مونٹانا کا کیبن اور خلائی مخلوق

یہ امریکی ریاست مونٹانا کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع گھنے جنگلات کا منظر ہے۔ انسانی آبادی کی رسائی سے دور اس خوبصورت علاقے میں گھنے جنگلات کے بیچوں بیچ بہت بڑے رقبے پر ایک فارم ہاؤس نما محل  واقع ہے۔ پہاڑوں پر جاتی دھوپ شام ڈھلنے کی خبر سنا رہی ہے۔ اس فارم ہاؤس پر غیر معمولی چہل پہل ہے۔ یہ فارم ہاؤس امریکی سیاست کو کنٹرول کرنے والے طاقتور عناصر کی خفیہ ترین سوسائٹی "ایلیزئین فیلڈز" کا  ہیڈ کوارٹر ہے۔  فارم ہاؤس پر جاری سرگرمیوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی اہم تقریب منعقد ہونے جا رہی ہے۔ افق پر پھیلی سرخی غائب ہوتے ہی سیاہ رنگ کی ایس یو ویز کی آمد شروع ہوگئی جو قریب ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ ٹھیک جب آسمان نے سیاہی کی چادر اوڑھی اور ستارے نظر آنے شروع ہوئے تو تقریب کا آغاز ہوا۔
ندی کے کنارے ایک طویل میز بچھی تھی جس پر انواع و اقسام کے بیف سٹیک اور وہسکی سجی تھی۔ میز کے گرد پڑی کرسیاں پُر ہوگئیں تو سینٹ کے اکثریتی لیڈر سینیٹر مِچ مک کونل کھڑے ہوئے  اور میٹنگ کی غایت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ چند ماہ سے انٹیلی جنس رپورٹس، ناسا رپورٹس اور پوری دنیا میں پھیلے امریکی سفیروں کی جانب سے بہت خطرناک اور عجیب رپورٹس مل رہی ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سب ایجنسیز خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ امریکہ پر ایسا دہشت ناک حملہ ہونے کی اطلاع ہے جس میں پورا براعظم تباہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے لیکن ایجنسیز اس بارے کوئی بھی سراغ حاصل کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکیں۔
سینیٹر نے مزید بتایا کہ سب سے  عجیب ناسا کی رپورٹس ہیں۔ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن اور مریخ پر بھیجے گئے مشنز  سے کچھ عجیب سگنلز اور پراسرار واقعات رونما ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے مارس روور کی جانب سے کھینچی گئی ایک تصویر بھی دکھائی جس میں ایک عجیب الخلقت مخلوق نظر آرہی ہے جس کے سر پر دو سینگ ہیں اور دانت باہر نکلے ہوئے ہیں۔ اس کا رنگ سرخ  اور لمبے بازو ہیں۔ ہاتھوں کی دس انگلیاں ہیں جن پر تیز اور لمبے ناخن بھی نظر آرہے ہیں۔ تصویر دیکھ کر حاضرین میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔
سفارتخانوں کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ بغیر کسی ظاہری وجہ کے ہر ملک میں امریکہ کے خلاف نفرت میں یکدم اضافہ ہوگیا ہے۔ عوام سے لے کر حکومتوں تک سب کا رویہ بدل رہا ہے اور امریکی مفادات کو دنیا بھر میں شدید خطرات لاحق ہیں۔
سینیٹر مِچ مک کونل بات ختم کرکے کرسی پر بیٹھے اورگلاس اٹھا کر وہسکی سِپ کی۔ برنی سینڈرز اسی اثناء میں کھڑے ہوچکے تھے اور صدرِ محفل  ڈونلڈ ٹرمپ کی اجازت سے بات کرنے لگے۔ برنی سینڈرز نے بتایا کہ جیسے آپ سب جانتے ہیں کہ ان کو ڈریم وژنز ہوتے ہیں اور 90 فیصد تک یہ وژنز درست ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چند ماہ سے وہ ایک وژن بار بار دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ پر خلائی، شیطانی اور انسانی مخلوق حملہ آور ہوتی ہے اور اس کو صیہونیوں کی حمایت حاصل ہے۔ جیسا کہ مقدس کتابوں میں آرما گیڈن کا ذکر ہے تو صیہونی اس کو برپا کرکے امریکہ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ پوری دنیا پر ان کا غلبہ ہوجا ئے۔
برنی سینڈرز ایک لحظہ کے لیے رکے اور بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے کہ ان وژنز میں پچھلے چند دن سے ایک اور وژن کا اضافہ ہوا ہے۔ اس ساری تباہی کو روکنے کی طاقت ایک شخص کے پاس ہے جو ماورائی فوج پر دسترس رکھتا ہے۔ اس کے پاس ایسی طاقتیں ہیں جن کا کوئی منطقی یا سائنسی وجود ثابت نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ طاقتیں حقیقت ہیں۔ برنی سینڈرز نے رک کر گہرا سانس لیا اور کہا کہ اب جو میں کہنے جا رہا ہوں اسے تحمل سے سنیں۔ اس ساری تباہی کو روکنے کے لیے ہمیں اس شخص کو اپنا رہنما بنانا ہوگا اور جس عقیدے پر وہ قائم ہے اس پر ہمیں بھی ایمان لانا ہوگا۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم اس تباہی کو ٹال سکتے ہیں۔
یہ کہہ کر برنی سینڈرز بیٹھ گئے اور صدر ٹرمپ  کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری معلومات برنی سینڈرز پچھلے دنوں میرے پاس لے کر آئے تھے اسی لیے آج ایلیزئین فیلڈز کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے۔ برنی سینڈرز نے اپنے وژنز میں جس شخص کو دیکھا، آج وہ بھی یہاں موجود ہے۔ سینیٹر سینڈرز نے جن ماورائی طاقتوں کا ذکر کیا اس کا مشاہدہ میں نے خود کیا ہے اور میں حیران ہوں کہ ایسے عظیم شخص کو ہم کیسے نظر انداز کرتے رہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے ندی کنارے موجود چھوٹے سے کیبن کی طرف اشارہ کیا۔ سب گردن موڑ کر ادھر دیکھنے لگے۔
 کیبن کا دروازہ کھلا اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان باہر نکلے۔ ایلیزئین فیلڈز کے سارے ارکان ششدر رہ گئے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آج سے ایلیزئین فیلڈز اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ وزیر اعظم عمران خان کے غلام ہیں۔ ہم انہیں اپنا قائد، سربراہ، بادشاہ، رہنما سب تسلیم کرتے ہیں اور ان کے عقیدے کو سچا تسلیم کرتے ہوئے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔
رات ڈھل رہی تھی۔ مونٹانا کی اس دور افتادہ وادی پر چاند پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ کیبن کے باہر وزیر اعظم عمران خان سیاہ شلوار قمیص میں معمول سے زیادہ وجیہہ لگ رہے تھے۔ ایلیزئین فیلڈز کے سب اراکین اپنی کرسیوں سے اٹھے  اور باری باری وزیر اعظم عمران خان کی بیعت کرنے لگے۔
دنیا صیہونی سازش سے بچائی جا چکی تھی۔