قائد اعظم (2.0) کے 14 نکات

قائد اعظم محمد علی جناح  نے انگریزوں، ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں، یہودیوں، عیسائیوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے مشہور زمانہ 14 نکات پیش کیے ۔ جن پر عمل کرتے ہوئے علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا۔خواب کے بعد قائد اعظم لندن منتقل ہوگئے تاکہ پاکستان بنانے کی جانگسل جدو جہد سے پہلے تھوڑا فریش ہوسکیں۔ بالآخر علامہ اقبال نے ان کو خط وغیرہ لکھے کہ اب واپس آجائیں، وقت کم رہ گیا ہے۔

قصّہ مختصر اگرچہ قائد اعظم نے پاکستان بنایا اور وہ اسلامیان ہند کے متفقہ صادق و امین رہنما کہلائے، مگر باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو قائد اعظم میں رہبرانہ اوصاف کا معمولی سا حصہ ڈالا گیا تھا تاکہ دیکھا جاسکے کہ امت مسلمہ اصل راہبر کے لیے تیار بھی ہے یا نہیں۔ سائنسی زبان میں اسے ٹیسٹ رَن کہتے ہیں۔ ان معمولی اوصاف کے ساتھ ہی قائد اعظم نے پاکستان بنا ڈالا۔  باقی تاریخ ہے۔

پاکستان بنے ہوئے 70 سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا۔ روحانیت سے شغف رکھنے والے جانتے ہیں کہ روحانی دنیا میں اتنا وقت ایک آدھ دن کے برابر ہے۔ دو سال قبل پاکستان میں وہ راہبر لانچ ہوا جس کے لیے امت مسلمہ کو تیار کیا جارہا تھا۔   پرانے قائد اعظم پروٹو ٹائپ تھے جو کامیاب رہا۔ اب اصل پراڈکٹ لانچ ہوئی ہے۔

دنیا میں مچی ہوئی ہلچل اس بات کا ثبوت ہے کہ روحانی دنیا نے نیو ورلڈ آرڈر لانے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔سارے کافر، یہودی، عیسائی، ہندو، بدھ، سکھ، پارسی، ملحد، لبرل متحد ہو کر  اس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے تیار ہورہے ہیں۔ دوسری طرف امت مسلمہ کے پاس قائداعظم 2.0 ہے!

اس شذرے میں ہم موجودہ اور ریفائنڈ قائد اعظم  کے 14 نکات  بیان کریں گے جن پر نئی دنیا استوار ہوگی۔ یہ نکات مندرجہ ذیل ہیں:-

1۔ فانی دنیا  میں کچھ بھی حتمی اور یقینی نہیں سوائے قائد کے فرمان کے۔

2۔ جرمنی اور جاپان کو متصل کیا جائے ۔

3- شیخ چلّی   ڈاکٹرائن پر عمل کیا جائے۔

4- درختوں اور پودوں کو پابند کیا جائے  کہ رات کو آکسیجن خارج کریں اور سلینڈرز میں بھرکے خیبر پختوانخواہ کے جدید ہسپتالوں میں فراہم کریں۔

5۔ حکومت  چلانے کے لیے کفار اور یہود کو پابند کیا جائے کہ مجھے بہترین تربیت دیں۔

6۔ کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے ارطغرل دیکھا جائے۔

7۔ پنجاب کو پاکستان سے الگ کیا جائے۔

8۔ مس کال کو خارجہ پالیسی کی بنیاد بنایا جائے۔

9۔ "مانگنا، کمانے سے بہتر ہے" نئے پاکستان کی معاشی پالیسی قرار دی جائے۔

10۔   امیر لوگوں کو نئے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے آمادہ کیا جائے۔

11۔ صنعتکار،  تاجر  کرپٹ ہوتے ہیں۔ ان کو جیل میں ڈالا جائے۔

12۔ "جب ماڈل ٹاؤن ہوا، اس وقت تم۔۔۔۔" کو قومی بہانہ قرار دیا جائے۔

13۔ حور والے ٹیکے عام کیے جائیں۔

14۔  92 ورلڈ کپ کو معجزہ قرار دیا جائے۔