چھترول بھی نعمت ہوتی ہے

آپ گامے بھیڈ کو دیکھ لیں۔ اس کو پولیس نے ڈکیتی کے جھوٹےالزام میں پکڑا اور مار مار کر 'بھیڈ' سے دنبہ بنا دیا۔ لیکن اس چھترول نے گامے کی زندگی بدل دی۔ آپ حیران ہوں گے کہ چھترول سے تو زیادہ سے زیادہ سونے کا آسن بدلتا ہے، زندگی کیسے بدل سکتی ہے؟ لیکن گامے کی زندگی پر چھترول نے جو دور رس اثرات مرتب کئے اس کا ذکر آگے آئے گا۔۔۔۔۔

گامے نے ڈکیتی تو دور کی بات، کبھی پُونڈی بھی نہیں کی تھی۔ گامے کا باپ 'جہاز' تھا۔ ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی تو زندگی کی گاڑی چلتی بلکہ گھسٹتی تھی۔گامے نے سکول صرف باہر سے دیکھا تھا۔ کالج کا لفظ اس نے تب سنا تھا جب اس نے گنڈیریوں کی ریڑھی لگائی اور اس کے لنگوٹیے مُودے پھُر نے اسے مشورہ دیا تھا کہ کالج کے گیٹ کے باہر کھڑا ہواکرے، بِکری زیادہ ہوگی۔ 'بھیڈ' گامے کا لقب، خطاب، عرفیت سب کچھ تھا۔ یہ لفظ اس کی ساری زندگی کی کہانی بیان کردیتا تھا۔ اس نے ساری زندگی کسی کو مارنا تو درکنار کسی سے مار کھائی بھی نہیں تھی۔ ہر ایسی جگہ سے وہ ساڑھے اٹھونجہ میٹر دور رہتا تھا جہاں اسے کسی بھی قسم کے دھول دھپّے کا خدشہ ہو۔

پھر 12مئی کا دن آیا جس نے گامے کی زندگی ہمیشہ کے لئے بدل دی۔ گاما ریڑھی لے کر کالج کی طرف رواں دواں تھا کہ راستے میں سنتری بادشاہ نے روک کر اسے دو کلو گنڈیریاں تولنے کو کہا۔ گامے کا گناہ صرف یہ تھا کہ اس نے پیسے مانگ لئےتھے اور اسی دن شام کو تھانےکے ڈرائنگ روم میں الٹا لٹکا ہوا گاما، دنیا کی بے ثباتی پر غور کررہا تھا!

شیخ نیامت اللہ کے گھر کے باہر کھڑی نئے ماڈل کی کاردن دہاڑے گن پوائنٹ پر چھیننے کے الزام میں گرفتار ہوکر ایک گھنٹے کے قلیل وقت میں گاما، پانچ پانجے فٹ کرواچکا تھا۔ الٹا لٹکا ہوا گاما جب ہوش کی سرحد ( یعنی خیبر پختونخوا ) پھلانگ گیا تو اسے عارضی پھانسی گھاٹ سے اتار کر حوالات میں ڈک دیا گیا۔

آپ کہیں گے یہ تو ایک عام کہانی ہے اور ہر روز اس ملک کے تھانوں میں دہرائی جاتی ہے۔ بس یہیں آپ گامے کو انڈر ایسٹیمیٹ کرگئے، گاما عام لوگوں کی طرح بوقت چھترول نہ چیخا چلایا، نہ واویلا مچایا نہ اپنی بے گناہی کی دہائی دی اور نہ رب رسول کے واسطے۔ بس وہ چپ چاپ چھترول کرواتا رہا۔ اس نے نہ تو رشوت دے کر چھوٹنے کی کوشش کی اور نہ ہی علاقہ ناظم کی سفارش سے باعزت رہائی کی جگاڑ لگائی۔

گامے کے ساتھ حوالات میں ایک باؤ قسم کا بندہ بھی بند تھا۔ اس نے گامے سے اس کی گرفتاری کا سبب پوچھا تو گامے نے بتایا کہ اس کی گرفتاری کی وجہ غربت ہے۔ یہ جواب سن کر وہ باؤ پھڑک اٹھا۔ وہ باؤ ایک وکیل تھا جو ایک جلوس نما مظاہرے کے بعد احتجاجا گرفتاری دینے کا ڈفانگ کرکے حوالات میں رات گزارنے آیا تھا تاکہ اگلے دن اخباروں میں گرفتاری دیتے ہوئے اس کی دو کالمی تصویر چھپ سکے۔ گامے کی صورت میں اسے اپنی مزید تشہیر کا سنہری موقع نظر آیا جو اس نے جھپٹ کر اچک لیا!

اس نے اپنے موبائل کے کیمرے سے گامے کی تشریف کی تصویریں کھینچیں اور اسے ہدایت کی کہ اپنا منہ بند رکھے اور کسی کو کچھ نہ بتائے۔

اگلی صبح رہا ہونے کے بعد وکیل صاحب نے ایک پاٹے خاں چینل کی ٹیم کو ساتھ لیا اور اس تھانے پر غیر سرکاری چھاپہ مار کر گامے کا انٹرویو حوالات سےلائیو چلوادیا۔ رپورٹر نے مزید مسالہ لگاتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ شدیدتشدد کی وجہ سے گامے کے گردے فیل اور جان پاس ہونے کا خطرہ ہے اور اگر فوری طبی امداد نہ ملی توگاما اس جہان فانی سے کوچ کرکے عالم جاودانی اپنی زخمی تشریف سمیت جاسکتا ہے۔

اگلا دن بڑا ڈرامائی تھا۔ ہائیکورٹ کے ازخود نوٹس سے لے کر، وزیر قانون کی تین لاکھ کی امداد تک، سرکاری ہسپتال کی ایمبولینس میں خوبرو نرس کے ہاتھوں ڈریسنگ سے لے کر، ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں سول سوسائٹی کے معزز ارکان کے ہاتھوں گلدستے قبول کرتے ہوئے، ہر چینل پر تین منٹی کوریج اور اخباروں کے پولیس کے مظالم پر مشتمل رنگین فیچرزتک گاما ہر جگہ موجود تھا!

اب آپ دیکھیں، اگر گاما شور مچاتا، پولیس کو رشوت دے کے چھوٹ جاتا، ناظم سے سفارش کرکے اپنی جان چھڑوالیتا تو آج بھی گنڈیریاں ہی بیچ رہا ہوتا، غلام محمد تبسم نہ بنتا۔ اس کے پاس نئی ہنڈا سیونٹی نہ ہوتی۔ ابھی تک اس کی شادی نہ ہوئی ہوتی۔ اسے این جی اوز کی طرف سے بیرون ملک سیمینارز میں نہ بھیجا جاتا۔ اسے انسانی حقوق کا سفیر اور امن و عزیمت کا نشان نہ سمجھا جاتا۔ یہ سب اس لئے ممکن ہوسکا کہ گامے کی چھترول ہوئی، اگر چھترول نہ ہوتی تو وہ آج اس مقام پر نہ پہنچتا۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، یہ سب چھترول کی برکتیں ہیں۔ وہ تمام لوگ جو حوالات میں بند ہیں۔ جو چھترول سے ڈر کے سب کچھ مان جاتے ہیں۔ جو رشوت دے کر چھوٹ جاتےہیں، جو سفارش لڑا کر اپنی جان چھڑالیتے ہیں، وہ ہمیشہ گنڈیریاں بیچتے رہتے ہیں،وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ چھترول ترقی کی کنجی ہے۔

لہذا چھترول بھی نعمت ہوتی ہے!

آج ویران خان کے ساتھ

السلام علیکمّ ناظرینّ۔ 'آج ویران خان کے ساتھ' آپ کا میزبانّ ویران خان حاضر ہے۔ آجّ کے پروگرام میں ہم اس اہم ترین مسئلے پر بات کریں گے کہ شعیب ملک کو فیملی پلاننگ کے لئے کون سے حفاظتی طریقے استعمال کرنے چاہییں کیونکہ ہماری نیکر بھابی نے کہا ہے کہ وہ مزید پانچ سال ٹینس کھیلیں گی۔ اور ناظرین، بطن میں ملک ہو تو لوڈو، یسّو پنجو، چڑی اُڈّی کاں اُڈّا وغیرہ تو کھیلے جاسکتے ہیں، ٹینس نہیں۔ اس لئے آج کے پروگرام میں بات کی جائے گی کہ کون سے کنڈوم ہیں جو کہ اچھے معیار کے ہیں اور ان پر اعتماد کیا جاسکتاہے اور دوسرے آپشنز پر بھی بات کریں گے جن میں نس بندی کا آپّریشن اور طلاق شامل ہیں۔ سب سے پہلے ہم بات کریں گے وفاقی وزیر برائے بہبود آبادی ڈاکٹر جنت محب پہلوان سے، جو ہمارے ساتھ لائن پر موجود ہیں۔۔۔

'جی جنت صاحبہ آپ کیا کہتی ہیں شعیب ملک کی فیملی پلاننگ پر، ان کو کیا کرنا چاہیے، کون سا آپشن ہے جو انہیں سوٹ کرے گا، مختلف کمپینیز کے کنڈومز میں سے کون سا استعمال کرنا چاہیے اور نس بندی کے آپریشن میں کیا خطرات ہیں اور اس کی ناکامی کی صورت میں کیا حقوق زوجیت کی کماحقہ ادائیگی کا مسئلہ ابھر کر سامنے تو نہیں آجائے گااور طلاق کی صورت میں حق مہر کتنا طے ہوا ہے؟'

'دیکھیں جی، فیملی پلاننگ کا سب سے اچھا طریقہ تو شادی نہ کرنا ہے۔ اب منڈے نے اپنی مرجی کرلی ہے۔ اب کیا ہوسکتا ہے؟ آپ نے کنڈوم کے متعلق بڑا اچھا سوال پوچھا ہے، ویسے یہ ہوتا کیا ہے؟'

'ڈاکٹرصاحبہ! آپ بہبود آبادی کی وفاقی وزیر ہیں، آپ کےعلم میں تو ہونا چاہیے اس بارے میں۔ ہندوستان کے حالیہ دورے میں آپ نے مشین میں پیسے ڈال کر جو پیکٹ نکالا تھا، وہ کنڈوم ہی تھے۔'

'اچھا!!!۔۔۔ وہ غبارے تومیں نے اپنی شادی کی ۳۳ویں سالگرہ پر جھنڈیوں کے ساتھ لگادیئے تھے۔ بھلا غبارے اور فیملی پلاننگ میں کیا تلّق ہوسکتا ہے؟ جہاں تک نس بندی کاتلّق ہے، یہ اپنے رسک پر کرائیں بعد میں کُش ہوگیا تو میری کوئی ذمے داری نئیں۔ طلاق ہوبھی جائے تو حق مہر کی خیر ہے، ہمارے منڈے کے پاس بڑے پیسے ہیں، وسیم اکرم کے ساتھ کھیلا ہوا ہے، کوئی مذاخ نئیں ہے!'

بہت بہت شکریہ ڈاکٹر جنت محب پہلوان صاحبہ۔۔۔

اورّ ابّ بات کرتے ہیں سینیئر تجزیہ نگار، سول سوسائٹی کے نامور رکن جناب ماجرا خان سے جو، لائن پر موجود ہیں۔

'دیکھیں جی، یہ مسئلہ بڑا کمپلیکیٹڈ ہے جی۔ 'ساتھی' بہت اچھا پروڈکٹ ہے جی۔ اس کو پھلا کے پھاڑیں تو بہت زیادہ آواز آتی ہے جی۔ ویسے بھی میڈ ان پاکستان ہے جی۔ ڈیوریکس بہت مہنگا ہے جی۔ ورائٹی بہت ہے جی۔ بندہ کنفیوز ہوجاتا ہے جی۔ یہ حکومت کی سازش ہے جی۔ ایک ہی پروڈکٹ ہونا چاہیے جی۔ عوام کو کنفیوز کردیتے ہیں جی پھر وہ غصے میں کچھ بھی استعمال نہیں کرتے جی۔ آبادی بڑھتی جارہی ہے جی۔ یہ امریکی سازش ہے جی۔ اس میں زرداری شامل ہے جی۔ اس کی حکومت ختم ہونی چاہیے جی۔ سپریم کورٹ کو سوموٹو نوٹس لینا چاہیے جی۔ کنڈوم عوام کا بنیادی حق ہے جی۔ یہ سب کو ملنا چاہیے جی۔ یہ ہمارا ملک ہے جی۔ ہم نے اس کو بچانا ہے جی۔۔۔۔۔ جی۔۔۔۔۔ جی۔۔۔۔ جی۔۔۔۔۔'

(بات کاٹتے ہوئے) بہت بہت شکریہ جناب ماجرا خان۔

اورّ ناظرین اس کے ساتھ ہی آجّ کے پروگرام کا وقت ختم ہوتاہے۔ کل پھر حاضرّ ہوں گے۔ اللہ ہی حافظ۔

تیتھوں اُتّے۔۔

مجھے تو جی یہ لکھتے اور بولتے ہوئے کبھی شرم نہیں آئی کہ میرے آباء و اجداد کپڑا بُناکرتے تھے، سادہ الفاظ میں جولاہے تھے، اس سے بھی سادہ الفاظ میں کمّی کمین تھے! ہمارے ایک ساتھی نے لکھا ہے کہ جی ہنر والے لوگوں کو یہ گورے لوگ آرٹسٹ اور فنکار کہتےہیں جبکہ ہم انہیں کمّی کمین کہتے ہیں۔ تو جی فرق بھی دیکھ لیں ناں ان کا اور اپنا۔۔۔ ہم قوموں کے پِنڈ کے کمّی کمین اور وہ چوہدری۔۔۔

میں کالج میں نیا نیا تھا تو ایک دن گپ شپ کرتے ہوئے بات اسی طرف نکل گئی۔ میرا ایک کلاس فیلو جو الیاسے چونٹھیے (چوہدری الیاس جٹ، سابق ایم این اے، بدمعاشی میں اساطیری شہرت) کے گاؤں کا تھا، کہنے لگا کہ ہم چوہدری لوگ ہیں جبکہ تم تو جلاہے ہو، نیچ لوگ، کمّی کمین۔ تم ہماری برابری کیسے کرسکتے ہو۔ وہ جی میرے جانثار تو تپ گئے فورا اور لگے آستینیں چڑھانے کہ تیری اور تیرے الیاسے کی تو ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔ پر میں نے ان کو ٹھنڈا کیا اور اس نسرین باجوے کو کہا کہ باجوہ صاحب! بات تو آپ کی ٹھیک ہے، پر ہم جولاہوں کا بڑا احسان ہے جی ساری انسانیت پر۔ وہ تمسخرانہ انداز سے بولا ۔۔ کیسے۔۔۔؟؟ میں نے کہا کہ بھائی دیکھ۔۔ اگر میرے آباء و اجداد یہ کام نہ سیکھے ہوتے تو آج تمہاری ماں بہنیں پتّے لپیٹ کر بکریوں سے بچتی پھر رہی ہوتیں کہ کہیں ان کے ملبوسات تناول کرکے انہیں آدم و حوّا والی شرمندگی سے دوچار نہ کردیں۔

اس پر جی وہ ایسا چپ ہوا کہ اردو میں لکھیں تو اس کی بولتی بند ہوگئی جبکہ پنجابی میں تو صرف کہہ سکتے ہیں، لکھ نہیں سکتے۔

میرے سگے چچا ہیں جی، شیخ ہوگئے ہیں۔ گھر کی نیم پلیٹ پر بھی شیخ لکھوالیا ہے۔ 'انصاری' کہلواتے اور لکھواتے ہوئے انہیں شرم آتی ہے کہ لوگ انہیں جولاہا سمجھیں گے۔ جبکہ میرے قریبی عزیز ہیں کراچی میں ۔۔۔ وہ سارے بھی ترقی (یا تنزلی!) کرکے شیخ لگ گئے ہیں۔ میں ان کو کہا کرتا ہوں کہ یار۔۔ اگر ترقی(؟) ہی کرنی ہے اور ذات ہی بدلنی ہے تو شیخ بننے کی کیا تُک ہے؟ بندہ سیّد بنے۔ میں نے سوچا ہوا ہے کہ جب بہت سارا پیسہ کما لینا ہے اور ترقی کرنے پر تُل جانا ہے توانصاری سے پروموٹ ہوکے 'ڈریکٹ" سیّد ہی لگناہے۔

چار پانچ پشت پہلے جالندھر کے گردونواح میں آباد، میرے آباء و اجداد کے ہاتھ میں یہ فن تھا کہ وہ ستر ڈھانپتے تھے لوگوں کا،کپڑا بُن کے، پر پھر بھی ان کےہاتھ چوہدریوں اور پِیروں کے سامنے پھیلے ہی رہتے ہوں گے اور جن ہاتھوں سے غریبوں کی عزتیں محفوظ نہیں تھیں تب بھی اور اب بھی، ان کو لوگ چوما کرتے تھےتو پھر میں نے بھی ایسا ہی بن جانا ہے، کہ لوگ مجھے نیچ اور کمّی کمین اور جُلاہا نہ سمجھیں بلکہ میرے ہاتھ چومیں کہ جی یہ تو سیّد بادشاہ ہیں!

میں نے اپنے والد سے ایک دفعہ پوچھا تھا جی کہ یہ سیّد طاہر احمد شاہ (سابق ایم پی اے) واقعی سیّد ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں بھئی! یہ تو بالکل خالص سیّد ہے، ہمارے سامنے بنا ہے۔

ہم برصغیر کے مسلمانوں کے اختیار کی بات ہوتی تو جی سارے مسلمان ہی بالترتیب سیّد اور چوہدری اور خان اور سردار ہوتے۔ اس بات پر تو کسی کا اختیار نہیں کہ جس نطفے سے وہ پیدا ہوتا ہے وہ' کون'،'کہاں' پرگرائے ، پراس بے اختیاری پر فخر بہت ہوتا ہے کہ جی ہمارا نطفہ تو بڑا اعلی ہے اور حسب نسب والا ہے۔

بس یہی چیز رہ گئی ہے عزت اور حسب نسب کا معیار

نطفہ۔۔!

ہونا تھوڑا تھوڑا مشہور اس فدوی کا

یہ کوئی راز نہیں کہ مجھے مشہوری کا شدید شوق اور تمنّا ہے اور اس کے لئے میں 'کچھ' کام چھوڑ کے سب کچھ کرنے کو تیّار ہوں۔ اس کی مثالیں جابجا اس بلاگ پر بکھری پڑی ہیں جو آپ تھوڑی سی کوشش کرکے اکٹھی کرسکتے ہیں اور عبرت و ہدایت، دونوں حاصل کرکے عنداللہ ماجور ہوسکتےہیں۔

اس بلاگ کے شروع کرنے کی وجہ بھی مشہوری کا جان لیوا شوق ہی تھا نہ کہ سماج سدھار یا اخلاق سدھار قسم کا کوئی فلسفہ۔۔ویسے بھی، میں خود، آج تک سدھر نہیں سکا تو کسی اور کو سدھرنے کا مشورہ کیسے دے سکتا ہوں۔۔ ہیں جی۔۔۔!

عام لوگوں کو سدھارنے پر ،بزعم خود مامور، لوگوں کے اپنے پیچ اور قابلے ڈھیلے ہوگئے ہوتےہیں جبکہ وہ پندو نصائح کے رینچ، پانے لے کر لوگوں کے نٹ بولٹ کسنے کی کوششیں، لگاتار اور مسلسل جاری رکھتےہیں۔ پر یہ مینگو پیپل یعنی عام لوگ بھی بڑی ڈھیٹ مخلوق ہوتی ہے، سدھرتی نہیں۔ پر سانوں کیہ۔۔۔ نہ سدھرے ۔۔۔ کھصماں نوں کھائے۔۔ ہم نے کوئی ان کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا، افیم کا ٹھیکہ ہو تو کچھ فائدہ بھی ہو، ایسے ٹھیکے کا کیا فائدہ۔۔۔!

یہ میں کدھر نکل گیا؟ میں تو آپ کو یہ بتانے والا تھا کہ میری ایک پوسٹ ایک اخبارکے سنڈے میگزین میں شائع ہوئی ہے اور میں اس پر نہایت شاداں (مطلب خوش، وہ پنجابی والی شاداں نہیں!) اور فرحاں ہوں۔ میں اس وقت تیسری جماعت کا طالب علم تھا جب اخبار پڑھنا شروع کیاتھا۔اس وقت ہمارے گھر میں اخبار شام کو آیا کرتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اخبار صرف کراچی سے شائع ہوتا تھا اور اسے فیصل آباد پہنچتے پہنچتے شام ہوجاتی تھی۔ اس اخبار کا نام 'جسارت' تھا!

اس سے آپ یہ اندازہ بھی لگا سکتے ہیں کہ میرے والد جماعتیے ہیں اور اس مشہور مقولے کی زندہ مثال ہیں کہ بندہ جماعت سے چاہے نکل جائے، جماعت بندے سے نہیں نکلتی۔۔۔!

اس وقت میری دلچسپی کا مرکز اندرونی صفحات پر چھپنے والی باتصویر 'فلیش گورڈن' نامی قسط وار کہانی ہوتی تھی جسے شاید آجکل 'کامک بک' کہتےہیں۔ آپ کو شاید یہ زمانہ قبل از مسیح کی بات لگے، ویسے مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ وقوعہ شاید فراعنہ کے دور کا ہے، لیکن یہ اخبار میرا بچپن کا دوست ہے اور اس میں اپنا لکھا ہوا شائع ہونے کی مجھے بہت خوشی ہے اور میں اخبار کی انتظامیہ کا شدید مشکور و ممنون و شکرگذار و احسان مند وغیرہ ہوں۔ وما علینا الا البلاغ۔۔

منجی کتھے ڈاہواں

'نو کنٹری فار اولڈ مین' کا اگر پنجابی میں ترجمہ کیا جائے تو شاید اس تحریر کے عنوان سے ملتا جلتا ہی ہوگا۔ پس ثابت ہوا کہ یہ ایک فلم کا تذکرہ ہے نہ کہ 'سینئر سیٹیزنز' کے مسائل کا تجزیہ۔

میں یہاں ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ امریکہ کے جنوب میں بولاجانے والا لہجہ مجھے بہت اچھالگتا ہے، اسے آپ امریکی پوٹھوہاری بھی کہہ سکتے ہیں۔شاید اسی لئے مجھے یہ فلم زیادہ پسند آئی کہ اس کی کہانی جنوب کے پس منظر پر بُنی گئی ہے۔ یہ فلم اسی نام کے ناول سے ماخوذ ہے جبکہ ایتھن کوئن اور جوئل کوئن مشترکہ طور پراس فلم کے ہدایتکار اور منظرنامہ نگار ہیں۔ ان کی فلموں کی ایک خصوصیت 'ڈارک کامیڈی' ہےجو زیر سطح رواں دواں رہتی ہے۔ دونوں بھائی، تشدد اور خونریزی کو بغیر گلیمرائز کئے اصل صورت میں دکھانے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔ اگر یہ کسی منظر میں کسی کو تشدد سے مرتا دکھاتے ہیں تو دیکھنے والا تشدد سے نفرت کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جبکہ زیادہ تر نام نہاد 'تفریحی فلموں' میں انسان ایسے مرتے دکھائے جاتے ہیں جیسے پاؤں کے نیچے کوئی چیونٹی آجائے۔ حوالے کے لئے ملاحظہ ہوں، آرنلڈ سے لے کر بروس ولس تک کی شہرہ آفاق فلمیں! جن میں تشدد اور خونریزی کو ایک معمول کی چیز بنا کر پیش کیا گیا ہے۔

اگر اس فلم کا کوئی اور نام رکھا جائے تو میں تجویز کروں گا کہ اس کا نام 'ہاوئیر بارڈم' رکھا جانا چاہیے۔ برے آدمی کے کردار میں اس سے اچھی پرفارمنس شاید ہی کبھی پردہ سکرین پر کسی نے پیش کی ہو، سوائے ہیتھ لیجر کے۔ اور اس کردار کی ادائیگی پر وہ واقعی آسکر کا حقدار تھاجو اسے ملا بھی۔ کچھ فلمیں صرف چند مناظر کی وجہ سے یاد رہ جاتی ہیں جبکہ ان میں کوئی اور خاص بات نہیں ہوتی۔ جب کہ اس فلم میں دونوں باتیں ہیں۔ یہ فلم بھی خاص ہے اور اسمیں یاد رہ جانے والے مناظر بھی بہت ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:

گیس سٹیشن کے مالک کے ساتھ اینٹون شِیگَر (ہاوئیر بارڈم) کا منظر، فلم کے شروع میں ٹامی لی جونز کا وائس اوور، شروع کے مناظر میں ہی پولیس سٹیشن میں پولیس آفیسر کا قتل، اینٹون شِیگَر (ہاوئیربارڈم) اور کارسن ویلز (ووڈی ہیرلسن)کا ہوٹل کے کمرے میں مکالمہ، لیولن موس (جوش برولن) کا رقم حاصل کرنے کے بعد گھر واپسی پرکارلا جین (کیلی مکڈونلڈ) کے ساتھ منظر، کارلا جین (کیلی مکڈونلڈ) اور ایڈ ٹام بیل (ٹامی لی جونز) کا ریسٹورنٹ میں مکالمہ۔۔۔ اور یہ فہرست کافی لمبی ہے!

آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ ساری فلم میں کیا مکالمے ہی مکالمے ہیں؟ سچی بات تو یہ ہے کہ اس فلم کے مکالمے اتنے زبردست اور برجستہ ہیں کہ کم ہی فلمیں اس کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ اس فلم کی ایک اور خاصیت اس میں پس پردہ موسیقی کا نہ ہونا ہے۔ زیادہ تر فلموں میں پس پردہ موسیقی سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ آنے والےمنظر میں سسپنس ہوگاکہ ایکشن یا رومانس ہوگا یا تھرل۔ جبکہ اس فلم میں یہ سارا کام چہرے کے تاثرات اور مکالموں سے لیا گیا ہے اور اسے دیکھنے کے بعد ہی آپ جان سکیں گے کہ کس مہارت سے ایسا کیا گیا ہے۔ ٹیکساس کی لینڈ سکیپ کو بھی بہت خوبصورت اور حقیقی انداز میں فلمایا گیا ہے۔

اگر آپ ایسی فلمیں دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں جن میں 'فلمی' انداز اور معمول کی فلمیں چوّلیں نہ ہوں تو یہ فلم آپ کے لئے ہے!

فیس بکیے

دوست ، تو جی سکول کے دور کے ہی ایک نمبر ہوتے ہیں۔ کالج والے آدھے ایک نمبر اور آدھے دو نمبر۔ اور عملی زندگی میں کودنے کے بعد اگر آپ کو کوئی دوست، اور دوست مطلب ' دی دوست'، مل جائے تو یہ کم ازکم اتنی بڑی خوشخبری ہے جو لاٹری لگنے کے برابر سمجھی جاسکتی ہے۔

دوستوں کی بڑی تعریفیں لکھی جاچکی ہیں،مثلا جو ضرورت میں کام آئے، جو آپ کے دکھ بانٹے، جو آپ کی معشوق کو نہ ورغلائے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن جی میرے نزدیک تو دوست وہ ہوتا ہے جس کو آپ منہ بھر کےگالی دیں تو آگے سے وہ بے حیائی سے ہنستا رہے اور وائس ورسا۔۔۔ میں نے ایسے ایسے لوگوں کو اپنے پرانے دوستوں سے گالیاں کھاتے اور ہنستے دیکھا ہے جو اونچی آواز میں بات کرنے کو بھی بدتہذیبی اور معاشرتی آداب سے ناواقفیت پر محمول کرتے ہیں۔ چپراسی سے بھی آپ جناب سے بات کرتے ہیں اور چائے بھی سڑکیاں مار کے نہیں پیتے۔ لیکن دوستوں کے ساتھ ان کی گفتگو اس گانے کے مصداق ہوتی ہے کہ ۔۔۔ تیری تو۔۔۔ تیری تاں۔۔۔۔

پر جی اب ایک نئی قسم بھی دریافت ہوچکی ہے دوستوں کی۔ فیس بکیے دوست۔ ایک ڈھیلے ڈھالے اندازے کے مطابق اگر آپ فیس بکیے ہیں تو آپ کے دوستوں کی پچانوے فیصد سے زیادہ تعداد ایسے لوگوں پر مشتمل ہوگی جن سے نہ آپ کبھی ملے ہوتے ہیں اور نہ ہی امید ہوتی ہے کہ کبھی زندگی میں ان سے ملاقات ہوسکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تحریر، انسان کا آئینہ ہوتی ہے اور فلاں اور ڈھینگ۔۔۔ پر جی لکھے ہوئے حرف سے بندے کا تھوڑا بہت اندازہ تو لگایا جاسکتا ہے پر پورا جاننے کے لئے تو وقت کی سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے تب کہیں جا کر بندے کا پتہ چلتا ہے وہ بھی تھوڑا سا۔ بچپن کے دوستوں پر تو آپ نے بیس بائیس سال کی سرمایہ کاری کی ہوتی ہے، اس لئے ان کی رمز میں بھی آپ کے لئے کوئی بھید بھاؤ نہیں ہوتا۔ پر ایک دوہفتے کی فیس بکی دوستی میں بھی ہم ایک دوسرے کو لمّیاں پَا کے ایسی چھترول کرنی شروع کردیتے ہیں جو کم ازکم بھی دس سال پرانی دوستی میں ہی جائز سمجھی جاسکتی ہے!

اس پر میں نے سوچا ہے اور بہت سوچنے کے بعد بھی میرا بھیجہ کوئی نتیجہ نہیں نکال سکا کہ ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب مجرّد نام ہی ہیں، انسان نہیں اور ان کو کچھ بھی کہا جاسکتاہے اور فار دیٹ میٹر۔۔۔ کچھ بھی سنا جاسکتا ہے! کیا فرماتے ہیں مفتیان فیس بک بیچ اس مسئلے کے۔۔۔

فلمیں شلمیں

ایک دفعہ پہلے بھی یہ حرکت کرچکا ہوں۔ لیکن وہ گانے تھے اور یہ میری کچھ پسندیدہ فلمیں ہیں۔ فلموں کے نام ریٹنگ کے حساب سے نہیں لکھے گئے۔ جونام یاد آتا گیا، لکھ دیا ہے۔ اگّے تیرے بھاگ لچھّیے۔۔۔

ویسے بھی میرے جیسے جہلاء ، تہذیبوں کے تصادم پر تحقیقی مقالے تو لکھ نہیں سکتے، لہذا اسی طرح کی خرافات پر گزارا کریں!

Eastern Promises

Match Point

Michael Clayton

Godfather I

Godfather II

Godfather III

Memento

Ocean’s Eleven

Company

The Lord of the Rings I

The Lord of the Rings II

The Lord of the Rings III

There will be blood

Avatar

The Prestige

Awake

a500 Days of Summer

Law Abiding Citizen

Primal Fear

Goodfellas

Tin Cup

The Notebook

Inglorious Bastards

Casino

Bugsy

Taking of Pelham 123

Closer

Hangover

No Country for old men

Knocked up

Three Idiots

The Pursuit of Happiness

Vicky Christina Barcelona

Body of Lies

Legends of the Fall

Rock’n’Rolla

The Curious case of Benjamin Button

Love Aaj Kal

Last Man Standing

Earth

Snatch

Heat

Taxi Driver

Atonement

Taare Zameen par

Carlito’s Way

Training Day

Ronin

The Deer Hunter

Domino

U Turn

Out of sight

Autumn in New York

Omkara

The Departed

Forrest Gump

Matrix Reloaded

Pulp Fiction

Scent of a woman

The assassination of Jesse James by the Coward Robert Ford

Ransom

Oye Lucky, Lucky Oye

Million Dollar Baby

Saving Private Ryan

Jane Tu ya Jane Na

The Bridges of Madison County

As good as it gets

Twilight

Wild Things

Unforgiven

Mission: Impossible

The Dark Knight

Stranger Than Fiction

Kaminey

Sleepless in Seattle

Butterfly Effect

Jackie Brown

The Constant Gardener

Basic Instinct

Notting Hill

Mystic River

About Schmidt

Brave Heart

Any Given Sunday

Jerry Maguire

Love Actu
ally

Cast Away

Intersection

L.A. Confidential

The Usual Suspects

The Silence of the Lambs

Cliffhanger

A Few Good men

Good Will Hunting

Syriana

Things to Do in Denver When You're Dead

The Untouchables

Cold Mountain

Wall Street

Lost in Translation

Great Expectations

The Edge

احمد ندیم قاسمی / قیصر تمکین

ُاُسی انگریز کے بارے میں منشی جی یہ بھی بتاتے تھے کہ وہ تھل کی آندھیوں سے بہت پریشان تھا، اور اس نے اُدھر ولایت میں اپنی سرکار کو لکھا تھا کہ پٹڑی بچھانے کے لئے یہ کیسا علاقہ مجھے دیا گیا ہے کہ آندھی کے بعد اس کا سارا جغرافیہ ہی بدل جاتا ہے، یہاں تو ریت کے ٹیلے باقاعدہ سفر کرتے ہیں، سو میری کچھ مدد کیجیے۔ اس پر ولایت کی سرکار نے دلّی کی سرکار کو لکھا، اور دلّی کی سرکار نے کسی پہنچے ہوئے پِیر سے ایک تعویذ حاصل کیا، جو پٹڑی کے آس پاس کی ببول میں لٹکا دیا جاتا۔ اس کے بعد آندھی آتی تو ریت کے ٹیلے پٹڑی کو چھوتے تک نہ تھے، مگر معلوم ہوتا ہے، حضرت پِیر اس پِیر سے بھی بڑے پِیر تھے۔ اس لیے کہتے ہیں، جب ایک بار بہت تیز آندھی آئی تو ایک ٹیلا ببول میں لٹکے تعویذ کی پروا کئے بغیر پٹڑی پر چڑھ گیا، پھر دلّی سے ایک اور تعویذ منگایا گیا، اور جب پہلے تعویذ کی جگہ اسے ببول میں لٹکایا گیا تو اچانک 'شررررر' کی آواز آئی۔ ریت کے اس ٹیلے کو آگ لگ گئی، اور وہ راکھ کی چٹکی بن کر اڑ گیا۔ غرض، تھل میں جب تک پٹڑی بچھتی رہی اس علاقے کے حضرت پِیر اور دلّی کے پیروں کا آپس میں سخت مقابلہ ہوتا رہا، اور حضرت پِیر کے جن بھوت تو آج بھی سرگرم ہیں۔ پچھلے دنوں اللہ جوایا اپنی بھینس سمیت گاڑی کے نیچے آکر کٹ گیا تو اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ بات بات پر ریل کا ٹکٹ کٹا لیتا تھا۔ بڑے بوڑھوں نے اسے بہت سمجھایا کہ ریل گاڑی میں اتنا سفر نہ کیا کرو، حضرت پِیر خفا ہوجائیں گے ، مگر وہ نہ مانا، اور پھر ایک پٹڑی پر چرتی ہوئی بھینس کو ریل گاڑی سے بچانے دوڑا تو بھینس کے ساتھ خود بھی انجن کے پہیوں کے ساتھ لپٹا چلا گیا۔ لوگوں نے پہیوں سے لپٹی ہوئی سوکھی چمڑی بیلچوں سے ادھیڑی۔

احمد ندیم قاسمی کی کہانی "تھل" سے اقتباس

دلی میں ان دنوں 'خروشچیف' اور 'بلگانن' کی آمد کی دھوم تھی۔ دیس کی پرانی تہذیب کے مظاہرے ہورہے تھے۔ طرح طرح کے ہنر اور پیشے زندہ کیے جارہے تھے۔ اسی میلے ٹھیلے میں مدّو میاں نے اپنے ساتھ قنوج سے لائے ہوئے حقے اور پیچوان بھی منہ مانگے داموں پر سیاحوں کے ہاتھ بیچ دیے۔ دو چار پیسے ان کے ہاتھ آئے تو یکایک دماغ کی ساری کھڑکیاں کھل گئیں۔ انہوں نے ترک وطن کا خیال ہی دل سے نکال دیا۔ عطر اور تیل کے ساتھ ہی تمباکوے خوردنی و کشیدنی کا کاروبار بھی شروع کردیا۔ پھر بھئی، اللہ نے برکت بھی خوب دی۔

تھوڑے ہی دنوں بعد حاجی بمبا نے مدّو میاں کے، جو اب سیّد امداد حسین کا روپ دھار چکے تھے، بیٹے اجّن سے اپنی بیٹی بیاہ دی۔

اجّن اپنے گھرانے میں سے زیادہ لائق فائق تھا، کیوں کہ ملک کے جمہوریہ بننے کی خوشی میں جشن جمہوریہ کے موقع پر جو لوگ رعایتی نمبروں سے پاس کردیے گئے تھے، ان میں اجّن بھی میٹرک کی کھائی پھلانگ گیا تھا۔ اپنے خاندان میں وہ پہلا میٹرک پاس شخص تھا اور سیّد ایجاد حسین کے نام سے شہر کے عمائدین میں گنا جانے لگا تھا۔

ان دنوں شہر میں صرف تین سیّد رہ گئے تھے؛ایک تھے سیّد وید رتن تنخا۔۔۔ جو ایک شراب خانے کے مالک تھے، دوسرے سیّد اقتدار المہام۔۔۔ آئی سی ایس، تیسرے تھے سیّد گنگا جان کاظمی ۔۔۔ جو ریاست میں وزارت کی گدی پر چڑھتے اترتے رہتے تھے۔ اب چوتھے، ذرا جونئیر قسم کے 'سیّد' بن گئے تھے مدّو میاں، یعنی سیّد امداد حسین، اور تو اور، انہوں نے شہر کے مئیر کا الیکشن بھی لڑ ڈالا، اور شہر کے نامی گرامی غلام السیّدین نے اخباروں میں مضامین شائع کرائے کہ سیّد امداد حسین اصل میں 'سر'، 'خان بہادر' یا 'شمس العلماء' قسم کے خطاب یافتہ تھے۔ پھر انہوں نے آزادی کی لڑائی میں سب کچھ قربان کردیا۔ کھدر پہننے لگے، اور پنڈت پنت اور رفیع احمد قدوائی وغیرہ کے ساتھ جیل بھی گئے تھے۔ انگریزی کے ایک غریباؤ رپورٹر نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ سیّد امداد حسین بہت ٹھوس علمی انسان ہیں، اور مشرق و مغرب کے فلسفوں پر ان کی گہری نظر ہے۔

قیصر تمکین کی کہانی 'ختنے کے لڈو' سے اقتباس

سٹوری میں ٹوئسٹ

(تفتیشی، تحقیقی و درفنطنی ڈیسک) کہا جاتا ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن ایک جوڑا ایسا بھی ہے جو آسمانوں کی بجائے نئی دلّی میں را کے ہیڈکوارٹرز میں بنایا گیا ہے۔ اس رپورٹر کو حساس اداروں کے باوثوق ذرائع سے ایک ایسی اطلاع ملی ہے جو ہوش اڑادینے والی ہے اور اسے بجاطور پر اکیسویں صدی کی سب سے بڑی خبر قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایک ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس رپورٹر کو یہ دھماکہ خیز سکوپ دیاہےکہ شعیب ملک اصل میں پاکستان کے ایک انتہائی حساس سائنسی ادارے کے سربراہ ہیں جو میزائل پروگرام پر انتہائی جانفشانی سے کام کررہاہے۔ اگرچہ یہ خبر انتہائی ناقابل یقین ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو شعیب ملک کو دیکھ کے ہی ان کی میزائلوں سے محبت صاف ظاہر ہونے لگتی ہے کہ ان کی اپنی شکل ماشاءاللہ سٹنگر میزائل جیسی ہے! اسی ذریعے نے مزید بتایا کہ کرکٹر کے طور پر شعیب ملک کی شناخت ایک کیمو فلاج ہے کیونکہ بطور کرکٹر وہ قومی ٹیم تو کجا ڈسکے کے کسی لوکل کلب میں بھی نہیں کھیل سکتے۔

ایک سوال کے جواب میں اسی ذریعے نے کہا کہ شعیب ملک اتنی کم عمری میں ایسے ادارے کے سربراہ بالکل میرٹ پر بنے ہیں۔ مزید تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ شعیب ملک پیدائشی جینئس ہیں۔ وہ ابھی 'چھلے' میں ہی تھے کہ انہوں نے شرلیاں بنانی شروع کردی تھیں۔ پانچ سال کی عمر میں انہوں نے راکٹ لانچر کے لئے ہوم میڈ راکٹ اور دس سال کی عمر میں سٹنگر میزائل ایجاد کرلیا تھا۔ جو امریکیوں نے خرید کر اپنے نام سے پیٹنٹ کروالیا اور پھر اسے افغان جنگ میں استعمال کرواکے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ شعیب ملک کی کامیابیوں کی داستان یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ایٹمی پروگرام میں بھی ان کا کنٹری بیوشن بہت زیادہ ہے۔ ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ایٹم بم بناتے ہوئے ایک جگہ ڈاکٹر قدیر پھنس گئے تھے تو یہ شعیب ملک ہی تھے جنہوں نے اس الجھن کو حل کیا تھا ورنہ آج پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا، لیکن یہ شعیب ملک کی اعلی ظرفی ہے کہ انہوں نے آج تک کبھی اس چیز کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی!

پاکستان کے میزائل پروگرام کی دن دگنی رات چوگنی ترقی ہمارے روایتی دشمن کو ایک آنکھ نہیں بھائی۔انہوں نے پاکستانی میزائل پروگرام کے سربراہ کو پھانسنے کے لئے ثانیہ مرزا کو استعمال کیا۔ جنہوں نے شعیب ملک کو اپنی اداؤں (اداؤں کی بجائے وہ پڑھا جائے جو میں لکھنا چاہتا تھا!) کے جال میں پھنسایا اور اب ان سے شادی کرکے سارے میزائلی راز 'کڑچ' کرنے کی کوشش کریں گی۔

شعیب، بوجہ پیدائشی جینیئس، ذرا سادہ (احمق پڑھا جائے!) سے اور بوجہ پاکستانی ذرا ٹھرکی سے بندے ہیں، اسی لئے اس سازش میں پھنستے چلے گئے۔ لیکن فکر کی کوئی بات نہیں کہ ہمارے حساس ادارے بھی میدان میں آگئے ہیں اور انہوں نے عائشہ صدیقی کی صورت میں ایک شدید ڈفانگ کھڑا کردیا ہے۔ ان کے ابّا نے چینلز پر جس طرح 'بھوترنے' کا مظاہرہ کیا ہے وہ ہمارے حساس اداروں کی جوابی کاروائی کی روشن مثال ہے۔ دوسرے محاذ پر انہوں نے ایک غیر معروف اور چوّل سے بلاگر کو ہائر کرکے ثانیہ کے نام عاشقانہ خطوط لکھوانے شروع کردیئے ہیں تاکہ کل کلاں اگر شادی ہوبھی جائے تو شادی کے بعد ثانیہ کو بلیک میل کرکے را کے ایجنڈے پر کام کرنے سے روکا جاسکے!

اس لئے ان کو خام جانتا ہوں

اس لئے ان کو خام جانتا ہوں
اپنے اشکوں کے دام جانتا ہوں
اور تو کوئی خوبی مجھ میں نہیں
دکھ اٹھانے کا کام جانتا ہوں
خواہشیں ہاتھ باندھ لیتی ہیں
ایک ایسا کلام جانتا ہوں
کون ہوں اس کی کیا خبر مجھ کو
میں تو بس اپنا نام جانتا ہوں
بے سبب تو نہیں جھجک میری
میں تمہارا مقام جانتا ہوں
گھر پہنچنے میں دیر کیسے کروں
اپنی گلیوں کی شام جانتا ہوں
کام لیتا ہوں بھولپن سے حسن
ورنہ باتیں تمام جانتا ہوں
حسن عباسی

ثانیہ کے نام آخری خط (فی الحال!)

صنم بے وفا، ہرجائی محبوبہ، و گیڑے باز حسینہ وغیرہ وغیرہ

ہذا سلام آخر بالطرف عاشق مَل اَنتِ!

آپ آخر اس دنیا (بلاگنگ و فیس بک وغیرہم) میں میری کتنی مٹی اور پلید کرنا چاہتی ہیں؟ آپ کے عشق لاحاصل میں ساری دنیا کی باتیں سن سن کے میرے کان پک چکے ہیں بلکہ اب تو گل بھی چکے ہیں۔ آخر وہ کون سی چیز ہے جو آپ کو 'آراماں' نہیں لینے دیتی؟ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ میں نے چند 'اصولی اختلافات' پر شادی سے انکار کردیا تھا، لیکن دو طرفہ جامع مذاکرات کا دروازہ تو بند نہیں کیاتھا۔ آخر کوئی نہ کوئی راہ نکل ہی آتی۔ ویسے بھی ہم پاکستانی ڈیل کرنے میں اتنے ماہر ہیں کہ روز قیامت بھی ڈیل کے آسرے پر دنیا میں موجیں کرتے رہتے ہیں۔۔۔ تو اس مسئلہ کا حل بھی بذریعہ ڈیل بآسانی نکالا جاسکتا تھا۔۔۔ لیکن یہ 'کالیاں'  کسی دن مروائیں گی آپ کو۔۔۔ غضب خدا کا، سیدھی شعیب ملک پر ہی بریک!

برسبیل تذکرہ یہ بھی بیان کردیجئے کہ سرمہ سلائی قسم کے منڈوں میں آپ کی اتنی شدید دلچسپی کا راز آخر ہے کیا؟ اگر چوّل مارنی ضروری ہو ہی جائے تو کم ازکم چوّل تو ڈھنگ کی ہو (مثلا آپ کا یہ خاکسار)۔۔۔۔ یہ سوچ لیں کہ جو بندہ حیدر آبادیوں کو بھی 'گیڑے' کراچکا ہو، وہ کیسا درجہ اوّل قسم کا 'گیڑے' باز ہوگا۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ محترمہ بھی آپکی سہیلی ہونے کا شرف رکھتی ہیں، اب اس بات سے جو منظرنامہ میرے ذہن میں بن رہا ہے وہ تو میں اس نجی خط میں بھی نہیں لکھ سکتا۔۔۔

اللہ نہ کرے کہ یہ بیل منڈھے چڑھے لیکن اگر شومئی قسمت سے ایسا ہوبھی گیا تو پاکستان آکر آپ کو پتہ چلے گا کہ یہاں کےلوگاں آپ کے سسرالی شہر کے بارے میں کیا 'تاثرات' رکھتے ہیں۔ لیکن اس وقت پچھتانے کا نہ تو کوئی موقع ہوگا اور نہ فائدہ۔۔۔ کہ کوّا ،کھیت چگ چکا ہوگا۔۔۔ ہیں جی۔۔

جہاں بھی رہیں، ٹینشن میں رہیں

فقط ۔۔۔۔ شربت وصل کا پیاسا و ہجر کا مارا ۔۔۔ جعفر بے چارا

رخصتی

حالیہ دنوں میں میرے ساتھ عجیب ساماجراہوا ہے۔ میری باتیں کچھ سنجیدہ سی ہوگئیں ہیں، کچھ لکھتا ہوں تو وہ بھی کسی بزعم خود دانشور اور مصلح قوم ٹائپ لکھاری کا لکھا لگتا ہے۔ لکھنے کے بعد میں خود سوچتارہتاہوں کہ یہ میں نے کیالکھ دیاہے؟ حد تو یہ ہے کہ خواب میں بھی ثانیہ و کترینہ کی بجائے رانا مبشر، روئیداد خان، رویت ہلال کمیٹی کے ارکان، "ڈاکٹر" عامر لیاقت وغیرہ کی قبیل کے لوگ آنے لگے ہیں۔ آپ خوب اندازہ کرسکتےہیں کہ صبح جاگنے پر میرے موڈ کی کیا واٹ لگی ہوئی ہوتی ہوگی۔ جن باتوں پر ہنسی آتی تھی، اب ان پرنصیحتیں یاد آنے لگی ہیں۔ شفیق الرحمن اور یوسفی کی بجائے "موت کا منظر اور مرنے کے بعد کیا ہوگا" پڑھنے کا من کرنے لگا ہے۔ ڈائجسٹ پڑھنا لہوو لعب اور فاسقانہ کام لگتا ہے۔ جن محفلوں میں مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا، اب مجھ کو دیکھ کر سب کو ضروری کام یاد آجاتے ہیں۔ اپنے بال برے لگنے لگے ہیں۔ دل میں روز طلب اٹھتی ہے کہ چل بچہ ٹنڈ کرا۔ لیکن ابھی تک اس طلب کی مزاحمت جاری ہے۔ کل رات میں نے اپنی اس حالت پر نہایت رنجیدہ ہوکر اس کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کی تو مجھ پر یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ چند دن پہلے ریموٹ کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے میں ایک ایسے چینل پر جاپہنچا تھا جس کے سحر نے مجھے اب تک جکڑا ہوا ہے اور میں اس سے اپنے آپ کو ابھی تک آزاد نہیں کراسکا۔

آپ یقینا یہ جاننے کے مشتاق ہوں گے کہ وہ چینل کونسا تھا؟ اس کانام تو مجھے یاد نہیں آرہا لیکن کچھ نشانیاں ہیں، وہ بیان کردیتا ہوں کہ شاید آپ اس چینل کا نام یاد بتاسکیں۔

ایک بزرگ کہ نہایت سجے ہوئے سٹیج پر تشریف فرما تھےاور نور ان کی صورت پر ٹوٹ ٹوٹ کر برس رہی تھی۔۔ اوہووو۔۔۔ رہا تھا۔ ان کے دائیں ہاتھ میں ایک چھوٹا جھنڈا(ڈنڈے سمیت) تھا جسے وہ لہرا لہرا کر اور خود لہک لہک کر کچھ کہہ رہے تھے۔ جو میں اپنی کم علمی اور اونچا سننے کی بیماری کی وجہ سے سمجھنے سے قاصر تھا۔ ان کی گود میں ایک چمکدار غلاف والا تکیہ تھا۔جس پر وہ باربار پیار سے بایاں ہاتھ پھیر رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک کم عمر صاحب تشریف فرما تھے۔ جو اپنی سریلی آواز میں کچھ مذہبی مناجات گنگنا رہے تھے۔ سٹیج کے سامنے پنڈال میں بہت سے لوگ وہی کاسٹیوم پہنے بیٹھے تھے، جو مرکزی کردار نے زیب تن کیا ہوا تھا اور یہ سارے لوگ ہل ہل کر اور لہک لہک کر فلک شگاف نعرے بلند کررہے تھے۔ سکرین پر ایک "ٹکر" بھی چل رہا تھا کہ صاحبزادہ (نام میں بھول گیا)مدظلہ العالی سلمہ کی رخصتی! اس رخصتی کی کوئی تفصیل نہ تو ٹکر میں موجودتھی اور نہ ہی دونوں مقررین (وہی ی ی ۔۔۔ سٹیج والے) کی بیک وقت تقاریر سے اندازہ ہورہا تھا کہ اس رخصتی کی نوعیت کیا ہے؟ البتہ نورانی چہرے والے بزرگ زور لگاکررونے کی شدید کوشش کررہےتھے، جیسے شاہ رخ خان زور لگاکر اداکاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کم بخت آنسو تھے کہ نکلنے سے انکاری تھے، اس پر سمجھدار کیمرہ مین نے فرشتہ صورت بزرگ کے کلوز اپ کی بجائے کیمرہ دوبارہ پنڈال میں موجود عقیدت مندوں پر فوکس کردیاجبکہ پس پردہ موسیقی کے طور پر بزرگ کی المناک ہچکیاں (بغیر آنسوؤں والی) بدستور چلتی رہیں۔ میں نے اندازہ لگایا کہ شاید یہ کم عمر صاحب، ان بزرگ شخصیت کے صاحبزادے ہیں اور گھر داماد کے طور پر رخصت ہوکر اپنے سسرال جارہے ہیں اور ان کی جدائی میں یہ رقت آمیز (دیکھنے والوں کے لئے) محفل سجائی گئی ہے!

اس محفل کی براہ راست کوریج نے میرے دل میں وہ کیفیات پیدا کردیں، جن کا ذکر شروع میں کیا گیا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ساری دنیا ایسے ہی کاسٹیوم زیب تن کرکے ہر وقت اسی حلیے میں لہکتی پھرے۔ یہ رنگارنگی اور تنوع ختم ہوجائے اور یک رنگی کی کیفیت پیدا ہوجائے تو دنیا کتنی حسین لگنے لگےگی اور اس کائنات کی تخلیق کا مقصد بھی پورا ہوجائے گا!

میرا دوست "ھ" ،جو نہایت بے ہودہ، بدتہذیب، جاہل، گنوار، منہ پھٹ اور دہریہ قسم کا شخص ہے اور بدقسمتی سے اس وقت میرے پاس بیٹھا تھا، اس نے اپنے منحوس چہرے پر خباثت بھری مسکراہٹ سجائی اور ایک آنکھ میچ کر نہایت لوفرانہ انداز میں کہا کہ عقیدت اور جہالت کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور اس کیس میں تو گلے مل رہی ہیں!