باقی فنڈا

محبت کے دورے یوں تو اوائل عمری سے ہی پڑنے شروع ہوجاتے ہیں لیکن کچھ حضرات و خواتین کو یہ دورے درمیانی عمر کے آغاز میں شروع ہوتے ہیں اور ان دوروں کی نوعیت، شدید قسم کی ہوتی ہے۔ اکثر حضرات کو یہ دورے زیادہ سے زیادہ دو بچوں اور کم سے کم ایک بچے کا اباجان بننے کے بعد شروع ہوتے ہیں۔ ایک دن نیند سے بیدار ہونے پر انہیں اچانک محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ جو عورت ان کے بچے یا بچوں کی اماں جان ہے، اس سے تو ان کی 'ذہنی ہم آہنگی' ہی نہیں ہے اور اس کے ساتھ تو زندگی کزارنا بڑا ظلم ہے اور یہ ظلم ان پر مسلسل ہورہا ہے۔ لہذا یہ حضرات، اپنی کام کی جگہ جو آفس سے لے کر ہسپتال اور تعلیمی اداروں سے لے کر ثقافتی اداروں تک کہیں بھی ہوسکتی ہے، خوبصورت، قبول صورت یا کم صورت کولیگ کے سامنے اپنی مظلومیت کی داستان، بانداز علامہ راشد الخیری، سنانا شروع کردیتے ہیں۔ جس میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ تو بڑا ہاتھ ہوگیا ہے اوران کی بیوی کم ازکم ایریل شیرون جتنی ظالم تو ہے ہی اگر زیادہ نہیں۔


حالانکہ یہی حضرات شادی کے پہلے تین مہینے اپنی زوجہ کو یہ یقین دلاتے پائےجاتے ہیں کہ 'جانم! اگرتم نہ ملتیں، تو میرا کیا ہوتا؟' اوراسےمحمد رفیع کے گانے عطاءاللہ عیسی خیلوی کی آواز میں سنا کے مرنے کی حد تک بور کرتے رہے ہوتے ہیں۔ اس اچانک کایا پلٹ کی وجوہات نا گفتنی ہیں۔ جن کے ڈانڈے کمینگی سے شروع ہو کر رذالت سے جا ملتے ہیں۔


اس داستان ظلم ہائے زوجہ کے سامعین کی اکثریت بھی اس جال میں پھنس جاتی ہے اور اس سو کالڈ مظلوم کی کہانی پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتی ہے۔ اور یہ سمجھتی ہے کہ اتنا اچھا انسان کیسے ایک ظالم عورت کے ہاتھوں برباد ہورہا ہے۔ اس سے آگے تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اس کہانی کا رخ کدھر کو مڑتا ہے۔


ایسا نہیں ہے کہ اس حمام میں صرف حضرات ہی دھمال ڈالتےہیں۔ خواتین بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ اگر تین چار بچوں کے بعد اماں جان، ونیزہ احمد کی بجائے دردانہ بٹ لگنے لگتی ہیں تو ابا محترم بھی سلمان خان کی بجائے قادرخان ہوجاتے ہیں اور اپنی زوجہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ تب پھران خواتین کو اپنے زمانہ 'طفولیت' کے کزن، کلاس فیلو یا محلے دار یاد آنے لگتے ہیں۔ اور ان سے رابطہ کرنے کی خواہش پیدا ہونے لگتی ہے۔ ایس ایم ایس، ایمیل، فیس بک، ٹوئٹر، چیٹنگ یا سادہ فون کال ہی اس مقصد کو پورا کردیتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ انہیں چار، پانچ بچے تو مل گئے ہیں، محبت نہیں ملی۔ اس 'سوکالڈ' محبت میں پھر وہ کتنا خجل ہوتی ہیں، یہ ایک الگ کہانی ہے۔


دل تو میرا بہت کررہا ہے کہ یہاں میں ایک اخلاقی سبق قسم کی چیزآپ کے سامنے پیش کروں تاکہ ان تمام 'بگڑے' ہوئے حضرات بمعہ خواتین کو کان ہوں اور وہ 'راہ راست' پر آجائیں۔ پر جی سانوں کیہ۔۔۔


جنہاں کھادیاں گاجراں ٹڈھ انہاں دے پیڑ

میرے سوالوں کا جواب دو۔۔۔ دو ناں

الطاف انکل عرف قائد تحریک مزید عرف قائد انقلاب عرف شدید موٹے نے عوامی ریفرنڈم میں سترہ سوال پوچھے ہیں۔ ہم ان سوالوں کے جوابات کے ساتھ حاضر ہیں۔ ان سوالات میں موٹے انکل نے کچھ ایسی ہینکی پینکی بھی کی ہے جو ہم سکول کے دور میں مطالعہ پاکستان کے پرچے میں کیا کرتے تھے۔ مثلا ایک دفعہ ہم نے قائد اعظم کے چودہ نکات کو تئیس نکتوں تک پھیلا دیا تھا۔ ایسا ہی کچھ ان سترہ سوالات میں بھی کیا گیا ہے۔ اس ریفرنڈم میں الطاف انکل کی تحریک کے فاؤنڈنگ فادر عرف مرد مومن مرد حق کے ریفرنڈم کی جھلک بھی نظر آتی ہے کہ اگر آپ اسلامی نظام چاہتے ہیں تو میں اگلے پانچ سال کے لیے صدر ہوں۔۔۔ہیں جی؟

پہلا اور دوسرا سوال اصل میں ایک ہی ہے، جو ہماری چودہ نکات والی تکنیک سے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے کہ فلاں فلاں فلاں ملک میں دہشت گردی کے بعد وہاں کی عوام نے اتحاد وغیرہ کا مظاہرہ کیا تھا جبکہ ہم لڑ وغیرہ رہے ہیں اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کررہے ہیں، جبکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

اصل میں تو یہ سوال ہے ہی نہیں، موٹے انکل کا معمول کا سیاسی پوائنٹ سکورنگ والا بیان ہے۔ جسے وہ ہر واقعہ، سانحے، حادثے پر مقام، نام وغیرہ بدل کے استعمال لیتے ہیں۔ لہذا ہم اس سیاسی بیان پر تو کوئی جواب دے نہیں سکتے۔ صرف شاباش دے سکتے ہیں۔۔۔۔ در شاباش۔۔

تیسرا اور چوتھا سوال بھی ایک بیان ہی ہے جس میں دہشت گردی کے شکار ممالک کے حکمرانوں کے بارے پوچھا گیا ہے کہ کیا انہوں نے ایسے واقعات کے فورا بعد غیر ملکی دورے کئے؟ یا اگر دوروں پر تھے تو منسوخ کرکے واپس آگئے؟

پتہ نہیں جی۔ ہمیں تو یہ پتہ ہے کہ آپ تقریبا بیس سالوں سے غیرملکی دورے پر ہیں۔ جس دن آپ یہاں سے گئے تھے اس دن پیدا ہونے والے بچے آج ماسٹرز کررہے ہیں۔ جبکہ آپ۔۔ زمین جنبد نہ جنبد گل محمد۔۔ بنے ہوئے، وہیں ٹکے ہوئے ہیں۔ اور ہمیں انقلاب کی اشکل دیتے جارہے ہیں۔ خود کھا کھا کے غبارے کی طرح پھول گئے ہیں جبکہ آپ کی انقلابی عوام بھوک سے خود کشیاں کررہی ہے۔ اس کا جواب کون دے گا؟

اگلے سوال میں انہی ممالک کا حوالہ دے کر فوج سے جاری رومانس پر مہر تصدیق ثبت کی گئی ہے کہ کیا انہوں نے فوج کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تھا؟

اس معاملے پر ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ کم ازکم ایک فریق تو ایسا ہے جو کہہ سکتا ہے کہ آپ نے آج تک انہیں لمبا گیڑا نہیں کرایا۔ ایک دفعہ کوشش کی تھی تو ابھی تک ٹکور کررہے ہیں۔ اس کے بعد ماشاءاللہ آپ کا ٹریک ریکارڈ قابل رشک ہے۔ ہمیں تو یہ بھی شک ہورہا ہے کہ بعد از انقلاب، آپ جنرل یحیی خان کو نشان حیدر دینے کی سفارش بھی کریں گے۔ وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے۔۔۔ آہو۔۔

اگلا سوال پھر وہی اٹھانوے فیصد اور دوفیصد کا رنڈی رونا ہے اور فوج سے دست بستہ گذارش ہے کہ انہیں اٹھانوے فیصد کا نمائندہ جانتے ہوئے، دوفیصد کا سربراہ بنادے۔

چند دن پہلے سہ بارہ دو فیصدیوں کے ساتھ وزارتوں کا حلف اٹھا کے ایسا سوال کرنا، موٹے انکل کا ہی حوصلہ ہے۔ لگے رہو موٹا بھائی

یہاں تک آکے میری بس ہوگئی ہے۔ اگلے سارے سوال بھی وہی کروڑوں دفعہ کے دہرائے ہوئے ٹیلیفونک، ٹیلی ویژنک اور اخباری بل شٹ بیانات ہیں۔ جن کو سن سن کے کان پک گئے ہیں بلکہ اب تو رسنے بھی لگے ہیں۔

ہوئے کیوں نہ غرق دریا

دو مئی کو ریڈار بند نہیں تھے۔ پاک فضائیہ


پاک فضائیہ کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو مئی کو ریڈاد بند نہیں تھے بلکہ ہماری آنکھیں بند تھیں۔ کیونکہ 'دوستوں' کی لغزشوں سے چشم پوشی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ویسے بھی آج کل آئی پی ایل جاری ہے تو ریڈار بند کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس موقع پر انہوں نے ریڈار سے براہ راست آئی پی ایل میچ کی جھلکیاں رپورٹرز کو دکھائیں۔


پاکستان کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ نکال دیں گے۔ فردوس عاشق اعوان


وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ نکال دیں گی۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی چونکہ روزانہ منرل واٹر سے منہ دھوتے ہیں لہذا ان کی آنکھیں بالکل صاف ہوتی ہیں تو ان کو نکالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں آنکھیں نکالنے کا تیس سالہ تجربہ ہے۔ میڈیکل کالج میں بھی انہوں نے چار ڈاکٹرز اور تین پروفیسرز کو کانا کیا تھا۔ آپ اگلے روز پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔


چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ رحمن ملک


وزیر داخلہ رحمن ملک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایبٹ آباد کے واقعہ جیسی چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ قائد عوام نے بھی مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہونے پر کہا تھاکہ خدا کا شکر ہے، پاکستان بچا لیا گیا۔ لہذا بھٹو ازم کا تقاضہ ہے کہ ایسی چھوٹی موٹی باتوں پر پریشان نہ ہواجائے۔ ویسے بھی پریشان تو انہیں ہوناچاہیے جنہیں یہاں مستقل رہنا ہے!۔۔


نواز شریف پرسوں سے ایبٹ آباد واقعے پر غور کریں گے۔


مسلم لیگ ن کے ترجمان نے کہا ہے کہ نواز شریف پرسوں سے شروع ہونے والے مسلم لیگ کے اجلاس میں ایبٹ آباد واقعہ پر غور کریں گے اور یہ غور اگلے تین سال جاری رہے گا۔ اس کے بعد پالیسی بیان جاری کیا جائے گا۔


بلا اجازت امریکی آپریشن بری بات ہے۔ پرویز مشرف


مسلم لیگ (۔۔۔۔) کے قائد پرویز مشرف نے کہا ہے کہ امریکیوں کا بلااجازت آپریشن کرنا بری بات ہے۔ اچھے بچے ایسے نہیں کرتے۔ جبکہ ہمارے دور حکومت میں تو ہم ایسے آپریشن کی ذمہ داری خود لےلیا کرتے تھے۔ تاکہ ہمارے دوست شرمندہ نہ ہوں۔ جبکہ موجودہ حکومت میں اتنی اخلاقی جرات ہی موجود نہیں جو ہمارا خاصہ ہے۔ آپ لندن میں طبلے کی کلاس سے فارغ ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

بی سی جیلانی اور سرداراں تائی

آج کا دن بہت سی اچھی خبریں لایا۔ میڈم نفیسہ کے فون نے صبح جلد بیدار کردیاتھا۔ انہوں نے خوشخبری سنائی کہ سرداراں تائی کیس کے مردے میں دوبارہ جان پڑگئی ہے۔ 'سفارتخانے' والوں نے آج سہ پہر بریفنگ کے لیے بلایا ہے۔ مزید تفصیلات بارے دریافت کرنے پر میڈم نے فورا اپنے آفس پہنچنے کو کہا۔ بیگم رات پتہ نہیں کس وقت آئی تھیں، لہذا دھت سورہی تھیں۔ میں تیار ہوا، کافی پی اور میڈم نفیسہ کی طرف جانے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔

میڈم کے آفس میں رپورٹرز کا جھمگٹا لگا ہوا تھا۔ چینلز والے اپنے مائیک ان کے منہ میں گھسیڑنے کی لگاتار کوشش کررہے تھے۔ میڈم، حقوق نسواں پر دھواں دھار تقریر کررہی تھیں جو لائیو ٹیلی کاسٹ ہورہی تھی۔ انہوں نے مولویوں، سپریم کورٹ، مردوں، اسلام، غرض سب کو حسب توفیق کھری کھری سنائیں۔ میں چپکا ہوکے ایک کونے میں کھڑاہو گیا۔ آدھ پون گھنٹے کے بعد جب سب رپورٹرز سموسے، پیسٹریاں، پیٹیز اڑانے کے بعد انٹا غفیل ہوئے پڑے تھے تو میڈم نے مجھے اشارے سے ریسٹ روم میں آنے کو کہا۔

ریسٹ روم کا دروازہ اندر سے بند کرکے میڈم نے ایک گہری سانس لی اور آرام کرسی پر نیم دراز ہوتےہوئے مجھ سے کہا کہ الماری سے بوتل اور گلاس نکالوں۔ میں نے دو گلاس بنائے اور میڈم کی کرسی کے سامنے دھری کاؤچ پر بیٹھ گیا۔

۔۔"جیلانی، ہماری ایک دفعہ پھر لاٹری لگ گئی ہے"۔ میڈم نے اپنی بھینگی آنکھوں کو نشیلی بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔ "بہت عرصے سے ڈرائی سپل چل رہا تھا۔ لگتا ہے خدا نے ہماری سن لی ہے۔ سفارتخانے والے بھی بڑے اتاؤلے ہورہے ہیں۔ کل سے یاددھانی کے دس فون آچکے ہیں۔ جیلانی ۔۔۔۔ وی ول میک آ فارچون آؤٹ آف اٹ۔۔۔"۔ میڈم نے ایک سسکاری لی اور آنکھیں موند لیں۔

خوشی کے مارے میری تو بھوک ہی اڑگئی تھی۔ لنچ بھی ہلکا پھلکا کیا۔ یعنی دو بگ میک پلس لارج فرائز۔ تین بجے ہم سفارتخانے جانے کے لیے نکلے۔ اب تو "سفارتخانے" جانا ایسا لگتا ہے جیسےہم محاذ جنگ پر جارہے ہوں۔ جگہ جگہ مورچے اور ان سے جھانکتی بندوقوں کی نالیاں۔ سکیورٹی کے نام پر آدھا گھنٹہ پہلے کتوں نے اور پھر بندوں نے ہمیں سونگھ کر کلیر کیا۔ کانفرنس روم میں شہر کی تمام نیک نام این جی اوز کے نمائندے موجود تھے۔ عالی پناہ نے بریفنگ کا آغاز کرتے ہوئے سرداراں تائی کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا اور اس امر پر گہری خوشی اور مسرت کا اظہار کیا کہ خداوند کی مہربانی سے ایسا فیصلہ آیا ہے جس پر ہم اپنا لُچ بآسانی تل سکتے ہیں۔

انہوں نے فردا فردا سب کو ٹاسک سونپے۔ میڈم اور میں چونکہ یک جان دو قالب سمجھے جاتے ہیں۔ لہذا ہم دونوں کے سپرد ایک ہی ٹاسک کیا گیا۔ جس میں اس فیصلے کی آڑ لے کر مستقل اہداف پر گولہ باری جاری رکھنا شامل تھا ۔ میرے ذمے پرنٹ میڈیا آیا اور میڈم کے حصے الیکٹرانک۔ عالی پناہ نے گائیڈ لائن دیتے ہوئے فرمایا کہ جیسے چائلڈ لیبر صرف وہ ہوتی ہے، جہاں پندرہ سولہ سال کے بچے کسی فٹ بال بنانے والی فیکٹری میں کام کریں اور اچھے پیسے کمائیں۔ جو سات آٹھ سالہ بچے ہمارے گھروں میں چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں اور روٹی کپڑے کے علاوہ کبھی کبھار دو تین سو روپے ترس کھا کے انہیں دئیے جاتے ہیں، وہ چائلڈ لیبر میں نہیں آتے، بلکہ ان کا شمار صلہ رحمی اور انسانیت کے احترام وغیرہ میں ہوتا ہے۔ اسی طرح سزائے موت اگر قاتل کو ملے تو غیر انسانی اور وحشیانہ سزا ہے اور اگر سرداراں تائی کیس میں ملوث ملزمان کو نہ ملے تو یہ ناانصافی اور انصاف کا قتل سمجھا جائے گا۔

بریفنگ کے اختتام پر سب کو حفط مراتب اور خدمات کے لحاظ سے گرانٹس کے چیک دئیے گئے۔ عالی پناہ کے سیکرٹری نے مجھے بلجیم میں ہونے والی کانفرنس کا دعوت نامہ اور ریٹرن ٹکٹ بھی دئیے۔ یہ کانفرنس، اسلامی معاشرے میں عورت کا کردار اور مردوں کی بے کرداری کے موضوع پر ہورہی ہے۔

بریفنگ سے واپسی پر شام ڈھل چکی تھی۔ میں نے گاڑی کلب کی طرف موڑلی۔ آخر اتنے اچھے دن کے اختتام پر جشن تو ہونا ہی چاہیے تھا۔

محبت کا فنڈا

اپنے فیض صاحب نے فرمایا تھا کہ ؂ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔۔۔۔ لیکن ان کی اس گذارش پر لوگوں نے کوئی دھیان نہیں دیا بالکل ویسے ہی جیسے ان کے انقلاب کو یار لوگ گویوں کے حوالے کرکے مطمئن ہوگئے تھے۔بچپن سے پچپن بلکہ اب توستر پچھترتک بھی ہر دوسرا بندہ اس مرض کا شکار ہے۔ اگلے وقتوں میں یہ بیماری، دوسرے امراض مخصوصہ کے ساتھ صرف جوانی سے مخصوص سمجھی جاتی تھی، یا کم ازکم بیان ایسا ہی کیا جاتا تھا۔ لیکن اب یہ حال ہے کہ بغیر نیکر کے گھومنے والے صاحبزادے بھی محبت محبت کی گردان کرتے ہیں اور محبوب نہ ملنے پر زندگی برباد ہونے کی چتاونی دیتے پائے جاتے ہیں۔


ہماری ناقص سمجھ میں تو یہ آیا ہے کہ ہم نے محبت اور ضرورت کو گڈ مڈ کردیا ہے۔ جسے آج کل محبت کے نام سے پروموٹ کیا جارہا ہے اور اس کا باجا، پرانے زمانے کی باراتوں میں بجنے والے بینڈ باجے کی طرح بجایا جاتا ہے، وہ ضرورت ہی ہے۔ جیسے کھانا ضرورت ہے، پینا ضرورت ہے، سونا ضرورت ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اب جو حضرات و خواتین، محبت میں ملاپ نہ ہونے پر زندہ نہ رہنے کے ارادے ظاہر کرتے ہیں، بقول خاور، انہوں نے شجر ممنوعہ کا پھل نہیں چکھا ہوتا اور اس فرسٹریشن یا ضرورت پوری نہ ہونے پر وہ مایوسی کے عالم میں ایسی درفنطنیاں چھوڑتے رہتے ہیں۔ اور ویسے بھی "محبت"کی شادی میں محبت، ولیمے کے تنبو اکھڑنے تک ہی رہتی ہے۔


اس سارے ڈفانگ میں شاعروں کا کردار کسی بی جمالو سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے جدائی، فراق، وفا، جفا، نا رسائی وغیرہ کے ایسے ایسے مضمون باندھے ہیں اور انہیں ایسے گلوری فائی کیا ہے کہ ہر دوسرا ضرورت کا مارا، خود کو محبت کی کلاسیکی مثال سمجھ کر آہیں بھرتا اور تارے گنتا پھرتا ہے۔ جبکہ بات بڑی سادہ اور سیدھی ہے جو ہمیں پرائمری میں ہی سمجھا دی گئی تھی کہ انگور کھٹے ہیں۔ ایسے تمام حضرات جو "محبت" میں ناکامی یا "سادہ" لفظوں میں نارسائی کے ڈسے ہوئے ہیں ۔ ان کو ہمارا مفت مشورہ ہے کہ جتنی جلد ہوسکے، ضرورت پوری کرنے کا بست وبند کرلیں۔ ہمارا ووٹ قانونی اور شرعی طریقے کے حق میں ہی ہے۔ انشاءاللہ ولیمے کا کھانا لگنے سے پہلے ہی ان کے مرض "محبت"کا شافی و کافی علاج ہوجائے گا۔


آج تک محبت کا لفظ اتنی دفعہ لکھا نہیں گیا ہوگا ، جتنی اس کی تعریفیں یا ڈیفی نیشنز کی گئی ہیں۔ ان میں ایک ہماری تعریف بھی ہے جس کے مطابق ۔۔"اصلی تے سُچی محبت وہ ہوتی ہے، جو ضرورت پوری ہونے کے بعد ہو"۔ اب اس کی تشریح آپ خود کرتے رہیں!۔۔

ظلمی قورمہ

ایک دوست کی پرزور اور کھڑکی توڑ فرمائش پر آج ایک اور ترکیب حاضر خدمت ہے۔ اگرچہ ہم نے اپنے دسترخوان کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا کہ اپنے تئیں ہم ایک عظیم ادیب اور مصنف ہوچکے ہیں لہذا ایسی تحریروں کو ہم اپنے شایان شان نہیں سمجھتے تھے، خیر چھوڑئیے، یہ تو ایک جملہ معترضہ ہے، جو ہم نے اپنی شان میں بیان کیا ہے۔


یہ ترکیب، آریاؤں سے ایک تاریخی انتقام کی حیثیت بھی رکھتی ہے کیونکہ دروغ بر گردن راوی، انہی حضرات نے ہم دراوڑوں کو پلاؤ، قورمے کی علتیں لگائی تھیں۔ جبکہ عیش کوش والے بابر نے ہم پر یہ پھبتی کسی تھی کہ یہ عجیب لوگ ہیں، جو اناج کے ساتھ اناج کھاتے ہیں۔ کیونکہ اعلی حضرت نے کسی کو دال کے ساتھ روٹی کھاتے دیکھ لیا تھا۔ اس واقعے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عام لوگوں کی قسمت میں ہمیشہ دال روٹی ہی ہوتی ہے۔ چاہے جتنے مرضی انقلاب آجائیں۔۔۔ ہیں جی۔


ترکیب کے اجزاء نوٹ کرلیں۔


کھیرے (تین پاؤ، دو چھٹانک)۔


کدو (ساڑھے تین کلو)۔


مولی (ایک کلو)۔۔


کریلے نیم چڑھے (دو کلو)۔


مونگ کی دال (حسب ذائقہ)۔


پانی (حسب ضرورت)۔


یہ قورمہ، بہت آسانی سے تیار ہوجاتا ہے۔ روایتی قورمے کی طرح اسے پکانے کے لیے راکٹ سائنس سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ بڑے سارے پتیلے کو پانی سے بھرلیں اور چولہے پر چڑھادیں۔ سارے اجزاء بھی پتیلے میں ڈال دیں۔ ایک ابال آنے پر آنچ ہلکی کردیں اور ساری رات اسی آنچ پر پکنے دیں۔ نمک مرچ اور کسی بھی قسم کا مصالحہ ڈالنے کی جرات نہ کریں۔ صبح دم پتیلے کا ڈھکن اٹھائیں گے تو ایسی خوشبو استقبال کرے گی کہ ۔۔۔ آہو۔


یہ ڈش متنوع خصوصیات کی حامل ہے۔ لیچڑ مہمانوں سے چول سسرالیوں تک سب کو کفایت کرتی ہے۔ اگر کہیں سے کوئی خالص آرین پیس مل جائے تو اسے بھی یہ کھانے پر مجبور کرکے اس کے آباؤ اجداد کے ظلم و ستم کا بدلہ کسی حد تک لیا جاسکتا ہے۔


وہ خواتین، جو بھینسوں کو شرماتی ہیں اور سلمنگ سنٹرز والوں کے وارے نیارے کرواتی ہیں، ان کے شوہروں کے لیے بھی یہ تیر بہدف نسخہ ہے۔ اس ڈش کو ایک دفعہ کھانے کے بعد کم ازکم چھ دن تک کچھ اور کھانے کی حاجت یا خواہش نہیں رہتی۔ تو ڈبل فائدہ ہوسکتا ہے۔ ایک تو خاتون دوبارہ بھینس سے بکری کی صورت میں آجائیں گی اور سلمنگ سینٹرز پر برباد کیا جانے والا پیسہ، بھی بچنے کا واضح امکان ہے۔ آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔۔۔

حق گوئی و بے باکی

آپ گھمًن صاحب کو دیکھ لیں۔ کل رات انہوں نے مجھے کال کیا۔ گھمًن صاحب کی آواز بھرًائی ہوئی تھی۔ انہوں نے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو میرے دوست ہیں۔ آپ کو میرے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا۔ اور اس دوستی کا لحاظ رکھنا چاہیے تھا۔


میں نے ایک گہرا سانس لیا۔ فون دائیں کان سے ہٹا کر بائیں کان پر رکھا اور کھنکھار کرگلا صاف کیا اور یوں گویا ہواکہ یہ ٹھیک ہے، آپ میرے دوست ہیں۔ آپ نے ہر موقعہ پر میرا ساتھ دیاہے۔ مجھے وہ دن بھی نہیں بھولا جب آپ نے میرے بڑے بیٹے کے ختنوں پر بہترین مجرے اور سائیڈ پروگرام کا اہتمام کیاتھا۔ ہر ہفتے آپ کی طرف سے بکرے کی سالم ران، مرغ، پلا مچھلی کی فراہمی بھی کبھی بند نہیں ہوئی۔ یہ سب احسان اپنی جگہ، لیکن گھمًن صاحب، ہم سب کی دوستیاں، یاریاں، تعلق یہ سارے پیٹ کے دم سے ہیں۔ اگر پیٹ میں ہی کچھ نہیں جائے گا تو کہاں کی دوستی اور کہاں کا تعلق؟ گھوڑا، گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟ یہاں پہنچ کر میں نے ذرا دم لیا۔ پانی کا گلاس اٹھا کر دو گھونٹ لیے اور دوبارہ یوں گویا ہوا۔


اس واقعہ کے بعد آپ نے پہلے کی طرح مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ نہ کوئی سیبوں کی پیٹی، نہ کیلوں کا لونگر، نہ دیسی گھی کے ٹین اور نہ بکرے کی رانیں۔ آپ نے بالکل مجھے بھلادیا۔ حتی کہ پچھلے مہینے آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی کوئی نئی گاڑی پکڑی گئی، وہ سپردداری پر مجھے دیں گے۔ میں نے یاددھانی کے کتنے فون کیے لیکن ہمیشہ یہی سننے کو ملا کہ صاحب مصروف ہیں۔ گھمًن صاحب، آخر کب تک یہ میں یہ یک طرفہ ٹریفک چلاتا رہوں گا۔ میرے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ جو ایک عدد بیوی نے پیدا کئے ہیں۔ جن کی ضروریات پوری کرنا مجھ پر فرض ہے۔ اگر میں پھوکے تعلق ہی نبھاتا رہا تو آپ خود ہی بتائیے، کہ بیوی کو کیا منہ دکھاوں گا؟ یہاں تک پہنچتے پہنچتے میری سانس پھول چکی تھی۔ غصے سے میرا رنگ آتشی گلابی ہوچکا تھا۔ میں نے پانی کا ایک گھونٹ پیا، دس تک الٹی گنتی گنی جو چار پر جا کر بھول گیا لہذا دوبارہ گنی۔


گھمًن صاحب نے میری بات کاٹی اور کہنے لگے کہ آپ کے سارے گلے بجا ہیں۔ میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔ اس واقعے میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ تاجے حوالدار کو لاکھ دفعہ سمجھایا ہے کہ چھوٹے موٹے ریڑھی والوں سے مفت بری نہ کیا کر۔ لیکن وہ سمجھتا ہی نہیں۔ اور میرا نام لے کر ان کی گنڈیریاں چوپ جاتا ہے اور گول گپے کھا جاتا ہے۔ اور نام میرا بدنام ہوتا ہے۔ آپ تو مجھے جانتے ہی ہیں کہ میں کبھی چھوٹا ہاتھ نہیں مارتا۔ آج تک اللہ کے فضل سے کبھی دس ہزار سے کم رقم نہیں پکڑی۔ لہذا اس واقعے میں، میں بالکل بے قصور ہوں۔ جو بھی ہوا، میری لاعلمی میں ہوا اور میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔


گھمًن صاحب کی آواز میں مجھے سچائی محسوس ہوئی۔ مجھے ایسا لگا کہ یہ سارا وقوعہ ان کی لاعلمی میں پیش آیاہے اور وہ بالکل بے قصور ہیں۔ اس لیے ان کے خلاف جو بھی پروپیگنڈہ کیا جارہاہے، بالکل غلط اور بے بنیاد ہے!۔

سی ٹی ۔ بی ٹی

سی ٹی: پائین، اب کیا حال ہے آپ کا؟

بی ٹی: شباژ ساب، بہت برا حال ہے۔ دو دن سے ڈاخٹر نے کھانا بند کیا ہوا ہے۔ میں نے اس کو کہا بھی کہ یار میں ٹھیٹرکررہا ہوں، بمار شمار نہیں ہوں، پر شباژ ساب،یہ گورے بڑے سخت ہیں ۔ ڈبل روٹی،آنڈے ہی دیتے جارہے ہیں۔ میں نے ککے بالوں والی نرس کو بھی کہا کہ اگر ہریسہ کھانے کو نہیں دینا تو ٹیکے میں بھر کے ہی لگادے۔ اس پر وہ ہنسنے لگی، جس پر میرا بھی ہاسا نکل گیا جو کہ آپ کو ملوم ہے کہ ہر نازک موقعے پر نکل جاتا ہے۔ ہیں جی۔۔

سی ٹی: پائین، آپ کو سمجھایا بھی تھا کہ پانچ چھ دن کی بات ہے۔ ذرا احتیاط کرلیں۔ ایک تو آپ کو بات کی سمجھ اس وقت آتی ہے، جب سمجھ آنا نہ آنا برابرہوتا ہے۔ حالات بڑے نازک ہورہے ہیں۔ مجھے تو خطرہ ہے اس دفعہ دوتہائی کی بجائے ، عوام نے ہمیں دس فٹ کا ڈنڈا، دوتہائی تک دےدینا ہے۔

بی ٹی: اوہوہوہوہو۔۔۔ ہیں۔۔۔ شباژ ساب، واقعی؟

سی ٹی: نہیں تو پائین آپ کا خیال ہے، میں بوچر ماررہا ہوں ؟ آپ ایک دو دن دلیہ کھائیں تاکہ آپ کے چہرے پر تھوڑی سی نحوست آئے، کیونکہ پرسوں آپ کا ہسپتال سے ایک لائیو انٹرویو چلوانا ہے اور فوٹو سیشن بھی کروانا ہے۔

بی ٹی: اچھاجی۔ پر اس کے بعد میں نے فل ٹشن پروگرام روٹی کھانی ہے۔ میں نے کہہ دیا ہے بس۔ مجھے کوئی نہیں پتہ پُتہ۔۔ ڈاخٹرسے میں نےپوچھا کہ لسی پی لوں تو اس نے کہا کہ بیئر پی لو۔نشہ ہی کرنا ہے۔۔۔ لو دسّو بھلا۔ یہ انگریز بھی جگتیں کرنے لگے ہیں ۔ مجھے لگتا ہے کہ ڈاخٹر یوٹیوب پر امان اللہ کے ڈراموں کے کلپ دیکھتا رہتا ہے۔ میں نے پیجے کو کہا کہ انگلش میں اس کو تین چار جگتیں لگا تاکہ اس کے ہوش ٹھکانے آئیں۔

سی ٹی: پائین ، خدا کا خوف کریں ، ادھر میری تشریف بنیرے کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور آپ کو جگتوں اور لسیوں کے سوا کچھ نہیں سوجھ رہا۔ بس ایک دو دن کی بات ہے ۔ ایک فل ٹیٹ ہسپتالی فوٹو سیشن ہوجائے۔ اس کے بعد جو دل میں آئے، کھائیں۔ جیدے، فانے، کیدو وغیرہ سب کو لفافے اور بریفنگیں دے آیا ہوں۔ ادھر تصویریں چھپنی ہیں ادھر نیر سلطانہ ٹائپ جذباتی کالم چھپ جانے ہیں۔ بس اسی رولے گولے میں ریمنڈ پائین کا رولا ، گول ہوجانا ہے۔

بی ٹی: واہ جی واہ شباژ ساب۔آپ کا کیا ڈماک چلتا ہے۔ آہاہاہاہا۔۔۔لیں یہ سیب کھائیں۔

سی ٹی: پیجا کہہ رہا تھا کہ ایم ٹی کا فون آیا تھا۔ طبیعت پوچھنے کے لیے؟ کیا بات ہوئی؟

بی ٹی: یار، ایک تو شباژ ساب، اس کی سمجھ ہی نہیں لگتی۔ اتنی اونچی آواز میں بول رہا تھا کہ مجھے ٹیلیفون کی بجائے اس کی آواز روشندان سے آرہی تھی۔ میں نے اس کو کہا بھی کہ طیفا جی ابھی تو دو بجے ہیں دن کے، فون پر اونچا بولنے کا ٹیم ابھی کافی دور ہے۔ پر یار وہ کسی کی سنتا ہی نہیں ۔ پتہ نہیں کیا کیا بولی جارہا تھا۔ رویا بھی تھا بیچ میں۔ شاید اس کے ڈاخٹر نے اس کا شربت بند کردیا ہے۔ میں بھی ہاں ہاں کرتارہا۔ بعد میں ککے بالوں والی نرس نے میرے کانوں میں گرم تیل ڈالا تو فیر ذرا کانوں کو سکون ہوا۔۔ہیں جی۔۔۔

ایمان، لوٹا اور بلاگ

چچا نے”وفاداری بشرط استواری“ کی شرط کو ایمان کے اصل ہونے کی بنیاد بتایا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ استواری ختم ہوجائے تو وفاداری کی شرط بھی ساقط ہوجاتی ہے۔پس ثابت ہوا ، ہمارا ایمان ابھی تک ثابت و سالم ہے ۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ دوسال کی استواری اب ختم ہوچکی ہے لہذا ہم بھی وفاداری بدلتے ہوئے پرانا ٹھکانہ چھوڑ نئے ٹھیّے پر آبیٹھے ہیں۔ عبدالقدوس میاں کے بازار میں ہمیں جگہ مفت ملی تھی تو ہم نے اپنی ”ہٹّی“ وہاں کھول لی تھی۔ اب چونکہ عملہ تہہ بازاری نے اس ہٹّی کو ناجائز تجاوز (بھلا تجاوز کبھی جائز بھی ہوا کرتا ہے؟) قرار دیا ہے تو ہم بھی اپنا منجی بسترہ اٹھا کر وہاں سے کوچ کرآئے ہیں۔ وہ تو ہمارے چند مہربانوں کی لگاتار و مسلسل نصیحتوں نے کام کردکھایا اور ہم نے اپنا بلاگی اندوختہ وقتا فوقتا محفوظ کرنا شروع کردیا ورنہ آج ہم بھی اس بازار کے متاثرین کی اکثریت کی طرح ہاتھ مل رہے ہوتے۔

وہاں سے یہاں منتقل ہونے پر شاید چند مہربان ہم پر لوٹا ہونے کی پھبتی بھی کسیں، کستے رہیں، کیونکہ منجی اور پھبتی وقتا فوقتا کستے رہنا چاہیے ورنہ ڈھیلی ہو کر دونوں نہایت پھسپھسی ہوجاتی ہیں۔

اس جگہ پر منتقلی میں سب سے زیادہ کوشش اور محنت ہمارے قابل صد احترام (ھی ھی ھی) دوست جناب ڈاکٹر عمر احمد بنگش کی ہے۔ جنہوں نے اس جگہ کو ہمارے لیے سنوارا اور اس قابل بنایا کہ آج ہم آپ سے مخاطب ہورہے ہیں۔ جس کے لیے ہم ان کے بالکل بھی شکر گزار نہیں ہیں کیونکہ یہ تو ان کا فرض تھا۔ ہمیں امید واثق ہے کہ ہمارے دوست مستقبل میں اس قسم کی حرکت کرنے سے پہلے ایک دفعہ ضرور سوچیں گے !۔

آخر میں ہم اردوسیارہ کی انتظامیہ سے دردمندانہ اور پرسوز اپیل نما التجا / درخواست کرتے ہیں کہ ۔۔۔ دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔۔۔۔ یعنی ہمارا بلاگی پتہ اپ ڈیٹ کردیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔

جدید محاورے

قارئین کو یاد ہوگا یا شاید نہ یاد ہو کہ ہم نے محاورات بارے ارشاد کیا تھا کہ ان میں دور جدید کے تقاضوں کے مد نظر ترمیمات کی جائیں گی۔ حسب وعدہ اس سلسلے کی پہلی قسط حاضر خدمت ہے۔ اگرچہ صدر پاکستان کے ارشاد کی روشنی میں ”وعیدے “ پورے کرنا چنداں ضروری نہیں لیکن ہم ادھار دینے کے وعدے کے علاوہ ہر قسم کے وعدے پورے کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

ہمارے آئندہ ارادوں میں وچکارلی صرف و نحو، ریاضی، طبیعیات، کیمیاء وغیرہ پر طبع آزمائی کرکے قارئین کی قوت برداشت بڑھانا شامل ہے۔

مان نہ مان، تو منافق تے بے ایمان

وہ کریں تو ڈانس، ہم کریں تو مجرا

بلاگ، بکواس کی ماں ہے

جہاں جا، وہاں ٹھاہ

پرائے پھڈّے میں بارہ سنگھاپھٹّڑ

جاہل کیا جانے تُننے کا سواد

بلاگ لکھتے ہی پَولے پڑنا

جس کی ٹی ٹی اس کا موبائل

ایک ٹھرکی پورے بلاگ کو گندا کردیتا ہے

تجھ کو اپنی کیا پڑی پرائی نبیڑ تو

کاپی کر بلاگ پہ ڈال

یعنی کہ میں

میں جب مشرقی یورپ اور انٹارکٹیکا کے سفر سے واپس آیا تو سفرنامہ لکھنے کا سودا میرے سر میں سمایا۔ میں نے ستّر صفحات کا مختصر سا سفر نامہ لکھا اور ٹائم کو بھیج دیا۔ میری تحریر وہ پہلی اور آخری اردو تحریر تھی جو اس میں چھپی۔ پہلی چار سو اقساط تو انہوں نے بنا کسی قطع و برید کے چھاپ دیں جبکہ آخری تین سو سینتالیس اقساط میں انہوں نے علمی خیانت کا ثبوت دیتے ہوئے بنا کسی اطلاع کے بدترین قسم کی قطع و بریدکی۔
مثلا میں نے اپنا سارا سفر اپنے ذاتی جیٹ میں کیاتھا، جو کھیت، ندی، سڑک الغرض ہرجگہ سے ٹیک آف بھی کرسکتا ہے اور اتر بھی سکتا ہے۔ لیکن ٹائم کے ادارتی عملے نے لکھ دیا کہ میں نے معمولی سے ہیلی کاپٹر میں یہ سارا سفر کیا۔ اس وقت میں نے سوچا کہ میرے سفر نامے کے قارئین کیا سوچتے ہوں گےاور میرا تاثر ان کے ذہن میں کیسا بنا ہوگا؟ اس کے علاوہ بھی بہت سی زبان و بیان کی اغلاط تھیں جو کہ شروع کی اقساط میں نہ تھیں۔ اس سے کوئی بھی یہ تاثر بھی لے سکتا ہے کہ میں نے شروع کی اقساط کسی اور سے لکھوائی ہیں۔
ان وجوہات کی بنا پر میں نے اپنے اگلے سفرنامے کو کسی بھی جریدے میں نہ چھپوانے کا تہیہ کیا۔ یہ سفر چوہڑ کانے، اگوکی، سکھیکی، کانا کاچھا وغیرہ کے تھے۔ انہی دنوں میرے ایک جاننے والے نے اس سفرنامے کے مسودے کو دیکھا اور کہا کہ اگر آپ اس کو کہیں اور چھپوانا نہیں چاہتے تو اپنا بلاگ بنالیں۔ تب تک مجھے اردو بلاگنگ کا پتہ نہیں تھا۔ ان کے اس مشورے پر میں نے اردو بلاگنگ کے کی ورڈ سے گوگل پر سرچ کیا تو پتہ چلا کہ اردو میں بھی بلاگنگ ہورہی ہے۔ لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ نہایت غیر معیاری، ناقص، گھٹیا ہے اور اردو بلاگرز میں اکثریت وچکارلے بازو کے نظریات سے تعلق رکھتےہیں۔
تب میں نے سوچا کہ میں یہاں مثبت اور انقلابی تبدیلی لاسکتاہوں۔ بس یہی سوچ کر میں نے بلاگنگ شروع کی۔

مزید قاعدہ

ہمیں احساس ہے کہ یہ قاعدہ اسی طرح آرہا ہے، جیسے اچھے دن آتے ہیں۔۔۔ یعنی ہولے ہولے، جبکہ ایکدم اور یکایک تو حادثہ ہی ہوتا ہے۔ حادثے سے یاد آیا کہ یہ خوشگوار بھی ہوتے ہیں، جیسے نظروں (نظریوں کا نہیں) کا تصادم، دلوں کا ٹکراؤ وغیرہ وغیرہ۔۔ بہرحال حادثے ہمارا موضوع نہیں ہیں۔ ہمارا موضوع ہے وچکارلا قاعدہ، تو چلیے مزید قاعدہ پڑھتے ہیں۔

ر ۔۔۔ رشتہ دار: یہ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے کوئی دل جلا ہم سے پہلے ہی کہہ گیا ہے کہ ۔۔۔ ہوئے تم ”دوست“ جس کے، اس کا دشمن آسماں کیوں ہو۔۔ انہیں آپ اپنی ہر خوشی کے موقع پر بسورتے اور دکھ کے موقع پر کھلکھلاتے دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے بارے جو بات سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ جیتے جی یہ آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتے! ایک بات یہ بھی ذہن میں رہے کہ اگر آپ کے رشتے دار ہیں تو آپ بھی کسی کے رشتے دار ہیں۔

ڑ۔۔۔ یہ لفظ صرف اور صرف اندرون لاہور بسنے والے باشندوں کی سہولت کے لیے اردو میں شامل کیا گیا تھا وگرنہ اس کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ اندرون بھاٹی، جہانگیر بدر، جہانگیڑ بدڑ ہوجاتا ہے، کرارے، کڑاڑے ہوجاتا ہے، لڑائی، لرائی ہوجاتی ہے۔۔۔ علی ہذا القیاس۔۔۔

ز۔۔۔ زُہد: پرانے وقتوں میں لوگ اس سے باطنی صفائی کا کام لیا کرتے تھے اور اس پر عمل کرنےو الے کو زاہد کہتے تھے۔ آج کل کے زاہد، جدید زُہد سے دوسروں کی دھلائی کا کام لیتے ہیں۔

ژ۔۔۔ یہ لفظ صرف ہمیں شرمندہ کرنے کے لیے حروف تہجی میں داخل کیا گیا ہے۔ کچی کے قاعدے میں ژ سے ژالہ باری پڑھا تھا۔ قسم لے لیں جو آج تک ژ سے شروع ہونے والا کوئی دوسرا لفظ سنا یا پڑھا ہو، کانسپریسی پکوڑوں سے لگاؤ ہمیں یہ بات سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ دور قدیم میں ہی ہمارا کوئی حاسد پیدا ہوچکا تھا جو کسی کالے یا نیلے جادو کے زور سے یہ معلوم کرچکا تھا کہ ہم اوائل شباب میں اردو کا ایک وچکارلا قاعدہ لکھیں گے، لہذا اس نے بوجہ حسد و دشمنی یہ حرف تہجی، اردو حروف تہجی میں شامل کروادیا۔ تاکہ ہم پورے بلاگستان کے سامنے شرمندہ ہوں اور اس کا دل اس زمانی بُعد کے باوجود ٹھنڈا ہو۔ لیکن شاید اس کا طلسمی آئینہ اسے یہ بات بتانا یا دکھانا بھول گیا تھا کہ۔۔۔۔ ہم نہایت ڈھیٹ ہیں۔۔۔ ہیں جی۔۔۔۔ اور حاسد دیرینہ کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ ۔۔۔ ہور چُوپو۔۔۔

س۔۔۔ سیب: زمانہ قدیم کے حکماء و اطباء کہا کرتے تھے کہ ایک سیب روزانہ کھانے سے بیماریاں دور رہتی ہیں۔ آج کل ریڑھی والے سے سیب کے دام پوچھے جائیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس نے ایک کیلو کے دام بتائے ہیں یا ریڑھی پر پڑے سارے سیبوں کے۔ مزید استفسار پر ریڑھی والا، آپ کو ایسی نظروں سے دیکھتا ہے، جیسے مل اونر کی بیٹی کا رشتہ مانگنے والے کلرک کو مل اونر دیکھتا ہے۔

ش ۔۔۔ شاعر: ان حضرات کا پول انہی کے ایک بھائی بند نے ایسے کھولا ہے کہ ۔۔ پاپوش میں لگادی، کرن آفتاب کی ۔۔۔ جو بات کی، خدا کی قسم لاجواب کی۔ شاعری، فنون لطیفہ کی اماں جان کہی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے خیال میں تو شاعری، سائنس اور اس میں بھی ریاضی اور فزکس کی مشترکہ شاخ ہے۔ جس میں وزن پورا کرتے کرتے بندے کا وزن کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ شاعر حضرات کو رکشہ ، رشتہ اور ملازمت بڑی تگ ودو کے بعد ملتے ہیں۔ جن کو پھر بھی نہ ملیں، وہ مزید شاعر ہوجاتے ہیں۔

ص۔۔۔ صراحی: خواتین کے رسالوں میں صراحی دار گردنوں کا اتنا ذکر ہوتا ہے کہ یہ کہانیاں، کمہاروں کی لکھی لگتی ہیں۔ صراحی کی گردن تک تو بات قابل فہم ہے لیکن ہم یہ سمجھنے سے ہمیشہ قاصر رہے کہ اس کے نچلے حصے سے مصنف حضرات کی کیا دشمنی ہے کہ اس سے کسی کو تشبیہ نہیں دیتے؟ جبکہ حضرات و خواتین کی اکثریت تیس کے بعد صراحی جیسی ہی نظر آنے لگتی ہے۔ صراحی زیادہ تر مغل آرٹ کے فن پاروں میں نظر آتی ہے، جہاں سٹارپلس کے ڈراموں کی ساڑھیوں سے بنے ہوئے لباس پہنے ایک عجیب الخلقت شخص، صراحی سامنے رکھے، عورت نما چیزوں کو گھورتا پایا جاتا ہے۔