ایک انتخابی تقریر

میرے بزرگو، دوستو، ساتھیو، تائیو، چاچئیو، پھپھڑو، خالوؤ ۔۔۔ (یہاں ایک وقفہ لے کر لمبا سانس لیں) السلام علیکم۔ (مجمع کے وعلیکم السلام کہنے کا انتظار کریں، اگر مجمع چپ رہے تو ان کو خود ہی گناہ ہوگا!) میں آج آپ کی خدمت میں پھر حاضر ہوا ہوں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ منظر نامہ کے بہترین نئے بلاگ کے لئے ووٹنگ کی کل آخری تاریخ ہے۔ اس تاریخی موقع پر میں آپ کی خدمت میں چند ہوش ربا انکشافات کے ساتھ حاضر ہوا ہوں۔ (یہاں ایک چھوٹا سا وقفہ لے کر گلے کا والیم فل کھول دیں) میرے بھائیو، آپ جانتے ہیں کہ یہ (سینے پر ہاتھ مار کر) بک تو سکتاہے، جھک بھی سکتا ہے، لیکن کٹ نہیں سکتا! میری ہی قربانیوں سے آج بلاگستان کا نام پوری دنیا میں روشن ہے۔ (یہاں لہجے میں تھوڑی سی رقت لائیں) پوسٹیں لکھ لکھ کر میری انگلیاں سوا سوا انچ گھس چکی ہیں۔ مسلسل جاگنے کے سبب میرا منہ, فٹے منہ ہوچکا ہے۔ لیکن میرے دوستو! مجھے اپنی کوئی پرواہ نہیں، میں اس بلاگستان کے لئے اپنی جان بھی قربان کرسکتا ہوں (اپنی شرٹ کے بٹن جھٹکے سے توڑ ڈالیں، اگر تالیاں بجیں اور نعرے لگنے لگیں تو مکے لہرانا شروع کردیں ورنہ ٹھنڈ رکھیں!)۔

میرے مقابلے میں جن بلاگرز نے الیکشن لڑنے کی ٹھانی ہے، میں نہایت احترام سے ان کے کرتوت بھی آپ کے سامنے لانا چاہتاہوں (لہجے میں پراسراریت سی پیدا کریں)۔ ایک بی بی ہیں، عنیقہ ناز۔ آج میں آپ کو بتادینا چاہتاہوں کہ یہ بی بی اپنی تحاریر مجھ سے ٹھیکے پر لکھواتی تھیں اور فی تحریر پونے تیرہ روپے دیتی تھیں۔ میں بھی زیادہ پیسے کمانے کی چکر میں دھڑا دھڑ ان کو تحاریر لکھ کر دیتا رہا ، اسی لئے ہر روز دو دو پوسٹیں ان کے بلاگ پر لگتی رہی ہیں (داد طلب انداز سے مجمع کی طرف دیکھیں)۔ جب میں نے ان سے کہا کہ حق محنت میں کچھ اضافہ کریں تو انہوں نے مجھے لندن سے دھمکی آمیز فون کروائے (مظلومیت طاری کریں)۔ میرے چھوٹے چھوٹے دوست ہیں(دھیان رکھیں کہیں چھوٹے چھوٹے بچے نہ کہہ دیں) لیکن میں ڈرا نہیں۔ اب انہوں نے میرے خلاف ایک اور سازش کی ہے (ایک کاغذ لہرائیں) یہ دیکھئے رابطہ کمیٹی کا سرکلر، جس میں کارکنان کو کہا گیا ہے کہ ایک ایک بندہ ۲۰ ای میل ایڈریس بنائے اور عنیقہ ناز کو ووٹ دے۔ لیکن میں بتا دینا چاہتا ہوں، اگر اس الیکشن میں، میرا بلاگ کامیاب نہ ہوا تو ہم نتائج تسلیم نہیں کریں گے۔ اصلی جمہوریت وہی ہوگی جس میں ہم کامیاب ہوں (والیم پھر فل کردیں)۔

دوسرے بلاگر خرم بھٹی صاحب ہیں۔ ان کے بارے میں تو ہر بات اظہر من الشمس ہے۔ ساتھیو (لہجے میں طنزیہ انداز لائیں) جو امریکہ میں رہتا ہو اور وہیں کام بھی کرے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کس لابی کے زیر اثر ہوگا؟؟؟؟ ہیں جی۔۔۔۔ یہ کالا پانی اور اے بی سی ڈی ایف وغیرہ جتنی بھی ایجنسیاں ہیں، انہی صاحب کی مخبری پر میرے خلاف پاکستان میں لائی گئی ہیں، تاکہ میرا بلاگ ہیک کرکے اس پر اعجاز حشمت خان، نذیر ڈھوکی، ظہیر اختر بیدری اور خوشنود علی خان وغیرہ کے کالم چھاپے جائیں، طالبان کا نام تو ایک سموک سکرین ہے، ایک دھوکہ ہے، ایک فراڈ ہے۔ اصل میں تو یہ لوگ اس الیکشن کو انجینئرڈ کرنے آئے ہیں۔ لیکن میں ایک بات واضح کردینا چاہتا ہوں، جتنی چاہے سازشیں کرو، جعلی ووٹ بناؤ، دھمکیاں دلواؤ، چاہے میرا بلاگ ہیک ہوجائے لیکن آپ کا یہ بھائی (چھاتی پر ہاتھ ماریں) میدان نہیں چھوڑے گا۔ لڑے گا، لڑے گا، لڑے گا۔۔۔۔ (نعرے لگاتے ہوئے سٹیج سے اتریں) جیوے جیوے بلاگستان ، جیوے جیوے بلاگستان، جیوے جیوے ۔۔۔۔۔

(پیروڈی نما مزاح لکھنے کی کوشش کی گئی ہے، اسے اسی جذبے سے پڑھا جائے، کسی کی ہتک, واللہ, مقصود نہیں!!!)

سینکڑا!

اس تصویر ( اشتہار بھی کہہ سکتے ہیں) کو دیکھ کر حیرت میں مبتلا نہ ہوں! یہ میں نے سوویں پوسٹ کی خوشی میں اپنے آپ کو تحفہ دیا ہے۔ جی ہاں یہ سوویں پوسٹ ہی ہے نصف جس کے پچاس اور چوتھائی پچیس ہوتے ہیں۔ میں خاص طور پر اپنا اور عمومی طور پر اپنے ساتھی بلاگرز اور قارئین کا شکر گزار ہوں، اپنا اس لئے کہ میں لکھنا ہی بند کردیتا تو سوویں پوسٹ کی نوبت کیسے آتی۔۔۔ ہیں جی!اور دوستوں کا اس لئے کہ انہوں نے مجھے دس مہینے تک برداشت کیا اور میری رطب ویابس کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے، جس سے شہ پا کر میں کھل کھیلتا رہا۔

اگر میں کہوں کہ پچھلے دس مہینے میں، میں نے بہت کچھ سیکھا، نئے دوست بنائے، بہت سے معاملات کو نئے زاویے سے دیکھا، تو یہ غلط نہ ہوگا۔ یہ بلاگ جو بغیر کسی منصوبے اور اونچی توقعات کے شروع کیا گیا تھا، آج منظر نامہ کے بہترین نئے بلاگ کے زمرے میں نامزد ہے۔ اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فی زمانہ قحط الرجال کی صورتحال کتنی تشویش ناک ہے!

میں ایک دفعہ پھر اپنے دوستوں کا دل کی "اونچائیوں" سے شکر گزار ہوں کہ جن کی حوصلہ افزائی کے پٹرول کے بغیر اس بلاگ کی گاڑی بہت پہلے ہی بند ہو چکی ہوتی! جئے بلاگستان۔۔۔۔
(یہ انکساری بالکل مصنوعی ہے، ورنہ میرے خیال میں، مجھ سے اچھا لکھاری اس دنیائے فانی میں نہ آیا ہے اور نہ ہی آنے کی امید ہے۔ وما علینا الا البلاغ)

دودھ کا جلا

کسی بھی اچھی خبر، امید افزا بات یا خوشگوار واقعہ سے بدترین توقعات وابستہ کرلینا یا ہولناک نتائج برآمد کرلینا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے! نجانے کیا مسئلہ ہے کہ میں ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ مجھ سے کوئی خوش اخلاقی سے ملے تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ یقینا اسے مجھ سے کوئی کام ہے یا اس کے دل میں تو میرے خلاف بڑے منصوبے ہیں، یہ خوش اخلاقی تو ایک دھوکہ اور منافقت ہے۔ پکا یاد نہیں کہ میری یہ حالت کب سے ہے، لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے شاید اس کی ابتداء تب ہوئی تھی، جب میرے ہم جماعت اور بہت پیارے دوست کے پروفیسر والد نے دسمبر ٹیسٹ کے نتیجے میں ردوبدل کروایا اور میں جو کلاس میں اول آرہا تھا، اسے دوسری بھی نہیں بلکہ تیسری پوزیشن پر دھکیل دیا گیا!

تب مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی تھی کہ ایسا انہوں نے کیوں کیا، ویسے سمجھ تو اب بھی نہیں آئی! کالج سے فراغت کے بعد عملی زندگی میں کودا تو پتہ چلا کہ جو کچھ میں نے بچپن سے لے کر آج تک پڑھا تھا، اسے تو میں استعمال ہی نہیں کرسکتا۔ وہ کتابیں اور اساتذہ کی باتیں تو صرف امتحان میں کامیاب ہونے کے لئے ہوتی ہیں۔ عملی زندگی میں اس کا اطلاق کرنے والوں کو "احمق" کے نام سے لکھا اور پکارا جاتا ہے!

ہوش سنبھالنے کے بعد پہلی دفعہ انتخابات کے میلے میں بڑے بڑے رہنما دیکھے اور ان کے حسین و رنگین وعدے سنے۔ تب میں نے سوچا کہ اب تو میری اور اس ملک کی قسمت بدلے ہی بدلے! لیکن نہ قسمت بدلی نہ دن۔ پھر ایک فوجی وردی میں ملبوس صاف گو سا شخص ٹیلی وژن پر نمودار ہوا اور اس نے بتایا کہ آج تک جو ہوا ہے، اسے بھول جاؤ۔ میں وہ تمام غلطیاں درست کردوں گا جو آج تک ہوئی ہیں۔ میرے دل نے کہا کہ لے بھائی! تیری اور اس ملک کی سنی گئی۔ اب تو زندگی سے لطف اندوز ہونے کی تیاری پکڑ! اللہ نے خیر کردی ہے۔ اس کے بعد کی کہانی کہنے کا حوصلہ مجھ میں نہیں!

اب کوئی اخباری کالم یا خبر یا بیان میں یاکسی ٹی وی چینل کے (لوز) ٹاک شو میں این ایف سی ایوارڈ پر داد کے ڈونگرے برسائے یا عدلیہ کے ذریعے بے رحم احتساب کےخواب دکھا کرمجھے بے وقوف بنانے کی کوشش کرے تو بھائی سن لو! میں اور بے وقوف بننے کے لئے تیار نہیں!

ڈائجسٹ، جگت اور ڈاکٹر اقبال!

"اس کے اندر کیا ہے؟" اے ایس ایف کے اہلکار نے سفری بیگ سے ایک شاپنگ بیگ برآمد کرتے ہوئے استفسار کیا۔ میں جو بورڈنگ شروع ہونے کا اعلان ہوتے ہی فورا اندر گھس گیا تھا تاکہ مجھے اس تکلیف کا اور سامنا نہ کرنا پڑے جو مجھے اپنے والد کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ہر سال ہوتی ہے! اب پچھتا رہا تھا کہ آدھ گھنٹہ اور انتظار کرلیتا اور یہ وقت باہر گزار لیتا تاکہ تازہ دم اہلکار آدھ پون گھنٹے کے بعد ذرا تھک بھی جاتے اور اکتاہٹ کا شکار بھی ہو جاتے۔ بہرحال میں نے جواب دیا کہ جی یہ فریز کئے ہوئے کھانے ہیں۔ اس پر "فرض شناس" اور "مستعد" اہلکار نے اپنی عقابی نظریں مجھ پر جماتے ہوئے گھرکا، "ہمیں کیا پتہ اس کے اندر آپ نے کیا بھرا ہوا ہے؟" اس کے ساتھ ہی اس نے کہیں سے برف توڑنے والا ایک سوا برآمد کیا اور اپنے توندیل باس سے مخاطب ہوا کہ "سر! اسے تو چیک کرنا پڑے گا"۔ اسی دوران اس کے باس نے دوسرے بیگ کو بھی کھول لیا۔

اندر بھرے ڈائجسٹوں کے انبار کو دیکھ کر اس کے چہرے پر تمسخر آمیز مسکراہٹ آگئی۔ "کیوں جی دبئی چ تسی ایہو کم کرن جاندے او، ایہہ کم تے تسی ایتھے وی کرسکدے او"۔ باس کے اندر چھپے فیصل آباد نے انگڑائی لیتے ہوئے فقرہ اچھالا۔ ایک تو واپس جانے کی ٹینشن، پھر یہ سارا فضیحتا اوراوپر سے ڈاکٹر اقبال کی یہ نصیحت بھی کہ دل کے ساتھ عقل کا چوکیدار ضرور رکھو لیکن کبھی کبھار دل کو دل پشوری بھی کرلینے دیا کرو، ان سارے عوامل نے مل جل کر ایسی کیفیت پیدا کی جو میرے دو ہفتے کے تیار راشن کو ان اہلکاروں کے شکم میں لے جانے پر منتج ہوسکتی تھی!

اس مبینہ نتیجے کے اندوہناک اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے چہرے پرمسکینی طاری کی اوران کی جگت پر داد آمیز ہنسی نذر کرتے ہوئےدل ہی دل میں ان کو وہ کہا جو میں اصل میں کہنا چاہتا تھا! باس کو اپنی جگت کی قدرافزائی اس قدر بھائی کہ انہوں نے سر کی اثباتی جنبش سے مجھے سامان لے جانے کا پروانہ عطا کردیا۔ اور میں یہ سوچتے ہوئے بورڈنگ کاؤنٹر کی طرف چل پڑا کہ ہاں یار! واقعی اس طرح تو میں "کچھ" بھی لے جاسکتا ہوں! چلو کوئی نہیں، اگلے سال سہی!!

غیرت کا ڈھکوسلہ

صاحب نے اپنے گاؤن کی ڈوری ذرا ڈھیلی کی؛ آرام کرسی کی پشت سے سر اٹھایا اور میری طرف ایسی نظروں سے دیکھا جن میں حقارت، ترس، غصہ، افسوس، دکھ  سب شامل تھے؛  پھر چنیوٹ کی بنی ہوئی منقش سائڈ ٹیبل پر دھری چاندی کی ٹرے سے کیوبن سگار اٹھایااوراسے منہ میں ڈال کر ایسے چبانا شروع کردیا، جیسے میری گردن ہو! چند ثانیے گزرنے پر سگار کو طلائی لائٹر سے سلگایا جس پر سٹڈی  قیمتی تمباکو کی بو سے بھرگئی۔ اس تمام کاروائی کے دوران ان کی نگاہیں لگاتار مجھ پر جمی رہیں۔ مجھے خدشہ محسوس ہونے لگا کہ شاید آج میں اس قیمتی افریقی کافی کے مگ سے بھی محروم رہ جاؤں؛ جس سے صاحب ہر دفعہ میری تواضع کیا کرتے ہیں۔

صاحب کی ناراضگی کی وجہ وہ سوال تھا جو میں نے آتے ہی ان سے پوچھ لیا تھا کہ غیرت مند کا متضاد کیا ہوتا ہے؟ صاحب نے سگار کے پانچ چھ گہرے کش لے کر اپنے فشار خون کو نارمل سطح پر پہنچایا اور مجھ سے یوں مخاطب ہوئے۔ "کیاتم جانتے ہوکہ تمہارے جیسے مڈل کلاسیوں کا پرابلم کیا ہے؟ عزت، غیرت، اخلاقی اقدار، ایمانداری۔۔۔۔۔ مائی فٹ!!! تم لوگ اگر کسی وجہ سے اپنی کلاس سے نکل بھی آؤ تو یہ ربش مڈل کلاس مینٹیلٹی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ اکنامکس، مائی ڈئیر اکنامکس۔ اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت اکنامکس ہے۔ یہ عزت، غیرت، قومی وقار، خودی سب مڈل کلاسیوں کے ڈھکوسلے ہیں۔ ان سے باہر نکلو۔ اپنے ذہن کو آزاد کرو۔ لبرل سوچ اپناؤ۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم ترقی کرسکتےہیں"۔

یہاں تک پہنچتے پہنچتے صاحب کا سانس پھول چکا تھا؛ جذبات کی شدت سے گلے کی رگیں پھول گئی تھیں اور ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوچکے تھے۔ صاحب سانس لینے کو رکے تو میں نے ہاتھ اٹھا کر قطع کلامی کی معافی چاہی اور یہ کہہ کر اجازت مانگے بغیر باہر نکل آیا۔ "اگر آپ اس سوال کا ایک لفظی جواب نہیں دے سکتے تو دومیں سے ایک کام ضرور کریں؛ لفظ "غیرت" پر پابندی لگادیں یا حروف تہجی میں سے "ب" کا حرف خارج کردیں"۔

مزید خیالات پریشاں

زرداری اے۔ فراڈ اے۔ کرمنل بی اے۔

میں اوں، ولی اللہ اوں۔ قطب اوں؛ ابدال بی اوں۔ خدمت اے، کی اے۔ پاکستانی ایں، احسان فراموش ایں۔ باوے قید یازم کے بعد ایک ای لیڈر اے؛ وہ میں اوں۔ بلکہ باوا بی کوئی اتنا بڑا لیڈر نئیں اے؛ جو بی اے میں ای اوں! زرداری اے۔ لٹیرا اے۔ قومی خزانہ اے، لوٹ لیا اے۔ میں اوں؛ ایماندار اوں۔ پنشن اے۔ ملتی اے۔ بیٹا اے۔ بڑا لیق اے۔ پیسہ اے۔ کماتا اے۔ مجے بی دیتا اے۔ مزا آتااے۔

مجے امریکہ  کا ایک کالا کل ملا اے؛ کہتا اے کہ اگر میرا جیسا لیڈر ان کے ملک میں ہوتا تو ہم اس کا زندہ مجسمہ بنا دیتے! میں نے اس سے پوچھا اے۔ زندہ مجسمہ کیسے بنتا اے۔ اس نے بتایا اے کہ کنکریٹ مکسر میں ڈال کے ایک منٹ اس کو چلانا اے پھر لیڈر باہر نکال کر سکھا لینا اے۔ ایسے بنتا اے۔ میں نے بہوت سوچا اے لیکن سمجھ نئیں آئی اے!

آپ سبوں کو پتہ ہونا چائیے! میرے مرنے کے بعد باوے قید یازم کے مزار میں میری قور (قبر) ہونی چائیے۔ باوے کو نکال کر کھارادر میں بی دفنا دیں تو مشکل نئیں اے۔ اصل باوائے قوم تو میں اوں۔ باوے کی تو ایویں ہوا بنی ہوئی اے! پھر ہر سال میرے عرس پر شہزاد رائے کی قوالی اونی چائیے؛ جس پر رانی مکر جی کو دھمال بی ڈالنی چائیے! بلیک لیبل اور تکے کبابوں کا لنگر اونا چائیے۔ عرس کی سیریمونی کے آخر میں شکیرا کا کنسرٹ اونا چائیے؛ اس کے بعد میرے ایصال ثواب کے لئے عائشہ ثنا سے اجتماعی دعا کرانی چائیے!

پی ٹی وی کے خبرنامے سے پیلے جو "باوائےقوم نے فرمایا" آتا اے؛ اس میں میرے "گولڈن کوٹس" ہونے چائیں۔ مثلاً دوباتیں ایں، ایک تو میری ڈگنیٹی اے، دوسری پاکستان (سب سے پیلے پاکستان والا) کی ملک کی، ترقی اے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ ہونے بی میری آواز میں چائییں۔ میں آٹھ سالوں میں اتنا بولا اوں کہ اگلے دس ہزار سال تک بی یہ گولڈن کوٹس کھتم نئیں ہوں گے۔

پر مجے مالوم اے۔ ایسا نئیں ہوگا۔ یہ قوم نئیں اے؛ جانور ایں۔ اسی لئے میرے جیسا گریٹ لیڈر ملک سے باہر اے۔ ووٹ ایں۔ گنجے کو دئیے ایں، زرداری کو بی دئیے ایں۔

اور مجے صرف آرٹیکل سکس کے ڈراوے دئیے ایں!

نسوار بھرے پراٹھے

میں آج کل اگرچہ جنت میں ہوں کہ جنت میں ملنے والی نعمتیں جو ہمیں آج تک بتائی گئی ہیں، میں کم و بیش ان سے متمتع (واہ ! کیا لفظ استعمال کیا ہے) ہورہاہوں۔ لیکن میں اپنے دوستوں کو بھولا نہیں۔ اسی سلسلے میں یہ تازہ ترکیب آپ کے "اعلی" ذوق کی تسکین کے لئے پیش خدمت ہے!

ہوسکتا ہے کچھ حاسدین اس ترکیب میں سے تعصب اور نسلی و لسانی منافرت  برآمد کرنے کی کوشش کریں، لیکن میرا خدا جانتا ہے کہ میں بہت نیک، پرہیز گار، غیر متعصب، قومی یکجہتی پر یقین رکھنے والا نہایت ہی عمدہ انسان ہوں! اس لئے ایسے لوگوں کے کہے پر کان نہ دھریں اور اجزاء نوٹ کرکے عنداللہ ماجور ہوں۔

اجزاء مندرجہ ذیل ہیں:

1-  اعلی قسم کی نسوار

2-  سبز مرچ (کافی ساری)

3-  کالی مرچ (5 چمچے۔۔۔جی ہاں! وہی چمچے)

4-  نمک (بالکل نہیں!)

5-  بھنگ کے تازہ پتے

6-  موبل آئل (اگر میسر نہ ہو تو کھانے کے تیل سے بھی کام چل جائے گا کہ زیادہ فرق تو ہوتا نہیں دونوں میں!)

7-  اور ہاں! آٹا (کہ اس کے بغیر پراٹھا کیسے بنے گا۔۔۔ ہیں جی!)

فرائنگ پین میں تھوڑا سا موبل آئل ڈال کر گرم کرلیں۔ پھر اس میں نسوار ملا کر اچھی طرح بھون لیں۔ سبز مرچیں باریک کاٹ کر ملالیں۔ نسوار اچھی طرح بھوننے کے بعد چولہے سے اتار لیں۔ اگلا مرحلہ نہایت اہم ہے۔ یہ ہے آٹا گوندھنے کا۔ امید ہے کہ آپ کو آٹا گوندھنا نہیں آتا ہوگا، مجھے بھی نہیں آتا! یہ تو بڑا مسئلہ ہوگیا، اب کیا کریں؟ ایک حل تو اس سمسیا کا یہ ہےکہ آپ کسی نزدیکی تندور پر جائیں اور خشک آٹا دے کر گوندھا ہوا آٹا لے آئیں یا پھر کسی ہمسائے کا منت ترلہ کرکے اس سے آٹا گوندھوا لیں۔ بہرحال یہ آپ کا سردرد ہے۔ میں آپ کو آٹا گوندھنے کی ترکیب بتانے کا مکلف نہیں! الجبرے کی طرح فرض کرلیں کہ آٹا گوندھا ہوا ہے۔ اب پیڑے بنا کر ان کے درمیان بھنی ہوئی نسوار برابر پھیلادیں اور پیڑے کو بیلنے سے پہلے فی پراٹھا ایک چمچہ کالی مرچ کا ملانا نہ بھولیں! پراٹھے تیار کرنے کے بعد بھنگ کے تازہ پتے بلینڈر میں ڈال کر بلینڈ کرلیں اور اسے حقے کے پانی میں ملا کر "مزیدار چٹنی" تیار کرلیں۔

گرماگرم نسوار ملے پراٹھوں کو بھنگ کی چٹنی کے ساتھ پیش کریں۔ زندگی کا لطف آجائے گا!!!

بی سی جیلانی کی ڈائری کا ایک ورق

صبح جلدی اٹھنا پڑا۔ رات ناروے کے قومی دن کی پارٹی میں ناں ناں کرتے بھی پانچ چھ لگاگیاتھا۔ صبح سر درد کے مارے پھوڑا بنا ہوا تھا، اٹھتے ہی بلیک کافی سے دو اسپرین نگلنی پڑیں۔ دس بجے ہالیڈے ان میں "چائلڈ لیبر اور انسانی حقوق کی تقدیس" پر ایک سیمینار تھا۔ جس کے مہمان خصوصی کیچوؤں کے تحفظ کی وزارت پر نئے آنے والے وزیر محترم تھے۔ مجھے اپنی این جی او "آؤ سبق سکھائیں" کی نمائندگی کرنا تھی اور پیپر بھی پڑھنا تھا۔ دیو ہیکل امریکی قونصل جنرل اس تقریب کی صدارت کرنے والے تھے، لہاذا میرا وقت سے پہلے پہنچنا ازحد ضروری تھا!

فیکے کو ہزار دفعہ سمجھایا ہے کہ جوتے رات کو ہی پالش کرکے رکھا کرو، آٹھ سال کا پلا پلایا سانڈ بن چکا ہے لیکن کام کرتے ہوئے موت پڑتی ہے۔ جبکہ اس کی ماں روز آکر اس کی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان غریبوں نے بھی ناک میں دم کرکے رکھا ہوا ہے۔ ادھر بشیر بھی ہر روز گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے دو ہزار ایڈوانس مانگنا نہیں بھولتا۔ اس کی ماں بیمار ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ میں تو اسے تنخواہ وقت پر دیتا ہوں۔ میں نے کیا ساری دنیا کا ٹھیکا لیا ہوا ہے؟

آج گھر میں ایک نیا چہرہ دیکھ کر میں دل پکڑ کر رہ گیا۔ کل ماسی حنیفاں بیمار تھی اور چھٹی مانگ رہی تھی لیکن مسز جیلانی نے کہا کہ اگر چھٹی کی تو پھر پکی چھٹی کرادوں گی، شاید اسی لئے آج اس نے اپنی بیٹی کو کام پر بھیجا تھا۔ کیا مال ہے!! میں تو سوچ رہا ہوں کہ آئندہ حقوق نسواں والی واک میں اس کو "پھٹے پرانے" کپڑے پہنوا کر اس کی تصویر بنواؤں اور اس کا پوسٹر بنے گا تو بہہ جا بہہ جا ہو جائے گی۔ یہ لڑکی میرے بڑے بڑے پھنسے ہوئے کام نکلوا سکتی ہے۔ ماسی کو دس ہزار بھی دے دیا تو وہ خوش ہوجائے گی!

ڈھائی بجے سیمینار سے فارغ ہوکر گالف کلب گیا۔ کلب کے مینیجر نےفون کیا تھا کہ ایس اے فاروقی آئے ہوئے ہیں، پچھلے تین سیمینارز کے بل پھنسے ہوئے تھے۔ ایس اے فاروقی سے مل کر گزارش کی کہ حضور ۳۰ فیصد کافی سے زیادہ ہے، آدھا آپ کو دے دیں گے تو خود گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا!

گرانٹ ملے بھی ایک مہینہ ہوگیاہے۔ پچھلی گرانٹ تو ساری ڈیفنس والے بنگلے کی انٹیرئیر ڈیکوریشن میں لگ گئی تھی۔ اب کیری لوگر بل سے میری بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔سننے میں آیا ہے کہ یہ گرانٹ این جی اوز کے ذریعے خرچ ہوگی۔ بس وارے نیارے ہوجائیں گے۔ پتہ نہیں کون بے غیرت لوگ غیرت غیرت کا شور مچا کر ہمارا چھابہ الٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان پر اللہ کی مار ہو!

آج شام کو جلدی گھر واپس آگیا، مسز جیلانی ایک کاک ٹیل پارٹی پر جانے کی تیاری کررہی تھیں، انہوں نے مجھے ساتھ چلنے کے لئے نہیں کہا، میں بھی یہی چاہتا تھا۔

ماسی حنیفاں کی بیٹی ابھی واپس نہیں گئی تھی!!!!!

سپیمی سازش

عالم اسلام کے عظیم لکھاری (مابدولت) کے خلاف اگرچہ پہلے بھی یہود و ہنود بہت سی ناکام سازشیں کرکے منہ کی کھا چکے ہیں، لیکن میں "کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح"، لہاذا ان کی تازہ ترین سازش میری کردار کشی کی وہ کوشش ہے، جو وہ مجھے "بدنام زمانہ ادویات" خریدنے پر مائل کرکے، کر رہے ہیں۔

چند ایک تحاریر سے شاید ان دشمنان ملت نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ مابدولت بھی رنگیلے (فلمسٹار نہیں!) واقع ہوئے ہیں! حاشا و کلا ایسی کوئی بات نہیں۔ نہ تو میری شکل رنگیلے سے ملتی ہے اور نہ ہی میری طبیعت رنگیلی ہے! مشروبات میں سادہ پانی میرا من بھاتا مشروب ہے۔ منورنجن کے نام پر میں صرف گانے سنتا ہوں، وہ بھی آئی ٹیونز پر۔ زندہ ناچ گانے کا نہ تو شوق ہے نہ اوقات! لیکن دل کا کیا کریں؟ اگر کسی پر آجائے تو کیا گھٹ گھٹ کے مرجائیں اور اظہار بھی نہ کریں، بقول رونا لیلی "مجبور ہیں اف اللہ! کچھ کہہ بھی نہیں سکتے" اور اگر کہہ ہی دیں تو ان بدخواہوں کے دل میں لڈو پھوٹنے لگتے ہیں کہ یہ بندہ تو "دو نمبر" ہے! لہاذا وہ مابدولت کو بدنام کرنے لئے ایسی ادویات بیچنے کی کوشش پچھلے دو ماہ سے کررہے ہیں جو یا تو ہوس پرست خریدیں گے یا "پوشیدہ" بیماریوں میں مبتلا افراد اور دونوں صورتوں میں ہماری ساکھ انتہائی مجروح ہونے کا اندیشہ حقیقی ہے!

پہلی صورت میں محبوبان خوش ادا ہم سے بدظن ہوسکتے ہیں اور دوسری صورت میں مایوس! یہ دونوں آپشن ہمیں قبول نہیں۔ فرض کریں اگر خدانخواستہ ایسی صورت حال پیدا ہو بھی جائے تو ہمارے تین چار ذاتی دوست ہیں جو حکمت میں درک رکھتے ہیں اور رازداری کی ضمانت بھی دیتے ہیں! طب یونانی میں ضمنی اثرات بھی نہ ہونے کےبرابر ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ان سازشی دوستوں کی ادویات کے ضمنی اثرات اظہر من الشمس ہیں!

تو ہم آخری بار اپنے ان سازشی دوستوں کو خبردار کرتے ہیں کہ ہمیں تنگ کرنا بند کردیں ورنہ ۔۔۔۔۔ ہم ایسے ہی روزانہ اپنے ڈیش بورڈ پر آدھا گھنٹہ صرف کرکے ان کے تبصرے ڈیلٹتے رہیں گے!!!!

منیر نیازی ۔ دو پنجابی نظمیں

میری عادت


تھاہ لے کے ای واپس مڑیا جدّھر دا رخ کیتا میں

زہر سی یا اوہ امرت سی سب انت تے جاکے پیتا میں

مینوں جیہڑی دھن لگ جاندی فیر نہ اوس توں ہٹدا میں

راتاں وچ وی سفر اے مینوں دن وی ٹردیاں کٹدا میں

کدے نہ رک کے کنڈے کڈّھے زخم کدے نہ سیتا میں

کدے نہ پچھّے مڑ کے تکیا کوچ جدوں وی کیتا میں
چار چپ چیزاں

بربر جنگل دشت سمندر سوچاں وچ پہاڑ

جیہڑے شہر دے کول ایہہ ہوون اوس نوں دین بگاڑ

اندروں پاگل کردیندی اے ایہناں دی گرم ہواڑ

ایہناں دے نیڑے رہن لئی بڑی ہمت اے درکار

ایہناں دی چپ دی ہیبت دا کوئی جھل نہ سکدا بھار

انٹر نیٹ-عمرو عیار کی زنبیل

بچپن میں کہانیاں سننے کا زیادہ شوق نہیں تھا، البتہ پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ آٹھ آنے والی کہانیاں بہت پڑھیں، جن میں شہزادی اور دیو والی کہانیوں کے علاوہ عمرو عیار کی کہانیاں بہت اچھی لگتی تھیں۔ دل چاہتا تھا کہ میرے پاس بھی کوئی ایسی زنبیل ہو جس میں‌ ہاتھ ڈال کر جو چاہوں نکال لوں! بچپن میں تو یہ خواہش پوری نہیں ہوئی، لیکن اب ہوچکی ہے، انٹر نیٹ کی صورت میں!
میرا پاکستان والے افضل صاحب نے ٹیگ کا سلسلہ شروع کیا تھا ایک دو دن پہلے، مجھے راشد کامران نے ٹیگ کیا ہے، لیجئے حاضر ہیں جوابات!
انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ انٹرنیٹ پر تقریبا آٹھ سے نو گھنٹے صرف ہوجاتے ہیں۔
انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
انگلش کے کسی لفظ پر پھنس جاتا تھا تو ڈکشنری پاس نہ ہونے کی صورت میں بال نوچنے کو جی چاہتا تھا۔
اخبار پڑھنے کی لت تھی۔ روزانہ پبلک لائبریری میں دو سے تین گھنٹے صرف کرتا تھا۔
میوزک کا شوق تھا (اب بھی ہے) جو فارغ وقت کے انتظار میں تشنہ رہتا تھا۔
فکشن کا رسیا تھا، خاص طور پر روسی ادباء کو پڑھنا چاہتا تھا، لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ ان کی کتابیں کہاں سے حاصل کروں؟
اب یہ سب اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ایک جگہ پر بیٹھے ہوئے ہوسکتاہے۔ اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوگی۔۔
کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
فیملی لائف تو ملک چھوڑنے کے ساتھ ہی متاثر ہوگئی تھی، انٹرنیٹ کا اس میں‌کوئی قصور نہیں۔ سوشل لائف میں تو بہت بہتری آئی ہے۔ آن لائن کمیونٹی کی صورت میں اتنے اچھے اور پیارے لوگ ملے ہیں کہ بس کچھ نہ پوچھیں!
اس علت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
میں اسے علت سمجھتا ہی نہیں‌ تو جان کیوں چھڑاؤں گا۔۔۔ ہیں جی۔۔۔ علت تو میری صرف ایک ہے، زبان پھسلنے کی، اس سے جان نہیں‌چھوٹتی!
کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
بالکل نہیں۔۔۔ میں معمول کے مطابق ورزش کرتا ہوں، انٹر نیٹ مجھے بالکل نہیں روکتا۔ ویسے بھی جی تقریبا نو گھنٹے مانیٹر کے سامنے گزارنے کے بعد میرا کمپیوٹر کی شکل دیکھنے کو دل ہی نہیں‌کرتا۔
اور میں ٹیگ کرتا ہوں اب
عمر احمد بنگش ، نازیہ، اسیداللہ، منیر عباسی اور ڈفر اعظم کو

اوبامہ کے نام ”بند“ خط

عالی مقام جناب السید بارک حسین اوبامہ مدظلہ العالی سلمہ

ہاؤڈی!

امید ہے آپ بخیر ہوں گے اور ہماری خیریت بارے منصوبے بنانے میں زوروشور سے مصروف ہوں گے! سب سے پہلے آپ کو "نوبل پیس پرائز" ملنے پر دل کی اونچائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ "پیسنے" میں جو مہارت آپ نے اپنے ابتدائی صدارتی ایام میں دکھائی ہے، وہ قابل صد تحسین ہے۔ اللہ کرے زور "پیس" اور زیادہ۔۔۔

آمدم برسر مطلب۔۔ اس نامے کا مقصد آپ کی توجہ ایک انتہائی اہم معاملے کی طرف مبذول کرانا ہے۔ جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ اس ملک خداداد موسوم بہ پاکستان پر ہمیشہ سے عظیم ریاست ہائے متحدہ کی بالواسطہ حکومت رہی ہے جو وہ اپنے قابل اعتماد لوگوں کے ذریعے چلاتا رہا ہے۔ لیکن حضور والا! آپ کے لوگوں نے پاکستان کے عوام پر بہت ظلم ڈھائے ہیں اور ڈھا رہے ہیں۔ ہمیں یقین کامل ہے کہ اس ظلم کو آپ کی حمایت حاصل نہیں۔ اور وہ یہ کام آپ والا تبار سے بالا بالا ہی کرتے آرہے ہیں۔ آپ بھی چند "ناگزیر وجوہات" کی بناء پر ان سے چشم پوشی کا رویہ اختیار کرتے رہے ہیں جو قطعی طور پر قابل فہم ہے۔ لیکن حضور والا! اب پانی سر سے اونچا ہوتاجارہا ہے۔ ایسا نہ ہو میرے منہ میں خاک۔۔ کہ آپ کو اپنا بوریا بستر یہاں سے گول کرنا پڑجائے اور عظیم ریاست ہائے متحدہ "بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے" کی عملی تصویر بن جائے۔

اس صورتحال کے تدارک کے لئے خاکسار آپ کی خدمت میں ایک تجویز پیش کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ تجویز یہ ہے کہ فورا سے پیشتر پاکستان کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست قرار دے دیا جائے۔ اس طرح پاکستان کے عوام کو بھی وہی حقوق حاصل ہوجائیں گے جو امریکی آئین کے تحت آپ کو حاصل ہیں۔ اس چھوٹے سے قدم سے آپ اتنا لمبا فاصلہ طے کرسکتے ہیں جو پچھلے دس سال "دہشت گردی کے خلاف جنگ"، القاعدہ، طالبان، روشن خیال اعتدال پسندی، جمہوریت، این جی اوز، ریڈ وائن، بلیک واٹر وغیرہ سے بھی طے نہ ہو سکا تھا۔ امریکہ کا تاثر بھی مسلم دنیا خاص طور پر "اسلام کے قلعے" میں اتنا مثبت ہوجائے گا کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ویسے بھی ہم جتنے مرضی نعرے آپ کے خلاف لگاتے رہیں، ویزہ ہمیں امریکہ کا ہی بھاتا ہے۔ اور اگر ویزے کی بجائے گھر بیٹھے گرین کارڈ ہی مل جائے تو اس قوم کی خوشی کا اندازہ لگانے کے لئے آپ کو آئن سٹائن ہونے کی ضرورت نہیں ! دہشت گردی کی جو فیکٹریاں آپ نے اپنے باوردی دوستوں کے تعاون سے قبائلی علاقوں میں لگائی تھیں، ان کی مصنوعات کا رخ بھی چین کی طرف موڑا جاسکے گا جس کی گستاخیوں کی وجہ سے آج کل آپ کی اشرافیہ کی نیند حرام اور ہاضمہ خراب ہورہا ہے!!!

مجھے امید ہے کہ آپ میری معروضات پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے فوری اقدام کریں گے اور اس فددی کو نئی ریاست کے گورنر کے عہدے کے لئے ڈیمو کریٹک پارٹی کا ٹکٹ بھی عنایت کریں گے۔

آپ کا نیاز مند