انصاف کا ترازو


یہ اکابرینِ ملّت اوربزرگانِ دین کا عکس ہیں۔ یہ ہارڈ ورک اور تقوی پر بیلیو کرتے ہیں۔ ان کی ساری لائف اونسٹی، پرہیزگاری، باکرداری اور رزقِ حلال پر بَیس ہے۔ یہ ورلڈ کپ جیت گئے۔ انہوں نے ہسپتال بنا دیا۔ یہ حمید گل سے ملے۔ وہ ایک جوہری تھے۔ انہوں نے پہچان لیا کہ یہی وہ شہسوار ہے جس کا ملّت اسلامیہ کو انتظار ہے۔ یہ سیاست میں آگئے۔ انہوں نے 22 سال سٹرگل کی۔ یہ آخر کار کامیاب ہوگئے۔ ان کی کامیابی کی داستان کسی ہالی ووڈ بلاک بسٹر سے کم نہیں۔ یہ داستان کسی اور وقت بیان کی جائے گی۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ یہ کیسے اپنے وعدے پورے کرتے ہیں۔
کچھ سال پہلے ازلی دشمن انڈیا کا ایک جاسوس کلبھوشن جادھو بلوچستان سے پکڑا گیا۔ یہ بہت ظالم اور مکار تھا۔ یہ وطن پاک میں دہشت گردی کراتا تھا۔ یہ معصوم پاکستانیوں کو قتل کردیتا تھا۔ یہ دھماکے کرکے پُل اور تنصیبات تباہ کردیتا تھا۔ بہت جدوجہد کے بعد اس کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد وہ ہوا جو نہایت دردناک ہے۔ اس وقت کی حکومت اور وزیر اعظم اس کو چھوڑنا چاہتے تھے۔ یہ پاکستانیوں کے خون کو بیچ کر انڈیا سے دوستی کرنا چاہتے تھے۔ یہ انڈیا کے سامنے سرنڈر کرنا چاہتے تھے۔ یہ کسی انٹرنیشنل فورم پر کلبھوشن جادھو کا نام نہیں لیتے تھے۔ یہ چاہتے تھے کہ اس سنگدل ، سفاک اور مکار دشمن کو رہا کردیا جائے۔ یہ سب مودی کے یار تھے۔ یہ پاکستان کے غدّار تھے۔ اس کڑے وقت پر جس نے آواز بلند کی وہ ہمارے موجودہ قائد ہیں۔ انہوں نے اس دشمن کو سنگین ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا لیکن مودی کے یاروں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ یہ جرات مندانہ کام کرسکیں۔ یہ دشمن اتنے سال پاکستانیوں کے پیسوں پر پَلتا رہا۔ یہ جیل میں مفت کی روٹیاں توڑتا رہا۔ یہ خالص غذا کھا کے موٹا بھی ہوگیا۔ اس کے چہرے پر روپ بھی آگیا۔
آخرکار جنرل حمید گل کی پیشگوئی 25 جولائی کو پوری ہوئی۔ وہ شہسوار جس کا انتظار پوری ملّت اسلامیہ کو تھا وہ اسلام کے قلعے کا کماندار بن گیا۔ فرش و عرش پر اس فتح کا جشن منایا گیا۔ قدسی نفوس اس جشن میں پیش پیش تھے۔ قلعے کی کمان سنبھالتے ہی اس رات قائد جیل میں پہنچے۔یہ شام کو جاگنگ کا بہانہ کرکے نکلے۔ پی کیپ الٹی کرکے پہنی، کالی عینک لگائی اور بھیس بدل کر جیلر کے کمرے میں پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے کیپ اور عینک اتاری تو جیلر کو پتہ چلا کہ یہ قائد ہیں۔ وہ آپ کی اس سادگی پر مبہوت رہ گیا۔ اس نے دریافت کیا کہ میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے کلبھوشن کی کوٹھڑی تک لے جاؤ۔ اس وقت تک جیل میں خبر پھیل گئی کہ قائد تشریف لائے ہیں۔ پوری جیل نعرۂ تکبیر سے گونج اٹھی۔ آپ جیل میں جہاں جہاں سے گزرے وہاں قیدیوں نے  "مَانَا آیا، مَانَا آیا"کے نعروں سے آپ کا استقبال کیا۔
اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے کلبھوشن کو پتہ چل گیا کہ وہ ہوگیا ہے جس اندیشہ پوری دنیا کے کفّار کو تھا۔قائد اسلامی قلعے کے کماندار بن گئے ہیں۔ یہ ڈر گیا۔ یہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔ اسی اثناء میں قائد، جیلر کے ساتھ کلبھوشن کے کوٹھڑی کے سامنے پہنچ گئے۔ آپ نے جیلر سے کہا کہ کوٹھڑی کا دروازہ کھولو۔ دروازہ کھلا، آپ اندر داخل ہوئے ۔ دروازہ بند کیا اور جیلر کو لاک کرنے کا کہا۔ کلبھوشن جان گیا تھا کہ اب اس کی زندگی چند ثانیوں کی مہمان ہے۔ آپ نے کلبھوشن کو للکارا، "اوئے۔۔۔ دشمنِ اسلام و پاکستان، کھڑا ہوجا، تیری موت کا وقت آگیا ہے۔"
کلبھوشن ایک اعلی تربیت یافتہ جاسوس اور کمانڈو تھا۔ اس نے دیکھا کہ دروازہ لاک ہے اور قائد اکیلے ہیں۔ اس نے ایک دم چھلانگ لگائی۔ ہوا میں 180 ڈگری  گھوم کر فلائنگ کِک لگائی۔ قائد نے بائیں ہاتھ کی جنبش سے فلائنگ کِک بلاک کی۔ اوپری جسم کو دائیں طرف جھکایا اور دائیں ہاتھ کی کھڑی ہتھیلی سے کلبھوشن کی ٹانگ پر وار کیا۔ کڑک کی آواز آئی اور کلبھوشن کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ وہ کراہتا ہوا اٹھا اور ایک ٹانگ پر گھوم کربائیں طرف جھکائی دی تاکہ دائیں طرف سے قائد کی پسلیوں پر کھڑی ہتھیلی کا وار کرکے دل کو جانے والی مرکزی شریان کو بلاک کردے۔ یہ مارشل آرٹس کا خطرناک ترین داؤ ہے جسے سنگ ہی سپیشل کہتے ہیں۔ پوری دنیا میں اس داؤ کو لگانے والے صرف تین افراد ہیں۔ کلبھوشن یہ نہیں جانتا تھا کہ قائد بھی اس داؤ سے واقف ہیں۔ قائدتھوڑا سا دائیں طرف جھکے، کلبھوشن کے دائیں ہاتھ کو بلاک کیا اور اس کی بغل کے نیچے ہاتھ دے کر اسے سامنے والی دیوار پر دے مارا۔ کلبھوشن کا چہرہ اور سر دائیں طرف سے پچک گیا۔ مغز کے ٹکڑے اچھل کر دیوار پر چپک گئے۔ کلبھوشن میں ابھی جان باقی تھی۔ قائد نے کلبھوشن کی گردن کے گرد آرم لاک لگاکے جھٹکا دیا۔ کڑک کی آواز آئی اور گردن کی ہڈّی ٹوٹ گئی۔ اس کے ساتھ کلبھوشن جادھو جہنم رسید ہوگیا۔  قائد نے ٹی شرٹ کے دامن سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔ جیلر نے دروازہ کھولا اور کلبھوشن کو مردہ حالت میں دیکھ کر نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ قائد نے جیلر کو ہدایت کی کہ اس کی نعش یہیں پڑی رہنے دے۔
اگلی صبح قائد، خاتونِ اوّل کے ساتھ دوبارہ جیل آئے۔ کلبھوشن کی کوٹھڑی میں گئے۔ خاتونِ اوّل نے چند عملیات پڑھ کے کلبھوشن جادھو کی طرف پھونک ماری تو وہ کھانستا ہوا اٹھ بیٹھا۔ قائد نے کلبھوشن کو گردن سے پکڑ کر کھڑا کیا۔ اس کے منہ پر الٹے ہاتھ کا تھپّڑ رسید کیا اور کہا، "تم نے سینکڑوں معصوم پاکستانیوں کا خون کیا ہے۔ تمہیں اتنی آسان موت نہیں ملے گی۔ ہر رات میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے جہنم رسید کروں گا اور اگلی صبح خاتونِ اوّل تمہیں زندہ کریں گی۔ پانچ سال تمہیں ہر روز جینا اور ہرروز مرنا پڑے گا۔ یہ میرا انصاف ہے۔ "

وکّی پرنس، سموسے اور ساجدہ

یہ زندگی سے مایوس ہوچکے تھے۔ ان کی لائف ڈپریسنگ اور پین فُل ہوچکی تھی۔ ایک ایک کرکے ان کی زندگی کی تمام خوشیاں، غموں میں بدل گئی تھیں۔ یہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے، وہ کَم سے کَڑم بن  جاتا۔ ان کا سموسوں کا بزنس تباہ ہوگیا۔ ان کی ریڑھی کے بالکل سامنے ایک اور بندے نے ریڑھی لگا لی۔ وہ آدھی قیمت پر سموسے بیچنے لگا۔ اس کے سموسوں میں آلو بھی زیادہ ہوتے۔ وہ چٹنی بھی زیادہ ڈال کے دیتا۔ دوسری دفعہ چٹنی مانگنے پر بھی منہ نہ بناتا۔ وہ سموسوں پر چھولے بھی ڈالتا۔ اس کی ریڑھی چل گئی۔ وکّی پرنس کی ریڑھی کا ریڑھ نکل گیا۔
یہ وکّی پرنس کی کہانی ہے۔ یہ فلمی ہیرو بننا چاہتے تھے۔ یہ کترینہ کیف کے ساتھ ڈانَس کرنا چاہتے تھے۔ یہ ان کی پَپیاں لینا چاہتے تھے۔ ان کے ساتھ گانے پکچرائز کرانا چاہتے تھے لیکن یہ بیس سال کی عمر میں ہی گنجے ہوگئے۔ ہیرو بننے کی چکر میں اعلی تعلیم بھی حاصل نہ کرسکے اور گورنمنٹ مڈل سکول، کھوتیانوالہ سے ساتویں جماعت تک اعلی تعلیم حاصل کی۔ ان کے فادر بہت سخت انسان تھے۔ یہ ان کو ہاکیوں، ڈنڈوں اور جوتوں سے پھینٹا لگاتے تھے۔ یہ ان کو ہڈ حرام، نکمّا، کام چور کہتے تھے۔ ایک صبح وکّی پرنس سوکے اٹھے تو ان کی لائف بدل چکی تھی۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ دنیا اور اپنے فادر کو کچھ بن کے دکھائیں گے۔ انہوں نے ریسرچ کی۔ انہیں پتہ چلا کہ کھوتیانوالہ میں اچھے سموسے نہیں ملتے۔ لوگ سموسے لینے بیس کلو میٹر دور جاتے ہیں۔ واپس آنے تک سموسے ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔ ان کا مزا نہیں آتا۔ وکّی پرنس نے سموسوں کی ریڑھی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔
تین دن بعد کھوتیانوالہ کے مین بازار میں ' وکّی پرنس سموسہ مارٹ' کے نام سے انہوں نے بزنس شروع کیا۔ پہلے دن ہی 347 سموسے بِک گئے۔ ان کو دو ہزار روپیہ بچ گیا۔ پرنس خوش ہوگئے۔ انہوں نے  گھر جاتے ہوئے اللہ ہو سویٹ شاپ سے دو کلو جلیبیاں اور ساقے وڑائچ سے سو گرام چرس  خریدی۔ پرنس کے فادر شام ڈھلتے ہی چرس کا جوڑا بناکر نوش کرتے تھے۔ یہ جب گھر پہنچے تو ان کا ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا۔ پرنس کے فادر چرس دیکھ کے نہال ہوگئے۔ یہ پرنس کی محنت اور ڈیڈیکیشن کے قائل ہوگئے۔ انہوں نے عہد کیا کہ آئندہ کبھی وکّی پرنس کو 'سن آف آ بِچ' نہیں کہیں گے۔ یہ پرنس کی عزت کریں گے۔ یہ ان سے پیار بھی کرنے کی کوشش کریں گے۔
وکّی پرنس کی دن رات کی محنت رنگ لائی۔ یہ روزانہ سات، آٹھ سو تک سموسے بیچنے لگے۔ انہوں نے اچھی سی وگ بھی لے لی۔ یہ کاٹن کا مائع والا سوٹ بھی پہننے لگے۔ یہ جمعے والے دن میٹھا پان بھی کھانے لگے۔ ساجدہ  ان کی ہمسائی تھی۔ یہ ان کو بالکل لفٹ نہیں کراتی تھی۔ یہ ان کو گنجا  گنجا کہتی تھی۔ چھٹی جماعت سے ہی پرنس، ساجدہ پر فدا تھے لیکن آج تک ساجدہ نے پرنس سے سیدھے منہ بات نہیں کی تھی۔ سموسوں کا کرشمہ ایسا ہوا کہ ساجدہ  ان کو وٹس ایپ پر دل بنا کر بھیجنے لگی۔ ساجدہ نے پرنس کو بغیر دوپٹے والی سیلفیاں بھی بھیجیں۔ یہ پرنس پر فدا ہوگئی۔ اس نے پرنس کو فیس بک پر بھی ایڈ کرلیا۔ ساجدہ کی فیس بک آئی ڈی سحر یار خان تھی۔ پرنس دو سال سے اس کو فرینڈ ریکویسٹ بھیج رہے تھے لیکن یہ ایکسپٹ نہیں کرتی تھیں۔ اب یہ رات کو دیر تک ویڈیو چیٹ بھی کرنے لگے۔ پرنس کی زندگی ایک آئیڈیل لائف بن چکی تھی۔ یہ ماضی کی تلخیاں بھلا کر حال میں زندگی کو انجائے کر رہے تھے کہ
اچانک
سموسوں کی نئی ریڑھی آگئی۔ یہ ان کی زندگی میں المیے اور سیڈ نیس کی ابتداء تھی۔ بزنس ٹھپ ہوا تو ساجدہ دوبارہ ان کو گنجا کہنے لگی۔ فادر نے پڑچھتی پر پڑی ہوئی ہاکی دوبارہ نکال لی اور ہر دوسرے دن پرنس کے آلریڈی سِکے ہوئے کُھنّے سیکنے لگے۔ وکّی پرنس کی لائف میں سوائے ڈپریشن، مِزری اور سیڈ نیس کے کچھ باقی نہ رہا۔ ایک صبح وہ اٹھے اور فیصلہ کیا کہ آج ان کی لائف کا فائنل ڈے ہوگا۔ یہ آج  سوسائیڈ کرلیں گے۔ یہ مین بازار سے نان چھولوں کا ناشتہ کرکے کھیتوں کی طرف نکل گئے۔ یہ کافی دیر بے خودی کے عالم میں چلتے رہے۔ اچانک انہیں ایک درخت کے نیچے سبز پوش بزرگ بیٹھے نظر آئے۔ بزرگ نے اشارے سے پرنس کو اپنی طرف بلایا۔ پرنس سے انکار نہ ہوسکا۔ یہ بے اختیار بزرگ کی طرف کھنچتے چلے گئے۔ یہ ان کے پاس جا کے بیٹھ گئے۔ بزرگ نے اپنے چولے میں ہاتھ ڈالا اور چرس کا جوڑا نکال کے سلگایا ۔ ایک طویل کش لے کر اسے وکّی پرنس کی طرف بڑھادیا۔ پرنس نے بسم اللہ کہہ کے پکڑا ۔ کش لگایا۔ دھواں بابا جی کے چہرے پر چھوڑا۔ بابا جی ہولے سے مسکرائے اور یوں مخاطب ہوئے۔
'میرے بچے! مجھے علم ہے تم بہت پریشان ہو۔ تم بہت ڈپریس ہو۔ تم آج آتم ہتّیا کرنے یہاں آئے ہو۔ میں تمہیں روکوں گا نہیں۔ سوسائیڈ کرنے سے پہلے میری ایک بات سن لو۔'
وکّی پرنس نے اثبات میں سرہلایا۔ بزرگ دوبارہ گویا ہوئے۔ یہ کہنے لگے۔ایک سادہ سا عمل ہے لیکن اس کے اثرات اور فوائد مجرّب ہیں۔ عمل یوں ہے کہ غسل کرکے صاف کپڑے پہنیں۔ قبلہ رخ ہو کے دو زانو بیٹھ جائیں۔ اپنا موبائیل نکالیں۔ ڈیٹا آن کریں۔ یو ٹیوب کھولیں۔ '92 ورلڈ کپ فائنل ہائی لائٹس' سرچ کریں اور جھلکیاں دیکھنی شروع کردیں۔ جھلکیاں پوری ختم نہیں ہوں گی کہ آپ کا ڈپریشن، سیڈنیس سب ختم ہوجائے گا۔ آپ دوبارہ سے اس لائف اور اس کی دلچسپیوں کو انجائے کرنے لگیں گے۔ آپ کے اندر مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کرنے کی ہمّت آجائے گی۔ آپ دوبارہ کامیاب ہوجائیں گے۔ ساجدہ دوبارہ آپ کو وٹس ایپ پر دل اور بغیر دوپٹے والی سیلفیاں بھیجنے لگے گی۔ آپ بس ایک دفعہ اس کو ٹرائی ضرور کریں۔
وکّی پرنس اٹھے۔ بزرگ  کا ہا تھ چوما۔ چرس کے جوڑے کا شکریہ ادا کیا اور واپس کھوتیانوالے کی طرف چل دئیے۔ ان کی چال میں ایک عزم، حوصلہ اور ڈیڈیکیشن تھی!

ڈیم، چندہ اور لعنتی


ارض و سما کے فیصلے گاہے اتنے سہل ہوتے ہیں کہ درویش تو کیا عامی بھی ظاہری آنکھ سے ان کو دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی جائے اور قنوطیت پرستوں کو امیّد دلائے۔
ربع صدی کا قصّہ ہے۔ درویش کے آستانے پر حاضری کا وقت ابھی دورتھا۔ چیچو کی مَلیاں وہ دھرتی جس نے خالو خلیل جیسے بطلِ جلیل کو جنم دیا۔ جھلستی جولائی کی ایک سہ پہر طالبعلم وہاں پہنچا تو چیل، ماس اور کتا، ہڈّی چھوڑ چکا تھا۔ خالو کا دَر کھٹکھٹایا، چوخانے کا تہہ بند ڈاٹے، کندہ ناتراش جس کو تہوتی کہتے ہیں، خالو باہر آئے۔ طالبعلم کو سامنے پایا۔ فرطِ مسرّت سے گلے لگانے کو بڑھے تو تہہ بند ڈھیلا ہو کر کششِ ثقل کو سچ ثابت کرنے لگا تھا کہ ہوش غالب آیا۔ تہہ بند سنبھالا۔ اور طالبعلم کو وہ سبق دیا جو آج بھی اس کا ذہن روشن اور دل منوّر کرتا ہے۔ "چھیدے! گل کردے  ہوئے زبان تے جوش اچ جسم قابوچ ناں رہوے تے بندہ ننگ پڑنگ ہوجانداای"۔ باقی تاریخ ہے۔
مردِ جری جنرل ایّوب کہ دشمن جس سے تھر تھر کانپتا تھا۔ امریکہ کے دورے پر گئے تو امریکہ کا صدر تاریخ میں پہلی دفعہ ہوائی مستقر پر ان کے استقبال کو پہنچا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ امریکہ کی خاتون اوّل، مردِ وجیہہ کو دیکھتے ہی دل ہار گئیں۔ ایسی خوبصورتی، ایسی وجاہت، ایسا دبدبہ۔ اقبالؔ کا مثالی مردِ مومن، دو نیِم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا۔۔۔سمٹ کر  حیا سے اپسرا یوں لجائی۔۔۔ اللہ اکبر۔ مغرب کے دریوزہ گر آج اس قلندر پہ زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔ فاطمہ جناح میں سوائے قائدِ اعظم کی ہمشیرہ ہونے کے کیا خوبی تھی؟ غفار خان،  مجیب الرحمن جیسے وطن دشمنوں کے ساتھ ان کا اتحاد۔ قائد بھی بی ڈی ممبر ہوتے تو ہمشیرہ کی بجائے جنرل ایّوب کو ووٹ دیتے۔وہ شخص کہ پچھلے دوسو سال میں مسلم دنیا اس کا ہمسَر پیدا نہ کرسکی، کیا وہ موروثی سیاست کا حامی ہوتا؟ الحذر۔۔ الحذر۔۔۔ بہتان ہے یہ صریح بہتان۔۔ کذب و ریا جن کا شیوہ ہے، ایسی دریدہ دہنی انہیں کو مبارک۔
جنرل ایّوب کی فراست، مردِ مومن کی فراست تھی۔ صدیوں کا منظر نامہ ان کے سامنے کھلی کتاب کی طرح تھا۔ اس وقت ڈیم بنانے کا بِیڑا اٹھایا جب کوتاہ بین فاؤنڈریاں لگانے میں مشغول تھے۔ این جی اوز مافیا آج چلاّتی ہے کہ پنجاب کے تین دریا ہندوستان کو بیچ دئیے۔ جھوٹ حضورِ والا، سفید جھوٹ۔ تین بیچے نہیں بلکہ تین دریا ہندوستان سے حاصل کرلئے۔ بڑے اور زیادہ پانی والے دریا۔ راوی میں تو کبھی آج تک پانی دیکھا نہیں۔ یہی حال ستلج اور بیاس کا ہے۔ تو کیا یہ خشک دریا لے کر پانی والے ہندوستان کو دے دیتے؟ لوگ مگر غور نہیں کرتے۔ تعصّب و نفرت سے ذہن و دل کو آلودہ رکھتے ہیں۔ سامنے کی بات وہ سمجھ نہیں سکتے، دیکھ نہیں سکتے۔ جیسا باری تعالی فرماتے ہیں ، مفہوم کہ دلوں پر مہُریں لگ جاتی ہیں۔
کیا اس قوم کی مناجات کا کبھی جواب نہیں آئے گا؟ کیا خالق اپنی مخلوق سے بے نیاز ہوگیا ہے۔ ہرگز نہیں۔ خدائے لم یزل ہم پر مہربان ہے۔ جنرل ایوّب جیسے مردِ جری کے بعد اب اس نے ہمیں جسٹس صاحب جیسا مردِ ذکی عطا کیا ہے۔ کیا وہ وقت آن لگا ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟ کیا یہی وہ شہسوار ہے جو قرنوں بعد کسی قوم کو عطا ہوتا ہے؟قرائن بتاتے ہیں کہ ہاں! یہی وہ شہسوار ہے جس کا درویشوں اور اللہ کے نیک لوگوں کو انتظار تھا۔ یہی ہے وہ مردِ شجیع جس کے آنے کی خبر اہلِ نظر صدیوں سے دیتے آئے ہیں۔ ادبار کے دن لَد چکے۔ ایک روشن صبح ہماری منتظر ہے۔
ایک ہفتہ ادھر کپتان سے ملاقات رہی۔ ہمیشہ کی طرح بشّاش۔ دیسی گھی میں پکی دیسی مرغی کی ٹانگ بھنبھوڑتے ہوئے ، قرونِ وسطی کا کوئی جنگجو لگ رہا تھا۔ اس کا جدّ اعلی چنگیز خان، جو ایک صحرا سے اٹھا اور پوری دنیا پر بگولے کی طرح چھا گیا ،  اس کی طبیعت بھی ایسی ہی سادہ تھی۔ اسی کی نسل سے رب کریم نے اسلام کو چار دانگِ عالم پھیلانے کا کام لیا۔ طعام سے فراغت کے بعد قہوے کا دَور چلا۔ موضوع وہی پانی کی کمیابی اور جسٹس صاحب کا ڈیم بنانے کا عزم تھا۔ طالبعلم متجسس تھا کہ کپتان نے اس عظیم کام میں کتنا حصہ ڈالا ہے، جسٹس صاحب کے ڈیم اکاؤنٹ میں کتنے پیسے عطیہ کئے۔ دریافت کیا تو کپتان مخصوص انداز میں دھیمے سے مسکرایا  اور بولا، "چھیدے۔۔۔ منگتیاں کولوں منگنا لعنتیاں دا کَم اے۔" فئیر اینف حضورِ والا، فئیر اینف۔
ارض و سما کے فیصلے گاہے اتنے سہل ہوتے ہیں کہ درویش تو کیا عامی بھی ظاہری آنکھ سے ان کو دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی جائے اور قنوطیت پرستوں کو امیّد دلائے۔

منشور بلا فصل

 روزگار کی یقینی فراہمی:-
اقتدار میں آنے کے ایک ہفتے کے اندر اندر ایک کروڑ نوکریاں دی جائیں گی۔ایک مومن 70 کفار پر بھاری ہوتا ہے تو ایک کروڑ مومنین کی نیٹ پاور ستّر کروڑ کافروں کے برابر ہوگی۔ ان سے جو کام لیا جائے گا وہ بھی دورِ جدید کا ایک سائنسی /ایمانی معجزہ ہوگا۔ یہ سب ملازمین مل کر پاکستان کو دھکا لگائیں گے اور  کینیڈا کے پاس لے جائیں گے۔ ہمارے سائنسی ماہرین کے مطابق اس کام میں تقریبا سترہ گھنٹے، چوّن منٹ اور بتّیس سیکنڈ لگیں گے۔ دو سے تین سیکنڈز کا فرق پڑ سکتا ہے۔
جناب چئیرمین صاحب پہلے ہی کینیڈین پی ایم سے بات کر چکے ہیں اور چونکہ وہ بھی چئیرمین صاحب کے پرستار ہیں لہذا انہوں نے بخوشی اجازت دے دی ہے کہ پاکستان کو کینیڈا کا پڑوسی بنا لیا جائے۔ پاکستان کو درپیش مسائل میں سب سے سنگین بے روزگاری، پانی کی کمی اور ماحولیاتی آلودگی  ہیں۔ گرمی بھی بہت ہوتی ہے۔ جس سے سب لوگ پنکھے، اے سی وغیرہ چلاتے ہیں۔ بجلی زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ اس کے لئے نئے پاور پلانٹس لگانے پڑتے ہیں۔ جن میں کرپٹ لوگ کمیشن کھاتے ہیں۔ اس ایک فیصلے سے یہ سارے مسائل چشم زدن میں حل ہوجائیں گے۔ یہ ہوتا ہے لیڈر اور یہ ہوتا ہے وژن۔
انصاف پیالے میں:-
پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا لیکن اس میں آج تک کوئی بھی مومن/مجاہد حکمران نہیں بنا۔ ہم اقتدار میں آئیں گے تو یہ پہلی جماعت ہوگی جو پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلام کا قلعہ بنائے گی۔ قیامِ پاکستان کے وقت مسلم جنّوں نے بھی تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا لیکن بعد میں کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے سارے مسلم جن بددل ہو کر سائیڈ پر ہوگئے۔ جیسا آپ جانتے ہیں کہ چئیرمین صاحب کے گھروالے روحانی/اجنانی معاملات میں ولایت کے مقام پر فائز ہیں تو پاکستان کو جدید ترقی یافتہ اسلامی قلعہ بنانے میں مسلم پاکستانی جنّوں کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔ تجویز ہے کہ تمام عدالتوں میں جنّ حضرات و خواتین کو جج مقرر کیا جائے۔ جو بھی عدالت میں جھوٹ بولے گا محترم جج اس کو چمڑّ جائیں گے۔ لہذا کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ غلط بیانی کرسکے۔اس سے انصاف کی جلد اور بالکل مفت فراہمی یقینی ہوگی۔ ایک اور بڑا مسئلہ  دہشت گردی  ہے۔ اس پر قابو پانے کے لئے ہر شہر میں اربوں خرچ کرکے کیمرے لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ چئیر مین صاحب اس پیالے کی کلوننگ کروالیں گے جو گھر والے اپنے ساتھ لائے تھے۔ اس پیالے سے پوری دنیا کی مانیٹرنگ آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ بعض کیسز میں نیّت کا کھوٹ بھی اس پیالے میں ظاہر ہوجاتا ہے۔ یہ پیالے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حوالے کردئیے جائیں گے جس سےواردات سے پہلے ہی مجرم پکڑے جائیں گے۔
رہائشی سہولیات اور بیرونی قرضے سے نجات:-
پاکستان کے ہر شہری کے لئے گھر فراہم کیا جائے گا۔ وژن سے عاری لوگ تنقید کررہے ہیں کہ اس کے لئے فنڈز کہاں سے آئیں گے۔ یہ اعتراض بے وزن  ہے۔ ہماری معاشی ماہرین کی ٹیم آؤٹ آف دا باکس سلیوشنز پر یقین رکھتی ہے۔ پاکستان کی آبادی 22 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ ہر شہری روزانہ ایک روپیہ حکومت کو چندہ دے گا۔ بیرون ملک پاکستانی اور مخیّر حضرات ظاہر ہے ایک روپے کی بجائے ہزار یا لاکھ روپیہ دیں گے کیونکہ ان کو حکومت پر اعتماد ہوگا۔ لہذا روزانہ تقریبا 5 ارب روپیہ اکٹھا ہوگا۔ پانچ مرلے کے ایک مکان کی لاگت 50 لاکھ بھی لگائی جائے توروزانہ ایک ہزار گھر تعمیر ہوں گے۔ جن لوگوں کو گھر مل جائیں گے وہ ان کا کوئی پورشن کرائے پر اٹھا کر آمدنی میں اضافہ کرسکیں گے اور روزانہ چندے کی مَد میں زیادہ رقم دیں گے۔ ہمارے معاشی ماہرین کے مطابق چھ مہینے بعد روزانہ 70 ارب روپیہ اس مَد میں اکٹھا ہوگا۔ سب شہریوں کو رہائش کی سہولیات فراہم کرنے کے بعد اس چندے کا سلسلہ جاری رہے گا اوراس  سے چند مہینوں میں ہی بیرونی قرضے سے نجات مل جائے گی۔
تعلیمی انقلاب:-
تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ جدید سائنسی تحقیق (حوالے کے لئے 'انسپشن' ملاحظہ ہو) ثابت کرچکی ہے کہ عالمِ رویاء (خوابوں کی دنیا) کا ایک منٹ بیداری کے دس دن کے برابر ہوتا ہے۔ دنیاوی تعلیم میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر بننے میں پندرہ بیس سال لگتے ہیں ۔ ہماری حکومت اس ضمن میں انقلابی اقدامات کرے گی۔ سکول، کالجز، یونیورسٹیز وغیرہ پر پیسہ اور وقت ضائع کرنے کی بجائے عالمِ رویاء میں تعلیم دی جائے گی۔ اس کے لئے مؤکلین کی کثیر تعداد ہمارے پاس موجود ہے۔ جو ڈاکٹر بیس سال میں بنتا ہے وہ صرف ایک مہینے میں بن جائے گا۔پاکستان کا ہر شہری تمام دنیاوی علوم کا ماہر ہوگا کیونکہ عالمِ رویاء میں وقت اور علم کی حد کی کوئی قید نہیں ہوگی۔  وہ آپریشن بھی کرسکے گا اور پُل بھی بناسکے گا۔ روحانی مکاشفے بھی کرسکے گا اور پنکچر بھی لگا سکے گا۔ خلائی جہاز بھی بنا سکے گا اور تانگہ بھی چلا سکے گا۔ ہالی ووڈ والے جو سُپر ہیروز اپنی فلموں میں دکھاتے ہیں وہ پاکستان میں حقیقی صورت میں نظر آئیں گے۔اقبالؔ کے مردِ مومن اور شاہین کا تصور بھی ایسا ہی انسان تھا۔ ہم انشاءاللہ اس تصور کو عملی جامہ پہنائیں گے۔

ایمان اور خاتمہ


جھنگ بازار کے آبائی مکان سے ہجرت کرکے طارق روڈ (فیصل آباد میں بھی طارق روڈ ہے!) پر شفٹ ہوئے تو فدوی بہت کم عمر تھا۔ سکول جانا شروع ہی کیا تھا۔ ابو جی صبح تڑکے اٹھنے کے عادی ہیں۔ ہمیں بھی اسی وقت اٹھنا پڑتا۔ فجر کی نماز مسجد میں ان کے ساتھ جا کے پڑھتے۔ پھر صبح کی سیر کے لئے زرعی یونیورسٹی جاتے۔ سردی ہو یا گرمی اس معمول میں خلل نہیں آتا تھا۔  جمعہ کی نماز کے لئے خاص اہتمام ہوتا۔ ڈی ٹائپ کالونی میں مولوی یوسف کی مسجد میں بھی جانا یاد ہے۔ مسجد میں  تقریر شروع ہونے سے پہلے پہنچتے تھے۔ اس عمر میں زیادہ باتیں سمجھ تو نہیں آتی تھیں لیکن حاضرین کے جوش و خروش سے اندازہ ہوتا تھا کہ ضرور کوئی بہت اچھی باتیں ہورہی ہیں۔
پرائمری سے ہائی سکول میں پہنچے تو جمعہ کی نماز کے لئے جامع مسجد جناح کالونی میں جانا معمول ہوگیا۔ مولانا اشرف ہمدانی وہاں جمعہ کا خطبہ دیا کرتے۔ دور و نزدیک سے لوگ ان کی تقریر سننے آتے۔ ان کا تعلق شاید ملتان سے تھا۔ بہت عمدہ تلاوت کرتے تھے۔ گرج دار آواز، فصیح اردو  جس میں کبھی کبھار رواں سرائیکی تڑکے والی پنجابی بھی شامل ہوجاتی تھی۔ پونے ایک جماعت کھڑی ہوتی جبکہ عین ساڑھے گیارہ مولانا منبر سنبھال لیتے تھے۔ خطیب حضرات کے موضوعات سارا سال بدلتے رہتے ہیں لیکن کچھ موضوعات مستقل ہوتے ہیں۔ مولانا اشرف ہمدانی کے بھی دو موضوعات مستقل تھے۔ ختم نبوت اور ناموس صحابہ۔ جس جمعہ کو ان کا خطبہ ان میں سے کسی پر مشتمل ہوتا اس دن نمازیوں کا جوش و خروش دیکھنے لائق ہوتا۔ پوری مسجد نعرۂ تکبیر سے گونجتی رہتی۔ مولانا کی زبان سے ہی پہلی دفعہ ہم نے سنا کہ شیعہ حضرات اس تمام کائنات کے بدترین کافر ہیں۔ اس سے پہلے ہم انہیں عام سا کافر ہی سمجھتے تھے۔ محرّم کے دنوں میں مولانا کا جذبہ فزوں تر ہوتا۔ شیعہ حضرات کے صحابہ سے متعلق مبینہ عقائد بیان کرکے خود بھی روتے، حاضرین کو بھی رلاتے ۔
احمدی/قادیانی احباب سے متعلق ان کا مؤقف یہی ہوتاکہ ان کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔ سچی بات ہے اس وقت ہمیں کلیدی آسامی ٹریفک کانسٹیبل کی ہی لگتی تھی  جو کسی بھی وقت کسی کو بھی روک سکتا تھا اور اس کا چالان کرسکتا تھا۔ ہم کافی حیران ہوتے تھے کہ یہ احباب آخر ٹریفک کانسٹیبل ہی کیوں بھرتی ہوتے ہیں اور مولانا کی ٹویوٹا کرولا مارک ٹُو کا چالان کیوں کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ہمیں کبھی نہیں مل سکا۔ مولانا ایک ہستی کا نام لے کے خصوصی ذکر کیا کرتے جو شاید ڈی ایس پی تھے اور ان کا نام حمید اللہ قریشی تھا۔ ان کے خلاف امت مسلمہ میں تفرقہ ڈالنے، ظلم کرنے اور رشوت خوری کے الزامات لگاتے تھے اور حکام بالا سے ان کو برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ دسویں جماعت تک ہم ان کا یہ مطالبہ سنتے رہے۔ شاید حکام بالا بھی ٹریفک کانسٹیبلز سے ڈرتے تھے کہ کہیں ان کا چالان نہ کردیں اس لئے کبھی ان کی برطرفی کی خبر نہیں آئی۔
سچی بات ہے کہ ہم شیعہ احباب کو شدید قسم کا کافر سمجھتے تھے لیکن ان میں سے اپنے دو دوستوں اور ان کے اماں ابا اور بہن بھائیوں کو مستثنی سمجھتے۔ ہمارا خیال تھا کہ ایک دن وہ ہمارے نسیم حجازیانہ مردِ مومن والے کردار سے متاثر ہو کر اصلی اور سچے، سعودی مُہر والے مسلمان بن جائیں گے ویسے بھی ہم سوچتے تھے کہ شانی کی امی اتنی اچھی ہیں تو وہ کیسے کافر ہوسکتی ہیں؟ اس معاملے پر پھر ہم زیادہ غور نہیں کرتے تھے کہ اس سے ہمارے بنیادی عقائد کے مقابل بہت سے سوال کھڑے ہوجاتے تھے اور ہم نے مولانا اشرف ہمدانی کی رقّت آمیز دعاؤں میں یہ دعا خاص طور پر نوٹ کی ہوئی تھی کہ یااللہ! خاتمہ ایمان پر کرنا۔ تو ہم ان سوالوں پر غور کرکے اپنا عقیدہ خراب نہیں کرنا چاہتے تھے کہ مبادا خاتمہ ایمان پر نہ ہو۔
فلموں ، رسالوں، ڈائجسٹوں، اخباروں، کتابوں سے ہماری دلچسپی اتنی ہی پرانی ہے جتنی پرانی ہماری یادداشت ہے۔ پہلے پہل جب ہم نے انجمن سپاہ صحابہ کا نام سنا تو ہمارے ذہن میں سلطان راہی والی انجمن ہی آئیں۔ اس عمر میں ہمیں ان دونوں اقسام کی انجمنوں کے خصائل کا علم نہیں تھا۔ وہ تو بڑے ہونے پر پتہ چلا کہ دونوں ہی دین و ایمان کے لئے مہلک ہیں۔ عنفوان شباب میں جب ہم صائمہ (سیّد نور والی) کی محبّت میں مبتلا ہوئے تو ہمیں انجمن کی قدر اور مقدار کا پتہ چلا اور یہ بھی علم ہوا کہ عنایت اللہ کے تاریخی ناولز موسوم بہ "داستان ایمان فروشوں کی" میں ہیرو کو آخر خوبصورت اور پُر شباب خواتین کے ذریعے ہی کیوں زیر کیا جاتا تھا۔ معصوم زمانے تھے، پُرشباب کو ہم پُر باش قسم کی چیز سمجھتے تھے اگرچہ اس سے تفہیم میں کافی اشکال پیدا ہوجاتے تھے۔
جناح کالونی کی ہوزری مارکیٹ میں ابوجی کی دکان تھی۔ پہلے بازار میں نلکی بٹن کی دکان ہوا کرتی تھی، سردیوں کی ایک دھند آلود شام کو پتہ چلا کہ اس کے مالک کو کسی نے گولی مار  دی ہے۔ یہ قتل ہماری ہوش کی زندگی میں  'کافر کافر شیعہ کافر 'کے بیانیے کا پہلا ٹھوس ثبوت تھا۔ اس کے بعد تو چل سو چل۔۔۔ گوگی شاہ، جن کا جناح کالونی میں ہی پرنٹنگ پریس تھا، ایک شام اپنے دفتر میں بیٹھے تھے کہ ایک نقاب پوش نے ان کے سر میں گولی اتار کے اپنے لئے جنت میں تین سو کنال کا فارم ہاؤس پکا کرلیا۔ برادرز ہوزری کے مالک کے شاید چھ بیٹے ایک ساتھ قتل ہوئے۔ چنیوٹ بازار میں جعفری پان شاپ ہوا کرتی تھی جس کے میٹھے پان کا ذائقہ آج بھی ہماری زبان پر ہے۔ اس کے پروپرائٹر کو بھی ایسے ہی رونق بھری شام میں سب کے سامنے قتل کیا گیا۔
سچ پوچھیے، تو اس وقت ہمیں ان اموات کا رتی بھر بھی افسوس نہیں تھا، کائنات کے بدترین کافر مررہے ہوں تو افسوس ظاہر کرکے ایمان ضائع ہونے کا خطرہ کون مول لے؟ بس ایسے ہی کبھی کبھار دل میں خیال آتا تھا کہ اگر شانی کو بھی کسی نے گولی مار دی تو ؟ اس خیال کو ہم لاحول ولا پڑھ کے شیطان کے کھاتے میں ڈال کے نچنت ہو رہتے تھے۔ بہرحال کافی عرصہ بعد یہ خیال بھی مجسم صورت میں سامنے آگیا۔ نیّر بخاری کے والد کو ایّوب ریسرچ کے احاطے میں صبح کی سیر کرتے ہوئے قتل کردیا گیا۔ ہمیں تو جنازے پر جانے کی بھی ہمت نہ ہوئی۔ ذہن میں مولانا اشرف ہمدانی کی آواز گونجتی تھی، "شیعہ کائنات کے بدترین کافر ہیں"۔ ایک سچے پکے مسلم ہوتے ہوئے ہم کسی بدترین کافر کے جنازے میں کیسے جاسکتے تھے؟
سنتے آئے ہیں کہ بارہ سال بعد رُوڑی کی قسمت بھی بدل جاتی ہے لیکن ہماری قسمت شاید رُوڑی سے بھی اعلٰی ہے۔ عمر کا آخری حصہ شروع ہونے کو ہے اور ہم خود کو وہیں پاتے ہیں جہاں ہوش سنبھالنے کے وقت تھے۔ کوئٹہ ہم زندگی میں کبھی نہیں گئے، کہانیاں بہت سنی ہیں۔ ہمارے کچھ دور پار اور کچھ نزدیک کے رشتے دار وہاں رہتے تھے۔ وہاں کی سردی، ڈرائی فروٹ، پھل، صفائی ستھرائی، سمگل شدہ سستی اشیاء۔۔۔ یہ سب قصّے بچپن سے ہی سنتے آئے ہیں۔ اب وہاں سے کائنات کے بدترین کافروں کی موت کی خبر آتی ہے۔ 
شیعے ابھی بھی  مر رہے ہیں۔ مولانا اشرف ہمدانی زندہ ہیں۔

گولی


یہ لاہور کے مضافات میں واقع قلعہ نما محلاّت کےایک کمرے کا منظر ہے۔ سنہری رنگ کے مرکزی صوفے پر سابق وزیر اعظم بیٹھے ہیں اور ان کے دائیں بائیں اور سامنے کے صوفوں پر مریم نواز، رانا ثناءاللہ، کیپٹن صفدر، سعد رفیق، خواجہ آصف، شہباز شریف اور پرویز رشید براجمان ہیں۔ ویڈیو لنک پر اسحاق ڈار بھی اس ملاقات میں شریک ہیں۔ نواز شریف کے چہرے پر مایوسی، افسردگی اور پریشانی واضح ہے۔ سینٹر ٹیبل پر خورونوش کی اشیاء کا ڈھیر موجود ہے لیکن کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں۔ نواز شریف گہری سانس لے کر اسحاق ڈار سےپوچھتے ہیں کہ تل ابیب سے رابطوں کی کیا رپورٹ ہے۔ اسحاق ڈار کا جواب سنسنی خیز ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسرائیلی فوج نے ایک ایسا ڈرون(ہائیلی موٹیویٹڈ سٹیلتھ ڈیوڈ سٹار وارئیر) تیار کیا ہے جو کسی بھی قسم کے ریڈار میں نہیں آسکتا۔ اس پر کسی بھی میزائل حملے کا اثر نہیں ہوتا۔ ابھی تک اسے باقاعدہ طور پر فوج کا حصہ نہیں بنایا گیا بلکہ اسے خفیہ رکھا گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ نیتن یاہو تک آپ کی درخواست پہنچا دی گئی تھی اور انہوں نے کمال مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو ڈرون بھیج دئیے ہیں۔ چند منٹوں تک یہ ڈرون رائے ونڈ کے محلات میں پہنچ جائیں گے۔ ان کو آپریٹ کرنے والے لوگ اسی وقت واہگہ بارڈر پار کررہے ہیں۔ پنتالیس منٹ تک وہ بھی رائے ونڈ پہنچ چکے ہوں گے۔
یہ سن کر میاں صاحب کے چہرے پر رونق آجاتی ہے۔ وہ رانا ثناءاللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ٹارگٹ کی کیا پوزیشن ہے۔ رانا ثناءاللہ بتاتے ہیں کہ ٹارگٹ اس وقت ایک تقریب میں شریک ہے اور تقریبا گیارہ بجے تک اپنے مقام پر پہنچے گا۔ میاں صاحب دستی طلائی گھڑی پر وقت دیکھ کر خود کلامی کرتے ہیں کہ "بس دو کینٹے رہ گئے"۔ خواجہ سعد رفیق  میاں صاحب سے مخاطب ہو کے کہتے ہیں کہ ڈرون سے بم حملہ نہایت خطرناک ہوگا۔ میری رائے میں ڈرون میں ایک نائن ایم ایم بریٹا فکس کردیا جائے۔ اس سے ایسا تاثر ملے گا کہ جیسے کوئی آوارہ گولی کہیں سے آنکلی اور اسے آسانی سے حادثہ ثابت کرنا ممکن ہوگا۔ کیپٹن صفدر ان کی بات کاٹتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نازک موقع پر کسی بھی قسم کا رسک لینا مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ نائن ایم ایم کا فائر کارگر ہونے کے لیے بہت نزدیک سے شوٹ کرنا ضروری ہے جس کی اس موقع پر گنجائش شاید نہیں ہے۔
شہباز شریف جو اس تمام گفتگو میں اب تک خاموش تھے، دھیمی آواز میں کہتے ہیں کہ ایک دفعہ پھر سوچ لیجیے۔ مجھے ایک آخری کوشش کر لینے دیں۔ امید ہے کہ معاملات سنبھل جائیں گے۔ مریم نواز جو اب تک سمارٹ فون پر مصروف تھیں۔ نخوت سے سر اٹھا کر شہباز شریف کی طرف دیکھتی ہیں اور کہتی ہیں کہ چچا جان، ابھی تک کے معاملات آپ کے سامنے ہیں۔ کیا آپ اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ میں اور ابو جی جیل چلےجائیں؟ آپ یہ تسلی پچھلے ڈیڑھ سال سے دے رہے ہیں اور ابھی تک ابوجی بھی آپ کی بات مانتے آرہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اب ہمیں ان لوگوں کو سبق سکھانا ہی پڑے گا۔ ایسے یہ لوگ سدھرنے والے نہیں۔ مریم نواز کی آواز غصے کی شدت سے لرزنے لگی تھی۔ پرویز رشید بھی مریم کی مدد کو آئے اور بولے کہ ان دو ٹکے کے لوگوں کو ان کی اوقات پر رکھنا چاہئے تھا۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ اس پلان پر عمل کریں اورایک ایک کرکے ان سے چھٹکارا پائیں۔
خواجہ آصف جو یہ ساری گفتگو انہماک سے سن رہے تھے انہوں نے میاں صاحب کی طرف دیکھا اور بولے کہ ہم نے ان کو فی بندہ ترپن ارب کی آفر کی تھی۔ بالکل محفوظ طریقے سے رقم بیرون ملک ہی ان کے اکاؤنٹس میں منتقل کردی جاتی۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی لیکن یہ بندے اللہ جانے کس مٹی کے بنے ہیں۔ میرے ذاتی علم میں ہے کہ ان میں سے ایک بندے کی مالی حالت اتنی پتلی ہے کہ بے چارہ چار سال سے نیا کوٹ تک نہیں خرید سکا۔ بیوی اس کی بیمار ہے ، بچے فیس نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری اداروں میں پڑھتے ہیں لیکن پتہ نہیں کیا ایمانداری کا خنّاس ان کے دماغ میں بھرا ہوا ہے کہ کوئی بھی آفر ان کو اٹریکٹ نہیں کرسکی۔
میاں صاحب نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا اور کیپٹن صفدر کو کہا کہ اپنا بریٹا لے آؤ۔ کیپٹن صفدر اٹھے اور داخلی دروازے سے اندر چلے گئے۔ چند منٹ بعد وہ چمکتے سیاہ رنگ کا پستول اپنے ہاتھ میں تھامے واپس آئے۔ میگزین نکال کے چیک کیا۔ مریم نے ایک گولی  اٹھا کر اس پر چاقو کی نوک سے ایک نام لکھا اور کیپٹن صفدر سے کہا ، "یہ گولی سب سے آخر میں بھرنا"۔اسی دوران ایک باوردی ملازم کمرے میں آیا اور پیغام دیاکہ مہمان آگئے ہیں۔ میاں صاحب نے انہیں اندر لانے کا کہا۔ کالے سوٹوں میں ملبوس دو سفید فام افراد کمرے میں داخل ہوئے تو میاں صاحب سمیت سب نے ان کا اٹھ کر استقبال کیا۔ خواجہ آصف نے انہیں پلان سے آگاہ کیا کہ بم سے حملہ ہم افورڈ نہیں کرسکتے لہذا نائن ایم ایم پستول کو کسی طرح ڈرون پر فکس کریں تاکہ اس کو کسی حادثہ کا رنگ دیا جاسکے۔ ان میں سے ادھیڑ عمر نظر آنے والے شخص نے کندھے اچکا کے کہا ، نو پرابلم۔ اٹ کین بی ڈن۔
شہباز شریف نے اورنج لائن کے معائنے پر جانے کے لیے میاں صاحب سے اجازت طلب کی اور  روانہ ہوگئے۔ آپریشن شروع کرنے کے لئے کنٹرول روم تیار گیا تھا جہاں ڈرون کا سارا آپریٹنگ سسٹم نصب تھا۔ دونوں سفید فام افراد کنٹرول روم میں گئے اور آپریشن کا آغاز ہوگیا۔تقریبا پونے گیارہ بجے پہلا ڈرون اڑا۔ چھ سات منٹ تک رائے ونڈ کی حدود میں اس کی جانچ کی گئی اور پھر اسے ٹارگٹ کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ ٹارگٹ سے سو میٹر کے فاصلے پر ڈرون کو ہیلی کاپٹر کی طرح ساکت کردیا گیا تاکہ ٹارگٹ نظر آتے ہی اسے ہٹ کیا جائے۔ تقریبا گیارہ ٹارگٹ تقریب سے واپسی پر گھر پہنچا۔ پورچ میں کار رکی۔ ٹارگٹ کار سے باہر آیا۔ اسی وقت آپریٹر نے فائر کیا۔ ٹارگٹ بالکل سامنے تھا۔نشانہ عین ٹارگٹ کا دل تھا۔ ٹارگٹ کے قریب پہنچتے ہی گولی اچانک ایسے اچٹ کر لوہے کے گیٹ پر جالگی جیسے درمیان میں کوئی دیوار حائل ہوگئی ہو۔ ڈرون آپریٹر حیران ہوگئے۔انہوں نے ہزاروں ڈرون حملے کئے تھے لیکن ایسا ماجرا آج تک پیش نہیں آیا تھا۔ ٹارگٹ گھر میں داخل ہوگیا۔ اسے احساس بھی نہیں ہوا کہ اس پر حملہ ہوا ہے۔
شہباز شریف اورنج لائن کے بہانے باہر نکل آئے تھے۔ باہر نکلتے ہی انہوں نے چوہدری نثار کو فون کیا اور ساری صورتحال ان کے گوش گذار کی۔ چوہدری نثار نے فورا  ہائی کمان سے رابطہ کرکے ان کو بریف کیا اور ہنگامی طور پر سیکورٹی کا بندوبست کرنے کا کہا۔ اس وقت تک پہلا حملہ ہوچکا تھا۔ لیکن شہباز شریف اور چوہدری نثار نہیں جانتے تھے کہ دنیاوی سیکورٹی کے علاوہ ان متبرک نفوس کو روحانی سیکورٹی بھی حاصل ہے۔ بہرکیف دس منٹ کے اندر تمام علاقے کو فورسز نے گھیرے میں لے لیا۔ اہم شخصیت کو اعلی افسران نے قائل کیا کہ آج تہجد اپنے کمرے میں ادا کرلیں۔ لان میں تہجد نہ پڑھیں۔ وہ وجہ پوچھتے رہے لیکن ان سے مؤدبانہ گذارش کی گئی کہ آج ہماری بات مان لیں۔ تہجد کے وقت ایک اور حملہ ہوا لیکن اس وقت تک صورتحال قابومیں آچکی تھی۔
جسے اللہ رکھّے، اسے کون چکھّے

شیدا پستول بنام بابا ریمتا


ٹِلّہ جوگیاں
30 فروری بروز  جمعۃ المبارک
محترم بابا جی!
آداب و تسلیمات کے بعد عرض ہے کہ فدوی خیریت سے ہے اور آپ کی خیریت نیک مطلوب نیز اقبال (خودی والا نہیں!) بلند چاہتا ہے۔ عرضِ احوال یہ ہے کہ فدوی نے کچھ ماہ قبل چند موضعات میں بغرضِ روزگار ڈکیتیاں کی تھیں جن میں چند بندے کولیٹرل ڈیمیج کے طور پر پھٹّڑہوئے۔ نیز دو دوشیزاؤں کے ساتھ بوجۂ شدیدحاجت، محبت بھی کر بیٹھا۔فدوی خدا کو حاضر ناظر جان کربیان کرتا ہے کہ اس نے مذکورہ بزنس وینچرزسے  یافت شدہ مال کا چالیس فیصد بابا پیٹر سائیں سرکار کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کردیا تھا۔ اس کے باوجود موضعات ہذا کے کھوجی اور فُکراٹے (پُلسئیوں کو فدوی اسی نام سے پکارتا ہے) اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے اظلام و استام سے بچنے کی خاطر فدوی نے علاقہ ہذا چھوڑ کر نامعلوم مقام (تہانوں تے پتہ ای ہونا!) پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ فدوی کے علم میں یہ بھی آیا ہے کہ بغرض روزگار کی گئی کاروائیوں کے چند متاثرین آپ والا تبار کی پنچائت میں حاضر ہو کر حضورِ والا کے کان بھر رہے ہیں کہ فدوی ایک نہایت لعین و شاتم فرد ہے جس کا قلع قمع عین ضروری و آئینی ہے۔
فدوی نہایت ادب سے عرض کرتا ہے کہ سب کو روزگار کا انتخاب کرنے کی آزادی ہے۔ کسی سے اس ضمن میں امتیازی سلوک روا رکھناانسانی حقوق کی صریحا اور قطعا خلاف ورزی ہوگی۔ بوجۂ روزگار کی گئی کاروائیوں کو کسی بھی پنچائت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان پر قدغن لگائی جاسکتی ہے۔اگر یقین نہ ہو تو وڈّے چوہدری صاحب سے پوچھ لیں۔فدوی کے علم میں یہ بھی آیا ہے کہ حضور گنجورنے پنچائت میں پیشی کے وَرَنٹ نکالے ہوئے ہیں۔ فدوی کے لئے  یہ پیشی عین سعادت ہے بلکہ
میرے دل دے شیشے وچ سجناں
پئی سج دی اے تصویر تیری
لیکن حاسدین و بد خواہونِ فدوی اس موقع کی تاڑ میں ہوں گے اور عین ممکن ہے کہ فدوی کو پکڑ کے گدّڑ کُٹ لگائیں۔مائی باپ آپ کے علم میں ہی ہوگا کہ بے پناہ پھینٹی کے دوران منہ سے واہی تباہی نکل جاتی ہے جس کو فدوی کے متاثرین روزگار، انکشافات کا نام دے کر ان کی گُڈّی اڑاتے پھریں گے اور عالی جناب کا نام بھی اس میں ملوث ہوسکتا ہے۔ کمّی کمینوں کی زبانیں کون کم بخت روک سکتا ہے؟ فدوی آپ اور بابے پیٹر سائیں سرکار کے نیاز مندانہ تعلقات کا عینی و سمعی شاہد ہے۔ وڈّے چوہدری صاحب نے بھی اس بابت ہمیشہ تقیہ کرنے کی اہمیت اجاگر کی ہے۔
خط طویل ہوتا جارہا ہےاور  فدوی کو احساس ہے کہ عالی جناب کے اقوات شدید بیش قیمت ہیں اور ان کو ضائع کرنے کا گناہ فدوی اپنے سر نہیں لینا چاہتا۔ لہذا فدوی التجا کرتا ہے کہ اس نیاز نامے کو آدھی ملاقات سمجھتے ہوئے حضورِ والا، فدوی کو حاسدین کے تمام الزامات سے باعزت بَری کریں کہ یہ انصاف اور بنیادی انسانی حقوق از قسم روزگار کی آزادی اور مناسب مواقع پر منہ بند رکھنا وغیرہ کے عین مطابق ہوگا۔ علاوہ ازیں  بابے پیٹر سائیں سرکار نے آپ والا تبار کی خدمت میں سلام لکھوایاہے۔ گر قبول افتد زہے۔۔۔ پَین دِی سِری
نیاز مند
شیدا پستول


لاؤ تو اعمال نامہ "اپنا"۔۔


یہ کچھ پیچیدہ سی سادہ بات ہے۔ متوسط طبقے کے شہری، پنجابی، پاکستانی،سُنی مسلمان ہونے کے ساتھ بائی ڈیفالٹ کچھ سافٹ وئیر انسٹال ہوتے ہیں۔ ان میں  سے پہلا یہود و ہنود، امریکہ، شیعہ، احمدی، سیاستدانوں سے نفرت اور دوسرا  اسلام، پاکستان، مشرقی روایات اور پاک فوج سے محبت ہے۔ آپ سے کیا پردہ، فدوی بھی عنفوان شباب سے ذرا پہلے جماعتیا ہوا کرتا تھا۔ مزے کی بات یہ کہ فدوی  اس عالمگیر سچائی کے استثنی کی مثال ہے کہ بندہ جماعت سے نکل جاتاہے،جماعت بندے سے نہیں نکلتی۔ فدوی جماعت سے بھی نکل گیا اور جماعت بھی فدوی سے نکل گئی لہذا اصولا تو فدوی کی جگہ اب میوزیم آف نیچرل ہسٹری ہونی چاہیئے کہ یہ انسانی تاریخ کی شاید پہلی اور آخری مثال ہے۔ بہرکیف یہاں سے بات کو موڑ کے اصل مدعا کی جانب آتے ہیں۔
پردیس میں ایک عمر گزار کے یہ سمجھ آئی کہ زندگی اور دنیا کی رنگارنگی ہی  اس کی اصل ہے۔ دیکھیے، میں ایک مذہبی انسان ہوں اور میرا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر خدا سب کو ایک جیسا اور ایک جیسی سوچ اور عقیدے کا مالک بنانا چاہتا تو اس کے لئے یہ مشکل نہیں تھا اور نہ ہے۔ تو یہ اتنے رنگ برنگے لوگ اور عقیدے اور مذاہب اور زبانیں کس لئے ہیں؟ میری رائے میں یہ سب اس کے ڈیزائن کا حصہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی خدا کی بنائی دنیا میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو سرے سے خدا کو ہی نہیں مانتے تو خدا ان کی آکسیجن بند نہیں کرتا۔ ان پربھی سورج ویسے ہی چمکتا ہے۔ ان کے دن میں بھی 24 گھنٹے ہیں۔ وہ بھی دولت کماتے ہیں۔ زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کو بھی بیماری سے شفا ملتی ہے۔
خدا ان سے یہ نہیں کہتا کہ چونکہ تم مجھے جاننا تو دور کی بات، مانتے بھی نہیں اس لئے اپنی دنیا میں رہنے کا حق میں تم کو نہیں دوں گا اور تم سب کو فنا کردوں گا۔ جی نہیں؛ خدا ایسا نہیں کرتا۔ خدا نے انسان کو بنایا ۔ اسی نے انسان کو انسان ہونے کے حقوق دئیے تو کوئی انسان کسی سے یہ حق نہیں چھین سکتا کیونکہ یہ خدائی ڈومین ہے۔ حیات بعد از موت کا تصور بھی میری رائے میں اس کی تصدیق کرتا ہے کہ تب خدا سب کو لائن حاضر کرکے پوچھے گا کہ ہاں، اب بولو کہ تم دنیا میں کیا گل کھلا کے آئے ہو۔ حساب دو۔ نکتہ یہ ہے کہ عقیدوں اور اعمال کا حساب  خدا لے گا۔ میں آپ ایک دوسرے سے یہ حساب لینے کے مجاز نہیں۔
کسی انسان سے اعمال و عقائد کا حساب مانگنے سے پہلے  خدائی کا دعوی یاد سے کرلینا چاہیئے۔

بابے ریمتے کی کہانی، مولوی ذاکر کی زبانی


بابے ریمتے کی پنچائت کا انصاف پوری تحصیل میں مشہور ہوچکا تھا۔ آس پاس کے پِنڈوں سے لوگ بابے کے پاس شکایات لے کر آتے۔ بابا اپنی انصاف پروری اور دانش سے ان کے فیصلے کرتا اور مسکینوں کو ان کا حق دلاتا۔ ایک ایسے ہی ایک پھڈّے میں بابے نے سراج تیلی کی بیٹی کو سنگسار کرنے کا فیصلہ دیا جسے صادق باجوے کے منڈے نے اغواء کرکے دو مہینے ڈیرے پر قید رکھا تھا۔ بابے نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جوان جہان لڑکی جب گلیوں میں آزادانہ گھومے پھرے گی تو شیطان متقی جوانوں کو بہکائے گا۔ اس میں جوانوں کا کوئی قصور نہیں۔
بابے ریمتے کی بیٹھک میں ہر وقت لوگ کا ہجوم رہتا۔ بابے کا مشیرِ خاص فتّو میراثی تھا۔ جو آئے گئے ہر بندے کی خدمت میں جُتا رہتا اور جاتے ہوئے جو بھی اپنی مرضی سے کوئی نذرانہ دیتا تو اسے سنبھالنے کا کام بھی اس کے ہی سپرد تھا۔ چراغ جلے جب رش کم ہوتا تو بابے اور فتّو کے مابین پورے دن کی کاروائی اور یافت پر دو طرفہ مذاکرات ہوتےاور اگلے دن کے شیڈول پر بھی ڈسکس کیا جاتا۔ فتّو صدق دل سے یہ سمجھتا تھا کہ بابا ریمتا ایک لیجنڈ بن چکا ہے اور پورے پنڈ کے لوگ ہر مشکل میں اس کی طرف دیکھتے ہیں اور اس کا فیصلہ جی جان سے قبول کرتے ہیں۔ فتّو اکثر بابے کو مشورہ دیتا تھا کہ اب اسے چوہدری صاحب کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات کرنی چاہیئے ۔ ان کے ساتھ منجی پر بیٹھنا چاہیئے نہ کہ زمین پر۔
بھادوں شروع ہوچکا تھا۔مچھروں کی بہتات تھی۔ بابے کو ساری رات نیند نہیں آئی۔ حبس اور گرمی جوبن پر تھی۔ بابا تڑکے نور پیر ویلے ہی اٹھ گیا تھا۔ ماسی پِینو کو اٹھا کے بابے نے لسّی مانگی تو ماسی نے بابے کو چھڈویں چپّل دے ماری اور چلاّئی۔۔"پھُڑکی پینیاں، جا لے جا میرے مگروں، دغاڑا لگناں"۔  بابے نے تحمّل سے ماسی کی بدزبانی برداشت کی اور بیٹھک میں چلا آیا۔ دن چڑھے تک بابا بیٹھک میں افسردہ بیٹھا رہا۔بابا سوچتا رہا کہ پِنڈ کے لوگ اس کی اتنی عزت کرتے ہیں، اس کے ہر فیصلے پر آمنّا و صدقنا کہتے ہیں اور ایک یہ پِینو اونتری ہے جو اس کی یومیہ بنیادوں پر بے عزتی کرتی ہے۔ بابے نے فتّو کے آنے سے پہلے فیصلہ کرلیا کہ آج وہ ایسا کام کرے گا کہ پِینو دوبارہ اس کے سامنے کبھی اونچی آواز میں بات کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گی۔ فتّومیراثی کےآتے ہی بابے نے اس کو ساتھ لیا اور چوہدری کے ڈیرے کی طرف چل پڑا۔ فتّو پوچھتا ہی رہا کہ کیا معاملہ ہے لیکن بابے کے چہرے پر گھمبیرتا طاری رہی۔
ڈیرے پر پہنچتے ہی بابے ریمتے نے کامے کو حکم دیا کہ چوہدری صاحب کی رنگلے پایوں والی منجی بوڑھ کے نیچے بچھا دے اور اس پر ریشمی غلاف والے تکیے رکھ دے اور بھاگ کے چوہدری کو بلا لائے۔ بابا منجی پر تکیے کے ساتھ ٹیک لگاکے بیٹھا گیا اور فتّو کو کہا کہ وہ نیچے زمین پر بیٹھ کے اس کی ٹانگیں دبائے۔ تھوڑی دیرہی  گزری تھی کہ  چوہدری صاحب، نِکّے چوہدری اور حواریوں کے ساتھ تشریف لے آئے۔ ڈیرے میں داخل ہوتے ہی انہیں بابے کی کڑک دار آواز سنائی دی،
"اوئے چوہدری! ادھر آکے زمین پر بیٹھ جا۔ آج تیرا یومِ حساب ہے۔ تو غریب مزارعوں کی خون پسینے کی کمائی لوٹتا ہے۔ تیرے بدکار پُتّر کی ہوس سے پِنڈ کی کوئی کُڑی محفوظ نہیں۔جب تیرا دل چاہتا ہے کسی کو بھی بے گار میں پکڑ کر لے جاتا ہے۔جو تیرے سامنے آواز اٹھاتا ہے اسے تیرے کن ٹُٹّے مار مار کے باندر بنا دیتے ہیں۔ تو پِنڈ کے لوگوں کو انسان نہیں سمجھتا۔ ان کی توہین کرتاہے۔ آج تیرے ان سب جرائم کا حساب ہوگا۔ میرے پنچائت کے فیصلوں کی پوری تحصیل میں دھوم ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ بابا ریمتا سب کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ آج بابا تیرے ساتھ بھی انصاف کرے گا۔
میں ، بابا ریمتا، حکم دیتا ہوں کہ چوہدری کی زمینیں قرق کرکےمزارعوں میں تقسیم کر دی جائیں۔ نِکّے چوہدری کے ہاتھ پیر باندھ کے اس کا منہ کالا کرکے ، گلے میں جوتوں کا ہار ڈال کے،کھوتے پر سوار کرکے پورے پِنڈ کا چکر لگوایا جائے۔چوہدری کی حویلی آج سے میرا ڈیرہ ہوگا۔ چوہدری کو زن بچے کے ساتھ پِنڈ سے نکال دیا جائے اور پوری تحصیل میں اس کو کسی بھی جگہ پناہ نہ دی جائے۔ نکالنے سے پہلے چوہدری پِنڈکے ہر بندے کے سامنے ہاتھ جوڑ کے معافی مانگے۔ "
فیصلہ سنانے کے بعد بابے ریمتے نے فخریہ نظروں سے فتّومیراثی کی طرف دیکھا۔ فتّومنہ پھاڑے بابے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بابا چپ ہوا تو فتّو نے اٹھ کے دامن جھاڑا، پلاسٹک کی پرانی چپّل پاؤں سے اتاری اور بابےریمتے کے سر پر برسانے لگا۔
قصّہ مختصر، آج بعد از نمازِ عصر بابے ریمتے کی نمازہ جنازہ پِنڈ کی مسجد میں ادا کی جائے گی۔


ایک معمول کی پریس کانفرنس

خاں صاحب یہ بتائیں کہ کرپشن کے خلاف آپ نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کی کیا وجہ ہے؟
دیکھیں۔ ۔ جب لیڈر ایماندار ہوگا تو اس کے نیچے کوئی کرپشن نہیں کرسکتا۔ یہ نواز شریف ڈاکو ہے۔ اس کی پارٹی میں بھی سب چور ہیں۔ میں ان کے خلاف سپریم کورٹ میں گیا۔ دیکھیں میں نے سارے ثبوت عدالت کے سامنے رکھے۔ اس کے بعد کیسے یہ لوگ بچ سکتے تھے۔ میں ان کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔ ان کو جیل اور پھر پھانسی کے پھندے تک پہنچاؤں گا انشاءاللہ۔ ۔ ۔
خاں صاحب، سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اور صادق و امین نہیں۔ تو جیسا آپ نے کہا کہ نیچے سب چور ہوں تو لیڈر بھی چور ہوتا ہے، تو کیا یہ پی ٹی آئی پر بھی لاگو ہوگا؟
مجھے پتہ ہے تمہیں خالو رفیق نے بھیجا ہے۔ اسے میں نے تیسری شادی میں نہیں بلایا تو وہ میرے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کررہا ہے۔ تمہیں شرم آنی چاہیے۔ ۔ دو ٹکے کا رپورٹر ہو کے خالو کے پیچھے لگ گئے ہو۔ تم لوگوں کے پیچھے میں شیخ رشید کو لگاؤں گا وہ بھی تمہارے جیسا چوّل ہے۔
اچھا خاں صاحب یہ جو بلین ٹری سونامی ہے اس کے بارے میں بتائیے؟
دیکھیں انسانی تاریخ میں آج تک کسی نے اتنے درخت نہیں لگائے۔ آج سے پچاس لاکھ سال پہلے جب انسان اس سیارے پر اترا تو یہاں پر درخت ہی درخت تھے جو ڈائنو سارز نے لگائے تھے۔ درخت اتنے زیادہ لگ گئے کہ ڈائنو ساربے چارے چل پھر بھی نہیں سکتے تھے جس سے ان کا وزن بڑھ گیا اور ان کو شوگر ہوگئی جس سے سارے ڈائنو سار مر گئے۔ آج پچاس لاکھ سال گزرنے کے بعد آپ کے بھائی نے ایک ارب بائیس کروڑ درخت لگا کے ڈائنو سارز کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ درخت لائنوں میں لگائے ہیں تاکہ آپ کا بھائی ان میں دوڑ بھی لگاتا رہے تاکہ  وزن نہ بڑھے اور اس کا انجام ڈائنو سارز جیسا نہ ہو۔ یہ چیزیں ہوتی ہیں جن سے لیڈر کے وژن کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ ہوتا ہے لیڈر اور یہ ہوتا ہے وژن۔
لیکن خاں صاحب ایک رپورٹ کے مطابق ریکارڈ میں بائیس کروڑ درخت لگانے کا ذکر ہے۔ تو باقی ایک ارب کدھر گئے؟
تمہیں ضرور صادق خان مئیر لندن نے بھیجا ہے۔ جب سے میں نے اس بس ڈرائیور کی اولاد کے خلاف اپنے اعزازی سالے کی انتخابی مہم چلائی ہے وہ میرا دشمن ہوگیا ہے۔ اس نے یہودیوں۔ ۔ ۔ اررر۔ ۔ ۔ ۔ انڈینز کے ساتھ مل کے میرے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے اور یہ نواز شریف تو ہے ہی مودی کا یار۔ یہ سارے جھوٹ نواز شریف پھیلا رہا ہے۔ میں چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کرتا ہوں اس کا نوٹس لے کر نواز شریف کو ایک دفعہ پھر نا اہل کریں اور ہو سکے تو اسے مچھ جیل بھیج دیں۔ یہ شخص اسلام، پاکستان، ملت اسلامیہ اور میرا دشمن ہے۔ اس کو عبرت ناک سزا ملنی چاہیے۔
خاں صاحب، وہ عمر چیمے نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔
او دَلیا۔ ۔ او تینوں رپورٹر کنّے بنایا۔ ۔ ۔ او تیری پَین دی سِری۔ ۔ ۔ او کُتیا۔ ۔ کُتّا کہنا بِی توہین۔ ۔ ہَلکیا کُتّا کہنا بِی توہین۔ ۔ او خنزیر کی نسل سے بھی بدتر نسلو۔ ۔ ۔ او تینوں رپورٹر کنّے بنایا۔ ۔ ۔ او تیری ٭٭٭ ٭٭٭ ٭٭

بابے ریمتے کی ڈائری

کل چوہدری صاحب نے میوے والےتازہ گُڑ کے ساتھ تین دیسی مرغیاں بھیجیں۔ سخاوت میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ حاتم تائی بھی ان کے سامنے پانی بھرتا ہے۔ پچھلے بدھ کو پنچایت میں نِکّے چوہدری کا معاملہ زیر بحث تھا۔ جوان جہان بچہ ہے۔ فیکے ماچھی کی چھوری کو شہر گھمانے لے گیا تھا۔ ماچھیوں نے پورے گاؤں میں پِٹ سیاپا ڈال دیا کہ ہماری چھوری کو اغوا کرلیا ہے۔ یہ ساری طیفے لوہار کی شرارت تھی۔ جب سے اس نے چار پیسے کما لیے ہیں، چوہدریوں کے منہ کو آنے لگا ہے۔ چوہدراہٹ کا شوق ہوگیا ہے۔ اسی نے ماچھیوں کو بھڑکا کے گاؤں میں رولا ڈلوا دیا تھا۔ چوہدری صاحب نے منشی کے ذریعے پیغام بھجوایا کہ اس معاملے کو دیکھو۔ میں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے جھورے میراثی کو گبلے چوک میں پنچایت کا اعلان کرنے کے لیے کہہ دیا۔
نِکّے چوہدری نے اگلے دن ہی ماچھیوں کی چھوری کو واپس کر دیا تھا۔ چھنال پہلے تو ہنسی خوشی اس کے ساتھ چلی گئی لیکن واپس آنے کے بعد رونے پیٹنے کے ڈرامے کررہی تھی کہ مجھے زبردستی لے گیا تھا۔ مارا پیٹا اور میرے ساتھ بدی بھی کی ۔ بادی النظر میں یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ چھوری اپنی مرضی سے نِکّے چوہدری کے ساتھ گئی تھی اگر زبردستی بھی لے جایا گیا تو اس کا کیا گھِس گیا؟ شہر کی سیر مفت میں کرلی اور نئے جوڑے اور جھمکے بھی مل گئے۔ اس کا باپ تو ساری زندگی اس کو ایسی چیزیں نہیں دلوا سکتا۔ ایک تو غریبوں کا احساس کرنے والے سخی لوگوں کو دنیا جینے نہیں دیتی۔ چوہدری صاحب کی سخاوت اور دریا دلی کے قصے پورے علاقے میں مشہور ہیں۔ ایک دفعہ ڈیرے پر جاتے ہوئے جیپ کی ٹکر سے کمہاروں کے لڑکے کی ٹانگ ٹوٹ گئی تو چوہدری صاحب نے اس کے باپ کو پورے پچاس روپے دئیے تھے کہ بچے کو دودھ وغیرہ پلا دے۔ اس کی ماں آج تک چوہدری صاحب کی درازیٔ عمر کی دعائیں کرتی ہے۔
ہاں تو پنچایت کا قصہ بیچ میں ہی رہ گیا۔ پنچایت بیٹھی تو فیکے ماچھی نے پِٹ سیاپا شروع کردیا کہ اس کی عزت لُٹ گئی۔ اس کو انصاف چاہیئے۔ چوہدری کے نِکّے کو سزا دو۔ اس نے گاؤں کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ طیفے لوہار نے اس کو چپ کراتے ہوئے کہا کہ آج ماچھی کی چھوری خراب کی ہے کل ہمارے دھی بہن کی باری بھی آئے گی۔ ہم یہ بغیرتی نہیں چلنے دیں گے اور نِکّے چوہدری کو ایسی سزا دیں گے کہ اس کی نسلیں یاد رکھیں گی۔ طیفے لوہار کی بات پر ساری پنچایت میں کھپ پڑ گئی۔ سارے ماجھے ساجھے کمّی کمین چوہدری صاحب والا تبار کی شان میں گستاخیاں کرنے لگے۔ میں نے فورا گرجدار آواز میں سب کو خاموش ہونے کا حکم دیا۔ چوہدری صاحب کے کن ٹٹّے بھی اسی اثناء میں لاٹھیاں، ریفلیں لے کر گبلے چوک پہنچ چکے تھے۔ طیفے لوہارنے بیٹھنے سے انکار کردیا اور کہا کہ پنچایت کی پرمپرا مظلوم کی حمایت اور ظالم کا ہاتھ روکنا ہے۔ اگر پنچایت یہ کام نہیں کرسکتی تو یہ پنچایت نہیں بلکہ زور آوروں کی رکھیل ہے اور سرپنچ اس رکھیل کا دلال ہے۔
طیفے لوہار کی اس بکواس پر چوہدری صاحب نے جیرے پھنئیر کو اشارہ کیا تو وہ اپنے جتھے کے ساتھ طیفے لوہار پر پل پڑا۔  لاٹھیاں اور ریفلوں کے بٹ مار مار کے اس کی ہڈیاں توڑ ڈالیں۔گبلے چوک پر موت کا سکوت طاری تھا۔ اس میں چوہدری صاحب کی آواز گونجی۔۔
"اورکسی کو انصاف چاہیئے؟ چل او ئے بابے ریمتے، پنچایت کا فیصلہ سنا۔"

کپتان، جوشؔ اور فرائڈ

جبلّت سے ہم شرمندہ ہوتے ہیں۔ روح پر گرانی  لاد لیتے ہیں۔ خود کو ہم کوستے ہیں اور اس پر تقلید کے  خوگر مذہب کے سوداگر جو زیست کو عذاب بنانے پر تلے ہیں۔ مردِ آزاد فرائڈ البتہ حقیقت پا گیا تھا۔
اکل و شرب پیکر خاکی کی ضرورت ہے۔ زندہ ہم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ لیکن مگر اعتدال۔۔  مگر نفاست۔۔۔ مگر تہذیب۔  طبیعت میں عجیب سی بے چینی جاگزیں تھی۔ پسلی کی آنکھ والا لحم، ہلکی آنچ پر بھنا ہوا۔۔ نیلی پٹّی والا مشروب۔ ماکولاتِ بہشت  سے لذّت کام و دہن کے باوجود اضطراب وجود میں لہریں لے رہا تھا۔ اس عالم میں اس عالمِ بےبدل، بابائے پُونڈاں حضرت جوش کی یاد آئی۔ یادوں کی برات جیسے تمنائیں بیاہنے پہنچ گئی ہو۔یک لخت جیسے گرہ کھل گئی ہو۔ اضطراب کا ماخذ دریافت ہوا۔ من شانت ہوا۔
فرائڈ یاد آتا ہے۔ ہر کارِ جہاں پُونڈی پر منحصر ہے۔۔۔ کیسی حکمت بیان کی۔ ہم مگر علم کو خانوں میں بانٹتے ہیں۔ انسانی تہذیب کی اجتماعیت کو رد کرتے ہیں۔ کیوں نہ پھرتاریخ کے چوراہے پر لڑکے بالے ہمارا ٹھٹھا اڑائیں۔ کپتان طعام سے فراغت کے  بعد سیاہ بیر پر مشغول تھا۔ نفیس فریم کا چشمہ ناک کی پھننگ پر ٹکائے۔۔ نِمّا نِمّا ہاسا بُلیوں پر سجائے۔۔۔کیسا یقین اور کیسا سکون اس کے چہرے پر تھا۔ مانو جیسے کپل وستو کا سدھارتھ نروان پا گیا ہو۔  من بے اختیار ہوا ۔۔۔  یویو ہنی سنگھ یاد  آیا۔
لَک ٹوئنٹی ایٹ کُڑی دا
فورٹی سیون ویٹ کُڑی دا
کتاب سے کپتان کو مگر شغف نہیں۔ جی کڑا کرکے لیکن دریافت کیا۔ جوشؔ کو جانتے ہو؟ سیاہ بیر سے نظر اٹھا کے کپتان نے فقیر کو دیکھا۔ چہرے پر جیسے رنگین یادوں کا میلہ سجا ہو۔ لان میں انار کے درخت پر بہار تھی۔ اناروں  پر نظر کپتان کی ٹِکی رہی۔ کچھ لحظے توقف کے بعد بولا۔ یادوں کی برات میں نے پڑھی نہیں؛ مجھ پر بیت گئی ہے۔اس عالم میں کپتان کو پہلی دفعہ دیکھا۔ جھُرجھُری آگئی۔ نظر اس کے چہرے پر ٹکنی دشوار۔ ایسا نُور۔۔ ایسا اطمینان۔۔ بایدو شاید۔ یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے۔۔۔فقیر کے سینے پر سے جیسے سل ہٹ گئی۔ جسم و ذہن پھول کی پتّی ہوا۔
  ؎ اڑتا ہی پھروں ان ہواؤں میں کہیں
زنجیریں ہیں یہ زنجیریں۔ احساسِ گناہ میں ہماری روحیں جکڑتے ہیں۔ جبلّت پر پہرے بٹھاتے ہیں۔ اکل و شرب ضرورت ہے تو پُونڈی بھی ضرورت ہے حضورِ والا۔ آزاد روح اور آزاد فکر۔اس کے سوا اس قوم کی راہِ نجات کوئی نہیں۔پست فکر یہ معاشرے کو کرچکے ۔ تخلیق کا گلا گھونٹتے ہیں۔ فکر کو زنجیر پہناتے ہیں۔ ادبار سے نجات کا وقت آ پہنچا ہے۔ جوشؔ یاد آتا ہے۔
جبلّت سے ہم شرمندہ ہوتے ہیں۔ روح پر گرانی  لاد لیتے ہیں۔ خود کو ہم کوستے ہیں اور اس پر تقلید کے  خوگر مذہب کے سوداگر جو زیست کو عذاب بنانے پر تلے ہیں۔ مردِ آزاد فرائڈ البتہ حقیقت پا گیا تھا۔