جھیل، چِکّڑ چھولے اور چیمہ

میں نے نظریں جھکائیں۔ ارمانی کی شرٹ پر دہی پودینے کی چٹنی کا دھبہ دیکھا اور گہری سانس لے کر نان چھولے کا آخری بائٹ لیا  اورویٹر کو سپرائٹ اور کالانمک  لانے کا آرڈر دے دیا۔ لا گورڈیا جھیل میں لہریں اٹکھیلیاں کر رہی تھیں۔ ایک شوخ  لہر باقی لہروں سے نظر بچا کے بار بار ساحل تک آتی اور ترشے ہوئے پتھرکو چوم لیتی۔ پتھر بے خود ہو کراس کی طرف لپکتا۔ اس کو بانہوں میں لینے کی کوشش کرتا  لیکن یہ انگلی سے نہ نہ کا اشارہ کرتے بھاگ جاتی۔ یہ منظر اتنا رومانی  تھا۔ یہ اتنا  خواب ناک تھا کہ میں 6 نان کھا گیا۔ میں نے چکڑ چھولوں کی چار پلیٹیں کھالیں جن میں سات ابلے ہوئے انڈے بھی تھے۔ میرے سٹامک میں پین ہونے لگی۔ ہر محبت کا انجام پین ہوتا ہے۔یہ مجھے لاگورڈیا جھیل کے کنارے بیٹھ کر نان چھولے کھاتے ہوئے  سمجھ آیا۔
یہ ریسٹورنٹ عین لاگورڈیاجھیل کے کنارے  ایک جھکی چٹان پر واقع ہے۔ یہ چٹان، جھیل پر بالکل ایسے جھکی ہوئی تھی جیسے کسی عاشق  کو زمانوں بعد اپنے محبوب  کا دیدار  نصیب ہو اور وہ اس کے حضور جھک جائے ۔ اس ریسٹورنٹ کی سٹوری بہت انٹرسٹنگ ہے۔ یہ نیامت چیمے کا ریسٹورنٹ ہے ۔ یہ لاگورڈیا تک کیسے پہنچا، جھیل  کنارے اس کو ریسٹورنٹ بنانے کا خیال کیسے آیا۔ اس کے لیے آپ کو چیمے کی سٹوری جاننا بہت ضروری ہے۔
یہ  لالے موسے کے ریلوے سٹیشن پر نان پکوڑے بیچتا تھا۔ یہ غریب تھا۔ یہ ہڈحرام اور بے ایمان تھا۔ یہ باسی پکوڑے بیچ دیتا۔ یہ بقایا پیسے دینے میں حیل حجت کرتا حتی کہ گاڑی چل پڑتی۔ مسافر اس کو کھڑکیوں سے سر نکال نکال کے گالیاں دیتے۔ یہ ڈھیٹ بن کر ہنستا رہتا۔ ریلوے سٹیشن کے سارے صادق اور امین اس کو سمجھاتے۔ یہ اس کو گندی گالیاں نکالتے۔ یہ اس کو کہتے، بے ایمانی سے کبھی فائدہ نہیں ہوتا۔ جب تک تم تازے پکوڑے نہیں بیچو گے۔ مسافروں کا بقایا نہیں دوگے۔ تم کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ چیمہ آگے سے ان کو ہنس کے دکھا دیتا۔ یہ ان کو عرفان قادر والے اشارے کرتا۔ یہ ان کے چھابے الٹا دیتا۔ یہ صادق اور امین  مایوس  ہوگئے۔ انہوں  نے چیمے  سےکچّی کرلی۔ یہ اس کو بلانا چھوڑ گئے۔
لالے موسے کے سٹیشن پرریل گاڑیوں کا جھمگٹا لگا رہتا ہے۔ یہاں ہر وقت رش رہتا ہے۔ یہ وسط اکتوبر کے دن تھے۔ ہوا میں بھینی بھینی خنک خوشبوئیں تھیں۔ آتی جاتی ٹرینوں میں  لڑکے ،  لڑکیاں اکھ مٹکّوں میں مشغول تھے۔ تاروں پر بیٹھے چڑے، چڑیوں سے رومانس کررہے تھے۔ جنہیں دیکھ کر بچے حیران ہوتے تھے کہ یہ چڑیاں کیوں لڑ رہی ہیں۔ یہ نہیں جانتے تھے ۔ یہ پیار ہے یہ محبت ہے۔ یہ لڑائی نہیں ہے۔ نیامت چیمہ خیبر میل کو بھگتا کے فارغ ہی ہوا تھا۔ اس نے فیقے کے ٹی سٹال سے چائے اور کیک رس لیے۔ یہ بنچ پر بیٹھ کر کھانے لگا۔ اچانک اس کی نظر ایک اخبار کے ٹکڑے پر پڑی۔ اس نے اٹھا کر دیکھا ۔ یہ ضرورت رشتہ کا صفحہ تھا۔ یہ اس کو پڑھنے لگا۔ یہ لاگورڈیا میں رہائش پذیر ایک خاتون کا اشتہار تھا۔ خوبرو، خوب سیرت، والدین انتقال کرچکے، بے تحاشہ جائیداد کی واحد وارث، نیک دل ، صادق اور امین کی طالب۔  چیمہ اس اشتہار میں ایسا ڈوبا کہ اس کا کیک رس چائے میں ڈو ب گیا۔ یہ فورا اٹھا ۔ نان پکوڑے سمیٹے اور تیر بن کے نکلا ۔یہ اپنے لنگوٹیے تجمل کمبوہ کے گھر پہنچ گیا۔ اس نے کمبوہ سے کہا۔ میرا ٹَیم آگیا ہے جِیلے۔ خدا نے میری سن لی ہے۔ چیمے نے کمبوہ سے اس اشتہاری حسینہ کو خط لکھوایا۔ تجمل کمبوہ خواتین کے رسالوں میں شگفتہ نورین کے نام سے کہانیاں لکھتا تھا۔ اس نے پھڑکتا ہوا خط لکھ کے چیمے کے حوالے کردیا۔
خط کا جواب ایک ہفتے میں ہی آگیا۔ اشتہاری حسینہ نے اپنی تصویر، نام ، فون نمبر بھی بھیجا۔ اس کا نام کوثر شہزادی تھا۔ یہ خط پڑھتے ہی چیمے کی محبت میں مبتلا ہوگئی۔ کوثر کی تصویر چیمے کو روغنی نان پر دھرے تازہ پکوڑوں جیسی لگی۔ یہ پہلی نظر میں کوثر کا دیوانہ ہوگیا۔ دو لیٹرز اور پانچ ٹرنک کالز کے بعد کوثر اور چیمہ، کوثر چیمہ بننے کے لئے بے تاب ہوگئے۔ نیامت چیمے کو لاگورڈیا کا ویزا ملا تو اس نے پورے محلے میں تازہ پکوڑے بنا کے بانٹے۔ یہ اتنا ہیپی ہوگیا کہ اس نے سٹیشن والے صادق، امینوں سے بھی صلح کرلی۔ جس دن چیمے نے کراچی جانے والی ٹرین میں پاؤں دھرا، پورا سٹیشن اس کے استقبال کے لیے امڈ آیا۔  چیمے نے ثابت کردیا کہ آنسٹی از ناٹ بیسٹ پالیسی، لَوّ از بیسٹ پالیسی۔
یہ ریسٹورنٹ اسی چیمے کا ہے۔ یہ لاگورڈیا جھیل کے کنارے بھی نان پکوڑے اور چِکّڑ چھولے بیچتا ہے۔ پوری دنیا سے محبّت کے پنچھی یہاں آتے ہیں۔ یہ محبت کی نشانی جھکی ہوئی چٹان پر بیٹھتے ہیں۔ یہ تلوں والے نان اور چِکّڑ چھولے کھاتے ہیں۔ یہ سِی سِی کرتے ہیں۔ یہ سپرائٹ میں کالانمک ڈال کے پیتے ہیں ۔ یہ پتھروں اور لہروں کی بالغانہ فلم انجائے کرتے ہیں۔ یہ منظر ان کے یادوں کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔ زندگی میں جب بھی انہیں محبت ہوتی ہے۔ انہیں چِکّڑ چھولے یاد آجاتے ہیں۔ انہیں پتھر اور لہریں یاد آجاتی ہیں۔ یہ لاگورڈیا اور نیامت چیمے کے مشکور ہوجاتے ہیں۔ 
نیامت چیمہ آج کا شاہجہاں ہے جس نے کوثر شہزادی کی محبت  میں چِکّڑ چھولوں کا تاج محل بنادیا ہے۔  میں نیامت چیمے کو سلیوٹ کرتا ہوں!

مُودے کی کہانی، بِلّو کی زبانی

عرش  سے نالوں کا جواب آتا ہے۔ آہیں دل پگھلا دیتی ہیں مگر انجام سے بے خبر یہ سرپٹ دوڑتے ہرکارے۔حیف اس قوم پر جو سیٹیاں مارنے کا الزام لگائے۔۔۔ مُودا  دھیں پٹاس بے قصور ہے حضورِ والا۔۔۔
ربع صدی  ہوتی ہے؛ طالبعلم ساتویں درجے میں فیل ہوا تو دل خون ہوا ، تشریف ابّا جی خلد آشیانی نے خونم خون کی۔طیش اور مایوسی۔ کوئی راہ سجھائی نہ دیتی تھی۔
۔ ہیولیٰ برقِ خرمن کا ہے خونِ گرم دہقاں کا
جی میں آیا کہ یہ جہاں ترک کیا جاوے اور کہیں دور بستی بسائی جائے۔ فقیر گلی میں نکلا تو بِلّو پر نگاہ پڑی۔ روپ اور  رنگ کی پُڑیا۔ واٹ 69 کی بظاہر سر بمہر بوتل۔ چشمِ پُر فتن۔ جدھر نظر اٹھائے، کشتوں کے پشتے لگائے۔ریشمی لاچے سے جھانکتی روپہلی پنڈلیاں۔ چال ایسی کہ بقول یوسفی، دو مٹکے مٹک رہے ہوں۔ چاچے جیرے کے تھڑے پر فدوی ڈھیر ہوا۔ سانس بے قابو، جذبات میں ہنگام۔ ہمت مجتمع کی اور گویا ہوا ، "اے حسینہء خوش اندام، کدھر کا قصد ہے؟"۔ بِلّو نے ایک نگاہِ غلط انداز فقیر پہ ڈالی اور بزبان مادر ہم سے ایسا سوال کیا جس میں ہماری عمر کا طعنہ تھا اور حسّاس اعضاء کی جبلّی حرکات بارے شکوک ۔طالب علم شرم سے پانی پانی ہوا۔ خاموشی شعار کی۔ تِس پرحُسن کی اُوزی نے موڈا مارا اور چمک کے فرمایا، "مُودے کول چلّی آں۔ کوئی تکلیف؟"۔
مُودا دھیں پٹاس، وہ مرِد جری کہ جس کی پہنچ سے  ماجھے کاکوئی ڈنگر محفوظ نہ تھا۔ ایسی آہو چشم بھینسیں چشمِ زدن میں کھول لیتا جیسے بنارسی ٹھگ آنکھ سے سُرمہ چرا  لیا کرتے تھے۔ مردِ خود دار و خُود بیں۔اقبال کا شاہیں۔ کبھی کسی کے سامنے دستِ سوال درا ز نہ کیا۔ ہمیشہ چھین لیا۔  شجاعت کا جوہر بس چند جواں مردوں کا زیور ہوا کرتا ہے۔ لوگ مگر سمجھتے نہیں۔دل مگر مُودے کا گداز تھا۔ شبِ بھینس کھلوائی مناکے آتا تو عجب ہی ترنگ ہوتی۔ چال میں نرالا بانکپن ، آواز ایسی کہ دلوں کو چیر دے۔
شام کو ٹھنڈی ہوا ان کے لئے بہتی ہے | جن کے محبوب بہت دور کہیں رہتے ہیں
حاسد پیٹھ پیچھے زبان طعن دراز کرتے کہ مُودے کا محبوب بھینس ہے۔ ۔حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں۔۔۔نگہ پاکباز اور لنگوٹ آہنی۔ شورہ پشت بِلّو جو کسی کو پٹھے پر ہاتھ دھرنے نہیں دیتی تھی؛ مُودے پر دھیں پٹاس تھی۔ مُودا مگر راہِ سلوک کا مسافر۔ دنیاوی لذائذ سے کنارہ کش۔ نظر جھکا کے بِلّوکے سب وار سہہ جاتا۔ عورت کی انا، حضورِ والا، عورت کی انا۔ زخمی ناگن،  بِلّو بن چکی تھی۔ وہ دوشیزہ کہ 12 سے 72 تک سب مرد جس کے لئے مرے جارہے ہوں اور ایک جواں مرد اسے پرِ کاہ جیسی اہمیت نہ دے؟  توہین ہے یہ حُسن کی توہین۔
ساون کی ایک حبس بھری صبح چوپال کے سامنے بِلّوفریاد کرتی پائی گئی۔ تریا چلتر۔ ہجوم اکٹھا کرلیا گیا۔ چلاّ چلاّ کر مُودے پر بہتان باندھے گئے۔ تان اس پر ٹوٹی کہ آتے جاتے مجھے سیٹیاں مارتا ہے۔ حضورِ والا مُودے کی تو سیٹی نکلتی ہی نہیں؛ وہ کیسے سیٹیاں مار سکتا ہے؟  بہتان ہے، صریح بہتان۔ جھوٹ ہے ، سفید جھوٹ۔
عرش  سے نالوں کا جواب آتا ہے۔ آہیں دل پگھلا دیتی ہیں مگر انجام سے بے خبر یہ سرپٹ دوڑتے ہرکارے۔حیف اس قوم پر جو سیٹیاں مارنے کا الزام لگائے۔۔۔ مُودا  دھیں پٹاس بے قصور ہے حضورِ والا

جندل، چلّی ملّی اور کمبلے

چیمپئینز ٹرافی کی فاتح ٹیم کے اعزاز میں وزیر اعظم ہاؤس میں تقریب جاری تھی۔وزیر اعظم بہت ہشاش بشاش نظر آرہے تھے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے مقتدر حلقوں پر پھبتیاں بھی کسیں اور خود کو نام نہاد وزیر اعظم قرار دیتے ہوئے بظاہر کرکٹ ٹیم لیکن اصل میں مقتدر حلقوں کو وزیر اعظم قرار دیا۔ انہوں نے ایک اور بہت اہم بات کہی کہ "اصل ہیروز آپ ہیں۔ ہم تو آپ کے پرستار ہیں"۔ آن دا فیس آف اٹ یہ ایک خراج تحسین ہے لیکن اس کے پیچھے ایک پوری کہانی ہے۔ آئیے اس کہانی کی پرتیں کھولتے ہیں۔
یہ 26 اپریل کی ایک سہانی دوپہرکا منظر ہے۔ مری کے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس کے لان میں دو افراد چہل قدمی کرتے ہوئے گفتگو کررہے ہیں۔ یہ وزیراعظم اور ہندستانی صنعتکار سجن جندل ہیں۔ مسٹر جندل جیب سے ایک گلابی کاغذ کا پرزہ نکال کر وزیر اعظم کی طرف بڑھاتے ہیں۔ وزیر اعظم ویسٹ کوٹ کی اوپری جیب سے قلم نکال کے اس پر کچھ لکھ کے واپس کردیتے ہیں۔ جندل اس کو ایک لحظہ دیکھتے ہیں اور پھر کاغذ کے اس ٹکڑے کو منہ میں ڈال کے ٹافی کی طرح چبا کے نگل جاتے ہیں۔ کاغذ کے اس پرزے پر " چیمپئینز ٹرافی" لکھا ہوا تھا!
اس کاغذ کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ یونیورسٹی آف تل ابیب کے ڈیپارٹمنٹ آف ایڈیبل سائنسز کے سربراہ ایریل بیگن نے ایک ایسا کاغذ ایجاد کیا جس کا ذائقہ مشہور زمانہ چلّی ملّی کینڈی کی طرح ہے۔اس کا نام ایڈیبل پیپر رکھا گیا۔ ساری دنیا کے جاسوس کہیں نہ کہیں پکڑے جاتے ہیں لیکن موساد کے ایجنٹ کبھی نہیں پکڑے جاتے۔ اس کی وجہ یہی کاغذ ہے۔ موساد کے ایجنٹ کسی بھی مشن پر تمام کمیونیکیشن اسی پیپر پر کرتے ہیں اور پیغام ریسیو کرنے کے بعد اس کو کھا لیتے ہیں اور کسی بھی قسم کا الیکٹرانک یا دستاویزی ثبوت نہیں چھوڑتے۔
سجن جندل کے خفیہ دورے کے متعلق ہر طرح کی قیاس آرائیاں کی گئیں۔ کوئی اسے ڈان لیکس سے جوڑتا رہا اور کوئی وزیر اعظم کے ہندوستانی میں موجود کروڑوں ڈالرز کے کاروبار کا ذکر کرتا رہا۔ لیکن اصل معاملہ بہت الگ اور گہرا تھا۔ ڈان لیکس میں مقتدر حلقوں کی جمہوریت سے وابستگی کے عزم کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے حکمرانوں نے ایک اور منصوبہ بنایا ۔ جس میں پانامہ کے معاملے کو بھی ڈان لیکس کی طرح جمہوریت کے خلاف سازش کا رنگ دینے کا فیصلہ ہوا۔ لیکن بہت کوشش کے باوجود بھی آزاد و خودمختار عدلیہ کو جھکایا نہ جا سکا ۔ پانامہ کا فیصلہ نوشتۂ دیوار نظر آنے لگا تو اگلے منظر نامے کے لئے ایک گھناؤنی سازش رچائی گئی۔  سجن جندل کے ذریعے وزیر اعظم نے اپنے دوست اور سٹریٹجک پارٹنر نریندر مودی کو پیغام بھجوایا کہ کسی بھی طرح پاکستان کو چیمپئینز ٹرافی جتوانے کا بندوبست کریں ورنہ معاملات ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے ۔ مودی جی نے کرکٹ ایکسپرٹس کو بلا کے بریفنگ لی جس میں ان تمام ٹیموں کا اندازہ لگایا گیا جن سے پاکستان کا میچ ہوسکتا تھا۔ ان ایکسپرٹس میں کیرتی آزاد، شیو لال یادیو، آکاش چوپڑا اور مدن لعل شامل تھے۔ گروپ سٹیج کی ٹیموں سے رابطہ کیا گیا۔ ساؤتھ افریقہ نے صاف انکار کردیا۔ سیمی فائنل اور فائنل کی متوقع ٹیموں میں انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل تھیں۔ گوروں کی مزاحمت سے نبٹنے کے لئے مودی جی نے آخرکار اسرائیلی وزیر اعظم سے رابطہ کیا اور انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے مدد کی درخواست کی۔  یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دنیا کا اصل حکمران اسرائیل ہے۔ ساری دنیا کا میڈیا، بزنس، مالیاتی ادارے سب کو کنٹرول کرنے والے یہودی ہیں۔ جہاں انہیں اپنے مفادات خطرے میں نظر آتے ہیں وہاں یہ پوری قوت سے ضرب لگاتے ہیں۔ اس معاملے میں بھی یہی ہوا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے متعلقہ ممالک کی حکومتوں سے رابطہ کرکے انہیں سخت الفاظ میں پیغام دیا کہ اگر ان کی ٹیم پاکستان سے نہ ہاری تو انہیں اس کی ناقابل تلافی قیمت چکانی پڑے گی۔
ہنگری کے شہر بوڈاپسٹ میں ہونے والی ایک پارٹی میں سجن جندل مدہوش ہو کر اس منصوبے بارے بول پڑے۔ روس کے مشہور اخبار ماسکوپوسٹ کے سٹار رپورٹر نیکولائی کرامازوف تک یہ خبر پہنچی  توانہوں نے آن لائن ایڈیشن میں یہ خبر چھاپ دی۔ دہلی سے تل ابیب تک تھرتھلی مچ گئی۔ اسی وقت کرامازوف کی بیٹی کو ماسکو سے اغوا کرلیا گیا اور خبر ہٹانے کی شرط پر اس کو رہا کیا گیا۔ یہ خبر فورا ہٹا لی گئی اور اگلے دن پرنٹ ایڈیشن میں بھی شامل نہیں کی گئی۔ اس خبر کے سکرین شاٹس انٹر نیٹ پر دستیاب ہیں۔
چیمپئینز ٹرافی شروع ہوئی۔ پہلے ہی میچ میں ہندوستان نے پاکستان کو بری طرح ہرادیا۔ رینکنگ اور موجودہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ غیر متوقع نہیں تھا۔ سابقہ کرکٹرز نے کرکٹ بورڈ پر کڑی تنقید کی ۔ عمران خان نے اپنی ٹوئٹ  میں نواز شریف اور نجم سیٹھی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں پاکستانی کرکٹ کو تباہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ یہود و ہنود کے پلان کے عین مطابق تھا۔ پاکستان کی اوسط سے کم درجے کی بالنگ نے جنوبی افریقن بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا دئیے۔ آملہ، ڈوپلیسی، ڈی کاک، ڈی ویلئیرز جیسے بلّے بازوں کو اڑا کے رکھ دیا۔ سری لنکا کے خلاف میچ میں جیسے سرفراز کے کیچز چھوڑے گئے ان پر کرکٹ ماہرین اب تک حیران ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں بین سٹوکس جیسا کوالٹی آل راؤنڈر ایک بھی باؤنڈری نہ لگا سکا۔ جبکہ اسی وکٹ پر اظہر علی چوکے پہ چوکے لگاتے رہے۔ حتّی کہ حفیظ جیسے کھلاڑی بھی انگلینڈ کے ورلڈ کلاس بالرز کو کلب لیول کے بالرز کی طرح ٹریٹ کررہے تھے۔ یہ سب الارمنگ علامات تھیں لیکن کوئی بھی مشہور کرکٹ تجزیہ نگار اس کی تفصیل میں نہیں گیا۔ سب پاکستانی ٹیم کے فائٹ بیک کی توصیف کرتے رہے۔  اب فائنل درپیش تھا!
پچھلے 25 سال میں کرکٹ کی دنیا میں میچ فکسنگ اور جوئے کا کینسر پھیلا ہوا ہے۔ بہت کم کھلاڑی ایسے ہیں جو اس میں سے کلین ہوکر سامنے آئے ہیں۔ انیل کمبلے ان میں سے ایک ہیں۔ اظہر الدین، جدیجہ، سچن ٹنڈولکر، دھونی، رائنا جیسے سٹارز نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے لیکن کمبلے نے ہمیشہ صاف کرکٹ کھیلی۔ انیل کمبلے کو کوچ بناتے وقت بھی ٹیم میں ان کی مخالفت موجود تھی۔ ان کے ہوتے ہوئے کھیل میں ہیرا پھیری ممکن نہیں تھی۔  چیمپئینز ٹرافی کے فائنل سے قبل میٹنگ میں جب مودی جی کا پیغام پڑھ کے سنایا گیا تو کمبلے نے اس پر عمل کرنے سے صاف انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا انہوں نے ساری زندگی فئیر گیم کھیلی ہے اور وہ کسی بھی قسم کی فکسنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو سخت وارننگ دی کہ اگر انہوں نے جان بوجھ کر خراب کھیل پیش کیا تو وہ اس کو برداشت نہیں کریں گے۔ صورتحال بگڑتی دیکھ کر دھونی نے مودی جی سے رابطہ کیا اور انہیں کمبلے کے موقف سے آگاہ کیا۔ مودی جی نے اسی وقت ٹیم میٹنگ میں کال کی ۔ فون کا سپیکر آن تھا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں ٹیم کو حکم دیا کہ کل ہر صورت فائنل ہارنا ہے۔ اگر کسی کو یہ منظور نہیں تو وہ ٹیم چھوڑ کر جا سکتا ہے۔ کمبلے نے اسی وقت اپنا استعفی لکھا اور ٹیم مینجمنٹ کے حوالے کرکے اپنے کمرے میں چلے گئے۔
فائنل کا آغاز بھی سنسنی خیز تھا۔ بمراکی گیند پر فخر زمان آؤٹ ہوئے تو تھرڈ امپائر نے نوبال قرار دے دی۔ سکرین پر چلتے پھرتے ڈائنو سارز دکھائے جاسکتے ہیں تو ایک سفید لائن کو دو تین انچ آگے پیچھے کرنے میں کیا مشکل ہوسکتی ہے۔ پاکستانی اوپنرز کو یقین دلایا گیا کہ پہلے 20 اوورز میں انہیں کسی بھی طرح آؤٹ قرار نہیں دیا جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ اظہر علی بھی کھل کر کھیلے۔ سب سے دلچسپ چیز حفیظ کے چھکے چوکے تھے۔ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے جانتے ہیں کہ حفیظ نے سارے کیرئیر میں کبھی ایسے بیٹنگ نہیں کی۔ ہندوستانی بالرز کو باقاعدہ ہدایات دی گئی تھیں کہ ہر پاکستان بلے باز کے سٹرانگ پوائنٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے بالنگ کریں تاکہ وہ اپنے فیورٹ شاٹس آزادی سے کھیل سکیں۔ ہندوستانی بیٹنگ کا پاور ہاؤس بھی پاکستانی ایوریج بالنگ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ یووراج سنگھ نے ہاتھ کھولنے کی کوشش کی تو انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا گیا۔ پانڈیا کو جدیجہ نے رن آؤٹ کرا  یا۔ بالآخر پاکستان نے چیمپئینز ٹرافی جیت لی۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ 92 کا ورلڈ کپ  ملک و قوم کی یکجہتی کی واحد وجہ ہے۔ جس نسل کے والدین کی 92 میں شادی بھی نہیں ہوئی تھی وہ بھی اس ورلڈ کپ فتح کے دیوانے ہیں۔ ملک و قوم کو متحد رکھنے والی اس علامت پر ضرب لگانے کے لئے چیمپئینز ٹرافی جیتنے کی سازش کی گئی۔ 92  کی طرح شروع میں بری طرح میچ ہارا گیا۔ پھر اس کے بعد فائٹ بیک کا ڈرامہ سٹیج کیا گیا  اور بالآخر فائنل جیت کے اپنے تئیں ورلڈ چیمپئینز  بن گئے۔ نجم سیٹھی اور کرکٹ بورڈ کی تعریفیں ہونے لگیں۔ یہ سب تیاریاں متوقع پانامہ فیصلے کے بعد ہونے والے انتخابات کی ہیں۔ تاکہ کہا جاسکے کہ ورلڈ کپ تو سرفراز نے بھی جیتا اور ہمارے دور میں جیتا ۔ اس سازش  سے ایک دفعہ پھر عمران خان کا رستہ کاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے  لیکن سازشی ہمیشہ کی طرح ایک دفعہ پھر ناکام و نامراد ہوں گے۔

ورلڈ کپ کا اصلی فاتح صرف ایک کپتان ہے۔ ہمارا کپتان۔۔ عمران خان

متوازی تاریخ

انیس سو چھہتر  کے آخری دنوں میں جب وزیر اعظم بھٹو نے انتخابات کا اعلان کیا تو یہ اپوزیشن کے لئے سرپرائز تھا۔ قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے ۔ متحدہ اپوزیشن نے دھاندلی کے الزامات لگائے اور صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کردیا۔ ایک پُرتشدد تحریک چلی۔ بالآخر حکومت اور اپوزیشن نے مذاکرات کے ذریعے معاملہ طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ 2 جولائی 1977 کو سمجھوتہ ہوگیا اور  وزیر اعظم بھٹو نے اکتوبر 1977میں دوبارہ انتخابات کا اعلان کردیا۔ ان کے ساتھ پریس کانفرنس میں مفتی محمود، نوابزادہ نصراللہ، عبدالولی خان، پروفیسر غفور، غوث بخش بزنجو، شاہ احمد نورانی اور اصغر خان بھی موجود تھے۔ انتخابات کے لئے نگران حکومتوں کا بھی اعلان کیا گیا۔ اپوزیشن اور حکومت کو ان میں برابر نمائندگی دی گئی تھی۔
انتخابات پرامن اور شفاف طریق سے ہوئے۔ مرکز میں پی پی پی نے سادہ اکثریت حاصل کی جبکہ بلوچستان اور سرحد میں متحدہ اپوزیشن نے اکثریت حاصل کرکے حکومتیں تشکیل دیں۔ سندھ اور پنجاب میں بھی پی پی پی کامیاب ہوئی۔ ان انتخابات کی خاص بات یہ تھی کہ پی پی پی کے امیدواروں کی اکثریت متوسط اور نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔  یہ بھٹو کا دوبارہ سے پارٹی کے بنیادی منشور کی طرف رجوع تھا۔ اس سے ان کی سیٹیں تو کم ہوئیں لیکن عام آدمی کا بھٹو پر دوبارہ سے اعتماد بحال ہوا۔  معراج محمد خان سندھ  اور حنیف رامے پنجاب کے وزیر اعلی بنے۔
نومبر 1978 میں بھٹو نے زرعی اصلاحات  کا اعلان کیا۔ اس میں انہیں نیپ، جے یو آئی، تحریک استقلال کی حمایت حاصل تھی۔ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (قیوم) اور مسلم لیگ (دولتانہ) نے اس کی کھل کر مخالفت کی۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن ختم کرکے سب کے لئے عام معافی کا اعلان کیا گیا۔ صوبائی خودمختاری کے لئے آئینی ترمیم کی گئی ۔ خارجہ، دفاع، مواصلات اور خزانہ کے علاوہ تمام اختیارات صوبوں کو منتقل کردئیے گئے۔ فاٹا کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اس کو صوبہ سرحد میں ضم کردیا گیا ۔ ستمبر 78 میں بلدیاتی انتخابات بھی ہوئے جن کا نتیجہ کم و بیش عام انتخابات جیسا ہی تھا۔
دسمبر 79میں سوویت فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بھٹو نے اس جارحیت کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سوویت فوجیں افغانستان سے نکل جائیں اور افغانی عوام کی خواہشات کے مطابق ان کو حکومت بنانے کا موقع دیا جائے۔ اپوزیشن لیڈر اصغر خان نے حکومتی موقف کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے پیشکش کی کہ بحران کے خاتمے کے لئے وہ اور ولی خان ماسکو اور کابل کا دورہ کرنے کو تیار ہیں۔ وزیر اعظم بھٹو نے اس بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔صدر ریگن نے انتخابات جیتنے کے بعد وزیر اعظم بھٹو کو واشنگٹن کے دورے کی دعوت دی۔ پاکستان کو پیشکش کی گئی کہ اگر وہ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں تو انہیں بھرپورفوجی اور معاشی امداد دی جائے گی۔وزیر اعظم نے اس قضیے میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا البتہ انہوں نے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں ہر قسم کی مدد کی یقین دھانی کرائی۔
افغان پناہ گزینوں کے لئے سرحدی علاقوں میں کیمپس بنائے گئے۔ ان کی رجسٹریشن کی گئی اور آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی لگائی گئی۔ مفتی محمود اور ولی خان افغانستان کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں رہے۔ اگست 1982 میں کابل حکومت اور افغان مزاحمت کاروں کے مابین پہلے باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہوا۔  اکتوبر 82 میں عام انتخابات منعقد ہوئے۔ اس دفعہ پی پی پی کے مقابل متحدہ  اپوزیشن نہیں تھی۔ نیپ اور جے یو آئی نے اتحاد کرکے الیکشن لڑا۔ جبکہ اصغر خان کی تحریک استقلال نے سولو فلائٹ کی۔ جماعت اسلامی نے  مولانا مودودی کی وفات کے بعد سیاست اور انتخابات  میں حصہ لینے کی پالیسی سے رجوع کیا اور دعوتی کام کی طرف واپس چلی گئی۔
پنجاب کی حد تک پی پی پی اور تحریک استقلال میں کانٹے کا مقابلہ ہوا۔ اصغر خان کا کرشمہ شہری علاقوں میں نظر آیا جبکہ دیہی علاقوں میں بھٹو کا جادو سر چڑھ کے بولا۔ پی پی پی بڑی مشکل سے سادہ اکثریت حاصل کرسکی۔ سندھ میں پی پی پی، جبکہ سرحد اور بلوچستان میں نیپ اور جے یو آئی کے اتحاد نے کامیابی حاصل کی۔نئی اسمبلی نے حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ شائع کرنے کی متفقہ قراردار منظور کی اور اس میں ذمہ دار ٹھہرائے گئے لوگوں پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کی بھی سفارش کی۔ 16دسمبر 1983 کو سقوطِ ڈھاکہ کے مرکزی کرداروں کے خلاف مقدمے کا آغاز ہوا۔ اس سے ایک ماہ قبل افغانستان کے متحارب فریقین امن معاہدہ کرچکے تھے۔ جس کے تحت ایک نگران حکومت قائم کی گئی جس میں افغانستان کے تمام نسلی و لسانی گروپس کو نمائندگی دی گئی۔ اس حکومت کے تحت ڈیڑھ سال بعد عام انتخابات ہونے طے پائے۔ افغان پناہ گزینوں کی مرحلہ وار واپسی کا عمل بھی شروع ہوا۔ اگلے چھ ماہ میں تمام افغان پناہ گزین واپس جاچکے تھے۔
زرعی اصلاحات پر عملدرآمد میں بہت سی رکاوٹیں آئیں مگر  وزیر اعظم بھٹو نے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ جدیدکاشتکاری کے لئے زمین کے نئے مالکان کو تربیت دی گئی۔ بلاسود زرعی قرضے اور سستی بجلی فراہم کی گئی۔ مارچ 1984 میں چاروں صوبائی حکومتوں کی منظوری سے کالاباغ ڈیم کی تعمیر شروع ہوئی۔اس کا سنگِ بنیاد عبدالولی خان نے رکھا۔
16 دسمبر 1985 کو پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا۔ وزیر اعظم بھٹو نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ پاکستان کبھی کشمیر سے دستبردار نہیں ہوگا اور نہ ہی کشمیریوں کو بھولے گا۔ یہ تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہےجسے آج یا کل مکمل ہونا ہے۔ خطّے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے یو این اور عالمی طاقتوں کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان اور ہندوستان کو مذاکرات کی میز پر لائیں۔ مذاکرات  کے پہلے دور کا آغاز 4 اپریل 1986 کو مری میں ہوا۔ ڈیڑھ سال کی بات چیت کے بعد پاکستان اور ہندوستان ابتدائی سمجھوتے پر رضامند ہوگئے جس کے تحت کشمیر کی سرحد کھول دی گئی اور دونوں اطراف کے کشمیریوں کو آنے جانے کی آزادی دے دی گئی۔ عام شہریوں کے لئے بھی ویزے کی پابندیاں نرم کرکے تقریبا ختم کردی گئیں۔ دو طرفہ تجارت کے فروغ کا بھی فیصلہ ہوا۔
اس تاریخ کو یہیں چھوڑتے ہیں اور 5 جولائی 1977 کو یاد کرتے ہیں!

مکافات کا دریا

کافی پرانی بات ہے۔ کہو تو اب اپنا قصہ نہیں لگتا، کسی اور کی کہانی لگتی ہے۔ یہ وقت کا جادو ہے۔ میں چھوٹا سا تھا۔ اتنا چھوٹا کہ پہلی دفعہ کسی بچے کو گود میں لینے کی اجازت ملی تھی۔یہ میری چھوٹی بہن تھی۔ سردیوں کے دن تھے اور خوب دھند۔ میں نظر بچا کر باہر گلی میں نکل آیا اوراس دھند میں چھُٹکی کو اٹھائے گلی میں گھومتا رہا اور خود کو بڑا  اور معتبر سمجھتا رہا۔
ابوجی کا بچوں کے ساتھ برتاؤ بہت سپیشل ہوتا تھا، اب بھی ہے۔  انہیں کبھی اونچی آواز میں بات کرتے نہیں سنا۔ کبھی کسی بچے کو "تُو"یا "اوئے"  سے مخاطب کرتے نہیں سنا۔ ہمیشہ "تسی" یا نام لے کر پکارتے تھے۔ چھوٹی کے ساتھ لیکن ان کا لگاؤ کچھ الگ ہی تھا۔اس کو خصوصی پروٹوکول دیتے تھے۔ رویّوں پر تو شاید اختیار ہوتا ہے محبت پر نہیں ہوتا۔
چھوٹی شاید ایک ڈیڑھ سال کی تھی کہ  بیمار ہوئی۔ ایک ٹانگ پر پولیو کا شدید اثر ہوا۔ سارے شہر کے اسپتال اور ڈاکٹر چھان مارے۔ لیکن سب کا یہی کہنا تھا کہ ٹانگ ناکارہ ہوگئی ہے۔ چلنا مشکل ہوگا۔ مناسب وسائل رکھنے والا خاندان جتنی دوڑ بھاگ کرسکتا ہے اس سے زیادہ کوشش کی۔ کوئی امید نظر نہیں آئی۔
نڑوالا چوک سے جناح کالونی کی طرف آئیں تو دائیں ہاتھ پر لاؤڈ سپیکرز، ایمپلی فائر وغیرہ کی مارکیٹ ہوا کرتی تھی ۔جہاں سے اکثر "ہیلو ہیلو۔۔ مائیکرو فون ٹیسٹنگ۔۔ہیلو ہیلو" کی آوازیں آیا کرتی تھیں۔  انہی کے درمیان حکیم طفیل کا مطب تھا، اب بھی ہے۔ حکیم صاحب تو انتقال کرچکے ، اب ان کے صاحبزادے مطب سنبھالتے ہیں۔ ابوجی کی حکیم طفیل سے پرانی یاد اللہ تھی۔ نزلہ زکام ، ہلکے پھلکے بخار کے لیے دوا انہی سے لی جاتی تھی۔ مختلف اقسام کے شربت، مربےّ، مزے دار میٹھے خمیرے۔ بچوں کو اسی لیے حکیم کی دوائی پسند تھی۔ نہ انجکشن کا ڈر نہ کڑوے شربت۔ چورن جیسا سفوف اور بزوری یا بنفشے کا مزے دار شربت اور میٹھے خمیرے۔۔ ہاں کبھی کبھار کڑوے جوشاندے بھی پینے پڑتے تھے لیکن اتنی سی قربانی  دی جاسکتی ہے تو   ہنسی خوشی دوا کھا لیتے تھے۔ قصہ مختصر۔۔۔۔ ابو نے حکیم صاحب سے ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک تیل بنانا پڑے گا لیکن اس میں بہت محنت ہے اور اس کے اجزاءبہت مشکل ہے کہ مل سکیں۔ ابو کے اصرار پر انہوں نے اجزاء اور اس کی تیاری کا طریقہ لکھ دیا۔
ابو بتاتے ہیں کہ ساری چیزیں اکھٹی کرنے میں انہیں تقریبا تین مہینے لگے۔ تیل بنانے کا عمل چھٹی والے دن انجام پایا۔ ایسی ناگوار اور تیز بُو تھی کہ ساتھ والی گلی تک اس کا اثر جاتا تھا۔ شفا منجانب اللہ ہوتی ہے۔ خاک سے بھی مل جاتی ہے۔ تقریبا ایک سال تک اس تیل کی مالش کی گئی۔ متاثرہ ٹانگ جو حرکت نہیں کرتی تھی اب اس پر وزن ڈالنا ممکن ہوگیا۔ آہستہ آہستہ چھوٹی نے ٹانگ گھسیٹ کے لنگڑا کے چلنا بھی شروع کردیا۔ ڈاکٹر اورنگ زیب جو ہمارے ہمسائے تھے، وہ بھی اس بحالی   پر حیران تھے۔ وقت گزرتا گیا۔ چھوٹی چل تو سکتی تھی لیکن دوسرے بچوں کی طرح دوڑنا بھاگنا اس کے لیے ممکن نہیں تھا۔ شاید اسی لئے اس کی طبیعت میں تلخی، گرم مزاجی اور چڑچڑا پن آتا گیا۔
انہی دنوں گلی میں کچھ نئے لوگ آئے۔ نکڑ والے مکان کے اوپر ی پورشن میں آنے والے کرائے دار کا نام شیخ طاہر تھا۔ لحیم شحیم، گورے چٹّے۔ سوتر منڈی میں بروکری کا کام کرتے تھے۔ طبیعت میں گرم مزاجی اور بڑبولا پن تھا جسے پنجابی میں پونکا بھی کہتے ہیں۔ ان کی بیگم البتہ بالکل الٹ تھیں۔بہت نرم لہجے اور سبھاؤ والی مہذب اور پڑھی لکھی خاتون۔ کچھ ہی عرصے میں شیخ صاحب کا نام طاہر سے موٹا طاہر میں تبدیل ہوگیا۔ ہر خاص و عام ان کو اسی نام سے یاد کرنے لگا۔  قریبا ایک ہی سال میں انہوں نے اسی گلی میں بابے حاجی کے ساتھ والا مکان خرید لیا۔ ویسپے کو سوزوکی کیری ڈبے سے بدل لیا۔ ہماری گلی میں پہلا اے سی بھی انہی کے گھر لگا تھا۔ 
شیخ صاحب کی تلخ مزاجی اور بد گوئی کا شکار افراد کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ کئی دفعہ بات تلخ کلامی سے ہاتھا پائی تک بھی پہنچی۔ ان کی بدمزاجی کا شکار زیادہ تر وہ لوگ ہوتے جو پلٹ کر جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ مولوی صادق اور استاد خالد سے مار کھانے کے بعد وہ اس ضمن میں کافی احتیاط برتا کرتے تھے۔
متوسط طبقے کے محلّوں میں بچوں کے کھیلنے کی جگہ گلی ہی ہوتی ہے۔ بچّے کھیلتے ہیں۔ لڑتے ہیں۔ پھر سب کچھ بھلا کے کھیلنے لگتے ہیں۔ دل میں مَیل نہیں رکھتے۔شیخ صاحب کی بیٹی بھی چھوٹی کی ہم عمر تھی۔ ایک دن کھیلتے ہوئے شاید لڑائی ہوگئی۔ وہ روتی ہوئی گھر چلی گئی۔  اس کے بعد شیخ صاحب جب بھی چھوٹی کو گلی میں دیکھتے تو اسے "لنگڑی" کے نام سے پکارتے۔ وہ گھر آکے خوب چلاّ چلاّ کے روتی کہ وہ مجھے لنگڑی کہتے ہیں۔ امی جی کبھی پیار سے اور کبھی ڈانٹ کر اسے چپ کرادیتیں۔ یہ معمول طول پکڑ گیا تو امی نے محفل میلاد میں آئی شیخ صاحب کی بیگم سے اس کا ذکر کیا۔ وہ بہت شرمندہ ہوئیں اور یقین دلایا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ لیکن شیخ صاحب اپنی طرز کے واحد انسان تھے۔ چھوٹی کو لنگڑی کہنا کبھی نہیں بھولتے تھے۔ وہ بھی رو پیٹ کے چپ ہوجاتی تھی۔
وقت گزرتا گیا۔ چھوٹی سکول جانے لگی۔ میں بھی سکول کے آخری درجات میں پہنچ گیا۔ خون گرم تھا۔ ایک دو دفعہ شیخ صاحب سے گلی میں کرکٹ کھیلنے پر تلخ کلامی بھی ہوئی۔ ایک کی تین سنیں تو شیخ صاحب مجھ سے کترانے لگے۔ میں کچھ ہتھ چھُٹ بھی مشہور تھا تو شاید یہ وجہ بھی تھی۔ بہرحال انہی دنوں شیخ صاحب ایک اور بیٹے کے باپ بنے۔ بہت خوبصورت، گول مٹول ، گورا چٹّا بچّہ۔ کچھ عرصہ بعد پتہ چلا کہ وہ پیارا بچہ بالکل حرکت نہیں کرسکتا۔ شاید سر کو تھوڑی بہت حرکت دے سکتا تھا۔ سن اور بول بھی نہیں سکتا تھا۔ امی بتاتی ہیں کہ شیخ صاحب کی بیگم ہمارے گھر آئیں اور ہاتھ جوڑ کے کہہ رہی تھیں کہ ہمیں معاف کردیں۔ یہ بیان کرتے ہوئے امی جی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
پس ڈوبنے والوں کو خبر تک نہیں ہوتی
بہتا ہے بہت سُست مکافات کا دریا

فیصلہ

"قتل ہونا چاہنا واں۔ ایہہ جُڑیا پِنڈا وکھو وکھ ویکھنا چاہنا واں"۔ (مولا جٹ)
عظیم مصنّف ناصر ادیب نے کلاسک فلم "مولاجٹ" کے کردار نوری نت سے جب یہ جملہ کہلوایا تو وہ انسانی نفسیات کی دس ہزار سالہ تاریخ کا نچوڑ  تھا۔   تاریخ کا بنظر غائر مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر جرم کے پیچھے ایک نوری نت  ہوتا ہے جس کا مقصد پیسہ، مال منال اور موج میلہ نہیں بلکہ صرف تھرل اور ایڈونچر ہے۔ یہاں نوری نت، مولاجٹ کے سوال "توں چاہنا کِی ایں؟" کا جواب اس آفاقی سچائی سے دیتا ہے کہ میں اپنے اس ثابت جسم کے ٹکڑے ٹکڑے دیکھنا چاہتاہوں کہ اس کے بعد کیسا محسوس ہوتا ہے۔
جب سے انسان نے معاشرتی زندگی شروع کی اور مختلف ادارے اور نظام وضع کیے۔ تب سے عدالتی نظام کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے جو دو فریقین کے مابین ثالثی/انصاف/عدل کا داعی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج تک ناصر ادیب کے اس خیال کو سب نے نظر انداز کیا ؟ بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ نظام عدل نے انسانی نفسیات کے اس پہلو کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا اور ہزاروں سال سے بے گناہوں کو سزا اور گنہگاروں کو باعزت بَری کرتا رہا ہے۔
"شعلے" میں گبّر سنگھ جب سانبھا سے پوچھتا ہے، "کتنے آدمی تھے؟" ۔ تو وہ استفسار نہیں کررہا ہوتا بلکہ فرد جرم عائد کرتا ہے۔ یہ فوری انصاف کی عمدہ مثال ہے۔ صد حیف کہ ہمارا قانون اور نظام اس کو انڈروس نہیں کرتا۔ سرخ فیتے، وکیل، شہادتیں، ثبوت، گواہ۔۔ اس طولانی عمل میں انصاف کا خون ہوجاتا ہے۔ جب کسی معزّز اور معتبر اور ایمان دار شخص نے کہہ دیا کہ فلاں آدمی قاتل/چور/ڈاکو ہے تو اس کی پُچھ پرتیت، تفتیش کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ کیا یہ لوگ ناصر ادیب، سلیم خان اور جاوید اختر جیسےادیبوں کی اجتماعی دانش کا انکار کررہے ہیں؟
 انصاف کسی قانون کا پابند نہیں ہوتا۔ قوانین ہمیشہ مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے کا حیلہ ہوتے ہیں۔  عدل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانا پڑے تو وہ عین فرض ہوگا۔ جدید مہذب مغربی دنیا کے ادب میں اس کی مثالیں جا بجا موجود ہیں۔ بیٹ مین،سپرمین، آئرن مین،سپائڈر مین، ڈئیر ڈیول،جیسیکا جونز، لیوک کیج، تھور، آئرن فسٹ الغرض بے شمار مثالیں ہیں۔ وقت آچکا ہے کہ انصاف کے لیے قانون کی کتابوں میں جھانکنے کی بجائے کامکس، کیبل، انٹرنیٹ اور ٹورنٹس  سے رابطہ استوار کیا جائے۔
بوٹسواناکے عظیم شاعر یولامولو فاکاشونامونا کی ایک نظم  کے ساتھ اختتام کرتا ہوں:-
دھیرے دھیرے پیار
کو بڑھا نا ہے
حد سے گزر جانا ہے
راز جو حد سے باہر میں تھا
اس کو میں پکڑنہیں سکتا
تم میرے ٹائے چڑھ گئے
تو
تم کو میں رغڑ نہیں سکتا
دنیا کیسی دنیا ہے
دل توڑ کے ہنستی ہے
ہنسنے والے ایک دن
تجھے جب رونا پڑے گا
پیار کیا تو نبھانا پڑے گا
بن کے دلہن
ڈولی میں جانا پڑے گا
موت سے کس کو
رستگاری ہے
آج تم کل اس کی باری ہے
وہ جب آنکھ اٹھا کے
کہتا ہے کہ
پپو کانٹ ڈانس سالا
تو کلیجے میں
اک تیر  ترازو ہوتا ہے
ہرسچے جج کا
اک عسکری بازو ہوتا ہے

سَیکل

زبیر نے تَھڑے پر ڈھیر ہوتے ہوئے ہمیں ان تمام الفاظ سے یاد کیا جن کی اکثریت کو دھرانا ممکن نہیں۔ ان میں سے چند "موٹا، پھِینا، سری لنکا، آلو" وغیرہ ہیں۔ شاید مارچ کا مہینہ تھا اور یقینا جمعرات کا دن ، بلکہ رات۔ عشاء کے بعد میں اسے کھینچ کر گلبرگ پارک لے گیا تھا جو عین "کچیاں کہنداں والا سکول" (کچی دیواروں والا سکول) کے سامنے واقع تھا۔ زبیر کو فضول توانائی ضائع کرنا بالکل پسند نہیں تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں پارک میں کوئی کام نہیں ہے تو اتنی دور چل کے جانے کا مقصد کیا ہے؟  تِس پر ہم نے اس کے دنیا میں آنے کے مقاصد پر روشنی ڈال کے اس کے کان لال کیے اور وہ بکتا جھکتا ہمارے ساتھ ہو لیا۔
واپس آکے وہ تھڑے پر ڈھیرہوا اور چھوٹے بھائی کو آواز لگائی، "او ننّے اوئے۔۔۔ پانی لیاء ٹھنڈا"۔ پانی کا جگ، گلاس سمیت آیا اور اس کے ساتھ ایک خاکی لفافہ بھی تھا جس پر چکنائی کے نشان تھے۔ لفافے میں برفی، چم چم اور دیگر مقویات قلیل سی مقدار میں موجود تھیں۔ پتہ چلا کہ ننھے بھائی جان، مسجد میں گیارہویں شریف کی جمعراتی محفل میں شریک ہوئے تھے اور تبرّک کھانے کے ثواب کے پیش نظر دو لفافے کڑیچ کر لائے تھے۔  ثواب بہت مفید چیز ہوتی ہے۔ جہاں سے ملے، لے لینا چاہیے۔
دس پندرہ منٹ تک تھڑے پر رونق لگنی شروع ہوگئی۔ ان زمانوں میں چونکہ سوشل میڈیا نہیں تھا تو لوگ ایک دوسرے سے مل کے سوشل ہوجایا کرتے تھے۔ جوں جوں گھڑی نو کی طرف بڑھنے لگی رش چھٹنے لگا۔ شانی کو اس کی امی آوازیں دینے لگیں۔ بِلّے نے پی ٹی وی پر آنے والی فلم دیکھنی تھی۔ میں اور زبیر البتہ بیٹھے رہے کہ گدّی خالی نہیں چھوڑی جا سکتی ۔ زبیر نے اچانک سرگوشی کی۔۔۔ اوئے، مُلاّں آریا ای ۔۔۔ چل شغل لائیے۔۔۔
مُلاّں، ہماری گلی میں رہتا تھا۔ نام تو یحییٰ تھا لیکن اس کی خشخشی سی داڑھی، اس کے والد کے امام مسجد ہونے اور اس کے حافظ ہونے کی وجہ سے اس کا نِک نیم ، مُلاّں پڑ گیا تھا۔ مُلاّں، ہیپی گو لکّی قسم کا انتہائی معصوم بندہ تھا۔ اس کو ان سارے کاموں کا بہت شوق تھا جو ہم کرتے تھے۔ فلمیں دیکھنا، کرکٹ کھیلنا، مار کٹائی کرنا۔۔۔ لیکن ابّا کے خوف  کی وجہ سے وہ ان سب سے دور رہتا تھا۔ اس کا ہمارے بارے خیال یہ تھا کہ ہم انتہائی چالو اور بدمعاش قسم کے افراد ہیں اور دنیا میں جتنے بھی غلط اور مزے دار کام ہیں، ہم ان سب میں ملوث ہیں۔ یہ بہرحال مُلاّں کا حُسنِ ظن تھا لیکن ہم اس پرسپشن کو بخوشی تسلیم کرتے تھے  کہ۔۔۔ یاراں دا ای کَم اے۔۔۔
مُلاّں کو آواز دے کے ہم نے تھڑے پر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ زبیر نے ادھر ادھر دیکھ کے آہستگی سے کہا، "پینی اوں؟" مُلاّں نے حیرانگی سے پوچھا، "کیا؟" زبیر نے جگ کی طرف دیکھا اور انگوٹھے سے پینے کا اشارہ کیا۔ مُلاّں کی آنکھیں پینے سے پہلے ہی نشیلی ہوگئیں۔ وفورِ شوق سے پوچھا، "قسمے؟" یہاں ہم نے دخل اندازی کی۔ "پینی اوں تے گل کر، ایویں یبلیاں نہ مار"۔ زبیر نے چوتھائی گلاس بھر کے مُلاّں کو دیا اور ہدایات دیتے ہوئے بولا۔ "اکّو دم ناں پیویں۔ ہولی ہولی چسکیاں لے کے پیویں"۔ مُلاّں نے پہلی چسکی لی تو اس کے چہرے پر شک کی پرچھائیاں لرزنے لگیں۔ "یار، اے تے پانی ورگی اے بالکل"۔  زبیر نے گھُرکا، " ماما، مہنگی شے وے، نہ ایدی بوَ تے ناں ای کوڑی"۔ مُلاّں نے پہلا "پیگ" ختم کیا تو ہم نے اسے لفافے سے برفی نکال کے پیش کی اور کہا کہ اس کے ساتھ میٹھا کھائیں تو صحیح چڑھتی ہے۔ ویسے تو لائلپوریوں کو صرف مٹھائی بھی کھلا دیں تو ان کو نشہ ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد ہم نے مُلاّں کو تین پیگ اور پلائے اور مُلاّں فُل ٹُن ہوگیا۔ اس کی آواز بھاری اور آنکھوں میں نشیلے ڈورے تیرنے لگے۔ ہم نے مزید احتیاطی تدابیر بتاتے ہوئے کہا کہ گھر جاکے کسی سے کوئی بات نہیں کرنی۔ کوئی چیز نہیں کھانی اور جاتے ہی سوجانا ہے۔ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ مُلاّں نے شانِ بے نیازی سے اثبات میں سر ہلایا۔
ہم نے مُلاّں سے انتہائی رازداری سے پوچھا کہ یہ شانی بارے بہت سی افواہیں سننے میں آتی ہیں۔ کیا یہ باتیں سچ ہیں۔ مُلاّں نے جھومتے ہوئے  قطعیت سے کہا، " سیکل اے"۔  ہم نے بات آگے بڑھائی۔
"اور بِلاّ؟"
"سیکل اے"
"موٹا طاہر؟"
"سیکل اے"
"غلام فرید؟"
"سیکل اے"
"زبیر؟"
"سیکل اے"
"مینجر؟"
"سیکل اے"
"جعفر؟"
"سیکل اے"
"جانی؟"
"سیکل اے"
"ریاض؟"
"سیکل اے"
"تے مُلاّں؟ "
"سیکل اے"۔ 

خدا، بہار اور اَدبار

شجر سوکھتے ہیں۔ پتّے جھڑتے ہیں۔ مایوسی دلوں میں گھر کرجاتی ہے۔لیکن  بارِ دگر بہار آتی ہے۔ شجر ہرے اور شگوفے کھِل جاتے ہیں۔چمن آباد ہوتا ہے۔  خدا پر ہمارا یقین نہیں۔ مایوس ہم ہوجاتے ہیں۔ خزاں کے بعد بہار ہے۔خزاں کے بعد بہار ہے۔۔۔۔
درویش نے کہا تھا کہ اونچی نیچی زمین کے باسی متلوّن مزاج  ہوتے ہیں مگر چند مستثنیات۔۔۔ آٹھ سال ادھرموسم سرما کی دھند آلود خنک رات یاد آتی ہے۔  قہوۂ سیاہ کا پیالہ  تھامے، فرنگی جسے کافی کے نام سے پکارتے ہیں،  طالب علم نے سپہ سالار سے دریافت کیا، " تابکہ؟"۔ سپہ سالار نے سگریٹ کا پیکٹ میز سے اٹھایا۔ سگریٹ  نکالا اور پیکٹ پر فلٹر والا سرا ٹھونکتے ہوئے تفکّر کیا۔ داغِ مفارقت دیتے سگریٹ سے نیا سگریٹ سلگایا۔ اب طالبعلم پر بھید کھلتا ہے کہ یہ استعارہ، چراغ سے چراغ جلانے کا تھا۔ اس مردِ صابر نے ایک ہی کَش میں آدھا سگریٹ پھونکنے کے بعد جاسوسی ڈائجسٹ سے نظر اٹھائی اور کہا، "جلد ہی، صاحب، جلد ہی"۔ یادداشت گاہے ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ قوموں کی بھی۔ تشہیر کا ہَوکاسپہ سالار کو نہیں تھا۔ وگرنہ کارنامے ایسے کہ شاید و باید۔ دہشت گردوں کے مقابل وہ پورے قَد سے کھڑا رہا۔ امریکیوں اور ان کے کاسہ لیس حکمرانوں کے مقابل بھی۔ ایک لحظہ کو قدم ڈگمگائے نہ عزم لڑکھڑایا۔
کیسا بہتا ن ہے جو نہ گھڑا گیا ہو۔زندگی جہدمسلسل ہو تو ایمان زادِ رَہ ہوتا ہے۔ بھائیوں کا نام لے کر زبانِ طعن اس عظیم سپہ سالار پر دراز کی گئی جس کے کارنامے آنے والے زمانے کی درسی کتب میں چھپیں گے۔یہ سب اس دور میں ہوا جب شور و تشہیر کا غلغلہ بلند تھا۔ جیسے دنیا  کندھوں پر اٹھا رکھی ہو۔ فردِ عمل کا گوشوارہ ملاحظہ ہو تو چند نغموں، کچھ تصویروں اور مٹھی بھر ٹویٹوں کے سوا کھاتہ خالی نکلے۔ قریباً دو سال قبل، فقیر نے مشترکہ دوست کے ذریعے رابطہ کیا۔ کورا جواب، حضورِ والا، کورا جواب۔۔۔ درویش سچّا ہے۔ مزاج کی رُکھائی اور خودنمائی یکجا ہو جائیں تو ایسا ہی کرشمہ، منصّہ شہود پر آتا ہے۔ جواب ملا، " نہ میں سگریٹ اور ٭٭٭٭ پیتا ہوں نہ کافی۔۔۔ اور نہ میرے پاس فالتو وقت ہے"۔ دل  لہو ہوا اور چشم خونبار۔۔۔  دل دُکھا ہو تو درویش کا ڈیرہ ،فقیر کی آخری پناہ گاہ ہے۔ بجھے ہوئے سگریٹ جیسی شکل دیکھی تو درویش بے تاب ہو اٹھا۔ اپنے پاس بٹھایا۔ صوفے کے نیچے ہاتھ ڈال کے ڈَن ہل کا پیکٹ نکالا اور الماری کے نچلے خانے سے بلیولیبل۔ ایک کَش لیا، پھر ایک گھونٹ۔ طبیعت بحال ہوئی تو ماجرا عرض کیا۔
ہموار زمین کا سپُوت ہی مزاج  کا نرم اور عمل کا دھنی ہوگا۔ چہرے پر شفیق بزرگ جیسی نرماہٹ اور آنکھوں میں شکار پر جھپٹنے والے شہباز جیسی چمک۔  قریباً ایک عشرہ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آنکھ نہ جھپکی۔ایک افسر سے بات ہوئی۔ سراپا تعریف اور مجسم احترام۔ ایسی کہانیاں کہ راوی معتبر نہ ہو تو قرونِ اولیٰ کے صاحبِ کشف کی واردات لگے۔صراطِ مستقیم  کی مثال زندگی۔۔۔۔تشہیر سے نفور اور عمل سے محبّت۔ ۔۔۔۔اقبالؒ وجناح ؒ کے رستے کا مسافر۔۔۔۔ سحر خیز و شب بیدار۔۔۔۔ کتاب سے عشق۔۔۔۔ وطن کی مٹّی سے محبّت خون میں گھلی ہوئی۔۔۔۔ کیا ادبار سے نجات کا وقت آپہنچا؟ درویش نے سر اٹھایا اور تبسّم فرمایا۔ فقیر کو جواب مل گیا۔۔۔ دل شاد ہوا۔۔۔

شجر سوکھتے ہیں۔ پتّے جھڑتے ہیں۔ مایوسی دلوں میں گھر کرجاتی ہے۔لیکن  بارِ دگر بہار آتی ہے۔ شجر ہرے اور شگوفے کھِل جاتے ہیں۔چمن آباد ہوتا ہے۔  خدا پر ہمارا یقین نہیں۔ مایوس ہم ہوجاتے ہیں۔ خزاں کے بعد بہار ہے۔خزاں کے بعد بہار ہے۔۔۔۔

پانامہ کا ہنگامہ - آخری کَڑی

پانامہ کے معاملے میں بری طرح پھنس جانے کے بعد نواز شریف کے سامنے بچاؤ کا کوئی رستہ باقی نہیں رہا تھا۔  آخری حل یہی تھا کہ استعفٰی دینے کے بعد اقتدار شہباز شریف یا چوہدری نثار میں سے کسی کے سپرد کردیں  اور نواز شریف اس پر راضی تھے  ان کی شرط صرف یہ تھی کہ ان کی دولت کو نہیں چھیڑا جائے گا لیکن یہ راستہ عالمی اسٹبلشمنٹ کے لیے قابلِ قبول نہیں تھا۔  اس خطے میں اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے پاکستان میں نواز شریف سے بہتر مہرہ انہیں کوئی اور نظر نہیں آرہا تھا۔ انہوں نے اس سارے معاملے سے توجہ ہٹانے کے لیے نواز شریف کے ذاتی دوست مودی کے ذریعے کبھی بم دھماکے کرائے، کبھی سرحدوں پر گولہ باری حتی کہ سرجیکل سٹرائیک جیسا بودا ناٹک بھی کیا گیا۔ لیکن ان سب اقدامات کے باوجود محب وطن حلقے پانامہ کیس پر مٹی ڈالنے کے لیے تیار نہیں تھے۔  
پیرالل یونیورس یا متوازی کائنات کا تصوّر ہمیشہ سے انسان کے لیے پُراسرار رہا ہے اور اس کے عدم اور وجود پر مختلف آراء ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ ایک مادی دنیا ہے  اور ایک اس سے ماورا میٹا فزیکل یا روحانی دنیا ہے۔ اس دنیا کے اپنے اصول و ضوابط ہیں۔ عام انسان کے لیے اس دنیا کے اسرار کو جاننا ناممکن ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دنیا میں حق اور باطل کی کشمکش جاری رہتی ہے۔ نوری اور ناری علوم کے دو مکاتب فکر ہیں جو ہر پل ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی جدوجہد میں رہتے ہیں۔
اب جو کہانی آپ کے سامنے آنے والی ہے یہ رونگٹے کھڑے کردینے والے ٹھوس حقائق پر مشتمل ہے۔ بابا رام دیو کے نام سے ہندوستان میں ایک یوگی ہیں جن کا میڈیا پر بھی کافی شہرہ ہے۔ یہ نریندرا مودی کے قریبی ساتھی ہیں۔ بابا رام دیو  انسانی حواس سے ماورا روحانی دنیا میں ناری علم والے گروہ کے ترجمان ہیں۔ بالآخر مودی نے بابا رام دیو سے پانامہ والے معاملے میں مدد مانگی کہ اس معاملے کو سلجھانے میں ہماری مدد کریں۔ روحانی دنیا کا ایک غیرتحریری اصول یا آئین ہے جس پر دونوں فریق عمل کرتے ہیں ۔ اس اصول کے مطابق ماضی اور مستقبل میں سفر کیا جا سکتا ہے لیکن جو واقعات ہوچکے ہیں ان کو بدلنے کی کوشش نہیں کی جاتی کیونکہ اس سے مادّی دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوسکتا ہے۔ اس اصول پر سینکڑوں سال سے دونوں متحارب فریق عمل کرتے آئے ہیں اور تاریخ کے بہت سے نازک ادوار میں بھی جب ایک فریق کی بقاء داؤ پر لگی ہوئی تھی اس اصول سے رُوگردانی نہیں کی گئی۔  لیکن پانامہ والے معاملے میں عالمی اسٹبلشمنٹ کا اتنا کچھ داؤ پر لگاہوا تھا کہ انہوں نے اس  غیرتحریری اصول کی خلاف ورزی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔  بابا رام دیو کے سپرد یہ کام کیا گیا کہ وہ اسّی کی دہائی میں جا کے کچھ واقعات میں تبدیلی کرنے کی کوشش کریں۔
یہ 1980 کا سال تھا۔ مئی کا مہینہ انگلستان میں کافی سرد ہوتا ہے۔ کاؤنٹی سیزن کا آغاز تھا۔ عمران خان بطور پروفیشنل کرکٹر کاؤنٹی کرکٹ کا جزو لاینفک تھے۔ یہ ویک اینڈ کی بات ہے۔ لندن کے علاقےساؤتھ ہال کی جامع مسجد میں عشاء کی نماز ہوچکی تھی۔ مسجد میں گنے چنے نمازی موجود تھے۔ ان میں ایک وجیہہ و شکیل نوجوان بھی تھا جو نماز سے فارغ ہونے کے بعد تلاوت میں مصروف تھا۔ یہ نوجوان عمران خان تھا۔  ان کو جب بھی کرکٹ کی مصروفیت میں سے وقت ملتا وہ زیادہ تر اسے مسجد میں گزارتے تھے۔ اس  رات وہ دیر تک مسجد میں موجود رہے۔ تلاوت کے بعد وہ وظائف میں مشغول تھے کہ اچانک ایک دودھیا روشنی نمودار ہوئی اور اس میں ایک نورانی صورت والے بزرگ کی شبیہ نظر آنے لگی۔ فطری طور پر وہ پریشان ہوئے اور ذرا خوفزدہ بھی۔ لیکن پھر انہوں نے خود پر قابو پایا اور بزرگ سے پوچھا کہ وہ کون ہیں اور یہ سب کیا ہے۔
بزرگ نے ہلکا سا تبسم کیا اور فرمایا ، "عمران! اس عالم شباب اور اس ترغیب بھری دنیا میں تمہارا  تقوٰی اور پرہیزگاری ایسی ہے کہ اکابرین کے زُہد کو شرماتی ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے تمہارے سپرد ایک اہم کام کیا جارہا ہے۔ میں جیسا کہتا رہوں ویسے کرتے جاؤ۔ کچھ کام ایسے ہوں گے کہ تمہیں وہ غلط لگیں گے لیکن ان کی مصلحت تم نہیں سمجھ سکو گے اس لیے ان پر شک مت کرنا اور پورے یقین کے ساتھ اس پر عمل کرنا۔ تمہارے سب اعمال اس اُمّت کے لیے خیر کا باعث ہوں گے"۔
یہ بزرگ کوئی اور نہیں بلکہ بابا رام دیو تھے اور انہوں نے نورانی صورت والے بزرگ کا بھیس بدل کر نوجوان عمران خان کو دھوکہ دیا۔ اس کے بعد ان سے ایسے کام کروائے جو ماضی کے اہم واقعات کو تبدیل کرنے والے تھے۔ اس واقعے سے پہلے عمران خان کی نہ کوئی آف شور کمپنی تھی اور نہ ہی ان کی زندگی ایسے لہو و لعب میں گزری تھی۔ انہوں نے نو اگست دو ہزار سولہ تک اسی تقوٰی اور پرہیزگاری کے ساتھ زندگی گزاری  جیسے اپنی جوانی میں تھے۔ بانوے کے علاوہ ستّاسی کا ورلڈ کپ بھی پاکستان ان کی کپتانی میں جیتا تھا۔ لیکن ماضی تبدیل ہونے کی وجہ سے دس اگست دو ہزار سولہ کے بعد تاریخ بدل چکی ہے۔ اب  ہم تاریخ  بارے وہی جانتے ہیں جو بابا رام دیو اور ان کے شیطانی ٹولے نے اسّی کی دہائی میں جا کے تبدیل کی تھی۔ 1987 کا ورلڈ کپ بھی اس نئی ٹمپرڈ ہسٹری کے مطابق پاکستان ہار چکا ہے۔ ڈکی برڈ اور ڈیوڈ شیفرڈ  سے غلط فیصلے کروا کے پاکستان کو سیمی فائنل ہروا دیا گیا۔ اگرچہ بانوے کے ورلڈ کپ میں  بھی بابا رام دیو نے اس نورانی صورت والے بزرگ کے بھیس میں عمران کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی تم ان فٹ ہو، نہیں کھیل سکتے۔ لیکن عمران نے ان فٹ ہونے کے باوجود انجکشن لگوائے اورشدید تکلیف کے عالم میں کھیل کر پاکستان کو اس فتح سے محروم ہونے سے بچا لیا۔
یہ ایک ایسی خوفناک اور بھیانک حقیقت ہے جو ہم میں سے اکثریت کے لیے قابل قبول نہیں۔  لیکن جیسا انگریزی میں کہتے ہیں کہ رئیلٹی از سٹرینجر دین فکشن۔۔۔ اس معاملے میں یہ کہاوت سو فیصد درست بیٹھتی ہے۔ یہ رئیلٹی دنیا کے کسی بھی فکشن کے مقابلے میں عجیب تر اور ناقابل یقین ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ شیطانی ٹولے کی اس بھیانک کارروائی کا روحانی دنیا میں نوٹس نہیں لیا گیا۔ سب سے پہلے یہ واردات گوجر خان کے نواح میں آباد درویش کے علم میں آئی۔ یہ جولائی 2016 کے وسط کی بات ہے۔ انہوں نے فوراً پیرس میں بابا صاحب کے ادارے سے رابطہ کیا ۔ باباصاحب کے ادارے سے محی الدین نواب کے اکثر قارئین واقف ہوں گے۔ انہوں نے اپنی مشہور زمانہ کہانی "دیوتا" میں اس کے حوالہ جات افسانوی رنگ میں استعمال کیے ہیں۔ اگرچہ اس ادارے کی ساخت اور طریقۂ کار اس سے کافی مختلف ہے جیسے 'دیوتا' میں بیان ہوا ہے۔ بہرکیف ہنگامی بنیادوں پر اس سازش کا توڑ کرنے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔ روحانی دنیا یا پیرالل یونیورس کا واحد غیرتحریری اصول ٹوٹنے پر ایک انارکی کی سی کیفیت برپا ہوچکی ہے۔ رحمانی گروہ والے اس  مذموم کارروائی پر شدید برانگیختہ ہیں اور ان کی جانب سے منہ توڑ جواب دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اگلے چند ماہ میں ہم تاریخ میں بہت بڑی تبدیلیاں دیکھیں لیکن ظاہر ہے کہ ہم ان کو نوٹس کرنے کے قابل نہیں ہوسکیں گے کیونکہ اس وقت وہی اس وقت کی حقیقت ہوگی۔
عمران خان کو روکنے کے لیے شیطانی ٹولے نے جس پنڈورا باکس کو کھولاہے اس سے نکلنے والی بلائیں اب مشکل سے ہی واپس جائیں گی۔ یہ ساری کتھا اس چیز کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے کہ پانامہ کا ہنگامہ یوں ہی برپا نہیں ہوا۔ یہ کائنات کی حقیقت کو بدلنے کی سازش ہے۔ انتظار اب صرف اس بات کا ہے کہ فتح کس گروہ کی ہوتی ہے اور ہم کس گروہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
رہے نام اللہ کا!

عفیفہ، لمڈا اور ڈان

برّصغیر پاک وہند کے غیّور لوگ یا تو فلموں کے شائق ہوتے ہیں یا خود چھوٹی موٹی فلم ہوتے ہیں۔  اچھے زمانوں میں فلم بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا  تھا۔ ایک خوبرو ، تندرست عفیفہ، ڈاڑھی مونچھ مُنڈا ایک لمڈا اور پوری دنیا پر حکومت کرنے کے منصوبے بنانے والا ایک عجیب الخلقت ڈان۔ یہ تین چیزیں لے کر ان میں عفیفہ کی غربت، لمڈے کی خودداری اور ڈان کی بے غیرتی شامل کردی جاتی تھی۔ حسبِ خواہ شائقین کا دل بہلانے کو ایک آدھ مسخرہ (ہماری ضرورت ہر دور میں رہی ہے)، رقص و سرود، بیمارماں، چالاک سہیلی، وفادار دوست، کالج کا غائب دماغ پروفیسر، ڈان کا خصوصی چمچہ بھی  ہوتا تھا۔  یہ سب چیزیں  فلم کے ڈبّے میں ڈال کر زور زور سے ہلائی جاتی تھیں تاکہ ایسے یکجان ہوجائیں جیسے جامن ڈبّے میں نمک سمیت ڈال کر ہلانے سے جامن اور نمک یکجان ہو کر "جَمُّو  راء  کالے" (یہاں راء سے مراد وہ والی را نہیں ) بن جاتے ہیں۔
ان  اجزاء میں سب سے دلچسپ عفیفہ ہوا کرتی تھیں۔ ان کے والدین میں سے ایک دائمی مریض  ہوتا تھا جو ہر وقت چارپائی پر پڑا کھانستا رہتا تھا اور پانی پانی پکارتا تھا اور دوسرا محنت مزدوری کرکے گھر کا خرچ، بیمار کی دوائی اور عفیفہ کے زرق برق ملبوسات، بھاری بھرکم زیورات اور سات کلو یومیہ میک اپ کا خرچ اٹھا تا تھا۔ عفیفہ کالج بھی جاتی تھیں۔ گھر سے نکلتے ہوئے  میڈم فرحت ہاشمی کی طرح چادر میں لپٹی ہوتی تھیں۔ رستے میں لُچّے لفنگے ان کے حسنِ بے پناہ سے متاثر ہوکر سیٹیاں وغیرہ بھی مارا کرتے تھے۔ یہی عفیفہ جب کالج پہنچتی تھیں تو یویو ہنی سنگھ کے گانے کی ماڈل بن جاتی تھیں۔ اب کی بار سیٹیاں فلم بین بجاتے تھے۔یہیں عفیفہ کی ملاقات لمڈے سے ہوتی تھی جو فلم کے اختتام پر دنیا کو تباہ ہونے سے بچاتا تھا۔
عفیفہ کے گھریلو اور مدرسی ملبوسات میں وہی فرق ہوتا تھا جو آخری روزے اور عید کے دن مسلمانوں کے جذبات میں ہوتا ہے۔ گھر میں سفید دوپٹہ سے سر اور دیگر اشیاء کو اچھی طرح ڈھانپےہوئے مٹی کے چولہے پر  روٹیاں پکاتی ہوئی عفیفہ، کالج میں جاتے ہی ایسی ساڑھی میں ملبوس ہوجاتی تھیں جس کےبارے غالب کہہ گئے ہیں       ؎
آفریں اس دو گرہ کپڑے کی قسمت
جس کی قسمت میں ہو عفیفہ کا بلاؤز ہونا
کندھوں سے کمر کے خَم تک صرف ایک ڈوری سے ستر پوشی کی اس سے عمدہ مثال ملنی مشکل ہے۔ عفیفہ پر موسمی حالات بھی اثر نہیں کرتے تھے۔ برفباری میں بھی عفیفہ ایسے کپڑے پہن کے رقص کرتی تھیں جس سے ان کی سردی دور ہو نہ ہو، فلم بینوں کے کانوں سے دھوئیں اٹھنے  لگتے تھے۔  جملہ فنون جیسے کھانا پکانا، پڑھائی، سلائی وغیرہ کے علاوہ  عفیفہ کی رقص میں مہارت بھی قابل صد تحسین ہوتی تھی۔ لمڈے بھائی کے ساتھ تو ان کا رقص قابلِ دید ہوتا ہی تھا لیکن فلم کی آخری ریلوں میں ڈان کے اڈّے پر ان کے سب ہم نفسوں کے سامنے بھی عفیفہ جان توڑ کے ناچتی تھیں۔ جبکہ لمڈے بھائی ان کو سختی سے منع بھی کرتے تھے کہ ۔۔۔ عفیفہ۔۔ ان کُتّوں کے سامنے مت ناچنا۔۔۔ لیکن جیسا کہ ہمیں علم ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور نہ ہی فن، موقع محل دیکھتا ہے۔ ناچنا شروع کردیتا ہے۔۔۔
عفیفہ کی ایک خوبی اوربھی تھی۔ یہ جب بھی مہین لباس میں ہوتی تھیں تو یکدم بارش شروع ہوجاتی تھی جس کی وجہ سے انہیں مجبور اً توبہ شکن رقص و سرود کا مظاہرہ کرنا پڑتا تھا۔ سنا ہے اگلے زمانوں میں راگ گانے سے بارش ہونے لگتی تھی۔ عفیفہ راگ کے ساتھ رنگ شامل کرکے اسے رنگین  بنا دیتی تھیں۔
فلم میں ہیرو اتنا ہی ضروری ہے جتنے زندگی میں خواب۔ خوابوں کے بغیر زندگی گزر تو جاتی ہے لیکن کافی بورنگ ہوتی ہے۔  تو ہمارے لمڈے بھائی زیادہ تر یتیم اور لاوارث ہوتے تھے لیکن کہیں نہ کہیں سے ان کو ایک بہن مل ضرور جاتی تھی ۔ جس کی عزت و عصمت کی حفاظت ان کی زندگی کا لائحہ عمل ہوتی تھی لیکن لمڈے میاں  عفیفہ سے سرعام وہی حرکات کرتے پائے جاتے تھے جن سے وہ اپنی بہن کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔خیر یہ تو فلم ہے۔ اس میں ایسا ہی ہوتاہے۔
لمڈے میاں کو کبھی کبھار بذریعہ لاکٹ یا ایک عدد جذباتی، نیّرسلطانوی گانے کی بدولت ایک بھائی بھی فلم کے آخر میں مل جاتا تھا۔ یہ والا بھائی زیادہ تر ڈان کا دایاں ہاتھ ہوتا تھااور ساری فلم میں لمڈے  بھائی کو ناکوں چنے چبواتا رہتا تھا۔  لیکن عین اس وقت جب ڈان انکل ہیرو کا رام نام سَت کرنے لگتے تھےتو کوئی ناہنجار پرانا جذباتی گانا بجانا شروع کردیتا تھاجس سے دونوں بھائی ایک دوسرے کو پہچان لیتے تھےاور اتفاق  میں برکت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے ڈان انکل اور ان کے کارندوں کو گدّڑ کُٹ لگا کر رقص کرتی ہوئی عفیفہ کو بصد مشکل روکتے تھےکہ رقص موقوف کردو پارو۔۔۔ سب وفات پا گئے ہیں۔
لمڈے میاں کی بندوق بھی سٹیٹ آف دی آرٹ ہوتی تھی۔ لکڑی کی بندوق ہونے کے باوجود اس میں لامتناہی گولیاں ہوتی تھیں اور ڈان انکل کے تقریباً تئیس ہزار کن ٹُٹّوں کو جہنم رسید کرنے کے بعد اس کی گولیاں عین اس وقت ختم ہوتی تھیں جب وہ ڈان انکل کو گولی مارنے لگتے تھے۔ ڈان انکل کے پستول سے نکلی ہوئی ستائیس گولیوں کو گیڑا کرانے کے بعد جب پستول خالی ہوجاتا تھا تو لمڈے میاں ان کو مُکّوں اور ٹھڈوں سے خوب پیٹتے تھے اور آخر کار ڈان انکل کو کسی بانس وغیرہ میں پَرو کر جہنم واصل کرتے تھے۔  اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندوق میں ایک گولی اضافی ہو تو کافی اٹھا پٹخ سے نجات مل سکتی ہے۔
بہر کیف لمڈے میاں کی غربت اور خودداری کے باوجود ان کے ڈیزائنر سوٹ، چشمے اور جوتوں سے فلم بینوں کو اخلاقی سبق ملتا تھاکہ کبھی ہمّت نہ ہاریں اور ہمیشہ اس بات پر یقین رکھیں کہ۔۔۔ ایک دن آپ بھی کسی فلم میں لمڈا بن جائیں گے۔
ڈان انکل فلم کا اٹوٹ انگ ہوا کرتے تھے۔ ان کے عالیشان محل نما اڈّے میں توبہ شکن حسیناؤں اور صورت حرام گن مینوں کی تعداد  یکساں ہوتی تھی۔ ڈان انکل اتنی دلرباؤں کی ہم نشینی کے باوجود لمڈے میاں کی کیوٹ سی گھریلو بہن پر جی جان سے عاشق ہوجایا کرتے تھے اور ہر حال میں ان کے ساتھ ویسے ڈوئیٹ گانے کی خواہش رکھتے تھے جیسے لمڈے میاں اور عفیفہ اکثر و بیشتر جذباتی ہوکے گاتے تھے۔ لیکن لمڈے میاں ایک غیرت مند بھائی تھے اور ڈان انکل کی ایسی خواہشات کے سامنے سدِّ راہ ثابت ہوتے تھے۔
ڈان انکل  کے ٹھوس و مائع منشّیات، اسلحہ، اغواء برائے پیار، جوا، کنسٹرکشن، شپنگ کے علاوہ ہوٹلز کے بزنس بھی تھے۔ آپ ہر وقت  ایک ہاتھ میں ارغوانی مشروب کا گلاس اوردوسرے ہاتھ میں ناکافی لباس والی حسینہ کی کمر تھامے رہتے تھے۔ یہ سب ہونے کے باوجود ڈان انکل کا غصہ ہر وقت عروج پر رہتا تھا۔ جس کو ٹھنڈا کرنے کے لیے حسینائیں وقتاً فوقتاً ہیجانی رقص پیش کرتی تھیں۔ ڈان انکل اتنے بے وقوف ہوتے تھے کہ یہ سب موجود ہونے کے باوجود دنیا پر حکومت کرنے کے منصوبے بناتے رہتے تھے۔ اگر ان میں ذرا سی بھی سمجھداری ہوتی تو بِل کلنٹن سے سبق حاصل کرتے جو بے چارے ایک حسینہ کے ساتھ نام آنے پر کھجل ہوتے رہے جبکہ ڈان انکل تو  ایسی کھَے پوری فلم میں کھاتے رہتے تھے۔ ڈان انکل کو ایک مجہول سا ثمرمبارک مند نما سائنسدان بھی مل جاتا تھا جو انہیں دنیا پر حکومت کرنے کے لیے وڈّا بمب بنا دیتا تھا۔ عین اس وقت جب ڈان انکل دنیا پر حکومت کرنے کے لیے تقریباً تیار ہوتے تھے انہیں لمڈے بھائی کی کیوٹ سی بہن یاد آجاتی تھی اور وہ اسے اغوا برائے پیار کروا لیتے تھے۔ اس بھرشٹا چار سے مجبور ہو کر لمڈے بھائی اپنی بندوق نکال کے ڈان انکل کے اڈّے پر دھاوا بول دیتے تھے ۔ جہاں ڈان انکل نے لمڈے کی بہن کو ایک ستون کے ساتھ باندھا ہوا ہوتا تھا۔ اور کسی عجیب و غریب وجہ سے عفیفہ بھی وہاں اپنی مشہور زمانہ ڈوری والی ساڑھی کے ساتھ آخری رقص عرف ان کُتّوں کے سامنے مت  ناچنا ،پیش کرنے کے لیے تیار ہوتی تھیں۔ جیسے ہی عفیفہ کا گانا ختم ہوتا تھا، لمڈے میاں کی بندوق گولیاں اگلنے لگتی تھی۔ یہ ساری لپّا ڈکی دس بارہ منٹ جاری رہنے کے بعد ڈان انکل کو کسی سٹیل راڈ یا بانس میں پَرودینے پر ختم ہوتی تھی۔ اور عفیفہ و لمڈے سمیت سب لوگ باقی زندگی ہنسی خوشی بور  رہنے لگتے تھے۔

یہ جو دھرنا ہے۔۔ چاہت ہے ہماری

دھرنے کی طبیعت میں
یہ کیسا  لَوٹنا سیاست نے رکھا ہے
کہ یہ جتنا پرانا، جتنا بھی معتوب ہوجائے
اسے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
سڑک کی آخری حد تک سروں سے لہلہاتا ہو
نگاہوں سے ٹپکتا ہو، لہو میں جگمگاتا ہو
ہزاروں طرح سے دلکش، حسیں جوڑے بناتا ہو
اسے چند نوجوانوں کی تو حاجت پھر بھی رہتی ہے!
یہ دھرنا مانگتا ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے رہنما سادہ، شام کو درزی بٹھائے
اور شب میں بارہا اٹھے
کھڑکی کھول کر دیکھے
شیروانی اب کہاں تک ہے!
دھرنے کی طبیعت میں عجب تکرار کی خُو ہے
یہ ڈی جے کے گانوں کو سننے سے نہیں تھکتا
الیکشن کی گھڑی ہو یا ووٹ گنتی کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دُھن ہے
"کہو میں دھرنوی ہی تھا!"
"کہو میں دھرنوی ہی ہوں!"
"تم بھی دھرنوی ہی ہو نا؟؟!"
کچھ ایسی بے سکونی ہے سیاست کی زمینوں میں
کہ جو اہلِ دھرنا کو سدا بے چین رکھتی ہے
کہ جیسے ریس کا گھوڑا
کہ پہلی شام کا دُلہا
کہ جیسے بِیڑی کا آخری ڈنڈا!
کہ دھرنے والوں کی سحر راتوں میں رہتی ہے
حسرت کی شاخ پر آشیاں ہے وزارت کا
عینِ حکومت میں بھی الیکشن کے خوابوں میں رہتا ہے
دھرنے کے مسافر شب جب کاٹ چکتے ہیں
ٹینٹ کی کرسیاں چُنتے، سیور کی تھیلیاں تھامے
سمے کی راہگزر کی آخری سرحد پہ رکتے ہیں
تو کوئی گرتی قناتوں کی ڈوری تھام کر
دھیرے سے یہ کہتا
"یہ سچ ہے ناں!
ہماری قنات اک دوسرے کے نام لکھی تھی
یہ دھندلکا جو آنسو گیس کا قریب و دور پھیلا ہے
اسی کا نام دھرنا ہے!
تم بھی دھرنوی تھے نا؟؟!
تم بھی دھرنوی ہو نا؟؟!"
کہ دھرنے کی طبیعت میں

یہ کیسا لَوٹنا سیاست نے رکھا ہے

٭٭شاعر نامعلوم٭٭

صیہونی سازشیں اور کدّو کے فوائد

عراق پر امریکی حملے کے دوران بغداد کی ایک قدیم عمارت بمباری سے ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد شہر کی صفائی شروع ہوئی تو اس عمارت کا ملبہ ہٹاتے ہوئے گہرائی سے ایک قدیم عمارت کے آثار دریافت ہوئے۔ یہ کسی درس گاہ کے آثار تھے۔ وہاں سے ایک قدیم قلمی نسخہ مکمل حالت میں دستیاب ہوا جس کا نام "تحفۃ الاغانی" تھا۔ مصنف کا نام عبداللہ بن طاہر البغدادی رضوی تھا۔ کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف عالم دین اور صوفی تھے۔ یہ کتاب ان کے کشف پر مبنی پیشینگوئیوں پر مبنی ہے۔ اس میں ایک باب خاص طور پر ہند یعنی ہندوستان کے بارے میں ہے۔ اس میں حضرت لکھتے ہیں کہ ہند کے کچھ علاقوں پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگی لیکن ایک طویل عرصہ تک یہ ملک افراتفری اور بے چینی کا شکار رہے گا۔ اس کی جو وجہ اس کتاب میں بیان کی گئی وہ بہت ہولناک ہے۔ حضرت لکھتے ہیں کہ اس علاقے کے مسلمان خنزیر نما خوراک کھانے کے عادی ہوں گے اور یہی سبب ہوگا کہ وہ بتدریج دین سے دور ہوتے جائیں گے۔ یہ بہت عجیب بات تھی کیونکہ پاکستان میں لوگ بظاہر ایسی کوئی چیز نہیں کھاتے۔ 2011 میں یونیورسٹی آف مشیگن کے پروفیسر سٹورٹ جونز جو ڈپارٹمنٹ آف بائیو ٹکنولوجی کےسربراہ ہیں، انہوں نے اپنی ریسرچ میں ثابت کیا کہ برائلر چکن اور خنزیر کے گوشت میں بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں۔ برائلر جس ٹکنالوجی سے پیدا کیا گیا اس میں خنزیر کے ماڈل کو ہی فالو کیا گیا تھا۔ اس تحقیق کے سامنے آتے ہی اس پر پابندی لگا دی گئی اور ڈاکٹر جونز کو نفسیاتی مریض قرار دے کر ذہنی امراض کے ہسپتال میں ڈال دیا گیا۔ نومبر 2015 میں ڈاکٹر سٹورٹ جونز کا اسی ہسپتال میں پراسرار حالات میں انتقال ہوگیا۔ اگر یہ تحقیق منظر عام پر آجاتی تو مغرب کی ملٹی بلین ڈالر برائلر چکن انڈسٹری تباہ ہوجاتی۔ اس انڈسٹری کے بَل پر انہوں نے مسلم ممالک میں اپنے ایجنٹس کو جیسے ارب پتی کیا، وہ سلسلہ بھی ختم ہوجاتا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمان حرام گوشت کھا کے جن روحانی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اس سے نجات مل جاتی۔
انہی دنوں تل ابیب یونیورسٹی  میں کدّو کے خواص پر ایک ریسرچ پیش کی گئی۔ ڈاکٹر موشےڈیوڈ جو پولینڈ سے ہجرت کرکے اسرائیل میں آئے تھے، وہ پچھلے بائیس برس سے کدّو کے خواص پر تحقیق کررہے تھے۔ 2014  کے موسم گرما میں یہ تحقیق مکمل کرکے یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں پیش کی گئی۔ اس ریسرچ پیپر میں یہ انکشاف کیا گیا کہ کدّو ایک ایسی مکمل غذا ہے جس کی مثال کسی اور غذا میں نہیں ملتی۔ اگر ایک انسان روزانہ دو وقت کدّو کھائے تو اس کی غذائی ضروریات بالکل پوری ہوجاتی ہیں۔ کدّو میں ایسے اجزاء شامل ہیں جو انسان کو ہر قسم کی بیماری سے بچا لیتے ہیں۔ کینسر اور ایڈز کے مریضوں کو تجرباتی طور پر ایک مہینہ کدّو کھلائے گئے تو وہ بالکل بھلے چنگے ہوگئے۔ کدّو کے جوہر سے ہر قسم کی بیماری کے علاج کی ویکسین تیار کرنے کا تجربہ بھی کیا گیا اور نتائج حیران کن تھے۔ کسی بھی بیماری کے آخری سٹیج کے مریض کو بھی کدّو ویکسین لگائی گئی تو وہ ایک دن کے اندر پوری طرح صحت مند ہوگیا۔  
 حیران کن بات یہ ہے کہ ڈاکٹر موشے ڈیوڈ کو بھی اس کے بعد منظر عام سے غائب کردیا گیا۔ تل ابیب ٹائمز میں ڈاکٹر ڈیوڈ کی بیوی  مارشا ڈیوڈ کا انٹرویو بھی چھپا جس میں انہوں نے اپنے خاوند کی پراسرار گمشدگی پر سوالات اٹھائے اور اس کا تعلق ان کی ریسرچ سے جوڑتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اصل حقائق کو سامنے لایا جائے۔ یہ معاملہ بھی بعد میں وقت کی گرد میں گم ہوگیا۔ اس ریسرچ کو اگر آفیشلی طور پر سامنے لایا جاتا تو اسلام کی حقّانیت کھل کر پوری دنیا کے سامنے واضح ہوجاتی اور یہود و ہنود کا کفر روزِ روشن کی طرح واضح ہوجاتا۔
درج بالا دو واقعات سے ہر مسلمان مرد و زن پر لازم ہے کہ وہ اس تحریر کو  سبحان اللہ کہہ کے شئیر کرے  اور اپنے مسلمان بھائی بہنوں کو حرام کھانے سے بچائے اور کدّو کے فوائد  سے رو شناس کرائے۔  جزاکم اللہ