کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

سچ بولنا نہیں، سچ سننا، مشکل ہے۔ وہ بھی اپنے بارے میں !
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کسی کو یاد کرنے کے لئے پہلے اسے بھولنا ضروری ہے !
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسان فطرتاً کمینہ ہے!! اس کے اچھا یا براہونے کا انحصار، کمینگی کی مقدار اور معیار پر ہوتا ہے!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کنوارا ہونے کا کیا فائدہ ہے؟ بندہ بیڈ کی دونوں اطراف سے نیچے اتر سکتا ہے!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شادی شدہ ہونے کا کیا فائدہ ہے؟ پتہ چل جاتا ہے کہ منکر نکیر حساب کیسے لیں گے!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عالم اور جاہل میں فرق:- عالم: ”آپ کے والد تشریف لائے تھے“۔ جاہل: ”تیری ماں دا کھسم آیا سی“۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عشق اور محبت میں وہی فرق ہے جو آقا اور غلام میں ہوتا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
”چوّل“ اور بلاگ میں کیا فرق ہے، بلاگ اپنے لیئے اور چوّل دوسروں کو نصیحت کیلیے ماری جاتی ہے!

ہوشیار باش!
درج بالا چوّلوں میں‌ سے کچھ تو میری ذاتی ہیں اور کچھ اتنی استعمال کرچکا ہوں کہ ذاتی لگنے لگی ہیں!
ان کے جملہ حقوق غیر محفوظ ہیں‌اور کوئی بھی اپنی ذمہ داری پر اپنے نام سے استعمال کرسکتاہے۔
حامل ہذا تحریر کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔

مزید بوریت

جی ہاں۔۔۔ تک بند شاعر پھر حاضر خدمت ہے۔۔۔ ملاحظہ فرمائیں اور بور ہوکر شکریہ کا موقع دیں۔۔

صحرا ہے، پیاس ہے اور میں ہوں
دھیرے دھیرے بجھتی آس ہے اور میں ہوں

بے منزل رستوں کا سفر ہے زندگی
رائیگانی کا احساس ہے اور میں ہوں

جانے کیا خطا کی تھی جو یہ سزا پائی
عمر بھر کا بن باس ہے اور میں ہوں

اس بیوپار میں سود بھی زیاں ہے
غمِ ہجر کی راس ہے اور میں‌ ہوں

یہ اندوہِ وفا ہے کہ نارسائی ہے
پارسائی کا قیاس ہے اور میں ہوں

ٹوتھ پیسٹ ملی بریانی

انتباہ: کمزور دل خواتین و حضرات کھانے سے تو کیا پڑھنے سے بھی گریز کریں !!!



قارئین کے پرزور اصرار پر (اور مختلف بلاگز پر کھانوں کی ترکیبیں‌دیکھ دیکھ کر) میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ‌اپنا ترکیبوں کا لچ تلوں گا۔ تو اس سلسلے کی پہلی ترکیب حاضر ہے ۔ اجزاء درج ذیل ہیں
1- خوش ذائقہ ٹوتھ پیسٹ کی بڑی ٹیوب
2- چاٹ مصالحے کے 5 ڈبے
3- بھنڈیاں
4- دو دانے چاول (اچھی طرح صاف کئے ہوئے!)
5- کاسٹک سوڈا (حسب ذائقہ)
6- نمک (15 بڑے چمچ)
7- مرچیں (جتنی آسانی سے لگ جائیں)
8- کریلوں کا جوس (دو چائے کے چمچ)
ٹوتھ پیسٹ کو ایک بڑے پتیلے میں نکال لیں اور اس پر چاٹ مصالحہ چھڑک کر اچھی طرح ملا لیں، خیال رکھیں کہ پیسٹ کا پانی نہ نکلے۔ پھر بھنڈیاں بغیر دھوئے اور بغیر کاٹے ایک جگ میں ڈالیں‌اور اس میں‌ پونے دو گلاس پانی ڈال دیں ۔ کاسٹک سوڈا حسب ذائقہ شامل کریں اور پلیٹ سے ڈھانپ کر دھوپ میں رکھ دیں‌۔ چاول اچھی طرح بھگو کر ابال لیں اور نمک مرچ ابالنے کے دوران ہی ڈال دیں۔ کریلوں‌ کا جوس شامل کرکے چاولوں‌ کودم دے دیں۔ چاولوں کو دم آنے کے بعد، دھوپ میں رکھی ہوئی کاسٹک سوڈا ملی بھنڈیاں بھی شامل کردیں۔ اور ان سب کو اچھی طرح ہلا لیں۔ آخر میں چاٹ مصالحے والا ٹوتھ پیسٹ چاولوں‌ کے اوپر برابر پھیلا کر 40 منٹ کے لئے تیز آنچ پر دم دے دیں۔
بس مزیدار ٹوتھ پیسٹ ملی بریانی تیار ہے۔