میرے پاس تم ہو

دارالحکومت میں رات بھیگ چلی تھی۔ شام سے ہونے والی بارش  تھم چکی تھی۔ ہڈیوں کا گودا جما دینے والی سرد ہوا نے ہر ذی روح کو پناہ لینے پر مجبور کردیا تھا۔ آوارہ کتے تک نظر نہیں آتے تھے۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر نشئی جن پر سردی گرمی کا اثر نہیں ہوتا تھا وہ بھی آج پناہ  اور حرارت کی تلاش میں تھے۔ چائے خانوں اور سُوپ کی ریڑھیوں کے علاوہ کہیں بندہ بشر نظر نہیں آتا تھا۔
متوسط طبقہ کی  آبادی میں چند نوجوان گلی کی نکڑ پر ایک بند دکان کے تھڑے پر آگ جلا کر گپیں ہانک رہے تھے کہ اچانک گلی سے "اُبالو گرم آنڈےےےے" کی آواز سنائی دی۔  شکل سے سنجیدہ اطوار نظر آنے والا لڑکا آواز سن کر چونک اٹھا۔ منہ پر انگلی رکھ کر سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ آواز دوبارہ آئی تو اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تمہیں بھی یہ آواز سنی ہوئی لگ رہی ہے؟ سب قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔ الٹی پی کیپ پہنے ایک لڑکے نے  کمر پر ہاتھ جماکر کہا کہ سیدھی طرح بول، انڈے کھانے ہیں۔ ڈرامے نہ کر۔
 اسی اثناء میں آواز قریب سے آئی اور سب چونک اٹھے۔ یہ آواز واقعی بہت سنی ہوئی لگ رہی تھی۔ ایک لڑکا جلدی سے اٹھا اور گرم انڈے والے شخص کو پاس بلایا۔ یہ ایک دراز قامت شخص تھا۔ جس نے سرخ رنگ کی کڑھائی والی گرم چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اس کا منہ بھی چادر میں چھپا ہوا تھا۔ پی کیپ والا بولا، چاچا یہ چادر چاچی کی لےکر آگیا ہے۔ سب ہنسنے لگے۔ اس شخص نے گرم انڈوں والا کولر نیچے رکھا،  چادر کی بکل درست کی اور کہا کہ تم نے انڈے لینے ہیں تو بولو۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔
اس شخص کی آواز میں ایک نامعلوم سا تحکم اور رعب تھا۔ سب نوجوان یکدم چپ سے ہوگئے۔ سنجیدہ اطوار لڑکا اٹھا  اور بولا کہ ایک درجن انڈے دے دیں، نمک ہے تو وہ بھی دے دیں۔ اس نے کولر کا ڈھکن کھولا ۔ درجن انڈے گنے۔ کرتے کی جیب سے کاغذ  اور نمک کی شیشی نکالی ۔ تھوڑا سا نمک کاغذ پر ڈالا اور اس کی پُڑی بنا کر نوجوان کو تھما دی۔ پیسے پوچھنے پر دراز قامت انڈہ فروش نے  کہا کہ 22 روپے کے حساب سے دے دیں۔ لڑکے حیران رہ گئے۔ ایک بولا کہ دوسرے لوگ تو کافی مہنگے بیچتے ہیں۔ آپ اتنے سستے کیوں دے رہے ہیں۔
یہ بات سن کر دراز قامت گرم انڈہ فروش نے چادر ایک جھٹکے سے اتار دی۔ سب نوجوان ششدر رہ گئے۔ وہ شخص  وزیر اعظم پاکستان تھے!
"دیکھو  ٹائیگرز! میں نے ساری زندگی کبھی کرپشن نہیں کی۔ یہ انڈے میری مرغیوں کے ہیں۔ میں جنگل سے لکڑیاں اکٹھی کرکے آگ جلا کر ان کو ابال لیتا ہوں۔  میرا ان پر کوئی خرچ نہیں آتا تو کیا میں ناجائز منافع کماؤں؟  تم حیران ہو رہے ہوگے کہ میں رات کے اس وقت گرم انڈے کیوں بیچ رہا ہوں۔ سچ بات  یہ ہے کہ تنخواہ میں گزارا نہیں ہورہا۔  ایک طریقہ تو یہ تھا کہ میں کرپشن کرتا۔ ساری چیزیں مہنگی کرتا۔ ان پر کمیشن کھاتا اور اربوں میں کھیلتا۔ لیکن میں لعنت بھیجتا ہوں ایسا کرنے والوں پر۔ میں نے  ہمیشہ رزقِ حلال کمانے کو ترجیح دی۔ رات نو بجے میری ڈیوٹی ختم ہوتی ہے۔ ساڑھے نو سے دو بجے تک میں انڈے بیچتاہوں۔ اس سے دو تین سو روپے کی بچت ہوجاتی ہے۔ اگلے دن کی ہانڈی روٹی کا بندوبست ہوجاتا ہے۔  میری صحت آرام نہ کرنے سے متاثر ہو رہی ہے لیکن میں اپنی جان پر تکلیف برداشت کرلوں گا اپنی قوم کو تکلیف نہیں پہنچنے دوں گا۔"
نوجوان حیران  ہو کر وزیر اعظم کی باتیں سن رہے تھے۔ ان کی گرجدار آواز سن کر گلی سے بھی لوگ نکل  کر آگئے۔ پوری گلی میں شور مچ گیا کہ وزیر اعظم گرم انڈے بیچنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم کے سارے انڈے پانچ منٹ میں ہی بک گئے۔ خواتین کو بھی پتہ چل چکا تھا۔ کوئی اپنے زیور لا رہی تھی، کوئی گرم چادر، کوئی جرسی اور کوئی اپنے خاوند کی جیب سے پیسے۔ سب چیزیں وزیر اعظم کے قدموں میں ڈھیر کی جارہی تھیں۔
سنجیدہ اطوار نوجوان نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا اور گویا ہوا، "اس شخص نے ساری زندگی ہمارے لیے قربان کر دی۔ یہ چاہتا تو دنیا کے کسی بھی کونے میں عیش و عشرت سے زندگی گزار سکتا تھا لیکن یہ آج اس سردی میں اس لیے گرم انڈے بیچ رہا ہے کہ ہم سکون سے سو سکیں۔ اس قوم نے پہلے بھی اس کی آواز پر لبیک کہا تھا۔ آج پھر وقت آگیا ہے کہ ہم اس کا ساتھ دیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ "وزیر اعظم فنڈ برائے یتیم خانہ" شروع کیا جائے جس میں ساری قوم عطیات اور چندہ جمع کرائے۔ ہمارے وزیر اعظم یتیم ہیں اور ان کی تنخواہ اتنی نہیں کہ گھر کا خرچہ چلا سکیں۔ ان سے زیادہ مستحق کون ہوسکتا ہے۔ ہمیں ان کو اتنا کچھ دینا ہوگا کہ گھر چلانے کی فکر سے آزاد ہو کر ملک چلا سکیں اور پاکستان کو ایک ایسی قوت بنا دیں کہ ساری دنیا ہم سے خوف کھائے۔"
وزیر اعظم گرم انڈوں کا کولر تھامے ایک طرف کھڑے نوجوان کی باتیں سن رہے تھے۔ آپ کے لبوں پر ہنسی اور آنکھوں میں چمک تھی!

Comments
0 Comments

0 تبصرے:

تبصرہ کیجیے