سپیمی سازش
چند ایک تحاریر سے شاید ان دشمنان ملت نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ مابدولت بھی رنگیلے (فلمسٹار نہیں!) واقع ہوئے ہیں! حاشا و کلا ایسی کوئی بات نہیں۔ نہ تو میری شکل رنگیلے سے ملتی ہے اور نہ ہی میری طبیعت رنگیلی ہے! مشروبات میں سادہ پانی میرا من بھاتا مشروب ہے۔ منورنجن کے نام پر میں صرف گانے سنتا ہوں، وہ بھی آئی ٹیونز پر۔ زندہ ناچ گانے کا نہ تو شوق ہے نہ اوقات! لیکن دل کا کیا کریں؟ اگر کسی پر آجائے تو کیا گھٹ گھٹ کے مرجائیں اور اظہار بھی نہ کریں، بقول رونا لیلی "مجبور ہیں اف اللہ! کچھ کہہ بھی نہیں سکتے" اور اگر کہہ ہی دیں تو ان بدخواہوں کے دل میں لڈو پھوٹنے لگتے ہیں کہ یہ بندہ تو "دو نمبر" ہے! لہاذا وہ مابدولت کو بدنام کرنے لئے ایسی ادویات بیچنے کی کوشش پچھلے دو ماہ سے کررہے ہیں جو یا تو ہوس پرست خریدیں گے یا "پوشیدہ" بیماریوں میں مبتلا افراد اور دونوں صورتوں میں ہماری ساکھ انتہائی مجروح ہونے کا اندیشہ حقیقی ہے!
پہلی صورت میں محبوبان خوش ادا ہم سے بدظن ہوسکتے ہیں اور دوسری صورت میں مایوس! یہ دونوں آپشن ہمیں قبول نہیں۔ فرض کریں اگر خدانخواستہ ایسی صورت حال پیدا ہو بھی جائے تو ہمارے تین چار ذاتی دوست ہیں جو حکمت میں درک رکھتے ہیں اور رازداری کی ضمانت بھی دیتے ہیں! طب یونانی میں ضمنی اثرات بھی نہ ہونے کےبرابر ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ان سازشی دوستوں کی ادویات کے ضمنی اثرات اظہر من الشمس ہیں!
تو ہم آخری بار اپنے ان سازشی دوستوں کو خبردار کرتے ہیں کہ ہمیں تنگ کرنا بند کردیں ورنہ ۔۔۔۔۔ ہم ایسے ہی روزانہ اپنے ڈیش بورڈ پر آدھا گھنٹہ صرف کرکے ان کے تبصرے ڈیلٹتے رہیں گے!!!!
منیر نیازی ۔ دو پنجابی نظمیں
تھاہ لے کے ای واپس مڑیا جدّھر دا رخ کیتا میں
زہر سی یا اوہ امرت سی سب انت تے جاکے پیتا میں
مینوں جیہڑی دھن لگ جاندی فیر نہ اوس توں ہٹدا میں
راتاں وچ وی سفر اے مینوں دن وی ٹردیاں کٹدا میں
کدے نہ رک کے کنڈے کڈّھے زخم کدے نہ سیتا میں
کدے نہ پچھّے مڑ کے تکیا کوچ جدوں وی کیتا میں
انٹر نیٹ-عمرو عیار کی زنبیل
میرا پاکستان والے افضل صاحب نے ٹیگ کا سلسلہ شروع کیا تھا ایک دو دن پہلے، مجھے راشد کامران نے ٹیگ کیا ہے، لیجئے حاضر ہیں جوابات!
انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ انٹرنیٹ پر تقریبا آٹھ سے نو گھنٹے صرف ہوجاتے ہیں۔
انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
انگلش کے کسی لفظ پر پھنس جاتا تھا تو ڈکشنری پاس نہ ہونے کی صورت میں بال نوچنے کو جی چاہتا تھا۔
اخبار پڑھنے کی لت تھی۔ روزانہ پبلک لائبریری میں دو سے تین گھنٹے صرف کرتا تھا۔
میوزک کا شوق تھا (اب بھی ہے) جو فارغ وقت کے انتظار میں تشنہ رہتا تھا۔
فکشن کا رسیا تھا، خاص طور پر روسی ادباء کو پڑھنا چاہتا تھا، لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ ان کی کتابیں کہاں سے حاصل کروں؟
اب یہ سب اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ایک جگہ پر بیٹھے ہوئے ہوسکتاہے۔ اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوگی۔۔
کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
فیملی لائف تو ملک چھوڑنے کے ساتھ ہی متاثر ہوگئی تھی، انٹرنیٹ کا اس میںکوئی قصور نہیں۔ سوشل لائف میں تو بہت بہتری آئی ہے۔ آن لائن کمیونٹی کی صورت میں اتنے اچھے اور پیارے لوگ ملے ہیں کہ بس کچھ نہ پوچھیں!
اس علت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
میں اسے علت سمجھتا ہی نہیں تو جان کیوں چھڑاؤں گا۔۔۔ ہیں جی۔۔۔ علت تو میری صرف ایک ہے، زبان پھسلنے کی، اس سے جان نہیںچھوٹتی!
کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
بالکل نہیں۔۔۔ میں معمول کے مطابق ورزش کرتا ہوں، انٹر نیٹ مجھے بالکل نہیں روکتا۔ ویسے بھی جی تقریبا نو گھنٹے مانیٹر کے سامنے گزارنے کے بعد میرا کمپیوٹر کی شکل دیکھنے کو دل ہی نہیںکرتا۔
اور میں ٹیگ کرتا ہوں اب
عمر احمد بنگش ، نازیہ، اسیداللہ، منیر عباسی اور ڈفر اعظم کو
اوبامہ کے نام ”بند“ خط
ہاؤڈی!
امید ہے آپ بخیر ہوں گے اور ہماری خیریت بارے منصوبے بنانے میں زوروشور سے مصروف ہوں گے! سب سے پہلے آپ کو "نوبل پیس پرائز" ملنے پر دل کی اونچائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ "پیسنے" میں جو مہارت آپ نے اپنے ابتدائی صدارتی ایام میں دکھائی ہے، وہ قابل صد تحسین ہے۔ اللہ کرے زور "پیس" اور زیادہ۔۔۔
آمدم برسر مطلب۔۔ اس نامے کا مقصد آپ کی توجہ ایک انتہائی اہم معاملے کی طرف مبذول کرانا ہے۔ جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ اس ملک خداداد موسوم بہ پاکستان پر ہمیشہ سے عظیم ریاست ہائے متحدہ کی بالواسطہ حکومت رہی ہے جو وہ اپنے قابل اعتماد لوگوں کے ذریعے چلاتا رہا ہے۔ لیکن حضور والا! آپ کے لوگوں نے پاکستان کے عوام پر بہت ظلم ڈھائے ہیں اور ڈھا رہے ہیں۔ ہمیں یقین کامل ہے کہ اس ظلم کو آپ کی حمایت حاصل نہیں۔ اور وہ یہ کام آپ والا تبار سے بالا بالا ہی کرتے آرہے ہیں۔ آپ بھی چند "ناگزیر وجوہات" کی بناء پر ان سے چشم پوشی کا رویہ اختیار کرتے رہے ہیں جو قطعی طور پر قابل فہم ہے۔ لیکن حضور والا! اب پانی سر سے اونچا ہوتاجارہا ہے۔ ایسا نہ ہو میرے منہ میں خاک۔۔ کہ آپ کو اپنا بوریا بستر یہاں سے گول کرنا پڑجائے اور عظیم ریاست ہائے متحدہ "بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے" کی عملی تصویر بن جائے۔
اس صورتحال کے تدارک کے لئے خاکسار آپ کی خدمت میں ایک تجویز پیش کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ تجویز یہ ہے کہ فورا سے پیشتر پاکستان کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست قرار دے دیا جائے۔ اس طرح پاکستان کے عوام کو بھی وہی حقوق حاصل ہوجائیں گے جو امریکی آئین کے تحت آپ کو حاصل ہیں۔ اس چھوٹے سے قدم سے آپ اتنا لمبا فاصلہ طے کرسکتے ہیں جو پچھلے دس سال "دہشت گردی کے خلاف جنگ"، القاعدہ، طالبان، روشن خیال اعتدال پسندی، جمہوریت، این جی اوز، ریڈ وائن، بلیک واٹر وغیرہ سے بھی طے نہ ہو سکا تھا۔ امریکہ کا تاثر بھی مسلم دنیا خاص طور پر "اسلام کے قلعے" میں اتنا مثبت ہوجائے گا کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ویسے بھی ہم جتنے مرضی نعرے آپ کے خلاف لگاتے رہیں، ویزہ ہمیں امریکہ کا ہی بھاتا ہے۔ اور اگر ویزے کی بجائے گھر بیٹھے گرین کارڈ ہی مل جائے تو اس قوم کی خوشی کا اندازہ لگانے کے لئے آپ کو آئن سٹائن ہونے کی ضرورت نہیں ! دہشت گردی کی جو فیکٹریاں آپ نے اپنے باوردی دوستوں کے تعاون سے قبائلی علاقوں میں لگائی تھیں، ان کی مصنوعات کا رخ بھی چین کی طرف موڑا جاسکے گا جس کی گستاخیوں کی وجہ سے آج کل آپ کی اشرافیہ کی نیند حرام اور ہاضمہ خراب ہورہا ہے!!!
مجھے امید ہے کہ آپ میری معروضات پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے فوری اقدام کریں گے اور اس فددی کو نئی ریاست کے گورنر کے عہدے کے لئے ڈیمو کریٹک پارٹی کا ٹکٹ بھی عنایت کریں گے۔
آپ کا نیاز مند
عشق وشق پیار ویار
میں بڑی مشکل میں پڑگیا ہوں!
سیانےکہتے تھےکہ " علموں بس کریں او یار'' تو ٹھیک ہی کہتے تھے!
عشق ومحبت کی اقسام اور ان کی خصوصیات، جب سے پڑھی ہیں تو میرے دل میں بھی بڑی خواہش اور تمنا پیدا ہوگئی ہے کہ میں بھی عشق کروں، محبت میں مبتلا ہوجاوں اور سیانے لوگوں نے محبت کی تعریفوں کے جو پل باندھے ہیں اور بے شمار صفحات، اس کوشش میں کالے کئے ہیں تو ذرامیں بھی اس کا مزا چکھوں!
پر شرط بڑی کڑی لگادی ہے جی کہ محبت کرنے کے لئے اپنا آپ خاک میں ملاو، اپنی انا کو محبوب کے سامنے سرنڈر کرو، اپنے آپ کی نفی کرو۔ اب میرے جیسا بندہ کہ جس کے پاس اپنی انا کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں، نہ علم ، نہ ایمان، نہ شعور، نہ وجدان، تو وہ کیسے اپنی ساری جمع پونجی اس جوئے میں لٹادے؟
دل کی بستی پر محبت کا بلڈوزر چلا کے پرانی بستی ڈھانی اور نئی بسانی بہت مشکل ہے۔ بستی کے پرانے مکین، غم روزگار کی عدالت سے حکم امتناعی لے آتے ہیں کہ جی یہ 420 منزلہ خود غرضی کی عمارت تو آپ بالکل نہیں گراسکتے۔اور اس کے متصل خواہشات کا ڈپارٹمنٹل سٹور بھی بہت ضروری ہے، اس کے بغیر تو کام چلتا ہی نہیں۔ اور انا کا مینار تو وہ ہے جی کہ اس کی آخری منزل پر کھڑے ہوکر بندے کو دوسرے آدم زاد کیڑے مکوڑے نظر آتے ہیں! اوروہ خود کو خدا کا نائب تو کیا خود ہی خدا سمجھنے لگتا ہے! بڑا ہنگامہ کھڑا ہوجائے گا جی دل میں تو۔ خانہ بدوشوں کی بستی کو بھی اگر حکومتی اہلکار گرانے آجائیں تو وہ مسکین بھی مزاحمت پر اتر آتے ہیں۔ لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کرنی پڑجاتی ہے جی بلکہ کبھی کبھار تو گولیاں بھی چل جاتی ہیں، تو دل کی بستی کے مکین تو بڑے ڈاہڈے ہوتے ہیں۔ یہ تو اتنی آسانی سے بستی چھوڑ کے جانے والے نہیں!
اور یہ دل کی بستی ہے بھی بڑی عجیب کہ ایثار و خلوص کی جھونپڑی بنتے تو زمانے لگ جاتے ہیں جبکہ خودغرضی اور کمینگی کے سکائی سکریپر لمحوں میں کھڑے ہوجاتے ہیں!
تودوستو!
میں تو بڑی مشکل میں پڑگیاہوں۔۔۔ کیا کروں؟
انعامی مقابلہ برائے حصول تصویر مابدولت!
ہمارے ایک بہت پیارے اور عبرت ناک حد تک سنجیدہ تصاویر کھنچوانے کے شوقین دوست نے کتاب چہرے پر ہماری ایک تصویر لگائی تھی، جسے ہم نے فساد خلق کے ڈر سے ہٹادیا۔ تس پر عوام کے ایک طبقے نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا پرزور مطالبہ کیا!
لہاذا اب ہم ایک انعامی مقابلے کا انعقاد کررہے ہیں۔ تصویر میں سے ہمیں پہچاننے والے کو ایک تازہ ترین (اگرچہ اب ہم باسی ہوچکے ہیں پھر بھی۔۔) تصویر بطور انعام برقی ڈاک کےذریعے بھیجی جائے گی۔ ایک سے زیادہ درست جوابات کی صورت میں قرعہ اندازی کی جائے گی۔ ججز کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا۔ (کچھ چائے پانی ملنے کی صورت میں ججز اپنے فیصلے میں مناسب ترامیم بھی کرسکتے ہیں)۔
اس تصویر میں کرسیوں پر براجمان تھری مسکیٹیرز میں سے ایک میں ہوں، دوسرا وسیم انوار (جس سے رابطہ ہوئے مدت گزر چکی، خود پڑھ لے تو واپس آجائے، اسے کچھ نہیں کہا جائے گا) اور تیسرا غلام دستگیر ہے، جو کالج کے بعد بالکل ہی لاپتہ ہوگیا تھا۔ اس کے لئے بھی مضمون واحد ہے!
یہ تصویر، ہمارے سکول (لیبارٹری ہائی سکول، یونیورسٹی آف ایگریکلچر، فیصل آباد) کے سالانہ جلسے کی ہے جس میں ہم تینوں کوئز کوئز کھیل رہے ہیں۔ کمپئیر ہمارے بہت محترم استاد فضل محمد صاحب ہیں۔ پس منظر میں ایک صاحب سوٹ پہنے کھڑے ہیں۔ وہ رشید صاحب ہیں جو ہمیں بیالوجی پڑھانے کی کوشش کیا کرتے تھے! ان کے ایک واقعے کا شمار کلاسکس میں ہوتا ہے، جو، اگر کبھی موڈ بنا تو آپ کی نذر کیا جائے گا۔
عاصم بٹ / راجندر سنگھ بیدی
تب پہلی بار وہ مجھے محض ایک عام لڑکی نہ لگی، جیسا میں اسے سمجھتا آیا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ یورپین بظاہر جتنے بے تکلف ہوتے ہیں اتنے ہی محتاط بھی، ایسے ہی کسی سے نہیں کھلتے۔ کسی سے اپنا دل کھولنا، ان کے لئے کسی کے ساتھ ہم بستری کرنے سے بھی زیادہ احتیاط برتنے کے لائق بات ہوتی ہے۔
(عاصم بٹ کی کہانی "بوڑھی راہبہ" سے اقتباس)
یہ بات نہیں کہ وہ سگھڑ سیانیوں کی طرح اپنا سارا کچھ ایک ہی دم نہ دے دینا چاہتی تھی، بلکہ کوئی بات تھی جو اُبٹنے، بندی، اخروٹ کی چھال اور رس بھریوں سے اوپر ہوتی ہے، جس کا تعلق عورت کی شکل و صورت سے نہیں ہوتا، نہ اس کی نسائیت جس کی انتہا ہے، جسے وہ دھیرے دھیرے سامنے لاتی ہے اور جب لاتی ہے، تب پتہ چلتا ہے، یہ بات تھی! جیسے اشٹم کا چاند اپنا آدھا چھپائے رہتا ہے، اور پھر آہستہ آہستہ، روز بہ روز، ایک ایک پردے؛ دُپٹے، چولی، انگیا، سب کو الگ ڈالتا جاتاہے اور آخر ایک دن، ایک رات، پورنیما کے روپ میں آکر کیسی بے خودی و مجبوری، کیسی ناداری و لاچاری کے ساتھ اپنا سب کچھ لٹا دیتا ہے۔ کیا علم النّساء علم النّجوم سے دور کی بات ہے؟ کوئی بھی علم دوسرے علم سے فاصلہ رکھتا ہے؟ جن لوگوں نے برسوں اور عادتا آسمانوں پر جھانکا، ستاروں کو دیکھا ہو، ان کی جھلمل کے ساتھ مرے، ہل مل کے ساتھ جیے ہوں، اماوس کے ساتھ مرجھائے، پونم کے ساتھ کھلے ہوں، وہی رجنی کی آنکھوں میں پلکوں کے نیچے زمینوں سے بڑی، آسمانوں سے بڑی، برق و مقناطیس کی وسعتوں میں جو راس رچائی جاتی ہے، جو بھنگڑے اور جھمر اور لڈّی ناچے جاتےہیں، ان کے راز سمجھتے ہیں ۔۔۔ وہی اشٹم کے چاند کا بھید بھی جانتے ہیں۔
(راجندر سنگھ بیدی کی کہانی "ایک چادر میلی سی" سے اقتباس)
فقیری ٹکڑے
بہت دن گزر گئے بلکہ عید بھی آکے چلی گئی لیکن کوئی ترکیب نہیں لکھی۔ ہمارے پرانے بادشاہ انگریز کہتے ہیں جی کہ کبھی بھی بہت دیر نہیں ہوتی، لہاذا پیش خدمت ہے "تازہ ترین" ترکیب!
شاہی ٹکڑے (یہ نام بہت کنفیوزانہ ہے، سننے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی بادشاہ کو ٹکڑے کرکے اور ورق لگاکے پیش کیا جارہا ہو! ویسے اگر حالات نہ بدلے تو عن قریب شاہی ٹکڑے ایسے ہی تیار ہوا کریں گے!) تو آپ نے کھائے ہوں گے اور خوب لطف اندوز بھی ہوئے ہوں گے، آج آپ کی خدمت میں فقیری ٹکڑے پیش ہیں، تو اجزاء نوٹ کرلیں:
چار دن کی باسی روٹی کے ٹکڑے
پانی
نمک
مرچ
ترکیب بہت آسان ہے!
پیالہ، جگ یا گلاس (جو بھی میسر ہو) میں پانی ڈال کر نمک مرچ ملالیں اور باسی روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے اس میں بھگودیں۔ خیال رکھیں کہ ٹکڑے چھوٹے چھوٹے ہوں، ٹکڑے بڑے ہونے کی صورت میں ڈش کی لذت برقرار نہیں رہے گی!
باسی روٹی پر اگر پھپھوندی بھی لگی ہو تو یہ سونے پر سہاگہ والی بات ہے!
دوگھنٹے کے بعد یہ ڈش کھانے کے لئے تیار ہوجائے گی۔ اسے چکھیں! اگر اسے کھانے کے بعد آپ کو خدا یاد نہ آجائے تو پیسے واپس!
یہ ماحضر تناول کرنے کے بعد اپنے بادشاہوں کے "حق" میں "دعائے خیر" کرنا نہ بھولئے، جن کی مہربانیوں اور لطف و کرم کے صدقے ، ملک خداداد کے غیور عوام کی اکثریت ایسا "من و سلوی" دن رات کھا رہی ہے!
امرود
آپ یہ سوچنے میں خود کو حق بجانب محسوس کرتے گے کہ ہندوستان میں ایسی ناریاں عام چلتے پھرتے نظر آتی ہوں گی تو ہندوستانیوں کی تو موجیں ہی موجیں ہیں!
بس یہیں آپ مار کھا گئے!
آپ کو کبھی پھیکے خربوزے، پلپلے امرود، سوکھے ہوئے مالٹے، اندر سے سفید تربوز کھانے کا اتفاق ہوا ہے؟
بس یہی حال ہندوستانی عورتوں کا ہے!!
مجبوری ہے!
پر لکھوں گانہیں ۔۔۔
کہ نواز شریف ”اللہ کے فضل و کرم سے“ منہ میںگھنگھنیاں ڈال کے کیوںبیٹھے ہوئے ہیں؟ چینی سے لوڈشیڈنگ تک اور بلیک واٹر سے زی تک، سبھی کچھ تخم لنگاں کا شربت سمجھ کر نوش کئے جارہے ہیں۔ ہیں جی! روز نئی واسکٹ زیب تن کرکے کسی نہ کسی سفیر کے ساتھ ملاقات پھڑکانے کے علاوہ بھی سیاست میں بہت کام ہوتا ہے!
پیپلز پارٹی یک سالہ جشن صدارت پر بھنگڑے اور جھومر ڈال ڈال کر بے حال ہوئی جارہی ہے اور اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ عوام کا کیا حال ہے!
صدر مملکت اپنی مشہور زمانہ بتیسی اور تھکی ہوئی لائن ”جمہوریت بہترین انتقام ہے“ کے زور پر ہی پاکستان کو چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ یہ جمہوری انتقام لیا بھی عوام سے ہی جارہا ہے ۔۔۔ ہور چوپو!
جناب وزیر اعظم جون جولائی میں بھی ڈیزائنر سوٹ زیب تن کرکے ”تاریخ“ رقم کرنے کے دعوے کررہے ہیں۔ شاید یہ رقم کمانے کی تاریخ ہو!
الطاف بھائی نے اپنی پٹاری سے اب قادیانی سانپ نکالا ہے اور چینلز پر اس کا تماشہ دکھا رہے ہیں! جبکہ ان کی بین کی آواز پر سانپ کی بجائے صاحبان جبہ و دستار مست ہوئے جارہے ہیں۔ ہمیںہر جمعے قیامت اور قبر کے عذاب سے ڈرانے والوں کو خود مرنا یاد نہیں؟
یادش بخیر، ریٹارٹڈ کمانڈو، بادشاہ سلامت کے حضور “سب سے پہلے پاکستان کے لئے رحم کی درخواست کرتے ہوئے بالکل “بھاگ لگے رہن، دوارے وسدے رہن“ کی تصویر بنے بیٹھے ہیں! اگر آپ بھول چکے ہوں تو یاد کرائے دیتا ہوں کہ یہ وہی عظیم شخصیت ہیں جو فرعون کے سگے برادر نسبتی کے لہجے میں ٹی وی پر تین تین گھنٹے ”مجے ڈر نئیں لگتا اے“ کی گردان کیا کرتے تھے!
اور پھر ”شباز ساب“ ہیں! جو دن رات کھجل ہوتے پھرتے ہیں، ون مین شو کا اتنا شوق بھی اچھا نہیںہوتا! اپنی پروجیکشن کے چکر میں سارے سسٹم کا بیڑہ غرق بھی ہوجائے تو کوئی بات نہیں، اگلا الیکشن تو جیت جائیںگے ناں! وزیر اعلی کا کام سستے آٹے کی لائنیں سیدھی کروانا ہے یا ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو میرٹ اور انصاف کو یقینی بنائے!
اور پھر اپنے مشہور زمانہ ”جسٹس کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ“ ہیں۔ بحالی کے بعد مزے سے ٹھنڈے کورٹ روم میں بیٹھ کے عزت کا کلچہ کھا رہے ہیں۔ لاپتہ افراد کیس، پٹرول، چینی، این آر او، آٹا، بجلی، ۔۔۔۔۔۔۔ چپ کر جا۔۔۔ توہین عدالت میں اندر ہونا ہے۔۔۔
لکھنا تو اور بھی بہت کچھ چاہتا ہوں لیکن
مجبور ہوںکہ
میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں!!!
ہونے کی گواہی کے لئے ۔۔۔
یا کچھ بھی نہیں ہونے کا ادراک بہت ہے
ہم اہل محبت کو یہ املاک بہت ہے
کچھ خانہ خرابوں میں مری دھاک بہت ہے
اور دیکھنے میں وسعت افلاک بہت ہے
کیوں ان دنوں میلی تری پوشاک بہت ہے
دریا کو خیال خس و خاشاک بہت ہے
اور دیکھ لے وہ آنکھ بھی نمناک بہت ہے
چیخوف کی چیخیں اور پکوڑے
اس تعریف کا منبع، شوہر کی بیوی سے والہانہ محبت کی بجائے، فطری تقاضوں سے وہ محرومی تھی، جس کا وہ اکثر اپنی زوجہ کی مصروفیات، بقراطیات اور افلاطونیات کی وجہ سے شکار رہتا تھا۔
بیوی نے شوہر پر ایک نگاہ غلط انداز ڈالی اور یوں مخاطب ہوئی۔ ”کل رات میں روسو کی ”جنگ اور امن“ کا مطالعہ کررہی تھی۔ کیا تمہارے علم میں ہے کہ اس نے ”کساد بازاری اور ادب کے جدلیاتی عمل کی حسیت“ پر کتنا عمدہ لکھا ہے؟ چیخوف کی ”جنت گم گشتہ“ بھی اس کے سامنے پانی بھرتی نظر آتی ہے۔ والٹئیر نے ”بادشاہت کی مفصل تاریخ“ میں اس چیز پر روشنی ڈالی ہے کہ انسان اور پکوڑے کس طرح جدلیاتی عمل اور داخلی حسیت کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تب سے یہی سوچ رہی ہوں کہ شعوری رو، لاشعور کی طرف بہتے ہوئے اپنے ساتھ کیا کیا بہا کر لے جاتی ہے! کساد بازاری نے ادب کو جس طرح متاثر کیا ہے، عنقریب میری لکھی ہوئی کتاب کے اوراق کو لوگ پکوڑے لپیٹنے کے لئے استعمال کیا کریں گے“۔ یہ کہہ کر اس نے ٹھنڈی سانس بھری اور دوبارہ ضخیم ڈکشنری کے مطالعے میں غرق ہوگئی!
شوہر کے چہرے کے تاثرات چغلی کھا رہے تھے کہ وہ انتہائی سنجیدگی سے اپنے بال نوچنے کے آپشن پر غور کررہاہے! لیکن فی الوقت اس نے اس آپشن کو التوا میں ڈالا اور ایک کوشش اور کے مصداق تھوڑا سا کھسک کر اپنی بیوی کے ذرا اور پاس ہوگیا۔ بیوی اس سے بالکل بے خبر ڈکشنری میں گم تھی! شوہر نے اپنے لہجے میں 55 روپے کلو والی چینی کی تمام تر شیرینی سموتے ہوئے بیوی کے کان میں سرگوشی کی۔ ”جان! چلو آج کہیں باہر چلیں، کھانا کھائیں گے، انجوائے کریں گے، فلم دیکھیں گے“۔ تس پر بیوی نے غضب ناک ہوکر جواب دیا۔ ”تو کان میں پھونکیں مارنے کی کیا ضرورت ہے؟ سیدھی طرح منہ سے نہیں پھوٹ سکتے؟ دانت بھی صاف نہیں کرتے، کیسی مہک آرہی ہے منہ سے۔۔۔ اونہہہ۔۔۔۔“۔ شوہر کھسیانا سا ہوکر ہنسنے لگا۔ بیوی کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس نے ایک بار پھر اس کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن بیوی نے جب اسے یہ کہا کہ ”ذرا سر کے بائیں جانب کھجاؤ، لگتا ہے جوئیں پڑ گئی ہیں!“
تو مجازی خدا کے تمام رومانی جذبات، اس پر تین حرف بھیج کر دفان ہوگئے!!!