حاجی صاحب

جالندھر میں پیدا ہوئے۔ 47 میں ہجرت کے وقت چار پانچ سال کے تھے۔  ہنستے بستے گھر چھوڑ آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ دادا جنت مکانی لائلپور میں آٹھہرے۔ بہت عرصہ تک یہی کہتے اور سمجھتے رہے کہ یہ عارضی مشکل ہے۔ ہم واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے۔ ایسا کچھ نہ ہوا۔

پودا اکھڑ جائے تو نئی جگہ جڑ پکڑتے دیر لگ جاتی  ہے۔ سکول جانا شروع کیا تو شاید پانچویں جماعت تک ہی پڑھ سکے۔ گھر میں عسرت تھی۔  بتاتے تھے کہ شاید کتابوں کے پیسے نہیں تھے تو سکول چھوڑ دیا۔ جھنگ بازار میں سبزی کا ٹھیلا لگا لیا۔ جو کچھ یافت ہوتی، ماں کے ہاتھ پہ رکھ دیتے۔ بتایا کرتے تھے کہ امی کے ساتھ گھر کے کام بھی کرتے تھے۔ سب سے بڑے بھائی 47 میں بچھڑ گئے تھے۔ تقریبا دس سال بعد ملے۔   دادی کو ان سے اور ابو سے زیادہ لگاؤ تھا۔ آخری عمر تک رہا۔

سلمی ستارے کا کام سیکھا اور نوجوانی تک وہی کام کیا۔ سب سے بڑے بھائی درزی تھے۔ جناح کالونی لائلپور میں ٹیلرنگ کی دکان تھی۔ ان سے درزی کا کام سیکھا۔ آخری عمر تک پرانے ملنے والے ماسٹر جی پکارتے تھے۔ شادی کے بعد اپنا کاروبار شروع کیا۔ جناح کالونی میں اس وقت ہوزری مارکیٹ کا آغاز تھا۔ وہی کام شروع کیا۔گُنی اور محنتی تھے۔ کاروبار میں برکت ہوئی۔ چند سال میں اپنا گھر بنا لیا۔

جوانی میں حج بھی کرلیا۔ اس کے بعد جگت حاجی صاحب ہوگئے۔ گھر، باہر سب یہی پکارتے تھے۔ بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے، آخری سے پہلا نمبر۔  خاندان میں مگر رتبہ بڑوں جیسا تھا۔ بڑے بھائی بھی ان کو بڑا سمجھتے اور مانتے تھے۔ کسی معاملے، مناقشے، مسئلے میں ان سے رجوع کرتے۔ ان کی رائے کو ترجیح دی جاتی۔

تحمل تھا، کبھی طیش میں نہیں دیکھا۔ اس زمانے بلکہ آج بھی دیسی معاشرے میں بچوں کی تربیت اور مار پیٹ کو مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ساری زندگی میں ان سے ایک تھپڑ کھایا۔ اس کی الگ کہانی ہے۔ کبھی گالی نہیں سنی۔ بہت غصہ میں ہوتے تو 'گدھا' کہہ دیتے۔ اس سے زیادہ نہیں۔ چلاّ کے بات کرتے کبھی نہیں سنا۔ چھوٹے، بڑے سب کو "تسی" سے مخاطب کرتے۔

جوانی میں حج کرلیا تھا۔ مذہب سے لگاؤ ساری زندگی رہا۔ نماز کے پابند۔ زاہدِ خشک مگر نہیں تھے۔ کبھی پابندیاں نہیں لگائیں کہ  یہ پہنو، یہ مت پہنو۔ بال کٹواؤ، داڑھی چھوڑو۔  مطالعہ کا شوق ان سے ہوا۔ بیٹھک میں ایک الماری کتابوں سےبھری ہوئی تھی۔ مذہبی لٹریچر سے لے کر سیاست اور ادب تک بہت سی کتابیں۔ بہارِ شریعت سے  گلستان و بوستان ، چودھری افضل حق کی 'زندگی' ، 'جواہرات' اور ایس ایم ظفر کی 'ڈکٹیٹر کون ' سے شبلی کی 'الفاروق' تک۔  سکول کے دور میں ایک دفعہ مظہر کلیم کی عمران سیریز کا ناول ہمارے ہاتھ میں دیکھا تو بہت ناراض ہوئے ۔ کہا کہ پڑھنا ہے تو ابن صفی کو پڑھو۔

زندگی میں پیسہ  خوب کمایا، خرچ بھی خوب کیا۔ خود پر کم، دوسروں پر زیادہ۔ خدا کے بعد ان کا محنت پر ایمان تھا۔ ادھیڑ عمری کے اختتام پر بحران کا شکار ہوئے۔ زندگی میں جو کچھ بنایا، ختم ہوگیا۔ مال بھی، تعلق بھی۔ رشتہ دار، دوست کترانے لگے۔ کبھی زبان سے تو نہیں کہا لیکن حالتِ حال سے پتہ چلتا تھا کہ دکھ ہے۔ پھر نئے سرے سے محنت شروع کی۔ ہم نے بھی ہجرت کی اور روزی کی تلاش میں خلیج آگئے۔ محنت کا جو سبق ان سے سیکھا تھا، کھرا پایا۔

آخری دو تین سال کے علاوہ جب کمزور ہوگئے تھے، ساری زندگی اپنے ہاتھ سے کمایا۔ کبھی کسی کے احسان مند نہ ہوئے۔   ہم بڑے ہوئے تو ان سے تعلق دوستانہ ہوگیا۔ سیاست، کھیل، مذہب سب پر گپ شپ ہوتی جیسے دوستوں میں ہوتی ہے۔ ملک چھوڑنے کے بعد یہ سب ختم ہوا۔ چھٹی پر آنا ہوتا تو سامان کھولنے باندھنے میں ہی دن گزر جاتے۔

مارچ میں پاکستان آیا تو وباء کی وجہ سے رکنا پڑا۔ تقریبا چھ مہینے ان کے ساتھ گزارے۔ کمزور اور ضعیف ہوگئے تھے۔ یادداشت بھی اچھی نہیں رہی تھی۔ مگر ان کی زندہ دلی برقرار تھی۔  آتے ہوئے ان سے کہا کہ اگلی دفعہ میں نے آنا ہے تو آپ مجھے ائیرپورٹ لینے کے لئے آئیں۔ ہنس دئیے۔

یہ ان کی آخری یاد ہے۔

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

 


وبا کے دنوں میں خلافت


آئن سٹائن نے 1905 میں نظریۂ اضافت پیش کیا۔ اس کے ٹھیک دس برس بعد اسی سے متعلقہ ورم ہول (Wormhole) نظریہ پیش کیا گیا۔ جس کے مطابق  کائنات میں ایک شارٹ کٹ تشکیل پاتا ہے جس کے ذریعے  زمان و مکان کی حدیں توڑ کر وقت یا سپیس میں کہیں بھی جایا جاسکتا ہے۔ 1997 تک  ورم ہول صرف تھیوری کی حد تک ہی تھا۔ عملی طور پر انسان اس بارے کچھ نہیں جانتا تھا۔
1997 میں یونیورسٹی آف لزبن کے فزکس ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ڈین پروفیسر ہاوئیر فیگو نے ایک دلچسپ تھیوری پیش کی۔ جس کے مطابق جب بھی دنیا میں بڑے پیمانے پر انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں،اس کے نتیجے میں ورم ہول پیدا ہوتا ہے۔ پروفیسر فیگو کا کہنا تھا کہ اس ورم ہول کا مقصد یہ ہے کہ جانوں کے اس ضیاع کو روکنے کے لیے فطرت انسان کو موقع  دیتی ہے کہ وہ وقت میں سفر کرکے اس سانحے یا حادثے کو رونما ہونے سے پہلے روک سکے۔
پروفیسر فیگو  کی تھیوری کو زیادہ پذیرائی نہیں  ملی بلکہ سائنسی حلقوں میں اس کا مذاق بھی اڑایا گیا۔ 2005 میں پروفیسر ہاوئیر فیگو اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے۔ ان کی موت کا سبب ڈپریشن بتایا گیا۔
1999 میں پروفیسر فیگو یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑ چکے تھے۔ 99 سے 2005 تک  وہ رینڈ کارپوریشن کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ وابستہ رہے۔ 2007 میں رینڈ کارپوریشن کے ایک وسل بلوور نے نہایت عجیب انکشافات کیے۔ ان کا نام رچرڈ ہاکنگز تھا اور وہ پروفیسر فیگو کے ساتھ بطور اسسٹنٹ وابستہ رہے۔ ہاکنگز کا کہنا تھا کہ پروفیسر فیگو کی تھیوری کو ٹیسٹ کرنے کے لیے عراق اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا گیا ۔ اس کے نتائج  جانچنے کے لیے فزکس کے ماہرین  کی ٹیم جدید ترین آلات کے ساتھ خلائی سٹیشن پر موجود رہی۔  اس تجربہ کا کوڈ نیم 'ریبٹ ہول' رکھا گیا۔
رچرڈ ہاکنگز کے مطابق  آپریشن ریبٹ ہول کامیاب رہا اور ماہرین نے افغانستان میں بامیان کے قریب ورم ہول دریافت کرلیا۔ اس ورم ہول کے ذریعے ایک سپیشل آپس ٹیم تجرباتی طور پر   ہٹلر کو قتل کرنے کے لیے بھیجی گئی۔ کیلکولیشنز میں ابہام کی وجہ سے یہ ٹیم 1938 کی بجائے 1944 میں جا پہنچی۔ جدید آلات اور ٹیکنالوجی کی مدد سے انہوں نے ہٹلر کے بنکر سراغ لگایا  اور اسے قتل کرکے اس کی نعش اپنے ساتھ لے آئے۔ یہ نعش رینڈ کارپوریشن کے خفیہ عجائب گھر میں آج بھی موجود ہے۔
اس ٹیم کی بنائی گئی وڈیو سے ظاہر ہوا  کہ جرمنی بھی اس وقت تک ایٹم بم ایجاد کرچکا تھا اور جس وقت یہ ٹیم ہٹلر کے بنکر میں پہنچی ، اسی شام ہٹلر پورے یورپ اور امریکہ کو  ایٹم بموں سے تباہ کرنے والا تھا۔
رچرڈ ہاکنگز کے یہ انکشافات ناقابل یقین تھے۔ بوسٹن گلوب میں چھپنے والی اس خبر کی اگلے ہی دن تردید کی گئی اور اخبار نے قارئین سے معافی مانگی۔ رچرڈ ہاکنگز کو نفسیاتی مریض قرار د ے کربوسٹن کے آربر ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔   26 نومبر 2010 کو پراسرار حالات میں رچرڈ ہاکنگز  اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ ان کے جسم پر کسی قسم کا کوئی زخم نہیں تھا۔ پوسٹ مارٹم  رپورٹ کو کلاسیفائیڈ قرار دے کر سیل کردیا گیا۔
22 مارچ 2020 کو ترکی کی خفیہ ایجنسی این آئی او کے اہلکار اورحان ایورن نے واشنگٹن سے ایک رپورٹ بھیجی۔ اورحان رینڈ کارپوریشن میں کرد امور کے ماہر کے طور پر ملازمت کرتے تھے۔  حادثاتی طور پررینڈ کارپوریشن 2017 کی ٹاپ سیکرٹ سالانہ میٹنگ کے منٹس  اورحان کے ہاتھ لگ گئے۔  ان کے مطابق دنیا کے حالات اگلے پانچ برسوں میں بالکل تبدیل ہونے والے تھے۔ مغرب اور امریکہ کی سائنسی اور سیاسی برتری  ختم ہونے والی تھی۔ اس تبدیلی کی شروعات پاکستان سے ہونے والی تھیں ۔
منٹس کے مطابق رینڈ کارپوریشن نے اپنے پورے وسائل کے ساتھ اس تبدیلی کو روکنے کے لیے دس سال جدوجہد کی۔ لیکن بالآخر 2018 میں تبدیلی کو روکنا ناممکن ہوگیا۔  اس تبدیلی کے بعد ترکی اور پاکستان مل کر خلافت کا احیاء کرنے والے تھے ۔ طیب اردگان اس بارے میں ہمیشہ سے یکسو تھے  اور صرف مناسب وقت کا انتظار کررہے تھے۔ جیسے ہی پاکستان میں عمران خان وزیر اعظم بنتے، خلافت عمرانیہ کے احیاء کا اعلان استنبول سے کر دیا جاتا۔ رفتہ رفتہ سارے بااثر مسلم ملک اس خلافت کی بیعت کرلیتے۔ عمران خان اس کے لیے سارا ہوم ورک پہلے ہی کرچکے تھے۔ سعودیہ سے یو اے ای اور انڈونیشیا سے ملائشیا تک سبھی آپ کی خلافت پر متفق تھے۔
خلافت عمرانیہ قائم ہونے کے بعد جو منظر نامہ ہوتا ، رینڈ کارپوریشن نے اس کی کچھ منظر کشی اس میٹنگ میں کی۔ اس کے مطابق تیل کے ذخائر، مشترکہ فوجی طاقت اور بے تحاشا انسانی وسائل کی حامل اس خلافت کو دنیا پر حکومت کرنے سے روکنا ناممکن تھا۔  یہ مغربی تہذیب کی موت ہوتی۔ سیموئل ہنٹنگٹن کا 'تہذیبوں کا تصادم' سچ ثابت ہوجاتا۔
میٹنگ منٹس کے آخر میں تجویز پیش کی گئی کہ مغربی تہذیب کی اس تباہی کو روکنے کے لیے 'آپریشن ریبٹ ہول 2' کا آغاز کیا جائے۔ اس کے لیے بل گیٹس کی تجویز کو مناسب قرار دے کر اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
منصوبہ کے مطابق بائیولوجیکل ہتھیار کے ذریعے دنیا میں ایسی وبا پھیلائی جانی تھی جو ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ اس کے آغاز کے لیے چین کا انتخاب کیا گیا۔ اس کی ویکسین پہلے ہی تیار کرلی گئی تھی۔ جیسے ہی وبا عالمی طور پر پھیلتی، مغربی میڈیا کے ذریعے یورپ اور امریکہ میں بے تحاشا اموات کی خبریں پلانٹ کی جاتی۔ جبکہ اصل میں زیادہ اموات چین او ر اسلامی ممالک میں ہونی تھیں۔ جیسے ہی اموات  ورم ہول کی مطلوبہ تعداد تک پہنچتیں، سپیشل آپس سائی بورگ ٹیم ماضی میں روانہ کی جاتی ۔ یہ ٹیم عمران خان کے بچپن  میں جا کر ان کو اغواء کرتی اور  تنزانیہ  کے قصبہ دودوما میں چھوڑ آتی۔
یہاں تک کا منصوبہ بے داغ اور عیب سے پاک تھا لیکن چین نے وبا کے آغاز میں ہی اس پر قابو پا لیا۔ اس کے بعد ترکی نے اپنی معلومات چین سے شئیر کیں۔ چین نے اسی وائرس کوتبدیل کرکے یورپ اور امریکہ میں پلانٹ کر  دیا ۔ چند ہفتوں میں اس کی ویکسین تیار کرکے پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو فراہم کردی گئی۔ یورپ اور امریکہ میں بے تحاشا اموات  ہونے لگیں۔ ان کی ویکسین اس تبدیل شدہ وائرس کے مقابلے میں ناکارہ ثابت ہوئی۔
مئی کے پہلے ہفتے میں اموات کی تعداد پوری ہوتے ہی ترکی اور چین کی مشترکہ ٹیم ماضی میں گئی اور عمران خان کی حفاظت پر مامور ہوگئی۔ اب یہ ٹیم رینڈ کارپوریشن کی سپیشل آپس سائی بورگ ٹیم کا انتظار کررہی ہے!

فربہ دانشور


"توانا جسم کے ساتھ فربہ فکر بھی ضروری ہے۔ جیسے کمزور جسم میں طاقتور سوچ نہیں رہ سکتی اسی طرح فربہ فکر بھی مرگھلے ڈھانچے میں پیدا نہیں ہوسکتی۔ "
انسانی شعور و تہذیب کے ارتقاء میں سب سے اہم کردار   ان شخصیات نے ادا کیا ہے جو دین و دنیا کو الگ سمجھنے کی بجائے ان کے ادغام پر یقین رکھتے تھے۔ شامیر خادم جاکھرانی اکابرین کی انہی روایات کے صادق امین ہیں۔جدید دور کے چیلنجز نے نئی نسل کے لیے بہت خطرات پیدا کیے ہیں جن میں سب سے بڑا خطرہ مشرقی روایات سے روگردانی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
مغربی تہذیب کے زہریلے پراپیگنڈے کی وجہ سے نئی نسل مذہب سے دور ہوتی جارہی ہے۔ بزرگوں کا ادب و احترام کم ہوتا جارہا ہے۔ فحاشی و عریانی کا ایک سیلاب ہے جس نے مملکتِ اسلامیہ کو گھیرا ہوا ہے۔ اس پُر فتن دور میں شامر جاکھرانی امید کی سرچ لائٹ بن کر سامنے آئے ۔
آپ نے ابتدائی تعلیم گھر سے حاصل کی۔ روایت ہے کہ پیدائش کے تیسرے دن آپ نے خلیفہ  جی کا کالم پڑھا۔ والدہ نے چھلہ نہایا تو آپ اوریا اور کلاسرہ کے مضامین پر نقد کرنے لگے تھے۔ آپ کی پیدائش میں کچھ وقت ابھی باقی تھا کہ آپ کے والدِ ماجد کو خواب میں ایک بزرگ کی زیارت ہوئی۔ بزرگ فرمانے لگے کہ جلد ہی تمہارے خاندان میں ایسا شہابِ ثاقب گرے گا جس کی روشنی اور توانائی سے پورا وسیب روشن ہوجائے گا۔  بزرگ نے بڑے جاکھرانی صاحب کو خبردار کیا کہ نومولود  کی خور و نوش میں کوئی دقیقہ فروگزاشت رکھا تو اس ہزارئیے میں اُمّہ کی بربادی کی ذمہ داری تمہارے نامۂ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کرے گی۔ بزرگ کے اس انتباہ کو بڑے جاکھرانی صاحب نے حرزِ جاں بنا کے رکھا۔ آج شامیر خادم کی فربہ فکر  کو وہ مچّرب ڈھانچہ میسرہے جو اس فکر کا بوجھ بخوبی اٹھا سکتا ہے۔  
؏ تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو
دنیاوی علوم میں تبحر حاصل کرنے کے ساتھ آپ عالمِ رویاء میں اکابر علماء اور فلاسفہ کے سامنے زانوئے تلمذ بھی تہہ کرتے رہے۔ان اساتذہ میں جگر کینیڈوی،  فرائڈ، ہومر، وان گوف، شیخ الجبل، راسپوٹن، شیکسپئیر،  ابنِ عربی،  چارلی چپلن، قاسم شاہ اور رنگیلا شامل تھے۔  آج کل آپ خود بھی عالمِ رویاء کے اکابر اساتذہ  کی اس فہرست میں شامل ہیں جو دورِ جدید کے نابغے ہیں۔ ان میں نعیم الحق، وقار ذکاء، صابر شاکر، طاہر شاہ، آغا وقار،  علامہ ضمیر نقوی، جسٹس ٹیڈی بکری ، سلمان احمد،  علامہ خادم رضوی،  وصی شاہ اور آفتاب اقبال شامل ہیں۔
دنیاوی و روحانی اکابرین کی پوری توجہ  اور مکمل غذائیت ملنے سے آپ کی ذہنی و جسمانی کیفیات عروج پر پہنچیں تو آپ کو دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ آپ  کواکیسویں صدی کا فکری بگ بینگ کہا گیا۔ نوجوان نسل جو گمراہ ہو کر فیس بک کی پر خار وادیوں میں بھٹک رہی تھی، آپ ان کے لیے غبارۂ نور ثابت ہوئے۔ جلد ہی آپ کا ڈنکا  فیس بک کے ہر کھلے، بند اور خفیہ گروپ میں بجنے لگا۔ حاسدین ڈنکا بجنے کی وجہ مقدارِ خوراک اور بدہضمی قرار دیتے ہیں ، اہلِ نظر مگر جانتے ہیں کہ   دنیاوی علوم کو ثابت نگل جانے والوں کے لیےکباب،  نہاریاں، بونگ پائے، مغز،  ٹکاٹک، نان، بریانیاں، پلاؤ، ساگ، پالک گوشت، کریلے گوشت، چاؤمن، کابلی پلاؤ، سجیاں، چنیوٹی کُنے، پاستے، چرغے ،سوہن حلوے، حلیم، رس گلے، مرغ چھولے، مٹن کڑاہیاں، بیف تکے، فش فرائی، زردے، کھیریں، فرنیاں،  بلیک فارسٹ کیک، آم، کیلے، ہدوانے، خربوزے، انگور، ملوک، بیر وغیرہ ہضم کرنا بائیں جبڑے کا کام ہے۔
فیس بک پر ظہور سے پہلے یہاں ہر طرف گالم گلوچ کا رواج تھا۔ نوجوان نسل ہر زنانہ آئی ڈی کو ان باکس کرتی تھی۔ ان زنانہ آئی ڈیز کی اکثریت رشید، حفیظ وغیرہ نے بنائی ہوئی تھی۔ اس سے نوجوان نسل کے اخلاق کے علاوہ مستقبل خراب ہونے کا بھی خدشہ ہوتا تھا۔ آپ نے ان کو زندگی کا ایک واضح نصب العین دیا۔ اخلاقیات کے درس ، رنگ برنگی کتب، علماء دین  کے ایمان افروز واقعات، روحانی شخصیات کی دماغ افروز حکایات، انگریزی ٹی وی شوز اور فلمز کے تھرلز اینڈ مزے، معیشت کے اسرار و رموز، وادیٔ سیاست کےپیچ و خم، چندے کے فوائد، وردی کے فضائل، سیاستدانوں کے رذائل۔۔۔ الغرض آپکی فیسبک ٹائم لائن ہر رنگ سے مزین ہے۔
؏ جو رنگ رنگیا گوڑھا رنگیا
جرائد، اخبارات، کتب، فیس بک،  نیوز ویب سائٹس  ہر جگہ آپ کے تبحر علمی کی دھوم ہے۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ ابھی تک وطنِ عزیز میں کوئی ایسا کیمرہ  دستیاب نہیں جو ان کو ٹاک شوکے سیٹ پر پورا کیپچر کر سکے ورنہ آج آپ ٹاپ اینکر بھی ہوتے۔  یہ زمانہ بلاشبہ علم و فضل کا دورِ جاکھرانی ہے۔
؏ کھا چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا


کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد

"اس دنیا میں تین جہات ہیں۔ مثلث کے تین کونے  ہوتے ہیں،  اہرامِ مصر  مثلث کی شکل میں ہیں۔ ان کی پراسراریت پر صدیوں کی تہیں جمی ہیں۔ آج تک کوئی  جیالوجسٹ یا سائنسدان اس کا بھید نہیں پاسکا۔ برمودا ٹرائی اینگل سے جڑی بے شمار پراسرار کہانیاں ہیں۔ ان پر فلمیں بھی بنیں۔ کہانیاں بھی لکھی گئیں مگر ابھی تک کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کا راز کیا ہے۔ دنیا کے نقشے کو دیکھیں تو برمودا ٹرائی اینگل امریکہ کی سمت ایک کونے میں نظر آئے گا۔ ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ اس کے بالکل دوسری سمت کونےمیں ہے۔ اس فرضی مثلث کا تیسرا کونا قطبِ شمالی کا وہ علاقہ ہے جہاں سارا سال پراسرار روشنیاں نظر آتی ہیں۔  یہ تین کونے مل کر اس دنیا کی چوتھی جہت کی مثلث بناتے ہیں۔
ہمالیہ کی ترائیوں میں ایسے علاقے ہیں جہاں آج تک کسی بھی انسان کے قدم نہیں پہنچے۔ اتنے دشوار گزار علاقوں میں نہ تو جدید ترین ہیلی کاپٹر یا جہاز جا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی جیپ یا کار وغیرہ۔ پہاڑی علاقوں میں سفر کے لیے یاک استعمال ہوتے ہیں لیکن وہ بھی ایک مخصوص علاقے میں ہی حرکت کرتے ہیں۔ "
یہا ں پہنچ کر لسوڑی شاہ صاحب نے توقف کیا۔ کچھ دیر خاموش رہ کر زیرِلب کچھ  پڑھا۔ میں ہمہ تن گوش  تھا۔ شاہ صاحب نے اشارے سے ملازم کو بلایا اور کافی لانے کا کہہ کر میری طرف متوجہ ہوئے۔
لسوڑی شاہ ایک ریٹائرڈ صنعت کار ہیں۔  لاہور منتقل ہونے کے بعد کچھ احباب کے ساتھ ا ن سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ تصوف، مابعد الطبیعیات، علم الاسماء پر ان کی گرفت حیرت انگیز ہے۔ پہلی ملاقات میں ہی میں ان کا گرویدہ ہوگیا۔ اس کے بعد کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں لاہور میں موجود ہوں اور ہفتہ میں دو تین دفعہ ان سے ملاقات نہ ہوسکے۔ ان کا گھر ایک طرح  کا ڈیرہ بن چکا ہے۔ ہر وقت لوگوں کا جھمگٹا رہتا ہے۔
دست شناسی میں بھی شغف ہے لیکن سب کا ہاتھ نہیں دیکھتے۔ مجھ سے خصوصی طور پر ہاتھ دکھانے کی فرمائش کی اور میری زندگی بارے ایسی باتیں بتائیں جو میرے علاوہ کسی کے بھی علم میں نہیں تھیں۔ مستقبل بارے ایک پیشگوئی بھی کی جو حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ حالانکہ اس وقت میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زندگی میں کوئی اور عورت بھی آسکتی ہے۔
کافی آنے کے بعد آپ نے اشارے سے ملازم کو کمرے سے جانے کے لیے کہا۔ اس محفل میں زیادہ لوگ نہیں تھے۔ استادِ محترم اور میرے علاوہ ایک بزرگ اور تھے جو لسوڑی شاہ صاحب کے قریبی معلوم ہوتے تھے۔ شام ڈھلتی جارہی تھی۔ شاہ صاحب نے آج خصوصی طور پر مجھے بلایا تھا۔ انکی ابتدائی گفتگو دلچسپ تو تھی لیکن میں ابھی تک سمجھ نہیں پایا تھا کہ وہ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔
شاہ صاحب نے کافی کا گھونٹ بھرا  اور دوبارہ گویا ہوئے، "دنیا کی تین جہات وہ ہیں جو ہم سب کو نظر آتی ہیں۔ ایک چوتھی جہت بھی ہے جسے صرف اہلِ نظر دیکھ سکتے ہیں۔ اس جہت میں داخل ہونے کے انٹری پوائنٹس بھی ہیں جن کا علم دنیا میں صرف چنیدہ لوگوں کو ہوتا ہے اوروہ دنیا سے پردہ کرنے سے پہلے یہ راز اگلی نسل تک پہنچا دیتے ہیں۔ یوں یہ سلسلہ ہزاروں سال سے چلتا آرہا ہے۔اگرچہ یہ جہت موجود ہے اور اس میں داخل ہوا جاسکتا ہے لیکن آج تک کوئی اس میں داخل نہیں ہوا۔ روایت چلی آتی ہے کہ قیامت کے قریبی زمانے میں اس جہت کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس کے لیے تیاریاں کئی صدیوں سے جاری تھیں۔ "
گفتگو دلچسپ  مرحلہ میں تھی۔ استادِ محترم کی انگلیوں میں سگریٹ جل کے خاک ہوچکا تھا لیکن انہیں کش لگانے کا بھی ہوش نہیں تھا۔ شاہ صاحب نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا اور سگریٹ کی طرف اشارہ کیا کہ کہیں آستین نہ جلادے۔ کافی کا آخری گھونٹ لے کر آپ نے گفتگو آگے بڑھائی۔
"موجودہ صورتحال  ایسے لوگوں کو بھی مایوس کر رہی ہے جن کی ساری زندگی رجائیت کا پرچار کرتے گزری ہے۔ ہر طرف بدنظمی پھیلی ہے۔ کسی کو علم نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے۔ "
لسوڑی شاہ صاحب نے انگشت شہادت سے میری طرف اشارہ کیا اور گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا،
"آپ بھی مایوس ہوگئے حالانکہ آپ اس انتظام کے سب سے بڑے حامی تھے۔ آپ نے قریبا ایک عشرہ امیج بلڈنگ اور امید جگانے میں صرف کیا اور جب پھل پکنے لگا ہے تو آپ مایوس ہوگئے۔ یہ بدانتظامی ایک فریبِ نظر ہے۔ میں جو بات آپ کو اب بتاؤں گا یہ اتنی حیران کن ہے کہ شاید آپ میرے کہے پر بھی یقین نہ کریں۔ "
استادِ محترم نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ شاہ صاحب کے قریبی رفیق کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔
"یہ سب مہنگائی، بے روزگاری  اور بدانتظامی اس عظیم  پراجیکٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے جان بوجھ کر برپا کی گئی ہے جس کی تکمیل ہماری ترقی ،خوشحالی  اور استحکام کو قیامت  تک کے لیے یقینی بنا دے گی۔ وادی تیراہ سے ایک سرنگ ہمالیہ کی ترائیوں میں اس علاقہ تک بنائی جا رہی ہے جہاں چوتھی جہت کا  مرکزی داخلی  دروازہ ہے۔ اہلِ تصوف نے جب کپتان کو چنا تو ان کو علم تھا کہ 'ہی از دا ون'۔  اگلے تین سے پانچ سال تک یہ عظیم سرنگ مکمل ہوجائے گی۔ اس وقت تک ہمیں ہر حالت میں کپتان کا ساتھ دینا ہے۔ ایک دفعہ سرنگ مکمل ہوگئی تو پاکستان کی ساری آبادی اس سرنگ کے ذریعے چوتھی جہت میں داخل ہوجائے گی۔  چوتھی جہت میں کائنات کے سارے راز کھل جائیں گے۔ بیماریاں ختم ہوجائیں گی۔ انسان اڑ سکیں گے۔ فاصلے پلک جھپکتے میں طے ہوجائیں گے۔ موجودہ دنیا کی سائنس ابھی صرف ابتدائی مرحلے میں ہے جبکہ چوتھی جہت میں داخل ہونے والا ہر انسان طبیعی علوم میں ماہر ہوجائے گا۔
یہ سب مگر اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم سب کپتان کی بنا کسی شک و شبہ دل و جان سے حمایت پر کمر بستہ ہو جائیں۔ جو اہلِ نظر جانتے ہیں وہ آپ نہیں جانتے۔ اس محفل کا مقصد آپ کو اس عظیم راز میں شریک کرنا تھا جو اس پوری دنیا میں صرف چند  لوگ جانتے ہیں۔  کیا میں امید رکھوں کہ آپ اس راز کی حفاظت کریں گے اور کپتان کا ساتھ دیں گے؟"
لسوڑی شاہ صاحب کے چہرے کے گرد روحانی ہالہ تھا۔ آپ نے اشارے سے مجھے قریب بلا کے اپنے پاس بٹھایا۔ میری کمر تھپتھپائی اور بولے، "آپ جیسے لکھاری ہی میری امید ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔"

میرے پاس تم ہو

دارالحکومت میں رات بھیگ چلی تھی۔ شام سے ہونے والی بارش  تھم چکی تھی۔ ہڈیوں کا گودا جما دینے والی سرد ہوا نے ہر ذی روح کو پناہ لینے پر مجبور کردیا تھا۔ آوارہ کتے تک نظر نہیں آتے تھے۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر نشئی جن پر سردی گرمی کا اثر نہیں ہوتا تھا وہ بھی آج پناہ  اور حرارت کی تلاش میں تھے۔ چائے خانوں اور سُوپ کی ریڑھیوں کے علاوہ کہیں بندہ بشر نظر نہیں آتا تھا۔
متوسط طبقہ کی  آبادی میں چند نوجوان گلی کی نکڑ پر ایک بند دکان کے تھڑے پر آگ جلا کر گپیں ہانک رہے تھے کہ اچانک گلی سے "اُبالو گرم آنڈےےےے" کی آواز سنائی دی۔  شکل سے سنجیدہ اطوار نظر آنے والا لڑکا آواز سن کر چونک اٹھا۔ منہ پر انگلی رکھ کر سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ آواز دوبارہ آئی تو اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تمہیں بھی یہ آواز سنی ہوئی لگ رہی ہے؟ سب قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔ الٹی پی کیپ پہنے ایک لڑکے نے  کمر پر ہاتھ جماکر کہا کہ سیدھی طرح بول، انڈے کھانے ہیں۔ ڈرامے نہ کر۔
 اسی اثناء میں آواز قریب سے آئی اور سب چونک اٹھے۔ یہ آواز واقعی بہت سنی ہوئی لگ رہی تھی۔ ایک لڑکا جلدی سے اٹھا اور گرم انڈے والے شخص کو پاس بلایا۔ یہ ایک دراز قامت شخص تھا۔ جس نے سرخ رنگ کی کڑھائی والی گرم چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اس کا منہ بھی چادر میں چھپا ہوا تھا۔ پی کیپ والا بولا، چاچا یہ چادر چاچی کی لےکر آگیا ہے۔ سب ہنسنے لگے۔ اس شخص نے گرم انڈوں والا کولر نیچے رکھا،  چادر کی بکل درست کی اور کہا کہ تم نے انڈے لینے ہیں تو بولو۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔
اس شخص کی آواز میں ایک نامعلوم سا تحکم اور رعب تھا۔ سب نوجوان یکدم چپ سے ہوگئے۔ سنجیدہ اطوار لڑکا اٹھا  اور بولا کہ ایک درجن انڈے دے دیں، نمک ہے تو وہ بھی دے دیں۔ اس نے کولر کا ڈھکن کھولا ۔ درجن انڈے گنے۔ کرتے کی جیب سے کاغذ  اور نمک کی شیشی نکالی ۔ تھوڑا سا نمک کاغذ پر ڈالا اور اس کی پُڑی بنا کر نوجوان کو تھما دی۔ پیسے پوچھنے پر دراز قامت انڈہ فروش نے  کہا کہ 22 روپے کے حساب سے دے دیں۔ لڑکے حیران رہ گئے۔ ایک بولا کہ دوسرے لوگ تو کافی مہنگے بیچتے ہیں۔ آپ اتنے سستے کیوں دے رہے ہیں۔
یہ بات سن کر دراز قامت گرم انڈہ فروش نے چادر ایک جھٹکے سے اتار دی۔ سب نوجوان ششدر رہ گئے۔ وہ شخص  وزیر اعظم پاکستان تھے!
"دیکھو  ٹائیگرز! میں نے ساری زندگی کبھی کرپشن نہیں کی۔ یہ انڈے میری مرغیوں کے ہیں۔ میں جنگل سے لکڑیاں اکٹھی کرکے آگ جلا کر ان کو ابال لیتا ہوں۔  میرا ان پر کوئی خرچ نہیں آتا تو کیا میں ناجائز منافع کماؤں؟  تم حیران ہو رہے ہوگے کہ میں رات کے اس وقت گرم انڈے کیوں بیچ رہا ہوں۔ سچ بات  یہ ہے کہ تنخواہ میں گزارا نہیں ہورہا۔  ایک طریقہ تو یہ تھا کہ میں کرپشن کرتا۔ ساری چیزیں مہنگی کرتا۔ ان پر کمیشن کھاتا اور اربوں میں کھیلتا۔ لیکن میں لعنت بھیجتا ہوں ایسا کرنے والوں پر۔ میں نے  ہمیشہ رزقِ حلال کمانے کو ترجیح دی۔ رات نو بجے میری ڈیوٹی ختم ہوتی ہے۔ ساڑھے نو سے دو بجے تک میں انڈے بیچتاہوں۔ اس سے دو تین سو روپے کی بچت ہوجاتی ہے۔ اگلے دن کی ہانڈی روٹی کا بندوبست ہوجاتا ہے۔  میری صحت آرام نہ کرنے سے متاثر ہو رہی ہے لیکن میں اپنی جان پر تکلیف برداشت کرلوں گا اپنی قوم کو تکلیف نہیں پہنچنے دوں گا۔"
نوجوان حیران  ہو کر وزیر اعظم کی باتیں سن رہے تھے۔ ان کی گرجدار آواز سن کر گلی سے بھی لوگ نکل  کر آگئے۔ پوری گلی میں شور مچ گیا کہ وزیر اعظم گرم انڈے بیچنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم کے سارے انڈے پانچ منٹ میں ہی بک گئے۔ خواتین کو بھی پتہ چل چکا تھا۔ کوئی اپنے زیور لا رہی تھی، کوئی گرم چادر، کوئی جرسی اور کوئی اپنے خاوند کی جیب سے پیسے۔ سب چیزیں وزیر اعظم کے قدموں میں ڈھیر کی جارہی تھیں۔
سنجیدہ اطوار نوجوان نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا اور گویا ہوا، "اس شخص نے ساری زندگی ہمارے لیے قربان کر دی۔ یہ چاہتا تو دنیا کے کسی بھی کونے میں عیش و عشرت سے زندگی گزار سکتا تھا لیکن یہ آج اس سردی میں اس لیے گرم انڈے بیچ رہا ہے کہ ہم سکون سے سو سکیں۔ اس قوم نے پہلے بھی اس کی آواز پر لبیک کہا تھا۔ آج پھر وقت آگیا ہے کہ ہم اس کا ساتھ دیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ "وزیر اعظم فنڈ برائے یتیم خانہ" شروع کیا جائے جس میں ساری قوم عطیات اور چندہ جمع کرائے۔ ہمارے وزیر اعظم یتیم ہیں اور ان کی تنخواہ اتنی نہیں کہ گھر کا خرچہ چلا سکیں۔ ان سے زیادہ مستحق کون ہوسکتا ہے۔ ہمیں ان کو اتنا کچھ دینا ہوگا کہ گھر چلانے کی فکر سے آزاد ہو کر ملک چلا سکیں اور پاکستان کو ایک ایسی قوت بنا دیں کہ ساری دنیا ہم سے خوف کھائے۔"
وزیر اعظم گرم انڈوں کا کولر تھامے ایک طرف کھڑے نوجوان کی باتیں سن رہے تھے۔ آپ کے لبوں پر ہنسی اور آنکھوں میں چمک تھی!

رانا، مولانا اور ایسکوبار

یہ منظر لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا کے دارالحکومت بگوٹا کے مضافات میں واقع ایک وسیع فارم ہاؤس کا ہے۔ سوئمنگ پول کے کنارے چھتریوں کے نیچے میزیں انواع و اقسام کے مشروبات سے سجی  ہوئی ہیں۔  یہ فارم ہاؤس میڈلین کارٹل کے سربراہ ایل مانچو کا ہے جہاں وہ بیرونِ ملک سے آنے والے خاص مہمانوں کی خاطر تواضع اور بزنس سے جڑے معاملات کو دیکھتا ہے۔ آج یہاں ایک بہت خاص مہمان بہت دور سے آیا ہے۔ اس کا تعلق میڈلین کارٹل سے اس وقت سے ہے جب پابلو ایسکوبار زندہ تھا۔ میڈلین کارٹل پر اچھے برے وقت آتے رہے لیکن اس مہمان کا تعلق کبھی کمزور نہیں پڑا۔
یہ مہمان پاکستانی سیاست کا جانا پہچانا نام رانا ثناءاللہ ہے!۔
ہلکے رنگ کی پولو شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس سر پر تنکوں کا ہیٹ، کالے شیشوں کی عینک، ہاتھ میں ارغوانی مشروب کا جام اور منہ میں کیوبن سگار۔ یہ پاکستانی سیاست کا بڑا نام تو ہیں لیکن ان کی دوسری شناخت اتنی پراسرار اور چھپی ہوئی ہے کہ آج تک کوئی اس کا کھوج نہ لگا سکا تھا۔ یہ دہائیوں سے میڈلین کارٹل کے ساؤتھ ایشیا میں ایجنسی ہولڈر ہیں۔ 1993 میں جب نواز شریف کو حکومت سے نکالا گیا اور ان کے کاروبار زوال پذیر ہوئے تو انہیں اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے خطیر وسائل کی ضرورت پڑی۔ رانا صاحب اس وقت پی پی پی میں تھے۔ ان کو میاں صاحب کی اس ضرورت کا پتہ چلا تو جون 1993 کی ایک گرم شام کو وہ ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف سے ملے اور اپنی خدمات پیش کیں۔ باقی تاریخ ہے۔
ایل مانچو سے رانا ثناءاللہ کی ملاقات ایک خاص مشن  بارے تھی۔ دنیا بھر میں ڈرگ کا بزنس سی آئی اے اور موساد کے ذریعے ہوتا ہے۔ 2017 کے وسط میں مغربی ممالک  کے طاقت کے مراکز میں پریشانی کی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ انہیں علم ہوچکا تھا کہ پاکستان میں اگلی حکومت عمران خان کی ہوگی اور ان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں بیس سال پہلے یہ نتیجہ نکال چکی تھیں کہ اگر عمران خان کو اقتدار مل گیا تو اس دنیا میں ایک نیا ورلڈ آرڈر تشکیل پائے گا جسے مسلمان کنٹرول کریں گے اور عمران خان اسے لیڈ کریں گے۔ 2013 میں کامیابی سے انہوں نے عمران خان کا راستہ روک لیا تھا لیکن اس دفعہ پوری مسلم دنیا پوری تیاری کے ساتھ عمران خان کے ساتھ تھی۔  2018 کے انتخابات میں مغربی طاقتوں کے بدترین اندیشے درست ثابت ہوئے اور پوری کوشش کے باوجود عمران خان کا راستہ نہ روکا جا سکا اور عمران خان وزیر اعظم پاکستان بن گئے۔
اس موقع پر ایک نئے پلان کو بروئے کار لایا گیا۔ رانا ثناءاللہ کے ذریعے ڈرگ منی اربوں کے حساب سے پاکستان میں لائی گئی۔ اس کے ذریعے پاکستان کی ریاست اور عمران خان کی حکومت کے خلاف مہم شروع کی گئی۔  25 اکتوبر 2018 کو ایک اسرائیلی جہاز اسلام آباد ائیرپورٹ پر لینڈ ہو اتھا۔ اس جہاز میں 90 ارب ڈالر کی کرنسی پاکستان لائی گئی۔ جب تک اداروں کو بھنک پڑتی یہ کرنسی ٹریلرز کے ذریعے فیصل آباد منتقل کردی گئی اور جہاز واپس چلا گیا۔
جن ٹریلرز کے ذریعے یہ ڈالرز منتقل کیے گئے انہی میں سے ایک ٹریلر کے ڈرائیور کا ضمیر جاگ گیا۔ وہ فیصل آباد انٹی نارکوٹکس کے دفتر پہنچا اور ساری تفصیل من و عن بتا دی۔ اس ڈرائیور کو حفاظتی تحویل میں لے کر تفتیش کا آغاز کیا گیا ۔ دورانِ تفتیش سارے سرے رانا ثناءاللہ تک پہنچے۔ ان کی نگرانی شروع کردی گئی۔ بالآخر دو مہینے کی کڑی نگرانی کے بعد ان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ۔ رانا ثناءاللہ کی گرفتاری سے  پوری مغربی دنیا میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ ان کو نظر آنے لگا کہ اب پوری دنیا میں اسلام کے غلبہ کو روکنا ناممکن  ہے۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے اپنی خدمات پیش کر دیں!۔
مولانا مغربی طاقتوں کے ہمیشہ سے خاص دوست رہے ہیں اور ہر مشکل موقع پر انہوں نے اپنی وفاداری اور جانثاری ثابت کی۔  رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کے کچھ عرصہ بعد مولانا عمرے کا بہانہ کرکے تل ابیب پہنچے اور امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور اسرائیلی اعلی حکام سے تفصیلی ملاقاتیں کی۔ مولانا نے کہا کہ اگر انہیں مطلوبہ فنڈنگ فراہم کر دی جائے تو وہ عمران خان کی حکومت کو گرا سکتے ہیں اور ہمیشہ کی طرح مغربی طاقتوں کی دنیاپر اجارہ داری یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مولانا نے یقین دلایا کہ وہ ساری سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرسکتے ہیں  کیونکہ سب کرپٹ ہیں اور عمران خان نے ان کے بڑے رہنماؤں کو شکنجے میں کس دیا ہے اور وہ کسی بھی صورت ان کو نہیں چھوڑے گا۔ اگر ان کو ذرا سی بھی امید ہوئی کہ عمران خان سے چھٹکارا مل سکتا ہے تو وہ دل و جان سے میرا ساتھ دیں گے۔ چار دن جاری رہنے والی ملاقاتوں میں اس منصوبہ  کی جزئیات طے کی گئیں اور مولانا  کو ان کی ڈیمانڈ کے مطابق 36  ارب ڈالرز کی فنڈنگ فراہم کردی گئی ۔
 اس طرح آزادی مارچ کا آغاز ہوا۔

چوتھی منزل

چھیما ڈیرے سے واپس آ رہا تھا۔ پِنڈ کی حد شروع ہونے میں دو پیلیاں باقی تھیں کہ اس نے بَنتو کو آتے دیکھا۔ بَنتو چودھری  زوار کی حویلی میں چودھرانی کی خاص تھی۔ چھیما یوں تو وڈھیری عمر کا تھا لیکن خوب کس کے بچے  کچھے بال کالے کرتا اور طیفے نائی سے شیو بھی خوب چھیل چھیل کر کراتا ۔ آنکھوں میں سُرمہ ڈالے ، لاہور بادشاہی مسجد کے نواح سے خریدا گیا عطر لگا کے گھوما کرتا ۔ بَنتو چھیمے کی جنٹل مین لُک پر مر مٹی تھی اور اکثر و بیشتر  کماد، حویلی، ڈیرے اور چودھری زوار کے منشی منّان کے گھر ان کی ملاقاتیں ہوتیں۔ چھیمے کی آواز منہ متھے لگتی تھی۔ فنکاروں کا بچّہ تھا، سُر کی پہچان تھی۔ بَنتو کو عنایت حسین بھٹی اور جازی بی کے گانے سناتا اور اس کی لائی ہوئی چُوری کے ساتھ کبھی کبھار حُسن کی سوغات بھی پاتا۔
بَنتو نے چھیمے کے قریب سے گزرتے ہوئے اسے آج شام منشی منّان  کے گھر ملنے کا کہا۔ چھیما خوش بھی ہوا لیکن اسے جیدے کی فکر بھی لگ گئی تھی۔ جیدا بھی چھیمے کی طرح منشی مانے کا ماتحت تھا۔  ویسے تو دونوں کی بہت بنتی تھی لیکن زن، زر، زمین فساد کی جڑ ہوتی ہے اور بَنتو ویسے بھی سینکڑوں میں ایک تھی۔ جیدا عمر میں اس سے کافی چھوٹا تھا اور اسے تیار ہونے میں بھی چھیمے کی طرح دو گھنٹے نہیں لگتے تھے۔ چھیما ہمیشہ بَنتو کو کہتا تھا کہ منشی کے گھر ملنا خطرے سے خالی نہیں لیکن بَنتو پچھلی وڈّی عید کی رات کماد والی ملاقات سے کافی یَرک چکی تھی۔ وہ تو چھیمے نے بعد میں بات سنبھالی  ورنہ بَنتو ہتھّے سے اکھڑ جاتی۔
چھیمے کے کرنے کو اب کافی کام اکٹھے ہوچکے تھے۔ اسے جیدے کو کسی کام سے شہر بھجوانا تھا۔ منشی مانے کے لیے درّے کی خالص چرس مہیّا کرنی تھی تاکہ منشی جی دو جوڑے لگا کر سرگی ویلے تک انٹا غفیل رہیں۔ پڑچھتّی کی صفائی کرنی تھی ۔ نیچے سے منجی لے جا کر اس پر پھول دار چادر اور رنگلا نیا کھیس بچھانا تھا۔ چھیما تِیر کی طرح نکلا اور چودھری صاحب کی حویلی میں منشی مانے کے پاس جا پہنچا۔ منشی کو کہہ کر جیدے کو شہر بھجوایا۔ منشی کو چرس دی اور شام ہونے سے پہلے منشی کے گھر پہنچ گیا۔ چھیما اور جیدا منشی کے گھر کی بیٹھک میں رہتے تھے۔مغرب سے پہلے چھیما کنگھی پٹّی کرکے تیار بیٹھا تھا۔
مولوی صاحب نے عشاء کی اذان دی تو آدھا پنڈ سو چکا تھا۔ چھیما نظر بچا کر چھت پر  گیا تو پڑچھّتی میں بچھی منجی پر بَنتو اپنی تمام حشر سامانی کے ساتھ آلتی پالتی مارے موجود تھی۔ بَنتو کے زانو پر رکابی دھری تھی جس میں دیسی گھی کی چُوری تھی۔ چھیمے نے بھی مِیدے حلوائی سے سپیشل بھنگ والے پکوڑے بنوائے تھے۔ چھیمے نے پکوڑوں کا لفافہ کھولا اور اپنے ہاتھ سے بَنتو کو پکوڑے کھلانے لگا۔ تیسرے پکوڑے پر ہی بَنتو بے خود ہو کر ہنسنے لگی تھی۔ پکوڑے ختم ہوئے تو چُوری کی باری آئی۔ ابھی دو نوالے ہی لیے تھے کہ یکایک جیدا سیڑھیوں سے نمودار ہوا۔ بَنتو گھبرا کر چھیمے سے اور لپٹ گئی۔ چھیمے کی ہوائیاں اڑی دیکھ کر جیدے کی آنکھوں میں شیطانی چمک اتر آئی۔ جیدا  ان کے سامنے دونوں ہاتھ پہلوؤں پر رکھ کر کھڑا ہوگیا اور کہا، "سانوں شہر بجھوا کے تے آپ کلّے کلّے چُوریاں کھا دیاں  جا  ریاّں نیں۔۔۔ ساڈا وی حصہ پاؤ۔۔ نئیں تے فیر کھپ ای پئے گی۔۔۔"
چھیمے نے بَنتو کے کان میں کہا سرگوشی کی کہ اس شوہدے کو بھی تھوڑی سی چُوری دے دیتے ہیں ورنہ بدنامی ہوجائے گی۔ بَنتو بادلِ نخواستہ مان گئی۔ سب چُوری کھا کر فارغ ہوئے تو بھنگ کے پکوڑوں نے بَنتو پر اثر دکھانا شروع کر دیا تھا۔ وہ روتے ہوئے چھیمے سے لڑنے لگی کہ تم تو میرے جانو ہو اس ناما نیم نے میری چُوری کیوں کھائی۔ چھیمے کو بھی اس پر غیرت آگئی۔ وہ لہراتا ہوا اٹھا اور ایک گھسن جیدے کے منہ پر دے مارا۔
چند لمحوں میں ہی پلاسی کی جنگ شروع ہوچکی تھی۔ دونوں لڑتے لڑتے سیڑھیوں سے لڑھکتے صحن میں جا گرے۔ آس پاس کے لوگ شور سن کر جاگ گئے تھے۔ مانا منشی بھی چرس کے نشے میں دھت اپنے کمرے سے نکلا۔ پیچھے سے منشی کی بیوی نے آواز دی کہ "دھوتی وی بَن لوو۔۔ کلا کرتہ ای پایا جے"۔۔۔ منشی جی جلدی سے کمرے میں گھس کر دھوتی باندھ کر باہر آئے تو چھیما اور جیدا لڑتے لڑتے گلی میں پہنچ چکے تھے۔ دونوں کے کرتے لیرو لیر ہوچکے تھے۔ ان کو چھڑانے کی کوشش میں بَنتو کا دوپٹہ بھی لا پتہ تھا اور وہ سینہ تانے گلی میں کھڑی جیدے کو بددعائیں دے رہی تھی۔
چودھری زوار کو اس ماجرے کی خبر ہوئی تو وہ سفید گھوڑی پر سوار منشی مانے کے گھر جا پہنچا۔ چھیما اور جیدا خونم خون، لیرو لیر کپڑو ں کے ساتھ ادھ مرے پڑے تھے۔ بَنتو ان کے قریب کھڑی واویلا کر رہی تھی۔ چودھری نے منشی مانے کو پکارا اور کہا ، "منشی! یہ ہمارا پنڈ ہے، تو نے اسے ہیرا منڈی بنا دیا ۔" درّے کی خالص چرس اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ منشی مانے اپنے کرتے کا پلّو جھٹکا اور للکار کر چودھری کو جواب دیا، "چودھری صاحب! یہ میرا گھر ہے، آپ کا نہیں۔ اپنے کام سے کام رکھیں"۔
چودھری نے یہ سن کر کندھے سے لٹکی پکّی رائفل اتاری اور گھوڑی سے کود کر اترا!

ٹویٹو سلطان کی ڈائری


زوجۂ اقدس نے جھنجھوڑ کر جگایا تو ابھی صرف 11 بجے تھے۔ آنکھیں کھولنے کی کوشش کھڑکی سے آنے والی دھوپ نے  ناکام کی تو سائیڈ ٹیبل سے کالا چشمہ اٹھایا اور آنکھوں پر جما کر غور سے زوجۂ اقدس کو دیکھا۔ وہ اتنے میں ہی خوش ہو گئیں اور میرے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ ہم نے فورا انتباہی کھنگورا مار کر انہیں اپنی ناپسندیدگی سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ تِس پر انہوں نے فرمایا۔۔۔۔ جا کے کُرلی کر آؤ، تہاڈی چھاتی اچ ریشہ کھڑکدی پئی اے۔ ہم نے نیچے کھسکتے ٹراؤزر کو اوپر کیا اور کود کے بیڈ سے اترے۔ زوجۂ اقدس کے ہاتھ سے فون لیا اور انگشت شہادت اٹھا کر انہیں یوں مخاطب کیا۔۔۔ ہزار دفعہ عرض کی ہے کہ ہمارے فون کو ہاتھ مت لگایا کریں کیونکہ بقول علامہ صاحب "جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں"۔۔۔  غلطی سے کوئی چیز ریٹویٹ یا فیورٹ ہوگئی تو اس نقصان کا بھگتان کون کرے گا؟ یہ درست ہے کہ آپ کے روحانی درجات بہت بلند ہیں لیکن شوہر بھی مجازی خدا ہوتا ہے۔ اگر کسی انسان کو سجدہ جائز ہوتا تو بیوی شوہر کو سجدہ کرتی۔
زوجۂ اقدس یہ لیکچر سن کر کچھ بدمزہ ہوئیں۔ جس سے ان کا چہرہ کرپان جیسا ہوگیا۔ ہم نے فورا عینک اتار کر ٹی شرٹ کے دامن سے آنکھوں کی کِیچ صاف کی ۔مسکرا کر زوجۂ اقدس کی طرف دیکھا اور ان کا ہاتھ تھام کر چومنے کی کوشش کی۔ انہوں نے فورا ہاتھ چھڑا  کرفرمایا، پہلے منہ سے نکلنے والی رال تو صاف کرلیں۔ ہم شرمندہ ہوئے اور فورا واش روم کی طرف لپکے۔ ہاتھ منہ اور دیگر ضروری اعضاء دھو کر باہر نکلے تو زوجۂ اقدس ہنوز موجود تھیں۔ ہم نے تولیہ کی تلاش میں نظریں دوڑائیں۔ تولیہ نظر نہیں آیا تو زوجۂ اقدس کے دوپٹے سے منہ صاف کیا۔ اس میں کافور کی بھینی بھینی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ آخرت یاد آگئی۔
بالوں میں ہاتھ پھیر کر گنج چھپایا۔ کالی عینک لگائی۔ بیڈ کے کنارے پر ٹک کر ہم نے زوجۂ اقدس سے اتنی سویرے جگانے کا سبب دریافت کیا۔ زوجۂ اقدس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ فرمانے لگیں ،  ہمسایوں نے آج پھر ہمارے گھر کے باہر کوڑا پھینکا ہے۔ کتنی دفعہ منع کیا لیکن بات ہی نہیں سنتےبلکہ آج تو چودھری شہریار کی بیوی نے دروازے سے سر نکال کر ہمیں چیلنج بھی دیا کہ جو  کرسکتی ہو کرلو، ہم تو کوڑا یہیں پھینکیں گے۔ یہ سنتے ہی جلالِ شاہی سے ہمارا جسم کانپنے لگا۔ زوجۂ اقدس ایک دم پریشان ہوگئیں۔ ہمارے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ ہتھیلیاں چَسنے لگیں کہ شاید ہمیں پھر دورہ پڑ گیاہے۔ ہم نے ہاتھ چھڑائے اور فرمایا، ہم جلالِ شاہی سے لرز رہے ہیں ہمیں ڈوز لیٹ ہونے والا دورہ نہیں پڑا۔ یہ سن کر زوجۂ اقدس کی جان میں جان آئی۔
ہم نے گرجدار آواز میں حکم دیا کہ ہمارا فون لایا جائے آج ہم چودھری شہریار کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ ان کی آنے والی نسلیں یاد کریں گی۔  زوجۂ اقدس  نے چھِبّی دے کر فرمایا، بولن توں پہلے جیباں تے چیک کرلیا کرو فون تہاڈی جیب اچ ای ے۔  ہم نے ڈھیٹ بن کر جلالِ شاہی جاری رکھتے ہوئے فرمایا، ہماری  دلاری زوجۂ اقدس کی شان میں گستاخی اور ہماری حق حلال کی سرٹیفائیڈ آمدنی سے بنے گھر کے سامنے کسی کی جرأت کیسے ہوئی کہ کوڑا پھینکے۔ ہم نے فورا  جیب میں ہاتھ ڈال کر فون نکال کر بِلّو بادشاہ والا اکاؤنٹ لاگ ان کیا اور چودھری شہریار کے خلاف "شہر یار پر خدا کی مار" ٹرینڈ شروع کر دیا۔ ڈی ایم گروپ  میں ہم نے اپنی سائبر فورس کے اہم کمانڈرز کو طلب کرکے چودھری شہریار، اس کی بیوی اور بیٹی کے اکاؤنٹس شئیر کیے اور ان کو حکم دیا کہ ان عاقبت نا شناس لوگوں کو ایسا سبق سکھائیں کہ یہ کبھی دوبارہ کسی شریف اور مہذب انسان کو تنگ کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں۔ ہم نے چودھری شہریار کی خاندانی تصاویر جو ان کے فیس بک پروفائل سے ہم نے سیو کر کے رکھی تھیں، وہ بھی سائبر فورس کے کمانڈرز کے حوالے کیں اور ان کو حکم دیا کہ یہ تصاویر فوٹو شاپ کور کے حوالے کی جائیں اور جلد از جلد چودھری کے ٹوئٹر اور فیس بک پروفائل پر چاروں طرف سے حملہ کر دیا جائے۔ (اصل میں ان کی بیوی اور بیٹی دونوں بہت خوبصورت ہیں۔ لتا جی بھی فرما گئی ہیں۔۔ "دل تو ہے دل، دل کا اعتبار کیا کیجے۔۔ آگیا جو کسی پہ پیار کیا کیجے")۔
زوجۂ اقدس خاموشی سے ہماری طرف دیکھ رہی تھیں۔ سائبر فورس کو حملے کا حکم دے کر ہم فارغ ہوئے تو فرمانے لگیں کہ پھر ہمسایوں کا کیا کرنا ہے۔ ہم نے فخر سے اپنا فون ہوا میں بلند کیا اور انہیں بتایا کہ چودھری شہریار اور اس کے پورے خاندان کو ہم اگلے ایک گھنٹے میں ذلیل کرکے رکھ دیں گے۔ زوجۂ اقدس نے ہماری طرف اہانت بھری نگاہ ڈالی اور یہ فرما کے بیڈروم سے خروج کرگئیں 
"تہاڈے نالوں تے شیرو چنگا اے،وڈّھے پاویں ناں، پونک تے لیندا اے"

مونٹانا کا کیبن اور خلائی مخلوق

یہ امریکی ریاست مونٹانا کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع گھنے جنگلات کا منظر ہے۔ انسانی آبادی کی رسائی سے دور اس خوبصورت علاقے میں گھنے جنگلات کے بیچوں بیچ بہت بڑے رقبے پر ایک فارم ہاؤس نما محل  واقع ہے۔ پہاڑوں پر جاتی دھوپ شام ڈھلنے کی خبر سنا رہی ہے۔ اس فارم ہاؤس پر غیر معمولی چہل پہل ہے۔ یہ فارم ہاؤس امریکی سیاست کو کنٹرول کرنے والے طاقتور عناصر کی خفیہ ترین سوسائٹی "ایلیزئین فیلڈز" کا  ہیڈ کوارٹر ہے۔  فارم ہاؤس پر جاری سرگرمیوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی اہم تقریب منعقد ہونے جا رہی ہے۔ افق پر پھیلی سرخی غائب ہوتے ہی سیاہ رنگ کی ایس یو ویز کی آمد شروع ہوگئی جو قریب ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ ٹھیک جب آسمان نے سیاہی کی چادر اوڑھی اور ستارے نظر آنے شروع ہوئے تو تقریب کا آغاز ہوا۔
ندی کے کنارے ایک طویل میز بچھی تھی جس پر انواع و اقسام کے بیف سٹیک اور وہسکی سجی تھی۔ میز کے گرد پڑی کرسیاں پُر ہوگئیں تو سینٹ کے اکثریتی لیڈر سینیٹر مِچ مک کونل کھڑے ہوئے  اور میٹنگ کی غایت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ چند ماہ سے انٹیلی جنس رپورٹس، ناسا رپورٹس اور پوری دنیا میں پھیلے امریکی سفیروں کی جانب سے بہت خطرناک اور عجیب رپورٹس مل رہی ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سب ایجنسیز خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ امریکہ پر ایسا دہشت ناک حملہ ہونے کی اطلاع ہے جس میں پورا براعظم تباہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے لیکن ایجنسیز اس بارے کوئی بھی سراغ حاصل کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکیں۔
سینیٹر نے مزید بتایا کہ سب سے  عجیب ناسا کی رپورٹس ہیں۔ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن اور مریخ پر بھیجے گئے مشنز  سے کچھ عجیب سگنلز اور پراسرار واقعات رونما ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے مارس روور کی جانب سے کھینچی گئی ایک تصویر بھی دکھائی جس میں ایک عجیب الخلقت مخلوق نظر آرہی ہے جس کے سر پر دو سینگ ہیں اور دانت باہر نکلے ہوئے ہیں۔ اس کا رنگ سرخ  اور لمبے بازو ہیں۔ ہاتھوں کی دس انگلیاں ہیں جن پر تیز اور لمبے ناخن بھی نظر آرہے ہیں۔ تصویر دیکھ کر حاضرین میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔
سفارتخانوں کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ بغیر کسی ظاہری وجہ کے ہر ملک میں امریکہ کے خلاف نفرت میں یکدم اضافہ ہوگیا ہے۔ عوام سے لے کر حکومتوں تک سب کا رویہ بدل رہا ہے اور امریکی مفادات کو دنیا بھر میں شدید خطرات لاحق ہیں۔
سینیٹر مِچ مک کونل بات ختم کرکے کرسی پر بیٹھے اورگلاس اٹھا کر وہسکی سِپ کی۔ برنی سینڈرز اسی اثناء میں کھڑے ہوچکے تھے اور صدرِ محفل  ڈونلڈ ٹرمپ کی اجازت سے بات کرنے لگے۔ برنی سینڈرز نے بتایا کہ جیسے آپ سب جانتے ہیں کہ ان کو ڈریم وژنز ہوتے ہیں اور 90 فیصد تک یہ وژنز درست ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چند ماہ سے وہ ایک وژن بار بار دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ پر خلائی، شیطانی اور انسانی مخلوق حملہ آور ہوتی ہے اور اس کو صیہونیوں کی حمایت حاصل ہے۔ جیسا کہ مقدس کتابوں میں آرما گیڈن کا ذکر ہے تو صیہونی اس کو برپا کرکے امریکہ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ پوری دنیا پر ان کا غلبہ ہوجا ئے۔
برنی سینڈرز ایک لحظہ کے لیے رکے اور بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے کہ ان وژنز میں پچھلے چند دن سے ایک اور وژن کا اضافہ ہوا ہے۔ اس ساری تباہی کو روکنے کی طاقت ایک شخص کے پاس ہے جو ماورائی فوج پر دسترس رکھتا ہے۔ اس کے پاس ایسی طاقتیں ہیں جن کا کوئی منطقی یا سائنسی وجود ثابت نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ طاقتیں حقیقت ہیں۔ برنی سینڈرز نے رک کر گہرا سانس لیا اور کہا کہ اب جو میں کہنے جا رہا ہوں اسے تحمل سے سنیں۔ اس ساری تباہی کو روکنے کے لیے ہمیں اس شخص کو اپنا رہنما بنانا ہوگا اور جس عقیدے پر وہ قائم ہے اس پر ہمیں بھی ایمان لانا ہوگا۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم اس تباہی کو ٹال سکتے ہیں۔
یہ کہہ کر برنی سینڈرز بیٹھ گئے اور صدر ٹرمپ  کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری معلومات برنی سینڈرز پچھلے دنوں میرے پاس لے کر آئے تھے اسی لیے آج ایلیزئین فیلڈز کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے۔ برنی سینڈرز نے اپنے وژنز میں جس شخص کو دیکھا، آج وہ بھی یہاں موجود ہے۔ سینیٹر سینڈرز نے جن ماورائی طاقتوں کا ذکر کیا اس کا مشاہدہ میں نے خود کیا ہے اور میں حیران ہوں کہ ایسے عظیم شخص کو ہم کیسے نظر انداز کرتے رہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے ندی کنارے موجود چھوٹے سے کیبن کی طرف اشارہ کیا۔ سب گردن موڑ کر ادھر دیکھنے لگے۔
 کیبن کا دروازہ کھلا اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان باہر نکلے۔ ایلیزئین فیلڈز کے سارے ارکان ششدر رہ گئے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آج سے ایلیزئین فیلڈز اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ وزیر اعظم عمران خان کے غلام ہیں۔ ہم انہیں اپنا قائد، سربراہ، بادشاہ، رہنما سب تسلیم کرتے ہیں اور ان کے عقیدے کو سچا تسلیم کرتے ہوئے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔
رات ڈھل رہی تھی۔ مونٹانا کی اس دور افتادہ وادی پر چاند پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ کیبن کے باہر وزیر اعظم عمران خان سیاہ شلوار قمیص میں معمول سے زیادہ وجیہہ لگ رہے تھے۔ ایلیزئین فیلڈز کے سب اراکین اپنی کرسیوں سے اٹھے  اور باری باری وزیر اعظم عمران خان کی بیعت کرنے لگے۔
دنیا صیہونی سازش سے بچائی جا چکی تھی۔

ٹوٹے حضورِ والا، ٹوٹے

ہیہات ۔۔ہیہات۔۔۔۔ تاریخ کے چوراہے پر بے سدھ ہم پڑے ہیں اور دنیا حظ کشید کرتی ہے۔ کوئی مردِ کار ہے جو پکار کے کہے، ہالٹ!  ہیہات ۔۔ ہیہات۔۔۔۔
مضمون  کوئی پرانا نہیں ہوتا۔ انسان قدیم ہے، کائنات قدیم تر۔ فطرت سے اغماض ہو نہیں سکتا۔ کون ہے جو لذائذ دنیا سے کنارہ کرلے مگر درویش۔ خدا نے جو راحتیں انسان کو ارزاں کیں کوئی بدبخت ہی ان سے کنارہ کر سکتا ہے۔ کیا پرندوں کا گوشت، پھلوں کا عرق، شباب شجر ممنوعہ ہیں؟ خدا کی خدائی میں یہ دخل ہے۔بے طرح دل بے قرار ہوا۔ ایک ہی ٹھکانہ جہاں قرار نصیب ہے۔  درویش کہ اب تک وجیہہ ہے، عنفوانِ شباب میں وجاہت کانمونہ تھا۔ درسگاہ کی طالبات کہ ہمہ وقت جھمگٹا درویش کے گرد بنائے رکھتیں۔ ذوق مگر اس وقت بھی اعلی۔ کبھی گہری رنگت اور فلیٹ ارتھ کو آنکھ جھپک کر نہ دیکھا۔آج بھی اس وقت کو یاد کرتے درویش کی نگاہوں میں چئیرمین نیب  کو دیکھا جا سکتا ہے۔
شام کا جھٹپٹا تھا جب درویش کی کٹیا میں طالب علم داخل ہوا۔ کھٹکے پر درویش نے یکدم آئی پیڈ میز پر الٹا  دیا۔ طالبعلم کو دیکھا تو خورسند ہوا۔ آئی پیڈ اٹھایا اور اشارے سے پاس بلایا۔ سبحان اللہ۔۔۔ آنسہ آشا ٹاکیہ کی گوگل امیج سرچ کے رزلٹس تھے۔ من بیک وقت شانت و بے قرار ہوا۔ آدھ گھنٹہ درویش و طالبعلم  خدائے لم یزل کی صناعی کا نظارہ کرتے رہے۔  دل کا ادبار کچھ ہلکا ہوا تو درویش سے دبدھا بیان کی۔ انسان کہ بیک وقت کمزور و توانا ہے۔ فطرت کے خلاف وہ جا نہیں سکتا الاّ یہ کہ درویش ہو یا کپتان یا سپہ سالار۔ مصروف طعام یا مشغولِ وظیفہءبقائے انسانیت؛  کوئی بدبخت کیسے کسی کو فلم بند کرسکتا ہے۔ ظلم ہے یہ حضورِ والا، صریح سفاکی۔ دل لہو ہوتا ہے۔ ایسی روشن تاریخ  کے ہم وارث ہیں کہ ستاروں کو شرمائے اور حالت یہاں تک آ پہنچی کہ فطری تقاضوں کو سلیکون چپ پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ کوئی جائے اور ان کو بتائے کہ بندگانِ خدا کو شرمندہ کرنا  عذابِ الہی کو دعوت دینا ہے۔
امیرالمؤمنین خلیفہ ہارون الرشید کہ نامِ نامی ان کا تاریخ میں فلوریسنٹ سے لکھا ہے، روایت ہے کہ حرم ان کا پوری دنیا سے چنیدہ مہ وشوں سے آباد تھا۔ کیا امیر المؤمنین ان سے لڈّو کھیلتے تھے؟ واللہ ہرگز نہیں۔ آپ امورِ سلطنت و اشاعتِ دین سے تھک جاتے تو حرم میں تشریف لے جاتے۔ چند گھنٹوں کی خوش وقتی سے توانائی بحال ہوتی۔ اگلی صبح اسی توانائی کے ساتھ امورِ سلطنت میں مشغول ہوجاتے۔ دربار لگا تھا، ایک مشیر نے دریافت کیا، یا امیر المؤمنین! آپ کیسے اتنے کام نبٹا لیتے ہیں۔ آپ نے ایک لحظہ توقف  کیا  اور ایسا جواب دیا جو رہتی دنیا تک  فیس بک پیجز کی زینت بنا رہے گا، "ایک مہ وش کی آغوش ہزار ریڈ بُلز سے زیادہ توانائی آور ہے"
درویش ہمہ تن گوش تھے۔ طالبعلم کی بے قراری پر ان کا دل ملول ہوا۔ چہرہ غم سے متغیّر ہوا۔ کافی مگ میں کھیسے سے چپٹی بوتل نکال کر کچھ محلول ڈالا، مگ کو انٹی کلاک وائز حرکت دی، محلول کو سونگھ کر ایک لحظہ کے لیے آنکھیں میچیں اور ہلکا سا سِپ لیا۔ طالبعلم کی طرف بغور دیکھا۔ انگشت وسط اٹھائی اور گویا ہوئے،  مینوں کِی دسداں۔۔۔ میرے اپنے ٹوٹے بنے ہوئے نیں۔
ہیہات ۔۔ہیہات۔۔۔۔ تاریخ کے چوراہے پر بے سدھ ہم پڑے ہیں اور دنیا حظ کشید کرتی ہے۔ کوئی مردِ کار ہے جو پکار کے کہے، ہالٹ!  ہیہات ۔۔ ہیہات۔۔۔۔

یوٹوپیا

شہر میں ہُو کا عالم تھا۔ سڑکیں خالی اور گنجان آباد شہروں کا مخصوص شور غائب تھا۔ حیرانی کی بات  تھی کہ کاریں، موٹر سائیکلیں، پک اپ ٹرک، گدھا گاڑیاں، تانگے سڑکوں پر بے ترتیبی سے کھڑے نظر آتے تھے جیسے یکدم کسی نے صور پھونک دیا ہو  یا جادو  کے زور سےسب غائب ہوگئے ہوں۔ شاپنگ مالز، بازار، تعلیمی ادارے، اسپتال،  عدالتیں، تھانے کسی بھی جگہ کوئی انسان نظر نہیں آ تاتھا۔ آوارہ جانور ہر طرف مٹر گشت کرتے نظر آتے ۔ ویرانی دیکھ کر اکا دکا جنگلی جانور بھی شہر کے مضافات سے آگئے تھے۔  رات ہونے کو تھی۔ اچانک دور سے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز آئی۔سفید گھوڑے پر سوار ایک شخص نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھ میں چمڑے کا دُرّہ تھا۔ شہر کے مرکزی چوک میں رک کر وہ گھوڑے سے اترا۔ دُرّہ شڑاپ کی آواز کے ساتھ ٹریفک سگنل پر مارا اور کہا، میں نے کہا تھا کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ اب بھی اگر کوئی کہیں چھپا ہے تو ظاہر ہو کر حساب دے ورنہ اس کا انجام بھی باقی سب جیسا ہوگا۔
یہ یوٹوپیا کے دارالحکومت کا منظر تھا۔ پورے ملک میں یہی حالات تھے۔ گھڑسوار شخص یوٹوپیا کا حکمران دُھر عالم تھا۔ چند سال پہلے اس نے "چند لوگ چور ہیں" کے نعرے پر حکومت سنبھالی۔ دُھر عالم نے یوٹوپیا کے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ اس کے حکومت میں آتے ہی ہر طرح کی کرپشن ختم ہوجائے گی جس کی وجہ سے آج تک یوٹوپیا ترقی نہیں کرسکا تھا۔ جرائم کا خاتمہ ہوجائے گا اور وہ الوہی ریاست قائم ہوگی جس کا وعدہ آسمانی کتابوں میں کیا گیا ہے۔
اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد دُھر عالم کو اندازہ ہوگیا  کہ چند لوگ چور نہیں ہیں بلکہ ساری قوم ہی چور ہے۔ اس نے تین سال لوگوں کو سمجھایا کہ چوری چھوڑ دیں اور حکومت کو محصولات ایمانداری سے ادا کریں لیکن قوم بگڑ چکی تھی۔ایک گدھا گاڑی والا بھی  بیس ہزار کا موبائل لے کر گھومتا تھا اور جب اس سے منی ٹریل مانگی جاتی کہ اس کے لیے پیسے کہاں سے آئے؟ گدھے کے لیے چارہ خریدنے کی رسیدیں کدھر ہیں؟ تو وہ اشتعال میں آجاتا اور پورے شہر میں گدھا گاڑیوں کی ہڑتال ہوجاتی۔  حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ دفاع کے لیے بھی مطلوبہ رقم کا انتظام کرنا مشکل ہوگیا۔ اس موقع پر دُھر عالم کو  پتہ چلا کہ اسے یوٹوپیا کے لوگوں کے لیے عذاب بنا کر بھیجا گیا ہے۔
اگلے ہی دن دُھر عالم نے سارے ملک کی بجلی اور گیس بند کردی۔ پٹرول پمپ، ریلوے اسٹیشن، ائیر پورٹس، شپنگ پورٹس ، اسپتال، تعلیمی ادارےسب ختم کردئیے ۔ اس سے خطیر رقم کی بچت ہوئی۔ یوٹوپیا کی آبادی خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی۔ ان اقدامات سے آبادی میں فوری کمی ہونی شروع ہوگئی۔ لوگ شہروں کو چھوڑ کر جنگلوں اور ویرانوں کی طرف جانے لگے۔ جہاں بھی لوگوں کی بڑی تعداد اکٹھی ہوتی؛  دُھر عالم کے حکم پر اس کے ارگرد خاردار تار کی باڑ لگا کر اس میں کرنٹ چھوڑ دیا جاتا تاکہ کوئی باہر نہ نکل سکے۔ یوٹوپیا میں ایسے سینکڑوں کیمپ قائم ہوگئے۔ آبادی کم ہونے سے ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ زمین کو قدرتی کھاد میسر آئی جس سے ان کیمپوں کی زمین زرخیز ہوگئی۔لوگ  خوراک کے لیے کھیتی باڑی کرنے لگے۔ کچھ عرصہ بعد جن کیمپس کے لوگ  زیادہ اناج پیدا کرنے لگے ان کو حکومتی فارمز پر شفٹ کردیا گیا تاکہ وہ دفاعی اداروں اور ان کے خاندانوں کے لیے اناج پیدا کریں۔
دُھر عالم جب بھی کسی کیمپ کے قریب سے گزرتے تو ادھیڑ عمر خواتین کیلے کے پتے لپیٹے بے اختیار باڑ کی طرف لپکتیں۔ باڑ میں کرنٹ کی پروا کیے بغیر اس کو عبور کرنے کی کوشش کرتیں اور الجھ کر رہ جاتیں۔ آخری سانسیں لیتے ہوئے بھی ان کے لبوں سے"ہینڈسم "ادا ہوتے ہوئے سنا جا سکتا تھا۔
چند سال میں ہی یوٹوپیا کے تمام غیر ملکی قرضے ختم ہوگئے۔ بجلی اور گیس کی ضروریات چونکہ نہایت محدود ہوچکی تھیں لہذا دُھر عالم نے بجلی اور گیس کی برآمد سے خطیر زر مبادلہ کمایا۔ برآمدات نہ ہونے کی برابر رہ گئی تھیں جس سے امپورٹ بل بھی نہ ہونے کی برابر رہ گیا۔ چور عوام کی تعلیم ، صحت، انفراسٹرکچر پر جو پیسہ ضائع ہوتا تھا اب وہ بھی بچت میں شامل ہوگیا۔ یوٹوپیا چند سال میں ہی اقوام عالم کی صف میں ایک ممتا زمقام پر فائز ہوچکا تھا۔زرمبادلہ کے ذخائر اتنے زیادہ ہوچکے تھے کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف بھی یوٹوپیا سے قرض لینے لگے۔ پوری دنیا سے چوٹی کے ماہرین یوٹوپیا میں ملازمت کی خواہش کرتے تھے لیکن ان میں سے چند خوش نصیب ہی کامیاب ہوتے تھے۔
آج بھی دُھر عالم رات کے آخری پہر بھیس بدل کر نکلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا چور عوام میں سے کوئی ابھی تک چھپا تو نہیں ہوا۔ یوٹوپیا  کے شہروں میں اب بھی رات کے وقت دُھر عالم کی آواز گونجتی ہے۔۔۔۔۔
کسی کو نہیں چھوڑوں گا!

ظفر کمال اور ڈولی

آپ  ظفر کمال کو دیکھ لیں۔ آپ ان کی زندگی پر نظر دوڑائیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ یہ فلاسفر، دانشور، حکیم، شاعر، مصنف، پریمی اور منصف ہیں۔ ایک بندے میں اتنی خوبیاں شاذو نادر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پولینڈ کی کہاوت ہے کہ ہر صدی میں ایسے دو انسان ہوتے ہیں جن میں یہ خوبیاں موجود ہوں۔ ہم برصغیر کو دیکھیں۔ ہم جان جائیں گے کہ پچھلی صدی میں علامہ اقبال ایسی شخصیت تھے اور اس صدی میں جناب ظفر کمال۔  یہ لاہور کے مضافات میں سپاہیانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ یہ بچپن سے ہی خوبصورت اور ذہین تھے۔ سکول میں اساتذہ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہر جماعت میں یہ بآسانی پاس ہوجاتے۔ کالج اور یونیورسٹی میں بھی ان کی ذہانت اور حسن کے چرچے تھے۔ یہ جب آنکھوں میں سُرمہ لگاتے۔ بالوں میں چنبیلی کا تیل لگا کر پٹیاں جما کر باہر نکلتے تو لوگ انگلیاں منہ میں داب لیتے۔
ایجوکیشن کمپلیٹ کرنے کے بعد یہ سرکاری افسر بن گئے۔ ان کی فرض شناسی، معاملہ فہمی نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ یہ افسر بن کر بھی سپاہیانوالہ کو نہیں بھولے۔ یہ ہر ویک اینڈ پر وہاں جاتے۔ یہ سپاہیانوالہ کی پنچائت کے سر پنچ بھی ہوگئے۔ یہ لوگوں کے جھگڑوں اور لڑائیوں میں منصف بن گئے۔ یہ کبھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ فریقین ان کا فیصلہ ہنسی خوشی قبول کرتے۔ یہ ہر ویک اینڈ پر واپس آتے تو ان کے سکوٹر کی ٹوکری اور پچھلی سیٹ مختلف چیزوں سے لبالب بھری ہوتی۔ کوئی ان کو مرغیاں دے جاتا۔ کوئی ہدوانے اور گنے دے جاتا۔ کوئی دیسی گھی اور کوئی پنجیری۔ لوگ ان کو نقد نذرانے بھی دیتے۔ ان کی جیب بھر جاتی۔ یہ درویش طبیعت کے تھے۔ یہ پیسے اپنے پاس نہیں رکھتے تھے۔ یہ انہیں اپنے چپراسی کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیتے۔ چپراسی  کا نام عنایت اللہ تھا۔ یہ میانوالی کے علاقے عیسی خیل کا رہائشی تھا۔ ظفر کمال کو اس سے خاص انسیت تھی۔ یہ اسے کبھی ماتحت نہیں سمجھتے تھے۔ یہ اسے کبھی کبھار سکوٹر پر بٹھا کر راوی کنارے بھی لے جاتے۔ یہ دونوں گھنٹوں راوی کنارے جنگلات میں چہل قدمی کرتے ۔ یہ گنے بھی چوپتے ۔ یہ چھلیاں بھی کھاتے۔
ایک دن ظفر کمال کی لائف میں ایک دم چینج آگیا۔ یہ ویک اینڈ پر سپاہیانوالہ میں پنچائت اٹینڈ کرنے گئے۔ پنچائت میں خلاف معمول رش زیادہ تھا۔ یہ سرپنچ کی کرسی پر جا کر بیٹھے تو سب خاموش ہوگئے۔  اچانک ایک جوان العمر دوشیزہ اٹھی۔ سَرو قد۔ کتابی چہرہ۔ میدہ شہاب رنگت۔ بھرے بھرے ہونٹ۔ بادامی آنکھیں۔ گولائیوں اور قوسوں میں تِرشا سراپا جسے ریشمی چادر بھی چھپانے میں ناکام تھی۔ دوشیزہ نے ظفر کمال کی طرف دیکھا اور یوں مخاطب ہوئی،
"میرا نام ڈولی جوئیہ ہے۔ میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ دشمنوں نے میرے شوہر کو جھوٹے الزام میں پھنسا کر گرفتار کرا دیا ہے۔ تھانے میں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ کسی نے آپ کا ذکر کیا کہ ظفر کمال کے پاس جاؤ۔ انصاف ملے گا"۔
ظفر کمال کی نظریں بے اختیار جھک گئیں۔ یہ باعزت اور شرم حیا والے انسان تھے۔ یہ کبھی کسی کی دھی بہن کو غلط نظروں سے نہیں دیکھتے تھے۔ ظفر کمال نے ڈولی جوئیہ کو تسلی دی اور کہا کہ اس کے ساتھ ضرور انصاف ہوگا۔ انہوں نے ڈولی کو اگلے منگل اپنے دفتر آنے کا کہا۔
ڈولی جوئیہ اور اس کا شوہر  طارق حفیظ فراڈئیے تھے۔ یہ مالدار ادھیڑ عمر مردوں کو ڈولی کے جال میں پھنسا کر بلیک میل کرتے تھے۔ ڈولی فون پر ان کے ساتھ گندی باتیں کرتی تھی۔ یہ ساری کالیں ریکارڈ کر لیتے تھے۔ یہ بعد میں ان لوگوں کو بدنام کرنے کی دھمکی دیتے تھے۔ یہ ان کو لوٹ لیتے تھے۔ ظفر کمال ان کا نیا شکار تھا۔ منگل والے دن ڈولی ڈیپ کٹ کی سکائی بلیو پرنٹڈ شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں ملبوس، ڈارک گلاسز لگائے ظفر کمال کے دفتر میں جا پہنچی۔ عنایت اللہ نے ڈولی کو دیکھا تو اس کی فوک وزڈم نے الارم بجا دیا۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ عورت خطرناک ہے۔ وہ ظفر کمال کو خبردارکرنا چاہتا تھا لیکن اسی اثناء میں ڈولی دفتر میں داخل ہو چکی تھی۔ ظفر کمال ڈولی کو اس حلیے میں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ یہ ڈولی اس پنچائت والی ڈولی سے بالکل مختلف تھی۔ ظفر کمال نے ڈولی کو بیٹھنے کو کہا۔ ڈولی اک ادائے ناز سے آگے کو جھکی اور ایسے کرسی پر بیٹھی کہ ظفر کمال کی نظریں ڈولی کی شرٹ میں الجھ کر رہ گئیں۔
ظفرکمال نے عنایت اللہ کو بلا کر چائے لانے کو کہا اور ڈولی کی طرف متوجہ ہو کر بولے کہ بتائیے آپ کا مسئلہ کیا ہے۔ ڈولی نے گلاسز آنکھوں سے ہٹا کر سر کے بالوں میں اٹکائے۔ کرسی کی پشت سے سر ٹکایا اور ٹھنڈی سانس لے کر سیدھی ہوئی۔ اس کی آنکھوںمیں آنسو تھے۔ اس نے کہا کہ اس  کی محبت کی شادی تھی۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس کا شوہر ایک دھوکے باز ہے۔ یہ اس کو مالدار مردوں سے افئیر لڑانے پر مجبور کرتا ہے تاکہ ان سے پیسے اینٹھے جا سکیں۔ ڈولی کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اس نے میز پر پڑے ٹشو باکس سے ٹشو نکالا۔ گال اور ناک صاف کیا۔ ظفر کمال کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھا اور کہا کہ مجھے آپ سے بہت امید ہے کہ آپ مجھے اس شیطان کے چنگل سے بچا سکتے ہیں۔ پلیز میری ہیلپ کریں۔ میں کبھی بھی آپ کا احسان نہیں بھولوں گی۔ یہ کہہ کر ڈولی بلک بلک کر رونے لگی۔ ظفر کمال بے اختیار ہو کر کرسی سے اٹھے اور ڈولی کے قریب جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ڈولی نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں پر رکھا اور اسے چوم کر کہنے لگی،
"ظفر مجھے اس سے بچا لو۔ میں جانتی ہوں میں تمہارے لائق نہیں لیکن میں ساری زندگی تمہاری باندی بن کے رہوں گی۔ تم جو کہو گے میں وہ کروں گی"۔
یہ کہہ کر ڈولی اٹھی اور ظفر کمال کے فراخ سینے میں سما گئی۔ وقت جیسے تھم سا گیا ہو۔ ڈولی کا گداز سراپا ظفر کمال کو کسی اور ہی دنیا میں لے گیا جو عنایت اللہ کی دنیا سے قطعی مختلف تھی۔ اسی لمحے ظفر کمال نے فیصلہ کیا کہ وہ ڈولی کے لیے کچھ بھی کرے گا۔ ظفر کمال کی زندگی میں عزت، شہرت، مرتبہ، مقام سب کچھ تھا صرف محبت نہیں تھی۔ ڈولی نے اسے محبت سے بھی آشنا کر دیا۔  ظفر کمال اور ڈولی کی ملاقاتیں ہونے لگیں۔ اب ظفر کمال راوی کنارے جنگلات میں ڈولی کو لے کر گھنٹوں گھومتے رہتے۔ یہ ڈولی کو لمبی لمبی فون کالز بھی کرتے۔ یہ اس  کے لیے شاعری بھی کرنے لگے۔ یہ ڈولی کو مجبور کرنے لگے کہ طارق حفیظ سے طلاق لے  کر ان سے شادی کرلے۔ ڈولی اس موضوع پر ظفر کمال کو طرح دے جاتی۔ یہ کہتی کہ پہلے اس کو باہر آنے دیں۔ میں اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کر سکتی ہوں۔ ویسے بھی میرا سب کچھ تو آپ کا ہے شادی کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کہہ کر ڈولی ایک ادا سے ظفر کمال کی طرف دیکھتی تو وہ گھائل ہو کر رہ جاتے۔
بالآخر ظفر کمال کی کوشش سے طارق حفیظ رہا ہو گیا۔ ڈولی اس کے ساتھ ظفر کمال کے دفتر آئی۔ دونوں بہت خوش نظر آرہے تھے۔ ظفر کمال یہ دیکھ کر کٹ  کے رہ گئے۔ ان کا دل ملول ہوگیا۔ ان کو ڈولی سے یہ امید نہیں تھی۔ ڈولی نے ظفر کمال کے چہرے سے ان کے دلی حالت کا اندازہ لگا لیا۔ یہ ان کی طرف دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکرائی اور بولی، "ظفر صاحب! میرا پیچھا چھوڑ دیں۔ میں جو حاصل کرنا چاہتی تھی وہ مجھے مل گیا ہے۔ اگر آپ نے دوبارہ مجھے تنگ کرنے کی کوشش کی تو آپ کی فون کالز کی ریکارڈنگز میرے پاس موجود ہیں۔ راوی کنارے والی بہت سی تصاویر بھی ہیں۔ یہ سب روزنامہ 69 میں چھپ جائیں گی۔ آپ کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے۔ آج کے بعد میرا آپ کا کوئی تعلق نہیں۔ آپ نے میری جو مدد کی اس کا صلہ میں آپ کو ساتھ ساتھ دیتی رہی ہوں۔ ہمارا آپ کا حساب بے باق ہوا"۔
یہ کہہ کر ڈولی اٹھی، طارق حفیظ کا ہاتھ پکڑا اور دفتر سے نکل گئی۔ ظفر کمال اپنی سیٹ پر دل شکستہ اور دم بخود حالت میں بیٹھے تھے۔ ان کی دنیا اچانک اندھیر ہوگئی تھی۔ عنایت اللہ آہستگی سے دفتر میں آیا۔ ظفر کمال کو دیکھا اور نم آنکھوں سے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔
دل لگایا تھا دل لگی کے لیے
بن گیا روگ زندگی کے لیے