منکہ مسمی جعفر، حال مقیم حال دل، بقائمی ہوش وحواس اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی کسی سیاسی موضوع پر لکھنے کا پاپ نہیںکروں گا۔ کبھی کسی پر تنقید نہیں کروں گا۔ سب کی تعریف کروں گا۔ تمام نقطہ ہائے نظر کو درست مانوں گا چاہے ایک دوسرے کی ضد ہی کیوں نہ ہوں! بھٹو کو بھی شہید سمجھوں گا اور ضیاء الحق کو بھی۔ بے نظیر کو دختر مشرق اور نواز شریف کو قائد اعظم ثانی سمجھوںگا۔ پرویز مشرف کو پاکستان بچانے والا اور اسلام کا سپاہی سمجھوں گا۔الطاف حسین کو اپنے زمانے کا سب سے ذہین، راستباز، حق پرست اور بے باک لیڈر سمجھوںگا۔ منظور وٹو کو پاکستان کا سب سے دیانتدار شخص سمجھوںگا (اگر چہ صدرپاکستان اس اعزاز کے زیادہ مستحق ہیں لیکن وہ کچھ 14 سال قید کا چکر ہے، اس لئے ان کا نام نہیں لکھا)۔ بریگیڈئیر بلے کو نشان حیدر دینے کی پرزور سفارش کروںگا۔
اور بھی لوگ جو کہیں اور لکھیںگے، میںپیشگی ان سے متفق ہونے کا اعلان کرتا ہوں!
فدوی
جعفر
بارے کچھ ذکر سوئی اٹکنے کا
”بات 1992 کے آپریشن سے شروع ہوتی ہے“۔ یہ کہہ کر اس نے گہرا سانس لیا، پہلو بدلا اور یوں گویا ہوا۔ ” جدید انسانی تاریخ میں اس سے بڑا ظلم ، اس سے بڑی زیادتی کسی قوم نے کسی کے ساتھ نہیں کی ہوگی۔ قائد تحریک کے مطابق 15 ہزار افراد نے جام شہادت نوش کیا، لاکھوں افراد زخمی ہوئے، کروڑوں کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، اربوں ۔۔ اوہو ۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد کو روزگار سے محروم ہونا پڑا۔ مرے پر سودرّے کے مصداق، ہمیں غدار بھی ٹھہرایا گیا اور جناحپورکے نام سے نئی ریاست بنانے کا الزام لگایا گیا۔ اس سارے ظلم کا ذمہ دار کون تھا؟ نواز شریف! اس نے ہمیں دھوکہ دیا، اسی کے ہاتھ پر معصوموں کا خون ہے، وہی ہے جو ہزاروں عورتوں کے بیوہ ہونے اور بچوں کے یتیم ہونے کا سبب ہے۔ اگر قائد تحریک بروقت ایجنسیوں کے ارادے بھانپ کر فرار ۔۔ نہیں ۔۔ نہیں ۔۔ میرا مطلب ہے، ہجرت نہ کرجاتے تو ان کو شہید کردیا جاتا اور ان کا مزار عظیم احمد طارق کے پہلو میں بنایا جاتا“۔
یہاں تک پہنچتے پہنچتے اس کا سانس پھول چکا تھا۔ شدت جذبات سے اس کا رنگ قرمزی جھلک دینے لگا تھا۔ میں نے اپنے دوست کو پانی کا گلاس پیش کیا۔ پانی پی کر جب اس کے اوسان بحال ہوئے تو میں نے عرض کی۔ ”آپ کی باتیں دل پر اثر کرتی ہیں، ہولو کاسٹ کے بعد 1992 کا آپریشن انسانی تاریخ کا بدترین المیہ ہے۔ اس کے ذمہ داروں کو کڑی سے کڑی سزا دی جانی چاہئے۔ اگرچہ جانے والے واپس نہیں آیا کرتے، لیکن ان کے پسماندگان کو یہ سکون تو ہوگا کہ ان کے پیاروں پر ظلم کرنے والے کیفر کردار کو پہنچ گئے ہیں“۔ یہ کہہ کر میں نے پہلو بدلا، سگریٹ سلگایا، گہرا کش لے کر نتھنوں سے دھواں نکالتے ہوئے دوبارہ اپنی بات شروع کی۔ ”لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ وہی قائد تحریک ہیں، وہی نواز شریف ہے، لیکن اب 1997 ہے! اب دونوں پھر شیروشکر ہوچکے ہیں۔ کیاصرف پانچ سالوں میںہی قائد تحریک تاریخ کے اس سب سے سے بڑے ظلم پر بقول شجاعت حسین ”مٹی پاء“ چکے تھے؟؟؟ آگے چلتے ہیں! 1994 میںنصیر اللہ بابر کے دور میںجو کچھ ہوا، اس کے نوحے ابھی تک پڑھے جاتے ہیں۔ کراچی میں باقاعدہ دو فوجوں کی جنگ ہوئی جس میںجنگی قیدیوں کے تبادلے بھی ہوئے۔ اللہ بخشے بے نظیر نے قائد تحریک کو چوہے کے لقب سے بھی نوازا۔ کیا صرف قبرستان میں فاتحہ پڑھنے سے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں؟ یا یہ کسی گرینڈ ماسٹر کی سکیم آف تھنگز ہے؟یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کربلا کے مجرموں میں سے شمر تو ملعون ہو اور ابن زیاد، مفاہمت کے این آر او کے بعد دوست اور رحمۃ اللہ علیہ ہوجائے؟“
میرے دوست کا رنگ بدل گیا، اس کے چہرے پر غیظ و غضب کے آثار نظر آنے لگے۔ اس نے میز پر مکا مارا اور چلاتے ہوئے کہنے لگا۔ ”بات 1992 کے آپریشن سے شروع ہوتی ہے۔ جدید انسانی تاریخ میں اس سے بڑا ظلم ، اس سے بڑی زیادتی کسی قوم نے کسی کے ساتھ نہیں کی ہوگی۔ قائد تحریک کے مطابق 15 ہزار افراد نے جام شہادت نوش کیا، لاکھوں ۔۔۔۔
یہاں تک پہنچتے پہنچتے اس کا سانس پھول چکا تھا۔ شدت جذبات سے اس کا رنگ قرمزی جھلک دینے لگا تھا۔ میں نے اپنے دوست کو پانی کا گلاس پیش کیا۔ پانی پی کر جب اس کے اوسان بحال ہوئے تو میں نے عرض کی۔ ”آپ کی باتیں دل پر اثر کرتی ہیں، ہولو کاسٹ کے بعد 1992 کا آپریشن انسانی تاریخ کا بدترین المیہ ہے۔ اس کے ذمہ داروں کو کڑی سے کڑی سزا دی جانی چاہئے۔ اگرچہ جانے والے واپس نہیں آیا کرتے، لیکن ان کے پسماندگان کو یہ سکون تو ہوگا کہ ان کے پیاروں پر ظلم کرنے والے کیفر کردار کو پہنچ گئے ہیں“۔ یہ کہہ کر میں نے پہلو بدلا، سگریٹ سلگایا، گہرا کش لے کر نتھنوں سے دھواں نکالتے ہوئے دوبارہ اپنی بات شروع کی۔ ”لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ وہی قائد تحریک ہیں، وہی نواز شریف ہے، لیکن اب 1997 ہے! اب دونوں پھر شیروشکر ہوچکے ہیں۔ کیاصرف پانچ سالوں میںہی قائد تحریک تاریخ کے اس سب سے سے بڑے ظلم پر بقول شجاعت حسین ”مٹی پاء“ چکے تھے؟؟؟ آگے چلتے ہیں! 1994 میںنصیر اللہ بابر کے دور میںجو کچھ ہوا، اس کے نوحے ابھی تک پڑھے جاتے ہیں۔ کراچی میں باقاعدہ دو فوجوں کی جنگ ہوئی جس میںجنگی قیدیوں کے تبادلے بھی ہوئے۔ اللہ بخشے بے نظیر نے قائد تحریک کو چوہے کے لقب سے بھی نوازا۔ کیا صرف قبرستان میں فاتحہ پڑھنے سے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں؟ یا یہ کسی گرینڈ ماسٹر کی سکیم آف تھنگز ہے؟یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کربلا کے مجرموں میں سے شمر تو ملعون ہو اور ابن زیاد، مفاہمت کے این آر او کے بعد دوست اور رحمۃ اللہ علیہ ہوجائے؟“
میرے دوست کا رنگ بدل گیا، اس کے چہرے پر غیظ و غضب کے آثار نظر آنے لگے۔ اس نے میز پر مکا مارا اور چلاتے ہوئے کہنے لگا۔ ”بات 1992 کے آپریشن سے شروع ہوتی ہے۔ جدید انسانی تاریخ میں اس سے بڑا ظلم ، اس سے بڑی زیادتی کسی قوم نے کسی کے ساتھ نہیں کی ہوگی۔ قائد تحریک کے مطابق 15 ہزار افراد نے جام شہادت نوش کیا، لاکھوں ۔۔۔۔
ٹیگو ٹیگ - (ہفتہء بلاگستان - 6)
. آپ کا نام یا نک؟ اگر اصل نام شیئر کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔
جعفر
2. آپ کے بلاگ کا ربط اور بلاگ کا نام یا عنوان؟ بلاگ کا عنوان رکھنے کی کوئی وجہ تسمیہ ہو تو وہ بھی شیئر کر سکتے ہیں۔
نام یہی ہے جہاں آپ اسے پڑھ رہے ہیں اور ربط بھی یہی ہے۔ وجہ تسمیہ کا مطلب پتہ نہیں مجھے، تو جب تک مطلب پتہ نہ ہو تو کیسے جواب دے سکتا ہوں
3. آپ کا بلاگ کب شروع ہوا؟
اسی سال شاید فروری میں۔
4. آپ اپنے گھر سے کون سے ایک ، دو یا زائد لوگوں کو بلاگنگ کا مشورہ دیں گے یا دے چکے ہیں؟ ربط پلیز
اتنا بے وقوف نہیں ہوں میں۔
5. کوئی ایک ، تین یا پانچ یا زائد ایسے موضوعات جن پر لکھنے کی خواہش ہے مگر ابھی تک نہیں لکھ سکے یا آئندہ لکھنا چاہیں ؟
میں موضوعات پر لکھ ہی نہیں سکتا، یاویاں ہی مارسکتا ہوں لہذا ہر طرح کے موضوع پر لکھنے کی خواہش ہے جو پوری ہونا ممکن نہیں۔
6. آپ کا بلاگ اب تک کس کی بدولت فعال یا زندہ ہے ؟ آپ خود یا کوئی دوسرا نام ؟ (مؤخرالذکر کی صورت میں نام بھی لکھ دیں۔ اگر ربط دیا جا سکتا ہے تو ربط بھی)
قارئین کی وجہ سے۔
7. اپنے موبائل سے کم از کم کوئی ایک ، تین یا پانچ اچھے ایس ایم ایس شیئر کریں
پچھلے پانچ ایس ایم ایس نہایت ذاتی قسم کے ہیں، انہیں شئیر کرکے چھتر کھانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا!
8. آپ کی اردو زبان سے دلچسپی کس نام کے سبب سے ہے ؟ (استاد ؟ گھر کا کوئی فرد؟ یا کوئی دوسرا نام؟ یا کوئی الگ وجہ ؟)
مجبوری ہے، کسی اور زبان میں لکھ نہیںسکتا!
9. کیا آپ اردو بلاگ دنیا روزانہ وزٹ کرتے ہیں اور مختلف بلاگز کسی ترتیب سے وزٹ کرتے ہیں یا جو بھی بلاگ سامنے آ جائے؟ اپنا بلاگنگ روٹ شیئر کریں ۔
جی ہاں، سب سے پہلے اپنا بلاگ، ڈفر، عمر بنگش، خاور کھوکھر، راشد کامران، اردو سیارہ، وہاں سے پھر جو بھی نئی پوسٹ ہو۔
10. آپ کے بلاگ پر پہلے پانچ یا دس تبصرہ نگار کون سے تھے؟
عدیل، بلو بلا، ڈفر، تانیہ رحمان، شعیب سعید شوبی
11. ہفتہ بلاگستان یا اردو بلاگ دنیا سے مختلف تحریروں پر ہونے والے تبصروں میں سے چند دلچسپ یا مفید تبصرے شیئر کیجیے۔ ربط دینا نہ بھولیں ۔
یہ سوال بلاگنگ پر پی ایچ ڈی کروں گا تو ہی اس کا جواب لکھ سکتا ہوں۔ اتنی تحقیق ابھی کرنے کا وقت نہیں!
12۔ ہفتہ بلاگستان کے بعد اب ہم “یوم بلاگستان” منایا کریں گے آپ کے خیال میں “یوم بلاگستان” ہر ہفتہ میں ایک دن منایا جائے یا ہر ماہ میں ایک دن منایا جائے؟
جیسا آپ کا دل چاہے!
14. مختلف بلاگرز کو کوئی شعر یا جملہ انہیں ٹائٹل کے طور پر منسوب کریں۔
ڈفر: بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
خاور: لوک دانش
راشد کامران: ادیب
میرا پاکستان: سیاستدان (اچھے معنوں میں!)
عمر بنگش: یاراں دا یار
آپی: آپا وڈی
بدتمیز: انتہائی میسنا!
خرم بھٹی: دانشور
اسماء: یکے والی
انیقہ ناز: بھیجہ فرائی
14۔ ہفتہ بلاگستان اور بلاگ دنیا میں شامل تحریریں جو آپ کو پسند آئی ہوں؟
راشد کامران کی تمام تحاریر، ڈفر کی اکثر تحاریر، خاور کھوکھر کی تمام تحاریر مگر خاص طور پر ”پیجا حرام دا“، عمر بنگش کی چوٹی پرت۔ اور بھی بہت سی جو ابھی ذہن میںنہیں۔
15۔. کن بلاگرز کو آپ کے خیال میں باقاعدگی سے لکھنا چاہیے ؟
مجھے!
16. بلاگ دنیا میں آپ اپنا کردار کس انداز میں ادا کرنا چاہتے ہیں یا کر رہے ہیں؟
میرا کردار تو سائیڈئیے کا ہے جو میں بخوبی ادا کررہا ہوں۔
17۔ ہفتہ بلاگستان کے بارے میں آپ کے تاثرات
زبردست
اب میں ٹیگ کرتا ہوں
راشد کامران
عمر بنگش
خاور کھوکھر
غفران
آپی
جعفر
2. آپ کے بلاگ کا ربط اور بلاگ کا نام یا عنوان؟ بلاگ کا عنوان رکھنے کی کوئی وجہ تسمیہ ہو تو وہ بھی شیئر کر سکتے ہیں۔
نام یہی ہے جہاں آپ اسے پڑھ رہے ہیں اور ربط بھی یہی ہے۔ وجہ تسمیہ کا مطلب پتہ نہیں مجھے، تو جب تک مطلب پتہ نہ ہو تو کیسے جواب دے سکتا ہوں
3. آپ کا بلاگ کب شروع ہوا؟
اسی سال شاید فروری میں۔
4. آپ اپنے گھر سے کون سے ایک ، دو یا زائد لوگوں کو بلاگنگ کا مشورہ دیں گے یا دے چکے ہیں؟ ربط پلیز
اتنا بے وقوف نہیں ہوں میں۔
5. کوئی ایک ، تین یا پانچ یا زائد ایسے موضوعات جن پر لکھنے کی خواہش ہے مگر ابھی تک نہیں لکھ سکے یا آئندہ لکھنا چاہیں ؟
میں موضوعات پر لکھ ہی نہیں سکتا، یاویاں ہی مارسکتا ہوں لہذا ہر طرح کے موضوع پر لکھنے کی خواہش ہے جو پوری ہونا ممکن نہیں۔
6. آپ کا بلاگ اب تک کس کی بدولت فعال یا زندہ ہے ؟ آپ خود یا کوئی دوسرا نام ؟ (مؤخرالذکر کی صورت میں نام بھی لکھ دیں۔ اگر ربط دیا جا سکتا ہے تو ربط بھی)
قارئین کی وجہ سے۔
7. اپنے موبائل سے کم از کم کوئی ایک ، تین یا پانچ اچھے ایس ایم ایس شیئر کریں
پچھلے پانچ ایس ایم ایس نہایت ذاتی قسم کے ہیں، انہیں شئیر کرکے چھتر کھانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا!
8. آپ کی اردو زبان سے دلچسپی کس نام کے سبب سے ہے ؟ (استاد ؟ گھر کا کوئی فرد؟ یا کوئی دوسرا نام؟ یا کوئی الگ وجہ ؟)
مجبوری ہے، کسی اور زبان میں لکھ نہیںسکتا!
9. کیا آپ اردو بلاگ دنیا روزانہ وزٹ کرتے ہیں اور مختلف بلاگز کسی ترتیب سے وزٹ کرتے ہیں یا جو بھی بلاگ سامنے آ جائے؟ اپنا بلاگنگ روٹ شیئر کریں ۔
جی ہاں، سب سے پہلے اپنا بلاگ، ڈفر، عمر بنگش، خاور کھوکھر، راشد کامران، اردو سیارہ، وہاں سے پھر جو بھی نئی پوسٹ ہو۔
10. آپ کے بلاگ پر پہلے پانچ یا دس تبصرہ نگار کون سے تھے؟
عدیل، بلو بلا، ڈفر، تانیہ رحمان، شعیب سعید شوبی
11. ہفتہ بلاگستان یا اردو بلاگ دنیا سے مختلف تحریروں پر ہونے والے تبصروں میں سے چند دلچسپ یا مفید تبصرے شیئر کیجیے۔ ربط دینا نہ بھولیں ۔
یہ سوال بلاگنگ پر پی ایچ ڈی کروں گا تو ہی اس کا جواب لکھ سکتا ہوں۔ اتنی تحقیق ابھی کرنے کا وقت نہیں!
12۔ ہفتہ بلاگستان کے بعد اب ہم “یوم بلاگستان” منایا کریں گے آپ کے خیال میں “یوم بلاگستان” ہر ہفتہ میں ایک دن منایا جائے یا ہر ماہ میں ایک دن منایا جائے؟
جیسا آپ کا دل چاہے!
14. مختلف بلاگرز کو کوئی شعر یا جملہ انہیں ٹائٹل کے طور پر منسوب کریں۔
ڈفر: بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
خاور: لوک دانش
راشد کامران: ادیب
میرا پاکستان: سیاستدان (اچھے معنوں میں!)
عمر بنگش: یاراں دا یار
آپی: آپا وڈی
بدتمیز: انتہائی میسنا!
خرم بھٹی: دانشور
اسماء: یکے والی
انیقہ ناز: بھیجہ فرائی
14۔ ہفتہ بلاگستان اور بلاگ دنیا میں شامل تحریریں جو آپ کو پسند آئی ہوں؟
راشد کامران کی تمام تحاریر، ڈفر کی اکثر تحاریر، خاور کھوکھر کی تمام تحاریر مگر خاص طور پر ”پیجا حرام دا“، عمر بنگش کی چوٹی پرت۔ اور بھی بہت سی جو ابھی ذہن میںنہیں۔
15۔. کن بلاگرز کو آپ کے خیال میں باقاعدگی سے لکھنا چاہیے ؟
مجھے!
16. بلاگ دنیا میں آپ اپنا کردار کس انداز میں ادا کرنا چاہتے ہیں یا کر رہے ہیں؟
میرا کردار تو سائیڈئیے کا ہے جو میں بخوبی ادا کررہا ہوں۔
17۔ ہفتہ بلاگستان کے بارے میں آپ کے تاثرات
زبردست
اب میں ٹیگ کرتا ہوں
راشد کامران
عمر بنگش
خاور کھوکھر
غفران
آپی
کھلا خط بنام سہراب مرزا - (ہفتہء بلاگستان - 5)
عزیزی!
بمشکل پہلے اندوہناک سانحہ سے جاں بر ہوا ہی تھا کہ آپ کی تصویر دیکھ لی!
واللہ اگر آپ میری دسترس میں ہوتے تو آپ کا وہ ”حالاں“ کرتا کہ آپ کی ”چیکاں“ نکل جاتیں! اس طرح کی صحت پر آپ نے جتنی بڑی چوٹی سر کرنے کی ٹھانی ہے اس پر آپ کو کالے پانی کی سزا دی جانی چاہئے! اور آپ کے والدین کی سمجھداری کی بھی داد دینے کو جی چاہتا ہے کہ جانتے بوجھتے (شاید) اکلوتے بیٹے کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔
آپ کی صحت سے لگتا ہے کہ آپ آج تک اپنی بیکری سے صرف بند ہی کھاتے رہے ہیں۔ بندے کو کبھی کھلا بھی کھا لینا چاہئے!
آپ کے نام پر بھی یہاں لوگوں کو بہت اعتراض ہیں اور وہ آپ کا نام لے کر معنی خیز انداز میں ہنستے رہتے ہیں۔ ہنسنے کی وجہ دریافت کرنے پر سہراب سائیکل فیکٹری شاہدرہ لاہور کا حوالہ دے کر دوبارہ واہیات انداز میں قہقہے لگانے لگتے ہیں! مجھے سمجھ تو نہیں آئی لیکن یقینا کوئی بےہودہ بات ہوگی!
سب سے اہم بات یہ ہے کہ شادی کے بعد (اگر ہوئی تو) آپ کی زوجہ کیک، پیسٹریاں اور کریم رول وغیرہ کھا کھا کر وزن اور حجم میں ہیبت ناک اضافہ کرسکتی ہیں، جس سے آپ کا دل تو کھٹا ہوگا ہی، میرے جیسے عشّاق کا دل بھی کرچی کرچی ہوجائے گا!
آخر میں آپ سے دردمندانہ اپیل ہے کہ اپنی نہ ہونے کے برابر جوانی پر ترس کھائیں اور اس کام میں ہاتھ نہ ڈالیں جس میں شرمندگی کے علاوہ جان جانے کا بھی خدشہ ہو!
فدوی
آپ کی ہونے والی زوجہ کا عاشق زار
(چاہیں تو اس فقرے پر بھی غیرت کھا سکتے ہیں آپ!)
بمشکل پہلے اندوہناک سانحہ سے جاں بر ہوا ہی تھا کہ آپ کی تصویر دیکھ لی!
واللہ اگر آپ میری دسترس میں ہوتے تو آپ کا وہ ”حالاں“ کرتا کہ آپ کی ”چیکاں“ نکل جاتیں! اس طرح کی صحت پر آپ نے جتنی بڑی چوٹی سر کرنے کی ٹھانی ہے اس پر آپ کو کالے پانی کی سزا دی جانی چاہئے! اور آپ کے والدین کی سمجھداری کی بھی داد دینے کو جی چاہتا ہے کہ جانتے بوجھتے (شاید) اکلوتے بیٹے کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔
آپ کی صحت سے لگتا ہے کہ آپ آج تک اپنی بیکری سے صرف بند ہی کھاتے رہے ہیں۔ بندے کو کبھی کھلا بھی کھا لینا چاہئے!
آپ کے نام پر بھی یہاں لوگوں کو بہت اعتراض ہیں اور وہ آپ کا نام لے کر معنی خیز انداز میں ہنستے رہتے ہیں۔ ہنسنے کی وجہ دریافت کرنے پر سہراب سائیکل فیکٹری شاہدرہ لاہور کا حوالہ دے کر دوبارہ واہیات انداز میں قہقہے لگانے لگتے ہیں! مجھے سمجھ تو نہیں آئی لیکن یقینا کوئی بےہودہ بات ہوگی!
سب سے اہم بات یہ ہے کہ شادی کے بعد (اگر ہوئی تو) آپ کی زوجہ کیک، پیسٹریاں اور کریم رول وغیرہ کھا کھا کر وزن اور حجم میں ہیبت ناک اضافہ کرسکتی ہیں، جس سے آپ کا دل تو کھٹا ہوگا ہی، میرے جیسے عشّاق کا دل بھی کرچی کرچی ہوجائے گا!
آخر میں آپ سے دردمندانہ اپیل ہے کہ اپنی نہ ہونے کے برابر جوانی پر ترس کھائیں اور اس کام میں ہاتھ نہ ڈالیں جس میں شرمندگی کے علاوہ جان جانے کا بھی خدشہ ہو!
فدوی
آپ کی ہونے والی زوجہ کا عاشق زار
(چاہیں تو اس فقرے پر بھی غیرت کھا سکتے ہیں آپ!)
اصلی والی ترکیب - (ہفتہء بلاگستان - 4)
میں تمام احباب سے ان کی مایوسی پر پیشگی معافی چاہتا ہوں!
یہ ایک واقعی کھانے کی ترکیب ہے جس کی ایجاد کا سہرا ضرورت اور مجبوری کے سر جاتاہے۔ خاور صاحب نے بھی ایک ”چھڑا سٹائل“ فٹافٹ کھانے کی ترکیب لکھی ہے جو مجھے بہت پسند آئی ہے لہذا آج شام وہ ڈش بنے ہی بنے!
بہرحال کھانے کی جو ترکیب میں آپ کو بتانے جارہاہوں یہ بالکل میرے بھیجے کی پیداوار ہے۔ لہذا پکانے سے پہلے یقین کرلیں کہ آپ واقعی یہ کام کرنا چاہتے ہیں!
اس کے اجزاء میں ایک پیاز، ایک ٹماٹر، چند سبز مرچیں، تھوڑی سی بند گوبھی، دو درمیانے سائز کے آلو، تھوڑے سے مٹر، دو گاجریں، ایک شملہ مرچ، چھ انڈے، نمک، کالی مرچ، کوکنگ آئل اور سویا ساس شامل ہیں۔
ساری سبزیاں باریک باریک کاٹ لیں۔ آلو ایسے کاٹیںجیسے چپس بنانے کے لئے کاٹے جاتے ہیں۔ سبزیاں ایک پتیلی میں ڈال کر ساتھ ہی کوکنگ آئل ملادیں اور پتیلی پر ڈھکن دے کر ہلکی آنچ پر پکنے دیں۔ سبزیاں گلنے پر نمک، کالی مرچ اور سویا ساس حسب ذائقہ ملادیں۔ ساتھ ہی انڈے بھی ملادیں۔ انڈے ملانے کے بعد زیادہ چمچ نہ چلائیں۔ جب سفیدی اور زردی دونوں پک جائیں تو آپ کی ڈش تیار ہے۔
اس ڈش کو آپ چاول، روٹی یا میکرونی کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔
اگر مزیدار ہو تو یہ میرا کمال ہے اور نہ ہو تو آپ کا قصور!
دوستوں نے مختلف بلاگز پر میری تراکیب کے بارے میں جو حسن ظن ظاہر کیا، میں اس پر ان کا مشکور ہوں۔ بلکہ چند دوستوں نے تو اسی انداز میں چند تراکیب لکھ بھی ڈالیں ہیں، اس پر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ
میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلماں ہوگیا!!!
یہ ایک واقعی کھانے کی ترکیب ہے جس کی ایجاد کا سہرا ضرورت اور مجبوری کے سر جاتاہے۔ خاور صاحب نے بھی ایک ”چھڑا سٹائل“ فٹافٹ کھانے کی ترکیب لکھی ہے جو مجھے بہت پسند آئی ہے لہذا آج شام وہ ڈش بنے ہی بنے!
بہرحال کھانے کی جو ترکیب میں آپ کو بتانے جارہاہوں یہ بالکل میرے بھیجے کی پیداوار ہے۔ لہذا پکانے سے پہلے یقین کرلیں کہ آپ واقعی یہ کام کرنا چاہتے ہیں!
اس کے اجزاء میں ایک پیاز، ایک ٹماٹر، چند سبز مرچیں، تھوڑی سی بند گوبھی، دو درمیانے سائز کے آلو، تھوڑے سے مٹر، دو گاجریں، ایک شملہ مرچ، چھ انڈے، نمک، کالی مرچ، کوکنگ آئل اور سویا ساس شامل ہیں۔
ساری سبزیاں باریک باریک کاٹ لیں۔ آلو ایسے کاٹیںجیسے چپس بنانے کے لئے کاٹے جاتے ہیں۔ سبزیاں ایک پتیلی میں ڈال کر ساتھ ہی کوکنگ آئل ملادیں اور پتیلی پر ڈھکن دے کر ہلکی آنچ پر پکنے دیں۔ سبزیاں گلنے پر نمک، کالی مرچ اور سویا ساس حسب ذائقہ ملادیں۔ ساتھ ہی انڈے بھی ملادیں۔ انڈے ملانے کے بعد زیادہ چمچ نہ چلائیں۔ جب سفیدی اور زردی دونوں پک جائیں تو آپ کی ڈش تیار ہے۔
اس ڈش کو آپ چاول، روٹی یا میکرونی کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔
اگر مزیدار ہو تو یہ میرا کمال ہے اور نہ ہو تو آپ کا قصور!
دوستوں نے مختلف بلاگز پر میری تراکیب کے بارے میں جو حسن ظن ظاہر کیا، میں اس پر ان کا مشکور ہوں۔ بلکہ چند دوستوں نے تو اسی انداز میں چند تراکیب لکھ بھی ڈالیں ہیں، اس پر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ
میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلماں ہوگیا!!!
بلاگ شلاگ - (ہفتہء بلاگستان - 3)
اردو بلاگنگ سے میرا تعارف ایک اتفاق تھا۔ یہ اتفاق حسین و رنگین تھا یا غمگین و سنگین، اس کا اندازہ آپ خود لگائیں!
گوگل پر کچھ تلاشتے ہوئے نظر ڈفرستان کے نام پر پڑی تو میں چونکا کہ ہیںںںں۔۔۔ یہ کیا؟ وہاں پہنچا تو پہلے تو سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ تحریر مزیدار لگی۔ عنوان پر کلک کیا تو تبصروں پر نظر پڑی، ان کو پڑھتے ہوئے آخر تک پہنچا تو ایک دھچکا نما خوشی ہوئی کہ میں بھی اس تحریر پر اپنا لچ تل سکتا ہوں۔ اپنا کچھ لکھا ہوا، شائع ہوا دیکھ کر کتنی خوشی ہوتی ہے، پہلی دفعہ علم ہوا!
باقی بلاگروں کا علم بھی وہیں سے ہوا۔ بس پھر چل سو چل۔ ڈفر نے ہی شاید کسی تبصرے کے جواب میں مجھے بلاگ بنانے کی ”اشکل“ دی تھی۔ یہاں پر آکر پاک نیٹ والے عبدالقدوس اس کہانی میں داخل ہوتے ہیں۔ ورڈپریس ڈاٹ پی کے، کے بلاگ پر ”اپنا بلاگ حاصل کریں“ لکھا دیکھا اور بس پھر اللہ دے اور بندہ لے۔
شروع میں میرا خیال تھا کہ شاید یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکے کہ میںنے زندہ رہنے کے سوا مستقل مزاجی سےکوئی کام نہیںکیا۔ بقول منیر نیازی ”جس شہر میں بھی رہنا، اکتائے ہوئے رہنا“ لیکن اس شہر میں دل ابھی تک لگا ہوا ہے! اس کی وجہ شہر کے رنگ برنگے مکین ہیں، جو آپ کو تپا تو سکتے ہیں لیکن آپ ان سے اکتا نہیں سکتے!
میری بچپن سے منڈلی جمانے کی عادت تھی۔ ملک چھوڑا تو منڈلیاں بھی وہیں رہ گئیں۔ ملک سے باہر، غم روزگار سے ہی فرصت نہیں ملتی، کہ بندہ، غم جاناں کا کچھ بندوبست کرسکے۔ میری یہ کمی بلاگستان نے پوری کردی۔ یہاں آپ جیسی منڈلی چاہیں، جما سکتے ہیں۔ آئنسٹائن کے نظریہ اضافیت کی منڈلی سے استاد مام دین گجراتی کے مشاعرے تک جہاں آپ کا دل چاہے ٹھہر جائیں اور جب آپ کا دل چاہے نو دو گیارہ ہوجائیں۔
میرا بلاگنگ میں آنا کسی عظیم مقصد، نصب العین اور ایسے ہی دوسرے بھاری بھرکم الفاظ جو مجھے اس وقت یاد نہیں آرہے، کی وجہ سے نہیں ہوا۔ اس کی وجہ صرف اپنے ”ساڑ“ نکالنا تھا، جو اگر بندے کے اندر رہیں تو اسے اندر سے ”ساڑ“ دیتے ہیں، اور اندر سے سڑا ہوا بندہ، نہایت خطرناک ہوتاہے! تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے معاشرے کو ایک خطرناک بندے سے پاک کردیا ہے اور یہ بھی کوئی ایسا برا مقصد نہیں!
آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ کسی اور بلاگر کو مشہور کرے نہ کرے
مجھے ضرور کردے
مجھے مشہور ہونے کا بہت شوق ہے!
گوگل پر کچھ تلاشتے ہوئے نظر ڈفرستان کے نام پر پڑی تو میں چونکا کہ ہیںںںں۔۔۔ یہ کیا؟ وہاں پہنچا تو پہلے تو سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ تحریر مزیدار لگی۔ عنوان پر کلک کیا تو تبصروں پر نظر پڑی، ان کو پڑھتے ہوئے آخر تک پہنچا تو ایک دھچکا نما خوشی ہوئی کہ میں بھی اس تحریر پر اپنا لچ تل سکتا ہوں۔ اپنا کچھ لکھا ہوا، شائع ہوا دیکھ کر کتنی خوشی ہوتی ہے، پہلی دفعہ علم ہوا!
باقی بلاگروں کا علم بھی وہیں سے ہوا۔ بس پھر چل سو چل۔ ڈفر نے ہی شاید کسی تبصرے کے جواب میں مجھے بلاگ بنانے کی ”اشکل“ دی تھی۔ یہاں پر آکر پاک نیٹ والے عبدالقدوس اس کہانی میں داخل ہوتے ہیں۔ ورڈپریس ڈاٹ پی کے، کے بلاگ پر ”اپنا بلاگ حاصل کریں“ لکھا دیکھا اور بس پھر اللہ دے اور بندہ لے۔
شروع میں میرا خیال تھا کہ شاید یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکے کہ میںنے زندہ رہنے کے سوا مستقل مزاجی سےکوئی کام نہیںکیا۔ بقول منیر نیازی ”جس شہر میں بھی رہنا، اکتائے ہوئے رہنا“ لیکن اس شہر میں دل ابھی تک لگا ہوا ہے! اس کی وجہ شہر کے رنگ برنگے مکین ہیں، جو آپ کو تپا تو سکتے ہیں لیکن آپ ان سے اکتا نہیں سکتے!
میری بچپن سے منڈلی جمانے کی عادت تھی۔ ملک چھوڑا تو منڈلیاں بھی وہیں رہ گئیں۔ ملک سے باہر، غم روزگار سے ہی فرصت نہیں ملتی، کہ بندہ، غم جاناں کا کچھ بندوبست کرسکے۔ میری یہ کمی بلاگستان نے پوری کردی۔ یہاں آپ جیسی منڈلی چاہیں، جما سکتے ہیں۔ آئنسٹائن کے نظریہ اضافیت کی منڈلی سے استاد مام دین گجراتی کے مشاعرے تک جہاں آپ کا دل چاہے ٹھہر جائیں اور جب آپ کا دل چاہے نو دو گیارہ ہوجائیں۔
میرا بلاگنگ میں آنا کسی عظیم مقصد، نصب العین اور ایسے ہی دوسرے بھاری بھرکم الفاظ جو مجھے اس وقت یاد نہیں آرہے، کی وجہ سے نہیں ہوا۔ اس کی وجہ صرف اپنے ”ساڑ“ نکالنا تھا، جو اگر بندے کے اندر رہیں تو اسے اندر سے ”ساڑ“ دیتے ہیں، اور اندر سے سڑا ہوا بندہ، نہایت خطرناک ہوتاہے! تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے معاشرے کو ایک خطرناک بندے سے پاک کردیا ہے اور یہ بھی کوئی ایسا برا مقصد نہیں!
آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ کسی اور بلاگر کو مشہور کرے نہ کرے
مجھے ضرور کردے
مجھے مشہور ہونے کا بہت شوق ہے!
نظام تعلیم - دے دھنا دھن (ہفتہء بلاگستان -2)
تعلیمی نظام کی بات ہوتے ہی، دانشوروں کے منہ سے جھاگ بہنے لگتے ہیں، جذبات کی شدت سے ان کے قلم اور زبان سے شعلے نکلنے لگتے ہیں اور وہ اپنی دانشوری کی پٹاری سے قسم قسم کے سانپ برآمد کرکے تماشا شروع کردیتے ہیں۔ جونہی بحث ختم ہوتی ہے اور لذت کام و دہن المعروف کھابوں کا آغاز ہوتا ہے، یہ دانشور سب کچھ بھول بھال کر سموسوں اور شامی کبابوں کا تیاپانچہ کرنے لگتے ہیں! خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ قسم کی بات تھی جو دانشوروں سے میرے قدیمی حسد کا نتیجہ ہے۔ آمدم برسر مطلب۔۔۔
پاکستان کے نظام تعلیم میں چند بنیادی خرابیاں ہیں۔ ذیل کی سطور میں ان خرابیوں اور ان کے حل پر بات کی جائے گی۔
سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس ملک میں عام آدمی کو ابھی تک کسی نہ کسی شکل میں تعلیم، چاہے ناقص ہی کیوں نہ ہو، میسر ہے۔ پچھلے باسٹھ سالوں سے یہ اتیاچار اس ملک کی اشرافیہ پر کیاجارہا ہے۔ یہ کمی کمین لوگ چار جماعتیں پڑھ کر اپنے انہی ان داتاؤں کے خلاف زبان طعن دراز کرنے لگتےہیں۔ جو کہ نہایت شرم اور رنج کا مقام ہے۔
سرکاری سکولوں میں ابھی تک اساتذہ کے نام پر ایسے دھبے موجود ہیں جو تعلیم کو مشن سمجھ کر پھیلا رہے ہیں۔ حالانکہ تعلیم ایک کاروبار ہے اور اسے اسی طرح چلایا جانا چاہئے۔
اسی نیچ طبقے کے لوگ کچھ الٹا سیدھا پڑھ کر قانون کی حکمرانی، آئین اور دستور کی بالادستی، عوام کا حق حکمرانی (؟) قسم کی اوٹ پٹانگ باتیں بھی کرتے ہیں جو ہمارے جاگیردار، صنعتکار، خاکی و سادی افسر شاہی جیسی آسمانی اور دھلی دھلائی مخلوق کی طبع نازک پر بہت گراں گزرتی ہیں اور ان کے بلند فشار خون کا سبب بھی بنتی ہیں!
ان مسائل کے حل کے کے لئے سب سے پہلے تو بلا کسی ہچکچاہٹ کے تعلیم حاصل کرنےکا حق صرف اشرافیہ کی اولاد کے لئے مخصوص کرنا چاہئے۔ عوام کے تعلیم حاصل کرنے کو سنگین غداری کے زمرے میں لانا چاہئے اور اس پر سخت ترین سزا ہونی چاہئے!
ایچی سن، لارنس، کیڈٹ کالجز اور ایسے ہی دوسرے تعلیمی اداروں کو پورے سال کاتعلیمی بجٹ دینا چاہئے۔ تاکہ ہماری اگلی حکمران نسل پوری تسلی اور اطمینان سے تعلیم حاصل کرسکے۔ یہ گندے مندے سرکاری سکول بند کرکے اس سے حاصل ہونے والی رقم سے مندرجہ بالا اداروں کے تمام طالبعلموں کو نئے ماڈل کی گاڑیاں، ڈیزائنرز آؤٹ فٹس، رے بان کے چشمے، فرانس کے پرفیومز وغیرہ وغیرہ سرکاری خرچے پر فراہم کرنے چاہئیں۔ تمام سرکاری کالجز اور جامعات کو بھی بند کرکے ان سے حاصل ہونے والی رقم سے اسی آسمانی مخلوق کو سال کے چھ مہینے یورپ، ”تھائی لینڈ“، امریکہ وغیرہ تعطیلات پر بھیجنا چاہئے۔ تاکہ ان کا ”وژن“ وسیع ہوسکے۔
نچلے متوسط طبقے کے منتخب بچوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے تاکہ کلرکی شلرکی کا کام بھی چلتا رہے۔ ماتحتوں کے بغیر بھلا افسری کا کیا خاک مزا آئے گا! اس کے لئے پورے ملک میں دس بارہ تعلیمی ادارے کافی ہیں۔
جو عوام اس تعلیمی انقلاب کے نتیجے میں سکولوں اور کالجوں سے فارغ ہو، اس کو نازی کیمپس کی طرز پر کیمپوں میں رکھا جائے اور ان سے بیگار کیمپ کی طرز پر سڑکیں، پل اور ڈیفنس ہاوزنگ اتھارٹیز کی آبادیاں بنانے کا کام لیا جائے۔ ان کو کھانے کو اتنی ہی خوراک دی جائے کہ تیس پینتیس سال سے زیادہ نہ جی سکیں۔ اس سے ایک تو آبادی کا بوجھ کم ہوگا اور دوسرا ملک میں ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا!
امید ہے کہ ان اصلاحات سے وہ مقاصد ایک ہی جست میں حاصل ہوسکیں گے جو ہماری اشرافیہ سلو پوائزننگ کی صورت میں حاصل کرنے کی کوشش پچھلے باسٹھ سالوں سے کررہی ہے!
پاکستان کے نظام تعلیم میں چند بنیادی خرابیاں ہیں۔ ذیل کی سطور میں ان خرابیوں اور ان کے حل پر بات کی جائے گی۔
سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس ملک میں عام آدمی کو ابھی تک کسی نہ کسی شکل میں تعلیم، چاہے ناقص ہی کیوں نہ ہو، میسر ہے۔ پچھلے باسٹھ سالوں سے یہ اتیاچار اس ملک کی اشرافیہ پر کیاجارہا ہے۔ یہ کمی کمین لوگ چار جماعتیں پڑھ کر اپنے انہی ان داتاؤں کے خلاف زبان طعن دراز کرنے لگتےہیں۔ جو کہ نہایت شرم اور رنج کا مقام ہے۔
سرکاری سکولوں میں ابھی تک اساتذہ کے نام پر ایسے دھبے موجود ہیں جو تعلیم کو مشن سمجھ کر پھیلا رہے ہیں۔ حالانکہ تعلیم ایک کاروبار ہے اور اسے اسی طرح چلایا جانا چاہئے۔
اسی نیچ طبقے کے لوگ کچھ الٹا سیدھا پڑھ کر قانون کی حکمرانی، آئین اور دستور کی بالادستی، عوام کا حق حکمرانی (؟) قسم کی اوٹ پٹانگ باتیں بھی کرتے ہیں جو ہمارے جاگیردار، صنعتکار، خاکی و سادی افسر شاہی جیسی آسمانی اور دھلی دھلائی مخلوق کی طبع نازک پر بہت گراں گزرتی ہیں اور ان کے بلند فشار خون کا سبب بھی بنتی ہیں!
ان مسائل کے حل کے کے لئے سب سے پہلے تو بلا کسی ہچکچاہٹ کے تعلیم حاصل کرنےکا حق صرف اشرافیہ کی اولاد کے لئے مخصوص کرنا چاہئے۔ عوام کے تعلیم حاصل کرنے کو سنگین غداری کے زمرے میں لانا چاہئے اور اس پر سخت ترین سزا ہونی چاہئے!
ایچی سن، لارنس، کیڈٹ کالجز اور ایسے ہی دوسرے تعلیمی اداروں کو پورے سال کاتعلیمی بجٹ دینا چاہئے۔ تاکہ ہماری اگلی حکمران نسل پوری تسلی اور اطمینان سے تعلیم حاصل کرسکے۔ یہ گندے مندے سرکاری سکول بند کرکے اس سے حاصل ہونے والی رقم سے مندرجہ بالا اداروں کے تمام طالبعلموں کو نئے ماڈل کی گاڑیاں، ڈیزائنرز آؤٹ فٹس، رے بان کے چشمے، فرانس کے پرفیومز وغیرہ وغیرہ سرکاری خرچے پر فراہم کرنے چاہئیں۔ تمام سرکاری کالجز اور جامعات کو بھی بند کرکے ان سے حاصل ہونے والی رقم سے اسی آسمانی مخلوق کو سال کے چھ مہینے یورپ، ”تھائی لینڈ“، امریکہ وغیرہ تعطیلات پر بھیجنا چاہئے۔ تاکہ ان کا ”وژن“ وسیع ہوسکے۔
نچلے متوسط طبقے کے منتخب بچوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے تاکہ کلرکی شلرکی کا کام بھی چلتا رہے۔ ماتحتوں کے بغیر بھلا افسری کا کیا خاک مزا آئے گا! اس کے لئے پورے ملک میں دس بارہ تعلیمی ادارے کافی ہیں۔
جو عوام اس تعلیمی انقلاب کے نتیجے میں سکولوں اور کالجوں سے فارغ ہو، اس کو نازی کیمپس کی طرز پر کیمپوں میں رکھا جائے اور ان سے بیگار کیمپ کی طرز پر سڑکیں، پل اور ڈیفنس ہاوزنگ اتھارٹیز کی آبادیاں بنانے کا کام لیا جائے۔ ان کو کھانے کو اتنی ہی خوراک دی جائے کہ تیس پینتیس سال سے زیادہ نہ جی سکیں۔ اس سے ایک تو آبادی کا بوجھ کم ہوگا اور دوسرا ملک میں ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا!
امید ہے کہ ان اصلاحات سے وہ مقاصد ایک ہی جست میں حاصل ہوسکیں گے جو ہماری اشرافیہ سلو پوائزننگ کی صورت میں حاصل کرنے کی کوشش پچھلے باسٹھ سالوں سے کررہی ہے!
ایک دلدوز واقعہ - ہفتہء بلاگستان
یہ قصہ ہے چھٹی جماعت کا۔ جب ہم بزعم خود پرائمری کے بچپن سے نکل کر مڈل کی جوانی میں تازہ تازہ وارد ہوئے تھے۔ چھٹی کے داخلہ ٹیسٹ میں اول آنے کے جرم میں ہمیں اپنی جماعت کا مانیٹر بھی بنادیا گیا تھا۔ حالانکہ یہ ”بندر کے ہاتھ استرے“ والی بات تھی۔ اگر آپ میں سے کوئی سکول میں مانیٹر رہا ہو تو اسے علم ہوگا کہ اقتدار کتنی نشہ آور چیز ہے!
یہ مئی کے اواخر کا واقعہ ہے۔ تیسرا اور چوتھا پیریڈ عباس صاحب کا ہوتا تھا جو ہمیں سائنس اور معاشرتی علوم سکھانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ اس دن وہ چھٹی پر تھے، ان کی جگہ جو استاد پیریڈ لینے کے لئے آئے تھے وہ پانچ منٹ کے بعد ہی کلاس کو مانیٹر کے حوالے کرکے ”ضروری“ کام سے چلے گئے۔ اب میں تھا اور میری رعایا۔ اسی اثناء میں ساتویں کلاس کا ایک لڑکا ہماری جماعت میں داخل ہوا اور مجھ سے پوچھا، ”عباس صاحب کہاںہیں؟“ ۔ زبان پھسلنے کی بیماری مجھے بچپن سے ہی ہے۔ میرا جواب تھا ”عباس صاحب آج ”پھُٹ“ گئے ہیں“۔ بس جی اس کمینے نے اگلے دن یہی ”بےضرر“ سی بات ان کو نمک مرچ اور نمبو لگا کے بتادی۔ اگلے دن تیسرے پیریڈ کے شروع ہوتے ہی انہوں نے اپنی مخصوص روبوٹ جیسی آواز میں کہا۔ ”موونییٹرررر کہاںںں ہےےے؟“۔ میں ان کی کرسی کے دائیں جانب جا کر کھڑا ہوگیا۔ اس میں بھی ایک مصلحت تھی۔ وہ یہ کہ انکے سیدھے ہاتھ کا انگوٹھا اور شہادت کی انگلی کسی نامعلوم وجہ سے بہت موٹی تھیں۔ لہذا جب وہ سیدھے ہاتھ سے کان مروڑتے تھے تو اتنا درد نہیں ہوتا تھا۔ لیکن جناب، انہوں نے اس دن کان نہیںمروڑے بلکہ مجھے پورا ڈیڑھ گھنٹہ تقریبا پچاس ڈگری سینٹی گریڈ میں اصیل ککڑ بنائے رکھا۔ چوتھا پیریڈ ختم ہونے پر جب میں ککڑ سے انسان کی جون میںواپس آیا تو کھڑا ہونے کی کوشش میں گرگیا اور اگلے دو پیریڈ بے ہوشی کے مزے لوٹے۔
اگلے تین سال وہی شکایتی ٹٹو مجھے ”عباس صاحب ”پھُٹ“ گئے “ کہہ کر چھیڑتا رہا۔ وہ تو جب میں نویں میں پہنچا اور ہتھ چھٹ ہوا اور ایک فرزبی کے میچ میں اس کی پھینٹی لگائی تو پھر اس نے میری ”عزت“ کرنی شروع کی!
یہ مئی کے اواخر کا واقعہ ہے۔ تیسرا اور چوتھا پیریڈ عباس صاحب کا ہوتا تھا جو ہمیں سائنس اور معاشرتی علوم سکھانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ اس دن وہ چھٹی پر تھے، ان کی جگہ جو استاد پیریڈ لینے کے لئے آئے تھے وہ پانچ منٹ کے بعد ہی کلاس کو مانیٹر کے حوالے کرکے ”ضروری“ کام سے چلے گئے۔ اب میں تھا اور میری رعایا۔ اسی اثناء میں ساتویں کلاس کا ایک لڑکا ہماری جماعت میں داخل ہوا اور مجھ سے پوچھا، ”عباس صاحب کہاںہیں؟“ ۔ زبان پھسلنے کی بیماری مجھے بچپن سے ہی ہے۔ میرا جواب تھا ”عباس صاحب آج ”پھُٹ“ گئے ہیں“۔ بس جی اس کمینے نے اگلے دن یہی ”بےضرر“ سی بات ان کو نمک مرچ اور نمبو لگا کے بتادی۔ اگلے دن تیسرے پیریڈ کے شروع ہوتے ہی انہوں نے اپنی مخصوص روبوٹ جیسی آواز میں کہا۔ ”موونییٹرررر کہاںںں ہےےے؟“۔ میں ان کی کرسی کے دائیں جانب جا کر کھڑا ہوگیا۔ اس میں بھی ایک مصلحت تھی۔ وہ یہ کہ انکے سیدھے ہاتھ کا انگوٹھا اور شہادت کی انگلی کسی نامعلوم وجہ سے بہت موٹی تھیں۔ لہذا جب وہ سیدھے ہاتھ سے کان مروڑتے تھے تو اتنا درد نہیں ہوتا تھا۔ لیکن جناب، انہوں نے اس دن کان نہیںمروڑے بلکہ مجھے پورا ڈیڑھ گھنٹہ تقریبا پچاس ڈگری سینٹی گریڈ میں اصیل ککڑ بنائے رکھا۔ چوتھا پیریڈ ختم ہونے پر جب میں ککڑ سے انسان کی جون میںواپس آیا تو کھڑا ہونے کی کوشش میں گرگیا اور اگلے دو پیریڈ بے ہوشی کے مزے لوٹے۔
اگلے تین سال وہی شکایتی ٹٹو مجھے ”عباس صاحب ”پھُٹ“ گئے “ کہہ کر چھیڑتا رہا۔ وہ تو جب میں نویں میں پہنچا اور ہتھ چھٹ ہوا اور ایک فرزبی کے میچ میں اس کی پھینٹی لگائی تو پھر اس نے میری ”عزت“ کرنی شروع کی!
عشق مجازی / عشق حقیقی
(اسد علی کی نذر)
ارشاد:کہاں سے سنی ہے محبت کی تعریف؟
سراج : ہر ایک جگہ سے سنی ہے سرکار۔ مسجد سے، مندر سے، ریڈیو ٹی وی سے، سٹیج سے، جلسے جلوس سے لیکن دکھائی نہیں دیتی ۔۔۔ پکڑائی نہیں دیتی۔۔۔ ہوتی نہیںحضور۔
ارشاد:محبت وہ شخص کرسکتاہے سراج صاحب جو اندر سے خوش ہو، مطمئن ہو اور پُرباش ہو۔ محبت کوئی سہ رنگا پوسٹر نہیں کہ کمرے میںلگالیا۔۔۔ سونے کاتمغہ نہیں کہ سینے پر سجا لیا ۔۔۔ پگڑی نہیں کہ خوب کلف لگا کر باندھ لی اور بازار میں آگئے طرہ چھوڑ کر۔ محبت تو آپ کی روح ہے۔۔۔۔ آپ کے اندر کا اندر ۔۔۔ آپ کی جان کی جان ۔۔۔
سراج :بس اسی جان کی جان کو دیکھنے کی آرزو رہ گئی ہے حضور! آخری آرزو!!
ارشاد : لیکن محبت کا دروازہ تو صرف ان لوگوں پر کھلتا ہے سراج صاحب جو اپنی انا اور اپنی ایگو سے اور اپنے نفس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ہم لوگ تو محض افراد ہیں، اپنی اپنی انا کے کھونٹے سے بندھے ہوئے۔ ہمارا کوئی گھر بار نہیں ۔۔۔ کوئی آگا پیچھا نہیں ۔۔۔ کوئی رشتہ نہیں ۔۔۔ کوئی تعلق نہیں۔ ہم بے تعلق اور نارشتہ دار سے لوگ ہیں۔
سراج :بے تعلق لوگ ہیں حضور ؟
ارشاد:اس وقت اس دنیا کا سب سے بڑا مرض اور سب سے بڑی Recession محبت کی کمی ہے ۔۔۔۔ اور آج دنیا کا ہر شخص اپنی اپنی پرائیویٹ دوزخ میں جل رہا ہے اور چیخیں ماررہا ہے ۔۔۔۔ اور ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دنیا کی حکومتیں اس روحانی کساد بازاری کو اقتصادی مندے سے وابستہ کررہی ہیں۔
سراج :(اصل موضوع نہ سمجھ کر ۔۔۔ ذرا رک، ڈر کر، شرما کر) ویسے سر، محبت گو مشکل سہی لیکن اپنا یہ ۔۔۔ عشق مجازی تو آسان ہے۔
ارشاد :عشق مجازی بھی اسی بڑے پیڑ کی ایک شاخ ہے سراج صاحب! یہ بھی کچھ ایسا آسان نہیں۔
سراج:آسان نہیںجی؟
ارشاد :دیکھئے! اپنی انا اور اپنے نفس کو کسی ایک شخص کے سامنے پامال کردینے کا نام عشق مجازی ہے اور اپنی انا اور اپنے نفس کو سب کے آگے پامال کردینے کا نام عشق حقیقی ہے۔ معاملہ انا کی پامالی کا ہے ہر حال میں!
بابا جی اشفاق احمد کی تحریر ”منچلے کا سودا“ سے ایک اقتباس
ایسے ہوتی ہے گائیکی!
حیراں ہو دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
استاد جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کمانڈو خاں صاب
یہاں دیکھئے اور سر دھنیئے
استاد جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کمانڈو خاں صاب
یہاں دیکھئے اور سر دھنیئے
مُنّا سلانے کے آسان طریقے
ہمارے ایک دوست نے لوڈ شیڈنگ کے نقصانات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ہے کہ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ”اوپر پنکھا چلتا ہے ۔۔۔ نیچے مُنّا سوتا ہے“۔
ان کی اس فکرمندی پر یار لوگوں نے کتاب چہرہ پر اپنے اپنے لچ تلے ہیں۔ آخر میں بات مُنّے کو سلانے کے طریقوں تک آپہنچی ہے۔ تو حاضر ہیں مُنّا سلانے کے آسان طریقے۔
مُنّے کو سارا دن جگائے رکھیں۔ سونا بھی چاہے تو زبردستی اٹھادیں۔ بجلی موجود بھی ہو تو مین سوئچ آف کردیں تاکہ مُنّا کسی بھی طرح سو نہ سکے۔ اسکا نتیجہ یہ نکلے گاکہ مُنّا شام ڈھلتے ہی سونے کے بہانے ڈھونڈتا پھرے گا۔ نو بجے تک کسی بھی طرح اسے جگائے رکھیں۔ اس کے لئے آئس کریم، کارٹون، ٹافیاں وغیرہ آپ کے بہترین معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ دس بجے تک یقیناً مُنّے کے حالات نہایت نازک ہوچکے ہوں گے۔ بس یہی وقت ہے اسے سلانے کا۔ اب جب مُنّا سوئے گا تو صبح کی خبر ہی لائے گا۔ چاہے پنکھا چلے یا نہ چلے، مُنّا نہیں اٹھے گا۔ اب آپ اپنے تمام ”ضروری کام“ سہولت اور آسانی سے نمٹا سکتے ہیں!
دوسراطریقہ کچھ ظالمانہ ہے! مُنّے کے سونے کا وقت تو پتہ ہی ہوگا آپ کو۔ تو اس کے سونے سے 15 منٹ پہلے مُنّے کی بلاوجہ ایک پھینٹی لگائیں اور مُنّے کو اس کی اماں کے حوالے کردیں۔ رونے کے بعد بندہ ہو یا مُنّا اس کو نیند بہت گہری آتی ہے! اس کا ثبوت؟؟؟ اس کا ثبوت یہ شعر ہے۔
کل اچانک یاد وہ آیا، تو میں رویا بہت
روتے روتے سوگیا میں، اور پھر سویا بہت
مُنّے کے سونے کے بعد تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ کیا کرنا ہے! اور اس شعر میں آپ، یاد، کی جگہ اپنی مرضی کا کوئی بھی ”موزوں“ لفظ استعمال کرسکتے ہیں۔
یہ والا طریقہ ”اشد ضرورت“ کے تحت ہی استعمال کریں۔ اس کا باقاعدہ استعمال آپ کے مُنّے کو بڑا ہو کر پائلٹ کی بجائے جہاز کے درجے پر بھی فائز کرسکتا ہے۔ تھوڑی سی افیم مُنّے کے فیڈر میں ملادیں۔ بس پھر اس کے بعد آپ آزاد ہیں!
”اشد ضرورت“ والا انتباہ یاد رکھیں!
یہ طریقے آزمانے کے بعد بھی اگر افاقہ نہ ہو تو جوابی ڈاک سے مطلع کریں۔
کچھ اور نسخے بھی ہیں لیکن ان کے لئے آپ کو اپنی جیب ڈھیلی کرنی پڑے گی۔
ان کی اس فکرمندی پر یار لوگوں نے کتاب چہرہ پر اپنے اپنے لچ تلے ہیں۔ آخر میں بات مُنّے کو سلانے کے طریقوں تک آپہنچی ہے۔ تو حاضر ہیں مُنّا سلانے کے آسان طریقے۔
مُنّے کو سارا دن جگائے رکھیں۔ سونا بھی چاہے تو زبردستی اٹھادیں۔ بجلی موجود بھی ہو تو مین سوئچ آف کردیں تاکہ مُنّا کسی بھی طرح سو نہ سکے۔ اسکا نتیجہ یہ نکلے گاکہ مُنّا شام ڈھلتے ہی سونے کے بہانے ڈھونڈتا پھرے گا۔ نو بجے تک کسی بھی طرح اسے جگائے رکھیں۔ اس کے لئے آئس کریم، کارٹون، ٹافیاں وغیرہ آپ کے بہترین معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ دس بجے تک یقیناً مُنّے کے حالات نہایت نازک ہوچکے ہوں گے۔ بس یہی وقت ہے اسے سلانے کا۔ اب جب مُنّا سوئے گا تو صبح کی خبر ہی لائے گا۔ چاہے پنکھا چلے یا نہ چلے، مُنّا نہیں اٹھے گا۔ اب آپ اپنے تمام ”ضروری کام“ سہولت اور آسانی سے نمٹا سکتے ہیں!
دوسراطریقہ کچھ ظالمانہ ہے! مُنّے کے سونے کا وقت تو پتہ ہی ہوگا آپ کو۔ تو اس کے سونے سے 15 منٹ پہلے مُنّے کی بلاوجہ ایک پھینٹی لگائیں اور مُنّے کو اس کی اماں کے حوالے کردیں۔ رونے کے بعد بندہ ہو یا مُنّا اس کو نیند بہت گہری آتی ہے! اس کا ثبوت؟؟؟ اس کا ثبوت یہ شعر ہے۔
کل اچانک یاد وہ آیا، تو میں رویا بہت
روتے روتے سوگیا میں، اور پھر سویا بہت
مُنّے کے سونے کے بعد تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ کیا کرنا ہے! اور اس شعر میں آپ، یاد، کی جگہ اپنی مرضی کا کوئی بھی ”موزوں“ لفظ استعمال کرسکتے ہیں۔
یہ والا طریقہ ”اشد ضرورت“ کے تحت ہی استعمال کریں۔ اس کا باقاعدہ استعمال آپ کے مُنّے کو بڑا ہو کر پائلٹ کی بجائے جہاز کے درجے پر بھی فائز کرسکتا ہے۔ تھوڑی سی افیم مُنّے کے فیڈر میں ملادیں۔ بس پھر اس کے بعد آپ آزاد ہیں!
”اشد ضرورت“ والا انتباہ یاد رکھیں!
یہ طریقے آزمانے کے بعد بھی اگر افاقہ نہ ہو تو جوابی ڈاک سے مطلع کریں۔
کچھ اور نسخے بھی ہیں لیکن ان کے لئے آپ کو اپنی جیب ڈھیلی کرنی پڑے گی۔
درج بالا تحریر کو خاندانی منصوبہ بندی والوں اور مُنّوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔
طبیعت زیادہ ”خراب“ ہو تو تیسرا نسخہ استعمال کریں۔
آٹو گراف
کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے
کتابچے لئے ہوئے
کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں
ڈھلکتے آنچلوں سے بےخبر حسین لڑکیاں
مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھے
ابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے
پُر ہراس قافلے
گرے، بڑھے، مڑے بھنور ہجوم کے
کھڑی ہیںیہ بھی راستے پہ اک طرف
بیاضِ آرزو بکف
نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں
لرز رہا ہے دم بہ دم
کمان ابرواں کا خم
کوئی جب ایک نازِ بے نیاز سے
کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیا
حروفِ کج تراش کی لکیر سی
تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی
کسی عظیم شخصیت کی تمکنت
حنائی انگلیوں میں کانپتے ورق پہ جھک گئی
تو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز
نبض رک گئی!
کتابچے لئے ہوئے
کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں
ڈھلکتے آنچلوں سے بےخبر حسین لڑکیاں
مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھے
ابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے
پُر ہراس قافلے
گرے، بڑھے، مڑے بھنور ہجوم کے
کھڑی ہیںیہ بھی راستے پہ اک طرف
بیاضِ آرزو بکف
نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں
لرز رہا ہے دم بہ دم
کمان ابرواں کا خم
کوئی جب ایک نازِ بے نیاز سے
کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیا
حروفِ کج تراش کی لکیر سی
تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی
کسی عظیم شخصیت کی تمکنت
حنائی انگلیوں میں کانپتے ورق پہ جھک گئی
تو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز
نبض رک گئی!
وہ باؤلر ایک مہ وشوں کی جمگھٹوں میں گھر
گیا
وہ صفحہء بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں
پھری
حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری
گیا
وہ صفحہء بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں
پھری
حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری
میں اجنبی میں بے نشاں
میں پابہ گل!
نہ رفعتِ مقام ہے نہ شہرتِ دوام ہے
یہ لوحِ دل ۔۔۔ یہ لوحِ دل!
نہ اس پر کوئی نقش ہے نہ اس پر کوئی نام ہے
میں پابہ گل!
نہ رفعتِ مقام ہے نہ شہرتِ دوام ہے
یہ لوحِ دل ۔۔۔ یہ لوحِ دل!
نہ اس پر کوئی نقش ہے نہ اس پر کوئی نام ہے
مجید امجد