شطرنج کے کھلاڑی

ماہا گلریز نے ادائے بے نیازی سے سنہری بال جھٹکے اور نئے ماڈل کی سیاہ آؤڈی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔کیمبرج کا موسم خون جما دینے والا تھا۔ نیلی جینز، کالی ٹرٹل نیک اور ڈارک براؤن اوور کوٹ میں ملبوس ماہا گلریز، حسن کا آخری سٹاپ لگ رہی تھی۔ سرخ و سفید رنگت، شہد جیسے بال، نیلی آنکھیں، ستواں ناک، ترشے ہوئے بھرے بھرے ہونٹ۔۔۔

ماہا کا آج ہارورڈ یونیورسٹی میں پہلا دن تھا۔ وہ سرکاری سکالر شپ پر ہارورڈ یونیورسٹی کے لئے منتخب ہوئی۔ اس کے ابّا گلریز جیلانی بہت اہم اور طاقتور شخصیت تھے۔ ماہا کی ابتدائی تعلیم کانوینٹ میں ہوئی۔ اعلی ترین تعلیمی اداروں سے ہوتی ہوئی ماہا آج دنیا کے معتبر ترین تعلیمی ادارے میں پہنچی تھی۔ ماہا کا نصابی اور غیر نصابی ریکارڈ شاندار تھا۔ ٹینس کی بہترین کھلاڑی ہونے کے علاوہ اسے گانے سے دلچسپی تھی۔وہ جب لمز میں پڑھتی تھی تو ایک میوزک بینڈ کی لِیڈ سنگر بھی تھی۔ بینڈ کا نام "ٹوائیلائٹ ریوولیوشن" تھا۔ اس بینڈ کے تین چار گانے بہت مشہور ہوئے۔ فارم ہاؤسز کی پارٹیز میں اکثر ڈی جے وہی گانے چلاتے تھے۔ "شیزان سٹوڈیو" کے کمیل صفات نے بہت اصرار سے سیزن 37 میں ماہا کو پرفارم کرنے پر راضی کیا تھا۔ آج بھی وہ نمبرز شیزان سٹوڈیو کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے گانے ہیں۔ موسیقی ماہا کی ترجیحات میں اتنی اہم نہیں تھی۔ اسی لئے ماسٹرز کرنے کے بعد ماہا نے ہارورڈ کا قصد کیا۔ سکالر شپ حاصل کرنا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ گلریز نام ہی کھل جا سم سم کا درجہ رکھتا تھا۔

 ماہا کو فلسفے سے گہرا شغف تھا۔ سماجی رویّے اور ان کے مضمرات پر اس کے پیپرز بین الاقوامی جریدوں میں شائع ہوتے رہتے تھے۔ ماہا زندگی میں کچھ ایسا کرنا چاہتی تھی جو عام لوگوں کے سماجی رویّوں میں تبدیلی لا کر انہیں بہتر زندگی فراہم کرسکے۔ ماہا کے ڈاکٹریٹ کا موضوع بھی "ڈیماکریسی، سوشل ویلفئیر اینڈ چینج" تھا۔اس کا ہدف پی ایچ ڈی کے بعد وطن واپس جا کر ایک تنظیم بنا کر سماجی بہتری کے لئے جدوجہد کرنا تھا۔ دنیا میں پھیلی غربت اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے المیے اسے بے چین رکھتے تھے۔ اس بے چینی کو وہ کہانیوں میں پرو دیتی تھی۔ یہ مختصر کہانیاں مقبول عام جریدوں آنچل، کرن، شعاع، آداب عرض، پاکیزہ وغیرہ میں تواتر سے شائع ہوتی تھیں۔ ان کہانیوں کے دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم بھی ہوچکے تھے اور دنیا بھر میں ماہا ایک حساس لکھاری کے طور پر جانی جاتی تھی۔

ماہا بچپن سے ہی یورپ، امریکہ، کیریبئین اور جنوبی امریکہ جاتی رہتی تھی۔ امریکہ اس کے لئے نیا نہیں تھا لیکن ہارورڈ ایک الگ ہی دنیا تھی۔ دنیا کے بہترین دماغ انسانی مسائل کی وجوہات اور ان کا حل تلاش کرنے میں دن رات جتے رہتے۔ لائبریری ہمیشہ آباد رہتی۔ ماہا کے دن رات پڑھائی میں گزرنے لگے۔ موسیقی، لکھنا، دوستوں سے میل ملاپ بہت کم ہوچکا تھا۔ کرسمس کی چھٹیوں میں ماہا گھر نہیں گئی بلکہ بچپن کی دوست زلیخا کریم کے ساتھ بوسٹن میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ زلیخا کے والد پولو کے بہترین کھلاڑی تھے۔ کریم نوشاد کا نام پولو کے ہال آف فیم میں تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ بوسٹن منتقل ہوچکے تھے اور اپنی یادداشتیں قلمبند کر رہے تھے۔

کرسمس ڈنر پر کریم نوشاد نے ایک خاص مہمان کو مدعو کیا تھا۔ دراز قامت، گٹھا ہوا بدن، گہری تفکّر میں ڈوبی ذہانت بھری آنکھیں، ادھیڑ عمری کی سرحد کو چھوتی جوانی، بارعب اور دھیمی آواز۔ یہ شطرنج کے فاتحِ عالم انعامِ الٰہی تھے۔ کریم صاحب نے ان کا تعارف ماہا سے کراتے ہوئے بتایا کہ انعام سے ان کا تعلق بہت پرانا ہے۔ کریم صاحب نے قہقہہ لگا کر بتایا کہ جمخانہ کلب میں اکثر ان سے شطرنج کی بازی رہتی تھی اور دو تین منٹ سے زیادہ نہیں چلتی تھی۔ انعامِ الٰہی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ ماہا کو انعامِ الٰہی کی شخصیت نے اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ ان میں کچھ ایسی بات تھی جو ماہا نے اپنی زندگی میں کم ہی کسی میں دیکھی۔ ایک مقناطیسی کشش جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ماہا نے ان سے پوچھا کہ آپ زیادہ مشہور نہیں، اس کی کیا وجہ ہے۔ انعامِ الٰہی نے بغور ماہا کی آنکھوں میں جھانکا اور بولے، لوگ ذہانت سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ ان کو ایسے لوگ اور کھیل پسند نہیں آتے جن کا جوہر ذہانت ہو۔ انعامِ الٰہی کی نگاہ میں کچھ ایسا تھا کہ ماہا کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھر بکھر گئے۔

ڈنر کے بعد لیونگ روم میں ڈرنکس کا دور چلا۔ سیاست، سماج، لٹریچر، کھیل، صوفی ازم سب پر سَیر حاصل گفتگو ہوئی۔ انعامِ الٰہی دھیمی آواز میں ہر موضوع پر ایسا نکتہ نکالتے کہ سب انگشت بدنداں ہوجاتے۔ رات بھیگ چلی تھی۔ انعامِ الٰہی نے رخصت کی اجازت چاہی۔ ماہا کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ کچھ دیر اور ٹھہرتے لیکن یہ کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔ انعامِ الٰہی کے جانے کے بعد ماہا نے زلیخا کو تنہائی میں جا پکڑا اور انعامِ الٰہی کا وٹس ایپ مانگا۔ زلیخا کے چہرے پر شرارت تھی۔ اس نے کہا کہ وٹس ایپ تو میں دے دوں گی لیکن انعامِ الٰہی بالکل سرد پتھر ہیں۔ ان کو توڑنا یا پگھلانا ممکن نہیں۔ ماہا نے ایک ادا سے شانے جھٹکے اور بولی، میرا نشانہ بھائی ساب، دیکھے زمانہ بھائی ساب، تیر پہ تیر چلے بھائی ساب، بچ کے نہ کوئی جائے۔۔۔۔ دونوں سہیلیاں کھلکھلا کے ہنس پڑیں۔

ماہا اور انعامِ الٰہی کے مابین مستقل رابطہ قائم ہوگیا۔ بالمشافہ ملاقات ممکن نہیں تھی کہ ماہا پڑھائی کا حرج نہیں چاہتی تھی اور انعامِ الٰہی لاس ویگاس کے ایک کیسینو میں پارٹنر تھے۔ ماہا کے لئے اتنی دور جانا ممکن نہیں تھا اور انعامِ الٰہی کو یہ کہتے ہوئے اسے لجا آتی تھی کہ آکےمجھ سے مل جائیں۔ روحوں کا ملن ہو چکا تھا، بدنوں کا باقی تھا۔ پہلے سمسٹر کے اختتام پر ایک ہفتہ کی چھٹیاں تھیں۔ ماہا نے فورا لاس ویگاس جانے کا فیصلہ کیا۔ انعامِ الٰہی کو پتہ چلا تو انہوں نے کہا کہ تمہیں آنے کی ضرورت نہیں، میں خود آرہا ہوں۔ یہ سات دن ماہا کی زندگی کے رنگین ترین دن تھے۔ دن رات جاگتے سوتے گزرے۔ زمان و مکان جیسے تھم چکے تھے۔

ماہا اور انعامِ الٰہی دو جسم ایک جان ہو چکے تھے۔ ماہا نے پاپا کو بھی انعامِ الٰہی کے بارے بتا دیا تھا۔ ماہا نے پاپا کو ان کے نظریات، لائحہ عمل اور مقصد سے وابستگی کے بارے تفصیل سے بریف کیا تھا۔ ماہا نے کہا کہ ڈاکٹریٹ مکمل ہوتے ہی وہ وطن واپس آئے گی اور انعامِ الٰہی کے ساتھ مل کر اپنی تنظیم چلائے گی تاکہ سماجی انقلاب کا جو خواب اس نے برسوں پہلے دیکھا تھا اس کو عملی جامہ پہنا سکے۔ انعامِ الٰہی کی کرشماتی شخصیت اس تنظیم کو وہ عوامی حمایت دے سکتی تھی جو اس مقصد کے حصول میں مددگار ثابت ہوتی۔

ماہا گلریز نے کامیابی سے اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ وطن واپس آنے سے پہلے اس نے انعامِ الٰہی سے وعدہ لیا کہ وہ پہلی فرصت میں سب کچھ سمیٹ کر اس کے پاس آجائیں گے۔ دو مہینے کے اندر ہی انعامِ الٰہی وطن لوٹ آئے۔ ماہا نے انہیں گیسٹ بیڈ روم میں ٹھہرایا۔ پاپا سے ان کی ملاقات ہوئی تو وہ بہت متاثر ہوئے۔ مسز گلریز ان دنوں ایک سرکاری وفد کے ساتھ یورپ کے مطالعاتی دورے پر تھیں۔ ڈنر کے بعد رات دیر تک گلریز جیلانی اور انعامِ الٰہی گپ شپ کرتے۔ گلریز صاحب ان کے علم، وژن اور شخصیت سے مرعوب کن حد تک متاثر ہوچکے تھے۔ ان کے منصوبے ایسے تھے جو اس سماج کی حالت بدل دینے پر قادر تھے۔ انعامِ الٰہی کی شخصیت کا کرشمہ، ان کی خودداری، پاکیزہ کردار نے گلریز صاحب کو قائل کردیا کہ انعامِ الٰہی، ماہا کے پراجیکٹ کے لئے مناسب ترین شخص ہیں۔

گلریز صاحب نے اپنے ذرائع سے پتہ کرایا تو انعامِ الٰہی بارے بڑی عجیب باتیں پتہ چلیں۔ وہ کیسینو کے پارٹنر نہیں تھے بلکہ وہاں ملازمت کرتے تھے۔کیسینو کے صارفین کے ساتھ شطرنج کھیلتے تھے اور سیلفیز بنواتے تھے، تنخواہ تو معمولی تھی لیکن ٹپس مل جاتی تھیں اور کھانا پینا مفت تھا۔ عورتوں سے رغبت کی بھی بہت کہانیاں سامنے آئیں۔ ڈرنک کرنا تو معیوب بات نہیں تھی لیکن اس کے علاوہ بھی نشے کی بہت سی اقسام میں ان کی دلچسپی کا علم ہوا۔ اس سب کے باوجود گلریز جیلانی کو یقین تھا کہ ماہا کی پسند غلط ثابت نہیں ہوسکتی۔

دن گزرتے گئے۔ انعامِ الٰہی گیسٹ روم کے مستقل مکین بن گئے۔ مسز نائلہ گلریز بھی دورے سے واپس آچکی تھیں۔ وہ بھی دو دن میں انعامِ الٰہی کی گرویدہ ہوگئیں۔ گلریز جیلانی کی مصروفیات اتنی تھیں کہ رات ڈھلے گھر آتے۔ ایک سہانی سوموار کسی وجہ سے ان کی آخری دو میٹنگز منسوخ ہوگئیں۔ کلب جانے کے بجائے انہوں نے سوچا کہ آج جلدی گھر جائیں اور تھوڑا آرام کریں۔ ان کی گاڑی پورچ میں رکی تو پائیں باغ کے پہلو میں انہوں نے باورچی اور مالی کو گیسٹ روم کی کھڑکی کے پاس کھڑے دیکھا۔ صاحب کو آتے دیکھ کر دونوں دائیں بائیں ہوگئے۔ تجسس سے مجبور ہو کر گلریز جیلانی گیسٹ روم کی کھڑکی کے پاس گئے اور جھانکا تو ان کی رگوں میں لہو جم گیا۔

انعامِ الٰہی اور ماہا دنیا و مافیہا سے بے خبر ایک دوسرے میں گم تھے۔ ملازم بھی اس مفت کے ہوم میڈ کلپ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ گلریز جیلانی طیش کے عالم میں پلٹے، کار کے ڈیش بورڈ سے گن نکالی اور گھر کے اندر لپکے۔ مسز گلریز لیونگ روم میں زنیرہ احمد کا ڈرامہ دیکھ رہی تھیں۔ گلریز کو اس عالم میں دیکھ کر پریشان ہوگئیں۔ گلریز صاحب کو بازو سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا۔ ڈرنک بنا کے دی۔ دوسری ڈرنک کے بعد گلریز صاحب نے پوری صورتحال بیان کی۔ غصّے سے ان کا جسم پتّے کی طرح لرز رہا تھا۔ مسز گلریز نے گلریز جیلانی کے گلے میں بانہیں ڈالیں، پیار سے ان کو بھینچا اور بولیں، "ڈارلنگ! جو بھی ہے، کم سے کم انعامِ الٰہی قورپٹ تو نہیں ہے ناں!!"

گلریز جیلانی کو نائلہ سے ایک مانوس سے پرفیوم کی خوشبو آئی۔ ان کے دماغ میں ایک جھماکہ سا ہوا۔ یہ انعامِ الٰہی کا پسندیدہ پرفیوم تھا۔ انہوں نے سائیڈ ٹیبل سے گن اٹھائی۔ مسز گلریز کا ماتھا چوم کے کہا، "گڈ بائی، ڈارلنگ۔۔۔ تمہیں یہ نہیں کرنا چاہئیے تھا۔۔۔" اور مسز گلریز کی کنپٹی پر گولی مار دی۔

ان کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔ ان کا وجود مجسم طیش بن چکا تھا۔ انہوں نے مسز گلریز کو پرے ہٹایا اور طوفان کی طرح گیسٹ روم کی طرف لپکے!۔


گُجّر، ملک اور زہریہ ٹاؤن

آپ قدرت جاوید کو دیکھ لیں۔ آپ امجد کامرانی کو دیکھ لیں۔ آپ رفعت حسین کو دیکھ لیں۔ آپ سمیع اللہ خان کو دیکھ لیں۔ یہ خود کو پھنّے خاں سمجھتے تھے۔ یہ کہتے تھے ہم اصلی صحافی ہیں۔ یہ لوگوں سے بدتمیزیاں کرتے تھے۔ یہ الٹے سیدھے سوال پوچھتے تھے۔ یہ رُوڈ بھی تھے اور ایروگنٹ بھی۔ یہ سیلف رائیچیس بھی تھے اور ان کمپیٹنٹ بھی۔ یہ نیوز پیپرز میں کالم بھی لکھتے تھے۔ یہ چینلز پر ٹاک شو بھی کرتے تھے۔ کوئی ان کے کالم رِیڈ نہیں کرتا تھا۔ ان کے شوز کی ریٹنگ بھی پُوور ہوتی تھی۔ مگر یہ سیلف کرئیٹڈ ہائیپ کی وجہ سے بڑے صحافی کہلاتے تھے۔ آج یہ یو ٹیوب پر سَفر کرتے ہیں۔ کوئی نیوز پیپر ان کو پبلش کرنے پر تیار نہیں۔ یہ چینلز کے ترلے کرتے ہیں۔ یہ اپنا شو چلوانا چاہتے ہیں۔ چینلز والے ان کو گراس نہیں ڈالتے۔ یہ بِٹرّ ہو چکے ہیں۔ یہ کانسپریسی تھیوریز بناتے ہیں۔ یہ اداروں کے اگینسٹ نیریٹو بناتے ہیں۔ یہ اینیمز کے ہاتھوں میں پلے ہو رہے ہیں۔

یہ جیلس بھی ہو چکے ہیں۔ یہ فیمس جرنلسٹس اور اینکرز کے جوک بناتے ہیں۔ یہ ان کا فَن اڑاتے ہیں۔ یہ ان کے ہوم، کلوتھز، وہیکلز اور ہالیڈیز سے بَرن ہوتے ہیں۔ یہ لائف میں کمپلیٹلی ان سکسیس فل ہوچکے ہیں۔ یہ ہر سکسیس فل سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ ڈیفنس فورسز کو ہر پرابلم کا ریزن سمجھتے ہیں۔ یہ ان کی سیکریفائزس کو ریکگنائز نہیں کرتے۔ یہ کپتان کو ڈیم فول کہتے ہیں۔ یہ ان کو اِم دا ڈِم بھی کہتے ہیں۔ یہ ان کے سپرچوئل درجات کے بھی منکر ہیں۔ یہ ان کو ڈرگ ایڈکٹ بھی سمجھتے ہیں۔ یہ فرسٹ لیڈی کو ٹانٹ کرتے ہیں۔ یہ ان کو بلیک میجک کی ماہر سمجھتے ہیں۔ یہ ہر ایوننگ میڈم نور جہاں کا گانا "جادوگرا۔۔۔" بھی سن کر ہنستے ہیں۔

آپ یہ دیکھیں، یہ سب کرنے کے باوجود یہ لوزر ہیں۔ آپ ان کے فیس دیکھیں اور ان کے ایکشن دیکھیں۔ یہ دو دو دن منہ نہیں دھوتے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ دن باتھ نہ لے کر یہ بھی گجر بن سکتے ہیں۔ یہ ان کی مس انڈر سٹینڈنگ ہے۔ یہ پرانی شرٹیں پینٹیں پہنتے ہیں۔ ان کے پاس سمارٹ واچ بھی نہیں۔ یہ اب بھی بٹنوں والے مبئیل یوز کرتے ہیں۔

یہ ہالیڈے سیلیبریٹ کرنے کے قابل نہیں۔ یہ سنڈے کو آئلی پراٹھے کھا کے ہالیڈے منا لیتے ہیں۔ انہوں نے سوئٹزر لینڈ کو صرف کیلنڈر پر دیکھا ہے۔ یہ ایورپ کے سپیلنگ تک نہیں جانتے۔ ان کو یہ علم ہی نہیں کہ ایورپ، ای سے شروع ہوتا ہے۔ یہ اسے یورپ یورپ لکھتے اور پڑھتے ہیں۔ یہ کبھی فیصل مسجد کے مینار پر نہیں چڑھے، میں ایفل ٹاور سے اہرام مصر تک کلائمب کر چکا ہوں۔ میں نے سوئٹزر لینڈ کی جھیلوں میں برہنہ پریاں اپنی آئیز سے دیکھی ہیں۔ جبکہ یہ گوگل امیجز میں ہاٹ چکس ہی سرچ کرتے رہتے ہیں۔ میں واحد جرنلسٹ ہوں جس نے سعودی کنگ کے ساتھ سیلفی کھینچی۔ سعودی رائلز میرا بڑا احترام کرتے ہیں۔ مجھے قلب قلب کہتے ہیں۔

یہ سپرچوئیلٹی پر بھی بیلیو نہیں کرتے۔ ان کے پاس کوئی بابا نہیں۔ میرے پاس تھینک گاڈ ہر فیلڈ کا بابا موجود ہے۔ میں جدھر جاتا ہوں۔ کوئی نہ کوئی بابا مجھے مل جاتا ہے۔ یہ مجھے گائیڈ بھی کرتے ہیں۔ یہ مجھے دنیا بھی دیتے ہیں اور آفٹر لائف سکسیس کی گارنٹی بھی۔ یہ بابے مجھے بتاتے ہیں کہ میں ایک ونس ان آ لائف ٹائم پرسن ہوں۔ ایسے پرسنز ہیومن ہسٹری کا کورس چینج کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ مجھے موٹیویٹ کرتے ہیں۔ یہ مجھے گڈ ڈِیڈز کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ میں جب بھی کسی بابے سے ملوں، ان سے کنورسیشن کروں، اس کے بعد میں لازمی کشمیری، فلسطینی مجاہدین کے چندے والے باکس میں پانچ روپے ڈالتا ہوں۔

میں ایک ہمبل ہیومن بئینگ ہوں۔ میں کبھی بریگ نہیں کرتا۔ آج میں اینگری ہوگیا۔ مجھے غصہ آگیا۔ یہ سب کو ڈس کریڈٹ کرتے کرتے اب ملک نیاز تک پہنچ گئے۔ یہ میں ٹالریٹ نہیں کرسکتا۔ کوئی مجھے جیدا مینٹل کہہ دے، مجھے غصہ نہیں لگتا۔ کوئی مجھے سفارشی کہہ دے، مجھے نوسر باز کہہ دے، میں اگنور کر جاتا ہوں لیکن ملک نیاز کے اس کنٹری میں اتنے کنٹری بیوشن ہیں کہ ان کے خلاف لینگویج اوپن کرنے والے کو معاف نہیں کرسکتا۔ ہیومن ہسٹری میں بہت سے پراجیکٹ ایسے ہیں جو سٹینڈ آؤٹ ہیں مگر آج تک کوئی بھی پراجیکٹ زہریہ ٹاؤن کے کیلیبر تک نہیں پہنچ سکا۔

میں اپنی لائف کے لاسٹ بریتھ تک ملک نیاز کا ڈیفنس کرتا رہوں گا۔ اے گِجّے ہونیں کِسے ہور دے۔۔۔۔

عید مبارک

 نئے جوتے، کپڑے پہنے، عطر لگائے، بے دلی سے 'سیویاں' (جسے اب شیر خورما کہتے ہیں) کھاتے ہوئے، ابّو کہتے کہ جلدی کرو بھئی، نماز کا وقت نہ نکل جائے۔ ان کو میٹھا پسند تھا، ہمیں بھی تھا؛ ہر لائلپوری کو ہوتاہے، لیکن سیویاں کبھی پسند نہیں آئیں۔ ان کو کھانا مشکل اور اس سے مشکل نئے کپڑے بچانا ہوتا تھا۔ عید کے جوڑے پر صبح ہی سیویاں گر جائیں تو سارا دن نئے کپڑوں کی شو کیسے ماری جاتی؟ دل چاہتا کہ انڈا پراٹھا کھائیں لیکن ابّو کا اصرار ہوتا کہ عید کی نماز سے پہلے میٹھا کھانا سنت ہے۔ نماز سے واپسی پر پُوڑیاں کھائیں گے۔

چھوٹی عید کی نماز جناح کالونی کی جامع مسجد میں پڑھنے جاتے۔ موٹر سائیکل چلاتے ابّو جی دھیمی آواز میں تکبیر پڑھتے اور ہمیں بھی کہتے کہ عید کی نماز کو جاتے ہوئے تکبیر پڑھنا سنت ہے۔ مسجد میں پہنچنے والے اوّلین نمازیوں میں ہم باپ بیٹا ہوتے تھے۔مولانا اشرف ہمدانی نمازِ عید کے خطبہ کے لئے منبر پر آتے  تو مسجد بھر چکی ہوتی۔ بے پناہ خطیب تھے۔ حاضرین کو ہنسانے، رلانے اور پیسے نکلوانے میں طاق۔ نماز کے بعد عربی کا پورا خطبہ سن کے مولانا کی رقّت انگیز دعا ہوتی۔ ہم حیران ہوتے کہ عید کے دن مولانا کیوں رو اور  رلا رہے ہیں۔ دعا ختم ہوتی اور مولانا عید مبارک   کہتے تو سبھی نمازی عید ملتے۔ سب سے پہلے ابّو جی مجھ سے عید ملتے۔ ان کی گرمجوشی آج تک محسوس ہوتی ہے۔

نماز کے بعد کامران سویٹس جھنگ بازار کا رخ ہوتا۔ مٹھائی کے کافی سارے ڈبّے بنوا ئے جاتے۔ سب سے پہلے دادی، جنہیں ہم   وڈّی امی جی کہتے تھے ، کی طرف جاتے ۔  پھر تایاؤں اور چچا کی طرف سے ہوتے ہوئے، درجہ بدرجہ مٹھائی اور سیویاں کھاتے، دن چڑھے گھر پہنچتے تو امّی منتظر ہوتیں۔ شامی کباب، پلاؤ، سالن  کی خوشبوئیں۔

وقت گزرا تو عید کی نماز کے بعد سب سے پہلے گلستان کالونی کے قبرستان جاتے۔ دادا کی قبر پر فاتحہ پڑھتے۔ کچھ سال بعد نانا کی قبر کا بھی اضافہ ہوگیا۔ ہم تھوڑا بڑے ہوئے تو اکتا سے جاتے کہ ابوّجی جلدی کریں، گھر چلیں۔ تو نرم آواز میں کہتے، "پُت ۔۔ عید دا دن اے، ابا جی  اڈیک دے ہونے کہ شفیع ہالے تیکر ملن نئیں آیا۔۔۔"

مٹھائی کا ایک ڈبّہ خصوصی گھر کے لئے ہوتا جس میں صرف گلاب جامن اور میسو ہوتا تھا۔ گلاب جامن تو سب کی مشترکہ پسند تھا جبکہ میسو امّی کے لئے۔ شام تک اس ڈبّے میں صرف میسو ہی بچا ہوتا تھا۔ ہم پولکا جتنے پرانے ہیں۔ پولکا آئس کریم کیک اسلم بیکری سے لایا جاتا اور سارا دن وقتا فوقتا کھایا جاتا۔  عیدی کا یوں تھا کہ ہماری طبیعت میں خسیس پن فطری ہے۔ پیسے جمع کرتے رہتے، خرچ نہیں کرتے تھے۔ اگلے دن سارے پیسے امّی کو امانتا رکھوا دیتے۔ پچاس سے سو کے درمیان کثیر رقم ہوتی تھی۔ آج تک یہ پیسے امّی کے پاس امانتا پڑے ہیں۔

بچپن سے اس عمر تک کہ ادھیڑ عمری دستک دے رہی ہے، ہمیشہ یہ احساس رہا کہ کوئی بھی پریشانی، مسئلہ یا مشکل ہو تو ابّو جی ہیں ۔ کوئی فکر کی بات نہیں۔ ایک بےفکر احساسِ تحفظ۔ اگرچہ بیمار اور کمزور ہوچکے تھے لیکن یہ احساس کبھی ختم نہیں ہوا۔

آج عید کی صبح اٹھ کے سب سے پہلے سیویاں بنائیں۔ آس پاس والوں میں تقسیم کیں۔ خود بھی کھائیں۔ ابّو سے ملنے قبرستان جانا ممکن نہیں تھا۔ ان کو یہیں سے سلام بھیجا۔  وہ بے فکری اب نہیں۔ ۔۔۔ میاں محمد بخش یاد آئے۔۔۔۔ باپ سِراں دے تاج، محمد۔۔۔

ابوّ جی عید مبارک۔۔۔

کپتانؒ، پاسبان اور صنم خانہ

صاحبقراں امیرِ تیمور کہ چنگیزی خون تھے،  اولیاء کی نظرِ کرم ہوئی ، دل پلٹ گیا۔ منگول طوفان   کہ دنیا کو مٹانے پر تلا تھا، انسانیت کا مسیحا بنا۔  انسان کا دل  کہ جیسے دو انگشت کے درمیاں ہے، جدھر اس کی مرضی ہو، پلٹ دے۔ سبحان اللہ۔۔۔

چار برس اِدھر، بہار کے دن تھے۔ فضا مشکبار، ہوا مشکبو۔ کپتانؒ کے پاس طالبعلم حاضر ہوا۔ دو وقت مل رہے تھے۔ خادم نے انتظار کرنے کا کہا۔ طبیعت کی بے چینی کا مگر کیا کریں۔ بے اختیار ہو کر اٹھا اور مرغزار کی پچھلی سمت جا نکلا۔ کپتانؒ کہ تالاب کنارے گھاس کے فرش کو جاءنماز بنائے گڑگڑا رہا تھا۔ "مولا! اس کا دل بدل دے۔۔۔ مولا! اس کا دل بدل دے"۔ چشم اشک بار۔ ہچکی بندھی ہوئی۔ فقیر نے  کہ زندگی میں بہت تغیّر دیکھے، ایسا منظر کبھی نہ دیکھا تھا۔  دل کٹ کر رہ گیا۔ ایسا منظر کہ ملائک تاب نہ لاسکیں۔

دعا سے فراغت ہوئی تو طالبعلم پر نظر پڑی۔ رُخِ کپتانؒ متغیّر ہوا۔ صوفی کہ جلالی ہوتا ہے یا جمالی۔ کپتانؒ میں دونوں صفات یکجا۔ جلال سے فقیر کی طرف دیکھا، بے ساختہ دہن  مبارک سے نکلا، "تیری میَں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"۔  فقیر کہ سدا کا کائیاں، نظر انداز کیا۔ محبوب کی توجہ ہی محبّ کا ایمان ہے۔ مرزا یاد آئے۔۔۔ کتنے شیریں ہیں ترے لب کہ۔۔۔۔۔

لجاجت سے کپتانؒ کے قریب جا  بیٹھا۔استفسار کیا ، یا کپتانؒ! یہ دعا کس کا دل بدلنے کے لئے  تھی؟۔ کپتانؒ کہ ملکوتی حسن کا شہکار۔ زیرِلب تبسّم فرمایا ، پھر سکوت اختیار کیا۔ طالبعلم کا اصرار کہ قائم ۔ تنگ آکر فرمایا، "اوئے کھوتیا، تجھے بتا دیا تو  زور زور سے بول کے سب کو سکیم بتادے گا۔"

فقیر نے خاموشی اختیار کی۔ صاحبانِ معرفت کی کفش برداری سے تعلیم ہوا کہ کبھی وارداتِ قلبی بارے اصرار نہ کرنا چاہئیے۔ طالبعلم چپ ہورہا۔ شام کے لوازم خدّام نے تالاب کنارے سجا رکھے تھے۔ اس رات ہم دو بجے تک پیا۔

اس شام کی پھانس چہار سال فقیر کے دل میں چبھی رہی۔ ربع سال ہوتا ہے کہ کپتانؒ نے یاد کیا۔ سب مصروفیات ترک کیں اور ترنت خدمت میں حاضر ہوا۔ عاشق کے لئے اس سے بڑی سعادت اور کیا کہ محبوب کا بلاوا آجائے۔ وہی مقام، وہی دو وقت ملنے کا جھٹپٹا۔عرض کی، یا کپتانؒ! آج فقیر کی یاد کیسے دلِ مصفا میں آئی۔ کپتانؒ نے نگاہ دلبری سے فقیر کو دیکھا اور روایتی سادگی سے فرمایا، "او  یکاّ، کدی  کالم وچوں باہر وی نکل آیا کر۔"

کھیسے کی جیب سے مُڑے ہوئے سِرے والا سگریٹ نکال کر سلگایا۔ ایک کَش لگا کر فقیر کی طرف بڑھا دیا۔ پھر یوں گویا ہوئے، "تمہیں یاد ہوگا، چار سال پہلے تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کس کا دل بدلنے کی دعا کر رہا ہوں۔ آج میں تمہیں بتاتا ہوں۔ خواب میں بشارت ہوئی کہ مودی ہی وہ شخص ہے جو ہند میں اسلام کا جھنڈا بلند کرے گا۔ اس کو صراطِ مستقیم دکھانے کی ذمہ داری تمہاری ہے۔ میں تو یہ سوچ کر پریشان ہوگیا۔ سوچا کہ شاید ایک لکیر زیادہ کھینچنے کی وجہ سے یہ خواب آیا ہے ۔ مگر یہ خواب متواتر دو ہفتے آتا رہا۔ پھر میں نے انڈیا جا کر مودی سے ملاقات کی۔ پیرو مرشد سے ایک تعویذ لیا۔ بی بی پاک نے فرمایا کہ نظر بچا کر اس کی چائے میں پھیر دینا۔ خدا اس  کو نریندر مودی سے محمود احمد مودی کر دے گا۔ "

فقیر دم بخود ہو کر یہ داستانِ ہزار امکاں سن رہا تھا۔ کپتانؒ کہ ورزش ، طعام اور۔۔۔ ۔میں کبھی تاخیر نہیں کرتا، خادم کو اشارہ کیا ۔ ترنت ہی فرشی دستر خوان پر طعامِ شب چُن دیا گیا۔ مصنوعی تکلفات سے دور سادہ آدمی۔ رغبت سے گوشت خوری کرتا رہا اور فقیر اسے محویت سے تکتا رہا۔ فقیر کو بھنے گوشت کی اشتہا انگیز مہک نے مجبور کیا، ایک بوٹی اٹھانے کو ہاتھ بڑھایا، کپتانؒ نے کَس کر ہاتھ پر چمچہ مارا۔ فقیر چپکا ہو رہا۔

بعد از فراغتِ طعام کپتانؒ نے داستان وہیں سے شروع کی۔ مودی سے ملاقات ہوئی۔ چائے میں تعویذ بھی گھول دیا۔ دو خزاں گزر گئے، مگر امیدِ بہار کے آثار  ظاہر نہ ہوئے۔ پھر تائیدِ غیبی آ پہنچی۔ وبا نے دنیا کو لپیٹ میں لے لیا۔ لوگ اپنے گھروں میں بند۔ اپنے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا تو مودی جی نے من میں جھانکا۔ وہاں اسلام کی حقانیت موجود تھی۔ چلّہ پورا ہوا اور مودی جی باہر آئے تو حلیہ سے دل تک سب بدل چکا تھا۔ 14 اگست کی شب کپتانؒ کو وٹس ایپ کال کی اور کپتانؒ کے آئی فون پر اسلام قبول کرلیا۔ آپ کا نام محمود احمد مودی رکھا گیا۔
فقیر کے بدن میں کاٹو تو لہو نہیں۔ایسی محیّر العقول بات کہ شاید و باید۔ کپتانؒ کے گال پر چٹکی بھری کہ کہیں انٹا غفیل نہ ہوں۔ آپؒ نے اس حرکت پر فقیر کی مادر و ہمشیر کو یکجا کرنے کے بعد ارشاد کیا، "اب ہم مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ محمود صاحب یہ چیز سامنے لائیں گے۔ عوام ان کے ساتھ ہے۔ جیسے ہی وہ پبلکلی اسلام قبول کرنے کا اعلان کریں گے۔ سارا ہندوستان مسلمان ہوجائے گا۔ یہی غزوہ ہند تھا۔ اور ہم جیت چکے ہیں۔"
صاحبقراں امیرِ تیمور کہ چنگیزی خون تھے،  اولیاء کی نظرِ کرم ہوئی ۔ دل پلٹ گیا۔ منگول طوفان   کہ دنیا کو مٹانے پر تلا تھا، انسانیت کا مسیحا بنا۔  انسان کا دل  کہ جیسے دو انگشت کے درمیاں ہے، جدھر اس کی مرضی ہو، پلٹ دے۔ سبحان اللہ۔۔۔

نام میں کیا رکھا ہے

یہ 90 کی دہائی کے اوائل کا قصہ ہے ۔ پرانا دور ہمیشہ سادہ اور اچھا لگتا ہے کیونکہ اس وقت تک ہم دنیا کو اس طرح نہیں جانتے جیسی وہ ہے۔ یہ تو وقت جب گزرتا ہے تو علم ہوتا ہے کہ وقت ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، انسان اور رویّے اچھے نہیں ہوتے ۔  یہ گورنمنٹ کالج دھوبی گھاٹ لائلپور کا قصّہ ہے۔ ان دنوں سردیوں میں اردو، انگریزی، اسلامیات وغیرہ کی کلاسز کمروں سے نکل کر باغیچوںمیں منتقل ہوجاتی تھیں۔ کالج میں ہاکی، فٹبال اور کرکٹ کے الگ الگ میدان تھے۔ اردو اور انگریزی کی کلاس اکثر لائبریری کے سامنے والے باغیچے میں ہوتی تھی جس کے ساتھ ہی ہاکی کا میدان تھا۔ 

یہ سرما کی نرم دھوپ والا دن تھا۔ فرسٹ ائیر کے رنگروٹوں کی بڑی تعداد  اردو کی کلاس میں انہماک سے بیٹھی  ہاکی کا میچ دیکھ رہی تھی۔ کرسی پر براجمان جوان العمر، نرم نقوش اور خوش پوش لیکچرار  میرؔ  کی غزل پڑھاتے ہوئے ، "تھا عشق مجھے طالبِ دیدار ہوا میں " تک پہنچے تو رک گئے ۔ اور سامنے بیٹھے ہونق بچوں سے  دریافت کیا کہ وہ سامنے پگڈنڈی پر جو صاحب آرہے ہیں، کیا کوئی ان کو جانتا ہے؟ ان کا اشارہ چھوٹا سا چرمی بیگ بغل میں دبائے تیز تیز قدموں سے چلتے ادھیڑ عمر فرد کی طرف تھا۔ بھولی سی صورت والے ایک بچے نے ہاتھ کھڑا کیا۔ استاد خوش ہو کر بولے، ہاں بھئی بتائیں، کون ہیں یہ؟ وہ ناہنجار اپنی لائلپوری پنجابی میں بولا، "سرجی، اے کوئی گولیاں ٹافیاں ویچن آلے نیں۔"

کلاس میں بے ساختہ قہقہہ پھوٹا۔ استاد بھی اس میں شریک تھے۔ بہرکیف ایک دم سنجیدہ  ہوئے  اور خفا ہوتے ہوئے بولے، یہ ریاض مجید ہیں۔ شعبۂ اردو کے صدر ہیں  اور بہت اچھے شاعر۔ سوال ہوا کہ اتنے اچھے شاعر ہیں تو اردو کی کتاب میں ان کی شاعری کیوں نہیں ہے؟ سرَجی مسکرائے اوربولے،  ابھی زندہ ہیں؛ اسی لیے نہیں ہے۔

وہ بدتمیز ناہنجار ہم ہی تھے۔ سائنس کے طالبعلموں کو اردو، اسلامیات وغیرہ پڑھانا اس وقت بھی سمجھ نہیں آیا تھا نہ آج تک آیا۔ لیکن اگر کالج میں اردو نہ پڑھتے تو سَر جی سے کیسے شناسائی ہوتی۔  سکول میں استاد کا تصور ڈنڈے اور تشدد کے بغیر نامکمل  تھا۔ سارا دن کہیں نہ کہیں سے کسی نہ کسی  کو گدڑ کُٹ لگنے کی آوازیں آتی رہتی تھیں۔ اس ماحول سے نکل کر کالج میں آنا ، قید بامشقت سے نکل کر سیدھا لاس ویگاس پہنچنے جیسا تھا۔ کلاس میں کچھ بھی بول سکتے تھے۔ ڈنڈے نہیں پڑتے تھے۔ مرغا نہیں بنناپڑتا تھا۔ دل چاہے تو کلاس  میں حاضر ہوں نہ چاہے تو کرکٹ کھیلیں  یا آوارہ گردی کریں یا اتوار ہے تو پہلا شو دیکھنے چلے جائیں۔

 اردو کی کلاس سے کبھی غیر حاضر ہونے کا خیال نہیں آیا ۔ سَر جی پڑھاتے  تو دنیا جہان کے قصے سناتے ۔ انداز ان کا کسی مہربان قصہ گو جیسا تھا۔ ہر ادیب، شاعر کی زندگی، پسِ منظر، اس دور کے حالات سب  کی ایک تصویر بنا دیتے ۔  میرؔ سے ان کو خصوصی شغف تھا۔ بین السطور ان کے وہ قصے بھی بیان کرتے جو اس وقت سمجھ  نہیں آتے تھے۔ تفصیل پوچھنے پر نیا قصہ چھیڑ دیتے ۔ منیر نیازی کا ذکر کرتے ہوئے پُرجوش ہوجاتے ۔ انہی سے سنا کہ ایسی شاعری نہ پہلے کبھی کسی نے کی نہ شاید کوئی اور کرسکے۔ ہماری اردو کی کتاب میں  منیر کی غلام علی والی غزل تھی۔ بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا۔۔۔ پڑھتے ہی ہمیں غلام علی کی آواز سنائی دینے لگتی ۔ اب فرسٹ ائیر کے بچے کو غلام علی سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟  ہمیں سَر جی کی یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی۔ اب آتی ہے۔

یہ وہ وقت تھا جب تعلیمی اداروں میں خاردار باڑھ، مورچے،  مسلح محافظ وغیرہ نہیں ہوتے تھے۔ گورنمنٹ کالج ایک بڑے  پارک جیسا تھا۔ ہر طرف ہریالی، جدھر بھی نکل جائیں، کھیل کا کوئی میدان یا باغیچہ سامنے آجاتا ۔ البتہ جس حالت میں اب ہم ہیں، وہاں تک پہنچنے کی تیاریاں جاری تھیں۔ جہادی تنظیمیں، اسلحہ، جہاد، وغیرہ کا خوب زور تھا۔  نفاذِ اسلام کا بھی غلغلہ تھا۔ اس وقت سیکولرازم وغیرہ کا ذکر نہیں تھا البتہ کمیونزم اور کمیونسٹ گالی سمجھی جاتی تھی۔  دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاحات اردو صحافت میں خوب استعمال ہوتیں۔ بائیں بازو کی تنقیص کے لیے مذہب کا بھی سہارا لیا جاتا کہ مسلمان ہر کام دائیں ہاتھ سے کرتے ہیں، یہی حکم ہے۔ شروع شروع میں ہمیں وسیم اکرم بھی اسی لیے ناپسند تھا کہ بائیں ہاتھ سے بالنگ کرتا ہے۔

سَر جی فیض کے بھی معتقد تھے۔ ہم نے اس لڑکپن میں جو کچھ پڑھا اس میں فیض کو سرخا، کمیونسٹ، ملک دشمن، دہریہ وغیرہ پکارا جاتا ۔ ان کو ملے لینن پرائز کو ان کے روسی ایجنٹ ہونے کی سند سمجھا جاتا۔ ہم جب جوش سے یہ سب سَر جی کے گوش گذار کرتے تو زیرِ لب مسکراتے رہتے۔ صرف اتنا کہتے، آپ اگر پڑھتے رہے تو وقت کے ساتھ آپ کی بہت سی الجھنیں سلجھ جائیں گی۔  سَر جی ہم سب کو پسند تو بہت تھے لیکن جب وہ ایسے ملک دشمنوں کی تعریف کرتے تو اس پسند میں بال سا آجاتا۔ جو اگلی کلاس تک دور بھی ہوجاتا۔ چھوٹی عمر کا یہی فائدہ ہے۔ کوئی رنج یا خفگی زیادہ دیر نہیں رہتی۔

ایک یاد سے کتنے سلسلے جُڑے ہوتے ہیں۔  کل کسی کو پُرسہ دیتے ہوئے ریاض مجید کا شعر یاد آیا،

وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے

روپڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے

اس کے ساتھ ہی سَر جی کی یاد بھی آگئی۔ بہت کوشش کی لیکن ان کا نام یاد نہیں آیا۔ تب سے ان کی یاد ساتھ ہے۔ اوائل عمری کے قبول کیے ہوئے اثر ساری زندگی ساتھ رہتے ہیں۔ سَر جی سے بہت   سیکھا اور اس سے زیادہ وہ سیکھا جو اس وقت ہمارے لیے ہضم کرنا مشکل تھا۔  زندگی پر کسی کا اتنا اثر ہو اور نام بھول جائے۔ پھر شیکسپئیر یاد آیا کہ نام میں کیا رکھا ہے۔

میرا یقین ہے کہ سَر جی نے بھرپور، مطمئن زندگی گزاری ہوگی اور اب بھی اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے انسپریشن ہوں گے۔ یہ چند سطور اگر کسی نہ کسی طرح ان تک پہنچ جائیں تو جعفر حسین آپ کو سلام کہتا ہے، سَر جی۔

 


قائد اعظم (2.0) کے 14 نکات

قائد اعظم محمد علی جناح  نے انگریزوں، ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں، یہودیوں، عیسائیوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے مشہور زمانہ 14 نکات پیش کیے ۔ جن پر عمل کرتے ہوئے علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا۔خواب کے بعد قائد اعظم لندن منتقل ہوگئے تاکہ پاکستان بنانے کی جانگسل جدو جہد سے پہلے تھوڑا فریش ہوسکیں۔ بالآخر علامہ اقبال نے ان کو خط وغیرہ لکھے کہ اب واپس آجائیں، وقت کم رہ گیا ہے۔

قصّہ مختصر اگرچہ قائد اعظم نے پاکستان بنایا اور وہ اسلامیان ہند کے متفقہ صادق و امین رہنما کہلائے، مگر باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو قائد اعظم میں رہبرانہ اوصاف کا معمولی سا حصہ ڈالا گیا تھا تاکہ دیکھا جاسکے کہ امت مسلمہ اصل راہبر کے لیے تیار بھی ہے یا نہیں۔ سائنسی زبان میں اسے ٹیسٹ رَن کہتے ہیں۔ ان معمولی اوصاف کے ساتھ ہی قائد اعظم نے پاکستان بنا ڈالا۔  باقی تاریخ ہے۔

پاکستان بنے ہوئے 70 سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا۔ روحانیت سے شغف رکھنے والے جانتے ہیں کہ روحانی دنیا میں اتنا وقت ایک آدھ دن کے برابر ہے۔ دو سال قبل پاکستان میں وہ راہبر لانچ ہوا جس کے لیے امت مسلمہ کو تیار کیا جارہا تھا۔   پرانے قائد اعظم پروٹو ٹائپ تھے جو کامیاب رہا۔ اب اصل پراڈکٹ لانچ ہوئی ہے۔

دنیا میں مچی ہوئی ہلچل اس بات کا ثبوت ہے کہ روحانی دنیا نے نیو ورلڈ آرڈر لانے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔سارے کافر، یہودی، عیسائی، ہندو، بدھ، سکھ، پارسی، ملحد، لبرل متحد ہو کر  اس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے تیار ہورہے ہیں۔ دوسری طرف امت مسلمہ کے پاس قائداعظم 2.0 ہے!

اس شذرے میں ہم موجودہ اور ریفائنڈ قائد اعظم  کے 14 نکات  بیان کریں گے جن پر نئی دنیا استوار ہوگی۔ یہ نکات مندرجہ ذیل ہیں:-

1۔ فانی دنیا  میں کچھ بھی حتمی اور یقینی نہیں سوائے قائد کے فرمان کے۔

2۔ جرمنی اور جاپان کو متصل کیا جائے ۔

3- شیخ چلّی   ڈاکٹرائن پر عمل کیا جائے۔

4- درختوں اور پودوں کو پابند کیا جائے  کہ رات کو آکسیجن خارج کریں اور سلینڈرز میں بھرکے خیبر پختوانخواہ کے جدید ہسپتالوں میں فراہم کریں۔

5۔ حکومت  چلانے کے لیے کفار اور یہود کو پابند کیا جائے کہ مجھے بہترین تربیت دیں۔

6۔ کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے ارطغرل دیکھا جائے۔

7۔ پنجاب کو پاکستان سے الگ کیا جائے۔

8۔ مس کال کو خارجہ پالیسی کی بنیاد بنایا جائے۔

9۔ "مانگنا، کمانے سے بہتر ہے" نئے پاکستان کی معاشی پالیسی قرار دی جائے۔

10۔   امیر لوگوں کو نئے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے آمادہ کیا جائے۔

11۔ صنعتکار،  تاجر  کرپٹ ہوتے ہیں۔ ان کو جیل میں ڈالا جائے۔

12۔ "جب ماڈل ٹاؤن ہوا، اس وقت تم۔۔۔۔" کو قومی بہانہ قرار دیا جائے۔

13۔ حور والے ٹیکے عام کیے جائیں۔

14۔  92 ورلڈ کپ کو معجزہ قرار دیا جائے۔

حاجی صاحب

جالندھر میں پیدا ہوئے۔ 47 میں ہجرت کے وقت چار پانچ سال کے تھے۔  ہنستے بستے گھر چھوڑ آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ دادا جنت مکانی لائلپور میں آٹھہرے۔ بہت عرصہ تک یہی کہتے اور سمجھتے رہے کہ یہ عارضی مشکل ہے۔ ہم واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے۔ ایسا کچھ نہ ہوا۔

پودا اکھڑ جائے تو نئی جگہ جڑ پکڑتے دیر لگ جاتی  ہے۔ سکول جانا شروع کیا تو شاید پانچویں جماعت تک ہی پڑھ سکے۔ گھر میں عسرت تھی۔  بتاتے تھے کہ شاید کتابوں کے پیسے نہیں تھے تو سکول چھوڑ دیا۔ جھنگ بازار میں سبزی کا ٹھیلا لگا لیا۔ جو کچھ یافت ہوتی، ماں کے ہاتھ پہ رکھ دیتے۔ بتایا کرتے تھے کہ امی کے ساتھ گھر کے کام بھی کرتے تھے۔ سب سے بڑے بھائی 47 میں بچھڑ گئے تھے۔ تقریبا دس سال بعد ملے۔   دادی کو ان سے اور ابو سے زیادہ لگاؤ تھا۔ آخری عمر تک رہا۔

سلمی ستارے کا کام سیکھا اور نوجوانی تک وہی کام کیا۔ سب سے بڑے بھائی درزی تھے۔ جناح کالونی لائلپور میں ٹیلرنگ کی دکان تھی۔ ان سے درزی کا کام سیکھا۔ آخری عمر تک پرانے ملنے والے ماسٹر جی پکارتے تھے۔ شادی کے بعد اپنا کاروبار شروع کیا۔ جناح کالونی میں اس وقت ہوزری مارکیٹ کا آغاز تھا۔ وہی کام شروع کیا۔گُنی اور محنتی تھے۔ کاروبار میں برکت ہوئی۔ چند سال میں اپنا گھر بنا لیا۔

جوانی میں حج بھی کرلیا۔ اس کے بعد جگت حاجی صاحب ہوگئے۔ گھر، باہر سب یہی پکارتے تھے۔ بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے، آخری سے پہلا نمبر۔  خاندان میں مگر رتبہ بڑوں جیسا تھا۔ بڑے بھائی بھی ان کو بڑا سمجھتے اور مانتے تھے۔ کسی معاملے، مناقشے، مسئلے میں ان سے رجوع کرتے۔ ان کی رائے کو ترجیح دی جاتی۔

تحمل تھا، کبھی طیش میں نہیں دیکھا۔ اس زمانے بلکہ آج بھی دیسی معاشرے میں بچوں کی تربیت اور مار پیٹ کو مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ساری زندگی میں ان سے ایک تھپڑ کھایا۔ اس کی الگ کہانی ہے۔ کبھی گالی نہیں سنی۔ بہت غصہ میں ہوتے تو 'گدھا' کہہ دیتے۔ اس سے زیادہ نہیں۔ چلاّ کے بات کرتے کبھی نہیں سنا۔ چھوٹے، بڑے سب کو "تسی" سے مخاطب کرتے۔

جوانی میں حج کرلیا تھا۔ مذہب سے لگاؤ ساری زندگی رہا۔ نماز کے پابند۔ زاہدِ خشک مگر نہیں تھے۔ کبھی پابندیاں نہیں لگائیں کہ  یہ پہنو، یہ مت پہنو۔ بال کٹواؤ، داڑھی چھوڑو۔  مطالعہ کا شوق ان سے ہوا۔ بیٹھک میں ایک الماری کتابوں سےبھری ہوئی تھی۔ مذہبی لٹریچر سے لے کر سیاست اور ادب تک بہت سی کتابیں۔ بہارِ شریعت سے  گلستان و بوستان ، چودھری افضل حق کی 'زندگی' ، 'جواہرات' اور ایس ایم ظفر کی 'ڈکٹیٹر کون ' سے شبلی کی 'الفاروق' تک۔  سکول کے دور میں ایک دفعہ مظہر کلیم کی عمران سیریز کا ناول ہمارے ہاتھ میں دیکھا تو بہت ناراض ہوئے ۔ کہا کہ پڑھنا ہے تو ابن صفی کو پڑھو۔

زندگی میں پیسہ  خوب کمایا، خرچ بھی خوب کیا۔ خود پر کم، دوسروں پر زیادہ۔ خدا کے بعد ان کا محنت پر ایمان تھا۔ ادھیڑ عمری کے اختتام پر بحران کا شکار ہوئے۔ زندگی میں جو کچھ بنایا، ختم ہوگیا۔ مال بھی، تعلق بھی۔ رشتہ دار، دوست کترانے لگے۔ کبھی زبان سے تو نہیں کہا لیکن حالتِ حال سے پتہ چلتا تھا کہ دکھ ہے۔ پھر نئے سرے سے محنت شروع کی۔ ہم نے بھی ہجرت کی اور روزی کی تلاش میں خلیج آگئے۔ محنت کا جو سبق ان سے سیکھا تھا، کھرا پایا۔

آخری دو تین سال کے علاوہ جب کمزور ہوگئے تھے، ساری زندگی اپنے ہاتھ سے کمایا۔ کبھی کسی کے احسان مند نہ ہوئے۔   ہم بڑے ہوئے تو ان سے تعلق دوستانہ ہوگیا۔ سیاست، کھیل، مذہب سب پر گپ شپ ہوتی جیسے دوستوں میں ہوتی ہے۔ ملک چھوڑنے کے بعد یہ سب ختم ہوا۔ چھٹی پر آنا ہوتا تو سامان کھولنے باندھنے میں ہی دن گزر جاتے۔

مارچ میں پاکستان آیا تو وباء کی وجہ سے رکنا پڑا۔ تقریبا چھ مہینے ان کے ساتھ گزارے۔ کمزور اور ضعیف ہوگئے تھے۔ یادداشت بھی اچھی نہیں رہی تھی۔ مگر ان کی زندہ دلی برقرار تھی۔  آتے ہوئے ان سے کہا کہ اگلی دفعہ میں نے آنا ہے تو آپ مجھے ائیرپورٹ لینے کے لئے آئیں۔ ہنس دئیے۔

یہ ان کی آخری یاد ہے۔

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

 


وبا کے دنوں میں خلافت


آئن سٹائن نے 1905 میں نظریۂ اضافت پیش کیا۔ اس کے ٹھیک دس برس بعد اسی سے متعلقہ ورم ہول (Wormhole) نظریہ پیش کیا گیا۔ جس کے مطابق  کائنات میں ایک شارٹ کٹ تشکیل پاتا ہے جس کے ذریعے  زمان و مکان کی حدیں توڑ کر وقت یا سپیس میں کہیں بھی جایا جاسکتا ہے۔ 1997 تک  ورم ہول صرف تھیوری کی حد تک ہی تھا۔ عملی طور پر انسان اس بارے کچھ نہیں جانتا تھا۔
1997 میں یونیورسٹی آف لزبن کے فزکس ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ڈین پروفیسر ہاوئیر فیگو نے ایک دلچسپ تھیوری پیش کی۔ جس کے مطابق جب بھی دنیا میں بڑے پیمانے پر انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں،اس کے نتیجے میں ورم ہول پیدا ہوتا ہے۔ پروفیسر فیگو کا کہنا تھا کہ اس ورم ہول کا مقصد یہ ہے کہ جانوں کے اس ضیاع کو روکنے کے لیے فطرت انسان کو موقع  دیتی ہے کہ وہ وقت میں سفر کرکے اس سانحے یا حادثے کو رونما ہونے سے پہلے روک سکے۔
پروفیسر فیگو  کی تھیوری کو زیادہ پذیرائی نہیں  ملی بلکہ سائنسی حلقوں میں اس کا مذاق بھی اڑایا گیا۔ 2005 میں پروفیسر ہاوئیر فیگو اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے۔ ان کی موت کا سبب ڈپریشن بتایا گیا۔
1999 میں پروفیسر فیگو یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑ چکے تھے۔ 99 سے 2005 تک  وہ رینڈ کارپوریشن کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ وابستہ رہے۔ 2007 میں رینڈ کارپوریشن کے ایک وسل بلوور نے نہایت عجیب انکشافات کیے۔ ان کا نام رچرڈ ہاکنگز تھا اور وہ پروفیسر فیگو کے ساتھ بطور اسسٹنٹ وابستہ رہے۔ ہاکنگز کا کہنا تھا کہ پروفیسر فیگو کی تھیوری کو ٹیسٹ کرنے کے لیے عراق اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا گیا ۔ اس کے نتائج  جانچنے کے لیے فزکس کے ماہرین  کی ٹیم جدید ترین آلات کے ساتھ خلائی سٹیشن پر موجود رہی۔  اس تجربہ کا کوڈ نیم 'ریبٹ ہول' رکھا گیا۔
رچرڈ ہاکنگز کے مطابق  آپریشن ریبٹ ہول کامیاب رہا اور ماہرین نے افغانستان میں بامیان کے قریب ورم ہول دریافت کرلیا۔ اس ورم ہول کے ذریعے ایک سپیشل آپس ٹیم تجرباتی طور پر   ہٹلر کو قتل کرنے کے لیے بھیجی گئی۔ کیلکولیشنز میں ابہام کی وجہ سے یہ ٹیم 1938 کی بجائے 1944 میں جا پہنچی۔ جدید آلات اور ٹیکنالوجی کی مدد سے انہوں نے ہٹلر کے بنکر سراغ لگایا  اور اسے قتل کرکے اس کی نعش اپنے ساتھ لے آئے۔ یہ نعش رینڈ کارپوریشن کے خفیہ عجائب گھر میں آج بھی موجود ہے۔
اس ٹیم کی بنائی گئی وڈیو سے ظاہر ہوا  کہ جرمنی بھی اس وقت تک ایٹم بم ایجاد کرچکا تھا اور جس وقت یہ ٹیم ہٹلر کے بنکر میں پہنچی ، اسی شام ہٹلر پورے یورپ اور امریکہ کو  ایٹم بموں سے تباہ کرنے والا تھا۔
رچرڈ ہاکنگز کے یہ انکشافات ناقابل یقین تھے۔ بوسٹن گلوب میں چھپنے والی اس خبر کی اگلے ہی دن تردید کی گئی اور اخبار نے قارئین سے معافی مانگی۔ رچرڈ ہاکنگز کو نفسیاتی مریض قرار د ے کربوسٹن کے آربر ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔   26 نومبر 2010 کو پراسرار حالات میں رچرڈ ہاکنگز  اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ ان کے جسم پر کسی قسم کا کوئی زخم نہیں تھا۔ پوسٹ مارٹم  رپورٹ کو کلاسیفائیڈ قرار دے کر سیل کردیا گیا۔
22 مارچ 2020 کو ترکی کی خفیہ ایجنسی این آئی او کے اہلکار اورحان ایورن نے واشنگٹن سے ایک رپورٹ بھیجی۔ اورحان رینڈ کارپوریشن میں کرد امور کے ماہر کے طور پر ملازمت کرتے تھے۔  حادثاتی طور پررینڈ کارپوریشن 2017 کی ٹاپ سیکرٹ سالانہ میٹنگ کے منٹس  اورحان کے ہاتھ لگ گئے۔  ان کے مطابق دنیا کے حالات اگلے پانچ برسوں میں بالکل تبدیل ہونے والے تھے۔ مغرب اور امریکہ کی سائنسی اور سیاسی برتری  ختم ہونے والی تھی۔ اس تبدیلی کی شروعات پاکستان سے ہونے والی تھیں ۔
منٹس کے مطابق رینڈ کارپوریشن نے اپنے پورے وسائل کے ساتھ اس تبدیلی کو روکنے کے لیے دس سال جدوجہد کی۔ لیکن بالآخر 2018 میں تبدیلی کو روکنا ناممکن ہوگیا۔  اس تبدیلی کے بعد ترکی اور پاکستان مل کر خلافت کا احیاء کرنے والے تھے ۔ طیب اردگان اس بارے میں ہمیشہ سے یکسو تھے  اور صرف مناسب وقت کا انتظار کررہے تھے۔ جیسے ہی پاکستان میں عمران خان وزیر اعظم بنتے، خلافت عمرانیہ کے احیاء کا اعلان استنبول سے کر دیا جاتا۔ رفتہ رفتہ سارے بااثر مسلم ملک اس خلافت کی بیعت کرلیتے۔ عمران خان اس کے لیے سارا ہوم ورک پہلے ہی کرچکے تھے۔ سعودیہ سے یو اے ای اور انڈونیشیا سے ملائشیا تک سبھی آپ کی خلافت پر متفق تھے۔
خلافت عمرانیہ قائم ہونے کے بعد جو منظر نامہ ہوتا ، رینڈ کارپوریشن نے اس کی کچھ منظر کشی اس میٹنگ میں کی۔ اس کے مطابق تیل کے ذخائر، مشترکہ فوجی طاقت اور بے تحاشا انسانی وسائل کی حامل اس خلافت کو دنیا پر حکومت کرنے سے روکنا ناممکن تھا۔  یہ مغربی تہذیب کی موت ہوتی۔ سیموئل ہنٹنگٹن کا 'تہذیبوں کا تصادم' سچ ثابت ہوجاتا۔
میٹنگ منٹس کے آخر میں تجویز پیش کی گئی کہ مغربی تہذیب کی اس تباہی کو روکنے کے لیے 'آپریشن ریبٹ ہول 2' کا آغاز کیا جائے۔ اس کے لیے بل گیٹس کی تجویز کو مناسب قرار دے کر اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
منصوبہ کے مطابق بائیولوجیکل ہتھیار کے ذریعے دنیا میں ایسی وبا پھیلائی جانی تھی جو ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ اس کے آغاز کے لیے چین کا انتخاب کیا گیا۔ اس کی ویکسین پہلے ہی تیار کرلی گئی تھی۔ جیسے ہی وبا عالمی طور پر پھیلتی، مغربی میڈیا کے ذریعے یورپ اور امریکہ میں بے تحاشا اموات کی خبریں پلانٹ کی جاتی۔ جبکہ اصل میں زیادہ اموات چین او ر اسلامی ممالک میں ہونی تھیں۔ جیسے ہی اموات  ورم ہول کی مطلوبہ تعداد تک پہنچتیں، سپیشل آپس سائی بورگ ٹیم ماضی میں روانہ کی جاتی ۔ یہ ٹیم عمران خان کے بچپن  میں جا کر ان کو اغواء کرتی اور  تنزانیہ  کے قصبہ دودوما میں چھوڑ آتی۔
یہاں تک کا منصوبہ بے داغ اور عیب سے پاک تھا لیکن چین نے وبا کے آغاز میں ہی اس پر قابو پا لیا۔ اس کے بعد ترکی نے اپنی معلومات چین سے شئیر کیں۔ چین نے اسی وائرس کوتبدیل کرکے یورپ اور امریکہ میں پلانٹ کر  دیا ۔ چند ہفتوں میں اس کی ویکسین تیار کرکے پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو فراہم کردی گئی۔ یورپ اور امریکہ میں بے تحاشا اموات  ہونے لگیں۔ ان کی ویکسین اس تبدیل شدہ وائرس کے مقابلے میں ناکارہ ثابت ہوئی۔
مئی کے پہلے ہفتے میں اموات کی تعداد پوری ہوتے ہی ترکی اور چین کی مشترکہ ٹیم ماضی میں گئی اور عمران خان کی حفاظت پر مامور ہوگئی۔ اب یہ ٹیم رینڈ کارپوریشن کی سپیشل آپس سائی بورگ ٹیم کا انتظار کررہی ہے!

فربہ دانشور


"توانا جسم کے ساتھ فربہ فکر بھی ضروری ہے۔ جیسے کمزور جسم میں طاقتور سوچ نہیں رہ سکتی اسی طرح فربہ فکر بھی مرگھلے ڈھانچے میں پیدا نہیں ہوسکتی۔ "
انسانی شعور و تہذیب کے ارتقاء میں سب سے اہم کردار   ان شخصیات نے ادا کیا ہے جو دین و دنیا کو الگ سمجھنے کی بجائے ان کے ادغام پر یقین رکھتے تھے۔ شامیر خادم جاکھرانی اکابرین کی انہی روایات کے صادق امین ہیں۔جدید دور کے چیلنجز نے نئی نسل کے لیے بہت خطرات پیدا کیے ہیں جن میں سب سے بڑا خطرہ مشرقی روایات سے روگردانی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
مغربی تہذیب کے زہریلے پراپیگنڈے کی وجہ سے نئی نسل مذہب سے دور ہوتی جارہی ہے۔ بزرگوں کا ادب و احترام کم ہوتا جارہا ہے۔ فحاشی و عریانی کا ایک سیلاب ہے جس نے مملکتِ اسلامیہ کو گھیرا ہوا ہے۔ اس پُر فتن دور میں شامر جاکھرانی امید کی سرچ لائٹ بن کر سامنے آئے ۔
آپ نے ابتدائی تعلیم گھر سے حاصل کی۔ روایت ہے کہ پیدائش کے تیسرے دن آپ نے خلیفہ  جی کا کالم پڑھا۔ والدہ نے چھلہ نہایا تو آپ اوریا اور کلاسرہ کے مضامین پر نقد کرنے لگے تھے۔ آپ کی پیدائش میں کچھ وقت ابھی باقی تھا کہ آپ کے والدِ ماجد کو خواب میں ایک بزرگ کی زیارت ہوئی۔ بزرگ فرمانے لگے کہ جلد ہی تمہارے خاندان میں ایسا شہابِ ثاقب گرے گا جس کی روشنی اور توانائی سے پورا وسیب روشن ہوجائے گا۔  بزرگ نے بڑے جاکھرانی صاحب کو خبردار کیا کہ نومولود  کی خور و نوش میں کوئی دقیقہ فروگزاشت رکھا تو اس ہزارئیے میں اُمّہ کی بربادی کی ذمہ داری تمہارے نامۂ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کرے گی۔ بزرگ کے اس انتباہ کو بڑے جاکھرانی صاحب نے حرزِ جاں بنا کے رکھا۔ آج شامیر خادم کی فربہ فکر  کو وہ مچّرب ڈھانچہ میسرہے جو اس فکر کا بوجھ بخوبی اٹھا سکتا ہے۔  
؏ تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو
دنیاوی علوم میں تبحر حاصل کرنے کے ساتھ آپ عالمِ رویاء میں اکابر علماء اور فلاسفہ کے سامنے زانوئے تلمذ بھی تہہ کرتے رہے۔ان اساتذہ میں جگر کینیڈوی،  فرائڈ، ہومر، وان گوف، شیخ الجبل، راسپوٹن، شیکسپئیر،  ابنِ عربی،  چارلی چپلن، قاسم شاہ اور رنگیلا شامل تھے۔  آج کل آپ خود بھی عالمِ رویاء کے اکابر اساتذہ  کی اس فہرست میں شامل ہیں جو دورِ جدید کے نابغے ہیں۔ ان میں نعیم الحق، وقار ذکاء، صابر شاکر، طاہر شاہ، آغا وقار،  علامہ ضمیر نقوی، جسٹس ٹیڈی بکری ، سلمان احمد،  علامہ خادم رضوی،  وصی شاہ اور آفتاب اقبال شامل ہیں۔
دنیاوی و روحانی اکابرین کی پوری توجہ  اور مکمل غذائیت ملنے سے آپ کی ذہنی و جسمانی کیفیات عروج پر پہنچیں تو آپ کو دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ آپ  کواکیسویں صدی کا فکری بگ بینگ کہا گیا۔ نوجوان نسل جو گمراہ ہو کر فیس بک کی پر خار وادیوں میں بھٹک رہی تھی، آپ ان کے لیے غبارۂ نور ثابت ہوئے۔ جلد ہی آپ کا ڈنکا  فیس بک کے ہر کھلے، بند اور خفیہ گروپ میں بجنے لگا۔ حاسدین ڈنکا بجنے کی وجہ مقدارِ خوراک اور بدہضمی قرار دیتے ہیں ، اہلِ نظر مگر جانتے ہیں کہ   دنیاوی علوم کو ثابت نگل جانے والوں کے لیےکباب،  نہاریاں، بونگ پائے، مغز،  ٹکاٹک، نان، بریانیاں، پلاؤ، ساگ، پالک گوشت، کریلے گوشت، چاؤمن، کابلی پلاؤ، سجیاں، چنیوٹی کُنے، پاستے، چرغے ،سوہن حلوے، حلیم، رس گلے، مرغ چھولے، مٹن کڑاہیاں، بیف تکے، فش فرائی، زردے، کھیریں، فرنیاں،  بلیک فارسٹ کیک، آم، کیلے، ہدوانے، خربوزے، انگور، ملوک، بیر وغیرہ ہضم کرنا بائیں جبڑے کا کام ہے۔
فیس بک پر ظہور سے پہلے یہاں ہر طرف گالم گلوچ کا رواج تھا۔ نوجوان نسل ہر زنانہ آئی ڈی کو ان باکس کرتی تھی۔ ان زنانہ آئی ڈیز کی اکثریت رشید، حفیظ وغیرہ نے بنائی ہوئی تھی۔ اس سے نوجوان نسل کے اخلاق کے علاوہ مستقبل خراب ہونے کا بھی خدشہ ہوتا تھا۔ آپ نے ان کو زندگی کا ایک واضح نصب العین دیا۔ اخلاقیات کے درس ، رنگ برنگی کتب، علماء دین  کے ایمان افروز واقعات، روحانی شخصیات کی دماغ افروز حکایات، انگریزی ٹی وی شوز اور فلمز کے تھرلز اینڈ مزے، معیشت کے اسرار و رموز، وادیٔ سیاست کےپیچ و خم، چندے کے فوائد، وردی کے فضائل، سیاستدانوں کے رذائل۔۔۔ الغرض آپکی فیسبک ٹائم لائن ہر رنگ سے مزین ہے۔
؏ جو رنگ رنگیا گوڑھا رنگیا
جرائد، اخبارات، کتب، فیس بک،  نیوز ویب سائٹس  ہر جگہ آپ کے تبحر علمی کی دھوم ہے۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ ابھی تک وطنِ عزیز میں کوئی ایسا کیمرہ  دستیاب نہیں جو ان کو ٹاک شوکے سیٹ پر پورا کیپچر کر سکے ورنہ آج آپ ٹاپ اینکر بھی ہوتے۔  یہ زمانہ بلاشبہ علم و فضل کا دورِ جاکھرانی ہے۔
؏ کھا چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا


کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد

"اس دنیا میں تین جہات ہیں۔ مثلث کے تین کونے  ہوتے ہیں،  اہرامِ مصر  مثلث کی شکل میں ہیں۔ ان کی پراسراریت پر صدیوں کی تہیں جمی ہیں۔ آج تک کوئی  جیالوجسٹ یا سائنسدان اس کا بھید نہیں پاسکا۔ برمودا ٹرائی اینگل سے جڑی بے شمار پراسرار کہانیاں ہیں۔ ان پر فلمیں بھی بنیں۔ کہانیاں بھی لکھی گئیں مگر ابھی تک کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کا راز کیا ہے۔ دنیا کے نقشے کو دیکھیں تو برمودا ٹرائی اینگل امریکہ کی سمت ایک کونے میں نظر آئے گا۔ ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ اس کے بالکل دوسری سمت کونےمیں ہے۔ اس فرضی مثلث کا تیسرا کونا قطبِ شمالی کا وہ علاقہ ہے جہاں سارا سال پراسرار روشنیاں نظر آتی ہیں۔  یہ تین کونے مل کر اس دنیا کی چوتھی جہت کی مثلث بناتے ہیں۔
ہمالیہ کی ترائیوں میں ایسے علاقے ہیں جہاں آج تک کسی بھی انسان کے قدم نہیں پہنچے۔ اتنے دشوار گزار علاقوں میں نہ تو جدید ترین ہیلی کاپٹر یا جہاز جا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی جیپ یا کار وغیرہ۔ پہاڑی علاقوں میں سفر کے لیے یاک استعمال ہوتے ہیں لیکن وہ بھی ایک مخصوص علاقے میں ہی حرکت کرتے ہیں۔ "
یہا ں پہنچ کر لسوڑی شاہ صاحب نے توقف کیا۔ کچھ دیر خاموش رہ کر زیرِلب کچھ  پڑھا۔ میں ہمہ تن گوش  تھا۔ شاہ صاحب نے اشارے سے ملازم کو بلایا اور کافی لانے کا کہہ کر میری طرف متوجہ ہوئے۔
لسوڑی شاہ ایک ریٹائرڈ صنعت کار ہیں۔  لاہور منتقل ہونے کے بعد کچھ احباب کے ساتھ ا ن سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ تصوف، مابعد الطبیعیات، علم الاسماء پر ان کی گرفت حیرت انگیز ہے۔ پہلی ملاقات میں ہی میں ان کا گرویدہ ہوگیا۔ اس کے بعد کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں لاہور میں موجود ہوں اور ہفتہ میں دو تین دفعہ ان سے ملاقات نہ ہوسکے۔ ان کا گھر ایک طرح  کا ڈیرہ بن چکا ہے۔ ہر وقت لوگوں کا جھمگٹا رہتا ہے۔
دست شناسی میں بھی شغف ہے لیکن سب کا ہاتھ نہیں دیکھتے۔ مجھ سے خصوصی طور پر ہاتھ دکھانے کی فرمائش کی اور میری زندگی بارے ایسی باتیں بتائیں جو میرے علاوہ کسی کے بھی علم میں نہیں تھیں۔ مستقبل بارے ایک پیشگوئی بھی کی جو حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ حالانکہ اس وقت میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زندگی میں کوئی اور عورت بھی آسکتی ہے۔
کافی آنے کے بعد آپ نے اشارے سے ملازم کو کمرے سے جانے کے لیے کہا۔ اس محفل میں زیادہ لوگ نہیں تھے۔ استادِ محترم اور میرے علاوہ ایک بزرگ اور تھے جو لسوڑی شاہ صاحب کے قریبی معلوم ہوتے تھے۔ شام ڈھلتی جارہی تھی۔ شاہ صاحب نے آج خصوصی طور پر مجھے بلایا تھا۔ انکی ابتدائی گفتگو دلچسپ تو تھی لیکن میں ابھی تک سمجھ نہیں پایا تھا کہ وہ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔
شاہ صاحب نے کافی کا گھونٹ بھرا  اور دوبارہ گویا ہوئے، "دنیا کی تین جہات وہ ہیں جو ہم سب کو نظر آتی ہیں۔ ایک چوتھی جہت بھی ہے جسے صرف اہلِ نظر دیکھ سکتے ہیں۔ اس جہت میں داخل ہونے کے انٹری پوائنٹس بھی ہیں جن کا علم دنیا میں صرف چنیدہ لوگوں کو ہوتا ہے اوروہ دنیا سے پردہ کرنے سے پہلے یہ راز اگلی نسل تک پہنچا دیتے ہیں۔ یوں یہ سلسلہ ہزاروں سال سے چلتا آرہا ہے۔اگرچہ یہ جہت موجود ہے اور اس میں داخل ہوا جاسکتا ہے لیکن آج تک کوئی اس میں داخل نہیں ہوا۔ روایت چلی آتی ہے کہ قیامت کے قریبی زمانے میں اس جہت کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس کے لیے تیاریاں کئی صدیوں سے جاری تھیں۔ "
گفتگو دلچسپ  مرحلہ میں تھی۔ استادِ محترم کی انگلیوں میں سگریٹ جل کے خاک ہوچکا تھا لیکن انہیں کش لگانے کا بھی ہوش نہیں تھا۔ شاہ صاحب نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا اور سگریٹ کی طرف اشارہ کیا کہ کہیں آستین نہ جلادے۔ کافی کا آخری گھونٹ لے کر آپ نے گفتگو آگے بڑھائی۔
"موجودہ صورتحال  ایسے لوگوں کو بھی مایوس کر رہی ہے جن کی ساری زندگی رجائیت کا پرچار کرتے گزری ہے۔ ہر طرف بدنظمی پھیلی ہے۔ کسی کو علم نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے۔ "
لسوڑی شاہ صاحب نے انگشت شہادت سے میری طرف اشارہ کیا اور گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا،
"آپ بھی مایوس ہوگئے حالانکہ آپ اس انتظام کے سب سے بڑے حامی تھے۔ آپ نے قریبا ایک عشرہ امیج بلڈنگ اور امید جگانے میں صرف کیا اور جب پھل پکنے لگا ہے تو آپ مایوس ہوگئے۔ یہ بدانتظامی ایک فریبِ نظر ہے۔ میں جو بات آپ کو اب بتاؤں گا یہ اتنی حیران کن ہے کہ شاید آپ میرے کہے پر بھی یقین نہ کریں۔ "
استادِ محترم نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ شاہ صاحب کے قریبی رفیق کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔
"یہ سب مہنگائی، بے روزگاری  اور بدانتظامی اس عظیم  پراجیکٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے جان بوجھ کر برپا کی گئی ہے جس کی تکمیل ہماری ترقی ،خوشحالی  اور استحکام کو قیامت  تک کے لیے یقینی بنا دے گی۔ وادی تیراہ سے ایک سرنگ ہمالیہ کی ترائیوں میں اس علاقہ تک بنائی جا رہی ہے جہاں چوتھی جہت کا  مرکزی داخلی  دروازہ ہے۔ اہلِ تصوف نے جب کپتان کو چنا تو ان کو علم تھا کہ 'ہی از دا ون'۔  اگلے تین سے پانچ سال تک یہ عظیم سرنگ مکمل ہوجائے گی۔ اس وقت تک ہمیں ہر حالت میں کپتان کا ساتھ دینا ہے۔ ایک دفعہ سرنگ مکمل ہوگئی تو پاکستان کی ساری آبادی اس سرنگ کے ذریعے چوتھی جہت میں داخل ہوجائے گی۔  چوتھی جہت میں کائنات کے سارے راز کھل جائیں گے۔ بیماریاں ختم ہوجائیں گی۔ انسان اڑ سکیں گے۔ فاصلے پلک جھپکتے میں طے ہوجائیں گے۔ موجودہ دنیا کی سائنس ابھی صرف ابتدائی مرحلے میں ہے جبکہ چوتھی جہت میں داخل ہونے والا ہر انسان طبیعی علوم میں ماہر ہوجائے گا۔
یہ سب مگر اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم سب کپتان کی بنا کسی شک و شبہ دل و جان سے حمایت پر کمر بستہ ہو جائیں۔ جو اہلِ نظر جانتے ہیں وہ آپ نہیں جانتے۔ اس محفل کا مقصد آپ کو اس عظیم راز میں شریک کرنا تھا جو اس پوری دنیا میں صرف چند  لوگ جانتے ہیں۔  کیا میں امید رکھوں کہ آپ اس راز کی حفاظت کریں گے اور کپتان کا ساتھ دیں گے؟"
لسوڑی شاہ صاحب کے چہرے کے گرد روحانی ہالہ تھا۔ آپ نے اشارے سے مجھے قریب بلا کے اپنے پاس بٹھایا۔ میری کمر تھپتھپائی اور بولے، "آپ جیسے لکھاری ہی میری امید ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔"

میرے پاس تم ہو

دارالحکومت میں رات بھیگ چلی تھی۔ شام سے ہونے والی بارش  تھم چکی تھی۔ ہڈیوں کا گودا جما دینے والی سرد ہوا نے ہر ذی روح کو پناہ لینے پر مجبور کردیا تھا۔ آوارہ کتے تک نظر نہیں آتے تھے۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر نشئی جن پر سردی گرمی کا اثر نہیں ہوتا تھا وہ بھی آج پناہ  اور حرارت کی تلاش میں تھے۔ چائے خانوں اور سُوپ کی ریڑھیوں کے علاوہ کہیں بندہ بشر نظر نہیں آتا تھا۔
متوسط طبقہ کی  آبادی میں چند نوجوان گلی کی نکڑ پر ایک بند دکان کے تھڑے پر آگ جلا کر گپیں ہانک رہے تھے کہ اچانک گلی سے "اُبالو گرم آنڈےےےے" کی آواز سنائی دی۔  شکل سے سنجیدہ اطوار نظر آنے والا لڑکا آواز سن کر چونک اٹھا۔ منہ پر انگلی رکھ کر سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ آواز دوبارہ آئی تو اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تمہیں بھی یہ آواز سنی ہوئی لگ رہی ہے؟ سب قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔ الٹی پی کیپ پہنے ایک لڑکے نے  کمر پر ہاتھ جماکر کہا کہ سیدھی طرح بول، انڈے کھانے ہیں۔ ڈرامے نہ کر۔
 اسی اثناء میں آواز قریب سے آئی اور سب چونک اٹھے۔ یہ آواز واقعی بہت سنی ہوئی لگ رہی تھی۔ ایک لڑکا جلدی سے اٹھا اور گرم انڈے والے شخص کو پاس بلایا۔ یہ ایک دراز قامت شخص تھا۔ جس نے سرخ رنگ کی کڑھائی والی گرم چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اس کا منہ بھی چادر میں چھپا ہوا تھا۔ پی کیپ والا بولا، چاچا یہ چادر چاچی کی لےکر آگیا ہے۔ سب ہنسنے لگے۔ اس شخص نے گرم انڈوں والا کولر نیچے رکھا،  چادر کی بکل درست کی اور کہا کہ تم نے انڈے لینے ہیں تو بولو۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔
اس شخص کی آواز میں ایک نامعلوم سا تحکم اور رعب تھا۔ سب نوجوان یکدم چپ سے ہوگئے۔ سنجیدہ اطوار لڑکا اٹھا  اور بولا کہ ایک درجن انڈے دے دیں، نمک ہے تو وہ بھی دے دیں۔ اس نے کولر کا ڈھکن کھولا ۔ درجن انڈے گنے۔ کرتے کی جیب سے کاغذ  اور نمک کی شیشی نکالی ۔ تھوڑا سا نمک کاغذ پر ڈالا اور اس کی پُڑی بنا کر نوجوان کو تھما دی۔ پیسے پوچھنے پر دراز قامت انڈہ فروش نے  کہا کہ 22 روپے کے حساب سے دے دیں۔ لڑکے حیران رہ گئے۔ ایک بولا کہ دوسرے لوگ تو کافی مہنگے بیچتے ہیں۔ آپ اتنے سستے کیوں دے رہے ہیں۔
یہ بات سن کر دراز قامت گرم انڈہ فروش نے چادر ایک جھٹکے سے اتار دی۔ سب نوجوان ششدر رہ گئے۔ وہ شخص  وزیر اعظم پاکستان تھے!
"دیکھو  ٹائیگرز! میں نے ساری زندگی کبھی کرپشن نہیں کی۔ یہ انڈے میری مرغیوں کے ہیں۔ میں جنگل سے لکڑیاں اکٹھی کرکے آگ جلا کر ان کو ابال لیتا ہوں۔  میرا ان پر کوئی خرچ نہیں آتا تو کیا میں ناجائز منافع کماؤں؟  تم حیران ہو رہے ہوگے کہ میں رات کے اس وقت گرم انڈے کیوں بیچ رہا ہوں۔ سچ بات  یہ ہے کہ تنخواہ میں گزارا نہیں ہورہا۔  ایک طریقہ تو یہ تھا کہ میں کرپشن کرتا۔ ساری چیزیں مہنگی کرتا۔ ان پر کمیشن کھاتا اور اربوں میں کھیلتا۔ لیکن میں لعنت بھیجتا ہوں ایسا کرنے والوں پر۔ میں نے  ہمیشہ رزقِ حلال کمانے کو ترجیح دی۔ رات نو بجے میری ڈیوٹی ختم ہوتی ہے۔ ساڑھے نو سے دو بجے تک میں انڈے بیچتاہوں۔ اس سے دو تین سو روپے کی بچت ہوجاتی ہے۔ اگلے دن کی ہانڈی روٹی کا بندوبست ہوجاتا ہے۔  میری صحت آرام نہ کرنے سے متاثر ہو رہی ہے لیکن میں اپنی جان پر تکلیف برداشت کرلوں گا اپنی قوم کو تکلیف نہیں پہنچنے دوں گا۔"
نوجوان حیران  ہو کر وزیر اعظم کی باتیں سن رہے تھے۔ ان کی گرجدار آواز سن کر گلی سے بھی لوگ نکل  کر آگئے۔ پوری گلی میں شور مچ گیا کہ وزیر اعظم گرم انڈے بیچنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم کے سارے انڈے پانچ منٹ میں ہی بک گئے۔ خواتین کو بھی پتہ چل چکا تھا۔ کوئی اپنے زیور لا رہی تھی، کوئی گرم چادر، کوئی جرسی اور کوئی اپنے خاوند کی جیب سے پیسے۔ سب چیزیں وزیر اعظم کے قدموں میں ڈھیر کی جارہی تھیں۔
سنجیدہ اطوار نوجوان نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا اور گویا ہوا، "اس شخص نے ساری زندگی ہمارے لیے قربان کر دی۔ یہ چاہتا تو دنیا کے کسی بھی کونے میں عیش و عشرت سے زندگی گزار سکتا تھا لیکن یہ آج اس سردی میں اس لیے گرم انڈے بیچ رہا ہے کہ ہم سکون سے سو سکیں۔ اس قوم نے پہلے بھی اس کی آواز پر لبیک کہا تھا۔ آج پھر وقت آگیا ہے کہ ہم اس کا ساتھ دیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ "وزیر اعظم فنڈ برائے یتیم خانہ" شروع کیا جائے جس میں ساری قوم عطیات اور چندہ جمع کرائے۔ ہمارے وزیر اعظم یتیم ہیں اور ان کی تنخواہ اتنی نہیں کہ گھر کا خرچہ چلا سکیں۔ ان سے زیادہ مستحق کون ہوسکتا ہے۔ ہمیں ان کو اتنا کچھ دینا ہوگا کہ گھر چلانے کی فکر سے آزاد ہو کر ملک چلا سکیں اور پاکستان کو ایک ایسی قوت بنا دیں کہ ساری دنیا ہم سے خوف کھائے۔"
وزیر اعظم گرم انڈوں کا کولر تھامے ایک طرف کھڑے نوجوان کی باتیں سن رہے تھے۔ آپ کے لبوں پر ہنسی اور آنکھوں میں چمک تھی!

رانا، مولانا اور ایسکوبار

یہ منظر لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا کے دارالحکومت بگوٹا کے مضافات میں واقع ایک وسیع فارم ہاؤس کا ہے۔ سوئمنگ پول کے کنارے چھتریوں کے نیچے میزیں انواع و اقسام کے مشروبات سے سجی  ہوئی ہیں۔  یہ فارم ہاؤس میڈلین کارٹل کے سربراہ ایل مانچو کا ہے جہاں وہ بیرونِ ملک سے آنے والے خاص مہمانوں کی خاطر تواضع اور بزنس سے جڑے معاملات کو دیکھتا ہے۔ آج یہاں ایک بہت خاص مہمان بہت دور سے آیا ہے۔ اس کا تعلق میڈلین کارٹل سے اس وقت سے ہے جب پابلو ایسکوبار زندہ تھا۔ میڈلین کارٹل پر اچھے برے وقت آتے رہے لیکن اس مہمان کا تعلق کبھی کمزور نہیں پڑا۔
یہ مہمان پاکستانی سیاست کا جانا پہچانا نام رانا ثناءاللہ ہے!۔
ہلکے رنگ کی پولو شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس سر پر تنکوں کا ہیٹ، کالے شیشوں کی عینک، ہاتھ میں ارغوانی مشروب کا جام اور منہ میں کیوبن سگار۔ یہ پاکستانی سیاست کا بڑا نام تو ہیں لیکن ان کی دوسری شناخت اتنی پراسرار اور چھپی ہوئی ہے کہ آج تک کوئی اس کا کھوج نہ لگا سکا تھا۔ یہ دہائیوں سے میڈلین کارٹل کے ساؤتھ ایشیا میں ایجنسی ہولڈر ہیں۔ 1993 میں جب نواز شریف کو حکومت سے نکالا گیا اور ان کے کاروبار زوال پذیر ہوئے تو انہیں اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے خطیر وسائل کی ضرورت پڑی۔ رانا صاحب اس وقت پی پی پی میں تھے۔ ان کو میاں صاحب کی اس ضرورت کا پتہ چلا تو جون 1993 کی ایک گرم شام کو وہ ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف سے ملے اور اپنی خدمات پیش کیں۔ باقی تاریخ ہے۔
ایل مانچو سے رانا ثناءاللہ کی ملاقات ایک خاص مشن  بارے تھی۔ دنیا بھر میں ڈرگ کا بزنس سی آئی اے اور موساد کے ذریعے ہوتا ہے۔ 2017 کے وسط میں مغربی ممالک  کے طاقت کے مراکز میں پریشانی کی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ انہیں علم ہوچکا تھا کہ پاکستان میں اگلی حکومت عمران خان کی ہوگی اور ان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں بیس سال پہلے یہ نتیجہ نکال چکی تھیں کہ اگر عمران خان کو اقتدار مل گیا تو اس دنیا میں ایک نیا ورلڈ آرڈر تشکیل پائے گا جسے مسلمان کنٹرول کریں گے اور عمران خان اسے لیڈ کریں گے۔ 2013 میں کامیابی سے انہوں نے عمران خان کا راستہ روک لیا تھا لیکن اس دفعہ پوری مسلم دنیا پوری تیاری کے ساتھ عمران خان کے ساتھ تھی۔  2018 کے انتخابات میں مغربی طاقتوں کے بدترین اندیشے درست ثابت ہوئے اور پوری کوشش کے باوجود عمران خان کا راستہ نہ روکا جا سکا اور عمران خان وزیر اعظم پاکستان بن گئے۔
اس موقع پر ایک نئے پلان کو بروئے کار لایا گیا۔ رانا ثناءاللہ کے ذریعے ڈرگ منی اربوں کے حساب سے پاکستان میں لائی گئی۔ اس کے ذریعے پاکستان کی ریاست اور عمران خان کی حکومت کے خلاف مہم شروع کی گئی۔  25 اکتوبر 2018 کو ایک اسرائیلی جہاز اسلام آباد ائیرپورٹ پر لینڈ ہو اتھا۔ اس جہاز میں 90 ارب ڈالر کی کرنسی پاکستان لائی گئی۔ جب تک اداروں کو بھنک پڑتی یہ کرنسی ٹریلرز کے ذریعے فیصل آباد منتقل کردی گئی اور جہاز واپس چلا گیا۔
جن ٹریلرز کے ذریعے یہ ڈالرز منتقل کیے گئے انہی میں سے ایک ٹریلر کے ڈرائیور کا ضمیر جاگ گیا۔ وہ فیصل آباد انٹی نارکوٹکس کے دفتر پہنچا اور ساری تفصیل من و عن بتا دی۔ اس ڈرائیور کو حفاظتی تحویل میں لے کر تفتیش کا آغاز کیا گیا ۔ دورانِ تفتیش سارے سرے رانا ثناءاللہ تک پہنچے۔ ان کی نگرانی شروع کردی گئی۔ بالآخر دو مہینے کی کڑی نگرانی کے بعد ان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ۔ رانا ثناءاللہ کی گرفتاری سے  پوری مغربی دنیا میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ ان کو نظر آنے لگا کہ اب پوری دنیا میں اسلام کے غلبہ کو روکنا ناممکن  ہے۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے اپنی خدمات پیش کر دیں!۔
مولانا مغربی طاقتوں کے ہمیشہ سے خاص دوست رہے ہیں اور ہر مشکل موقع پر انہوں نے اپنی وفاداری اور جانثاری ثابت کی۔  رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کے کچھ عرصہ بعد مولانا عمرے کا بہانہ کرکے تل ابیب پہنچے اور امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور اسرائیلی اعلی حکام سے تفصیلی ملاقاتیں کی۔ مولانا نے کہا کہ اگر انہیں مطلوبہ فنڈنگ فراہم کر دی جائے تو وہ عمران خان کی حکومت کو گرا سکتے ہیں اور ہمیشہ کی طرح مغربی طاقتوں کی دنیاپر اجارہ داری یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مولانا نے یقین دلایا کہ وہ ساری سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرسکتے ہیں  کیونکہ سب کرپٹ ہیں اور عمران خان نے ان کے بڑے رہنماؤں کو شکنجے میں کس دیا ہے اور وہ کسی بھی صورت ان کو نہیں چھوڑے گا۔ اگر ان کو ذرا سی بھی امید ہوئی کہ عمران خان سے چھٹکارا مل سکتا ہے تو وہ دل و جان سے میرا ساتھ دیں گے۔ چار دن جاری رہنے والی ملاقاتوں میں اس منصوبہ  کی جزئیات طے کی گئیں اور مولانا  کو ان کی ڈیمانڈ کے مطابق 36  ارب ڈالرز کی فنڈنگ فراہم کردی گئی ۔
 اس طرح آزادی مارچ کا آغاز ہوا۔