ابن صفی - چند تلخ پارے

پھر ایک ایسی بات کہنے والا ہوں جو شاید بہت سے لوگوں کو بہت چبھے۔
میری رائے میں پچھلے ایک سو سال میں اردو زبان کی ترویج اور ترقی میں جتنا ابن صفی کا حصہ ہے ، کسی اور کا نہیں۔ اور اسی ابن صفی کو ادب کے خود ساختہ ٹھیکیدار ادیب ماننے سے انکار کرتے رہے۔
ان کے کچھ اقتباس پیش کررہاہوں، پڑھیے اور سر دھنیے۔۔۔

”مگر تم جو کہتی تھیں کہ تمہیں رمیش سے محبت ہے۔“
”محبت۔۔ محبت تو مجھے تم سے بھی ہے۔“ شِلّی نے بڑی معصومیت سے کہا۔ ”مجھے ہر فضول آدمی سے محبت ہو جاتی ہے۔“
”تو کیا میں فضول ہوں؟“
”ہر وہ آدمی فضول ہے جو کسی مخصوص عورت کے پیچھے وقت اور پیسہ برباد کرتاہے۔“
”کیوں۔۔۔؟“
”اس لئے کہ ہر عورت ۔۔۔ عورت ہوتی ہے۔ چاہے وہ شِلّی ہو یا سڑک کے کنارے گھسٹنے والی مفلوج بھکارن۔“
”مگر وہ شِلّی کی طرح حسین نہیں ہوسکتی۔“
”حسن۔“ شِلّی نے تلخ ہنسی کے ساتھ کہا۔ ”حسن تمہارے کس کام آتاہے۔ حسن سے تمہیں کیا ملتاہے؟“
(گیتوں کے دھماکے)
--------------------------------------------------------------------------------------------

”تم آخر چاہتے کیا ہو؟“
”فقط اتنی سی زمین کہ مرنے کے بعد دفن کیا جاسکوں“
(نیلی لکیر)
--------------------------------------------------------------------------------------------

”کیا تم اسے جانتے ہو؟“
”کیوں نہیں۔ اس کا نام پمیلیا ہے اور میں اسے پیار سے پُمّو کہتاہوں۔“
”پُمّو کہتےہو“۔ حمید نے حیرت سے کہا۔ ”کیا وہ تم سے بے تکلف ہے؟“
”نہیں تو۔ آج تک گفتگو بھی نہیں ہوئی۔ میں ۔۔۔ یونہی بس دل ہی دل میں اسے پُمّو کہتا ہوں۔“
(جنگل کی آگ)
--------------------------------------------------------------------------------------------

تو بیٹے خاں؛ تمہیں محکمہ آرام تو دنیا کے کسی بھی حصے میں نہیں‌ ملے گا۔ ویسے میری نظروں میں ایک ہی جگہ ایسی ہے جہاں آرام ہی آرام ہے۔“
”مجھے اس کا پتہ ضرور بتائیے۔“
”قبر۔۔۔۔“۔
”میں وہاں بھی جانے کو تیار ہوں بشرطیکہ کوئی خوبصورت سی لڑکی میرے ساتھ دفن ہونے کا وعدہ کرلے۔“
”آگئے اوقات پر۔“ فریدی منہ بنا کربولا۔
”میرے باپ دادا کی بھی یہی اوقات تھی جس کا نتیجہ میں بھگت رہا ہوں۔“
(لاشوں کا سوداگر)
--------------------------------------------------------------------------------------------

”چور یا تو پکڑے جاتے ہیں یا عیش کرتے ہیں ۔۔۔ کوئی تیسری بات نہیں ہوتی !“
(ریشوں کی یلغار)
--------------------------------------------------------------------------------------------

”۔۔۔۔ انگریزوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کا سب کچھ غلط کر دیا تھا۔ صرف ٹونٹی دار اور بغیر ٹونٹی کے لوٹے کو غلط نہ کر سکے کیونکہ ہندو اور مسلمان صرف اسی ایک بات پر متفق تھے کہ چاہے جان چلی جائے ہم کاغذ ہرگز استعمال نہیں کریں گے۔!“
(پاگلوں کی انجمن)

شکیب جلالی کی ایک غزل

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خاک ڈالئے ایسی اڑان پر

آکر گرا تھا کوئی پرندہ لہُو میں تَر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر

یارو، میں‌اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر

کتنے ہی زخم ہیں میرے اک زخم میں چھُپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اک نشان پر

جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر

ملبوس خوش نما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر

سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر

حق بات آکے رک سی گئی تھی کبھی شکیب
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر

کہیں پڑھا تھا کہ اگر غزل میں‌ ایک شعر بھی کام کا نکل آئے تو غزل کا حق ادا ہوگیا۔ اس غزل میں‌ دیکھئے تو ایک بھی شعر بھرتی کا نہیں۔ یہی شکیب جلالی کا کمال ہے۔ بہت کم شاعر ایسے ہیں جن کا ایک مصرعہ پڑھ کر آپ شاعر کا نام بتا سکتے ہیں، شکیب اسی نادر قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔
میرے رائے میں شکیب جلالی اگر جواں مرگی کا شکار نہ ہوتے تو ہمارے عہد کے سب سے بڑے شاعر ہوتے۔