Showing posts with label دکھ. Show all posts
Showing posts with label دکھ. Show all posts

میں بہت دکھی ہوں!

اس کی آنکھوں میں پانی اتر آیا۔ اس نے قیمتی ریشمی رومال سے آنکھوں کو پونچھا اور بھرائی ہوئی آواز میں مجھ سے مخاطب ہوا۔ ” میں بہت دکھی ہوں، زندگی میں ایسے ایسے غم دیکھے ہیں کہ بیان کرتے ہوئے میرا کلیجہ منہ کو آتاہے۔ سکول میں تھا تو کبھی فرسٹ نہیں آیا، نوجوانی میں جس لڑکی سے بھی اظہار محبت کیا اس نے اپنے بھائیوں‌ سے مجھے پٹوا دیا ۔ کزن کے ساتھ شادی کی خواہش کی تو گھر والوں نے انکار کردیا۔“ وہ سانس لینے کو رکا، سونے کے سگریٹ کیس سے مارلبرو کا سگریٹ نکال کر سلگایا اور پھر یوں گویا ہوا۔ ” شادی ہوئی تو برات والے دن طوفان آگیا، اتنی بارش ہوئی کہ بارات کشتیوں میں‌لے جانی پڑی، ولیمے کے کھانے میں نمک زیادہ پڑگیا۔ سارے خاندان اور دوستوں میں شرمندگی اٹھانی پڑی۔ جہیز میں مرسیڈیز کی بجائے کرولا ملی۔ ہنی مون بھی سوات میں ہی منانا پڑا۔“ اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور پھر مخاطب ہوا۔ ” میرے دوست کیا کیا بتاوں تمہیں۔۔۔ زندگی کیسی کیسی مشکلات میں گزری ہے“۔ یہ کہہ کر اس نے ادھ جلے سگریٹ کو پھینکا اور ایک دفعہ پھر اپنی آنکھوں میں آنے والے آنسو ریشمی رومال سے صاف کئے۔
اس کے خاموش ہونے پر میں اٹھا اور اپنے دوست کو گلے سے لگا کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔