چور ہیں۔
- انقلاب آنے والا ہے۔ (بروزن سیلاب آنے والاہے)
- میں کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا/چاہتی۔
- میں آپ سے بالکل متفق ہوں۔

سماجی کلیشے:
- ہور فیر۔۔۔
- اور کیا حال ہے؟
- کسی سے بات مت کرنا۔۔۔
- کدھر تھے اتنے دن سے؟
- مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔
- بس یار مصروفیت بہت ہے۔
- سوٹ نیا لیا ہے؟
- کام کیسا چل رہا ہے؟
- اس مہینے بل بہت زیادہ آیا ہے!
- کوئی نئی تازی۔۔
- اس دفعہ بہت گرمی پڑ رہی ہے۔۔
- بڑوں کا ادب ختم ہوگیا ہے۔
- سردی بہت زیادہ ہے اس دفعہ۔۔۔
- بس جی قیامت کی نشانیاں ہیں۔

* آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق Cliche کی تعریف کچھ اس طرح ہے " hackneyed phrase or opinion"