ایک اور شعیب اختر ۔۔۔



ایک شعیب اختر سے جان چھوٹی ہے تو دوسرا اس کی جگہ سنبھالنے آگیا ہے۔۔۔
اور اس کی پسند کی بھی داد دینے کو جی چاہتا ہے۔۔۔
چھتر لاء لئے بندہ۔۔۔۔

تو ہے کوئی ۔۔۔۔

میرا بھی بہت جی چاہتا ہے کہ معاشرتی، معاشی، سیاسی، اقتصادی، سائنسی، ادبی وغیرہ وغیرہ جیسے موضوعات پر ”سنجیدہ“ اور ”بامقصد“ لکھوں، جس میں بھاری بھرکم الفاظ اور اصطلاحات کا تڑکا بھی ہو۔ لوگ مجھے اعلی پائے (اور سری) کا دانشور سمجھیں۔ میرے نام کے ساتھ بھی علامہ، پروفیسر جیسا کوئی لفظ جڑا ہو۔ میری تحریر کی کسی کو سمجھ آئے نہ آئے، سب واہ واہ ضرور کریں۔ ایسے سیمینارز اور کانفرنسز میں‌ مدعو کیا جاؤں، جن کے موضوعات اکثر ، بگلے اور انسانی ذہانت کا مستقبل یا تیل کی قیمیتیں اور اردو غزل کا زوال، ہوتے ہیں اور وہاں تین تین گھنٹے کے مقالے پڑھوں تاکہ سامعین میں ‌موجود، بے خوابی کے مریض خواتین و حضرات کو افاقہ ہو!!
میرا یہ بھی دل کرتا ہے کہ نجی چینلز پر ٹاک شوز کے نام پر جو سرکس ہوتا ہے مجھے بھی اس میں مدعو کیا جائے تاکہ میں‌ بھی اپنی دانش کے کرتب دکھا سکوں۔ میں ایک ایسا آل راؤنڈر قسم کا دانشور بن جاؤں‌ جو سیاسی ٹاک شوز کی بھی ضرورت ہو اور ”بالم آن لائن“ جیسے پروگرامز کی بھی۔ جو مرغیوں کی بیماریوں‌ پر بھی سیر حاصل گفتگو کرسکے اور برصغیر میں اردو کے زوال پر بھی۔ مریخ پر پانی کی موجودگی بھی اس کا موضوع ہو اور جسے اس بات کا بھی علم ہو کہ کترینہ کیف اتنی ظالمانہ حد تک خوبصورت کیوں ہے!!!
لیکن جب بھی میں لکھنے کے لئے اپنی انگلیاں کی بورڈ پر رکھتا ہوں، نجانے کیا ہوتا ہے کہ یہی کچھ لکھ پاتا ہوں جو آپ پڑھ رہے ہیں!!!
تو ہے کوئی پروفیسر، کوئی علامہ، کوئی بحر العلوم، کوئی دانشور جو میری مدد کرے۔ جو مجھے بتائے کہ میں‌ کیسے ان جیسا بن جاؤں‌کہ ہر جانب میری بلے بلے ہوجائے۔ میری تحاریر بھی ایٹی وان کا کام کرنے لگیں۔ مائیں بچوں کو سلانے کے لئے لوریوں‌ کی بجائے میری پوسٹیں سنائیں۔ عدالتیں قید بامشقت کی سزا کے زمرے میں‌، میرے بلاگ کا تین گھنٹے روزانہ مطالعہ، کی سزائیں سنانے لگیں۔ تھانوں میں پانجے لگانے کی بجائے سنتری بادشاہ میری پوسٹیں سنا سنا کر ملزمان سے تفتیش کریں۔۔۔
تو ہے کوئی ۔۔۔۔

جب تک غم جہاں کے ۔۔۔۔۔

جب تک غم جہاں کے حوالے ہوئے نہیں
ہم زندگی کے جاننے والے ہوئے نہیں

کہتا ہے آفتاب، ذرا دیکھنا کہ ہم
ڈوبے تھے گہری رات میں، کالے ہوئے نہیں

چلتے ہو سینہ تان کے دھرتی پہ کس لئے
تم آسماں تو سر پہ سنبھالے ہوئے نہیں

انمول وہ گہر ہیں جہاں کی نگاہ میں
دریا کی جو تہوں سے نکالے ہوئے نہیں

طے کی ہے ہم نے صورت مہتاب راہ شب
طول سفر سے پاؤں میں چھالے ہوئے نہیں

ڈس لیں تو ان کے زہر کا آسان ہے اُتار
یہ سانپ آستین کے پالے ہوئے نہیں

تیشے کا کام ریشہء گل سے لیا شکیب
ہم سے پہاڑ کاٹنے والے ہوئے نہیں

(شکیب جلالی)