Showing posts with label بے ادبیاں. Show all posts
Showing posts with label بے ادبیاں. Show all posts

۔۔ اور نکلیں گے کَناجَر کے قافلے

 

 صد حیف۔۔ اہلِ پنجاب۔۔ صد حیف۔ حضرت جوش سے کسی ان گھڑ پنجابی نے کَن جَر کا معانی دریافت کیا۔ اس مردِ لَسٹ نے تبسم فرمایا۔توقف کے بعد بولے، گنگا جمن کا کَن جَرپنجاب سے الگ ہے۔ مردِ آزاد و کلاکار۔ رستوں کا راہی۔سفر ہی جس  کی منزل۔ شکاری، محب، دل آرا۔۔۔ واللہ کپتان سے بڑا کَن جَر کون ہو سکتا ہے! عقل انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔

قریب دو عشرے ادھر کی بات ہے۔ عشاء  ادا ہوچکی۔ تالاب کے کنارے گھاس پر چاندنی بچھی ہوئی۔ محفل یاراں جمی ہوئی۔ طالبعلم نے تیسری دفعہ بوتل کی طرف ہاتھ بڑھایا تو طیش کے عالم میں کپتان نے طالبعلم کی چندیا پر چپت جمائی۔ بولا، "کَن جَرا کسی ہور نوں وی پی لین دے"۔ فقیر کا دل  کَن جَر سے مسوس ہوا۔ جوش یاد آئے۔ روشنی کا جھماکا سا ہوا۔ پچھلی اماوس کی محفل یاد آئی۔ کپتان سےجوش بارے دریافت کیا تو انار کے پیڑ پر لٹکتے اناروں پر نظر ٹکا کر لحظہ بھر کو گم صم سا ہوا۔ پھر بولا، "یادوں کی بارات میں نے پڑھی نہیں، مجھ پر بیت گئی ہے۔ حضرت جوش کہ ہر سانس لیتی اور حرکت کرتی شے سے وصال  ومصلول کے خواہشمند۔ اپنا بھی سفرِ زیست ایسے ہی طے ہوا، ہو رہا ہے۔ " کپتان نے فقیر کی کمر کے گرد بازو حمائل کیا۔ بے خودی کے عالم میں چندیا پرہولے ہولے سے مساج کرنے لگا۔کمر پر سرکتا ہاتھ پشت کی جانب بڑھا تو فقیر کے حواس گم ہونے لگے۔

دوری نہ رہے کوئی۔۔۔ آج اتنے قریب آؤ۔۔۔ میں تم میں سما جاؤں۔۔ تم مجھ میں سما جاؤ۔۔۔
مراد سویٹ نے کپتان کے گال پر ہلکے سے پاری کی تو دفعتا کپتان عالمِ رنگ و بُو سے حقیقت کی دنیا میں آیا۔ طالبعلم کو خود سے چمٹا دیکھ کر "پَراں مر بغیرتا" کہہ کر دھکا دیا۔ فقیر تالاب میں جا گرا۔  کپتان سے وصال کی خواہش ، ناتمام رہی۔ باقی تاریخ ہے۔

تمہید کہ طولانی ہوچکی۔ کپتان کی سرشت محبت ہے۔ اپنی اصل میں کَن جَر۔ کیسے ممکن  کہ وہ فساد مچائے۔ دنگا کرے۔ سازش ہے یہ سازش۔  سپہ سالار کہ اکل کھرے سپاہی۔ کان ان کے پھر بھر دئیے۔ بدظن کر دیا گیا۔ 9 مئی کو ہوّا بنا دیا۔ ہاں۔۔ نکلے تھے قافلے۔۔ مگر کَناجَر کے قافلے۔ ہاتھوں میں پھول۔ لبوں پہ دعا۔۔۔

جتنے بھی تو کرلے ستم۔۔ ہَس ہَس کے سہیں گے ہم۔۔۔ یہ پیار نہ ہوگا کَم۔۔۔ صنم تیری قسم۔۔۔

فٹیج نکلوا لی جائے۔ پَرے کے پَرے یہ گاتے ہوئے نکلے۔ کپتان  اور سپہ سالار۔ یہ جوڑی آسمانوں پر بن چکی۔ کب تک بدباطن اس  ملاپ کو روکیں گے۔ بہت جلد وہ دن آئے گا۔ محب اور محبوب بہم ہوں گے۔ شکوے دور۔ وصال ، حضورِ والا، وصال۔

خط محبوب  لکھتے ہیں۔ دشمن کو خط نہیں لکھے جاتے۔ صنم کتنا ہی سنگدل ہو۔ محبوب اس سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ محبت ہے یہ، محبت۔ کپتان اپنے کَناجَر سے جب کہتا ہے کہ باہر نکلو اور آزادی حاصل کرو تو یہ پیار کی آزادی ہے۔ یہ وصال و مصلول کی آزادی ہے۔ یہ گیت گانے، ٹھمکے لگانے کی آزادی ہے۔ دھول دھپّہ اس کا مدعا نہیں۔

"جب آئے گا کپتان" سے "نیکسٹ سٹاپ اڈیالہ" اور نَک دا کوکا" تک ۔۔۔ سب مدھر گیت کپتان کے ذہنِ کَن جرانہ کی پراڈکٹ ۔ ساری طرزیں کپتان نے بنائیں۔ کریڈٹ کبھی وہ لیتا نہیں۔ ورلڈ کپ بھی جیتا تو ساری ٹیم کو کریڈٹ دیا۔ حقیقت مگر یہ کہ   جیت اسی کی تھی۔ باقی تو سب ریلو کٹّے۔ عمران اسماعیل کہ کپتان پہلے پیار اور 9 مئی کے بعد غصے سے اس کو گینڈے کی پشت پکارتا، راک سٹار بنا دیا۔ لالے عطاءاللہ کا کیرئیر ختم ہوئے زمانہ بیت چکا تھا ، "جب  آئے گا کپتان" سے اس کو نئی زندگی ملی۔ ملکو کے گانوں پر کوئی چھان بورا بھی نہ دیتا تھا۔ اب ڈالرز اور پاؤنڈز میں یافت۔ یہ کپتان کی کَن جرانہ برکت ہے۔

ایک پورا کَن جَر گروہ کپتان نے سوشل میڈیا پر کھڑا کردیا۔ یہ نظریے کی طاقت ہے۔ صلح جوئی، امن اور شائستگی۔ کوئی گالی بھی دے تو جواب میں انترا گا دیتے ہیں۔ ایسی جگل بندی بڑے بڑے خاں صاحبان نہ کر سکے جو  خان نے کر دکھائی۔

خدا رحمت کند ایں کَن جَرانِ یَک طینت را

قید میں ہرگز وہ گھبرایا نہیں۔ جن کے دل محبوب کی یاد سے روشن ہوں، ان کی آنکھیں نور خدواندی سے منور رہتی ہیں۔ قید کی ہر شام محبوب کی یاد میں ایک کوٹھڑی سے صدا بلند ہوتی ہے تو اڑتے پرندے رک جاتے ہیں۔ پیڑوں کے پات ساکن۔ جس کے کان میں وہ آواز پڑتی ہے، آنکھیں جھرنا بن جاتی ہیں۔ جاڑے کی رات خدا کسی کو محبوب سے جدا نہ کرے۔۔۔

نیڑے آ آ آ ظالما وےےےےے

میں ٹھَر گئی آں آں آں۔۔ میں مر گئی آں آں آں

صد حیف۔۔ اہلِ پنجاب۔۔ صد حیف۔ حضرت جوش سے کسی ان گھڑ پنجابی نے کَن جَر کا معانی دریافت کیا۔ اس مردِ لَسٹ نے تبسم فرمایا۔توقف کے بعد بولے، گنگا جمن کا کَن جَرپنجاب سے الگ ہے۔ مردِ آزاد و کلاکار۔ رستوں کا راہی۔سفر ہی جس  کی منزل۔ شکاری، محب، دل آرا۔۔۔ واللہ کپتان سے بڑا کَن جَر کون ہو سکتا ہے! عقل انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔

اک ڈرائیور دو وہیکلز

 

ندّی کے پانی کی ٹھنڈک عرفان کے نفسِ لوّامہ کو سلا چکی تھی۔ گوگی با دِل نخواستہ ندّی سے باہر آئی۔ ترشے ہوئے جسم کو تولیے میں لپیٹا۔ عرفان کے ہاتھ سے پکّا سگریٹ تقریبا چھینتے ہوئے دو تین گہرے کش لیے۔ غصّہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا تو جھاڑیوں کے پیچھے بچھی ہوئی چٹائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عرفان کو ادھر آنے کا کہا۔ عرفان ٹھنڈے پانی کے شاک سے ابھی تک باہر نہیں آسکا تھا۔ دونوں ہاتھ بغلوں میں دئیے آہستگی سے چلتا ہوا چٹائی کے پاس پہنچا۔ اسے ذرا سا گھسیٹ کر دھوپ میں کرکے اس پر دراز ہوگیا۔ گوگی دل میں سوچ رہی تھی کہ ضروری نہیں کہ سب کچھ دیرینہ خواب کے مطابق ہی ہو۔ سکرپٹ تھوڑا بدل بھی جائے تو حرج نہیں۔ اختتام البتہ اب بھی خواب والا ہو سکتا ہے۔ اس نے آہستگی سے لپٹا ہوا تولیہ کھول کر چٹائی پر رکھا اور عرفان کی پائنتی بیٹھ کر اس کے ٹھنڈے پاؤں اپنی گود میں رکھ کر مساج کرنے لگی۔ عرفان کا  ڈیزل انجن آہستہ آہستہ گرم ہونے لگا تھا۔ گوگی کی مراد پوری ہونے کا وقت آن لگا تھا۔

لگن سچّی ہو تو  خواب کو مقصد بنا لینا چاہیئے۔ جِیتو بھیّا  یہی کہتے ہیں۔۔!

عرفان اکرم نے گوگی کو ان منازل پر پہنچایا جہاں آج تک کوئی اسے نہ پہنچا سکا تھا اگرچہ اس نے  بہت سے سفر کیے تھے۔  ندّی کے اس ویران کنارے کے اردگرد موجود جنگل میں چرند پرند گوگی کی کُوکیں سن کر حیران تھے کہ ایساکون سا جاندار ہے جو لطف کی اس منزل پر پہنچ گیا ہے کہ اس کی کُوک جنگل بیلوں میں گونج رہی ہے۔

نی میں سونڑاں  جوگی دے نال۔۔۔

ادھیڑ عمری، چَرس اور ساری زندگی کی مشق ۔۔۔ عرفان کا انجن اتنا چلا کہ گوگی کو منزل سے بھی آگے پہنچا آیا۔ سفر تمام ہوا۔ عرفان نے گڈفلیک کی ڈبّی سے پکّا نکالا۔ سلگا کر ایک ہی کَش میں چوتھائی سگریٹ پھونک ڈالا۔ گوگی چٹائی پر ایسے پڑی تھی جیسے سیلاب اترنے کے بعد کچّے کا علاقہ ہو۔

یہی وہ لمحہ تھا جب گوگی نے نیم بے ہوشی آمیز انبساط میں تہیّہ کیا کہ دنیا اِدھر کی اُدھر ہو جائے، مانے کو مئیر ضرور بنوائے گی۔

اگلے دن وہ ملک نیاز سے  ملی۔ الیکشن کی ساری فنڈنگ کھلے گلے کے بلاؤز اورملک صاحب کے کندھے پر دو دفعہ نرمی سے ہاتھ رکھنے پر مل گئی۔ ڈی سی صاحب کو فون کرنا ہی کافی رہا۔  حلقے میں مانے کی پوزیشن جیتنے والے نہیں تھی مگر جب ملک اور ڈی سی ساتھ ہوں تو ووٹ کی ضرورت نہیں پڑتی۔

عرفان اکرم  کو مئیر کا الیکشن جتوا دیا گیا۔ نسرین پنبیری اور سرور کےسارے  وحشی خواب پورے ہونے کا وقت آ گیا تھا۔  عرفان کو  سائیکل اور سوزوکی ایف ایکس چلانے کے علاوہ کچھ بھی چلانے کا تجربہ نہیں تھا۔ گوگی اور پنبیری نے  عرفان کو تسلّی دی کہ  تمہارا کام صرف دو تین گھنٹے کے لیے دفتر آنا ہوگا وہ بھی ہفتے میں ایک دو  بار۔ باقی سب کچھ ہم سنبھال لیں گے۔ سرور نے خاکروبوں کے امور سنبھالے اور گوگی نے محصول چونگی کے۔ پنبیری نے تبادلوں کے لیے مناسب دام پر سیل لگائی۔ گلشن کا کاروبار اچھے سے چلنے لگا۔

ہردن عید اور رات شبِ برات تھی۔ عرفان نے اگرچہ گزشتہ زندگی مناسب خوشحالی میں گزاری تھی مگر اب اس کو پتہ چلا کہ اصل عیش کیا ہوتے ہیں۔ سرور، پنبیری اور گوگی اس کو 30 فیصد شئیر روزانہ  پہنچاتے تھے۔ اتنے پیسے مانے نے زندگی میں کبھی اکٹھے نہیں دیکھے تھے جتنے اسے روز مل رہے تھے۔

ایک دن شام کے جھٹپٹے میں پنبیری نے مانے کو لان میں جاگنگ کرتے دیکھا۔ سرور کے ساتھ ساری زندگی گزارنے کے بعد  اس کو یہ امید نہیں تھی کہ اس کا دل ایسے دھڑک جائے گا۔ پنبیری اب بھی لاکھوں میں نہ سہی، ہزاروں میں ایک تھی۔ اسی رات پنبیری نے  فیصلہ کیا کہ "ایک دفعہ سے کچھ نہیں ہوتا"۔

عرفان کے ساتھ پنبیری کی علامتی شادی کو کافی دیر ہو چکی تھی مگر ابھی تک وہ عملی طور پر میاں بیوی نہیں  تھے۔ پنبیری  نے اس رات  فیروزی رنگ کی ساڑھی کے ساتھ شلپا شیٹی کَٹ بلاؤز پہنا۔ ہلکا سا میک اپ کیا۔ بال کھلے چھوڑے اور عرفان کے کمرے میں پہنچ گئی۔ یہ مانے کا شربت ٹائم تھا۔ اس حالت میں انسان کو ویسے ہی حُوریں نظر آرہی ہوتی ہیں اور پنبیری تو واقعی ادھیڑ عمر مِس  حجرہ شاہ مقیم لگ رہی تھی۔  مانے کے فون پر کشور کمار کی آواز گونج رہی   تھی۔۔۔"اس سے آگے کی اب داستاں مجھ سے سن"۔۔۔

اس رات مانا چار بجے تک جاگا اور پنبیری اگلے دن دو بجے تک سوئی۔

صورتِ حالات لوّ ریکٹنگل ہو چکی تھی۔ گوگی، مانا، سرور، پنبیری۔ گوگی کو چند دن میں ہی اندازہ ہوگیا کہ پنبیری کی چال میں یہ دُلکی پَن کس کی دَین ہے۔یہ اس معاہدے کی خلاف ورزی تھی جو اس منصوبے کی شروعات پر کیا گیا تھا۔عرفان  لٹرلی گوگی کے خوابوں کا شہزادہ تھا۔ وہ پنبیری کی دوستی اور عرفان کے محبّت کے بیچ سینڈوچ بننے کو ہرگز تیار نہ تھی۔

 سرور البتّہ خاکروبوں کی سپروائزری اور حصّے پر خوش تھا۔ اسے پنبیری کو ایسے خوش دیکھ کر شادی کا پہلا مہینہ یاد آگیا۔ اس کے بعد  وہ کبھی اتنا خوش نہیں دِکھائی دی تھی۔اس نے سوچا،  گرل ہیز آ رائٹ ٹُو بِی ہیپی۔

اُدھر عرفان اکرم کو کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی۔ گوگی ہو، پنبیری ہو، وکّی ہو یا ٹونی ہو۔ جب تک اسے کھانے کو مٹن، پینے کو شربت اور پھونکنے کو چَرس ملتی رہے۔ راتیں  (اور کبھی کبھی دوپہریں) رنگین و سنگین  ہوتی رہیں۔ بنک اکاؤنٹ میں حصّہ پہنچتا رہے۔  چاہے قیامت آجائے، پنجابی محاورے کے مطابق اس کو انجن کو ٹھنڈ ہے۔

مانا، گوگی کی نوجوانی کا عشق تھا جبکہ  پنبیری کے ادھیڑ عمری میں وہ طبق روشن ہوئے تھے جو ساری عمر بجھے رہے۔ دونوں سہیلیاں مانے سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھیں۔ نہ ہی اس خزانے کو چھوڑنے پر تیار تھیں جو مانے کے مئیر بننے کے بعد ان کے ہاتھ لگا تھا۔

مئیر اسلام آباد جناب عرفان اکرم  ان طوفانوں سے بے خبر اپنی دنیاوی جنّت کے حُور و غلمان کے ساتھ مشغول تھے۔ ان کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے!

جنّت کی تلاش

یہ یونیورس جب سے کُن فیکون ہوئی ہے۔ جب سے تتھتھّسو ہوئی ہے اس وقت سے جو بھی غلط کام کرتا ہے۔ اسے پنشمنٹ ملتی ہے۔ یہ پنشمنٹ دنیا میں بھی ملتی ہے اور آفٹر لائف میں بھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ ورلڈ یہ یونیورس یہ گلیکسیاں برباد ہو چکی ہوتیں۔ دنیا میں وال ای والا منظر ہوتا۔ خراب روبوٹ اور بلیاں اس دنیا پر راج کرتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آج بھی ہیومن بئینگز اس دنیا میں موجود ہیں۔ یہ گناہ بھی کرتے ہیں۔ یہ چوریاں بھی کرتے ہیں۔ یہ ڈکوئیٹ بھی ہیں۔ یہ اڈلٹریاں بھی کرتے ہیں۔ یہ بروک بیک ماؤنٹین بن جاتے ہیں۔ کلنگز بھی کرتے ہیں۔ مگر جو بھی پکڑا جاتا ہے اسے پنش کیا جاتا ہے۔ اسے پرزن میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کو زہر کے ٹیکے لگا دئیے جاتے ہیں۔ ہینگ ٹِل ڈیتھ کر دیا جاتا ہے۔ تھیفس کے ہینڈ کَٹ کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ پرزنوں میں سڑ جاتے ہیں۔ ان کو سورج کی روشنی نصیب نہیں ہوتی۔ گرمی سے ان کی کَنڈ پِت سے بھر جاتی ہے۔ رات کو مسکیٹوز ان کا بلڈ سَک کرتے ہیں۔ دن میں فلائیز ان کو سونے نہیں دیتیں۔ ان کی لائف لیونگ ہیل بن جاتی ہے۔

آپ سلطان کو دیکھ لیں۔ آپ ان کی لائف ہسٹری پھرول لیں۔ آپ کو پتہ لگے گا کہ ہول لائف انہوں نے بغیر بتّی کے سیکل نہیں چلائی۔ موٹر سیکل پر ون ویلنگ نہیں کی۔ یہ کار بھی کئیرفلی چلاتے رہے۔ ان کا کبھی چالان نہیں ہوا۔ کبھی انہوں نے ریڈ سگنل نہیں توڑا۔ یہ ہمیشہ اپنی حق حلال کی کمائی سے ہاؤس رَن کرتے رہے۔ یہ کسی سے پانی کا گلاس پینے کے روادار نہیں۔ یہ اتنے فیمس ہونے کے باوجود کبھی ایروگنٹ نہیں ہوئے۔ یہ پرستاروں کی چکن تکّے، بریانی، قورمے، برگر، پیزے کی آفر بھی قبول نہیں کرتے تھے۔ یہ ان سے کیش لے لیتے۔ یہ اس کیش سے ہر جمعرات چِک پیز پلاؤ کی دیگ پکوا کر ڈسٹری بیوٹ کر دیتے۔ یہ کہتے، کسی کا پیسہ سلطان کیسے اِیٹ سکتا ہے؟ سلطان کو گاڈ آلمائٹی آلموسٹ ایوری تھنگ گرانٹ کر چکا ہے۔

یہ ورلڈ پوائزوں کے لیے ایگزامینیشن ہال ہے۔ خدا اپنے لوّنگ ہیومن بئینگز کو ڈفیکلٹیز میں ڈال کے ایگزامن کرتا ہے۔ سلطان نے ساری زندگی سٹریٹ وے گزاری۔یہ ہمیشہ گاڈ فئیرنگ رہے۔ پھر بھی ان کے حاسدین نے ان کو ایک جھوٹے کیس میں پھنسا لیا۔ یہ پانی کی سبیل پر زنجیر سے بندھا ہوا گلاس چوری کرنے کے الزام میں جیل چلے گئے۔ یہ چاہتے تو اپنے فینز کو بھڑکا سکتے تھے۔ یہ ان کو ہر چیز آن فائر کرنے کا کہہ سکتے تھے۔ یہ اگر چاہتے تو پورے کنٹری پر قبضہ کر سکتے تھے۔ مگر یہ لا ابائیڈنگ سٹیزن ہیں۔ یہ چپ چاپ جیل چلے گئے۔ یہ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں بند ہوگئے۔ یہ نیکڈ فلور پر سونے لگے۔ انہوں نے کّدو شریف اور چپاتی سے لنچ اور ڈنر کرنا شروع کردیا۔ یہ اپنے پریزنٹ پر راضی ہوگئے۔

یہ جیل میں ان کا دوسرا دن تھا۔ جولائی کا ہاٹ منتھ اپنے عروج پر تھا۔ اچانک پرزن کے اوپر گہرے بادل چھا گئے۔ کُول بریز چلنے لگی۔ جولائی کا مہینہ نومبر بن گیا۔ نیکڈ فلور اچانک فلاور بیڈ بن گیا۔ فضا میں خوشبو سپریڈ ہونے لگی۔ جیل کے باہر ریڑھیوں والے پی نٹس بیچنے لگے۔ لوگ خرید کے ان کو چھیلتے تو بیچ میں سے کاجو نکلتے۔ یہ لنچ کرنے لگے تو چنے کی دال اور روٹی ایک دم مٹن ٹینڈرلین اور تازہ تندوری نان میں بدل گئی۔ جیل کا گدلا پانی، سپارکلنگ واٹر بن گیا۔ یہ تہجّد کے لیے باتھ لینے لگے تو گندا ٹائلٹ یکدم سیون سٹار ہوٹل کا واش روم بن گیا۔ ان کی چھوٹی سی کوٹھڑی اتنی بڑی ہوگئی کہ اس میں وہ دس کلومیٹر جاگنگ کرنے لگے۔

ان کو تکلیف پہنچانے کے لیے جس دورافتادہ گرم شہر میں ان کو بھیجا گیا تھا وہ گاڈ ولنگ ایک سَب جنّت قرار دے دیا گیا۔ شہر کے لوگ اشارے توڑ کے، جھوٹ موٹ لڑائی جھگڑا کرکے قطار اندر قطار جیل میں آنے لگے۔ جیل کا عملہ جسے سلطان پر ظلم کرنے کا حکم تھا۔ وہ سب یہ دیکھ کر لرز گئے۔ وہ گریہ کرنے لگے۔ وہ خدا سے اپنے سنِز کی پارڈن مانگنے لگے۔ وہ سلطان کے پاؤں پڑ گئے۔ سلطان نے کہا، تمہارا کوئی قصور نہیں۔ تم اپنی ڈیوٹی کر رہے تھے۔ جاؤ آج سے تم آزاد ہو۔

شام ڈھلتے ہی کوٹھڑی میں ہلکی دودھیا روشنی پھیل جاتی۔ بڑی بڑی آنکھوں والی حسین عورتیں جن کی چِیکز حیا سے پنک ہوتیں، کوٹھڑی ان سے بھر جاتی۔ پھلوں کے رَس سے بھرے بلوریں گلاس سلطان کو پیش کیے جاتے۔ سلطان لیدر کاؤچ پر اپنا سَر پنک گالوں والی کی گود میں رکھے نیم دراز تھے۔ اس نے سلطان کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے سلطان کے ہاتھ سے جوس کا گلاس لیا اور کہا، جانِ عالم! بارہ بج گئے ہیں۔ دودھ پی لیں۔دوسری پنکی نے سلطان کے ریشمی گاؤن میں ہاتھ ڈالا اور آہستگی سے اسے ۔۔۔۔ چررررررر۔۔۔ کرکے پھاڑ دیا۔ فضا میں بھینی بھینی خوشبو تھی اور یہ سونگ گونج رہا تھا۔۔۔

آندیاں نصیباں نال اے گھڑیاں۔۔۔


۔۔اک کمرے میں بند ہوں۔۔۔


شہرِ اقتدار میں سائے لمبے ہونے لگے تھے۔ پہاڑوں کی طرف سے آنے والی ہوا میں ایک تازگی اور بے نام سی افسردگی تھی۔ پرانی مگر عالیشان عمارت پیڑوں میں گھری شام کے دھندلکے میں ہزار بھید چھپائے کھڑی تھی۔ صدر دروازے سے ایک سیاہ گاڑی آہستگی سے پورچ میں آ کے رکی۔ مستعد جوان نے چوکسی سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ ایک وجیہہ الشان شخصیت گاڑی سے باہر نکلی۔ پیشانی کی کشادگی اور آنکھوں کی چمک بلند بختی کا اعلان کر رہی تھی۔ سفید لباس، نیلی واسکٹ، نیو بیلنس کے سنیکرز، سیاہ چشمہ، چال میں ہلکی سی للک۔

ان کا استقبال کرنے والوں میں چھریرے بدن، تیکھے نقوش والے صاحب تھے۔ انہوں نے گرمجوشی اور عقیدت سے وجیہہ کا ہاتھ تھاما اور چوم کر آنکھوں سے لگایا۔ چوکس جوان کی رہنمائی میں دونوں احباب ڈرائنگ روم میں پہنچے۔سنٹر ٹیبل انواع و اقسام کے فواکہات و مقویات سے سجی تھی۔ وجیہہ نے بیٹھنے سے پہلے مقویات کی ایک مٹھی بھری اور صوفے پر صاحب کے ساتھ جُڑ کے بیٹھ گئے۔ بادام پستوں کا ایک پھکّا مار کے منہ چلاتے ہوئے وجیہہ کی آنکھوں میں برسات سی اتر آئی۔ ریڈ بُل کے گھونٹ سے نٹس نگل کے صاحب سے لپٹ سے گئے۔

وجیہہ نے قمیض کے دامن سے آنکھیں پونچھیں اور بھرّائی ہوئی آواز میں بولے، "بہت مِس کیا ہے تمہیں۔ کیا کوئی اپنے چاہنے والوں سے یوں کرتا ہے؟ گلے شکوے تھے تو مجھے کہا ہوتا۔ میں تمہاری ایک آواز پر دوڑا چلا آتا۔ تمہارے بن کیسے یہ دن گزرے ہیں یا خدا جانتا ہے یا پنبیری جانتی ہے۔"

صاحب پر رقّت طاری ہونے لگی تھی۔ بہت مشکل سے خود کو سنبھالا اور اپنا بازو وجیہہ کے گرد حمائل کرکے ان کو زور سے بھینچا۔ "میں بہک گیا تھا جانی۔ ایک سٹیل کے گلاس کے ذریعے مجھ پر جادو کر دیا گیا تھا۔ مجھے وہی کچھ نظر آنے لگا تھا جو شیر خان اور مولوی خلیل مجھے بتاتے تھے۔ انہوں نے مجھے تمہارے بارے من گھڑت کہانیاں سنائیں۔ کچھ تو بہت گندی تھیں۔ ساتھ کچھ تصاویر اور فلمیں بھی دکھائیں۔ میں ایک صاف دل اور سادہ انسان ہوں۔ میں نے ان کو سچ مان لیا۔" صاحب نے تاسّف سے سر نفی میں ہلایا۔ ڈن یل کی ڈبّی اٹھا کر سگریٹ نکالا تو وجیہہ نے ہاتھ پکڑ لیا۔ بولے، سگریٹ مت پیا کرو۔ دیکھو کتنا سا منہ نکل آیا ہے۔ یہ کہہ کر واسکٹ کی اندرونی جیب سے پلاسٹک کی تھیلی نکالی اور سائیڈ ٹیبل پر تھوڑا سا سفوف انڈیلا۔ صاحب سے کریڈٹ کارڈ لے کر سفوف کو چار لکیروں میں تقسیم کیا اور صاحب سے بولے، بسم اللہ کرو۔ صاحب نے ہچکچا کر انکار کیا۔ وجیہہ نے بھی اصرار نہیں کیا اور پانچ سو کا کڑک نوٹ نکالا۔  اس کو رول کرکے چاروں لکیریں کھینچ لیں۔ وجیہہ کا چہرہ مزید نورانی ہو چکا تھا۔ انہوں نے سر اوپر کرکے گہرا سانس لیا۔ ناک میں چھوٹی انگلی سے خلال کیا اور صاحب سے مخاطب ہوئے، "یہ پنبیری کے پیر صاحب کا خاص دم کیا ہوا سفوف ہے۔ موت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے۔ ہر چیز واضح نظر آنے لگتی ہے۔ میرے لیے تو یہ مرشدوں کا تبّرک ہے۔"

صاحب نے چائے کا کپ اٹھا کے ہلکا سا سپ لیا۔ رومال سے ہونٹوں کے گوشے صاف کیے۔ نمک پارہ اٹھا کے تھوڑا سا کھایا۔ باقی پرچ میں کپ کے ساتھ رکھ کے بولے، "آج سے چند دن پہلے عجیب ماجرا ہوا۔ شام کو لان میں بیٹھا تھا کہ پہاڑوں کی طرف سے آنے والی ہوا میں ایسی بُو آئی جیسے گوشت جل رہا ہو۔ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ طبیعت کچھ مکدّر سی ہوئی۔ اندر جا کے چائے بھی پی۔ لیکن عجیب سا اضمحلال طاری تھا۔ اسی عالم میں نیند آگئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ مارگلہ کے جنگلات میں آگ لگی ہے۔ شعلے آسمان کو چھو رہے ہیں۔ ان شعلوں میں ایک بزرگ کی شبیہہ نظر آئی۔ کالے چوغے میں ملبوس، سر بھی کالے کپڑے سے ڈھکا ہوا، ہاتھ میں ایک عصا جس کے سرے پہ عجیب سا دھاتی پھل تھا، بزرگ نے دونوں ہاتھ پھیلائے اور گونج دار آواز میں بولے۔۔۔ وجیہہ کو بچاؤ۔۔۔ ورنہ سب کچھ برباد ہو جائے گا۔ میں ہڑبڑا کر جاگ اٹھا۔ یہ خواب مجھے سات دن مسلسل آیا۔ اس کے بعد میں نے فیاض سے رابطہ کیا۔ شیر خان اور مولوی خلیل کی کہانیوں بارے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ وجیہہ ایک اپ رائٹ اور آنسٹ انسان ہے۔ اس نے کبھی کوئی حرامزدگی نہیں کی۔ اس کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے۔ تم پر ضرور کسی نے جادو کیا ہے۔ میں تمہیں ایک بزرگ کا پتہ بتاتا ہوں جو پھونکوں سے جادو کا اثر ختم کر دیتے ہیں۔ میں نے فیاض کے پیر سے رابطہ کیا۔ اس نے پھونکوں سے مجھ پر کیے گئے جادو کا اثر ختم کر دیا۔ اس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ تمہارے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے۔ اسی لیے آج تمہیں بلایا ہے۔"

یہ کہہ کر صاحب وجیہہ سے لپٹ گئے۔ دور کہیں آل انڈیا ریڈیو پر"تعمیلِ ارشاد"  میں یہ گانا بج رہا تھا۔۔۔

ہم تم اک کمرے میں بند ہوں اور چابی کھو جائے

آخری معرکہ

 

ممثّل بے بدل پنکج ترپاٹھی نے کہا تھا۔۔۔ "گاؤ بھوس٭٭ کے"۔ وقت آن لگا ہے، کپتان ہم سے کہے۔۔۔ "اٹھو۔۔بھوس٭٭ کے"

ارمان مسلے جاتے ہیں۔ خواہشیں حسرت بن جاتی ہیں۔ جس کے ساتھ مل کر بچوں کے نام سوچےجاتے ہیں وہ کسی عبداللطیف کی چوکڑی کو جنم دے رہی ہوتی ہے۔ یہی دنیا ہے۔ یہی مایا۔ کارِ ناکام ہے یہ ۔۔ کارِ ناکام۔

یک سال ادھر سب کچھ کہ ہنکی ڈوری تھا۔ فضائیں مشکبو۔ پسینے گلاب۔ دن کو چنتا نہ رات کو خواب۔ سورج ڈھلتے مغرب ادا ہوتی۔ یارانِ خوش جمال چوتھے مالے پر جمع ہوتے۔ موسیقی کہ روح کی غذا ہے، حسن کہ نفس کا آبِ حیات۔ رُوم رُوم سے صدا اٹھتی۔۔۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔۔۔ وہ ٹھنگنا نابغہ کہ دنیا جسے عامر خان کے نام سے یاد کرتی ہے۔۔۔ کیا خوب کہتا تھا۔۔۔ اڑتا ہی پھروں ان ہواؤں میں کہیں۔۔یا میں جھول جاؤں ان گھٹاؤں میں کہیں

دوام مگر سفر کو ہے، مسافر کو نہیں۔ جانے کس بدخصال کی نظرِ بَد تھی۔ سب ختم ہوگیا۔ سوچو تو لگتا ہے جیسے کوئی خواب تھا۔ اقبال کا خواب پورا کرتے کپتان خود خواب ہوچلا۔ انسان چیخ اٹھتا ہے۔

دنیا بنانے والے کیا تیرے مَن میں سمائی۔۔۔ تو نے کاہے کو دنیا بنائی۔۔۔

جاڑے کی ایک شب کپتان سے خلوت ہوئی۔ عرض کی، اتنا بے سمت نہ چل لوٹ کے گھر جانا ہے۔ کپتان ہنسا۔ طالبعلم کی ٹنڈ پر چپت لگائی۔ موج میں تھا۔ ایک اور لگائی۔ طالبعلم نے بھنے گوشت کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ بڑا ٹکڑا منہ میں ڈال کر چباتے ہوئے کپتان نے آنکھ میچ کر یہ شعر پڑھا،

بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔ

مت پوچھ ولولے دلِ ناکردہ کار کے

لٹیرے مگر کائیاں نکلے۔ عیّار۔ سپہ سالار کہ اکل کھرے سپاہی۔ کان ان کے بھر دئیے۔ کپتان کو دیوث بنا کر دکھا دیا۔ سپاہی مگر سادہ دل۔ عیّاری سے ان کو علاقہ نہیں۔ دنیا کہ بدلنے جا رہی تھی۔ امّت مسیلمہ کا رہنما۔ دنیا جس کی دہلیز پر سجدہ ریز ہونے کو تھی کہ ۔۔

مجھے اپنوں نے مارا، گیروں میں کہاں دَم تھا

میری کِشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا

ایسا لیڈر صدیوں میں گاہ گاہ۔ قوم مگر اپنی خوش قسمتی سے بے خبر اس کو ضائع کرنے پر مصر۔ امکانات کی ایسی دنیا کہ وطن جنت بن جائے۔ اس کے لیے مگر اٹھنا ہوگا۔ پوری قوم شیشہ پلائی دیوار کی طرح کپتان کی آواز پر اکٹھی ہو۔ گولیاں وہ کھا چکا۔ موت کا خوف اس کو کبھی نہ تھا۔ اب تو جان پاجامے میں لیے پھرتا ہے۔ ڈرا وہ اس کو سکتے نہیں۔ قوم کو سمجھنا ہوگا ۔۔ ڈر کے آگے جیت ہے۔

ممثّل بے بدل پنکج ترپاٹھی نے کہا تھا۔۔۔ "گاؤ بھوس٭٭ کے"۔ وقت آن لگا ہے، کپتان ہم سے کہے۔۔۔ "اٹھو۔۔بھوس٭٭ کے"

نِی میں جانڑاں گوگی دے نال

نِی میں جانڑاں جوگی دے نال۔۔۔۔نصرت کی آواز سوزوکی ایف ایکس میں گونج رہی تھی۔ عرفان اکرم نے پکّے سغٹ کا آخری کَش لیا تو فلٹر کا ذائقہ آنے لگا تھا۔ اس نے آخ تھو کرکے تھوک اور سغٹ باہر پھینکا۔ سغٹ تو سڑک پر گرا اور تھوک سیونٹی والے کے  منہ پر۔ سیونٹی والے نے عرفان کے شجرے میں چرند پرند شامل کرتے ہوئے موٹر سائیکل عرفان کی ایف ایکس کے پیچھے لگا دی۔ عرفان کو کھُڑک گیا کہ سیونٹی والا موٹا دہوش اس کو پھینٹی لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس نے ایف ایکس کو ریس دینے کی کوشش کی تو وہ پٹاکا مار کے بند ہوگئی۔ اتنی دیر میں سیونٹی والا سر پہ آگیا تھا۔ عرفان نے چھلانگ لگائی اور گرین بیلٹ سے ہوتا ہوا قریبی جنگل میں گھس گیا۔ سیونٹی والا دھوش بے چارہ اس کو غائب ہوتے دیکھتا رہا اور اپنا غصہ نت نئی اصطلاحات میں ڈھال کے چند سیکنڈ بعد کک مار کے چلا گیا۔ عرفان بھنگ کی جھاڑیوں میں چھپا ہوا دیکھ رہا تھا۔ سیونٹی والے کے جاتے ہی وہ فاتحانہ انداز میں باہر نکلا۔ ایف ایکس کو گالی دی اور قریب سے گزرتے رکشے کو ہاتھ دے کر اسے بھارہ کہو جانے کا کہا۔

عرفان جوانی میں کبڈّی کا ماہر کھلاڑی تھا۔ اس کی دھوم پورے پنجاب میں تھی۔ وہ کبھی کسی کی پکڑ میں نہیں آتا تھا۔ بڑے بڑے چودھری اس کے پرستار تھے۔ اس کو کبھی کسی چیز کی تنگی نہیں ہوئی تھی۔ راشن پانی چودھریوں کی طرف سے آجاتا تھا۔ آنے جانے کے لئے ایف ایکس تھی۔ رہنے کے لئے بھارہ کہو میں اچھے وقتوں میں جھیکا گلی کے راجہ فقیر محمد کا منت ترلا کرکے بیس کنال زمین مَل لی تھی۔ چکوال کے چودھری رشید حمید سے فرمائش کرکے چار کمرے بھی بنوا لئے۔ اب عرفان اکرم اپنی بھارہ کہوی جنت میں اکیلا موجیں مارتا تھا۔ چرس کا شوق اسے جوانی سے ہو گیا تھا۔ کبڈّی کے میچ سے پہلے وہ دو پکّے سغٹ چھِک لیتا تھا۔ اس کے بعد کوئی اس کی ہوا کو بھی نہیں چھو سکتا تھا۔ ادھیڑ عمری شروع ہوئی۔ کبڈّی کھیلنے کی طاقت نہیں رہی تھی لیکن عرفان یار باش بندہ تھا۔ اس کے اتنے تعلق بنے ہوئے تھے کہ زندگی مزے سے گزر رہی تھی۔ کھانا پینا پنجاب کے چودھریوں سے ہوجاتا تھا۔ چرس اسے تیراہ وادی کے یار مت آفریدی سے مل جاتی تھی۔ عورتوں کی اسے کبھی تھوڑ نہیں ہوئی۔ بچپن سے ہی منہ متھے لگتا تھا۔ جوانی میں کبڈّی نے اسے فٹ رکھا۔ خواتین میں مقبول تھا۔جن چودھریوں کی حویلیوں میں وہ جا کے ٹھہرا کرتا تھا۔ انہی میں سے بہت سی خواتین چوری چھپے عرفان سے یارانے چلاتی تھیں۔ ان سے بھی عرفان کو معقول پیسے مل جاتے تھے۔ عید تہوار پر بھی اسے اپنی پرستاروں سے ون سونّے سوٹ، جوتے اور عطر وغیرہ کے تحائف مل جاتے تھے۔ یہ سب ہوتے ہوئے بھی عرفان کو اپنی زندگی میں کمی سی محسوس ہوتی تھی۔ جب بھی وہ نصرت کی "نِی میں جانڑاں جوگی دے نال" سنتا تو اسے لگتا اندر سے کوئی آواز اسے پکار رہی ہے۔ وہ اسے چرس کا اثر سمجھ کے نظر انداز کردیتا۔

گوگی اور پنبیری کی انڈرسٹینڈنگ کے بعد انہوں نے اسلام آباد منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ نذیر ملنگی نے ان کو یقین دلایا کہ وہ عرفان اکرم کو کسی بھی طرح چک 69 والے پیر صاحب کے پاس لے جائے گا۔ اس کے بعد والی گیم پنبیری اور سرور نے سیٹ کرنی ہے۔ ملنگی نے حجرہ شاہ مقیم میں اپنے سورس سے رابطہ کرکے کبڈّی میچ ارینج کرنے کا کہا جس میں چیف گیسٹ عرفان اکرم ہو۔

ستمبر کے دن تھے۔ بھارہ کہو کی راتیں ٹھنڈی ہو رہی تھیں۔ رات ایک دو بجے تک عرفان چرس سے شغل کرتا۔ یار بیلی آئے رہتے۔ ان میں ایک دو جوان بہت خوبصورت بھی تھے۔ عرفان خوبصورتی کو پسند کرتا تھا اور اس میں جنسی تفریق کا قائل نہیں تھا۔ ان میں سے اکثر ایک یا دونوں ہی رات بھارہ کہو میں گزارتے۔ ستمبر کی ایک گرم دوپہر عرفان کو حجرہ شاہ مقیم سے مستقیم شاہ کی کال آئی۔ اس نے کبڈّی میچ کی دعوت دی اور ساتھ دس دیسی مرغیاں اور دو من چاول بھجوانے کا ذکر بھی کیا۔ عرفان جانا نہیں چاہتا تھا لیکن اسے حجرہ شاہ مقیم کی پروین یاد آئی۔ اسکے بڑے بڑے نین اور دوپٹے کا بار بار سرک جانا عرفان کا نشہ دوبالا کر گیا۔ اس نے فورا حامی بھرلی۔

حجرہ شاہ مقیم کا چکر عرفان کے لئے خوش قسمت ثابت ہوا۔ پروین آج بھی اسی جادو کی مالک تھی۔ مستقیم شاہ نے رات کے کھانے کے بعد پروین کو چائے بنانے کا کہا اور باتوں باتوں میں چک 69 والے پیر صاحب کا ذکر چھیڑ دیا۔ اس نے بتایا کہ پیر صاحب سو فیصد گارنٹی کے ساتھ الیکشن میں کامیابی کا تعویذ دیتے ہیں۔ اگر عرفان چاہے تو وہ پیر صاحب سے اس کی ملاقات کا بندوبست کرسکتا ہے کیونکہ وہ ہر کس وناکس سے نہیں ملتے۔

اگلے دن پلان کے مطابق عرفان پیر صاحب کے آستانے پر پہنچا تو انتظار گاہ میں پنبیری اور سرور بھی موجود تھے۔ پیر صاحب نے عرفان کو دیکھتے ہی کہا کہ سارا پنڈ مر جائے پر تو الیکشن نہیں جیت سکتا۔ مستقیم شاہ نے مسمسی صورت بنا کر کہا کہ حضور کوئی تو طریقہ ہوگا۔ کچھ کریں۔ یہ ہمارا یار ہے۔ اس کا جیتنا ضروری ہے۔ پیر صاحب کچھ دیر مراقبہ میں گئے۔ وہاں ان کی آنکھ لگ گئی۔ دو گھنٹے بعد آنکھ کھلی تو عرفان اور مستقیم شاہ بھی قالین پر سوئے ہوئے تھے۔ پیر صاحب نے گرج کر انہیں اٹھنے کو کہا۔ دونوں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔ پیر صاحب نے عصا اٹھایا۔ اس سے کمر پر خارش کی اور فرمایا، "تمہیں ایسی عورت سے شادی کرنی پڑے گی جو مردانہ شلواریں قمیصیں سینے والی کسی عورت کی سہیلی ہو۔ اس کا خاوند سرکاری ملازم ہو اور اس کے کم از کم دو بچے ہوں۔"

عرفان اکرم کے چہرے پر بیزاری تھی۔ اس نے جھلاّ کر کہا کہ میں ایسی عورت کہاں ڈھونڈتا پھروں گا۔ مستقیم شاہ ایک دم اچھلا اور بولا میں ایسی عورت کو جانتا ہوں۔ ابھی جب ہم آئے تو انتظار گاہ میں سرور اور پنبیری بیٹھے تھے۔ سرور سی آئی ڈی میں ملازم ہے۔ اس کے دو بچے ہیں اور اس کی ایک سہیلی ہے جس کی لاہور میں بوتیک ہے اور وہ صرف مردانہ کپڑے سیتی ہے۔ اس کا نام گوگی ہے۔ پیر صاحب نے فورا خادم خاص کو کہا کہ پنبیری اور سرور کو بھیجو۔ دونوں اندر آئے۔ دو زانو ہو کر پیر صاحب کے سامنے جھکے۔ پیر صاحب نے سرور کے سر اور پنبیری کے کندھوں پر ہاتھ پھیرا۔ پھر فرمایا، "سرور میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ پنبیری کو طلاق دو۔ یہ عرفان سے شادی کرے گی۔ اسلام آباد کے مئیر کا الیکشن ہو جائے تو اس کے بعد یہ پنبیری تم کو واپس کر دے گا۔" پھر مسکرا کے بولے، "میں امید کرتا ہوں کہ عرفان پنبیری کو زیادہ گھمائے گا نہیں۔"

سرور حواس باختہ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پیر صاحب کے قدموں میں گرگیا اور بولا، ہم پر یہ ظلم نہ کریں۔ میں پنبیری کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پیر صاحب نے پیار سے سرور کے منہ پر چپت لگائی اور کہا، یہ عارضی بندوبست ہے۔ پنبیری تمہاری ہے،تمہاری رہے گی اور اس قربانی کے بدلے تمہیں عرفان اکرم مالا مال کردے گا۔

سرور نے پنبیری کو طلاق دی۔ عرفان نے اگلے ہفتے اس سے شادی کرلی۔ شادی کے بعد پنبیری بھارہ کہو شفٹ ہوگئی۔ عرفان اپنے معمولات میں مگن رہنے لگا۔ پنبیری گھر میں مہمان کی طرح رہتی تھی۔ کبھی سرور بچوں کے ساتھ ملنے آجاتا اور کبھی اکیلا۔

گوگی بھی نکاح میں شریک تھی۔ عرفان کو دیکھ کے اس کے مَن میں ایسا سکون اترتا تھا جو شلوار قمیص کا نیا ڈیزائن بنانے سے بھی کہیں زیادہ تھا۔ آہستہ آہستہ گوگی بھارہ کہو میں آنے جانے لگی۔ کبھی کبھار رات کو بھی وہیں ٹھہر جاتی۔

گوگی اور عرفان کا اکثر آمنا سامنا ہونے لگا۔ پنبیری گھر پر نہ بھی ہوتی تو گوگی عرفان کے ساتھ لان میں بیٹھ کر گپ شپ کرتی رہتی۔ عرفان گرگ باراں دیدہ تھا۔ اسے گوگی میں وہ بے خودی نظر آئی جو پروین، زبیدہ، مسرت، شگفتہ، شائستہ وغیرہم میں نظر آتی تھی۔

نومبر کی ایک اداس شام تھی۔ عرفان لان میں بیٹھا واک مین پر "نِی میں جانڑاں جوگی دے نال" سن رہا تھا۔ اچانک گیٹ سے گوگی کی کار داخل ہوئی۔ اس کے مَن میں کوئی گرہ سی کھل گئی۔ اسے پتہ چل گیا کہ وہ جوگی، یہی گوگی ہے۔

نِی میں جانڑاں گوگی دے نال


گرمیٔ کلام

 

بنک میں آج معمول سے کم رش تھا۔رات امتیاز صاحب دیر سے سوئے۔ موسم بدل رہا تھا۔ صبح  اٹھے تو ہلکا سا زکام تھا۔ امتیاز صاحب معمول کے پکے تھے۔ چھٹی کی بجائے دفتر جانے کا فیصلہ کیا۔ گیارہ بجے کے قریب ہلکا سا بخار بھی ہوگیا۔ چائے کے ساتھ پیناڈول بھی لی لیکن جسم میں درد اور چھینکوں نے ایسا زور مارا کہ انہوں نے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔

امتیا ز رؤف درمیانی عمر کےنک سک سےدرست معقول آدمی تھے۔اچھے وقتوں کے ایم بی اے تھے۔ بنک میں ملازم ہوگئے۔ آج ترقی کرتے برانچ مینجر کے عہدے پر پہنچ چکے تھے۔

ان کی شادی کو طویل عرصہ گزر چکا تھا۔بیوی مضافات کے ڈگری کالج میں   ہوم اکنامکس کی لیکچرار تھیں۔نورین شہزادی انکا نام تھا۔ امتیاز پیار سے نین کہتے تھے۔ نین کی ہفتے میں دو دن کلاس ہوتی تھی۔ باقی وقت وہ سماجی بھلائی اور ادبی سرگرمیوں میں گزارتی تھیں۔

امتیاز گھر پہنچےتو بارہ بجنے والے  تھے۔ نین عام طور پر اسوقت گھر پر نہیں ہوتی تھیں۔ گھر میں داخل ہوتے ہی بیڈروم سے ٹی وی کی ہلکی سی آواز سنائی دی۔ امتیاز حیران ہوئےکہ نین آج گھر پر ہیں۔کچن میں جاکے چائے کا پانی رکھا۔ اچانک بیڈروم سے لذّت بھری سسکاری سی سنائی دی۔امتیاز سُن ہوگئے۔ سارے امکانات یکلخت انکے ذہن سے برق کےکوندے کی طرح گزر گئے۔ اب بیڈروم سے ٹی وی کی آوازبھی اونچی ہو چکی تھی اور سسکاریاں بھی ہلکی چیخوں میں بدل چکی تھیں۔امتیازاس آواز کو لاکھوں میں پہچان سکتےتھے۔

یہ نین کی آوازتھی۔

ٹی وی پر کوئی تقریرچل رہی تھی۔کرکٹ کا ذکربھی ہو رہا تھا۔امتیاز نے آہستگی سے بیڈروم کا دروازہ کھولا۔ نین بیڈ پر دراز تھیں۔ تکیہ ٹانگوں میں دبائے، آنکھیں بند کئے، سسکاریاں لے رہی تھیں۔ امتیاز صاحب نے ان کا بدن بستر پر یوں بکھرا سہاگ رات کے بعد آج ہی دیکھا۔ٹی وی پر کپتان کی تقریر چل رہی تھی۔نین دنیا و مافیہا سے بےخبر بیڈ پر پڑی تھیں۔ جیسے ہی کپتان اس حصے پر پہنچے جس میں وہ کہتے ہیں، بڑا وہ ہوتا ہے، جس کی سوچ بڑی ہوتی ہے، نین نے چیخ ماری، جسم ایک دم اکڑ کرڈھیلا پڑگیا اوروہ بسترسے نیچےجاگریں۔بیڈ کاکونہ نین کےسر پر لگا اور خون کی پتلی سی لکیران کے سفید بالوں کی جڑوں کو رنگین کرتی ہوئی گال تک پہنچ گئی۔

امتیاز یہ سب دم بخودہو کے دیکھ رہے تھے۔زمین پر گر کے نین کے حواس بحال ہوئے۔ امتیاز کی طرف دیکھ کے مسکرائیں اور لذت بھری تھکاوٹ سے بولیں، "آپ کب آئے؟"

 

دنیا کے فیصلے

برنارڈ شاہ فلسفی،شاعر، ڈرامہ نگار، سائنسدان، طبیب اور ادیب تھے۔ یہ اَنگلینڈ کے رہنے والے تھے۔ کہتے ہیں کہ اَنگلینڈ میں ایک بادشاہ تو تاج و تخت والا ہے اور دوسرا برنارڈ شاہ۔ ان کے نام کے ساتھ 'شاہ'  عوام نے اپنی طرف سے لگایا۔ شاہ جی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اَنسان کا جسم کمزور ہو تو اس کا دماغ بھی کمزور ہوتا ہے۔ ایسی قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی جو چینی اور گھی جیسی چیزیں استعمال کرتی ہو۔  پیدل چلنے کی عادت نہ رکھتی ہو اور مال و دولت سے مَحبّت کرتی ہو۔

ہم سب کو یہ مان لینا چاہیئے کہ کپتان سے زیادہ عرصہ کوئی مغرب میں نہیں رہا۔ یہ وہاں کی ہائی سوسائٹی میں موو کرتے رہے۔ یہ رات گئے تک ان محفلوں میں رہتے جہاں طبیعیات، فلسفہ، علم الابدان، مابعد الطبیعیات، مختلف ادویات کے انسانی ذہن پر اثرات اور رقص و نغمہ پر بات ہوتی ۔  یہ مغرب کے بڑے اذہان کے ساتھ انٹر ایکٹ کرتے۔ یہ ان کا مائنڈ پِک کرتے۔ ان کو شروع سے ہی یقین تھا کہ ایک دن انہیں اُمّہ کی قیادت سونپی جائے گی۔ یہ لڑکپن سے  ایک خواب تواتر سے دیکھ رہے تھے جس میں ایک نقاب پوش خاتون  انہیں سبز رنگ کا پرچم تھما کر ان کو ایک رنگ برنگا سکارف پہناتی ہیں جس کی چمک سے ان کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ اس خواب کی تعبیر جاننے کے لئے یہ ہر جگہ گئے لیکن کالا شاہ کاکو شریف کے مضافات میں حضرت جامن سائیں سرکار کے علاوہ کوئی اس رمز کو نہ سمجھ سکا۔ بابا جی نے فرمایا، پُتّر۔۔۔ تیاری پھڑ لے۔۔۔ دنیا دے فیصلے ہُن تُوں ای کرنے نیں۔۔۔

سالہا سال کی جانگسل جدوجہد کے بعد آخر کار کپتان نے اُمّہ کی قیادت سنبھال لی۔ یہ ایگزیکٹلی جانتے تھے کہ قوم کیسے بنتی ہے۔ اس کا کیا پروسیجر ہے۔ آپ پاکستانیوں کو دیکھ لیں۔ یہ کاہل ہیں۔ یہ سست ہیں۔ یہ موٹے بھی ہیں۔ یہ دنیا اور مال و دولت سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی روحانیت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ چائے میں چار چار چمچ چینی کے ڈال لیتے ہیں۔ یہ دال بھی پکائیں تو تڑکے میں آدھا کلو گھی ڈال لیتے ہیں۔ یہ نان چھولے کھانے جائیں تو گوگےسے اصرار کرتے ہیں، "پاء تھوڑی جئی تَری تے پَا۔"  یہ شوگر کے مریض ہیں۔ یہ بلڈ پریشر کے مریض بھی ہیں۔ یہ کمرے میں داخل ہوں تو پہلے ان کا پیٹ داخل ہوتا ہے۔ یہ اس کے دس سیکنڈ کے بعد اندر آتے ہیں۔  یہ گلی کی نکڑ پر دہی لینے بھی موٹر سائیکل پر جاتے ہیں۔ یہ کمرے سے واش روم تک چل کے جائیں تو ان کو کھَلّیاں پڑ جاتی ہیں۔ یہ ہر وقت موبائل پر چیٹیں کرتے ہیں۔ یہ پب جی  گیمیں بھی کھیلتے ہیں۔

کپتان نے چینی مہنگی کردی۔ گھی مہنگا کردیا۔ پٹرول مہنگا کردیا۔ جو بھی کاروبار کرتا ہے۔ دولت سے محبت کرتا ہے۔ اسے کرپٹ قرار دے دیا۔ اب آپ دیکھیں۔ لوگ چینی کھانا چھوڑ دیں گے۔ یہ گوگے سے تَری مانگنا بند کردیں گے۔ یہ موٹر سیکلیں بیچ کر ہر جگہ پیدل جائیں گے۔ ان کی شوگریں ٹھیک ہوجائیں گی۔ ان کے بلڈ پریشر نارمل ہوجائیں گے۔ دولت سے نفرت ان کے خون میں شامل ہوجائے گی۔ یہ روحانیت کی طرف مائل ہوجائیں گے۔ اس سے ان کے جسم صحت مند اور طاقتور ہوجائیں گے۔ یہ ایک دن میں چالیس چالیس کلومیٹر چلنا شروع کردیں گے۔ بسیں، ویگنیں، ٹرینیں بند ہوجائیں گی۔ پٹرول کی کھپت ختم ہوگی تو یہ پیسہ عوام کی تعلیم پر لگے گا۔ ماحول بہتر ہوجائے گا۔ سبّی ، ملتان، جیکب آباد میں برفیں پڑیں گی۔ موسم ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ لوگ خوبصورت، صحت مند اور توانا ہوں گے تو ان کے دماغ بھی چلنے لگیں گے۔ یہ ذہین بھی ہوجائیں گے۔ یہ نت نئی ایجادیں کرنے لگیں گے۔ یہ پوری دنیا کے لیڈر بن جائیں گے۔ دنیا کی تقدیر کے فیصلے پاکستان میں ہونے لگیں گے۔ دماغ طاقتور ہوگا تو لوگ ٹیلی پیتھی بھی سیکھ لیں گے۔ جنگیں ختم ہوجائیں گے۔ جو بھی اُمّہ کے خلاف سازش کا سوچے گا، ٹیلی پیتھی کے ذریعے ہمیں اس کا پہلے ہی پتہ چل جائے گا۔ ہم اس سازشی کو کلمہ پڑھنے پر مجبور کر دیں گے۔ آخر کار ایک  دن ایسا آئے گا کہ پوری دنیا مسلمان ہوگی اور ہر طرف امن و سلامتی اور خوشحالی ہوگی۔

یہ ایک دن کا کام نہیں ہے۔ یہ لانگ پروسیس ہے۔ ابھی پہلا فیز چل رہا ہے جسے دشمن مہنگائی کا نام دے رہے  ہیں۔ اس وقت اگر کپتان کی حمایت نہ کی گئی تو یہ سارا پروسیس یہیں ختم ہوجائے گا۔  یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر چینی سات سو پچاسی روپے کلو، گھی  اٹھارہ سو ستاون روپے پاؤ اور پٹرول 690 روپے لیٹر تک پہنچانے میں کپتان کی مدد کریں۔ اس وقت کپتان کو اکیلا چھوڑنے والا روزِ قیامت خدا کو کیا منہ دکھائے گا؟ 

گُجّر، ملک اور زہریہ ٹاؤن

آپ قدرت جاوید کو دیکھ لیں۔ آپ امجد کامرانی کو دیکھ لیں۔ آپ رفعت حسین کو دیکھ لیں۔ آپ سمیع اللہ خان کو دیکھ لیں۔ یہ خود کو پھنّے خاں سمجھتے تھے۔ یہ کہتے تھے ہم اصلی صحافی ہیں۔ یہ لوگوں سے بدتمیزیاں کرتے تھے۔ یہ الٹے سیدھے سوال پوچھتے تھے۔ یہ رُوڈ بھی تھے اور ایروگنٹ بھی۔ یہ سیلف رائیچیس بھی تھے اور ان کمپیٹنٹ بھی۔ یہ نیوز پیپرز میں کالم بھی لکھتے تھے۔ یہ چینلز پر ٹاک شو بھی کرتے تھے۔ کوئی ان کے کالم رِیڈ نہیں کرتا تھا۔ ان کے شوز کی ریٹنگ بھی پُوور ہوتی تھی۔ مگر یہ سیلف کرئیٹڈ ہائیپ کی وجہ سے بڑے صحافی کہلاتے تھے۔ آج یہ یو ٹیوب پر سَفر کرتے ہیں۔ کوئی نیوز پیپر ان کو پبلش کرنے پر تیار نہیں۔ یہ چینلز کے ترلے کرتے ہیں۔ یہ اپنا شو چلوانا چاہتے ہیں۔ چینلز والے ان کو گراس نہیں ڈالتے۔ یہ بِٹرّ ہو چکے ہیں۔ یہ کانسپریسی تھیوریز بناتے ہیں۔ یہ اداروں کے اگینسٹ نیریٹو بناتے ہیں۔ یہ اینیمز کے ہاتھوں میں پلے ہو رہے ہیں۔

یہ جیلس بھی ہو چکے ہیں۔ یہ فیمس جرنلسٹس اور اینکرز کے جوک بناتے ہیں۔ یہ ان کا فَن اڑاتے ہیں۔ یہ ان کے ہوم، کلوتھز، وہیکلز اور ہالیڈیز سے بَرن ہوتے ہیں۔ یہ لائف میں کمپلیٹلی ان سکسیس فل ہوچکے ہیں۔ یہ ہر سکسیس فل سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ ڈیفنس فورسز کو ہر پرابلم کا ریزن سمجھتے ہیں۔ یہ ان کی سیکریفائزس کو ریکگنائز نہیں کرتے۔ یہ کپتان کو ڈیم فول کہتے ہیں۔ یہ ان کو اِم دا ڈِم بھی کہتے ہیں۔ یہ ان کے سپرچوئل درجات کے بھی منکر ہیں۔ یہ ان کو ڈرگ ایڈکٹ بھی سمجھتے ہیں۔ یہ فرسٹ لیڈی کو ٹانٹ کرتے ہیں۔ یہ ان کو بلیک میجک کی ماہر سمجھتے ہیں۔ یہ ہر ایوننگ میڈم نور جہاں کا گانا "جادوگرا۔۔۔" بھی سن کر ہنستے ہیں۔

آپ یہ دیکھیں، یہ سب کرنے کے باوجود یہ لوزر ہیں۔ آپ ان کے فیس دیکھیں اور ان کے ایکشن دیکھیں۔ یہ دو دو دن منہ نہیں دھوتے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ دن باتھ نہ لے کر یہ بھی گجر بن سکتے ہیں۔ یہ ان کی مس انڈر سٹینڈنگ ہے۔ یہ پرانی شرٹیں پینٹیں پہنتے ہیں۔ ان کے پاس سمارٹ واچ بھی نہیں۔ یہ اب بھی بٹنوں والے مبئیل یوز کرتے ہیں۔

یہ ہالیڈے سیلیبریٹ کرنے کے قابل نہیں۔ یہ سنڈے کو آئلی پراٹھے کھا کے ہالیڈے منا لیتے ہیں۔ انہوں نے سوئٹزر لینڈ کو صرف کیلنڈر پر دیکھا ہے۔ یہ ایورپ کے سپیلنگ تک نہیں جانتے۔ ان کو یہ علم ہی نہیں کہ ایورپ، ای سے شروع ہوتا ہے۔ یہ اسے یورپ یورپ لکھتے اور پڑھتے ہیں۔ یہ کبھی فیصل مسجد کے مینار پر نہیں چڑھے، میں ایفل ٹاور سے اہرام مصر تک کلائمب کر چکا ہوں۔ میں نے سوئٹزر لینڈ کی جھیلوں میں برہنہ پریاں اپنی آئیز سے دیکھی ہیں۔ جبکہ یہ گوگل امیجز میں ہاٹ چکس ہی سرچ کرتے رہتے ہیں۔ میں واحد جرنلسٹ ہوں جس نے سعودی کنگ کے ساتھ سیلفی کھینچی۔ سعودی رائلز میرا بڑا احترام کرتے ہیں۔ مجھے قلب قلب کہتے ہیں۔

یہ سپرچوئیلٹی پر بھی بیلیو نہیں کرتے۔ ان کے پاس کوئی بابا نہیں۔ میرے پاس تھینک گاڈ ہر فیلڈ کا بابا موجود ہے۔ میں جدھر جاتا ہوں۔ کوئی نہ کوئی بابا مجھے مل جاتا ہے۔ یہ مجھے گائیڈ بھی کرتے ہیں۔ یہ مجھے دنیا بھی دیتے ہیں اور آفٹر لائف سکسیس کی گارنٹی بھی۔ یہ بابے مجھے بتاتے ہیں کہ میں ایک ونس ان آ لائف ٹائم پرسن ہوں۔ ایسے پرسنز ہیومن ہسٹری کا کورس چینج کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ مجھے موٹیویٹ کرتے ہیں۔ یہ مجھے گڈ ڈِیڈز کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ میں جب بھی کسی بابے سے ملوں، ان سے کنورسیشن کروں، اس کے بعد میں لازمی کشمیری، فلسطینی مجاہدین کے چندے والے باکس میں پانچ روپے ڈالتا ہوں۔

میں ایک ہمبل ہیومن بئینگ ہوں۔ میں کبھی بریگ نہیں کرتا۔ آج میں اینگری ہوگیا۔ مجھے غصہ آگیا۔ یہ سب کو ڈس کریڈٹ کرتے کرتے اب ملک نیاز تک پہنچ گئے۔ یہ میں ٹالریٹ نہیں کرسکتا۔ کوئی مجھے جیدا مینٹل کہہ دے، مجھے غصہ نہیں لگتا۔ کوئی مجھے سفارشی کہہ دے، مجھے نوسر باز کہہ دے، میں اگنور کر جاتا ہوں لیکن ملک نیاز کے اس کنٹری میں اتنے کنٹری بیوشن ہیں کہ ان کے خلاف لینگویج اوپن کرنے والے کو معاف نہیں کرسکتا۔ ہیومن ہسٹری میں بہت سے پراجیکٹ ایسے ہیں جو سٹینڈ آؤٹ ہیں مگر آج تک کوئی بھی پراجیکٹ زہریہ ٹاؤن کے کیلیبر تک نہیں پہنچ سکا۔

میں اپنی لائف کے لاسٹ بریتھ تک ملک نیاز کا ڈیفنس کرتا رہوں گا۔ اے گِجّے ہونیں کِسے ہور دے۔۔۔۔

وبا کے دنوں میں خلافت


آئن سٹائن نے 1905 میں نظریۂ اضافت پیش کیا۔ اس کے ٹھیک دس برس بعد اسی سے متعلقہ ورم ہول (Wormhole) نظریہ پیش کیا گیا۔ جس کے مطابق  کائنات میں ایک شارٹ کٹ تشکیل پاتا ہے جس کے ذریعے  زمان و مکان کی حدیں توڑ کر وقت یا سپیس میں کہیں بھی جایا جاسکتا ہے۔ 1997 تک  ورم ہول صرف تھیوری کی حد تک ہی تھا۔ عملی طور پر انسان اس بارے کچھ نہیں جانتا تھا۔
1997 میں یونیورسٹی آف لزبن کے فزکس ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ڈین پروفیسر ہاوئیر فیگو نے ایک دلچسپ تھیوری پیش کی۔ جس کے مطابق جب بھی دنیا میں بڑے پیمانے پر انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں،اس کے نتیجے میں ورم ہول پیدا ہوتا ہے۔ پروفیسر فیگو کا کہنا تھا کہ اس ورم ہول کا مقصد یہ ہے کہ جانوں کے اس ضیاع کو روکنے کے لیے فطرت انسان کو موقع  دیتی ہے کہ وہ وقت میں سفر کرکے اس سانحے یا حادثے کو رونما ہونے سے پہلے روک سکے۔
پروفیسر فیگو  کی تھیوری کو زیادہ پذیرائی نہیں  ملی بلکہ سائنسی حلقوں میں اس کا مذاق بھی اڑایا گیا۔ 2005 میں پروفیسر ہاوئیر فیگو اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے۔ ان کی موت کا سبب ڈپریشن بتایا گیا۔
1999 میں پروفیسر فیگو یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑ چکے تھے۔ 99 سے 2005 تک  وہ رینڈ کارپوریشن کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ وابستہ رہے۔ 2007 میں رینڈ کارپوریشن کے ایک وسل بلوور نے نہایت عجیب انکشافات کیے۔ ان کا نام رچرڈ ہاکنگز تھا اور وہ پروفیسر فیگو کے ساتھ بطور اسسٹنٹ وابستہ رہے۔ ہاکنگز کا کہنا تھا کہ پروفیسر فیگو کی تھیوری کو ٹیسٹ کرنے کے لیے عراق اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا گیا ۔ اس کے نتائج  جانچنے کے لیے فزکس کے ماہرین  کی ٹیم جدید ترین آلات کے ساتھ خلائی سٹیشن پر موجود رہی۔  اس تجربہ کا کوڈ نیم 'ریبٹ ہول' رکھا گیا۔
رچرڈ ہاکنگز کے مطابق  آپریشن ریبٹ ہول کامیاب رہا اور ماہرین نے افغانستان میں بامیان کے قریب ورم ہول دریافت کرلیا۔ اس ورم ہول کے ذریعے ایک سپیشل آپس ٹیم تجرباتی طور پر   ہٹلر کو قتل کرنے کے لیے بھیجی گئی۔ کیلکولیشنز میں ابہام کی وجہ سے یہ ٹیم 1938 کی بجائے 1944 میں جا پہنچی۔ جدید آلات اور ٹیکنالوجی کی مدد سے انہوں نے ہٹلر کے بنکر سراغ لگایا  اور اسے قتل کرکے اس کی نعش اپنے ساتھ لے آئے۔ یہ نعش رینڈ کارپوریشن کے خفیہ عجائب گھر میں آج بھی موجود ہے۔
اس ٹیم کی بنائی گئی وڈیو سے ظاہر ہوا  کہ جرمنی بھی اس وقت تک ایٹم بم ایجاد کرچکا تھا اور جس وقت یہ ٹیم ہٹلر کے بنکر میں پہنچی ، اسی شام ہٹلر پورے یورپ اور امریکہ کو  ایٹم بموں سے تباہ کرنے والا تھا۔
رچرڈ ہاکنگز کے یہ انکشافات ناقابل یقین تھے۔ بوسٹن گلوب میں چھپنے والی اس خبر کی اگلے ہی دن تردید کی گئی اور اخبار نے قارئین سے معافی مانگی۔ رچرڈ ہاکنگز کو نفسیاتی مریض قرار د ے کربوسٹن کے آربر ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔   26 نومبر 2010 کو پراسرار حالات میں رچرڈ ہاکنگز  اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ ان کے جسم پر کسی قسم کا کوئی زخم نہیں تھا۔ پوسٹ مارٹم  رپورٹ کو کلاسیفائیڈ قرار دے کر سیل کردیا گیا۔
22 مارچ 2020 کو ترکی کی خفیہ ایجنسی این آئی او کے اہلکار اورحان ایورن نے واشنگٹن سے ایک رپورٹ بھیجی۔ اورحان رینڈ کارپوریشن میں کرد امور کے ماہر کے طور پر ملازمت کرتے تھے۔  حادثاتی طور پررینڈ کارپوریشن 2017 کی ٹاپ سیکرٹ سالانہ میٹنگ کے منٹس  اورحان کے ہاتھ لگ گئے۔  ان کے مطابق دنیا کے حالات اگلے پانچ برسوں میں بالکل تبدیل ہونے والے تھے۔ مغرب اور امریکہ کی سائنسی اور سیاسی برتری  ختم ہونے والی تھی۔ اس تبدیلی کی شروعات پاکستان سے ہونے والی تھیں ۔
منٹس کے مطابق رینڈ کارپوریشن نے اپنے پورے وسائل کے ساتھ اس تبدیلی کو روکنے کے لیے دس سال جدوجہد کی۔ لیکن بالآخر 2018 میں تبدیلی کو روکنا ناممکن ہوگیا۔  اس تبدیلی کے بعد ترکی اور پاکستان مل کر خلافت کا احیاء کرنے والے تھے ۔ طیب اردگان اس بارے میں ہمیشہ سے یکسو تھے  اور صرف مناسب وقت کا انتظار کررہے تھے۔ جیسے ہی پاکستان میں عمران خان وزیر اعظم بنتے، خلافت عمرانیہ کے احیاء کا اعلان استنبول سے کر دیا جاتا۔ رفتہ رفتہ سارے بااثر مسلم ملک اس خلافت کی بیعت کرلیتے۔ عمران خان اس کے لیے سارا ہوم ورک پہلے ہی کرچکے تھے۔ سعودیہ سے یو اے ای اور انڈونیشیا سے ملائشیا تک سبھی آپ کی خلافت پر متفق تھے۔
خلافت عمرانیہ قائم ہونے کے بعد جو منظر نامہ ہوتا ، رینڈ کارپوریشن نے اس کی کچھ منظر کشی اس میٹنگ میں کی۔ اس کے مطابق تیل کے ذخائر، مشترکہ فوجی طاقت اور بے تحاشا انسانی وسائل کی حامل اس خلافت کو دنیا پر حکومت کرنے سے روکنا ناممکن تھا۔  یہ مغربی تہذیب کی موت ہوتی۔ سیموئل ہنٹنگٹن کا 'تہذیبوں کا تصادم' سچ ثابت ہوجاتا۔
میٹنگ منٹس کے آخر میں تجویز پیش کی گئی کہ مغربی تہذیب کی اس تباہی کو روکنے کے لیے 'آپریشن ریبٹ ہول 2' کا آغاز کیا جائے۔ اس کے لیے بل گیٹس کی تجویز کو مناسب قرار دے کر اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
منصوبہ کے مطابق بائیولوجیکل ہتھیار کے ذریعے دنیا میں ایسی وبا پھیلائی جانی تھی جو ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ اس کے آغاز کے لیے چین کا انتخاب کیا گیا۔ اس کی ویکسین پہلے ہی تیار کرلی گئی تھی۔ جیسے ہی وبا عالمی طور پر پھیلتی، مغربی میڈیا کے ذریعے یورپ اور امریکہ میں بے تحاشا اموات کی خبریں پلانٹ کی جاتی۔ جبکہ اصل میں زیادہ اموات چین او ر اسلامی ممالک میں ہونی تھیں۔ جیسے ہی اموات  ورم ہول کی مطلوبہ تعداد تک پہنچتیں، سپیشل آپس سائی بورگ ٹیم ماضی میں روانہ کی جاتی ۔ یہ ٹیم عمران خان کے بچپن  میں جا کر ان کو اغواء کرتی اور  تنزانیہ  کے قصبہ دودوما میں چھوڑ آتی۔
یہاں تک کا منصوبہ بے داغ اور عیب سے پاک تھا لیکن چین نے وبا کے آغاز میں ہی اس پر قابو پا لیا۔ اس کے بعد ترکی نے اپنی معلومات چین سے شئیر کیں۔ چین نے اسی وائرس کوتبدیل کرکے یورپ اور امریکہ میں پلانٹ کر  دیا ۔ چند ہفتوں میں اس کی ویکسین تیار کرکے پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو فراہم کردی گئی۔ یورپ اور امریکہ میں بے تحاشا اموات  ہونے لگیں۔ ان کی ویکسین اس تبدیل شدہ وائرس کے مقابلے میں ناکارہ ثابت ہوئی۔
مئی کے پہلے ہفتے میں اموات کی تعداد پوری ہوتے ہی ترکی اور چین کی مشترکہ ٹیم ماضی میں گئی اور عمران خان کی حفاظت پر مامور ہوگئی۔ اب یہ ٹیم رینڈ کارپوریشن کی سپیشل آپس سائی بورگ ٹیم کا انتظار کررہی ہے!

فربہ دانشور


"توانا جسم کے ساتھ فربہ فکر بھی ضروری ہے۔ جیسے کمزور جسم میں طاقتور سوچ نہیں رہ سکتی اسی طرح فربہ فکر بھی مرگھلے ڈھانچے میں پیدا نہیں ہوسکتی۔ "
انسانی شعور و تہذیب کے ارتقاء میں سب سے اہم کردار   ان شخصیات نے ادا کیا ہے جو دین و دنیا کو الگ سمجھنے کی بجائے ان کے ادغام پر یقین رکھتے تھے۔ شامیر خادم جاکھرانی اکابرین کی انہی روایات کے صادق امین ہیں۔جدید دور کے چیلنجز نے نئی نسل کے لیے بہت خطرات پیدا کیے ہیں جن میں سب سے بڑا خطرہ مشرقی روایات سے روگردانی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
مغربی تہذیب کے زہریلے پراپیگنڈے کی وجہ سے نئی نسل مذہب سے دور ہوتی جارہی ہے۔ بزرگوں کا ادب و احترام کم ہوتا جارہا ہے۔ فحاشی و عریانی کا ایک سیلاب ہے جس نے مملکتِ اسلامیہ کو گھیرا ہوا ہے۔ اس پُر فتن دور میں شامیر جاکھرانی امید کی سرچ لائٹ بن کر سامنے آئے۔
آپ نے ابتدائی تعلیم گھر سے حاصل کی۔ روایت ہے کہ پیدائش کے تیسرے دن آپ نے خلیفہ  جی کا کالم پڑھا۔ والدہ نے چھلہ نہایا تو آپ اوریا اور کلاسرہ کے مضامین پر نقد کرنے لگے تھے۔ آپ کی پیدائش میں کچھ وقت ابھی باقی تھا کہ آپ کے والدِ ماجد کو خواب میں ایک بزرگ کی زیارت ہوئی۔ بزرگ فرمانے لگے کہ جلد ہی تمہارے خاندان میں ایسا شہابِ ثاقب گرے گا جس کی روشنی اور توانائی سے پورا وسیب روشن ہوجائے گا۔  بزرگ نے بڑے جاکھرانی صاحب کو خبردار کیا کہ نومولود  کی خور و نوش میں کوئی دقیقہ فروگزاشت رکھا تو اس ہزارئیے میں اُمّہ کی بربادی کی ذمہ داری تمہارے نامۂ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کرے گی۔ بزرگ کے اس انتباہ کو بڑے جاکھرانی صاحب نے حرزِ جاں بنا کے رکھا۔ آج شامیر خادم کی فربہ فکر  کو وہ مچّرب ڈھانچہ میسرہے جو اس فکر کا بوجھ بخوبی اٹھا سکتا ہے۔  
؏ تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو
دنیاوی علوم میں تبحر حاصل کرنے کے ساتھ آپ عالمِ رویاء میں اکابر علماء اور فلاسفہ کے سامنے زانوئے تلمذ بھی تہہ کرتے رہے۔ان اساتذہ میں جگر کینیڈوی،  فرائڈ، ہومر، وان گوف، شیخ الجبل، راسپوٹن، شیکسپئیر،  ابنِ عربی،  چارلی چپلن، قاسم شاہ اور رنگیلا شامل تھے۔  آج کل آپ خود بھی عالمِ رویاء کے اکابر اساتذہ  کی اس فہرست میں شامل ہیں جو دورِ جدید کے نابغے ہیں۔ ان میں نعیم الحق، وقار ذکاء، صابر شاکر، طاہر شاہ، آغا وقار،  علامہ ضمیر نقوی، جسٹس ٹیڈی بکری ، سلمان احمد،  علامہ خادم رضوی،  وصی شاہ اور آفتاب اقبال شامل ہیں۔
دنیاوی و روحانی اکابرین کی پوری توجہ  اور مکمل غذائیت ملنے سے آپ کی ذہنی و جسمانی کیفیات عروج پر پہنچیں تو آپ کو دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ آپ  کواکیسویں صدی کا فکری بگ بینگ کہا گیا۔ نوجوان نسل جو گمراہ ہو کر فیس بک کی پر خار وادیوں میں بھٹک رہی تھی، آپ ان کے لیے غبارۂ نور ثابت ہوئے۔ جلد ہی آپ کا ڈنکا  فیس بک کے ہر کھلے، بند اور خفیہ گروپ میں بجنے لگا۔ حاسدین ڈنکا بجنے کی وجہ مقدارِ خوراک اور بدہضمی قرار دیتے ہیں ، اہلِ نظر مگر جانتے ہیں کہ   دنیاوی علوم کو ثابت نگل جانے والوں کے لیےکباب،  نہاریاں، بونگ پائے، مغز،  ٹکاٹک، نان، بریانیاں، پلاؤ، ساگ، پالک گوشت، کریلے گوشت، چاؤمن، کابلی پلاؤ، سجیاں، چنیوٹی کُنے، پاستے، چرغے ،سوہن حلوے، حلیم، رس گلے، مرغ چھولے، مٹن کڑاہیاں، بیف تکے، فش فرائی، زردے، کھیریں، فرنیاں،  بلیک فارسٹ کیک، آم، کیلے، ہدوانے، خربوزے، انگور، ملوک، بیر وغیرہ ہضم کرنا بائیں جبڑے کا کام ہے۔
فیس بک پر ظہور سے پہلے یہاں ہر طرف گالم گلوچ کا رواج تھا۔ نوجوان نسل ہر زنانہ آئی ڈی کو ان باکس کرتی تھی۔ ان زنانہ آئی ڈیز کی اکثریت رشید، حفیظ وغیرہ نے بنائی ہوئی تھی۔ اس سے نوجوان نسل کے اخلاق کے علاوہ مستقبل خراب ہونے کا بھی خدشہ ہوتا تھا۔ آپ نے ان کو زندگی کا ایک واضح نصب العین دیا۔ اسلام کی سربلندی، خلافت کا احیاء، اخلاقیات کے درس ، رنگ برنگی کتب، علماء دین  کے ایمان افروز واقعات، روحانی شخصیات کی دماغ افروز حکایات، انگریزی ٹی وی شوز اور فلمز کے تھرلز اینڈ مزے، معیشت کے اسرار و رموز، وادیٔ سیاست کےپیچ و خم، چندے کے فوائد، وردی کے فضائل، سیاستدانوں کے رذائل۔۔۔ الغرض آپکی فیسبک ٹائم لائن ہر رنگ سے مزین ہے۔
؏ جو رنگ رنگیا گوڑھا رنگیا
جرائد، اخبارات، کتب، فیس بک،  نیوز ویب سائٹس  ہر جگہ آپ کے تبحر علمی کی دھوم ہے۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ ابھی تک وطنِ عزیز میں کوئی ایسا کیمرہ  دستیاب نہیں جو ان کو ٹاک شوکے سیٹ پر پورا کیپچر کر سکے ورنہ آج آپ ٹاپ اینکر بھی ہوتے۔  یہ زمانہ بلاشبہ علم و فضل کا دورِ جاکھرانی ہے۔
؏ کھا چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا


چوتھی منزل

چھیما ڈیرے سے واپس آ رہا تھا۔ پِنڈ کی حد شروع ہونے میں دو پیلیاں باقی تھیں کہ اس نے بَنتو کو آتے دیکھا۔ بَنتو چودھری  زوار کی حویلی میں چودھرانی کی خاص تھی۔ چھیما یوں تو وڈھیری عمر کا تھا لیکن خوب کس کے بچے  کچھے بال کالے کرتا اور طیفے نائی سے شیو بھی خوب چھیل چھیل کر کراتا ۔ آنکھوں میں سُرمہ ڈالے ، لاہور بادشاہی مسجد کے نواح سے خریدا گیا عطر لگا کے گھوما کرتا ۔ بَنتو چھیمے کی جنٹل مین لُک پر مر مٹی تھی اور اکثر و بیشتر  کماد، حویلی، ڈیرے اور چودھری زوار کے منشی منّان کے گھر ان کی ملاقاتیں ہوتیں۔ چھیمے کی آواز منہ متھے لگتی تھی۔ فنکاروں کا بچّہ تھا، سُر کی پہچان تھی۔ بَنتو کو عنایت حسین بھٹی اور جازی بی کے گانے سناتا اور اس کی لائی ہوئی چُوری کے ساتھ کبھی کبھار حُسن کی سوغات بھی پاتا۔
بَنتو نے چھیمے کے قریب سے گزرتے ہوئے اسے آج شام منشی منّان  کے گھر ملنے کا کہا۔ چھیما خوش بھی ہوا لیکن اسے جیدے کی فکر بھی لگ گئی تھی۔ جیدا بھی چھیمے کی طرح منشی مانے کا ماتحت تھا۔  ویسے تو دونوں کی بہت بنتی تھی لیکن زن، زر، زمین فساد کی جڑ ہوتی ہے اور بَنتو ویسے بھی سینکڑوں میں ایک تھی۔ جیدا عمر میں اس سے کافی چھوٹا تھا اور اسے تیار ہونے میں بھی چھیمے کی طرح دو گھنٹے نہیں لگتے تھے۔ چھیما ہمیشہ بَنتو کو کہتا تھا کہ منشی کے گھر ملنا خطرے سے خالی نہیں لیکن بَنتو پچھلی وڈّی عید کی رات کماد والی ملاقات سے کافی یَرک چکی تھی۔ وہ تو چھیمے نے بعد میں بات سنبھالی  ورنہ بَنتو ہتھّے سے اکھڑ جاتی۔
چھیمے کے کرنے کو اب کافی کام اکٹھے ہوچکے تھے۔ اسے جیدے کو کسی کام سے شہر بھجوانا تھا۔ منشی مانے کے لیے درّے کی خالص چرس مہیّا کرنی تھی تاکہ منشی جی دو جوڑے لگا کر سرگی ویلے تک انٹا غفیل رہیں۔ پڑچھتّی کی صفائی کرنی تھی ۔ نیچے سے منجی لے جا کر اس پر پھول دار چادر اور رنگلا نیا کھیس بچھانا تھا۔ چھیما تِیر کی طرح نکلا اور چودھری صاحب کی حویلی میں منشی مانے کے پاس جا پہنچا۔ منشی کو کہہ کر جیدے کو شہر بھجوایا۔ منشی کو چرس دی اور شام ہونے سے پہلے منشی کے گھر پہنچ گیا۔ چھیما اور جیدا منشی کے گھر کی بیٹھک میں رہتے تھے۔مغرب سے پہلے چھیما کنگھی پٹّی کرکے تیار بیٹھا تھا۔
مولوی صاحب نے عشاء کی اذان دی تو آدھا پنڈ سو چکا تھا۔ چھیما نظر بچا کر چھت پر  گیا تو پڑچھّتی میں بچھی منجی پر بَنتو اپنی تمام حشر سامانی کے ساتھ آلتی پالتی مارے موجود تھی۔ بَنتو کے زانو پر رکابی دھری تھی جس میں دیسی گھی کی چُوری تھی۔ چھیمے نے بھی مِیدے حلوائی سے سپیشل بھنگ والے پکوڑے بنوائے تھے۔ چھیمے نے پکوڑوں کا لفافہ کھولا اور اپنے ہاتھ سے بَنتو کو پکوڑے کھلانے لگا۔ تیسرے پکوڑے پر ہی بَنتو بے خود ہو کر ہنسنے لگی تھی۔ پکوڑے ختم ہوئے تو چُوری کی باری آئی۔ ابھی دو نوالے ہی لیے تھے کہ یکایک جیدا سیڑھیوں سے نمودار ہوا۔ بَنتو گھبرا کر چھیمے سے اور لپٹ گئی۔ چھیمے کی ہوائیاں اڑی دیکھ کر جیدے کی آنکھوں میں شیطانی چمک اتر آئی۔ جیدا  ان کے سامنے دونوں ہاتھ پہلوؤں پر رکھ کر کھڑا ہوگیا اور کہا، "سانوں شہر بجھوا کے تے آپ کلّے کلّے چُوریاں کھا دیاں  جا  ریاّں نیں۔۔۔ ساڈا وی حصہ پاؤ۔۔ نئیں تے فیر کھپ ای پئے گی۔۔۔"
چھیمے نے بَنتو کے کان میں کہا سرگوشی کی کہ اس شوہدے کو بھی تھوڑی سی چُوری دے دیتے ہیں ورنہ بدنامی ہوجائے گی۔ بَنتو بادلِ نخواستہ مان گئی۔ سب چُوری کھا کر فارغ ہوئے تو بھنگ کے پکوڑوں نے بَنتو پر اثر دکھانا شروع کر دیا تھا۔ وہ روتے ہوئے چھیمے سے لڑنے لگی کہ تم تو میرے جانو ہو اس ناما نیم نے میری چُوری کیوں کھائی۔ چھیمے کو بھی اس پر غیرت آگئی۔ وہ لہراتا ہوا اٹھا اور ایک گھسن جیدے کے منہ پر دے مارا۔
چند لمحوں میں ہی پلاسی کی جنگ شروع ہوچکی تھی۔ دونوں لڑتے لڑتے سیڑھیوں سے لڑھکتے صحن میں جا گرے۔ آس پاس کے لوگ شور سن کر جاگ گئے تھے۔ مانا منشی بھی چرس کے نشے میں دھت اپنے کمرے سے نکلا۔ پیچھے سے منشی کی بیوی نے آواز دی کہ "دھوتی وی بَن لوو۔۔ کلا کرتہ ای پایا جے"۔۔۔ منشی جی جلدی سے کمرے میں گھس کر دھوتی باندھ کر باہر آئے تو چھیما اور جیدا لڑتے لڑتے گلی میں پہنچ چکے تھے۔ دونوں کے کرتے لیرو لیر ہوچکے تھے۔ ان کو چھڑانے کی کوشش میں بَنتو کا دوپٹہ بھی لا پتہ تھا اور وہ سینہ تانے گلی میں کھڑی جیدے کو بددعائیں دے رہی تھی۔
چودھری زوار کو اس ماجرے کی خبر ہوئی تو وہ سفید گھوڑی پر سوار منشی مانے کے گھر جا پہنچا۔ چھیما اور جیدا خونم خون، لیرو لیر کپڑو ں کے ساتھ ادھ مرے پڑے تھے۔ بَنتو ان کے قریب کھڑی واویلا کر رہی تھی۔ چودھری نے منشی مانے کو پکارا اور کہا ، "منشی! یہ ہمارا پنڈ ہے، تو نے اسے ہیرا منڈی بنا دیا ۔" درّے کی خالص چرس اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ منشی مانے اپنے کرتے کا پلّو جھٹکا اور للکار کر چودھری کو جواب دیا، "چودھری صاحب! یہ میرا گھر ہے، آپ کا نہیں۔ اپنے کام سے کام رکھیں"۔
چودھری نے یہ سن کر کندھے سے لٹکی پکّی رائفل اتاری اور گھوڑی سے کود کر اترا!

ظفر کمال اور ڈولی

آپ  ظفر کمال کو دیکھ لیں۔ آپ ان کی زندگی پر نظر دوڑائیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ یہ فلاسفر، دانشور، حکیم، شاعر، مصنف، پریمی اور منصف ہیں۔ ایک بندے میں اتنی خوبیاں شاذو نادر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پولینڈ کی کہاوت ہے کہ ہر صدی میں ایسے دو انسان ہوتے ہیں جن میں یہ خوبیاں موجود ہوں۔ ہم برصغیر کو دیکھیں۔ ہم جان جائیں گے کہ پچھلی صدی میں علامہ اقبال ایسی شخصیت تھے اور اس صدی میں جناب ظفر کمال۔  یہ لاہور کے مضافات میں سپاہیانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ یہ بچپن سے ہی خوبصورت اور ذہین تھے۔ سکول میں اساتذہ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہر جماعت میں یہ بآسانی پاس ہوجاتے۔ کالج اور یونیورسٹی میں بھی ان کی ذہانت اور حسن کے چرچے تھے۔ یہ جب آنکھوں میں سُرمہ لگاتے۔ بالوں میں چنبیلی کا تیل لگا کر پٹیاں جما کر باہر نکلتے تو لوگ انگلیاں منہ میں داب لیتے۔
ایجوکیشن کمپلیٹ کرنے کے بعد یہ سرکاری افسر بن گئے۔ ان کی فرض شناسی، معاملہ فہمی نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ یہ افسر بن کر بھی سپاہیانوالہ کو نہیں بھولے۔ یہ ہر ویک اینڈ پر وہاں جاتے۔ یہ سپاہیانوالہ کی پنچائت کے سر پنچ بھی ہوگئے۔ یہ لوگوں کے جھگڑوں اور لڑائیوں میں منصف بن گئے۔ یہ کبھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ فریقین ان کا فیصلہ ہنسی خوشی قبول کرتے۔ یہ ہر ویک اینڈ پر واپس آتے تو ان کے سکوٹر کی ٹوکری اور پچھلی سیٹ مختلف چیزوں سے لبالب بھری ہوتی۔ کوئی ان کو مرغیاں دے جاتا۔ کوئی ہدوانے اور گنے دے جاتا۔ کوئی دیسی گھی اور کوئی پنجیری۔ لوگ ان کو نقد نذرانے بھی دیتے۔ ان کی جیب بھر جاتی۔ یہ درویش طبیعت کے تھے۔ یہ پیسے اپنے پاس نہیں رکھتے تھے۔ یہ انہیں اپنے چپراسی کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیتے۔ چپراسی  کا نام عنایت اللہ تھا۔ یہ میانوالی کے علاقے عیسی خیل کا رہائشی تھا۔ ظفر کمال کو اس سے خاص انسیت تھی۔ یہ اسے کبھی ماتحت نہیں سمجھتے تھے۔ یہ اسے کبھی کبھار سکوٹر پر بٹھا کر راوی کنارے بھی لے جاتے۔ یہ دونوں گھنٹوں راوی کنارے جنگلات میں چہل قدمی کرتے ۔ یہ گنے بھی چوپتے ۔ یہ چھلیاں بھی کھاتے۔
ایک دن ظفر کمال کی لائف میں ایک دم چینج آگیا۔ یہ ویک اینڈ پر سپاہیانوالہ میں پنچائت اٹینڈ کرنے گئے۔ پنچائت میں خلاف معمول رش زیادہ تھا۔ یہ سرپنچ کی کرسی پر جا کر بیٹھے تو سب خاموش ہوگئے۔  اچانک ایک جوان العمر دوشیزہ اٹھی۔ سَرو قد۔ کتابی چہرہ۔ میدہ شہاب رنگت۔ بھرے بھرے ہونٹ۔ بادامی آنکھیں۔ گولائیوں اور قوسوں میں تِرشا سراپا جسے ریشمی چادر بھی چھپانے میں ناکام تھی۔ دوشیزہ نے ظفر کمال کی طرف دیکھا اور یوں مخاطب ہوئی،
"میرا نام ڈولی جوئیہ ہے۔ میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ دشمنوں نے میرے شوہر کو جھوٹے الزام میں پھنسا کر گرفتار کرا دیا ہے۔ تھانے میں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ کسی نے آپ کا ذکر کیا کہ ظفر کمال کے پاس جاؤ۔ انصاف ملے گا"۔
ظفر کمال کی نظریں بے اختیار جھک گئیں۔ یہ باعزت اور شرم حیا والے انسان تھے۔ یہ کبھی کسی کی دھی بہن کو غلط نظروں سے نہیں دیکھتے تھے۔ ظفر کمال نے ڈولی جوئیہ کو تسلی دی اور کہا کہ اس کے ساتھ ضرور انصاف ہوگا۔ انہوں نے ڈولی کو اگلے منگل اپنے دفتر آنے کا کہا۔
ڈولی جوئیہ اور اس کا شوہر  طارق حفیظ فراڈئیے تھے۔ یہ مالدار ادھیڑ عمر مردوں کو ڈولی کے جال میں پھنسا کر بلیک میل کرتے تھے۔ ڈولی فون پر ان کے ساتھ گندی باتیں کرتی تھی۔ یہ ساری کالیں ریکارڈ کر لیتے تھے۔ یہ بعد میں ان لوگوں کو بدنام کرنے کی دھمکی دیتے تھے۔ یہ ان کو لوٹ لیتے تھے۔ ظفر کمال ان کا نیا شکار تھا۔ منگل والے دن ڈولی ڈیپ کٹ کی سکائی بلیو پرنٹڈ شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں ملبوس، ڈارک گلاسز لگائے ظفر کمال کے دفتر میں جا پہنچی۔ عنایت اللہ نے ڈولی کو دیکھا تو اس کی فوک وزڈم نے الارم بجا دیا۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ عورت خطرناک ہے۔ وہ ظفر کمال کو خبردارکرنا چاہتا تھا لیکن اسی اثناء میں ڈولی دفتر میں داخل ہو چکی تھی۔ ظفر کمال ڈولی کو اس حلیے میں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ یہ ڈولی اس پنچائت والی ڈولی سے بالکل مختلف تھی۔ ظفر کمال نے ڈولی کو بیٹھنے کو کہا۔ ڈولی اک ادائے ناز سے آگے کو جھکی اور ایسے کرسی پر بیٹھی کہ ظفر کمال کی نظریں ڈولی کی شرٹ میں الجھ کر رہ گئیں۔
ظفرکمال نے عنایت اللہ کو بلا کر چائے لانے کو کہا اور ڈولی کی طرف متوجہ ہو کر بولے کہ بتائیے آپ کا مسئلہ کیا ہے۔ ڈولی نے گلاسز آنکھوں سے ہٹا کر سر کے بالوں میں اٹکائے۔ کرسی کی پشت سے سر ٹکایا اور ٹھنڈی سانس لے کر سیدھی ہوئی۔ اس کی آنکھوںمیں آنسو تھے۔ اس نے کہا کہ اس  کی محبت کی شادی تھی۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس کا شوہر ایک دھوکے باز ہے۔ یہ اس کو مالدار مردوں سے افئیر لڑانے پر مجبور کرتا ہے تاکہ ان سے پیسے اینٹھے جا سکیں۔ ڈولی کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اس نے میز پر پڑے ٹشو باکس سے ٹشو نکالا۔ گال اور ناک صاف کیا۔ ظفر کمال کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھا اور کہا کہ مجھے آپ سے بہت امید ہے کہ آپ مجھے اس شیطان کے چنگل سے بچا سکتے ہیں۔ پلیز میری ہیلپ کریں۔ میں کبھی بھی آپ کا احسان نہیں بھولوں گی۔ یہ کہہ کر ڈولی بلک بلک کر رونے لگی۔ ظفر کمال بے اختیار ہو کر کرسی سے اٹھے اور ڈولی کے قریب جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ڈولی نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں پر رکھا اور اسے چوم کر کہنے لگی،
"ظفر مجھے اس سے بچا لو۔ میں جانتی ہوں میں تمہارے لائق نہیں لیکن میں ساری زندگی تمہاری باندی بن کے رہوں گی۔ تم جو کہو گے میں وہ کروں گی"۔
یہ کہہ کر ڈولی اٹھی اور ظفر کمال کے فراخ سینے میں سما گئی۔ وقت جیسے تھم سا گیا ہو۔ ڈولی کا گداز سراپا ظفر کمال کو کسی اور ہی دنیا میں لے گیا جو عنایت اللہ کی دنیا سے قطعی مختلف تھی۔ اسی لمحے ظفر کمال نے فیصلہ کیا کہ وہ ڈولی کے لیے کچھ بھی کرے گا۔ ظفر کمال کی زندگی میں عزت، شہرت، مرتبہ، مقام سب کچھ تھا صرف محبت نہیں تھی۔ ڈولی نے اسے محبت سے بھی آشنا کر دیا۔  ظفر کمال اور ڈولی کی ملاقاتیں ہونے لگیں۔ اب ظفر کمال راوی کنارے جنگلات میں ڈولی کو لے کر گھنٹوں گھومتے رہتے۔ یہ ڈولی کو لمبی لمبی فون کالز بھی کرتے۔ یہ اس  کے لیے شاعری بھی کرنے لگے۔ یہ ڈولی کو مجبور کرنے لگے کہ طارق حفیظ سے طلاق لے  کر ان سے شادی کرلے۔ ڈولی اس موضوع پر ظفر کمال کو طرح دے جاتی۔ یہ کہتی کہ پہلے اس کو باہر آنے دیں۔ میں اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کر سکتی ہوں۔ ویسے بھی میرا سب کچھ تو آپ کا ہے شادی کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کہہ کر ڈولی ایک ادا سے ظفر کمال کی طرف دیکھتی تو وہ گھائل ہو کر رہ جاتے۔
بالآخر ظفر کمال کی کوشش سے طارق حفیظ رہا ہو گیا۔ ڈولی اس کے ساتھ ظفر کمال کے دفتر آئی۔ دونوں بہت خوش نظر آرہے تھے۔ ظفر کمال یہ دیکھ کر کٹ  کے رہ گئے۔ ان کا دل ملول ہوگیا۔ ان کو ڈولی سے یہ امید نہیں تھی۔ ڈولی نے ظفر کمال کے چہرے سے ان کے دلی حالت کا اندازہ لگا لیا۔ یہ ان کی طرف دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکرائی اور بولی، "ظفر صاحب! میرا پیچھا چھوڑ دیں۔ میں جو حاصل کرنا چاہتی تھی وہ مجھے مل گیا ہے۔ اگر آپ نے دوبارہ مجھے تنگ کرنے کی کوشش کی تو آپ کی فون کالز کی ریکارڈنگز میرے پاس موجود ہیں۔ راوی کنارے والی بہت سی تصاویر بھی ہیں۔ یہ سب روزنامہ 69 میں چھپ جائیں گی۔ آپ کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے۔ آج کے بعد میرا آپ کا کوئی تعلق نہیں۔ آپ نے میری جو مدد کی اس کا صلہ میں آپ کو ساتھ ساتھ دیتی رہی ہوں۔ ہمارا آپ کا حساب بے باق ہوا"۔
یہ کہہ کر ڈولی اٹھی، طارق حفیظ کا ہاتھ پکڑا اور دفتر سے نکل گئی۔ ظفر کمال اپنی سیٹ پر دل شکستہ اور دم بخود حالت میں بیٹھے تھے۔ ان کی دنیا اچانک اندھیر ہوگئی تھی۔ عنایت اللہ آہستگی سے دفتر میں آیا۔ ظفر کمال کو دیکھا اور نم آنکھوں سے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔
دل لگایا تھا دل لگی کے لیے
بن گیا روگ زندگی کے لیے

ناصرہ فدوی - فن اور شخصیت

ادب کے افق پر بہت سے ستارے جھلملاتے ہیں پھر غائب ہوجاتے ہیں۔ بہت کم شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی ضیاء سے آسمانِ ادب ہمیشہ منور رہتا ہے۔ فرد کی داخلی حسیّات کو اجتماعی لاشعور کی مابعد الطبیعیات سے ہم آہنگ کرنا ہر کسی کے بس کا نہیں ۔ یہ بھاری لکّڑ ہر کوئی نہیں لے سکتا۔ پچھلی چند صدیوں کے اردو ادب میں جو ستارے دائمی نور کا منبع رہے ہیں ان میں جنابِ رضی ٹھاہ کا نامِ نامی کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ ہر شے کو ناپنے کا کوئی نہ کوئی پیمانہ ہوتا ہے۔ فاصلے میلوں میں ناپے جاتے ہیں۔ دودھ لٹروں میں اور وزن کیلو میں۔ شاعری ناپنے کا پیمانہ رضی ٹھاہ ہیں۔ کسی بھی شاعر یا شاعری کے مقام کا تعین درپیش ہو تو اس کے لیے ہمیں لا محالہ رضی ٹھاہ کو ہی معیار ٹھہرانا ہوگا۔ ان کا یہ شعر دیکھیے:
؎ اتنے خوش کیوں ہو رضی ٹھاہ
کرلیا ہے کیا اک اور ویاہ؟
مابعد جدیدیت کے داخلی انتشارکے جدلیاتی احساس فسوں کو ان کے بعد اگر کوئی سہل ممتنع میں بیان کرپایا ہے تو وہ محترمہ ناصرہ فدوی ہیں۔ نسائی مابعد الطبیعیات کے مجہول  لاشعور کی تہوں میں رینگتی کِرلیوں کے احساسِ تنہائی کو زبان دیتی یہ شاعرہ نئے دورِ شاعری کی ابتداء کا اعلان ہے۔پائمال موضوعات سے گریز، نئی زمینوں میں تازہ الفاظ کی کاشت اور ان سے یافت ہوئے معانی کے نئے جہان ناصرہ فدوی کی پہچان ہیں۔ یہ کسی بے بس فرد کی التجا نہیں بلکہ سٹرونگ انڈیپنڈنٹ وومن کا اظہارِ بغاوت ہے۔ان کی طویل نظم "حبشی حلوہ" کے چند اشعار دیکھیے:
تُم! ہاں تُم
تمہی میرے برفاب دل کی
 قلفی کا  تیلا ہو
یہ دل وہ تھا کہ انجان تھا
کسی چبھن سے
کسی لگن سے
پولکا کا ٹرک ہو جیسے
سرد خانے میں جمی خواہشات
چوکبار ہوں جیسے
بنا تیلے کے!
تپتی دوپہریں گرمیوں کی
قلفی والے کی صدا سے گونجتی تھیں
"کھوئے والی اے ملااااااائی والی اے"
من اندر تک اداس ہے
کیا میرے لیے بھی  کوئی خاص ہے؟
پھر تُم! ہاں تُم
آئے تھے میری زندگی میں
چوکبار بن کے
رنگ، خوشبو، حسن کا نام ناصرہ فدوی ہے۔ جتنی خوبصورت شاعری اس سے کہیں زیادہ خوبصورت آپ کی شخصیت ہے۔ مدہم روشنی، خوابناک ماحول ، جھیل جیسی آنکھیں نیم وا کرکے جب آپ اپنا کلام پیش کرتی ہیں تو یک بیک جیسے کائنات تھم سی جاتی ہے۔ آواز میں ایسا طلسم کہ جو سنے پتھر ہوجائے۔ انسٹاگرام سے فیس بک اور یو ٹیوب تک جیسے زندگی دوڑ جاتی ہے۔ حسن اور فن کا ایسا امتزاج شاید  اس سے پہلے اس کمال تک نہ پہنچا ہو۔بے اختیار علامہ شارق خلیل یاد آتے ہیں۔ حُورکا ہو بہو سراپا۔
معروف نقّاد حسرت جٹ لکھتے ہیں کہ ناصرہ کی شاعری قاری کو ففتھ جنریشن لٹریری ورلڈ میں لے جاتی ہے۔ خیال، بُنت، ڈکشن سب نیا اور انوکھا۔ناصرہ فدوی قاری کو بیرون سے بے خبر کرکے اندرون کے سفر پر لےجاتی ہے۔ تاریخ اور فکشن کے بیچ جو تھِن ریڈ لائن ہے اسے کراس کرکے نئی دنیاؤں کی سیر کراتی ہے۔ شعوری جدلیات کی تحلیلِ نفسی کرکے اسے قاری کے سامنے کھول کے رکھ دیتی ہے۔ جیسے اچار ماش کی دال کو زُود ہضم بنا دیتا ہے۔حسرت جٹ مزید لکھتے ہیں کہ تمہاری حسین آنکھوں کے کنول جب کھلتے ہیں تودل جلوں کے داغ سلگ اٹھتے ہیں۔ تمہاری آواز کا جلترنگ سن کر بھنورے گنگناتے ہیں۔ تمہاری کمرکے بل پر ناگن بل کھاتی ہے۔ تم ہنسو تو کائنات مسکراتی ہے۔ تمہاری اداسی شامِ غم بن جاتی ہے۔ الغرض بقول گمنام شاعر
؎کہوں کس سے میں کہ کیا ہے
ناصرہ فدوی بری بلا ہے
(مندرجہ بالا پیراگراف حسرت جٹ کے مضمون "محبت کی صورتحال" سے لیا گیا ہے جو ماہنامہ "پانچویں نسل" میں شائع ہوا۔ پیراگراف کا آخری حصہ جنابِ حسرت کے انسٹاگرام، ٹوئٹر اور فیس بکی تبصرہ جات پر مشتمل ہے جو آپ نے آنسہ ناصرہ فدوی کی ویڈیوز، فوٹوز، سٹیٹس اور ٹوئٹس پر کیے۔ ادارہ اس کا ذمّہ دار نہیں !)