ذلّت لیگ

میں نے پالٹی بنائی اے۔ بڑی مشور ہورئی اے۔ لوگ ایں، شامل ہورئے ایں۔ الیکشن اے، میں نے جیتنا اے۔ نوایشریف اے، جلتا اے۔ میری پاپولیرٹی اے، فیش بک اے، فین ایں، مزے ایں۔ پالٹی کے تین لاکھ رکن ایں، فیش بک پر آتے ایں، میرا پیج وِییَٹ کارتے ایں۔ کومنٹ کارتے ایں۔ لائک کارتے ایں۔ اور پاپولیرٹی کیا ہوتی اے؟

کرشٹینا لیمب اے۔ بڈھی اے۔ پیسے کھاتی اے، میرے خلاف رپوٹیں چھاپتی اے۔ کہتی اے، میں شراب پیتا اوں، ویلیں دیتا اوں۔ میرے پیسے ایں، اس کو کیا تکلیف اے؟ مجے سب پتہ اے۔ اسلام میں نشہ حارام اے، میں شراب پیتا اوں۔۔۔مجے نشہ نئیں اوتا اے۔۔۔۔ اس لئے مجے شراب حلال اے۔۔۔۔

میرے پاس آئی اے، میں نے لفٹ نئیں کرائی اے۔ گصہ اے، کیا اے۔ مجے ڈر نئیں لاگتا اے۔ دو باتیں ایں۔ فیش بک اے، پالٹی اے۔ راشد قاریشی اے۔ اچھا آدمی اے۔ لوگ اس کو چھیڑتے ایں، دو نمبر جرنل اے۔ ایسی بات نئیں اے۔ میں نے اس کو جرنل بنایا اے۔ ۔۔۔۔یہ باتیں جھوٹی باتیں ایں، یہ نون لیگیوں نے پھیلائی ایں۔ تم شاہ جی کا نام نہ لو، کیا شاہ جی شدائی ایں۔۔۔

لوگ مجھ کو یاد کارتے ایں۔ آہیں بھارتے ایں۔ میں ایک دن لُوٹ کر آؤں گا۔۔۔۔ میرا انتظار کارنا۔۔۔ہچچ ہچچچ۔۔۔ ہچکی اے ۔۔۔آتی اے۔۔ عوام یاد کارتی اے، نشہ نئیں اے۔۔۔ مجے سب پتہ اے۔ اسلام کا پتہ اے، نظام کا پتہ اے، عوام کا بی پتہ اے، میں نے جنگیں لڑیں ایں، میں بہادر اوں، مجے ڈر نئیں لاگتا اے۔۔ ہچچ ہچچچ ہچچچ۔۔۔

دو دفعہ کا ذکر ہے۔۔۔

کہ ایک بادشاہ تھا، ایک ملکہ تھی، ملکہ وزیر کی بیوی تھی، جبکہ بادشاہ نے نرگس سے شادی کرلی تھی۔ نرگس، ہزاروں سال رونے کی وجہ سے بے نور ہوئی تھی یا بے نور ہونے کی وجہ سے ہزاروں سال روئی تھی، یہ بادشاہ نے کبھی اس سے پوچھا نہیں تھا۔ ایک دفعہ پوچھنے کی کوشش کی تھی تو نرگس ساری رات 'مینوں دھرتی قلعی کرادے میں نچّاں ساری رات' پر ناچ ناچ کے پاگل ہوگئی تھی۔ محل کے سارے ملازموں اور نوکروں اور غلاموں اور خواجہ سراؤں (کبھی بندے کا نہانے کو نہیں بھی دل کرتا) نے بھی یہ غصیلا مجرا مفت دیکھاتھا اور بادشاہ کی درازی عمر کی دعائیں کیں تھیں۔ لہذا بادشاہ کو آئندہ کے لئے 'کَن' ہوگئے تھے۔

نور، بچپن میں چائلڈ آرٹسٹ تھی، اور بڑی ہو کے بھی 'بچوں' والے کام ہی کرتی تھی، نور اور نرگس 'سہیلی بوجھ پہیلی' تھیں، بادشاہ کا تہترواں شہزادہ، جونور کے کمرشل اور نرگس کے ڈانس نما مجرے یا مجرے نما ڈانس دیکھ دیکھ کے بڑا ہوا تھا، اس کو شکار کا بہت شوق تھا۔ وزیر کی بیوی جو ملکہ تھی، وہ خفیہ طور پر گھر میں اسلحہ بناتی تھی اور پینٹ شرٹ اور موٹر سائیکل والے روشن خیالوں کو بیچتی تھی جن کی نہ داڑھیاں تھیں اور نہ ہی وہ امریکہ کو گالیاں دیتے تھے، اچھے بچے۔۔۔ بس یہ اچھے بچے سڑکوں اور گلیوں میں لوگوں کو ملکہ سے خریدا ہوااسلحہ دکھاتے تھے کہ دیکھو کیا شاندار چیز ہے۔۔۔ پر پتہ نہیں کیوں لوگ ان کو اپنے فون، پرس ، گھڑیاں وغیرہ دے دیتے تھے، حالانکہ انہوں نے کبھی خودداری کی وجہ سے ان سے کوئی چیز مانگی نہیں تھی شاید بلکہ یقینا تحفتا دیتے ہوں گے۔ شہزادی اور ملکہ کی چچیری بہن کی نند کے دیور کی بڑی بہن کی بیٹی بہت اچھی دوست تھیں۔ وہ دونوں کالج سے سیدھی جوس کارنر پر ڈیٹ مارنے جاتی تھیں، جہاں شہزادہ بھی شکار کھیلتا تھا۔

الحمرا سے بگھی والے نے جب بادشاہ سے محل جانے کے زیادہ پیسے مانگے تو بادشاہ نے غصے میں آکر اسے وزیر اعظم بنا دیا۔ جس پر بگھی والے کو اپنی بگھی بیچنی پڑی تاکہ اچھے اچھے سوٹ اور چمکیلی چمکیلی ٹائیاں خرید سکے۔ بگھی میں لگے ہوئے خچروں نے اپنے مالک کی اس بے وفائی پر عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائرکردیا۔ عالمی عدالت انصاف نے ترنت بگھی والے کو غاصب قرار دے دیا لیکن چونکہ بگھی والے کو استثناء حاصل تھا اس لئے خچروں نے جنیوا کے مشہور چوک میں اجتماعی خود کشی کی یرکانوے لگائی جس پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے وزیر اعظم کو انسداد بے رحمی حیوانات کے آرٹیکل تیرہ سو پینٹھ بٹا ساڑھے چتالی سو کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے انہیں ساڑھے اٹھونجہ دفعہ پھانسی اور بادشاہ کی تین لگاتارچُمّیوں کی سزادی۔ بادشاہ اور وزیر اعظم اور وزیر کی بیوی یعنی ملکہ اور شہزادی، جو بادشاہ کی وجہ سے شہزادی نہیں تھی بلکہ ملکہ کی وجہ سے شہزادی تھی اور شہزادے (تہترویں) اور نرگس اور سہیلی بوجھ پہیلی نے اعلی سطحی یعنی چھت پر منعقد اجلاس میں آم چوستے ہوئے اقوام متحدہ کو جی بھر کر کوسنے دیئے اور بادشاہ نے اپنے باقی بہتّر شہزادوں کو ٹرائی سائیکل دلوانے کے لئے آئی ایم ایف سے قرضے کی درمندانہ اپیل وزیر یعنی ملکہ کے شوہرکو 'رات بھر کرو اب کھل کہ بات' والے پیکج پر املا کرائی۔

اگر کسی کو اس کی سمجھ آئے تو براہ کرم مجھے بھی سمجھائے ۔۔ اوراس تحریر سے، میری آجکل جو ذہنی حالت ہے اس کا اندازہ 'ارام ناں' لگایا جاسکتا ہے۔۔

حقیقت / افسانہ

اس دنیا کی سب سے قیمتی چیز نیا اور اچھوتا خیال ہوتا ہے، ان خیالات کو پیش کرنے والے لوگ تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔ ویسے بندہ مرجائے (اور مرجاتا ہے) تو تاریخ میں زندہ رہنےکا کیا فائدہ؟ اور اگر کہیں سے آب حیات مل جائے اور موت سے چھٹکارا پالیاجائے توپھر یہ زندگی مسلسل عذاب بنی رہے گی، بہرحال یہ ایک علیحدہ بحث ہے، جس پر پھر کبھی اپنی زرّیں چوّلیں پیش کروں گا۔

میں نے جب 'سٹرینجر دین فکشن' دیکھی تھی تو میرے ذہن میں اس کے مصنف کے لئے ایسے ہی خیالات ابھرے تھے کہ کیا ہی زبردست آئیڈیا ہے۔ بالکل اچھوتا! یا شاید مجھے اپنی جہالت اور کم علمی کی وجہ سےاچھوتا لگا ہو، میں نے آج تک اس موضوع پر نہ تو کبھی پڑھا اور نہ اس پر کوئی فلم یا ڈرامہ دیکھا۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اب شاید میں فلم کی کہانی اور پلاٹ (ویسے اس فلم کا پلاٹ تو کارنر پلاٹ ہے، یعنی کافی قیمتی ہے) بیان کرنا شروع کروں گا۔ ایسی کوئی بات نہیں، ٹھنڈ رکھیں۔ اس فلم کوکسی خاص زمرے میں فٹ کرنا کافی مشکل ہے۔ رومان، تھوڑی بہت سنسنی، ڈرامہ، ہلکا پھلکا مزاح، فینٹسی (اس لفظ کی اردو نہیں آتی مجھے) سب موجود ہے۔

جیسا پہلے لکھا ہے کہ اس فلم کا سب سے بڑا مثبت نکتہ (پلس پوائنٹ، اتنی اردو توآتی ہے مجھے) اس کا بنیادی خیال ہے۔ منظرنامہ بھی زبردست ہے۔ مکالمے برجستہ اور کچھ مقامات پر نہایت شگفتہ ہیں۔ مارک فورسٹر اس فلم کے ہدایتکار ہیں۔ جن کے کریڈٹ پر مونسٹرز بال، فائنڈنگ نیور لینڈ اور سٹے جیسی فلمیں ہیں۔ فلم کی کاسٹ  ڈسٹن ہوفمین، ایما تھامپسن، ول فیرل، میگی جیلنہال، کوئین لطیفہ جیسے ہیوی ویٹس پر مشتمل ہے۔ بور، یکسانیت کا شکار اور تھوڑے سے خبطی آئی آر ایس آفیسر کا مرکزی کردار ول فیرل نے ادا کیا ہے اور اپنی معمول کی اوور دی ٹاپ اداکاری سے گریز کرتے ہوئے بہت عمدہ پرفارمنس دی ہے۔ ایما تھامپسن نے ناول نگار کے کردار میں جان بھر دی ہے جبکہ ڈسٹن ہوفمین حسب معمول شاندار ہیں۔ میگی جیلنہال کی یہ پہلی فلم تھی جو میں نے دیکھی اور دیکھتے ہی اس کا پرستار ہوگیا، اداکاری کا، خوبصورتی کا نہیں!

سوچنے والے ذہن رکھنے والوں کے لئے یہ فلم دیکھنا لازمی ہے۔ باقی جو میرے جیسے ہیں وہ بھی اس سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ میں تو صرف اس کے بنیادی خیال کے سحر میں مبتلا رہا لیکن دوسرے لوگ اس میں سے کچھ اور بھی برآمد کرسکتے ہیں جو میں اپنی سطحی سوچ کی وجہ سے نہ کرسکا۔

(یہ تحریر آپ فلمستان پر بھی ملاحظہ کرکے مزید بور ہوسکتےہیں)

قوت متحرکہ

شفیق الرحمان نے کسی جگہ لکھا تھا کہ دنیا کے سارے عظیم آدمی غمگین تھے، لہذا آپ بھی غمگین رہنا شروع کردیں کہ غم عظمت کی کنجی ہے۔ مزاح کے پیرائے میں کی گئی اس بات پر ذرا غور کریں تو یہ اتنی غلط بھی نہیں لگتی۔

محبت سے لے کر روزگار تک اور بے وفائی سے لے کر غریب الوطنی تک، دکھوں کی اقسام ان گنت ہیں۔ آپ کہیں گے کہ محبت کوغم میں کیسے شمار کیا جاسکتا ہے؟ کرنے والوں سے پوچھ کر دیکھیں یا پھر اپنے دل سے ہی پوچھ لیں!

دکھ اور غم بندے کو ہرابھرا اور زرخیز رکھتے ہیں، مسلسل خوشی بندے کو ایسے بنجر اور ویران کردیتی ہے جیسے سیم اور تھور زرخیز اور آباد زمین کو کردیتا ہے۔ مثال کے لئے اپنی اشرافیہ کو دیکھ لیں، پچھلے دو تین سو سال میں اس نے کیا پیدا کیا ہے، کاٹھ کباڑ۔۔۔۔اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بندہ، ایسے بھکاریوں کی طرح جو اپنے زخموں کو دکھا کر بھیک مانگتے ہیں، اپنے دکھوں کی نمائش لگا کر پھرتا رہے، اور ہمدردی کی بھیک سمیٹتا رہے۔ بلکہ دکھ کو بیج کی طرح دل کی زمین میں گہرا بونا پڑتا ہے، تنہائی میں بہائے گئے آنسوؤں کا پانی دینا پڑتا ہے اور یادوں کی دھوپ لگوانی پڑتی ہے۔ پھر جو پودا اگتا ہے تو اس سے پھل اورچھاؤں دونوں حاصل ہوتے ہیں۔

درمندانہ اپیل بنام بلاگ ایوارڈز انتظامیہ

معزز اراکین انتظامیہ و منصفینِ بلاگ ایوارڈز ڈاٹ پی کے

اس فدوی و حقیر پُر تقصیر کا بلاگ بھی بلاگ ایوارڈ کی دوڑ میں شامل ہے، لیکن اسے یقین کامل ہے کہ وہ یہ ایوارڈ حاصل نہیں کرسکتاکیونکہ سکول سے لے کر کالج تک وہ کسی بھی دوڑ میں جیت نہیں سکا۔ فدوی کو تو کرکٹ ٹیم میں بیٹنگ بھی گیارہویں نمبر پر ملتی تھی اور اس کی باؤلنگ کا حال یہ تھا کہ اس پر خالد لطیف بھی چھکےمار سکتا تھا لہذا باؤلنگ بھی نہیں ملتی تھی۔ فیلڈنگ کے لئے اس عاجز کو کپتان گہرے غور و خوض کے بعدایسی جگہ کھڑا کرتا تھا جہاں گیند سال میں ایک دو دوفعہ ہی آتی تھی۔ لیکن ٹیم کے جیتنے کے بعد بھنگڑے ڈالنے میں یہ فدوی سب سے آگے ہوتا تھا!

فدوی، آج تک سوائے ایک ایسے ایوارڈ کے کچھ نہیں جیتا، جس کی انتظامیہ میں 'متعصّب' اور 'تنگ نظر' لوگ شامل تھے، لہذا آپ سے درمندانہ اپیل ہے کہ فدوی کو لاحق شہرت کے لا علاج عارضے میں وقتی افاقے کے لئےاسے ایوارڈ عنایت کردیں اور ۵۰۰ ٹیرابائٹ سائزکی صدق دل سے مانگی ہوئی دعائیں حاصل کرکے عنداللہ ماجور ہوں۔ کیونکہ جہاں آپ اتنے سارے زمروں میں میرٹ پر ایوارڈ دیں گے تو ایک آدھ زمرہ میں ڈنڈی بھی مارلیں تواس میں کوئی ہرج نہیں کہ اس سے اللہ کے کسی بندے کو شفا ملنے کی امید ہے اور سب سے بڑی نیکی تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ اللہ کے بندوں کے کام آنا ہوتی ہے (اسلام کا تڑکا)۔ میں نے تو موقع کی مناسبت سے 'آسکر تقریر' بھی لکھ رکھی ہے، جو ایوارڈ ملنے کے بعد آپ اسی بلاگ پر ملاحظہ کرسکیں گے۔

مجھے امید ہے کہ آپ جیسے نیک، اہل، قابل اور دردمند دل رکھنے والے احباب اس اپیل پر ہمدردانہ غور کریں گے اور ایک ایوارڈ اس فدوی کو عنایت کرکے اس پر احسان عظیم (انتباہ! یہ کسی بندے کا نام نہیں ہے!) کریں گے۔ ایک مسئلہ اور ہے کہ فدوی بوجہ عدم دستیابی "فلوس و اجازہ" ایوارڈ کی تقریب میں حاضر ہونے سے قاصر ہے لہذا اپنا ایوارڈ حاصل کرنے کے لئے قابل احترام بلاگر عنیقہ ناز کو نامزد کرتاہے۔

ویسے بھی مجھے پورے کراچی میں صرف ان پر ہی اعتبار ہے کیونکہ کوئی اور میرا ایوارڈ لے کر چمپت بھی ہوسکتاہے۔ بشرط زندگی جب بھی کبھی کراچی آناہوا تو عنیقہ بی بی سےایوارڈ بھی وصول کرلوں گا اور ان کی سپیشل ریسیپی، بھیجہ فرائی، بھی تناول کروں گا۔

اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ وما علینا الا البلاغ۔۔۔

چھترول بھی نعمت ہوتی ہے

آپ گامے بھیڈ کو دیکھ لیں۔ اس کو پولیس نے ڈکیتی کے جھوٹےالزام میں پکڑا اور مار مار کر 'بھیڈ' سے دنبہ بنا دیا۔ لیکن اس چھترول نے گامے کی زندگی بدل دی۔ آپ حیران ہوں گے کہ چھترول سے تو زیادہ سے زیادہ سونے کا آسن بدلتا ہے، زندگی کیسے بدل سکتی ہے؟ لیکن گامے کی زندگی پر چھترول نے جو دور رس اثرات مرتب کئے اس کا ذکر آگے آئے گا۔۔۔۔۔

گامے نے ڈکیتی تو دور کی بات، کبھی پُونڈی بھی نہیں کی تھی۔ گامے کا باپ 'جہاز' تھا۔ ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی تو زندگی کی گاڑی چلتی بلکہ گھسٹتی تھی۔گامے نے سکول صرف باہر سے دیکھا تھا۔ کالج کا لفظ اس نے تب سنا تھا جب اس نے گنڈیریوں کی ریڑھی لگائی اور اس کے لنگوٹیے مُودے پھُر نے اسے مشورہ دیا تھا کہ کالج کے گیٹ کے باہر کھڑا ہواکرے، بِکری زیادہ ہوگی۔ 'بھیڈ' گامے کا لقب، خطاب، عرفیت سب کچھ تھا۔ یہ لفظ اس کی ساری زندگی کی کہانی بیان کردیتا تھا۔ اس نے ساری زندگی کسی کو مارنا تو درکنار کسی سے مار کھائی بھی نہیں تھی۔ ہر ایسی جگہ سے وہ ساڑھے اٹھونجہ میٹر دور رہتا تھا جہاں اسے کسی بھی قسم کے دھول دھپّے کا خدشہ ہو۔

پھر 12مئی کا دن آیا جس نے گامے کی زندگی ہمیشہ کے لئے بدل دی۔ گاما ریڑھی لے کر کالج کی طرف رواں دواں تھا کہ راستے میں سنتری بادشاہ نے روک کر اسے دو کلو گنڈیریاں تولنے کو کہا۔ گامے کا گناہ صرف یہ تھا کہ اس نے پیسے مانگ لئےتھے اور اسی دن شام کو تھانےکے ڈرائنگ روم میں الٹا لٹکا ہوا گاما، دنیا کی بے ثباتی پر غور کررہا تھا!

شیخ نیامت اللہ کے گھر کے باہر کھڑی نئے ماڈل کی کاردن دہاڑے گن پوائنٹ پر چھیننے کے الزام میں گرفتار ہوکر ایک گھنٹے کے قلیل وقت میں گاما، پانچ پانجے فٹ کرواچکا تھا۔ الٹا لٹکا ہوا گاما جب ہوش کی سرحد ( یعنی خیبر پختونخوا ) پھلانگ گیا تو اسے عارضی پھانسی گھاٹ سے اتار کر حوالات میں ڈک دیا گیا۔

آپ کہیں گے یہ تو ایک عام کہانی ہے اور ہر روز اس ملک کے تھانوں میں دہرائی جاتی ہے۔ بس یہیں آپ گامے کو انڈر ایسٹیمیٹ کرگئے، گاما عام لوگوں کی طرح بوقت چھترول نہ چیخا چلایا، نہ واویلا مچایا نہ اپنی بے گناہی کی دہائی دی اور نہ رب رسول کے واسطے۔ بس وہ چپ چاپ چھترول کرواتا رہا۔ اس نے نہ تو رشوت دے کر چھوٹنے کی کوشش کی اور نہ ہی علاقہ ناظم کی سفارش سے باعزت رہائی کی جگاڑ لگائی۔

گامے کے ساتھ حوالات میں ایک باؤ قسم کا بندہ بھی بند تھا۔ اس نے گامے سے اس کی گرفتاری کا سبب پوچھا تو گامے نے بتایا کہ اس کی گرفتاری کی وجہ غربت ہے۔ یہ جواب سن کر وہ باؤ پھڑک اٹھا۔ وہ باؤ ایک وکیل تھا جو ایک جلوس نما مظاہرے کے بعد احتجاجا گرفتاری دینے کا ڈفانگ کرکے حوالات میں رات گزارنے آیا تھا تاکہ اگلے دن اخباروں میں گرفتاری دیتے ہوئے اس کی دو کالمی تصویر چھپ سکے۔ گامے کی صورت میں اسے اپنی مزید تشہیر کا سنہری موقع نظر آیا جو اس نے جھپٹ کر اچک لیا!

اس نے اپنے موبائل کے کیمرے سے گامے کی تشریف کی تصویریں کھینچیں اور اسے ہدایت کی کہ اپنا منہ بند رکھے اور کسی کو کچھ نہ بتائے۔

اگلی صبح رہا ہونے کے بعد وکیل صاحب نے ایک پاٹے خاں چینل کی ٹیم کو ساتھ لیا اور اس تھانے پر غیر سرکاری چھاپہ مار کر گامے کا انٹرویو حوالات سےلائیو چلوادیا۔ رپورٹر نے مزید مسالہ لگاتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ شدیدتشدد کی وجہ سے گامے کے گردے فیل اور جان پاس ہونے کا خطرہ ہے اور اگر فوری طبی امداد نہ ملی توگاما اس جہان فانی سے کوچ کرکے عالم جاودانی اپنی زخمی تشریف سمیت جاسکتا ہے۔

اگلا دن بڑا ڈرامائی تھا۔ ہائیکورٹ کے ازخود نوٹس سے لے کر، وزیر قانون کی تین لاکھ کی امداد تک، سرکاری ہسپتال کی ایمبولینس میں خوبرو نرس کے ہاتھوں ڈریسنگ سے لے کر، ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں سول سوسائٹی کے معزز ارکان کے ہاتھوں گلدستے قبول کرتے ہوئے، ہر چینل پر تین منٹی کوریج اور اخباروں کے پولیس کے مظالم پر مشتمل رنگین فیچرزتک گاما ہر جگہ موجود تھا!

اب آپ دیکھیں، اگر گاما شور مچاتا، پولیس کو رشوت دے کے چھوٹ جاتا، ناظم سے سفارش کرکے اپنی جان چھڑوالیتا تو آج بھی گنڈیریاں ہی بیچ رہا ہوتا، غلام محمد تبسم نہ بنتا۔ اس کے پاس نئی ہنڈا سیونٹی نہ ہوتی۔ ابھی تک اس کی شادی نہ ہوئی ہوتی۔ اسے این جی اوز کی طرف سے بیرون ملک سیمینارز میں نہ بھیجا جاتا۔ اسے انسانی حقوق کا سفیر اور امن و عزیمت کا نشان نہ سمجھا جاتا۔ یہ سب اس لئے ممکن ہوسکا کہ گامے کی چھترول ہوئی، اگر چھترول نہ ہوتی تو وہ آج اس مقام پر نہ پہنچتا۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، یہ سب چھترول کی برکتیں ہیں۔ وہ تمام لوگ جو حوالات میں بند ہیں۔ جو چھترول سے ڈر کے سب کچھ مان جاتے ہیں۔ جو رشوت دے کر چھوٹ جاتےہیں، جو سفارش لڑا کر اپنی جان چھڑالیتے ہیں، وہ ہمیشہ گنڈیریاں بیچتے رہتے ہیں،وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ چھترول ترقی کی کنجی ہے۔

لہذا چھترول بھی نعمت ہوتی ہے!

آج ویران خان کے ساتھ

السلام علیکمّ ناظرینّ۔ 'آج ویران خان کے ساتھ' آپ کا میزبانّ ویران خان حاضر ہے۔ آجّ کے پروگرام میں ہم اس اہم ترین مسئلے پر بات کریں گے کہ شعیب ملک کو فیملی پلاننگ کے لئے کون سے حفاظتی طریقے استعمال کرنے چاہییں کیونکہ ہماری نیکر بھابی نے کہا ہے کہ وہ مزید پانچ سال ٹینس کھیلیں گی۔ اور ناظرین، بطن میں ملک ہو تو لوڈو، یسّو پنجو، چڑی اُڈّی کاں اُڈّا وغیرہ تو کھیلے جاسکتے ہیں، ٹینس نہیں۔ اس لئے آج کے پروگرام میں بات کی جائے گی کہ کون سے کنڈوم ہیں جو کہ اچھے معیار کے ہیں اور ان پر اعتماد کیا جاسکتاہے اور دوسرے آپشنز پر بھی بات کریں گے جن میں نس بندی کا آپّریشن اور طلاق شامل ہیں۔ سب سے پہلے ہم بات کریں گے وفاقی وزیر برائے بہبود آبادی ڈاکٹر جنت محب پہلوان سے، جو ہمارے ساتھ لائن پر موجود ہیں۔۔۔

'جی جنت صاحبہ آپ کیا کہتی ہیں شعیب ملک کی فیملی پلاننگ پر، ان کو کیا کرنا چاہیے، کون سا آپشن ہے جو انہیں سوٹ کرے گا، مختلف کمپینیز کے کنڈومز میں سے کون سا استعمال کرنا چاہیے اور نس بندی کے آپریشن میں کیا خطرات ہیں اور اس کی ناکامی کی صورت میں کیا حقوق زوجیت کی کماحقہ ادائیگی کا مسئلہ ابھر کر سامنے تو نہیں آجائے گااور طلاق کی صورت میں حق مہر کتنا طے ہوا ہے؟'

'دیکھیں جی، فیملی پلاننگ کا سب سے اچھا طریقہ تو شادی نہ کرنا ہے۔ اب منڈے نے اپنی مرجی کرلی ہے۔ اب کیا ہوسکتا ہے؟ آپ نے کنڈوم کے متعلق بڑا اچھا سوال پوچھا ہے، ویسے یہ ہوتا کیا ہے؟'

'ڈاکٹرصاحبہ! آپ بہبود آبادی کی وفاقی وزیر ہیں، آپ کےعلم میں تو ہونا چاہیے اس بارے میں۔ ہندوستان کے حالیہ دورے میں آپ نے مشین میں پیسے ڈال کر جو پیکٹ نکالا تھا، وہ کنڈوم ہی تھے۔'

'اچھا!!!۔۔۔ وہ غبارے تومیں نے اپنی شادی کی ۳۳ویں سالگرہ پر جھنڈیوں کے ساتھ لگادیئے تھے۔ بھلا غبارے اور فیملی پلاننگ میں کیا تلّق ہوسکتا ہے؟ جہاں تک نس بندی کاتلّق ہے، یہ اپنے رسک پر کرائیں بعد میں کُش ہوگیا تو میری کوئی ذمے داری نئیں۔ طلاق ہوبھی جائے تو حق مہر کی خیر ہے، ہمارے منڈے کے پاس بڑے پیسے ہیں، وسیم اکرم کے ساتھ کھیلا ہوا ہے، کوئی مذاخ نئیں ہے!'

بہت بہت شکریہ ڈاکٹر جنت محب پہلوان صاحبہ۔۔۔

اورّ ابّ بات کرتے ہیں سینیئر تجزیہ نگار، سول سوسائٹی کے نامور رکن جناب ماجرا خان سے جو، لائن پر موجود ہیں۔

'دیکھیں جی، یہ مسئلہ بڑا کمپلیکیٹڈ ہے جی۔ 'ساتھی' بہت اچھا پروڈکٹ ہے جی۔ اس کو پھلا کے پھاڑیں تو بہت زیادہ آواز آتی ہے جی۔ ویسے بھی میڈ ان پاکستان ہے جی۔ ڈیوریکس بہت مہنگا ہے جی۔ ورائٹی بہت ہے جی۔ بندہ کنفیوز ہوجاتا ہے جی۔ یہ حکومت کی سازش ہے جی۔ ایک ہی پروڈکٹ ہونا چاہیے جی۔ عوام کو کنفیوز کردیتے ہیں جی پھر وہ غصے میں کچھ بھی استعمال نہیں کرتے جی۔ آبادی بڑھتی جارہی ہے جی۔ یہ امریکی سازش ہے جی۔ اس میں زرداری شامل ہے جی۔ اس کی حکومت ختم ہونی چاہیے جی۔ سپریم کورٹ کو سوموٹو نوٹس لینا چاہیے جی۔ کنڈوم عوام کا بنیادی حق ہے جی۔ یہ سب کو ملنا چاہیے جی۔ یہ ہمارا ملک ہے جی۔ ہم نے اس کو بچانا ہے جی۔۔۔۔۔ جی۔۔۔۔۔ جی۔۔۔۔ جی۔۔۔۔۔'

(بات کاٹتے ہوئے) بہت بہت شکریہ جناب ماجرا خان۔

اورّ ناظرین اس کے ساتھ ہی آجّ کے پروگرام کا وقت ختم ہوتاہے۔ کل پھر حاضرّ ہوں گے۔ اللہ ہی حافظ۔

تیتھوں اُتّے۔۔

مجھے تو جی یہ لکھتے اور بولتے ہوئے کبھی شرم نہیں آئی کہ میرے آباء و اجداد کپڑا بُناکرتے تھے، سادہ الفاظ میں جولاہے تھے، اس سے بھی سادہ الفاظ میں کمّی کمین تھے! ہمارے ایک ساتھی نے لکھا ہے کہ جی ہنر والے لوگوں کو یہ گورے لوگ آرٹسٹ اور فنکار کہتےہیں جبکہ ہم انہیں کمّی کمین کہتے ہیں۔ تو جی فرق بھی دیکھ لیں ناں ان کا اور اپنا۔۔۔ ہم قوموں کے پِنڈ کے کمّی کمین اور وہ چوہدری۔۔۔

میں کالج میں نیا نیا تھا تو ایک دن گپ شپ کرتے ہوئے بات اسی طرف نکل گئی۔ میرا ایک کلاس فیلو جو الیاسے چونٹھیے (چوہدری الیاس جٹ، سابق ایم این اے، بدمعاشی میں اساطیری شہرت) کے گاؤں کا تھا، کہنے لگا کہ ہم چوہدری لوگ ہیں جبکہ تم تو جلاہے ہو، نیچ لوگ، کمّی کمین۔ تم ہماری برابری کیسے کرسکتے ہو۔ وہ جی میرے جانثار تو تپ گئے فورا اور لگے آستینیں چڑھانے کہ تیری اور تیرے الیاسے کی تو ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔ پر میں نے ان کو ٹھنڈا کیا اور اس نسرین باجوے کو کہا کہ باجوہ صاحب! بات تو آپ کی ٹھیک ہے، پر ہم جولاہوں کا بڑا احسان ہے جی ساری انسانیت پر۔ وہ تمسخرانہ انداز سے بولا ۔۔ کیسے۔۔۔؟؟ میں نے کہا کہ بھائی دیکھ۔۔ اگر میرے آباء و اجداد یہ کام نہ سیکھے ہوتے تو آج تمہاری ماں بہنیں پتّے لپیٹ کر بکریوں سے بچتی پھر رہی ہوتیں کہ کہیں ان کے ملبوسات تناول کرکے انہیں آدم و حوّا والی شرمندگی سے دوچار نہ کردیں۔

اس پر جی وہ ایسا چپ ہوا کہ اردو میں لکھیں تو اس کی بولتی بند ہوگئی جبکہ پنجابی میں تو صرف کہہ سکتے ہیں، لکھ نہیں سکتے۔

میرے سگے چچا ہیں جی، شیخ ہوگئے ہیں۔ گھر کی نیم پلیٹ پر بھی شیخ لکھوالیا ہے۔ 'انصاری' کہلواتے اور لکھواتے ہوئے انہیں شرم آتی ہے کہ لوگ انہیں جولاہا سمجھیں گے۔ جبکہ میرے قریبی عزیز ہیں کراچی میں ۔۔۔ وہ سارے بھی ترقی (یا تنزلی!) کرکے شیخ لگ گئے ہیں۔ میں ان کو کہا کرتا ہوں کہ یار۔۔ اگر ترقی(؟) ہی کرنی ہے اور ذات ہی بدلنی ہے تو شیخ بننے کی کیا تُک ہے؟ بندہ سیّد بنے۔ میں نے سوچا ہوا ہے کہ جب بہت سارا پیسہ کما لینا ہے اور ترقی کرنے پر تُل جانا ہے توانصاری سے پروموٹ ہوکے 'ڈریکٹ" سیّد ہی لگناہے۔

چار پانچ پشت پہلے جالندھر کے گردونواح میں آباد، میرے آباء و اجداد کے ہاتھ میں یہ فن تھا کہ وہ ستر ڈھانپتے تھے لوگوں کا،کپڑا بُن کے، پر پھر بھی ان کےہاتھ چوہدریوں اور پِیروں کے سامنے پھیلے ہی رہتے ہوں گے اور جن ہاتھوں سے غریبوں کی عزتیں محفوظ نہیں تھیں تب بھی اور اب بھی، ان کو لوگ چوما کرتے تھےتو پھر میں نے بھی ایسا ہی بن جانا ہے، کہ لوگ مجھے نیچ اور کمّی کمین اور جُلاہا نہ سمجھیں بلکہ میرے ہاتھ چومیں کہ جی یہ تو سیّد بادشاہ ہیں!

میں نے اپنے والد سے ایک دفعہ پوچھا تھا جی کہ یہ سیّد طاہر احمد شاہ (سابق ایم پی اے) واقعی سیّد ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں بھئی! یہ تو بالکل خالص سیّد ہے، ہمارے سامنے بنا ہے۔

ہم برصغیر کے مسلمانوں کے اختیار کی بات ہوتی تو جی سارے مسلمان ہی بالترتیب سیّد اور چوہدری اور خان اور سردار ہوتے۔ اس بات پر تو کسی کا اختیار نہیں کہ جس نطفے سے وہ پیدا ہوتا ہے وہ' کون'،'کہاں' پرگرائے ، پراس بے اختیاری پر فخر بہت ہوتا ہے کہ جی ہمارا نطفہ تو بڑا اعلی ہے اور حسب نسب والا ہے۔

بس یہی چیز رہ گئی ہے عزت اور حسب نسب کا معیار

نطفہ۔۔!

ہونا تھوڑا تھوڑا مشہور اس فدوی کا

یہ کوئی راز نہیں کہ مجھے مشہوری کا شدید شوق اور تمنّا ہے اور اس کے لئے میں 'کچھ' کام چھوڑ کے سب کچھ کرنے کو تیّار ہوں۔ اس کی مثالیں جابجا اس بلاگ پر بکھری پڑی ہیں جو آپ تھوڑی سی کوشش کرکے اکٹھی کرسکتے ہیں اور عبرت و ہدایت، دونوں حاصل کرکے عنداللہ ماجور ہوسکتےہیں۔

اس بلاگ کے شروع کرنے کی وجہ بھی مشہوری کا جان لیوا شوق ہی تھا نہ کہ سماج سدھار یا اخلاق سدھار قسم کا کوئی فلسفہ۔۔ویسے بھی، میں خود، آج تک سدھر نہیں سکا تو کسی اور کو سدھرنے کا مشورہ کیسے دے سکتا ہوں۔۔ ہیں جی۔۔۔!

عام لوگوں کو سدھارنے پر ،بزعم خود مامور، لوگوں کے اپنے پیچ اور قابلے ڈھیلے ہوگئے ہوتےہیں جبکہ وہ پندو نصائح کے رینچ، پانے لے کر لوگوں کے نٹ بولٹ کسنے کی کوششیں، لگاتار اور مسلسل جاری رکھتےہیں۔ پر یہ مینگو پیپل یعنی عام لوگ بھی بڑی ڈھیٹ مخلوق ہوتی ہے، سدھرتی نہیں۔ پر سانوں کیہ۔۔۔ نہ سدھرے ۔۔۔ کھصماں نوں کھائے۔۔ ہم نے کوئی ان کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا، افیم کا ٹھیکہ ہو تو کچھ فائدہ بھی ہو، ایسے ٹھیکے کا کیا فائدہ۔۔۔!

یہ میں کدھر نکل گیا؟ میں تو آپ کو یہ بتانے والا تھا کہ میری ایک پوسٹ ایک اخبارکے سنڈے میگزین میں شائع ہوئی ہے اور میں اس پر نہایت شاداں (مطلب خوش، وہ پنجابی والی شاداں نہیں!) اور فرحاں ہوں۔ میں اس وقت تیسری جماعت کا طالب علم تھا جب اخبار پڑھنا شروع کیاتھا۔اس وقت ہمارے گھر میں اخبار شام کو آیا کرتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اخبار صرف کراچی سے شائع ہوتا تھا اور اسے فیصل آباد پہنچتے پہنچتے شام ہوجاتی تھی۔ اس اخبار کا نام 'جسارت' تھا!

اس سے آپ یہ اندازہ بھی لگا سکتے ہیں کہ میرے والد جماعتیے ہیں اور اس مشہور مقولے کی زندہ مثال ہیں کہ بندہ جماعت سے چاہے نکل جائے، جماعت بندے سے نہیں نکلتی۔۔۔!

اس وقت میری دلچسپی کا مرکز اندرونی صفحات پر چھپنے والی باتصویر 'فلیش گورڈن' نامی قسط وار کہانی ہوتی تھی جسے شاید آجکل 'کامک بک' کہتےہیں۔ آپ کو شاید یہ زمانہ قبل از مسیح کی بات لگے، ویسے مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ وقوعہ شاید فراعنہ کے دور کا ہے، لیکن یہ اخبار میرا بچپن کا دوست ہے اور اس میں اپنا لکھا ہوا شائع ہونے کی مجھے بہت خوشی ہے اور میں اخبار کی انتظامیہ کا شدید مشکور و ممنون و شکرگذار و احسان مند وغیرہ ہوں۔ وما علینا الا البلاغ۔۔

منجی کتھے ڈاہواں

'نو کنٹری فار اولڈ مین' کا اگر پنجابی میں ترجمہ کیا جائے تو شاید اس تحریر کے عنوان سے ملتا جلتا ہی ہوگا۔ پس ثابت ہوا کہ یہ ایک فلم کا تذکرہ ہے نہ کہ 'سینئر سیٹیزنز' کے مسائل کا تجزیہ۔

میں یہاں ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ امریکہ کے جنوب میں بولاجانے والا لہجہ مجھے بہت اچھالگتا ہے، اسے آپ امریکی پوٹھوہاری بھی کہہ سکتے ہیں۔شاید اسی لئے مجھے یہ فلم زیادہ پسند آئی کہ اس کی کہانی جنوب کے پس منظر پر بُنی گئی ہے۔ یہ فلم اسی نام کے ناول سے ماخوذ ہے جبکہ ایتھن کوئن اور جوئل کوئن مشترکہ طور پراس فلم کے ہدایتکار اور منظرنامہ نگار ہیں۔ ان کی فلموں کی ایک خصوصیت 'ڈارک کامیڈی' ہےجو زیر سطح رواں دواں رہتی ہے۔ دونوں بھائی، تشدد اور خونریزی کو بغیر گلیمرائز کئے اصل صورت میں دکھانے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔ اگر یہ کسی منظر میں کسی کو تشدد سے مرتا دکھاتے ہیں تو دیکھنے والا تشدد سے نفرت کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جبکہ زیادہ تر نام نہاد 'تفریحی فلموں' میں انسان ایسے مرتے دکھائے جاتے ہیں جیسے پاؤں کے نیچے کوئی چیونٹی آجائے۔ حوالے کے لئے ملاحظہ ہوں، آرنلڈ سے لے کر بروس ولس تک کی شہرہ آفاق فلمیں! جن میں تشدد اور خونریزی کو ایک معمول کی چیز بنا کر پیش کیا گیا ہے۔

اگر اس فلم کا کوئی اور نام رکھا جائے تو میں تجویز کروں گا کہ اس کا نام 'ہاوئیر بارڈم' رکھا جانا چاہیے۔ برے آدمی کے کردار میں اس سے اچھی پرفارمنس شاید ہی کبھی پردہ سکرین پر کسی نے پیش کی ہو، سوائے ہیتھ لیجر کے۔ اور اس کردار کی ادائیگی پر وہ واقعی آسکر کا حقدار تھاجو اسے ملا بھی۔ کچھ فلمیں صرف چند مناظر کی وجہ سے یاد رہ جاتی ہیں جبکہ ان میں کوئی اور خاص بات نہیں ہوتی۔ جب کہ اس فلم میں دونوں باتیں ہیں۔ یہ فلم بھی خاص ہے اور اسمیں یاد رہ جانے والے مناظر بھی بہت ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:

گیس سٹیشن کے مالک کے ساتھ اینٹون شِیگَر (ہاوئیر بارڈم) کا منظر، فلم کے شروع میں ٹامی لی جونز کا وائس اوور، شروع کے مناظر میں ہی پولیس سٹیشن میں پولیس آفیسر کا قتل، اینٹون شِیگَر (ہاوئیربارڈم) اور کارسن ویلز (ووڈی ہیرلسن)کا ہوٹل کے کمرے میں مکالمہ، لیولن موس (جوش برولن) کا رقم حاصل کرنے کے بعد گھر واپسی پرکارلا جین (کیلی مکڈونلڈ) کے ساتھ منظر، کارلا جین (کیلی مکڈونلڈ) اور ایڈ ٹام بیل (ٹامی لی جونز) کا ریسٹورنٹ میں مکالمہ۔۔۔ اور یہ فہرست کافی لمبی ہے!

آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ ساری فلم میں کیا مکالمے ہی مکالمے ہیں؟ سچی بات تو یہ ہے کہ اس فلم کے مکالمے اتنے زبردست اور برجستہ ہیں کہ کم ہی فلمیں اس کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ اس فلم کی ایک اور خاصیت اس میں پس پردہ موسیقی کا نہ ہونا ہے۔ زیادہ تر فلموں میں پس پردہ موسیقی سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ آنے والےمنظر میں سسپنس ہوگاکہ ایکشن یا رومانس ہوگا یا تھرل۔ جبکہ اس فلم میں یہ سارا کام چہرے کے تاثرات اور مکالموں سے لیا گیا ہے اور اسے دیکھنے کے بعد ہی آپ جان سکیں گے کہ کس مہارت سے ایسا کیا گیا ہے۔ ٹیکساس کی لینڈ سکیپ کو بھی بہت خوبصورت اور حقیقی انداز میں فلمایا گیا ہے۔

اگر آپ ایسی فلمیں دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں جن میں 'فلمی' انداز اور معمول کی فلمیں چوّلیں نہ ہوں تو یہ فلم آپ کے لئے ہے!

فیس بکیے

دوست ، تو جی سکول کے دور کے ہی ایک نمبر ہوتے ہیں۔ کالج والے آدھے ایک نمبر اور آدھے دو نمبر۔ اور عملی زندگی میں کودنے کے بعد اگر آپ کو کوئی دوست، اور دوست مطلب ' دی دوست'، مل جائے تو یہ کم ازکم اتنی بڑی خوشخبری ہے جو لاٹری لگنے کے برابر سمجھی جاسکتی ہے۔

دوستوں کی بڑی تعریفیں لکھی جاچکی ہیں،مثلا جو ضرورت میں کام آئے، جو آپ کے دکھ بانٹے، جو آپ کی معشوق کو نہ ورغلائے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن جی میرے نزدیک تو دوست وہ ہوتا ہے جس کو آپ منہ بھر کےگالی دیں تو آگے سے وہ بے حیائی سے ہنستا رہے اور وائس ورسا۔۔۔ میں نے ایسے ایسے لوگوں کو اپنے پرانے دوستوں سے گالیاں کھاتے اور ہنستے دیکھا ہے جو اونچی آواز میں بات کرنے کو بھی بدتہذیبی اور معاشرتی آداب سے ناواقفیت پر محمول کرتے ہیں۔ چپراسی سے بھی آپ جناب سے بات کرتے ہیں اور چائے بھی سڑکیاں مار کے نہیں پیتے۔ لیکن دوستوں کے ساتھ ان کی گفتگو اس گانے کے مصداق ہوتی ہے کہ ۔۔۔ تیری تو۔۔۔ تیری تاں۔۔۔۔

پر جی اب ایک نئی قسم بھی دریافت ہوچکی ہے دوستوں کی۔ فیس بکیے دوست۔ ایک ڈھیلے ڈھالے اندازے کے مطابق اگر آپ فیس بکیے ہیں تو آپ کے دوستوں کی پچانوے فیصد سے زیادہ تعداد ایسے لوگوں پر مشتمل ہوگی جن سے نہ آپ کبھی ملے ہوتے ہیں اور نہ ہی امید ہوتی ہے کہ کبھی زندگی میں ان سے ملاقات ہوسکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تحریر، انسان کا آئینہ ہوتی ہے اور فلاں اور ڈھینگ۔۔۔ پر جی لکھے ہوئے حرف سے بندے کا تھوڑا بہت اندازہ تو لگایا جاسکتا ہے پر پورا جاننے کے لئے تو وقت کی سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے تب کہیں جا کر بندے کا پتہ چلتا ہے وہ بھی تھوڑا سا۔ بچپن کے دوستوں پر تو آپ نے بیس بائیس سال کی سرمایہ کاری کی ہوتی ہے، اس لئے ان کی رمز میں بھی آپ کے لئے کوئی بھید بھاؤ نہیں ہوتا۔ پر ایک دوہفتے کی فیس بکی دوستی میں بھی ہم ایک دوسرے کو لمّیاں پَا کے ایسی چھترول کرنی شروع کردیتے ہیں جو کم ازکم بھی دس سال پرانی دوستی میں ہی جائز سمجھی جاسکتی ہے!

اس پر میں نے سوچا ہے اور بہت سوچنے کے بعد بھی میرا بھیجہ کوئی نتیجہ نہیں نکال سکا کہ ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب مجرّد نام ہی ہیں، انسان نہیں اور ان کو کچھ بھی کہا جاسکتاہے اور فار دیٹ میٹر۔۔۔ کچھ بھی سنا جاسکتا ہے! کیا فرماتے ہیں مفتیان فیس بک بیچ اس مسئلے کے۔۔۔

فلمیں شلمیں

ایک دفعہ پہلے بھی یہ حرکت کرچکا ہوں۔ لیکن وہ گانے تھے اور یہ میری کچھ پسندیدہ فلمیں ہیں۔ فلموں کے نام ریٹنگ کے حساب سے نہیں لکھے گئے۔ جونام یاد آتا گیا، لکھ دیا ہے۔ اگّے تیرے بھاگ لچھّیے۔۔۔

ویسے بھی میرے جیسے جہلاء ، تہذیبوں کے تصادم پر تحقیقی مقالے تو لکھ نہیں سکتے، لہذا اسی طرح کی خرافات پر گزارا کریں!

Eastern Promises

Match Point

Michael Clayton

Godfather I

Godfather II

Godfather III

Memento

Ocean’s Eleven

Company

The Lord of the Rings I

The Lord of the Rings II

The Lord of the Rings III

There will be blood

Avatar

The Prestige

Awake

a500 Days of Summer

Law Abiding Citizen

Primal Fear

Goodfellas

Tin Cup

The Notebook

Inglorious Bastards

Casino

Bugsy

Taking of Pelham 123

Closer

Hangover

No Country for old men

Knocked up

Three Idiots

The Pursuit of Happiness

Vicky Christina Barcelona

Body of Lies

Legends of the Fall

Rock’n’Rolla

The Curious case of Benjamin Button

Love Aaj Kal

Last Man Standing

Earth

Snatch

Heat

Taxi Driver

Atonement

Taare Zameen par

Carlito’s Way

Training Day

Ronin

The Deer Hunter

Domino

U Turn

Out of sight

Autumn in New York

Omkara

The Departed

Forrest Gump

Matrix Reloaded

Pulp Fiction

Scent of a woman

The assassination of Jesse James by the Coward Robert Ford

Ransom

Oye Lucky, Lucky Oye

Million Dollar Baby

Saving Private Ryan

Jane Tu ya Jane Na

The Bridges of Madison County

As good as it gets

Twilight

Wild Things

Unforgiven

Mission: Impossible

The Dark Knight

Stranger Than Fiction

Kaminey

Sleepless in Seattle

Butterfly Effect

Jackie Brown

The Constant Gardener

Basic Instinct

Notting Hill

Mystic River

About Schmidt

Brave Heart

Any Given Sunday

Jerry Maguire

Love Actu
ally

Cast Away

Intersection

L.A. Confidential

The Usual Suspects

The Silence of the Lambs

Cliffhanger

A Few Good men

Good Will Hunting

Syriana

Things to Do in Denver When You're Dead

The Untouchables

Cold Mountain

Wall Street

Lost in Translation

Great Expectations

The Edge