Showing posts with label کچھ ہلکا پھلکا. Show all posts
Showing posts with label کچھ ہلکا پھلکا. Show all posts

بولو پینسل۔۔یُدّھ کینسل

 

جیل کی دیواروں پر شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے۔ اہلکار قیدیوں کو بیرکس میں بند کرکے سگریٹ سلگا چکے تھے۔ مغرب کی اذان کے بعد والی پراسرار خاموشی سرسرانے لگی تھی۔ قیدیوں کی بیرکس سے دور صحن پار کرکے ایک چھوٹی سی بیرک کی ایک کوٹھڑی میں تنہائی اور خاموشی تھی۔ کوٹھڑی کا مکین فلاور یوگا آسن میں کسی گہری سوچ میں مستغرق تھا۔ اسے جیل میں کافی عرصہ ہو چکا تھا۔ یہ وقت اس نے رونے دھونے میں ضائع نہیں کیا تھا۔ کوٹھڑی میں کتابوں کے ڈھیر لگے تھے۔ وہ اس عرصے میں دو ڈھائی ہزار کتابیں گھول کر پی چکا تھا۔

یوگا سے فارغ ہو کر وہ زمین پر چت لیٹ گیا۔ کوٹھڑی کی چھت پر اس نے اپنے خون سے 804 لکھ رکھا تھا۔ یہ اس ظلم کی یاد دھانی تھی جو اس پر کیا گیا تھا۔

مغرب کا وہ وقت گزر چلا تھا جس کے بارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ بچوں کو باہر نہ جانے دو۔ قیدی نے انگڑائی لی۔ کوٹھڑی میں دھری لکڑی کی چھوٹی سی الماری میں بھنے چنوں کے پیکٹ سے مٹھی بھری۔ بالٹی سے پانی کا کپ بھرا اور ڈنر شروع کر دیا۔ چنوں کا آخری پھکا مارا ہی تھا کہ بیرک کا خارجی لوہے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ جیلر کے ساتھ ایک خاص شخص اسے پھر ملنے آیا تھا۔ قید کے دوران تقریبا ہر دن کوئی نہ کوئی اسے آکر منانے کی کوشش کرتا رہا تھا۔ مگر قیدی جیل میں آزاد تھا اور یہ باہر رہ کے بھی اس کے حوصلے کے قیدی۔

جیلر کوٹھڑی کے سامنے آکر رکا۔ اپنی چھڑی لوہے کی سلاخوں پر افقی انداز سے پھیری اور انگلی کے اشارے سے قیدی کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔ جیلر کے ساتھی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے دبایا اور کوٹھڑی کا دروازہ کھولنے کی ہدایت کی۔ جیلر نے دروازہ کھولا۔ مہمان کوٹھڑی میں داخل ہوا۔ یہاں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔ قیدی نے انسائیکلوپیڈیا کی تین چار جلدیں اوپر نیچے رکھ کے سٹول بنا کر مہمان کے بیٹھنے کا بندوبست کیا۔ قیدی خود زمین پر بیٹھ آلتی پالتی مار کے بیٹھ گیا۔

مہمان نے قیدی کا ہاتھ تھاما اور لجاجت آمیز انداز میں کہا، "دشمن سر پہ چڑھا آتا ہے۔ تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے مگر یہ وطن کی سلامتی کا سوال ہے۔ ہمیں امید ہے تم ہماری مدد کرو گے۔"

قیدی کے لبوں پر بھنچی سی مسکراہٹ تھی۔ اس نے دایاں ہاتھ بالوں میں پھیرا۔ سر اٹھا کے دیوار پر رینگتی چھپکلی کو دیکھتے ہوئے کہا، "وطن کے لیے میری جان بھی حاضر ہے۔ تم بھی جانتے ہو کہ اس ملک کی جتنی میں نے خدمت کی ہے اس کی مثال نہیں۔ میں مدد کرنے کو تیار ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔"

مہمان عارضی سٹول سے اٹھ کر قیدی کے ساتھ زمین پر بیٹھ گیا۔ اس کا ہاتھ تھام کر آہستگی سے بولا، "ہمیں تمہاری سب شرطیں منظور ہیں۔ تمہاری سزائیں ختم کر دی جائیں گی اور میں تمہیں ابھی اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔" قیدی مسکرایا۔ انگشت شہادت دائیں بائیں آہستگی سے ہلاتے ہوئے کہا، "میری یہی ایک شرط ہے۔ میں صرف عدالت سے بری ہونے کی صورت میں جیل سے باہر جاؤں گا۔ کسی مہربانی یا معافی کے نتیجے میں نہیں۔ تم فکر نہ کرو۔ دشمن کا بندوبست میں یہاں بیٹھ کر ہی کر دوں گا۔"

مہمان کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے قیدی کا ہاتھ چوما اور کوٹھڑی سے نکل گیا۔

مادرِ وطن کو درپیش اس سنگین صورتحال میں قیدی کو احساس ہو اکہ بی بی صاحبہ سے مشورہ ضروری ہے۔ بی بی صاحبہ ملحقہ بیرک میں قید تھیں۔ اکثر تو رات گئے وہ خود ہی آجاتی تھیں مگر آج قیدی اتنا انتظار نہیں کر سکتا تھا۔ وہ فرش سے اٹھا۔ انگڑائی لی۔ جسم کو تھوڑا سٹریچ کیا اور آنکھیں بند کرکے کوٹھڑی کے درمیان میں کھڑا ہوگیا۔ اس کے ہاتھ اوپر کو اٹھے تھے اور وہ منہ میں کچھ پڑھ رہا تھا۔ چند لمحوں بعد اس نے دفعتا ہاتھ نیچے کیے پھونک ماری اور کِرلی میں تبدیل ہوگیا۔

بی بی صاحبہ اور اس کے تعلق پر مخالفین نے بہت ٹھٹھے کیے۔ طعنے کسے۔ مگر قیدی کو ہی علم تھا کہ اس نے کیسے اس تعلق میں روحانیت اور ماورائے حواس درجات طے کیے ہیں۔ بی بی صاحبہ نے اسے بہت سے وظائف تعلیم کیے جس سے مختلف میٹا فزیکل کام ممکن ہو سکتے تھے۔

کِرلی کی صورت اختیار کرکے قیدی دیوار پر چڑھا۔ روشندان سے باہر نکل کر بی بی صاحبہ کی بیرک کی طرف روانہ ہوا۔ ابھی ایک دیوار باقی تھی کہ راستے میں اسے ایک بدمعاش کِرلا نظر آیا۔ قیدی نے کوشش کی کہ نظر بچا کے نکل جائے مگر وہ راہ روک کے کھڑا ہوگیا۔

"سوہنیو ۔۔ کتھے جا رئے او؟ پہلے تہانوں کدی ایتھے نئیں ویکھیا۔۔۔ آؤ تہاڈی کوئی خدمت کرئیے۔۔۔"۔ کرلے نے اوباشانہ انداز میں قیدی کی دم پر دم پھیرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ قیدی نے اوسان بجا رکھتے ہوئے کہا، " میرا راستہ چھوڑ دو۔ میں ایسی کِرلی نہیں۔"

کِرلا زبان لپلپاتا قیدی کی طرف بڑھا۔ اسی اثناء ایک کالی بلی نے چھت سے چھلانگ لگائی اور کرلے کو پنجہ مار کے نیچے گرا دیا۔ قیدی تیزی سے رینگتا ہوا بی بی صاحبہ کی کوٹھڑی میں جا پہنچا۔ کوٹھڑی میں ایک کالی بلی بیٹھی اسے گھور رہی تھی۔ قیدی کِرلی سے انسانی شکل میں تبدیل ہوا۔ کالی بلی بی بی صاحبہ بن گئیں۔ دو جسم ایک جان ہوگئے۔

وظیفے سے فراغت کے بعد قیدی نے مہمان کی آمد اور مدد کی درخواست بی بی صاحبہ کے گوش گزار کیں۔ قیدی کے ذہن میں ایک منصوبہ تھا جس پر عمل کرکے دشمن کو اس کے گھر میں ہی شکستِ فاش دی جا سکتی تھی۔ اس منصوبے میں لیکن ہرقلاطوس کی ضرورت تھی۔ قیدی نے بی بی صاحبہ سے درخواست کی کہ کچھ دن کے لیے ہرقلاطوس کی خدمات اس کے حوالے کر دی جائیں۔ بی بی صاحبہ نے التفات سے قیدی کو دیکھا اور ناز سے بولیں، "کیا میرا سب کچھ آپ کا نہیں؟ میں بھی آپ کی، ہرقلاطوس بھی آپ کا۔"

بی بی صاحبہ کے منہ سے نام سنتے ہی ہرقلاطوس فورا حاضر ہوگیا۔ بی بی صاحبہ نے ناراضگی سے اسے گھرکا کہ ایسے پرائیویسی میں کیسے آگئے۔ ہرقلاطوس گھبرا کے بولا، باجی آپ نے نام لیا تو میں نے سوچا شاید بلایا ہے۔ سوری، میں جاتا ہوں۔ بی بی صاحبہ نے پیار سے اس کے سینگ پر ہاتھ پھیرا اور کہا، کوئی بات نہیں۔ تمہارے بھائی جان کو ضرورت ہے۔ ان کے ساتھ چلے جاؤ۔ جیسے کہیں ویسے کرو۔

قیدی نے فورا ہرقلاطوس کو دشمن ملک میں جانے کا حکم دیا۔ ہرقلاطوس نے قیدی کو کندھوں پر بٹھایا اور ۔۔ شوبھم م م۔۔۔ ہو گیا۔

پردھان منتری رات کا بھوجن کر رہے تھے۔ کئی اقسام کی دال، ترکاری، اچار، چٹنیاں۔۔۔ پریشانی میں کچھ زیادہ بھوجن ہو گیا۔ چھاتی چھپن انچ کی تھی تو پیٹ ستر انچ تک پہنچ گیا۔ رسوئی سے نکل کے پردھان منتری بھون کے باغ میں چہل قدمی کرنے لگے کہ کچھ ہوا لگے اور خارج بھی ہو۔

ہاجمولا کی تین گولیوں اور پانچ سات منٹ کی چہل قدمی کا نتیجہ ائیر بیرئیر ٹوٹنے کی شکل میں نکلا۔ پردھان منتری جی فراغت کا سانس بھی لینے نہ پائے تھے کہ پائیں باغ کے کونے سے ایک ہیولا سا نکلا۔ گیروے رنگ کے چولے میں ملبوس، گلے میں منکوں کی مالائیں جھولتی ہوئیں، ہاتھ میں پیتل کے کڑے، ناگ دیوتا کی ہئیت والی لاٹھی تھامے ایک سنیاسی باوا۔ پردھان منتری جی سُن سے ہو گئے۔ سنیاسی باوے نے زمین پر لاٹھی ماری۔ پردھان منتری جی دفعتا ہوش میں آئے اور باوا کے چرن چھو کر آشیرواد لی۔

"بالک۔۔ یُدّھ کے لیے یہ سمے شُبھ نہیں ہے۔ مہا کال کا سمے ہے۔ یُدّھ پوسپون کر دو۔ مجھ سے زیادہ یُدّھ کو کوئی نہیں جانتا۔ اگر تمہارے کسی مِتر کی پتنی سندر ہے تو اس کے ساتھ اشلیل سمبندھ بناؤ۔ یہ سمے اسی کرم کا ہے۔ یُدّھ وُدّھ بھول جاؤ۔۔۔"۔

پردھان منتری جی تھوڑا حیران ہوئے مگر سنیاسی باوا کی ہینڈسم نیس کے سامنے ان کے منہ سے آواز نہیں نکل سکی۔ طبیعت بھی کچھ ہلکی ہو چکی تھی تو باوا کی نصیحت کے دوسرے حصے کا خیال آتے ہی ان کے لبوں پر مسکان آگئی اور زیرِلب بڑبڑائے۔۔۔ اوشّ۔ پردھان منتری جی نے ہاتھ جوڑ کر باوا کو پرنام کیا، ان کے پیر چھوئے۔ سنیاسی باوا جیسے آئے تھے ویسے ہی اچانک غائب ہوگئے۔

پردھان منتری کے جاتے ہی قیدی نے سنیاسی باوے والا کاسٹیوم اتارا اور ہرقلاطوس کو واپسی کا اشارہ کرتے ہوئے کہا، "واپسی کی فلائٹ زیادہ بلندی پر نہ لے کر جانا۔ سردی لگتی ہے۔"

دوسرا پیگ

 

آپ مانگا منڈی چلے جائیں۔ آپ ٹنڈو جام چلے جائیں۔ آپ سبّی، لکّی مروت، چونیاں، لورا لائی، تخت بھائی، ٹھٹّھہ، مٹیاری الغرض کہیں بھی چلے جائیں۔ آپ کو لوگ شرابیں پیتے ملیں گے۔ یہ دیسی بھی پیتے ہیں۔ یہ کھانسی کے شربت بھی پی جاتے ہیں۔ یہ ولائیتی بھی چڑھا جاتے ہیں۔ یہ پونڈے بھی پی جاتے ہیں۔ یہ زہریلی شرابیں بھی پی جاتے ہیں۔ پھر مر بھی جاتے ہیں۔ مگر یہ شرابیں چھوڑتے نہیں۔ یہ جب پینا شروع کرتے ہیں تو بوتل کا کھنگار تک پی جاتے ہیں۔ یہ خالی بوتل بھی بیس بیس منٹ تک سونگھتے رہتے ہیں۔رینڈ کارپوریشن کی حالیہ سٹڈی کے مطابق دنیا میں دس لاکھ سال سے شراب پی جا رہی ہے۔ آج تک ایک بھی واقعہ ایسا ریکارڈ میں نہیں کہ کسی نے صرف ایک پیگ پی کے بس کر دی ہو۔ لوگ شروع کرتے ہیں پھر بوتل ختم ہوتی ہے یا ہوش۔ اس سے پہلے کوئی بس نہیں کرتا۔

آپ شیدے کو دیکھ لیں۔ یہ ورزش بھی کرتا ہے۔ یہ اچھی خوراک بھی کھاتا ہے۔ یہ منہ متھے بھی لگتا ہے۔ یہ پنڈ کی مٹیاروں میں تبّت سنو سے زیادہ مقبول ہے۔ یہ اکثر رات کو کمادوں میں سے نکلتا پایا جاتا ہے۔ اس کے موڈھے پر ہر وقت بڑا صافہ پڑا رہتا ہے۔ یہ منہ صاف کرنے کے کام بھی آتا ہے۔ یہ بوقت ضرورت زمین پر بچھایا بھی جا سکتا ہے۔ شیدا اس سے سارے کام لیتا ہے۔ شام کو تلنگوں کی منڈلی جو کچّے کھوہ کے پاس لگتی ہے اس میں شیدے کی شرکت لازمی ہوتی ہے۔ یہ بڑے مزے دار واقعات سناتا ہے۔ یہ تلنگوں کو موٹیویٹ کرتا ہے۔ انکو مذہبی تاریخ سے واقعات سناتا ہے کہ کیسے حضرت محمود غزنوی نے سونے کے بت توڑے اور سونا غزنی لے گئے اور عیش کی۔ اس کی موٹیویشن پر کئی تلنگے آج کل جیل میں ہیں۔

جیرے کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ منڈلی میں دیسی لائے۔ جیرا بہترین دیسی کشید کرتا ہے۔ شیری مان نے جیسے کہا تھا

"ہتھ دی کڈّی، سواد اولّے"۔۔۔ بالکل وہی سنیریو بن جاتا ہے۔ پھر سب اس وقت تک پیتے ہیں جب تک ایک دوسرے کی ماں بہن ایک نہ کرنے لگ جائیں۔ شیدا مگر ایک پیگ کے بعد بس کر دیتا ہے۔ پہلے سب اصرار کرتے تھے۔ ہور پی شژادے۔۔۔ ڈر دا کیوں ایں؟ مگر شیدا ہنس کر ٹال جاتا تھا۔ اب یہ معمول بن گیا ہے۔ سب پی کر انٹا غفیل ہو جاتے ہیں اور شیدا بیٹھا مسکراتا رہتا ہے۔

شراب ختم ہوتی ہے تو ساری منڈلی اوندھی پڑی ہوتی ہے۔ اس وقت شیدا اپنا صافہ جھاڑ کر موڈھے پر دھرتا ہے اور کمادوں کی طرف نکل جاتا ہے۔

شیدے کا ایک پیگ سارے پنڈ میں مشہور ہے۔ لوگ اس سے پوچھتے ہیں۔ وائے ون پیگ؟ وہ ہنس کر آنکھ مارتا ہے اور بات ٹال جاتا ہے۔ پینو کی بات مگر شیدا نہ ٹال سکا۔ جون کے تپتے دن کے بعد رات ٹھنڈی ہونی شروع ہوئی تو شیدا اپنا صافہ لے کر پینو سے ملنے کمادوں کی طرف نکلا۔ پینو نے شیدے سے گھُٹّ کے جپھّی پائی (جپھّی اک واری گھُٹ کے توں پا گجرا)۔ شیدے نے صافہ موڈھے سے اتارا۔ بچھانے لگا تو پینو نے انگلی کے اشارے سے منع کیا۔ "پہلے اج اک پیگ دی کہانی سنا۔۔۔ نئیں تے میں ہتھ نئیں لان دینا۔۔۔" پینو کے چہرے پر کمٹڈ لُک تھی۔

شیدے نے گہری سانس لی۔ صافے سے ماتھا پونچھا۔ بائیں ہاتھ سے جانگھوں میں خارش کی۔ دھوتی کو گھٹنوں تک اٹھایا۔ پینو کو ہارنی آمیز نظروں سے دیکھا اور ایک پیگ کی داستان شروع کی۔

شیدے نے پینو سے کہا کہ اسے اس صافے کی قسم ہے اگر اس نے یہ بات کسی اور سے کی۔ شیدے کا علم لا انتہا تھا۔ وہ کسی سکول میں نہیں گیا۔ اس نے کبھی کتاب کی شکل نہیں دیکھی لیکن پھر بھی اسے ہر چیز کا علم ہوتا تھا۔ وہ موٹر سیکلیں ٹھیک کرلیتا تھا۔ وہ سائیکل کے فیل کتّے پاس کر دیتا تھا۔ وہ پیٹر انجن ٹھیک کر لیتا تھا۔ اسے نورانی قاعدہ زبانی یاد تھا۔ شیدے نے کہا کہ اسے پتہ ہے کہ زیادہ شراب پینے سے انسان ریلیکس فِیل کرتا ہے۔ اس کنڈیشن میں وہ دل کی باتیں کر جاتا ہے جو عام حالت میں نہیں کر سکتا۔

شیدے نے پینو کا ہاتھ تھاما۔ دوسرا ہاتھ اس کی کمر کے گرد لپیٹا۔ پینو تھوڑا کسمسائی۔ پھر شیدے نے گہری آواز میں کہا، "اب جو میں بتانے لگا ہوں اس کو سن کر ڈر مت جانا۔ دیکھ میری مکھن ملائی۔۔۔۔ اگر کسی دن دوسرا پیگ لگا لیا اور بگ بینگ والا منظر بیان کردیا تو تجھے علم نہیں کہ کیا گھٹنا گھٹ سکتی ہے۔"

پینو تھوڑا حیران ہوئی تھوڑا ڈر بھی گئی۔شیدے سے لپٹ کر بولی، "اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا تم نے بگ بینگ دیکھا تھا؟"
شیدا گہری آواز میں ہولے سے ہنسا،
"دیکھنا کیا۔۔۔ میں نے ہی بگ بینگ والے دھماکے کو لائٹر دکھایا تھا۔"

پینو بے ہوش کر شیدے کی بانہوں میں جھول چکی تھی۔

صدام، اسلام اور کپتان

 

‏لڑکپن کے اختتام کا قصہ ہے۔ برسات کی حبس زدہ شام پی ٹی وی کے خصوصی بلیٹن میں بتایا گیا کہ عراق نے کویت پر فوج کشی کر کے قبضہ کر لیا ہے۔ ہمیں سمجھ تو نہیں آئی لیکن ایسا محسوس ضرور ہوا کہ یہ کچھ بہت غلط ہو گیا ہے۔ پاکستانی سیاست میں وہ برسات کافی ہنگامہ خیز تھی۔ بے نظیر کی پہلی حکومت ختم ہوئی۔ انتخابات میں اس وقت کی پی ٹی آئی جتوائی گئی۔ لیکن بڑا عہدہ خالقوں کی منشا کے مطابق پر نہ ہوا۔ لاہور کے صنعت کار کا جوان بیٹا وزیر اعظم بن گیا۔ جنرلز کی پہلی پسند سندھ کا آزمودہ کار جاگیردار پیچھے رہ گیا۔

دوبارہ کویت پر قبضہ کی طرف آتے ہیں۔ امریکہ نے آپریشن ڈیزرٹ سٹارم کا اعلان کیا۔ پاکستان میں آرمی چیف سے ٹھیلے والے تک صدام حسین کو صلاح الدین ایوبی مان چکے تھے۔ جمہوریت کا تمغہ پانے والے جنرل اسلم بیگ جو دو تین سال قبل عین وقت پر جہاز بدلنے کی وجہ سے شہید نہ ہو سکے تھے اب غازی بن کے صدام حسین کو اسلام کا مجاہد قرار دینے لگے۔ ہم جماعت، کزنز، محلے دار ہر جگہ صدام حسین کے پروانے بھنبھناتے تھے۔ ان دنوں شام کو ہماری محفل ظہیر لائبریری میں جمتی تھی۔ وہاں احباب صدام حسین کے ایسے فضائل بیان کرتے جو اسی لائبریری سے نسیم حجازی کے ناول پڑھ کے انہیں ازبر تھے۔

ہر جگہ صدام حسین کے پوسٹر لگے ہوتے تھے۔ رکشوں کے پیچھے، فلمی ہورڈنگز والے تانگے شاید آج کسی کو یاد نہ ہوں لیکن اس وقت یہ عام تھے۔ نئی فلم کی تشہیر کے لئے تانگے کی پچھلی طرف بڑا ہورڈنگ اور دونوں اطراف نسبتا چھوٹے ہورڈنگ لگے ہوتے تھے۔ ان تانگوں پر بھی صدام حسین کے پوسٹر لگے دیکھے۔ کسی میں وہ گھوڑے پر بیٹھے عربی لباس میں تلوار لہراتے نظر آتے تھے۔ کسی میں رائفل تھامے اور کسی میں ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں جھنڈا تھامے اسلامیانِ پاکستان یا پنجاب کے دل گرماتے نظر آتے تھے۔ 1992 میں پیدا ہونے والی اکثریتی نرینہ اولاد کے نام ان کی امیوں نے صدام رکھے۔ یہ صدام آج ادھیڑ عمری کی دہلیز پر ہیں اور ان میں سے بیشتر حالیہ صدام کے پرستار ہیں۔

ہمیں بچپن سے اخبار پڑھنے کی لَت تھی۔ اخبار ٹینڈر نوٹسز تک پڑھ لیاجاتا تھا۔ اردو کالم نویسوں کی اکثریت اس وقت صدام حسین کی قتیل تھی۔ یہ سب پڑھ کے بھی کبھی دل صدام حسین کی طرف مائل نہ ہوا۔ دوست احباب ہمیں اس وقت یہود و ہنود سے ملاتے کہ تم منکر انسان ہو۔ ایک مجاہدِ اسلام کو نہ صرف مانتے نہیں بلکہ اس کی توہین بھی کرتے ہو۔ وہ وقت کچھ بہتر تھا کہ توہین وغیرہ کی بات پر برا بھلا ہی کہا جاتا تھا۔ سر تن سے جدا نہیں ہوتا تھا۔ ان دنوں صدام حسین کا "اُم الحرب" والا ڈائلاگ بھی بہت ہٹ تھا۔ خلیفہ ہارون الرشید تو بارہ پندرہ سال یہ اصطلاح استعمال کرتے رہے۔ اس وقت اوریا مقبول جان منصہ شہود پر نہیں آئے تھے ورنہ وہ اس میں سے امام مہدی اور قیامت وغیرہ ضرور برآمد کرتے۔

یہ ایک شہری متوسط طبقے کے ٹین ایجر کے خیالات تھے جو اپنے ماحول، تعلیم اور اجتماعی لاشعور کے باوجود یہ سمجھ گیا تھا کہ صدام حسین اپنی قوم کو مروائے گا۔ یہ بات تاریخ نے ثابت کی۔

دورِ شباب کپتان کے فضائل پڑھتے گزرا۔ کپتان، درویش اور سپہ سالار کی طولانی حکایات جنابِ خلیفہ نے اس تسلسل سے لکھیں کہ اس کو داستانِ کپتانِ لعین کا سرنامہ دیا جا سکتا ہے۔ فدوی بھی انسان ہے۔ جو لڑکپن میں پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوا  وہ ادھیڑ عمری کے آغاز پر ہوگیا۔ 2008 تک ہم سمجھتے تھے کہ کپتان اچھا آدمی ہے۔ فوج کے سیاسی کردار کے خلاف ہے۔ ایماندار ہے۔ صاف گو ہے۔ لیکن چلے گا نہیں۔  2011 کا لاہور جلسہ وہ دور تھا جس میں فدوی بہک گیا۔ لیکن یہ عرصہ بہت مختصر ثابت ہوا۔ اس پر آج تک پچھتاوا ہے۔

جیسے ہی کپتان کو حاضر سروس چھتری میسر آئی اس کے رنگ ڈھنگ، زبان، کردار سب کھل کر سامنے آگئے۔ اس دن سے کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب کپتان کا مضحکہ نہ اڑایا ہو۔ اس کا ایاک نعبد سے شروع ہونے والا سفر اب کپتان العالمین تک پہنچ چکا ہے۔ جو اس کا ساتھ چھوڑے وہ مشرک۔ قبر میں پہلا سوال کپتان بارے ہوگا کہ وہ تمہارے پاس آیا تھا تم نے اس کا ساتھ کیوں نہیں دیا۔ کپتانی زبان سے آفیشل اکاؤنٹس تک کلمہ بھی صرف "لا الہ الا اللہ" تک محدود ہو چکا۔ اگلا حصہ شاید فنڈنگ اور ننھیال کی مجبوری کی وجہ سے لکھا اور پڑھا نہ جاتا ہو۔ یہاں حلف لیتے وقت "خاتم النبین" غلط پڑھ کے کیمرے کی طرف دیکھ کے طنزیہ ہنسی بھی یاد آتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کپتان نے کلمے کا دوسرا حصہ اپنے لئے محفوظ رکھا ہو کہ اگلا الیکشن جیت کے مکمل کردیں گے۔ جو عبادت گذار نشے، جوئے، ناجائز تعلقات، ناجائز اولاد، چندہ خوری پر ایمان لاچکے وہ اس کلمے پر بھی ایمان لے آئیں گے۔

حماقت، اس سے پھوٹتی بدمعاشی اور فاشزم کو نہ ماننا بہتر انسانی اوصاف میں سے ہے۔ ہم لڑکپن میں منکر تھے۔ اب بھی منکر ہیں۔منکر ہی مریں گے۔

داستان افغان فروشوں کی

جاڑے کی گلابی سہ پہر ماضی کی یادیں یوں یلغار کرتی ہیں جیسے صاحبقراں امیرِ تیمور کے لشکر غنیم کو تہہ تیغ کرنے بڑھے آتے ہوں۔ وائے افسوس۔۔۔ کیسے گُہر تھے جو خاک میں مل گئے۔ کیسی ذہانتیں تھیں جو ستائش کی تمنا سے ماورا غیاب و خاموشی میں وطن پر قربان ہوگئیں۔

نصف صدی ادھر، جاڑے کے یہی دن۔ فقیر مشروب کی تلاش میں سرگرداں۔ جارج گھسیٹے خاں مگر، جِیسز کرائسٹ ان کے کیسکٹ کو نور سے بھر دے، پکڑائی نہ دیتے تھے۔ اسی گُربہ حالی میں پہلی دفعہ ان سے ملاقات ہوئی۔ زیرو پوائنٹ کے سناٹے میں فقیر درویشی بُوٹی کی چُنائی میں مشغول تھا کہ اچانک بائیسکل کی جرس نے متوجہ کیا۔ باریک ہونٹ، کشادہ پیشانی، شام کے جھٹپٹے میں نور سے دمکتا چہرہ، دبادب بائیسکل کے پیڈل مارتا یونانی دیوتا۔ فقیر کہ ان دنوں آتش جواں تھا خود بھی رحیم یار خانی حُسن کا نمونہ تھا۔ پھتّے نائی کی دکان پر بال بناتے ہوئے اپنے ہی حُسن سے شرما کر فقیر اکثر ماشاءاللہ کہہ کر پھونک مار دیا کرتا۔ گھنے بالوں کے گچھے کہ اب یہ گپ لگتی ہے، فقیر کے شانوں پر جھولا کرتے۔ قصّہ مختصر۔۔۔۔ پہلی نگہ میں طالبعلم اس جوانِ رعنا کا قتیل ہوگیا۔ رفیع یاد آئے۔۔۔

یہ ملاقات اک بہانہ ہے ۔۔۔ پیار کا سلسلہ پرانا ہے

فاتح بائیسکل سے قلانچ بھر کے اترے اور فقیر سے یوں مخاطب ہوئے، ۔۔۔۔ ابے او ب٭٭٭٭٭ والے چچا۔۔۔ کیا ڈھونڈ رہے ہو؟" طالبعلم کا دل خوں، جگر چاک ہوا۔ عمر کا فرق اگر تھا بھی تو عشرے سے کم اور اس وقت تو بدنامِ زمانہ "مرزا پور" کے لکھاری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ فقیر رئیلی میں ہَرٹ ہوا۔ آہستگی سے فاتح کے قریب جا کر شانوں سے زلفیں سمیٹیں، پونی بنائی اور کہا، "ہمارے سپلائر گیڑا کرا گئے۔ درویشی بُوٹی کی تلاش میں ہیں۔ آج شب ورنہ شبِ فراق سے طویل ہو جائے گی۔" فاتح یکلخت ٹھٹکے۔ کہا، اتنی سی بات تھی، پہلے بتایا ہوتا۔ فاتح نے کوٹ کی اندرونی جیب سے مون وہسکی کا پوّا نکالا۔ طویل گھونٹ لیا۔ بوتل فقیر کی طرف بڑھا دی۔ طالبعلم کے کاٹو تو بدن میں لہو ندارد۔ یقین ہمارے ڈھلمل، ایمان شکستہ۔

وہ رات اپن دو بجے تک پیا۔

ایسے درویشِ بے ریا کو کیا ضرورت پیش آئی کہ پیسے گن گن کر رکھتا رہا؟ خدا کی قسم یہ جھوٹ ہے۔ فقیر کو سارے قصے کا علم ہے۔ ایک دن آئے گا کہ پوری کہانی بیان کر دی جائے گی۔ اس شام سے جُڑا تعلق ساری زندگی پر محیط ہوا۔ گرمی کی کوئی سہ پہر ایسی نہ تھی کہ فقیر گنڈیریاں لے کر فاتح کے دفتر حاضر نہ ہوا ہو۔ ڈالروں کے توڑے کہ پورا دفتر ان سے بھرا ہوتا۔ شام تک سارا مالِ غنیمت تقسیم کر دیا جاتا۔ خالی توڑے چھان بورے والے کو بیچ کر مرونڈے کے چھ سات ٹکڑے ملتے۔ گنڈیریاں چُوپ کر مرونڈا تناول کیا جاتا۔ اس معمول سے طالبعلم کو شوگر اور فاتح کو مثانے کی تکلیف ہوئی۔ دوستی مگر ہر درد کی دوا ہے۔ شیری مان نے حق فرمایا ۔۔۔

یار اَن مُلّے٭ ۔۔۔ ہوا دے بُلّے٭۔۔۔۔

(یہاں مُلّے سے مراد مولوی نہیں اور نہ ہی ہوا دے بُلّے سے اشارہ گیسٹرک ٹربل کی طرف ہے۔ پلیز نوٹ)

این جی اوز اب اس ملک پر قابض۔ جس کی چاہیں پگڑی اچھالیں۔ کوئی ان سے پوچھنے کی جرات نہیں رکھتا۔ ڈالر ان کو دساور سے ملتے ہیں۔ اساطیری شہرت کے حاملین پر یہ بدعنوانی کی زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔ اگست کی ایک شام جنرل ضیاءالحق نے کہا تھا، اگر محمد حنیف کے آموں والے ناول سے بچ نکلا تو ان اسلام دشمن اور وطن فروش این جی اوز کا وجود مٹا دوں گا۔ خدا کو مگر آزمائش مقصود تھی۔ باقی کہانی ہے۔

جاڑے کی گلابی سہ پہر ماضی کی یادیں یوں یلغار کرتی ہیں جیسے صاحبقراں امیرِ تیمور کے لشکر غنیم کو تہہ تیغ کرنے بڑھے آتے ہوں۔ وائے افسوس۔۔۔ کیسے گُہر تھے جو خاک میں مل گئے۔ کیسی ذہانتیں تھیں جو ستائش کی تمنا سے ماورا غیاب و خاموشی میں وطن پر قربان ہوگئیں۔ 

الفت کے تقاضے

 "چلیں اب اٹھ جائیں۔ دیر نہ ہوجائے۔" فرشتہ صورت خاتون نے  سوئے ہوئے وجیہہ شخص کے گھنے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے آہستگی سےکہا۔

"بس دس منٹ  اور۔" دھیمی سی ہَسکی آواز میں ہینڈسم نے کہا اور خاتون کا ہاتھ تھام کے دھیرے سے اسے چوما۔ خاتون شرما گئیں۔ دوپٹہ دانتوں میں لے کر ہولے سے مسکرائیں۔ ہاتھ چھڑا کر خوابگاہ کی اطالوی کھڑکیوں کے پردے سمیٹ دئیے۔ صبح کی نرم روشنی پورے کمرے میں پھیل گئی۔ باہر کا نظارہ دلکش تھا۔ سبزہ، پہاڑ، پرندے، پھول۔ خاتون منظر میں کھو سی گئیں۔ ہینڈسم آہستگی سے اٹھے۔ سلیپنگ گاؤن کی ڈوریاں باندھتے ہوئے دھیرے سے خاتون کو مضبوط بازوؤں میں سمیٹ کر ان کے نقرئی گال کو چوم لیا۔ خاتون کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھر بکھر گئے۔ کسمسا کر وجیہہ کے فراخ سینے میں چھپ سی گئیں۔ہینڈسم کے چہرے پر ملکوتی سکون اور محبت ہلکورے لے رہی تھی۔

سورج اپنی ضیاء پاشیوں کے ساتھ نمودار ہو رہا تھا۔ وجیہہ جدید فرنچ طرز کے غسل خانے میں داخل ہوئے۔ باتھ ٹب کو نیم گرم پانی سے بھرنا شروع کیا۔ اس میں شنیل کاباتھ آئل، ارمانی کا سُودنگ پرفیوم ملایا۔ الیکٹرک ٹوتھ برش سے دانت صاف کرتے ہوئے آئینے میں خود کو دیکھا تو خود ہی شرما سے گئے۔ کیبنٹ سے خاتون کا مسکارا لے کر ماتھے پر ٹیکا لگایا کہ خود کی نظر ہی نہ لگ جائے۔ دانت صاف کرتے کرتے ٹب بھر چکا تھا۔ وجیہہ نے سلیپنگ سوٹ اتارا۔ تنو مند بازو اور ابھرا ہوا مضبوط سینہ دیکھ کر بے ساختہ سبحان اللہ پڑھ کر باتھ ٹب میں آہستگی سے نیم درا ز ہوگئے۔

نیم گرم خوشبودار خوشگوار پانی نے جیسے جسم سے تھکن نچوڑ کر توانائی بھردی ہو۔ باتھ ٹب کی سائیڈ پر مختلف بٹن لگے تھے۔  وجیہہ نے ایک بٹن دبایا تو غسل خانے میں نصرت کی مسحورکن آواز گونجنے لگی۔۔۔ تم اک گورکھ دھندہ ہو۔۔۔

ہینڈسم باتھ ٹب کی خوشگواریت اور نصرت کے سحر میں ایسا کھوئے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہا۔ ان کا سحر خاتون نے آکر توڑا۔ سٹیریو کو آف کرکے انہوں نے ذرا ناراضگی سے ہینڈسم کی طرف دیکھا اور  محبت سے بولیں، "اتنی دیر؟ آپ کو کہا بھی تھا کہ جلدی کریں ورنہ تاخیر ہو جائے گی۔" ہینڈسم نے خاتون کو دیکھا تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ سوموار کی سہانی صبح، خوشبو سے معطر فضا اور خاتون کا بے پناہ حسن۔ اشارے سے ان کو باتھ ٹب میں آنے کا کہا۔ خاتون نے انگلی سے ناں کا اشارہ کیا ۔ پھر انگلی سے ہی باتھ ٹب سے نکلنے کا اشارہ کرکے غسل خانے سے باہر چلی گئیں۔

غسل سے فارغ ہو کر وجیہہ ڈائننگ روم میں آئے تو میز پر ناشتہ لگ چکا تھا۔ ابلے دیسی انڈے،شہد، دودھ، دہی، پھل، خشک میوے، بھنے ہوئے پرندے، دیسی گھی کےپراٹھے، پنیر، چِیز آملیٹ، چنے، نان، سوجی کا حلوہ، کافی، چائے، فاؤنٹین واٹر۔ دنیا کی ہر نعمت میز پر سجی تھی۔ ہینڈسم ، خاتون کے پہلو میں جا کر بیٹھ گئے۔ ان کا ہاتھ تھام کر چوما اور ناشتہ شروع کیا۔ ناشتے سے فراغت کے بعد تیار ہونے کے لئے ڈریسنگ روم میں گئے۔ گہرے نیلے رنگ کی شلوار قمیص، ہلکے نیلے رنگ کا ویسٹ کوٹ۔ گرے رنگ کی پشاوری چپّل۔ ورساچی کا پرفیوم۔ بلیک رے بان گلاسز۔دائیں  ہاتھ میں زمرد کے دانوں کی تسبیح۔

 وجیہہ تیار ہو کر ڈریسنگ روم سے نکلے تو خاتون انہیں دیکھتے ہی بے خود ہوگئیں۔ اتنی وجاہت، اتنا حسن۔ان کو اشارے سے رکنے کا کہا۔ ان کے پاس جا کر منہ میں کچھ بدبدا کر پڑھا اور ان کے چہرے پر پھونک ماری۔ پھر انہیں ذرا جھکنے کا کہا اور ان کا ماتھا چوم کر بولیں۔ "جائیں، اللہ کے حوالے۔"

وجیہہ پورچ میں نکلے تو سارا سٹاف تیار تھا۔ پورچ کی سیڑھیاں اترتے ہوئے ذرا ٹھٹھکے اور آسمان کی طرف بے نیازی سے دیکھا۔ فوٹو گرافر تیار تھے۔ چند سیکنڈز میں بے شمار کلکس ہوئے۔ فوٹوگرافرز نے اوکے کا اشارہ کیا تو ہینڈسم پورچ میں آکر سب سے سلام دعا کرنے لگے۔ فوٹو گرافرز ایک ایک لمحے کو قید کر رہے تھے۔ مسکراتے ہوئے، سٹاف سے خیر خیریت پوچھتے ہوئے، تسبیح گھماتے ہوئے، استغراق کے عالم میں، سٹاف کے درمیان راہداریوں میں چلتے ہوئے، چلتے چلتے پہاڑوں کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔

یہ ساری مشق تقریبا ایک گھنٹہ جاری رہی۔ فوٹوگرافرز نے کام ختم ہونے کا اشارہ کیا تو وجیہہ نے طویل سانس لے کر گالف کارٹ لانے کا اشارہ کیا۔ اس میں سوار ہوئے اور رہائش گاہ کی طرف  روانہ ہوگئے۔ پورچ میں خاتون انتظار کر رہی تھیں۔ بے تابی سے ان کی طرف لپکے۔ ان کا ہاتھ تھام کر چوما اور شتابی سے رہائش گاہ میں داخل ہوئے۔ ویسٹ کوٹ اتار کر لیونگ روم کی کاؤچ پر پھینکی اور خواب گاہ میں داخل ہوئے۔ پردے کھینچے۔ بستر پر گرتے  ہی آنکھیں موند یں اور مسکرا کر خود کلامی کی، "بس اب  میں تھک گئی۔"

محبّتاں سچّیاں

جِیلے کا باپ چودھری کا مزارعہ تھا۔ شناختی کارڈ پر نام تو محمد رفیق تھا لیکن آخری دفعہ مولوی صاحب نے نکاح پڑھاتے وقت یہ نام لیا تھا اور اس وقوعے کو بھی طویل عرصہ گزر چکا تھا۔ سب اس کو فیکا ہی کہتے تھے سوائے جِیلے کی ماں کے جو اسے جِیلے دے ابّا کہہ کر بلاتی تھی۔ جِیلے کی پیدائشی پرچی پر بھی اس کا نام محمد جلیل ہی تھا لیکن سب کے لئے وہ جِیلا تھا۔ جِیلے کے پیدائش کے وقت زچگی کے دوران پیچیدگی ہوگئی تھی اور فیکے کی بیوی اس کے بعد ماں نہیں بن سکی تھی۔ اس طرح جِیلا اکلوتا ہی رہا۔ فیکا تھا تو مزارعہ لیکن اس نے جِیلے کو چودھریوں کے بچوں کی طرح پالا تھا۔ لاڈ پیار میں پڑھائی بھی نہیں کرسکا۔ فرمائش اس کی منہ سے نکلنے سے پہلے پوری ہوتی تھی۔ جِیلا سارا دن کبھی کھُوہ پر اور کبھی کسی ڈیرے پر گپیں مارتے دن گزار دیتا تھا۔ نوجوانی میں قدم رکھا تو زیادہ تر وقت کھُوہ کے اردگرد گھومتے ہی گزرنے لگا۔ پنڈ سے عورتیں پانی بھرنے آتیں تو ان سے ہنسی مذاق چلتا رہتا۔ اچھی خوراک، نہ کام نہ کاج۔ چٹّا سفید کرتا اور چوخانے کا تہبند باندھے، بالوں میں خوشبودار تیل لگا کے بائیں طرف سے مانگ نکالے، آنکھوں میں سُرمے کی ہلکی سلائیاں لگائے جِیلا، کتووال کا چودھری ہی لگتا تھا۔

بانو عرف بَنتو منشی طفیل کی منجھلی بیٹی تھی۔ ہفتے میں دو دن کھوہ پر پانی بھرنے کی باری اس کی ہوتی تھی۔ جِیلے سے آںکھیں چار ہوئیں تو وہ روزانہ پانی بھرنے آںے لگی۔ اکھ مٹکّے سے بات بڑھتی ہوئی ملاقاتوں اور قول قرار تک پہنچی۔ ایک دوسرے کے بغیر نہ جینے کے وعدے ہوئے۔ بچّوں کے نام سوچے گئے۔ عشق، مُشک اور کھنگ چھپائے نہیں چھپتے۔ یہ بات بھی سرگوشیوں سے ہوتی ہوئی چوپالوں کا موضوع بن گئی۔ فیکے کو بھنک ملی تو اس نے زندگی میں پہلی بار جِیلے کو گھُرکا۔ اسے سمجھایا کہ پُتّر جو بھی ہوجائے ہم مزارعے ہیں، کمّی ہیں۔ منشی کبھی ہم سے رشتہ داری نہیں کرے گا۔ بنتو کا خیال دل سے نکال دے۔ میں تیری شادی تیری پھپھّی ذکیہ کی دھی نسرین سے کر دوں گا۔ ماشاءاللہ بہت سوہنی کڑی ہے۔

عشق بھی لیکن کھُرک کی طرح ہوتا ہے۔ جتنی کھُرک کرو، اتنی ہی بے چینی ہوتی ہے۔ جِیلے نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ دو دو دن کپڑے نہیں بدلتا تھا۔ برے حال اور بانکے دیہاڑے۔ منشی کو بھی اس احوال کا پتہ چل گیا تھا۔ اس نے جھٹ پٹ بنتو کی شادی ملکوال میں اپنے چھوٹے بھائی کے بیٹے سے طے کردی۔ شوّال کے دوسرے ہفتے برات آنی تھی۔ برات سے دو دن پہلے بنتو نے جِیلے کو پیغام بھیجا کہ آخری دفعہ مل جاؤ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی جِیلا رات کو کھوہ سے متصل کماد میں پہنچ گیا۔ بنتو وہاں اس کا انتظار کر رہی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر گم آواز میں روتے رہے۔

جانے سے پہلے جِیلے نے بنتو سے کہا، "اپنی کوئی ایسی نشانی دو کہ میں ہر وقت اسے اپنے دل سے لگا کر رکھوں۔" بنتو نے تھوڑی دیر سوچا، پھر دایاں ہاتھ اپنے کرتے کے گریبان میں ڈالا۔ بائیں بغل سے ایک بال نوچا، اسے رومال میں لپیٹا اور جِیلے کو دے دیا۔ جِیلے نے رومال کی احتیاط سے تہہ لگائی۔ اسے چوما، آنکھوں سے لگایا اور اپنے کھیسے میں ڈال لیا۔ یہ بنتو اور جِیلے کی آخری ملاقات تھی۔

بنتو کی شادی ہوگئی۔ وہ ملکوال چلی گئی۔ شادی کے ایک ہفتے بعد جِیلے نے وہ رومال نکالا اور اسے فیجےسنیارے کے پاس لے گیا۔ فیجے نے پوچھا، پُتّر خیر تو ہے، سویرے سویرے کدھر؟۔ جِیلے نے کھیسے سے رومال نکالا، احتیاط سے اس کی تہہ کھولی اور بال نکال کر چوما اور فیجے سے کہا، "چاچا، اس بال کو سونے کے تعویذ میں مڑھ دے۔ جتنے پیسے لگیں گے میں دوں گا۔"  فیجے نے حیرانی سے پوچھا، یہ کس کا بال ہے؟ جِیلےکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بولا، "چاچا یہ مت پوچھ۔" فیجا خاموش ہوگیا۔

اگلے ہفتے جِیلا تعویذ لینے فیجے سنیارے کے پاس پہنچا۔ فیجے نے دونوں ہاتھ سے تعویذ تھاما، چُوما، آنکھوں کو لگایا اور جِیلے کو دے دیا۔ جِیلا حیران ہوگیا۔ فیجا بولا، پُتّر اب تو بتا دے کہ یہ بال کس کا ہے؟۔ جِیلا رُندھی ہوئی آواز میں بولا، "چاچا یہ بنتو کی بغل کا بال ہے۔ اس نے جاتے ہوئے مجھے یہ آخری نشانی دی تھی۔ اب یہ تعویذ ساری زندگی میرے دل کے ساتھ لگا رہے گا۔"

یہ سنتے ہی فیجے کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ اس نے جوتا اتارا اور بے دریغ جِیلے کو پیٹنا شروع کردیا۔ گلی میں ہاہاکار مچ گئی۔ لوگ اکٹھے ہوگئے۔ فیجے کو پکڑنے کی لوگوں نے بہت کوشش کی لیکن وہ اڑ اڑ کر جِیلے کو پیٹتا رہا اور ماں بہن کی گالیاں دیتا رہا۔ بالآخر تھک ہار کر ہانپتا ہوا، تھڑے پر بیٹھ گیا۔ چاچے کرمے نے لسّی کا گلاس منگوایا۔ فیجے کو دیا۔ فیجے نے لسّی کا گلاس خالی کرکے چھڈواں جِیلے کو دے مارا۔ اس کے سر سے خون بہہ نکلا۔ چاچے کرمے نے فیجے کے کندھے تھامے اور بولا، او کچھ بول تو سہی، اس نمانڑے نے تجھے کہا کیا ہے؟۔

"اس ٭٭٭٭ ٭٭٭ نے ایک بال لا کر دیا کہ تعویذ میں مڑھ دے۔ میرے پوچھنے پر بھی نہیں بتایا کہ کس کا ہے۔ میں سمجھا کسی بزرگ کا ہے۔ میں پورا ہفتہ وہ بال پانی میں گھول گھول کر خود اور اپنے گھر والوں کو پلاتا رہا کہ کسی کرنی والے بزرگ کا بال ہے، برکت اور صحت ہوگی۔ آج اس انہّی دے نے بتایا کہ بنتو کی بغل کا بال تھا۔"

فیجے سنیارے کے چہرے پر بے چارگی اور تاسّف تھا۔

کپتانؒ، پاسبان اور صنم خانہ

صاحبقراں امیرِ تیمور کہ چنگیزی خون تھے،  اولیاء کی نظرِ کرم ہوئی ، دل پلٹ گیا۔ منگول طوفان   کہ دنیا کو مٹانے پر تلا تھا، انسانیت کا مسیحا بنا۔  انسان کا دل  کہ جیسے دو انگشت کے درمیاں ہے، جدھر اس کی مرضی ہو، پلٹ دے۔ سبحان اللہ۔۔۔

چار برس اِدھر، بہار کے دن تھے۔ فضا مشکبار، ہوا مشکبو۔ کپتانؒ کے پاس طالبعلم حاضر ہوا۔ دو وقت مل رہے تھے۔ خادم نے انتظار کرنے کا کہا۔ طبیعت کی بے چینی کا مگر کیا کریں۔ بے اختیار ہو کر اٹھا اور مرغزار کی پچھلی سمت جا نکلا۔ کپتانؒ کہ تالاب کنارے گھاس کے فرش کو جاءنماز بنائے گڑگڑا رہا تھا۔ "مولا! اس کا دل بدل دے۔۔۔ مولا! اس کا دل بدل دے"۔ چشم اشک بار۔ ہچکی بندھی ہوئی۔ فقیر نے  کہ زندگی میں بہت تغیّر دیکھے، ایسا منظر کبھی نہ دیکھا تھا۔  دل کٹ کر رہ گیا۔ ایسا منظر کہ ملائک تاب نہ لاسکیں۔

دعا سے فراغت ہوئی تو طالبعلم پر نظر پڑی۔ رُخِ کپتانؒ متغیّر ہوا۔ صوفی کہ جلالی ہوتا ہے یا جمالی۔ کپتانؒ میں دونوں صفات یکجا۔ جلال سے فقیر کی طرف دیکھا، بے ساختہ دہن  مبارک سے نکلا، "تیری میَں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"۔  فقیر کہ سدا کا کائیاں، نظر انداز کیا۔ محبوب کی توجہ ہی محبّ کا ایمان ہے۔ مرزا یاد آئے۔۔۔ کتنے شیریں ہیں ترے لب کہ۔۔۔۔۔

لجاجت سے کپتانؒ کے قریب جا  بیٹھا۔استفسار کیا ، یا کپتانؒ! یہ دعا کس کا دل بدلنے کے لئے  تھی؟۔ کپتانؒ کہ ملکوتی حسن کا شہکار۔ زیرِلب تبسّم فرمایا ، پھر سکوت اختیار کیا۔ طالبعلم کا اصرار کہ قائم ۔ تنگ آکر فرمایا، "اوئے کھوتیا، تجھے بتا دیا تو  زور زور سے بول کے سب کو سکیم بتادے گا۔"

فقیر نے خاموشی اختیار کی۔ صاحبانِ معرفت کی کفش برداری سے تعلیم ہوا کہ کبھی وارداتِ قلبی بارے اصرار نہ کرنا چاہئیے۔ طالبعلم چپ ہورہا۔ شام کے لوازم خدّام نے تالاب کنارے سجا رکھے تھے۔ اس رات ہم دو بجے تک پیا۔

اس شام کی پھانس چہار سال فقیر کے دل میں چبھی رہی۔ ربع سال ہوتا ہے کہ کپتانؒ نے یاد کیا۔ سب مصروفیات ترک کیں اور ترنت خدمت میں حاضر ہوا۔ عاشق کے لئے اس سے بڑی سعادت اور کیا کہ محبوب کا بلاوا آجائے۔ وہی مقام، وہی دو وقت ملنے کا جھٹپٹا۔عرض کی، یا کپتانؒ! آج فقیر کی یاد کیسے دلِ مصفا میں آئی۔ کپتانؒ نے نگاہ دلبری سے فقیر کو دیکھا اور روایتی سادگی سے فرمایا، "او  یکاّ، کدی  کالم وچوں باہر وی نکل آیا کر۔"

کھیسے کی جیب سے مُڑے ہوئے سِرے والا سگریٹ نکال کر سلگایا۔ ایک کَش لگا کر فقیر کی طرف بڑھا دیا۔ پھر یوں گویا ہوئے، "تمہیں یاد ہوگا، چار سال پہلے تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کس کا دل بدلنے کی دعا کر رہا ہوں۔ آج میں تمہیں بتاتا ہوں۔ خواب میں بشارت ہوئی کہ مودی ہی وہ شخص ہے جو ہند میں اسلام کا جھنڈا بلند کرے گا۔ اس کو صراطِ مستقیم دکھانے کی ذمہ داری تمہاری ہے۔ میں تو یہ سوچ کر پریشان ہوگیا۔ سوچا کہ شاید ایک لکیر زیادہ کھینچنے کی وجہ سے یہ خواب آیا ہے ۔ مگر یہ خواب متواتر دو ہفتے آتا رہا۔ پھر میں نے انڈیا جا کر مودی سے ملاقات کی۔ پیرو مرشد سے ایک تعویذ لیا۔ بی بی پاک نے فرمایا کہ نظر بچا کر اس کی چائے میں پھیر دینا۔ خدا اس  کو نریندر مودی سے محمود احمد مودی کر دے گا۔ "

فقیر دم بخود ہو کر یہ داستانِ ہزار امکاں سن رہا تھا۔ کپتانؒ کہ ورزش ، طعام اور۔۔۔ ۔میں کبھی تاخیر نہیں کرتا، خادم کو اشارہ کیا ۔ ترنت ہی فرشی دستر خوان پر طعامِ شب چُن دیا گیا۔ مصنوعی تکلفات سے دور سادہ آدمی۔ رغبت سے گوشت خوری کرتا رہا اور فقیر اسے محویت سے تکتا رہا۔ فقیر کو بھنے گوشت کی اشتہا انگیز مہک نے مجبور کیا، ایک بوٹی اٹھانے کو ہاتھ بڑھایا، کپتانؒ نے کَس کر ہاتھ پر چمچہ مارا۔ فقیر چپکا ہو رہا۔

بعد از فراغتِ طعام کپتانؒ نے داستان وہیں سے شروع کی۔ مودی سے ملاقات ہوئی۔ چائے میں تعویذ بھی گھول دیا۔ دو خزاں گزر گئے، مگر امیدِ بہار کے آثار  ظاہر نہ ہوئے۔ پھر تائیدِ غیبی آ پہنچی۔ وبا نے دنیا کو لپیٹ میں لے لیا۔ لوگ اپنے گھروں میں بند۔ اپنے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا تو مودی جی نے من میں جھانکا۔ وہاں اسلام کی حقانیت موجود تھی۔ چلّہ پورا ہوا اور مودی جی باہر آئے تو حلیہ سے دل تک سب بدل چکا تھا۔ 14 اگست کی شب کپتانؒ کو وٹس ایپ کال کی اور کپتانؒ کے آئی فون پر اسلام قبول کرلیا۔ آپ کا نام محمود احمد مودی رکھا گیا۔
فقیر کے بدن میں کاٹو تو لہو نہیں۔ایسی محیّر العقول بات کہ شاید و باید۔ کپتانؒ کے گال پر چٹکی بھری کہ کہیں انٹا غفیل نہ ہوں۔ آپؒ نے اس حرکت پر فقیر کی مادر و ہمشیر کو یکجا کرنے کے بعد ارشاد کیا، "اب ہم مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ محمود صاحب یہ چیز سامنے لائیں گے۔ عوام ان کے ساتھ ہے۔ جیسے ہی وہ پبلکلی اسلام قبول کرنے کا اعلان کریں گے۔ سارا ہندوستان مسلمان ہوجائے گا۔ یہی غزوہ ہند تھا۔ اور ہم جیت چکے ہیں۔"
صاحبقراں امیرِ تیمور کہ چنگیزی خون تھے،  اولیاء کی نظرِ کرم ہوئی ۔ دل پلٹ گیا۔ منگول طوفان   کہ دنیا کو مٹانے پر تلا تھا، انسانیت کا مسیحا بنا۔  انسان کا دل  کہ جیسے دو انگشت کے درمیاں ہے، جدھر اس کی مرضی ہو، پلٹ دے۔ سبحان اللہ۔۔۔

چودہ نکات

قائد اعظم محمد علی جناح  نے انگریزوں، ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں، یہودیوں، عیسائیوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے مشہور زمانہ 14 نکات پیش کیے ۔ جن پر عمل کرتے ہوئے علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا۔خواب کے بعد قائد اعظم لندن منتقل ہوگئے تاکہ پاکستان بنانے کی جانگسل جدو جہد سے پہلے تھوڑا فریش ہوسکیں۔ بالآخر علامہ اقبال نے ان کو خط وغیرہ لکھے کہ اب واپس آجائیں، وقت کم رہ گیا ہے۔

قصّہ مختصر اگرچہ قائد اعظم نے پاکستان بنایا اور وہ اسلامیان ہند کے متفقہ صادق و امین رہنما کہلائے، مگر باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو قائد اعظم میں رہبرانہ اوصاف کا معمولی سا حصہ ڈالا گیا تھا تاکہ دیکھا جاسکے کہ امت مسلمہ اصل راہبر کے لیے تیار بھی ہے یا نہیں۔ سائنسی زبان میں اسے ٹیسٹ رَن کہتے ہیں۔ ان معمولی اوصاف کے ساتھ ہی قائد اعظم نے پاکستان بنا ڈالا۔  باقی تاریخ ہے۔

پاکستان بنے ہوئے 70 سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا۔ روحانیت سے شغف رکھنے والے جانتے ہیں کہ روحانی دنیا میں اتنا وقت ایک آدھ دن کے برابر ہے۔ دو سال قبل پاکستان میں وہ راہبر لانچ ہوا جس کے لیے امت مسلمہ کو تیار کیا جارہا تھا۔   پرانے قائد اعظم پروٹو ٹائپ تھے جو کافی حد تک کامیاب رہا۔ اب  بگز دور کرکے اپ ڈیٹڈ ورژن  لانچ کیا گیا ہے ۔

دنیا  اور یو ٹیوبرز میں مچی ہوئی ہلچل اس بات کا ثبوت ہے کہ روحانی دنیا نے نیو ورلڈ آرڈر لانے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔سارے کافر، یہودی، عیسائی، ہندو، بدھ، سکھ، پارسی، ملحد، لبرل متحد ہو کر  اس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے تیار ہورہے ہیں۔ دوسری طرف امت مسلمہ کے پاس قائداعظم 2.0 ہے۔ جو ان کفار کا وہی حال کرے گا جو جان وِک نے اپنے کتے کے قاتلوں کا  کیا تھا!

اس شذرے میں ریفائنڈ اور  ہینڈسم  قائد اعظم  کے چودہ  نکات  بیان کریں گے جن پر نئی دنیا استوار ہوگی۔ یہ نکات مندرجہ ذیل ہیں:-

1۔ دنیا فانی ہے۔ سکون قبر میں ہے اور مزا چندے میں۔

2۔ جرمنی اور جاپان کو متصل کیا جائے ۔

3- چلّی    ملّی ڈاکٹرائن پر عمل کیا جائے۔

4- درختوں اور پودوں کو پابند کیا جائے  کہ رات کو آکسیجن خارج کریں اور سلینڈرز میں بھرکے خیبر پختوانخواہ کے جدید ہسپتالوں میں فراہم کریں۔

5۔ حکومت  چلانے کے لیے کفار اور یہود کو پابند کیا جائے کہ مجھے بہترین تربیت دیں۔

6۔ کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے ارطغرل دیکھا جائے۔

7۔ پنجاب کو پاکستان سے الگ کیا جائے۔

8۔ مس کال کو خارجہ پالیسی کی بنیاد بنایا جائے۔

9۔ "مانگنا، کمانے سے بہتر ہے" نئے پاکستان کی معاشی پالیسی قرار دی جائے۔

10۔   اوورسیز پاکستانیوں  کو نئے پاکستان میں چندہ دینے  کے لیے آمادہ کیا جائے۔

11۔ صنعتکار،  تاجر  کرپٹ ہوتے ہیں۔ ان کو جیل میں ڈالا جائے۔

12۔ "جب ماڈل ٹاؤن ہوا، اس وقت تم۔۔۔۔" کو قومی بہانہ قرار دیا جائے۔

13۔ حور والے ٹیکے عام کیے جائیں۔

14۔  92 ورلڈ کپ کو معجزہ قرار دیا جائے۔

کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد

"اس دنیا میں تین جہات ہیں۔ مثلث کے تین کونے  ہوتے ہیں،  اہرامِ مصر  مثلث کی شکل میں ہیں۔ ان کی پراسراریت پر صدیوں کی تہیں جمی ہیں۔ آج تک کوئی  جیالوجسٹ یا سائنسدان اس کا بھید نہیں پاسکا۔ برمودا ٹرائی اینگل سے جڑی بے شمار پراسرار کہانیاں ہیں۔ ان پر فلمیں بھی بنیں۔ کہانیاں بھی لکھی گئیں مگر ابھی تک کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کا راز کیا ہے۔ دنیا کے نقشے کو دیکھیں تو برمودا ٹرائی اینگل امریکہ کی سمت ایک کونے میں نظر آئے گا۔ ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ اس کے بالکل دوسری سمت کونےمیں ہے۔ اس فرضی مثلث کا تیسرا کونا قطبِ شمالی کا وہ علاقہ ہے جہاں سارا سال پراسرار روشنیاں نظر آتی ہیں۔  یہ تین کونے مل کر اس دنیا کی چوتھی جہت کی مثلث بناتے ہیں۔
ہمالیہ کی ترائیوں میں ایسے علاقے ہیں جہاں آج تک کسی بھی انسان کے قدم نہیں پہنچے۔ اتنے دشوار گزار علاقوں میں نہ تو جدید ترین ہیلی کاپٹر یا جہاز جا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی جیپ یا کار وغیرہ۔ پہاڑی علاقوں میں سفر کے لیے یاک استعمال ہوتے ہیں لیکن وہ بھی ایک مخصوص علاقے میں ہی حرکت کرتے ہیں۔ "
یہا ں پہنچ کر لسوڑی شاہ صاحب نے توقف کیا۔ کچھ دیر خاموش رہ کر زیرِلب کچھ  پڑھا۔ میں ہمہ تن گوش  تھا۔ شاہ صاحب نے اشارے سے ملازم کو بلایا اور کافی لانے کا کہہ کر میری طرف متوجہ ہوئے۔
لسوڑی شاہ ایک ریٹائرڈ صنعت کار ہیں۔  لاہور منتقل ہونے کے بعد کچھ احباب کے ساتھ ا ن سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ تصوف، مابعد الطبیعیات، علم الاسماء پر ان کی گرفت حیرت انگیز ہے۔ پہلی ملاقات میں ہی میں ان کا گرویدہ ہوگیا۔ اس کے بعد کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں لاہور میں موجود ہوں اور ہفتہ میں دو تین دفعہ ان سے ملاقات نہ ہوسکے۔ ان کا گھر ایک طرح  کا ڈیرہ بن چکا ہے۔ ہر وقت لوگوں کا جھمگٹا رہتا ہے۔
دست شناسی میں بھی شغف ہے لیکن سب کا ہاتھ نہیں دیکھتے۔ مجھ سے خصوصی طور پر ہاتھ دکھانے کی فرمائش کی اور میری زندگی بارے ایسی باتیں بتائیں جو میرے علاوہ کسی کے بھی علم میں نہیں تھیں۔ مستقبل بارے ایک پیشگوئی بھی کی جو حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ حالانکہ اس وقت میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زندگی میں کوئی اور عورت بھی آسکتی ہے۔
کافی آنے کے بعد آپ نے اشارے سے ملازم کو کمرے سے جانے کے لیے کہا۔ اس محفل میں زیادہ لوگ نہیں تھے۔ استادِ محترم اور میرے علاوہ ایک بزرگ اور تھے جو لسوڑی شاہ صاحب کے قریبی معلوم ہوتے تھے۔ شام ڈھلتی جارہی تھی۔ شاہ صاحب نے آج خصوصی طور پر مجھے بلایا تھا۔ انکی ابتدائی گفتگو دلچسپ تو تھی لیکن میں ابھی تک سمجھ نہیں پایا تھا کہ وہ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔
شاہ صاحب نے کافی کا گھونٹ بھرا  اور دوبارہ گویا ہوئے، "دنیا کی تین جہات وہ ہیں جو ہم سب کو نظر آتی ہیں۔ ایک چوتھی جہت بھی ہے جسے صرف اہلِ نظر دیکھ سکتے ہیں۔ اس جہت میں داخل ہونے کے انٹری پوائنٹس بھی ہیں جن کا علم دنیا میں صرف چنیدہ لوگوں کو ہوتا ہے اوروہ دنیا سے پردہ کرنے سے پہلے یہ راز اگلی نسل تک پہنچا دیتے ہیں۔ یوں یہ سلسلہ ہزاروں سال سے چلتا آرہا ہے۔اگرچہ یہ جہت موجود ہے اور اس میں داخل ہوا جاسکتا ہے لیکن آج تک کوئی اس میں داخل نہیں ہوا۔ روایت چلی آتی ہے کہ قیامت کے قریبی زمانے میں اس جہت کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس کے لیے تیاریاں کئی صدیوں سے جاری تھیں۔ "
گفتگو دلچسپ  مرحلہ میں تھی۔ استادِ محترم کی انگلیوں میں سگریٹ جل کے خاک ہوچکا تھا لیکن انہیں کش لگانے کا بھی ہوش نہیں تھا۔ شاہ صاحب نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا اور سگریٹ کی طرف اشارہ کیا کہ کہیں آستین نہ جلادے۔ کافی کا آخری گھونٹ لے کر آپ نے گفتگو آگے بڑھائی۔
"موجودہ صورتحال  ایسے لوگوں کو بھی مایوس کر رہی ہے جن کی ساری زندگی رجائیت کا پرچار کرتے گزری ہے۔ ہر طرف بدنظمی پھیلی ہے۔ کسی کو علم نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے۔ "
لسوڑی شاہ صاحب نے انگشت شہادت سے میری طرف اشارہ کیا اور گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا،
"آپ بھی مایوس ہوگئے حالانکہ آپ اس انتظام کے سب سے بڑے حامی تھے۔ آپ نے قریبا ایک عشرہ امیج بلڈنگ اور امید جگانے میں صرف کیا اور جب پھل پکنے لگا ہے تو آپ مایوس ہوگئے۔ یہ بدانتظامی ایک فریبِ نظر ہے۔ میں جو بات آپ کو اب بتاؤں گا یہ اتنی حیران کن ہے کہ شاید آپ میرے کہے پر بھی یقین نہ کریں۔ "
استادِ محترم نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ شاہ صاحب کے قریبی رفیق کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔
"یہ سب مہنگائی، بے روزگاری  اور بدانتظامی اس عظیم  پراجیکٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے جان بوجھ کر برپا کی گئی ہے جس کی تکمیل ہماری ترقی ،خوشحالی  اور استحکام کو قیامت  تک کے لیے یقینی بنا دے گی۔ وادی تیراہ سے ایک سرنگ ہمالیہ کی ترائیوں میں اس علاقہ تک بنائی جا رہی ہے جہاں چوتھی جہت کا  مرکزی داخلی  دروازہ ہے۔ اہلِ تصوف نے جب کپتان کو چنا تو ان کو علم تھا کہ 'ہی از دا ون'۔  اگلے تین سے پانچ سال تک یہ عظیم سرنگ مکمل ہوجائے گی۔ اس وقت تک ہمیں ہر حالت میں کپتان کا ساتھ دینا ہے۔ ایک دفعہ سرنگ مکمل ہوگئی تو پاکستان کی ساری آبادی اس سرنگ کے ذریعے چوتھی جہت میں داخل ہوجائے گی۔  چوتھی جہت میں کائنات کے سارے راز کھل جائیں گے۔ بیماریاں ختم ہوجائیں گی۔ انسان اڑ سکیں گے۔ فاصلے پلک جھپکتے میں طے ہوجائیں گے۔ موجودہ دنیا کی سائنس ابھی صرف ابتدائی مرحلے میں ہے جبکہ چوتھی جہت میں داخل ہونے والا ہر انسان طبیعی علوم میں ماہر ہوجائے گا۔
یہ سب مگر اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم سب کپتان کی بنا کسی شک و شبہ دل و جان سے حمایت پر کمر بستہ ہو جائیں۔ جو اہلِ نظر جانتے ہیں وہ آپ نہیں جانتے۔ اس محفل کا مقصد آپ کو اس عظیم راز میں شریک کرنا تھا جو اس پوری دنیا میں صرف چند  لوگ جانتے ہیں۔  کیا میں امید رکھوں کہ آپ اس راز کی حفاظت کریں گے اور کپتان کا ساتھ دیں گے؟"
لسوڑی شاہ صاحب کے چہرے کے گرد روحانی ہالہ تھا۔ آپ نے اشارے سے مجھے قریب بلا کے اپنے پاس بٹھایا۔ میری کمر تھپتھپائی اور بولے، "آپ جیسے لکھاری ہی میری امید ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔"

میرے پاس تم ہو

دارالحکومت میں رات بھیگ چلی تھی۔ شام سے ہونے والی بارش  تھم چکی تھی۔ ہڈیوں کا گودا جما دینے والی سرد ہوا نے ہر ذی روح کو پناہ لینے پر مجبور کردیا تھا۔ آوارہ کتے تک نظر نہیں آتے تھے۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر نشئی جن پر سردی گرمی کا اثر نہیں ہوتا تھا وہ بھی آج پناہ  اور حرارت کی تلاش میں تھے۔ چائے خانوں اور سُوپ کی ریڑھیوں کے علاوہ کہیں بندہ بشر نظر نہیں آتا تھا۔
متوسط طبقہ کی  آبادی میں چند نوجوان گلی کی نکڑ پر ایک بند دکان کے تھڑے پر آگ جلا کر گپیں ہانک رہے تھے کہ اچانک گلی سے "اُبالو گرم آنڈےےےے" کی آواز سنائی دی۔  شکل سے سنجیدہ اطوار نظر آنے والا لڑکا آواز سن کر چونک اٹھا۔ منہ پر انگلی رکھ کر سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ آواز دوبارہ آئی تو اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تمہیں بھی یہ آواز سنی ہوئی لگ رہی ہے؟ سب قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔ الٹی پی کیپ پہنے ایک لڑکے نے  کمر پر ہاتھ جماکر کہا کہ سیدھی طرح بول، انڈے کھانے ہیں۔ ڈرامے نہ کر۔
 اسی اثناء میں آواز قریب سے آئی اور سب چونک اٹھے۔ یہ آواز واقعی بہت سنی ہوئی لگ رہی تھی۔ ایک لڑکا جلدی سے اٹھا اور گرم انڈے والے شخص کو پاس بلایا۔ یہ ایک دراز قامت شخص تھا۔ جس نے سرخ رنگ کی کڑھائی والی گرم چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اس کا منہ بھی چادر میں چھپا ہوا تھا۔ پی کیپ والا بولا، چاچا یہ چادر چاچی کی لےکر آگیا ہے۔ سب ہنسنے لگے۔ اس شخص نے گرم انڈوں والا کولر نیچے رکھا،  چادر کی بکل درست کی اور کہا کہ تم نے انڈے لینے ہیں تو بولو۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔
اس شخص کی آواز میں ایک نامعلوم سا تحکم اور رعب تھا۔ سب نوجوان یکدم چپ سے ہوگئے۔ سنجیدہ اطوار لڑکا اٹھا  اور بولا کہ ایک درجن انڈے دے دیں، نمک ہے تو وہ بھی دے دیں۔ اس نے کولر کا ڈھکن کھولا ۔ درجن انڈے گنے۔ کرتے کی جیب سے کاغذ  اور نمک کی شیشی نکالی ۔ تھوڑا سا نمک کاغذ پر ڈالا اور اس کی پُڑی بنا کر نوجوان کو تھما دی۔ پیسے پوچھنے پر دراز قامت انڈہ فروش نے  کہا کہ 22 روپے کے حساب سے دے دیں۔ لڑکے حیران رہ گئے۔ ایک بولا کہ دوسرے لوگ تو کافی مہنگے بیچتے ہیں۔ آپ اتنے سستے کیوں دے رہے ہیں۔
یہ بات سن کر دراز قامت گرم انڈہ فروش نے چادر ایک جھٹکے سے اتار دی۔ سب نوجوان ششدر رہ گئے۔ وہ شخص  وزیر اعظم پاکستان تھے!
"دیکھو  ٹائیگرز! میں نے ساری زندگی کبھی کرپشن نہیں کی۔ یہ انڈے میری مرغیوں کے ہیں۔ میں جنگل سے لکڑیاں اکٹھی کرکے آگ جلا کر ان کو ابال لیتا ہوں۔  میرا ان پر کوئی خرچ نہیں آتا تو کیا میں ناجائز منافع کماؤں؟  تم حیران ہو رہے ہوگے کہ میں رات کے اس وقت گرم انڈے کیوں بیچ رہا ہوں۔ سچ بات  یہ ہے کہ تنخواہ میں گزارا نہیں ہورہا۔  ایک طریقہ تو یہ تھا کہ میں کرپشن کرتا۔ ساری چیزیں مہنگی کرتا۔ ان پر کمیشن کھاتا اور اربوں میں کھیلتا۔ لیکن میں لعنت بھیجتا ہوں ایسا کرنے والوں پر۔ میں نے  ہمیشہ رزقِ حلال کمانے کو ترجیح دی۔ رات نو بجے میری ڈیوٹی ختم ہوتی ہے۔ ساڑھے نو سے دو بجے تک میں انڈے بیچتاہوں۔ اس سے دو تین سو روپے کی بچت ہوجاتی ہے۔ اگلے دن کی ہانڈی روٹی کا بندوبست ہوجاتا ہے۔  میری صحت آرام نہ کرنے سے متاثر ہو رہی ہے لیکن میں اپنی جان پر تکلیف برداشت کرلوں گا اپنی قوم کو تکلیف نہیں پہنچنے دوں گا۔"
نوجوان حیران  ہو کر وزیر اعظم کی باتیں سن رہے تھے۔ ان کی گرجدار آواز سن کر گلی سے بھی لوگ نکل  کر آگئے۔ پوری گلی میں شور مچ گیا کہ وزیر اعظم گرم انڈے بیچنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم کے سارے انڈے پانچ منٹ میں ہی بک گئے۔ خواتین کو بھی پتہ چل چکا تھا۔ کوئی اپنے زیور لا رہی تھی، کوئی گرم چادر، کوئی جرسی اور کوئی اپنے خاوند کی جیب سے پیسے۔ سب چیزیں وزیر اعظم کے قدموں میں ڈھیر کی جارہی تھیں۔
سنجیدہ اطوار نوجوان نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا اور گویا ہوا، "اس شخص نے ساری زندگی ہمارے لیے قربان کر دی۔ یہ چاہتا تو دنیا کے کسی بھی کونے میں عیش و عشرت سے زندگی گزار سکتا تھا لیکن یہ آج اس سردی میں اس لیے گرم انڈے بیچ رہا ہے کہ ہم سکون سے سو سکیں۔ اس قوم نے پہلے بھی اس کی آواز پر لبیک کہا تھا۔ آج پھر وقت آگیا ہے کہ ہم اس کا ساتھ دیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ "وزیر اعظم فنڈ برائے یتیم خانہ" شروع کیا جائے جس میں ساری قوم عطیات اور چندہ جمع کرائے۔ ہمارے وزیر اعظم یتیم ہیں اور ان کی تنخواہ اتنی نہیں کہ گھر کا خرچہ چلا سکیں۔ ان سے زیادہ مستحق کون ہوسکتا ہے۔ ہمیں ان کو اتنا کچھ دینا ہوگا کہ گھر چلانے کی فکر سے آزاد ہو کر ملک چلا سکیں اور پاکستان کو ایک ایسی قوت بنا دیں کہ ساری دنیا ہم سے خوف کھائے۔"
وزیر اعظم گرم انڈوں کا کولر تھامے ایک طرف کھڑے نوجوان کی باتیں سن رہے تھے۔ آپ کے لبوں پر ہنسی اور آنکھوں میں چمک تھی!

رانا، مولانا اور ایسکوبار

یہ منظر لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا کے دارالحکومت بگوٹا کے مضافات میں واقع ایک وسیع فارم ہاؤس کا ہے۔ سوئمنگ پول کے کنارے چھتریوں کے نیچے میزیں انواع و اقسام کے مشروبات سے سجی  ہوئی ہیں۔  یہ فارم ہاؤس میڈلین کارٹل کے سربراہ ایل مانچو کا ہے جہاں وہ بیرونِ ملک سے آنے والے خاص مہمانوں کی خاطر تواضع اور بزنس سے جڑے معاملات کو دیکھتا ہے۔ آج یہاں ایک بہت خاص مہمان بہت دور سے آیا ہے۔ اس کا تعلق میڈلین کارٹل سے اس وقت سے ہے جب پابلو ایسکوبار زندہ تھا۔ میڈلین کارٹل پر اچھے برے وقت آتے رہے لیکن اس مہمان کا تعلق کبھی کمزور نہیں پڑا۔
یہ مہمان پاکستانی سیاست کا جانا پہچانا نام رانا ثناءاللہ ہے!۔
ہلکے رنگ کی پولو شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس سر پر تنکوں کا ہیٹ، کالے شیشوں کی عینک، ہاتھ میں ارغوانی مشروب کا جام اور منہ میں کیوبن سگار۔ یہ پاکستانی سیاست کا بڑا نام تو ہیں لیکن ان کی دوسری شناخت اتنی پراسرار اور چھپی ہوئی ہے کہ آج تک کوئی اس کا کھوج نہ لگا سکا تھا۔ یہ دہائیوں سے میڈلین کارٹل کے ساؤتھ ایشیا میں ایجنسی ہولڈر ہیں۔ 1993 میں جب نواز شریف کو حکومت سے نکالا گیا اور ان کے کاروبار زوال پذیر ہوئے تو انہیں اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے خطیر وسائل کی ضرورت پڑی۔ رانا صاحب اس وقت پی پی پی میں تھے۔ ان کو میاں صاحب کی اس ضرورت کا پتہ چلا تو جون 1993 کی ایک گرم شام کو وہ ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف سے ملے اور اپنی خدمات پیش کیں۔ باقی تاریخ ہے۔
ایل مانچو سے رانا ثناءاللہ کی ملاقات ایک خاص مشن  بارے تھی۔ دنیا بھر میں ڈرگ کا بزنس سی آئی اے اور موساد کے ذریعے ہوتا ہے۔ 2017 کے وسط میں مغربی ممالک  کے طاقت کے مراکز میں پریشانی کی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ انہیں علم ہوچکا تھا کہ پاکستان میں اگلی حکومت عمران خان کی ہوگی اور ان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں بیس سال پہلے یہ نتیجہ نکال چکی تھیں کہ اگر عمران خان کو اقتدار مل گیا تو اس دنیا میں ایک نیا ورلڈ آرڈر تشکیل پائے گا جسے مسلمان کنٹرول کریں گے اور عمران خان اسے لیڈ کریں گے۔ 2013 میں کامیابی سے انہوں نے عمران خان کا راستہ روک لیا تھا لیکن اس دفعہ پوری مسلم دنیا پوری تیاری کے ساتھ عمران خان کے ساتھ تھی۔  2018 کے انتخابات میں مغربی طاقتوں کے بدترین اندیشے درست ثابت ہوئے اور پوری کوشش کے باوجود عمران خان کا راستہ نہ روکا جا سکا اور عمران خان وزیر اعظم پاکستان بن گئے۔
اس موقع پر ایک نئے پلان کو بروئے کار لایا گیا۔ رانا ثناءاللہ کے ذریعے ڈرگ منی اربوں کے حساب سے پاکستان میں لائی گئی۔ اس کے ذریعے پاکستان کی ریاست اور عمران خان کی حکومت کے خلاف مہم شروع کی گئی۔  25 اکتوبر 2018 کو ایک اسرائیلی جہاز اسلام آباد ائیرپورٹ پر لینڈ ہو اتھا۔ اس جہاز میں 90 ارب ڈالر کی کرنسی پاکستان لائی گئی۔ جب تک اداروں کو بھنک پڑتی یہ کرنسی ٹریلرز کے ذریعے فیصل آباد منتقل کردی گئی اور جہاز واپس چلا گیا۔
جن ٹریلرز کے ذریعے یہ ڈالرز منتقل کیے گئے انہی میں سے ایک ٹریلر کے ڈرائیور کا ضمیر جاگ گیا۔ وہ فیصل آباد انٹی نارکوٹکس کے دفتر پہنچا اور ساری تفصیل من و عن بتا دی۔ اس ڈرائیور کو حفاظتی تحویل میں لے کر تفتیش کا آغاز کیا گیا ۔ دورانِ تفتیش سارے سرے رانا ثناءاللہ تک پہنچے۔ ان کی نگرانی شروع کردی گئی۔ بالآخر دو مہینے کی کڑی نگرانی کے بعد ان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ۔ رانا ثناءاللہ کی گرفتاری سے  پوری مغربی دنیا میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ ان کو نظر آنے لگا کہ اب پوری دنیا میں اسلام کے غلبہ کو روکنا ناممکن  ہے۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے اپنی خدمات پیش کر دیں!۔
مولانا مغربی طاقتوں کے ہمیشہ سے خاص دوست رہے ہیں اور ہر مشکل موقع پر انہوں نے اپنی وفاداری اور جانثاری ثابت کی۔  رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کے کچھ عرصہ بعد مولانا عمرے کا بہانہ کرکے تل ابیب پہنچے اور امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور اسرائیلی اعلی حکام سے تفصیلی ملاقاتیں کی۔ مولانا نے کہا کہ اگر انہیں مطلوبہ فنڈنگ فراہم کر دی جائے تو وہ عمران خان کی حکومت کو گرا سکتے ہیں اور ہمیشہ کی طرح مغربی طاقتوں کی دنیاپر اجارہ داری یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مولانا نے یقین دلایا کہ وہ ساری سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرسکتے ہیں  کیونکہ سب کرپٹ ہیں اور عمران خان نے ان کے بڑے رہنماؤں کو شکنجے میں کس دیا ہے اور وہ کسی بھی صورت ان کو نہیں چھوڑے گا۔ اگر ان کو ذرا سی بھی امید ہوئی کہ عمران خان سے چھٹکارا مل سکتا ہے تو وہ دل و جان سے میرا ساتھ دیں گے۔ چار دن جاری رہنے والی ملاقاتوں میں اس منصوبہ  کی جزئیات طے کی گئیں اور مولانا  کو ان کی ڈیمانڈ کے مطابق 36  ارب ڈالرز کی فنڈنگ فراہم کردی گئی ۔
 اس طرح آزادی مارچ کا آغاز ہوا۔

ٹویٹو سلطان کی ڈائری


زوجۂ اقدس نے جھنجھوڑ کر جگایا تو ابھی صرف 11 بجے تھے۔ آنکھیں کھولنے کی کوشش کھڑکی سے آنے والی دھوپ نے  ناکام کی تو سائیڈ ٹیبل سے کالا چشمہ اٹھایا اور آنکھوں پر جما کر غور سے زوجۂ اقدس کو دیکھا۔ وہ اتنے میں ہی خوش ہو گئیں اور میرے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ ہم نے فورا انتباہی کھنگورا مار کر انہیں اپنی ناپسندیدگی سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ تِس پر انہوں نے فرمایا۔۔۔۔ جا کے کُرلی کر آؤ، تہاڈی چھاتی اچ ریشہ کھڑکدی پئی اے۔ ہم نے نیچے کھسکتے ٹراؤزر کو اوپر کیا اور کود کے بیڈ سے اترے۔ زوجۂ اقدس کے ہاتھ سے فون لیا اور انگشت شہادت اٹھا کر انہیں یوں مخاطب کیا۔۔۔ ہزار دفعہ عرض کی ہے کہ ہمارے فون کو ہاتھ مت لگایا کریں کیونکہ بقول علامہ صاحب "جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں"۔۔۔  غلطی سے کوئی چیز ریٹویٹ یا فیورٹ ہوگئی تو اس نقصان کا بھگتان کون کرے گا؟ یہ درست ہے کہ آپ کے روحانی درجات بہت بلند ہیں لیکن شوہر بھی مجازی خدا ہوتا ہے۔ اگر کسی انسان کو سجدہ جائز ہوتا تو بیوی شوہر کو سجدہ کرتی۔
زوجۂ اقدس یہ لیکچر سن کر کچھ بدمزہ ہوئیں۔ جس سے ان کا چہرہ کرپان جیسا ہوگیا۔ ہم نے فورا عینک اتار کر ٹی شرٹ کے دامن سے آنکھوں کی کِیچ صاف کی ۔مسکرا کر زوجۂ اقدس کی طرف دیکھا اور ان کا ہاتھ تھام کر چومنے کی کوشش کی۔ انہوں نے فورا ہاتھ چھڑا  کرفرمایا، پہلے منہ سے نکلنے والی رال تو صاف کرلیں۔ ہم شرمندہ ہوئے اور فورا واش روم کی طرف لپکے۔ ہاتھ منہ اور دیگر ضروری اعضاء دھو کر باہر نکلے تو زوجۂ اقدس ہنوز موجود تھیں۔ ہم نے تولیہ کی تلاش میں نظریں دوڑائیں۔ تولیہ نظر نہیں آیا تو زوجۂ اقدس کے دوپٹے سے منہ صاف کیا۔ اس میں کافور کی بھینی بھینی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ آخرت یاد آگئی۔
بالوں میں ہاتھ پھیر کر گنج چھپایا۔ کالی عینک لگائی۔ بیڈ کے کنارے پر ٹک کر ہم نے زوجۂ اقدس سے اتنی سویرے جگانے کا سبب دریافت کیا۔ زوجۂ اقدس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ فرمانے لگیں ،  ہمسایوں نے آج پھر ہمارے گھر کے باہر کوڑا پھینکا ہے۔ کتنی دفعہ منع کیا لیکن بات ہی نہیں سنتےبلکہ آج تو چودھری شہریار کی بیوی نے دروازے سے سر نکال کر ہمیں چیلنج بھی دیا کہ جو  کرسکتی ہو کرلو، ہم تو کوڑا یہیں پھینکیں گے۔ یہ سنتے ہی جلالِ شاہی سے ہمارا جسم کانپنے لگا۔ زوجۂ اقدس ایک دم پریشان ہوگئیں۔ ہمارے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ ہتھیلیاں چَسنے لگیں کہ شاید ہمیں پھر دورہ پڑ گیاہے۔ ہم نے ہاتھ چھڑائے اور فرمایا، ہم جلالِ شاہی سے لرز رہے ہیں ہمیں ڈوز لیٹ ہونے والا دورہ نہیں پڑا۔ یہ سن کر زوجۂ اقدس کی جان میں جان آئی۔
ہم نے گرجدار آواز میں حکم دیا کہ ہمارا فون لایا جائے آج ہم چودھری شہریار کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ ان کی آنے والی نسلیں یاد کریں گی۔  زوجۂ اقدس  نے چھِبّی دے کر فرمایا، بولن توں پہلے جیباں تے چیک کرلیا کرو فون تہاڈی جیب اچ ای ے۔  ہم نے ڈھیٹ بن کر جلالِ شاہی جاری رکھتے ہوئے فرمایا، ہماری  دلاری زوجۂ اقدس کی شان میں گستاخی اور ہماری حق حلال کی سرٹیفائیڈ آمدنی سے بنے گھر کے سامنے کسی کی جرأت کیسے ہوئی کہ کوڑا پھینکے۔ ہم نے فورا  جیب میں ہاتھ ڈال کر فون نکال کر بِلّو بادشاہ والا اکاؤنٹ لاگ ان کیا اور چودھری شہریار کے خلاف "شہر یار پر خدا کی مار" ٹرینڈ شروع کر دیا۔ ڈی ایم گروپ  میں ہم نے اپنی سائبر فورس کے اہم کمانڈرز کو طلب کرکے چودھری شہریار، اس کی بیوی اور بیٹی کے اکاؤنٹس شئیر کیے اور ان کو حکم دیا کہ ان عاقبت نا شناس لوگوں کو ایسا سبق سکھائیں کہ یہ کبھی دوبارہ کسی شریف اور مہذب انسان کو تنگ کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں۔ ہم نے چودھری شہریار کی خاندانی تصاویر جو ان کے فیس بک پروفائل سے ہم نے سیو کر کے رکھی تھیں، وہ بھی سائبر فورس کے کمانڈرز کے حوالے کیں اور ان کو حکم دیا کہ یہ تصاویر فوٹو شاپ کور کے حوالے کی جائیں اور جلد از جلد چودھری کے ٹوئٹر اور فیس بک پروفائل پر چاروں طرف سے حملہ کر دیا جائے۔ (اصل میں ان کی بیوی اور بیٹی دونوں بہت خوبصورت ہیں۔ لتا جی بھی فرما گئی ہیں۔۔ "دل تو ہے دل، دل کا اعتبار کیا کیجے۔۔ آگیا جو کسی پہ پیار کیا کیجے")۔
زوجۂ اقدس خاموشی سے ہماری طرف دیکھ رہی تھیں۔ سائبر فورس کو حملے کا حکم دے کر ہم فارغ ہوئے تو فرمانے لگیں کہ پھر ہمسایوں کا کیا کرنا ہے۔ ہم نے فخر سے اپنا فون ہوا میں بلند کیا اور انہیں بتایا کہ چودھری شہریار اور اس کے پورے خاندان کو ہم اگلے ایک گھنٹے میں ذلیل کرکے رکھ دیں گے۔ زوجۂ اقدس نے ہماری طرف اہانت بھری نگاہ ڈالی اور یہ فرما کے بیڈروم سے خروج کرگئیں 
"تہاڈے نالوں تے شیرو چنگا اے،وڈّھے پاویں ناں، پونک تے لیندا اے"

نگاہِ مردِ مومن سے۔۔۔۔۔

یہ امریکی ریاست مونٹانا کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع گھنے جنگلات کا منظر تھا۔ انسانی آبادی کی رسائی سے دور اس خوبصورت علاقے میں گھنے جنگلات کے بیچوں بیچ بہت بڑے رقبے پر ایک فارم ہاؤس نما محل  واقع ہے۔ پہاڑوں پر جاتی دھوپ شام ڈھلنے کی خبر سنا رہی ہے۔ اس فارم ہاؤس پر غیر معمولی چہل پہل ہے۔ یہ فارم ہاؤس امریکی سیاست کو کنٹرول کرنے والے طاقتور عناصر کی خفیہ ترین سوسائٹی "ایلیزئین فیلڈز"   (Elysian Fields) کا  ہیڈ کوارٹر ہے۔  فارم ہاؤس پر جاری سرگرمیوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی اہم تقریب منعقد ہونے جا رہی ہے۔ افق پر پھیلی سرخی غائب ہوتے ہی سیاہ رنگ کی ایس یو ویز کی آمد شروع ہوگئی جو قریب ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ ٹھیک جب آسمان نے سیاہی کی چادر اوڑھی اور ستارے نظر آنے شروع ہوئے تو تقریب کا آغاز ہوا۔
ندی کے کنارے ایک طویل میز بچھی تھی جس پر انواع و اقسام کے بیف سٹیک اور وہسکی سجی تھی۔ میز کے گرد پڑی کرسیاں پُر ہوگئیں تو سینٹ کے اکثریتی لیڈر سینیٹر مِچ مک کونل کھڑے ہوئے  اور میٹنگ کی غایت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ چند ماہ سے انٹیلی جنس، ، ناسا ، این ایس اے رپورٹس اور پوری دنیا میں پھیلے امریکی سفیروں کی جانب سے بہت خطرناک اور عجیب اطلاعات  ملی ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سب ایجنسیز خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ امریکہ پر ایسا دہشت ناک حملہ ہونے کی اطلاع ہے جس میں پورا براعظم تباہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے لیکن ایجنسیز اس بارے کوئی بھی سراغ حاصل کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکیں۔
سینیٹر نے مزید بتایا کہ سب سے  عجیب ناسا کی رپورٹس ہیں۔ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن اور مریخ پر بھیجے گئے مشنز  سے کچھ عجیب سگنلز اور پراسرار واقعات رونما ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے مارس روور کی جانب سے کھینچی گئی ایک تصویر بھی دکھائی جس میں ایک عجیب الخلقت مخلوق نظر آرہی ہے جس کے سر پر دو سینگ ہیں اور دانت باہر نکلے ہوئے ہیں۔ اس کا رنگ سرخ  اور لمبے بازو ہیں۔ ہاتھوں کی دس انگلیاں ہیں جن پر تیز اور لمبے ناخن بھی نظر آرہے ہیں۔ تصویر دیکھ کر حاضرین میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔
سفارتخانوں کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ بغیر کسی ظاہری وجہ کے ہر ملک میں امریکہ کے خلاف نفرت میں یکدم اضافہ ہوگیا ہے۔ عوام سے لے کر حکومتوں تک سب کا رویہ بدل رہا ہے اور امریکی مفادات کو دنیا بھر میں شدید خطرات لاحق ہیں۔
سینیٹر مِچ مک کونل بات ختم کرکے کرسی پر بیٹھے اورگلاس اٹھا کر وہسکی سِپ کی۔ برنی سینڈرز اسی اثناء میں کھڑے ہوچکے تھے اور صدرِ محفل  ڈونلڈ ٹرمپ کی اجازت سے بات کرنے لگے۔ برنی سینڈرز نے بتایا کہ جیسے آپ سب جانتے ہیں کہ ان کو ڈریم وژنز ہوتے ہیں اور 90 فیصد تک یہ وژنز درست ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چند ماہ سے وہ ایک وژن بار بار دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ پر خلائی، شیطانی اور انسانی مخلوق حملہ آور ہوتی ہے اور اس کو صیہونیوں کی حمایت حاصل ہے۔ جیسا کہ مقدس کتابوں میں آرما گیڈن کا ذکر ہے تو صیہونی اس کو برپا کرکے امریکہ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ پوری دنیا پر ان کا غلبہ ہوجا ئے۔
برنی سینڈرز ایک لحظہ کے لیے رکے اور بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے کہ ان وژنز میں پچھلے چند دن سے ایک اور وژن کا اضافہ ہوا ہے۔ اس ساری تباہی کو روکنے کی طاقت ایک شخص کے پاس ہے جو ماورائی فوج پر دسترس رکھتا ہے۔ اس کے پاس ایسی طاقتیں ہیں جن کا کوئی منطقی یا سائنسی وجود ثابت نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ طاقتیں حقیقت ہیں۔ برنی سینڈرز نے رک کر گہرا سانس لیا اور کہا کہ اب جو میں کہنے جا رہا ہوں اسے تحمل سے سنیں۔ اس ساری تباہی کو روکنے کے لیے ہمیں اس شخص کو اپنا رہنما بنانا ہوگا اور جس عقیدے پر وہ قائم ہے اس پر ہمیں بھی ایمان لانا ہوگا۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم اس تباہی کو ٹال سکتے ہیں۔
یہ کہہ کر برنی سینڈرز بیٹھ گئے اور صدر ٹرمپ  کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری معلومات برنی سینڈرز پچھلے دنوں میرے پاس لے کر آئے تھے اسی لیے آج ایلیزئین فیلڈز (Elysian Fields) کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے۔ برنی سینڈرز نے اپنے وژنز میں جس شخص کو دیکھا، آج وہ بھی یہاں موجود ہے۔ سینیٹر سینڈرز نے جن ماورائی طاقتوں کا ذکر کیا اس کا مشاہدہ میں نے خود کیا ہے اور میں حیران ہوں کہ ایسے عظیم شخص کو ہم کیسے نظر انداز کرتے رہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے ندی کنارے موجود چوبی  کیبن کی طرف اشارہ کیا۔ سب بے ساختہ گردن موڑ کر ادھر دیکھنے لگے۔
 کیبن کا دروازہ کھلا اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان باہر نکلے۔ ایلیزئین فیلڈز کے سارے ارکان ششدر رہ گئے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آج سے ایلیزئین فیلڈز اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ وزیر اعظم عمران خان کے غلام ہیں۔ ہم انہیں اپنا قائد، سربراہ، بادشاہ، رہنما سب تسلیم کرتے ہیں اور ان کے عقیدے کو سچا تسلیم کرتے ہوئے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔
رات ڈھل رہی تھی۔ مونٹانا کی اس دور افتادہ وادی پر چاند پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ کیبن کے باہر وزیر اعظم عمران خان بلیو  شلوار قمیص میں معمول سے زیادہ وجیہہ لگ رہے تھے۔ ایلیزئین فیلڈز کے سب اراکین اپنی کرسیوں سے اٹھے  اور باری باری وزیر اعظم عمران خان کی بیعت کرنے لگے۔
یہ نیازی یہ تیرے پراسرار بندے۔۔۔

ٹوٹے حضورِ والا، ٹوٹے

ہیہات ۔۔ہیہات۔۔۔۔ تاریخ کے چوراہے پر بے سدھ ہم پڑے ہیں اور دنیا حظ کشید کرتی ہے۔ کوئی مردِ کار ہے جو پکار کے کہے، ہالٹ!  ہیہات ۔۔ ہیہات۔۔۔۔
مضمون  کوئی پرانا نہیں ہوتا۔ انسان قدیم ہے، کائنات قدیم تر۔ فطرت سے اغماض ہو نہیں سکتا۔ کون ہے جو لذائذ دنیا سے کنارہ کرلے مگر درویش۔ خدا نے جو راحتیں انسان کو ارزاں کیں کوئی بدبخت ہی ان سے کنارہ کر سکتا ہے۔ کیا پرندوں کا گوشت، پھلوں کا عرق، شباب شجر ممنوعہ ہیں؟ خدا کی خدائی میں یہ دخل ہے۔بے طرح دل بے قرار ہوا۔ ایک ہی ٹھکانہ جہاں قرار نصیب ہے۔  درویش کہ اب تک وجیہہ ہے، عنفوانِ شباب میں وجاہت کانمونہ تھا۔ درسگاہ کی طالبات کہ ہمہ وقت جھمگٹا درویش کے گرد بنائے رکھتیں۔ ذوق مگر اس وقت بھی اعلی۔ کبھی گہری رنگت اور فلیٹ ارتھ کو آنکھ جھپک کر نہ دیکھا۔آج بھی اس وقت کو یاد کرتے درویش کی نگاہوں میں چئیرمین نیب  دیکھا جا سکتا ہے۔
شام کا جھٹپٹا تھا جب درویش کی کٹیا میں طالب علم داخل ہوا۔ کھٹکے پر درویش نے یکدم آئی پیڈ میز پر الٹا  دیا۔ طالبعلم کو دیکھا تو خورسند ہوا۔ آئی پیڈ اٹھایا اور اشارے سے پاس بلایا۔ سبحان اللہ۔۔۔ آنسہ آشا ٹاکیہ کی گوگل امیج سرچ کے رزلٹس تھے۔ من بیک وقت شانت و بے قرار ہوا۔ آدھ گھنٹہ درویش و طالبعلم  خدائے لم یزل کی صناعی کا نظارہ کرتے رہے۔  دل کا ادبار کچھ ہلکا ہوا تو درویش سے دبدھا بیان کی۔ انسان کہ بیک وقت کمزور و توانا ہے۔ فطرت کے خلاف وہ جا نہیں سکتا الاّ یہ کہ درویش ہو یا کپتان یا سپہ سالار۔ مصروف طعام یا مشغولِ وظیفہءبقائے انسانیت؛  کوئی بدبخت کیسے کسی کو فلم بند کرسکتا ہے۔ ظلم ہے یہ حضورِ والا، صریح سفاکی۔ دل لہو ہوتا ہے۔ ایسی روشن تاریخ  کے ہم وارث ہیں کہ ستاروں کو شرمائے اور حالت یہاں تک آ پہنچی کہ فطری تقاضوں کو سلیکون چپ پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ کوئی جائے اور ان کو بتائے کہ بندگانِ خدا کو شرمندہ کرنا  عذابِ الہی کو دعوت دینا ہے۔
امیرالمؤمنین خلیفہ ہارون الرشید کہ نامِ نامی ان کا تاریخ میں فلوریسنٹ سے لکھا ہے، روایت ہے کہ حرم ان کا پوری دنیا سے چنیدہ مہ وشوں سے آباد تھا۔ کیا امیر المؤمنین ان سے لڈّو کھیلتے تھے؟ واللہ ہرگز نہیں۔ آپ امورِ سلطنت و اشاعتِ دین سے تھک جاتے تو حرم میں تشریف لے جاتے۔ چند گھنٹوں کی خوش وقتی سے توانائی بحال ہوتی۔ اگلی صبح اسی توانائی کے ساتھ امورِ سلطنت میں مشغول ہوجاتے۔ دربار لگا تھا، ایک مشیر نے دریافت کیا، یا امیر المؤمنین! آپ کیسے اتنے کام نبٹا لیتے ہیں۔ آپ نے ایک لحظہ توقف  کیا  اور ایسا جواب دیا جو رہتی دنیا تک  فیس بک پیجز کی زینت بنا رہے گا، "ایک مہ وش کی آغوش ہزار ریڈ بُلز سے زیادہ توانائی آور ہے"
درویش ہمہ تن گوش تھے۔ طالبعلم کی بے قراری پر ان کا دل ملول ہوا۔ چہرہ غم سے متغیّر ہوا۔ کافی مگ میں کھیسے سے چپٹی بوتل نکال کر کچھ محلول ڈالا، مگ کو انٹی کلاک وائز حرکت دی، محلول کو سونگھ کر ایک لحظہ کے لیے آنکھیں میچیں اور ہلکا سا سِپ لیا۔ طالبعلم کی طرف بغور دیکھا۔ انگشت وسط اٹھائی اور گویا ہوئے،  مینوں کِی دسداں۔۔۔ میرے اپنے ٹوٹے بنے ہوئے ۔۔۔
ہیہات ۔۔ہیہات۔۔۔۔ تاریخ کے چوراہے پر بے سدھ ہم پڑے ہیں اور دنیا حظ کشید کرتی ہے۔ کوئی مردِ کار ہے جو پکار کے کہے، ہالٹ!  ہیہات ۔۔ ہیہات۔۔۔۔