حاجی ثناءاللہ کی ڈائری

معمول کے مطابق تہجد کے وقت آنکھ کھلی۔ زوجہ کو جگا کر وظیفہ زوجیت ادا کیا۔ زوجہ تھکن کا بہانہ بنا کر پھر سوگئی۔ احمق عورت۔ اسی لیے جہنم عورتوں سے بھری ہوگی۔ نہ نماز نہ روزہ۔ غسل جنابت سے فراغت پا کر باداموں والے دودھ کے دو گلاس نوش کیے۔ تہجد اداکی۔ فجر تک کمر سیدھی کی۔ فجر ادا کرکے  تھوڑی دیر کے لیے پھر آنکھ لگ گئی۔ آنکھ کھلی تو بچے سکول جاچکے تھے۔ہلکا پھلکا  سا ناشتہ جو دو  پراٹھوں، انڈوں کے خاگینے اور دیسی گھی کے حلوے  پر مشتمل تھا، کیا۔  دکان پر جانے سے پہلے والدہ محترمہ کو سلام کرنے گیا۔ وہ شکایت کرنے لگیں کہ برآمدے میں گرمی لگتی ہے، پنکھا بھی نہیں ہے۔ بزرگ اور بچے میں کوئی فرق نہیں رہتا ، ہر وقت شکایت اور فرمائش۔ میں نے والدہ کی بات پر اللہ کے احکام کے مطابق اُف تک نہیں کیا اور خاموشی سے دکان کے لیے روانہ ہوگیا۔
صبح کے اوقات میں سڑکوں پر کافی رش تھا اور کچھ تاخیر بھی ہوگئی تھی۔ رستے میں دو جگہ اشارہ  بھی توڑنا پڑا۔ ایک سائیکل والے کو ہلکی سی ٹکر بھی لگ گئی۔ اللہ کا لاکھ احسان کہ وہ گاڑی کے نیچے نہیں آیا۔  اللہ کریم کی مدد ہمیشہ شامل حال رہتی ہے۔ اگر وہ مر مرا جاتا تو بیٹھے بٹھائے لمبا خرچہ گلے پڑجاتا۔ الحمدللہ۔
دکان پر پہنچا تو فیقا دکان لگاچکا تھا۔ سارے دن میں اس نے بس یہی کام کرنا ہوتا ہے۔ صبح دکان کھول کے لگانا اور شام کو بند کرنا۔ یا گاہک کےساتھ ڈیلنگ کرنا۔ لیکن ان نیچ لوگوں کے نخرے ایسے ہیں کہ جیسے پوری دنیا سر پر اٹھائے چل رہے ہوں۔ دو ڈھائی سو تھان اٹھا کے باہر رکھنے اور پھر اندر رکھنے، یہ کوئی کاموں میں سے کام ہے؟ لیکن جب دیکھو ۔۔ شکایت۔۔پورے سات  ہزار روپے ماہانہ صرف اس معمولی کام کے ملتے ہیں۔ ناشکرگذاری بھی کفر کے برابر ہوتی ہے۔ نام کے مسلمان۔۔ نہ توکل، نہ صبر نہ شکر۔
دکان میں داخل ہوتے وقت  معمول کے مطابق، روزی میں برکت کے لیے سولہ دعائیں جو حضرت صاحب نے بتائیں تھیں ، وہ پڑھیں، اور  ردّ بلا کے لیےدم کیا۔
فیقا معمول کے مطابق میرےگدّی پر بیٹھتے ہی چائے لینے چلا گیا۔ ہماری دکان کے ساتھ ہی ایک چائے والا ہے لیکن اسکی چائے اچھی نہیں ہوتی۔اس لیے تھوڑی دور سے چائے منگوائی جاتی ہے۔ یہی کوئی پیدل پندرہ منٹ کا راستہ ہے۔ حضرت صاحب کے خطبات کی کیسٹ لگائی۔ اللہ تعالی نے ان کو  بے تحاشہ علم سے نوازا ہے۔ زبان میں جادو ہے۔ ہو نہیں سکتا کہ کوئی ان کا بیان سنے اور مرید نہ ہوجائے۔ حضرت صاحب بیان کررہے تھے کہ کیسے ایک دعا پڑھنے سے سب گناہ نہ صرف معاف ہوجاتے ہیں بلکہ نیکیوں میں بدل جاتے ہیں اور وہ بھی سو سے ضرب کھا کے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ۔۔۔ اللہ  تعالی کتنے رحیم اور معاف کرنے والے ہیں۔۔سبحان اللہ۔۔ سبحان اللہ۔۔۔
گیارہ بجے کے قریب پھر سے بھوک محسوس ہونے لگی۔۔ ناشتہ بھی برائے نام ہی کیا تھا۔ جیدا بڑے مزے کے سری پائے بنا تا ہے۔۔ نہ نہ کرتے بھی  چار نان کھا گیا۔پھر دو سیون اپ کی بوتلیں پی کر کچھ سکون ہوا۔ اس دفعہ گرمی بھی کچھ جلدی شروع ہوگئی ہے۔ دکان کے اندر ایک چھوٹا سا ائیر کولر رکھا ہوا ہے۔ اے سی خود ہی نہیں لگوایا کہ ٹیکس والے، کُتّوں کی طرح بُو سونگھتے ہوئے آجاتے ہیں۔ ایسی فاسق و فاجر حکومت کو ٹیکس دینا بھی حرام ہے۔ کرپٹ اور بے ایمان لوگ۔ ا س سے تو بہتر ہے کہ فوج کی حکومت آجائے۔  یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے۔
ائیرکولر کے سامنے بیٹھتے ہی اونگھ سی آگئی۔ آنکھ کھلی تو ظہر کا وقت قریب تھا۔بھاگم بھاگ مسجد پہنچا۔ طویل عرصے سے  اذان دینے کا شرف بھی حاصل ہے۔ اللہ اللہ۔۔ کیا روح پرور کیفیت ہوتی ہے۔ استنجاء کے لیے مسجد کے بیت الخلاء میں گیا تو وہ اوور فلو ہورہا تھا۔ بڑی مشکل سے کپڑوں کو نجاست سے بچایا۔ صفائی نصف ایمان ہے۔ اس کا ہمیشہ بہت خیال رکھناچاہیے۔ ظہر کی نماز سے فراغت کے بعد دوپہر کا کھانا کھایا۔ مرغ پلاؤ اور شامی کباب بھی اللہ تبارک و تعالی کی کیسی عمدہ نعمتیں ہیں۔۔ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاوگے۔۔۔
کھانے سے فراغت کے بعد فیقے کو کہا کہ وہ بھی کھانا کھالے، وہ دوپہر کا کھانا گھر سے لاتا ہے۔ پتہ نہیں کیسی مہک ہوتی ہے اس میں کہ جی خراب ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے اس کو منع کیا ہوا ہے کہ کھانا، دکان میں بیٹھ کر نہ کھایا کرے۔۔ بلکہ چائے والے کھوکھے کے سامنے پڑے بنچ پر بیٹھ کر کھالیا کرے۔ کھانا کھاتاہوئے بھی، ہڈ حرام، آدھ گھنٹہ لگادیتا ہے۔ ان جاہلوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ایسے یہ اپنے رزق کو حرام کرتے ہیں۔ جہنم کا ایندھن۔
کھانے کے بعد قیلولہ کیا اور عصر سے پہلے مسجد میں حاضر تھا۔ اذان دینے  کی سعادت حاصل کی۔ نماز سے فارغ ہوکے حضرت صاحب کے بتائے ہوئے اوراد و وظائف کرنے میں تقریبا ایک گھنٹہ لگ گیا۔  واپس دکان پر پہنچا تو فیقے نے بتایا کہ دو تین گاہک  بھگتائے ہیں ۔ پوری توجہ سے بل  چیک کیے اور دکان میں موجود مال کی گنتی کی۔ اعتبار کا دور نہیں ہے۔ خاص طور پر ایسے کمزور ایمان والے لوگوں کا تو بالکل اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ جو اللہ تبارک و تعالی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرسکتے ہیں وہ ہمارے جیسے گنہگاروں کو کیسے بخشیں گے؟
مغرب کی نماز ہمیشہ گھر کے قریب مسجد میں ادا کرتا ہوں۔اسی مسجد کی مسجد کمیٹی کا پچھلے سات سال سے بلامقابلہ صدر بھی ہوں۔  مغرب کی نماز سے فارغ ہوکے گھر پہنچا تو  بچے ٹی وی پر شاہ رخ خان کی فلم دیکھ رہے تھے۔ اچھا اداکار ہے۔ مجھے پسند ہے۔ ویسے بھی مسلمان ہے۔ اللہ اس کو اور کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائیں۔
رات کا کھانا، میں عشاء سے پہلے کھالیتا ہوں، یہی حکم ہے۔ بھنڈی گوشت بنا ہوا تھا۔ خوب سیر ہوکے کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد خربوزے کھائے۔ بہت میٹھے نکلے ماشاءاللہ۔۔ حضرت صاحب نے ایک دفعہ بالمشافہ ملاقات میں بتایا تھا کہ خربوزے، قوت باہ کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔ حضرت صاحب کی تین بیبیاں ہیں اور تئیس بچے۔  نظربددُور۔
عشاء سے فراغت کے بعد والدہ محترمہ کی خدمت میں حاضری دی۔  انکی سُوئی ابھی تک اسی پر اٹکی ہوئی تھی کہ۔۔ پُتّر ، برآمدے اچ پکھّا لوادے۔۔ بہوت گرمی لگدی اے مینوں۔۔۔  ٘میں نے دل میں سوچا کہ اس دفعہ عمرے سے واپسی پر یہ کام بھی ضرور کردوں گا۔ والدین کی خدمت میں ہی عظمت ہے۔
سونے کے لیے لیٹا تو زوجہ سے حق زوجیت کی ادائیگی کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے حسب معمول چوں چرا کی تو اسے سمجھایا کہ کارثواب پر چوں چرا کرناگناہ عظیم ہے اور دنیا آخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ مجازی خدا کی خواہشات پر اپنا آرام قربان کیا جائے۔
بہرکیف، جب تہبند سنبھالتے ہوئے  بیت الخلاء جانے کےلیے اٹھا تو زوجہ سوچکی تھی۔
Comments
28 Comments

28 تبصرے:

علی نے فرمایا ہے۔۔۔

عنوان سارے پاکستانیوں کی ڈائری بھی رکھ دیتے ہو کوئی خاص مزائقہ نہیں تھا۔

Pervaiz Kareem نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب ، استاد جی۔ ویسے تو نو کمنٹس بھی کہتے ہیں کمنٹ ہی ہے، پر یہ ضرور کہوں گا ، کہ ہمیں بھی ایسے اصحاب کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے کار ثواب کے زیادہ سے زیادہ مواقع کیش کرنے چاہیں۔

Mustafa Malik نے فرمایا ہے۔۔۔

استاد جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بار بار وظیفے کا ذکر کرتے لگتا ہے کی فیصل آباد یاد آ رھا ہے

حمزہ نیاز نے فرمایا ہے۔۔۔

شاندار ڈائری تھی۔۔۔۔۔ بہت عرصے بعد کوئی منفرد چیز پڑھنے کو ملی۔

اناالحق Anaulhaq نے فرمایا ہے۔۔۔

ماشا اللّہ روح تک تازہ ہوگئی ایسے ایمان افروز بلاگ اکثر لکھا کریں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے

Suleman Hasan نے فرمایا ہے۔۔۔

Salutes on this wonderful piece. Ustad ji I can't say enough thanks!

zahid نے فرمایا ہے۔۔۔

Kamal Ker dia app nain such likh ker

faheem wali نے فرمایا ہے۔۔۔

علماء دین اور اولیاء کرام پر ایسی لعن طعن کرتے آپکو آخرت یاد نہیں آئی؟ اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا اور فیصل آبادیوں کا تو بس اللہ ہی حافظ ہے-توبہ توبہ
کیا زمانہ آگیا ہے

aq1973 نے فرمایا ہے۔۔۔

بے حد جاندار بلاگ پڑھنے کو ملا ، منافقت کو شاید اس سے زیادہ بہتر انداز میں بیان نہیں کیا جاسکتا تھا. خوش رہیے

محمد عبداللہ نے فرمایا ہے۔۔۔

پرفیکٹ تصویر پینٹ کی پاکستان کے حاجی ثناءاللہ وں کی
ہاتھ میں تسبیح پکڑ کے ملازمین کا شجرہ درست فرما رے ہوتے اور ساتھ ہی گاہکوں کو اپنے حج اور عمروں کی تعداد بتا رے ہوتے

Omer Bangash نے فرمایا ہے۔۔۔

ڈائری تو حاجی ثناء اللہ کی ہے مگر لکھ جیسے، کندھوں پر سوار فرشتوں نے رکھی ہو۔

Attiq Ali نے فرمایا ہے۔۔۔

Aksar Haji sana ullah type logo pe bilkul fit aati hy ye diary.
Chori to nhi k??

عمیر ملک نے فرمایا ہے۔۔۔

کمنٹ لکھ کے مٹا دیا ہے کہ آپکی پوسٹوں کے بعد کچھ بھی لکھنا فضول ہوتا ہے۔۔ تعریف تو بار بار کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔۔ وہ تو بائی ڈیفالٹ وصول لیا کریں بس۔

Dohra Hai نے فرمایا ہے۔۔۔

یار اُستاد کمال کی ڈائری باقیوں کا تو پتا نہیں بس پر اپنے فیصل آباد کے آٹھ بازاروں کے ہر حاجی پر فِٹ بیٹھتی یہ کہانی۔ پر اُستاد ایک جگہ تو نے بہت بڑی ڈنڈی ماری میں تو ایسے جِتنے حاجیوں کو جانتا ہوں وہ فوج کی حکومت کی کبھی بات نہیں کرتے وہ تو ایک پیارے کو ووٹ دیتے ہیں پر ٹیکس نہیں دیتے۔ مشرف دور میں ڈنڈے سے ٹیکس لیا گیا تو بہت روئے تھے ججاج کرام۔

Umme Arooba نے فرمایا ہے۔۔۔

السلام علیکم
بہت عمدہ تحریر جعفر بھائ. بلکہ پھڑکدار ہے. طنز کی وہ کاٹ ہے کہ نظر بھی نا آئے اور بندہ شہید بھی ہوتا جائے.
دامن پہ کوئ چھینٹ نا خنجر پہ کوئ داغ
تم طنز کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

اتنے دنوں بعد آپ کو پڑھا اور ساری لیٹ نکل گئ آج : )

Shahzad Asghar نے فرمایا ہے۔۔۔

ہا ہا ۔۔ اُستاد جاگ اُٹھا ۔۔ ویلکم بیک ۔۔۔۔ اسِ پوسٹ کو مذہبی نہیں اخلاقی طور پر سمجھا جائے تو زیادہ بہتر سمجھ میں آئے گی ۔۔

Anonymous نے فرمایا ہے۔۔۔

اس تحریر کی رو سے نان حاجی ثناءاللہ تو کہیں پائے ہی نہیں جاتے- سارے ہی حاجی ثنا اللہ ہیں-
ایک اور مزے کی بات . . کہ اس پوسٹ کو ذہن میں رکهتے ہوئے آپ کسی کو بهی زیرِ لب . . حاجی ثناء اللہ کہہ کر دل میں انجوائے کرسکتے ہیں -

ڈاکٹر جواد احمد خان نے فرمایا ہے۔۔۔

عمدہ طنز ہے۔۔۔

خورشید آزاد نے فرمایا ہے۔۔۔

اس تحریر کی تعریف اگر میں اپنے الفاظ میں کروں تو یہ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا۔

Waseem Rana نے فرمایا ہے۔۔۔

او لالے ۔۔۔فیصل آباد کے حاجیوں کی تو۔۔۔! تو نے لال کر دی ۔۔۔۔ چھا گئے استاز جی ۔۔۔۔

Anonymous نے فرمایا ہے۔۔۔

محترم ہمیں آئینہ دکھانے کا بُہت شُکریہ ۔۔
حاجی ثناءاللہ۔۔۔۔

Anonymous نے فرمایا ہے۔۔۔

یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے۔۔۔

azeemaj نے فرمایا ہے۔۔۔

یہ مردوں کی وہ قسم ہے جو ماں کے سگے بھی نہیں، ورنہ "راجہ گدھ" کے مطابق ماں کے یار والی اصطلاح بڑی فِٹ بیٹھتی ہے۔
بیوی کو بھی مذہبی بلیک میلنگ، اور عقلِ کُل
پاکستان کے زوال کی اصل وجہ آپ نے اب پکڑی جعفر بھائی
خوش رہیں

Rai M. Azlan Shahid نے فرمایا ہے۔۔۔

یہ اتنے مصروٖ آمی کو ڈائیری لکھنے کا ویل کیسے مل گیا میں یہ سوچ رہا ہوں بس۔

Rafi B نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب جعفر - بہت ہی خوب

ٹوٹ بٹوٹ نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت خوب...اعلی الفاظ نہیں داد کے لیے...گونگی داد قبول کریں...!!

Sufyan Ahmad Sufi نے فرمایا ہے۔۔۔

Just Awesome

Raja Iftikhar Khan نے فرمایا ہے۔۔۔

یہاں سارے ہی حاجی ثناء اللہ ہیں، ، بہت ہی اعلیٰ عکاسی ہمارے ماحول کی،

تبصرہ کیجیے