رنگ گورا کرنے کے طریقے


رنگ گورا کرنے کی جدوجہد میں اس خطّے کے مکین ازمنہ قدیم سے  مصروف ہیں۔ کرتوت چاہے شب دیجور جیسی ہو،  رنگ البتہ عمران خان جیسا ہونا چاہیے۔ حالانکہ اس سے دس فیصد جدوجہد بھی کرتوت چٹّے کرنے کے لیے ہوجاتی تو بیڑے پار ہوجانے تھے۔ بہرحال سانوں کیہ۔ ہم تو اس سلسلے میں چند ٹوٹکے  آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ گر قبول افتد۔۔۔
سب سے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ آپ کسی انگریز، بٹ ، شیخ یا  پٹھان کے گھر پیدا ہوجائیں۔  ویسے تو بٹ بھی آج کل کافی ڈارک براون آرہے ہیں  لیکن اس کی وجہ ملاوٹ سے زیادہ آباو اجداد بدلنا ہے۔ جس کے حالات بدلیں سب سے پہلے وہ اپنے ابّے کو لوہار، موچی، نائی، ترکھان، جلُاہے سے رانا، بھّٹی، سیّد، بٹ ، شیخ وغیرہ بنادیتا ہے۔  ہمارے محلّے کے ایک بزرگ کہا کرتے تھے  کہ جو ڈارک براون بندہ خود کو بٹ یا شیخ کہے تو  یا تو اس کے نسب میں فرق ہوتا ہے یا کسب میں۔ خوش قسمتی سے گورا بچّہ پیدا ہوبھی جائے تو سارا کریڈٹ انگریزوں کو دینے کا رواج بھی ہے کہ   "انگریز  دا بچہ لگد  ااے "۔ اب اس پر اس بچّے کے ابےّ کے تاثرات ہمیں کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ حالانکہ یہ سیدھا سادھا  آنر کلنگ کا کیس بنتا ہے۔
ایک عام تاثّر یہ بھی ہے کہ دودھ وغیرہ پینے سے رنگ گورا ہوجاتا ہے یہ بالکل غلط تاثّر ہے۔ ایسی بات ہوتی تو سارے کٹّوں کا رنگ پولر بئیر جیسا ہوجاتا جو کہ نہیں ہوا لہذا اس فریب میں مت آئیے ۔ اس کی بجائے بغیر دودھ اور چینی کی کافی پیئں۔ امریکی پیتے ہیں اور ان کے رنگ تو آپ نے دیکھے ہوں گے کہ چٹّے سفید ہوتے ہیں۔  بس گرمیوں میں ذرا یرقان وغیرہ کا خطرہ ہوسکتا ہے لیکن رنگ گورا کرنے کے لیے اتنا رسک تو لیا ہی جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ رنگ چٹّا کرنے کے لیے آپ کو چاہیے کہ فلور مل میں کام شروع کردیں۔ ایک تو پیسے ملیں گے اور رنگ مفت میں گورا ۔ نہانے سے البتہ تین چار مہینے پرہیز کریں تا کہ رنگ "پکاّ" ہوجائے ۔ بارش وغیرہ میں گھومنے سے بھی پرہیز کریں۔ اس کے علاوہ آٹا  اگر مہنگا ہوجائے تو آپ اپنارنگ اتار کے اس  سے تین چار دن کی روٹیاں بھی پکاسکتے ہیں۔  کیونکہ ٹڈّھ نالوں گوڈے اگّے نئیں ہندے اور ہم خرما و ہم ثواب۔۔۔
یہ طریقہ خاص طور پر خواتین کے لیے ہے۔ تمام خواتین کو چاہیے کہ وہ بیوٹیشن بن جائیں۔ اور جرابیں پہن کے رکھا کریں ۔ اس کی مصلحت یہ ہے کہ  پیروں کا میک اپ کرنا اکثر کافی دشوار ہوتا ہے اور بھول چوک بھی ہوجاتی ہے ۔ ہم نے بیوٹی پارلر سے تیار ہوکے آئی خواتین کو جب  بھی ایک دن بعد دیکھا تو ان کی عمر اور رنگ میں دس  سال اور نوے فیصد کا فرق تھا۔ لہذا جب تمام خواتین ہی بیوٹیشن ہوں گی تو یہ فرق کبھی سامنے نہیں آسکے گا۔ بس وہ جرابوں والی احتیاط نہ بھولیں اور کچن وغیرہ میں جانے سے بھی حتی الامکان پرہیز  کریں۔
سب سے اہم بات آخر میں ہی بیانی جاتی ہے جیسے فلم کے کریڈٹس چل رہے ہوں تو سب سے اہم اداکار کا نام سب سےاخیر میں ہی دیا جاتا ہے جیسے ۔۔۔ اور  مصطفی قریشی۔۔۔  ایک "مِتھ" یہ بھی ہے کہ رنگ گورا کرنے والی کریمیں لگانے سے رنگ گورا ہوجاتاہے اور ہزاروں سال سے  معصوم مرد وزن  اس بات پر یقین کرکے ، منہ اور مختلف جگہوں پر یہ کریمیں رگڑ رگڑ کر رنگ چٹّا کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم آج اس عظیم راز سے پردہ اٹھانا چاہتے ہیں کہ کریم لگانے سے نہیں بلکہ کھانے سے رنگ گورا ہوتا ہے۔ لہذا صبح نہار منہ دو چمچ فئیر اینڈ لولی، دوپہر کو  کھانے کے بعد ایک چمچ پونڈز فئیرنیس کریم اور رات کو  بلیک کافی کے ساتھ کوئی بھی اچھی سی نائٹ کریم کا آدھا چمچ  کھانے سے آپ کا رنگ  افضال چٹّے سے بھی زیادہ چٹّا ہوجائے گا۔ آزمائش شرط ہے۔

سُودِی


 اس دنیا میں میرا سب سے پہلا دوست وہی  ہے۔
نام تو اس کا مقصود احمد ہے لیکن سوائے اپنےابّا کے، میں نےکبھی کسی کو یہ نام پکارتے نہیں سنا۔ وہ سب کے لیے سُودِی ہے۔  وہ  بیک وقت میرا تایا زاد  اور خالہ زاد ہے۔ شاید یہ اس دہرے رشتے کا اثر ہو پر یہ تو اس کے باقی بھائیوں کے ساتھ بھی ہے لیکن ان سے کبھی ایسی انسیت اور دوستی کا احساس نہیں ہوا۔ بہت سارے بہن بھائیوں میں اس کا نمبر کہیں درمیان میں ہے۔ زیادہ بچوں میں سوائے بڑے اور چھوٹے کے باقی سب شامل واجا ہوتے ہیں۔ وہ نہ ماں کے لاڈلے نہ باپ کے  نور نظر۔ نہ دادی کے پیارے اور نہ نانی کے۔ اکثر باپ ، سب سے بڑے کے واری صدقے ہوتے رہتے ہیں اور ماں ، سب سے چھوٹے کے اور بیچ کے بے چارے،  گواچی گاں کی طرح پل ول جاتے ہیں۔
سُودِ ی کی والدہ او ر ہماری تائی  اور خالہ میں بیک وقت ہٹلر اور ہلاکو کی ارواح مقدّسہ اکٹھی ہیں۔  مجھے پہلی دفعہ ان کو غصّے میں دیکھ کے پتہ چلا تھا کہ غصّہ حرام کیوں  ہے۔ ہمارے تایا جنت مکانی، سب سے بڑے تھے اور اسی وجہ سے ہماری دادی کے اتنے لاڈلے تھے کہ ہر روز صبح اپنے ویسپا سکوٹر پر غلام محمد آباد سے جھنگ بازار ماں کے ساتھ ناشتہ کرنے آتے تھے۔  بچپن میں جب ہمیں اللہ میاں سے ڈرایا جاتا تھا تو ننھے ذہن میں ہمیشہ تایا جی کا چہرہ ابھر تا تھا کہ ضرور اللہ میاں بھی ایسے ہی غصیلے اور رعب دار ہوں گے اور گندے بچّوں کو خوب ڈانٹتے ہوں گے۔ اسی عمر میں ہم یہ سوچا کرتے تھے کہ بڑی امی  یعنی ہماری دادی، تایا جی سے ڈرتی کیوں نہیں ہیں؟ حالانکہ وہ اتنے ڈراونے ہیں۔ وہ تو ہمیں بڑے ہونے پر پتہ چلا کہ وہ ان کی اماں تھیں۔  اور ماوں سے تو بڑے بڑے پھنّے خاں ڈر جاتے ہیں، تایا جی مرحوم کیا شے تھے۔
تو ذکر سُودِی کا ہورہا تھا۔ مجھے اور اسے ایک ہی سکول میں داخل کرایا گیا اور ذہنی ہم آہنگی کے باعث ہم دونوں کو ہی وہ سکول پسند نہیں آیا۔ پہلے ہی دن ہم دونوں کھڑکی سے کُود کے بھاگ گئے اور چھٹی تک سکول کے باہر چھپے رہے۔ وہ تو ہماری بڑی بہن جو تیسری یا چوتھی میں پڑھتی تھیں ، چھٹی کے وقت ہمیں گھیر گھار کر لے آئیں اور ہمارے پہلے ہی دن سکول سے پُھٹنے کا ماجرا بیان کیا۔ عام خیال یہی تھا کہ چونکہ پہلا دن تھا شاید اسی لیے بچے گھبرا گئے ہیں۔ اگلے دن ہمیں ایک کافی تنو مند مس سے چپیڑیں بھی کھانی پڑیں اور ہم جوکہ خاندان کے سب سے لاڈلے سپوت گنے جاتے تھے یہ سلوک برداشت نہ کرتے ہوئے پھر نظر بچاکر سُودِی سمیت فرار ہوگئے۔  لگاتار تین دن یہ حرکت کرنے پراباّجی سمجھ گئے کہ یہ یہاں نہیں پڑھیں گے تو اس کے بعد ہمیں ایک اور سکول میں داخل کرایا گیا۔ نئے سکول میں ہم جم گئے اور پانچویں تک دل لگا کر پڑھا۔ اس کے بعد ہمارے سکول بدل گئے۔ اور خاندانی تعلقات میں بھی بدلاو آگیا۔ لیکن ہم ملتے رہے۔ میٹرک کرنے کے بعد ہم  ایک ہی کالج میں گئے۔ تعلقات بحال ہوچکے تھے۔ لہذا اس سے پھر وہی بچپن والی دوستی بصورت دگر شروع ہوگئی جو ختم تو نہیں ہوئی تھی لیکن مدھم پڑ چکی تھی۔
کالج میں آکے میں نے دیکھا کہ سُودِی کچھ بدلتا جارہا ہے۔  بے چین رہنا ،  ہر وقت کسی نہ کسی سرگرمی میں خود کو الجھائے رکھنا، راتوں کو دیر تک گھومنا ، گھر جانے سے ہر ممکن حد تک بچنا۔  اس وقت تو سمجھ نہیں آئی  کہ ایسا کیوں تھا لیکن اب پتہ چلتا  کہ اس کی وجہ وہی تھی جو ہم نے اپنا تایا اور تائی کا ذکر کرتے ہوئے بیانی ہے۔ سُودِی نے سگریٹ نوشی بھی  شروع  کردی تھی ۔ لڑائی جھگڑوں میں آگے رہتا تھا، وہ دور بھی طلباء سیاست کے حوالے سے بہت ہنگامہ خیز تھا۔  ہر جماعت کے اپنے ٹیرر اسکواڈ تھے  اور سُودِی جماعتیوں کا" ون آف دی بیسٹ سولجر "بن چکا تھا۔ اپنی منحنی سی جسامت کے باوجود اس میں پتہ نہیں کونسا جن تھا کہ بڑے بڑے سُورمے اس سے ڈرتے تھے۔  
انہی دنوںکا قصہ ہے ۔ ایف ایس سی کے امتحان ہورہے تھے۔  پیر کوانگلش بی کا پرچہ تھا اور سُودِی اتوار والے دن گیارہ بجے میری طرف آیا۔ اور اپنے مخصوص انداز میں عینک کے اوپر سے جھانک کر بولا، "جعفر حسینا ، چل ،فلم ویکھن چلیے"۔  میں نے اس کو بہتیرا سمجھایا کہ یار کل پرچہ ہے۔ تو وہ کہنے لگا کہ اوئے تینوں کاہدی فکر؟ فکر تے مینوں ہونی چاہیدی اے۔ جنہیں کتاب کھول کے وی نئیں ویکھی۔ بہرحال اس دن ہم نے اے بی سی سینما میں "ریمبو" کی 'اوور دی ٹاپ" دیکھی۔ "ریمبو" اس کا پسندیدہ ترین اداکار تھا۔ اگرچہ بعد میں اس کی جگہ سلطان راہی نے لے لی تھی۔
  مجھے چونکہ سگریٹ  نوشی سے سخت "محبت "ہے تو اس کا  اورمیرا ساری زندگی جو جھگڑا رہا ، وہ فلم دیکھنے کے دوران سگریٹ پینے کا ہی ہوتا تھا۔  اس کے علاوہ مجھے یاد نہیں کہ کبھی زندگی میں ہمارا معمولی سا بھی اٹ کھڑکّا ہوا ہو۔ جو یقینا عجیب بات ہے کہ مجھے برداشت کرنا آسان کام نہیں ۔
ایف ایس سی کے بعد میں نے کالج بدل لیا۔ سُودِی سے ملاقاتیں کم ہونے لگیں۔ انہی دنوں اس کے بارے کچھ عجیب خبریں بھی سننے میں آنے لگیں۔  پھر پتہ چلا کہ اس نے نشہ کرنا شروع کردیا ہے۔  تین تین مہینے کے لیے گھر سے غائب رہنے لگا ہے۔ کبھی کسی کیس میں اندر اور کبھی کسی جھگڑے میں پھٹّڑ۔ پھر بھی جب کبھی اس سے ملاقات ہوتی تھی تو وہ وہی معصوم، بھلامانس اور بے ضرر سُودِی ہی لگتا تھا۔ مجھے اس میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی تھی۔ مجھے تو یہ بھی لگتا تھا کہ یہ نشہ کرنے والی باتیں بھی ایویں افواہیں ہی ہیں۔ کیونکہ اس کی حسِ ظرافت ویسے ہی برقرار تھی اور کسی بھی علّت کا شکار بندے کی سب سے پہلے حس ظرافت ہی مرتی ہے،  چاہے وہ نشہ ہو یا محبّت۔
جیسے ہر بدترین اندیشہ سچ اور امید جھوٹ ثابت ہوتی ہے ویسے ہی ایک دن پتہ چلا کہ وہ منشیات کے بحالی مرکز میں داخل ہے۔  اس سے آگے کی کہانی ، کم ازکم میر ے لیے بڑی تکلیف دہ ہے۔ جیسے ہماری جیلوں سے بندہ پکا مجرم بن کے نکلتا ہے ،  ویسے ہی ان بحالی مراکز سے پکا نشئی۔ سُودِی سے ملاقاتیں  نہ ہونے کے برابر رہ گئیں۔ اس سے آخری ملاقات  ہوئے طویل مدّت گزر گئی۔ میں  بیرون ملک آگیا۔ کبھی کبھار اڑتی اڑتی خبر سننے کو مل جاتی کہ آج کل وہ اندر ہے یا باہر۔ ہرسال پاکستان جانے کے باوجود میں اتنی ہمّت کبھی پیدا نہ کرسکا  کہ اپنے بچپن کے یار سے مل سکوں ۔ سُودِی کی جو حالت سننے کو ملتی تھی میں اس حالت میں اس کو دیکھنا برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ میرے تصّور میں وہی خوش مزاج، معصوم ، ہنستا کھیلتا اور سب کو ہنساتا  سُودِ ی تھا۔ اور میں اس تصّور کو برباد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ خودغرضی ہے۔ پر کبھی کبھار خود غرضی کے بغیر زندگی عذاب بن جایا کرتی ہے۔
کچھ عرصہ پہلے گھر بات کرتے ہوئے خبر ملی کہ سُودِی مرگیا ہے۔
میں نے دل میں سوچا،  مر تو وہ  بہت پہلے گیا تھا ، دفنایا اب  ہے۔ 

دسمبری دُکھڑا


رمضان سے پہلے اور عید کے بعد دھڑادھڑ شادیوں کا موسم ہوتا ہے اور ایسے ایسے بندے کی شادی ہوجاتی ہے کہ رب دیاں رب ای جانے، کہنے کو دل کرتا ہے۔ ایسے ہی سردیوں کے بعد امتحانات کاموسم شروع ہوجاتا ہے جس میں سکولوں، کالجوں کے بچے اور بچیاں، اپنے اپنے سماجی رتبے کے مطابق پرچے، امتحان اور ایگزیمز وغیرہ دیتے ہیں ۔ گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ، پِت اور  آموں کا موسم ہوتاہے ۔اکتوبر، نومبر اجتماعی زچگیوں کا موسم ہوتاہے جو اگرچہ سارا سال ہی جاری رہتا ہے لیکن ان دو مہینوں کی فضیلت کچھ سِوا ہے۔
ان سارے موسموں کے بعد دسمبر آجاتا ہے۔
اور جناب عالی، یہ اجتماعی رنڈی رونے کا موسم ہے۔ جن کی جون میں سپلیاں آئی تھیں، انہیں اب جاکے اس کی تکلیف شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ موسم مزے کا ہوچکا ہوتاہے۔ بجلی آئے یا جائے کوئی پروا نہیں۔ بھوک ٹکا کے لگتی ہے۔ ملائی والی دودھ پتّی پی کے اور مونگ پھلی ٹونگتے ہوئے اگر پرانے دکھ یاد نہیں آنے تو کیا دردانہ بٹ یاد آنی ہے؟ جن کی "سیٹ" بچیوں کی شادی مارچ میں ہوچکی ہوتی ہے تو ان کا تو دسمبر میں سیڈ ہونا بنتا ہی ہے کہ مہینے کے آخر تک انہیں ماموں بننے کی توقع بھی ہوتی ہے۔ مرے پہ سو دُرّے۔
دسمبری سیڈنیس کی سب سے بڑی وجہ ڈائجسٹی وائرس ہے۔ اپنے وصی شاہ جی جیسے عظیم شعراء کی عظیم ترین شاعری "آپ کی پسند" میں بدّو ملہی سے شجاع آباد اور گوجرخان سے بھکر تک کی دوشیزائیں بذریعہ جوابی لفافے کے بھیجتی ہیں اور پھر خود ہی پڑھ پڑھ کے اپنی خوابوں کے شہزادے عرف آئیڈیل کی یاد میں آہیں بھر بھر کے پھٹّڑ ہوتی رہتی ہیں۔ یہ خوابوں کے شہزادے، ان کےخوابوں میں تو بلاناغہ بالترتیب، گھوڑے، سائیکل، موٹر سائیکل، کار وغیرہ میں آتے رہتے ہیں لیکن یہ خواب دیکھ دیکھ کے ان نمانیوں کے چھ چھ بچے ہوجاتے ہیں پر وہ نگوڑے شہزادے، اللہ  جانے کہاں غرق ہوتے ہیں کہ پہنچتے ہی نہیں، پہنچتے ہی نہیں!۔
تو صاحبو، دسمبر میں رات کو سارے کاموں سے فارغ ہوکے حتی کہ چھوٹے کا پیمپر بھی بدل کے جب بندی رضائی میں گھس کے ڈائجسٹ پھرولنا شروع کرتی  ہے اور "آپ کی پسند" یا "آپ کی بیاض" والا صفحہ سامنے آجاتا ہے تو دسمبر تو دردیلا لگنا ہی ہے ۔ یہ درد اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب رضائی کی دوسری طرف سے دھاڑ نما خرّاٹے بھی بلند ہونے لگیں۔ اب اس وقت "خوابوں کا شہزادہ" ہی یاد آئےگا ناکہ میلی بنیان اور شلوار میں خرّاٹے مارتا ہوا دہوش۔
رہے نام اللہ کا۔

تعزیہ


فیصل آباد کی مشہور چیزوں میں آٹھ بازار بھی شامل ہیں۔ ان میں سے ایک جھنگ بازار بھی ہے جس میں ہمارا آبائی گھر تھا۔ جہاں ہم اس دنیائے فانی کو رونق بخشنے کے لیے تشریف لائے تھے۔  بچپن کی ایک بہت ہی مدہم سی یاد کچھ یوں ہے کہ ہمارا گھر جو کہ دوسری منزل پر تھا کہ نچلی منزل دکانوں پر مشتمل تھی، اس میں کافی ساری اجنبی خواتین اور بچے بھرے ہوئے ہیں اور وہ بازار سے گزرتے ہوئے ایک ہجوم کو دیکھ رہے ہیں جن میں کچھ مسجدوں کے ماڈل اور ایسی ہی کچھ اورچیزیں بھی شامل ہیں۔  اور ان میں شامل لوگ کچھ نعرے وغیرہ بھی لگارہے ہیں اور کچھ عجیب سی دھمک نما آوازیں بھی آرہی ہیں۔ ہماری دادی سب گھروالوں اور خاص طور پر بچوں کو منع کرتی ہیں کہ نیچے بالکل نہیں دیکھنا اور کمرے کے اندر  ہی بیٹھے رہنا ہے۔  اس واقعہ کو ہم تعزئیے کے نام سے یاد کرتے تھے  اور ہمیں بڑے ہونے تک اس بات کی جستجو ہی رہی کہ اس میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ ہمیں دیکھنے سے منع کیا جاتا تھا۔
ہم  سکول جانے کی عمر تک پہنچے تو اس گھر سے منتقل ہوکے گلشن کالونی پہنچ گئے۔  وہاں کچھ ایسا چکر تو نہیں تھا لیکن جیسے جیسے ہم تعلیم کے مدارج طے کرتے گئے ، تعزئیے کا تہوار خطرناک سے خطرناک ہوتا چلا گیا۔ پہلے پہل دس محرّم کو نڑوالا چوک سے آگے جانے کی پابندی لگی۔ پھر یہ پابندی جناح کالونی کے گیٹ تک پہنچی۔ اور آخر کار زرعی یونیورسٹی کے گیٹ تک پہنچ گئی۔ وہ تعزئیے جسے لوگ دور دور سے دیکھنے آتے تھے اب ان کا مہینہ شروع ہونے پر فوجی گاڑیوں کا مارچ ہونا شروع ہوگیا جس پر فوجی جوان ہولناک قسم کی مشین گنیں تانے کھڑے ہوتے تھے۔انہی دنوں دیواروں پر وال چاکنگ ہونی شروع ہوگئی جس میں شیعہ حضرات کو یہ بتایا جاتا تھا کہ بھائی جان، آپ کافر ہیں۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ میرا دوست شانی اور نیر عباس عرف پستول شاہ بیٹھے بٹھائے کافر کیسے ہوگئے؟ انہی دنوں ہمارے گلشن کالونی سے بھی ساتویں محرّم کو جلوس برآمد ہونا شروع ہوگیا جو مختلف گلیوں سے گزرتا ہوا ایک مومن سب انسپکٹر صاحب کے گھر جاکے ختم ہوتا تھا۔ انہی دنوں ہمیں پتہ چلا کہ ان جلوسوں کے لائسنس ہوتے ہیں۔ یہ بات ہمیں بڑی عجیب لگی کہ جلوس کا لائسنس؟ یہ ضرور کوئی خطرناک چیز ہوگی۔
کالج جانے تک محرّم  کے آتے ہی ایک خوف کا ماحول چھانا شروع ہوگیا ۔ ڈبل سواری پر پابندی انہی دنوں پہلی دفعہ بھگتی۔  آہستہ آہستہ نو اور دس محرّم بالکل ایسے دن ہوگئے جن میں زندگی بالکل رک جاتی تھی۔ پورا ملک ایسا ہوجاتا تھا جیسے کوئی بھوت پھرگیا ہو۔  ان سنجی گلیوں میں مرزے یار دے دھنادھن کرتے پھرتے تھے۔  مذہبی بحث شاید وہ واحد بحث ہے جس میں ہماری دلچسپی کبھی نہ ہوسکی۔ ہمیں کسی کے ماتم کرنے، کسی کے ختم دلوانے اور کسی کے ٹخنوں سے اونچی شلوار سے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ مسئلہ تو تب کھڑا ہوا جب اپنے عقیدے کی رسومات کی ادائیگی کے لیے ایک اٹھارہ کروڑ کا پورا ملک دس دن کے لیے مفلوج ہونا شروع ہوگیا۔ ہمارے ایک یار جانی نے آج اسی مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جلوسوں پر تمہیں کیوں اتنی تکلیف ہے؟ کیا لانگ مارچ نہیں ہوتے؟ اس پر تو تمہیں کوئی اعتراض نہیں۔ اس وقت تو ہم چپ ہوگئے کہ ۔۔۔خیال خاطر احباب چاہیے ہردم۔۔۔۔ پر سیاسی ریلی اور ان مذہبی رسومات کی ٹھیکیداری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لانگ مارچ نامی شعبدے کسی ایک شہر سے شروع ہوکے چند ہزار بندوں کے ساتھ چلتے ہوئے دوسرے شہر تک جاکے ختم ہوجاتے ہیں اس سے باقی ملک کو کوئی اثر نہیں ہوتا جبکہ ہمارے شیعہ احباب چاہے ہزار بندہ مروالیں، جلوس نکلوانا ان کے مذہب کا اولین فرض بن گیا ہے۔ اب اگر اس پر ذرا غور کیا جائے تو یہ مذہبی رسومات سے زیادہ ایک بہت بڑی تجارتی سرگرمی ہے جس کا سارا اجارہ، مخصوص لوگوں کے پاس ہے۔ جن میں بہت سے لوگوں کے چھپے ہوئے مفادات بھی ہیں۔سانوں کیہ۔ جم جم کمائیاں کرو تے اپنے اپنے بے وقوفاں دی چھِل لاو۔ پر خدا کے لیے کوئی جگہ مخصوص کرلیجئے، ، وہاں دس دن تک جلوس نکالیے، گھوڑ دوڑ کرائیے، ماتم کیجئے، جو آپ کا دل کرے،کیجئے۔ پر پورے ملک کو مفلوج کرنا بند کردیجیے۔ قیمتی جانوں کی حفاظت بھی وہاں آسانی سے ہوسکے گی اور باقی ملک بھی سکون کا سانس لے سکے گا۔
غصہ نہ کرنا، غور کرلینا بس۔

اوبامہ - تیرے جے پُت جمّن ماواں


السید باراک حسین اوبامہ­ دامت برکاتہم عالیہ  و عالم پناہ کُل مسیحانِ عالم
صدر ریاست "ہائے" متحدہ امریکہ (بناصدارتی استثنا والے)

سلام مسنون و گڈ مارننگ وغیرہ

حضورِ والا تبار کی خدمت میں پیشگی مبارکباد کے ساتھ حاضر ہیں۔ اس مبارک موقع پر ہم اپنے شدید مسرت و خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری   سمجھیں گے کہ ہمیں تو پہلے ہی یقین تھا کہ یہ مُوا، سُوئے کی شکل والا کبھی یہ انتخاب نہیں جیت سکتا۔ آپ کی کرشماتی قیادت و ڈرامہ ء اسامہ سے یہ امر واضح ہوچکا تھا کہ کوئی رانی خاں کا برادر نسبتی آپ کو انتخاب میں ہرانے کا خیال بھی ذہن میں نہیں لاسکتا ۔ اِلاّ یہ کہ کوئی ری پبلکن سرمایہ دار   (از قسم امریکی ملک ریاض ، سک رُو فیم ) جس کے پاس دولت بے تحاشہ اور عقل سلیم ، میاں صاحب جتنی ہو۔ اللہ آپ کو نظر بد سے بچائے۔
قیادت و سیادت کے جو معیارات آپ نے گزشتہ چار سالوں  (سال کی جمع، بیوی کے بھائی نہیں ) میں متعین کردئیے ہیں، امرمحال ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی ان میں اضافہ کرنے کی جرات کرسکے۔  ہمیں یقین واثق ہے کہ انشاءاللہ العزیز آپ کی مدبرانہ قیادت و رہنمائی ، عظیم امریکہ کو انہی بلندیوں پر لے جائے گی ، جہاں حضرتگورباچوف ، سوویت یونین کو لے گئے تھے ۔ یہ بلندیاں اتنی بلند تھیں کہ سوویت یونین عامیوں کو نظر آنا ہی بند ہوگیا تھا۔ تاریخ سے سبق سیکھنے کے لیے جس ذہنی بلندی کی ضرورت ہوتی ہے وہ آپ کے ہاں بدرجہ اُتّم پائی جاتی ہے۔ سوویت یونین والی بلندیاں حاصل کرنے کے لیے سب سے چھوٹا راستہ، افغانستان سے ہوکرجاتاہے ، لہذا آپ نے نیا کنواں کھودنے میں وقت اور صلاحیتیں ضائع کرنے کی بجائے ا سی سے استفادہ حاصل کرنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا۔ جس کی گواہی آنے والے دور کے مورخین سنہری الفاظ میں دیں گے۔۔۔۔ یہ نصیب، اللہ اکبر، لوٹنے کی جائے ہے۔۔۔ الحمد للہ
اگر چہ ہمیں اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کی متحرک اور دانا قیادت میں نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا ہی  ابدی سکون کی جانب تیزی سے سفر کرے گی  لیکن ہم آج اپنی ایک پرانی درخواست واپس لینے کی التجا کرتے ہیں۔  مہربانی فرما کر اسے کسی گستاخی پر محمول نہ کیجیے گا۔ یہ آپ کی ذمہ داریوں میں کمی کرنے اور آپ کو انتخابی مہم کی تھکن اتارنے کا موقع دینے کی عاجزانہ سی کوشش ہے۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف۔ ویسے بھی آپ نےگزشتہ دور میں ہماری اتنی خدمت کی ہے کہ اب ہمیں شرم محسوس ہونے لگی ہے کہ آپ کو اور تکلیف دی جائے۔ کساد بازار ی کے اس دور میں قیمتی  ڈرون اور ان کے مہنگے میزائل جس طرح آپ نے ہمارے لیے وقف کیے رکھے وہ انسان دوستی کی ایک  دائم روشن و درخشاں مثال ہے۔ جاتے جاتے البتہ اسلام آباد اور پنڈی میں چھ سات ڈرون حملے کردیجیے۔ یہ آپ کا ہم پر ایک اور احسان عظیم ہوگا۔
تھوڑے لکھے کو بہت جانیں کہ ہم ان حقیر الفاظ کے ذریعے اپنی خوشی اور مسرت کو پوری طرح بیان کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ویسے بھی ہمیں آپ کی صورت میں امانت چن کی شبہیہ نظر آتی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ آپ کے کچھ کم رحمدل کارناموں پر بھی ہمارے ارباب اختیار کی "دندیاں" نکلتی رہتی ہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔
 خداوند آپ کو عظیم امریکہ کے سر پر ایسے ہی مسلط رکھے۔ اے مین۔

فقط
اہالیان اصلی پاکستان

کالا صاب

 یہ ماجرا جہاز سے شروع ہوتا ہے۔
غیر ملکی ائیرلائن کے جہاز میں تل دھرنے  کی جگہ تو تھی پر بندہ دھرنے کی بالکل نہیں تھی۔  لیہ سے لاہور جانے والی نیوخان کی بس کی طرح جہاز  بالکل "فُل" تھا۔ فضائی میزبانوں کی اکثریت مشرق بعید کے خطے سے تعلق رکھتی تھی اور ان کے زیب تن لباس مسافروں کی اکثریت کے لیے بہت ترغیب آمیز تھے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مڈل کلاسیوں کی عمومی اخلاقیات کے عین مطابق خواتین صرف  اپنے خاندان کی قابل عزت ہوتی ہیں، باقی جتنی بھی ہیں وہ سب "حلال" ہیں۔  جہاز کے پرواز بھرنے سے پہلے ہی  ان خواتین کی پریڈ شروع ہوچکی تھی۔ کسی کو پانی چاہیے تھا، کسی کو پیناڈول۔ کوئی اپنی سیٹ سے مطمئن نہیں تھا اور کسی کو صرف بٹن دبانے میں مزا آتا تھا اور خاتون کےپوچھنے پر کہ کیا تکلیف ہے؟ وہ اپنے پیلے دانت نکال کے دکھا دیتے تھے۔اطراف میں بیٹھے ہوئے غیور افراد کی اکثریت اپنی کہنیاں باہر نکال کے بیٹھی ہوئی تھی اور کسی بھی  "اتصال" پر ان کی خوشی اور لطف  دیدنی تھا۔ فلائٹ پرسر جو برٹش تھا،  ان حرکات و سکنات پر اس کے چہرے پر جو  تمسخرانہ اور حقار  ت آمیز تاثرات تھے وہ میرے جیسے بے شرم کو بھی پانی پانی کردینے کے لیے کافی تھے۔  ٹیک آف کے بعد جب پرواز ہموار ہوئی تو جو پہلی ٹرالی مہمانوں کی خدمت کے لیے آئی، وہ بنت عنب کی مصنوعات پر مشتمل تھی۔ تمام حضرات جو پرائی خواتین کو نظروں اور کہنیوں سے وہ سب کچھ کررہے تھے جو در حقیقت کچھ اور چیزوں سے کرنا چاہ رہے تھے، یکدم "حاجی  ثناءاللہ " بن گئے اور لاحول کی آوازوں کی گونج سی سنائی دینے لگی۔  یہاں ہمیں وہ لطیفہ یاد آیا جس میں ایک صاحب رات کے پچھلے پہر"حلال" گوشت ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔
لاہور ائیرپورٹ پر قدم رنجہ فرمانے کے بعد جب ہم امیگریشن کی قطاروں تک پہنچے تو وہاں ایک پرواز ہمارے پرانے آقاوں کے دیس سے بھی پدھاری ہوئی تھی۔ تو رات کے آخری پہر کافی رونق کا سماں تھا۔ وہ لوگ جو دبئی یا لندن کے ائیرپورٹس پر قطار توڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ، وہی لوگ اپنے وطن مالوف کے ہوائی اڈے کو خالہ جی کا واڑہ سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کو پھلانگنے کی کوششیں لگاتار جاری رکھے ہوئے تھے۔ اس پر مستزاد وہ وردی والے اصحاب جو اکٹھے چھ چھ پاسپورٹ کاونٹر والے صاحب کو لا کے دے رہے تھے کہ  "سرجی، اپنے ای بندے نیں"۔ ان مراحل سے فارغ ہونے کے بعد جب باہر نکلنا نصیب ہوا تو بلا مبالغہ ہم نے خود کو وی آئی پی محسوس کیا، تمام ٹیکسی ڈرائیور حضرات ہمیں وہ پروٹوکول دینے کے آرزو مند تھے جو کسی جنرل یا جج کو دیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمیں یہ محسوس ہونے لگا کہ شاید اس پروٹوکول کی جنگ میں ہماری اپنی پھیتی پھیتی نہ ہوجائے۔ اس پر ہم نے اپنا معصوم خلیجی رویہ تبدیل کرکے ، خرانٹ فیصلابادی  رویہ اپنایا۔ جس کے فوری اور خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ۔
ڈائیوو  لاہور کے ٹرمینل  پہنچ کے ہمیں ایسا لگا کہ جیسے اب ہمیں کچھ دیر سکون کا سانس لینا نصیب ہوگا۔  وائی فائی کی سہولت نے اس تاثر کو مزید پختہ کیا کہ یہ ایک آدھ گھنٹہ بہت مزے سے گزر جائے گا۔ اس کے بعد دو گھنٹے کا اور سفر باقی رہ جائے گا جو سوتے ہوئے کٹ جائے گا۔ ابھی ہم سیدھے ہوکے بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ ایک معقول صورت و حلیہ کے صاحب، جنہوں نے عمدہ کاٹن کے سوٹ پر گہرے رنگ کی واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔  پانی کے الیکٹرک کولر کے پاس آئے،  گلاس میں پانی ڈالا، ایک گھونٹ پیا اور باقی پانی سے وہیں کھڑے کھڑے کُلیاں کرنے لگے۔  سامنے ہی  مردوں کے لیے واش روم تھے جس میں چھ سات واش بیسن تھے اور ہماری سمجھ کے مطابق ایسے کام وہیں کرتے ہیں۔ زیادہ  حیران کن بات  یہ  کہ جو لوگ وہاں بیٹھے تھے ان کے نزدیک یہ کوئی خلاف معمول بات نہیں تھی۔ یہ سب کرنے کے بعد وہ اطمینان سے اپنی خشخشی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی نشست پر براجمان ہوگئے۔
یہ وہ وقت تھا جب ہم نے اپنے تاثرات ٹویٹ کئے۔ جس پر ہمارے ایک یار جانی نے ہمیں "کالا صاب" ہونے کا طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ "انجائے کر" ، کالا صاب نہ بن۔
اس پر ہم بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ کیا یہ واقعی کالا صاحبی ہی تو نہیں کہ ہر چیز اور ہر بات ہمیں ناگوار گزر رہی ہے؟ کیا یہ درم و دینار کا نشہ ہے جو ہمیں سب کو گنوار اور بد تہذیب سمجھنے پر مجبور کررہا ہے؟  شاید ہم اس بات پر یقین کر ہی لیتے کہ واقعی یہ ہماری گرم جیب ہی ہے)اگرچہ جیب بھی کوئی اتنی زیادہ گرم نہیں ہے ( جس کی گرمی ہمارے دماغ کو چڑھ گئی ہے لیکن  دو تین پہلے ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ہم اس بات پر یقین کرتے کرتے بال بال بچ  گئے۔
ہمارے ایک زمانہ قبل از تاریخ جتنے پرانے اور بہت عزیز دوست  المشہور لنگوٹیے، جن سے بہت عرصہ بعد ہماری ملاقات ہوئی، ایک قانون نافذ کرنےو الے ادارے میں عرصہ دراز سے نوکر چلے آرہے ہیں۔ اس نوکری سے پہلے بھی ان کا خاندانی و معاشی و تعلیمی  پس منظر  ماشاءاللہ بہت  عمدہ تھا۔ یہی وجہ رہی کہ وہ اس نوکری کے دوران فٹبال ہی بنے رہے اور اِدھر سے اُدھر  لڑھکتے رہے۔ مرض وہی پرانا، جو ہمارے استاد، گلزار صاحب نے اردو کی ایک کہانی کے اخلاقی سبق کے طور پر ازبر کروایا تھا کہ ایمانداری بہترین حکمت عملی ہے۔ قصہ مختصر ہم ان کے ساتھ فیصل آباد کی سڑکیں ناپ رہے تھے کہ جیل روڈ کی گرین بیلٹ پر ایک جوان العمر  خاکروب کو جو سڑک پر  صفائی کی ڈیوٹی دے رہا ہوگا، اپنا جھاڑو پھینک کر لوٹ پوٹ ہوتے دیکھا۔ حادثے کے دوسرے فریق کی تلاش میں نظریں دوڑائیں تو آگے ذرا فاصلے پر ایک نئی ماڈل کی کرولا کھڑی نظر آئی، اس کے قریب پہنچے تو ایک ریش دراز حاجی صاحب، جو حلیے سے ہی سوتر منڈیے لگ رہے تھے،  اور ان کا بطن ، شمشیر کے دم کی طرح سینہ شمشیر سے باہر تھا بلکہ کافی باہر تھا، گاڑی سے باہر نکلتے نظر آئے، انہوں نے گاڑی کے بمپر کا تشویش ناک انداز میں جائزہ لیتے ہوئے گاڑی کا ایک چکر لگایا۔ ان کے بشرے سے بالکل یہ اندازہ نہیں ہورہاتھا کہ ابھی چند لمحات قبل انہوں نے ایک جیتے جاگتے انسان کو اپنی سواری سے "پھنڈر" کیا ہے۔ ہمارے منہ سے بے ساختہ بزبان پنجابی ایک گالی نکلی ۔ ہمارے دوست نے اپنے نوکری پیشہ سرد لہجے میں ہم سے پوچھا کہ "دند پن دئیے ایدے؟"۔  ہماری دل اور دماغ میں بھری ہوئی عرصہ دراز کی تلخی کی تو یہی خواہش تھی لیکن جانے کیوں ہم نے یہ جواب دے کے انہیں گاڑی آگے بڑھانے کا کہا کہ "کنیاں کُو  دے دند پنّیں گا؟"۔
اب ہماری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ کیا ہم کالے صاب ہیں یا ہمارے عزیز ہم وطنوں کی اکثریت کرتوتا ً کالی ہے!۔

فیس بکی و ٹوئٹری مسائل کا حل

پرنس چنگڑ نے جڑانوالہ سے پوچھا ہے کہ زنانہ آئی ڈیاں ان کی فرینڈ ریکویسٹ قبول نہیں کرتیں۔ حالانکہ انہوں نے شاہد کپور کے دھڑ پر اپنا سر فوٹوشاپڈ کرکے ڈی پی بھی لگائی ہوئی ہے۔
ڈئیر چنگڑ، آپ کو چاہیے کہ سب سے پہلے تو اپنا نِک بدل کے "سیڈ بِلاّ" یا "لون کھوتا" رکھیں۔ اس کے بعد عطاءاللہ کے دھڑ پر ہنس راج ہنس کا سر فٹ کرکے ڈی پی بنائیں۔ لندنی سکحوں کے دلدوز اور روح فرسا گانوں کے لنک اور باتصویر ٹرکانہ شاعری شئیر کرتے رہیں۔ انشاءاللہ بچیوں کا دل موم ہوجائے گا۔

 ڈس ہارٹ حسینہ نے بدّوملہی سے لکھا ہے کہ ٹوئٹر پر ان کے فالوورز تو بڑھتے جارہے ہیں لیکن کوئی ڈی ایم پر ان سے فون نمبروغیرہ  نہیں مانگتا۔ اس پر انہوں نے اپنی رنجوری کی حالت تفصیل سے بیان کی ہے۔ جس میں کچھ ناگفتہ بہ بیانات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی ڈی پی کی تفصیل نہیں لکھی ۔تمام  احباب سے گذارش ہے کہ ازرہ کرم، پوری تفصیل بھیجا کریں جس میں ڈی پی کی تفصیل، اکاونٹ کب شروع ہوا، بچیوں/بچوں سے  ڈی ایمی اور فیس بکی چیٹ کی مکمل تفصیلات شامل ہوں۔ اس کے بعد ہی ہم کوئی تیر بہدف نسخہ تجویز کرسکیں گے۔
 بہرحال ڈس ہارٹ بی بی کو ہمارا مشورہ ہے کہ ڈس ہارٹ کو بگ ہارٹ سے بدل لیں اور سنی لیون کی ڈی پی لگالیں۔ رونقیں لگ جائیں گی۔

ہمارے ایک کرم فرما  لال بیگ ، خلیج عرب کے ایک ملک  سے لکھتے ہیں کہ ان کا مسئلہ نہایت کرانک ہے۔ ٹوئٹر پر جیسے ہی وہ کسی بچی کے پیچھے لگتے ہیں ، تو اچانک انکا دل بچی سے ہٹ کے ان کے کسی اور مردانہ فالوور میں اٹک جاتا ہے۔ انہوں نے اس کی مابعدالطبیعاتی تشریح پوچھی ہے اور یہ بھی دریافتا ہے کہ کیا ان کی صنفی ترجیحات تو نہیں بدل رہیں۔
  ہم  بیگ صاحب سے گذارش کریں گے کہ سب سے پہلے تو اپنے ڈومیسائل کی ایک کاپی ارسال کریں اس کے بعد ہی ان کے مسئلے بارے کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ صنفی ترجیحات چونکہ ہماری سپیشئلٹی نہیں ہے لہذا ہم انہیں  ایک ٹی وی شو  "ہٹ اینڈ مس" ریکمنڈ کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ان کے مسئلے کے آخر الذکر حصے کا حل انہیں ضرور اس میں سے مل جائے گا۔

یورپ کی اساطیری سرزمین  سے ایک بھائی نے ہم سے پوچھا ہے کہ وہ لاگ ان ہوتے ہی بچیوں کے قدموں  میں لوٹنے لگتے ہیں۔ حالانکہ حاشا و کلا ان کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہوتا۔ یہ بے اختیاری کی کیفیت ان پر اچانک طاری ہوجاتی ہے جس کی وجہ وہ دریافت کرنا چاہتے ہیں۔
ہمیں ان کے پیغام سے محسوس ہوا ہے کہ انہیں صرف وجہ دریافت کرنے سے ہی دلچسپی ہے ، ناکہ اس کے حل میں۔  چونکہ ہم صرف ٹوئٹری اور فیس بکی امور کے ماہر ہیں او رنفسیاتی و تصوفی مسائل سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں لہذا اس بارے ہمارا کچھ کہنا مناسب نہیں ۔ ۔۔۔ اوہ ۔۔۔وٹ دا ہیل۔۔ ۔ حامد میر، فزکس پر پروگرام کرسکتے ہیں تو ہمیں کیا پِت نکلی ہوئی ہے جو ہم ہر کام میں ٹانگ نہیں اڑا سکتے؟ تو پیارے بھائی،  آپ نے جو اپنا تفصیلی حال بیان کیا ہے اس سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آپ ٹھرک اور پارسائی دونوں میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ لہذا آپ کے ساتھ یہ ذلالت تب تک چلے گی جب تک ان دونوں میں سے کسی ایک سے چھٹکارا حاصل نہیں کرتے۔ مزید تفصیلات جاننے کے لیے ہمارے بلاگ پر لگے ہوئے اشتہارات پر سوکلک کریں  تاکہ آپ کو "رہنمائے ٹھرکیاں  قدیم و جدید" کا  "ای" نسخہ ارسال کیا جاسکے۔

ایک دوست نے اپنا نام اور نِک گمنام رکھنے کی استدعا کرتے ہوئے ایک گھمبیر مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ٹوئٹر اور فیس بک پر صحافتی سلیبرٹیز کے اکاونٹ مینج کرنے والے مظلوموں کی آوا زہیں۔ چوّلیں ہمارے باس مارتے ہیں اور گالیاں ہمیں سننی پڑتی ہیں۔ اور کچھ افلاطون کے نانے ہم سے ایسے سوال پوچھتے ہیں جن کا جواب ہم تو کیا  ہمارے باسز کے باپ بھی نہیں دے سکتے۔ اس سے ہماری جذباتی اور روحانی اور نفسیاتی حالت نہایت ناگفتہ بہ اور دگرگوں ہوتی جارہی ہے۔ ہمیں اس کا کوئی حل بتائیں۔
پیارے بھائی، کوئی ہور نوکری لبھ لؤو!۔
جاتے جاتے ہم اپنے ٹوئٹری و فیس بکی احباب سے ایک دردمندانہ اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ خدا کے لیے ، دیکھا دیکھی ، شاعری پیسٹ کرنا بند کردیں۔  شعر کی سدّھ پُٹھ کا پتہ نہ ہو تو اس میں ہاتھ نہیں دیتے۔اس بارے ،  کہنا تو ہم اور بھی بہت کچھ چاہتے ہیں لیکن ہمارے کچھ  دوستوں نے بامقصد بلاگنگ کی جو پابندی ہم پر عائد کی ہوئی ہے،  اس کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔ لہذا ۔۔۔
آہو!۔۔

گنجے دت

بات چھوٹی سی تھی!۔
 ہزاروں  سال سے لونڈے لپّاڑے سڑکوں اور گلیوں میں کرکٹ کھیلتے آئے ہیں۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ اور اگر ا ن میں میرے جیسے بھی شامل بلکہ روح رواں  ہوں، جو، ریل کے  کسی سٹیشن پر دس منٹ سے زیادہ رکنے کی صورت میں،  پلیٹ فارم پر ہی کرکٹ  کھیلنا شروع کردیں،   تو  بات اور بھی واضح ہوجاتی ہے۔  سڑک نئی نئی بنی تھی اور لاڑے کی تازہ شیو کی طرح چکنی تھی۔ اس پر ٹینس بال کو پانی میں بھگو کے کرکٹ کھیلنے کا جو لطف آتا تھا ، ایسا لطف،  دنیا میں بس ایک دو کاموں میں ہی  ہے۔  ڈالڈ ا کے ڈھائی کلو کے خالی ڈبّے کو پانی سے بھر کے رن اپ کے اختتام پر رکھ دیا جاتا تھا اور ہر گیند سے پہلے اسے (گیند کو، بالر کو نہیں) پانی میں بھگونا لازم تھا ورنہ نوبال تصورکی جاتی تھی۔ یہ وقوعہ روزانہ مشنری جذبے سے وقوع پذیر ہوا کر تا تھا۔ فجر کے بعد جیسے ہی تھوڑی سی روشنی پھیلتی تو یہ ہڑبونگ شروع ہوجایا کرتی اور اس وقت تک جاری رہتی تھی جب تک اپنے اپنے ابّوں اور امّیوں کی طرف سے دھمکی آمیز اعلانات نہیں پہنچتے تھے کہ بس کردو کمینو۔ کالج ، تمہارا باپ جائے گا؟ ۔
وہ دن، انہی دنوں میں سے ایک دن تھا۔ ہماری سڑکی کرکٹ عروج پر تھی اور ایک دوسرے کی پسلیوں میں شارٹ پچ گیند یں مارنے کی کوششیں جہادی سپرٹ سے جاری تھیں اور اگرکسی کو لگ جاتی تو اسے "نرس" کا خطاب دیا جاتا تھا۔  ان شارٹ پچ گیندوں پر لگائے ہوئے  پُل شاٹ جب بنددوکانوں کے شٹر سے ٹکراتے تھے تو ایک دھماکے کی آواز آتی تھی۔جس سے سوتر منڈی کے شیخ صاحبان، جو رات کو ایک کلو چھوٹا گوشت  کھاکے  اور دو کلو آم  "چوُپ" کے دیگر "امور ضروری " نمٹا کر خواب غفلت میں مدہوش ہوتے تھے ،  ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتے تھے ۔ اسی  غدر  کے دوران گلی میں سے بِلّا اپنے سائیکل کے کیرئیر پر ٹفن اٹکائے، لشٹم پشٹم سائیکل چلاتا ہوا  نکلا  اور عین ہماری پچ کے درمیان سائیکل کھڑا کرکےمسمسی سی صورت بنا کے بولا۔ "پائی جان! اک بال ای کھلا دیو"۔ سب نے باجماعت قہر بھری نظرو ں سے اسے دیکھا اور دو تین  چوندے چوندے اسمائے صفت سے اس کی تواضع کی۔ لیکن بِلّا بھی اپنی نسل کا واحد پیس تھا (اور ہے)۔ اس نے ایک "بال" کھیلے بغیر جانے سے انکار کردیا اور لگاتار ترلے کرتا رہا ، اک بال بس، اک بال ۔ میں نے زبیر کی طرف بال اچھالی اور کہا ، "مارے ایدھے ۔۔۔ تے"۔  بِلّے کو کرکٹ کا اتنا ہی علم  تھا جتنی ہمیں گالف میں مہارت ہے لہذا زبیر کی کرائی ہوئی گیند پر اندھا دھند بَلاّ گھماتے ہوئے بلِّے نے جب دیکھا کہ گیند تو پتہ نہیں بَلّے کے کس حصے سے لگ کر سامنے والے دومنزلہ مکان کی چھت پر چلی گئی ہے تو وہ پلاکی مار کر سائیکل پر سوار ہوا اور ہماری مُغلضّات کی چھتر چھایا میں کمینی ہنسی ہنستا ہوا  یہ جا   ، وہ جا۔
گلیوں اور سڑکوں پر کرکٹ کھیلنے والے احباب بخوبی جانتے ہوں گے کہ کسی کے گھر گئی گیند واپس لانا شیر کی کچھار میں گھسنے کے برابر ہوتا ہے۔  بہرحال دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک درمیانی عمر کے چاچا جی  برآمد ہوئے اور عین اسی وقت مکان کی چھت سے گیند کسی نے نیچے پھینکی۔ میری اور چاچے ہوراں کی نظر ایک ساتھ اوپر گئی تو میرا سانس اوپر سے نیچے  اور چاچا جی کا پارہ نیچے سے اوپر پہنچ گیا۔ ایک طرحدار حسینہ جو "صبح کا وقت پڑھنے کے لیے سب سے اچھا ہوتا ہے" کے قول زرّیں پر یقین واثق کی حامل تھی ایک ہاتھ میں کتاب تھامے ریلنگ سے نیچے جھانکتی نظر آئی۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں سے ایک عظیم جنگِ گنجے دت  شروع ہوئی۔
ایسا نہیں تھا کہ ہم ان چاچاجی کو یا وہ ہم کو نہ جانتے ہوں۔ اپنی زندگی میں، ہم نے جو پہلا مکمل گنجا دیکھا ،وہ یہی تھے۔ درمیانہ قد، ہلکی سی توند،  سرخ و سفید رنگ ، پھولا ہوا منہ، کلین شیو اور شدید گنجے!۔ استاد پونکا  جو ان کے بچپن کے دوست تھے کہا کرتےتھے کہ "اے بچپن توں ای گنجا اے"۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ہمارا زندگی میں ان سے واسطہ پڑنے کا یہ پہلا موقع تھا اور اسی موقع پر جو غلط فہمی پیدا ہوئی ، واللہ ، وہ آج تک قائم ہے۔ گنجے چاچا جی ، جنہیں اب ہم "گنجے دت" کے نام سے پکاریں گے،  یہ سمجھے کہ ان لفنگوں نے  ان کی پری صورت بھانجی، جو امتحانات کی تیاری کے لیے آئی ہوئی تھی (جس کاپتہ ہمیں بعد میں بزبان  حسینہ ہی چلا تھا)، کو چھیڑنے کے لیے گیند اوپر پھینکی تھی ۔ اور بادی النظر میں یہ اپنی اس چھیڑ چھاڑ میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے خو نخوار نظروں سے ہم سب کو باجماعت تقریبا دو منٹ تک گھورا اور پھر دروازہ دھڑام سے بند کرکے اندر غائب ہوگئے۔ آپ شاید یہ سمجھ رہے ہوں کہ ہم کچھ زیادہ ہی مبالغہ کررہے ہیں  لیکن آپ غلط سمجھ رہے ہیں ، یہ تو ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ گنجے دت کسی کو لگاتار آدھے گھنٹے تک بھی گھور سکتے ہیں۔
شومئی قسمت سے اس حسینہ کو بھی پڑھائی سے کچھ ایسی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ لہذا اب وہ ہر روز صبح ریلنگ کے چکر زیادہ لگاتی اور "مارننگ واک" کا مضمون کم یاد کرتی تھی۔ خودستائی نہ سمجھی جائے تو  بندہ عرض گذار ہے کہ اسکو صنف مخالف کی دلچسپی ہمیشہ سے حاصل رہی ہے۔ اس کا پتہ البتہ بندے کو کافی تاخیر سے لگا جس کی وجہ سے کافی سارے کھیت ،چڑیاں ،  ہمارے پچھتانے سے پہلے ہی چُگ چکی تھیں۔   ویسے بھی وہ دور، ذرائع رسل ورسائل کے حوالے سے کافی پسماندہ تھا، "خط" پہنچانے کے لیے محلے کا کوئی بچہ یا پتھر ہی کام آتا تھا اور دونوں ہی ذریعے مخدوش حد تک خطرناک تھے۔ اگر اسوقت  سیل فونز، ایس ایم ایس، برقی ڈاک اور برقی گفتگو عام ہوتی تو یقینا آج ہمارا  پندرھواں ، سولہواں عُرس ضرور منایا جا رہا ہوتا۔  اور ہمارے مزار پرفاسقان بے صفا ، چڑھاوے کے طور پر مجاوران  مزار کو ایزی لوڈ کرارہے ہوتے۔
اس وقوعے کے بعد میرا اور میرے پارٹنر ان کرائم یعنی لنگوٹیے کا جب بھی گنجے دت سے سامنا ہوتا تو وہ ہمیں ان نظروں سے گھورتے تھے جیسے اداکار افضال پنجابی فلموں میں ہیرو کی بہن کو گھورا کرتے تھے ۔ تحقیق ، ہمیں ڈر بھی لگتا تھا۔ شرم بھی آتی تھی۔ اب آپ سے کیا پردہ!۔
تو اب یہ روزانہ کا معمول ہوچکا تھا کہ جب بھی وہ شام کو خراماں خراماں ،ایک  ہاتھ میں کمنڈل لٹکائے ، سڑک پار کرکے ہماری گلی میں داخل ہوتے تو ہمیں  کسی تھڑے پر بیٹھے دیکھ کر ان کا موڈ  "ہمنگ" سے  "ہلک" والا ہوجاتا۔ ان کی آنکھیں شعلے اگلنی لگتیں اور وہ سامنے دیکھ  کر چلنے کی  بجائے ہمیں گھورتے گھورتے ہمارے پاس سے گزر جاتے۔ چند دن تو ہمارے سانس "وغیرہ" خشک ہوتے رہے۔ لیکن جب ہم نے دیکھا کہ یہ کہتے تو کچھ ہیں نہیں اور صرف گھورتے ہیں تو ہمیں اس کی فنی سائیڈ نظر آنے لگی۔ منظر کچھ ایسا ہوتا کہ جیسے ہی  وہ ہمیں  گھورتے ہوئے  گلی میں داخل ہوتے ان کی ہونہار بھانجی چھت پر "بنیرے  "سے لٹکی ہوئیں ہمیں "گھورنے"  میں مصروف ہوتیں۔  اس دوہری "گھوراہٹ" سے ہم اکثر "" گرم سرد" ہوتے ہوتے بال بال بچے۔
ہمارے لنگوٹیے کے چھوٹے بھائی الموسوم بہ کورٹنی والش، پیدائشی سڑیل واقع ہوئے تھے۔ کورٹنی والش کی عرفیت ان کو رنگ یا شکل کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے بالنگ ایکشن کی وجہ سے دی گئی تھی کیونکہ وہ بھی "وٹّا" مارتے تھے اور والش ہی کی طرح نہایت موثّر بالر تھے۔ بہرحال ایک دن وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھے تھے جب ہمارا "گُھوری" ٹائم شروع ہوا۔ پہلے تو وہ چپ کرکے دیکھتے رہے ، جب گنجے دت گھورتے گھورتے ہمارے پاس سے گزر گئے تو وہ بولے کہ  "ایہہ گنجے نوں کیہ تکلیف اے، ایویں کُوریاں پائی جاندا"۔ یہ تبصرہ گنجے دت کو چابک کی طرح لگا لیکن آفرین ہے کہ پھر بھی انہوں نے رک کر مڑنے اور گھورنے کے علاوہ کوئی اور راست اقدام نہیں کیا۔ یہ "گُھوری" تقریبا  پانچ منٹ تک جاری رہی اور جب ہم اپنی ہنسی کو کنٹرول کرنے میں بالکل ناکام ہوگئے تو تھڑے سے اٹھ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ کچھ گواہان نے ہمیں بعد میں حلفیہ بتایا کہ وہ اس کے بعد بھی دس منٹ کورٹنی والش کو گھورتے رہے اور جوابا وہ انہیں گھورتا رہا!۔
ستم ظریفی یہ ہوئی کہ گنجے دت  اور ان کی بھانجی ، دونوں کی توجہ ہماری طرف ،بالعکس یا راست  جوبھی ہو،  متناسب تھی۔ دونوں  توجہات، ایک ہی مقدار لیکن مخالف سمت میں دن بدن بڑھتی ہی چلی گئیں۔  بِلاّ ، البتہ آج تک یہی کہتا ہے کہ "پائین، او میری ول بڑے پیار نال ویخدی ہُندی سی"۔     لیکن بِلّے کے بقول تو جب وہ فلم دیکھنے جاتا تھا تو ہیرؤین بھی اس کی طرف نہایت الفت بھری نظروں سے دیکھا کرتی تھی۔بہرحال،دن میں تین چار دفعہ جب تک ہمارا گنجے دت سے آمنا سامنا نہیں ہوتا تھا تو ہمیں زندگی پھیکی محسوس ہونے لگتی تھی۔ شام کے وقت ایک ٹھیلے پر دال سیویاں بیچنے والا آیا کرتا تھا۔ ایک دن ہم اس کے پاس کھڑے مفت بَری کررہے تھے کہ گنجے دت ہمارے پاس  سے "گھورتا چلا گیا"۔  ہم نے ٹھیلے والے سے کہا ، "چاچا،  توں تے گنجا ای ہوئی جانا، دن بدن"۔  گنجے دت، رُکے، پلٹے  اور خلاف معمول صرف گھورنے پر اکتفا نہ کیا بلکہ ہماری طرف  ڈرامائی انداز میں آہستہ آہستہ بڑھنے لگے۔ سچی بات تو یہ کہ ہم نے کلمہ پڑھ لیا کہ ، بیٹے جان، آج کچّا کھاجانا تجھے اس گنجے زیبرے نے۔ عین ایک فٹ کے فاصلے پر ہمارے ناک سے ناک ملائے، انہوں نے انتہائی طیش کے عالم میں اپنی مصطفی قریشی جیسی آواز سے ہمیں مخاطب کیا، " بندے دے پُتّر بن جاؤ۔ اے میری پہلی وارننگ اے۔ ایس توں بعد میں دو وارننگاں ہور دیاں گے۔۔۔۔ فیر میں تہانوں آپے ویخ لاں گا"۔  ٹھیلے والا چاچا، اس کے گاہک جن میں  اکثریت گلی کے بچوں کی تھی،  ہمارا یار غار ، سب خاموش کھڑے اس منظر کی ہیبت ناکی سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ یہ مکالمے بول کر وہ دوبارہ مُڑےاور کمنڈل چھنکاتے اپنی دُلکی چال چلتے ہوئے منظر سے فیڈ آؤٹ ہوگئے۔ دس پندرہ سیکنڈ کے ایک گھمبیر وقفے کے بعد ایسا لگا کہ جیسے کوئی جلوس نکل آیاہو۔ ہنس ہنس کے ہمارے پیٹ میں بَل اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اس دن کے بعد ہمارا رہا سہا "جھاکا" بھی کُھل گیا۔ گلی کے بچوں سے لے کر ہمارے انواع وا قسام کے کزنز جو پورے فیصل آباد میں ٹڈّی دل کی طرح پھیلے ہوئے تھے،    سب کو خبر ہوگئی اور کردی گئی ۔ اس کے بعد وہ  گنجے دت کو جہاں بھی دیکھتے، گنجا ای اوئے، کی آواز لگانا ان پرفرض عین تھا۔  چاہے وہ نڑوالے چوک میں ٹریفک کا رش ہو یا کمپنی باغ والی ٹھنڈی سڑک، سبزی منڈی ہویا سوتر منڈی ، گنجے دت کا کوئی نہ کوئی پرستار کہیں نہ کہیں ان کو  مل ہی جاتا اور اپنے فرض سے کوتاہی کا کبھی مرتکب نہ ہوتا۔  حسینہ طرحدار کے انگلش بی کے پرچے اور اس سلسلے میں دئیے جانے والے "گَیس" کا قصہ  جو ہمیں باوثوق ذرائع سے موصول ہوا تھا اور اس کے علاوہ بھی درجنوں گنجے دتوی واقعات  کو اکٹھا کیا جائے تو ایک "تُزک گنجے دت" بآسانی لکھی جاسکتی ہے۔ لیکن ہم  "تھوڑے" کہے کو بہت جانتے ہوئے ، اسی پر اکتفا کرتے ہیں ۔
آخر چند دنوں تک ہم نے اُسی کُوچے میں ایک مہینہ گزارنے جانا ہے !۔

تجمّل خالوکے ٹوٹکے

بہت سے ناظرین نے ہم سے پوچھا ہے کہ پانجے کی سُوجن کے لیے کوئی تیر بہدف ٹوٹکا بتایاجائے، خصوصا موسم سرما میں اس کی شدّت ناقابل برداشت ہوجاتی ہے اور تشریف کے لیے گُوناگُوں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا علاج نہایت سادہ اور آسان ہےاور  بناء کچھ خرچ کئے آپ اس تکلیف سے نجات پاسکتے ہیں۔ کوشش کریں کہ پکڑے ہی نہ جائیں۔ نہ پکڑے جائیں گے نہ پانجا لگے گا اور نہ ہی سُوجن ہوگی۔ لیکن اگر آپ کے بُرے دن چل رہے ہیں اور آپ پکڑے گئے ہیں تو روپے پیسے کو دوسروں کے ہاتھ کا میل سمجھیں اور پانجا  فِٹ کرنے والے سنتری کو معقول مقدار میں یہ مَیل فراہم کردیں۔ اور اگر آپ یہ مَیل حاصل کرنے سے پہلے ہی جکڑے گئے ہیں تو دل بڑا کرکے پانجا کھا لیں۔ پہلا پانجا ہی مشکل ہوتا ہے۔ دوسرے تک پہنچتے پہنچتے آپ کے تمام اعضاء رئیسہ و خبیثہ، سُن ہوجائیں گے  لہذا کچھ محسوس نہیں ہوگا۔  اس سے یہ نتیجہ مت نکالیں کہ ہم کو اس امر کا خاطر خواہ تجربہ ہے۔ یہ مشاہدے کی بات ہے۔   فارغ ہونے کے بعد جب آپ گھر پہنچیں تو اس امر کو یقینی بنائیں کہ تارے مِیرے کا تیل گھر میں موجود ہو۔ کسی "قابل اعتماد" فرد سے تشریف (اپنی، فرد کی نہیں) پر اس تیل کی مالش کروائیں۔ اس سے سُوجن کو تو فرق نہیں پڑے گا لیکن جلن اتنی ہوگی کہ آپ کو دوسری تمام تکالیف بھول جائیں گی۔
ایک خاتون نے پوچھا ہے کہ ان کے میاں سوتے ہوئے ہیبت ناک خرّاٹے  لیتے ہیں جس سے ان کی وائس چیٹنگ میں خلل پڑتا ہے اور فریق ثانی بار بار پوچھتا ہے کہ یہ خرّاٹے کون لے رہا ہے۔  خاتون بہت پریشان ہیں کہ سارے بہانے بنا چکی ہوں لہذا اس مسئلہ کا کوئی مستقل حل بتایا جائے۔  یہ مسئلہ آج کل بہت عام ہوتا جارہا ہے اور بہت سی بی بیاں شرم کے مارے اس کا علاج پوچھنے سے گریز کرتی ہیں۔ اور نتیجے کے طور پر ہر چند دن بعد انہیں چیٹنگ کے لیے نیا ساتھی ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ آج کل اچھے وائس چیٹر ملتے ہی کہاں ہیں اور اس معمولی مسئلے کی وجہ سے اگر وہ بددل ہوکے آپ کو بلاک کردیں تو یہ شدید رنج و غم والی بات ہے۔ہم نے اس مسئلے پر بہت ریسرچ کی اور بالآخر ایک خرّاٹا کِٹ ایجاد کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ جب بھی آپ کے شوہر خرّاٹے مارنے شروع کریں۔ یہ کِٹ جو آکسیجن ماسک جیسی ہے ،ان کے منہ پر چڑھادیں ۔ ان خرّاٹوں  کی توانائی سے آپ کا جنریٹر چلے گا جس سے آپ کے گھر کے پنکھے، اے سی، بلب اور کمپیوٹر وغیرہ بآسانی چل سکیں گے ۔ اس سے ایک تو آپ لوڈشیڈنگ سے نجات پاسکیں گی اور مست ماحول  میں خرّاٹا فری چیٹنگ سے لطف اندوز ہوں گی اور دوسرا، آپ کا بجلی کا بل بھی آدھا رہ جائے گا۔نیز اس  بات کو یقینی بنائیں کہ شوہر مذکور بیدار نہ ہونے   پائیں۔ اس کے لیے آپ افیون، ایٹی وان، ویلیم وغیرہ استعمال کرسکتی ہیں۔ افیون زیادہ کارگر ثابت ہوتی ہے لیکن ایک خدشہ موجودرہتا ہے کہ اگر صاحب موصوف بیدار ہوگئے تو آپ کے لیے خاصی "ناگوار" صورتحال کھڑی کرسکتے ہیں۔ یہ کِٹ خرّاٹوں سے متاثرہ خواتین کے لیے رعایتی نرخوں پر دستیاب ہے۔ ایک کِٹ خریدنے پر تین پَپّو آئی ڈیز مفت فراہم کی جائیں گی۔
کھٹّے ڈکار آنا بہت  عام مسئلہ ہے اور خاص طور پر دوران ڈیٹ ان کی وجہ سے بہت شرمندگی ہوتی ہے۔ اس کے لیے ایک بہت ہی کارگر ٹوٹکا  آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ ایک پاؤ دودھ میں دو چمچ سرسوں کاتیل یا اگر وہ میسر نہ ہوتو ریڈبُل ،  ایک چائے کا چمچ چاٹ مصالحہ،  کالے چنوں کا شوربہ ایک پیالی، سات عدد  ملوک  شامل کرکے تیز آنچ پر اتنا پکائیں کہ آمیزہ آدھا رہ جائے۔ پھر اس میں دو چمچ  پٹرولیم جیلی شامل کرکے اچھی طرح مکس کرلیں۔ اسے پیپسی کی خالی بوتل میں ڈال کر دھوپ میں رکھ دیں اور روز سویرے نہار منہ بائیں گھٹنے اور دائیں بغل میں لیپ کرکے تئیس منٹ دھوپ میں بیٹھیں۔ تین سال لگاتار یہ عمل دھرائیں، کھٹّے ڈکار ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گے!۔

بی سی جیلانی کی ڈائری - ری پلگ


زمانہ اتنا خراب ہوگیا ہے کہ میرے جیسے بندے کو سوچ کے پسینہ آنے لگتا ہے۔ ایمانداری، راستبازی، حق پرستی تو عبرانی کی اصطلاحات لگنے لگی ہیں۔ یہ پُرفِتن دور بھی دیکھنا تھا کہ خالص وہسکی بھی منہ مانگے داموں دستیاب نہیں ہوتی۔ اللہ بھلا کرے ڈپلومیٹک انکلیوز والوں کا یا اپنے حسین ایثار کا، اگر یہ دونوں نہ ہوں تو ہم جیسے مسکین پیاسے مر جائیں۔ اوپر سے خرچے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ میرے جیسے رزق حلال کمانے والوں کا تو جینا دوبھر ہوتا جارہا ہے۔ آنٹی شمیم نے کل رات ایک مہینے کا ڈیڑھ لاکھ کا بل تھما دیا ، حالانکہ میرے صرف تین چار وزٹ ہی تھے پورے مہینے میں۔ شریف آدمی کے لیے تو تفریح بھی عذاب ہوتی جارہی ہے اس ملک میں۔ اس سے بہتر تو بندہ دبئی کا چکر لگا آئے۔ پر اس کے اپنے مضمرات ہیں۔ اوّل تو بیگم ساتھ جانے پر تیار ہوجاتی ہیں اگر کوئی بہانہ کرنے کی کوشش کروں تو وہ میرے سامنے ہی وکّی، ٹونی وغیرہ کو فون کرکے پارٹی کرنے کا پروگرام بنانے لگتی ہیں۔ بندہ جائے تو کہاں جائے۔
بیگم کے اپنے خرچے ہیں۔ ابھی دو مہینے پہلے ہی پلاسٹک سرجری اور وہ پتہ نہیں جلد کھنچوانے کا کچھ پروسیجر ہوتا ہے، اس پر چار لاکھ اڑا دئیے۔ حالانکہ "فرق" کوئی نہیں پڑا۔ وہی چال "پلپلی" جو پہلے تھی، سو اب بھی ہے۔ ایمانداری سے کام کرنے والوں کی قدر تو یہاں کسی کو ہے ہی نہیں۔ عوام، جاہل ہےتو سیاستدان، لٹیرے اور مولوی، فسادی ۔ ایک چھوٹا سا طبقہ ہمارا ہی ہے جو عقل کی بات کرتا اور سمجھتا ہے۔ایک فرق البتہ بہت مثبت پڑا ہے، فوج، ماشاءاللہ، سدھرتی جارہی ہے۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اس دنیا میں پیسے کے بغیر کسی کی کوئی عزت نہیں۔ ہر چیز معیشت اور پیسہ  ہی ہے۔ میرے تائے کا بیٹا، سکول ماسٹری کرتاہے۔ حالانکہ اسے  کوئی  دس ہزار دفعہ سمجھایا تھا کہ سی ایس ایس کرکے افسر لگ جا۔ لیکن وہی مولویانہ سوچ کہ معاشرہ سدھاروں گا۔ کھانے کے لالے پڑے رہتے ہیں اس کے گھر میں۔ کوڑی کی عزت نہیں، نہ معاشرے میں نہ خاندان میں۔ میں اولیول بھی پاس نہیں کرسکا تھا لیکن سفیر محترم بھی اٹھ کے مجھ سے ملتے ہیں۔ یہ ہوتی ہے عزت۔ ان مڈل کلاسیے ٹَٹ پونجیوں کو کیا علم کہ دنیا میں ترقی کیسے کرتے ہیں۔ وہی صدیوں پرانے تصورات سے چمٹے ہوئے ہیں۔ خاندانی نظام، عزت، غیرت، حیا، شرم، پردہ۔۔۔ پردہ تو نظر کا اور دل کا ہوتا ہے۔ میری بیٹی کے ماشاءاللہ چھ سات بوائے فرینڈ ہیں۔ میں نے کبھی اس کے معاملات میں دخل نہیں دیا۔ ہاں البتہ بڑی سختی سے اس کو کہا ہوا ہے کہ چاہے دو بج جائیں، تین بج جائیں، سونا گھر آکے  ہے۔ اور اتنی تابع دار بچی ہے کہ چاہے جتنی مرضی ڈرَنک ہو،  کسی نہ کسی طرح گھر پہنچ جاتی ہے  اور اُصول کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔ اسے کہتے ہیں تربیت ۔ ویسے  بھی میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ اس کی اپنی زندگی ہے اور یہی عمر ہے اس زندگی  کو  انجائے کرنے کی اور دوسروں کو کروانے کی۔
جب تک یہ فرسودہ تصورات اور نظریات ان جاہلوں کو گھوٹ گھوٹ کے پلائے جاتے رہیں گے، ہمارا یہی حال رہے گا۔ ایسے ہی دہشت گردی رہے گی ایسے ہی بدعنوانی اور جہالت راج کرے گی۔ سب کو پتہ ہے کہ معیشت میں ترقی کے لیے سیاحت کو فروغ دینا ضروری ہے اور اس ملک میں کون پاگل آئے گا جہاں  وہسکی تک خالص نہیں ملتی اوراگر ملتی بھی ہے  تو ہزار پابندیوں کے ساتھ۔ اور جہاں آنٹی شمیم جیسے استحصالی طبقات، رزق حلال کمانے والوں کو  تفریح فراہم کرنے کے نام پران کا  خون چُوسیں۔  حالانکہ تمام دوسرے شعبوں کی طرح تفریح کا شعبہ بھی ریگولیٹ ہونا چاہیے اور کسی کی اس پر اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن یہاں عقل کی بات سنتا کون ہے۔ بس اس مُلک کو اللہ میاں ہی چلارہے ہیں ورنہ ان جاہل عوام اور مولویوں  اور سیاستدانوں نے اس کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اللہ ان کو غارت کرے۔

نیوڈ پریاں


میں جب بھی ٹینشن کا شکار ہوتا ہوں۔ڈپریشن،  میرا میٹر گھمانےلگتا ہے۔ میرے دماغی پُرزے ورک فٹیگ  سے  ڈھیلے پڑنے لگتے ہیں۔ میری شوگر ہائی اور وائٹیلٹی لَو  ہونے لگتی ہے۔ تومیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بیرون ملک ٹور پر نکل جاتا ہوں۔ یہ نسخہ مجھے میرے مرشد نے عنایت کیا  تھا۔ یہ کہتے ہیں کہ جب بھی زندگی میں آپ ڈاؤن فِیل کرنے لگیں، آپ کی قُوت کم ہونے لگے، آپ کی صلاحتییں ،  سلاجیت مانگنے لگیں تو  فورا  بیوی اور کا م سے دور بھاگ جائیں۔ یورپ چلے جائیں، دبئی چلے جائیں، تھائی لینڈ چلے جائیں۔ میں آجکل اسی سٹیج میں تھا۔ میں نے فورا ٹکٹ بُک کروائی اور یورپ کے ٹور پر نکل آیا۔
یورپ سے میری محبت کا آغاز لڑکپن میں ہوا تھا جب میں لالے موسے کے سینموں میں انگلش فلموں کے ٹوٹے دیکھ دیکھ کر پروان چڑھ رہا تھا۔ اس وقت میرے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ میں انہی حسین پریوں کے دیسوں میں گھومتاپھروں گا جن کو میں سکرین پر دیکھ کر آہیں بھرا کرتا تھا اور انہیں اتنے قریب سے دیکھ سکوں گا کہ ان کی مونچھوں  کا باریک رُواں بھی میری عینک زدہ نظر سے نہیں بچ سکے گا۔  مجھے یاد ہے  کئی سال پہلے جب میں پہلی دفعہ جنیوا کے ائیرپورٹ پر اترا تھا  تو مجھے دَندل پڑ گئی تھی۔ لیکن اب میں یوز ٹُو ہوگیا ہوں۔ اب میرا دل اور دماغ اس حُسن کا عادی ہوچکا ہے ۔ بلکہ اگر کسی سال  یورپ  کا ٹور لیٹ ہوجائے  تو  میرا جسم ٹوٹنے لگتا ہے۔ جس کے اثرات میرے پروگرام اور کالمز پر بھی پڑنے لگتے ہیں۔ لہذا یورپ میری جسمانی بیٹری کے لیے موٹی پِن والے چارجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ چارجنگ میں تاخیر ہونے لگے  تو میرے سگنل وِیک ہوجاتے ہیں اور میں اول فول بکنے اور لکھنے لگتا ہوں۔  اسی لیے مُرشدنے مجھے بطور تعویذ یورپ کا ملٹی پل ویزا لگوا کے دیا ہے جو میں بطور برکت اپنے والٹ میں ہر وقت ڈالے رکھتا ہوں۔
اس دفعہ مجھے ایلپس کی ماونٹین رینج  کا ٹور کرنا تھا۔ یہ یورپ کے سب سے اونچے پہاڑ ہیں۔ انہیں آپ یورپ کے کے ٹو اور ننگے پربت کہہ سکتے ہیں۔ یہ انتہائی خوبصورت پہاڑ ہیں۔ ان پر درخت ہیں اور برف ہے۔ وادیوں میں جھیلیں ہیں۔ یہ جھیلیں انتہائی خوبصورت ہیں۔ آپ وہاں خود کو پرستان میں محسوس کرتے ہیں۔ جہاں ہر طرف پریاں ناچتی گاتی اور تھرکتی نظر آتی ہیں۔ کچھ پریوں  نے پَروں کے علاوہ کچھ نہیں پہنا ہوتا اور کچھ نے تو پَر بھی اتار کے رکھے ہوتے ہیں۔برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیوں  کا جھیل کے پانی میں عکس، سبزے سے لدی پہاڑی ترائیاں اور جھیل کے شفاف پانی میں ناچتی گاتی، چھینٹے اڑاتی نیوڈ پریاں۔  یہ ایکسپیرئنس آؤٹ آف دس ورلڈ ہوتا ہے اور بہت مزا آتا ہے۔  ایک لحیم شحیم پری  نے  مجھے دیکھ کر آنکھ بھی ماری اور پانی میں آنے کا اشارہ کیا۔اس پر  میں نے ایک قہقہہ لگایا۔جس پر اُس نے دُر فٹے منہ کا اشارہ کرکے دوبارہ پانی میں چھلانگ لگادی۔یہی اُس ماحول کی خوبصورتی ہے کہ  آپ کے ذہن میں یہ سب دیکھ کے کوئی رانگ یا ڈرٹی  فیلنگ نہیں آتی۔ جبکہ میرے دوست کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ میری شوگر ہے۔وہ،  یہ بھی کہتا ہے کہ اگریہ پرستان  ہے تو میں پَرَے کی بجائے جِن ہوں وہ بھی عینک والا اور اگر جنّت ہے تو میں شیطان ہوں۔ میں ایسی باتوں کو کوئی امپارٹینس نہیں دیتا۔ یہ ثابت کرتی ہیں کہ آپ زندگی میں کامیاب ہیں۔ میرے مُرشد کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ سےجیلس فِیل کرنے لگ جائیں  توسمجھ لیں  کہ آپ لائف میں سکسیس فُل ہوگئے ہیں۔ میرا دوست اس بات سے متفق نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے کہ لوگ مجھ سے جیلس نہیں ہیں بلکہ میرا تَوا  لگاتے ہیں۔میں اس کی  بات پر ایک قہقہہ لگاتا ہوں اور اس کو بتاتاہوں کہ یہ ہماری نیشنل مینٹیلٹی  ہے۔ ہم ہر کامیاب اور جینئس بندے کو دو نمبر سمجھتے ہیں اور اس کی کامیابی کو کسی ملک نیاز کا مرہونِ منّت سمجھتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس اعدادو شمار  یہ ثابت کرتے ہیں  کہ  ہر پینتالیس لاکھ  ستاسی ہزار چار سو انیسویں کے بعد چار سو بیسواں بندہ جینئس  ہوتا ہے۔آپ  لالے موسے  کی میونسپالٹی چلے جائیں،  آپ وہاں کا ریکارڈ چیک کرلیں ۔ آپ جان جائیں گے کہ وہ چار سو بیسواں بندہ کون ہے ۔
وہ میں  ہوں۔

کُنڈلی

پنڈت جی  سُرور اور مدہوشی کی درمیانی حالت میں تھے۔  اگرچہ ہیں تو وہ یوپی کے ٹھاکر اورمشہور  غازی آباد ڈسٹرکٹ سے ان کا تعلق ہے لیکن ہم انہیں پنڈت جی ہی کہتے ہیں  اور بظاہر انہیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں بلکہ ہمیں تو لگتا ہے کہ وہ اندر ہی اندر خوشی بھی محسوس کرتے ہیں۔ شاید ایک درجہ ترقی پانا سبھی کو  بھلالگتا ہے۔ ان سے ہماری ملاقات ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ ہماری چوپال یا ڈیرا کہہ لیں، جہاں ہم روزانہ شام سے رات گئے تک پائے جاتے ہیں، وہاں بھانت بھانت کے لوگ آتے ہیں۔ پنڈت جی سے ملاقات بھی وہیں ہوئی تھی۔ اردو بولنے والوں سے ہماری دائمی انسیت کی وجہ سے ان سے گپ شپ شروع ہوئی۔ پنڈت جی بھی بقول یوسفی علم دریاؤ سے کم نہیں ہیں۔پیشے کے لحاظ سے تو اکاؤنٹنٹ ہیں  لیکن  گنی بساؤ کی معاشی حالت سے امیتابھ بچن کے کیرئیر کے اتار چڑھاؤ تک اس عالم فانی کی کوئی خبر ان سے بچ کر نہیں جاسکتی۔ الیکٹرانک چپ بنانے سے پیزا بنانے تک کے عمل انہیں ازبر ہیں۔ سٹاک مارکیٹ اور میوزک مارکیٹ دونوں  پر ان کی نظر گہری ہے۔ کب کس کے سٹاک گریں گے اور کون کہاں سُر سے گرا، ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا یا کم ازکم وہ یہی سمجھتے ہیں۔ کرکٹ کے بے حد شوقین اور سیاست کے اس سے بھی زیادہ۔ پاکستانی چینلز کے ٹاک شوز پر فریفتہ ہیں اور کیوں نہ ہوں اس سے اچھی انٹرٹینمنٹ  برصغیر میں کون فراہم کررہا ہے؟ بڑے بڑے لوگوں کے قصے ایسے سناتے ہیں  کہ سماں باندھ دیتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں یوپی کے الیکشن میں اکلیش یادیو کی جیت پر ان کو دیئے گئے سیاسی مشوروں کی کہانی سُنی اور دل میں یہ سوچا کہ کہیں ہمارے پیارے کپتان کے مشیر بھی  پنڈت جی ہی نہ ہوں!۔
ممبئی کے انڈر ورلڈ  کی ہوشربا ان کہی کہانیاں ہوں یا دبئی  میں بھائی لوگوں کے کارنامے، ان کو سب علم ہے۔داؤد بھائی کو ممبئی سے کیوں جانا پڑا، چھوٹاشکیل ان کا نمبر دو کیوں ہے، رام گوپال ورما کی فلموں میں پیسہ کون لگاتا ہے اور اتنی فلاپ فلموں کے باوجود وہ فلموں پہ فلمیں کیسے بناتا چلا جاتا ہے۔   یہ سب باتیں اور اس پر ان کا انداز بیان! وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔۔
ان سب باتوں کے علاوہ جس چیز کا انہیں جنون کی حد تک شوق ہے، وہ پامسٹری ہے۔ عجیب و غریب قسم کی جنّاتی اصطلاحیں،   جن میں ستارے، ان کی چالیں اور ان کے اثرات  کا ذکر ہوتا ہے، استعمال کرکے وہ یہ علم ہمیں گھوٹ کے پلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ہم ٹحہرے سدا کے نالائق۔ سیکھنا تو دورہمیں آج تک اس کی "سِدّھ پُٹھ " کا ہی پتہ نہ چل سکا۔ وہ اکثر ہم سے فرمائش کرتے تھے کہ اپنا ہاتھ دکھائیے لیکن شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ہم نے انہیں ہاتھ دکھایا تو وہ کسی کو منہ دکھانے کےقابل نہیں رہیں گے۔ بہرحال  اس دن۔۔
پنڈت جی  سُرور اور مدہوشی کی درمیانی حالت میں تھے!
اور ہم سے باصرار تقاضہ کررہے تھے کہ آج تو ہم آپ کا ہاتھ "جرور" دیکھیں گے اور آپ کی کُنڈلی بنا کے ہی دم لیں گے۔ہم نے انہیں بُہتیرا سمجھایا کہ بخدا ہم سانپ یاناگ قسم کی مخلوق نہیں  ہیں کہ ہماری کُنڈلی بن سکے۔لیکن  پنڈت جی بھی اپنی ہی طرز کے ایک کائیاں ہیں ، اس بات کو ہنسی میں اڑاتے ہوئے اپنی بات پر اڑے رہے ۔ شومئی قسمت سے ہم بھی اس دن فیس بکی چیٹ پرایک دوست سے بھیجا چٹوا رہے تھے لہذا شدید "خوشگوار" موڈ میں تھے۔ ہم نے جھٹ اپنا ہاتھ پھیلا دیا۔ پنڈت جی کی آنکھوں کی لالی اور چہرے کی چمک مزید  بڑھ گئی۔ وہ نہایت انہماک سے ہمارے ہاتھ کی وینگی چِبّی لکیریں دیکھنے لگے ۔ وقفے وقفے سے ہمم ہمم کی معنی خیز آوازیں بھی ہمارے کانوں تک پہنچنے لگیں۔ہمیں اپنے وہ سارے کالے کرتوت یاد آنے لگے جو ہم کرچکے تھے  اور اب کچھ ہی دیر میں دنیا کے سامنے آنے والے تھے۔  پنڈت جی نے کہیں سے ایک قلم اور کاغذبھی  برآمد کرلیا اور  مستطیلیں اور دائرے سے بھی بنانے لگے۔ تقریبا بیس پچیس منٹ کے بعد کُنڈلی کو مکمل کرکے انہوں نے ایک  استادانہ نظر ہم پر ڈالی اور سگریٹ سلگا کر باہر نکل گئے ۔ شاید انہیں کُنڈلی سے اندازہ ہوچکا تھا کہ ہمیں سگریٹ کے دھویں سے کوئی زیادہ محبت نہیں ہے۔ اپنے پھیپھڑے سگریٹ کے صحت بخش دھویں سے تازہ کرنے کے بعد ان کی واپسی ہوئی اور انہوں نے ہمارا کچا چٹھا کھولنا شروع کیا جس کو سننے کے لیے سب بے تاب تھے۔ ان کی بتائی گئی زیادہ تر باتیں ایسی تھیں، جو کوئی بھی اوسط سے زیادہ قوت مشاہدہ رکھنے والا شخص اپنے حلقہ احباب بارے بتا سکتا ہے۔ انسانوں کی اکثریت اپنے رویوں، چال ڈھال،  پہناوے، آداب محفل  وغیرہ  سے اپنی ماضی کی چلتی پھرتی تصویر ہوتی ہے۔ دیکھنے والی آنکھ چاہیے۔ بہرحال ایک دو باتیں ایسی تھیں جن کو سن کر ہم بھی چونکے۔ لیکن ہمارے اندر جو ایک مُنکر بیٹھا ہے اس نے ہمیں دَبکا مار کر چُپ کرادیا۔ پنڈت جی نے ہمیں مستقبل کی مشکلات دور کرنے بارے چند ایک ٹوٹکے بھی ارزانی کیے جن میں کچھ مخصوص پتھروں کی انگوٹھیاں وغیرہ پہننا بھی شامل تھا۔ ہم کیسے ان کو بتاتے کہ ہم نے تو کبھی ماہی کے دئیے ہوئے چھلّے نہیں پہنے تو یہ انگوٹھیاں کیسے پہنیں گے۔ ہمارا نامہ اعمال جسے وہ کُنڈلی کا نام دے رہے تھے،  تہہ کرکے انہوں نے جیب میں رکھا اور ہمیں مطلع کرنا ضروری سمجھا کہ یہ کُنڈلی وہ" بڑے بھیّا" کو بھیجیں گے کیونکہ اس میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو ان کی سمجھ میں نہیں آئیں۔ہم نے سوچا کہ ہم آج تک خود اپنی سمجھ میں نہیں آئے تو یہ پاجی پامسٹری  کیا بیچتی ہے۔
پنڈت جی کا پامسٹری پر یقین ، ایمان کی حد تک ہے۔ بڑے بھیّا  جو ان کے استاد بھی ہیں، کے کارنامے ہمیں اکثر سناتے ہیں۔ اپنی زندگی میں آنے والی سب مشکلات اور مصیبتوں کی پیشگی خبر  ان کے دعوے کے مطابق ،بڑےبھیّا کو ہوجاتی ہے۔ جس کا اُپائے بھی وہ کرلیتے ہیں۔ ہم چپ چاپ سنتے رہتے ہیں اور جب نکو نک ہوجاتے ہیں تو  بات انگریزی فلموں کی طرف موڑ دیتے ہیں کہ یہ واحد موضوع ہے  جس پر پنڈت جی کی بولتی ہمارے سامنے بند ہوتی ہے۔

پنڈت جی سے  کافی عرصہ بعد ملاقات ہوئی، وہ چھٹیاں منانے ہندوستان گئے ہوئے تھے۔ نہایت تپاک سے ملے۔ حال احوال پوچھا تو بتا نے لگے کہ "ارے کیا بتائیں جعفر بھائی۔ موٹر سائیکل پر ریلوے اِسٹیسن جارہےتھے۔ سالی گدھا گاڑی سے ٹکر ہوگئی۔  پوری بائیں ٹانگ کام نہیں کررہی۔ سالا ،بیٹھے بٹھائے مصیبت آگئی۔ اسی حالت میں پَہلے ٹرین میں سفر کئے ہیں پھر پلین میں۔ فلائٹ کینسل ہوجاتی تو باس بولے تھے کہ ٹھاکر اِب کے نہ آئے تو وہیں رہیو۔ آنے کی جرورت نہیں ہے"۔ پنڈت جی کے چہرے پر بے چارگی اور معصومیت تھی!

دوراہا

پروگرا م میں خوش آمدید۔ ہمارے آج کے مہمان مقبول کالم نویس، ڈرامہ نگار، شاعر اور دانشور جناب حسین ایثا ر ہیں۔ جن کے تعارف کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کا نام حسین ایثار ہے!۔
جی ۔۔ایثار صاحب۔ کچھ اپنے بارے بتائیے۔
میں۔۔۔(سگریٹ کا طویل کش لے کر خلاؤں میں گھورتے ہوئے ایک لمبا وقفہ ) میرا تعلق لائل پور سے ہے۔  انتہائی پیارا، دلآویز، حسیں، دلنشیں، دلدار ، جان من شہر تھا۔ اب تو اس شہر کےنام سے جغرافیہ تک سب بدل گیا ہے۔ ڈھیٹ، بے حیا، غلیظ،  منافق، واہیات، بے ہودہ، بدتمیز  (منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے) ہوچکا ہے اب یہ شہر۔ ۔۔ میں تو ۔۔۔
۔۔۔بات کاٹتے ہوئے۔۔ یہ بتائیے کہ آپ کے والد کیا کرتے تھے؟
ہاںںںںں،،، میرے والد۔۔۔ وہ  ایک باشعور، باتمدن، مہذب، تعلیم یافتہ، شعور یافتہ، اپنے وقت سے بہت آگے کی سوچ رکھنے والے انسان تھے۔ اس کی ایک مثال میں عرض کرتا ہوں۔ نوجوانی میں مجھے عشق ہوگیا۔ یہ کوئی اچنبھے والی بات نہیں۔ لیکن میرے معاملے میں تو یہ ایک معجزہ تھا۔ اس وقت میری شکل آج کے مقابلے میں زیادہ منحوس تھی، مجھے تو چنگڑیاں لفٹ نہیں کراتی تھیں چہ جائیکہ ایک پراپر پڑھی لکھی  لڑکی مجھ سے اظہار محبت کرے۔ لہذا میں تو بالکل ریشہ خطمی اور انٹاغفیل وغیرہ ہوگیا۔ اباجی کو پتہ چلا تو انہوں نے میری وہ گدڑ کُٹ لگائی کہ کیا پُلیسے لگاتے ہوں گے۔ لیکن میں ، جیسا سب کو پتہ ہے، مستقل مزاج انسان ہوں۔ میں اپنے موقف پر قائم رہا جس پر ابا جی نے مجھے گھر سے نکال دیا۔ وہ ایک الگ کہانی ہے بہرحال۔ محبت میں ناکامی اور گھرسے بے دخل ہونے کے بعد میں لاہور بھاگ گیا اور کافی عرصے بعد جب لائل پور واپس گیا تو اپنی محبت کو ایک نظر دیکھنے کی کسک دل میں تھی۔ ایک دن موقع مل گیا لیکن اس کو دیکھتے ہی مجھے اپنے اباجی کی دور اندیشی کا اندازہ ہوا، وہ نازک اندام حسینہ ، جس کی زلف گرہ گیر کا میں اسیر ہوا تھا، ایک نصرت فتح علی ٹائپ خاتون کی صورت  میں ڈھل چکی تھی ۔ بوٹے کے کباب، گھنٹہ گھر کی آئس کریم اور لگاتار نوماہی زچگیوں نے  اسے، موتیے کی کلی سے گوبھی کا پھول بنا دیا تھا۔ اللہ، اباجی کو غریق رحمت کرے، وہ درست کہا کرتے تھے کہ "اوئے ڈنگرا ، تیری مَت کھوتے توں وی لنگھی اے"۔
آپ کو اردو صحافت کا پہلا سپر سٹار کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ مایوسی کے تاجر ہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟
آج جو کچھ بھی میں ہوں، اس کی وجہ جدوجہد، محنت، مستقل مزاجی، لگن، علم سے محبت، جہالت سے نفرت ہے۔ میں مایوسی نہیں پھیلاتا اور جو گھٹیا اور شُہدے لوگ یہ سمجھتے ہیں ان کی عقلوں میں فتور ہے یا وہ بے غیرت ہیں۔ میں معاشرے کا آئینہ ہوں،  اس میں وہی کچھ نظر آئے گا جو معاشرے میں ہورہا ہے۔
ایثار صاحب، ایک طرف تو آپ مغربی معاشرے کی اخلاقی اقدار کے گرویدہ ہیں  اور انسانیت کی فلاح کے لیے ان کے کام اور کارنامے گنواتے آپ کو دوسرا سانس نہیں آتا  جبکہ اسی  تہذیب نے انسانیت کے خلاف جو جرائم کیے اور کررہی ہے ، آپ اس کے دفاع میں ،،جس کی لاٹھی اس کی بھینس،، کی دلیل دیتے ہیں۔ کیا یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے متضاد نہیں؟
آپ عجیب گھٹیا، فضول، ازکار رفتہ ، واہیات سوچ کے مالک ہیں۔ آپ جیسے بوزنوں۔۔۔۔ (کمرشل بریک)
(بات کاٹتے ہوئے) زبان سنبھال کے بات کریں۔ جب تک آپ کے گارڈز اندر آئیں گے، میں آپ کا منہ نیلا اور تشریف لال کردوں گا۔ اپنی یہ چ ۔۔چالاکیاں میرے ساتھ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مجھے تنخواہ چینل سے ملتی ہے نہ تو میں آپ کا جاہل عوام ہوں اور نہ آپ کی میڈیا فرم کا ملازم۔
(حسین ایثار ، گہرے گہرے سانس لینے لگتے ہیں،   رنگ سیاہ سے سیاہی مائل پیلا ہونے لگتا ہے۔ جیب سے ایک چپٹی سے بوتل نکال کر ، سامنے پڑے مگ میں ایک محلول انڈیلتے ہیں اور ایک ہی سانس میں چڑھا جاتے ہیں۔ بوتل سے تھوڑا سا محلول اور انڈیل کر ایک چھوٹا سا  سِپ لیتے ہیں۔ چہرے پر رونق واپس آجاتی ہے)۔ یار ، تُوں گُسہ ای کرگیاایں۔ تُوں تے اپنا جگرایں۔ چل دفع کر گُسہ ۔
(کمرشل بریک سے واپسی)
جی ، ناظرین، ہمارے ساتھ موجود ہیں، جناب حسین ایثار۔ آئیے ان سے گفتگو دوبارہ شروع کرتے ہیں۔ جی، ایثار صاحب۔ آپ اکثر اپنی تحاریر میں معاشرے میں پھیلی منافقت پر لکھتے ہیں۔ آپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ آپ کے طعن و تشنیع کا شکار اکثر منتخب لوگ ہی بنتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو آپ نے دائمی استثنی دیا ہوا ہے۔ جن میں لطافت حسین اور چودہری یونس الہی  و ہمنوا شامل ہیں۔ آپ کا کیا  کہتے ہیں اس بارے؟
لطافت حسین اور ان کی جماعت، اس ملک کے لیے امید کی آخری کرن ہیں۔ وہ ایسا لیڈر ہے جو عوام کو ایجوکیٹ کرتا ہے۔ کبھی آپ اس کے جلسے میں گئے ہوں تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ کیسے وہ  ایک دو تین کہتا ہے اور کروڑوں کا مجمع بالکل خاموش ہوجاتا ہے؟
۔۔۔بات کاٹتے ہوئے۔۔۔ جناب۔ یہ لیڈر کی بجائے پی ٹی ماسٹر کی نشانی ہوتی ہے۔
آپ عجیب بات کرتے ہیں۔ نہایت بے۔۔(ایک دم کچھ یاد آجاتا ہے) نہیں میرے بھائی، اس نے ڈسپلن سکھایا ہے عوام کو۔ اصلی مڈل کلاس قیادت ہے۔ اس نے سڑک چھاپ لوگوں کو اسمبلی کے ممبر بنادیا ہے۔ اس ملک میں وہی انقلاب لائے گا۔ جہاں تک ان کے خلاف قتل و غارت ، بھتہ خوری، منظم جرائم ، اغواء برائے تاوان کے الزامات کا تعلق ہے تو یہ سب پراپیگنڈہ ہے جو جماعتیے، ایجنسیوں کے ایماء پر  کرتے ہیں۔ کیونکہ لطافت حسین اٹھانوے فیصد عوام کا حقیقی لیڈر ہے اور جاگیر دار اس سے خوفزدہ ہیں۔ ایم بی ایم (میرا بھائی موومنٹ) سے زیادہ پر امن، صلح جو، راست باز، با عمل، صالح، عوام دوست، مہذب جماعت  اس کائنات میں نہ تو پہلے کبھی بنی ہے اور نہ آئندہ کبھی بن سکتی ہے۔  جہاں تک سوا ل ہے چودہری یونس الہی کا تو وہ  نئی نسل کے ان سیاستدانوں میں شامل ہیں جن کی شرافت، شائستگی، ایمانداری ، نجابت  کی قسم کھائی جاسکتی ہے۔  میں اللہ کی قسم کھا کرکہتا ہوں کہ ایسے اجلے دامن والا سیاستدان میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ (مگ اٹھا کر ایک لمبا سِپ لیتے ہیں)۔
آپ سیاستدانوں کی مالی لوٹ مار کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھاتے ہیں۔ لیکن آپ نے کئی ایکڑز پر مشتمل جو محل نما فارم ہاوس بنایا ہے اس کے بارے مختلف کہانیاں گردش میں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ منی لانڈرنگ  کے طور پر آپ نے اس فارم ہاوس کی ملکیت میں بہت سے پاٹے خاں قسم کے سیاستدانوں اور صحافیوں کو بھی شریک کیا ہے جس کی وجہ سے کوئی اس پر سوال اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتا۔ آپ کا کیا کہنا ہے اس پر۔
غلیظ ذہنیت والے لوگ اس کے علاوہ اور سوچ بھی کیا سکتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے میری آمدنی اتنی ہے کہ ان گھٹیا لوگوں کی گندی سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔ میرے ہفتہ وار کالم کا چیک ہی اگر آپ دیکھ لیں تو آپ کے ہوش ٹھکانے آجائیں۔ جبکہ۔۔۔
۔۔۔ بات کاٹتے ہوئے۔۔۔ پیسہ کمانا اہم نہیں ہے، کیسے کمایا جائے وہ اہم ہے۔ ورنہ  پیسے تو سنی لیون اور نرگس بھی بہت کماتی ہیں ایثار صاحب۔ اور میرے ہوش ٹھکانے پرہی رہتے ہیں کیونکہ میں کافی پیتا ہوں۔
نہیں نہیں۔۔ میرا مطلب  یہ نہیں تھا۔ بہرحال میں ایسے ایک تو کیا سو فارم ہاوس بنا سکتا ہوں۔ یہ میرا پیسہ ہے ، جو میرا دل چاہے وہ میں کروں گا۔ یہ مامے لگتے ہیں اس فارم ہاوس کے؟
یعنی آپ کو تو یہ حق ہے کہ کسی کے بارے میں کچھ بھی لکھ دیں لیکن کوئی آپ سے اگر یہ سوال کردے کہ یہ اتنا لمبا کُرتا کہاں سے آیا تو آپ اس کا جواب دینے کے مکلف نہیں۔ فئیر انف۔ آگے چلتے ہیں۔ آپ کی میڈیا فرم بارے کہا جاتا ہے کہ پچھلے دور حکومت میں اخبارات اور چینلز پر جو تشہیری مہمات  "پڑھا لکھا پنیاب" کے نام سے چلائی گئیں، اس میں آپ کا حصہ بہت زیادہ تھا۔ اگرچہ آپ اکنامکس کے ڈگری ہولڈر ہیں لیکن یہ ایڈورٹائزنگ کے بزنس میں کیسے آگئے؟ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ سب چودہری یونس الہی کی مہربانیاں تھیں؟
یہ سب حاسد، کمینے، تُھڑدلے، نیچ  لوگ ہیں۔ ساری زندگی اچھے لباس اور اچھے کھانے کو ترسنے والے ۔ میں نے زندگی میں جو کچھ بھی کیا وہ اپنے بل بوتے پر کیا۔ یہ سب میری محنت کا کرشمہ ہے ۔ میرا ٹیلنٹ، صلاحیت، ہنر ان حاسدوں سے ہزار گنا زیادہ ہے۔ میرا حق ہے کہ میں رنگ برنگی قمیصیں پہنوں اور رولیکس کی گھڑی باندھوں۔ یہ کسی کے باپ کا پیسہ نہیں ہے ۔ میری کمائی ہے۔ جو میرا۔۔
۔۔۔بات کاٹتے  ہوئے۔۔۔ جناب، اگر تشہیری مہم والی بات درست ہے تو یہ پیسہ واقعی عوام کے باپ کا پیسہ ہے۔ ان کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔ اس پر آپ عیاشی کیسے کرسکتے ہیں؟ آپ میں اور ان سیاستدانوں میں کیا فرق رہ گیا جن کے خلاف لکھ لکھ کے آپ نے بیس سال سے ہمارے کان کھالئے ہیں۔
وہ سارے پراجیکٹ ہماری فرم کو میرٹ پر ملے تھے۔ میں لعنت بھیجتا ہوں الزام لگانے والوں پر اور جلنے والے کا منہ ہی کالا ہوتا ہے۔ گندے نالی کے کیڑے ہیں یہ سب ۔ گندگی پر بیٹھنے والی مکھیاں۔ آوارہ کُتوں کی طرح ہر شریف اور نجیب آدمی پر بھونکنا ان کی عادت ہے۔  میں ان کو غلاظت سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ اگر ان میں ہمت ہے تو میرے خلاف عدالت میں چلے جائیں۔ ان کا باپ بھی کچھ ثابت نہیں کرسکتا۔ کام ہی اتنا پکّا ہے۔ ان کی۔۔۔
ناظرین ، پروگرام کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے۔ اگرچہ ہماری بڑی خواہش تھی کہ حسین  ایثار کے ساتھ کچھ وقت اور گزارتے لیکن ہماری بدقسمتی اور ان کی خوش قسمتی کہ وقت ختم ہوگیا ہے۔ اپنا خیال رکھیے گا اور چوراہے سے سیدھے گزرجائیے گا، دائیں بائیں دیکھے بغیر۔ 

درد تے نئیں ہو رئی جی

معاملہ, چونکہ ٹھنڈا پڑگیا ہے لہذا اب ہم اپنا لُچ تلتے ہیں۔
بورڈ پر لکھے ہوئے ڈاکٹر اور کپیٹن کے لفظ تو سمجھ میں آجاتے تھے لیکن بریکٹ میں لکھے  ریٹائرڈ کے معنی سے شناسائی نہ تھی۔ ڈاکٹر تو خیر اب اردو کا ہی لفظ سمجھا جاتا ہے لیکن کیپٹن کے لفظ سے شناسائی ، فوج سے جڑی مڈل کلاسی رومانویت کی وجہ سے تھی۔ سکول کے آخری ایّام تک جوبھی مستقبل بارے ہم سےدریافت کرتا کہ "آ پ بڑے ہوکر کیا بنیں گے؟" تو ہمارا ترنت جواب "فوجی" ہی ہوتا تھا۔   بدقسمتی سے (فوج کی ، ہماری نہیں) ہم "فوجی" نہ بن سکے۔ بہرحال یہ الگ قصّہ ہے۔  یہ ایک دو منزلہ مکان تھا جو ہماری پچھلی گلی میں عین ہمارے گھرکے پیچھے واقع تھا۔اس کی نچلی منزل پر لگے سائن بور ڈ سے پتہ چلتا تھا کہ یہ ایک کلینک ہے۔
بچپن سے نوجوانی اور پھر جوانی تک اس کلینک سے ہمارا واسطہ اکثر و بیشتر پڑ تا رہا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی ہم انسان تھے، لہذا بیمار وغیرہ ہوجایا کرتے تھے، خاص طور پر گرمیوں میں ہمارا گلا اکثر عاشق کا گلہ بن جاتا تھا، درد و رنج سے بھرا ہوا اور کام کرنے سے انکار کردیتا تھا۔ پانی تک گزرنے سے انکاری ہوجاتا تھا ، پس ہم ابّا کی انگلی پکڑے ، اسی کلینک میں جا براجمان ہوتے تھے۔ دو انجکشن تو تُرنت لگتے تھے، کمپاؤنڈر ریاض،  جو بعد میں ترقی کرکے خود بھی ڈاکٹر ہوگیا تھا،   انجکشن لگاتے ہوئے اپنے مخصوص تیز تیز بولنے والے انداز میں  چند فقرے ضرور دہرا یا کرتا تھا۔ جو کچھ یوں ہوتے تھے۔" درد تے نئیں ہورئی جی۔۔۔ درد ہووے دس دینا۔۔۔ پنج منٹ بیٹھے رہنا"۔ یہ جملے مسلسل  آٹھ دس سال سننے کے بعد جب ہم بڑے ہوئے تو ریاض کے انجکشن لگاتے ہی ہم خود ان فقروں کی گردان کرنے لگتے تھے، جس پر وہ قہقہہ لگاتا تھا اور کہتا تھا کہ  "حاجی صاب نوں شکیت لاواں گا  کہ ایہہ میریاں نقلاں لاءندا جے"۔
تمہید ، طُولانی ہوتی جارہی ہے۔اس لیے اصل قصّے کی طرف آتے ہیں جو ہم نے اپنے ابّا کی زبانی سُنا۔   ہمارے ابّا کے ایک کاروباری دوست کا بیٹا ڈاکٹر بننا چاہتا تھا   جبکہ وہ ایسا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نےابّا سے  ذکر کیا کہ "مُنڈا من دا نی پیا، کیہ کرئیے"۔ ابّو نے ڈاکٹر صاحب کے سامنے مسئلہ رکھا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس لڑکے سے مجھے ملوائیں۔ میں اس کے بعد ہی کچھ کہہ سکتا ہوں۔
 قصہ مختصر، اس  ڈاکٹر بننے کے خواہشمند نوجوان کی ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ہمارے ابّا راوی ہیں کہ انہوں نے نوجوان سے صرف ایک سوال پوچھا کہ کیا تُم ساری زندگی، چوبیس گھنٹے، ایک دستک یا ایک فون کال پر اٹھنے  اور مریض کو اٹینڈ کرنے کے لیے تیار ہو؟ یہ نو سے پانچ والی جاب نہیں ہے۔ انہوں نے فیصلابادی "وِٹ" استعمال کرتے ہوئے ایک محاورے میں ترمیم بھی کی اور کہا کہ گاہک، موت اور مریض کا  کوئی پتہ نہیں کہ کب آجائے۔  اگر یہ سب کرنے کے لیے تم خود کو تیار پاتے ہو تو ڈاکٹر بن جاؤ۔ اگر تمہیں  آرام دہ اور دباؤ سے آزاد زندگی گزارنی ہے تو میڈیکل کالج کے پاس سے بھی گزرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد انہوں نے شادی کرلی۔ فوج کی لازمی ملازمت کے بعد انہوں نے یہاں اس نچلے متوسط طبقے کے محلے میں کلینک کھولا، سپیشلائزیشن کے لیے لاہور کے  کسی کالج میں داخلہ لیا۔ صبح فجر سے ایک گھنٹہ پہلے اٹھ کے وہ لاہور جاتے، اس دور میں لاہور، فیصل آباد کا یک طرفہ سفر تین گھنٹے پر محیط ہوا کرتا تھا۔  اپنی کلاسز اٹینڈ کرتے، وہاں سے واپس آکے شام کو اپنے کلینک پر بیٹھتے۔رات نوبجے کلینک بندکرنے کے بعد وہ  سٹڈی کرتے۔ بمشکل تین چار گھنٹے کی نیند کے بعد ایک اور پُرمشقت دن ان کا منتظر ہوتا۔ کلینک چونکہ نیا تھا لہذا پریکٹس بھی واجبی سی ہی تھی۔ مالی طور پر بھی وہ وقت ان کے لیے کافی تنگی کا تھا۔ لیکن جیسا کہ وقت کی فطرت ہے کہ کہ گذر جاتا ہے ، اچھا ہو یا بُرا۔ وہ وقت بھی گذر گیا۔
ہمارے ریٹائرڈ کیپٹن ڈاکٹر صاحب نے بہت محنت کی۔ بعد میں پیسہ بھی بہت کمایا۔ لیکن اس پیسے کو کمانے کے لیے انہوں نے  زندہ انسانوں کا خون نہیں چُوسا۔  ان کے کلینک میں آج بھی مریض کی حالت دیکھ کر فیس لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور اس بات کا ذکر بھی وہ کبھی کسی سے نہیں کرتے۔ رات کے کسی بھی پہر،  کوئی بھی ان کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا تھا اور ہر ممکن طبّی امداد حاصل کرسکتا تھا جس میں پہلے پیسے دینے کی کوئی شرط بھی شامل نہیں ہوتی تھی۔ میں نے اتنے طویل عرصے میں کبھی ان کی پیشانی پر شکن نہیں دیکھی اور نہ ہی کبھی ان کے چہرے کو بغیر مسکراہٹ کے دیکھا۔
 کہا جاتا ہے کہ فنکار، پیدائشی ہوتے ہیں،بنائے نہیں جاسکتے،  شاید ہوتے ہوں۔ لیکن طبیب، یقینی طور پر پیدائشی ہوتے ہیں اور اگر انہیں زبردستی طبیب بنایا جائے تو جوہوتا ہے ، وہ آپ جانتے ہوں گے۔  دولت کمانا  طبیب کے لیے حرام نہیں ہے؛ دولت کمانے کو مقصد بنانا کسی تاجر،  دکاندار، سمگلر، منشیات فروش، سیاستدان  کے لیے تو عین جائز ہوسکتا ہے لیکن طبیب؟
پتہ نہیں یہ سب  پرانی باتیں میرے ذہن میں کیوں آگئیں۔ میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آرہا۔ آپ کی سمجھ میں کچھ آیا؟
 درد تے نئیں ہو رئی جی؟