ہنسنے نہیں دیتا، کبھی رونے نہیں دیتا

ہنسنے نہیں دیتا، کبھی رونے نہیں دیتا
یہ دل تو کوئی کام بھی ہونے نہیں‌ دیتا
تم مانگ رہے ہو مرے دل سے مری خواہش
بچہ تو کبھی اپنے کھلونے نہیں دیتا
میں آپ اٹھاتا ہوں شب و روز کی ذلت
یہ بوجھ کسی اور کو ڈھونے نہیں دیتا
وہ کون ہے اس سے تو میں‌واقف بھی نہیں‌ ہوں
جو مجھ کو کسی اور کا ہونے نہیں دیتا
(عباس تابش )

اقوال سیاہ

جھوٹ کی تین اقسام ہوتی ہیں 1- جھوٹ 2- سفید جھوٹ 3- اعداد و شمار (مشتاق یوسفی)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فقیر کی گالی ، عورت کے تھپڑ اور مسخرے کی بات سے آزردہ نہیں ہونا چاہئے۔ (مشتاق یوسفی)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دور کے رشتے دار سب سے اچھے ہوتے ہیں ، جتنے دور کے ہوں اتنا ہی بہتر ہے۔ (شفیق الرحمن)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جس طرح آج کل کسی کی عمر اور تنخواہ دریافت کرنا بری بات سمجھی جاتی ہے اسی طرح بیس سال بعد کسی کی ولدیت پوچھنا بد اخلاقی سمجھی جائے گی ۔ (مشتاق یوسفی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بچوں کو پالتے وقت احتیاط کیجئے کہیں وہ ضرورت سے زیادہ نہ پل جائیں ۔ (شفیق الرحمن)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
گھر میں دو تین بچے ہوں تو لاڈلے بنا دئیے جاتے ہیں لہذا بچے ہمیشہ دس بارہ ہونے چاہیئں تاکہ ایک بھی لاڈلا نہ بن سکے ! (شفیق الرحمن)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔ (مشتاق یوسفی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
در حقیقت زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں، کم از کم ایشیا میں! (مشتاق یوسفی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ماہرین کا خیال ہے کہ عورتوں کو سنجیدہ مرد اس لئے پسند آتے ہیں کہ انہیں یونہی وہم سا ہو جاتا ہے کہ ایسے حضرات ان کی باتیں غور سے سنتے ہیں !! (شفیق الرحمن)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محبوب کی سالگرہ یاد رکھیے لیکن اس کی عمر بھول جائیے۔ (شفیق الرحمن)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ ہمیشہ یاد رکھئے کہ جیسے جیسے محبوب کی عمر بڑھتی جائے گی وہ اپنی امی کی طرح ہوتے جائے گی۔ (شفیق الرحمن)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
:lol: :lol: :lol:
آج کے لئے اتنا ہی۔۔۔ باقی پھر کبھی

شہر دی کُڑی

بُلاّں اُتّے سُرخی مَل کے
کوٹھے اُپّر چڑھدی اے
وحشیاں وانگوں رنگ برنگے
فلمی پرچے پڑھدی اے
وچوں وچوں چور اکھّاں نال
پَوڑیاں وَل وی تکدی اے
نویں ویائی ووہٹی وانگوں
لوکاں کولوں جھکدی اے
سِدھیاں سِدھیاں چیزاں دا وی
پُٹھّا مطلب لیندی اے
کَلّیاں بہہ کے گندیاں گندیاں
گَلاّں سوچدی رہندی اے
(منیر نیازی)

بہت بے آبرو ہو کر ۔۔۔۔

دو دن پہلے ایک خبر پڑھی ” بھکر میں‌ ہیجڑوں نے گورنر راج اور سلمان تاثیر کی حمایت میں ایک جلوس نکالا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پنجاب میں ایک ایسی حکومت آئی ہے جو ان کی اپنی حکومت ہے اور سلمان تاثیر جیسے حکمران ان کے مسائل حل کرسکتے ہیں“
زرداری اور ان کی پالیسیوں ( اگر ان کو پالیسی کہا جا سکتاہے تو) اس سے اچھا خراج تحسین پیش نہیں‌کیا جا سکتا۔ پورے پاکستان میں‌ان کو سوائے ہیجڑوں اور الطاف حسین کے، کسی کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ حتی کہ جمعیت علمائے حضرت مولانا کے تا حیات امیر جو ضرورت پڑنے پر شیطان کے حق میں بھی دلیل گھڑ سکتے ہیں وہ بھی چپ ہیں۔
پی پی سے چاہے جتنا بھی اختلاف کرلیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کی جڑیں عوام میں ہیں اور پچھلے کم و بیش 40 سال سے اسٹیبلشمنٹ اس میں نقب لگانے کی کوشش کررہی ہے۔ کیونکہ ان قوتوں کو کوئی ایسی جماعت یا لیڈر سوٹ نہیں‌کرتا جو عوام کی بات کرتا ہو اور مقبول ہو۔ بھٹو کو پھانسی لگی لیکن پی پی زندہ رہی، بے نظیر کو بے بسی کی موت مار دیا گیا لیکن پی پی زندہ رہی۔ لیکن اس مرتبہ پی پی کا اسٹیبلشمنٹ کے وار سے بچنا بظاہر ممکن نہیں‌لگتا۔ جو کام ایوب، یحیی، ضیاء اور مشرف پوری حکومتی مشینری کی حمایت کے باوجود نہیں کر سکے وہ زرداری، تاثیر، نائیک، کھوسہ اور بابر اعوان جیسے باریک کام کے فنکار کر گزریں‌گے۔
پی پی کے وہ رہنما جو بی بی کے معتمد تھے مثلا ناہید خان، اعتزلز احسن، جہانگیر بدر، امین فہیم وغیرہ ان کو چن چن کر کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔ وہ جماعت جس کو جناب صدر نے قاتل لیگ قرار دیا تھا اور بی بی نے اس کے ایک لیڈر کو اپنے قتل کی سازش میں‌ ملوث قرار دیا تھا ، زرداری صاحب ان کے ساتھ ایوان صدر میں لنچ اور ڈنر اڑا رہے ہیں۔ اگر یہ مفاہمت کی سیاست ہے تو منافقت کی سیاست کیسی ہوتی ہوگی؟؟؟ اور مفاہمت بھی ساری کی ساری دوسروں کے لئے ہے۔ شریف برادران کا مکو ٹھپنے کے لئے سارے حربے جائز ہیں۔ چاہے ڈوگر کورٹ کا استعمال ہو یا ہیجڑوں کے پسندیدہ گورنر پنجاب، جن کی زبان پنجابی کے ایک محاورے کے مطابق نیفے تک لٹکتی ہے، کی فنکاریوں کی کاریگری۔۔
گردش ایام دیکھیے وہ جماعت جس کا بانی بھٹو تھا اب کہاں‌ آ پہنچی ہے کہ اس کو حمایت کے لئے ہیجڑوں کا مرہون منت ہونا پڑا ہے ۔۔۔
نکلنا سنتے آئے تھے آدم کا خلد سے لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

محبت ذات ہوتی ہے

محبت ذات ہوتی ہے
محبت ذات کی تکمیل ہوتی ہے
کوئی جنگل میں‌ جا ٹھہرے ، کسی بستی میں بس جائے
محبت ساتھ ہوتی ہے
محبت خوشبوؤں کی لَے
محبت موسموں‌ کی دُھن
محبت آبشاروں‌ کے نکھرتے پانیوں‌کا مَن
محبت جنگلوں میں‌ رقص کرتی مورنی کاتن
محبت برف پڑتی سردیوں میں دھوپ بنتی ہے
محبت چلچلاتے گرم صحراؤں میں ٹھنڈی چھاؤں کی مانند
محبت اجنبی دنیا میں اپنے گاؤں کی مانند
محبت دل
محبت جاں
محبت روح کا درماں
محبت مورتی ہے
اور کبھی جو دل کے مندر میں کہیں‌ پر ٹوٹ جائے تو
محبت کانچ کی گڑیا
فضاؤں میں‌کسی کے ہاتھ سے گر کر چھوٹ جائے تو
محبت آبلہ ہے کرب کا
اور پھوٹ جائے تو
محبت روگ ہوتی ہے
محبت سوگ ہوتی ہے
محبت شام ہوتی ہے
محبت رات ہوتی ہے
محبت جھلملاتی آنکھ میں برسات ہوتی ہے
محبت نیند کی رت میں‌ خوابوں کے رستوں‌ پر سلگتے
جاں کو آتے رتجگوں کی گھات ہوتی ہے
محبت جیت ہوتی ہے
محبت مات ہوتی ہے
محبت ذات ہوتی ہے
" فرحت عباس شاہ "

شاہد کپور اور احسان صاحب

ایک دو دن پہلے شاہد کپور کی نئی فلم "کمینے" کا ٹریلر دیکھا۔ اس میں‌ وہ ایک توتلے کا کردار ادا کر رہاہے جو س اور ش کو ف بولتا ہے۔ اب اس کا ڈایلاگ دیکھیے۔
" تین فال سے فکل بھی نہیں‌ دیکھی میں‌ نے اف کی"
kaminey

اس سے مجھے اپنے ایک استاد یاد آگئے جو دسویں‌ میں ہمیں‌ ریاضی اور کیمسٹری پڑھاتے تھے۔ نام ان کا احسان الحق تھا اور نک نیم "چِینا" تھا اوہو پریشان نہ ہوں یہ نک نیم مطلب ۔۔۔ چھیڑ ۔۔۔ :grin: میری ہی ڈالی ہوئی تھی ۔۔۔ جی جی بالکل بہت بدتمیزی کی بات ہے لیکن آپ نے بھی تو رکھے ہوں‌ گے اپنے استادوں‌کے نک نیم۔۔۔ ہاں‌ ہاں‌۔۔۔ یہ دبی دبی ہنسی بتا رہی ہے کہ ایسا ہی ہے۔۔ ۔بہر حال ہمارے سر بھی B کو V پڑھتے تھے اور جیسا پہلے لکھ چکا ہوں‌ کہ پڑھاتے بھی ریاضی اور کیمسٹری تھے تو ہماری تو واٹ لگ جاتی تھی جب وہ زبانی کچھ بھی پڑہاتے تھے ۔۔۔ تھے بھی بہت جبر جنگ ۔۔۔ ایک سے دوسری دفعہ پوچھنے پر ایسے گھورتے تھے کہ بس جیسے ابھی گراؤنڈ میں‌ لے جا کر پھانسی دے دیں‌ گے۔۔۔ لہذا ہم سیاق و سباق کی مدد سے سمجھ لیتے تھے کہ یہاں‌ کیا مراد ہے B یا V
ایک خوشگوار دن جب ہم بہت خوش تھے (یہ مت پوچھیے کیوں؟ آپ کو خود معلوم ہونا چاھیے کہ ایک دسویں‌کا نوجوان صبح صبح کیوں خوش ہوتا ہے :grin: ) اور سر جی کچھ پڑ ھا رہے تھے " اے سکویر پلس وی سکویر" ہم نے لقمہ دے دیا " سر! بی یا وی" تو بولے "وی نہیں‌ و ی ی ی" تو صاحب کلاس میں وہ ہنسی کا فوارہ چھوٹا کہ کچھ مت پوچھیں‌ اور اس کے بعد میرے ساتھ کیا ہوا وہ تو بالکل ہی مت پوچھیں ۔۔۔ :roll:
بہرحال اکر سر احسان صاحب یہ پڑھ رہے ہوں‌ تو میں‌کہنا چاہتاہوں‌کہ سر جی! آج جو کچھ بھی ہیں‌ وہ اللہ کی رحمت کے بعد آپ کی وجہ سے ہیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔