سپہ سالار کی ڈائری

نماز فجر ادا کی۔ ورزش کرنے کے لیے قریبی میدان کا رخ کیا۔ جاگنگ کرتے ہوئے دو سپاروں کی تلاوت کی۔ الحمدللہ۔ واپس گھر پہنچا تو بیگم نے بچوں کے سکول کی فیس بابت دریافت کیا۔ میں نے بتایا کہ کل تنخواہ ملی تھی۔ آفس سے آتے ہوئے رستے میں جماعت الدعوۃ کے امدادی کیمپ پر نظر پڑگئی۔ شام کے پناہ گزینوں کے لیے امداد اکٹھی کی جارہی تھی۔ ساری تنخواہ وہیں دے آیا۔ بیگم نے فخر سے میری طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالی اور کوئی سبب بنا دیں گے۔ شادیوں کا سیزن شروع ہے۔ چار گھنٹے کی بجائے آٹھ گھنٹے سلائی کرلوں گی۔
رات کی بچی ہوئی روٹی اور پانی سے ناشتہ کیا۔ آج سرکاری دورے پر مُلکِ فرنگ جانا تھا۔ ولیمے پر جو شلوار قمیص اور واسکٹ پہنی تھی، بیگم نے کل وہی دھو کر بستر کے نیچے بچھادی تھی تاکہ استری ہوجائے۔ کپڑے بدل کر سائیکل نکالی اور ہوائی اڈے کی جانب روانہ ہوا۔ کچھ ہی دور گیا تھا کہ ایک کیفے کے باہر ایک نوجوان پریشان حالت میں فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوا دیکھا۔ اس کے قریب جا کے سائیکل روکی اور ماجرا دریافت کیا۔ اس نے رقّت آمیز لہجے میں بتایا کہ اس کے پاس آئی فون فائیو ہے جبکہ نیا آئی فون لانچ ہوچکاہے۔ اس کے پاس خریدنے کے لیے رقم نہیں۔ معاشرے میں اس کی کیا عزت رہ جائے گی؟ یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگا۔ میں نے ٹکٹ کی رقم نکال کے اس نوجوان کو نئے فون کے لیے دی، سائیکل کو پیڈل مارا اور عازمِ ہوائی اڈّہ ہوا۔
رستے میں سو طرح کے وسوسے ذہن میں کلبلاتے رہے۔ بغیر ٹکٹ کے کیسے سفر کروں گا۔۔ یہ سرکاری رقم میرے پاس امانت تھی، کیا میں نے خیانت کی؟ یہی سوچتے ہوائی اڈے پر پہنچ گیا۔ سٹینڈ پر سائیکل کھڑا کرکے ٹوکن لے کر مُڑا ہی تھا کہ سامنے ایک سفید پوش نورانی صورت والے بزرگ، عصا تھامے کھڑے تھے۔ انہوں نے اشارے سے پاس بلایا۔ پاس جانے پر انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور کہا، شکیل، آنکھیں بند کرلو۔ ایک لحظہ گزرا تو انہوں نے آنکھیں کھولنے کا حکم دیا۔ دیکھا تو ہم لندن کے ہوائی اڈے کے باہر موجود تھے۔ میں نے بزرگ سے دریافت کیا کہ واپسی کا کیا بندوبست ہوگا۔ ان کا چہرہ جلالی ہوگیا۔ انہوں نے عصا میری تشریف پر رسید کیا اور کہا، ہم تمہیں یہاں لاسکتے ہیں تو واپس بھی لے جاسکتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دفعتا غائب ہوگئے۔
فلائٹ کے پہنچنے میں ابھی کافی وقت باقی تھا لہذا پیدل ہی سفارتخانے کا قصد کیا۔ تاکہ عامیوں پر یہ روحانی واردات ظاہر نہ ہو۔ اس سے سفارتخانے کی گاڑی کا پٹرول بھی بچا۔ ایک ایک پیسہ ہمارے پاس عوام کی امانت ہے۔ مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ ٹیمز کے کنارے وضو کرکے نماز ادا کی۔ بیگم نے زادِ راہ کے طور پر مُٹھّی بھر بھُنے ہوئے چنے اور پانی کی چھاگل ساتھ کردی تھی۔ تھوڑے سے چنے چبائے، دو گھونٹ پانی کے پئے اور سفارتخانے کی جانب روانہ ہوا۔ وہاں پہنچا تو سکیورٹی گارڈ نے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ لاکھ کہا کہ میں سپہ سالار ہوں۔ لیکن وہ جوابا کہنے لگا کہ میں برطانیہ کی ملکہ ہوں۔ ستم ظریف، فیصل آباد کا لگتا تھا۔ بعد میں تحقیق سے یہی ثابت ہوا۔ شور سن کر سفیر صاحب باہر تشریف لائے۔ مجھے دیکھ کر ان کی گھِگھّی بندھ گئی۔ بڑی مشکل سے کُھلی۔
سفیر صاحب نے شب بسری کے لیے ڈورچسٹر ہوٹل میں بندوبست کیا تھا۔ میں نے سختی سے انکار کردیا۔ سفارتخانے میں رات گزارنے پر بھی دل راضی نہیں ہوا۔ عوام کا پیسہ اپنی ذات پر خرچ کرنا، امانت میں خیانت لگتا ہے۔ سفیر صاحب سے کل کی ملاقات بارے بریفنگ لی دوران بریفنگ سختی سے منع کیا کہ کسی بھی قسم کے مشروبات نہ لائے جائیں۔ خواہش ہوگی تو میں اپنی گرہ سے چائے پی لوں گا۔ رات گئے سفارتخانے سے نکلا۔ عشاء کا وقت ہوچکا تھا۔ ٹیمز کنارے ایک پُرسکون جگہ ڈھونڈی۔ رات کے کھانے میں بھُنے ہوئے چنے کھائے اور پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ وضو تازہ کیا اور نماز کے لیے قبلہ رُو ہوا۔ فرض ادا کرکے سلام پھیرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پیچھے حدِّ نظر، سفید پوش نورانی وجود صفیں باندھے ہوئے ہیں۔ دل کی عجیب سی حالت ہوگئی۔ ایک گنہگار پر پروردگار کی اتنی رحمتیں۔ فورا سجدہءشکر بجا لایا۔ بقیہ رات ذکر اذکار میں گزری۔ سردی بھی تھی۔ نوافل کی ادائیگی سے جسم کو گرمی ملتی رہی۔
دس بجے وزیر اعظم سے ملاقات طے تھی۔ پیدل ہی جانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے ورزش بھی ہوئی اور قیمتی زرِمبادلہ کی بچت بھی۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کے قریب پہنچنے پر پولیس والے نے روکا اور شناخت پوچھی۔ تعارف کرایا تو وہ دم بخود رہ گیا۔ دو قدم پیچھے ہٹا اور ایک زوردار سلیوٹ کیا۔ پھر آگے بڑھ کر عقیدت سے میرا ہاتھ تھام کر چُوما اور دعا کی درخواست کی۔ وزیرِاعظم نے میرا استقبال کیا اور مذاکرات کے لیے میٹنگ روم میں لے گئے۔ میز پر انواع و اقسام کے مشروبات و ماکولات تھے۔ میں نے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ وزیر اعظم کا لہجہ رُوکھا تھا۔ انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ ان کے منصوبوں کی راہ میں واحد رکاوٹ میں ہوں۔ حکومت پاکستان ہر وہ کام کرنے کو تیار ہے جو ہم چاہتے ہیں لیکن آپ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے۔ بتائیں۔۔ آپ کی قیمت کیا ہے؟۔ یہ سنتے ہی میں نے غضب کے عالم میں ان کی طرف دیکھا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ملیں، بجلی کڑکی اور کھڑکی سے تیز دودھیا روشنی کی لکیر سیدھی ان کے دل تک پہنچی۔ وہ بے اختیار اٹھے اور سجدے میں گرگئے۔ میں نے فورا اٹھ کر دروازہ مقفل کیا۔ ان کو سجدے سے اٹھایا اور گلے سے لگا لیا۔
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
وزیر اعظم نے کہا کہ ان کو کلمہ پڑھایا جائے۔ کلمہ پڑھا کر ان کو مشرف بہ اسلام کیا۔ ان کا اسلامی نام داؤد فریدون رکھا۔ وہ سب کچھ تیاگ کر میرے ساتھ پاکستان جانے کو تیار تھے۔ میں نے ان کو مومنانہ فراست سے کام لینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کسی کو اس کایا پلٹ کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔ حسبِ معمول وزارت عظمی پر فائز رہیں۔ اور پاکستان اور عالمِ اسلام کے خلاف ہر سازش کی خبر مجھے دیں۔ یہی ان کا جہاد ہوگا۔ انہوں نے اس پر صاد کیا۔ یہود و ہنود کی سازشوں بارے انہوں نے لرزا دینے والے انکشافات کیے۔ میں نے ان کو سمجھایا کہ آئندہ کسی بھی سازش بارے خبر ملے تو مجھے مِس کال کردیں۔ میں خود ان تک پہنچ جاؤں گا۔ کسی بھی صورت سکائپ کال، وٹس ایپ، ایمیل یا ڈی ایم نہ کریں۔ سو سجن سو دشمن۔
ملاقات ختم ہوئی۔ وزیر اعظم مجھے دروازے تک چھوڑنے کے لیے آنا چاہتے تھے۔ میں نے منع کیا کہ خلاف مصلحت ہے۔ باہر نکل کر دیکھا تو سفید پوش بزرگ کے دور دور تک کوئی آثار نہ تھے۔ لشٹم پشٹم ہائیڈ پارک تک پہنچا۔ تین گھنٹے انتظار کرنے پر بزرگ ظاہر ہوئے۔ میں نے تاخیر کا سبب دریافت کیا تو کمالِ بے نیازی سے بولے۔۔۔
۔۔۔" اکھ لگ گئی سِی"۔۔۔


Comments
21 Comments

21 تبصرے:

آم اچار نے فرمایا ہے۔۔۔

اعلی تحریر۔
اس موضوع پر جعفر ہی لکھ سکتا تھا اور کیا کمال لکھا ہے۔
موضوع کا حق ادا ہو گیا

itrat asad نے فرمایا ہے۔۔۔

شیطان ہمیں یہ صحیفہ شئیر کرنے سے روکے گا لیکن ہم اسکی شمعیں و اجالا ٹویٹر پر موجود کرپٹ لٹیروں کی اصلاح واسطے دور دور تک پھیلائیں گے.

خاور کھوکھر نے فرمایا ہے۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا
بہت خوب

zulfaqar ali نے فرمایا ہے۔۔۔

زبردست۔کیا نقشہ کھینچا ہے۔جب بھی لکھتے ہیں کمال کردیتے ہیں۔مجھے تو لگتا. ہے یہ آپکی تحریر ہے ہی نہیں بلکہ بذریعہ کشف آپ تک پہنچی تاکہ امت ہمارے سپہ سالار کی عظمت کو جانے اور کفار کے دل سہم جائیں۔

khawaja abubaker نے فرمایا ہے۔۔۔

واہ استاد محترم
اعلیٰ تحریر
لکھتے رہیں اور فیضیاب کرتے رہی

miss godil نے فرمایا ہے۔۔۔

ہاہاہاہاہا بہت ہی اعلی تحریر ہے استاد محترم م

Jawad Maqsood نے فرمایا ہے۔۔۔

Naqal Khor Jafar
http://theprecambrian.blogspot.com/2015/09/blog-post.html

Unknown نے فرمایا ہے۔۔۔

واقعی برطانیہ دی ملکہ لگے او استاد جی

Asim Ikram نے فرمایا ہے۔۔۔

واہ جعفر بھائی واہ، یہ تو کمال ہی کردیا، ایسے موضوع پر اس شگفتہ انداز میں شاید آپ ہی لکھ سکتے ہیں، بہت خوب

اناالحق Anaulhaq نے فرمایا ہے۔۔۔

کوزے میں سمندر بند کردیا مگر پھر بھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا-
سالاراعظم کی مدح اوروزیراعظم کی ہجو صفحات ختم ہوجائیں یہ ختم نہیں ہوسکتے
پھربھی ایمان تازہ کرنے کا شکریہ اب میں رات کو گیٹ کو تالہ لگائے بغیر سو سکتا ہوں کیونکہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے

Humaira Badar نے فرمایا ہے۔۔۔

بہترین تحریر۔۔ مگر انصاف کا تقاضہ تو یہ تھا کہ بلاگ کہ اختتام پہ (جاری ہے ) لکھا ہوتا۔ ایسی عالیقدر ہستی کے فضائل ہر دوسرے تیسرے دن یا ہفتہ وار بنیاد پر عوام الناس تک پہنچنے چاہیے

Fahim Raza نے فرمایا ہے۔۔۔

علمی سرقه

Uzma Razzaq نے فرمایا ہے۔۔۔

حاجی ثناءاللہ کی ڈائری باکمال تھی تو یہ تحریرلاجواب.اللہ کرے زور قلم اور زیادہ.

Unknown نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت ہی اعلی.

Amin Pakistani نے فرمایا ہے۔۔۔

Bohot khoob

Adnan Chaudhary نے فرمایا ہے۔۔۔

اکھ لگ گئی سی یار!!

بہت عرصے سے اتنی بیساختہ ہنسی کبھی نہیں آئی
طبعیت پر چھائی بیزاری اور وحشت کا شافی علاج

تسیں گریٹ او جناب

shuaib azhar نے فرمایا ہے۔۔۔

کاش میں کبھی لکھائی میں آپ کے پاسنگ ہی ہو پاؤں، بہت ہی عمدہ، بہت ہی عمدہ

Fariya Anis نے فرمایا ہے۔۔۔

واہ ، واہ اور۔ واہ

Sufyan Ahmad Sufi نے فرمایا ہے۔۔۔

واہ واہ بہت ہی عمدہ

Abdul Qadoos نے فرمایا ہے۔۔۔

بھائی کہنا کیا چاہتے ہو؟

arshad mehmood نے فرمایا ہے۔۔۔

کیا زیادتی ہے کہ اتنی تاخیر سے یہ تحریر پڑھ رہا ہوں. بہت عمدہ فیضان اگر کہیں تھوک میں میسر آئے تو ہفتہ وار دبئی سے پاکستان سفر کا بندوبست کرا دیا کریں

تبصرہ کیجیے