کرکٹ، انقلاب اور چودہ اگست

کرکٹ سے دلچسپی شاید ہمارے خون میں شامل ہے ۔  گھر میں اور خاندان میں دو چیزیں ہر وقت موضوع بحث رہتی تھیں، کرکٹ اور سیاست۔ سیاست سے ظاہر ہے ایک بچے کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے البتہ کھیل کی باتیں اس کے لیے کھلونے کی حیثیت رکھتی تھیں۔ جب کبھی ابو اور ان کے بھائی اکٹھے ہوتے اور وہ اکثر ہوتے   تو کرکٹ پر دھواں دھار قسم کے تبصرے ہوتے تھے۔ ہمارے چچا وسیم راجہ کے بہت بڑے پرستار تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اپنے دور میں وہ شاہد آفریدی جیسا کراوڈ پُلر تھا۔ ابو ، مشتاق محمد ، ظہیر عباس ، عمران اور میانداد کے پرستار تھے۔ خاص طور پر میانداد کی بیٹنگ اور عمران کی بولنگ۔
ہم نے کرکٹ کھیلنے کا آغاز اپنے گھر کے صحن سے کیا۔ باورچی خانے کا دروازہ بند کرکے اس سے سٹمپس کا کام لیا جاتا حالانکہ اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی تھی کیونکہ اس وقت ہمارے خیا ل میں کرکٹ کا مطلب صرف ہمارا باری لینا ہوتا تھا۔ ہماری بڑی بہن ، بالنگ پر ، بہ جبر مامور ہوتی تھیں اور لاڈلا ہونے کی وجہ سے ان کو کہا جاتا تھا کہ جب تک ہم تھک نہ جائیں ہمیں بالنگ کراتی رہیں۔  ہماری ایک ماموں زاد بہن ،  جو عمر میں ہم سے کافی بڑی اور ہم سے کافی انسیت رکھتی تھیں۔ وہ بے چاری جب بھی ہمارے گھر آتیں تو ہم ان کے اس لگاو کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ، ان کو لگاتار بالنگ کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ وہ ہمیں "ویرا" کہا کرتی تھیں  (اب بھی ویرا ہی کہتی ہیں)۔۔ تو عاجز آکے کہتیں کہ۔۔۔ ویرے، بس کر، میں تھک گئی آں۔۔ پر انسان کی فطرت ہے کہ جب اسے پتہ چل جائے کہ کوئی اس سے پیار کرتا ہے تو وہ اس کو بلیک میل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔  اب بھی کبھی ان سے ملاقات ہوتی ہے تو میں ان کو یاد کراتا ہوں کہ باجی، یاد ہے جب ہم کرکٹ کھیلتے تھے ۔۔ توو ہ ہماری کمر پر ایک زوردار دھموکا رسید کرکے کہتی ہیں ۔۔ توں بڑا کمینہ سیں۔۔۔ انکی شادی گوجرانوالہ میں ہوئی تھی تو ایک دبنگ نیس انکی طبیعت کا حصہ بن گئی ہے۔۔ خیر۔۔۔
صحن کے بعد ہماری کرکٹ کی  اگلی منزل گلی میں کھیلنا تھا۔ گلی میں کھیلنے سے ہمیں پتہ چلا کہ یہاں صحن والے قوانین نہیں چل سکتے۔ ٹھیک ہے کہ گیند اور بلا ہمارا ہے لیکن جب تک ہم دوسرے کھلاڑیوں کو باری نہیں دیں گے کوئی ہمارے ساتھ کھیلنے پر راضی نہیں ہوگا۔  یہ پہلا سمجھوتہ تھا جو ہم نے کیا۔ ایک بات، خیر ہم نے بھی منوالی کہ پہلی باری ہمیشہ ہماری ہوگی ۔ اس کے علاوہ پہلا بال، ٹرائی ہوگا اور اس پر صرف کیچ آوٹ ہوگا۔ نیز اگر دیوار سے لگ کر گیند کیچ کی گئی ہے تو وہ ایک ہاتھ سے کیچ پکڑنا ہوگا ۔ ورنہ  بلے باز ناٹ آوٹ تصور ہوگا۔
جب ہم ہائی سکول پہنچے تو ہماری کرکٹ بھی گلی سے ترقی کرکے سکول گراونڈ تک پہنچ گئی۔ آدھی چھٹی کے وقت پانچ پانچ اوور ز کا میچ کھیلا جاتا اور جمعرات کو چونکہ آدھی چھٹی ساری ہوتی تھی تو اس دن دس اوور ز کا میچ۔  ان میچز میں امپائر ہمیشہ بیٹنگ ٹیم کا ہوتا تھا۔ اور وائڈ بال اور نوبال کے جھگڑے معمول تھے۔ یہاں ہم ایک اعتراف کرنا چاہیں گے کہ "روند" مارنا ہماری فطرت میں شامل  تھا اور جہاں بھی ہمیں کوئی گنجائش نظر آتی ہم روند ضرور مارتے تھے۔  وہ تو ایک دن ہمیں ہمارا سوا سیر، اسامہ آفتاب کی شکل میں ملا تو ہم تھوڑے محتاط ہوئے۔ ہماری بالنگ پر بلے باز نے ہٹ لگائی اور لانگ آف پر کیچ ہوگیا۔ اسامہ بھائی جو امپائرنگ کررہے تھے، فٹ  بولے، ناٹ آوٹ۔ ہم چلاّئے۔۔ کیوں؟ تو جواب ملا ۔۔ یہ بمپر ہے۔۔۔ ہم نے سر پیٹ لیا کہ بمپر لانگ آف تک کیسے جاسکتا ہے؟ لیکن وہ بھی ایک ہی کائیاں تھے۔۔ بولے۔ ۔۔ امپائر کا فیصلہ چیلنج نہیں ہوسکتا۔ ۔۔ اس فیصلہ پر اتنا فضیحتا ہوا کہ آدھی چھٹی کا وقت ختم ہوگیا ، اور جو ہم نے ایک دوسرے کو دھکے اور گالیاں دیں وہ علیحدہ۔
ٹینس بال سے ٹیپ بال اور پھر ہارڈ بال تک۔۔ہماری کرکٹ کا سفر جاری رہا۔ ایک رجسٹرڈ کلب کی طرف سے بھی کھیلے۔ بوہڑاں والی گراونڈ ، پنجاب میڈیکل کالج کی گراونڈ، جواد کلب اور ایک دو دفعہ اقبال سٹیڈیم میں بھی کھیلنے کا اتفاق ہوا۔  ہر میچ سے پہلے دونوں ٹیمیں کچھ اصول طے کرلیتی تھیں اور ان پر عمل ہوتا تھا۔ مثلا تیس اوورز کا میچ۔۔ اب یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک ٹیم نے تیس اوورز میں تین سو کرلیا ہے تو دوسری ٹیم مطالبہ کردے کہ چونکہ سکور زیادہ ہیں اس لیے ہمیں چالیس اوور بیٹنگ ملنی چاہیے۔ نہ ہی کبھی کسی ٹیم نے اپنے بہترین بلے باز کے آوٹ ہونے پر یہ مطالبہ کیا کہ ہمارے وکٹ کیپر کی باری بھی یہی بیٹسمین لے گا۔ اگر کوئی ایسا مطالبہ کرتا تو یقینا ہم سب اسے مل کر پاگل خانے چھوڑ آتے۔ ہاں، کھیل کے دوران قوانین کی من مانی تشریح سے اگر کوئی "روند" مارا جاسکتا تھا تو اس میں کسی نے کمی نہیں کی ۔ مثلا ، ان میچز میں امپائرز ہمیشہ بیٹنگ ٹیم کے وہ کھلاڑی ہوتے تھے جن کی ابھی باری نہ آئی ہو یا جو آوٹ ہوچکے ہوں، غیر تحریری قانون یہ تھا کہ ایل بی ڈبلیو کسی صورت نہیں دینا۔ہمارا ایک سیمر ، بدر،  جو نیٹس میں تو گیند ایسے سوئنگ کرتا تھا جیسے ٹیری آلڈرمین ہو، لیکن جب بھی میچ میں کھلایاجا تا تو کوئی اوور دس گیندوں سے کم کا نہیں ہوتا تھا۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ نیٹس میں یہ عمران بھولے جیسے جینئس کو ہلنے نہیں دیتا اور میچ میں اس سے گیند دوسرے اینڈ تک نہیں پہنچتی۔۔ ۔۔ بہرحال یہ حقیقت اور مجاز کا فرق ہمیں بعد میں پتہ چلا۔۔۔ تو یہ بدر میاں انتہائی "سخت" امپائر تھے، انکی بالنگ تو کبھی میچ نہیں جتواسکی، انکی امپائرنگ نے البتہ کافی میچ جتوائے اور کافی لڑائیاں کروائیں۔۔ ایل بی ڈبلیو کی اپیل پر ان کا ایک خاص انداز ہوتا تھا جس میں وہ بالر کودائیں ہاتھ کے اشارے سے بتاتے تھے کہ لیگ سٹمپ مس ہے۔۔ آف سٹمپ کے باہر پیڈز پر لگنے والی گیند کو بھی وہ۔۔۔ لیگ سٹمپ مس  ہے۔۔ کہا کرتے تھے۔۔۔
ہم نے جیسی معمولی سی کرکٹ کھیلی اس سے ہمیں یہ پتہ چلا کہ جب ہم کسی کھیل کو کھیلتے ہیں تو پہلے سے مقرر کردہ اصول و ضوابط کے مطابق ہی اسے کھیلا جاسکتا ہے۔ ان ضوابط کو اپنی مرضی کے مطابق ہم بدل یا موڑ نہیں سکتے۔ اس صورت میں کھیل ختم ہوجائے گا یا فساد ہوگا۔ اپنی روند مارنے والی فطرت کے باوصف ہم نے کافی صاف ستھری کرکٹ کھیلی کیونکہ ہمیں علم تھا کہ اگر کھیلنا ہے تو اس کے لیے دل بڑا کرنا پڑے گا۔ناکہ ہر وائڈ اور نوبال پر سِیڑی سیاپا اور ہر آوٹ پر واک آوٹ۔۔
جب انقلاب کا وقت تھا اس وقت آپ نے اس سیاسی کھیل میں شامل ہونا مناسب سمجھا جو بڑے بھائیوں کے جوڑ توڑ ، پیسہ اور سٹیٹس کو کے اردگرد گھومتا ہے۔ بھائیوں نے آپ کو ایک پورا گروپ پلیٹ میں رکھ کے پیش کیا۔ پیسے کے لیے ترین اینڈعلیم خاں اینڈ کو جیسے لوگ۔۔ نظریاتی  مال بیچنے کے لیے شیریں مزاری جیسے نابغے اور الیکشن جیتنے والے امیدواروں کی ایسی کھیپ جن کا نظریہ سے اتنا ہی واسطہ ہے جتنا آپ کا کتاب سے ہے۔ اس وقت آپ ان سب باتوں سے انکار کردیتے۔۔ اور نوجوانوں کو ساتھ لے کے اسلام آباد پر چڑھ دوڑتے کہ اس نظام کے تحت انتخاب کو میں نہیں مانتا۔۔ مجھے انقلاب چاہیے۔ آپ نے وہ اصول و ضوابط مانے جس کے تحت پاکستان میں یہ گندا کھیل کھیلا جاتاہے اور اپنے ہاتھ اس میں ہر ممکن حد تک گندے کیے۔ اب ہوا یہ کہ جو آپ سے زیادہ بڑے کھلاڑی تھے انہوں نے آپ کو زیر کرلیا۔ اب آپ یہ مورال ہائی گراونڈ نہیں لے سکتے کہ میں اس گلے سڑے نظام کو نہیں مانتا اور مجھے انقلا ب چاہیے۔ نہیں حضور والا۔۔ اگر انقلاب چاہیے تو اپنے اردگرد جمع سرمایہ داروں اور دلالوں کو پارٹی سے نکالیے ، اسمبلیوں سے استعفے دیجیے۔ اور سارا تمبا پھوک کے میدا ن  میں آئیے۔ کرکٹ کے کھیل میں فٹبال کے اصول نہیں چلتے حضور۔۔ ابن زیاد کی طرف سے لڑتے ہوئے ، حسین سے محبت کا دعوی جچتا نہیں۔
حُر بننے کے لیے ابن زیاد کا لشکر چھوڑنا پڑتا ہے۔

Comments
8 Comments

8 تبصرے:

Waseem Rana نے فرمایا ہے۔۔۔

واہ۔۔۔ چھا گئے استاد جی۔۔۔۔۔ بڑے عرصے کے بعد ایک بہت زبردست تحریر پڑھنے کو ملی۔۔۔۔۔۔ آخری پہرے کی تو کیا بات تھئ۔۔۔۔ایک دفعہ پھر زبردست

محمد وارث نے فرمایا ہے۔۔۔

آپ کی کرکٹ کی کہانی ہو بہو میری کہانی ہے، تھوڑے سے فرق کے ساتھ کہ گھر میں میں سب سے بڑا ہونے کا فائدہ اٹھایا کرتا تھا اور چھوٹے بھائیوں سے زبردستی باولنگ کرواتا تھا۔ اور ایک بار میں نے غلطی سے اپنے کیپٹن صاحب کو ایل بی ڈبلیو آوٹ دے دیا تھا، اُس دن کے بعد میری ٹیم نے مجھے کبھی ایمپائرنگ نہیں کرنے دی۔

خوبصورت یادداشت لکھی آپ نے، یقیناً میرے جیسے بہت سے لوگوں کو لگا ہوا کہ انہی کہی کہانی ہے۔

جعفر نے فرمایا ہے۔۔۔

وارث صاحب۔۔ آپ کا تبصرہ میرے لیے ایک ایونٹ اور سند ہوتا ہے۔۔ بہت شکریہ پسندیدگی کا

افتخار راجہ نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت اچھے جناب
ان دنوں جتنی مٹی لفظ انقلاب کی پلید ہوئی شاید کسی اور کی گزشتہ چند برس میں نہ ہوئی ہے،
یہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے کہ مجھے وزیر اعظم بناؤ،
پھر سوچتاہوں کے ملک کےلئے کچھ کروں گا ضرور

Mudassir Iqbal نے فرمایا ہے۔۔۔


استاد ، تمہیں یاد ہے ، ایک مرتبہ مجھے تم نے کہا تھا ' آپ اتنے مشکل الفاظ بولنے کی اتنی شدید کوشش کیوں کرتے ہیں ' اس ایک جملے نے میرا انداز فکر ہی بدل کر رکھ دیا-

اور اس تحریر کو پڑھ کر اندازہ ہوگیا ، کہ الفاظ کے برعکس پیغام کتنا اہم ہوتا ہے - الفاظ تو میڈیم ہیں جن کے ذریعے اپنی سوچ کو سامعین / قارئین تک پہنچا یا جاتا ہے - سیدھا سادھا اسلوب ، تکلف اور بناوٹ سے پاک ، ایک عام آدمی کی کہانی ، اتنی آسان کہ تین چوتھائی تو میرا پانچ سالہ بیٹا بھی سمجھ گیا - پڑھنا شروع کرو تو ختم کرنے تک چھوڑنا مشکل ہوجائے - اور پیغام اتنا کلیر کہ شاید ہی کوئی ایسا جو متفق نہ ہو - نہ کوئی بہتان نہ کوئی بد تہذیبی ، نہ ہی کوئی ذاتیات پر حملے - استاد تیری قدر شاید یہ دنیا مرنے کے بعد ہی کرے گی - مجھے نہیں لگتا کہ کسی کو اندازہ ہے کتنا بڑا لکھاری ایک بلاگ تک ہی محدود ہے -

خیر یہ سلسلہ تو یہاں چلتا ہی رہتا ہے اور چلتا ہی رہے گا -

Rai M. Azlan Shahid نے فرمایا ہے۔۔۔

لو جی کوئی پونے بارہ مہینے بعد آپ کا بلاگ پڑھ کے صحیح والا مزہ آیا ہے. ویسے ہتھ کچھ ہولا نہیں رکھا آپ نے یا سارا اسلحہ ٹویٹر و فیس بک کی نظرہ گیا.

Ali Adnan نے فرمایا ہے۔۔۔

بہت اعلٰی تحریر ہمیشہ کی طرح ۔ ۔ ۔ میں آپ کے اس نقطہِ نظر سے سوفیصد متفق ہوں

کرکٹ کے کھیل میں فٹبال کے اصول نہیں چلتے حضور۔۔ ابن زیاد کی طرف سے لڑتے ہوئے ، حسین سے محبت کا دعوی جچتا نہیں۔
حُر بننے کے لیے ابن زیاد کا لشکر چھوڑنا پڑتا ہے۔

Anonymous نے فرمایا ہے۔۔۔

از شکیل

کیا آپ کچھ علم النجوم یا اس سے ملتے جلتے علوم پر یقین رکھتے ہیں

مثلا ستاروں کی گردش، نحوست سیارگان اور ان سب کی روشنی میں یہ ہفتہ کیسا رہے گا، کس تاریخ پر کونسا برج کس گھر میں ہوگا اور ناموں کا زندگی پر کیا اثر ہوتا ہے وغیرہ

، میں اب تک تو ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا تھا

ن پاکستان کا یہ حال دیکھ کر کبھی کبھی سوچنے لگا ہوں کہ ہمارا یہ سب حال اس وجہ سے تو نہیں کہ ہم اپنا یوم آزادی چودہ اگست کو مناتے ہیں

یہ خیال بھی مجھے حال ہی میں آیا جب آزادی مارچ اور انقلاب مارچ دونوں ایک ساتھ شروع ہوے

یعنی کہ ایک پی دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو لانگ مارچ ۔۔۔۔ طاہرالقادری ۔۔۔ ہزاروں لوگ ۔۔۔ عمران خان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چودا اگست ۔۔۔۔ دو ہزار ۔۔۔۔ چودا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آتا، مگر اب مجھے کچھ کچھ نحوست سیارگان بوجہ تواریخ اسم بامسمی پر یقین سا آنے لگا ہے

آپ کیا کہتے ہیں

از شکیل

تبصرہ کیجیے